Tirtha Mahatmya
Nagara Khanda279 Adhyayas14817 Shlokas

Tirtha Mahatmya

Tirtha Mahatmya

This section is oriented to sacred-place glorification (māhātmya) and locates the episode in the Ānarta region (आनर्तविषय), described as a hermitage-forest landscape populated by ascetics and marked by a distinctive ethic of non-hostility among animals—an idealized purāṇic ecology used to frame ritual authority, transgression, and restoration.

Adhyayas in Tirtha Mahatmya

279 chapters to explore.

Adhyaya 1

Adhyaya 1

हाटकेश्वरलिङ्गप्रतिष्ठा — Establishment of the Hāṭakeśvara Liṅga

باب 1 میں رشی پوچھتے ہیں کہ دوسرے دیویہ روپوں کے مقابلے میں شِو لِنگ کی خاص پوجا کیوں کی جاتی ہے۔ سوت آنرت-ون کا واقعہ سناتا ہے: ستی کے وियोग کے غم میں مبتلا تریپورانتک شِو دِگمبر (برہنہ)، کَپال-پاتر لیے بھکشا مانگنے تپوبن میں داخل ہوتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر آشرم کی عورتیں مسحور ہو کر اپنے نِتیہ کرم چھوڑ دیتی ہیں؛ مرد تپسوی اسے آشرم دھرم کی خلاف ورزی سمجھ کر شِو کو شاپ دیتے ہیں، جس سے لِنگ زمین پر گر پڑتا ہے۔ گرا ہوا لِنگ دھرتی کو چیرتا ہوا پاتال میں اتر جاتا ہے اور تینوں لوکوں میں ہلچل، اُتپات اور نحوست کی نشانیاں پھیل جاتی ہیں۔ دیوتا برہما کی پناہ لیتے ہیں؛ برہما سبب جان کر انہیں شِو کے پاس لے جاتا ہے۔ شِو کہتے ہیں کہ جب تک دیوتا اور دْوِج (دو بار جنم لینے والے) برادری محنت سے لِنگ کی پوجا نہ کرے، وہ اسے دوبارہ قائم نہیں کریں گے۔ دیوتا انہیں تسلی دیتے ہیں کہ ستی ہمالیہ کی بیٹی گوری کے روپ میں پھر جنم لے گی۔ تب برہما پاتال میں لِنگ کی پوجا کرتا ہے؛ وِشنو اور دوسرے دیوتا بھی پیروی کرتے ہیں۔ شِو پرسن ہو کر ور دیتے ہیں اور لِنگ کو پھر پرتِشٹھت کرتے ہیں؛ برہما سونے کا لِنگ بنا کر نصب کرتا ہے جو پاتال میں ‘ہاٹکیشور’ کے نام سے مشہور ہوتا ہے۔ آخر میں ہدایت ہے کہ شردھا کے ساتھ نِتیہ لِنگ کا سپرش، درشن اور ستوتی سمیت پوجن کرنا بڑے دیویہ تَتّوؤں کی جامع تعظیم ہے اور شُبھ آدھیاتمک پھل دیتا ہے۔

72 verses

Adhyaya 2

Adhyaya 2

त्रिशङ्कु-तत्त्वप्रश्नः तथा तीर्थस्नान-प्रभावः (Triśaṅku’s Inquiry and the Efficacy of Tīrtha Bathing)

اس ادھیائے میں سوت جی ایک عظیم تیرتھ کی حیرت انگیز واردات بیان کرتے ہیں۔ ایک لِنگ کے اکھڑ جانے پر اسی راستے سے پاتال سے جاہنوی (گنگا) کا جل ظاہر ہوا، جسے تیرتھ-ماہاتمیہ کے انداز میں سراسر پاک کرنے والا اور مرادیں پوری کرنے والا کہا گیا۔ اسی مقام پر اسنان کرنے سے چانڈال حالت میں گرا ہوا راجا تریشَنکو پھر سے راج-لائق جسم پا لیتا ہے—یہ دنیا کو حیران کرنے والی بات ہے۔ رِشی تریشَنکو کے زوال کی وجہ تفصیل سے پوچھتے ہیں۔ سوت قدیم اور پاکیزہ آکھ्यान سنانے کا وعدہ کر کے تریشَنکو کی نسل اور خوبیوں کا خلاصہ دیتے ہیں—سورَیَوَمش میں جنم، وِشِشٹھ کے شِشیہ، اگنِشٹوم وغیرہ یَگیوں کی پابندی، پوری دَکشِنا، خاص طور پر لائق اور محتاج برہمنوں کو بڑا دان، ورت کی پابندی، شَرنागत کی حفاظت اور منظم راج-پرشاسن۔ پھر دربار میں تریشَنکو وِشِشٹھ سے ایسی یَگّیہ کی درخواست کرتا ہے جس سے وہ اسی جسم کے ساتھ سَوَرگ جا سکے۔ وِشِشٹھ اسے ناممکن کہہ کر منع کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سَوَرگ-پرابتھی کرم پھل سے دِہانتر کے بعد ہوتی ہے؛ وہ جسم سمیت سَوَرگ آروہن کی کوئی مثال بھی پوچھتے ہیں۔ تریشَنکو مُنی-شکتی پر اصرار کرتا ہے، نہ مانیں تو دوسرے رِتوِج کی تلاش کی دھمکی دیتا ہے؛ وِشِشٹھ ہنس کر ‘جیسا چاہو کرو’ کہہ کر اجازت دے دیتے ہیں۔

23 verses

Adhyaya 3

Adhyaya 3

Triśaṅku’s Curse, Social Degradation, and Renunciation (त्रिशङ्कु-शापः अन्त्यजत्वं च वनप्रवेशः)

سوتا بیان کرتا ہے کہ بادشاہ، پہلے وِسِشٹھ سے عرض کرنے کے بعد، اب وِسِشٹھ کے بیٹوں کے پاس جا کر جسم سمیت سُورگ میں جانے کے لیے یَجْیَ کی معاونت چاہتا ہے۔ رِشی اس مطالبے کو نامناسب سمجھ کر رد کر دیتے ہیں۔ جب بادشاہ کسی اور پُروہت کو مقرر کرنے کی دھمکی دیتا ہے تو وہ سخت کلامی کے ساتھ شاپ دیتے ہیں کہ وہ اَنتیَج/چانڈال بن جائے۔ شاپ کے اثر سے اس کے بدن پر بگاڑ کی نشانیاں ظاہر ہوتی ہیں اور سماج اسے ذلیل کر کے الگ تھلگ کر دیتا ہے؛ لوگ اسے ستاتے اور دھتکارتے ہیں۔ بادشاہ اپنے کُلی دھرم کے ٹوٹنے پر ماتم کرتا ہے، اہلِ خانہ اور زیرِ کفالت لوگوں کے سامنے جانے سے ڈرتا ہے، اور اپنی بلند آرزو کے انجام پر غور کر کے خودکشی تک کا خیال کرتا ہے۔ رات کو وہ ویران شہر کے دروازے پر لوٹ کر بیٹے اور وزیروں کو بلاتا ہے اور شاپ کی روداد سناتا ہے۔ دربار غمگین ہوتا ہے، رِشیوں کی سختی پر ملامت کرتا ہے اور بادشاہ کی تقدیر میں شریک ہونے کی بات کہتا ہے۔ تِرِشَنکو اپنے بڑے بیٹے ہریش چندر کو جانشین مقرر کر کے، جسم سمیت سُورگ یا موت—ان میں سے ایک کو پانے کا عزم کر کے جنگل کی راہ لیتا ہے؛ وزیر شنکھ اور بھیری کے مَنگل ناد کے ساتھ ہریش چندر کو تخت پر بٹھاتے ہیں۔

36 verses

Adhyaya 4

Adhyaya 4

त्रिशङ्कु-विश्वामित्र-तीर्थयात्रा तथा हाटकेश्वरशुद्धिः (Triśaṅku and Viśvāmitra: Pilgrimage Circuit and Purification at Hāṭakeśvara)

سوت نے بیان کیا—وسِشٹھ کے بیٹوں کی بددعا سے تری شنکو چنڈال حالت میں گر پڑا تو اس نے عزم کیا کہ اب وِشوَامِتر ہی اس کا واحد سہارا ہیں۔ وہ کوروکشیتر پہنچا اور دریا کے کنارے وِشوَامِتر کے آشرم میں آیا؛ جسمانی نشانات کے باعث شاگردوں نے پہچانا نہیں اور ملامت کی۔ تب تری شنکو نے اپنا تعارف کرایا اور سارا نزاع سنایا—جسم سمیت سَورگ آروہن کے لیے یَجْن کی درخواست رد ہوئی، اسے ترک کیا گیا اور پھر شاپ ملا۔ وسِشٹھ وَنْش کے مقابل کھڑے وِشوَامِتر نے اس کی تطہیر اور دوبارہ ویدک اہلیت کے لیے تیرتھ یاترا کو علاج قرار دیا۔ کوروکشیتر، سرسوتی، پربھاس، نیمِش، پُشکر، وارانسی، پریاگ، کیدار، شروَنا ندی، چترکوٹ، گوکرن، شالیگرام وغیرہ بے شمار تیرتھوں کی یاترا کے باوجود تری شنکو کی ناپاکی دور نہ ہوئی، یہاں تک کہ وہ اربُد پہنچے۔ وہاں مارکنڈےیہ نے انرت علاقے میں پاتال سے مربوط اور جاہنوی کے جل سے مقدس ہاٹکیشور لِنگ کا راستہ بتایا۔ زیرِ زمین راہ میں داخل ہو کر تری شنکو نے رسم کے مطابق اشنان کیا اور ہاٹکیشور کے درشن سے چنڈال پن سے آزاد ہو کر پھر نورانی ہو گیا۔ پھر وِشوَامِتر نے مناسب دَکشِنا کے ساتھ یَجْن کرنے کی ہدایت دی اور جسم سمیت سَورگ آروہن والے یَجْن کی قبولیت کے لیے برہما سے عرض کی؛ برہما نے اصول بتایا کہ اسی جسم کے ساتھ یَجْن کے زور پر سَورگ نہیں ملتا—ویدک طریقے میں عام قاعدہ جسم کا ترک کرنا ہے۔

71 verses

Adhyaya 5

Adhyaya 5

Triśaṅku’s Dīrghasatra under Viśvāmitra: Ritual Authority, Public Yajña, and the Quest for Svarga

سوت بیان کرتے ہیں—برہما کے کلمات سے برانگیختہ ہو کر مہاتپسی وشوامتر نے اپنے تپوبل کی قوت ظاہر کرنے کے لیے تریشَنکو کے واسطے شاستروکت طریقے سے ویدک یَجْنَ، یعنی دیرگھ سَتر، کرانے کا عزم کیا۔ انہوں نے مبارک جنگل میں یَجْنَ-وَٹ کی تعمیر کر کے ادھوریو، ہوتṛ، برہما، اُدگاتṛ اور دیگر بہت سے رِتوِجوں و معاون ماہرین کو مقرر کیا، تاکہ رسم کی کامل پابندی نمایاں ہو۔ یَجْنَ ایک عظیم عوامی جشن بن گیا—عالم برہمن، منطق دان، گِرہست، غریب لوگ اور فنکار تک جمع ہوئے؛ دان کی تقسیم اور ضیافت کے نعروں کی گونج مسلسل رہی۔ اناج کے ‘پہاڑ’، سونا-چاندی-جواہرات کی فراوانی، اور بے شمار گائیں، گھوڑے، ہاتھی دان کے لیے تیار دکھائے گئے۔ لیکن ایک الٰہی کشمکش ظاہر ہوتی ہے—دیوتا خود سامنے آ کر ہَوی قبول نہیں کرتے؛ دیوتاؤں کے مُکھ، اگنی ہی آہوتیاں لیتا ہے۔ بارہ برس تک سَتر چلنے پر بھی تریشَنکو کی مطلوبہ مراد پوری نہ ہوئی۔ اَوَبھرتھ اسنان کے بعد مناسب دَکشِنا دے کر تریشَنکو شرمندہ مگر عقیدت کے ساتھ وشوامتر کا شکریہ ادا کرتا ہے کہ اس کی عزت بحال ہوئی اور چانڈال-حالت دور ہوئی؛ پھر بھی وہ جسم سمیت سُورگ آروہن نہ ہونے کا رنج بیان کرتا ہے۔ لوگوں کے تمسخر اور وسِشٹھ کے اس قول کے سچ ثابت ہونے کے خوف سے کہ صرف یَجْنَ سے جسم سمیت سُورگ نہیں ملتا، وہ راج چھوڑ کر جنگل میں تپسیا کرنے کا فیصلہ کرتا ہے—یوں اس باب میں یَجْنَ سے تپسیا کی طرف تعلیمی رخ نمایاں ہوتا ہے۔

28 verses

Adhyaya 6

Adhyaya 6

Viśvāmitra’s Hymn to Śiva and the Resolve to Create a New Sṛṣṭi (Triśaṅku Episode)

اس باب میں سوت کی روایت کے اندر شاہی-رِشی مکالمہ آگے بڑھتا ہے۔ تری شنکو کی حالت سن کر وشوامتر بادشاہ کو تسلی دیتے ہیں اور عہد کرتے ہیں کہ اُسے اسی جسم کے ساتھ سُوَرگ تک پہنچائیں گے۔ یہاں غیر معمولی سنکلپ (پختہ ارادہ) کی عظمت اور یَجْن/رِتُوَل کی اتھارٹی پر پیدا ہونے والا اختلاف نمایاں ہوتا ہے۔ پھر وشوامتر دیولोक کے قائم نظام کو للکارتے ہوئے اعلان کرتے ہیں کہ اپنے تپوبل سے وہ اپنی نئی سِرشٹی بھی شروع کر سکتے ہیں۔ اسی موڑ پر قصہ بھکتی-تتّو کی طرف مڑتا ہے۔ وشوامتر شیو (شنکر، ششی شیکھر) کے حضور جا کر باقاعدہ پرنام کرتے ہیں اور ستوتی پڑھتے ہیں، جس میں شیو کو کائنات کے مختلف افعال اور متعدد دیوتاؤں کی صورتوں کا ایک ہی پرم تَتّو بتایا گیا ہے—پورانک ہم آہنگی کے ساتھ۔ شیو مہربان ہو کر ور دیتے ہیں؛ وشوامتر شیو-کِرپا سے “سِرشٹی-ماہاتمیہ” (تخلیق کی قوت/معرفت) مانگتے ہیں۔ شیو عطا کر کے رخصت ہوتے ہیں؛ وشوامتر دھیان و سمادھی میں ٹھہر کر رقابت کے انداز میں چہارگانہ سِرشٹی کی تشکیل میں لگ جاتے ہیں—یوں بھکتی، طاقت اور کائناتی تجربہ تِیرتھ-کథا کے فریم میں جڑ جاتے ہیں۔

18 verses

Adhyaya 7

Adhyaya 7

Viśvāmitra’s Secondary Creation and the Resolution of Triśaṅku’s Ascent (विश्वामित्र-सृष्टि तथा त्रिशङ्कु-प्रकरण)

سوت بیان کرتے ہیں کہ وشوامتر نے سخت تپسیا اور پختہ دھیان-سنکلپ کے ساتھ پانی میں اتر کر ‘یُگم سندھیا’ (دوہری سندھیا) پیدا کی، جس کے آثار آج بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔ پھر اس نے دیوگن، آکاشچاری ہستیاں، ستارے اور سیارے، انسان، ناگ، راکشس، نباتات، حتیٰ کہ سَپت رِشی اور دھرو تک—سب کا ایک متوازی نظامِ تخلیق قائم کر دیا۔ نتیجتاً دو سورج، دو شب کے حاکم، اور دوگنے سیارے و برج نمودار ہوئے، اور دو آسمانی نظموں کی کشمکش سے جہان میں بڑا اضطراب پھیل گیا۔ اندرا (شکر) گھبرا کر دیوتاؤں کے ساتھ کملاسن برہما کے پاس پہنچا، ویدی طرز کے بھجنوں سے ستائش کی اور عرض کیا کہ نئی تخلیق کہیں قائم شدہ دنیا کو مغلوب نہ کر دے۔ برہما نے وشوامتر کو مخاطب کر کے تخلیق روکنے کی تلقین کی تاکہ دیوتاؤں کی ہلاکت نہ ہو۔ وشوامتر نے شرط رکھی کہ تری شنکو اپنے موجودہ جسم سمیت دیویہ لوک تک پہنچے۔ برہما نے اسے قبول کر کے تری شنکو کو برہملوک/تری وِشٹپ تک لے جا کر وشوامتر کے بے مثال عمل کی تحسین کی، مگر یہ حد بھی بتائی کہ یہ بنائی ہوئی کائناتی ترتیب قائم تو رہے گی، لیکن یَجْن وغیرہ قربانی کے اعمال کے لیے اہل نہ ہوگی۔ آخر میں برہما تری شنکو کے ساتھ روانہ ہو جاتے ہیں اور وشوامتر اپنے تپسیا-آشرم میں ثابت قدم رہتا ہے۔

18 verses

Adhyaya 8

Adhyaya 8

Hāṭakeśvara-māhātmya and the Nāga-bila: Indra’s Purification Narrative (हाटकेश्वर-माहात्म्य)

سوت جی تینوں لوکوں میں مشہور ایک تیرتھ کے ظہور کا بیان کرتے ہیں، جو وشوامتر کی کوشش سے تری شنکو کے غیر معمولی عروج سے وابستہ ہے۔ کہا گیا ہے کہ اس مقام پر کلی کے دُوش کا اثر نہیں ہوتا اور بڑے سے بڑا پاپ بھی یہاں زائل ہو جاتا ہے۔ اس تیرتھ میں اسنان اور وہیں دےہ تیاگ شِولोक کی پرابتّی کا ذریعہ ہے؛ حتیٰ کہ جانور بھی اس پُنّیہ کے حق دار بتائے گئے ہیں۔ بعد میں لوگ ایک ہی عمل—اسنان اور لِنگ بھکتی—پر بھروسا کرنے لگتے ہیں، جس سے یَجّیہ، تپسیا اور دیگر انُشٹھان کمزور پڑ جاتے ہیں۔ دیوتاؤں کو یَجّیہ کے حصّے بند ہونے کی فکر ہوتی ہے؛ تب اندر دھول ڈال کر تیرتھ کو روکنے کا حکم دیتا ہے۔ پھر چیونٹیوں کا ٹیلہ ‘ناگ-بِل’ بن جاتا ہے، جس راستے سے ناگ پاتال اور پرتھوی کے بیچ آنا جانا کرتے ہیں۔ اس کے بعد ورتّر کے فریب آمیز وध کے سبب اندر پر برہماہتیا کا دُوش آتا ہے؛ ورتّر کی تپسیا، وردان اور دیوتاؤں سے ٹکراؤ کی پس منظر بھی بیان ہوتی ہے۔ اندر بہت سے تیرتھوں کی یاترا کے باوجود پاک نہیں ہوتا؛ تب دیویہ وانی اسے ناگ-بِل کے راستے پاتال جانے کی ہدایت دیتی ہے۔ وہاں پاتال گنگا میں اسنان کر کے اور ہاٹکیشور کی پوجا کر کے وہ فوراً پاکیزگی اور تَیج دوبارہ پا لیتا ہے۔ آخر میں بے قابو رسائی روکنے کے لیے اس راستے کو پھر سے بند کرنے کی تاکید اور بھکتی سے پڑھنے سننے والوں کے لیے اعلیٰ ترین پھل کی پھل شروتی بیان کی گئی ہے۔

130 verses

Adhyaya 9

Adhyaya 9

Nāga-bila-pūraṇa and Raktaśṛṅga-sthāpanā at Hāṭakeśvara-kṣetra (नागबिलपूरणं रक्तशृङ्गस्थापनं च)

یہ باب ہاٹکیشور-کشیتر میں واقع خوفناک زیرِزمین راستے ‘مہان ناگ-بِل’ کے بند کیے جانے اور پھر اس کے تقدّس پانے کی جگہ-روایت بیان کرتا ہے۔ سوت کہتے ہیں کہ اندر نے سنورتک ہوا کو حکم دیا کہ گڑھے کو گرد و غبار سے بھر دے؛ مگر وایو نے انکار کیا اور پچھلا واقعہ سنایا کہ ایک بار لِنگ کو ڈھانپ دینے کے سبب اسے شاپ (لعنت) لگا، وہ ملی جلی بوئیں اٹھانے والا بن گیا، اور تریپوراری شِو کے خوف سے دوبارہ ایسا کام نہیں کر سکتا۔ اندر سوچ میں پڑا تو دیویجیہ (برہسپتی) نے حل ہمالیہ کی طرف موڑا اور اس کے تین بیٹوں کا ذکر کیا—مَیناک (جو سمندر میں پوشیدہ ہے)، نندی وردھن (جو وشیِشٹھ کے آشرم کے پاس نامکمل دراڑ سے وابستہ ہے)، اور رکت شرِنگ (جو دستیاب ہے)؛ اور طے ہوا کہ ناگ-بِل کو مضبوطی سے بند کرنے کے لیے صرف رکت شرِنگ ہی مؤثر ہے۔ اندر نے ہمالیہ سے درخواست کی، مگر رکت شرِنگ نے انسانی دنیا کی سختی اور اخلاقی بگاڑ، نیز اندر کے ہاتھوں اپنے پر کٹنے کی یاد کے باعث جانے سے انکار کیا۔ اندر نے اسے مجبور کیا اور وعدہ دیا کہ وہاں درخت، تیرتھ، مندر اور رشیوں کے آشرم قائم ہوں گے، اور گنہگار انسان بھی رکت شرِنگ کی موجودگی سے پاک ہوں گے۔ پھر رکت شرِنگ کو ناگ-بِل میں ناک تک ڈبو کر نصب کیا گیا اور وہ نباتات و پرندوں سے آراستہ ہوا۔ اندر نے برکتیں دیں کہ آئندہ ایک بادشاہ اس کے سر پر برہمنوں کی بھلائی کے لیے شہر بسائے گا؛ چَیتر کے کرشن چتُردشی کو اندر ہاٹکیشور کی پوجا کرے گا؛ اور شِو دیوتاؤں کے ساتھ ایک دن وہاں قیام کر کے تینوں لوکوں میں اس کی شہرت پھیلائیں گے۔ آخر میں بتایا گیا ہے کہ اس بند مقام کے اوپر واقعی تیرتھ، مزار/مندر اور تپسیا کے آشرم وجود میں آ گئے۔

47 verses

Adhyaya 10

Adhyaya 10

Śaṅkhatīrtha-prabhāvaḥ (The Efficacy of Śaṅkhatīrtha) — Chapter 10

سوت جی بیان کرتے ہیں کہ آنرت خطّے کے راجا چمتکار ایک بار شکار کو گئے۔ انہوں نے ایک درخت کے نیچے ہرنی کو نہایت سکون سے اپنے بچے کو دودھ پلاتے دیکھا اور جوش میں آ کر تیر مار دیا۔ موت کے قریب ہرنی نے راجا سے کہا—مجھے اپنی موت کا اتنا غم نہیں جتنا دودھ پر منحصر بےبس بچے کی بےسہارا حالت کا؛ پھر اس نے کشتری کے شکار-دھرم کی حد بتائی کہ جو جاندار جفتی میں ہو، سو رہا ہو، دودھ پلا رہا/کھا رہا ہو، کمزور ہو یا پانی سے وابستہ ہو، اسے مارنا گناہ کا سبب بنتا ہے۔ اسی بنا پر اس نے شاپ دیا کہ راجا فوراً کوڑھ جیسی بیماری میں مبتلا ہوگا۔ راجا نے دھرم-دفاع میں کہا کہ راج دھرم میں کبھی جنگلی جانوروں کی کمی/کنٹرول بھی شامل ہوتا ہے؛ ہرنی نے عمومی اصول مانتے ہوئے بھی اس واقعے میں قاعدہ شکنی اور اخلاقی لغزش واضح کی۔ ہرنی کے مرنے کے بعد راجا واقعی مرض میں گرفتار ہوا؛ اس نے اسے سمجھ کر تپسیا، شیو پوجا، دوست و دشمن کے لیے یکساں بھاؤ اور تیرتھ یاترا اختیار کی۔ آخرکار برہمنوں کی ہدایت سے وہ ہاٹکیشور-کشیتر کے مشہور شنکھ تیرتھ پہنچا؛ وہاں اسنان کرتے ہی بیماری دور ہوئی اور وہ نورانی/تابناک بن گیا—یوں اس ادھیائے میں تیرتھ کی تاثیر اور ضبطِ نفس کی نیتि قائم ہوتی ہے۔

21 verses

Adhyaya 11

Adhyaya 11

शंखतीर्थोत्पत्तिमाहात्म्य एवं चमत्कारभूपतिना ब्राह्मणेभ्यो नगरदानवर्णनम् (Origin and Glory of Śaṅkhatīrtha; the King Camatkāra’s Gift of a Town to Brahmins)

رِشیوں نے سوت سے پوچھا کہ راجا چمتکار کوڑھ سے کیسے نجات پایا، اسے راہ دکھانے والے برہمن کون تھے، اور شنکھ تیرتھ کہاں ہے اور اس کی قوت کیا ہے۔ سوت بیان کرتا ہے کہ راجا بہت سے تیرتھوں میں بھٹکا، دوائیں اور منتر تلاش کیے مگر کوئی علاج نہ ملا۔ ایک نہایت پُنیہ بھومی میں سادگی و ریاضت کے ساتھ رہتے ہوئے اسے یاتری برہمن ملے؛ اس نے انسانی یا الٰہی—کسی بھی ذریعے سے—مرض کے خاتمے کا راستہ پوچھا۔ برہمنوں نے قریب کے شنکھ تیرتھ کو سارے روگوں کا ناس کرنے والا بتایا، خاص طور پر چَیتر کے مہینے کی چودھویں تِتھی کو، جب چاند چِترا نکشتر میں ہو، روزہ/اپواس کے ساتھ اسنان کرنے سے بڑا پھل ملتا ہے۔ پھر انہوں نے تیرتھ کی پیدائش کی کتھا سنائی—تپسوی بھائی لکھِت اور شنکھ کی۔ لکھِت کے خالی آشرم سے شنکھ نے پھل لیا اور الزام اپنے سر لیا؛ غصّے میں لکھِت نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔ شنکھ نے سخت تپسیا کی تو شِو پرگٹ ہوئے، ہاتھ واپس عطا کیے اور شنکھ کے نام سے تیرتھ قائم کر کے اسنان کرنے والوں کے لیے شُدھی اور نوحیات، نیز مقررہ اسی رات شرادھ کرنے سے پِتروں کی تسکین کا ور دیا۔ برہمنوں کی ہدایت پر راجا نے ٹھیک وقت پر اسنان کیا، روگ دور ہوا اور وہ نورانی ہو گیا۔ شکرگزاری میں اس نے راج اور دھن دان کرنے کی چاہ کی، مگر برہمنوں نے شاستر کے مطابق فصیل اور خندق سے محفوظ، ودوان گِرہستھوں کے ادھیین اور کرم کے لیے ایک بستی مانگی؛ راجا نے منصوبہ بند نگر بسایا، اہل برہمنوں میں ودھی کے ساتھ دان بانٹا، اور آخرکار ویراغ اور تپسیا کی سمت بڑھ گیا۔

68 verses

Adhyaya 12

Adhyaya 12

Śaṅkha-tīrtha: Brāhmaṇa-nagarī-nivedana and Rakṣaṇa-upadeśa (शंखतीर्थे ब्राह्मणनगरनिवेदन-रक्षणोपदेशः)

سوت بیان کرتے ہیں کہ راجا وسودھاپال نے اندرا کی پورندرپُری کے مانند نہایت شاندار اور پُرآسائش شہر بسایا۔ اس میں جواہرات سے آراستہ مکانات، کیلاش کی چوٹیوں جیسے شفاف بلورین محل، جھنڈے اور پتاکائیں، سونے کے دروازے، منی کے زینوں والے تالاب، باغات، کنویں اور شہری سازوسامان سب کچھ مکمل طور پر مہیا تھا۔ پھر اس نے اس پوری طرح آراستہ برہمن بستی کو معزز برہمنوں کے حضور نذر (نِویدن) کر کے اپنے دھرم کو پورا سمجھا۔ شنکھ تیرتھ میں ٹھہر کر اس نے بیٹوں، پوتوں اور خدام کو بلا کر حکم دیا کہ اس عطا کی ہوئی بستی کی مسلسل کوشش سے حفاظت کی جائے تاکہ سب برہمن خوش رہیں۔ جو حکمران عقیدت سے برہمنوں کی حفاظت کرتا ہے وہ برہمنوں کی کرپا سے غیر معمولی نور و جلال، ناقابلِ شکست قوت، دولت، درازیِ عمر، صحت اور نسل کی افزائش پاتا ہے؛ اور جو دشمنی کرے وہ رنج، شکست، عزیزوں سے جدائی، بیماری، ملامت، نسل کی ٹوٹ پھوٹ اور آخرکار یم کے لوک میں گراوٹ کا مستحق ہوتا ہے۔ باب کے آخر میں راجا تپسیا میں داخل ہوتا ہے اور اس کی اولاد اس کے حکم پر چل کر نگہبانی کے دھرم کی روایت قائم رکھتی ہے۔

14 verses

Adhyaya 13

Adhyaya 13

अचलेश्वर-प्रतिष्ठा-माहात्म्य (The Māhātmya of Acaleśvara: Establishment and Proof-Sign)

سوت جی بیان کرتے ہیں کہ ایک بادشاہ نے اپنی سلطنت اور شہر بیٹوں کے سپرد کیے، دوبارہ جنم والوں (دویجوں) کو ایک بستی دان میں دی، اور مہادیو کو راضی کرنے کے لیے سخت تپسیا کی۔ وہ طویل مدت تک بتدریج پھل پر، پھر خشک پتّوں پر، پھر صرف پانی پر، اور آخر میں ہوا پر گزارا کرتا رہا؛ اس کے تپ سے مہیشور خوش ہوئے اور ظاہر ہو کر ور دینے لگے۔ بادشاہ نے عرض کیا کہ ہاٹکیشور سے وابستہ نہایت پُنیہ کھیتر بھگوان کے دائمی قیام سے اور زیادہ پاکیزہ ہو جائے۔ مہادیو نے وہاں غیر متحرک رہنے کی منظوری دی اور فرمایا کہ وہ تینوں لوکوں میں “اچلیشور” کے نام سے مشہور ہوں گے، اور جو بھکتی سے درشن کرے گا اسے ثابت و قائم خوشحالی عطا کریں گے۔ نیز ماگھ شُکل چتُردشی کو لِنگ پر “گھرت-کمبل” نذر کرنے کا ورت بتایا گیا ہے، جس سے زندگی کے ہر دور کے گناہ نَشٹ ہوتے ہیں۔ بادشاہ کو لِنگ-پرتِشٹھا کا حکم ملا؛ دیوتا کے اوجھل ہونے کے بعد اس نے خوبصورت مندر بنوایا۔ آکاش وانی سے تصدیقی نشان ملا کہ اس لِنگ کا سایہ ساکن رہے گا اور معمول کے مطابق سمتوں کے ساتھ نہیں چلے گا؛ بادشاہ نے یہ عجیب علامت دیکھ کر کمالِ اطمینان پایا، اور کہا گیا کہ وہ سایہ آج بھی دکھائی دیتا ہے۔ ایک اور دلیل یہ کہ جس کی موت چھ ماہ کے اندر مقدر ہو، وہ اس سایے کو نہیں دیکھ سکتا۔ آخر میں بتایا گیا کہ چمتکارپور کے نزدیک مہادیو اچلیشور روپ میں ہمیشہ حاضر ہیں؛ یہ تیرتھ مرادیں پوری کرنے والا اور موکش دینے والا ہے، اور اس کی غیر معمولی تاثیر ظاہر کرنے کے لیے رکاوٹ بننے والی عیوب-دیوتاؤں کو بھی لوگوں کو وہاں جانے سے روکنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

38 verses

Adhyaya 14

Adhyaya 14

Cāmatkārapura-pradakṣiṇā-māhātmya (Theological Account of Circumambulation at Cāmatkārapura)

اس باب میں سوت جی ایک تعلیمی حکایت بیان کرتے ہیں۔ پیدائش سے ویشیہ، گونگا اور مفلس ایک شخص گوالا بن کر گزر بسر کرتا ہے۔ چَیتر کے مہینے کی کرشن پکش چتُردشی کو اس کا ایک جانور بے خبری میں بچھڑ جاتا ہے۔ مالک اسے قصوروار ٹھہرا کر فوراً جانور واپس لانے کا مطالبہ کرتا ہے۔ خوف سے وہ بغیر کھائے، ہاتھ میں لاٹھی لیے جنگل میں تلاش کو نکلتا ہے۔ کھروں کے نشانوں کے پیچھے چلتے چلتے وہ چامتکارپور کی پوری حد کے گرد چکر لگا لیتا ہے—یوں انجانے میں پردکشنا ہو جاتی ہے۔ رات کے آخر میں جانور مل جاتا ہے اور وہ اسے واپس کر دیتا ہے۔ متن بتاتا ہے کہ اس خاص وقت میں دیوتا مقدس مقامات پر جمع ہوتے ہیں، اس لیے ایسے اعمال کا پُنّیہ بڑھ جاتا ہے۔ بعد میں وہ گوالا (روزہ، مَون اور بغیر اسنان کی حالت میں) اور وہ جانور دونوں اپنے وقت پر وفات پاتے ہیں۔ گوالا دشاڑن راجہ کے بیٹے کے طور پر دوبارہ جنم لیتا ہے اور پچھلے جنم کی یاد باقی رہتی ہے۔ راجہ بن کر وہ ہر سال وزیر کے ساتھ پیدل، روزہ اور مَون ورت کے ساتھ چامتکارپور کی پردکشنا ارادتاً کرتا ہے۔ وشوامتر سے منسوب پاپ ہرن تیرتھ پر آئے رشی پوچھتے ہیں کہ اتنے تیرتھ اور مندر ہوتے ہوئے وہ اسی عمل سے اتنی عقیدت کیوں رکھتا ہے۔ راجہ اپنا پچھلا جنم سناتا ہے۔ رشی اس کی ستائش کرتے ہیں، خود بھی پردکشنا کرتے ہیں اور ایسی نادر سدھی پاتے ہیں جو جپ، یَجّیہ، دان اور دیگر تیرتھ سیوا سے بھی دشوار بتائی گئی ہے۔ آخر میں راجہ اور وزیر دیوی ہستی بن کر آسمان میں ستاروں کی مانند دکھائی دیتے ہیں—یہ پردکشنا کے پھل کی تصدیق ہے۔

41 verses

Adhyaya 15

Adhyaya 15

Vṛndā’s Rescue, Māyā-Encounter with Hari, and the Etiology of Vṛndāvana (तुलसी-वृंदावन-प्रादुर्भाव)

نارد کے بیان کردہ اس باب میں ہری/نارائن تپسوی کا بھیس دھار کر ایک راکشس کو ہلاک کرتے ہیں اور مصیبت زدہ عورت وِرِندا (وِرِندارِکا) کی حفاظت کرتے ہیں۔ پھر وہ اسے ہولناک جنگل سے گزار کر ایک عجیب و غریب آشرم میں لے جاتے ہیں، جہاں سنہری رنگ کے پرندے، امرت جیسی ندیاں اور شہد ٹپکاتے درخت تیرتھ کی حیرت انگیز شان دکھاتے ہیں۔ اس کے بعد “چترشالا” میں دیویہ مایا کے سبب وِرِندا کو اپنے شوہر جیسا ایک شخص نظر آتا ہے؛ قربت کے باعث وہ فریب میں آ کر وصل کر بیٹھتی ہے۔ تب ہری اپنی حقیقت ظاہر کر کے بتاتے ہیں کہ پرمارتھ میں شِو اور ہری میں اَبھید ہے، اور جالندھر کی موت کی خبر دیتے ہیں۔ وِرِندا اسے اخلاقی لغزش سمجھ کر سخت اعتراض کرتی ہے اور شاپ دیتی ہے کہ جیسے ایک تپسوی کی مایا سے وہ دھوکا کھا گئی، ویسے ہی ہری بھی اسی طرح کے موہ کے تابع ہوں گے۔ آخر میں وِرِندا تپسیا کا پختہ عزم کر کے یوگ سمادھی میں دےہ تیاگ کرتی ہے؛ اس کے باقیات کا ودھی کے مطابق سنسکار کیا جاتا ہے۔ جہاں اس نے جسم چھوڑا وہ مقام گووردھن کے نزدیک “وِرِنداون” کے نام سے مشہور ہوا، اور اس کے روپانتر سے اس خطے کی پاکیزگی قائم کی گئی۔

72 verses

Adhyaya 16

Adhyaya 16

रक्तशृङ्गसांनिध्यसेवनफलश्रैष्ठ्यवर्णनम् (Exposition on the Supremacy of the Fruits of Serving the Proximity of Raktaśṛṅga)

اس سولہویں باب میں سوت جی بیان کرتے ہیں کہ ہاٹکیشور-سمبھَو مقدّس کشتَر میں رکتشِرِنگ کے قرب کی بھکتی-سیوا سب سے اعلیٰ پھل دینے والی ہے۔ داناؤں کو ترغیب دی گئی ہے کہ دوسرے کام چھوڑ کر اسی مقام پر رہ کر دیویہ سانیِدھّیہ کی سیوا کریں۔ دان، کریاکانڈ، پوری دکشِنا کے ساتھ اگنِشٹوم وغیرہ یَجْیَ، چاندْرایَن اور کِرِچّھر جیسے سخت ورت، اور پربھاس و گنگا جیسے مشہور تیرتھ—ان سب کے پُنّیہ کا موازنہ کر کے کہا گیا ہے کہ یہ اس کشتَر کے پُنّیہ کے سولہویں حصّے کے بھی برابر نہیں۔ مثالوں میں بتایا گیا ہے کہ قدیم راجرشیوں نے وہیں سِدّھی پائی؛ اور زمانے کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے جانور، پرندے، سانپ اور درندے بھی اس مقام کے تعلق سے دیویہ دھام کو پہنچتے ہیں۔ تیرتھ قیام سے پاک کرتے ہیں، مگر ہاٹکیشور-کشتَر یاد سے بھی، دیدار سے زیادہ اور خصوصاً لمس سے نہایت پاکیزگی بخشتا ہے—یہی جسمانی قرب کے ذریعے تقدّس کی تعلیم ہے۔

11 verses

Adhyaya 17

Adhyaya 17

चमत्कारपुर-क्षेत्रप्रमाण-वर्णनम् तथा विदूरथ-नृपकथा (Chamatkārapura Kṣetra Boundaries and the Tale of King Vidūratha)

اس باب میں رِشی سوت سے چمتکارپور کے کْشَیتر کی ٹھیک پیمائش (پرمان) اور وہاں کے پُنّیہ تیرتھوں اور مقدّس آستانوں کی فہرست و بیان طلب کرتے ہیں۔ سوت بتاتے ہیں کہ یہ کْشَیتر پانچ کروش تک پھیلا ہے؛ مشرق میں گیاشِر، مغرب میں ہری کا پَدچِہن، اور جنوب و شمال میں گوکرنیشور کے مقدّس مقامات اس کی سمتوں کے نشان اور حدّیں ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ پہلے اس کا نام ہاٹکیشور تھا اور یہ جگہ پاپوں کو نَشوَن کرنے والی کے طور پر مشہور ہے۔ پھر برہمنوں کی درخواست پر سوت راجا وِدورَتھ کی کتھا شروع کرتے ہیں۔ شکار کے دوران راجا کا پیچھا رفتہ رفتہ خطرناک تعاقب بن جاتا ہے؛ کانٹوں سے بھرا، بے آب، بے سایہ جنگل، سخت گرمی اور درندوں کا خوف اسے گھیر لیتا ہے۔ لشکر سے جدا ہو کر وہ شدید تھکن اور بڑھتے ہوئے خطرے میں پڑتا ہے؛ آخرکار اس کا گھوڑا گر پڑتا ہے—اور یہی واقعہ آگے چل کر اس کْشَیتر کی پاکیزگی اور اخلاقی معنی کے انکشاف کی تمہید بنتا ہے۔

21 verses

Adhyaya 18

Adhyaya 18

प्रेतसंवादः — विदूरथस्य प्रेतैः सह संवादः तथा जैमिन्याश्रमप्रवेशः (Dialogue with Pretas and Entry into Jaimini’s Āśrama)

اس باب میں دو مربوط حصے ہیں۔ پہلے حصے میں، سخت جنگل میں بھوک اور پیاس سے نڈھال راجا وِدورَتھ تین ہولناک پریتوں سے روبرو ہوتا ہے۔ مکالمے میں وہ اپنے کرم-نام بتاتے ہیں—مانساد، وِدَیوت، کِرتَگھن—اور سمجھاتے ہیں کہ مسلسل اَدھرم، پوجا و عبادت کی غفلت، ناشکری، مہمان کی بے ادبی، ناپاکی وغیرہ کے سبب پریت-یوگ (پریت حالت) حاصل ہوتی ہے۔ پھر گھریلو دھرم اور شرادھ آچار کی عملی تعلیم آتی ہے—غیر مناسب وقت پر شرادھ، ناکافی دَکشِنا، ویشودیو کی کوتاہی، مہمان نوازی میں کمی، کھانے کی ناپاکی/آلودگی، گھر میں اَمَنگل وغیرہ مواقع پر کہا گیا ہے کہ پریت نذرانہ یا غذا ‘بھोग’ کر لیتے ہیں۔ پرستری گمن، چوری، بدگوئی، خیانت، دوسروں کے مال کا غلط استعمال، برہمنوں کے دان میں رکاوٹ، بے قصور بیوی کو چھوڑ دینا وغیرہ پریت ہونے کے اسباب ہیں؛ اور اس کے مقابل پرائی عورت کو ماں کے برابر سمجھنا، سخاوت، برابریِ نظر، رحم دلی، یَجْن و تیرتھ کی رغبت، اور کنویں-تالاب جیسے عوامی بھلائی کے کام حفاظتی اوصاف ہیں۔ پریت گَیا-شرادھ کو فیصلہ کن تدارک مان کر درخواست کرتے ہیں۔ دوسرے حصے میں راجا شمال کی طرف بڑھ کر جھیل کنارے کے پُرسکون جَیمِنی آشرم میں پہنچتا ہے۔ وہاں رِشی جَیمِنی اور تپسوی اسے پانی اور پھل دیتے ہیں؛ راجا اپنی حالت بیان کرتا ہے اور شام کی رسومات میں شریک ہوتا ہے۔ رات کے بیان میں تاریکی کے خطرات اخلاقی تنبیہ کی صورت اختیار کرتے ہیں۔

102 verses

Adhyaya 19

Adhyaya 19

सत्योपदेशः—गयाशीर्षे श्राद्धेन प्रेतमोक्षणम् (Instruction on Truthfulness—Preta-Liberation through Śrāddha at Gayāśiras)

سوت بیان کرتا ہے کہ راجا ودورَتھ غم زدہ خادموں سے دوبارہ مل کر رشیوں کے جنگل میں آرام کرتا ہے، پھر ماہِشمتی کی طرف واپسی کے دوران گیاشیِرش کی یاترا کرتا ہے۔ وہاں وہ عقیدت کے ساتھ شرادھ ادا کرتا ہے۔ خواب کے درشن میں ‘مانساد’ نامی ایک پریت دیویہ روپ میں ظاہر ہو کر کہتا ہے کہ راجا کے شرادھ کے اثر سے اسے پریت یَونی سے نجات مل گئی۔ اس کے بعد ‘کرتَگھن’ نامی دوسرا پریت—ناشکرا اور تالاب کے دھن کی چوری سے وابستہ—گناہ کے بندھن سے اب بھی مبتلا رہتا ہے اور بتاتا ہے کہ مکتی کی بنیاد ‘ستیہ’ (سچائی) ہے۔ وہ ستیہ کی مہیمہ سناتا ہے کہ ستیہ ہی پرم برہمن ہے، ستیہ ہی تپسیا ہے، ستیہ ہی گیان ہے، اور ستیہ سے ہی کائناتی دھرم قائم ہے؛ ستیہ کے بغیر تیرتھ سیوا، دان، سوادھیائے اور گرو سیوا بے پھل ہو جاتے ہیں۔ پھر وہ ٹھیک مقام و ودھی بتاتا ہے: ہاٹکیشور کھیتر کے چامتکارپور میں ریت کے نیچے گیاشیِرش پوشیدہ ہے؛ پلاکش کے درخت تلے دربھ، جنگلی ساگ اور جنگلی تل کے ساتھ فوراً شرادھ کرو۔ ودورَتھ ایک چھوٹا کنواں کھود کر پانی لیتا ہے اور شرادھ مکمل کرتا ہے؛ اسی لمحے کرتَگھن پریت دیویہ دےہ پا کر وِمان میں سوار ہو کر روانہ ہو جاتا ہے۔ آخر میں اس کنویں کی شہرت پِتروں کے لیے دائمی فائدہ رساں بتائی گئی ہے۔ پریت پکش کی اماوسیا کو کالاشاک، جنگلی تل اور کٹی ہوئی دربھ کے ساتھ وہاں شرادھ کرنے سے ‘کرتَگھن-پریت-تیرتھ’ کا پورا پھل ملتا ہے؛ مختلف پِتر ورگ وہاں ہمیشہ حاضر مانے گئے ہیں، اس لیے مناسب وقت پر یا معمول کی تِتھیوں کے باہر بھی وہاں شرادھ کرنا پِتر تریپتی کے لیے مستحسن ہے۔

36 verses

Adhyaya 20

Adhyaya 20

Pitṛ-kūpikā-śrāddha, Gokarṇa-gamana, and Bālamaṇḍana-tīrtha Śuddhi (पितृकूपिका-श्राद्धम्, गोकर्णगमनम्, बालमण्डनतीर्थशुद्धिः)

سوت بیان کرتے ہیں کہ جلاوطنیِ جنگل کے دوران رام، سیتا اور لکشمن کے ساتھ ‘پِتر-کوپِکا’ نامی مقام پر پہنچے۔ شام کے آداب ادا کرنے کے بعد رام نے خواب میں خوش و خرم اور آراستہ دشرتھ کو دیکھا۔ برہمنوں سے مشورہ کیا تو انہوں نے اسے پِتروں کی طرف سے شرادھ کی درخواست قرار دیا اور بتایا کہ جنگل میں دستیاب نِوار اناج، جنگلی ساگ، جڑیں اور تل وغیرہ سے سادگی و ریاضت کے ساتھ شرادھ کیا جائے۔ رام نے مدعو برہمنوں کے ساتھ شاستروکت طریقے سے شرادھ مکمل کیا۔ شرادھ کے وقت سیتا حیا کے سبب الگ ہو گئیں۔ بعد میں انہوں نے کہا کہ انہیں برہمنوں میں ہی دشرتھ اور دیگر اسلاف کی حضوری محسوس ہوئی، اس لیے آچار-دھرم کے لحاظ سے تردد پیدا ہوا۔ رام نے ان کی پاک نیت کو دھرم کے مطابق مان کر اس کشمکش کو سلجھا دیا۔ اس کے بعد لکشمن کو یہ احساس ہوا کہ انہیں محض خدمت کے کاموں تک محدود کر دیا گیا ہے؛ غصہ آیا اور دل میں غلط خیال ابھرے، مگر پھر باہمی صلح سے اخلاقی درستی ہو گئی۔ اسی وقت رشی مارکنڈےیہ آئے، تیرتھ-شودھی کی اہمیت بتائی اور اپنے آشرم کے نزدیک بالمنڈن تیرتھ میں اشنان کا حکم دیا—جو ذہنی لغزش جیسے بڑے دوش بھی دھو دیتا ہے۔ وہ وہاں اشنان کر کے پِتامہ کے درشن پاتے ہیں اور جنوب کی سمت روانہ ہوتے ہیں؛ یوں مقام، شرادھ اور اخلاقی تطہیر ایک ربط میں جڑ جاتے ہیں۔

81 verses

Adhyaya 21

Adhyaya 21

बालसख्यतीर्थप्रादुर्भावः — Origin of Bālasakhya Tīrtha and Brahmā’s Grace to Mārkaṇḍeya

باب کے آغاز میں برہمن سوت سے پوچھتے ہیں کہ مارکنڈےیہ کہاں تھے، برہما کی پرتِشٹھا (نصب) کی جگہ کہاں ہے اور رشی کا آشرم کہاں تھا۔ سوت بیان کرتے ہیں کہ چمتکارپور کے نزدیک مِرکنڈو مُنی تپوبن میں رہتے تھے؛ وہیں نورانی بیٹا مارکنڈےیہ پیدا ہوا۔ سامُدریک (چہرہ شناسی) جاننے والا ایک برہمن آیا اور پیش گوئی کی کہ بچہ چھ ماہ میں مر جائے گا۔ تب مِرکنڈو نے بچے کو نِیَم-آچار سکھایا اور خاص طور پر یہ تاکید کی کہ گھومنے والے برہمنوں اور رشیوں کو ادب سے نمسکار کیا جائے۔ بچہ بار بار پرنام کرتا تو کئی رشی “دیرگھ آیو” کی آشیرواد دیتے؛ مگر سچ کی حفاظت کے لیے وِشِشٹھ نے کہا کہ تیسرے دن ہی موت مقرر ہے—یوں آشیرواد اور سچائی میں بحران پیدا ہوا۔ سب رشیوں نے طے کیا کہ مقدر موت کو صرف پِتامہ برہما ہی ٹال سکتے ہیں۔ وہ برہملوک گئے، ویدک ستوتیوں سے برہما کی مدح کی اور معاملہ پیش کیا۔ برہما نے بچے کو بڑھاپے اور موت سے آزادی کا ور دیا اور یہ بھی فرمایا کہ بیٹے کے درشن سے پہلے باپ غم سے نہ مرے۔ رشی واپس آ کر اگنی تیرتھ کے پاس آشرم کے قریب بچے کو چھوڑ کر یاترا میں آگے بڑھ گئے۔ ادھر مِرکنڈو اور ان کی پتنی بچے کو کھویا سمجھ کر اور پیش گوئی یاد کر کے غم میں خودسوزی پر آمادہ ہوئے؛ تب بچہ لوٹ آیا اور رشیوں کے کام اور برہما کے ور کی خبر سنائی۔ شکر گزار مِرکنڈو نے رشیوں کی پوجا-خدمت کی؛ انہوں نے بدلے میں اسی جگہ برہما کی پرتِشٹھا کر کے پوجن کا وِدھان بتایا۔ یہ مقام “بالسکھیا” کہلایا—بچوں کے لیے بھلائی دینے والا، بیماری دور کرنے والا، خوف مٹانے والا اور گرہ-بھوت-پِشَچ کی آفت سے بچانے والا۔ پھل شروتی میں کہا گیا ہے کہ شرَدھا سے صرف اسنان بھی اعلیٰ گتی دیتا ہے؛ جَیَیشٹھ ماہ میں اسنان کرنے سے سال بھر کلَیش سے نجات ملتی ہے۔

85 verses

Adhyaya 22

Adhyaya 22

बालमण्डनतीर्थोत्पत्तिः — Origin of the Bālamaṇḍana Tīrtha and the Śakreśvara Observance

رِشی پوچھتے ہیں—وہ کون سا تیرتھ ہے جہاں لکشمن اور اندر کو سوامی دروہ (حق دار بزرگ/حاکم کے خلاف خیانت) کے پاپ سے نجات ملی؟ سوت اس تیرتھ کی پیدائش کی کتھا سناتا ہے۔ دکش کی نسل کے بیان میں کشیپ کی دو بڑی پتنیوں—ادیتی اور دِتی—سے دیوتاؤں اور زیادہ زور آور دیتیوں کی پیدائش اور ان کے باہمی ٹکراؤ کا ذکر آتا ہے۔ دیوتاؤں سے برتر پتر پانے کے لیے دِتی سخت ورت کرتی ہے؛ شِو پرسن ہو کر ور دیتے ہیں۔ پیش گوئی سے ڈر کر اندر دِتی کی خدمت کرتا ہے اور ورت میں لغزش ڈھونڈتا ہے۔ ولادت کے وقت دِتی کے سو جانے پر اندر گربھ میں داخل ہو کر جنین کو سات حصّوں میں، پھر ہر حصّے کو دوبارہ سات میں کاٹ دیتا ہے—یوں انچاس بچے پیدا ہوتے ہیں۔ دِتی اندر کی سچی اقرار سن کر انجام کو شُبھ بنا دیتی ہے—یہ بچے ‘مروت’ کہلاتے ہیں، دیتیہ پن سے آزاد ہو کر اندر کے ساتھی اور یَجْیَ کے حصّے کے حق دار بنتے ہیں۔ یہ جگہ ‘بالمنڈن’ (بچوں سے آراستہ) کے نام سے مشہور ہوتی ہے؛ حاملہ عورتوں کے لیے وہاں اسنان اور ولادت کے وقت اس پانی کا پینا حفاظت کا سبب بتایا گیا ہے۔ اپنے سوامی دروہ کے پرایشچت کے لیے اندر وہاں شِو لِنگ کی پرتِشٹھا کر کے ‘شکرےشور’ کی ہزار برس پوجا کرتا ہے۔ شِو اندر کا پاپ دور کرتے ہیں اور انسان بھکتوں کو بھی وہاں اسنان، درشن اور پوجا سے پاپ کَشَے کا ور دیتے ہیں۔ آشوِن شُکل دشمی سے پُورنِما (پنچدشی) تک شرادھ کرنے سے سب تیرتھوں کے اسنان کا پھل، بلکہ اشومیدھ کے برابر پُنّیہ ملتا ہے؛ اس عرصے میں اندر کی سَنِدھی سے گویا سب تیرتھ اسی جگہ جمع ہو جاتے ہیں۔ آخر میں نارَد کے کہے دو شلوک نقل ہوتے ہیں—بالمنڈن میں اسنان اور آشوِن ورت کے دنوں میں شکرےشور کے درشن سے پاپوں سے مُکتی ملتی ہے۔

54 verses

Adhyaya 23

Adhyaya 23

मृगतीर्थमाहात्म्य (Mṛgatīrtha Māhātmya — The Glory of the Deer-Tīrtha)

سوت جی مغربی حصے میں واقع ایک نہایت مقدس تیرتھ ‘مِرگ تیرتھ’ کی عظمت بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ جو شخص چَیتر شُکل چَتُردشی کے دن طلوعِ آفتاب کے وقت پورے شردھا (ایمان) کے ساتھ وہاں اشنان کرے، وہ سخت گناہوں کے بوجھ کے باوجود بھی حیوانی یَونی میں نہیں گرتا؛ تیرتھ کا اشنان پاکیزگی اور رفعت عطا کرتا ہے۔ رِشی اس تیرتھ کی پیدائش اور خاص اثر کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ سوت کَتھا سناتے ہیں—ایک گھنے جنگل میں شکاری ہرنوں کے ریوڑ کا پیچھا کرتے ہیں۔ تیروں سے زخمی اور خوف زدہ ہرن ایک گہرے آبی ذخیرے میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اس جل کی قوت سے وہ انسانی حالت کو پہنچتے ہیں؛ محض اشنان سے ہی ان کی ظاہری علامات میں بھی نکھار اور تہذیب ظاہر ہوتی ہے۔ پھر سبب بتایا جاتا ہے کہ یہ جل پہلے مذکور ‘لِنگ-بھید-اُدبھَو’ سے وابستہ ہے۔ جو چشمہ گرد و غبار سے ڈھکا تھا، وہ دیوی حکم سے وَلْمیک (چیونٹی کے ٹیلے) کے سوراخ سے دوبارہ ظاہر ہوا اور رفتہ رفتہ اسی مقام پر نمایاں ہو گیا۔ مثال کے طور پر تِرشَنکو، جو سماجی طور پر پست حالت میں تھا، وہاں اشنان کر کے دوبارہ دیوی روپ پا لیتا ہے۔ اسی لیے شکاری اور ہرن—دونوں—اس تیرتھ میں اشنان سے پاپ-مل سے چھوٹ کر اعلیٰ گتی حاصل کرتے ہیں۔

19 verses

Adhyaya 24

Adhyaya 24

विष्णुपद-तीर्थमाहात्म्यम् (The Māhātmya of the Viṣṇupada Tīrtha)

اس باب میں سوت جی ‘وشنوپد’ نامی تیرتھ کا ماہاتمیہ بیان کرتے ہیں، جو نہایت مبارک اور تمام گناہوں کو مٹانے والا ہے۔ دکشناین اور اتراین کے سنگم کے دنوں میں جو بھکت یکسوئی اور شردھا کے ساتھ وشنو کے پدچِہن کی پوجا کر کے آتما-نِویدن کرتا ہے، اسے وشنو کا پرم پد نصیب ہوتا ہے۔ رشی اس تیرتھ کی ابتدا اور درشن، سپرش اور اسنان کے پھل دریافت کرتے ہیں۔ سوت تری وِکرم کی کتھا سناتے ہیں—وشنو نے بلی کو باندھا اور تین قدموں میں تینوں لوکوں کو ویاپ لیا؛ اسی وقت پاکیزہ دیویہ جل کا نزول ہوا، جو آگے چل کر گنگا کے نام سے مشہور ہوا اور ‘وشنوپدی’ کے طور پر یاد کیا گیا، جس نے اس خطے کو پَوِتر کیا۔ وِدھی کے مطابق اسنان کے بعد پدچِہن کو چھونا پرم گتی دیتا ہے؛ وہاں کیا گیا شرادھ گیا کے برابر پھل دیتا ہے؛ ماگھ اسنان پریاگ کے مانند پھل دیتا ہے؛ طویل سادھنا اور استھی-وسرجن بھی موکش میں مددگار بتائے گئے ہیں۔ نارد جی کی منسوب گاتھا کی بنیاد پر کہا گیا ہے کہ وشنوپدی جل میں ایک بار اسنان کرنے سے کئی تیرتھوں، دانوں اور تپسیاؤں کے مجموعی پھل کی پرابتھی ہوتی ہے۔ آخر میں این-ورت کے لیے منتر دیا گیا ہے—اگر چھ ماہ کے اندر مرتیو آ جائے تو وشنو کا پدچِہن ہی میری شرن ہو؛ پھر برہمن پوجن اور ساجھے بھوجن کو کرم کی دھارمک تکمیل بتایا گیا ہے۔

36 verses

Adhyaya 25

Adhyaya 25

विष्णुपदीगङ्गाप्रभावः — The Efficacy of the Viṣṇupadī Gaṅgā

سوت جی گنگا-ماہاتمیہ کے طور پر ایک نصیحت آموز واقعہ بیان کرتے ہیں۔ چمتکارپور کا باانضباط برہمن چندشرما جوانی کی دل بستگی میں الجھ جاتا ہے۔ ایک رات پیاس کے وقت وہ پانی سمجھ کر ایک طوائف کے ہاتھ سے شراب پی لیتا ہے؛ اس نے بھی غلطی سے اسے پانی ہی سمجھا تھا۔ برہمن کے لیے اس لغزش کا احساس ہوتے ہی وہ کفّارہ پوچھنے علماے برہمن کی سبھا میں جاتا ہے؛ وہ دھرم شاستر کے مطابق پئے گئے مے کے برابر مقدار میں آگنی رنگ گھی پینے کا پرایَشچت بتاتے ہیں۔ کفّارے کی تیاری میں اس کے والدین آ پہنچتے ہیں۔ باپ شاستروں سے سخت تدابیر پر غور کرتا ہے اور دان و تیرتھ یاترا جیسے متبادل بھی بتاتا ہے؛ مگر بیٹا مقررہ رسم (مونجی-ہوم وغیرہ کا ذکر) پر اڑا رہتا ہے۔ والدین بھی بیٹے کے ساتھ آگ میں داخل ہونے کا عزم کر لیتے ہیں۔ اسی بحران میں یاترا پر آئے رشی شاندلیہ پہنچتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جہاں گنگا میسر ہو وہاں بے سبب موت کیوں؛ سخت تپسیا تو گنگا سے محروم علاقوں کے لیے مقرر ہے۔ وہ سب کو وشنوپدی گنگا کی طرف لے جاتے ہیں؛ آچمن اور اسنان ہی سے چندشرما فوراً پاک ہو جاتا ہے، اور دیویہ وانی (بھارتی) اس کی تصدیق کرتی ہے۔ باب کے آخر میں مغربی سرحد کے اس تیرتھ کو ‘پاپ ناشنی’ کہہ کر گنگا کی ہمہ گیر گناہ زُدائی کی قدرت کو عام اصول کے طور پر قائم کیا جاتا ہے۔

43 verses

Adhyaya 26

Adhyaya 26

हाटकेश्वरक्षेत्रमाहात्म्योपदेशः (Instruction on the Glory of Hāṭakeśvara Kṣetra)

اس باب میں سوت جی روایت کا آغاز کرتے ہوئے جنوب–شمال سرحدی سیاق کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ متھرا میں دریائے یمنا کے کنارے ‘گوکرن’ نام کے دو معزز برہمنوں کا ذکر آتا ہے۔ یم راج کے حکم سے قاصد غلطی سے ایک طویل العمر برہمن کو بھی لے آتا ہے؛ یم راج اس خطا کی اصلاح کرتے ہیں اور برہمن سے دھرم، عدل اور کرم کے پھل کے قانون پر گفتگو کرتے ہیں۔ فقر و فاقہ سے ستایا ہوا برہمن موت کی خواہش ظاہر کرتا ہے اور یم راج کی غیر جانب داری، کرم کے نتائج کے نظام اور سزا کے طریقِ کار کے بارے میں سوال کرتا ہے؛ نیز دوزخوں کی اقسام جاننا چاہتا ہے۔ یم راج ویتَرَنی سمیت اکیس نرکوں کی ترتیب وار وضاحت کرتے ہیں اور چوری، امانت میں خیانت، جھوٹی گواہی، ظلم و تشدد وغیرہ گناہوں کے مطابق ان کے انجام بیان کرتے ہیں۔ پھر بیان سزا کے نقشے سے ہٹ کر اخلاقی ہدایت کی طرف مڑتا ہے—تیرتھ یاترا، دیوتاؤں کی پوجا، مہمان نوازی، اناج-پانی-پناہ کا دان، ضبطِ نفس، سوادھیائے اور عوامی بھلائی کے کام (کنویں، تالاب، مندر وغیرہ کی تعمیر) کو حفاظت کے اسباب کہا جاتا ہے۔ آخر میں یم راج ایک ‘رازدارانہ’ نجات بخش تعلیم دیتے ہیں—آنرت دیس کے ہاٹکیشور کشتَر میں شیو بھکتی تھوڑے وقت کے لیے بھی بڑے پاپوں کو مٹا کر شیو لوک تک پہنچاتی ہے۔ دونوں گوکرن وہاں پوجا کر کے سرحد پر لِنگ کی پرتِشٹھا کرتے ہیں، تپسیا کرتے ہیں اور دیوی گتی پاتے ہیں۔ چتُردشی کی رات جاگَرَن کی خاص تعریف ہے، جو اولاد، دولت اور بالآخر موکش تک پھل دیتی ہے۔ کشتَر میں رہائش، کھیتی، اسنان اور حتیٰ کہ جانوروں کی موت بھی پُنّیہ دایَک بتائی گئی ہے، جبکہ دھرم کے مخالف لوگ بار بار نیک حالت سے گرتے رہتے ہیں۔

95 verses

Adhyaya 27

Adhyaya 27

युगप्रमाण-स्वरूप-माहात्म्यवर्णनम् (Yuga Measures, Characteristics, and Their Theological Significance)

اس باب میں چاروں یُگوں کا پرمان (مدّت/پیمانۂ زمان)، سوروپ (نمایاں اوصاف) اور ماہاتمیہ (دینی و اخلاقی معنویت) ترتیب سے بیان ہوتا ہے۔ رشی سوت سے درخواست کرتے ہیں کہ کِرت، تریتا، دواپر اور کلی یُگ کی پوری وضاحت کریں۔ سوت ایک قدیم واقعہ سناتے ہیں: دیو سبھا میں اندر (شکر) دیوتاؤں کے ساتھ بیٹھ کر برہسپتی سے یُگوں کی ابتدا اور معیار کے بارے میں ادب سے سوال کرتا ہے۔ برہسپتی کِرت یُگ میں دھرم کو چتُشپاد (چار پاؤں والا) کامل، عمر کو طویل، یَجْن اور آچار کو منظم بتاتے ہیں؛ بیماری، نرک کا خوف اور پریت-اَوَستھا جیسے دکھ نہیں ہوتے، لوگ نِشکام بھاؤ سے کرم کرتے ہیں۔ تریتا یُگ میں دھرم تِرپاد رہ جاتا ہے، رقابت اور کامیہ دھرم بڑھتا ہے؛ متن کے مطابق مخلوط رشتوں سے سماج میں مختلف سنکر گروہوں کے ظہور کی درجہ بندی بھی آتی ہے۔ دواپر میں دھرم اور پاپ برابر (دو-دو) ہو جاتے ہیں، ابہام بڑھتا ہے اور پھل زیادہ تر سنکلپ/نیت کے مطابق ملتا ہے۔ کلی یُگ میں دھرم ایک پاد رہ جاتا ہے، سماجی اعتماد ٹوٹتا ہے، عمر گھٹتی ہے، فطرت اور اخلاقی نظم بگڑتا ہے اور مذہبی ادارے بھی زوال پذیر ہوتے ہیں۔ آخر میں پھل شروتی ہے کہ اس یُگ-اُپدیش کا پاٹھ یا شروَن جنم جنمانتر کے پاپوں کا نِواَرَن کرتا ہے۔

97 verses

Adhyaya 28

Adhyaya 28

Hāṭakeśvara-kṣetra: Tīrthānāṃ Kali-bhaya-śaraṇya (Hāṭakeśvara as a refuge of tīrthas from Kali)

یہ باب سوت جی کی روایت کے طور پر رشیوں کی مجلس میں بیان ہوتا ہے۔ دیویہ دربار میں پربھاس وغیرہ مجسم تیرتھ کَلی یُگ کے آغاز سے مضطرب ہو کر عرض کرتے ہیں کہ ناپاک تماس سے ان کی تاثیر ماند نہ پڑے؛ اس لیے وہ ایسا محفوظ ٹھکانا چاہتے ہیں جو کَلی کے عیب سے غیر متاثر رہے۔ رحم سے متاثر شکر (اِندر) برہسپتی سے مشورہ کرتا ہے کہ تیرتھوں کے لیے ‘کَلی سے بے لمس’ اجتماعی پناہ گاہ کہاں ہے۔ برہسپتی غور کے بعد ہاٹکیشور کَشیتر کو بے مثال قرار دیتا ہے—یہ شُول دھاری شِو کے لِنگ کے ‘پَتن’ (گرنے) سے ظاہر ہوا بتایا گیا ہے، اور راجا تریشَنکو کے لیے وشوامتر کی تپسیا سے بھی وابستہ ہے۔ تریشَنکو کے داغ دار حال کو چھوڑ کر جسم سمیت سُورگ پانے کا واقعہ یاد دلایا جاتا ہے، جس سے یہ مقام اخلاقی و رسومی الٹ پھیر اور نجات کا تیرتھ ٹھہرتا ہے۔ حفاظتی تدبیر بھی مذکور ہے—اِندر کے حکم سے سَموَرتک ہوا نے تیرتھ کو گرد سے بھر دیا؛ کَلی یُگ میں نیچے ہاٹکیشور اور اوپر اَچلیشور نگہبانی کرتے ہیں۔ پانچ کروش کی حد والا یہ علاقہ کَلی کی پہنچ سے باہر بتایا گیا؛ لہٰذا تیرتھ اپنے اپنے ‘اَمش’ (جزوی پہلو) کے طور پر وہاں آ بسते ہیں۔ آخر میں بے شمار تیرتھوں کی موجودگی کا ذکر کر کے آئندہ ناموں، مقامات اور اثرات کی فہرست کی تمہید باندھی جاتی ہے؛ اور پھل شروتی میں کہا ہے کہ ان تیرتھوں کا محض سننا، نیز دھیان، اسنان، دان اور سپرش بھی گناہوں کو دور کرتا ہے۔

26 verses

Adhyaya 29

Adhyaya 29

Siddheśvara-liṅga Māhātmya and the Śaiva Ṣaḍakṣara: Longevity, Release from Curse, and Ahiṃsā-Instruction

باب 29 میں سوت جی ایک مشہور کْشَیتر کا بیان کرتے ہیں جہاں رِشی، تپسوی اور راجے تپسیا اور سِدّھی کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ ہاٹکیشور-کْشَیتر میں واقع سِدّھیشور-لِنگ کی مہاتمیا بتائی گئی ہے کہ اس کا سمرن، درشن اور سپرش بھی سِدّھیاں عطا کرتا ہے۔ پھر دکشنامورتی کے سیاق میں شَیو شَڈَکشَر منتر پیش ہوتا ہے اور جپ کی گنتی سے عمر دراز ہونے کی بات سن کر رِشی حیران رہ جاتے ہیں۔ سوت جی وَتس نامی برہمن کی عینی مثال سناتے ہیں—وہ بے شمار برسوں کا ہو کر بھی نوجوان دکھائی دیتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ سِدّھیشور کے نزدیک طویل عرصہ شَڈَکشَر-جپ سے جوانی قائم رہی، علم بڑھا اور صحت برقرار رہی۔ اس کے بعد ضمنی حکایت آتی ہے: ایک دولت مند نوجوان شِو اُتسو میں خلل ڈالتا ہے، شاگرد کے کلام سے سانپ کی صورت کا شاپ پاتا ہے؛ پھر اسے سکھایا جاتا ہے کہ شَڈَکشَر منتر بڑے سے بڑے دَوش کو بھی پاک کر سکتا ہے۔ وَتس کے پانی کے سانپ پر ضرب لگاتے ہی ایک دیویہ روپ آزاد ہوتا ہے اور شاپ سے مکتی ملتی ہے۔ باب میں اخلاقی ہدایات بھی ہیں—سانپ مارنے سے پرہیز، اہنسا کو پرم دھرم ماننا، گوشت خوری کی توجیہات پر تنقید، اور نقصان میں شریک ہونے کی اقسام۔ آخر میں شروَن/پাঠ اور منتر-جپ کو حفاظت دینے والی، پُنّیہ بڑھانے والی اور پاپ نَشٹ کرنے والی سادھنا بتا کر پھل شروتی دی گئی ہے۔

251 verses

Adhyaya 30

Adhyaya 30

Siddheśvara at Camatkārapura: Hamsa’s Tapas, Liṅga-Pūjā, and Ṣaḍakṣara-Mantra Phala

باب 30 میں رشی پوچھتے ہیں کہ اُس مقام پر سدھیشور کیسے خوش ہوئے۔ سوت پُرانا واقعہ سناتا ہے—ہنس نامی ایک سدھ سنتان نہ ہونے اور بڑھاپے کی تکلیف سے پریشان تھا۔ وہ تدبیر جاننے کے لیے انگیرس پُتر برہسپتی کی پناہ میں گیا اور پوچھا کہ اولاد کے لیے تیرتھ، ورت یا شانتی کرم میں سے کون سا طریقہ مؤثر ہے۔ برہسپتی غور کے بعد اسے چمتکارپور کے کشتَر میں جانے اور وہاں تپسیا کرنے کا حکم دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسی شُبھ سادھن سے نسل کو سنبھالنے والا لائق بیٹا ملے گا۔ ہنس وہاں پہنچ کر وِدھی کے مطابق لِنگ کی پوجا کرتا ہے اور دن رات نِیَم بدھ بھکتی میں پُشپ، نیویدیہ، گیت-وادیہ اور کٹھن تپسیا کے ساتھ سیوا جاری رکھتا ہے۔ وہ چاندَراین، کرِچّھر، پراجاپتیہ/پراک جیسے ورت اور مہینوں کے اُپواس بھی کرتا ہے۔ ہزار برس پورے ہونے پر مہادیو اُما سمیت پرگٹ ہو کر درشن دیتے ہیں اور ور مانگنے کو کہتے ہیں؛ ہنس وंश-استھاپنا کے لیے پُتروں کی یाचنا کرتا ہے۔ شیو اُس لِنگ کی دائمی پرتِشٹھا قائم کر کے عام پرتِگیا بیان کرتے ہیں—جو وہاں بھکتی سے پوجا کرے گا وہ اِشت پھل پائے گا؛ اور جو لِنگ کے جنوبی پہلو سے جپ کرے گا اسے شڈاکشر منتر کی پرابتि ہوگی اور دراز عمری، پُتر لابھ وغیرہ پھل ملیں گے۔ پھر شیو انتردھان ہو جاتے ہیں؛ ہنس گھر لوٹ کر پُتر پاتا ہے۔ آخر میں دشوار مقاصد کے لیے سپرش، پوجا، پرنام اور شڈاکشر کے پُراثر جپ کی احتیاطی وِدھی بتائی گئی ہے۔

19 verses

Adhyaya 31

Adhyaya 31

Nāgatīrtha–Nāgahṛda Māhātmya (श्रावणपञ्चमी-व्रत, नागपूजा, श्राद्ध-फलश्रुति)

باب 31 میں ناغ تیرتھ ‘ناگہرد’ کی عظمت بیان ہوئی ہے۔ وہاں غسل کرنے سے سانپوں کا خوف دور ہوتا ہے۔ خصوصاً شراون کے مہینے کی کرشن پکش پنچمی کو غسل کرنے سے نسل در نسل سانپ کے ڈسنے وغیرہ کے خطرات سے حفاظت بتائی گئی ہے۔ سبب کی روایت میں شیش وغیرہ بڑے ناگوں کا ذکر ہے جو ماں کے شاپ کے دباؤ میں تپسیا کرتے ہیں، اور ان کی اولاد بڑھ کر انسانوں کے لیے آفت بن جاتی ہے۔ ستائے ہوئے جیو برہما کی پناہ لیتے ہیں۔ برہما نو ناگ سرداروں کو اولاد پر ضبط کی نصیحت کرتا ہے؛ جب یہ نہ ہو سکا تو وہ پاتال میں رہائش کا حکم اور زمین پر آنے کے لیے پنچمی کو مقررہ وقت کا ضابطہ قائم کرتا ہے۔ ساتھ ہی دھرم کا قاعدہ بتاتا ہے کہ بے قصور انسانوں کو، خاص طور پر منتر اور جڑی بوٹیوں سے محفوظ لوگوں کو، نقصان نہ پہنچایا جائے۔ پھر عملی پھل بیان ہوتے ہیں: شراون پنچمی کو ناگ پوجا سے من چاہی مراد پوری ہوتی ہے، اور اسی مقام پر کیا گیا شرادھ بہت مؤثر ہے—اولاد کے خواہش مندوں کے لیے بھی اور سانپ کے ڈسنے سے مرنے والوں کے لیے بھی۔ کہا گیا ہے کہ درست شرادھ اس تیرتھ میں ہونے تک ایسے مرنے والے کی پریت حالت قائم رہ سکتی ہے۔ مثال میں راجا اندرسین سانپ کے ڈسنے سے مرتا ہے؛ بیٹا دوسری جگہ شرادھ کر کے بھی نتیجہ نہیں پاتا، خواب کے اشارے سے چمتکارپور/ناگہرد میں شرادھ کرتا ہے۔ شرادھ کھانے والے برہمن کا ملنا مشکل ہوتا ہے، آخرکار دیوشَرما قبول کرتا ہے اور آکاش وانی باپ کی مکتی کی تصدیق کرتی ہے۔ آخر میں پھل شروتی: پنچمی کو اس مہاتمیہ کا سننا/پڑھنا سانپ کا خوف مٹاتا، کھانے پینے سے پیدا ہونے والے وغیرہ گناہ گھٹاتا، گیا کے شرادھ جیسا پھل دیتا ہے؛ اور شرادھ کے وقت اس کا پاٹھ کرنے سے سامان، ورت یا کرتہ/پجاری سے متعلق عیب بھی دور ہوتے ہیں۔

111 verses

Adhyaya 32

Adhyaya 32

सप्तर्ष्याश्रम-माहात्म्य तथा लोभ-निरोधोपदेशः (Glory of the Saptarṣi Āśrama and Instruction on Restraining Greed)

سوت نیک و مبارک کشتَر میں واقع مشہور سَپتَرشی آشرم کی عظمت بیان کرتے ہیں۔ شراون کی پورنیما/پندرہویں کو اسنان کرنے سے من چاہا پھل ملتا ہے، اور جنگل کے سادہ پھل‑مول وغیرہ سے کیا گیا شرادھ بھی بڑے سوما یَگّیوں کے برابر پُنّیہ دینے والا کہا گیا ہے۔ بھاد्रپد شُکل پنچمی کو ترتیب وار پوجا کا وِدھان منتر سمیت بتایا گیا ہے—اتری، وسِشٹھ، کشیپ، بھردواج، گوتَم، کوشِک (وشوامتر)، جمَدگنی اور ارُندھتی کے ناموں سے آرادھنا کی جاتی ہے۔ پھر بارہ برس کے قحط کی کہانی آتی ہے—بارش نہ ہونے سے سماجی دھرم ڈھلنے لگتا ہے، مگر بھوک سے نڈھال رشی بھی ادھرم کی طرف نہیں جاتے۔ راجا وِرشادَربھی انہیں پرتیگرہ (شاہی دان قبول کرنا) پر آمادہ کرتا ہے، لیکن وہ اسے اخلاقی طور پر خطرناک سمجھ کر رد کر دیتے ہیں۔ راجا سونے سے بھرے اُدُمبر رکھ کر آزمائش کرتا ہے؛ رشی پوشیدہ دولت ٹھکرا کر اَپریگرہ، قناعت اور بڑھتی ہوئی خواہش کی فطرت پر وعظ کرتے ہیں۔ چمتکارپور کشتَر میں انہیں کتے چہرے والا فقیر ملتا ہے (بعد میں وہی اندر/پورندر ظاہر ہوتا ہے)۔ وہ ان کے جمع کیے ہوئے کنول کے ڈنٹھل لے جا کر ان کی ورت‑نِشٹھا کی آزمائش کرتا ہے؛ پھر اندر اپنی آزمائش کھول کر ان کی بے لالچ طبیعت کی تعریف کرتا اور ور دیتا ہے۔ رشی اپنے آشرم کے لیے دائمی پاکیزگی اور گناہ مٹانے والی تِیرتھتا مانگتے ہیں؛ اندر کہتا ہے کہ وہاں شراون میں کیا گیا شرادھ مقصود پورا کرے گا اور نِشکام کرم موکش دے گا۔ وہیں تپسیا کر کے وہ امرتُلْی حالت پاتے اور شِو لِنگ کی پرتِشٹھا کرتے ہیں؛ اس کے درشن‑پوجن سے شُدھی اور مکتی کا پھل بتایا گیا ہے۔ آخر میں پھل شروتی کے طور پر اس آشرم کی کتھا کو عمر بڑھانے والی اور پاپ ہَر کہہ کر سراہا گیا ہے۔

97 verses

Adhyaya 33

Adhyaya 33

अगस्त्याश्रम-माहात्म्य तथा विंध्य-निग्रहः (Agastya’s Hermitage: Sanctity, the Vindhya Episode, and the Solar Observance)

سوتا بیان کرتے ہیں کہ اگستیہ کے مقدّس آشرم میں مہادیو کی عبادت ہوتی ہے۔ چَیتر شُکل چتُردشی کے دن دیواکر (سورج) وہاں آ کر شنکر کی پوجا کرتا ہے—یہ بات مشہور ہے۔ جو بھکتی کے ساتھ وہاں شِو کی پوجا کریں وہ الٰہی قرب پاتے ہیں؛ اور درست شردھا کے ساتھ کیا گیا شرادھ پِتروں کو اسی طرح سیراب کرتا ہے جیسے باقاعدہ پِتر کرم۔ رِشی پوچھتے ہیں کہ سورج اگستیہ آشرم کی پرکرما کیوں کرتا ہے۔ سوتا وِندھیا کی کہانی سناتے ہیں—سُمیرو سے رقابت میں وِندھیا نے سورج کا راستہ روک دیا، جس سے وقت کی پیمائش، موسموں کا چکر اور یَگیہ وغیرہ کے اعمال کا نظام بگڑنے لگا۔ سورج برہمن کے بھیس میں اگستیہ کی پناہ لیتا ہے؛ اگستیہ وِندھیا کو حکم دیتے ہیں کہ میری جنوبی یاترا مکمل ہونے تک اپنی بلندی گھٹا کر اسی طرح ٹھہرا رہو۔ پھر اگستیہ ایک لِنگ کی پرتِشٹھا کرتے ہیں اور سورج کو مقرر کرتے ہیں کہ ہر سال اسی تِتھی کو اس کی پوجا کرے؛ اور جو انسان اس چتُردشی کو لِنگ پوجن کرے وہ سورَی لوک پاتا ہے اور موکش کی سمت لے جانے والا پُنّیہ حاصل کرتا ہے۔ آخر میں سوتا وہاں سورج کی بار بار آمد کی تصدیق کر کے مزید سوالات کی دعوت دیتے ہیں۔

49 verses

Adhyaya 34

Adhyaya 34

अध्याय ३४ — देवासुरसंग्रामे शंभोः परित्राणकथनम् (Chapter 34: Śambhu’s Intervention in the Deva–Dānava Battle)

باب 34 میں رِشی سوتا سے ایک سابقہ واقعے—ایک مُنی اور بحرِ شیر (پَیَساں-نِدھی)—کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ سوتا پھر ایک قدیم بحران سناتا ہے: کالیہ/کالیکیَہ نامی طاقتور دانَو نمودار ہو کر دیوتاؤں کے تیز کو دباتے اور تینوں لوکوں کی پائیداری کو متزلزل کرتے ہیں۔ دیوتاؤں کی تکلیف دیکھ کر وشنو مہیشور سے فریاد کرتا ہے کہ فوری مقابلہ ضروری ہے۔ وشنو، رودر اور اندر کی قیادت میں دیوگن جنگ کے لیے جمع ہوتے ہیں اور عالم کو ہلا دینے والی لڑائی چھڑ جاتی ہے۔ ایک اہم منظر میں اندر کا سامنا دانَو کالپربھ سے ہوتا ہے—وہ اندر کا وجر چھین لیتا ہے اور ہولناک گدا کے وار سے اندر کو گرا دیتا ہے؛ خوف و انتشار میں دیوتا پیچھے ہٹتے ہیں۔ پھر گڑوڑ پر سوار وشنو ہتھیاروں کے جال کاٹ کر دانَووں کو منتشر کرتا ہے، مگر کالکھنج وشنو اور گڑوڑ کو زخمی کر دیتا ہے۔ وشنو سدर्शन چکر چھوڑتا ہے؛ دانَو اسے روبرو روکنے کی کوشش کرتا ہے، جس سے وشنو کی پریشانی بڑھتی ہے۔ اسی لمحے تریپورانتک شِو فیصلہ کن طور پر مداخلت کرتا ہے، شُول کے وار سے حملہ آور دانَو کو ہلاک کرتا ہے اور کالپربھ سمیت ‘کال’ لقب والے بڑے دانَو سرداروں کو پاش پاش کر دیتا ہے۔ دشمن کی قیادت ٹوٹتے ہی اندر اور وشنو سنبھل کر مہادیو کی ستوتی کرتے ہیں؛ دیوتا باقی دانَووں کو بھگا دیتے ہیں۔ زخمی اور بےسردار دانَو بھاگ کر ورُن کے دھام میں پناہ لیتے ہیں۔ باب کا درس یہ ہے کہ دیوی تحفظ اور دیوتاؤں کی مشترکہ کوشش سے دھرم کی بحالی ہوتی ہے، اور شَمبھو کی حفاظت سے تریلوک میں استحکام قائم رہتا ہے۔

34 verses

Adhyaya 35

Adhyaya 35

अगस्त्येन सागरशोषणं तथा कालेयदानवनिग्रहः (Agastya Dries the Ocean and the Suppression of the Kāleya Asuras)

اس باب میں کالیہ دَیتیہ سمندر میں پناہ لے کر رات کے وقت رِشیوں، یَجْن کرنے والوں اور دھرم پر قائم بستیوں پر حملے کرتے ہیں، جس سے زمین پر یَجْن-دھرم کی روش ٹوٹ جاتی ہے۔ یَجْن کے حصّے نہ ملنے سے دیوتا سخت پریشان ہوتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ سمندر کی اوٹ میں چھپے دشمنوں کو دبانا ممکن نہیں۔ تب وہ چامتکارپور کے مقدّس کْشَیتر میں مقیم مہارشی اگستیہ کی پناہ لیتے ہیں۔ اگستیہ دیوتاؤں کا احترام سے استقبال کر کے سال کے اختتام پر وِدیا-بل اور یوگنی-شکتی کے سہارے سمندر کو خشک کرنے کا عہد کرتے ہیں۔ وہ پِیٹھوں کی स्थापना کر کے یوگنی-گنوں کی—خصوصاً کنیا-روپنیوں کی—باقاعدہ پوجا کرتے ہیں؛ دِکپالوں اور کْشَیترپالوں کی تعظیم کرتے ہیں اور ‘شوشِنی’ وِدیا سے وابستہ آکاشگامنی دیوی کو راضی کرتے ہیں۔ دیوی سِدھی عطا کر کے اگستیہ کے منہ میں داخل ہوتی ہے؛ اگستیہ سمندر پی لیتے ہیں اور سمندر زمین کی مانند ہو جاتا ہے۔ پھر دیوتا ظاہر ہوئے دَیتیہوں کو شکست دیتے ہیں؛ بچ جانے والے پاتال کی طرف بھاگتے ہیں۔ پانی کی بحالی کی درخواست پر اگستیہ آئندہ کی بات بتاتے ہیں—سگر کے ساٹھ ہزار بیٹوں کی کھدائی اور بھگیرتھ کے ذریعے گنگا کے آنے سے گنگا کے بہاؤ سے سمندر دوبارہ بھر جائے گا۔ آخر میں اگستیہ چاہتے ہیں کہ چامتکارپور کے پِیٹھ ہمیشہ قائم رہیں؛ اشٹمی اور چتُردشی کی پوجا سے من چاہا پھل ملے—دیوتا ‘چترِیشور’ نامی پِیٹھ کی توثیق کر کے یہ بھی وعدہ کرتے ہیں کہ گناہ کے بوجھ والے کو بھی جلد مراد ملتی ہے۔

59 verses

Adhyaya 36

Adhyaya 36

चित्रेश्वरपीठ-मन्त्रजप-माहात्म्य (Glorification of Mantra-Japa at the Citreśvara Pīṭha)

باب 36 میں رِشی اگستیہ کے قائم کردہ چِترےشور پیٹھ کی حد و اثر کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ سوت اس مقام کی عظمت کو مبالغہ آمیز انداز میں بیان کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ وہاں کیا گیا منتر-جپ یوگیوں کو سِدھی دیتا ہے اور بہت سی مرادیں پوری کرتا ہے—بیٹے کی خواہش، حفاظت، دکھوں کا ازالہ، سماجی و سیاسی قبولیت، دولت و خوشحالی، سفر میں کامیابی؛ نیز بیماری، گرہ پیڑا، بھوت-بाधا، زہر، سانپ، جنگلی جانور، چوری، جھگڑے اور دشمنوں کے خطرات کم ہوتے ہیں۔ پھر رِشی پوچھتے ہیں کہ جپ مؤثر کیسے بنتا ہے۔ سوت اپنے والد سے سنی روایت اور درواسہ سے متعلق گفتگو کی بنا پر ایک ضابطہ بند طریقہ بتاتا ہے—ابتدا میں لکَھ-جپ، پھر مزید تعداد، اور جپ کے دَشامش (دسویں حصے) کے مطابق ہوم؛ شانتی-پوشٹک جیسے نرم و خیرخواہ اعمال کے مطابق آہوتیاں مقرر کی جاتی ہیں۔ کِرت، تریتا، دواپر اور کلی یگ کے لحاظ سے سادھنا کا معیار بدلتا ہے۔ آخر میں جب انوشٹھان قواعد کے ساتھ مکمل ہو جائے تو سادھک کی کارگزاری بڑھتی ہے؛ سِدھی کو اتفاقی کرشمہ نہیں بلکہ نظم و قاعدے والی شاستری ترتیب کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

59 verses

Adhyaya 37

Adhyaya 37

Durvāsā, Suśīla, and the Establishment of the Duḥśīla-Prāsāda (Śiva Shrine Narrative)

اس باب میں اہلِ علم برہمنوں کی ایک مجلس کا ذکر ہے جو وید کی شرح، رسومِ یَجْن اور مناظرے میں محو رہتی ہے۔ اسی دوران رِشی دُروَاسا آتے ہیں اور شِو کے آیتن/پراساد کے قیام کے لیے موزوں جگہ دریافت کرتے ہیں، مگر علمی غرور اور بحث کی لگن کے باعث مجلس جواب نہیں دیتی۔ دُروَاسا علم، دولت اور نسب—ان تین نشوں کی مذمت کرتے ہوئے دیرپا سماجی نزاع کی پیش گوئی کے ساتھ لعنت/شاپ دیتے ہیں۔ تب بزرگ برہمن سُشیل رِشی کے پیچھے جا کر معافی مانگتے ہیں اور مندر کی تعمیر کے لیے زمین نذر کرتے ہیں۔ دُروَاسا اسے قبول کر کے مبارک رسومات ادا کرتے ہیں اور شِو-پراساد تعمیر کراتے ہیں۔ لیکن دوسرے برہمن سُشیل کے یکطرفہ دان پر ناراض ہو کر اسے سماجی طور پر الگ کر دیتے ہیں اور مندر کے کام کو بدنام کر کے اسے نام و شہرت میں ‘نامکمل’ کہہ کر ‘دُحشیل’ کے نام سے پھیلا دیتے ہیں۔ اس بدنامی کے باوجود آخرکار وہی دھام مشہور ہو جاتا ہے—کہا گیا ہے کہ اس کے درشن سے ہی پاپ کا نِواڑن ہوتا ہے۔ خاص طور پر شُکلا اشٹمی کے دن مَدیہ لِنگ کے درشن اور دھیان کرنے والا نرک لوک نہیں دیکھتا۔ باب کا اخلاقی محور عاجزی اور تلافی کی فضیلت اور گروہی غرور کی مذمت ہے، اور ساتھ ہی مندر-پرتِشٹھا اور لِنگ-درشن کی روحانی تاثیر کو ثابت کرتا ہے۔

47 verses

Adhyaya 38

Adhyaya 38

धुन्धुमारेश्वर-माहात्म्य (The Māhātmya of Dhundhumāreśvara)

اس باب میں سوتا–رِشی مکالمے کے ذریعے دھُندھُماریشور کے مقدّس مقام کی عظمت بیان کی گئی ہے۔ راجا دھُندھُمار شِولِنگ کی پرتِشٹھا کرتا ہے، جواہرات سے آراستہ پرساد/مندر تعمیر کراتا ہے اور قریب کے آشرم میں سخت تپسیا انجام دیتا ہے۔ پاس ہی ایک واپی/کنڈ قائم ہوتا ہے جسے پاک، مبارک اور تمام تیرتھوں کے برابر کہا گیا ہے؛ وہاں اشنان کرکے دھُندھُماریشور کے درشن کرنے والا یم کے دائرے میں جہنمی سختیوں اور ‘دُرگ’ رکاوٹوں سے محفوظ رہتا ہے—یہی پھل شروتی ہے۔ رِشیوں کے سوال پر سوتا راجا کی سوریاونشی نسبت، ‘کُوَلیاشو’ لقب سے اس کا تعلق، اور مرو علاقے میں دَیتیہ دھُندھو کو قتل کرکے حاصل کی ہوئی شہرت بیان کرتا ہے۔ آخر میں دیوی گوری اور گنوں سمیت بھگوان شِو ساکشات پرگٹ ہوکر ور دیتے ہیں؛ راجا لِنگ میں نِتیہ دیویہ سانِدھّیہ کی یाचنا کرتا ہے۔ شِو چَیتر شُکل چَتُردشی کو خاص پُنّیہ وقت بتا کر دائمی حضور عطا کرتے ہیں۔ اختتام پر کہا گیا ہے کہ لِنگ پر اشنان و پوجا سے شِولोक کی پرابتि ہوتی ہے اور راجا موکش کی سمت رُخ کیے وہیں نِواسی رہتا ہے۔

15 verses

Adhyaya 39

Adhyaya 39

चमत्कारपुर-क्षेत्रमाहात्म्यं तथा ययाति-लिङ्गप्रतिष्ठा (Cāmatkārapura Kṣetra-Māhātmya and Yayāti’s Liṅga Consecration)

اس باب میں سوت کے بیان کے مطابق دھُندھُماریشور کے شمال میں چمتکارپور نامی ایک مقدّس کْشَیتر کا ذکر ہے، جہاں راجا یَیاتی نے اپنی رانیوں دیویانی اور شرمِشٹھا کے ساتھ ایک “عمدہ لِنگ” کی پرتیِشٹھا کی۔ اس لِنگ کو سَروَکَام پھل پرد کہا گیا ہے—یعنی بھکتی سے پوجا کرنے پر تمام خواہشوں کے پھل عطا کرتا ہے۔ دنیاوی بھوگوں سے سیر ہو کر یَیاتی نے راج پات اپنے بیٹے کے سپرد کیا اور اعلیٰ خیر کی تلاش میں نہایت انکساری سے رِشی مارکنڈَیَہ کے پاس پہنچا۔ اس نے تمام تیرتھوں اور کْشَیترَوں میں سب سے برتر اور سب سے زیادہ پاک کرنے والے مقام کی امتیازی تفصیل مانگی۔ مارکنڈَیَہ نے چمتکارپور کو “سب تیرتھوں سے آراستہ” کْشَیتر بتایا؛ وہاں وِشنوپدی گنگا پاپ ہارِنی ہے اور دیوی سَنِدھیوں کے قیام کا بھی بیان ہے۔ باب میں ایک مقدّس نشان بھی آتا ہے—پِتامہ (برہما) کی جانب سے دْوِجوں کی مسرّت کے لیے چھوڑا گیا باون ہست ناپ کا ایک شِلاکھنڈ۔ پھر یہ خاص بات کہی گئی ہے کہ جو کام کہیں اور ایک سال میں ہوتا ہے، وہ یہاں ایک دن میں بھی سِدھ ہو جاتا ہے۔ یہ سن کر یَیاتی رانیوں سمیت وہاں گیا، شُولین شِو کے لِنگ کی پرتیِشٹھا کر کے شردھا سے پوجا کی، اور آخر میں کِنّر اور چارنوں کی ستوتی کے درمیان بارہ سورجوں کی مانند درخشاں دیوی وِمان میں سْورگارُوہن کو پہنچا—یہی پھل شروتی ہے۔

15 verses

Adhyaya 40

Adhyaya 40

Brahmī-Śilā, Sarasvata-Hrada, and the Ānandeśvara Sthala Narrative (ब्रह्मीशिला–सारस्वतह्रद–आनन्देश्वरकथा)

رِشی موکش دینے والی اور پاپ ناشک برہمی-شِلا کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ وہ کیسے قائم ہوئی اور اس کی قوت کیا ہے۔ سوت بیان کرتا ہے کہ آسمان میں باقاعدہ کرموں کا اختیار نہ ہونے اور زمین پر تری-سندھیا کے آچرن کی ضرورت کو دیکھ کر برہما ایک عظیم پتھر بھولोक کی طرف پھینکتا ہے؛ وہ چامتکارپور کے پُنّیہ کھیتر میں آ گرتا ہے۔ کرم کے لیے جل ضروری جان کر برہما سرسوتی کو بلاتا ہے؛ انسانی لمس کے خوف سے وہ زمین پر کھلے طور پر بہنے سے انکار کرتی ہے، تب برہما اس کے قیام کے لیے ناقابلِ رسائی مہا ہرد بناتا ہے اور ناگوں کو مقرر کرتا ہے کہ انسان کا لمس نہ ہو۔ وہاں منکَنک رِشی آتا ہے؛ سانپوں کے بندھن میں بھی وہ گیان کے زور سے زہر کے اثر کو دبا کر اسنان اور پِتر ترپن وغیرہ کرتا ہے۔ پھر ہاتھ میں چوٹ لگنے پر پودوں کا رس بہنے کو سِدھی کی نشانی سمجھ کر وجد میں ناچنے لگتا ہے، جس سے جگت میں کھلبلی مچتی ہے۔ تب شِو برہمن کے بھیس میں آ کر بھسم کے ظاہر ہونے کی برتر علامت دکھاتا ہے، تپسیا کے لیے نقصان دہ نرتیہ روکنے کی نصیحت کرتا ہے اور وہیں نِتیہ سنّیدھی دے کر ‘آنندیشور’ کے نام سے مشہور ہوتا ہے؛ اس استھان کا نام ‘آنند’ پڑتا ہے۔ اس قصے میں جل-سانپوں کے بے زہر ہونے کی وجہ، سرسوت ہرد میں اسنان اور چتر شِلا کے لمس کی تارک (نجات بخش) مہِما بیان ہوتی ہے۔ آگے یم کی تشویش پر کہ بہت آسانی سے سوَرگ آروہن بڑھ رہا ہے، اندر ہرد کو دھول سے بھر دیتا ہے—یہ اصلاحی واقعہ بھی آتا ہے۔ آخر میں وہاں تپسیا سے سِدھی کی گنجائش اور منکَنک کے قائم کردہ لِنگ کی—خصوصاً ماگھ شکلا چتُردشی کو—پوجا کا عظیم پُنّیہ پھر سے ثابت کیا جاتا ہے۔

65 verses

Adhyaya 41

Adhyaya 41

अशून्यशयन-व्रतं तथा जलशायी-जनार्दन-माहात्म्यम् | Ashūnyaśayana Vrata and the Māhātmya of Jalaśāyī Janārdana

اس باب میں رشیوں کے سوال پر سوت جی “جلشائی” (پانی میں شयन کرنے والے) وشنو کے شمالی علاقے میں واقع مشہور تیرتھ کا ماہاتمیہ بیان کرتے ہیں۔ یہ مقام گناہوں اور اخلاقی رکاوٹوں کو دور کرنے والا کہا گیا ہے، اور یہاں ہری کے شَیَن–بودھن (نیند اور بیداری) کے رسم کے ساتھ روزہ/اپواس اور بھکتی سے پوجا کا خاص حکم ہے۔ کرشن پکش کی دوتیہ تِتھی “اشونیہ شَیَنا” کہلاتی ہے، جو جلشائی جناردن کو نہایت پیاری بتائی گئی ہے۔ پرانک روایت میں دیتیہ راج باشکلی اندر اور دیوتاؤں کو شکست دیتا ہے۔ تب دیوگن شویت دویپ میں وشنو کی پناہ لیتے ہیں، جہاں وشنو شیش ناگ پر لکشمی کے ساتھ یوگ نِدرا میں، جل کے بیچ شَیَن کیے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔ وشنو اندر کو “چامتکارپور” نامی کشتَر میں سخت تپسیا کا حکم دیتے ہیں اور شویت دویپ جیسا وسیع جل آشیہ قائم کرتے ہیں۔ اشونیہ شَیَنا دوتیہ سے چاتُرمَاس کے چار مہینے وہاں وشنو پوجن کرنے سے اندر کو تَیج حاصل ہوتا ہے۔ پھر وشنو سُدرشن کو اندر کے ساتھ بھیجتے ہیں؛ باشکلی کی ہار ہوتی ہے اور دھرم کی ترتیب دوبارہ قائم ہو جاتی ہے۔ پھل شروتی میں کہا گیا ہے کہ لوک ہِت کے لیے بھگوان اس سرور کے پاس سدا سَنِّہِت رہتے ہیں؛ جو شردھا سے، خاص طور پر چاتُرمَاس میں، جلشائی کی آرادھنا کرتے ہیں وہ اعلیٰ گتی اور مطلوبہ پھل پاتے ہیں؛ اور قصے کے سیاق میں اس تیرتھ کا دوارکا سے بھی ربط بتایا گیا ہے۔

51 verses

Adhyaya 42

Adhyaya 42

Viśvāmitra-kuṇḍa Māhātmya and Household-Ethics Discourse (विश्वामित्रकुण्डमाहात्म्य तथा स्त्रीधर्मोपदेशः)

اس باب میں دو حصّوں میں دینی و اخلاقی بیان ہے۔ پہلے سوت جی، وشوامتر سے منسوب ایک مبارک کنڈ کا مہاتمیہ بیان کرتے ہیں—یہ من کی مراد پوری کرنے والا اور گناہوں کو دھونے والا ہے۔ چَیتر شُکل تِرتِیا کو وہاں اسنان کرنے سے غیر معمولی حسن و کشش اور سعادت ملتی ہے؛ عورتوں کے لیے اولاد اور خوش بختی کی خاص بشارت کہی گئی ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ وہاں ایک قدیم مقدّس چشمہ ہے جہاں گنگا خود قائم و مستقر ہیں؛ اس میں نہانے سے فوراً بداعمالیوں سے نجات ملتی ہے۔ وہاں کیے گئے پِتر ترپن وغیرہ اعمال اَکشَی (لازوال) پھل دیتے ہیں، اور دان، ہوم، نذر و نیاز اور جپ-پاتھ سے بے پایاں پُنّیہ حاصل ہوتا ہے۔ پھر ایک عبرت انگیز مثال آتی ہے—شکاری کے تیر سے زخمی ہرنی پانی میں داخل ہو کر وہیں جان دے دیتی ہے؛ اس آبِ مقدّس کے اثر سے وہ میَنَکا نامی دیوی اپسرا بن جاتی ہے اور اسی تِتھی-یوگ میں دوبارہ اسنان کے لیے لوٹتی ہے۔ اس کے بعد باب گھریلو آداب کی طرف مڑتا ہے: میَنَکا رشی وشوامتر سے استری دھرم اور مثالی ازدواجی و خانگی طرزِ عمل کے بارے میں سوال کرتی ہے۔ جواب میں شوہر سے وفاداری و بھکتی، گفتار کی پاکیزگی، خدمت کے ضابطے، طہارت، اعتدالِ خوراک، زیرِ کفالت افراد کی نگہداشت، گرو و اساتذہ کا احترام، شاستروں کی روایت کی سرپرستی اور صالح صحبت کا انتخاب—ان سب کی مفصل ہدایت دی جاتی ہے۔

40 verses

Adhyaya 43

Adhyaya 43

ब्रह्मचर्य-रक्षा संवादः (Dialogue on Protecting Brahmacarya and Śaiva Vow-Discipline)

اس باب میں ایک دھرم آشنا تیرتھ کے پس منظر میں نہایت مختصر مگر گہرا دینی و اخلاقی مکالمہ بیان ہوا ہے۔ میناکاؔ خود کو دیوی لوک کی طوائفوں/اپسراؤں کے گروہ میں سے بتا کر ایک برہمن تپسوی کے سامنے خواہش ظاہر کرتی ہے؛ اسے کام دیو کے مانند کہتی ہے اور کشش کے سبب جسم و دل کی کیفیتیں بیان کرتی ہے۔ پھر وہ دباؤ ڈالتی ہے کہ اگر تپسوی نے اسے قبول نہ کیا تو وہ ہلاک ہو جائے گی، اور عورت کو نقصان پہنچانے کے گناہ کی بدنامی تپسوی پر آئے گی۔ تپسوی شِو کی آگیاؤں کے تحت ورت دھاری جماعت کا حوالہ دے کر برہمچریہ کی حفاظت کا اصول پیش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ برہمچریہ سب ورتوں کی جڑ ہے، خاص طور پر شِو بھکتوں کے لیے؛ اور پاشوپت ورت میں ایک بار بھی شہوانی لمس ہو جائے تو بڑی تپسیا بھی ضائع ہو سکتی ہے۔ وہ عورت کی صحبت—چھونا، طویل قربت، حتیٰ کہ گفتگو—کو بھی ورت کی پاکیزگی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے؛ مقصد افراد کی مذمت نہیں بلکہ عہد و ضبط کی حفاظت ہے۔ آخر میں وہ میناکاؔ کو جلد روانہ ہونے اور کہیں اور اپنی مراد تلاش کرنے کی ہدایت دیتا ہے، تاکہ تپسوی کی ریاضت اور تیرتھ کا دھارمک ماحول محفوظ رہے۔

11 verses

Adhyaya 44

Adhyaya 44

Viśvāmitrakunda-utpatti and Viśvāmitreśvara-māhātmya (विश्वामित्रकुण्डोत्पत्ति–विश्वामित्रेश्वरमाहात्म्य)

اس باب میں سوت جی کے بیان کردہ دینی و اخلاقی مکالمے کا بیان ہے۔ میناکاؔ وشوامتر کے موقف کو چیلنج کرتی ہے تو وشوامتر خصوصاً ورت (نذر) رکھنے والوں کے لیے موضوعی لذتوں کی وابستگی اور شہوانی الجھاؤ کے خطرناک نتائج پر سخت نصیحت کرتے ہیں۔ پھر باہمی لعنت کا واقعہ پیش آتا ہے—میناکا وشوامتر کو قبل از وقت بڑھاپے کی علامتوں کی بددعا دیتی ہے اور وشوامتر بھی اسی طرح جواباً بددعا دیتے ہیں۔ اس کے بعد تیرتھ کی عظمت ظاہر ہوتی ہے: اس کنڈ کے پانی میں اشنان کرتے ہی دونوں اپنی سابقہ صورت میں لوٹ آتے ہیں، جس سے اس جل کی تطہیر اور بحالی کی غیر معمولی طاقت ثابت ہوتی ہے۔ عظمت جان کر وشوامتر ‘وشوامترےشور’ نام سے شیو لِنگ کی پرتِشٹھا کر کے تپسیا کرتے ہیں۔ متن کے مطابق یہاں اشنان اور لِنگ پوجا سے شیو دھام و دیولोक کی پرابتھی اور پِتروں کے ساتھ سکھ بھوگ ملتا ہے۔ آخر میں تیرتھ کی شہرت عالموں میں پھیلنے اور اس کی پاپ-ناشک قدرت کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے۔

30 verses

Adhyaya 45

Adhyaya 45

पुष्करत्रयमाहात्म्यं (The Māhātmya of the Three Puṣkaras)

یہ باب “پُشکر-ترَیَ” یعنی تین پُشکر آبی تیروں کی شناخت اور فضیلت بیان کرتا ہے۔ سوت کہتے ہیں کہ کارتک ماہ میں کِرتِّکا-یوگ کے مبارک وقت پر رِشی وشوامتر دور واقع اصلی پُشکر تک نہ پہنچ سکے، اس لیے انہوں نے اسی کے برابر پُنّیہ دینے والی مقدّس جگہ تلاش کی۔ آکاش وانی نے تین پُشکروں کی علامتیں بتائیں—اوپر رُخ کیے کنول جَیَیشٹھ پُشکر، پہلو/ترچھے رُخ والے مَدھیَم پُشکر، اور نیچے رُخ والے کنول کَنِشٹھ پُشکر کی نشانی ہیں۔ پھر صبح، دوپہر اور شام کے اوقات میں تینوں مقامات پر اسنان کے اَنُشٹھان اور درشن و سپرش کی عظیم تطہیری تاثیر بیان کی گئی ہے۔ اس کے بعد راجا بْرِہَدبل کی کہانی آتی ہے۔ شکار کے دوران وہ پانی میں اترے اور یوگ-سمے میں ظاہر ہونے والے عجیب کنول کو پکڑ لیا؛ فوراً دیوی ناد ہوا، کنول غائب ہو گیا اور راجا کو کوڑھ لاحق ہو گیا۔ یہ دَوش اُچِّشٹ/غیر طاہر حالت میں مقدّس شے کو چھونے کے سبب بتایا گیا؛ وشوامتر نے سورَیَ (سورج) کی اُپاسنا کو پرایشچت کے طور پر مقرر کیا۔ راجا نے سورج کی پرتیما قائم کی اور خاص طور پر اتوار کے دنوں میں نِیَم سے پوجا کی؛ ایک سال میں شفا پائی اور وفات پر سورَیَ لوک کو پہنچے۔ پھل شروتی میں کہا گیا ہے کہ کارتک میں پُشکر اسنان برہملوک دیتا ہے، قائم شدہ سورج مُورتی کے درشن سے صحت اور مطلوبہ مراد ملتی ہے، پُشکر میں وِرشوتسرگ سے بڑے یَجْن کا پھل حاصل ہوتا ہے، اور اس باب کا پڑھنا/سننا کامنا پوری اور رفعت عطا کرتا ہے۔

73 verses

Adhyaya 46

Adhyaya 46

सारस्वततीर्थमाहात्म्य — Glory of the Sārasvata Tīrtha (Sarasvatī Tirtha)

باب کی ابتدا میں رشی تیर्थوں کی مزید مفصل اور باقاعدہ فہرست طلب کرتے ہیں۔ سوت ہاٹکیشورج-کشیتر کے ممتاز سارَسوت تیर्थ کی عظمت بیان کرتا ہے—وہاں اشنان سے وانی کے عیوب اور گونگاپن دور ہو کر انسان صاحبِ فہم مقرر بن جاتا ہے، اور مطلوبہ مرادوں سے لے کر اعلیٰ لوکوں تک کی پرابتھی ہوتی ہے۔ پھر شاہی حکایت آتی ہے۔ راجا بلوردھن کا بیٹا امبوویچی پیدائشی گونگا تھا۔ باپ جنگ میں مارا گیا تو وزیروں نے اسی گونگے بچے کو تخت پر بٹھایا؛ نتیجتاً راج میں ابتری پھیلی اور طاقتور کمزوروں کو ستانے لگے۔ وزیر وشِشٹھ کے پاس گئے؛ انہوں نے سارَسوت تیर्थ میں اشنان کرانے کی وِدھی بتائی۔ اشنان کرتے ہی راجا کی صاف گوئی فوراً لوٹ آئی۔ ندی کی شکتی جان کر راجا نے کنارے کی مٹی سے چتُربھُجا سرسوتی دیوی کی مورتی بنائی، پاک پتھر پر پرتِشٹھا کی، دھوپ-گندھ-انولیپن سے پوجا کی اور وانی، بدھی، گیان اور ادراک میں ویاپت دیوی کی طویل ستوتی پڑھی۔ دیوی پرگٹ ہو کر ور دیتی ہیں، مورتی میں نِواس کا وچن دیتی ہیں اور فرماتی ہیں کہ اشٹمی اور چتُردشی کو اشنان و پوجن، خاص طور پر سفید پھولوں اور نِیَم بھکتی کے ساتھ، کرنے والوں کی منوکامنائیں پوری ہوں گی۔ پھل شروتی میں کہا گیا ہے کہ بھکت جنم جنمانتر میں فصیح و ذہین ہوتے ہیں، خاندان حماقت سے محفوظ رہتا ہے؛ دیوی کے سامنے دھرم شروَن سے طویل سوَرگ پھل ملتا ہے، اور کتاب/دھرم شاستر کا دان اور ان کی حضوری میں وید ادھیین کا پھل اشومیدھ اور اگنِشٹوم جیسے مہایگیوں کے برابر ہے۔

45 verses

Adhyaya 47

Adhyaya 47

महाकाल-जागर-माहात्म्य (Glory of the Mahākāla Night-Vigil in Vaiśākhī)

اس باب میں تیرتھ-ماہاتمیہ کے طور پر ویشاکھی رات میں مہاکال کے جاگرن کی عظمت بیان کی گئی ہے۔ رشی سوت سے مہاکال کی بڑائی کی تفصیل چاہتے ہیں، تو سوت اِکشواکو وَنش کے راجا رودرسین کی مثالی رسم سناتے ہیں—راجا ہر سال تھوڑے سے خادموں کے ساتھ چمتکارپور-کشیتر جاتا ہے اور مہاکال کے حضور رات بھر جاگ کر ورت رکھتا ہے۔ وہ اُپواس، بھجن و کیرتن، رقص و گیت، جپ اور ویدوں کا ادھیयन کرتا ہے؛ سحر کے وقت اسنان و پاکیزگی کے آچار نبھا کر برہمنوں، تپسویوں اور دکھی و محتاج لوگوں کو فراخ دَان دیتا ہے۔ متن کے مطابق اس بھکتی سے راجیہ میں خوشحالی آتی ہے اور دشمنوں کا زور ٹوٹتا ہے، یوں بھکتی کو اخلاقی و سیاسی ضبط کی بنیاد بتایا گیا ہے۔ پندت برہمنوں کی سبھا راجا سے جاگرن کی وجہ اور پھل پوچھتی ہے۔ راجا پچھلے جنم کی کہانی سناتا ہے—ودیشا میں طویل قحط کے زمانے میں وہ غریب تاجر تھا؛ بیوی کے ساتھ سوراشٹر کی طرف ہجرت کرتے ہوئے چمتکارپور کے پاس کنولوں سے بھرے تالاب تک پہنچتا ہے۔ کھانے کے لیے کنول بیچنے کی کوشش ناکام رہتی ہے؛ ٹوٹے مندر میں پناہ لیتے ہوئے پوجا کی آوازیں سن کر مہاکال-جاگرن کا پتہ چلتا ہے۔ وہ تجارت چھوڑ کر کنولوں سے پوجا کرتا ہے؛ بھوک اور حالات کے باعث رات بھر جاگتا رہتا ہے۔ صبح تک تاجر کی موت ہو جاتی ہے اور بیوی خودسوزی کرتی ہے۔ اسی بھکتی کے اثر سے وہ کانتی دیش کا راجا بن کر جنم لیتا ہے، اور بیوی پچھلی یاد کے ساتھ راجکماری بن کر سویمور میں اس سے دوبارہ ملتی ہے۔ آخر میں برہمنوں کی تائید سے سالانہ جاگرن کی رسم قائم ہوتی ہے اور پھل شروتی میں اسے گناہ نِشکاسک اور مکتی کے قریب کرنے والا بتایا گیا ہے۔

71 verses

Adhyaya 48

Adhyaya 48

Hariścandra-āśrama and Umā–Maheśvara Pratiṣṭhā (Harishchandra’s Austerity, Boon, and Pilgrimage Merit)

سوت جی بیان کرتے ہیں کہ راجہ ہریش چندر کے علاقے میں بہت سے درختوں کی چھاؤں میں ایک مشہور آشرم تھا، جہاں راجہ نے تپسیا کی اور برہمنوں کو من چاہے دان دے کر سہارا دیا۔ وہ سوریاونش کے مثالی حکمراں تھے؛ ان کے راج میں رعایا کا سکھ، شہری استحکام اور فطری فراوانی تھی، مگر ایک کمی—اولادِ نرینہ کا نہ ہونا۔ نسل کے وارث کے لیے انہوں نے چامتکارپور کے کشتَر میں سخت تپسیا کی اور بھکتی سے شِولِنگ کی پرتِشٹھا کی۔ شیو جی گوری اور گنوں سمیت پرگٹ ہوئے۔ دیوی کے حق میں مناسب آدر میں لغزش سے نزاع پیدا ہوا اور دیوی نے شاپ دیا کہ بیٹا بچپن میں بھی موت سے جڑا غم لائے گا۔ پھر بھی ہریش چندر نے پوجا، اُپواس کے نیَم، نذرانے اور دان کو اور زیادہ پختگی سے جاری رکھا۔ دوبارہ شیو-پاروتی پرگٹ ہوئے؛ دیوی نے واضح کیا کہ میرا وچن اٹل ہے—بچہ مرے گا، مگر میری کرپا سے جلد ہی جی اُٹھے گا اور دراز عمر، فاتح اور لائقِ وارثِ خاندان بنے گا۔ اس استھان کی مہاتمیا بھی بیان ہوئی ہے—جو وہاں اُما-مہیشور کی آرادھنا کرے، خاص طور پر پنچمی کو، اسے من چاہی سنتان اور دیگر مرادیں ملتی ہیں۔ ہریش چندر نے بے رکاوٹ راجسوئے کی کامیابی بھی مانگی؛ شیو نے ور دیا۔ راجہ واپس جا کر اس پرتِشٹھا کو آئندہ بھکتوں کے لیے نمونہ بنا دیتا ہے۔

43 verses

Adhyaya 49

Adhyaya 49

Kalaśeśvara-māhātmya: Kalaśa-nṛpateḥ Durvāsasaḥ śāpena vyāghratva-prāptiḥ (कलेशेश्वरमाहात्म्य—कलशनृपतेर्दुर्वाससः शापेन व्याघ्रत्वप्राप्तिः)

سوت جی ناگر کھنڈ میں تالاب کے کنارے واقع کَلَیشیشور تیرتھ کی عظمت بیان کرتے ہیں—یہ ‘تمام گناہوں کو مٹانے والا’ ہے اور اس کے درشن سے پاپ سے نجات بتائی گئی ہے۔ اسی مہاتمیہ کے ساتھ ایک سبب-کَتھا آتی ہے۔ یدو وَنشی راجا کَلَش یَجْیَ میں ماہر، دان شیل اور رعایا کا خیرخواہ تھا۔ چاتُرمَاسیہ ورت پورا کر کے مہارشی دُروَاسا آئے تو راجا نے استقبال، ساشٹانگ پرنام، پادْیَ و اَرْگھْیَ وغیرہ سے آتِتھی سَتکار کیا اور اپنی دولت پیش کر کے رشی کی ضرورت پوچھی۔ دُروَاسا نے پارَن کے لیے بھوجن مانگا۔ راجا نے پرتکلف کھانا پیش کیا جس میں گوشت بھی تھا۔ کھانے کے بعد دُروَاسا کو گوشت کا ذائقہ/بو محسوس ہوئی؛ انہوں نے اسے ورت-نِیَم کی خلاف ورزی سمجھ کر غضبناک ہو کر شاپ دیا کہ راجا درندہ صفت باگھ بنے گا۔ راجا نے عرض کیا کہ یہ سب بھکتی سے کی گئی سیوا میں انجانے میں خطا ہوئی؛ کرپا کر کے شاپ میں نرمی فرمائیں۔ تب دُروَاسا نے دھرم-نِیَم واضح کیا کہ شِرادھ اور یَجْیَ جیسے خاص مواقع کے سوا ورت دھاری برہمن کو، خاص طور پر چاتُرمَاسیہ کے اختتام پر، گوشت نہیں کھانا چاہیے؛ اس سے ورت کا پھل ضائع ہو جاتا ہے۔ پھر انہوں نے نجات کی شرط بتائی—راجا کی نَندِنی نامی گائے اسے پہلے سے پوجا ہوا ‘بانارچِت’ لِنگ دکھائے گی؛ اس کے درشن سے جلد موکش ملے گا۔ رشی روانہ ہو گئے؛ راجا باگھ بن کر عام یادداشت کھو بیٹھا، جانداروں پر حملے کرتا ہوا گھنے جنگل میں چلا گیا۔ وزرا نے راجیہ کی حفاظت کی اور شاپ کے خاتمے کی راہ دیکھی۔ یہ ادھیائے تیرتھ-شکتی کو آتِتھی دھرم کی احتیاط، ورت-ودھی اور لِنگ درشن کے ذریعے رہائی سے جوڑتا ہے۔

27 verses

Adhyaya 50

Adhyaya 50

नन्दिनी-धेनोः सत्यव्रतं तथा लिङ्ग-स्नापन-माहात्म्यम् (Nandinī’s Vow of Truth and the Significance of Bathing the Liṅga)

اس باب میں گوکُل کے قریب جنگل میں پیش آنے والا ایک اخلاقی و دینی واقعہ بیان ہوتا ہے۔ نندنی نامی گائے، جو مبارک اوصاف سے آراستہ ہے، جنگل کے کنارے جا کر بارہ سورجوں کی مانند درخشاں شیو-لِنگ کا دیدار کرتی ہے۔ وہ تنہائی میں عقیدت کے ساتھ لِنگ کے پاس ٹھہر کر کثرت سے دودھ بہا کر لِنگ-سناپن (ابھیشیک) کرتی ہے۔ بعد میں ایک ہولناک شیر/ببر شیر (باغ) آ پہنچتا ہے اور تقدیر سے نندنی اس کی نظر میں آ جاتی ہے۔ نندنی اپنی جان کے لیے نہیں، بلکہ گوکُل میں بندھے اپنے بچھڑے کے لیے روتی ہے جس کی پرورش اس کے لوٹنے پر موقوف ہے۔ وہ باغ سے اجازت مانگتی ہے کہ اسے کچھ دیر کے لیے جانے دے؛ بچھڑے کو دودھ پلا کر/اسے سپرد کر کے وہ واپس آ جائے گی۔ باغ کو شک ہوتا ہے کہ موت کے منہ سے کون واپس آتا ہے۔ تب نندنی ستیہ ورت کو مضبوط کرتے ہوئے سخت قسمیں کھاتی ہے: اگر میں واپس نہ آئی تو برہماہتیا، والدین سے فریب، ناپاک/ناجائز افعال، امانت میں خیانت، ناشکری، گائے-کنیا-برہمن کو نقصان، فضول پکانا اور ناروا گوشت خوری، ورت توڑنا، جھوٹ اور بدزبانی و ظلم—ان بڑے گناہوں کی آلودگی مجھ پر آئے۔ باب کی تعلیم یہ ہے کہ شیو کی عبادت سچائی سے جدا نہیں؛ شدید آزمائش میں بھی اخلاقی صداقت ہی بھکتی کی سچّی سند ہے۔

28 verses

Adhyaya 51

Adhyaya 51

कलशेश्वर-लिङ्गमाहात्म्ये नन्दिनी-सत्यव्रत-व्याघ्रमोक्षः (Kalāśeśvara Liṅga Māhātmya: Nandinī’s Vow of Truth and the Tiger’s Liberation)

سوت ایک مقدّس مقام سے وابستہ اخلاقی و دینی واقعہ بیان کرتے ہیں۔ جنگل میں ایک شیر نندنی گوماتا کو پکڑ لیتا ہے؛ وہ بچھڑے کو دودھ پلا کر اس کی حفاظت کے لیے سچّی قسم کھا کر تھوڑی دیر کی رہائی مانگتی ہے۔ نندنی بچھڑے کے پاس جا کر مصیبت بتاتی ہے اور ماں کی بھکتی اور جنگل کی عملی نیتیاں سکھاتی ہے—لالچ، غفلت اور حد سے زیادہ بھروسے سے بچنے کی نصیحت کرتی ہے۔ بچھڑا ماں کو سب سے بڑا سہارا کہہ کر ساتھ چلنے کو کہتا ہے، مگر نندنی اسے ریوڑ کے سپرد کر کے دوسری گایوں سے معافی مانگتی ہے اور اپنے یتیم ہونے والے بچھڑے کی اجتماعی نگہداشت مقرر کرتی ہے۔ ریوڑ آفت کے وقت قسم توڑنے کو “بےگناہ جھوٹ” سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن نندنی سچ کو دھرم کی بنیاد مان کر شیر کے پاس واپس جاتی ہے۔ اس کی سچائی دیکھ کر شیر نادم ہوتا ہے اور تشدد پر قائم زندگی کے باوجود روحانی بھلائی کا راستہ پوچھتا ہے۔ نندنی کلی یگ میں دان کو اہم سادھنا بتا کر کلشیشور لِنگ کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور روزانہ پردکشنا اور پرنام کا حکم دیتی ہے۔ درشن سے شیر اپنی صورت سے آزاد ہو کر شاپ گرست ہَیہَیہَ ونش کے راجا کلاشا کے طور پر ظاہر ہوتا ہے اور اس جگہ کو چمتکارپور-کشیتر، سَروتیرتھ مَے اور کامد کہہ کر سراہتا ہے۔ آخر میں پھل شروتی—کارتک میں دیپ دان اور مارگشیرش میں بھکتی گیت و نرتیہ وغیرہ لِنگ کے سامنے کرنے سے پاپوں کا زوال اور شِولोक؛ اس ماہاتمیہ کی تلاوت بھی وہی ثواب دیتی ہے۔

91 verses

Adhyaya 52

Adhyaya 52

Rudrakoṭi–Rudrāvarta Māhātmya (Kapilā–Siddhakṣetra–Triveṇī Context)

اس باب میں سوت جی ایک تیرتھ-مرکوز خرد جغرافیہ بیان کرتے ہیں۔ ایک راجا اُما–مہیشور کی پرتیِشٹھا کر کے مندر بنواتا ہے اور سامنے نہایت پاکیزہ تالاب قائم کرتا ہے۔ پھر سمتوں کے لحاظ سے ثواب کے مقامات گنوائے جاتے ہیں—مشرق میں اگستیہ کنڈ کے پاس انتہائی پاک کرنے والی واپی، جنوب میں کپیلا ندی جس کا رشتہ کپل مُنی کی سانکھیہ سے وابستہ سِدھی سے جوڑا گیا ہے، اور سِدھکشیتر جہاں بے شمار سِدھوں نے کمال حاصل کیا۔ چار رُخی ویشنوَی شِلا کو گناہ نِشٹ کرنے والی کہا گیا ہے۔ گنگا اور یمنا کے بیچ سرسوتی کی موجودگی اور سامنے بہتی تریوینی کے سنگم کا مہاتمیہ بتایا گیا ہے، جو دنیاوی بھلائی اور موکش دونوں عطا کرتی ہے۔ تریوینی پر دہن/انتیشٹی کرنے کو نجات بخش کہا گیا ہے، خاص طور پر برہمنوں کے لیے؛ مقامی تصدیق کے طور پر گوسپد جیسا نشان دکھائی دینے کا ذکر بھی آتا ہے۔ آخر میں رُدرکوٹی/رُدراورت کی کتھا ہے—درشن میں اوّلیت کے خواہاں دکشن دیشی برہمنوں کے سامنے مہیشور ‘کوٹی’ روپوں میں پرکٹ ہو کر اس استھان کا نام قائم کرتے ہیں۔ چتردشی (خاص کر آشاڑھ، کارتک، ماگھ، چَیتر) کے درشن، شرادھ کرم، اُپواس اور رات بھر جاگن، یوجیہ برہمن کو کپیلا گائے کا دان، شڈاکشر جپ اور شترُدریہ پاٹھ، نیز بھکتی بھرے گیت و نرتیہ جیسے ارپن کو پُنّیہ بڑھانے والا بتایا گیا ہے۔

30 verses

Adhyaya 53

Adhyaya 53

Ujjayinī-Mahākāla Pīṭha and the Bhṛūṇagarta Tīrtha: Expiation Narrative of King Saudāsa

اس باب میں دو تیرتھ-مرکوز دینی سلسلے باہم پیوست ہیں۔ پہلے اُجّینی کو سِدھوں کی سیوا سے مزین ایک پیٹھ بتایا گیا ہے جہاں مہادیو مہاکال کے روپ میں مقیم ہیں۔ ویشاکھ کے مہینے میں شرادھ، دکشِنامورتی-بھاو سے پوجا، یوگنیوں کی آرادھنا، اُپواس اور پُورنِما کی رات جاگَرَن کو عظیم پُنّیہ بخش اعمال کہا گیا ہے؛ ان سے پِتروں کا اُدھّار اور بڑھاپے و موت کے بندھن سے مکتی کا پھل بیان ہوا ہے۔ دوسرے حصے میں وسیع اور پاپ-ناشک بھṛūṇagarta تیرتھ کا ذکر اور راجا سوداسا کی پرایَشچِتّ کہانی آتی ہے۔ برہمن بھکت راجا کے طویل یَجْن میں ایک راکشس نے رخنہ ڈالا؛ نِشِدھ گوشت کی فریب آمیز بھینٹ کے سبب وشیِشٹھ کے شاپ سے راجا راکشس بن گیا۔ پھر اس نے برہمنوں اور یَجْن کرموں پر ہنسا کی؛ آخرکار کروربُدّھی راکشس کو مار کر انسانی روپ تو واپس ملا، مگر برہمہتیا سے وابستہ آلودگی کی نشانیاں—بدبو، تیج کی کمی اور لوگوں کی کنارہ کشی—اس کے ساتھ رہیں۔ تیَرتھ یاترا اور ضبطِ نفس کے اُپدیش پر وہ ایک کْشَیتر میں پانی سے بھرے گڑھے میں گرا اور وہاں سے روشن و پاک ہو کر نکلا؛ آکاش وانی نے تیرتھ کے پرتاب سے مکتی کی تصدیق کی۔ پھر بھṛūṇagarta کی اُتپتّی کو شِو کے پوشیدہ ساننِدھّیہ سے جوڑا گیا اور خاص طور پر کرشن چتُردشی کے دن شرادھ کو نہایت پھل دایَک بتا کر اسنان-دان سمیت کوشش کے ساتھ آچرن کی ترغیب دی گئی ہے، تاکہ پِتروں کی نجات ہو۔

102 verses

Adhyaya 54

Adhyaya 54

नलनिर्मितचर्ममुण्डामाहात्म्यवर्णनम् / The Māhātmya of Carmamuṇḍā Established by Nala

اس باب میں سوت جی کی روایت کے ذریعے ہاٹکیشور-کشیتر میں مقیم دیوی چرم مُنڈا کا ماہاتمیہ بیان ہوتا ہے، جسے روایتاً بھکت راجا نل نے قائم کیا تھا۔ نِشدھ کے دھرم پرائن راجا نل کی خوبیاں، دمیانتی سے شادی، اور کَلی کے اثر سے جوئے کے سبب سلطنت کا چھن جانا—یہ سب اختصار سے آتا ہے۔ جنگل میں دمیانتی سے جدائی کے بعد نل جنگلوں میں بھٹکتا ہوا آخرکار ہاٹکیشور-کشیتر پہنچتا ہے۔ مہانومی کے مقدس موقع پر وسائل نہ ہونے کے باعث وہ مٹی کی دیوی کی مورتی بناتا ہے اور پھل و جڑوں سے پوجا کرتا ہے۔ پھر وہ متعدد القاب و ناموں پر مشتمل طویل ستوتر کے ذریعے دیوی کی ہمہ گیری اور سخت مگر محافظ شان کی ستائش کرتا ہے۔ دیوی راضی ہو کر ظاہر ہوتی ہے، ور دیتی ہے؛ نل بے عیب بیوی سے دوبارہ ملاپ کی دعا کرتا ہے۔ پھل شروتی کے طور پر کہا گیا ہے کہ جو کوئی اس ستوتر سے دیوی کی ستائش کرے، اسے اسی دن مطلوبہ پھل ملتا ہے۔ آخر میں بتایا گیا ہے کہ یہ حصہ ناگر کھنڈ کے ہاٹکیشور-کشیتر-ماہاتمیہ کے ضمن میں ہے۔

34 verses

Adhyaya 55

Adhyaya 55

नलेश्वरमाहात्म्यवर्णनम् (Naleśvara Māhātmya: The Glory of Naleśvara)

باب 55 میں نلیشور کا ماہاتمیہ بیان ہوا ہے۔ سوت کہتے ہیں کہ راجا نل کے قائم کردہ اس شیو روپ کا درشن قریب ہی آسانی سے ہوتا ہے؛ عقیدت کے ساتھ درشن کرنے سے گناہوں کا زوال ہوتا ہے اور موکش کی طرف لے جانے والا پھل ملتا ہے۔ مندر کے سامنے صاف پانی کا ایک کنڈ ہے؛ اس میں اسنان کرکے درشن کرنے سے کوڑھ وغیرہ جلدی امراض اور ان سے وابستہ کئی تکالیف دور ہوتی ہیں۔ کنڈ کو کنولوں اور آبی جانداروں سے مزین بتایا گیا ہے۔ آگے مکالمے میں، پرتِشٹھا سے پرسن شیو نل کو ور دینے کی بات کرتے ہیں۔ نل لوک-ہت کے لیے شیو کی دائمی حضوری اور روگ-نِوارن مانگتا ہے۔ شیو خاص طور پر سوموار کے پراتیوش کال میں سُلبھتا عطا کرتے ہیں اور رسم کا क्रम بتاتے ہیں—شرَدھا سے کنڈ اسنان کے بعد درشن، سوموار کی رات کے اختتام پر کنڈ کی مٹی کا بدن پر لیپ، اور نِشکام بھاؤ سے پھول، دھوپ اور خوشبو وغیرہ کے ساتھ پوجا۔ آخر میں شیو انتر دھان ہو جاتے ہیں، نل اپنے راج میں لوٹتا ہے، برہمن نسل در نسل پوجا جاری رکھنے کا ورت لیتے ہیں؛ اور دیرپا کلیان کے خواہاں لوگوں کو خاص طور پر سوموار کے درشن کو مقدم رکھنے کی ہدایت کے ساتھ باب ختم ہوتا ہے۔

21 verses

Adhyaya 56

Adhyaya 56

Vaṭāditya (Sāmbāditya) Darśana and Saptamī-Vrata Phala — “वटादित्यदर्शन-सप्तमीव्रतफलम्”

اس باب میں سوت جی تیرتھ-مہاتم کے ضمن میں سامبادِتیہ/سُریشور کے درشن کی عظمت بیان کرتے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ جو شخص بھکتی سے دیوتا کا درشن کرے اسے دل کی مرادیں ملتی ہیں؛ اور خاص طور پر اگر ماہِ ماغھ کی شُکل سپتمی اتوار کے دن آئے تو اس دن درشن و پوجا کرنے والا دوزخی انجام سے بچ جاتا ہے۔ پھر مثال کے طور پر گالَو نامی برہمن رِشی کی کہانی آتی ہے۔ وہ سوادھیائے میں پابند، پُرسکون کردار، کرم میں ماہر اور شکرگزار تھا؛ مگر بڑھاپے تک بے اولاد رہنے سے غمگین ہوا۔ اس نے گھریلو فکروں کو چھوڑ کر اسی مقام پر سورج کی اُپاسنا شروع کی، پانچراتر وِدھی کے مطابق مُورتی کی پرتِشٹھا کی، اور رِتو-نِیَم، اِندریہ-نِگ्रह اور اُپواس کے ساتھ طویل تپسیا کی۔ پندرہ برس بعد وٹ (برگد) کے درخت کے پاس سورَی دیو پرگٹ ہوئے، ور دیا اور سپتمی ورت سے وابستہ وंश بڑھانے والا پُتر عطا کیا۔ وٹ کے پاس جنم ہونے سے اس بیٹے کا نام ‘وٹیشور’ رکھا گیا۔ آگے چل کر اس نے خوشنما مندر بنوایا اور دیوتا ‘وٹادِتیہ’ کے نام سے اولاد دینے والے کے طور پر مشہور ہوئے۔ آخر میں پھلشروتی ہے کہ سپتمی/اتوار کو اُپواس سمیت وِدھی پورواک پوجا کرنے سے گِرہستھ کو اُتم پُتر ملتا ہے؛ اور نِشکام اُپاسنا موکش کی راہ دکھاتی ہے۔ نارَد کی کہی ہوئی گاتھا بھی اولاد کے پھل کو بڑھا کر اسی بھکتی کو اس مقصد کے لیے سب سے برتر بتاتی ہے۔

25 verses

Adhyaya 57

Adhyaya 57

Bhīṣma at Śarmiṣṭhā-tīrtha: Expiation, Śrāddha Eligibility, and Shrine-Foundation

سوت بیان کرتا ہے کہ اس کْشَیتر میں بھیشم نے برہمنوں کی رضامندی سے آدِتیہ کی مورتی نصب کی۔ باب میں پرشورام کے ساتھ بھیشم کا سابقہ تصادم اور امبا کی پرتِگیا یاد دلائی جاتی ہے، جس سے بھیشم اپنے قول و فعل کے اخلاقی انجام سے خوف زدہ ہوتا ہے۔ وہ رشی مارکنڈَیَہ سے پوچھتا ہے کہ اگر محض زبانی اکسانے سے کوئی جان دے دے تو گناہ کس پر آتا ہے؟ رشی فرماتے ہیں کہ جس کے عمل یا ترغیب سے عورت یا برہمن وغیرہ جان چھوڑیں، قصور اسی پر ہے؛ اس لیے ایسے لوگوں کو غضبناک کرنا منع ہے۔ آگے स्त्री-वध کے پاپ کو نہایت سنگین، برہمن-ہنسا کے برابر بتایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ دان، تپسیا، ورت جیسے عام طریقے کافی نہیں؛ تیرتھ-سیوا ہی برتر پرایشچت ہے۔ بھیشم گیاشِرس میں شرادھ کرنا چاہتا ہے تو آکاش وانی اسے स्त्री-हत्या سے وابستہ دَوش کے سبب نااہل قرار دے کر ورُن دِشَا میں قریب شَرمِشٹھا-تیرتھ جانے کا حکم دیتی ہے۔ کرشنانگارک-ششٹھی (منگل وار کے ساتھ ششٹھی) کو وہاں اسنان کرنے سے اس پاپ سے رہائی کی بشارت دی جاتی ہے۔ بھیشم اسنان کر کے شردھا سے شرادھ ادا کرتا ہے تو وانی—جو خود کو شانتنو بتاتی ہے—اسے شُدھ قرار دے کر دنیاوی دھرم کے فرائض کی طرف لوٹنے کو کہتی ہے۔ پھر بھیشم آدِتیہ، وشنو سے متعلق مورتی، شِو لِنگ اور دُرگا کے کئی استھان قائم کر کے برہمنوں کو نِتیہ پوجا سونپتا ہے، اور سورْیَ سپتمی، شِو اشٹمی، وشنو کے شَیَن-پربودھ دن، دُرگا نوَمی وغیرہ کے اتسو، بھجن-کیرتن و وادْی کے ساتھ مقرر کر کے ثابت قدم بھکتوں کے لیے اعلیٰ پھل کا وعدہ کرتا ہے۔

44 verses

Adhyaya 58

Adhyaya 58

शिवगंगामाहात्म्यवर्णनम् (Śiva-Gaṅgā Māhātmya: Theological Discourse on the Sanctity of Śiva-Gaṅgā)

اس باب میں ہاٹکیشور-کشیتر کے سیاق میں شیوگنگا کی عظمت اور تیرتھ کی اخلاقی ہدایت بیان ہوتی ہے۔ پہلے دیوچتُشٹَی کی پرتِشٹھا کے بعد شِولِنگ کے قریب ‘تری پَتھ گامِنی’ گنگا کی رسمًا स्थापना کی جاتی ہے۔ بھیشم پھل شروتی سناتے ہیں کہ جو وہاں اشنان کرکے اُنہیں (روایت کے معتبر راوی) درشن کرے وہ گناہوں سے پاک ہو کر شِولोक پاتا ہے؛ مگر اسی تیرتھ پر جھوٹی قسم کھانے والا جلد یم لوک کو پہنچتا ہے، کیونکہ تیرتھ سچ اور جھوٹ دونوں کے نتائج کو بڑھا دیتا ہے۔ پھر تنبیہ کے طور پر ایک واقعہ آتا ہے: شودر-جنم پونڈْرَک نامی نوجوان مذاق میں دوست کی کتاب چرا لیتا ہے، پھر انکار کرتا ہے اور بھاگیرتھی کے جل میں اشنان کے بعد قسم بھی کھاتا ہے۔ ‘شاستر-چوری’ اور ناروا گفتار کے سبب اس پر فوراً کوڑھ، سماجی ترک اور جسمانی معذوری جیسی سختیاں آتی ہیں۔ آخر میں نصیحت ہے کہ ہنسی مذاق میں بھی، خصوصاً مقدس گواہوں کے سامنے، قسم نہیں کھانی چاہیے؛ یاترا کی پاکیزگی ضبطِ گفتار اور درست کردار سے قائم رہتی ہے۔

14 verses

Adhyaya 59

Adhyaya 59

विदुरकृत-देवत्रयप्रतिष्ठा तथा अपुत्रदुःख-प्रशमनम् (Vidura’s Triadic Consecration and the Remedy for Childlessness)

سوت ایک روایت بیان کرتے ہیں جس میں ہستناپور سے وابستہ ودور، اپُتر (بے اولادِ نرینہ) شخص کی بعد از مرگ حالت کے بارے میں رہنمائی چاہتے ہیں۔ رشی گالَو دھرم شاستر میں تسلیم شدہ ‘پُتر’ کی بارہ اقسام بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر کسی بھی صورت میں پُترانہ تسلسل نہ ہو تو پرلوک میں رنج و الم کے نتائج سامنے آتے ہیں۔ یہ سن کر ودور غمگین و مضطرب ہو جاتے ہیں۔ گالَو انہیں رکت شِرِنگ اور ہاٹکیشور کْشیترا کے قریب ایک نہایت پُنیہ مقام پر وِشنو-سوروپ اشوتھ کو ‘پُتر-ورکش’ کے طور پر قائم کرنے کی ہدایت دیتے ہیں۔ ودور اشوتھ کی स्थापना کر کے اسے پُتر کے قائم مقام سمجھتے ہوئے پرتِشٹھا جیسا وِدھان کرتے ہیں؛ پھر برگد کے نیچے ماہیشور لِنگ اور اشوتھ کے نیچے وِشنو کو قائم کر کے سورَیَ، شِو اور وِشنو پر مشتمل تثلیثی مقدس مجموعہ بناتے ہیں۔ وہ مقامی برہمنوں کو نِتیہ پوجا کی ذمہ داری سونپتے ہیں، اور وہ اسے نسل در نسل نبھانے کا عہد کرتے ہیں۔ باب میں مخصوص اوقاتِ عبادت بھی درج ہیں—ماگھ شُکل سپتمی کے اتوار کو سورَیَ پوجا، پیر کو اور خصوصاً شُکل پکش اشٹمی کو شِو پوجا، اور وِشنو کے شَیَن و پربودھن ورتوں میں توجہ کے ساتھ آرادھنا۔ پھر بیان ہوتا ہے کہ اندَر (پاک شاسن) کے سبب لِنگ مٹی میں دب جاتا ہے؛ ایک اَشریری آواز اس کا مقام بتاتی ہے۔ ودور اس جگہ کی بحالی کرتے ہیں، پرساد/مندر کی تعمیر کے لیے دھن دیتے ہیں، برہمنوں کے لیے وِرتّی (معاش) مقرر کرتے ہیں اور آخرکار اپنے آشرم کو لوٹ جاتے ہیں۔

32 verses

Adhyaya 60

Adhyaya 60

Narāditya-pratiṣṭhā and the Mahitthā Devatā: Installation, Worship-Times, and Phala

اس ساٹھویں باب میں رشی ‘مہِتّھا/مہِتّھ’ کے کْشَیتر کی بنیاد اور اس کی پرتِشٹھا کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ سوت قدیم روایت بیان کرتا ہے کہ اگستیہ سے منسوب اور اتھروَن منتر-اختیار سے یُکت ‘شوشَنی وِدیا’ کو بروئے کار لایا جاتا ہے؛ اسی کے اثر سے ‘چمتکارپُر’ نامی کْشَیتر میں ور دینے والی مہِتّھا دیوی کے ظہور کا ذکر آتا ہے۔ اس کے بعد باب ایک تیرتھ-نقشے کی طرح پرتِشٹھت دیوتاؤں اور ان کے پھل بتاتا ہے—سورَیہ ‘نرادِتیہ’ روپ میں بیماریوں کی شفا اور حفاظت دیتا ہے؛ جناردن ‘گووردھن دھر’ روپ میں خوشحالی اور گؤ-کْشیم عطا کرتا ہے؛ نرسِمہ، وِگھن ہرتا وِنایک اور نر-نارائن کی پرتِشٹھا بھی بیان ہوتی ہے۔ دوادشی اور چتُرتھی جیسی خاص تِتھیوں میں، خصوصاً کارتک شُکل پکش میں، درشن و پوجا کو نہایت مؤثر کہا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ارجن کی تیرتھ-یاترا آتی ہے—ہاٹکیشور سے وابستہ میدان میں وہ سورَیہ وغیرہ دیوتاؤں کو خوشنما مندر میں پرتِشٹھت کرتا ہے، مقامی برہمنوں کو دھن دان دیتا ہے اور نِتیہ سمرن-پوجا کی ذمہ داری انہیں سونپتا ہے۔ آخر میں اس ماہاتمیہ کے سننے کو گناہوں میں کمی کا سبب بتایا گیا ہے، اور چتُرتھی کو مودک وغیرہ نَیویدیہ چڑھانے سے من چاہا پھل اور رکاوٹوں سے نجات کا وعدہ کیا گیا ہے۔

24 verses

Adhyaya 61

Adhyaya 61

विषकन्यकोत्पत्तिवर्णनम् (Origin Narrative of the Viṣakanyā) — Śarmiṣṭhā-tīrtha Context

اس باب میں رِشی ‘شرمِشٹھا-تیرتھ’ کی پیدائش اور اس کی تاثیر کے بارے میں وضاحت چاہتے ہیں۔ سوت سوم وَنشی راجا وِرک کا واقعہ سناتا ہے—وہ دھرم نِشٹھ اور پرجا ہِت میں لگن رکھنے والا تھا۔ اس کی رانی نے اَشُبھ لگن میں ایک بیٹی کو جنم دیا۔ راجا نے جَیوتِش کے ماہر برہمنوں سے مشورہ کیا؛ انہوں نے بچی کو ‘وِش کنیا’ قرار دے کر بتایا کہ اس کا ہونے والا شوہر چھ ماہ کے اندر مر جائے گا، اور جس گھر میں وہ رہے گی وہاں فقر و افلاس چھا کر گھر برباد کرے گا؛ میکے اور سسرال دونوں خاندان تباہی میں پڑیں گے۔ راجا بچی کو ترک کرنے سے انکار کرتا ہے اور کرم کے اصول کو مضبوطی سے بیان کرتا ہے—پہلے کیے ہوئے کرم کا پھل لازماً پکتا ہے؛ زور، عقل، منتر، تپسیا، دان، تیرتھ سیوا یا محض ضبطِ نفس سے کرم پھل کو پوری طرح روکا نہیں جا سکتا۔ جیسے بچھڑا بہت سی گایوں میں اپنی ماں کو ڈھونڈ لیتا ہے اور جیسے تیل ختم ہونے پر چراغ خود بجھ جاتا ہے، ویسے ہی کرم کے ختم ہونے پر دکھ بھی مٹ جاتا ہے۔ آخر میں تقدیر اور کوشش سے متعلق کہاوت کے ساتھ اخلاقی تعلیم دی جاتی ہے کہ دھرم میں رہ کر ذمہ داری کے ساتھ کوشش کرو، مگر پچھلے کرم کے بندھن کی مسلسل حقیقت کو بھی تسلیم کرو۔

32 verses

Adhyaya 62

Adhyaya 62

शर्मिष्ठातीर्थमाहात्म्य (Śarmiṣṭhā-tīrtha Māhātmya) — The Glory of Śarmiṣṭhā Tīrtha

باب 62 تِیرتھ ماہاتمیہ کے ضمن میں شرمِشٹھا-تیرتھ کی پیدائش اور نجات بخش تاثیر بیان کرتا ہے۔ سوت کہتے ہیں کہ ایک راجا، مشیروں کے سمجھانے کے باوجود، “وش کنیا” کہلانے والی لڑکی کو قبول نہیں کرتا۔ پھر دشمن حملہ کرتے ہیں، راجا جنگ میں مارا جاتا ہے اور شہر میں خوف پھیل جاتا ہے۔ لوگ اس آفت کا سبب اسی لڑکی کو ٹھہرا کر اس کے قتل اور جلاوطنی کا مطالبہ کرتے ہیں؛ عوامی ملامت سن کر وہ زہد نما عزم کے ساتھ ہاٹکیشور سے وابستہ مقدس میدان کی طرف جاتی ہے، جہاں اسے پچھلے جنم کی یاد آتی ہے۔ پچھلے جنم میں وہ ایک محروم عورت تھی؛ شدید گرمی کی پیاس میں اس نے رحم کھا کر ایک پیاسی گائے کو اپنا تھوڑا سا پانی دے دیا—یہی نیکی آگے چل کر پُنّیہ کا بیج بنی۔ مگر “وش کنیا” ہونے کی ایک اور کرمی وجہ بھی بتائی گئی ہے: اس نے کبھی گوری/پاروتی کی سونے کی مورتی کو چھو کر توڑا اور بیچنے کے لیے ٹکڑے کیے، جس سے بدعملی کا پھل پکا۔ نجات کے لیے وہ موسم بہ موسم طویل تپسیا، باقاعدہ روزے، پوجا اور نذرانوں کے ساتھ دیوی کی آرادھنا کرتی ہے۔ آزمائش میں شچی (اندرانی) ور دینے آتی ہے، مگر وہ اسے رد کر کے صرف پرم دیوی پاروتی کی شरण اختیار کرنے کا اعلان کرتی ہے۔ آخرکار شیو کے ساتھ پاروتی پرकट ہو کر اس کی ستوتی قبول کرتی ہیں، ور دیتی ہیں، اسے دیویہ روپ عطا کرتی ہیں اور اس مقام کو اپنا آشرم قائم کرتی ہیں۔ پھل شروتی کے مطابق—ماگھ شُکل ترتیا کو یہاں اسنان سے خصوصاً عورتوں کو من چاہا پھل ملتا ہے؛ اسنان و دان سے بڑے گناہ بھی پاک ہوتے ہیں، اور اس باب کا پاٹھ و شروَن شیو لوک کی قربت بخشتا ہے۔

90 verses

Adhyaya 63

Adhyaya 63

सोमेश्वर-प्रादुर्भावः (Someshvara Liṅga: Origin Narrative and Observance)

اس باب میں سومیشور تیرتھ کی پیدائش اور اس کے ورت (نذر) کی فضیلت بیان ہوتی ہے۔ سوت جی بتاتے ہیں کہ ایک مشہور شِو لِنگ ہے جسے سوم (چاند) نے قائم کیا تھا۔ ایک سال تک ہر پیر کو پوجا کرنے کا مقررہ انُشٹھان بتایا گیا ہے؛ اس سے یَکشما (دق/سل) سمیت سخت اور دیرینہ بیماریوں سے نجات ملتی ہے۔ سوم کی بیماری کی وجہ یوں بیان کی گئی ہے—اس نے دکش کی ستائیس بیٹیوں (نکشتر) سے شادی کی، مگر روہِنی سے خاص لگاؤ رکھا۔ دوسری بیویوں کی شکایت پر دکش نے دھرم کے مطابق اسے سمجھایا؛ سوم نے اصلاح کا وعدہ کیا مگر پھر وہی روش دہرائی۔ تب دکش نے اسے دق کی بیماری کا شاپ (لعنت) دے دیا۔ سوم نے بہت سے علاج اور طبیب ڈھونڈے مگر فائدہ نہ ہوا؛ پھر ویراغیہ اختیار کر کے تیرتھ یاترا کرتا ہوا پربھاس-کشیتر پہنچا اور رِشی رومک سے ملا۔ رومک نے کہا کہ شاپ براہِ راست ختم نہیں ہوتا، مگر شِو بھکتی سے اس کا اثر کم ہو جاتا ہے؛ سوم کو اڑسٹھ تیرتھوں میں لِنگ قائم کر کے شردھا سے پوجا کرنی چاہیے۔ شِو پرکٹ ہو کر دکش سے مصالحت کراتے ہیں اور شاپ کی سچائی برقرار رکھتے ہوئے چاند کے بڑھنے گھٹنے (پکش) کا چکریہ نیَم مقرر کرتے ہیں۔ سوم کی درخواست پر شِو پیر کے دن خاص سانِدھیہ عطا کرتے ہیں، اور آخر میں مختلف تیرتھوں میں سومیشور کے پرادُربھاو کی تصدیق کی جاتی ہے۔

60 verses

Adhyaya 64

Adhyaya 64

Chamatkārī Devī—Pradakṣiṇā-Phala and the Jātismara King

باب 64 میں سوت جی ایک تیرتھ-مرکوز دیوی-ماہاتمیہ بیان کرتے ہیں۔ ‘چمتکاری دیوی’ کو ایک “چمتکار-نریندر” نے عقیدت کے ساتھ اس لیے نصب کیا کہ نئی بسائی ہوئی بستی اور اس کے باشندوں کی، خصوصاً بھکت برہمنوں کی حفاظت ہو۔ کہا گیا ہے کہ مہا نوَمی کے دن دیوی کی پوجا کرنے سے پورے سال بےخوفی ملتی ہے—بدخواہ مخلوقات، دشمنوں، بیماریوں، چوروں اور دیگر آفات سے بچاؤ ہوتا ہے۔ شُکلا اشٹمی کو پاکیزہ بھکت یکسو نیت سے پوجا کرے تو مطلوبہ مقصد پاتا ہے؛ اور نِشکام سادھک دیوی کی کرپا سے سکھ اور موکش حاصل کرتا ہے۔ مثال میں دشاڑن کے راجا چتررتھ کا ذکر ہے جو شُکلا اشٹمی کو بڑی پرَدکشنَا کرتا ہے۔ برہمنوں کے پوچھنے پر وہ پچھلا جنم بتاتا ہے—وہ دیوی کے استھان کے پاس رہنے والا طوطا تھا؛ گھونسلے میں آتے جاتے انجانے میں روزانہ پرَدکشنَا ہو جاتی تھی، وہیں مر کر وہ جاتِسمَر راجا بن کر پیدا ہوا۔ اس سے تعلیم ملتی ہے کہ پرَدکشنَا اتفاقاً بھی ثمر دیتی ہے، اور شردھا کے ساتھ کی جائے تو اور زیادہ پھل دیتی ہے۔ آخر میں عام حکم—بھکتی سے کی گئی پرَدکشنَا پاپوں کا نِواڑن کرتی ہے، من چاہے پھل دیتی ہے، موکش کے مقصد کو سہارا دیتی ہے؛ جو ایک سال تک یہ عمل نبھائے، وہ نچلی (تِریَنگ) یونیوں میں دوبارہ جنم نہیں پاتا۔

35 verses

Adhyaya 65

Adhyaya 65

Ānarteśvara–Śūdrakeśvara Māhātmya (Merit of the Ānarteśvara and Śūdrakeśvara sites)

سوت بیان کرتے ہیں کہ دیوتاؤں کے بنائے ہوئے ایک تالاب کے کنارے راجہ آنرت (جسے سہَیَ بھی کہا جاتا ہے) نے ‘آنرتیشور’ نام کا لِنگ قائم کیا۔ کہا گیا ہے کہ اَنگارک-ششٹھی کے دن وہاں اشنان کرنے سے ویسی ہی سِدھی ملتی ہے جیسی راجہ کو حاصل ہوئی؛ یہ سن کر رِشی پوچھتے ہیں کہ ایسی سِدھی کیسے پیدا ہوئی۔ پھر ایک مثال آتی ہے—سِدھسین نامی تاجر کے قافلے نے تھکے ہوئے ایک شودر خادم کو ویران صحرا میں چھوڑ دیا۔ رات کو وہ شودر ایک ‘پریت-راج’ کو اپنے ساتھیوں سمیت دیکھتا ہے؛ وہ مہمان نوازی چاہتے ہیں، شودر انہیں اناج اور پانی دیتا ہے، اور یہ سلسلہ ہر رات دہرایا جاتا ہے۔ پریت-راج بتاتا ہے کہ گنگا-یَمُنا کے سنگم کے پاس ہاٹکیشور کے علاقے میں ایک مہاورَت دھاری سخت تپسوی کے اثر سے اسے رات کی یہ خوشحالی ملتی ہے؛ وہ تپسوی کَپال (کھوپڑی کے پیالے) سے رات کی پاکیزگی کرتا ہے۔ نجات کے لیے پریت-راج درخواست کرتا ہے کہ اس کَپال کو پیس کر سنگم میں ڈال دیا جائے اور گیاشِر تیرتھ میں ایک پُرزے میں درج ناموں کے مطابق شرادھ کیا جائے۔ شودر کو پوشیدہ دولت ملتی ہے؛ وہ کَپال-وِدھی اور شرادھ ادا کرتا ہے، جس سے پریتوں کی بعد از مرگ حالت بہتر ہو جاتی ہے۔ آخر میں وہ شودر اسی کشتَر میں رہ کر ‘شودرکیشور’ لِنگ کی پرتشٹھا کرتا ہے۔ پھل شروتی میں کہا گیا ہے کہ اشنان و پوجا سے گناہ دور ہوتے ہیں، دان اور بھوجن دان سے پِتروں کو دیر تک تسکین ملتی ہے، تھوڑا سا سونا دینا بھی بڑے یَگیوں کے برابر ہے، اور وہاں اُپواس کے ساتھ دےہ-تیاگ کو پُنرجنم سے رہائی کہا گیا ہے۔

66 verses

Adhyaya 66

Adhyaya 66

रामह्रद-माहात्म्यम् (Glory of Rāmahrada) — Jamadagni, the Cow of Plenty, and Ancestral Tarpaṇa

باب 66 میں سوت جی ‘رامہرد’ نامی مشہور تیرتھ-سرور کا ذکر کرتے ہیں، جہاں رُدھِر (خون) سے وابستہ نذرانوں کے ذریعے پِتروں کے سیر ہونے کی روایت بیان کی گئی ہے۔ رِشی اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ پِتر-ترپن تو عموماً پاک پانی، تل وغیرہ سے شاستر کے مطابق ہوتا ہے؛ خون کا تعلق دیگر، غیرمعیاری نسبتوں سے بتایا جاتا ہے—تو پھر جامدگنیہ (پرشورام) نے ایسا کیوں کیا؟ سوت وضاحت کرتے ہیں کہ یہ عمل ورت اور غضب کے سبب ہوا، جس کی جڑ ہَیہَی راجا سہسرارجن (کارتویریہ ارجن) کے ہاتھوں مہارشی جمَدگنی کے ناحق قتل میں ہے۔ پھر قصہ پھیلتا ہے—جمَدگنی راجا کو مہمان سمجھ کر عزت دیتے ہیں اور ایک عجیب ‘ہوم دھینو/کام دھینو جیسی’ گائے کی قوت سے راجا اور اس کی فوج کے لیے شاندار مہمان نوازی کا سامان کرتے ہیں۔ راجا سیاسی و عسکری فائدے کے لیے اس گائے کو حاصل کرنا چاہتا ہے؛ جمَدگنی انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عام گائے بھی ناقابلِ قتل ہے، اور گائے کو مالِ تجارت بنا کر چھیننا سخت اَدھرم ہے۔ تب راجا کے آدمی جمَدگنی کو قتل کر دیتے ہیں؛ گائے کی طاقت سے پُلِند محافظ ظاہر ہو کر شاہی لشکر کو شکست دیتے ہیں۔ راجا گائے چھوڑ کر پسپا ہو جاتا ہے اور تنبیہ سنتا ہے کہ جمَدگنی پُتر رام آنے والا ہے—یوں تیرتھ کی فضیلت کو اخلاقی-دھارمک قصے، مہمان نوازی، اور تپسوی پر ظلم کی حدوں کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔

59 verses

Adhyaya 67

Adhyaya 67

हैहयाधिपतिवधः पितृतर्पणप्रतिज्ञा च (Slaying of the Haihaya lord and the vow concerning ancestral offering)

سوت بیان کرتے ہیں کہ پرشورام اپنے بھائیوں کے ساتھ آئے تو آشرم اجڑا ہوا تھا اور خاندانی گائے زخمی تھی۔ زاہدوں سے معلوم ہوا کہ ان کے پتا کو قتل کر دیا گیا ہے اور ماتا بے شمار ہتھیاروں کے زخموں سے سخت مجروح ہیں۔ پرشورام غمگین ہو کر ویدک طریقے کے مطابق پتا کی انتیشٹی (آخری رسومات) ادا کرتے ہیں۔ جب رشی پِتروں کے ترپن کے لیے جل اَنجلی دینے کو کہتے ہیں تو پرشورام انتقام-دھرم پر قائم ایک پرتِگیہ کرتے ہیں—بے قصور پتا کے وध اور ماتا کے ہولناک زخموں کے بدلے کے طور پر اگر میں دھرتی کو ‘کشتریہ-شونیہ’ نہ کروں تو مجھ پر دوش آئے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ پتا کو پانی سے نہیں بلکہ مجرموں کے خون سے تृپت کروں گا۔ اس کے بعد ہےہیہ لشکر اور جنگلی اتحادیوں کے ساتھ عظیم جنگ ہوتی ہے۔ تقدیر کے سبب ہےہیہ راجا کمان، تلوار یا گدا کچھ بھی نہیں چلا پاتا؛ دیویہ استر اور منتر بھی بے اثر ہو جاتے ہیں۔ پرشورام اس کے بازو کاٹ کر سر قلم کرتے ہیں، خون جمع کراتے ہیں اور ہاٹکیشور-کشیتر میں تیار گڑھے میں اسے انڈیلنے کا حکم دیتے ہیں—یوں تیرتھ سے وابستہ پِترترپن کی علت اور پرتِگیہ بند عمل کا دھارمک نمونہ قائم ہوتا ہے۔

39 verses

Adhyaya 68

Adhyaya 68

पितृतर्पण-प्रतिज्ञापूरणम् (Fulfilment of the Vow through Ancestral Oblations)

Chapter 68 continues the transmitted discourse with Sūta as narrator. The episode describes the aftermath of Bhārgava (Paraśurāma) establishing a kṣatriya-less order through violent retribution, after which blood is gathered and conveyed to a pit (garta) associated with ancestral origin (paitṛkī / pitṛ-sambhavā). The narrative then shifts from martial action to ritual resolution: Bhārgava bathes in the blood, prepares abundant sesame (tila), and performs pitr̥-tarpaṇa with the apasavya orientation, in the presence of brahmins and other ascetics as direct witnesses, thereby fulfilling a stated pledge and becoming “free from sorrow” (viśoka). Subsequently, in a world described as bereft of kṣatriyas, he performs an aśvamedha and gives the entire earth as dakṣiṇā to brahmins. The brahmins respond with a governance principle—‘one ruler is remembered’—and instruct him not to remain on their land. A further exchange culminates in a threat to dry the ocean with a fire-weapon; hearing this, the ocean, fearful, withdraws as desired. The chapter thus interweaves ethical tension (violence and authority), ritual technology (tarpaṇa, aśvamedha, dāna), and cosmological geography (ocean’s retreat) as an explanatory charter for place and practice.

13 verses

Adhyaya 69

Adhyaya 69

रामह्रद-माहात्म्य (Rāmahrada Māhātmya: The Glory of Rāma’s Sacred Lake)

سوت بیان کرتے ہیں کہ جب کشتریوں کا فقدان پیدا ہوا تو کشتری عورتوں سے برہمنوں کے ذریعے کشتریج (کشیترج) بیٹے پیدا ہوئے اور وہی نئے حکمراں بنے۔ قوت بڑھنے پر انہوں نے برہمنوں کو دبانا اور حقیر جاننا شروع کیا۔ ستائے ہوئے برہمن بھارگو راما (پرشورام) کی پناہ میں گئے اور اشومیدھ کے موقع پر عطا کی گئی زمین کی واپسی اور ظالم کشتریوں کے خلاف داد رسی کی درخواست کی۔ راما غضبناک ہو کر شبر، پلند، مید وغیرہ کے ساتھ نکلے، کشتریوں کا سنہار کیا؛ بہت سا خون ایک گڑھے میں بھر کر پِتر-ترپن کیا، پھر زمین برہمنوں کو لوٹا کر سمندر کی طرف روانہ ہوئے۔ کہا گیا ہے کہ زمین اکیس بار (سات سات کر کے تین مرتبہ) کشتری-شونْیہ ہوئی اور ترپن سے پِتر تَسکین پاتے رہے۔ اکیسویں ترپن پر ایک بےجسم پِتر-آواز نے انہیں ملامت زدہ عمل روکنے کو کہا، اپنی تسکین ظاہر کی اور ور دیا۔ راما نے مانگا کہ یہ تیرتھ میرے نام سے مشہور ہو، خون کے دوش سے پاک رہے اور تپسویوں کی آماجگاہ بنے۔ پِتر وں نے اعلان کیا کہ یہ ترپن-کنڈ تینوں لوکوں میں ‘رامہرد’ کے نام سے معروف ہوگا؛ یہاں پِتر-ترپن کرنے سے اشومیدھ جیسا پھل اور اعلیٰ گتی ملتی ہے۔ بھادَرپَد کے کرشن پکش چتُردشی کو ہتھیار سے مارے گئے لوگوں کے لیے بھکتی سے شرادھ کرنے سے پریت-دشا یا نرک میں پڑے ہوئے بھی اوپر اٹھتے ہیں۔ سانپ، آگ، زہر، قید و بند وغیرہ جیسی اَکال مرتیو والوں کا شرادھ بھی یہاں موکش داتا بتایا گیا ہے۔ اس ادھیائے کے پاٹھ اور شروَن کا پھل گیا-شرادھ، پترمیدھ اور سَوترامَنی کے برابر کہا گیا ہے۔

25 verses

Adhyaya 70

Adhyaya 70

Śakti-prakṣepaḥ and Tārakāsura Narrative (Kārttikeya-Śakti and the Origin-Logic of a Purifying Kuṇḍa)

اس باب میں سوت جی کارتیّکیہ سے وابستہ گناہ نِشین ‘شکتی’ اور اسی شکتی کے سبب سے وجود میں آنے والے ایک وسیع، شفاف پانی کے کنڈ کا ذکر کرتے ہیں۔ وہاں اسنان اور پوجا کو ایسا بتایا گیا ہے کہ عمر بھر کے جمع شدہ پاپ فوراً نَشٹ ہو جائیں اور مکتی بخش پھل حاصل ہو۔ رشی شکتی کے وقت، مقصد اور اثر کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ پھر سوت جی تارکاسُر کی علّت و سبب والی کہانی سناتے ہیں۔ ہِرنیاکش کے وंश سے تعلق رکھنے والا دانَو تارک گوکرن میں سخت تپسیا کر کے شِو کو راضی کرتا ہے؛ شِو اسے ایسا ور دیتے ہیں کہ وہ دیوتاؤں کے مقابلے میں تقریباً اَجےی رہے، مگر شِو خود اسے قتل نہ کریں—یہ پوشیدہ قید قائم رہتی ہے۔ ور پا کر تارک دیوتاؤں پر طویل جنگ مسلط کرتا ہے؛ ان کی تدبیریں اور اسلحہ ناکام رہتے ہیں۔ اِندر برہسپتی کی پناہ لیتا ہے۔ برہسپتی تَتّو-نیائے کے مطابق بتاتے ہیں کہ شِو اپنے ور-پراپت کو نَشٹ نہیں کریں گے؛ اس لیے شِو کا پُتر ہی سیناپتی بن کر تارک کو شکست دے گا۔ شِو پاروتی کے ساتھ کیلاش میں گوشہ نشین ہوتے ہیں؛ دیوتا خوف سے وایو کو بھیج کر سَرجن-کریا میں وِگھن ڈالتے ہیں۔ شِو تیزسوی وِیریہ کو سنبھال کر پوچھتے ہیں کہ اسے کہاں رکھا جائے؛ اگنی اسے دھارتا ہے مگر ناقابلِ برداشت ہونے پر اسے پرتھوی کے شَرستَمب (سرکنڈوں) میں رکھ دیتا ہے۔ چھ کِرتّکائیں اس بیج کی نگہبان بنتی ہیں—یہی اسکند/کارتیّکیہ کے جنم اور تارک-وَدھ کی تمہید ہے۔ یوں تیرتھ-کنڈ کی پاکیزگی کو دیویہ شکتی کے ضبط و انتقال اور کارتیّکیہ کے نجات بخش کارنامے سے جوڑا گیا ہے۔

68 verses

Adhyaya 71

Adhyaya 71

स्कन्दाभिषेकः तारकवधश्च — Consecration of Skanda and the Slaying of Tāraka; Stabilization of Raktaśṛṅga

سوت ناگر کھنڈ میں کُومار-مرکوز ایک مقدّس واقعہ بیان کرتے ہیں۔ اسکند غیر معمولی جلال و نور کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں؛ کِرتّکائیں آ کر دودھ پلاتی اور آغوش میں لے کر پرورش کرتی ہیں، تب اُن کی صورت کثیر الوجوہ اور کثیر الاذرع جلوہ گر ہوتی ہے۔ برہما، وشنو، شیو، اندر وغیرہ دیوتا جمع ہو کر گیت، ساز اور رقص کے ساتھ جشن مناتے ہیں؛ دیوتا اُنہیں “اسکند” نام دیتے، ابھیشیک کرتے ہیں اور شیو اُنہیں سیناپتی مقرر کرتے ہیں۔ اسکند کو ناقابلِ شکست فتح کی شکتی، مور کی سواری اور متعدد دیوتاؤں سے دیویہ ہتھیار عطا ہوتے ہیں۔ اسکند کی قیادت میں دیوتا تارک کے مقابلے کو نکلتے ہیں۔ ہولناک جنگ کے انجام پر اسکند کی چھوڑ ی ہوئی شکتی تارک کے دل کو چیر دیتی ہے اور دیو-خوف کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ فتح کے بعد وہ خون کے نشان والی شکتی کو ‘پُروتّم’ شہر میں قائم کرتے ہیں، جس سے رکت شرنگ پہاڑ مضبوط اور محفوظ ہو جاتا ہے۔ بعد میں پہاڑ کے ہلنے سے چمتکارپور کو نقصان پہنچتا ہے اور برہمنوں کی جانیں جاتی ہیں؛ وہ لعنت کی دھمکی دیتے ہیں۔ اسکند سب کی بھلائی کی اخلاقی دلیل دے کر انہیں راضی کرتے ہیں، امرت سے مرے ہوئے برہمنوں کو زندہ کرتے ہیں، چوٹی پر شکتی رکھ کر چار سمتوں میں چار دیویوں—آمبَوِردّھا، آمرا، ماہِتّھا، چمتکری—کو مقرر کر کے پہاڑ کو بے حرکت کر دیتے ہیں۔ برہمن ور دیتے ہیں کہ یہ بستی اسکندپور (اور چمتکارپور بھی) کے نام سے مشہور ہو؛ اسکند، چار دیویوں اور شکتی کی نِتیہ پوجا ہو، خاص طور پر چَیتر شُکل شَشٹھی کو۔ پھل شروتی کے مطابق اُس دن بھکتی سے پوجا کرنے پر اسکند راضی ہوتے ہیں، اور درست پوجا کے بعد شکتی سے پیٹھ کا لمس/رگڑ ایک سال تک بیماری سے نجات سے وابستہ بتایا گیا ہے۔

43 verses

Adhyaya 72

Adhyaya 72

हाटकेश्वरक्षेत्रमाहात्म्ये कौरवपाण्डवतीर्थयात्रा (Hāṭakeśvara-Kṣetra Māhātmya: The Kaurava–Pāṇḍava Pilgrimage Episode)

اس باب میں سوت رشیوں کے سوال کا جواب دیتے ہیں کہ دھرتراشٹر نے ہاٹکیشور-کشیتر میں لِنگ کی پرتیِشٹھا کب اور کیسے کی۔ ابتدا میں خاندان و نکاح کا پس منظر آتا ہے—نیک اوصاف اور مبارک علامات سے آراستہ بانو متی کا بیاہ دھرتراشٹر کے وंश میں ہوتا ہے؛ یادووں کا تعلق اور وِشنو کا سمرن بھی ضمنًا مذکور ہے۔ پھر بھیشم، درون وغیرہ کے ساتھ کورو اور پانچوں پانڈو اپنے لاؤ لشکر سمیت دواراوَتی کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ خوشحال آنرت دیس میں داخل ہو کر وہ ہاٹکیشور دیو سے وابستہ، گناہ دور کرنے والے مشہور کشیتر میں پہنچتے ہیں۔ بھیشم اس مقام کی بے مثال مہِما بیان کر کے پانچ دن قیام کی صلاح دیتے ہیں؛ اپنے شدید پاپ سے نجات کی مثال دے کر تیرتھوں اور آیتنوں کے درشن کا موقع سراہتے ہیں۔ دھرتراشٹر کرن، شکنی، کرپ وغیرہ اور بہت سے بیٹوں کے ساتھ فوج کو قابو میں رکھتا ہے تاکہ تپوبن میں خلل نہ پڑے؛ وید پاٹھ کی گونج اور یَجْی دھوئیں سے نشان زد، تپسویوں سے بھرے علاقے میں داخلہ ہوتا ہے۔ باب میں یاترا کے آداب بیان ہیں—ضابطے کے ساتھ اسنان، محتاجوں اور سادھوؤں کو دان، تل ملے جل سے شرادھ و ترپن، ہوم، جپ، سوادھیائے، اور جھنڈوں، صفائی، مالاؤں اور نذرانوں سمیت دیوالیہ پوجا؛ جانور، سواری، گائے، کپڑا اور سونے کے دان کا بھی ذکر ہے۔ آخر میں سب لشکرگاہ لوٹ کر تیرتھوں، مندروں اور باقاعدہ تپسویوں کو دیکھ کر حیرت ظاہر کرتے ہیں؛ آغاز میں کہا گیا ہے کہ اس لِنگ کا درشن دُریودھن سمیت سب کے پاپ کا کَشَے کر کے موکش کا سبب بنتا ہے۔

28 verses

Adhyaya 73

Adhyaya 73

धृतराष्ट्रादिकृतप्रासादस्थापनोद्यमवर्णनम् (Preparations for Palace-Temples and Liṅga Installation by Dhṛtarāṣṭra and Others)

اس باب میں دواراوَتی میں دُریودھن اور بھانومتی کے شاہی نکاح کی عظیم تقریب بیان ہوتی ہے—ساز و سرود، رقص، ویدوں کی تلاوت اور عوامی جشن سے شہر مسرّت میں ڈوب جاتا ہے۔ نویں دن کورو–پانڈو کے بزرگ بھگوان وِشنو (پُنڈریکاکش/مادھو) کے حضور محبت بھرے ادب سے عرض کرتے ہیں کہ دل تو رخصت ہونے کو نہیں چاہتا، مگر ایک ضروری دھارمک کام کے لیے روانگی لازم ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ انرت دیس کے سفر میں انہوں نے غیر معمولی ہاٹکیشور-کشیتر دیکھا، جہاں نورانی اور گوناگوں طرزِ تعمیر والے بے شمار لِنگ قائم ہیں، جو عظیم خاندانوں اور دیوی سَتّاؤں سے منسوب ہیں۔ اسی مقدّس مقام پر وہ اپنے اپنے لِنگ کی پرتِشٹھا کرنا چاہتے ہیں؛ اس لیے اجازت مانگتے ہیں اور دوبارہ درشن کے لیے لوٹ آنے کا وعدہ کرتے ہیں۔ مادھو اس کشیتر کو نہایت پُنّیہ بخش قرار دے کر درشن اور لِنگ-پرتِشٹھا کے لیے ان کے ساتھ چلنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ وہاں پہنچ کر کورو، پانڈو اور یادو برہمنوں کو بلاتے ہیں اور زمین کی اجازت نیز پرتِشٹھا کی رسومات میں آچاریہ کی سرپرستی کی درخواست کرتے ہیں۔ برہمن جگہ کی تنگی اور پہلے سے موجود دیوی تعمیرات پر غور کرتے ہیں، مگر یہ طے کرتے ہیں کہ دھرم کے لیے بڑے لوگوں کی درخواست رد کرنا مناسب نہیں۔ پھر ترتیب کے ساتھ ہر راجہ کو جداگانہ اور خوش نما پرساد (مندر-محل) بنانے اور لِنگ پرتِشٹھا کی اجازت دی جاتی ہے؛ آخر میں دھرتراشٹر وغیرہ مقررہ ترتیب سے تعمیر کا آغاز کرتے ہیں۔

48 verses

Adhyaya 74

Adhyaya 74

कौरवपाण्डवयादवकृतलिङ्गप्रतिष्ठावृत्तान्तवर्णनम् (Account of Liṅga Consecrations Performed by the Kauravas, Pāṇḍavas, and Yādavas)

ہاتکیشور-کشیتر ماہاتمیہ کے پس منظر میں سوت لِنگ-پرتِشٹھا پر مبنی یہ واقعہ بیان کرتے ہیں۔ سو بیٹوں والے راجا دھرتراشٹر نے وہاں 101 شِو لِنگ قائم کیے۔ پانڈووں نے مل کر پانچ لِنگوں کی پرتِشٹھا کی؛ نیز دروپدی، کنتی، گاندھاری اور بھانومتی کی جانب سے بھی لِنگ-استھاپن کا ذکر ہے، جس سے شاہی خاندانوں میں وسیع بھکتی کی شرکت ظاہر ہوتی ہے۔ اس کے بعد کوروکشیتر کے ماحول سے وابستہ اہم شخصیات—ودُر، شلیہ، یُیُتسو، باہلیک، کرن، شکنی، درون، کرپ اور اشوتھاما—‘پرما بھکتی’ کے ساتھ ‘ور-پراساد’ نامی ممتاز مندر-ساخت میں اپنے اپنے لِنگ کی پرتِشٹھا کرتے ہیں۔ پھر وِشنو بھی شِکھر والے بلند پراساد میں ایک لِنگ قائم کرتے ہیں۔ اس کے بعد ساتوت/یادو—سامب، بل بھدر، پردیومن، انِرُدھ وغیرہ—شرَدھا سے دس اہم لِنگوں کی پرتِشٹھا کرتے ہیں۔ آخر میں سب مطمئن ہو کر طویل عرصہ وہاں قیام کرتے ہیں، دولت، گاؤں، کھیت، گائیں، کپڑے، خادم وغیرہ کی کثرت سے دان دیتے ہیں اور احترام کے ساتھ رخصت ہوتے ہیں۔ پھل-شروتی یہ ہے کہ ان لِنگوں کی بھکتی سے پوجا کرنے پر مطلوبہ مراد پوری ہوتی ہے؛ خصوصاً دھرتراشٹر کا لِنگ پاپ-ناشک کہا گیا ہے۔

16 verses

Adhyaya 75

Adhyaya 75

Hāṭakeśvara-liṅga-pratiṣṭhā and the Devayajana Merit-Statement (हाटकेश्वरलिङ्गप्रतिष्ठा तथा देवयजनमाहात्म्यम्)

سوت ایک قدیم مقدّس تاریخ بیان کرتے ہیں—رُدر نے برہما کو ایک بے مثال کْشَیتر عطا کیا، جہاں ‘ہاٹکیشور’ نامی لِنگ کی پرتِشٹھا ہوئی۔ پھر شَمبھو نے کلی یُگ کے عیوب سے برہمنوں کی حفاظت کے لیے وہ کْشَیتر شَṇمُکھ (سکند/کارتّکیہ) کے سپرد کیا۔ برہما کی درخواست پر اور پدرانہ ہدایت کے مطابق گانگیہ (کارتّکیہ) نے وہیں سکونت اختیار کی۔ کارتّک ماہ میں کِرتّتِکا-یوگ کے وقت بھگوان کے درشن سے متعدد جنموں کا پُنّیہ ملتا ہے اور انسان عالم و خوشحال برہمن کے طور پر جنم لیتا ہے—یہ زمانی قاعدہ بتایا گیا ہے۔ پھر مہاسین کا شاندار محل/مندر بلند و نمایاں طور پر وصف کیا گیا ہے۔ یہ سن کر دیوتا تجسّس سے آئے، نہایت پاکیزہ نگری کا درشن کیا اور شمالی و مشرقی احاطوں میں یَجْیَ کیے، اور یَتھا وِدھی دَکْشِنا ادا کی۔ وہ یَجْیَ-ستھان ‘دیویَجَن’ کے نام سے مشہور ہوا؛ اور صراحت کی گئی کہ وہاں درست طریقے سے کیا گیا ایک یَجْیَ، دوسری جگہوں کے سو یَجْیوں کے پھل کے برابر ہے۔

10 verses

Adhyaya 76

Adhyaya 76

Bhāskara-traya Māhātmya (The Glory of the Three Solar Manifestations: Muṇḍīra, Kālapriya, and Mūlasthāna)

اس باب میں سوت جی ‘بھاسکر-تریہ’ یعنی مُنڈیر، کالپریہ اور مولَستان—ان تین مبارک سورج-روپوں کی عظمت بیان کرتے ہیں؛ ان کے درشن سے موکش تک کا پھل کہا گیا ہے۔ تینوں کے ساتھ وقت کی خاص سندھیاں بھی بتائی گئی ہیں: رات کے اختتام پر مُنڈیر، دوپہر میں کالپریہ، اور شام/رات کے آغاز پر مولَستان۔ رِشی ہاٹکیشورج-کشیتر میں ان کی جگہ اور پیدائش کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ سوت ایک واقعہ سناتے ہیں: ایک برہمن سخت کُشٹھ (کوڑھ جیسی بیماری) میں مبتلا ہے؛ اس کی وفادار بیوی بہت سے علاج کرتی ہے مگر افاقہ نہیں ہوتا۔ تب ایک راہگیر مہمان اپنی کہانی سناتا ہے کہ اس نے تین برس تک باری باری تینوں بھاسکروں کی عبادت کی—روزہ، ضبطِ نفس، اتوار کا ورت، رات بھر جاگنا اور ستوتی—اور شفا پائی۔ خواب میں سورج دیوتا ظاہر ہو کر کرم کا سبب (سونے کی چوری) بتاتے ہیں، بیماری دور کرتے ہیں اور چوری سے باز رہنے اور استطاعت کے مطابق دان دینے کی اخلاقی ہدایت دیتے ہیں۔ یہ سن کر برہمن اور اس کی بیوی مُنڈیر کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ راستے میں برہمن کمزور ہو کر موت کا خیال کرتا ہے مگر بیوی اسے چھوڑنے سے انکار کرتی ہے۔ جب وہ چتا تیار کرنے لگتے ہیں تو تین نورانی اشخاص ظاہر ہوتے ہیں—وہی تین بھاسکر—اور بیماری مٹا دیتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگر بھکت تین مندر قائم کرے تو ہم یہیں تریکال درشن کے لیے ٹھہریں گے۔ برہمن اتوار کے دن (ہستارک کے سیاق میں) تینوں روپوں کی پرتِشٹھا کر کے پھول اور دھوپ سے تینوں سندھیوں پر پوجا کرتا ہے اور عمر کے آخر میں بھاسکر دھام کو پہنچتا ہے۔ پھل شروتی میں کہا گیا ہے کہ وقت پر اس تریہ کے درشن سے دشوار خواہشیں بھی پوری ہوتی ہیں اور یہ حکایت اخلاقی اصلاح—چوری ترک کرنا اور دان—کو اصل بنیاد بناتی ہے۔

73 verses

Adhyaya 77

Adhyaya 77

हाटकेश्वर-क्षेत्रे शिव-सती-विवाहकथनम् (Śiva–Satī Marriage Narrative at Hāṭakeśvara-kṣetra)

اس باب میں رِشی سوتا سے پوچھتے ہیں کہ جب شِو اور اُما کو ویدی کے وسط میں قائم کہا جاتا ہے تو پھر اُن کے نکاح کا ذکر پہلے اوشدھی پرستھ میں اور تفصیل سے ہاٹکیشور-کشیتر میں کیسے آتا ہے۔ سوتا قدیم منونتروں کے ایک پرانے چکر کا حوالہ دے کر، پھر دکش سے وابستہ نکاحی واقعہ بیان کر کے اس ظاہری تضاد کو رفع کرتے ہیں۔ دکش بڑی شان سے شادی کی تیاری کرتا ہے۔ چَیتر شُکل تریودشی، بھگ نکشتر اور اتوار کے مبارک مُہورت میں شِو دیو، گندھرو، یکش، راکشس وغیرہ کے عظیم جتھوں کے ساتھ تشریف لاتے ہیں۔ یَگّیہ میں ایک اخلاقی و دینی واقعہ پیش آتا ہے—خواہش میں مبتلا برہما ستی کے گھونگھٹ میں چھپے چہرے کو دیکھنا چاہتا ہے؛ آگ کے دھوئیں کے ذریعے وہ دیکھ لیتا ہے، تو شِو اسے ملامت کر کے پرائشچت (کفّارہ) مقرر کرتے ہیں۔ گرا ہوا بیج ‘والکھلیہ’ نامی انگوٹھے بھر تپسویوں کی پیدائش کا سبب بنتا ہے؛ وہ پاک تپسیا-ستھان مانگ کر وہیں سِدھی پاتے ہیں۔ آخر میں شِو ستی کے ساتھ جیووں کی پاکیزگی کے لیے ویدی-مَدیہ میں ٹھہرنے کی رضا دیتے ہیں؛ مقررہ وقت پر درشن گناہوں کو مٹاتا اور سَوبھاگیہ، خصوصاً نکاحی سنسکاروں کی مَنگلتا، عطا کرتا ہے۔ پھل شروتی میں ہے کہ جو توجہ سے سنیں اور ورشبھ دھوج کی پوجا کریں اُن کے شادی وغیرہ کے کرم بے رکاوٹ پورے ہوتے ہیں۔

74 verses

Adhyaya 78

Adhyaya 78

रुद्रशीर्षतीर्थमाहात्म्यम् (Rudraśīrṣa Tīrtha Māhātmya)

اس باب میں رِشی پوچھتے ہیں کہ وہ کون سا مقام ہے جہاں برہما اور والکھلیہ رِشیوں نے تپسیا کی تھی۔ سوت سمتوں کے بیان کے ساتھ اس مقدّس خطّے کا تعارف کراتا ہے اور ‘رُدرشیِرش’ کے نام سے معروف پیٹھ/آسن اور وہاں کے کُنڈ کا ماہاتمیہ بیان کرتا ہے؛ اسی تیرتھ کی شکتی پوری روایت کی بنیاد بنتی ہے۔ پھر ایک اخلاقی و رسومی واقعہ آتا ہے: ناجائز تعلق کے الزام میں پکڑی گئی ایک برہمن عورت اپنی بےگناہی ثابت کرنے کے لیے بزرگوں اور دیوتاؤں کی گواہی میں “دیویہ-گرہ” (عوامی آزمائش) اختیار کرتی ہے۔ اگنی دیو واضح کرتے ہیں کہ پاکیزگی اس فعل کی تائید کی وجہ سے نہیں، بلکہ رُدرشیِرش تیرتھ کی تاثیر اور کُنڈ کے جل کی قوّت سے حاصل ہوئی۔ سماج شوہر کی سخت گیری کی مذمّت بھی کرتا ہے؛ تاہم آگے کے اشلوک خبردار کرتے ہیں کہ کام-موہ کے ساتھ قریب جانے پر اس علاقے میں ازدواجی دھرم ٹوٹتا ہے—ضبط و نظم کے بغیر تیرتھ شکتی بھی خطرناک ڈھیل دے سکتی ہے۔ دوسری مثال میں راجا وِدُورَتھ غصّے میں کُنڈ کو پاٹ دیتا اور عمارت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ جوابی شاپ/قول میں کہا جاتا ہے کہ جو کُنڈ اور مندر کو دوبارہ قائم کرے گا، وہ وہاں ہونے والی شہوانی لغزشوں کا کرم-بھار بھی اٹھائے گا؛ یہ اخلاقی روک اور اس مقام کی پُنّیہ-پاپ کی سخت معیشت کا اعلان ہے۔ آخر میں پھل شروتی: ماہِ ماغھ کی شُکل چتُردشی کو “رُدرشیِرش” نام کا 108 بار جپ اور پوجا کرنے سے من چاہا پھل، روزمرّہ گناہوں سے پاکیزگی اور پرما گتی نصیب ہوتی ہے۔

59 verses

Adhyaya 79

Adhyaya 79

Vālakhilya-Muni-Avajñā, Garuḍotpatti, and the Liṅga–Kuṇḍa Phala (वालखिल्यमुन्यवज्ञा–गरुडोत्पत्तिः–लिङ्गकुण्डफलम्)

یہ ادھیائے سوت جی کی روایت کے طور پر جستجو کرنے والے رشیوں کو سنایا گیا ہے۔ اس میں مقدس علاقے کے جنوبی حصے میں واقع ایک مشہور لِنگ کا ذکر ہے جو گناہوں کو پاک کرنے والا مانا گیا ہے۔ اسی لِنگ سے وابستہ کُنڈ میں ہَوَن/ہوم کرنے کو خاص پھل دینے والا بتایا گیا ہے۔ دکش کے باقاعدہ ترتیب دیے ہوئے یَجْن میں مدد کے لیے والکھلیہ مُنی سمِدھائیں (ایندھن کی لکڑیاں) اٹھائے جا رہے تھے کہ راستے میں پانی سے بھرا گڑھا آڑے آ گیا۔ اسی دوران شکر (اِندر) یَجْن کی طرف جاتے ہوئے انہیں دیکھ کر بھی غرور اور تجسس میں اس رکاوٹ کو پھلانگ گیا، جس سے مُنیوں کی توہین ہوئی۔ مُنیوں نے اتھروَن منتر، منڈل میں قائم مقدس کلش کے ذریعے ‘شکر’ جیسی ایک صورت پیدا کرنے کا سنکلپ کیا؛ تب اِندر کے لیے نحوست کے آثار ظاہر ہوئے۔ برہسپتی نے بتایا کہ یہ تپسویوں کی بے ادبی کا نتیجہ ہے۔ اِندر دکش کے پاس پناہ لیتا ہے؛ دکش مُنیوں سے سمجھوتہ کر کے منتر سے پیدا شدہ طاقت کو باطل نہیں کرتا بلکہ اسے اس طرح موڑ دیتا ہے کہ ابھرنے والی ہستی اِندر کی حریف نہ بنے بلکہ وِشنو کا واہن گَروڑ بنے۔ آخر میں صلح ہو جاتی ہے اور پھل شروتی میں کہا گیا ہے کہ اس لِنگ کی پوجا اور کُنڈ میں ہوم، شردھا سے یا نِشکام بھاؤ سے بھی کیا جائے تو من چاہا پھل اور نایاب روحانی کامیابی عطا کرتا ہے۔

54 verses

Adhyaya 80

Adhyaya 80

Suparṇākhyamāhātmya (The Glory of Suparṇa/Garuḍa) — Garuḍa’s Origin, Pilgrimage Quest, and Vaiṣṇava Audience

باب 80 میں رِشی سوال کرتے ہیں کہ غیر معمولی تَیجس اور وِیریہ سے یُکت گَرُڑ کا ظہور “رِشیوں کے ہوم” سے کیسے مانا گیا۔ سوت بتاتے ہیں کہ یہ ایک رسم و سبب کا رشتہ ہے: اَتھروَنِک منتروں سے مُقدَّس اور والکھِلیہ رِشیوں کی تاثیر سے مُؤثَّر ایک پاک کلش کَشیپ لاتے ہیں اور وِنَتا کو حکم دیتے ہیں کہ منتر-شُدھ جل پیو تاکہ مہابلی پُتر پیدا ہو۔ وِنَتا فوراً پیتی ہے، حمل ٹھہرتا ہے اور سانپوں کے لیے ہیبت ناک گَرُڑ جنم لیتا ہے؛ آگے چل کر وہ ویشنو بھگتی و سیوا میں قائم ہوتا ہے—وشنو کا واہن اور رتھ-دھوج کا نشان۔ پھر دوسرا سوال اٹھتا ہے کہ گَرُڑ کے پر کیسے کٹے، کیسے واپس ملے، اور مہیشور کیسے راضی ہوئے۔ قصے میں بھِرگو وَنش کا ایک برہمن دوست آتا ہے جو اپنی بیٹی مادھوی کے لیے موزوں ور ڈھونڈ رہا ہے۔ گَرُڑ انہیں زمین بھر میں طویل تلاش میں لے جاتا ہے؛ اس سفر میں صرف حسن، نسب، دولت وغیرہ جیسے جزوی معیاروں پر اکتفا کرنے کی خامی اور جامع نیکی و کردار کی ضرورت بطورِ نصیحت ظاہر ہوتی ہے۔ سفر مقدس جغرافیے کی طرف مڑتا ہے۔ ویشنو اثر والے خطے میں نارَد ملتے ہیں اور ہاٹکیشور-کشیتر کی راہ دکھاتے ہیں جہاں جناردن مقررہ مدت تک جلشائی روپ میں قیام فرماتے ہیں۔ شدید ویشنو تَیجس کے قریب گَرُڑ اور نارَد برہمن کو فاصلے پر رہنے کی تاکید کرتے ہیں؛ وہ آدابِ تعظیم بجا لا کر درشن پاتے ہیں۔ نارَد زمین کی فریاد برہما تک پہنچاتے ہیں—کنس وغیرہ کی ظالم قوتوں کے دَند جیسے بوجھ سے پرتھوی دبی ہے، اس لیے وشنو کے اوتار کی درخواست ہے۔ وشنو رضامند ہوتے ہیں اور آخر میں گَرُڑ سے اس کے آنے کا مقصد پوچھتے ہیں—یہیں سے اگلا سلسلہ قائم ہوتا ہے۔

57 verses

Adhyaya 81

Adhyaya 81

माधवी-शापकथा तथा शाण्डिली-ब्रह्मचर्य-प्रसङ्गः (Mādhavī’s Curse Episode and the Śāṇḍilī Brahmacarya Discourse)

باب 81 تہہ در تہہ مکالموں کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔ گرُڑ بھِرگو نسل کے ایک برہمن دوست اور اس کی بیٹی مادھوی کا ذکر کرتا ہے جس کے لیے مناسب شوہر نہیں ملتا۔ گرُڑ روپ و گُن میں وِشنو کو ہی سب سے برتر سمجھ کر عرض کرتا ہے۔ وِشنو فرماتے ہیں کہ کنیا کو براہِ راست درشن کے لیے لایا جائے تاکہ دیوی تَیج کے بارے میں شبہ بھی دور ہو۔ اسی دوران گھریلو یَجْن و اَنُشٹھان کے ماحول میں کشیدگی پیدا ہوتی ہے۔ لکشمی دیوی کنیا کی قربت کو رقابت سمجھ کر شاپ دیتی ہیں کہ وہ ‘اشومکھی’ (گھوڑے چہرے والی) ہو جائے گی۔ لوگ گھبرا جاتے ہیں اور برہمن ناراض ہوتے ہیں۔ تب ایک برہمن دلیل دیتا ہے کہ محض زبانی درخواست نکاح نہیں؛ اس لیے شاپ کا اطلاق محدود ہے اور اس کا پھل آئندہ جنموں کے رشتوں میں ظاہر ہوگا۔ پھر گرُڑ وِشنو کے پاس ایک غیر معمولی بوڑھی عورت کو دیکھتا ہے۔ وِشنو بتاتے ہیں کہ وہ شاندِلی ہے، جو گیان اور برہماچریہ میں مشہور ہے۔ عورتوں کی فطرت اور جوانی کی خواہش پر گرُڑ کے شکیہ کلمات فوراً اثر دکھاتے ہیں: اس کے پر غائب ہو جاتے ہیں اور وہ بے بس رہ جاتا ہے۔ یہ واقعہ گفتار کے ضبط، تعصب سے بچنے اور تپسویہ فضیلت کے احترام کی اخلاقی تنبیہ ہے۔

37 verses

Adhyaya 82

Adhyaya 82

Garuda’s Atonement and the Merit of Worship at the Supaṛṇākhyā Shrine (गरुडप्रायश्चित्तं सुपर्णाख्यदेवमाहात्म्यं)

اس باب میں تین مرحلوں میں عقیدتی و اخلاقی بیان آتا ہے۔ وشنو گڑوڑ کی غیر متوقع کمزوری دیکھتے ہیں—اس کے پر جھڑ گئے ہیں—اور سمجھتے ہیں کہ سبب محض جسمانی نہیں بلکہ باطنی و دھارمک ہے۔ تپسوی شاندِلی سے گفتگو ہوتی ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ عورتوں کی عمومی تحقیر کے ردِّعمل میں اس نے تپشکتی سے، کسی جسمانی عمل کے بغیر، صرف ذہنی عزم کے ذریعے گڑوڑ پر روک لگائی تھی۔ وشنو صلح چاہتے ہیں، مگر شاندِلی علاج کے طور پر شنکر کی پوجا مقرر کرتی ہے—بحالی شیو کی کرپا پر موقوف ہے۔ گڑوڑ طویل مدت تک پاشوپت بھاؤ سے ورت و انوشتھان کرتا ہے—چاندْرایَن اور دیگر کِرِچّھر، دن میں تین بار اسنان، بھسم کا نظم، رُدر منتر جپ اور نَیویدیہ سمیت باقاعدہ پوجا۔ آخرکار مہیشور ور دیتے ہیں—لِنگ کے پاس نِواس، پروں کی فوری واپسی اور دیویہ جلال۔ پھل شروتی میں کہا گیا ہے کہ بدکردار بھی مسلسل عبادت سے بلند ہوتا ہے؛ سوموار کو محض درشن بھی باعثِ ثواب ہے؛ اور سوپرناکھْیہ تیرتھ میں پرایوپویشن (دھارمک روزہ تا موت) سے دوبارہ جنم کا خاتمہ بتایا گیا ہے۔

34 verses

Adhyaya 83

Adhyaya 83

सुपर्णाख्यमाहात्म्यवर्णनम् (The Māhātmya of the Supaṇākhya Shrine)

سوت پُرانک روایت میں محفوظ ایک عجیب واقعہ بیان کرتے ہیں۔ سورج وَنشی راجا وینو مسلسل اَدھرم میں مبتلا تھا: یَجْیَہ اور پوجا میں رکاوٹ ڈالتا، برہمنوں کے دان چھین لیتا، کمزوروں کو ستاتا، چوروں کی حفاظت کرتا، انصاف الٹ دیتا اور خود کو برتر مان کر اپنی ہی پرستش کا مطالبہ کرتا۔ کرم کے پھل سے اسے سخت کوڑھ لاحق ہوا، خاندان بکھر گیا؛ بے اولاد اور بے سہارا ہو کر وہ ملک سے نکالا گیا اور بھوک پیاس میں اکیلا بھٹکتا رہا۔ بالآخر وہ مقدس کْشَیتر کے سوپرناکھْی پرساد/مندر میں پہنچا اور شدید تھکن میں وہیں جان دے دی؛ یہ موت بے اختیار روزہ/اُپواس جیسی حالت بن گئی۔ اس مقام کے ماہاتمیہ سے اسے دیویہ روپ ملا، وہ وِمان میں سوار ہو کر شِو لوک پہنچا اور اپسراؤں، گندھرووں اور کِنّروں نے اس کا استقبال کیا۔ پاروتی نے شِو سے پوچھا کہ یہ نیا آنے والا کون ہے اور کس عمل سے اسے یہ گتی ملی؛ شِو نے فرمایا کہ اس مبارک پرساد میں دےہ تیاگ، خصوصاً پرایوپویشن/آہار-تیاگ جیسی حالت میں، عظیم پھل دیتا ہے، اور یہاں کیڑے، پرندے اور جانور بھی مر جائیں تو نجات پاتے ہیں۔ یہ سن کر پاروتی حیران ہوئیں؛ پھر موکش کے خواہاں دور دور سے عقیدت کے ساتھ آ کر پرایوپویشن کرتے اور اعلیٰ کامیابی پاتے ہیں۔ باب کے اختتام پر اس روایت کو شری ہاٹکیشور-کْشَیتر ماہاتمیہ میں ‘تمام گناہوں کو مٹانے والی’ کہا گیا ہے۔

30 verses

Adhyaya 84

Adhyaya 84

Mādhavī’s Transformation at Hāṭakeśvara-kṣetra (माधवी-रूपपरिवर्तन-प्रसङ्गः)

رِشی مَادھوی کے بارے میں تفصیلی بیان چاہتے ہیں—جو وِشنو سے بہن کے مانند منسوب کی گئی ہے—کہ اسے اَشوَمُکھی (گھوڑے چہرے والی) صورت کیسے ملی اور اس نے تپسیا کیسے کی۔ سوت بیان کرتا ہے کہ نارَد سے وابستہ الٰہی پیغام پانے کے بعد وِشنو دیوتاؤں کے ساتھ مشورہ کرتا ہے کہ زمین کا بوجھ ہلکا کرنے اور ظالم قوتوں کا خاتمہ کرنے کے لیے اوتار لینا ہے۔ دُوَاپر یُگ کے پس منظر میں وَسُودیو کے گھر کی پیدائشیں بیان ہوتی ہیں: دیوَکی سے بھگوان، روہِنی سے بَلَبھدر، اور سُپرَبھا سے مَادھوی پیدا ہوتی ہے؛ مگر وہ بگڑی ہوئی اَشوَمُکھی صورت میں ظاہر ہوتی ہے، جس سے خاندان اور بستی میں رنج پھیلتا ہے اور کوئی بھی رشتہ قبول نہیں کرتا۔ وِشنو اس کے غم کو دیکھ کر بَلَدیَو کے ساتھ مَادھوی کو ہاٹکیشور-کشیتر لے جاتا ہے اور اسے ضابطے کے ساتھ پوجا و ورت کراتا ہے۔ ورت، دان اور برہمنوں کی نذر و نیاز سے برہما راضی ہو کر ور دیتا ہے کہ مَادھوی شُبھ مُکھ (خوش صورت و مبارک چہرے والی) ہو کر ‘سُبھدرَا’ کے نام سے مشہور ہوگی، شوہر کی محبوبہ اور بہادروں کی ماں بنے گی۔ ماگھ ماہ کی دُوادَشی کو خوشبو، پھول اور لیپ کے ساتھ پوجا کا وِدھان بتایا گیا ہے؛ خاص طور پر ترک کی گئی یا بے اولاد عورتیں اگر تین دن کے سلسلے میں بھکتی سے پوجا کریں تو نیک پھل پاتی ہیں۔ آخر میں پھل شروتی ہے کہ اس ادھیائے کا عقیدت سے پڑھنا یا سننا ایک ہی دن میں پیدا ہونے والے پاپ تک کو مٹا دیتا ہے۔

25 verses

Adhyaya 85

Adhyaya 85

Mahalakṣmī’s Restoration from the Gajavaktra Form (गजवक्त्रा-महालक्ष्मी-माहात्म्य / Narrative of Curse, Tapas, and Boon)

اس باب میں رِشی سوتا سے پوچھتے ہیں کہ پدما نے مادھوی کو جو شاپ دیا تھا اس کا نتیجہ کیا ہوا، اور یہ کہ غضب ناک برہمن کے شاپ سے کملہ/لکشمی کیسے گجَوَکترا (ہاتھی چہرہ) روپ میں آ گئیں اور پھر اُن کا مبارک چہرہ کیسے واپس ہوا۔ سوتا شاپ کے فوری اثر کو بیان کرتے ہیں اور ہری کی ہدایت سناتے ہیں کہ دوَاپر یُگ کے اختتام تک لکشمی اسی روپ میں رہیں گی، پھر دیوی شکتی سے بحالی ہوگی۔ لکشمی اس کشتَر میں تریکال اسنان کر کے، دن رات بے تھکن برہما کی پوجا کرتی ہوئی سخت تپسیا کرتی ہیں۔ سال کے آخر میں برہما خوش ہو کر ور دیتے ہیں؛ لکشمی صرف اپنے سابقہ شُبھ روپ کی واپسی مانگتی ہیں۔ برہما وہ روپ عطا کرتے ہیں اور اسی مقام کے سیاق میں اُنہیں ‘مہالکشمی’ کا نام بھی قائم کرتے ہیں۔ پھل شروتی کے مطابق—جو گجَوَکترا روپ میں اُن کی پوجا کرے وہ دنیاوی اقتدار پا کر گج ادھیپتی کی مانند راجا بنتا ہے؛ اور جو دُوتیہا کے دن ‘مہالکشمی’ کا آواہن کر کے شری سوکت سے پوجن کرے، اسے سات جنموں تک فقر و فاقہ سے نجات کا وعدہ ہے۔ آخر میں دیوی کیشو کے پاس لوٹ جاتی ہیں، ویشنو وابستگی کو مضبوط رکھتے ہوئے اور تیرتھ میں برہما کے ور-داتا ہونے کی سند بھی قائم کرتی ہیں۔

16 verses

Adhyaya 86

Adhyaya 86

सप्तविंशतिका-दुर्गा माहात्म्यम् (Glory of Saptaviṃśatikā Durgā and the Regulation of Lunar Fortune)

اس باب میں سَپتَوِمشَتِکا دیوی کا تیرتھ-ماہاتمیہ بیان ہوا ہے۔ سوت کہتے ہیں کہ دکش کی ستائیس بیٹیاں—جو نَکشتر (قمری منازل) کے روپ میں مانی جاتی ہیں—سوم چندر کی بیویاں تھیں؛ مگر روہِنی پر سوم کی حد سے زیادہ محبت دیکھ کر باقی بیٹیاں رنجیدہ ہوئیں اور سَوبھاگیہ کے زوال اور شوہر کے ترک کیے جانے کے خوف سے مبتلا رہیں۔ انہوں نے اس کْشَیتر میں تپسیا کی، دُرگا کی پرتِشٹھا کی اور مسلسل نَیویدیہ و پوجا سے دیوی کو راضی کیا۔ دیوی نے ور دیا کہ ان کا ازدواجی سَوبھاگیہ بحال ہوگا اور ترکِ زوج/فراق کا دکھ دور ہوگا۔ پھر ورت کے قواعد بتائے گئے ہیں: چَتُردَشی کو روزہ و بھکتی کے ساتھ پوجن، ایک سال تک یکسو ریاضت، اور ورت کی سنجیدگی کے لیے کھار/نمک وغیرہ سے پرہیز۔ خاص طور پر اشوِن شُکل پکش کی نوَمی کو آدھی رات میں پوجا کرنے سے شدید اور دیرپا سَوبھاگیہ کی بشارت دی گئی ہے۔ آگے قمری اساطیر میں شُولپانی سوم کے راجَیَکشما کے بارے میں دکش سے پوچھتے ہیں؛ دکش اپنے شاپ کا سبب بتاتا ہے؛ اور شِو کائناتی توازن قائم کرتے ہوئے سوم کو حکم دیتے ہیں کہ وہ سب بیویوں کے ساتھ یکساں برتاؤ کرے—اسی سے شُکل و کرشن پکش کی بڑھوتری اور گھٹاؤ ظاہر ہوتا ہے۔ آخر میں کہا گیا ہے کہ دیوی اس کْشَیتر میں نِتیہ وِراجمان رہ کر عورتوں کو سَوبھاگیہ عطا کرتی ہے، اور اشٹمی کو پاکیزگی کے ساتھ پاتھ کرنے سے سَوبھاگیہ-سِدھی حاصل ہوتی ہے۔

24 verses

Adhyaya 87

Adhyaya 87

Somaprāsāda-māhātmya (Glory of the Lunar Temple)

اس باب میں سوت جی سَوم (چاند) کے ایک نہایت مبارک پرساد/تیर्थ کا بیان کرتے ہیں، جس کے محض دیدار سے بھی پاتک (گناہ) مٹ جاتے ہیں۔ رِشی پوچھتے ہیں کہ چندرما دیوتاؤں میں سب کا مشترک سہارا (سماشریہ) کیسے بنتا ہے۔ سوت جواب دیتے ہیں کہ جگت کو ‘سوم مَیَ’ کہا گیا ہے؛ جڑی بوٹیاں اور اناج سوم کے سار سے بھرے ہیں؛ دیوتا سوم سے تریپت ہوتے ہیں، اسی لیے اگنِشٹوم وغیرہ سوم-سمبندھ یَجْیَ اسی اصول پر قائم ہیں۔ پھر سوم پرساد کی تعمیر سے متعلق دھارمک آداب بیان ہوتے ہیں—سوموار اور دیگر شُبھ نشانوں والے وقت میں، شردھا کے ساتھ شُدھ سنکلپ کر کے تعمیر کرنے سے پُنّیہ بڑھتا ہے؛ اور وِدھی کے خلاف تعمیر کرنے سے اَنِشٹ پھل ہونے کی تنبیہ کی جاتی ہے۔ آخر میں امباریش، دھندھومار اور اِکشواکو کے بنائے ہوئے چند ہی سوم پرسادوں کا ذکر کر کے ان کی نایابی بتائی جاتی ہے، اور سننے/پڑھنے سے گناہوں کے زوال کی پھل شروتی کے ساتھ باب مکمل ہوتا ہے۔

25 verses

Adhyaya 88

Adhyaya 88

अम्बावृद्धामाहात्म्यवर्णनम् / The Māhātmya of Ambā-Vṛddhā (Protective Goddesses of Hāṭakeśvara-kṣetra)

اس باب میں رِشی سوت جی سے پوچھتے ہیں کہ چار مقامی محافظ دیوتاؤں میں پہلے جن امبا‑وِردھا کا ذکر آیا تھا، اُن کا ماہاتمیہ، اُن کی یاترا/ورت کی ابتدا اور اُن کا پرَبھاو تفصیل سے بیان کیجیے۔ سوت بیان کرتے ہیں کہ جب راجا چمتکار نے شہر بسایا تو ہاٹکیشور‑کشیتر کی حفاظت کے لیے چار دیوتاؤں کی ودھی‑پورْوک پرتِشٹھا کی گئی۔ اسی راج وَنش میں امبا اور ‘وِردھا’ نام کی دو عورتیں ویدک رسم کے مطابق کاشی کے راجا سے بیاہی جاتی ہیں۔ کالَیونوں کے ساتھ جنگ میں راجا کے مارے جانے پر دونوں بیوائیں شوہر کے دشمنوں کے دمن اور حفاظت کی نیت سے ہاٹکیشور‑کشیتر جا کر طویل عرصہ دیوی کی آرادھنا اور تپسیا کرتی ہیں۔ اُن کے ہوم‑اگنی سے ایک ہیبت ناک شکتی ظاہر ہوتی ہے، پھر بے شمار ‘ماتری’ قوتیں—کئی چہروں، کئی بازوؤں، مختلف ہتھیاروں، سواریوں اور اوصاف کے ساتھ—نمودار ہوتی ہیں۔ وہ دشمن لشکروں کو روند کر بھسم/بھکش کر دیتی ہیں، اُن کی سلطنت کو ویران کرتی ہیں اور پھر اپنے مقام کو لوٹ جاتی ہیں۔ ماتری گن رہائش اور خوراک مانگتے ہیں تو امبا‑وِردھا کچھ دھارمک قواعد و ممانعتیں مقرر کرتی ہیں—جو ادھرم، پاپ آچار، یا دیو‑براہمن دروہ کرے وہ ‘بھکش’ (قابلِ سزا/قابلِ گرفت) ٹھہرے—یوں انسانی آچرن کی حدیں قائم ہوتی ہیں۔ آخر میں راجا دیویوں کے لیے شاندار آواس بنواتا ہے۔ پھل شروتی کے مطابق صبح اُن کے مُکھ درشن، کام کے آغاز و انجام پر پوجا، اور مخصوص تِتھیوں میں نذرانہ/نَیویدیہ سے حفاظت، من چاہا پھل اور ‘کانٹوں سے پاک’ یعنی بے رکاوٹ زندگی حاصل ہوتی ہے۔

64 verses

Adhyaya 89

Adhyaya 89

Śrīmātuḥ Pādukā-māhātmya (Glory of the Divine Pādukās in Hāṭakeśvara-kṣetra)

اس باب میں ہاٹکیشور-کشیتر کے اندر ایک مقامی آفت اور اس کا رسم و عقیدہ پر مبنی حل بیان ہوا ہے۔ برہمنوں کے گھروں میں رات کے وقت بچے غائب ہونے لگتے ہیں؛ دیوگان اُس “چھِدر” (شگاف/رخنہ) کو ڈھونڈتے ہیں جس سے یہ نقصان پہنچ رہا ہے۔ برہمن نہایت ادب و بھکتی سے امبا کے حضور جا کر رات کی اغوا کاریوں کا حال عرض کرتے ہیں اور حفاظت کی درخواست کرتے ہیں؛ اگر داد رسی نہ ہو تو ہجرت کی بات بھی کہتے ہیں۔ امبا رحم کھا کر زمین پر ضرب لگاتی ہیں، ایک غار ظاہر ہوتا ہے اور وہ اس میں اپنی الٰہی پادُکائیں (مقدس جوتیاں) قائم کرتی ہیں۔ وہ حد بندی کا حکم دیتی ہیں کہ خدمت گزار دیوتا اندر ہی رہیں؛ جو بے قراری سے حد پار کرے گا وہ دیوتا پن سے گر جائے گا۔ دیوتا پوچھتے ہیں پوجا کون کرے گا اور نَیویدیہ کیا ہوگا؛ امبا فرماتی ہیں کہ یوگی اور بھکت پوجا کریں گے، اور پادُکاؤں کے لیے گوشت و مے وغیرہ سمیت نذر و نیاز کا طریقہ بتا کر نایاب سِدھی کا وعدہ کرتی ہیں۔ اس عبادت کے پھیلنے سے اگنِشٹوم وغیرہ ویدک یَجْن کم ہونے لگتے ہیں؛ قربانی کے حصے گھٹنے پر دیوتا رنجیدہ ہو کر مہیشور سے فریاد کرتے ہیں۔ شِو امبا کی ناقابلِ تعرض عظمت کو ثابت کر کے ایک “آسان تدبیر” کرتے ہیں: ایک نورانی کنواری کو ظاہر کر کے اسے منتر اور طریقِ کار سکھاتے ہیں تاکہ نسبی/روایتی سلسلے کے ذریعے پادُکا پوجا جاری رہے۔ آخر میں پھل شروتی ہے کہ خصوصاً کنواری کے ہاتھ سے پوجا اور چتُردشی و اشٹمی کی تِتھیوں میں توجہ سے سماعت کرنے سے دنیاوی خوشی، بعد از مرگ بھلائی اور بالآخر اعلیٰ ترین مقام حاصل ہوتا ہے۔

48 verses

Adhyaya 90

Adhyaya 90

वह्नितीर्थोत्पत्तिः (Origin of Vahni/Agni Tīrtha) — Chapter 90

رِشیوں نے سوت سے اگنی تیرتھ اور برہمتیرتھ کی پیدائش اور عظمت بیان کرنے کی درخواست کی۔ سوت نے شانتنو کے عہد میں قحط و بے بارانی کا واقعہ سنایا—جانشینی کے معاملے میں بے قاعدگی سمجھ کر اندر نے بارش روک دی؛ نتیجتاً قحط پھیلا اور یَجْن و دھارمک کرم ماند پڑ گئے۔ بھوک سے مجبور وشوامتر نے کتے کا گوشت پکایا؛ ممنوعہ خوراک سے نسبت کے خوف سے اگنی دنیا سے غائب ہو گیا۔ دیوتاؤں نے اگنی کی تلاش کی؛ ہاتھی، طوطے اور مینڈک نے اس کے چھپنے کے مقامات بتائے تو ان پر لعنت/شاپ پڑا اور ان کی بولی یا زبان میں الٹ پھیر آ گیا۔ آخرکار اگنی ہاٹکیشور کے میدان کے ایک گہرے آبی ذخیرے میں پناہ گزیں ہوا؛ اس کی حرارت سے آبی جاندار ہلاک ہونے لگے۔ تب برہما نے آ کر سمجھایا کہ اگنی کائنات کے لیے ناگزیر ہے—یَجْن سے سورج، سورج سے بارش، بارش سے اناج اور اناج سے جاندار قائم رہتے ہیں۔ برہما نے اندر سے صلح کر کے بارش دوبارہ جاری کرائی اور اگنی کو ور دیا کہ وہ ذخیرۂ آب ‘وہنی تیرتھ/اگنی تیرتھ’ کے نام سے مشہور ہو۔ اس ادھیائے میں صبح کا اسنان، اگنی سوکت کا جپ اور بھکتی سے درشن کو اگنِشٹوم کے برابر پُنّیہ دینے والا اور جمع شدہ پاپوں کو مٹانے والا بتایا گیا ہے۔ نیز ‘وسوہ دھارا’ (مسلسل گھی کی آہوتی) کو شانتی، پَوشٹک اور ویشودیو کرموں کی تکمیل کے لیے ضروری، اگنی کو راضی کرنے والا اور داتا کی مرادیں پوری کرنے والا قرار دیا گیا ہے۔

81 verses

Adhyaya 91

Adhyaya 91

अग्नितीर्थप्रशंसा (Agni-tīrtha Praise and the Devas’ Consolation)

سوت بیان کرتا ہے کہ پِتامہہ برہما نے غضبناک پاوَک (اگنی) کو تسکین دی اور پھر خود واپس چلے گئے۔ اس کے بعد شکرا، وِشنو، شِو وغیرہ دیوتا اپنے اپنے دھاموں کو لوٹ گئے۔ برتر دْوِجوں کے اگنی ہوترا میں اگنی مستقر ہوا، رسم کے مطابق آہوتیاں قبول کرنے لگا، اور وہیں ایک عظیم اگنی تیرتھ کا ظہور ہوا۔ اس تیرتھ کا پھل بتایا گیا ہے کہ جو شخص صبح وہاں اشنان کرے وہ دن سے پیدا ہونے والے (دنَج) پاپوں سے چھوٹ جاتا ہے۔ دیوتاؤں کے روانہ ہوتے وقت گجیندر، شُک اور منڈوک رنجیدہ ہو کر آئے اور عرض کیا کہ “آپ ہی کے سبب اگنی نے ہمیں شاپ دیا ہے؛ ہماری جِہوا (زبان) کے بارے میں کوئی اُپائے بتائیے۔” دیوتاؤں نے دلاسہ دیا کہ زبان میں تبدیلی کے باوجود ان کی صلاحیت باقی رہے گی اور راج سبھاؤں میں بھی قبولیت ملے گی۔ منڈوک جسے آگ نے ‘بِجِہوا’ کر دیا تھا، اس کے لیے بھی ایک خاص طرزِ آواز کے طویل عرصہ تک قائم رہنے کی بشارت دی گئی۔ یوں کرپا عطا کر کے دیوتا رخصت ہو گئے۔

11 verses

Adhyaya 92

Adhyaya 92

ब्रह्मकुण्डमाहात्म्यवर्णनम् | Brahmakuṇḍa Māhātmya (Glorification of Brahma-Kuṇḍa)

اس باب میں سوت جی اگنی تیرتھ کے پچھلے بیان سے آگے بڑھ کر برہما کنڈ کی پیدائش اور اس کی عظمت بیان کرتے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ رشی مارکنڈے نے وہاں پدم یونی برہما کی پرتیِشٹھا کی اور نہایت پاک و صاف پانی سے بھرا ہوا ایک مقدس کنڈ قائم کیا۔ پھر عبادتی و تقویمی ہدایت آتی ہے—کارتک کے مہینے میں جب چاند کِرتِکا نکشتر میں ہو (کِرتِکا یوگ)، تب بھیشم ورت/بھیشم پنچک کرنا چاہیے؛ اس مبارک پانی میں اسنان کر کے پہلے برہما کی، پھر جناردن/پُروشوتم وِشنو کی پوجا کرنی چاہیے۔ پھل شروتی میں جنم اور لوک کے نتائج بیان ہیں—شودر بھی بہتر جنم پاتا ہے، اور برہمن اس انوِشٹھان سے برہملوک کو پہنچتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک گوالا مارکنڈے کی تعلیم سن کر عقیدت سے ورت کرتا ہے؛ وقت آنے پر وفات کے بعد وہ جاتِسمَر (پچھلی زندگی یاد رکھنے والا) بن کر برہمن گھرانے میں جنم لیتا ہے۔ سابقہ والدین سے محبت برقرار رکھتے ہوئے وہ اپنے سابقہ باپ کے لیے شرادھ کرتا ہے؛ رشتہ دار پوچھیں تو وہ اپنی پچھلی پیدائش اور ورت کے اثر سے ہونے والی تبدیلی کی وجہ بیان کرتا ہے۔ آخر میں شمالی سمت میں برہما کنڈ کی شہرت کا ذکر ہے اور یہ بھی کہ وہاں بار بار اسنان کرنے سے سادھک برہمن کو بار بار اعلیٰ جنم/وِپرتو حاصل ہوتا ہے۔

28 verses

Adhyaya 93

Adhyaya 93

गोमुखतीर्थमाहात्म्यवर्णनम् (Gomukha Tīrtha Māhātmya—Account of the Glory of Gomukha)

اس باب میں ہاٹکیشور-کشیتر کے اندر گومکھ تیرتھ کی پیدائش، اس کا پوشیدہ ہونا اور پھر دوبارہ ظاہر ہونا سبب و حکایت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ ایک مبارک تِتھی-یوگ میں پیاس سے بے قرار گائے گھاس کا گچھا اکھاڑ دیتی ہے تو وہاں سے پانی کی دھارا پھوٹ نکلتی ہے اور پھیلتے پھیلتے بڑا کنڈ بن جاتا ہے؛ بہت سی گائیں وہاں پانی پیتی ہیں۔ ایک بیمار گوالا اس پانی میں اتر کر اشنان کرتا ہے تو فوراً مرض سے نجات پا کر روشن و تابناک بدن والا ہو جاتا ہے؛ یہ کرامت مشہور ہو کر اس مقام کو “گومکھ” کے نام سے شہرت دیتی ہے۔ رشیوں کے سوال پر سوت امبریش راجہ کی تپسیا کا قصہ سناتا ہے۔ اس کے بیٹے کو کوڑھ تھا، جسے پچھلے جنم میں برہمن کے وध (برہماہتیا) کے کرم پھل سے جوڑا گیا—درانداز سمجھ کر ایک برہمن کو مار دیا گیا تھا۔ وشنو پرسن ہو کر باریک سوراخ کے ذریعے پاتال میں موجود جاہنوی (گنگا) کا جل ظاہر کرتا ہے اور اشنان کی ہدایت دیتا ہے؛ بیٹا شفا پاتا ہے اور وہ سوراخ پھر چھپا دیا جاتا ہے۔ بعد میں گومکھ کے واقعے سے وہی جل زمین پر دوبارہ ظاہر ہوا بتایا گیا ہے۔ بھکتی کے ساتھ اشنان کو پاپ-ناشک اور بعض بیماریوں کا دافع کہا گیا ہے۔ ہاٹکیشور کے علاقے میں شرادھ کرنے سے پتر-رِن ادا ہوتا ہے؛ خاص طور پر اتوار کی سحر کے وقت اشنان کو مخصوص علاجی پھل دینے والا بتایا گیا ہے، اور دیگر دنوں میں بھی شردھا و بھکتی سے کیا گیا اشنان پھل دار مانا گیا ہے۔

49 verses

Adhyaya 94

Adhyaya 94

लोहयष्टिमाहात्म्य (The Glory of Paraśurāma’s Iron Staff)

اس باب میں سوت جی رشیوں کے سوال کے جواب میں مقدّس کشترا میں موجود نہایت درخشاں لوہ یشٹی (لوہے کا عصا) کی مہاتمیا بیان کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ پِتر ترپن وغیرہ کر کے سمندر میں اسنان کے لیے جاتے ہوئے پرشورام (رام بھارگو) کو وہاں کے مُنی اور برہمن کُٹھار (پرشو) چھوڑ دینے کی صلاح دیتے ہیں—جب تک ہاتھ میں ہتھیار رہے، غصّے کا امکان باقی رہتا ہے؛ ورت پورا کرنے والے کے لیے یہ مناسب نہیں۔ پرشورام عرض کرتے ہیں کہ اگر میں کُٹھار چھوڑ دوں تو کوئی دوسرا اسے اٹھا کر غلط استعمال کر سکتا ہے؛ تب وہ سزا کا مستحق ہوگا، اور میں ایسے اَپرادھ کو برداشت نہیں کر سکوں گا۔ چنانچہ برہمنوں کی درخواست پر وہ کُٹھار توڑ کر لوہے کی یشٹی بناتے ہیں اور حفاظت و امانت کے لیے انہیں سونپ دیتے ہیں۔ برہمن اس کی نگہداشت اور پوجا کا عہد کرتے ہیں اور پھل شروتی سناتے ہیں—راجیہ سے محروم راجا پھر راجیہ پاتے ہیں، ودیارتھی اور برہمن اعلیٰ گیان بلکہ سروَجْنَتا تک حاصل کرتے ہیں، بے اولاد کو اولاد ملتی ہے؛ خاص طور پر آشوِن کے کرشن پکش کی چودھویں تِتھی کو اُپواس کے ساتھ پوجا کرنے سے بڑا پُنّیہ ہوتا ہے۔ پرشورام کے روانہ ہونے کے بعد وہ مندر بنا کر نِتّیہ پوجا قائم کرتے ہیں اور منوکامنا جلد پوری ہوتی ہے۔ آخر میں کہا گیا ہے کہ اصل کُٹھار وشوکرما نے اَوناشی لوہے سے، رُدر کے آتشی تیج سے ملا کر بنایا تھا۔

25 verses

Adhyaya 95

Adhyaya 95

अजापालेश्वरीमाहात्म्यवर्णनम् (Ajāpāleśvarī Māhātmya: The Glory of the Goddess Installed by King Ajāpāla)

باب 95 میں سوت جی اجاپالیشوری کی پوجا کی ابتدا اور اس کی تاثیر کو ایک اخلاقی و دھارمک تیرتھ-کہانی کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ راجا اجاپال ظالمانہ ٹیکسوں سے رعایا کو پہنچنے والے سماجی نقصان سے رنجیدہ ہے، مگر رعایا کی حفاظت کے لیے آمدنی کی عملی ضرورت بھی سمجھتا ہے۔ اس لیے وہ محصول گیری کے بجائے تپسیا کے ذریعے “کانٹک رہت” (جرم سے پاک) راج قائم کرنے کا عزم کرتا ہے اور وِسِشٹھ سے پوچھتا ہے کہ کون سا تیرتھ جلد پھل دیتا ہے جہاں مہادیو اور دیوتا آسانی سے خوش ہوتے ہیں۔ وِسِشٹھ اسے ہاٹکیشور-کشیتر کی طرف رہنمائی کرتے ہیں، جہاں چنڈیکا فوراً راضی ہوتی ہیں۔ راجا برہمچریہ، پاکیزگی، مقررہ غذا اور دن میں تین بار اسنان جیسے ضابطوں کے ساتھ دیوی کی آرادھنا کرتا ہے۔ دیوی اسے گیان سے بھرپور ہتھیار اور منتر عطا کرتی ہیں جن سے جرائم دب جاتے ہیں، پرائی بیوی سے تعلق جیسے سنگین اَدھرم رک جاتے ہیں اور بیماریوں پر قابو ہوتا ہے؛ نتیجتاً خوف کم ہوتا ہے، پاپ گھٹتا ہے اور عوامی بہبود بڑھتی ہے۔ پاپ اور روگ کے زوال سے یم کا اختیار گویا بے کار سا ہو جاتا ہے اور دیوتاؤں میں مشاورت ہوتی ہے۔ تب شیو باگھ کی صورت اختیار کر کے راجا کی آزمائش کرتے ہیں؛ راجا دفاع میں حرکت کرتا ہے تو شیو اپنا اصلی روپ ظاہر کر کے اس کی بے مثال دھارمک حکمرانی کی ستائش کرتے ہیں۔ شیو حکم دیتے ہیں کہ راجا رانی سمیت پاتال میں ہاٹکیشور کے پاس جائے اور مقررہ وقت پر دیوی کنڈ کے جل میں عطا کردہ ہتھیار و منتر واپس سونپ دے۔ آخر میں بتایا گیا ہے کہ اجاپال وہیں بڑھاپے اور موت سے آزاد ہو کر ہاٹکیشور کی پوجا میں قائم رہتا ہے اور دیوی کی پرتِشٹھا ایک دائمی مقدس سہارا بنتی ہے؛ نیز شُکل چتُردشی کو پوجا اور کنڈ اسنان کو خاص حفاظت اور بیماریوں میں کمی کا سبب کہا گیا ہے۔

93 verses

Adhyaya 96

Adhyaya 96

अध्याय ९६ — दशरथ-शनैश्चरसंवादः, रोहिणीभेद-निवारणम्, राजवापी-माहात्म्यम् (Chapter 96: Daśaratha–Śanaiścara Dialogue; Prevention of Rohiṇī-Disruption; Glory of Rājavāpī)

اس باب میں سوتا رشیوں کو شاہی نسب نامہ، مقدّس مقام کی سرپرستی اور ایک کونیاتی و اخلاقی واقعہ یکجا کرکے سناتا ہے۔ اجپال کے رساتل میں اترنے کے بعد اس کا بیٹا راجا بنتا ہے؛ اسے دیوی قربت اور جگت کے استحکام کے سبب سراہا گیا ہے، اور شنیَیشچر پر ‘غلبہ’ پانے کا اشارہ بھی ملتا ہے۔ اسی ستکشیتر میں وشنو/نارائن کے راضی ہونے سے ایک شاندار تعمیر قائم ہوتی ہے اور ‘راجواپی’ نامی مشہور واپی/کنواں بنوایا جاتا ہے۔ راجواپی پر پنچمی تِتھی کو، خاص طور پر پریت پکش میں، شرادھ کرنے سے بڑا پُنّیہ اور سماجی و روحانی وقار حاصل ہوتا ہے۔ پھر رشی پوچھتے ہیں کہ روہِنی کے شکٹ بھید (فلکی ترتیب میں خلل) کو روکنے کے لیے شنیَیشچر کو کیسے روکا گیا۔ نجومیوں نے کہا تھا کہ روہِنی کے راستے میں رخنہ پڑا تو بارہ برس کی سخت قحط سالی و بھوک، سماجی نظام کی ٹوٹ پھوٹ اور ویدی یَجْن چکر میں رکاوٹ واقع ہوگی۔ تب سورَیوَںشی دشرَتھ (اج کا بیٹا) منتر-شکتی سے مُنَوَّر دیوی تیر لے کر شنیَیشچر کا سامنا کرتا ہے اور دھرم و عوامی بھلائی کی بنیاد پر اسے روہِنی پَتھ چھوڑنے کا حکم دیتا ہے۔ شنی حیران ہو کر اپنی نگاہ کے سخت اثر کا راز بتاتا ہے اور ور دیتا ہے؛ دشرَتھ یہ ور مانگتا ہے کہ شنیوار کو تیل سے اَبھْیَنگ کرنے والے، استطاعت کے مطابق تل اور لوہا دان کرنے والے، اور اسی دن تل-ہوم، سَمِدھ اور چاول کے دانوں سے شانتی کرم کرنے والے شنی کی آفت سے محفوظ رہیں۔ آخر میں پھل شروتی ہے کہ اس باب کا نِتّیہ پاٹھ/شروَن شنیَیشچر سے پیدا ہونے والی تکلیفوں کو دور کرتا ہے۔

42 verses

Adhyaya 97

Adhyaya 97

दशरथकृततपःसमुद्योगवर्णनम् (Daśaratha’s Resolve for Austerities to Obtain Progeny)

سوت بیان کرتے ہیں کہ راجا دشرتھ کے ایک غیر معمولی کارنامے سے خوش ہو کر اندر (شکر) خود آئے، بادشاہ کی بے مثال کامیابی کی ستائش کی اور ور دینے کی پیشکش کی۔ دشرتھ نے نہ دولت مانگی نہ فتح؛ اس نے اندر کے ساتھ ایسی دائمی دوستی اور سَخاوتِ رفاقت چاہی جو تمام دھارمک فرائض میں قائم رہے۔ اندر نے یہ ور عطا کیا اور دیوسبھا میں باقاعدہ حاضری کی درخواست کی۔ دشرتھ شام کے سنْدھیا کرم کے بعد روزانہ دیوسبھا میں جاتا، وہاں دیویہ سنگیت و نرتیہ سے لطف اندوز ہوتا اور دیورشیوں سے دھرم اُپدیش اور مقدس حکایات سنتا۔ ایک رواج یہ تھا کہ دشرتھ کے رخصت ہونے پر اس کے آسن پر جل چھڑکا جاتا (ابھیُکشَن)۔ نارَد نے سبب بتایا تو راجا کو اندیشہ ہوا کہ کہیں یہ کسی پوشیدہ پاپ کی علامت تو نہیں۔ اس نے برہمنوں کو ایذا، ناانصافی، سماجی بے ترتیبی، بدعنوانی، پناہ مانگنے والوں کی بے قدری، اور یَجْیہ کرم میں کوتاہی جیسے ممکنہ عیوب گنوائے۔ اندر نے جواب دیا کہ تمہارے جسم، راج، نسل، گھر یا خادموں میں کوئی موجودہ نقص نہیں؛ مگر بے اولادی ہی پِتْرِ ڑِن (آباؤ اجداد کا قرض) کی صورت میں آنے والا عیب ہے جو اعلیٰ گتی میں رکاوٹ بنتا ہے۔ اسی لیے یہ جل چھڑکاؤ پِتروں سے متعلق ایک حفاظتی ودھی ہے۔ اندر نے نصیحت کی کہ اولاد کے لیے یتن کرو تاکہ پتر ڑِن ادا ہو اور زوال نہ آئے۔ دشرتھ ایودھیا لوٹا، وزیروں کے سپرد راج کا بوجھ کیا اور پترارتھ تپسیا کا سنکلپ لیا۔ اسے کارتّیکےیپور جانے کا مشورہ بھی ملا جہاں اس کے پتا نے پہلے تپسیا کر کے من چاہی سدھی پائی تھی۔

47 verses

Adhyaya 98

Adhyaya 98

राजस्वामिराजवापीमाहात्म्यवर्णनम् (The Māhātmya of the Royal Well ‘Rājavāpī’ and its Merit-Discourse)

سوت جی بیان کرتے ہیں کہ وزیروں کے رخصت کرنے پر راجا دشرتھ ہاٹکیشور-کشیتر میں آئے اور بھکتی سے پرکرما کی۔ انہوں نے اپنے پتا کے قائم کردہ دیوی کی پوجا کی، پُنّیہ جل میں اسنان کیا، بڑے مندرون کے درشن کیے، کئی تیرتھوں میں اسنان و دان کیے۔ پھر چکر دھاری وشنو کے لیے مندر بنوایا، ویشنو مورتی کی پرتِشٹھا کی، اور سادھوؤں کی ستائش پانے والی شفاف پانی کی ایک خوبصورت واپی/کنواں تعمیر کرایا۔ اسی جل-ستھل سے وابستہ سخت تپسیا کرتے ہوئے دشرتھ نے سو برس تپ کیا۔ تب گروڑ پر سوار، دیوگنوں سے گھِرے جناردن پرگٹ ہوئے اور ور مانگنے کو کہا۔ دشرتھ نے وंश-وردھن کے لیے پتر مانگے؛ وشنو نے وعدہ کیا کہ وہ چار روپوں میں ان کے گھر جنم لیں گے اور دھرم کے ساتھ راج کرنے کی نصیحت دے کر واپس جانے کو کہا۔ وہ واپی ‘راج واپی’ کے نام سے مشہور ہوئی۔ بتایا گیا کہ پنچمی تِتھی کو اسنان و پوجا کر کے اور ایک سال تک شرادھ کرنے سے بے اولاد کو بھی پتر لابھ ہوتا ہے۔ آخر میں اسی ور کے پھل سے دشرتھ کے چار پتر—رام، بھرت، لکشمن، شترُگھن—پیدا ہوئے؛ ایک بیٹی لوماپاد کو دی گئی، اور رامیشور، لکشمنیشور اور سیتا پرتِشٹھا وغیرہ رام-سمرتیوں کا بھی ذکر آتا ہے۔

26 verses

Adhyaya 99

Adhyaya 99

Rāma–Lakṣmaṇa Saṃvāda, Devadūta-Sandeśa, and Durvāsā-Āgamanam (Chapter 99)

اس باب میں رِشی سوتا جی سے ایک ظاہری تضاد کی وضاحت چاہتے ہیں—پہلے کہا گیا کہ رام، سیتا اور لکشمن ایک ساتھ آئے اور ایک ساتھ ہی جنگل کو روانہ ہوئے، مگر پھر یہ بھی آتا ہے کہ “وہیں” رام نے رامیشور وغیرہ کی پرتِشٹھا کسی اور وقت کی۔ سوتا مختلف دنوں اور مواقع کا فرق بتا کر اشکال دور کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اس کْشَیتر کی پاکیزگی ابدی ہے؛ اس کی تقدیس میں کمی نہیں آتی۔ اس کے بعد قصہ شاہی سیاق میں آتا ہے۔ عوامی ملامت سے متاثر ہو کر رام ضبط و ریاضت کے ساتھ راج کرتے ہیں؛ برہماچریہ کا بھی صریح ذکر ہے۔ اسی وقت اندر کی ہدایت لے کر ایک دیودوت خفیہ طور پر آتا ہے اور پیغام دیتا ہے کہ راون وध کا مقصد پورا ہونے پر رام کو دیویہ لوک میں واپس آنا ہے۔ اسی دوران ورت کے بعد بھوکے درواسا مُنی آ پہنچتے ہیں۔ لکشمن کے سامنے دھرم سنکٹ کھڑا ہوتا ہے—راجا کے راز کی حفاظت کریں یا مُنی کے شاپ سے ونش کو بچائیں؟ وہ رام کو اطلاع دے کر مُنی کو اندر آنے دیتے ہیں۔ رام دیودوت کو بعد میں جواب دینے کا وعدہ کر کے رخصت کرتے ہیں، درواسا کو ارگھْیَ اور پادْیَ سے آدر دیتے ہیں اور طرح طرح کے بھوجن سے سیر کرتے ہیں—یوں راج دھرم، دیو آگیہ اور تپسوی کے حق کو آتِتھْی دھرم کے ذریعے متوازن دکھایا گیا ہے۔

43 verses

Adhyaya 100

Adhyaya 100

Lakṣmaṇa-tyāga at Sarayū and the Ethics of Royal Truthfulness (लक्ष्मणत्यागः सरयूतटे)

اس باب میں سوت ایک دھرم-بحران بیان کرتا ہے۔ درواسا رشی کے رخصت ہونے کے بعد لکشمن تلوار ہاتھ میں لے کر شری رام کے پاس آتے ہیں اور عرض کرتے ہیں کہ رام کی سابقہ پرتِگیا اور راج دھرم کی سچائی قائم رہے، اس لیے مجھے سزا دے کر قتل کر دیا جائے۔ رام اپنے خود کیے ہوئے ورت کو یاد کر کے اندر سے مضطرب ہوتے ہیں اور وزیروں اور دھرم شناس برہمنوں سے مشورہ کرتے ہیں؛ فیصلہ یہ ہوتا ہے کہ حقیقی قتل نہیں بلکہ ترکِ وطن/جلاوطنی ہی سزا ہے، کیونکہ سادھوؤں کے معاملے میں ترک کو موت کے برابر سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ رام لکشمن کو فوراً راجیہ چھوڑنے اور آئندہ ملاقات سے منع کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ لکشمن گھر والوں سے کچھ کہے بغیر سرَیو کے کنارے جاتے ہیں، تطہیر کرتے ہیں، یوگ آسن میں بیٹھ کر ‘برہما-دوار’ سے یوگک طریقے پر اپنا تیج/پران چھوڑ دیتے ہیں؛ ان کا جسم کنارے پر بے حس و حرکت گر پڑتا ہے۔ رام شدید غم میں نوحہ کرتے ہیں اور جنگل میں لکشمن کی خدمت و حفاظت کو یاد کرتے ہیں۔ وزیر آخری رسومات کی بات کرتے ہیں تو آکاش وانی اعلان کرتی ہے کہ برہما-گیان میں قائم سنیاسی کے لیے ہوم یا چتا پر جلانا مناسب نہیں؛ لکشمن یوگ-نرگمن کے ذریعے برہما دھام کو پہنچ گئے ہیں۔ رام لکشمن کے بغیر ایودھیا لوٹنے سے انکار کرتے ہیں، کُش کو راجیہ سونپنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہیں اور وبھیشن و وانروں سمیت اتحادی راجاؤں سے صلاح کر کے آئندہ بے ترتیبی روکنے کی تدبیر کرتے ہیں؛ یوں سرَیو تیرتھ، راج ستیہ ورت اور سنیاسی آداب ایک ساتھ جڑ جاتے ہیں۔

71 verses

Adhyaya 101

Adhyaya 101

सेतुमध्ये श्रीरामकृतरामेश्वरप्रतिष्ठावर्णनम् (Rāma’s Installation of the Rāmeśvara Triad in the Midst of the Setu)

سوت جی بیان کرتے ہیں—رات گزار کر سحر کے وقت شری رام پُشپک وِمان میں سُگریو، سُشین، تارا، کُمُد، اَنگَد وغیرہ ممتاز وانروں کے ساتھ تیزی سے لنکا پہنچے اور پہلے کی جنگ کے مقامات کو پھر سے دیکھ کر یاد کیا۔ رام کی آمد پہچان کر وبھیشن وزیروں اور خدام کے ساتھ آگے آیا، ساشٹانگ پرنام کیا اور لنکا میں عقیدت سے استقبال کیا۔ وبھیشن کے محل میں تشریف فرما رام کے سامنے اس نے سلطنت اور گھریلو امور مکمل طور پر سپرد کر کے ہدایت طلب کی۔ لکشمن کے فراق کے غم سے مغموم اور دیویہ لوک کی روانگی کے ارادے والے شری رام نے راج دھرم کی نصیحت فرمائی—بادشاہی کی دولت نشہ پیدا کرتی ہے؛ اس لیے غرور سے پاک رہو، شکر (اندرا) وغیرہ دیوتاؤں کا احترام کرو؛ اور ایسی حد بندی قائم کرو کہ راکشس رام سیتو پار کر کے انسانوں کو ایذا نہ دیں، کیونکہ انسان رام کی پناہ میں ہیں۔ وبھیشن نے کَلی یُگ میں درشن کے لیے آنے والے یاتریوں اور سونے کے لالچ سے پیدا ہونے والے فتنوں کی فکر ظاہر کی۔ تب راکشسوں کی سرکشی اور اس سے ہونے والے دَوش کو روکنے کے لیے شری رام نے سیتو کے درمیانی حصے کی مشہور ساخت کو تیروں سے کاٹ کر راستہ ناقابلِ عبور بنا دیا؛ نشان دار چوٹی اور لِنگ بردار بلند حصہ سمندر میں جا گرا۔ دس راتیں وہاں ٹھہر کر جنگ کی کتھائیں سنائیں، پھر شہر کی طرف روانہ ہوئے؛ سیتو کے آخری سرے پر مہادیو کی پرتِشٹھا کی اور عقیدت کے ساتھ سیتو کے آغاز، وسط اور انجام میں ‘رامیشور تریہ’ قائم کر کے دائمی تیرتھ یاترا اور پوجا کی مر्यادا کو مستحکم کیا۔

44 verses

Adhyaya 102

Adhyaya 102

Hāṭakeśvara-kṣetra-prabhāvaḥ (The Glory of Hāṭakeśvara and the Foundations of Rāmeśvara–Lakṣmaṇeśvara)

سوت بیان کرتے ہیں—رام پُشپک وِمان میں اپنے مسکن کی طرف جا رہے تھے کہ اچانک وِمان ساکن ہو گیا۔ سبب دریافت کرنے پر رام نے وایوسُت ہنومان کو تحقیق کے لیے بھیجا۔ ہنومان نے عرض کیا کہ عین نیچے مبارک ہاٹکیشور کْشیتر ہے؛ وہاں برہما کی حضوری مشہور ہے اور آدتیہ، وَسو، رُدر، اَشوِن اور دیگر سِدّھ گن بستے ہیں۔ اسی تقدّس کی کثافت کے باعث پُشپک اس مقام سے آگے نہیں بڑھتا۔ رام وانروں اور راکشسوں کے ساتھ اترے، تیرتھوں اور دیو آستانوں کے درشن کیے، اسنان کیا؛ منوکامنا پوری کرنے والے کُنڈ کا ذکر بھی آتا ہے۔ شُدھی کر کے پِتر ترپن ادا کیا اور کْشیتر کے غیر معمولی پُنّیہ پر غور کیا۔ پُرانی روایت (کیشو سے منسوب) کے مطابق لِنگ پرتِشٹھا کا سنکلپ لیا، سْورگارُوڑھ لکشمن کی یاد میں لکشمنیشور کی بنیاد کا ارادہ کیا، اور سیتا سمیت شُبھ، دیدنی روپ کی خواہش رکھی۔ رام نے بھکتی سے پانچ پرساد/مندروں کی स्थापना کی؛ دیگر لوگوں نے بھی اپنے اپنے لِنگ قائم کیے۔ آخر میں پھل شروتی ہے—صبح کے وقت نِتّیہ درشن سے رامائن شروَن کا پھل ملتا ہے؛ اور اشٹمی و چتُردشی کو رام چریت کا پاٹھ کرنے سے اشومیدھ یَگّیہ کے برابر پھل حاصل ہوتا ہے۔

22 verses

Adhyaya 103

Adhyaya 103

Ānarttīya-taḍāga Māhātmya and Kārttika Dīpadāna (आनर्त्तीयतडाग-माहात्म्यं तथा कार्तिकदीपदानम्)

اس باب میں رِشی سوت جی سے پوچھتے ہیں کہ اس کْشیتر میں وانروں اور راکشسوں کے قائم کیے ہوئے لِنگوں کی کیا مہاتمیا ہے اور ان سے کون سا پھل ملتا ہے۔ سوت سمتوں کے مطابق نقشہ کھینچتے ہیں: بالمنڈنک میں اسنان کے بعد سُگریو مُکھ-لِنگ کی پرتِشٹھا کرتا ہے، دوسرے وانر گروہ بھی مُکھ-لِنگ قائم کرتے ہیں؛ مغرب میں راکشس چَتُرمُکھ لِنگ رکھتے ہیں؛ مشرق میں شری رام پانچ پرسادوں والا پاپ-ناشک پُنّیہ دھام قائم کرتے ہیں۔ جنوب میں آنرتّیَ تڑاغ کے پاس وِشنو-کوپِکا پاک کرنے والی ہے؛ وہاں دکشنایَن میں کیا گیا شرادھ اشومیدھ کے برابر پُنّیہ دیتا اور پِتروں کی گتی بلند کرتا ہے۔ کارتک میں دیپ دان مخصوص نرکوں میں گرنے سے بچاتا اور جنم جنمانتر کی اندھاپن وغیرہ تکالیف دور کرتا ہے۔ رِشیوں کے اصرار پر سوت آنرتّیَ تڑاغ کی بے پایاں عظمت بیان کرتے ہوئے رام-اگستیہ ملاقات کا قصہ لاتے ہیں۔ اگستیہ اپنے شبانہ درشن کا ذکر کرتے ہیں: آنرتّ کے سابق راجا شویت دیوی وِمان میں ہونے کے باوجود دیپوتسو کی راتوں میں تڑاغ سے اپنا سڑا ہوا جسم بار بار کھاتا ہے، پھر کچھ دیر کے لیے بینائی پا لیتا ہے—یہ کرم پھل کی جیتی جاگتی تمثیل ہے۔ راجا اپنے قصور مانتا ہے: دان نہ دینا، خاص طور پر اَنّ دان سے روگردانی؛ جواہرات کی لالچ میں چھین جھپٹ؛ اور رعایا کی حفاظت میں غفلت۔ برہما بتاتے ہیں کہ انہی خطاؤں کے سبب بلند لوکوں میں بھی بھوک اور نابینائی بھگتنی پڑتی ہے۔ اگستیہ کفّارہ بتاتے ہیں: رتن جڑا ہار ‘اَنّ-نِشکرَی’ کے طور پر نذر کرنا، دامودر کو کارتک میں رتن دیپ پیش کرنا، یم/دھرم راج کی پوجا، تل اور کالی اُڑد کا دان اور برہمن ترپن۔ اس سے راجا بھوک سے آزاد ہو کر پاکیزہ بینائی پاتا ہے اور تیرتھ کے پرتاب سے برہملوک کو پہنچتا ہے۔ آخر میں پھر کہا جاتا ہے کہ جو کارتک میں اس تڑاغ میں اسنان کر کے دیپ دان کرتے ہیں وہ پاپوں سے چھوٹ کر برہملوک میں معزز ہوتے ہیں؛ یہ جگہ آنرتّیَ تڑاغ اور وِشنو-کوپِکا کے نام سے مشہور ہے۔

105 verses

Adhyaya 104

Adhyaya 104

Rākṣasa-liṅga-pratiṣṭhā, Kuśa–Vibhīṣaṇa-saṃvāda, and the Tri-kāla Worship of Rāmeśvara

باب 104 تِیرتھ-بیانیہ کے اندر حکمرانی اور زیارت کا ایک واقعہ پیش کرتا ہے۔ رِشی سوتا سے پوچھتے ہیں کہ راکشسوں نے بھکتی کے ساتھ جو لِنگ پرتیِشٹھا کیے، اُن کی عظمت اور اثر کیا ہے۔ سوتا بیان کرتا ہے کہ لنکا کے طاقتور راکشس ہاٹکیشورراج کے کھیتر کے مغربی حصے میں بار بار آتے، مسافروں اور باشندوں کو کھا جاتے اور دہشت پھیلاتے ہیں۔ پناہ گزین ایودھیا میں راجا کُش کو خبر دیتے ہیں کہ راکشس-منتروں سے قائم چار مُکھی لِنگ ان پُرتشدد یلغاروں کو کھینچتے ہیں؛ یہاں تک کہ اُن کی انجانے میں پوجا بھی فوری تباہی کا سبب سمجھی جاتی ہے۔ برہمن کُش کو غفلت پر ملامت کرتے ہیں؛ وہ ذمہ داری قبول کر کے وبھیشن کو سخت پیغام بھیجتا ہے۔ قاصد سیتو کے علاقے میں پہنچتا ہے اور جانتا ہے کہ پل ٹوٹ جانے سے آگے گزرنا رُکا ہوا ہے۔ مقامی گواہی وبھیشن کی سخت بھکتی-ریاضت کو نمایاں کرتی ہے: وہ دن کے تینوں پہروں میں رامیشور کے تین مظاہر کی پوجا کرتا ہے—سحر کو دروازہ-مندر میں، دوپہر کو پانی کے بیچ سیتو کے ٹکڑے پر، اور رات کو۔ وبھیشن آ کر شِو کی گہری ستوتی کرتا ہے—شِو کو سب دیوتاؤں کا جوہر اور ہر جیو میں باطن طور پر موجود بتاتا ہے، جیسے لکڑی میں آگ اور دہی میں گھی۔ وہ پھولوں، زیورات اور ساز و گیت کے ساتھ مفصل پوجا کر کے کُش کے الزامات سنتا ہے، انجانے میں ہونے والے نقصان کو مانتا ہے، قصوروار راکشسوں سے بازپرس کر کے انہیں شاپ دے کر بھوک اور ذلت کی حالت میں گرا دیتا ہے اور ضبط کا وعدہ کرتا ہے۔ اس کے بعد قاصد خطرناک لِنگوں کو اکھاڑنے کی بات کرتا ہے، مگر وبھیشن رام کے حضور کیے گئے ورت اور دھرم-نِیَم کی یاد دلاتا ہے کہ لِنگ—اچھی یا بری حالت میں بھی—ہلایا نہیں جانا چاہیے۔ کُش عملی حل دیتا ہے: لِنگوں کو ‘ہٹائے’ بغیر اُن کے مقامات کو مٹی سے بھر کر/ڈھانپ دیا جائے تاکہ ضرر دب جائے اور نقل مکانی کی ممانعت بھی قائم رہے۔ کُش شاپ زدہ ہستیوں کے لیے شرادھ کی کوتاہی، دان کے عیب اور ناجائز خوردونوش سے جڑے اخلاقی نتائج بھی مقرر کرتا ہے، اور سخت کلامی پر وبھیشن سے معافی مانگ کر اعتماد بحال کرتا ہے۔ آخر میں نذرانوں، صلح اور منظم پوجا سے مقدس فضا دوبارہ مستحکم ہو جاتی ہے۔

126 verses

Adhyaya 105

Adhyaya 105

राक्षसलिङ्गच्छेदनम् (Rākṣasa-liṅga-cchedanam) — “The Episode of the Severed/Damaged Rākṣasa Liṅgas”

سوت بیان کرتے ہیں—تُلا برج میں سورج کے قیام کے ایک تقویمی موڑ پر، وہ قدیم مقدس زمین جہاں لِنگوں کے ظہور ہوئے تھے، گرد و غبار اور تہہ نشینی سے بھر کر ڈھک گئی۔ لِنگوں کے اوجھل ہو جانے سے اس کْشَیتر میں ایک طرح کا ‘کْشیم’ (امن و حفاظت) دوبارہ قائم ہوا، اور چونکہ نمایاں نشان مٹ گئے تھے اس کا اثر دیگر عوالم تک بھی سکون کی صورت میں بیان ہوا ہے۔ بعد کے یُگ چکر میں شالْو دیش سے راجا بْرِہَدَشْو وہاں آیا۔ وسیع مگر محلّات سے خالی زمین دیکھ کر اس نے تعمیر کا ارادہ کیا اور بہت سے کاریگر بلا کر گہری کھدائی اور صفائی کا حکم دیا۔ کھدائی کے دوران بے شمار چہارمُکھ لِنگ ظاہر ہوئے؛ زمین میں بھری اس شدید قوت کو دیکھ کر راجا اور موجود کاریگر اسی لمحے موت کے گھاٹ اتر گئے۔ تب سے ہاٹکیشور-کْشَیتر کے اس تیرتھ میں کوئی بشر نہ محل بناتا ہے، نہ تالاب یا کنواں کھودتا ہے—خوف اور عقیدت کے باعث؛ یوں یہ مقامی ممانعت مقدس ہیبت کی یادگار بن گئی۔

10 verses

Adhyaya 106

Adhyaya 106

Luptatīrthamāhātmya-kathana (Theological Account of Lost Tīrthas)

رِشی پوچھتے ہیں کہ گرد و غبار سے بھری ہوئی زمین اور پریتوں کے فتنہ و فساد کے باعث کون کون سے تیرتھ اور لِنگ ‘لُپت’ (پوشیدہ/مستور) ہو گئے۔ سوت جواب دیتے ہیں کہ بے شمار مقدّس مقامات دب گئے؛ پھر نمایاں مثالوں میں چکرتیرتھ (جہاں وشنو نے اپنا چکر رکھا) اور ماترتیرتھ (جہاں اسکند/کارتّیکیہ نے دیوی ماتاؤں کی پرتِشٹھا کی) کا ذکر کرتے ہیں۔ نیز بلند پایہ راجاؤں اور رِشیوں کی نسلوں کے آشرم اور لِنگ بھی زمانے کے ساتھ پردۂ خفا میں چلے گئے، ایسا بیان آتا ہے۔ پھر منظرنامے کی نگہداشت کا بحران دکھایا جاتا ہے—پریت دھول کی بارش سے زمین بھرنا چاہتے ہیں، مگر ماتاؤں کی محافظانہ شکتی سے وابستہ تیز ہوا دھول کو بکھیر دیتی ہے اور زمین بھرنے نہیں دیتی۔ پریت راجا کُش کے پاس فریاد کرتے ہیں؛ راجا رُدر کی پرستش کرتا ہے۔ رُدر بتاتے ہیں کہ یہ کْشَیتر ماترگن کے تحفظ میں ہے؛ کچھ لِنگ راکشس منتر سے قائم کیے گئے ہیں، جن کا چھونا بلکہ دیکھنا بھی ضرر رساں ہو سکتا ہے، اس لیے وہ ممنوع علاقے ہیں۔ شاستری قید کے مطابق مورتیوں کو اکھاڑنا درست نہیں، اور لِنگ اپنی فطرت میں ثابت و قائم مانا گیا ہے۔ سادھوؤں اور برہمنوں کو نقصان سے بچانے کے لیے رُدر ماتاؤں کو موجودہ مقام چھوڑنے کا حکم دیتے ہیں۔ ماتائیں عرض کرتی ہیں کہ ہم اسکند کی پرتِشٹھا کردہ ہیں، اسی کْشَیتر میں برابر کا مقدّس مسکن چاہیے۔ رُدر انہیں اَشٹاشَشٹھِی (68) رُدر-کْشَیترَوں میں جدا جدا آستانے عطا کر کے اعلیٰ پوجا کا وعدہ دیتے ہیں۔ ماتاؤں کے ہٹتے ہی پریت مسلسل دھول سے زمین بھر دیتے ہیں اور رُدر نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ یہ ناگرکھنڈ کے ہاٹکیشور-کْشَیتر ماہاتمیہ، ادھیائے 106 کا خلاصہ ہے۔

34 verses

Adhyaya 107

Adhyaya 107

हाटकेश्वरक्षेत्रमाहात्म्ये ब्राह्मणचित्रशर्मलिङ्गस्थापनवृत्तान्तवर्णनम् (Hāṭakeśvara-kṣetra Māhātmya: Account of Brāhmaṇa Citraśarman’s Liṅga Installation)

باب کی ابتدا میں رِشی سوتا سے پوچھتے ہیں کہ شِو سے منسوب مشہور ‘اَشٹاشَشٹی’ (اڑسٹھ) مقدّس کشتروں کا ایک ہی مقام پر جمع ہونا کیسے ہوا۔ سوتا چمتکارپور کے واتس نسل کے برہمن چِترشرما کا سابقہ حال بیان کرتے ہیں۔ وہ بھکتی سے متاثر ہو کر پاتال میں قائم سمجھے جانے والے ہاٹکیشور لِنگ کے ظہور/حصول کے لیے طویل تپسیا کرتا ہے۔ شِو پرسن ہو کر درشن دیتے ہیں، ور عطا کرتے ہیں اور لِنگ کی स्थापना کا حکم دیتے ہیں؛ چِترشرما شاندار پراساد تعمیر کر کے شاستری طریقے سے روزانہ پوجا کرتا ہے، جس سے لِنگ کی شہرت پھیلتی ہے اور یاتری کھنچے چلے آتے ہیں۔ چِترشرما کی اچانک بڑھی ہوئی عزّت دیکھ کر دوسرے برہمنوں میں رقابت پیدا ہوتی ہے۔ وہ بھی برابری کے لیے سخت تپسیا کرتے ہیں اور مایوسی میں آگ میں داخل ہونے (خودسوزی) تک پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ تب شِو مداخلت کر کے انہیں روکتے ہیں اور ان کی مراد پوچھتے ہیں؛ وہ چاہتے ہیں کہ تمام مقدّس کشتروں/لِنگوں کا مجموعہ وہیں حاضر ہو جائے تاکہ ان کی رنجش دور ہو۔ چِترشرما اعتراض کرتا ہے مگر شِو ثالث بن کر مقصد واضح کرتے ہیں کہ کلی یُگ میں تیرتھوں پر خطرہ آئے گا، اس لیے مقدّس کشتَر یہاں پناہ لیں گے؛ دونوں فریقوں کو عزّت ملے گی۔ چِترشرما کو شرادھ/ترپن میں نام لینے کے طریقے کے ذریعے دائمی خاندانی امتیاز عطا ہوتا ہے، اور دوسرے برہمن گوتر بہ گوتر پراساد بنا کر لِنگ स्थापित کرتے ہیں—یوں اڑسٹھ دیویہ مزار قائم ہوتے ہیں۔ آخر میں شِو اپنی رضا مندی ظاہر کرتے ہیں اور اس مقام کو کشتروں کی پائیدار پناہ گاہ اور ‘اکشَے’ شرادھ پھل دینے والا قرار دیا جاتا ہے۔

74 verses

Adhyaya 108

Adhyaya 108

अष्टषष्टितीर्थवर्णनम् (Enumeration and Definition of the Sixty-Eight Tīrthas)

باب 108 میں رِشی تجسّس اور قابلِ استعمال فہرست کی خاطر سوتا سے درخواست کرتے ہیں کہ پہلے بیان کیے گئے ‘اڑسٹھ’ کْشیتروں اور دیگر تیرتھوں کے نام دوبارہ ترتیب سے بتائیں۔ سوتا کیلاش پر شِو–پاروتی کے سابقہ مکالمے کی بنیاد پر وضاحت کرتے ہیں کہ کلی یُگ میں جب ہر طرف اَधرم بڑھتا ہے تو تیرتھ گویا پاتال میں سمٹ جاتے ہیں؛ تب سوال اٹھتا ہے کہ تقدّس کی حقیقت اور اس تک رسائی کیسے سمجھی جائے۔ شِو ‘تیرتھ’ کی وسیع تعریف بیان کرتے ہیں—ماں باپ، ست سنگت، دھرم پر غور، یم-نیَم کی پابندی، اور پُنّیہ کتھاؤں کا سننا اور یاد کرنا بھی تیرتھ ہیں۔ یہ عقیدہ بتایا گیا ہے کہ دیدار، سمرن یا اسنان محض سے بھی بڑے گناہ پاک ہو جاتے ہیں؛ مگر اسنان بھکتی کے ساتھ، یکسو دل سے، اور مہیشور کی پوجا کی نیت سے کرنا چاہیے۔ آخر میں بھارت بھر کے نمایاں تیرتھ/کْشیتروں کی ناموں کی فہرست دی جاتی ہے، جو آگے آنے والی مفصل تشریحات کی بنیاد بنتی ہے۔

41 verses

Adhyaya 109

Adhyaya 109

Tīrthas and the Kīrtana of Śiva’s Localized Names (तीर्थेषु शिवनामकीर्तनम्)

یہ ادھیائے شَیوَ سنواد کی صورت میں ہے۔ ایشور فرماتے ہیں کہ انہوں نے ‘تیرتھ سموچّے’ کا نچوڑ بیان کیا ہے اور دیوتاؤں اور بھکتوں کی بھلائی کے لیے وہ تمام تیرتھوں میں سدا حاضر ہیں۔ جو انسان تیرتھ میں اسنان کرے، دیوتا کا درشن کرے اور اس تیرتھ سے متعلق شِو نام کا کیرتن کرے، اسے موکش کی سمت لے جانے والا پھل حاصل ہوتا ہے۔ شری دیوی ہر تیرتھ پر کس نام کا جپ کرنا چاہیے—اس کی مکمل فہرست چاہتی ہیں۔ تب ایشور بہت سے پُنّیہ استھانوں کو شِو کے مخصوص ناموں/روپوں سے جوڑ کر بتاتے ہیں—جیسے وارانسی—مہادیو، پریاگ—مہیشور، اُجّینی—مہاکال، کیدار—ایشان، نیپال—پشوپالک، شری شَیل—تریپورانتک وغیرہ۔ آخر میں پھل شروتی ہے کہ اس فہرست کا سننا یا پڑھنا گناہوں کا نِواڑن کرتا ہے۔ دانا سادھک اسے صبح، دوپہر اور شام—تینوں وقت پڑھیں، خاص طور پر شِو دیکشا یافتہ۔ گھر میں اسے لکھ کر رکھنے سے بھی بھوت-پریت کے اُپدرَو، بیماری، سانپ کا خوف، چور کا خوف اور دیگر آفات دُور ہوتی ہیں۔

25 verses

Adhyaya 110

Adhyaya 110

अष्टषष्टितीर्थमाहात्म्यवर्णनम् (Glorification of the Sixty-Eight Tīrthas; the Supreme Eightfold Tīrtha Cluster)

اس ادھیائے میں دیوی سوال کرتی ہیں کہ انسانوں کے لیے، خواہ عمر دراز ہی کیوں نہ ہوں، دور دور کے تیرتھوں کی یاترا عملاً کتنی دشوار ہے؛ اس لیے وہ تیرتھوں کا ‘سار’ جاننا چاہتی ہیں۔ ایشور جواب میں ایک ‘انوتم’ تیرتھاشٹک بتاتے ہیں—نیمِش، کیدار، پُشکر، کرمِی جنگل، وارانسی، کُرُکشیتر، پربھاس اور ہاٹکیشور—اور فرماتے ہیں کہ اِن میں شردھا کے ساتھ اسنان کرنے سے سبھی تیرتھوں کا پھل حاصل ہوتا ہے۔ دیوی جب کلی یُگ کے لیے موزونیت پوچھتی ہیں تو ایشور ہاٹکیشور-کشیتر کو اِن آٹھوں میں سب سے برتر قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کلی یُگ میں بھی وہاں دیویہ آدیش سے سبھی کشیتر اور دیگر تیرتھ ‘حاضر’ سمجھے جاتے ہیں۔ آخر میں سوت پھل شروتی بیان کرتے ہیں کہ اس ماہاتمیہ کا شروَن یا پاٹھ اسنان سے پیدا ہونے والے پُنّیہ کے برابر پھل دیتا ہے؛ یوں گرنتھ-شروَن/پاٹھ بھی تیرتھ کرم کے ہم پلہ پُنّیہ سادھنا بن جاتا ہے۔

13 verses

Adhyaya 111

Adhyaya 111

दमयन्त्युपाख्याने—दमयन्त्या विप्रशापेन शिलात्वप्राप्तिः (Damayantī Episode—Petrification by a Brāhmaṇa’s Curse)

اس باب میں رشی سوتا سے درخواست کرتے ہیں کہ شیو-کشیتر سے وابستہ برہمنوں کے گوتر، ان کی تعداد اور تفصیل بیان کریں۔ سوتا ایک سابقہ تعلیم کے حوالے سے آنرت دیس کے راجا کی کہانی سناتا ہے—راجا کو کوڑھ لاحق تھا، مگر شنکھ تیرتھ میں اسنان کرتے ہی تیرتھ کی مہیمہ اور شیو کی کرپا سے فوراً آرام پا گیا۔ شکرگزار راجا تپسویوں کو دان دینا چاہتا ہے، لیکن وہ اپریگرہ ورت کے پابند ہونے کے سبب مادی تحفے قبول نہیں کرتے۔ یہاں یہ نیتی-وچن نمایاں ہوتا ہے کہ کِرتَگھنتا (ناشکری) نہایت سنگین دوش ہے اور اس کا پرایشچت آسان نہیں۔ راجا کے دل میں احسان کا بدلہ چکانے کی فکر باقی رہتی ہے۔ کارتک میں جب رشی پشکر یاترا کو جاتے ہیں تو راجا دمیانتی سے کہتا ہے کہ رشیوں کی پتنیوں کو زیورات دے کر سیوا کرے، تاکہ تپسویوں کے نیَم نہ ٹوٹیں۔ کچھ تپسوی عورتیں مقابلہ آرائی کے جذبے سے زیورات لے لیتی ہیں، مگر چار انکار کرتی ہیں۔ رشی واپس آ کر آشرم کو زیورات سے ‘بگڑا ہوا’ دیکھتے ہیں، غضبناک ہو کر شاپ دیتے ہیں؛ دمیانتی اسی لمحے پتھر بن جاتی ہے۔ راجا غم میں ڈوب کر معافی اور تلافی کی راہ ڈھونڈتا ہے۔ سبق یہ ہے کہ بھکتی سے دیا گیا دان بھی اگر لالچ، رقابت یا ورت-بھنگ کا سبب بنے تو وہ دھرم کی حد پار کر کے ادھرم بن جاتا ہے۔

90 verses

Adhyaya 112

Adhyaya 112

Ūṣarotpatti-māhātmya (The Māhātmya of the Origin of the Barren Tract) — Damayanty-upākhyāna Continuation

اس باب میں سوت جی کی روایت کے سہارے اخلاقی و دینی مباحث نہایت مربوط انداز میں آتے ہیں۔ اڑسٹھ تھکے ماندے برہمن تپسوی پیدل واپس لوٹتے ہیں اور گھر پہنچ کر دیکھتے ہیں کہ ان کی بیویاں دیویہ لباس اور زیورات سے آراستہ ہیں۔ بھوک اور اضطراب کے ساتھ وہ پوچھتے ہیں کہ تپسیا کی مر्यادا کے خلاف یہ سنگھار کیسے ہوا؛ تب عورتیں بتاتی ہیں کہ رانی دمیانتی شاہانہ داتری کی طرح آئی اور یہ لباس و زیور عطا کر گئی۔ تپسوی ‘راج-پرتیگرہ’ (بادشاہ سے دان لینا) کو تپسویوں کے لیے خاص طور پر قابلِ ملامت سمجھ کر غضب میں ہاتھوں میں جل لے کر راجا اور راجیہ کو شاپ دینے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ تب بیویاں جوابی گفت و شنید میں کہتی ہیں کہ گِرہستھ آشرم بھی ‘اُتّم’ مارگ ہے جو اِہ لوک اور پرلوک دونوں کے پھل دیتا ہے؛ وہ اپنی طویل غربت یاد دلا کر راجا سے زمین اور روزگار کی بندوبست مانگتی ہیں، ورنہ خود کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دیتی ہیں جس کا پاپ پھل رشیوں پر آئے گا۔ یہ سن کر رشی شاپ کا جل زمین پر گرا دیتے ہیں؛ وہ جل زمین کے ایک حصے کو جلا کر مستقل نمکین/بنجر ‘اُوشَر’ علاقہ پیدا کرتا ہے جہاں کھیتی نہیں ہوتی اور پیدائش بھی نہیں ہوتی کہا گیا ہے۔ آخر میں پھل شروتی ہے کہ پھالگن کے مہینے میں اتوار کو پڑنے والی پورنیما کے دن وہاں کیا گیا شرادھ، اپنے کرموں کے سبب سخت نرکوں میں پہنچے ہوئے پِتروں کو بھی اُدھار دیتا ہے۔

28 verses

Adhyaya 113

Adhyaya 113

अग्निकुण्डमाहात्म्यवर्णनम् (Agni-kuṇḍa Māhātmya: Account of the Glory of the Fire-Pond) — त्रिजातकविशुद्धये (for the purification/verification regarding Trijāta)

اس باب میں سوت جی متعدد مناظر پر مشتمل دینی حکایت بیان کرتے ہیں۔ ابتدا میں ایک راجا گھریلو آشرم میں مقیم برہمنوں کے پاس ادب سے حاضر ہوتا ہے اور ان کی درخواست پر قلعہ بند بستی قائم کرتا ہے، رہائشیں، دان و بھوگ اور حفاظت و پرورش کا انتظام کرکے سماج میں استحکام پیدا کرتا ہے۔ پھر قصہ آنرت کے راجا پربھن جن کے سابقہ واقعے کی طرف مڑتا ہے۔ شاہزادے کی پیدائش کے وقت نجومی ناموافق سیاروی حالتیں بتاتے ہیں اور سولہ برہمنوں سے بار بار شانتی کرم کرانے کی تجویز دیتے ہیں۔ مگر رسومات کے باوجود بیماری، مویشیوں کا نقصان اور سیاسی خطرات بڑھتے جاتے ہیں۔ تب اگنی دیو انسانی صورت میں ظاہر ہو کر بتاتے ہیں کہ یَجْیَ میں ‘تری جات’ (متنازع/دیگر-پیدائش) برہمن کی موجودگی سے کرم آلودہ ہو گیا ہے۔ براہِ راست الزام سے بچنے کے لیے اگنی اپنے پسینے کے پانی سے ایک کنڈ بناتے ہیں اور سولہ پجاریوں کو اس میں اشنان کراتے ہیں؛ جو ناپاک ہوتا ہے اس کے بدن پر پھوڑوں جیسے نشان ظاہر ہو جاتے ہیں۔ پھر عہد قائم ہوتا ہے کہ یہ اگنی کنڈ برہمنوں کی تطہیر و جانچ کا مستقل تیرتھ رہے گا؛ نااہل اشنان کرنے والے نشان زد ہوں گے؛ اور اشنان سے حاصل ہونے والی ظاہری پاکیزگی کے ذریعے سماجی و یاجنک جواز ثابت ہوگا۔ آخر میں راجا درست تطہیر سے فوراً شفا پاتا ہے، اور پھل شروتی میں کارتک اشنان وغیرہ سے گناہوں کے زوال اور مخصوص خطاؤں سے نجات کی دائمی تاثیر بیان کی جاتی ہے۔

103 verses

Adhyaya 114

Adhyaya 114

नगरसंज्ञोत्पत्तिवर्णनम् / Origin Narrative of the Name “Nagara” (Hāṭakeśvara-kṣetra Māhātmya)

سوت بیان کرتے ہیں کہ ماں کے قصور کے سبب سماجی رسوائی میں مبتلا برہمن تپسوی تری جات نے اپنی عزت کی بحالی کے لیے ایک آبی منبع کے قریب سخت تپسیا اور شیو پوجا کی۔ بھگوان شنکر پرسن ہو کر پرگٹ ہوئے اور ور دیا کہ آئندہ وہ چامتکارپور کے برہمنوں میں بلند مرتبہ پائے گا۔ پھر قصہ چامتکارپور کی طرف مڑتا ہے۔ دیورآت کا بیٹا کرتھ غرور اور جلدبازی میں شراون کرشن پنچمی کے دن ناگ تیرتھ کے پاس ردرمالا نامی ناگ بچے کو مار ڈالتا ہے۔ ناگ بچے کے ماں باپ اور پوری ناگ برادری جمع ہوتی ہے؛ شیش ناگ کی قیادت میں بدلہ لے کر وہ کرتھ کو نگل جاتے ہیں اور شہر کو ویران کر دیتے ہیں۔ علاقہ بے آبادی ہو کر سانپوں کی بستی بن جاتا ہے اور انسانوں کے داخلے پر پابندی لگ جاتی ہے۔ خوف زدہ برہمن تری جات کی پناہ لیتے ہیں۔ تری جات شیو سے ناگوں کی ہلاکت کی دعا کرتا ہے، مگر شیو اندھی سزا سے انکار کرتے ہیں—وہ بے گناہ ناگ بچے کی معصومیت اور شراون پنچمی کے دن ناگ پوجا کی مذہبی اہمیت یاد دلاتے ہیں۔ اس کے بدلے وہ “ن گرں ن گرں” نامی تری اکشر سدھ منتر عطا کرتے ہیں؛ اس کے اُچارَن سے زہر دب جاتا ہے اور سانپ دور بھاگتے ہیں، اور جو رہ جائیں وہ کمزور ہو کر قابو میں آ جاتے ہیں۔ تری جات بچ جانے والے برہمنوں کے ساتھ واپس آ کر منتر کا اعلان کرتا ہے؛ ناگ بھاگ جاتے ہیں یا دب جاتے ہیں، اور بستی “نگر” کے نام سے مشہور ہو جاتی ہے۔ پھل شروتی یہ ہے کہ اس آکھ्यान کے پاٹھ کرنے والوں کو سانپوں سے پیدا ہونے والا خوف نہیں رہتا۔

95 verses

Adhyaya 115

Adhyaya 115

त्रिजातेश्वरस्थापनं गोत्रसंख्यानकं च (Establishment of Trijāteśvara and the Enumeration of Gotras)

اس باب میں رِشی سوت سے تریجات کے بارے میں پوچھتے ہیں—اس کا نام، اصل، گوتر اور یہ کہ ‘تریجات’ کہلانے کے باوجود وہ نمونۂ کمال کیوں ہے۔ سوت بیان کرتا ہے کہ وہ سाङکرتیہ رِشی کی نسل میں پیدا ہوا؛ ‘پربھاو’ کے نام سے مشہور ہے، ‘دتّ’ کی پہچان بھی رکھتا ہے، اور اسے نِمی کی نسل سے وابستہ بتایا گیا ہے۔ تریجات نے اس مقدس مقام کو اُبھار کر شِو کا مبارک مندر ‘تریجاتیشور’ کے نام سے قائم کیا؛ مسلسل پوجا سے وہ جسم سمیت سُورگ کو پہنچا۔ پھر ایک رسم و ضابطہ بتایا جاتا ہے—جو عقیدت سے دیوتا کا درشن کریں اور وِشُو (اعتدال) کے وقت دیوتا کو اسنان کرائیں، ان کی نسل میں ‘تریجات’ جنم کی تکرار نہیں ہوتی اور انہیں حفاظت ملتی ہے۔ اس کے بعد گفتگو اُن گوترَوں کی طرف مڑتی ہے جو کھو گئے تھے اور پھر دوبارہ قائم کیے گئے۔ سوت کوشِک، کاشیپ، بھاردواج، کونڈِنْیَ، گرگ، ہاریت، گوتَم وغیرہ متعدد گوتر گروہوں کو شمار کے ساتھ بیان کرتا ہے؛ ناگج کے خوف سے ہونے والی پراگندگی اور اسی مقام پر دوبارہ اجتماع کا ذکر کرتا ہے۔ پھل شروتی میں کہا گیا ہے کہ اس گوتر-بیان اور رِشیوں کے ناموں کے پاتھ/سماعت سے نسل کا انقطاع رُکتا ہے، زندگی کے مراحل میں پیدا ہونے والے گناہ کم ہوتے ہیں، اور عزیز چیزوں سے جدائی ٹلتی ہے۔

47 verses

Adhyaya 116

Adhyaya 116

अम्बरेवती-माहात्म्य (Ambarevatī Māhātmya): स्थापना, शाप-वर, नवमी-पूजा-फल

اس باب میں رشی سوت سے مشہور دیوی امبرےوتی کی پیدائش، ماہیت اور پوجا کے پھل کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ سوت ناگوں کو شہر کی تباہی کی ہدایت اور اس کے نتیجے میں شیش کی محبوبہ ریوَتی کے غم کا بیان کرتے ہیں۔ بیٹے کی ہلاکت کے انتقام میں ریوَتی ایک برہمن کے گھرانے کو نگل لیتی ہے؛ تب اس برہمن کی تپسوی بہن بھاٹّکا شاپ دیتی ہے کہ ریوَتی کو ملامت زدہ انسانی جنم، شوہر اور نسل سے جڑا دکھ بھگتنا ہوگا۔ ریوَتی کا تپسویہ کو نقصان پہنچانے کا جتن ناکام رہتا ہے؛ اس کے زہریلے دانت بھی نہیں چبھتے—تپسیا کی شکتی ظاہر ہو جاتی ہے۔ دوسرے ناگ بھی ناکام ہو کر خوف سے پلٹ جاتے ہیں۔ انسانی حمل اور ناگ روپ کے چھن جانے کے اندیشے سے رنجیدہ ریوَتی اسی کشتَر میں ٹھہر کر امبیکا کی خوشبو، پھول، نَیویدیہ، گیت و وادْیہ اور بھکتی سے آرادھنا کرتی ہے۔ دیوی ور دیتی ہیں کہ ریوَتی کا انسانی جنم دیویہ مقصد کے لیے ہوگا، وہ پھر رام روپ شیش کی پتنی بنے گی، اس کے دانت لوٹ آئیں گے، اور اس کے نام سے کی گئی پوجا کلیان بخش ہوگی۔ ریوَتی اس مقام پر اپنے نام سے دائمی سَنانِدھْی کی یाचنا کرتی ہے اور ناگ سے وابستہ پوجا وقتاً فوقتاً، خاص کر آشوِن شُکل پکش کی مہانومی کو کرنے کا سنکلپ لیتی ہے۔ آخر میں پھل شروتی ہے کہ پاکیزہ شردھا سے ودھی پورْوک امبرےوتی پوجن کرنے سے ایک برس تک خاندان سے اٹھنے والی آفت نہیں آتی اور گرہ، بھوت، پِشाच وغیرہ کی بَادھائیں دور ہو جاتی ہیں۔

56 verses

Adhyaya 117

Adhyaya 117

भट्टिकोपाख्यानम् (Bhaṭṭikā’s Legend) and the Origin of a Tīrtha at Kedāra

اس باب میں سوال و جواب کی صورت میں دینی و روحانی مباحث بیان ہوتے ہیں۔ رِشی سوت سے پوچھتے ہیں کہ بھٹّکا کے جسم سے زہریلے سانپوں کے ڈسنے والے دانت کیوں جھڑ گئے—کیا سبب تپسیا ہے یا منتر؟ سوت روایت کرتے ہیں کہ بھٹّکا کم عمری میں بیوہ ہو کر کیدار میں مسلسل بھکتی اور تپسیا کرتی رہی، اور روزانہ دیوتا کے حضور شیریں گیت گاتی تھی۔ اس کے گیت کی جمالیاتی و بھکتی قوت سے متاثر ہو کر تَکشک اور واسُکی برہمن کے بھیس میں آئے؛ پھر تَکشک نے ہولناک ناگ روپ دھار کر اسے پاتال میں اغوا کر لیا۔ بھٹّکا نے اخلاقی استقامت کے ساتھ کسی جبر کو قبول نہ کیا اور شرط کے ساتھ شاپ (لعنت) دی، جس سے تَکشک کو صلح و مفاہمت کی راہ اختیار کرنی پڑی۔ حسد میں مبتلا ناگ پتنیوں کے سبب نزاع ہوا؛ حفاظتی ودیا پڑھی گئی، اور ایک ناگنی کے ڈسنے سے دانت جھڑ گئے—یہی ابتدائی سوال کی علت بنتی ہے۔ بھٹّکا نے حملہ آور ناگنی کو شاپ دے کر انسان بنا دیا اور آئندہ کے لیے بھی تقدیر بیان کی: تَکشک سوراشٹر میں راجا کے طور پر جنم لے گا، اور بھٹّکا بعد میں ‘کشیمَنکری’ کے نام سے انسانی جنم لے کر اس سے دوبارہ ملے گی۔ کیدار واپس آ کر اسے پاکیزگی کے بارے میں سماجی شبہات کا سامنا ہوا۔ بھٹّکا نے خود آگ کی آزمائش اختیار کی؛ آگ پانی میں بدل گئی، پھولوں کی بارش ہوئی، اور ایک الٰہی پیامبر نے اسے بے داغ قرار دیا۔ آخر میں اس کے نام پر ایک تیرتھ قائم ہوتا ہے؛ وِشنو کے شَیَن/بودھن ورت کے مواقع پر وہاں اشنان کرنے والوں کے لیے اعلیٰ روحانی مرتبے کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ بھٹّکا تپسیا و پوجا جاری رکھتی ہے، تری وِکرم کی مورتی اور پھر مہیشور لِنگ اور مندر کی स्थापना کرتی ہے۔

78 verses

Adhyaya 118

Adhyaya 118

Kṣemaṅkarī–Raivateśvara Utpatti and Hāṭakeśvara-kṣetra Māhātmya (क्षेमंकरी-रैवतेश्वर-उत्पत्तितीर्थमाहात्म्यवर्णन)

رِشیوں نے سوت جی سے پوچھا کہ سوراشٹر/آنرت سے وابستہ یہ شاہی حکایت کیسے شروع ہوئی اور ہمالیہ کے سیاق میں کیدار جیسی تقدیس کیسے ظاہر ہوئی۔ سوت جی نے کْشیمَنکری کے جنم اور نام رکھنے کا بیان کیا—فتنہ و جلاوطنی کے زمانے میں راجیہ میں ‘کْشیم’ یعنی خیر و عافیت کا ظہور ہوا، اسی نسبت سے اس کا نام کْشیمَنکری پڑا۔ پھر راجا رَیوَت اور کْشیمَنکری کی ازدواجی زندگی کا ذکر آتا ہے—خوشحالی تھی مگر اولاد نہ ہونے سے نسل اور وجودی معنی کے بارے میں اضطراب بڑھ گیا۔ دونوں نے وزیروں کے سپرد حکومت کر کے تپسیا کی، کاتْیاینی (مہیشاسُرمردِنی) دیوی کی پرتِشٹھا و پوجا کی؛ دیوی نے ور دے کر کْشیمَجِت نامی پتر عطا کیا، جو نسل بڑھانے والا اور دشمنوں کو دبانے والا بتایا گیا۔ وارث کو راج میں بٹھا کر رَیوَت ہاٹکیشور-کْشیتْر گئے، وابستگیاں ترک کر کے شِو لِنگ کی پرتِشٹھا کی اور مندر-مجموعہ قائم کیا۔ وہ لِنگ ‘رَیوَتیشور’ کے نام سے مشہور ہوا؛ محض درشن کو ‘سرو پاتک ناشن’ کہا گیا۔ کْشیمَنکری نے وہاں پہلے سے قائم دُرگا کے لیے بھی مندر بنوایا؛ دیوی کْشیمَنکری کے نام سے معروف ہوئی۔ چَیتر شُکل اَشٹمی کو دیوی کے درشن سے مراد پوری ہونے کی بات کہی گئی؛ یوں یہ ادھیائے تیرتھ-ماہاتمیہ اور بھکتی کے اخلاقی رہنما اصولوں کے ساتھ ختم ہوتا ہے۔

28 verses

Adhyaya 119

Adhyaya 119

Mahīṣa-śāpa, Hāṭakeśvara-kṣetra-tapas, and the Tīrtha-Phala Discourse (महिषशाप-हाटकेश्वरक्षेत्रतपः-तीर्थफलप्रसङ्गः)

باب کے آغاز میں رِشی سوتا سے پوچھتے ہیں کہ دیوی کات्यायنی نے مہیشاسُر کو کیوں قتل کیا اور وہ اسُر بھینسے (مہیش) کی صورت میں کیسے آیا۔ سوتا سبب بیان کرتے ہیں: ‘چترسم’ نامی ایک خوبرو اور دلیر دَیتیہ بھینسوں پر سواری کا شوقین ہو کر دوسرے سواری کے ذرائع چھوڑ دیتا ہے۔ جاہنوی (گنگا) کے کنارے بھینسے پر گھومتے ہوئے اس کی بھینس ایک دھیان میں بیٹھے مُنی کو روند دیتی ہے، جس سے مُنی کی سمادھی ٹوٹ جاتی ہے۔ غضبناک مُنی اسے شاپ دیتے ہیں کہ وہ عمر بھر مہیش ہی بنا رہے۔ علاج کی تلاش میں وہ شُکرाचार्य کے پاس جاتا ہے۔ شُکر اسے ہاٹکیشور کْشَیتر میں مہیشور کی یکسو بھکتی اور تپسیا کی تلقین کرتے ہیں—یہ کْشَیتر سخت زمانوں میں بھی سِدھی دینے والا بتایا گیا ہے۔ طویل تپسیا کے بعد شِو پرگٹ ہوتے ہیں؛ شاپ منسوخ نہیں ہو سکتا، مگر شِو ‘سُکھوپای’ عطا کرتے ہیں کہ طرح طرح کے بھوگ اور جاندار اس کے بدن میں آ کر جمع ہوں گے۔ ناقابلِ شکست ہونے کا ور شِو رد کرتے ہیں؛ آخرکار دَیتیہ یہ ور مانگتا ہے کہ وہ صرف عورت کے ہاتھ سے مارا جا سکے۔ شِو تیرتھ اسنان اور درشن کے پھل بھی بتاتے ہیں—شرَدھا سے اسنان و درشن کرنے پر ہر مقصد کی سِدھی، رکاوٹوں کا زوال، روحانی تیز میں اضافہ ہوتا ہے اور بخار و بیماریوں میں افاقہ ہوتا ہے۔ پھر وہ دَیتیہ دانَووں کو جمع کر کے دیوتاؤں پر چڑھائی کرتا ہے۔ طویل آسمانی جنگ کے بعد اندر کی سینا کمزور ہو کر ہٹ جاتی ہے اور امراوتی کچھ مدت کے لیے خالی ہو جاتی ہے۔ دانَو داخل ہو کر جشن مناتے اور یَجْن کے حصّے ہتھیا لیتے ہیں۔ آگے ایک عظیم لِنگ کی پرتِشٹھا اور کیلاش جیسے مندر نما ڈھانچے کا ذکر آتا ہے، جس سے اس کْشَیتر کی تیرتھ-مرکوز تقدیس مزید مضبوط ہوتی ہے۔

70 verses

Adhyaya 120

Adhyaya 120

कात्यायनी-प्रादुर्भावः (Manifestation of Kātyāyanī and the Devas’ Armament Bestowal)

سوت بیان کرتے ہیں کہ شکر (اِندر) کی قیادت میں دیوتا جنگ میں شکست کھا گئے اور اسور مہیش نے تینوں لوکوں پر اقتدار قائم کر لیا۔ اس نے جو کچھ بھی بہترین سمجھا—سواریوں کے واسطے، دولت، جواہرات اور قیمتی متاع—سب زبردستی چھین لیا، جس سے کائناتی نظمِ دھرم میں اضطراب بڑھ گیا۔ دیوتا اس کے وध (ہلاکت) کا تدبیر سوچنے کو جمع ہوئے؛ تب نارَد آئے اور مہیش کے ظلم، رعایا پر ستم اور پرائے مال کی لوٹ کا مفصل حال سنایا، جس سے دیوتاؤں کا غضب اور بھڑک اٹھا۔ اس غضب سے ایسی سوزاں تجلی پیدا ہوئی کہ گویا سمتیں تاریکی سے ڈھک گئیں۔ اسی وقت کارتّکیہ (سکند) آئے اور سبب پوچھا؛ نارَد نے اسوروں کے بے لگام تکبر اور لوٹ مار کی خبر دی۔ دیوتاؤں اور سکند کے مشترک غضب و تَیجس کے کمال سے ایک نورانی کنیا ظاہر ہوئی، جس کے مبارک آثار تھے؛ سببِ تسمیہ کے مطابق وہ ‘کاتْیاینی’ کہلائی۔ دیوتاؤں نے اسے وجر، شکتی، کمان، ترشول، پاش، تیر، زرہ، تلوار وغیرہ تمام اسلحہ اور حفاظتی سامان عطا کیا۔ اس نے بارہ بازو ظاہر کر کے ہتھیار تھامے اور دیوتاؤں کو یقین دلایا کہ وہ مقصد پورا کرے گی۔ دیوتاؤں نے بتایا کہ مہیش کسی جاندار سے، خصوصاً مردوں سے، ناقابلِ تسخیر ہے؛ صرف ایک عورت کے ہاتھوں ہی اس کا وध ممکن ہے، اسی لیے یہ دیوی پرकट ہوئی۔ پھر تَیجس بڑھانے کے لیے اسے وِندھیا پہاڑ پر سخت تپسیا کے لیے بھیجا گیا، تاکہ بعد میں اسے پیشِ صف رکھ کر مہیش کا سنہار ہو اور دیوتاؤں کی حاکمیت دوبارہ قائم ہو۔

23 verses

Adhyaya 121

Adhyaya 121

महिषासुरपराजय–कात्यायनीमाहात्म्यवर्णनम् (Defeat of Mahīṣa and the Māhātmya of Kātyāyanī/Vindhyavāsinī)

اس ادھیائے میں سوت جی وِندھیا-پردیش میں واقع دیوی کے پُنیہ چرتر کا بیان کرتے ہیں۔ دیوی حواس کو قابو میں رکھ کر مہیشور کا دھیان کرتے ہوئے سخت تپسیا کرتی ہیں؛ تپسیا بڑھنے سے اُن کا تیج اور سوندریہ اور بھی نکھر جاتا ہے۔ اس اَنوکھی تپسوی کنیا کو دیکھ کر مہیشاسُر کے جاسوس خبر دیتے ہیں۔ کام میں مبتلا مہیشاسُر لشکر سمیت آ کر راجیہ دینے اور بیاہ کی پیشکش سے بہلانے کی کوشش کرتا ہے، مگر دیوی اپنا دیویہ مقصد—اُس کے اُپدرَو کا خاتمہ—صاف ظاہر کر دیتی ہیں۔ پھر سنگرام چھڑتا ہے۔ دیوی اپنے تیروں سے اسُر سینا کو پسپا کرتی ہیں، مہیش کو زخمی کرتی ہیں اور ہولناک قہقہے سے معاون یودھا-گن ظاہر کرتی ہیں جو دَیتیہ بَل کو تہس نہس کر دیتے ہیں۔ مہیشاسُر جب خود حملہ کرتا ہے تو دیوی یُدھ میں اُس پر سوار ہو کر سنگھ کی مدد سے اُسے جکڑ دیتی ہیں؛ دیوتا فوراً وध کی درخواست کرتے ہیں۔ دیوی تلوار سے اُس کی موٹی گردن کاٹ کر دیولोक کو مطمئن کرتی ہیں۔ بعد ازاں ایک اخلاقی کشمکش سامنے آتی ہے—مہیش دیوی کی ستوتی کر کے شاپ-مُکتی کا دعویٰ کرتا اور رحم کی بھیک مانگتا ہے۔ دیوتا کائناتی خطرے سے آگاہ کرتے ہیں۔ دیوی اُسے دوبارہ قتل کرنے کے بجائے ہمیشہ کے لیے قابو میں رکھنے کا سنکلپ کرتی ہیں۔ دیوتا دیوی کی ‘وِندھیاواسِنی/کاتْیاینی’ کے نام سے آئندہ کیرتی اور خاص طور پر آشوِن شُکل پکش میں پوجا-وِدھان بتاتے ہیں، جس سے حفاظت، صحت اور کامیابی ملتی ہے۔ آخر میں جگت کا نظم بحال ہوتا ہے اور آگے راجاؤں کی بھکتی و درشن-اُتسو کے پھل کا بھی ذکر آتا ہے۔

78 verses

Adhyaya 122

Adhyaya 122

केदार-प्रादुर्भावः (Kedāra Manifestation and the Kuṇḍa Rite)

باب 122 سوتا–رِشی مکالمے کی صورت میں ہے؛ پچھلے دیو-ہنَن کے بیان سے ہٹ کر کیدار-مرکوز، پاپ-ناشنی حکایت آتی ہے۔ رِشی پوچھتے ہیں کہ ہمالیہ میں گنگادوار کے نزدیک مشہور کیدار کیسے قائم ہوا۔ سوتا بتاتا ہے کہ شیو کی حضوری کا ایک موسمی نظام ہے: وہ طویل عرصہ ہمالیائی خطے میں رہتے ہیں، مگر برف باری کے مہینوں میں وہ مقام ناقابلِ رسائی ہو جاتا ہے، اس لیے دوسری جگہ بھی شیو کی سَنِدھی اور پوجا کی تکمیلی ترتیب مقرر کی گئی۔ روایت میں ہِرنیاکْش دیو اور اس کے ساتھیوں کے ہاتھوں معزول اندَر گنگادوار میں تپسیا کرتا ہے۔ شیو مہیش (بھینسے) کے روپ میں پرकट ہو کر اندَر کی درخواست قبول کرتے ہیں اور بڑے دیوؤں کا سنہار کرتے ہیں؛ ان کے ہتھیار شیو کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اندَر کے اصرار پر شیو جگت کی رکھشا کے لیے اسی روپ میں ٹھہرتے ہیں اور سفٹک کی طرح شفاف ایک کُنڈ قائم کرتے ہیں۔ شُدھ بھکت کُنڈ کے درشن کر کے مقررہ ہاتھ/سمت کے آداب کے ساتھ تین بار جل پیتا ہے اور ماتا–پتا کی نسل اور اپنے آپ سے متعلق مُدراؤں کے ذریعے جسمانی عمل کو دیوی ودھی سے ہم آہنگ کرتا ہے۔ اندَر نِتیہ پوجا کی بنیاد رکھتا ہے، دیوتا کا نام ‘کیدار’ رکھتا ہے (چیرنے/پھاڑنے کے معنی میں) اور ایک شاندار مندر بنواتا ہے۔ پھر جب ہمالیہ تک چار مہینے راستہ بند رہتا ہے—سورج کے ورِشچک سے کُمبھ تک ہونے کے دوران—شیو آنرت دیس کے ہاٹکیشور کْشیتَر میں وِراجمان رہتے ہیں؛ وہاں روپ-پرتِشٹھا، مندر کی تعمیر اور مسلسل پوجا کا حکم ہے۔ پھل-شروتی میں کہا گیا ہے کہ چار ماہ کی عبادت شیو کے قرب کی طرف لے جاتی ہے؛ موسم سے باہر کی بھکتی بھی پاپ مٹاتی ہے؛ ودوان گیت و نرتیہ سے ستوتی کرتے ہیں۔ نارَد کے حوالے سے ایک شلوک میں کیدار-جل پینے اور گیا میں پِنڈ دان کو برہما-گیان اور پُنرجنم سے مکتی سے جوڑا گیا ہے؛ سننا، پڑھنا یا پڑھوانا بھی پاپ کے انبار مٹا کر خاندانوں کی اُٹھان کا سبب بنتا ہے۔

64 verses

Adhyaya 123

Adhyaya 123

शुक्लतीर्थमाहात्म्य — The Glory of Śuklatīrtha (Purificatory Water-Site)

اس باب میں سوت جی سفید دربھہ کی علامتوں سے پہچانے جانے والے ‘بے مثال’ شُکلتیرتھ کی عظمت بیان کرتے ہیں۔ چامتکارپور کے قریب ایک رجک، جو بڑے برہمنوں کے کپڑے دھوتا تھا، غلطی سے قیمتی برہمنی کپڑے نیلی کنڈی/نیلی کے رنگ والے تالاب میں پھینک دیتا ہے۔ قید یا موت کی سزا کے خوف سے وہ رات کو بھاگنے کی تیاری کرتا ہے؛ تب اس کی بیٹی اپنی داس-کنیا سہیلی کے پاس جا کر قصور بتاتی ہے، اور سہیلی قریب ہی ایک دشوارگزار آبی ذخیرے کا راستہ بتاتی ہے۔ رجک وہاں کپڑے دھوتے ہی دیکھتا ہے کہ وہ فوراً بلور کی طرح سفید ہو جاتے ہیں، اور غسل کرنے سے اس کے سیاہ بال بھی سفید ہو جاتے ہیں۔ وہ کپڑے برہمنوں کو واپس کرتا ہے؛ برہمن تحقیق کر کے جان لیتے ہیں کہ سیاہ چیزیں اور بال بھی سفید ہو جاتے ہیں، اور عقیدت سے غسل کرنے والے بوڑھے اور جوان قوت اور سعادت پاتے ہیں۔ آگے ذکر ہے کہ انسانوں کے غلط استعمال کے اندیشے سے دیوتا تیرتھ کو گرد سے ڈھانپنا چاہتے ہیں، مگر وہاں جو کچھ بھی اُگتا ہے وہ پانی کی تاثیر سے سفید ہی رہتا ہے۔ اس تیرتھ کی مٹی بدن پر مل کر غسل کرنے سے تمام تیرتھوں کے اسنان کا پھل ملتا ہے؛ دربھہ اور جنگلی تل سے ترپن کرنے پر پتر (اجداد) راضی ہوتے ہیں اور اسے بڑے یَجْن/شرادھ کے برابر ثواب کہا گیا ہے۔ آخر میں عقیدتی توضیح دی گئی ہے کہ وشنو نے شویت دویپ کو یہاں قائم کیا تاکہ کلی کے اثر میں بھی اس کی سفیدی زائل نہ ہو۔

54 verses

Adhyaya 124

Adhyaya 124

मुखारतीर्थोत्पत्तिवर्णनम् (Origin Narrative of Mukharā Tīrtha)

اس باب میں سوت جی مُکھرا تیرتھ کی پیدائش کی روایت کو اخلاقی نصیحت کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ مُکھرا کو ‘افضل تیرتھ’ کہا گیا ہے، جہاں یاترا پر آئے ہوئے سَپت رِشی (مریچی وغیرہ) ایک لٹیرے سے دوچار ہوتے ہیں۔ وہ لوہمجنگھ—مانڈویہ نسل کا برہمن، والدین اور بیوی کا خدمت گزار؛ مگر طویل قحط و خشک سالی میں جان بچانے کی خاطر چوری کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ متن بھوک کے اضطراب کو بدخصلتی کے برابر نہیں ٹھہراتا، تاہم چوری کو قابلِ ملامت عمل قرار دیتا ہے۔ سَپت رِشیوں کو دیکھ کر لوہمجنگھ انہیں دھمکاتا ہے؛ رِشی کرُونا سے اسے کرم پھل کی ذمہ داری سمجھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اپنے گھر والوں سے پوچھے—کیا وہ اس کے گناہ میں حصہ لینے کو تیار ہیں؟ وہ باپ، ماں اور بیوی سے پوچھتا ہے تو سب کہتے ہیں کہ کرم کا پھل ہر شخص خود ہی بھگتتا ہے، کوئی دوسرا اسے بانٹ نہیں سکتا۔ اس سے اس کے دل میں ندامت پیدا ہوتی ہے اور وہ اُپدیش مانگتا ہے۔ پُلَہ رِشی اسے ‘جات گھوٹیتی’ کا سادہ منتر دیتے ہیں؛ وہ مسلسل جپ کرتے ہوئے گہری سمادھی میں ڈوب جاتا ہے اور اس کا جسم وَلْمیک (چیونٹیوں کے ٹیلے) سے ڈھک جاتا ہے۔ بعد میں رِشی واپس آ کر اس کی روحانی حالت کو پہچانتے ہیں؛ وَلْمیک سے نسبت کے سبب اس کا نام ‘والمیکی’ پڑتا ہے اور وہ جگہ مُکھرا تیرتھ کے نام سے مشہور ہو جاتی ہے۔ آخر میں پھل شروتی ہے—شراون کے مہینے میں عقیدت سے وہاں اسنان کرنے سے چوری سے پیدا گناہ دھل جاتے ہیں؛ وہاں مقیم سِدھ پُرش کی بھکتی سے شاعرانہ صلاحیت بڑھتی ہے، خصوصاً اشٹمی تِتھی کو۔

89 verses

Adhyaya 125

Adhyaya 125

सत्यसन्धनृपतिवृत्तान्तवर्णनम् — The Account of King Satyasaṃdha (and the Karṇotpalā/Gartā Tīrtha Frame)

سوت کرنوتپلا تیرتھ کا تعارف ایک مشہور مقدّس مقام کے طور پر کراتا ہے، جہاں اشنان کرنے سے انسانی زندگی میں ‘ویوگ’ (جدائی) کا خوف دور ہوتا ہے۔ پھر قصہ اِکشواکو وَنش کے راجا ستیہ سندھ اور اُس کی غیر معمولی اوصاف والی بیٹی کرنوتپلا کی طرف مڑتا ہے۔ مناسب انسانی ور نہ ملنے پر راجا برہما سے مشورہ لینے برہملوک جاتا ہے؛ وہاں برہما کے سندھیا-کال تک انتظار کے بعد اسے اصولی و دھارمک جواب ملتا ہے کہ بے حد طویل کائناتی زمانہ گزر چکا ہے، اس لیے اب بیٹی کا بیاہ نہیں کرنا چاہیے، اور دیوتا انسانی عورت کو زوجہ کے طور پر قبول نہیں کرتے۔ واپسی پر راجا اور بیٹی کو زمانے کی بے ترتیبی کا تجربہ ہوتا ہے—بڑھاپا آ جاتا ہے اور لوگ انہیں پہچان نہیں پاتے؛ یوں پورانک زمانہ پیمائی اور دنیاوی مرتبے کی ناپائیداری ظاہر ہوتی ہے۔ وہ گرتا تیرتھ/پرابتھی پور کے آس پاس پہنچتے ہیں، جہاں مقامی روایت اور بعد کے راجا برہدبل کے ذریعے نسب کی شناخت ہو جاتی ہے۔ ستیہ سندھ برہمنوں کو بلند بستی/زمین دان کرنے کا ارادہ کرتا ہے تاکہ دھرم کیرتی قائم رہے؛ پھر ہاٹکیشور-کشیتر میں ورشبھ ناتھ سے منسوب پہلے سے قائم لِنگ کی پوجا کر کے تپسیا کرتا ہے، اور کرنوتپلا بھی تپسیا کر کے گوری بھکتی کو مستحکم کرتی ہے۔ باب کے آخر میں دان کی گئی بستی سے روزگار کی فکر اور راجا کی ترکِ دنیا والی حد بندی بیان ہو کر دان، سرپرستی اور تپسیا کے اخلاقی اصول واضح ہوتے ہیں۔

92 verses

Adhyaya 126

Adhyaya 126

मर्यादास्थापनम्, गर्तातीर्थद्विज-नियुक्तिः, तथा कार्तिक-लिङ्गयात्रा (Establishment of Communal Boundaries, Appointment of Gartātīrtha Brahmins, and the Kārttika Liṅga Procession)

سوت بیان کرتا ہے کہ چمتکارپور سے وابستہ برہمن ایک ایسے راجا کے پاس آتے ہیں جس نے جنگی قوت ترک کر دی ہے اور شک و نزاع کے بیچ شکست کے دہانے پر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ غرور اور غلط مرتبہ و حق کے دعووں سے سماجی نظم بگڑ گیا ہے؛ اس لیے ان کی موروثی روزی کے عطیے (وِرِتّی) کی حفاظت اور مستحکم مَریادا/حدود کی بحالی ضروری ہے۔ راجا غور کر کے گرتاتیرتھ سے تعلق رکھنے والے، عالم اور نسبی ربط والے برہمنوں کو مقرر کرتا ہے کہ وہ باانضباط منتظم اور ثالث/حَکَم بن کر مَریادا قائم رکھیں، شکوک دور کریں، جھگڑے نمٹائیں اور شاہی امور میں فیصلے دیں؛ نیز برادری کی ترقی کے لیے حسد سے پاک سرپرستی بھی دی جائے۔ اس سے شہر میں دھرم بڑھانے والی حدود قائم ہوتی ہیں اور خوشحالی بڑھتی ہے۔ پھر راجا تپسیا کے ذریعے سَورگ آروہن کی خبر دیتا ہے اور اپنے خاندان سے وابستہ ایک لِنگ ظاہر کر کے اس کی پوجا، خصوصاً رتھ یاترا، برہمنوں سے کرانے کی درخواست کرتا ہے۔ برہمن اسے قبول کر کے بتاتے ہیں کہ یہ پہلے پوجے گئے 27 لِنگوں کے بعد 28واں لِنگ ہے، اور ہر سال کارتک کے مہینے میں نَیویدیہ، بَلی، ساز و سرود اور پوجا کے سامان کے ساتھ باقاعدہ آچرن ہونا چاہیے۔ پھل شروتی میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ عقیدت سے کارتک بھر اشنان/ابھیشیک کر کے پوجا کریں، یا ایک سال تک سوم کے دن (سوموار) درست طریقے سے پوجن کریں، وہ موکش پاتے ہیں۔

34 verses

Adhyaya 127

Adhyaya 127

कर्णोत्पलातीर्थमाहात्म्यवर्णनम् (Glorification of Karnotpalā Tīrtha)

رِشیوں نے پہلے مذکور کرنوتپلا کا پورا حال پوچھا۔ سوت جی بیان کرتے ہیں کہ گوری کے قدموں سے منسوب مقام پر تپسیا کرنے والی اس عورت کی بھکتی سے خوش ہو کر دیوی گریجا نے درشن دیا اور ور مانگنے کو کہا۔ کرنوتپلا نے اپنی مصیبت سنائی—اس کے والد شاہی دولت و اقبال سے گر کر غم میں اور ویراغیہ میں زندگی گزار رہے ہیں، اور وہ خود بڑھاپے کو پہنچ کر بھی غیر شادی شدہ ہے۔ اس نے نہایت خوبصورت شوہر اور دوبارہ جوانی کی دعا کی تاکہ باپ کو بھی خوشی واپس ملے۔ دیوی نے ٹھیک رسم بتائی—ماگھ مہینے کی تِرتیا، ہفتہ کے دن، واسودیو سے وابستہ نکشتر میں مقدس پانی میں اسنان کرتے ہوئے حسن و شباب کا دھیان کرنا؛ اس دن جو بھی عورت اسنان کرے اسے بھی ایسا ہی حسن ملتا ہے۔ مقررہ وقت پر کرنوتپلا آدھی رات کو پانی میں اتری اور دیویہ بدن اور جوانی کے ساتھ باہر نکلی؛ سب لوگ حیران رہ گئے۔ گوری کی ترغیب سے کام دیو (منوبھو) اسے بیوی کے طور پر مانگنے آیا اور بتایا کہ محبت کے ساتھ آنے کی وجہ سے اس کا نام “پریتی” ہوگا۔ کرنوتپلا نے کہا کہ پہلے میرے والد سے باقاعدہ طور پر درخواست کریں۔ وہ پہلے والد کے پاس جا کر بتاتی ہے کہ تپسیا اور گوری کی کرپا سے اسے جوانی لوٹ آئی ہے اور شادی کی اجازت مانگتی ہے۔ پھر کام دیو نے درخواست کی؛ والد نے آگ کو گواہ بنا کر برہمنوں کی موجودگی میں کنیا دان کیا۔ وہ “پریتی” کے نام سے مشہور ہوئی اور تیرتھ بھی اسی نام سے معروف ہوا۔ پھل شروتی میں ہے کہ ماگھ بھر اسنان کرنے سے پریاگ کا پھل ملتا ہے؛ انسان خوبرو اور باصلاحیت ہوتا ہے اور رشتہ داروں کی جدائی کے دکھ سے محفوظ رہتا ہے۔

34 verses

Adhyaya 128

Adhyaya 128

Aṭeśvarotpatti-māhātmya (Origin and Glory of Aṭeśvara) | अटेश्वरोत्पत्तिमाहात्म्य

اس باب میں باہم مربوط دو واقعات بیان ہوتے ہیں۔ پہلے، ستیہ سندھ لِنگ کے جنوبی حصے کے پاس یوگ آسن اختیار کر کے پرانوں کا سنہار کرتا ہے۔ برہمن آخری رسومات کی تیاری کو آتے ہیں مگر جسم اچانک غائب ہو جاتا ہے؛ سب حیران ہو کر لِنگ کی پوجا کے ضابطوں اور نِیموں کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔ اس دھام کو بھکتوں کے لیے نِتّیہ ور دینے والا اور پاپ-مل دور کرنے والا کہا گیا ہے۔ پھر نسل کمزور ہونے کے باعث راجا کے بغیر حالت میں “متسیہ نیائے” جیسی بدامنی کا اندیشہ وزیروں اور برہمنوں کی طرف سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ ستیہ سندھ دوبارہ راج دھرم میں لوٹنے سے انکار کرتا ہے اور سابقہ مثال پر مبنی وِدھی بتاتا ہے—پرشورام کے کشتریوں کے وِناش کے بعد کشتری پتنیوں نے اولاد کے لیے برہمنوں کا سہارا لیا اور ‘کشیترج’ راجا پیدا ہوئے۔ اسی ضمن میں وشیِشٹھ کنڈ نامی پُتر پرد تیرتھ کا ذکر آتا ہے جہاں مقررہ وقت پر اسنان سے حمل ٹھہرتا ہے۔ آخر میں مشہور راجا اَٹ (اَٹون) کی پیدائش ہوتی ہے؛ راج مارگ پر گमन کے وقت دیویہ آکاش وانی سے اس کے نام کی وجہ بیان ہوتی ہے۔ اَٹ اَٹیشور لِنگ کی پرتِشٹھا کرتا ہے؛ ماگھ چتُردشی کی پوجا اور پُتر پرد کنڈ میں اسنان کو اولاد اور کلیان کے لیے مؤثر بتایا گیا ہے۔

56 verses

Adhyaya 129

Adhyaya 129

याज्ञवल्क्यसमुद्रव-आश्रममाहात्म्य (The Māhātmya of Yājñavalkya’s Sacred Water-Site and Āśrama)

سوت یاج्ञولکیہ سے وابستہ ایک مشہور آشرم اور مقدس آبی تیرتھ کا ماہاتمیہ بیان کرتا ہے، جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ کم علم کو بھی حصولِ کمال عطا کرتا ہے۔ رِشی پوچھتے ہیں کہ یاج्ञولکیہ کے پہلے گرو کون تھے اور کن حالات میں وید چھن گئے اور پھر کیسے واپس ملے۔ سوت شاکلیہ نامی ایک عالم برہمن آچاریہ اور راج پُروہت کا ذکر کرکے دربار کا واقعہ سناتا ہے، جہاں راجا کی شانتی-کرم کے لیے یاج्ञولکیہ کو بھیجا جاتا ہے۔ راجا انہیں ناموزوں حالت میں دیکھ کر آشیرواد لینے سے انکار کرتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ سنسکرت جل لکڑی کے ستون پر پھینکا جائے۔ یاج्ञولکیہ ویدک منتر کے ساتھ جل کا چھڑکاؤ کرتے ہیں تو فوراً ستون پر پتے، پھول اور پھل نمودار ہو جاتے ہیں—منتر شکتی کا ظہور اور راجا کی رسم و طریقہ سے ناواقفیت آشکار۔ راجا ابھیشیک چاہتا ہے، مگر یاج्ञولکیہ کہتے ہیں کہ منتر کا اثر درست ہوم اور مقررہ ودھی کے ساتھ ہی بندھا ہے، اس لیے وہ ابھیشیک نہیں کریں گے۔ شاکلیہ دوبارہ راجا کے پاس جانے پر اصرار کرتا ہے تو یاج्ञولکیہ دھرم-نِیائے بتاتے ہیں کہ مغرور اور فرض سے بھٹکا ہوا گرو ترک کیا جا سکتا ہے۔ غضبناک شاکلیہ اتھروَن منتر اور پانی کے ذریعے سکھائی ہوئی ودیا کی علامتی دستبرداری کراتا ہے؛ یاج्ञولکیہ آزادی کا اعلان کرکے حاصل شدہ علم کا اخراج کرتے ہیں۔ پھر سدھی-کشیتر کی تلاش میں انہیں ہاٹکیشور-کشیتر کی طرف رہنمائی ملتی ہے، جہاں پھل باطنی بھاؤ کے مطابق ہوتا ہے؛ وہاں وہ تپسیا اور سورج-اوپاسنا کرتے ہیں۔ بھاسکر پرسن ہو کر ور دیتا ہے: ایک کنڈ میں سرسوتی سمان منتر قائم کیے جاتے ہیں؛ اسنان اور جپ سے وید-ودیا فوراً محفوظ ہو جاتی ہے اور تتوارَتھ کرپا سے روشن ہوتا ہے۔ یاج्ञولکیہ انسانی گرو کے بندھن سے مکتی مانگتے ہیں؛ سورج لَغِما سدھی عطا کرکے ‘واجیکرن’ کے دیویہ اشو-روپ کے ذریعے براہِ راست ویدک شِکشا لینے کی ہدایت دیتا ہے۔ آخر میں پھل شروتی ہے کہ اس تیرتھ میں اسنان، سورج درشن اور مقررہ ‘نادبندو’ جپ موکش کی سمت لے جانے والی پرابتّی دیتا ہے۔

73 verses

Adhyaya 130

Adhyaya 130

Kātyāyanī–Śāṇḍilī Upadeśa and the Hāṭakeśvara-kṣetra Tṛtīyā Vrata (कात्यायनी-शाण्डिली-उपदेशः)

اس باب میں رِشی سوتا سے یاج्ञولکْی کے خاندانی پس منظر کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ سوتا اُن کی دو بیویوں—مَیتریئی اور کاتْیاینی—کے نام بتاتا ہے اور اُن سے وابستہ دو تیرتھ/کنڈوں کا ذکر کرتا ہے، جن میں اشنان کو مبارک اور نیک پھل دینے والا کہا گیا ہے۔ پھر مَیتریئی سے یاج्ञولکْی کی وابستگی دیکھ کر کاتْیاینی کو سَپتْنی-دُکھ (سوتن کے سبب رنج) لاحق ہوتا ہے؛ وہ اشنان، کھانے اور ہنسی سے کنارہ کش ہو کر غم میں ڈوب جاتی ہے۔ علاج کی تلاش میں وہ ازدواجی ہم آہنگی کی مثال شاندِلی کے پاس جا کر رازدارانہ اُپدیش مانگتی ہے تاکہ شوہر کی محبت اور احترام حاصل ہو۔ شاندِلی کُروکشیتر میں اپنے پس منظر کے ساتھ نارَد کے بتائے ورت کا بیان کرتی ہے—ہاٹکیشور-کْشیتر میں گوری سے متعلق پنچ پِنڈ پوجا ایک سال تک ثابت قدم شردھا سے کی جائے، خاص طور پر تِرتِیا تِتھی کو۔ باب میں دیوی-دیوتا کے مکالمے کے ذریعے شِو کے سر پر گنگا دھارن کرنے کی کائناتی و اخلاقی علت بھی سمجھائی گئی ہے—بارش، کھیتی، یَجْیہ اور جگت کے توازن کی بقا اسی سے وابستہ ہے۔

63 verses

Adhyaya 131

Adhyaya 131

Īśānotpatti–Pañcapīṇḍikā-Gaurī Māhātmya and Vararuci-sthāpita Gaṇapati Māhātmya (ईशानोत्पत्तिपंचपिंडिकागौरीमाहात्म्य–वररुचिस्थापितगणपतिमाहात्म्य)

اس باب میں سندھیا (شفق) کی عبادت کی الٰہی حکمت اور ایک مقامی ورت (نذر) کی روایت کو یکجا کیا گیا ہے۔ شیو بتاتے ہیں کہ غروب و طلوع کے وقت کچھ مخالف ہستیاں سورج کو روکنے کی کوشش کرتی ہیں؛ ساوتری منتر کے ساتھ ارغیہ کے طور پر چڑھایا گیا جل آسمانی ہتھیار کی طرح انہیں دور کر دیتا ہے، یوں سندھیا-جلدان کی دینی و اخلاقی بنیاد واضح ہوتی ہے۔ پھر ‘سندھیا’ کو دیوی کی صورت مان کر شیو کے احترام کو دیکھ کر پاروتی رنجیدہ ہو کر ورت کا سنکلپ کرتی ہیں؛ شیو کے لطیف منتر-گیان اور ایشان رُخ پوجا سے آخرکار صلح اور ہم آہنگی قائم ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد گوری کے پنچ پِنڈمَی (پانچ پِنڈوں) والے روپ کی باقاعدہ بھکتی کا طریقہ بتایا جاتا ہے—خصوصاً تِرتیا تِتھی کو، ایک سال تک۔ اس سے ازدواجی سکون، مطلوبہ ور، اولاد کی نعمت ملتی ہے؛ اور اگر نِشکام بھاؤ سے کیا جائے تو اعلیٰ روحانی مرتبہ حاصل ہوتا ہے۔ نارَد–شاندِلیہ–سوت کی روایت کے ذریعے قصہ آگے بڑھتا ہے؛ کاتْیاینی سال بھر کے ورت سے یاج्ञولکیہ کو پتی پاتی ہیں اور ایک باکمال بیٹے کو جنم دیتی ہیں۔ آخر میں وررُچی کے قائم کردہ گنپتی کا ماہاتمیہ آتا ہے—ان کی پوجا تعلیم، مطالعہ اور ویدک مہارت میں اضافہ کرتی ہے۔

53 verses

Adhyaya 132

Adhyaya 132

वास्तुपदोत्पत्तिमाहात्म्यवर्णनम् (Vāstupada-Utpatti Māhātmya: The Glory of the Origin of Vāstupada)

یہ باب سوال و جواب کی صورت میں ایک دینی و اعتقادی بیان ہے۔ رِشی سوت سے پوچھتے ہیں کہ کاتیایَن سے وابستہ تیرتھ پہلے کیوں بیان نہیں ہوا اور اس مہاتما نے کون سی مقدس بنیاد قائم کی۔ سوت بتاتے ہیں کہ کاتیایَن نے ‘واستوپد’ نامی تیرتھ قائم کیا جو ہر مراد دینے والا ہے، اور وہاں دیوتاؤں کے ایک مقررہ مجموعے (تینتالیس اور مزید پانچ) کی پوجا کا طریقہ بیان ہوا ہے۔ پھر سببِ پیدائش کی کہانی آتی ہے: زمین سے ایک ہولناک مخلوق نمودار ہوتی ہے جو شکرाचार्य کی تعلیم سے حاصل شدہ دَیتی منتر-شکتی کے باعث ناقابلِ قتل بن جاتی ہے۔ دیوتا اسے ضرب نہیں لگا پاتے اور خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔ تب وِشنو ایک عہد و ضابطے کے بندھن سے اسے قابو میں کرتے ہیں: اس کے جسم پر جہاں جہاں دیوتا مقرر ہیں وہاں پوجا کرنے سے وہ راضی ہوتا ہے، اور پوجا کی غفلت سے انسانوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ جب وہ پرسکون ہوتا ہے تو برہما اس کا نام ‘واستو’ رکھتے ہیں اور وِشنو وِشوکرمہ کو پوجا-ودھی کو مرتب کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ یاج्ञولکیہ کے بیٹے نے ہاٹکیشور-کشیتر میں اسی ضابطے کے مطابق آشرم-ستھان قائم کرنے کے لیے وِشوکرمہ سے درخواست کی۔ وِشوکرمہ ہدایت کے مطابق واستو-پوجا کر کے جگہ کی پرتِشٹھا کرتے ہیں، اور کاتیایَن لوک-ہِت کے لیے ان رسوم کو پھیلاتے ہیں۔ آخر میں بتایا گیا ہے کہ اس کشیتر کے لمس سے گناہ دور ہوتے ہیں اور گھر/تعمیر کے عیوب (گِرہ-دوش، شِلپ-دوش، کُپد، کُواستو) مٹتے ہیں؛ ویشاکھ شُکل ترتیہ، روہِنی نکشتر میں درست پوجا سے خوشحالی اور اقتدار/راجیہ کا پھل ملتا ہے۔

40 verses

Adhyaya 133

Adhyaya 133

अजागृहोत्पत्तिमाहात्म्यवर्णनम् | Ajāgṛhā: Origin Narrative and Site-Glory

باب 133 ہاٹکیشور-کشیتر میں ‘اجاگِرہا’ کے ظہور اور اس کے مقام کی عظمت بیان کرتا ہے۔ سوت جی اہلِ علم کو سناتے ہیں کہ اجاگِرہا نامی دیوتا/دیوی دکھوں اور بیماریوں کے زوال کے لیے مشہور ہیں۔ ایک برہمن یاتری تھکن سے بکریوں کے ریوڑ کے پاس آرام کرتا ہے؛ پھر بیدار ہو کر تین امراض—راج یَکشما، کُشٹھ اور پامَا—میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اسی وقت ایک نورانی شخصیت ظاہر ہو کر خود کو راجا اَج (اجپال) بتاتی ہے اور سمجھاتی ہے کہ وہ بکری کی صورت میں علامتی طور پر ظاہر ہونے والے کَلیشوں کو قابو میں رکھ کر لوگوں کی حفاظت کرتا ہے۔ امراض کہتے ہیں کہ ان میں سے دو برہما کے شاپ (لعنت) سے بندھے ہیں، اس لیے عام منتر اور دوا سے آسانی سے نہیں جاتے؛ تیسرا منتر اور علاج سے دب سکتا ہے۔ وہ یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ اس مقام کی زمین کا لمس بھی اسی طرح کی تکلیف منتقل کر سکتا ہے۔ تب راجا طویل ہوم اور بھکتی کے کرم انجام دیتا ہے—اتھرو وید کے جپ، کھیترپال اور واستو کی ستوتیوں سمیت—جس سے زمین سے کھیتر دیوتا پرकट ہوتے ہیں۔ دیوتا جگہ کو روگ-دوش سے پاک قرار دے کر علاج کا क्रम بتاتے ہیں: دیوتا کی پوجا، چندرکوپیکا اور سوبھاگیہ کوپیکا میں اسنان، کھنڈشیلا کا درشن/قرب، اور اتوار کے دن اپسراساؤں کے کنڈ میں اسنان کر کے پامَا کو شانت کرنا۔ برہمن اس विधि پر چل کر بتدریج شفا پاتا ہے اور تندرست ہو کر روانہ ہوتا ہے؛ آخر میں تاکید کی جاتی ہے کہ نظم و ضبط اور عقیدت سے وہاں پوجا کرنے والوں پر اجاگِرہا کی کرپا ہمیشہ کارگر رہتی ہے۔

65 verses

Adhyaya 134

Adhyaya 134

खण्डशिलासौभाग्यकूपिकोत्पत्तिमाहात्म्यवर्णनम् | Origin-Glory of Khaṇḍaśilā and the Saubhāgya-Kūpikā

باب 134 شری ہاٹکیشور-کشیتر/کامیشورپور کے مقدّس پس منظر میں سوتا–رِشی مکالمے کی صورت میں بیان ہوتا ہے۔ رِشی کام دیو کے کوڑھ (کُشٹھ) کی علت اور دو مقامی مقدّس نشانیوں—شیلاکھنڈا/کھنڈشیلا دیوی اور سَوبھاگیہ-کوپِکا (مبارک کنواں)—کی پیدائش کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ سوتا ہریت نامی برہمن تپسوی کی کہانی سناتا ہے: اس کی نہایت پتिवرتا بیوی کام کے بانوں سے ایک لمحے کے لیے نیت/خیال میں لغزش کا شکار ہوئی؛ یہ جان کر ہریت نے دھرم-نیائے کے مطابق شاپ دیا—کام دیو کو کوڑھ اور سماجی نفرت لاحق ہوئی، اور بیوی پتھر کی صورت بن گئی۔ اس کے بعد گناہ کی تین قسمیں (ذہنی، گفتاری، جسمانی) بیان کر کے بتایا جاتا ہے کہ اصل جڑ من ہی ہے۔ کام دیو کی کمزوری سے نسل بڑھنے کا سلسلہ متاثر ہوا تو دیوتاؤں نے تدارک چاہا۔ کھنڈشیلا کی پوجا، اسنان اور متعلقہ آبی مقام پر سپرش وغیرہ کے آچار بتائے گئے، جس سے وہ تیرتھ جلدی امراض کے ازالے اور سَوبھاگیہ عطا کرنے کے لیے مشہور ہوا۔ آخر میں تریودشی کے دن کھنڈشیلا اور کامیشور کی ورت-مانند پوجا کا ودھان ہے، جس کا پھل بدنامی سے حفاظت، حسن/بخت کی بحالی اور گھریلو خیریت بتایا گیا ہے۔

80 verses

Adhyaya 135

Adhyaya 135

दीर्घिकातीर्थमाहात्म्य — The Glory of Dīrghikā Tīrtha and the Pativratā Narrative

Sūta describes a celebrated lake named Dīrghikā, renowned as a destroyer of sins. Bathing there at sunrise on the fourteenth lunar day (caturdaśī) of the bright fortnight of Jyeṣṭha is presented as especially efficacious for release from sins. The chapter then narrates an exemplum: a learned brāhmaṇa, Vīraśarman, has a daughter marked by unusual bodily proportions, leading to social rejection due to a stated social-ritual fear regarding marriage. She adopts severe austerities and regularly attends Indra’s assembly, where a purity-related sprinkling of her seat prompts her inquiry; Indra explains a perceived impurity due to remaining unmarried despite reaching maturity and advises marriage to restore ritual acceptability. She publicly seeks a husband; a brāhmaṇa afflicted with leprosy agrees to marry her on the condition of lifelong obedience. After marriage, he requests bathing in sixty-eight tīrthas; she constructs a portable hut and carries him on her head across pilgrimage sites, and his body gradually regains radiance. Exhausted at night near the Hāṭakeśvara region, she accidentally disturbs the impaled sage Māṇḍavya, who curses that her husband will die at sunrise; she counters with a truth-act (satya) that the sun will not rise if her husband must die. The sun’s rise is halted, producing social and cosmic disruption: criminals and libertines rejoice, while ritualists and devas suffer due to suspended yajña and dharmic routines. Devas petition Sūrya, who cites fear of the pativratā’s power; they negotiate with the woman, offering compensations. She permits sunrise; her husband dies upon sun-contact but is revived by the devas and restored to youthful form, and she too is transformed into an idealized youthful figure. Māṇḍavya is released from suffering, and the episode concludes as a demonstration of tīrtha merit, satya potency, and the theological valuation of pativratā-dharma within a sacred-geographic frame.

95 verses

Adhyaya 136

Adhyaya 136

दीर्घिकोत्पत्तिमाहात्म्यवर्णनम् (The Māhātmya of the Origin of Dīrghikā)

اس باب میں کرم کے پھل اور عدلِ متناسب کی دینی و قضائی گفتگو بیان ہوتی ہے۔ ماندویہ رشی طویل عرصہ تک موت کے بغیر سخت اذیت میں مبتلا رہ کر دھرم راج سے اپنے دکھ کی ٹھیک وجہ پوچھتے ہیں۔ دھرم راج بتاتے ہیں کہ پچھلے جنم میں بچپن کے زمانے میں ماندویہ نے ایک بَک (پرندہ) کو تیز شُول پر چبھو دیا تھا؛ اسی چھوٹے سے عمل کا پھل آج یہ درد بنا۔ ماندویہ سزا کو غیر متناسب سمجھ کر دھرم راج کو شاپ دیتے ہیں کہ وہ شودر یونی میں جنم لے کر سماجی رنج اٹھائیں گے؛ مگر شاپ محدود ہے—اس جنم میں اولاد نہ ہوگی اور پھر وہ اپنا منصب دوبارہ پا لیں گے۔ ساتھ ہی تدارک بتایا جاتا ہے کہ اسی کھیت/کشیتر میں تریلوچن شِو کی پوجا سے دھرم راج کو جلد رہائی کی صورت میں موت نصیب ہوگی۔ دیوتا مزید ور مانگتے ہیں تو شُولِکا پاکیزہ “اسپَرش” کی چیز بن جاتی ہے—صبح اسے چھونے سے پاپ دور ہوتے ہیں۔ ایک پتی ورتا استری درخواست کرتی ہے کہ کھودی ہوئی تالاب/کھائی تینوں لوکوں میں ‘دیرگھِکا’ کے نام سے مشہور ہو؛ دیوتا ور دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ صبح وہاں اسنان کرنے سے فوراً گناہ مٹتے ہیں۔ آخر میں زمانی تخصیص آتی ہے—جب سورج کنیا راشی میں ہو تو پنچمی کے دن دیرگھکا میں اسنان کرنے سے بانجھ پن دور ہو کر اولاد نصیب ہوتی ہے۔ پھر وہ پتی ورتا اپنے تیرتھ کی بھکتی کرتی ہے، اور پھل شروتی میں کہا گیا ہے کہ دیرگھکا کی کتھا سننے سے بھی پاپوں سے نجات ملتی ہے۔

31 verses

Adhyaya 137

Adhyaya 137

माण्डव्य-मुनिशूलारोपण-प्रसङ्गः (Mandavya Muni and the Episode of Impalement)

رِشیوں نے پوچھا کہ عظیم تپسوی ماندویہ مُنی کو کن حالات میں شُولا (کھونٹے پر چڑھا کر) سزا دی گئی۔ سوت نے بیان کیا کہ ماندویہ مُنی تیرتھ یاترا میں مشغول تھے؛ گہری شردھا کے ساتھ اس مقدس خطّے میں آئے اور وشوامتر کی پرمپرا سے وابستہ ایک نہایت پاکیزہ تیرتھ پر پہنچے۔ وہاں انہوں نے پِتروں کے لیے ترپن کیا اور سورج ورت اختیار کر کے ‘وِبھراٹ’ کے تکراری فقرے والا بھاسکر-پریہ ستوتر جپتے رہے۔ اسی دوران ایک چور لوپتر (گٹھڑی) چرا کر لوگوں کے تعاقب میں بھاگا۔ خاموشی کے ورت والے مُنی کو دیکھ کر اس نے گٹھڑی مُنی کے پاس ڈال دی اور خود ایک غار میں چھپ گیا۔ تعاقب کرنے والے آئے، مُنی کے سامنے گٹھڑی دیکھ کر چور کے بھاگنے کا راستہ پوچھا۔ ماندویہ کو چور کی جگہ معلوم تھی، مگر مَون ورت کی پابندی کے سبب انہوں نے کچھ نہ کہا۔ لوگوں نے بے سوچے سمجھے مُنی ہی کو بھیس بدلا چور سمجھ لیا اور جنگل کے علاقے میں فوراً شُولا پر چڑھا دیا۔ یہ روایت بتاتی ہے کہ پُورو کرم-وِپاک کے باعث حال میں بے گناہ ہونے پر بھی سخت نتیجہ ظاہر ہو سکتا ہے؛ نیز اخلاقی فیصلے میں تمیز، ورت کی ضبطِ نفس، اور سبب و مسبب کی پیچیدگی پر دھارمک غور و فکر پیدا کرتی ہے۔

12 verses

Adhyaya 138

Adhyaya 138

धर्मराजेश्वरोत्पत्तिवर्णनम् (Origin Account of Dharmarāja’s Manifestation as Vidura)

رِشی سوتا سے پوچھتے ہیں کہ ماندویہ مُنی کے شاپ کو زائل کرنے کے لیے دھرم راج نے کون سی تپسیا اور دھیان کیا۔ سوتا بیان کرتا ہے کہ شاپ سے رنجیدہ دھرم راج نے ایک پُنیہ کھیتر میں تپسیا کی اور کپَردِن (شیو) کے لیے مندر و محل جیسا آستانہ قائم کر کے پھول، دھوپ اور خوشبودار لیپ سے عقیدت کے ساتھ پوجا کی۔ مہادیو خوش ہو کر ور دینے کو آمادہ ہوئے۔ دھرم راج نے عرض کیا کہ اپنے سْودھرم کی پابندی کے باوجود اسے شودر یونی میں جنم کا شاپ ملا ہے؛ اس سے دکھ اور جْناتی-ناش کا خوف ہے۔ شیو نے فرمایا کہ رِشی کا کلام ٹل نہیں سکتا؛ تم شودر یونی میں جنم لو گے مگر اولاد نہ ہوگی۔ تم رشتہ داروں کی ہلاکت دیکھو گے، پھر بھی غم سے مغلوب نہ ہو گے، کیونکہ وہ تمہاری ممانعتیں نہیں مانیں گے، اس لیے غم کا بوجھ بھی ہلکا رہے گا۔ پھر تعلیم دی گئی کہ سو برس تک تم دھرم پر قائم رہ کر اپنے عزیزوں کی بھلائی کے لیے بہت سے اُپدیش دو گے، چاہے وہ بےایمان اور بدکردار ہوں۔ سو برس پورے ہونے پر تم برہما-دوار سے دےہ چھوڑ کر موکش پاؤ گے۔ آخر میں سوتا بتاتا ہے کہ یہی دھرم راج کا وِدُر کے روپ میں اوتار ہے؛ ویاس (پاراشریہ) کی تدبیر سے داسی کے گربھ سے جنم لے کر ماندویہ کے وचन کو سچ کیا۔ اس قصے کا سننا پاپ-ناشک کہا گیا ہے۔

19 verses

Adhyaya 139

Adhyaya 139

धर्मराजेश्वर-माहात्म्य (Dharmarājeśvara Māhātmya) — The Glory of Dharmarājeśvara and the Hāṭakeśvara-kṣetra Liṅga

سوت دھرمراج (یَم) کی عظمت پر مشتمل ایک مشہور پاکیزہ حکایت بیان کرتے ہیں۔ کاشیپ نسل کے عالم برہمن اُپادھیائے کے کم سن بیٹے کی موت ہو جاتی ہے؛ غم و غضب میں وہ یملوک پہنچ کر سخت شاپ دیتا ہے کہ یم ‘بے اولاد’ ہوگا، عوامی پوجا گھٹے گی، اور مبارک رسومات میں یم کا نام لینے سے رکاوٹیں پیدا ہوں گی۔ اپنے مقررہ دھرم کے مطابق کام کرنے کے باوجود یم برہما-شاپ کے خوف سے مضطرب ہو کر برہما کی پناہ لیتا ہے؛ اندر بھی کہتا ہے کہ موت مقررہ وقت پر ہی آتی ہے، اس لیے ایسا علاج ہو کہ یم کا فریضہ قائم رہے اور عوامی الزام بھی نہ لگے۔ برہما شاپ کو منسوخ نہیں کر سکتا، اس لیے ایک انتظامی-الٰہی تدبیر قائم کرتا ہے: وِیادھیاں (امراض) ظاہر کی جاتی ہیں اور انہیں مقررہ وقت پر موت کے نفاذ کا کام سونپا جاتا ہے، تاکہ ملامت یم پر نہ آئے۔ یم ہاٹکیشور-کشیتر میں ‘اُتّم لِنگ’ کی پرتِشٹھا کرتا ہے جو سَرو پاتک-ناشک ہے؛ جو بھکت صبح کے وقت عقیدت سے درشن کرے، اسے یم دوتوں سے بچایا جائے۔ پھر یم برہمن کے بیٹے کو برہمن کے روپ میں واپس لا کر صلح کراتا ہے۔ برہمن شاپ میں نرمی کرتا ہے: یم کو ایک دیوی-جنم بیٹا اور ایک انسانی-جنم بیٹا ہوگا؛ انسانی بیٹا بڑے راج یَگیوں کے ذریعے یم کا ‘اُدھّار’ کرے گا۔ پوجا جاری رہے گی مگر پہلے ویدک صیغے کے بجائے انسانی-ماخذ منتر سے۔ پھل شروتی کے مطابق مخصوص منتر سے یم پرتِما کی پوجا، خاص طور پر پنچمی کو، ایک سال تک پتر-شوک سے حفاظت کرتی ہے؛ پنچمی کا جپ اَپمرتْیو اور پتر-شوک دونوں کو دور کرتا ہے۔

62 verses

Adhyaya 140

Adhyaya 140

धर्मराजपुत्राख्यानवर्णनम् | Account of Dharmarāja’s Son (Yudhiṣṭhira) and Pilgrimage-Linked Merit

یہ باب سوال و جواب کے انداز میں بیان ہوتا ہے۔ رشی دھرمراج (یَم) سے وابستہ انسانی اوتار کے بیٹے کے بارے میں پوچھتے ہیں تو سوت بتاتے ہیں کہ وہ پانڈو کے خاندان/کھیت میں پیدا ہونے والے یُدھِشٹھِر ہیں، جو کشتریوں میں سب سے برتر اور دھرم پر قائم ہیں۔ یُدھِشٹھِر کی مثالی شاہی دینداری دکھائی جاتی ہے—انہوں نے مکمل دکشنہ کے ساتھ راجسوئے یَجْن کیا اور پانچ اشومیدھ یَجْن بھی پوری विधि سے مکمل کیے؛ یوں وہ دھارمک بادشاہت اور یَجْن کی تکمیل کی مثال بن جاتے ہیں۔ پھر ایک قدر سنجیدہ قول آتا ہے—بیٹے بہت چاہے جائیں، مگر باپ کی فرض شناسی کی تکمیل کے لیے ایک ہی بیٹا کافی ہے، اگر وہ گیا جا کر پِتْر کرم ادا کرے، یا اشومیدھ کرے، یا نیل ورِشب (نیلے رنگ کا بیل) کو آزاد/اُتسرگ کرے۔ سوت اس بیان کو دھرم بڑھانے والی تعلیم کہہ کر ختم کرتے ہیں، جہاں شاہی نمونہ اور تیرتھ سے جڑی نیکی کا تقابلی مقام واضح کیا گیا ہے۔

9 verses

Adhyaya 141

Adhyaya 141

मिष्टान्नदेश्वरमाहात्म्य (Glory of Miṣṭānneśvara, the ‘Giver of Sweet Food’)

سوت بیان کرتا ہے کہ ہاٹکیشور-کشیتر میں ‘مِشٹانّ دیشور’ نامی دیوتا موجود ہیں؛ جن کے محض درشن سے مِشٹانّ (میٹھا اور مغذّی کھانا) حاصل ہوتا ہے۔ آنرت دیس کے راجا وسوسین جواہرات، سواریوں اور لباس وغیرہ کے دان میں بہت فیّاض تھے، خاص طور پر سنکرانتی، ویتیپات اور گرہن جیسے پُنّیہ اوقات میں؛ مگر اناج/کھانے اور پانی کے دان کو معمولی سمجھ کر نظرانداز کرتے رہے۔ موت کے بعد دان کے پھل سے سُورگ پانے پر بھی وہاں شدید بھوک اور پیاس انہیں ستاتی ہے اور سُورگ انہیں عملاً نرک سا لگتا ہے؛ وہ اندر سے فریاد کرتے ہیں۔ اندر دھرم کا حساب سمجھاتے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں پائیدار تسکین کے لیے مناسب پاتر اور مناسب وقت کے ساتھ مسلسل اَنّ اور جل دان ضروری ہے؛ دوسرے دانوں کی کثرت اس کی جگہ نہیں لے سکتی۔ وسوسین کی راحت اس بات پر موقوف ہے کہ ان کا بیٹا ستیہ سین باپ کے نام پر اناج اور پانی کا دان جاری رکھے، مگر ابتدا میں وہ ایسا نہیں کرتا۔ نارَد آ کر حال جانتے ہیں اور زمین پر جا کر ستیہ سین کو نصیحت کرتے ہیں؛ وہ برہمنوں کو مِشٹانّ کھلاتا ہے اور خاص طور پر گرمی میں پانی کی تقسیم کا انتظام قائم کرتا ہے۔ پھر بارہ برس کی سخت خشک سالی اور قحط آ جاتا ہے جس سے دان میں رکاوٹ پڑتی ہے؛ خواب میں باپ اپنے نام پر اَنّ اور جل کی نذر کی درخواست کرتے ہیں۔ ستیہ سین شِو کی پوجا کر کے لِنگ کی پرتِشٹھا کرتا ہے اور ورت و نیَم کے ساتھ سادھنا کرتا ہے؛ شِو پرسن ہو کر وافر بارش اور اناج کی پیداوار کا ور دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اس لِنگ کا صبح کے وقت درشن کرنے والا امرت سا مِشٹانّ پائے گا، اور نِشکام بھکت شُولِن (شِو) کے دھام کو پہنچے گا—کلی یُگ میں بھی یہ مہاتمیہ پھل دیتا ہے۔

58 verses

Adhyaya 142

Adhyaya 142

Heramba–Gaṇeśa Prādurbhāva and the Triple Gaṇapati: Svargada, Mokṣada, and Martyadā

اس باب میں رِشی سوت سے ایک مقامی طور پر معروف “تین گُنا گنپتی” کے بارے میں پوچھتے ہیں جس کی تاثیر درجۂ بدرجۂ: سُورگ (جنت) عطا کرنا، موکش (نجات) کی سادھنا میں مدد دینا، اور مَرتیہ (فانی) زندگی کو ناموافق انجام سے بچانا بیان کی گئی ہے۔ آغاز میں گنیش جی کو وِگھن ہرتا اور ودیا، یش وغیرہ مقاصدِ حیات کے داتا کے طور پر سراہا گیا ہے۔ پھر انسانی خواہشات کی تین قسمیں—اُتّم (موکش کے طالب)، مَدھیَم (سُورگ اور لطیف لذتوں کے خواہاں)، اَدھم (حسی موضوعات میں ڈوبے ہوئے)—بتا کر یہ سوال اٹھتا ہے کہ “مَرتیہ دا” گنپتی کیوں مطلوب ہے۔ سوت ایک دیوی بحران کی روایت سناتے ہیں: تپسیا سے سِدھ انسانوں کے سُورگ میں بڑھتے ورود سے دیوتا دباؤ میں آتے ہیں اور اندر شیو کی پناہ لیتا ہے۔ پاروتی ہاتھی مُکھ، چہار بازو اور مخصوص اوصاف والا گنیش روپ بنا کر اُن لوگوں کے لیے وِگھن پیدا کرنے کی ذمہ داری دیتی ہیں جو سُورگ/موکش کے لیے کرم کانڈ میں لگے ہیں—یوں “رکاوٹ” کائناتی نظم کی نگہبانی کا کام بن جاتی ہے۔ بہت سے گن اس کے ماتحت کیے جاتے ہیں، اور دیوتا ہتھیار، اَکشَے پاتر (لازوال برتن)، سواری، نیز گیان، بدھی، شری، تیج اور پرَبھا وغیرہ کے ور عطا کرتے ہیں۔ آخر میں کھیتر میں تین پرتِشٹھاؤں کا بیان ہے: ایشان سے وابستہ موکش دا گنپتی (برہموِدیا کے سادھکوں کے لیے)، سُورگ دوار پرَد ہیرمب (سُورگ کے خواہاں کے لیے)، اور مَرتیہ دا گنپتی جو سُورگ سے گرے ہوئے کو نِیچ جنموں میں گرنے سے بچاتا ہے۔ پھل شروتی کے مطابق شُکل ماگھ چتُرتھی کی پوجا سے ایک سال تک وِگھن نہیں آتے، اور اس قصے کا سُننا بھی رکاوٹوں کو مٹا دیتا ہے۔

42 verses

Adhyaya 143

Adhyaya 143

जाबालिक्षोभण-नाम अध्यायः (Chapter on the Disturbance of Jābāli) / Jābāli’s Temptation and the Local Merit of Cītreśvara

سوت بیان کرتے ہیں کہ چِترپیٹھ کے مرکز میں قائم دیوتا شری چِترےشور ‘چِتر-سَوکھیہ’ یعنی منفرد بھلائی عطا کرنے والے ہیں۔ اُن کے درشن، پوجا اور اسنان سے ناجائز خواہشِ نفس سے وابستہ سنگین خطائیں دب جاتی ہیں؛ خصوصاً چَیتر شُکل چَتُردشی کے دن وہاں کی عبادت کو نہایت ثمرآور کہا گیا ہے۔ اسی مقام پر ایک قدیم شاپ کے سبب راجا چِترانگد، رشی جابالی اور اس واقعے سے وابستہ ایک کنیا بھی لوگوں کی نگاہ میں آنے والی عجیب اور نمایاں صورت میں موجود رہتے ہیں۔ رشی اس پس منظر کی درخواست کرتے ہیں۔ سوت قصہ سناتے ہیں—برہماچاری تپسوی جابالی نے ہاٹکیشور-کشیتر میں سخت تپسیا کی تو دیوتا گھبرا گئے۔ اندر نے اُن کے برہماچریہ کو توڑنے کے لیے رمبھا کو وسنتا کے ساتھ بھیجا؛ اُن کے آنے سے موسم کی تبدیلی جیسا دلکش ماحول بن گیا۔ رمبھا اسنان کے لیے جل میں اتری؛ اسے دیکھ کر جابالی کے اندر اضطراب اٹھا اور منتر-دھیان ٹوٹ گیا۔ رمبھا نے میٹھی باتوں سے خود کو دستیاب ظاہر کر کے بہکایا، اور جابالی ایک دن کے لیے کام-دھرم میں پڑ گئے۔ پھر ہوش میں آ کر انہوں نے شُدھی کی اور دوبارہ تپسیا میں قائم ہوئے؛ رمبھا دیولोक لوٹ گئی۔ یوں یہ ادھیائے تپسیا، آزمائش اور پرایشچت کے ساتھ تیرتھ کی عظمت اور اخلاقی احتیاط کو مضبوط کرتا ہے۔

51 verses

Adhyaya 144

Adhyaya 144

Phalavatī–Citrāṅgada Narrative and the Establishment of Citreśvara-pīṭha (फलवती–चित्राङ्गदोपाख्यानम् / चित्रेश्वरपीठनिर्णयः)

اس باب میں سوت جی پھلوتی–چترانگد کی روایت اور چترِیشور-پیٹھ کے قیام کی وجہ بیان کرتے ہیں۔ جابالی رشی سے متعلق واقعات کے بعد اپسرا رمبھا ایک بیٹی کو جنم دیتی ہے؛ وہ بچی رشی کے سپرد کی جاتی ہے اور اس کا نام ‘پھلوتی’ رکھا جاتا ہے۔ آشرم میں جوان ہونے پر گندھرو چترانگد اسے دیکھ کر خفیہ ملاپ کرتا ہے؛ اس پر جابالی غضبناک ہو کر بیٹی پر سختی کرتے ہیں اور چترانگد کو شاپ دیتے ہیں—وہ شدید بیماری میں مبتلا ہو کر حرکت اور پرواز کی قوت کھو دیتا ہے۔ پھر قصہ شَیَو-یوگنی کے ماحول میں آتا ہے۔ چَیتر شُکل چتُردشی کے دن شِو گنوں اور اُگْر یوگنیوں کے ساتھ چترِیشور-پیٹھ پر تشریف لاتے ہیں؛ یوگنیاں بَلی/نذرانہ طلب کرتی ہیں۔ چترانگد اور پھلوتی انتہائی شَرناغتی کے طور پر اپنا ‘گوشت’ نذر کرنے کو آمادہ ہوتے ہیں۔ شِو سبب پوچھ کر علاج کا راستہ عطا کرتے ہیں—وہاں شِولِنگ کی پرتِشٹھا کر کے ایک سال تک ودھی پورْوک پوجا کرو؛ بیماری بتدریج دور ہوگی اور چترانگد کا دیویہ مرتبہ واپس ملے گا۔ پھلوتی اسی پیٹھ سے وابستہ یوگنی کے طور پر قائم رہتی ہے؛ نَگن-روپ شبیہ کے طور پر وہ پوجنیہ بنتی ہے اور بھکتوں کو من چاہا پھل دیتی ہے۔ آگے جابالی اور پھلوتی کے درمیان عورت کے اخلاقی مقام پر دھارمک مناظرہ ہوتا ہے جو آخرکار صلح پر منتج ہوتا ہے۔ ہدایت دی جاتی ہے کہ پھلوتی، جابالی اور چترانگدیشور—اس تثلیث کی عبادت نِتّیہ سِدّھی بخشتی ہے؛ اور پھل شروتی میں اس کَتھا کو اِہ-پرلوک میں ‘سَروکَام داینی’ کہا گیا ہے۔

164 verses

Adhyaya 145

Adhyaya 145

अमराख्यलिङ्गप्रादुर्भावः (The Manifestation of the Amara Liṅga and the Māgha Caturdaśī Vigil)

رِشیوں نے سوت سے پوچھا کہ پچھلے واقعے میں ایک نوجوان عورت پر ضرب پڑنے کے باوجود اسے موت کیوں نہ آئی۔ سوت نے بتایا کہ امریشور کے تیرتھ میں، خصوصاً ماہِ ماغھ کی کرشن چتُردشی کو، موت کا اثر کھیتر کی حد میں پسپا ہو جاتا ہے؛ وہاں اَکال مرتیو کا خوف دور ہو جاتا ہے۔ دَیتیوں سے رقابت کے سبب دیوتا شکست کھا گئے تو پرجاپتی کی بیٹی اور کشیپ کی پتنی اَدیتی (دِتی کی ہمشیرہ) نے طویل تپسیا کی۔ تپسیا کے پھل سے زمین سے شِو لِنگ پرकट ہوا۔ پھر آکاش وانی نے ور دیے—جو یُدھ میں لِنگ کو چھوئے وہ ایک برس تک اَجے رہیں؛ اور جو انسان ماغھ کرشن چتُردشی کی رات جاگرن کریں وہ ایک سال تک روگ سے محفوظ رہیں اور اَکال موت سے بچیں؛ موت خود اس تیرتھ کے احاطے سے ہٹ جاتی ہے۔ اَدیتی نے لِنگ کی مہاتمیا دیوتاؤں کو سنائی؛ وہ बल پا کر دَیتیوں پر غالب آئے۔ دَیتی کہیں اس ورت کی نقل نہ کریں، اس لیے دیوتاؤں نے اسی تِتھی کو لِنگ کی حفاظت کا بندوبست کیا۔ محض درشن سے ہی موت کا نِوارن ہوتا ہے، اسی لیے اس کا نام ‘اَمر’ پڑا۔ آخر میں لِنگ کے نزدیک پاٹھ کی پھل شروتی، اَدیتی کے بنائے ہوئے قریب کے کُنڈ میں اسنان، اور اسنان-درشن-جاگرن—ان تینوں کو ہی اصلی انُشٹھان کہا گیا ہے۔

47 verses

Adhyaya 146

Adhyaya 146

अमरेश्वरकुण्डमाहात्म्यवर्णन — Description of the Glory of Amareśvara Kuṇḍa

اس باب میں رشی سوتا سے سوال کرتے ہیں کہ آدتیہ، وسو، رودر اور اشون—ان دیوی گروہوں کے نام ٹھیک گنتی کے ساتھ بیان کیجیے، اور اس کْشَیتر میں پوجا کے دنوں کا عملی نظام بھی بتائیے۔ سوتا جواب میں رودروں کے نام (جیسے وِرشَدھوج، شَرو، تْریَمبک وغیرہ)، آٹھ وسو (جیسے دھرو، سوم، انِل، انَل، پربھاس وغیرہ)، بارہ آدتیہ/سوریہ دیوتا (جیسے ورُن، سورْیہ، اِنْدر، اَریَمَن، دھاتا، بھگ، مِتر وغیرہ) اور دو اشون (ناسَتیہ اور دَسْر) کو دیوی طبیب کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ پھر کہا جاتا ہے کہ یہ تینتیس دیو ادھپتی دھرم کی حفاظت کے لیے اس کْشَیتر میں ہمیشہ حاضر رہتے ہیں۔ رودروں کی پوجا اشٹمی اور چتُردشی کو، وسوؤں کی پوجا دشمی کو (خصوصاً اشٹمی کو)، آدتیوں کی پوجا ششٹھی اور سپتمی کو، اور بیماری کے شمن کے لیے اشونوں کی پوجا دوادشی کو مقرر کی گئی ہے۔ اس نظم و ضبط والی بھکتی سے اپمرتْیو (بے وقت موت) سے بچاؤ، سوَرگ یا اعلیٰ گتی کی پرابتھی، اور صحت و شفا کے پھل بیان کیے گئے ہیں۔

14 verses

Adhyaya 147

Adhyaya 147

Vatikēśvara-Māhātmya and the Discourse on Śuka’s Renunciation (वटिकेश्वरमाहात्म्य–शुकवैराग्यसंवादः)

باب 147 میں سوت جی ایک مقامی شیو-مظہر ‘وٹیکیشور’ کا تعارف کراتے ہیں جو اولاد عطا کرنے والا اور گناہوں کو دور کرنے والا ہے۔ رشی ‘وٹیکا’ کی نسبت اور یہ کہ ویاس کی نسل میں کپنجَل/شُک نامی بیٹا کس طرح ملا، دریافت کرتے ہیں۔ سوت بیان کرتے ہیں کہ پُرسکون اور ہمہ دان ویاس نے دھرم کی خاطر شادی کی اور جابالی کی بیٹی وٹیکا (وٹیکا) ان کی اہلیہ بنی۔ اس کے بطن میں بچہ بارہ برس تک رہا؛ رحم میں رہتے ہوئے ہی اس نے وید و ویدانگ، اسمریتیاں، پران اور موکش شاستروں کا علم حاصل کیا، مگر ماں کو سخت تکلیف پہنچی۔ پھر ویاس اور رحم میں موجود بچے کے درمیان مکالمہ ہوتا ہے۔ بچہ پچھلے جنم کی یاد، مایا سے بیزاری اور براہِ راست مکتی کے راستے پر چلنے کا عزم ظاہر کرتا ہے اور واسودیو کو ‘پرتِبھُو’ (ضامن/گواہ) بنانے کی درخواست کرتا ہے۔ ویاس شری کرشن سے دعا کرتے ہیں؛ واسودیو ضامن بن کر ولادت کا حکم دیتے ہیں۔ بیٹا قریب قریب نوجوان صورت میں پیدا ہوتا ہے اور فوراً ہی جنگل کی طرف ترکِ دنیا کے لیے مائل ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد ویاس اور شُک کے درمیان سنسکاروں اور آشرم-ترتیب بمقابلہ فوری سنیاس پر طویل اخلاقی و فلسفیانہ بحث ہوتی ہے—وابستگی کے نقص، سماجی فرض اور دنیاوی خوشی کی بے ثباتی پر دلائل آتے ہیں۔ آخرکار شُک جنگل روانہ ہو جاتا ہے؛ ویاس اور ماں غمگین رہ جاتے ہیں، اور نسل-فرض و موکش-وَیراگیہ کے بیچ کشمکش نمایاں ہو جاتی ہے۔

66 verses

Adhyaya 148

Adhyaya 148

Vāpī-Snāna and Liṅga-Pūjā Phala: Pingalā’s Tapas and Mahādeva’s Boons

اس باب میں سوت جی ایک منظم تیرتھ-روایت بیان کرتے ہیں۔ اولادِ نرینہ کی محرومی سے رنجیدہ پِنگلا ایک رِشی (سیاق میں ویاس کا حوالہ آتا ہے) سے اجازت لے کر مہیشور کو راضی کرنے کے لیے تپسیا کی نیت سے مقررہ کشتَر میں جاتی ہے۔ وہاں وہ شنکر کی پرتِشٹھا کرتی ہے اور پاکیزہ پانی سے بھری ایک وسیع واپی (تالاب/کنواں) بنواتی ہے، جسے گناہ ناشک سْنان-تیرتھ کے طور پر قائم کیا جاتا ہے۔ تب تریپورانتک مہادیو پرگٹ ہو کر اس کی تپسیا سے خوش ہوتے ہیں اور اسے وंश بڑھانے والا، سَدگُنی بیٹا عطا کرنے کا ور دیتے ہیں۔ آگے اس مقام کی تاثیر عام کی جاتی ہے—خاص طور پر شُکل پکش کی مقررہ تِتھیوں میں جو عورتیں وہاں سْنان کر کے پرتِشٹھت لِنگ کی پوجا کریں، انہیں بہترین بیٹے ملتے ہیں؛ بدقسمتی کے مارے لوگ سْنان و پوجا سے ایک سال کے اندر سَوبھاگیہ پا لیتے ہیں۔ مردوں کے لیے یہ سْنان-پوجا خواہشات پوری کرتی ہے، اور بے خواہشوں کو موکش دیتی ہے۔ آخر میں مہادیو غائب ہو جاتے ہیں، وعدے کے مطابق کَپِنجَل نامی بیٹا پیدا ہوتا ہے، اور کیلیوَری دیوی کی سابقہ پرتِشٹھا کا مختصر ذکر ہمہ جہت کامیابی بخش کے طور پر آتا ہے۔

14 verses

Adhyaya 149

Adhyaya 149

Keliśvarī Devī-prādurbhāva and Andhaka-upākhyāna (केलीश्वरी देवीप्रादुर्भावः तथा अन्धकोपाख्यानम्)

اس باب میں رِشی سوال کرتے ہیں اور سوت جواب دیتا ہے کہ دیوی ایک ہی آدی شکتی ہے، جو لوک-ہِت اور فتنہ انگیز قوتوں کے دمن کے لیے متعدد روپوں میں پرकट ہوتی ہے۔ کات्यायنی (مہیشاسُر کے وध کے لیے)، چامُنڈا (شُمبھ-نِشُمبھ کے نाश کے لیے) اور بعد کے خطرے میں شری ماتا—ان معروف ظہوروں کے بعد کم بیان شدہ روپ ‘کیلیشوری’ کا ذکر آتا ہے۔ اندھک کے فتنہ میں، جس نے دیوتاؤں کو معزول کر دیا تھا، شِو اَتھروَن طرز کے منتر پڑھ کر پرم شکتی کو آہوان کرتا ہے۔ ستوتی میں کہا جاتا ہے کہ تمام نسوانی روپ اسی کی وِبھوتیاں ہیں۔ شِو اندھک-نِگرہ کے لیے دیوی سے مدد مانگتا ہے۔ ‘کیلی-مَی’ یعنی لیلامَی، کثیرالاشکال بھاؤ دھارن کر کے اگنی کے سیاق میں آہوان ہونے کے سبب وہ تینوں لوکوں میں ‘کیلیشوری’ کے نام سے پرسدھ ہوئی—یہ نام کی وجہ بھی بتائی جاتی ہے۔ اَشٹمی اور چَتُردَشی کو کیلیشوری کی پوجا سے من چاہا پھل ملتا ہے؛ نیز جنگ کے وقت راجا کا دوت اگر اس کا ستَو پڑھ لے تو کم لشکر کے باوجود جیت کا وعدہ کیا گیا ہے۔ آگے اندھک کی نسل اور کردار کا بیان ہے—ہِرن्यکشیپو کی لڑی سے نسبت، برہما کی تپسیا کر کے ور مانگنا، بڑھاپے/موت سے مطلق آزادی کا انکار، پھر انتقام میں دیوتاؤں سے جنگ۔ دیوی استروں کا تبادلہ، شِو کی آمد، ماتر-یوگنی شکتیوں کا ظہور، ‘مردانہ ورت’ کہہ کر عورتوں پر وار نہ کرنے کی ضد، اور آخر میں تَموستر کا استعمال—یوں جنگ کے ساتھ اخلاقی و رسمانی رنگ بھی نمایاں ہوتا ہے۔

96 verses

Adhyaya 150

Adhyaya 150

Kelīśvarī Devī: Amṛtavatī Vidyā, Devotional Authority, and Phalaśruti

اس باب میں سوت جی نہایت مربوط انداز میں عقیدتی و الٰہیاتی روایت بیان کرتے ہیں۔ دَیتیہ پُروہت شُکر ہاٹکیشور سے وابستہ سِدھی بخشنے والے کْشَیتر میں جا کر اَتھروَنی رَودْر منترَوں سے ہوم کرتا ہے اور مثلث آتش کُنڈ بناتا ہے۔ اس کرم سے خوش ہو کر دیوی کیلیشوری پرकट ہوتی ہیں، خود ہلاکت خیز نذرانوں سے منع کرتی ہیں اور گفتگو کو خیر و برکت والے ور کی طرف موڑ دیتی ہیں۔ شُکر جنگ میں مارے گئے دَیتیہوں کی دوبارہ زندگی کی درخواست کرتا ہے؛ دیوی تازہ بھکشیت اور ‘یوگنی کے منہ میں داخل’ کہے گئے دَیتیہوں سمیت سب کو زندہ کرنے کا وعدہ کرتی ہیں۔ وہ ‘اَمِرتَوَتی وِدیا’ نامی علم-شکتی عطا کرتی ہیں جس سے مردے پھر جی اٹھتے ہیں۔ شُکر یہ پیغام اَندھک کو دے کر خاص طور پر اَشٹمی اور چَتُردَشی کے دن مسلسل بھکتی و پوجا کی تاکید کرتا ہے، اور اصول واضح ہوتا ہے کہ عالم میں پھیلی ہوئی پرَا شکتی زور سے نہیں، صرف بھکتی سے حاصل ہوتی ہے۔ اَندھک اپنے سابقہ غضب پر توبہ کر کے عرض کرتا ہے کہ جو بھکت اس روپ کا دھیان کریں اور مورتی قائم کریں انہیں دل کی مراد سِدھی ملے۔ دیوی مورتی قائم کرنے والے کو موکش، اَشٹمی/چَتُردَشی کے پوجاریوں کو سوَرگ، اور محض درشن یا دھیان کرنے والوں کو راج بھوگ کا ور دیتی ہیں۔ دیوی کے اَنتردھان کے بعد شُکر مقتول دَیتیہوں کو زندہ کرتا ہے اور اَندھک دوبارہ اقتدار پاتا ہے؛ روایت میں وِیاس-ونشج کے ہاتھوں وہاں استھاپنا کا ذکر ہے۔ پھل شروتی کے مطابق—پڑھنے/سننے سے بڑی مصیبت دور ہوتی ہے؛ اَشٹمی کو سننے سے گرا ہوا راجا بھی بے رکاوٹ راج پاتا ہے؛ اور جنگ کے وقت سننا فتح بخشتا ہے۔

30 verses

Adhyaya 151

Adhyaya 151

Andhaka–Śaṅkara Saṃvāda: Śūlāgra-stuti, Gaṇatā-prāpti, and Hāṭakeśvara-Bhairava Upāsanā

اس باب میں دو حصّوں میں عقیدۂ دین کی توضیح آتی ہے۔ پہلے حصّے میں قوت بڑھ جانے سے مغرور اندھک کیلاش کی طرف قاصد بھیج کر شیو سے جبر آمیز مطالبہ کرتا ہے۔ شیو ویر بھدر، مہاکال، نندی وغیرہ بڑے گنوں کو روانہ کرتے ہیں، مگر وہ ابتدا میں پسپا ہو جاتے ہیں؛ تب شنکر خود میدانِ جنگ میں اترتے ہیں۔ جب ہتھیاروں کی لڑائی بے اثر رہتی ہے تو قریب کی کشتی نما جنگ ہوتی ہے؛ اندھک کچھ دیر شیو پر غالب آتا ہے، پھر شیو دیویہ استر-بل سے اسے قابو کر کے ترشول پر چھید کر کے شُولاگر پر قائم کر دیتے ہیں۔ شُولاگر پر رہتے ہوئے اندھک طویل ستوتی (حمد) کرتا ہے اور دشمنی چھوڑ کر نادم بھکت بن جاتا ہے۔ شیو اسے موت نہیں دیتے؛ اس کی دَیتی فطرت کو پاک کر کے اسے گن-پد عطا کرتے ہیں۔ اندھک ور مانگتا ہے کہ جو کوئی فانی، بھیرَو روپ شیو کی اسی شبیہ کو—ترشول پر چھیدے ہوئے اندھک کے پیکر سمیت—نصب کر کے پوجا کرے، اسے موکش (نجات) ملے؛ شیو اس کی منظوری دیتے ہیں۔ دوسرے حصّے میں راجا سُرَتھ کی مثال ہے۔ سلطنت سے محروم سُرَتھ وِسِشٹھ کے پاس جاتا ہے؛ وہ اسے ہاٹکیشور کھیتر کی طرف رہنمائی کرتے ہیں جو سدھی دینے والا بتایا گیا ہے۔ وہاں سُرَتھ بھیرَو روپ مہادیو کو اندھک-شُولاگر کی علامت کے ساتھ نصب کرتا ہے اور نرسِمْہ منتر کے ساتھ سرخ نذرانوں، پاکیزگی اور ضبطِ نفس کے قواعد کے ساتھ عبادت کرتا ہے۔ جپ کی گنتی پوری ہونے پر بھیرَو اسے راج واپس دیتے ہیں اور اسی طریقے پر چلنے والے دوسرے پوجاریوں کے لیے بھی کامیابی (سدھی) کا وعدہ کرتے ہیں؛ یوں اس باب میں اساطیری تبدیلی، شبیہ کی پرتیِشٹھا، منتر-سادنہ اور طہارت کے آداب ایک ہی مقام-مرکوز پروگرام میں جڑ جاتے ہیں۔

61 verses

Adhyaya 152

Adhyaya 152

चक्रपाणिमाहात्म्यवर्णनम् | Cakrapāṇi Māhātmya (Glorification of Cakrapāṇi)

اس باب میں رشی سوت سے پوچھتے ہیں کہ کون سے تیرتھ محض دیدار یا لمس سے ہی کامل اور مطلوبہ پھل دیتے ہیں۔ سوت تیرتھوں اور لِنگوں کی بے شماریت بیان کرکے مقامی مقدس منظرنامے کے خاص اعمال بتاتا ہے—شنکھ تیرتھ میں اسنان، خصوصاً ایکادشی کے دن، ہمہ گیر پُنّیہ دیتا ہے؛ ایکادش رودر کا درشن تمام مہیشوروں کے درشن کے برابر ہے؛ مقررہ تِتھی پر وٹادتیہ کا درشن سورج کے روپوں کے درشن کے مانند ہے؛ اسی طرح گوری، درگا وغیرہ دیوی اور گنیش کا درشن ان کے اپنے اپنے دیوگن کے جامع درشن کا پھل دیتا ہے۔ پھر رشی پوچھتے ہیں کہ چکرپانی کی مہاتمیا کیوں بیان نہیں ہوئی اور کب درشن کرنا چاہیے۔ سوت کہتا ہے کہ اس کشتَر میں ارجن نے چکرپانی کی پرتِشٹھا کی؛ اسنان کے بعد بھکتی سے درشن کرنے پر برہماہتیا وغیرہ مہاپاپ بھی نَشٹ ہو جاتے ہیں۔ کرشن–ارجن کو نر–نارائن کے روپ میں پہچان کر دھرم کی بحالی کے لیے اس پرتِشٹھا کا کائناتی مقصد بھی بتایا گیا ہے۔ ایک اخلاقی ہدایت بھی آتی ہے—جو شُبھ چاہے وہ کسی شخص کو بیوی کے ساتھ تنہائی میں، خصوصاً اپنے رشتہ دار کو، نہ دیکھے؛ اسے ضبطِ نفس اور سماجی آداب کا اصول کہا گیا ہے۔ آگے ارجن کا برہمن کی چوری شدہ گایوں کو واپس لا کر حفاظت کرنا، تیرتھ یاترا، ویشنو مندر کی تعمیر و پرتِشٹھا، اور چَیتر میں وشنو-واسَر کے دن ہری کے شَین اور بودھن کے اتسوؤں کی بنیاد کا ذکر ہے۔ آخر میں پھل شروتی ایکادشی کے چکر میں مسلسل پوجا کرنے والوں کے لیے وشنو لوک کی بشارت دیتی ہے۔

47 verses

Adhyaya 153

Adhyaya 153

Apsaraḥ-kuṇḍa / Rūpatīrtha Utpatti-Māhātmya (Origin and Glory of the Apsaras Pond and Rūpatīrtha)

سوت جی روپا تیرتھ کی عظمت بیان کرتے ہیں—کہ یہاں شریعت و ودھی کے مطابق اشنان کرنے سے بے صورتی بھی خوب صورتی میں بدل جاتی ہے۔ پھر اس کی پیدائش کی کتھا آتی ہے: برہما تِلوتمّا نام کی نہایت حسین اپسرا کو رچتے ہیں۔ وہ شیو کی پوجا کے لیے کیلاش آتی ہے۔ اس کی پردکشنا کے ساتھ شیو کی توجہ اس کی طرف ہوتی ہے اور اس کے گھومنے کی سمتوں کے مطابق اضافی چہرے ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ پاروتی کے من میں کھلبلی اٹھتی ہے؛ نارَد سماجی اشاروں والی سخت تعبیر کر کے اس ردِّعمل کو اور بھڑکا دیتا ہے۔ پاروتی شیو کی آنکھیں روک دیتی ہے تو لوکوں میں ہلاکت خیز عدم توازن کا اندیشہ پھیل جاتا ہے۔ سृष्टی کی حفاظت کے لیے شیو تیسری آنکھ ظاہر کرتے ہیں اور “تریمبک” (تین آنکھوں والے) کہلاتے ہیں۔ پھر پاروتی تِلوتمّا کو بدصورت/بگڑے ہوئے روپ کا شاپ دیتی ہے؛ تِلوتمّا شरण مانگتی ہے تو پاروتی اپنے قائم کیے ہوئے تیرتھ میں اشنان کا ودھان بتاتی ہے—خاص طور پر ماگھ شُکل تِرتیہ، اور بعد میں چَیتر شُکل تِرتیہ کے دوپہر اشنان سے اس کا روپ واپس آ جاتا ہے۔ تِلوتمّا پاک پانی کا وسیع اپسرا کُنڈ بناتی ہے۔ پھل شروتی میں स्तریوں کے لیے سہاگ، دلکشی اور اُتم اولاد، اور مردوں کے لیے کئی جنموں تک روپ و شری-سمردھی کا ذکر ہے۔

54 verses

Adhyaya 154

Adhyaya 154

Citreśvarīpīṭha–Hāṭakeśvarakṣetra Māhātmya (चित्रेश्वरीपीठक्षेत्रमाहात्म्यवर्णनम्)

اس باب میں سوت ہاٹکیشور-کشیتر کی رسم و ضابطے کے مطابق مقدّس جغرافیہ اور تیرتھ-ماہاتمیہ بیان کرتا ہے۔ گوری کنڈ کے قریب مخصوص کنڈوں میں اسنان اور پاروتی کے درشن کو پاکیزگی اور جنم-مرن کے دکھوں سے رہائی کا ذریعہ کہا گیا ہے۔ عورتوں کے لیے خاص فضائل مذکور ہیں—مقررہ دنوں میں اسنان سے سہاگ، ازدواجی خیریت، اولاد کی نعمت، حتیٰ کہ بانجھ پن جیسے عیوب کی دوری بھی بیان کی گئی ہے۔ رشی جب تیرتھوں کی سِدھی کے منطق و راز پوچھتے ہیں تو سوت ایک زیادہ گُوढ़ سادھنا-مارگ بتاتا ہے—لِنگوں کے مجموعے کے بیچ پوجا، خاص طور پر چتُردشی کا ورت، اور سادھک کے عزم کی آزمائش کے لیے گنیش کا ہیبت ناک روپ میں ظہور۔ اس کے مقابلے میں برہمنانہ آدرش کے مطابق ساتتوک راستہ بھی بتایا گیا ہے—اسنان، شاستر کے مطابق آچرن، سحر کے وقت تل دان وغیرہ، اور ضبطِ نفس کے ساتھ اپواس/ویراغیہ جو موکش کی طرف لے جائے۔ آخر میں پھل شروتی ہے کہ اس بیان کا سننا یا پڑھنا، ویاس/گرو کی تعظیم، اور توجہ سے قبول کرنا—وسیع پاکیزگی اور روحانی بلندی عطا کرتا ہے۔

43 verses

Adhyaya 155

Adhyaya 155

हाटकेश्वरक्षेत्रे वसवादिदेवपूजाविधानम् तथा पुष्पादित्य-माहात्म्ये मणिभद्रवृत्तान्त-प्रस्तावः (Hāṭakeśvara Kṣetra: Rites for Vasus–Ādityas–Rudras–Aśvins and the Puṣpāditya Māhātmya with the Maṇibhadra Narrative Prelude)

اس ادھیائے میں ہاٹکیشور کْشیتر کی دیویہ ترتیب اور پوجا کا تَتّو بیان ہوا ہے۔ وہاں مقیم دیوتا-گروہ—آٹھ وَسو، گیارہ رُدر، بارہ آدِتیہ اور اشوِنی جڑواں—کا ذکر کرکے تقویمی اوقات کے مطابق عبادت کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ طہارت و تیاری (اسنان، پاکیزہ لباس)، اعمال کی ترتیب (پہلے دْوِجوں کو ترپن، پھر پوجا) اور منتر سے وابستہ نَیویدیہ، دھوپ، آراتی وغیرہ نذرانوں کی ہدایت ملتی ہے۔ خصوصی ورتوں میں مدھو-ماس کی شُکل اشٹمی کو وَسو پوجا، سپتمی—بالخصوص اتوار—کو پھول، خوشبو اور لیپن کے ساتھ آدِتیہ پوجا، چَیتر شُکل چتُردشی کو شترُدریہ کے پاٹھ کے ساتھ رُدر پوجا، اور آشوِن پُورنِما کو اشوِنی سوکت سے اشوِنی دیوتاؤں کی آرادھنا بیان کی گئی ہے۔ اس کے بعد پُشپادِتیہ کا ماہاتمیہ شروع ہوتا ہے—کہا گیا ہے کہ یاج्ञولکْیہ نے اسے پرتِشٹھت کیا؛ درشن و پوجن سے یہ دیوتا من چاہا پھل دیتا، پاپوں کا نِوارن کرتا اور آخرکار موکش کی امکان بھی دکھاتا ہے۔ پھر ایک خوشحال شہر میں منی بھدر کی کہانی کا دیباچہ آتا ہے—اس کی بے پناہ دولت، کنجوسی، جسمانی زوال اور شادی کی خواہش—اور نصیحت کہ دولت کس طرح سماجی رشتوں اور عمل کی سمت کو متعین کرتی ہے۔

48 verses

Adhyaya 156

Adhyaya 156

मणिभद्रकृतपुष्पब्राह्मणविडंबनवर्णनम् (Humiliation of the Brāhmaṇa Puṣpa by Maṇibhadra)

سوت جی ایک واقعہ بیان کرتے ہیں جس میں منی بھدر، اپنی خواہش اور سماجی طاقت کے نشے میں، ایک کشتریہ خاندان کو ایک منحوس وقت (جب بھگوان مدھوسودن سو رہے ہوتے ہیں) شادی کے لیے مجبور کرتا ہے۔ دولت کے لالچ میں کشتریہ اپنی دکھی بیٹی کی شادی کر دیتا ہے۔ شادی کے بعد، منی بھدر اپنی بیوی کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے، اسے گھر میں قید کر دیتا ہے اور ایک خواجہ سرا کو پہرے دار مقرر کرتا ہے۔ وہ برہمنوں کو کھانے کی دعوت دیتا ہے لیکن ایک توہین آمیز شرط رکھتا ہے کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں گے اور اس کی بیوی کی طرف نہیں دیکھیں گے۔ پشپ نامی ایک وید پاٹھی برہمن، جو سفر سے تھکا ہوا تھا، وہاں پہنچتا ہے۔ کھانے کے دوران تجسس کی وجہ سے پشپ اپنی نظر اوپر اٹھاتا ہے اور اس کی بیوی کا چہرہ دیکھ لیتا ہے۔ غصے میں آکر منی بھدر اسے بری طرح پٹواتا ہے اور لہو لہان حالت میں چوراہے پر پھینکوا دیتا ہے۔ لوگ اس کی مدد کرتے ہیں اور منی بھدر کے مظالم پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔

51 verses

Adhyaya 157

Adhyaya 157

सूर्यसकाशात्पुष्पब्राह्मणस्य वरलब्धिवर्णनम् (The Account of Puṣpa Brāhmaṇa Receiving Boons from Sūrya)

اس باب میں سوت بیان کرتے ہیں کہ پُشپ نامی برہمن غم و غصّے میں مبتلا ہو کر یہ عہد کرتا ہے کہ اپنے سمجھے ہوئے قصور کا ازالہ کیے بغیر کھانا نہیں کھائے گا، اور ایسے دیوتا یا منتر کی تلاش کرتا ہے جو فوراً پھل دے۔ لوگ اسے چامتکارپور کے سورج مندر کا پتا دیتے ہیں، جو یاج्ञولکْی کی قائم کردہ پرستش گاہ کے طور پر مشہور ہے—اتوار کے دن سَپتمی تِتھی میں ہاتھ میں پھل لے کر 108 پردکشنا کرنے سے مطلوبہ کامیابی ملتی ہے؛ اور کشمیر کی شاردا دیوی کو بھی روزے کے ذریعے سِدھی دینے والی کہا جاتا ہے۔ پُشپ وہاں جا کر اشنان کرتا ہے، 108 پردکشنا کرتا ہے اور طویل ستوتی و پوجا میں لگتا ہے۔ پھر کُشاندِکا وغیرہ کے وِدھان کے مطابق ہوم شروع کرتا ہے—منتر نیاس، استھاپنا اور آہوتیوں کے ساتھ—اور تامسک ضد میں آ کر سِدھی کے لیے اپنا گوشت تک آہوتی کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ تب سورج دیو پرگٹ ہو کر اسے روکتے ہیں اور سفید و سیاہ دو گولیاں عطا کرتے ہیں جن سے وہ کچھ مدت کے لیے بھیس بدل کر پھر اپنے روپ میں لوٹ سکتا ہے، نیز ویدیشا کے دولت مند منی بھدر کے بارے میں علم بھی دیتے ہیں۔ پُشپ پوچھتا ہے کہ 108 پردکشنا کا فوری پھل کیوں نہ ملا؛ سورج سمجھاتے ہیں کہ تامسک بھاؤ سے کیا گیا کرم بے پھل رہتا ہے—صرف ظاہری درستگی بگڑی نیت کی تلافی نہیں کر سکتی۔ سورج اس کے زخم بھر کر غائب ہو جاتے ہیں؛ تعلیم یہ کہ کرم کے پھل کا اصل مدار ‘بھاؤ’ پر ہے۔

50 verses

Adhyaya 158

Adhyaya 158

मणिभद्रोपाख्याने मणिभद्रनिधनवर्णनम् (Maṇibhadra-Upākhyāna: Account of Maṇibhadra’s Death)

سوتا ناگر کھنڈ میں منی بھدر-اُپاکھیان بیان کرتے ہیں۔ پُشپ نامی شخص ایک عجیب گُٹِکا حاصل کر کے منی بھدر جیسی صورت اختیار کر لیتا ہے اور اسی بھیس سے شہر میں فتنہ و انتشار اور شناخت کا دھوکا پھیلاتا ہے۔ آنے والے نقلی منی بھدر کو روکنے کے لیے دربان (شَṇڈھ) کو حکم دیا جاتا ہے، مگر دروازے پر اصل منی بھدر ہی ضرب کھا جاتا ہے اور عوام میں شور و فریاد مچ جاتی ہے۔ پھر پُشپ منی بھدر کے روپ میں ظاہر ہو کر الجھن کو اور بڑھا دیتا ہے۔ معاملہ شاہی دربار تک پہنچتا ہے۔ راجا سوال و جواب سے حقیقت کی جانچ کرتا ہے اور آخرکار انسانی گواہی کے لیے منی بھدر کی بیوی کو بلاتا ہے۔ وہ اپنے شوہر کی حقیقی نشانیاں پہچان کر جائز شوہر کو الگ کرتی ہے اور بھیس بدلنے والے کو بے نقاب کر دیتی ہے۔ راجا فریب کار کو سزا دینے کا حکم دیتا ہے؛ سزا کے وقت مجرم طویل نصیحت کرتا ہے—خواہشات کے خطرات، دھوکے کے سماجی انجام، اور بخل کی سخت مذمت بیان کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ دولت کے تین انجام ہیں: خیرات، لذتِ استعمال، یا ضیاع؛ اور جو صرف جمع کرتا ہے، اس کے حصے میں بےثمر تیسرا انجام ہی آتا ہے۔ آخر میں اس واقعے کو ہاٹکیشور-کشیتر ماہاتمیہ کے ضمن میں مقدس جغرافیے سے جڑا اخلاقی نمونہ قرار دے کر باب مکمل کیا جاتا ہے۔

89 verses

Adhyaya 159

Adhyaya 159

पुष्पविभवप्राप्तिवर्णनम् (Account of Puṣpa’s Attainment and Distribution of Prosperity)

سوت بیان کرتے ہیں کہ کْشَیتر کے مندر کے ماحول میں منی بھدر کے گھر پُشپ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ خوشی سے آتا ہے؛ شنکھ اور ڈھولوں کی مبارک آوازیں گونجتی ہیں۔ قصے میں یہ بات نمایاں ہے کہ بھاسکر (سورَی دیو) کے انُگرہ سے اسے خوشحالی ملی۔ پُشپ اپنے کنبے کو جمع کر کے لکشمی کی چنچل فطرت یاد دلاتا ہے اور اپنی پچھلی طویل سختیوں پر غور کرتا ہے۔ دولت کی ناپائیداری سمجھ کر وہ ستیہ ورت کے عہد کے ساتھ وسیع دان کا ارادہ کرتا ہے۔ وہ رشتہ داروں کو مرتبے کے مطابق کپڑے اور زیورات بانٹتا ہے، وید جاننے والے برہمنوں کو عقیدت سے مال و لباس دیتا ہے، فنکاروں اور گویّوں کو بھی اناج و پوشاک عطا کرتا ہے، اور خاص طور پر غریبوں اور نابیناؤں کی خبرگیری کر کے انہیں سیر کرتا ہے۔ آخر میں وہ اپنی بیوی کے ساتھ کھانا کھا کر جمع لوگوں کو رخصت کرتا ہے اور حاصل شدہ دولت کے ساتھ منظم اور مقصدی زندگی گزارتا ہے۔ یہ باب سکھاتا ہے کہ خوشحالی کی پاکیزگی دان، خدمت اور برادری کی نگہداشت سے قائم ہوتی ہے، خصوصاً کْشَیتر سے وابستہ مقدس فضا میں۔

12 verses

Adhyaya 160

Adhyaya 160

हाटकेश्वरक्षेत्रमाहात्म्ये पुष्पस्य पापक्षालनार्थं हाटकेश्वरक्षेत्रगमन-पुरश्चरणार्थ-ब्राह्मणामन्त्रणवर्णनम् (Puṣpa’s Journey to Hāṭakeśvara for Sin-Removal and the Invitation of Brāhmaṇas for Puraścaraṇa)

اس باب میں سوت جی تیرتھ-ماہاتمیہ کے دائرے میں ایک اخلاقی تنبیہ پر مبنی حکایت بیان کرتے ہیں۔ چمتکارپور میں سورج کی اُپاسنا کے پس منظر میں برہمن پُشپ نے دلکش صورت اختیار کی تھی۔ تب ماہی نامی عورت اس سے پوچھتی ہے کہ یہ روپ بدلنا مایا سے ہے، منتر-سدھی سے یا دیوی فضل سے؟ پُشپ سچ اقرار کرتا ہے اور منی بھدر کے ساتھ کی گئی فریب کاری، اس کی بیوی کو ناحق لے لینے، اور اسی جھوٹ پر قائم گھریلو زندگی اور اولاد کی روایت کا ذکر کرتا ہے۔ عیش کے بعد بڑھاپے میں اس کے دل میں سخت ندامت جاگتی ہے۔ اپنے عظیم پاپ کو سمجھ کر وہ پاپ دھونے کے لیے ہاٹکیشور-کشیتر جانے اور پرایشچتّ کے طور پر پُرشچرن کرنے کا عزم کرتا ہے۔ وہ بیٹوں میں دولت تقسیم کرتا ہے، جہاں پہلے سدھی پائی تھی وہاں سورج سے متعلق ایک شاندار تعمیر کراتا ہے، اور شُدھی کے لیے چاتُشچرن (چار طرح کی پاٹھ-یَجْن ترتیب) انجام دینے کی خاطر برہمنوں کو باقاعدہ طور پر دعوت دیتا ہے۔ یوں ذاتی اخلاق، اعتراف اور کشیتر کی رسم و عبادت کی تنظیم ایک ہی روایت میں جڑ جاتی ہے۔

28 verses

Adhyaya 161

Adhyaya 161

Puṣpāditya-māhātmya (Glorification of Pushpāditya and allied rites)

اس باب میں سوت جی برہمنوں کی سبھا میں ہونے والی غور و فکر کی مجلس کا حال بیان کرتے ہیں۔ پُشپ اپنی اہلیہ کے ساتھ ادب و بھکتی سے دِویجوں کے پاس آ کر بھاسکر (سورج دیوتا) کے مندر کی تعمیر کی خبر دیتا ہے اور تینوں لوکوں میں شہرت کے لیے دیوتا کا نام “پُشپادِتیہ” رکھنے کی تجویز پیش کرتا ہے۔ برہمن قدیم نام و ناموری کی روایت کی حفاظت کی بات اٹھاتے ہیں اور شُدھی کے لیے پرایَشچِت کے طریقے بتاتے ہیں، جن میں “لکش” کی مقدار کا مہاہوم بھی شامل ہے۔ پُشپ درخواست کرتا ہے کہ اسی نام سے دیوتا کی مسلسل ستوتی ہو اور استھان سے وابستہ دیوی کے نام کے ذریعے اس کی اہلیہ کو بھی عزت دی جائے۔ بالآخر طے پاتا ہے کہ دیوتا “پُشپادِتیہ” کے نام سے مانا جائے اور دیوی “ماہِکا/ماہی” کے نام سے پرتِشٹھت ہو۔ پھل شروتی میں کلی یگ کے فائدے بیان ہیں: پُشپادِتیہ بھکتی سے اتوار کے گناہ کا زوال؛ اتوار کو سپتمی کے یوگ میں 108 تک پھل چڑھا کر پردکشنا کرنے سے من چاہا پھل؛ “ماہِکا” درگا کے نِتّیہ درشن سے سختیاں دور؛ اور چَیتر شُکل چتُردشی کی پوجا سے سال بھر بدقسمتی سے حفاظت۔

20 verses

Adhyaya 162

Adhyaya 162

पुरश्चरणसप्तमीव्रतविधानवर्णनम् (Puraścaraṇa-Saptamī Vrata: Procedure and Rationale)

باب 162 ایک اخلاقی و رسومی حکایت سے شروع ہو کر تفصیلی ورت-ودھی پر ختم ہوتا ہے۔ سوت بیان کرتے ہیں کہ منی بھدر کے وध سے متعلق متنازع اعمال کے سبب پُشپ پر سماجی ملامت آئی؛ برہمنوں نے اسے سختی سے ملامت کیا اور گفتگو میں اسے مہاپاتکی، بلکہ برہماگھن (برہمن-قاتل) تک قرار دیا گیا۔ اس کی پریشانی دیکھ کر ناگر برہمن شاستر، سمرتی، پران اور ویدانت کا غور کرتے ہیں کہ تطہیر کا مستند راستہ کیا ہے؛ تب چنڈشرما نامی برہمن اسکانْد پران میں مذکور ‘پُرشچرن-سپتمی’ کو کفّارہ بتاتا ہے۔ پُشپ اس ورت کو انجام دیتا ہے اور ایک سال کے آخر میں پاک قرار پاتا ہے۔ اس کے بعد قدیم تعلیمی مکالمہ آتا ہے: راجا روہتاشو رشی مارکنڈے سے پوچھتا ہے کہ ذہن، گفتار اور جسم سے کیے گئے گناہ کیسے مٹتے ہیں۔ رشی فرق بتاتے ہیں—ذہنی خطاؤں کا ازالہ ندامت سے، زبانی خطاؤں کا سدّباب ضبط/عدمِ ارتکاب سے، اور جسمانی خطاؤں کا پرایَشچت برہمنوں کے سامنے اقرار کر کے یا شاہی نظم و ضبط کے تحت ہوتا ہے۔ آخر میں وہ سورج-مرکوز ‘پُرشچرن-سپتمی’ کا حکم دیتے ہیں: ماہِ مाघ کے شُکل پکش میں، جب سورج مکر میں ہو، اتوار کے دن روزہ/اپواس، طہارت، مورتی پوجا، سرخ پھول و نذرانے، سرخ چندن ملا ارگھ، برہمن بھوجن و دکشنا، اور پنچگوَیہ وغیرہ تطہیری نوشیدنی۔ مہینوں کے حساب سے سال بھر نذرانوں کی ترتیب بیان کر کے، آخر میں چھٹا حصہ سمیت دان دینے پر کامل تطہیر کی بشارت دی گئی ہے۔

78 verses

Adhyaya 163

Adhyaya 163

ब्राह्मनागरोत्पत्तिवृत्तान्तवर्णनम् (Account of the Brahma-Nāgara origin narrative and communal expiation discourse)

باب 163 برہماستھان میں پیش آنے والے ایک سماجی-قانونی اور رسومی-اخلاقی واقعے کو بیان کرتا ہے۔ چند ناگر برہمنوں کو دولت سے بھرا ایک برتن ملتا ہے؛ وہ سبھا میں جمع ہو کر لالچ سے کی گئی ناجائز دست درازی اور پرایَشچِت (کفّارہ) کے طریقۂ کار میں ہوئی غلطی پر فیصلہ صادر کرتے ہیں۔ چونکہ اجتماعی مشورے کے بغیر ایک ہی شخص نے پرایَشچِت کرایا تھا، اس لیے چنڈشرما کو برادری سے ‘باہری’ سمجھ کر ذلیل کیا جاتا ہے۔ پُشپ دولت پیش کر کے تلافی کرنا چاہتا ہے، مگر سبھا واضح کرتی ہے کہ فیصلہ دولت کی حرص سے نہیں بلکہ سمرتی/پوران کی سند اور درست ادارہ جاتی طریقے کی پابندی سے ہے۔ ان کے مطابق پرایَشچِت اضافی آچاریہ/رتوِج کے ساتھ، مناسب مشاورت کے بعد، باقاعدہ رسم کے مطابق ہی دیا جانا چاہیے۔ غم میں پُشپ سخت خود آزاری کو نذر کے طور پر کرنے لگتا ہے؛ تب بھاسوت سورَیَ (سورج دیوتا) ظاہر ہو کر اس جلد بازی سے روکتے ہیں اور ور دیتے ہیں—چنڈشرما پاک ہو کر ‘برہما ناگر’ کے نام سے معروف ہوگا، اس کی نسل اور رفقا عزت پائیں گے، اور پُشپ کا جسم بحال ہو جائے گا۔ یوں یہ باب لالچ سے بچنے، برادری کی اتھارٹی، اور پرایَشچِت کی طریقہ جاتی صحت کو الٰہی توثیق کے ساتھ قائم کرتا ہے۔

40 verses

Adhyaya 164

Adhyaya 164

Nāgareśvara–Nāgarāditya–Śākambharī Utpatti-varṇanam (Origin and Establishment Narratives)

سوت بیان کرتے ہیں کہ پُشپ نامی بھکت نے خودسپردگی اور ایثار کے عزم سے سورج دیو کی آرادھنا کر کے رنجیدہ برہمن چنڈشرما کو تسلی دی اور رہنمائی کی۔ اس نے پیش گوئی کی کہ چنڈشرما کو جسمانی زوال نہیں ہوگا اور ناگروں میں اس کی نسل ممتاز و معروف ہوگی۔ پھر دونوں مقدس سرسوتی کے جنوبی کنارے پر جا کر آشرم جیسے مسکن میں آباد ہوئے۔ چنڈشرما نے اپنے سابقہ ورت کو یاد کر کے ستائیس لِنگوں سے متعلق سخت سادھنا شروع کی—سرسوتی میں اسنان، طہارت کے آداب، شڈاکشر منتر کا جپ، لِنگ ناموں کا اُچارَن اور ساشٹانگ پرنام۔ وہ کَردَم (مٹی) سے لِنگ بنا کر پوجا کرتا رہا اور اس دھرم پر قائم رہا کہ ناموزوں جگہ پر موجود لِنگ کو بھی نہ چھیڑا جائے؛ یوں روزانہ کرتے کرتے ستائیس لِنگ پورے ہوئے۔ اس کی بے پناہ بھکتی سے پرسن شیو نے زمین سے ایک لِنگ ظاہر کیا اور فرمایا کہ اس کی پوجا سے ستائیس لِنگوں کا پورا پھل ملتا ہے؛ جو بھی بھکتی سے پوجے وہ بھی وہی پھل پاتا ہے۔ چنڈشرما نے پرساد (مندر) بنا کر اس لِنگ کو ‘ناگریشور’ کے نام سے پرتِشٹھت کیا اور شہر کے لِنگوں کی یاد کے ساتھ اس نام کو جوڑا؛ آخرکار وہ شِولोक کو پہنچا۔ پُشپ نے سرسوتی کے کنارے ‘ناگارادِتیہ’ نامی سورج کی مورتی قائم کی اور یہ ور پایا کہ وہاں کی پوجا سے چامتکارپور کے بارہ سورج روپوں کا مکمل پھل ملتا ہے۔ چنڈشرما کی پتنی شاکمبھری نے مبارک کنارے پر درگا کی پرتِشٹھا کی؛ دیوی نے وعدہ کیا کہ بھکتی سے پوجنے والوں کو فوری پھل ملے گا، خاص طور پر آشوِن شُکل مہانومی کے دن، اور دیوی شاکمبھری کے نام سے مشہور ہوئیں۔ باب کے آخر میں کہا گیا ہے کہ خوشحالی کے بعد کی پوجا آئندہ ترقی میں رکاوٹوں کو دور کرتی ہے۔

47 verses

Adhyaya 165

Adhyaya 165

अश्वतीर्थोत्पत्तिवर्णनम् (Origin Account of Aśvatīrtha)

اس باب میں سوت بیان کرتے ہیں کہ ایک زمانے میں سرسوتی کے مبارک کنارے کو بیرونی گروہوں اور شہر والوں میں خاص سماجی اہمیت حاصل ہوئی۔ پھر ایک خلل انگیز موڑ آتا ہے: رشی وشوامتر کے شاپ سے سرسوتی رکتواہنی (خون بہانے والی) بن جاتی ہے؛ اس بدلی ہوئی ندی کے کنارے راکشس، بھوت، پریت اور پشاچ جیسے حدّی وجودوں کی آمدورفت بڑھ جاتی ہے۔ خوف کے باعث انسانی بستیاں اس علاقے کو چھوڑ کر زیادہ محفوظ مقدس جغرافیے کی طرف، خصوصاً مارکنڈے کے آشرم کے نزدیک نرمدا کے کنارے، منتقل ہو جاتی ہیں۔ رشی شاپ کی وجہ پوچھتے ہیں تو سوت اسے وشوامتر–وسِشٹھ کی رقابت اور کشتریہ سے برہمن بننے کی آرزو کے پس منظر میں رکھتے ہیں۔ پھر ایک سببِ شہرت حکایت میں بھِرگو نسل کے رشی رُچیك کاؤشِکی ندی کے پاس بھوجکٹا آتے ہیں۔ گادھی کی بیٹی کو (گوری پوجا سے وابستہ) دیکھ کر وہ برہما-ویواہ کے طور پر اس کا ہاتھ مانگتے ہیں۔ گادھی مہر کے طور پر سات سو تیز گھوڑے طلب کرتا ہے جن میں ہر ایک کا ایک کان سیاہ ہو۔ رُچیك کانیاکُبج جا کر گنگا کے کنارے ‘اشوو وودھا’ منتر کا چھند-رشی-دیوتا-وِنییوگ کے ساتھ جپ کرتے ہیں؛ تب ندی سے مطلوبہ گھوڑے ظاہر ہو جاتے ہیں۔ یوں اشوتیرتھ کی شہرت قائم ہوتی ہے؛ وہاں اسنان کو اشومیدھ یگیہ کے پھل کے برابر کہا گیا ہے، جس سے ویدی یگیہ کی عظمت تیرتھ سیوا کے ذریعے عام لوگوں کے لیے قابلِ حصول بن جاتی ہے۔

38 verses

Adhyaya 166

Adhyaya 166

परशुरामोत्पत्तिवर्णनम् / Account of the Origins of Paraśurāma’s Line

اس ادھیائے میں رِچیک اور ایک عورت جسے ‘تریلوکیہ-سندری’ کہا گیا ہے، کے نکاح کو مرکز بنا کر نسل و نسب کے قائم ہونے کا واقعہ بیان ہوتا ہے۔ شادی کے بعد رِچیک برکت/ور دیتا ہے اور ‘چرو-دویہ’ کی دو حصّوں والی رسم ادا کرتا ہے تاکہ برہمنانہ تَیَس (برہمی تَجَس) اور کشتری تَیَس (کشاتری تَجَس) میں امتیاز برقرار رہے۔ وہ ہر چرو کے ساتھ علامتی عمل بھی مقرر کرتا ہے—ایک کے لیے اشوتھّ (پیپل) کے درخت کو گلے لگانا، دوسرے کے لیے نیگروध (برگد) کو—تاکہ رسم کی ترتیب اور مطلوبہ اولاد کی صفات کا ربط واضح ہو۔ مگر ماں کے اصرار سے چرو کے حصّے اور درخت-آغوش کی کارروائی آپس میں بدل دی جاتی ہے، اور اس خلافِ قاعدہ تبدیلی کے اثرات حمل کی علامتوں میں ظاہر ہوتے ہیں۔ بیوی کے دوہَد اور رغبتیں شاہانہ اور جنگی امور کی طرف مائل ہو جاتی ہیں تو رِچیک سمجھ لیتا ہے کہ عمل الٹ گیا ہے۔ پھر ایک سمجھوتا طے پاتا ہے کہ فوری طور پر پیدا ہونے والا بیٹا برہمن شناخت میں قائم رہے، مگر شدید کشتری تَیَس نواسے میں منتقل ہو۔ آخر میں جمَدگنی کی پیدائش اور آگے اسی نسل میں رام (پرشورام) کے ظہور کا ذکر آتا ہے؛ ان کی جنگی قوت کو سابقہ یَجْن تَیَس اور آبائی رعایت کے نتیجے کے طور پر دکھا کر اخلاقی سببیت، رسم کی درستگی اور نسب کی تقدیر کو ایک ساتھ جوڑا گیا ہے۔

49 verses

Adhyaya 167

Adhyaya 167

विश्वामित्रराज्यपरित्यागवर्णनम् (Viśvāmitra’s Renunciation of Kingship)

سوتا وشوامتر کی پیدائش کے پس منظر اور ابتدائی تشکیل کا بیان کرتا ہے۔ وہ شاہی نسب میں پیدا ہوئے؛ ان کی ماں کو تپسوی اور تیرتھ یاترا کی پابند دکھایا گیا ہے۔ باپ گادھی نے انہیں راج گدی پر بٹھایا؛ وشوامتر ویدوں کا مطالعہ کرتے، برہمنوں کا احترام رکھتے اور دھرم کے مطابق راج کا انتظام کرتے رہے۔ وقت گزرنے پر وہ جنگل کے شکار میں منہمک ہو گئے اور ایک دن دوپہر کو بھوک پیاس سے نڈھال ہو کر مہاتما وِسِشٹھ کے پُنّیہ آشرم پہنچے۔ وسشٹھ نے ارغیہ، مدھوپرک وغیرہ سے باقاعدہ مہمان نوازی کی اور آرام و طعام کی درخواست کی۔ راجا کو اپنی بھوکی فوج کی فکر ہوئی؛ تب وسشٹھ نے کامدھینو نندنی کے ذریعے پل بھر میں سپاہیوں اور جانوروں کے لیے بے شمار کھانے پینے کا سامان ظاہر کر دیا۔ یہ دیکھ کر وشوامتر نے نندنی کو پہلے درخواست سے، پھر شاہی حق جتا کر زور سے لینے کی کوشش کی۔ وسشٹھ نے دھرم اور سمرتی کے مطابق کامدھینو جیسی گائے کو مالِ تجارت بنانا یا چھیننا ممنوع بتایا اور انکار کیا۔ جب راج کے آدمیوں نے نندنی کو پکڑ کر مارا، تو اس نے شبر، پلند، مِلچھ وغیرہ مسلح گروہ پیدا کیے جنہوں نے شاہی لشکر کو تباہ کر دیا۔ وسشٹھ نے کرُونا سے مزید ہنسا روکی، راجا کی حفاظت کی اور جادوئی بندھن سے آزاد کیا۔ رسوا وشوامتر نے جانا کہ کشتریہ بل برہما-بل کے آگے ناکافی ہے؛ انہوں نے راج چھوڑ کر اپنے بیٹے وشواسہ کو تخت پر بٹھایا اور برہمنانہ روحانی قوت پانے کے لیے عظیم تپسیا کا سنکلپ کیا۔

73 verses

Adhyaya 168

Adhyaya 168

धारोत्पत्तिमाहात्म्यवर्णनम् (Origin and Glory of Dhārā in Hāṭakeśvara-kṣetra)

اس باب میں ہاٹکیشور-کشیتر کے ضمن میں ‘دھارا’ دیوی کی پیدائش اور اس کی عظمت بیان ہوتی ہے۔ سوت کہتے ہیں کہ وشوامتر نے ہمالیہ میں نہایت سخت تپسیا کی: آکاش میں شयन، جل میں قیام، پنچ اگنی سادھنا، اور بتدریج اُپواس کرتے کرتے آخرکار وایو-بھکشن تک۔ اس تپسیا سے خوف زدہ اندر نے ور دینے کی پیشکش کی، مگر وشوامتر نے راجیہ و ایشوریہ سب رد کر کے صرف برہمنیہ (برہمنیت/برہمن پن) ہی مانگا—یوں روحانی کمال کو سلطنت سے برتر ٹھہرایا۔ بعد ازاں برہما بھی ور دینے آتے ہیں؛ وشوامتر وہی ایک درخواست دہراتا ہے۔ رُچیک بتاتے ہیں کہ وشوامتر کے برہمرشی ہونے کے لیے برہمن منتر اور سنسکرت چَرو آہوتی پہلے ہی مقرر تھی؛ اسی بنا پر برہما کو اسے برہمرشی قرار دینے کا اختیار ہے۔ وِسِشٹھ کشتریہ-جنم والے کے برہمن بننے کو ناموزوں کہہ کر اختلاف کرتا ہے اور انرت دیس میں شنکھ تیرتھ، برہماشیلا اور سرسوتی کے نزدیک چلا جاتا ہے۔ غصّے میں وشوامتر سام ویدی طریقے سے اَبھچار کرم کر کے ہولناک کِرتیا پیدا کرتا ہے۔ وسشٹھ دیوی درشتی سے اسے جان کر اتھرو منتر سے اسے ستمبھت کر دیتا ہے؛ کِرتیا محض اس کے بدن کو چھو کر گر پڑتی ہے۔ پھر وسشٹھ اس شکتِی کو شانتی دے کر چَیتر شُکل اشٹمی کو پوجا کا وِدھان قائم کرتا ہے اور بھکتوں کو ایک سال تک روگ-مکتی کا ور دیتا ہے۔ یہی دیوی ‘دھارا’ کے نام سے مشہور ہو کر ناگر پوجا کی خاص روایت کے ساتھ کشیتر-ماہاتمیہ میں قائم ہوتی ہے۔

55 verses

Adhyaya 169

Adhyaya 169

धारानामोत्पत्तिवृत्तान्तः तथा धारादेवीमाहात्म्यवर्णनम् (Origin of Dhārā-nāma and the Māhātmya of Dhārā-devī)

رِشی پوچھتے ہیں کہ تسلی عطا کرنے والی قوت (تُشٹِدا) کا ناگر برادری سے خاص تعلق کیوں ہے اور وہ زمین پر ‘دھارا’ کے نام سے کیسے مشہور ہوئی۔ سوت بیان کرتا ہے کہ چامتکارپور میں ناگری برہمن عورت دھارا کی دوستی تپسوی ارُندھتی سے ہوئی۔ ارُندھتی وِسِشٹھ کے ساتھ شنکھ تیرتھ میں اسنان کے لیے آئی تو اس نے دھارا کو سخت تپسیا میں مشغول دیکھا اور اس کی شناخت و مقصد پوچھا۔ دھارا نے اپنا ناگر نسب، کم عمری میں بیوگی، اور شنکھیشور کے مہاتمیہ کو سن کر اسی تیرتھ میں بھکتی کے ساتھ رہنے کا عزم بیان کیا۔ ارُندھتی اسے سرسوتی کے کنارے اپنے آشرم میں، جہاں نِتّیہ شاستر-چرچا ہوتی ہے، قیام کی دعوت دیتی ہے۔ پھر کَتھا میں وِشوَامِتر اور وِسِشٹھ کے ٹکراؤ سے وابستہ ایک دیویہ شکتی کا ذکر آتا ہے، جسے وِسِشٹھ نے سنبھال کر محافظ دیوی کے طور پر پوجنیہ بنایا۔ دھارا نے جواہرات سے آراستہ محل نما مندر تعمیر کیا اور ستوتر پڑھا—دیوی کو جگت کا آدھار اور لکشمی، شچی، گوری، سواہا، سواَدھا، تُشٹی، پُشٹی وغیرہ متعدد روپوں میں سراہا۔ طویل عرصہ روزانہ پوجا کے بعد چَیتر شُکل اشٹمی کو اَبھِشیک، نَیویدیہ وغیرہ پیش کیے تو دیوی پرگٹ ہوئیں، ور دان دیے اور اسی مندر میں ‘دھارا’ نام قبول کیا۔ آچار-ودھان بتایا گیا—جو ناگر تین پردکشنا کریں، تین پھل چڑھائیں اور ستوتر کا پاٹھ کریں، انہیں ایک سال تک بیماری سے حفاظت ملتی ہے۔ عورتوں کے لیے بھی پھل بیان ہوا—بانجھ کو اولاد، بدقسمتی کا ازالہ، صحت اور خیریت کی بحالی۔ آخر میں پھل شروتی ہے کہ اس اُتپتی ورتانت کا پاٹھ یا شروَن گناہوں سے نجات دیتا ہے؛ خاص طور پر ناگروں کو بھکتی سے اس کا مطالعہ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

37 verses

Adhyaya 170

Adhyaya 170

धारातीर्थोत्पत्तिमाहात्म्यवर्णनम् (Dhārā-tīrtha Origin and Its Sacred Merit)

سوت جی وشوامتر اور وششٹھ کے واقعے میں ایک اور عجیب کرشمہ بیان کرتے ہیں۔ وشوامتر نے وششٹھ پر جو دشمنانہ شکتی چھوڑی، وششٹھ نے اتھروَن منتر-بل سے اسے روک کر شانت کر دیا۔ اس کے بعد وششٹھ کے جسم سے پسینہ نکلا؛ اسی پسینے سے ٹھنڈا، شفاف اور پاکیزہ پانی ظاہر ہوا جو قدموں سے بہتا ہوا زمین کو چیر کر بے داغ دھارا بن گیا—گنگا جل کے مانند ایک مقدس تیرتھ۔ اس دھارا-تیرتھ میں اسنان کرنے سے بے اولاد کہی جانے والی عورتوں کو بھی فوراً سنتان-لابھ کا پھل بتایا گیا ہے، اور ہر اسنانی کو سبھی تیرتھوں کا پھل ملتا ہے۔ اسنان کے بعد دیوی کا یथاوِدھی درشن کرنے سے دھن، دھانْیہ، اولاد اور راج-سکھ سے وابستہ خوش حالی حاصل ہوتی ہے۔ چَیتر شُکل اشٹمی کی آدھی رات میں نَیویدْی اور بَلی-پِنڈِکا چڑھانے کی وِدھی بتائی گئی ہے؛ اس پِنڈِکا کو پانا یا تناول کرنا بڑھاپے میں بھی خاص اثر و ثمر رکھتا ہے۔ آخر میں دیوی کو کئی ناگر خاندانوں کی کُل دیوی قرار دے کر کہا گیا ہے کہ یاترا کی تکمیل کے لیے ناگروں کی شرکت لازمی ہے۔

14 verses

Adhyaya 171

Adhyaya 171

वसिष्ठविश्वामित्रयुद्धे दिव्यास्त्रनिवर्तनवर्णनम् (Restraint of Divine Weapons in the Vasiṣṭha–Viśvāmitra Conflict)

سوت بیان کرتے ہیں کہ وِسِشٹھ–وِشوَامِتر کے تصادم میں شدت بڑھ گئی۔ اپنی قوت بے اثر ہونے پر غضبناک وِشوَامِتر نے دیक्षित دیویہ استر، حتیٰ کہ برہماستر بھی، چھوڑ دیے۔ اس سے شِہابِ ثاقب جیسے حملے، ہتھیاروں کی افزائش، سمندروں کا لرزنا، پہاڑی چوٹیوں کا ٹوٹنا اور خون جیسی بارش کے مناظر پیدا ہوئے، جو پرلے کے آثار سمجھے گئے۔ دیوتا خوف زدہ ہو کر برہما کی پناہ میں گئے؛ برہما نے بتایا کہ یہ دیویہ استروں کی جنگ کا ضمنی اثر ہے اور وہ دیوتاؤں کے ساتھ میدانِ جنگ میں پہنچے۔ برہما نے جگت کے विनाश سے بچانے کے لیے جنگ روکنے کی تلقین کی۔ وِسِشٹھ نے واضح کیا کہ وہ انتقام کے لیے نہیں، منتر-बल سے دفاعاً آنے والے استروں کو بے اثر کر رہے ہیں۔ برہما نے وِشوَامِتر کو استر چھوڑنے سے روکنے کا حکم دیا اور کلام کے ذریعے صلح چاہی؛ کشیدگی کم کرنے کو وِسِشٹھ کو ‘برہمن’ کہہ کر مخاطب کیا۔ وِشوَامِتر کا غصہ شناخت اور مرتبے سے جڑا تھا؛ مگر وِسِشٹھ نے اسے کشتریہ النسل مان کر ‘برہمن’ کا لقب دینے سے انکار کیا اور برہمتेज کو کشتریہ قوت سے برتر بتایا۔ آخرکار برہما نے لعنت کے خوف سے دیویہ استروں کا ترک لازم کر دیا۔ برہما کے روانہ ہونے کے بعد رشی سرسوتی کے کنارے ٹھہرے رہے۔ اس باب کی تعلیم ضبطِ نفس، درست گفتار اور تباہ کن قوت کو دھرم کی حد میں قابو میں رکھنا ہے۔

29 verses

Adhyaya 172

Adhyaya 172

सारस्वतजलस्य रुधिरत्व-प्रसङ्गः (The Episode of the Sarasvata Water Turning to Blood)

سوت بیان کرتے ہیں—وسِشٹھ کو نقصان پہنچانے کے لیے ‘چھِدر’ ڈھونڈتے ہوئے وشوامتر نے مہان سرسوتی ندی کو بلایا۔ ندی عورت کے روپ میں ظاہر ہو کر اُپدیش پوچھتی ہے تو وشوامتر حکم دیتا ہے کہ جب وسِشٹھ اشنان کریں تو تُو زور سے اُمڈ کر انہیں میرے قریب لے آ، تاکہ میں ان کا وध کر سکوں۔ سرسوتی انکار کرتی ہے—مہاتما وسِشٹھ کے ساتھ دغابازی نہیں کروں گی؛ برہمن وध اَدھرم ہے۔ وہ دھرم کی تنبیہ سناتی ہے کہ برہمن ہتیا کا محض ذہنی ارادہ بھی سخت پرایشچت مانگتا ہے، اور ایسی ہتیا کی زبانی تائید بھی شُدھی کرم کے بغیر پاک نہیں ہوتی۔ غصّے میں وشوامتر شاپ دیتا ہے—میری آگیا نہ ماننے سے تیرا جل لہو کی دھار بن جائے گا۔ وہ سات بار جل کو منتر سے سنسکرت کر کے ندی میں ڈالتا ہے؛ فوراً ہی شنکھ کی مانند سفید، پرم پُنّیہ دایَک سرسوتی جل بھی خون بن جاتا ہے۔ بھوت، پریت اور نشاچر جمع ہو کر پیتے اور عیش کرتے ہیں؛ تپسوی اور مقامی لوگ دور چلے جاتے ہیں۔ وسِشٹھ اربُد پہاڑ کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ وشوامتر چامتکارپور جا کر ہاٹکیشور-کشیتر میں گھور تپسیا کرتا ہے اور سِرشٹی شکتی میں برہما کے برابر ہونے کی قابلیت پاتا ہے۔ آخر میں پھر کہا جاتا ہے کہ وشوامتر کے شاپ سے سرسوتی کا جل خون ہوا اور چنڈشرما وغیرہ برہمنوں نے جگہ بدل لی۔

22 verses

Adhyaya 173

Adhyaya 173

सरस्वती-शापमोचनं तथा साभ्रमत्युत्पत्तिवृत्तान्तः (Release of Sarasvatī from the Curse and the Origin Account of Sābhramatī)

باب 173 میں رشیوں کے سوال کے جواب میں سوت بیان کرتے ہیں کہ وشوامتر کی منتر-سِدھی سے وابستہ شاپ (لعنت) کے اثر سے سرسوتی کا پانی خون جیسا ہو گیا اور ندی رکتَوغ (خون کے سیلاب) کی طرح بہنے لگی۔ رنجیدہ سرسوتی وِسِشٹھ کے پاس آ کر اپنی حالت سناتی ہے—جب دھارا خون آلود ہو گیا تو تپسوی اس سے کنارہ کرنے لگے اور فتنہ انگیز مخلوقات وہاں آ بسیں؛ وہ درخواست کرتی ہے کہ مجھے پھر سے شُدھ سلیل (پاک پانی) کی صورت میں قائم کیا جائے۔ وِسِشٹھ اپنی قدرت کا یقین دلا کر پلاکش درخت سے نشان زد مقام پر سمادھی میں داخل ہوتے ہیں، ورُن سے متعلق منتر کے ذریعے زمین کو چیر کر کثیر پانی جاری کرتے ہیں۔ دو راستے نکلتے ہیں—ایک سے سرسوتی نئی طرح پاکیزہ ہو کر تیز بہاؤ میں خون جیسی آلودگی بہا لے جاتی ہے؛ دوسرا الگ ندی بن کر ‘سابھرمتی’ کے نام سے جاری ہوتا ہے۔ آخر میں پھل شروتی ہے کہ اس سارَسوت بیان کی تلاوت یا سماعت سرسوتی کی کرپا سے ذہانت، صفائیِ فکر اور مَتی میں اضافہ کرتی ہے۔

17 verses

Adhyaya 174

Adhyaya 174

Pippalāda-utpatti-varṇana and Kaṃsāreśvara-liṅga Māhātmya (पिप्पलादोत्पत्तिवर्णनं; कंसारेश्वरलिङ्गमाहात्म्यम्)

اس باب میں ہاٹکیشور-کشیتر ماہاتمیہ کے ضمن میں سوال و جواب کی صورت میں تیرتھ-کथा بیان ہوتی ہے۔ سوت جی پپّلاَد کے قائم کردہ ‘کَنساریشور’ شِولِنگ کا تعارف کراتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اس کے درشن، نمسکار اور پوجا سے بالترتیب پاپوں کا کشَے، ناپاکی کی دوری اور مہاپُنّیہ کی پرابتھی ہوتی ہے۔ رِشی پپّلاَد کی پہچان اور لِنگ-پرتِشٹھا کی وجہ پوچھتے ہیں۔ سوت جی جنم-کथा سناتے ہیں—یاجْنَولْکْی کی بہن کَنساری نادانستہ طور پر کپڑے سے وابستہ شُکر-مِشرت جل کے سپرش سے گربھوتی ہو جاتی ہے۔ شرم کے باعث وہ پوشیدہ طور پر پرسو کر کے اشوَتھ (پِپّل) کے نیچے بچے کو رکھ کر حفاظت کی پرارتھنا کرتی ہے۔ دیویہ وانی بتاتی ہے کہ یہ بالک اُتَتھْی کے شاپ کے سبب بْرِہَسْپَتی کا پرتھوی پر اوتار ہے، اور پِپّل کے سار سے پَلنے کے سبب اس کا نام ‘پپّلاَد’ ہوگا۔ کَنساری شرم سے پران تیاگ دیتی ہے؛ بالک پِپّل کے پاس ہی بڑھتا ہے۔ نارد مُنی آ کر اس کی اُتپتّی ظاہر کرتے ہیں اور اَتھرووید سے وابستہ ودیا/سادھنا کا مارگ بتاتے ہیں۔ آگے پپّلاَد کے کروध سے شَنَیشْچَر گر پڑتا ہے؛ نارد کی ثالثی سے ستوتر اور دھارمک شرطیں طے ہوتی ہیں—خاص طور پر آٹھ برس تک کے بچوں کی حفاظت، تیل لگانا، مخصوص دان اور پوجا-ودھی۔ آخر میں نارد پپّلاَد کو چمتکارپور لے جا کر یاجْنَولْکْی کے سپرد کرتے ہیں؛ یوں وंश، استھان اور لِنگ-ماہاتمیہ ایک ساتھ جڑ جاتے ہیں۔

93 verses

Adhyaya 175

Adhyaya 175

याज्ञवल्क्येश्वरोत्पत्तिमाहात्म्यवर्णनम् (Origin and Glory of Yājñavalkyeśvara Liṅga)

اس باب میں سوت کی روایت کے ذریعے یاج्ञولکْی اور برہما کا مکالمہ بیان ہوتا ہے۔ یاج्ञولکْی باطنی اضطراب کے ساتھ چِتّہ-شودھی (دل و ذہن کی پاکیزگی) کے لیے ایسا پرایَشچِتّ پوچھتے ہیں جو روحانی وضاحت عطا کرے۔ برہما انہیں عملی راہ بتاتے ہیں—نہایت پُنیہ بخش ہاٹکیشور-کشیتر میں شُولِن شِو کا لِنگ قائم کرو؛ یہ کشیتر جمع شدہ پاپوں کو مٹانے والا اور پاک کرنے والا ہے۔ یہاں کفّارے کی منطق واضح کی گئی ہے کہ گناہ جہالت سے ہو یا جان بوجھ کر، شِو مندر کی تعمیر اور لِنگ-مرکوز بھکتی پوجا اخلاقی تاریکی کو یوں دور کرتی ہے جیسے سورج طلوع ہو کر رات کا اندھیرا ہٹا دیتا ہے۔ کَلی یُگ میں بہت سے تیرتھوں کے بے اثر ہو جانے کی تشویش بھی آتی ہے، مگر ہاٹکیشور-کشیتر کو اس سے مستثنیٰ اور خاص طور پر ثمر بخش بتایا گیا ہے۔ برہما کے رخصت ہونے کے بعد یاج्ञولکْی لِنگ کی پرتِشٹھا کرتے ہیں اور اشٹمی و چتُردشی کو خلوصِ عقیدت سے لِنگ اَبھِشیک (سناپن) کا وِرت مقرر کرتے ہیں، جس سے عیوب دھلتے اور پاکیزگی لوٹ آتی ہے۔ یہی لِنگ ہاٹکیشور-کشیتر میں “یاج्ञولکْییشور” کے نام سے مشہور ہوتا ہے۔

17 verses

Adhyaya 176

Adhyaya 176

कंसारीश्वर-उत्पत्तिमाहात्म्य-वर्णनम् (Origin and Glory of Kaṃsārīśvara)

سوت ایک تیرتھ-اُتپتی کا واقعہ بیان کرتے ہیں، جہاں یاج्ञولکْی سے نسبت کے ساتھ ماں کی تطہیر کے مقصد سے لِنگ کی پرتِشٹھا ہوتی ہے۔ پِپّالاد مرکزی عامل بن کر شروتی کے مطالعے اور یَجْیَ کرم میں ماہر برہمنوں کو جمع کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ اس کی ماں، جس کا نام کَنساری ہے، وفات پا گئی؛ اس نے اس کی یاد میں لِنگ کا ابھیشیک و پرتِشٹھا کیا ہے اور ان کے مشورے سے عوامی توثیق چاہتا ہے۔ وہ گووردھن کو ناگر برادری کو باقاعدہ پوجا کی طرف رہنمائی کرنے کی ہدایت دیتا ہے—نِتّیہ پوجا سے خاندان کی خوشحالی بڑھتی ہے اور غفلت سے زوال آتا ہے—یہ سماجی و دینی دعویٰ واضح کرتا ہے۔ برہمن باقاعدہ طور پر دیوتا کا نام “کَنساریشور” مقرر کرتے ہیں۔ پھر تلاوت/سماعت اور دیوتا کی حضوری میں بھکتی کے اعمال کے فوائد بیان ہوتے ہیں—اَشٹمی اور چَتُردَشی کو اسنان، نیلرُدر اور دیگر رُدر منترَوں کا جپ، اور دیوتا کے سامنے اَتھرو وید کی قراءت۔ وعدہ شدہ نتائج میں بڑے گناہوں کی تخفیف، سیاسی و ماحولیاتی بحرانوں میں حفاظت، دشمنوں پر غلبہ، بروقت بارش، آفات و امراض سے نجات اور دھرم پر قائم حکومت کا ظہور شامل ہے—یہ سب پِپّالاد کی یقین دہانی اور اس مقدس کُشیتر کی عظمت پر مبنی پھل شروتی کے طور پر پیش کیے گئے ہیں۔

25 verses

Adhyaya 177

Adhyaya 177

पञ्चपिण्डिकोत्पत्तिमाहात्म्यवर्णनम् (The Māhātmya of the Origin of Pañcapinḍikā)

اس باب میں سوت جی رشیوں سے مکالمہ کی صورت میں تیرتھ اور رسمِ عبادت کا بیان کرتے ہیں۔ ابتدا میں گوری کو “پنچ پِنڈِکا” کہا گیا ہے؛ جَیَیشٹھ ماہ کے شُکل پکش میں، جب سورج وِرشبھ (ثور) میں ہو، عورتیں دیوی کے اوپر جل‑ینتر (پانی کی دھار کا آلہ) نصب کر کے پوجا کرتی ہیں۔ اسے کئی دشوار ورتوں کا مختصر بدل اور گھریلو سَوبھاگیہ (خوش بختی) دینے والا پُنّیہ کرم بتایا گیا ہے۔ پھر رشی “پانچ پِنڈ” کی دینی و تاتّوِک بنیاد پوچھتے ہیں۔ سوت بیان کرتے ہیں کہ دیوی سراسر پھیلی ہوئی پرَا شکتی ہے جو سِرشٹی اور رکھشا کے لیے پنچ تتّو—پرتھوی، جل، اگنی، وایو اور آکاش—کی صورت میں پانچ گونہ روپ دھارتی ہے؛ اس روپ کی اُپاسنا سے پُنّیہ کئی گنا بڑھتا ہے۔ اس کے بعد لکشمی کاشی کے راجا اور پیاری رانی پدماؤتی کی کہانی سناتی ہیں—پدماؤتی جل‑ستھل پر مٹی سے بنی پنچ پِنڈِکا کی روزانہ پوجا کر کے اپنا سَوبھاگیہ بڑھاتی ہے، تو سوتنیں راز پوچھتی ہیں۔ پدماؤتی پنچ تتّو سے وابستہ “پنچ‑منتر” بتاتی ہے اور ریگستانی بحران میں ریت سے پوجا کر کے دیوی کی کرپا پاتی ہے، پھر خوشحالی حاصل کرتی ہے۔ آخر میں پنچ‑منتر (عناصر کو نمسکار) صاف طور پر دیے گئے ہیں، ہاٹکیشور کْشیتْر میں لکشمی کی پرتِشٹھا کا ذکر ہے، اور پھل شروتی میں کہا گیا ہے کہ وہاں پوجا کرنے والی عورتیں شوہر کی محبوب اور گناہوں سے پاک ہوتی ہیں۔

69 verses

Adhyaya 178

Adhyaya 178

Pañcapinḍikā-Gauryutpatti Māhātmya (The Glory of the Emergence of Pañcapinḍikā Gaurī) | पञ्चपिण्डिकागौर्युत्पत्तिमाहात्म्यम्

اس ادھیائے میں متعدد آوازوں کے ذریعے عقیدتی و تَتّوی مکالمہ پیش ہوتا ہے۔ لکشمی اپنی پریشانی بیان کرتی ہیں—گوری کی پوجا سے راج لکشمی تو ملی، مگر اولاد نہ ہونے کے سبب رنج باقی ہے۔ چاتُرمَاسیہ کے دوران آنرت راجہ کے محل میں درواسہ مُنی آتے ہیں؛ بہترین مہمان نوازی اور شُشروشا سے خوش ہو کر وہ سمجھاتے ہیں کہ دیوتا لکڑی، پتھر یا مٹی میں ازخود مقیم نہیں ہوتے؛ منتر کے ساتھ جڑا ہوا بھاؤ (اخلاصِ بھکتی) ہی دیوی سَانِدھْی کو ظاہر کرتا ہے۔ درواسہ رات کے پہروں کے مطابق چار روپوں والی گوری کی ترتیب و تعمیر، دھوپ، دیپ، نیویدیہ، ارغیہ وغیرہ کے نذرانوں کے ساتھ پوجا اور مخصوص آواہن سمیت ایک منضبط ورت بتاتے ہیں؛ صبح برہمن جوڑے کو دان اور آخر میں سواری کے ساتھ روانگی و نِکشےپ کی تکمیلی رسم بھی بیان کرتے ہیں۔ پھر دیوی کی اصلاحی ہدایت آتی ہے—چاروں روپوں کو پانی میں غرق نہ کیا جائے؛ ہاٹکیشور-کشیتر میں پرتِشٹھا کی جائے تاکہ عورتوں کی بھلائی کے لیے اَکشَی پھل ملے۔ لکشمی ور مانگتی ہیں—بار بار انسانی حمل سے نجات اور وشنو کے ساتھ دائمی اتحاد؛ پھل شروتی میں عقیدت سے پڑھنے والوں کے لیے پائیدار لکشمی اور بدبختی سے حفاظت کا وعدہ ہے۔

80 verses

Adhyaya 179

Adhyaya 179

Puṣkara-trayotpatti and Yajña-samārambha in Hāṭakeśvara-kṣetra (पुष्करत्रयोत्पत्ति–यज्ञसमारम्भः)

اس باب میں سوت جی ہاٹکیشور-کشیتر میں موجود ‘پُشکر-تریہ’ (تین پُشکر تیرتھ) کی عظمت بیان کرتے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ اس کے درشن، سپرش یا نام-سمَرَن سے پاپ ایسے مٹ جاتا ہے جیسے سورج کے طلوع سے اندھیرا دور ہو جائے۔ رشی پوچھتے ہیں کہ برہما-تیرتھ کے طور پر مشہور پُشکر یہاں کیسے قائم ہوا۔ سوت جی نارَد اور برہما کے مکالمے کی روایت سناتے ہیں۔ نارَد کلی یُگ میں دھرم راج، یَجْن آچار اور سماجی مراتب کے زوال کی خبر دیتے ہیں۔ کلی کے پھیلاؤ سے پُشکر کے متاثر ہونے کا اندیشہ دیکھ کر برہما کلی سے پاک مقام میں تیرتھ کو مستحکم کرنے کا ارادہ کرتے ہیں۔ وہ ایک پَدْم (کنول) زمین پر گراتے ہیں؛ وہ ہاٹکیشور کے علاقے میں وید-دان، ضبط والے برہمنوں اور تپسویوں کے درمیان آ گرتا ہے۔ کنول تین بار سرکتا ہے اور تین گڑھے بنتے ہیں؛ وہ صاف پانی سے بھر کر جَیَیشٹھ، مَدھْی اور کَنِیَک—تین پُشکر کنڈ بن جاتے ہیں۔ برہما آ کر کشیتر کی ستوتی کرتے ہیں، اسنان کے پھل اور کارتک شرادھ کی مہِما (گیاشیرش کے برابر پُنّیہ) بیان کرتے ہیں اور یَجْن کی تیاری شروع کرتے ہیں۔ وہ وایو کو حکم دیتے ہیں کہ اندر وغیرہ دیوگن کو بلائے؛ اندر سامان اور یُوگیہ برہمن لاتا ہے، اور برہما ودھی کے مطابق پوری دَکشِنا کے ساتھ یَجْن مکمل کرتے ہیں۔

68 verses

Adhyaya 180

Adhyaya 180

Brahmayajñopākhyāna: Ṛtvig-vyavasthā, Yajñamaṇḍapa-nirmāṇa, and Deva-sahāya (Chapter 180)

اس باب میں رِشی سوتا سے پوچھتے ہیں کہ مقدّس میدان میں برہما کے کیے ہوئے اس عظیم یَجْن میں کس دیوتا کی پوجا ہوتی ہے، کون کون سے رِتْوِج کس منصب پر مقرر ہیں، کیسی دَکْشِنا دی جاتی ہے، اور اَدھْوَرْیُو وغیرہ کارگزاروں کی تقرری کیسے ہوتی ہے۔ سوتا یَجْن کی شاستری ترتیب اور طریقِ کار بیان کرتے ہیں۔ اِندر اور شَمبھو اپنے دیویہ پرِیوار کے ساتھ مدد کے لیے آتے ہیں۔ برہما اُن کا شاستروکت آتِتھْی (مہمان نوازی) کر کے ذمہ داریاں سونپتے ہیں۔ پھر وِشوکرما کو یَجْن مَنڈپ اور اس کے اجزا—پتنی شالا، ویدی، اگنی کُنڈ، پاتر و چشک، یُوپ، پاک کھات، وسیع اِشٹکا وِنیاس—اور ہِرَنْمَی پُرُش کی سونے کی مُورت بنانے کا حکم دیتے ہیں۔ بِرہسپتی کو سولہ اہل رِتْوِج لانے کی ذمہ داری دی جاتی ہے؛ برہما خود اُن کی جانچ کر کے تقرر کرتے ہیں۔ آخر میں ہوتا، اَدھْوَرْیُو، اُدگاتا، اَگنی دھْر، برہما وغیرہ سولہ رِتْوِجوں کے منصب گنوائے جاتے ہیں اور دِیکشا اور یَجْن کے آغاز میں تعاون کے لیے برہما نہایت ادب سے درخواست کرتے ہیں۔

40 verses

Adhyaya 181

Adhyaya 181

गायत्रीतीर्थमाहात्म्यवर्णनम् (Gayatrī-tīrtha Māhātmya: The Glory and Origin of Gayatrī Tīrtha)

ادھیائے 181 میں ہاٹکیشور-کشیتر کے اندر رسومات کی شرعی و مذہبی حیثیت پر ایک فقہی-الٰہیاتی نزاع بیان ہوا ہے۔ ناگر برہمن، اپنے موروثی یاجنک حق کے تحفظ کے لیے، مدھیگ کو قاصد بنا کر پدمجا برہما کے پاس بھیجتے ہیں، کیونکہ برہما نے مقامی ناگروں کو نظرانداز کرکے غیر مقامی رِتوِکوں کے ساتھ یَجْن شروع کیا تھا۔ ناگر اعلان کرتے ہیں کہ انہیں خارج کرکے کیا گیا یَجْن/شرادھ بےثمر ہے؛ یہ حق پہلے کے کشیتر-دان میں حدود کے ساتھ مقرر کیا گیا تھا۔ برہما نرم گفتاری سے طریقۂ کار کی خطا تسلیم کرکے قاعدہ قائم کرتے ہیں کہ اس کشیتر میں ناگروں کو چھوڑ کر کیا گیا عمل بےنتیجہ ہوگا، اور ناگر اگر کشیتر سے باہر عمل کریں تو وہ بھی بےاثر—یوں باہمی اختیار کی حد بندی طے ہوتی ہے۔ پھر قصہ یَجْن کی تکمیل کی فوری ضرورت کی طرف مڑتا ہے۔ ساوتری کی تاخیر پر نارَد، پھر پُلستیہ اسے لانے کی کوشش کرتے ہیں؛ وقت کم ہونے پر اندر ایک گوپ کنیا لاتا ہے جسے وِدھی کے مطابق سنسکار دے کر برہما کے نکاح کے لائق بنایا جاتا ہے۔ رُدر وغیرہ دیوتا اور برہمن اسے ‘گایتری’ کے طور پر تسلیم کرکے شادی کراتے ہیں تاکہ یَجْن مکمل ہو۔ آخر میں تیرتھ-فل شروتی آتی ہے: یہ مقام مبارک اور خوشحالی بخش ہے؛ یہاں پانی گرہن، پِنڈ دان اور کنیا دان جیسے اعمال سے بڑھا ہوا پُنّیہ حاصل ہوتا ہے۔

77 verses

Adhyaya 182

Adhyaya 182

रूपतीर्थोत्पत्तिपूर्वकप्रथमयज्ञदिवसवृत्तान्तवर्णनम् (Origin of Rūpatīrtha and the Account of the First Day of the Sacrifice)

اس باب میں یَجْن کے منڈپ میں پیش آنے والا ایک مقدّس واقعہ بیان ہوا ہے۔ برہما گایتری کے ساتھ یَجْن شالا میں آتے ہیں، انسانی انداز اختیار کرتے ہیں اور دَند، اَجِن، میکھلا اور مَون ورت جیسے ویدک نشانات کے ساتھ یَگ کی تیاری کراتے ہیں۔ پرَوَرگْی مرحلے میں جالم نامی ننگا، کَپال بردار تپسوی بھوجن مانگتا ہے؛ انکار پر اس کا کَپال پھینک دیا جاتا ہے، مگر وہ حیرت انگیز طور پر بڑھ کر بے شمار ہو جاتا ہے اور پورے یَجْن احاطے کو بھر کر رسم کی روانی میں رکاوٹ ڈال دیتا ہے۔ برہما دھیان میں اس فتنے کے پیچھے شَیو تَتْو کو پہچان کر مہیشور سے فریاد کرتے ہیں۔ شِو فرماتے ہیں کہ کَپال اُن کا محبوب برتن ہے اور رُدر کے نام کی آہوتی نہ ہونے سے یہ وِگھن پیدا ہوا؛ وہ حکم دیتے ہیں کہ کَپال کے وسیلے سے رُدر کو سمرپت آہوتیاں دی جائیں، تب یَجْن مکمل ہوگا۔ برہما آئندہ یَجْنوں میں شَتَرُدرِیَہ پاٹھ اور مٹی کے کَپالوں میں رُدرارپن کو قبول کرتے ہیں، اور شِو وہیں کَپالیشور کی صورت میں کْشَیتر-رَکشک کے طور پر ظاہر ہوتے ہیں۔ پھر پھل شروتی بیان ہوتی ہے: برہما کے تین کُنڈوں میں اسنان اور لِنگ پوجا سے اعلیٰ روحانی پھل ملتا ہے؛ کارتک شُکل چتُردشی کی رات جاگَرَن سے پیدائشی عیوب سے نجات ہوتی ہے۔ جنوب کے راستے سے آئے رِتوِج مُنی دوپہر کی گرمی کے بعد قریب کے جل میں اسنان کرتے ہیں تو اُن کی بدصورت ہیئت خوبصورت بن جاتی ہے؛ اسی لیے وہ اس جگہ کا نام ‘روپ تیرتھ’ رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہاں اسنان سے جنم جنمانتر میں حسن، پِتر کرم کی افزائش اور دان سے راج سمردھی حاصل ہوتی ہے۔ آخر میں وہ واپس آ کر رات بھر یَجْن وِدھی پر شاستری بحث کرتے ہیں—صحیح دیوتا شناسی اور درست ارپن ہی یَجْن کی ترتیب کو محفوظ رکھتا ہے۔

74 verses

Adhyaya 183

Adhyaya 183

Nāgatīrthotpatti-māhātmya (Origin and Significance of Nāgatīrtha)

اس باب میں کئی دنوں کے یَجْن کے دوران پیش آنے والی رکاوٹ کا بیان ہے۔ ایک کم عمر تپسوی برہماچاری (بَٹُو) شرارتاً ایک بےزہر آبی سانپ یَجْن سبھا میں پھینک دیتا ہے، جس سے رِتوِجوں میں خوف و ہڑبونگ مچ جاتی ہے۔ سانپ ہوتَر (یا کسی بڑے یَجْن کرمکرتا) کے گرد لپٹ جاتا ہے؛ غصّے میں شاپ دیا جاتا ہے اور بَٹُو خود سانپ پن کی آفت میں مبتلا ہو جاتا ہے—یوں یَجْن کی مر्यادا اور غیر ارادی کرم-پھل کی پورانک منطق نمایاں ہوتی ہے۔ بَٹُو نجات کے لیے بھِرگو کے پاس جاتا ہے؛ بھِرگو کرُنا سے کہتے ہیں کہ سانپ بےزہر تھا اور سزا حد سے بڑھ گئی (چَیَوَن کا پہلو بھی واضح ہوتا ہے)۔ تب برہما آ کر اس واقعے کو دیوی یوجنا کے طور پر بیان کرتے ہیں: بَٹُو کا سانپ-روپ دھرتی پر نویں ناگ-ونش کی بنیاد کا بیج بنے گا، اور وہ ناگ منتر و اوشدھ-ودیا کے سادھکوں کے لیے ضرر رساں نہیں ہوں گے۔ ہاٹکیشور کے کھیتر میں ایک حسین آبی چشمے کو ‘ناگ تیرتھ’ قرار دیا جاتا ہے۔ شراون کے کرشن پکش کی پنچمی (اور بھاد्रپد کا بھی اشارہ) کو وہاں اسنان و پوجا کی وِدھی بتائی گئی ہے؛ سانپ کے خوف سے حفاظت، زہر سے متاثرہ افراد کو آرام، بدقسمتی کا زوال اور اولاد کی برکت جیسے پھل بیان ہوئے ہیں۔ واسُکی، تَکشَک، پُنڈَریک، شیش، کالِیَہ وغیرہ بڑے ناگوں کی سبھا کا ذکر ہے؛ برہما انہیں یَجْن کی رکھشا کے فرائض سونپتے اور ناگ تیرتھ میں ان کے دورانیہ وار سمان کی پرथा قائم کرتے ہیں۔ اس ماہاتمیہ کو سننا، پڑھنا، لکھنا اور محفوظ رکھنا بھی حفاظتی اثر رکھتا ہے؛ جہاں یہ متن رکھا ہو وہاں اَبھَے (امن و امان) کی بشارت دی گئی ہے۔

46 verses

Adhyaya 184

Adhyaya 184

पिंगलोपाख्यानवर्णनम् | Piṅgalā-Upākhyāna (Narrative of Piṅgalā) on the Third Day of the Brahmayajña

اس باب میں برہمیَجْیَہ کے تیسرے دن یَجْن منڈپ کا باوقار منظر بیان ہوا ہے۔ رِتْوِج پجاری اپنے اپنے فرائض میں مصروف ہیں؛ پکا ہوا اَنّ، گھی اور دودھ کی فراوانی، اور دان کے لیے بہت سا مال و دولت یَجْن کی خوشحالی دکھاتے ہیں۔ اسی خوشحالی کے بیچ اعلیٰ معرفت کی جستجو بھی بیدار ہوتی ہے۔ تب ایک صاحبِ علم مہمان، گویا تینوں زمانوں کا جاننے والا، آتا ہے؛ اس کی تعظیم کی جاتی ہے اور پجاری اس کی غیر معمولی بصیرت کا سبب پوچھتے ہیں۔ مہمان اپنی سرگزشت سنا کر بتاتا ہے کہ اس نے چھ “گرو” دیکھے—پِنگلا نامی طوائف، کُرَر پرندہ، سانپ، سارنگ ہرن، تیر بنانے والا اِشُوکار، اور ایک دوشیزہ۔ اس کا پیغام یہ ہے کہ معرفت صرف ایک انسانی استاد سے نہیں، بلکہ مخلوقات کے طرزِ عمل کو غور سے دیکھنے اور اس پر تدبر کرنے سے بھی حاصل ہوتی ہے۔ پِنگلا کی تعلیم مرکزی ہے—امید سے بندھی خواہش دکھ بڑھاتی ہے، اور توقع چھوڑ دینے سے سکون ملتا ہے؛ وہ بےچین انتظار اور مقابلہ آرائی کا دکھاوا ترک کر کے قناعت سے سو جاتی ہے۔ راوی بھی اسی ترکِ خواہش کو اختیار کر کے بتاتا ہے کہ باطنی سکون سے جسم کو بھی فائدہ ہوتا ہے—آرام، ہضم اور قوت۔ آخر میں عمومی نصیحت ہے کہ حاصل ہونے سے خواہش بڑھتی جاتی ہے؛ اس لیے دن کا عمل ایسا ہو کہ رات کو بےفکری اور بےخلل نیند نصیب ہو۔

44 verses

Adhyaya 185

Adhyaya 185

अतिथ्य-पूजा, वैराग्योपदेशः, यज्ञपुरुष-स्मरणविधिः (Hospitality Worship, Instruction in Renunciation, and the Protocol of Remembering Yajñapuruṣa)

اس باب میں ایک اَتِتھی (مہمان-سنیاسی) برہمنوں کی مجلس میں نصیحت آمیز خودنوشت بیان کرتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ دولت کی وابستگی سے سماجی اذیت اور ذہنی تھکن بڑھتی ہے۔ کُرَر پرندے کی مثال سے وہ سیکھتا ہے کہ جس چیز کے لیے جھگڑا ہو، اسے چھوڑ دینے سے نزاع ختم ہو جاتا ہے؛ چنانچہ وہ اپنا مال رشتہ داروں میں بانٹ کر سکون پاتا ہے۔ پھر سانپ سے وہ سمجھتا ہے کہ گھر بنانا اور جائیداد کو ‘میرا’ سمجھنا بندھن اور دکھ کا سبب ہے؛ وہ سچے یتی کی نشانیاں—محدود قیام، مدھوکرِی بھکشا، اور برابریِ نظر—اور ترکِ دنیا میں گراوٹ کے اسباب بھی گنواتا ہے۔ بھرمَر (شہد کی مکھی) سے وہ متعدد شاستروں سے ‘سار’ اخذ کرنے کا طریقہ سیکھتا ہے، اور اِشُوکار (تیر بنانے والا) سے یکسوئی (ایک چتّتا) کو برہما-گیان کا دروازہ جانتا ہے۔ وہ باطن میں موجود سورج-سورُوپ/وشورُوپ حقیقت پر دھیان جما کر اندرونی یکسوئی اختیار کرتا ہے۔ کنیا کی چوڑیوں کی مثال میں کہتا ہے: بہت سی ہوں تو شور، دو بھی ٹکراتی ہیں، مگر ایک خاموش رہتی ہے—اس سے تنہائی میں سیر اور گہری معرفت کی ترغیب ملتی ہے۔ آگے سوت کے بیان میں دیوتا اور رشی آتے ہیں، ور دیتے ہیں اور یَجْنَ کے حصے کے بغیر دیوتائی حصول پر بحث اٹھتی ہے۔ مہادیو قاعدہ مقرر کرتے ہیں کہ آئندہ شرادھ (دیوی یا پِتْر کرم) کے اختتام پر یَجْنَ پُرُش—ہری کے روپ—کا آواہن اور پوجن ضرور ہو؛ ورنہ عمل بےثمر ہے۔ اَتِتھی ہاٹکیشور-کشیتر میں اپنے تیرتھ کی نشان دہی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اَنگارک-یُکت چَتُرتھی کو وہاں اسنان سے تمام تیرتھوں کا پھل ملتا ہے۔ آخر میں یَجْنَ کے آغاز کی رسمیں اور تیاری بیان ہوتی ہے۔

124 verses

Adhyaya 186

Adhyaya 186

अतिथिमाहात्म्यवर्णनम् (Atithi-māhātmya: Theological Discourse on the Glory of Hospitality)

اس باب میں رشی گِرہستھ کے اَتِتھی‑کرتیہ (مہمان نوازی کے فرض) سے متعلق اعلیٰ ترین ماہاتمیہ کی تفصیل طلب کرتے ہیں۔ سوت کہتے ہیں کہ مہمان کا ستکار گِرہستھ دھرم کا سب سے بڑا رکن ہے؛ مہمان کی بے ادبی دھرم کو نقصان پہنچاتی اور پاپ بڑھاتی ہے، جبکہ احترام پُنّیہ کی حفاظت اور دل کی استقامت عطا کرتا ہے۔ مہمان تین قسم کے بتائے گئے ہیں: شرادھیہ (شرادھ کے وقت آنے والا)، ویشودَیویہ (ویشوادَیو کے وقت آنے والا)، اور سوریوڈھ (کھانے کے بعد یا رات میں آنے والا)۔ ہر ایک کے لیے مناسب استقبال، نشست، اَرجھْی‑پادْی اور بھکتی کے ساتھ اَنّ دان کا حکم ہے؛ کُل‑گوتْر کی سخت پوچھ گچھ کے بجائے یَجنوپویت وغیرہ علامات دیکھ کر عقیدت سے خدمت کرنی چاہیے۔ مہمان کی تسکین کو دیوتاؤں اور کائناتی اصولوں کی تسکین کے برابر بتایا گیا ہے؛ استقبال، بٹھانا، اَرجھْی‑پادْی پیش کرنا اور کھانا کھلانا ایسے اعمال ہیں جو دیوتاؤں کو راضی کرتے ہیں۔ آخر میں تاکید ہے کہ گِرہستھ کے اخلاقی نظام میں اَتِتھی جامع الٰہی حضور کی علامت ہے۔

24 verses

Adhyaya 187

Adhyaya 187

राक्षसप्राप्यश्राद्धवर्णनम् (Account of Śrāddha Offerings Accruing to a Rākṣasa)

سوت چوتھے دن کے یَجْیَ میں پیش آنے والا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ پرستاتری نے ہوم کے لیے جانور کے گُڑ والے حصے کو الگ رکھا تھا؛ بھوک سے مغلوب ایک نوجوان برہمن نے اسے کھا لیا۔ اس سے ہوی دُوشِت ہوئی اور یَجْیَ میں وِگھن پڑا۔ پرستاتری کے شاپ سے وہ نوجوان بدصورت و مُشوَّہ صورت رाक्षس بن گیا؛ رِتوِجوں نے رَکشا منتر اور دیوتاؤں سے دعا کر کے یَجْیَ کی حفاظت کی۔ وہ مبتلا رाक्षس پُلستیہ کے پُتر وِشوَواسُو کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ وہ لوک پِتامہ برہما کی شَرَن میں جا کر اقرار کرتا ہے کہ یہ کام نادانی سے نہیں بلکہ خواہش کی تحریک سے ہوا۔ یَجْیَ کی تکمیل کے لیے برہما شاپ واپس لینے کی درخواست کرتے ہیں، مگر پرستاتری اپنے وَچن کو اٹل بتا کر شاپ نہیں ہٹاتے۔ پھر ایک سمجھوتا مقرر ہوتا ہے: وِشوَواسُو کو چامتکارپور کے مغرب میں ٹھکانہ دیا جاتا ہے، دیگر شریر ہستیوں پر اختیار دے کر ناگر کی بھلائی کے لیے نگران و ضابط کے طور پر قائم کیا جاتا ہے۔ آگے بتایا جاتا ہے کہ جو شِرادھ دَکشِنا کے بغیر، تِل-دَربھ کے بغیر، اَپاتر کو دیا گیا، اَشَوج/ناپاک حالت میں، ناپاک برتن میں، بے وقت یا وِدھی کے خلاف کیا جائے—وہ رाक्षس کا “حصہ” بنتا ہے؛ یہ شِرادھ کی درستگی کی تنبیہی فہرست ہے۔

54 verses

Adhyaya 188

Adhyaya 188

औदुम्बरी-माहात्म्यं तथा मातृगण-गमनं सावित्रीदत्त-शापवर्णनम् (Audumbarī’s Mahatmya; the arrival of the Mothers; Savitrī’s curse)

اس ادھیائے میں ویدک یَجْیَ کے ماحول—سَدَس، رِتْوِجوں کا انتخاب، ہوم کی ترتیب، اَدھْوَرْیُو کی ہدایات اور اُدْگاتا کے سام گان سے وابستہ اعمال—کو باقاعدہ طریقے سے بیان کیا گیا ہے۔ اسی دوران گندھرو پَروَت کی بیٹی، جاتِی-سْمَرا اَودُمبری، سام گیتی سے کھنچی چلی آتی ہے اور شَنگُو (میخ/نشان) سے مُعیَّن یَجْیَ-وِدھی دیکھ کر سبھا میں داخل ہوتی ہے۔ وہ اُدْگاتا کی لغزش درست کر کے دَکْشِناگنی میں فوراً ہوم کرنے کا حکم دیتی ہے اور بتاتی ہے کہ یَجْیَ میں باریک وِدھی-شُدھّی نجات بخش اور ناقابلِ ترک ہے۔ مکالمے میں اس کا پچھلا شاپ ظاہر ہوتا ہے—تان/مورچھنا جیسے موسیقی کے فنی امتیازات پر تمسخر کے سبب نارَد نے اسے انسانی جنم کا شاپ دیا؛ رہائی کی شرط یہ کہ پِتامَہ یَجْیَ کے فیصلہ کن لمحے میں وہ کلام کرے اور تمام دیوتاؤں کی سبھا میں اس کی شناخت و قبولیت ہو۔ اَودُمبری آئندہ یَجْیوں کے لیے ایک دائمی ضابطہ مانگتی ہے—سَدَس کے وسط میں اس کی مُورتِی نصب ہو اور شَنگُو کے حصول/آغاز سے پہلے اس کی پوجا کی جائے۔ دیوگن اور اُدْگاتا اسے لازم و ملزوم وِدھان مان کر قبول کرتے ہیں اور پھل-شروتی بتاتے ہیں کہ پھل، کپڑے، زیور، خوشبو و اَنولےپن وغیرہ کی نذر سے پُنّیہ کئی گنا بڑھتا ہے۔ پھر شہر کی عورتیں تجسّس اور بھکتی سے آ کر پوجا کرتی ہیں؛ اس کے انسانی ماں باپ بھی آتے ہیں مگر وہ اپنی آسمانی تقدیر کی حفاظت کے لیے انہیں ساشٹانگ پرنام سے روکتی ہے۔ بعد ازاں دیوتاؤں کی بڑی سبھا اور چھیاسی ماترِگن آ کر مقام و شناخت چاہتے ہیں۔ پَدْمَج برہما ایک ‘ناگر-جنم’ عالم نمائندے کو حکم دیتا ہے کہ ہر گروہ کے لیے علاقے کے مطابق نشستیں اور حدود مقرر کرے، یوں الٰہی آمد ایک منظم مقدّس جغرافیہ بن جاتی ہے۔ اسی پر ساوِتری، عزت میں کمی کا احساس کر کے شاپ دیتی ہے—ماترِگن کی آمدورفت محدود ہوگی، موسموں کی سختیوں کا دکھ جھیلنا پڑے گا، اور شہروں میں نہ پوجا ملے گی نہ رہائش (محلات)۔ اس طرح یہ ادھیائے یَجْیَ-وِدھی کی درستی، اَودُمبری کی پرتیِشٹھا کا ضابطہ، دیوی جماعتوں کی مقامی تقسیم، اور عزت کی غلط تقسیم سے شاپ کی دیرپا بندشوں کی اخلاقی تنبیہ سکھاتا ہے۔

87 verses

Adhyaya 189

Adhyaya 189

औदुम्बर्युत्पत्तिपूर्वकतत्प्राग्जन्मवृत्तान्तवर्णनम् (Origin of Audumbarī and Account of Prior Birth; Hāṭakeśvara-kṣetra Māhātmya)

اس باب میں شاپ سے دکھی گندھرو عورتیں—جو رات کے وقت رقص و گیت کے سہارے زندگی گزارتی ہیں اور سماج میں حقیر سمجھی جاتی ہیں—دیوی اودُمبری کی پناہ میں آ کر فریاد کرتی ہیں اور فلاح کا راستہ پوچھتی ہیں۔ دیوی ساوتری کے شاپ کی اٹل حقیقت کو مان کر اسی کو حفاظت بخش نعمت کے طور پر بیان کرتی ہیں—انہیں ‘اڑسٹھ گوتر’ میں مقررہ نسبتیں و ذمہ داریاں ملیں گی اور مقامِ مخصوص کی باقاعدہ پوجا کے ذریعے انہیں شناخت و قبولیت حاصل ہوگی۔ پھر شہر-مندر کی ایک رسم بیان ہوتی ہے—جس گھر میں منڈپ سے وابستہ طور پر خاص خوشحالی میں اضافہ ہو، اسے مقررہ نذر/ورت ادا کرنا چاہیے۔ شہر کے دروازے پر عورتوں کا ایک خاص عمل، ہنسی اور اشاروں کے ساتھ اور بلی جیسے نذرانوں سمیت، مقرر ہے؛ اس کی پابندی سے یَجْن کے حصے جیسی تسکین ملتی ہے، اور غفلت سے اولاد کا نقصان، بیماری وغیرہ کی نحوست بتائی گئی ہے۔ بعد ازاں قصہ دیوشَرما اور اس کی زوجہ کی طرف مڑتا ہے، جہاں نارَد کے سابقہ شاپ کے سبب اودُمبری کے انسانی پیکر میں نزول اور دیوی کی موجودگی و رسموں کے اختیار کی علت بیان ہوتی ہے۔ اختتام میں اُتسو اور اَوَبھرتھ اسنان کے مضامین کے ساتھ اس کھیتر کو ‘سروتیرتھ’ کہا گیا ہے اور خاص طور پر پُورنِما کے دن، بالخصوص عورتوں کے کیے ہوئے انوشتھان کا غیر معمولی پھل بیان کیا گیا ہے۔

30 verses

Adhyaya 190

Adhyaya 190

ब्रह्मयज्ञावभृथ-यक्ष्मतीर्थोत्पत्ति-माहात्म्य (Brahmā’s Yajña-Avabhṛtha and the Origin-Glory of the Yakṣmā Tīrtha)

اس باب میں سوت جی کے بیان سے ایک گہرا اور تہہ دار مذہبی مکالمہ سامنے آتا ہے۔ ہاٹکیشور-کشیتر میں ایک برہمن پانچ راتوں کی پنچرात्र رسم پوری کرکے، کلی یگ میں کرم کی آلودگی کے خوف سے زمین کے فدیہ و نجات کے لیے مناسب نذر/قربانی کے بارے میں ناگر برہمنوں سے پوچھتا ہے۔ تب برہما تیرتھوں کی کائناتی جگہ بتاتے ہیں—نیمِش پرتھوی پر، پشکر انترِکش میں، اور کوروکشیتر تینوں لوکوں میں پھیلا ہوا؛ نیز کارتک شُکل ایکادشی سے پُورنما تک پشکر کی زمین پر آسان دستیابی کا وعدہ کرتے ہیں۔ عقیدت کے ساتھ کیا گیا اسنان اور شرادھ اَکشَے (لازوال) پھل دینے والا کہا گیا ہے۔ پھر یَجْن کی تکمیل کا بیان آتا ہے۔ پلستیہ رِشی آکر رسم کی درستی کی تصدیق کرتے ہیں اور ورُن سے متعلق اختتامی اعمال، خصوصاً اَوَبھرِتھ اسنان، مقرر کرتے ہیں—اسی لمحے تیرتھوں کا سنگم ہوتا ہے اور شریک لوگ پاک ہو جاتے ہیں۔ ہجوم کے سبب برہما اندر کو حکم دیتے ہیں کہ بانس کے ساتھ بندھی ہرن کی کھال پانی میں ڈال کر اسنان کے وقت کا اشارہ کرے؛ اندر سالانہ شاہی اعادہ چاہتا ہے جس سے نہانے والوں کو حفاظت، فتح اور سال بھر کے گناہوں سے نجات ملے۔ آخر میں یَکشما (مرض کی دیوتا) برہما سے عرض کرتا ہے کہ یَجْن کے پھل کے لیے برہمنوں کی تسکین ضروری ہے، اس لیے رسم میں اس کی بھی شناخت ہو۔ برہما مقدس آگ رکھنے والے گرہستھوں کے لیے ویشودیو کے اختتام پر بَلی (نذر) کا قاعدہ قائم کرتے ہیں اور سبب بیان کرکے یقین دلاتے ہیں کہ اس ناگر سیاق میں یَکشما کا ظہور نہیں ہوگا۔ یوں یہ باب تیرتھ کی پیدائش و مہاتمّیہ کے ساتھ ایک معیاری رسم نامہ بھی بن جاتا ہے۔

83 verses

Adhyaya 191

Adhyaya 191

सावित्र्या यज्ञागमनकालिकोत्पाताद्यपशकुनोद्भववर्णनम् | Savitrī’s Journey to the Sacrifice and the Arising of Omens

رِشیوں نے سوت سے پوچھا کہ پہلے ساوتری اور گایتری کا ذکر کیوں آیا، یَجْن میں بیوی کے طور پر گایتری کا ربط کیسے قائم ہوا، اور ساوتری یَجْن-منڈپ کی طرف جا کر پَتْنی شالا میں کیسے داخل ہوئی۔ سوت نے بیان کیا کہ شوہر کی حالت سمجھ کر ساوتری نے اپنا عزم مضبوط کیا اور گوری، لکشمی، شچی، میدھا، ارُندھتی، سْوَدھا، سْواہا، کیرتی، بدھی، پُشٹی، کْشَما، دھرتی وغیرہ دیوی پتنیوں کو، نیز گھرتاچی، مینکا، رمبھا، اُروشی، تِلوتمّا وغیرہ اپسراؤں کو ساتھ لے کر روانہ ہوئی۔ گندھروؤں اور کِنّروں کے گیت و ساز کے ساتھ خوشی سے بڑھتے ہوئے ساوتری کو بار بار بدشگونیاں دکھائی دیں—دائیں آنکھ کا پھڑکنا، جانوروں کی نامبارک چال، پرندوں کی الٹی آوازیں، اور بدن میں مسلسل کپکپی؛ اس سے اس کے دل میں اضطراب پیدا ہوا۔ مگر ساتھ چلنے والی دیویاں باہمی گانے اور ناچ کی مسابقت میں محو رہیں، اس لیے ساوتری کے باطن کی بےچینی کو نہ سمجھ سکیں۔ یوں یہ باب یَجْن کی طرف جاتی جشن آمیز یاترا میں شَکُن/اُتپات کی پورانک علامتوں کو نمایاں کر کے اخلاقی بصیرت اور جذباتی تناؤ کو آشکار کرتا ہے۔

15 verses

Adhyaya 192

Adhyaya 192

सावित्रीमाहात्म्यवर्णनम् (Sāvitrī Māhātmya: The Glory of Sāvitrī at Hāṭakeśvara-kṣetra)

باب ۱۹۲ ہاٹکیشور-کشیتر میں دیوی ساوتری کے ماہاتمیہ کو ایک تیرتھ-روایت کی صورت میں بیان کرتا ہے۔ منگل دھونیوں کے درمیان نارَد وہاں آتے ہیں اور اپنی جننی کو جذبات سے بھر کر پرنام کرتے ہیں۔ پھر یَجْیَ میں ایک گوپ-جنم کنیا کو متبادل دلہن کے طور پر لایا جاتا ہے؛ اس کا نام گایتری رکھا جاتا ہے اور مجمع کے اعلانیہ کلمات سے اسے ‘برہمنی’ کے طور پر معروف کیا جاتا ہے۔ اسی دوران ساوتری یَجْیَ-منڈپ میں پہنچتی ہیں تو دیوتا اور رِتْوِج خوف و شرم سے خاموش ہو جاتے ہیں۔ ساوتری یَجْیَ آچار کی بے قاعدگی اور دھرم-سماجی انتشار پر طویل اخلاقی گرفت کرتی ہیں اور برہما (ودھی)، گایتری اور کئی دیوتاؤں و یاجکوں کو شاپ دیتی ہیں—جن کے ذریعے آئندہ زمانے میں پوجا کی کمی، بدبختی، قید و بند اور یَجْیَ-پھل کی گراوٹ کی علت بیان ہوتی ہے۔ بعد ازاں ساوتری روانہ ہو کر پہاڑی ڈھلوان پر اپنا پَوِتر قدم-نشان چھوڑ جاتی ہیں جو پاپ-ہر تیرتھ-نشان بن جاتا ہے۔ پورنیما کے دن پوجن، عورتوں کا دیپ-دان (متعین شُبھ پھل)، بھکتی ناچ-گیت سے شُدھی، پھل و اَنّ دان، کم سے کم نذر کے ساتھ شرادھ (گیا-شرادھ کے برابر پُنّیہ)، اور ساوتری کے حضور جپ سے جمع شدہ پاپوں کا نِواڑن—یہ سب بتائے گئے ہیں۔ آخر میں چمتکارپور جا کر دیوی کی پوجا کی ترغیب اور پڑھنے-سننے والوں کے لیے شُدھی و کلیان کی پھل شروتی دی گئی ہے۔

107 verses

Adhyaya 193

Adhyaya 193

गायत्रीवरप्रदानम् (Gayatrī’s Bestowal of Boons and the Reframing of Curses)

باب 193 سوال و جواب پر مبنی ایک الٰہیاتی گفتگو ہے۔ رِشی سوتا سے پوچھتے ہیں کہ ساوتری غصّے میں روانہ ہو کر شاپ (لعنتیں) دے گئیں تو اس کے بعد کیا ہوا، اور شاپ کے بندھن میں ہوتے ہوئے بھی دیوتا یَجْن شالا میں کیسے قائم رہے۔ سوتا بیان کرتا ہے کہ تب گایتری اٹھیں اور بولیں—ساوتری کے کلمات قطعی اختیار رکھتے ہیں؛ نہ دیوتا اور نہ اسُر انہیں بدل سکتے ہیں۔ ساوتری کو پرم پتی ورتا اور بزرگ دیوی کہہ کر ان کی وانی کے بندھن کی تقدیس و حجّت قائم کی جاتی ہے۔ گایتری شاپوں کو سچ مانتے ہوئے بھی تلافی کے طور پر ور (نعمت) کی ترتیب دیتی ہیں۔ برہما کی پوجا اور یَجْن میں مرکزی حیثیت ثابت کی جاتی ہے—برہما-ستانوں میں برہما کے بغیر کرم مکمل نہیں ہوتا؛ برہما درشن خصوصاً پَروَن کے دنوں میں کئی گنا پُنّیہ دیتا ہے۔ پھر آئندہ اساطیری تاریخ میں وِشنو کے آنے والے جنم، دوہری صورتیں اور سارتھی کی خدمت؛ اِندر کی قید اور برہما کے ذریعے رہائی؛ اگنی کی تطہیر اور دوبارہ پوجا کے لائق ہونا؛ اور شِو کی ازدواجی ترتیب کی نئی صورت بندی جس کا انجام ہِماچل کی بیٹی گوری کو برتر زوجہ کے طور پر پانا—یہ سب بیان ہوتا ہے۔ یوں پورانک طریقہ واضح ہوتا ہے: شاپ الٰہی طور پر معتبر رہتے ہیں، مگر ور، نئی ذمہ داریاں اور مقام و عبادت سے وابستہ پُنّیہ کے اصول انہیں اخلاقی و رسومی نظام میں سمو دیتے ہیں۔

21 verses

Adhyaya 194

Adhyaya 194

हाटकेश्वरक्षेत्रे कुमारिकातीर्थद्वय–गर्तस्थ–सिद्धिपादुकामाहात्म्यम् (Hāṭakeśvara-kṣetra: The Glory of the Two Kumārīkā Tīrthas and the Hidden Siddhi-Pādukā for Attaining Brahma-jñāna)

اس باب میں سوت جی مکالمے کے انداز میں عقیدۂ توحیدِ برہمن اور نجات کا بیان کرتے ہیں۔ آغاز میں دیوتاؤں اور رشیوں کی تائید سے یہ وعدہ سنایا جاتا ہے کہ جو فانی انسان پہلے برہما کی پوجا کرے اور پھر دیوی کی عبادت کرے وہ اعلیٰ ترین مقام پاتا ہے؛ نیز جو عورتیں گایتری کو نمسکار وغیرہ ادب و بھکتی سے انجام دیں انہیں سہاگ، اچھا نکاح اور گھریلو سکون جیسے دنیوی ثمرات بھی ملتے ہیں۔ پھر رشی برہما، وشنو اور شنکر کی عمر کے پیمانوں پر سوال اٹھا کر زمانے کی گنتی کی وضاحت چاہتے ہیں۔ سوت تروٹی، لوَ وغیرہ باریک زمانی اکائیوں سے لے کر دن-مہینہ-رتو-سال تک کی ترتیب اور انسانی برسوں کے حساب سے یگوں کی مدت بیان کرتے ہیں۔ وہ دیوتاؤں کے ‘دن’ اور ‘سال’ کے پیمانے، برہما-وشنو-شیو کی عمر کی حدیں، اور نِشواس/اُچھواس کی گنتی کے ذریعے سداشیو کے ‘اکشیہ’ (ناقابلِ زوال) ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ رشی پوچھتے ہیں کہ جب بڑے دیوتا بھی مقررہ مدت کے بعد ختم ہو جاتے ہیں تو کم عمر انسان موکش کی بات کیسے کرے؟ سوت ازلی اور عدد سے ماورا ‘کال’ کے اصول کو قائم کر کے کہتے ہیں کہ شردھا اور سادھنا سے پیدا ہونے والے برہما-گیان کے ذریعے بے شمار جیو، دیوتاؤں سمیت، مکتی پا چکے ہیں۔ وہ سوَرگ دینے والے یگیوں کو بار بار لوٹنے والا پھل اور برہما-گیان کو جنم-مرن کا خاتمہ کرنے والا بتاتے ہیں، اور یہ بھی کہ جنم جنم میں گیان کا ذخیرہ بتدریج بڑھتا ہے۔ آخر میں وہ اپنے والد سے ملا عملی اُپدیش سناتے ہیں: ہاٹکیشور-کشیتر میں دو کنواریوں (ایک برہمنی، ایک شودری) کے قائم کیے ہوئے دو مبارک تیرتھ ہیں۔ اشٹمی اور چتوردشی کو وہاں اسنان کر کے گڑھے میں چھپی ہوئی مشہور ‘سدھی-پادوکا’ کی پوجا کی جائے تو ایک سال کے ورت کے اختتام پر برہما-گیان کا اُدے ہوتا ہے۔ رشی اس ودھان کو قبول کر کے انوشتھان کا سنکلپ کرتے ہیں۔

62 verses

Adhyaya 195

Adhyaya 195

छान्दोग्यब्राह्मणकन्यावृत्तान्तवर्णनम् (Narrative of the Chāndogya Brāhmaṇa’s Daughter)

باب 195 میں رشی پہلے مذکور دو کرداروں—شودری اور برہمنی—اور ہاٹکیشور-کشیتر میں موجود ‘بے مثال تیرتھ-جوڑا’ کے آغاز، تعمیر اور ‘پادوکا’ (جوتی/چپل) کی علامت سے وابستہ ظہور کی روایت کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ سوت جواب میں ناگر برادری کے چاندوگیہ نامی ایک برہمن کا تعارف کراتے ہیں جو سام وید میں ماہر اور گِرہستھ دھرم میں ثابت قدم ہے۔ بڑھاپے میں اس کے ہاں مبارک علامتوں والی بیٹی پیدا ہوتی ہے؛ اس کا نام برہمنی رکھا جاتا ہے اور اس کی پیدائش سے گھر میں نور اور مسرت پھیل جاتی ہے۔ ساتھ ہی رتن وتی نامی ایک دوسری لڑکی کا بھی ذکر آتا ہے جسے روشن تمثیلات کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ دونوں سہیلیاں اس قدر گہری دوست بن جاتی ہیں کہ ساتھ کھاتی ہیں، ساتھ آرام کرتی ہیں، اور ان کی رفاقت ہی قصے کی بنیاد بن جاتی ہے۔ جب شادی کی بات اٹھتی ہے تو جدائی کے خوف سے برہمنی شادی قبول نہیں کرتی؛ وہ سہیلی کے بغیر جانے سے انکار کرتی ہے اور زبردستی کی صورت میں خود کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دیتی ہے—یوں شادی اس کی رضا اور رشتے کے دھرم کی اخلاقی آزمائش بن جاتی ہے۔ ماں ایک تدبیر بتاتی ہے کہ رتن وتی کی شادی بھی اسی گھرانے کے ربط میں طے کر دی جائے تاکہ ساتھ رہیں، مگر چاندوگیہ سماجی دستور کا حوالہ دے کر اسے قابلِ ملامت کہہ کر رد کر دیتا ہے۔ اس طرح سماجی ضابطہ، والدین کی اتھارٹی، بیٹی کا عہد اور قربت کے بندھن کی حفاظت—ان سب کا تصادم آگے تیرتھ-کَتھا کی تمہید بن جاتا ہے۔

36 verses

Adhyaya 196

Adhyaya 196

Bṛhadbala’s Journey to Anarteśa’s City (Dāśārṇādhipati–Anarteśa Alliance Narrative)

سوت بیان کرتے ہیں کہ انرت دیس کے راجا نے اپنی بیٹی رتن وتی کو جوانی کو پہنچتی اور بے مثال حسن سے آراستہ دیکھ کر کنیا دان کے دھرم پر غور کیا۔ نصیحت کی جاتی ہے کہ محض کام نکلوانے کے لالچ (کارْیَ-کارَڻ-لوبھ) سے نااہل دولہا کو بیٹی دینا بڑا گناہ اور ناموافق نتیجوں کا سبب ہے۔ جب مناسب رشتہ نہ ملا تو راجا نے مشہور مصوروں کو روئے زمین پر بھیجا کہ وہ جوان، شریف النسب اور بافضیلت بادشاہوں کی تصویریں بنا کر لائیں، تاکہ رتن وتی شاستری آداب کے مطابق خود موزوں ور چن سکے اور باپ کی خطا کم ہو۔ ان تصویروں میں داشارْن کے راجا برہدبل کو ہر طرح سے لائق قرار دیا گیا۔ پھر انرت کے راجا نے قاصد کے ذریعے برہدبل کو نکاح/ویواہ کی باقاعدہ دعوت بھیجی اور مشہور، نہایت حسین رتن وتی کا ہاتھ دینے کی پیشکش کی۔ پیغام سن کر برہدبل خوش ہوا اور چتورنگ لشکر کے ساتھ فوراً انرتیش کے شہر کی طرف روانہ ہوا؛ یوں اس باب میں بیان کردہ اتحاد کی یاترا کا آغاز ہوتا ہے۔

15 verses

Adhyaya 197

Adhyaya 197

परावसुप्रायश्चित्तविधानवृत्तान्तवर्णनम् (Parāvasu’s Expiation: Narrative of Prāyaścitta Procedure)

سوت بیان کرتے ہیں کہ عالم برہمن وشواواسو کا بیٹا پراؤسو ماہِ ماغھ میں تھکن اور غفلت کے باعث ایک طوائف کے گھر ٹھہرا اور پانی سمجھ کر نادانستہ شراب پی بیٹھا۔ جب اسے اپنے فعل کا احساس ہوا تو وہ سخت ندامت میں ڈوب گیا؛ پاکیزگی کے لیے شَنکھ تیرتھ میں اشنان کیا اور سماجی فروتنی کے ساتھ گرو کے پاس جا کر پرایَشچتّ کی درخواست کی۔ ابتدا میں دوستوں نے مذاق میں نامناسب تدبیر بتائی، مگر پراؤسو نے سنجیدہ کفّارہ ہی پر اصرار کیا۔ سمرتی شاستر کے ماہر برہمنوں سے مشورہ ہوا؛ انہوں نے جان بوجھ کر اور بے ارادہ پینے میں فرق واضح کر کے شاستروکت پرایَشچتّ مقرر کیا—جتنی مقدار پی گئی ہو، اسی نسبت سے آگ میں تپایا ہوا گھی پینا۔ ماں باپ نے جان کے خطرے اور بدنامی کے خوف سے اس سخت تپسیا کو روکنے کی کوشش کی۔ پھر برادری نے معزز بھرتریَجْن (درباری منظر میں ہری بھدر سے منسوب) سے فیصلہ چاہا۔ انہوں نے مقام و سیاق اور دیسی دھرم کے مطابق سمجھایا کہ ہنسی میں کہے گئے الفاظ بھی اگر اہلِ علم کی تفسیر سے معتبر ٹھہریں تو مقامی دھرم میں نافذ ہو سکتے ہیں۔ بادشاہ کی معاونت سے عدالت میں راجکماری رتناؤتی نے ماں جیسا بھاؤ اختیار کر کے علامتی تطہیر کی آزمائش کرائی—چھونے اور لبوں کے اتصال پر خون نہیں بلکہ دودھ ظاہر ہوا؛ یوں پراؤسو کی پاکیزگی سب کے سامنے ثابت ہوئی۔ آخر میں شہری ضابطہ بنا کہ ایسے گھروں میں نشہ آور چیزیں اور گوشت ممنوع ہوں گے؛ خلاف ورزی پر سزا—یوں ذاتی پرایَشچتّ کو عوامی اخلاقی نظم سے جوڑ دیا گیا۔

124 verses

Adhyaya 198

Adhyaya 198

Ratnāvatī–Brāhmaṇī Tapas and the Revelation of the Twin Tīrthas (Śūdrīnāma & Brāhmaṇīnāma) with a Māheśvara Liṅga

باب کا آغاز شاہی نکاح کی گفت و شنید سے ہوتا ہے، مگر طہارت اور نکاح کی اہلیت کے شرعی-قانونی اختلاف سے معاملہ بگڑ جاتا ہے۔ دَشَارْن کا راجا رتناؤتی کے حالات سن کر اسے ‘پُنَربھُو’ قرار دیتا ہے، نسب و خاندان کے زوال کا عیب بتا کر واپس لوٹ جاتا ہے۔ رتناؤتی دوسرے رشتوں کو رد کرتی ہے؛ وہ ایکدان-دھرم بیان کر کے کہتی ہے کہ دل کا ارادہ اور زبان کا عہد، ہاتھ پکڑنے کی رسم کے بغیر بھی، نکاحی حقیقت کو قائم کر دیتا ہے۔ وہ دوبارہ شادی کے بجائے سخت تپسیا کا عزم کرتی ہے؛ ماں سمجھاتی اور شادی کی تدبیریں پیش کرتی ہے، مگر رتناؤتی سمجھوتے کے بدلے جان دینے تک کی قسم کھا لیتی ہے۔ اس کی ساتھی برہمنی اپنی بلوغت/حیض سے متعلق سماجی و یاجنک پابندیوں کا ذکر کر کے رتناؤتی کے ساتھ تپسیا میں شریک ہونے کا فیصلہ کرتی ہے۔ بھرتریَجْن نامی آچاریہ چاندْرایَن، کرِچّھر، سانتپن، شَشٹھکال بھوجن، تری راتر، ایک بھکت وغیرہ درجۂ بدرجہ ریاضتیں بتاتے ہیں؛ باطنی توازن پر زور دیتے اور غصّے سے تپسیا کا پھل ضائع ہونے کی تنبیہ کرتے ہیں۔ رتناؤتی موسموں کے گزرنے تک طویل مدت سخت غذائی پابندیوں کے ساتھ تپسیا کر کے غیر معمولی تپو بل حاصل کرتی ہے۔ آخر میں ششی شیکھر شِو گوری کے ساتھ ظاہر ہو کر ور دیتے ہیں۔ برہمنی کی سفارش اور رتناؤتی کی درخواست سے کنولوں سے بھرا تالاب ‘شودرینام’ تیرتھ بن جاتا ہے، اس کے ساتھ ‘برہمنینام’ دوسرا تیرتھ بھی قائم ہوتا ہے، اور زمین سے سویمبھُو ماہیشور لِنگ نمودار ہوتا ہے۔ شِو ان دونوں تیرتھوں اور لِنگ کی مہیمہ بیان کرتے ہیں—ایمان سے اشنان، پاک پانی/کنول لینا اور پوجا گناہوں کے زوال اور درازیِ عمر کا سبب ہے؛ خصوصاً چَیتر شُکل چتُردشی، پیر کے دن۔ یم نرک کے خالی ہونے پر فریاد کرتا ہے؛ اندر کو حکم ہوتا ہے کہ گرد سے تیرتھ چھپا دے، پھر بھی کلی یگ میں وہاں کی مٹی سے پاک تلک لگانا اور اسی تِتھی پر شرادھ کرنا گیا-شرادھ کے برابر پھل والا کہا گیا ہے۔ سننے اور پڑھنے سے گناہوں سے نجات اور لِنگ کی ارچنا سے خاص کامیابی کی پھل شروتی پر باب ختم ہوتا ہے۔

106 verses

Adhyaya 199

Adhyaya 199

Adhyāya 199: Trika-Tīrtha Saṅgraha and Kali-yuga Upāya (त्रिकतीर्थसंग्रहः कलियुगोपायश्च)

اس باب میں رشی سوتا سے پوچھتے ہیں کہ کلی یُگ میں کم عمر انسان زمین پر بیان کیے گئے بے شمار تیرتھوں کے اشنان کا پھل کیسے حاصل کریں۔ سوتا دھرم کے اختصار کے طور پر چوبیس مقدّس ہستیوں/مقامات کو آٹھ تثلیثوں میں مرتب کرتے ہیں—کشیتر (کوروکشیتر، ہاٹکیشور-کشیتر، پربھاس)، ارنّیہ (پُشکر، نیمِش، دھرم آرنّیہ)، پوری (وارانسی، دوارکا، اونتی)، ون (ورِنداون، کھانڈو، دویت ون)، گرام (کلپ گرام، شالی گرام، نندی گرام)، تیرتھ (اگنی تیرتھ، شکلتیرتھ، پِتر تیرتھ)، پربت (شری پربت، اربُد، رَیوت) اور ندیاں (گنگا، نرمدا، سرسوتی)۔ متن کہتا ہے کہ ایک تثلیث میں اشنان کرنے سے اسی تثلیث کا پھل ملتا ہے، اور سب تثلیثوں میں اشنان کرنے سے بے شمار تیرتھوں کا کامل پُنّیہ حاصل ہوتا ہے۔ پھر رشی ہاٹکیشور کے علاقے کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ وہاں تیرتھ اور مندر اتنے زیادہ ہیں کہ سو برس میں بھی سب کی تکمیل ممکن نہیں؛ اس لیے خصوصاً کم استطاعت لوگوں کے لیے عام پُنّیہ اور دیوتا کے درشن کا آسان اُپائے بتائیے۔ سوتا ایک قدیم مکالمہ سناتے ہیں—ایک راجا وشوامتر سے پوچھتا ہے کہ ایک ہی تیرتھ میں اشنان سے سب تیرتھوں کا پھل کیسے ملے۔ وشوامتر چار بڑے تیرتھ اور ان کے انوِشٹھان بتاتے ہیں: (1) گیا سے وابستہ مقدّس کنواں، جہاں خاص تِتھی/سورج گرہن وغیرہ میں شرادھ سے پِتروں کی نجات کہی گئی ہے؛ (2) شنکھ تیرتھ، ماہِ ماغھ میں شنکھیشور درشن کے ساتھ؛ (3) وشوامتر کے قائم کردہ ہَر لِنگ ‘وشوامترےشور’ سے وابستہ تیرتھ، شُکل اَشٹمی کے ساتھ؛ (4) شکرا تیرتھ (بالمنڈن)، کئی دن اشنان اور شکریشور درشن، خاص طور پر آشوِن شُکل اَشٹمی میں۔ اس کے بعد شرادھ کے طریقے کے باریک اصول آتے ہیں—مقامی اہل (ستھان اُدبھَو) برہمنوں کی تاکید، نااہل افراد یا ناپاکی سے کرم کے ضائع ہونے کی تنبیہ، اور بعض مقامی نسلوں/کُلوں (اَشٹکُل وغیرہ) کی ترجیح۔ آخر میں لعنتوں، لغزشوں اور برہمن کے بھیس میں ایک خارج از ذات شخص کی حکایت کے ذریعے سماجی و یاجنک حدود کی علت بیان کر کے متن کی داخلی منطقِ تاثیر کو مضبوط کیا جاتا ہے۔

172 verses

Adhyaya 200

Adhyaya 200

Adhyāya 200 — Nāgara-Maryādā, Saṃsarga-Doṣa, and Prāyaścitta-Vidhi (Purity Restoration Protocols)

اس باب میں پوشیدہ سماجی شناخت اور ضابطہ بند مذہبی برادری میں ہم طعامی/اختلاط (سَمسَرگ) سے پیدا ہونے والی ناپاکی پر فقہی و دھرم شاستری گفتگو بیان ہوئی ہے۔ سحر کے وقت دِکشِت، آہِتاگنی گِرہستھ شُبھدر کی بیٹی فریاد کرتی ہے کہ اسے ایک اَنتیَج (سماجی طور پر خارج) کے حوالے کر دیا گیا ہے؛ وہ آگ میں داخل ہونے کا ارادہ ظاہر کرتی ہے تو گھر والے ششدر رہ جاتے ہیں۔ برہمن خبر دیتے ہیں کہ چندرپربھ نامی شخص نے دِوِج کا روپ دھار کر طویل عرصہ دیوتا اور پِتر کرموں میں شرکت کی، مگر اب وہ چانڈال ثابت ہوا؛ لہٰذا اس کے اختلاط سے وہ جگہ، وہاں کے باشندے، اور جنہوں نے اس گھر میں کھایا پیا یا وہاں سے لایا ہوا اَنّ قبول کیا—سب آلودہ سمجھے گئے۔ اختیار رکھنے والا دِکشِت سمرتی شاستر سے رجوع کر کے درجۂ بہ درجۂ پرایَشچِتّ بتاتا ہے—شُبھدر کے لیے طویل چاندَرایَن، گھریلو ذخائر کا ترک، آگنیوں کی ازسرِنو स्थापना، گھر کی تطہیر کے لیے بڑے ہوم، اور کھانوں کی تعداد و پانی پینے کی مقدار کے مطابق مخصوص تپسیا۔ لمس کے اختلاط سے متاثر رہائشیوں کے لیے جداگانہ پراجاپتیہ وغیرہ، عورتوں، شودروں، بچوں اور بوڑھوں کے لیے ہلکی صورت، اور مٹی کے برتن پھینک دینے کا حکم ہے۔ برہماستھان میں مقام کی دولت سے کوٹی ہوم کے ذریعے وسیع تطہیر بھی مقرر کی گئی ہے۔ پھر شرادھ وغیرہ کے لیے ‘ناگر مریادا’ کی حد بندی کے قواعد مرتب ہوتے ہیں—ناگر طریقہ چھوڑ کر کیا گیا کرم بے ثمر کہا گیا ہے، اور ہر سال اپنے مقام کی تطہیر کی تاکید ہے۔ اختتام پر وشوامتر راجہ سے تصدیق کرتا ہے کہ یہی قائم شدہ نظام ہے جس سے ناگر لوگ شرادھ کے لائق مانے جاتے ہیں اور بھرتریَجْیَ کے بنیاد پر بنے ضوابط سے برادری منضبط رہتی ہے۔

37 verses

Adhyaya 201

Adhyaya 201

नागरप्रश्ननिर्णयवर्णनम् (Nagara Status Inquiry and Adjudication)

اس باب میں برہمن وِشوَامِتر سے ‘ناگر’ برہمن کی شُدھی (تطہیر) اور رسومی اہلیت کے بارے میں باقاعدہ استفسار کرتے ہیں—ایسے شخص کے متعلق جس کا پدری نسب نامعلوم ہو اور جو دیس اَنتَر میں پیدا ہوا ہو یا وہاں سے آیا ہو۔ بھرتریَجْنَہ جواب میں ایک فیصلہ کن رسومی طریقہ بیان کرتے ہیں: شُدھی کا اجراء سربراہ، منضبط اور شیلوان برہمنوں کے ہاتھوں ہو، اور گرتا-تیرتھ سے وابستہ برہمن کو نمایاں گواہ/مُصالِح کے طور پر مقرر کیا جائے۔ خواہش، غضب، عداوت یا خوف کی بنا پر شُدھی سے انکار کو سخت گناہ قرار دے کر من مانے اخراج پر اخلاقی پابندی قائم کی گئی ہے۔ شُدھی کو تین حصوں میں بتایا گیا ہے: پہلے کُل/نسب کی شُدھی، پھر ماں کی طرف کے نسب کی شُدھی، اور آخر میں شیل/کردار کی شُدھی؛ اس کے بعد اسے ‘ناگر’ تسلیم کر کے سَامانْیَ پَد (عام رسومی مرتبہ) کا اہل مانا جاتا ہے۔ سال کے اختتام اور خزاں میں مجلس، سولہ اہل برہمنوں کی تنصیب، ویدک تلاوتی ذمہ داریوں سے متعلق متعدد پیٹھیکاؤں کے ساتھ نشستوں کی ترتیب، اور شانتی پاٹھ، سوکت/برہمن حصوں اور رُدر مرکوز تلاوتوں کا سلسلہ بیان ہوا ہے۔ انجام پر پُنْیَاہ کی مبارک اعلانیاں، موسیقی، سفید لباس و چندن، مُصالِح کی مؤدبانہ عرضداشت، عام بحث کے بجائے ویدک کلامی افعال کے ذریعے فیصلہ، اور فیصلہ کے لمحے ‘تال-تریہ’ کی نذر پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

43 verses

Adhyaya 202

Adhyaya 202

भर्तृयज्ञवाक्यनिर्णयवर्णनम् (Bhartṛyajña on Adjudicating Speech and Preserving Kṣetra-Sanctity)

باب 202 میں، سیاقِ ویِشوامِتر کے بعد برہمنوں کی مجلس ایک ثالث/منصف (مَدیَستھ) سے فیصلہ کرنے کے اصول پوچھتی ہے۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ حکم انسانی اقوال کے بجائے ویدک کلام کے مطابق کیوں ہو، اور ثالث ‘تین گنا تال’ کیوں عطا کرتا ہے۔ بھرتریَجْیَہ بتاتے ہیں کہ برہما شالا میں قائم مقدّس کْشَیتر کی حکمرانی میں یہ لازم ہے کہ ناگروں کے درمیان جھوٹی بات نہ اٹھے؛ اور جب تک پائیدار تعیین نہ ہو، بار بار سوال و جواب سے تحقیق کی جائے۔ وہ علت و معلول کی زنجیر بیان کرتے ہیں: غیر معتبر کلام سے ماہاتمیہ کو نقصان پہنچتا ہے، پھر غصہ پیدا ہوتا ہے، اس کے بعد دشمنی اور آخرکار اخلاقی/دھارمک خطا۔ اسی لیے اجتماعی نظم ٹوٹنے سے بچانے کو ثالث سے مکرر پوچھ گچھ کی جاتی ہے۔ ‘تین گنا تال’ تادیبی تدبیر ہے جو بتدریج (1) نامناسب سوال و جواب سے جڑی ضرر رسانی، (2) غصہ، اور (3) لالچ کو دبا کر مجلس کی ہم آہنگی قائم رکھتی ہے۔ پھر یہ واضح کیا جاتا ہے کہ اگرچہ اتھرو وید کو ‘چوتھا’ گنا جاتا ہے، مگر عملی طور پر کام کی تکمیل (کاریہ سدھی) کے لیے اسے ‘اوّل’ کیوں سمجھا جائے۔ کیونکہ اس میں حفاظتی و عملی رسوم کا جامع علم، تمام جہانوں کی بھلائی کے لیے تدابیر، اور اَبھِچارِک وغیرہ مواد بھی شامل ہے؛ اس لیے کام کی انجام دہی میں پہلے اسی سے رجوع مناسب ہے۔ یوں کْشَیتر کے ماحول میں سوال کی اخلاقیات اور معتبر کلام کی حرمت ایک وحدت کے ساتھ بیان ہوتی ہے۔

20 verses

Adhyaya 203

Adhyaya 203

नागरविशुद्धिप्रकारवर्णनम् — Procedure for the Purification/Validation of a Nāgara Dvija

باب 203 میں ناگر دْوِج کی برادری کے سامنے شُدھی/تصدیقِ طہارت کا طریقہ بیان ہوا ہے۔ آنرت پوچھتا ہے کہ شُدھی کے لیے آیا ہوا ناگر، ناگروں کے روبرو کھڑا ہو کر کیسے معتبر طہارت پاتا ہے۔ متن کے مطابق ایک غیر جانب دار ثالث مقرر کیا جائے جو ماں، باپ، گوتر، پروَر وغیرہ کی تفصیل پوچھے اور پدری جانب باپ–دادا–پردادا تک، نیز مادری جانب بھی اسی طرح کئی نسلوں تک نسب نامہ باریک بینی سے جانچے۔ شُدھی کے اعمال میں مصروف برہمن پوری احتیاط سے شاخا-آگم اور مُول وَنش (اصل نسب) طے کریں؛ اسے برگد کی پھیلی ہوئی جڑوں کی مانند بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ نسب ثابت ہونے کے بعد مجلس میں سندور تلک اور منتر (چتُشپاد منتر کے حوالہ سمیت) کے ذریعے شُدھی عطا کی جاتی ہے۔ ثالث باقاعدہ اعلان کرتا ہے، برادری اشارے کے طور پر تین بار تالیاں/تाड़ن کرتی ہے، اور شُدھ شخص کو مشترک سماجی و یاجنک حیثیت ملتی ہے۔ پھر وہ آگ کی پناہ لیتا ہے، اگنی کو راضی کرتا ہے، پنچ مُکھ منتر سے پُورن آہُتی دیتا ہے اور استطاعت کے مطابق کھانے سمیت دکشِنا پیش کرتا ہے۔ آخر میں تنبیہ ہے کہ اگر اصل نسب پر مبنی شُدھی قائم نہ ہو تو پابندی لازم ہے؛ ناپاک مُجری کے ہاتھوں کیا گیا شرادھ وغیرہ بے ثمر ہے—مقصد مقام اور خاندان کی پاکیزگی کو سخت طریقۂ کار سے یقینی بنانا ہے۔

18 verses

Adhyaya 204

Adhyaya 204

प्रेतश्राद्धकथनम् (Preta-Śrāddha: Discourse on Ancestral Rites for the Preta-State)

اس ادھیائے میں تیرتھ ماہاتمیہ کے دائرے میں دو مربوط مباحث آتے ہیں۔ پہلے، نسب و خاندان کے گم ہو جانے (نَشٹ وَمْش) کے باوجود اپنے آپ کو ‘ناگر’ کہنے والے آنرت کے سوال پر شُدھی (تطہیر) کا طریقہ بتایا جاتا ہے۔ وشوامتر پچھلی مثال سناتے ہیں—بھرتریَجْن کے مطابق پہلے شخص کے شیل (کردار) اور ناگر دھرم/آچار کی مطابقت دیکھی جائے؛ اگر آچرن موافق ہو تو باقاعدہ شُدھی کر کے شرادھ وغیرہ کے کرموں کی اہلیت دوبارہ قائم ہو جاتی ہے۔ پھر ہِرَنیّاکش کے ساتھ جنگ میں مارے جانے والوں کے سبب شکر–وشنو سنواد ہوتا ہے۔ وشنو فرق واضح کرتے ہیں—پاک مقام (مکالمے میں ‘دھارا تیرتھ’) پر دشمن کے سامنے ڈٹ کر مارے جانے والے دوبارہ جنم میں نہیں لوٹتے، مگر جو پیٹھ دکھا کر بھاگتے ہوئے مارے گئے وہ پریت-اَوَستھا کو پہنچتے ہیں۔ اندَر جب موکش کا اُپائے پوچھتا ہے تو بتایا جاتا ہے کہ بھاد्रپد (نَبھاسْیَ) کے مہینے کی کرشن پکش چتُردشی کو، جب سورج کنیا راشی میں ہو، خاص طور پر گیا میں پِتروں کی آج्ञا کے مطابق شرادھ کیا جائے۔ اس سے پِتروں کو سالانہ تسکین ملتی ہے؛ اور اگر یہ نہ کیا جائے تو پریتوں کی تکلیف جاری رہتی ہے۔

38 verses

Adhyaya 205

Adhyaya 205

गयाश्राद्धफलमाहात्म्य (Glory of the Fruit of Gayā-Śrāddha) — within Hāṭakeśvara-kṣetra Māhātmya

اس باب میں ہاٹکیشور-کشیتر ماہاتمیہ کے ضمن میں وِشنو اندَر کو شرادھ کی دھارمک ودھی بتاتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ جو یودھا جنگ میں دشمن کے روبرو مارے گئے ہوں یا پیٹھ پیچھے سے ضرب کھا کر گرے ہوں—ایسے پَتِت یودھاؤں کو بھی گیا-شرادھ کے مانند پِنڈ اور ترپن کی نذر سے فائدہ پہنچتا ہے۔ تب اندَر سوال کرتا ہے کہ گیا تو دور ہے اور وہاں پِتامہہ برہما ہر سال ودھی کرتے ہیں؛ پھر زمین پر عملی طور پر شرادھ-سِدھی کیسے حاصل ہو؟ وشوامتر وِشنو کا جواب سناتے ہیں کہ ہاٹکیشور کے علاقے میں کوپِکا کے وسط میں ایک نہایت پُنیہ تیرتھ ہے۔ اماوسیا اور چتُردشی کو وہاں ‘گیا’ کا سنکرمَن مانا گیا ہے اور اس مقام میں سب تیرتھوں کی مجتمع شکتی سمائی ہوتی ہے۔ مزید شرط یہ ہے کہ جب سورج کنیا راشی میں ہو، تو اَشٹ وَنش-پرَسِدھ برہمنوں کے ذریعے وہاں شرادھ کرنے سے پریت اوستھا میں پڑے پِتر بھی، اور اس کے ساتھ سوَرگستھ پِتر بھی، اُدھّار پاتے ہیں۔ ان برہمنوں کی نسبت بتایا گیا ہے کہ وہ ہمالیہ کے نزدیک رہنے والے تپسوی ہیں۔ وِشنو اندَر کو حکم دیتے ہیں کہ انہیں عزت کے ساتھ بلاؤ، ساموپائے سے راضی کرو اور نیَم کے مطابق شرادھ پورا کرو۔ آخر میں اندَر مطمئن ہو کر ہمالیہ کی طرف ان برہمنوں کی تلاش میں روانہ ہوتا ہے اور وِشنو کَشیرساگر کو تشریف لے جاتے ہیں—یوں اس باب میں تیرتھ کی بنا پر گیا-سَمان پھل اور ودھی کی ترتیب دونوں پر زور دیا گیا ہے۔

16 verses

Adhyaya 206

Adhyaya 206

बालमण्डनतीर्थमाहात्म्यवर्णनम् (Glorification of Bālamaṇḍana Tīrtha)

اس باب میں تیرتھ-ماہاتمیہ کے پس منظر میں وشوامتر اور آنرت کا مکالمہ بیان ہوا ہے۔ وشنو کے حکم سے اندر ہِماوت پر سخت تپسیا کرنے والے رشیوں کے پاس جا کر چامتکارپور کی گیاکُوپی میں شرادھ کے لیے ان کی شرکت چاہتا ہے۔ رشی تردد کرتے ہیں: جھگڑالو لوگوں کی صحبت کا اخلاقی خطرہ، غصّے سے تپسیا کا زیاں، اور شاہی دان قبول کرنے سے زہد و سنیاس کے آدرش میں خلل۔ اندر کہتا ہے کہ ہاٹکیشور سے منسوب اس مقام کی تاثیر سے نزاع اٹھ سکتا ہے، مگر وہ غصّے اور وِگھن سے حفاظت کرے گا اور گیا-شرادھ کے غیر معمولی پھل کو واضح کرتا ہے۔ پھر رسم میں بحران آتا ہے کہ وشویدیَو (Viśvedevas) برہما کے شرادھ میں گئے ہوئے ہیں۔ اندر اعلان کرتا ہے کہ وشویدیَو کے بغیر بھی انسان ایکودّشٹ شرادھ کریں؛ آکاش وانی تصدیق کرتی ہے کہ جن پِتروں کے لیے نیت کی گئی ہے انہیں نجات بخش پھل ملے گا۔ بعد میں برہما قاعدہ دوبارہ مقرر کرتا ہے کہ صرف مخصوص دنوں اور خاص موت کی حالتوں میں (خصوصاً پریت پکش چتُردشی) ہی وشویدیَو-بغیر شرادھ معتبر ہے۔ وشویدیَو کے آنسوؤں سے کوُشمाण्डوں کی پیدائش اور شرادھ کے برتنوں پر بھسم کی لکیریں لگا کر حفاظت کا وِدھان بھی بتایا گیا ہے۔ آخر میں اندر ماہِ ماغھ، شُکل پکش، پُشیہ نکشتر، اتوار، تریودشی کو بالمنڈن کے نزدیک شِو لِنگ قائم کرتا ہے اور وہاں اسنان و پِتر ترپن کے فوائد، پجاریوں کی نگہداشت و دان، اور ناشکری کے اخلاقی وبال کی نصیحت کرتا ہے۔

168 verses

Adhyaya 207

Adhyaya 207

इन्द्रमहोत्सववर्णनम् (Indra Mahotsava—Institution and Ritual Logic)

اس باب میں وشوامتر پہلے تیرتھ کی تطہیری قوت، اشنان کے ثواب اور مخصوص زمانے کی تعیین بیان کرتے ہیں۔ پھر آنرت پوچھتا ہے کہ اندَر کی زمینی عبادت صرف پانچ راتوں تک کیوں محدود ہے اور یہ کس موسم میں ہونی چاہیے۔ تب وشوامتر گوتَم–اہلیا کا واقعہ سناتے ہیں: اندَر کی خطا، گوتَم کا شاپ (قوتِ مردمی کا زوال، چہرے پر ہزار نشان، اور زمین پر پوجا کرنے پر سر پھٹنے کا اندیشہ)، اہلیا کا پتھر بن جانا، اور اندَر کا کنارہ کش ہونا۔ اندَر کی بادشاہی کے بغیر کائنات مضطرب ہوئی تو برہسپتی اور دیوتا گوتَم سے التجا کرتے ہیں۔ برہما وشنو اور شِو کے ساتھ ثالثی کرتے ہوئے ضبطِ نفس اور درگزر کی فضیلت بتاتے ہیں، مگر ادا کیے ہوئے کلام کی حرمت بھی قائم رکھتے ہیں۔ شاپ جزوی طور پر کم ہوتا ہے: اندَر کو مینڈھے سے متعلق اعضا ملتے ہیں اور چہرے کے نشان آنکھوں میں بدل کر وہ ‘سہسر اکش’ کہلاتا ہے۔ اندَر انسانوں میں دوبارہ پوجا کی اجازت چاہتا ہے تو گوتَم پانچ راتوں کا زمینی اندَر مہوتسو قائم کرتے ہیں اور وعدہ کرتے ہیں کہ جہاں یہ ورت ہوگا وہاں صحت، قحط سے حفاظت اور سیاسی زوال کا فقدان رہے گا۔ قید یہ ہے کہ اندَر کی مورتی کی پوجا نہ ہو؛ درخت سے پیدا شدہ یاشٹی کو ویدی منتر سے نصب کیا جائے، اور ورت کا پھل اخلاقی اصلاح اور بعض گناہوں سے رہائی کے ساتھ وابستہ ہے۔ پھل شروتی میں تلاوت/سماع سے سال بھر بیماری سے آزادی اور ارگھیا منتر سے مخصوص دَوش کے زوال کا ذکر ہے۔

77 verses

Adhyaya 208

Adhyaya 208

हाटकेश्वरक्षेत्रमाहात्म्ये गौतमेश्वराहिल्येश्वरशतानन्देश्वरमाहात्म्यवर्णनम् (Hāṭakeśvara-kṣetra Māhātmya: The Glories of Gautameśvara, Ahilyeśvara, and Śatānandeśvara)

اس باب میں وشوامتر ایک بادشاہ کو تہہ در تہہ ماہاتمیہ کی صورت میں روایت سناتے ہیں۔ اندرا کے واقعے کے بعد گوتم کے غضب کا ذکر آتا ہے، پھر شتانند اپنی ماں اہلیہ کی حالت پر رحم کی درخواست کرتا ہے اور طہارت و ناپاکی (شَौچ–اَشَौچ) اور تطہیر کا مسئلہ اٹھتا ہے۔ گوتم ناپاکی کی سختی بیان کرکے کہتے ہیں کہ عام پرایَشچِت سے اہلیہ کی شُدھی ممکن نہیں؛ تب شتانند انتہائی ایثار و قربانی کا ورت اختیار کرتا ہے۔ اس کے بعد گوتم آئندہ کا حل بتاتے ہیں کہ سورَیَوَمش میں رام اوتار لے کر راون کا وध کریں گے اور محض اُن کے لمس سے اہلیہ کا اُدھار ہوگا۔ رام اوتار کے سیاق میں وشوامتر کم سن رام کو یَجْن کی حفاظت کے لیے لے جاتے ہیں؛ راستے میں شاپ سے پتھر بنی اہلیہ کو چھونے کی ہدایت ہوتی ہے، وہ پھر انسانی روپ پاتی ہے، گوتم کے پاس جا کر مکمل پرایَشچِت مانگتی ہے۔ گوتم متعدد چاندْرایَن، کِرِچّھر، پراجاپتیہ ورت اور تیرتھ سیوا کا وِدھان کرتے ہیں۔ اہلیہ تیرتھ یاترا کرتے ہوئے ہاٹکیشور کْشَیتر پہنچتی ہے جہاں دیوتا کا درشن آسان نہیں۔ وہ سخت تپسیا کرتی ہے اور قریب ایک لِنگ کی پرتِشٹھا کرتی ہے؛ بعد میں شتانند بھی آ کر ساتھ تپسیا کرتا ہے۔ آخرکار گوتم آ کر اور بھی بڑی تپسیا سے ہاٹکیشور کو پرگٹ کرنے کا سنکلپ کرتے ہیں؛ طویل تپسیا کے پھل سے لِنگ پرگٹ ہوتا ہے اور شِو ساکشات درشن دے کر کْشَیتر کی شکتی اور خاندان کی بھکتی کو سراہتے ہیں۔ گوتم ور مانگتے ہیں کہ یہاں درشن و پوجا سے عظیم پُنّیہ ملے اور ایک مخصوص تِتھی پر بھکتوں کو شُبھ لوک کی پرابتि ہو۔ اختتام میں بتایا جاتا ہے کہ ان استھانوں کی کرپا سے اخلاقی طور پر گرے ہوئے لوگ بھی پُنّیہ کی طرف مائل ہونے لگتے ہیں؛ اس سے دیوتا فکرمند ہو کر اندرا سے یَجْن، ورت، دان وغیرہ عام دھارمک آچارن کو پھر سے جاری کرنے کی درخواست کرتے ہیں تاکہ دھرم کی ترتیب میں توازن رہے۔ پھل شروتی میں عقیدت سے سننے والوں کے بعض پاپوں کے شمن کی بشارت ہے۔

94 verses

Adhyaya 209

Adhyaya 209

शंखादित्य-शंखतीर्थोत्पत्तिवृत्तान्तवर्णनम् (Origin Account of Śaṅkhatīrtha and Śaṅkheśvara/Āditya Worship)

اس اَدھیائے میں مکالمات کی تہہ در تہہ ترتیب کے ساتھ شَنکھ تیرتھ کی پیدائش اور عظمت بیان ہوتی ہے۔ آنرت نامی راجا وشوامتر سے شَنکھ تیرتھ کا مکمل حال پوچھتا ہے۔ وشوامتر ایک سابقہ واقعہ سناتے ہیں—ایک قدیم بادشاہ کوڑھ، سیاسی زوال اور دولت کے نقصان سے پریشان ہو کر نارَد کے پاس رہنمائی کے لیے جاتا ہے۔ نارَد اس کی کرم-بھیتی دور کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ پچھلے جنم کا کوئی پاپ نہیں؛ بلکہ وہ سوم وَنش کا دھرم نِشٹھ راجا تھا۔ اس طرح الزام تراشی کے بجائے شاستروکت علاج و پرہیز کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ نارَد ایک مقررہ تیرتھ-وِدھی بتاتے ہیں—ہاٹکیشور کھیتر کے شَنکھ تیرتھ میں مادھو (ویشاکھ) ماہ کی شُکل اَشٹمی کو، اتوار کے دن، سورج نکلتے وقت اشنان کر کے شَنکھیشور کا درشن و پوجن کیا جائے۔ اس سے کوڑھ سے نجات اور مقاصد کی تکمیل کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ پھر تیرتھ کی سبب-کَتھا آتی ہے—لکھِت اور شَنکھ نامی دو عالم بھائی ویران آشرم سے پھل لینے پر جھگڑتے ہیں؛ لکھِت دھرم شاستر کے مطابق اسے چوری کہہ کر ملامت کرتا ہے، اور شَنکھ تپسیا کے نقصان سے بچنے کے لیے پرایشچت قبول کرتا ہے۔ سخت سزا میں اس کے ہاتھ کاٹ دیے جاتے ہیں؛ پھر وہ ہاٹکیشور میں طویل تپسیا کرتا ہے—موسموں کے مطابق کٹھن ریاضت، رُدر پاٹھ اور سورج کی اُپاسنا۔ آخر میں مہادیو سورج سے وابستہ تجلی کے ساتھ پرگٹ ہو کر ور دیتے ہیں—شَنکھ کے ہاتھوں کی بحالی، لِنگ میں دیویہ سَنِدھی کی स्थापना، تالاب کا ‘شَنکھ تیرتھ’ نام سے مشہور ہونا، اور آئندہ یاتریوں کے لیے پھل شروتی۔ اختتام پر کہا گیا ہے کہ جو اس کَتھا کو سنے یا پڑھے، اس کی نسل میں کوڑھ پیدا نہیں ہوتا۔

89 verses

Adhyaya 210

Adhyaya 210

ताम्बूलोत्पत्तिः तथा ताम्बूलमाहात्म्यवर्णनम् (Origin and Māhātmya of Tāmbūla)

اس ادھیائے میں شَنکھ تیرتھ سے وابستہ ایک بحالی کا واقعہ بیان ہوتا ہے۔ ایک راجا بیماری میں مبتلا تھا؛ وہ مادھو ماہ کی اشٹمی، اتوار کے دن، سورج طلوع ہوتے وقت اسنان کر کے سوریا کی پوجا/عبادت مقررہ طریقے سے کرتا ہے اور اسی وقتِ معین کے کرم کے اثر سے روگ سے نجات پاتا ہے۔ پھر تامبول (پان) کے استعمال کی اخلاقی ہدایات آتی ہیں—غلط یا ناپاک طریقے سے لینے پر دوش پیدا ہوتے ہیں اور دولت و برکت میں کمی آتی ہے؛ ان دوشوں کی صفائی کے لیے پرایَشچِت (کفّارہ) کے طریقے بھی بتائے گئے ہیں۔ سمندر منتھن کی کڑی میں ناگولّی کی پیدائش، امرت سے وابستہ دیویہ مادّوں کے ساتھ اس کا ظہور، پھر انسانی دنیا میں پھیلاؤ اور اس کے نتیجے میں شہوت میں اضافہ اور یَجْن و کرم کے آچرن میں سستی جیسے سماجی اثرات بیان کیے گئے ہیں۔ آخر میں اصلاحی رسم مقرر کی گئی ہے—شُبھ وقت میں ودوان برہمن کو بلانا، اس کا ستکار کرنا، سونے کا پتّا اور تامبول وغیرہ تیار کرنا، منتر کے ساتھ اپنے قصور کا اقرار/نِویدن کر کے دان دینا اور شُدھی کا اطمینان حاصل کرنا۔ یوں ادھیائے میں منضبط لذت، اخلاقی ضبط اور دان کے ذریعے تطہیر کا نمونہ قائم کیا گیا ہے۔

97 verses

Adhyaya 211

Adhyaya 211

Śaṅkhatīrtha-māhātmya (Glory of Śaṅkhatīrtha)

یہ باب نصیحت آموز مکالمے کی صورت میں ہے۔ وشوامتر راجہ کی مصیبتوں—غربت، کوڑھ (کُشٹھ) اور جنگ میں شکست—کی وجہ پوچھتے ہیں۔ نارَد بتاتے ہیں کہ راجہ کا زوال اس کے اخلاقی و انتظامی قصور سے ہوا: برہمنوں کو بار بار مایوس کرنا، وعدہ کر کے مدد نہ دینا، سائلوں کی تحقیر کرنا، اور آباء و اجداد و والد کے اُن شاسن/احکام کو دبانا یا ہٹا دینا جو برہمنوں کے حقوق اور عطیات و جاگیروں سے متعلق تھے۔ اس ادھرم کے سبب دشمن راجہ پر غالب آتے ہیں۔ تدارک واضح اور تیرتھ سے وابستہ ہے۔ راجہ عقیدت کے ساتھ شَنکھ تیرتھ جاتا ہے، اشنان کرتا ہے، برہمنوں کو جمع کر کے شَنکھادِتیہ کے حضور ان کے پاؤں دھوتا ہے، اور متعدد دان پتر/فرامینِ عطا (متعین تعداد سمیت) جاری کر کے جو روکا تھا واپس کرتا ہے۔ انجام میں برہمنوں کے پرساد سے وہیں موجود دشمن ہلاک ہو جاتے ہیں—یہ پورانک اصول ظاہر ہوتا ہے کہ سماجی و مذہبی تلافی اور تعظیم سے بدن اور سلطنت دونوں کی خوش بختی قائم رہتی ہے۔

13 verses

Adhyaya 212

Adhyaya 212

रत्नादित्यमाहात्म्यवर्णनम् (Ratnāditya Māhātmya — The Glory of Ratnāditya)

باب کے آغاز میں رشی ہاٹکیشور-کشیتر کے سیاق میں وشوامتر سے وابستہ تیرتھ کی مہیمہ سنانے کی درخواست سوت سے کرتے ہیں۔ سوت وشوامتر کی غیر معمولی عظمت بیان کرکے اُن کے بنائے ہوئے کنڈ کا ذکر کرتے ہیں، جہاں جاہنوی (گنگا) کے روپ میں پاکیزہ پانی ظاہر ہوکر گناہ ناشک تاثیر دکھاتا ہے۔ اسی مقام پر بھاسکر (سورج) کی پرتِشٹھا کا بیان ہے، اور یہ وِدھی بتائی گئی ہے کہ ماغھ کے شُکل پکش میں جب سپتمی اتوار کے ساتھ آئے تو اس دن اسنان کرکے سورج پوجا کرنے سے کوڑھ (کُشٹھ) جیسا سخت روگ اور اخلاقی آلودگی دور ہوتی ہے۔ پچھم-شمال مغرب سمت دھنونتری سے منسوب ایک شفابخش واپی کا بیان آتا ہے۔ دھنونتری کی تپسیا سے پرسن بھاسکر ور دیتے ہیں کہ مقررہ وقت پر اسنان کرنے والے کو بیماری سے فوراً آرام ملے گا۔ پھر مثال میں ایودھیا کے راجا رتنाक्ष، جو لاعلاج کُشٹھ میں مبتلا تھے، ایک کارپٹک فقیر کی رہنمائی سے تیرتھ پر آتے ہیں؛ وِدھی کے مطابق اسنان کرتے ہی تندرست ہوجاتے ہیں اور ‘رتن آدتیہ’ نام سے سورج دیوتا کی پرتِشٹھا کرتے ہیں۔ ایک اور مثال میں گاؤں کا بوڑھا گوالا جانور بچاتے ہوئے اتفاقاً پانی میں اترتا ہے تو کُشٹھ سے شفا پاتا ہے؛ بعد میں وہ ضبطِ نفس کے ساتھ پوجا-جپ کرکے نایاب روحانی کامیابی حاصل کرتا ہے۔ اختتام پر اسنان، پوجا اور کثیر تعداد میں گایتری جپ کی ہدایات اور پھل شروتی دی گئی ہے: صحت، مطلوبہ مرادیں، اور بے رغبتی والوں کے لیے موکش؛ نیز تیرتھ کے نام پر عقیدت سے گودان وغیرہ کو اولاد کو بیماری سے بچانے والا بتایا گیا ہے۔

77 verses

Adhyaya 213

Adhyaya 213

Kuharavāsi-Sāmbāditya-prabhāva-varṇana (Glory of Sūrya at Kuharavāsa and the Sāmba Narrative)

اس باب میں سوت جی سورج-پوجا کی پاکیزگی اور عظمت کو آگے بڑھاتے ہیں۔ ایک سابقہ حکایت میں ایک برہمن سرخ چندن سے سورج کی مورتی بنا کر طویل عرصہ بھکتی سے پوجا کرتا ہے اور ور پاتا ہے۔ وہ کوڑھ (کُشٹھ) کے ازالے کی درخواست کرتا ہے؛ سورج اسے بتاتے ہیں کہ سَپتمی کے ساتھ آنے والے اتوار کو ایک پُنیہ جھیل میں اشنان کر کے، ہاتھ میں پھل لے کر ۱۰۸ پردکشنا کی جائیں۔ اسے شفا بخش اور دوسرے سادھکوں کے لیے بھی نجات آفرین بتایا گیا ہے۔ پھر سورج اسی مقام پر اپنا قیام قائم کر کے اسے “کُہَروَاس” نام دیتے ہیں، یوں کرامت ایک مستقل تیرتھ کی شناخت بن جاتی ہے۔ اس کے بعد قصہ وشنو (کرشن) کے پتر سامب کی طرف مڑتا ہے۔ اس کے حسن سے لوگوں میں بے چینی پھیلتی ہے اور غلط شناخت کے سبب دھرم کے خلاف شرمناک واقعہ پیش آتا ہے۔ سامب دھارمک فیصلہ چاہتا ہے؛ ایک برہمن “ٹنگِنی” نامی سخت پرایشچت بیان کرتا ہے—گڑھا، گوبر کا سفوف، قابو میں جلانا، بے حرکت رہنا اور جناردن کا دھیان—جسے مہاپاتک ناشک کہا گیا ہے۔ سامب باپ کے سامنے اقرار کرتا ہے؛ ہری فرماتے ہیں کہ نیت/علم کے بغیر گناہ ہلکا ہوتا ہے، اور اصلاح کے لیے یاترا کا نسخہ دیتے ہیں—مادھو ماہ میں مبارک علامتوں کے ساتھ ہاٹکیشور کشترا میں مارتنڈ کی پوجا اور وہی ۱۰۸ پردکشنا۔ سامب گھر والوں کے غم و دعا کے ساتھ روانہ ہو کر سنگم میں اشنان، پوجا اور دان کرتا ہے—جہاں جیووں کے پاپ ہٹانے کے لیے وشنو کے قیام کا ذکر ہے؛ آخر میں اسے کوڑھ سے نجات کا پختہ یقین ہوتا ہے، اور اس تیرتھ کو ہاٹکیشور/وشوامتریہ حلقے میں عورتوں سمیت سب کے لیے نہایت مبارک بتایا گیا ہے۔

102 verses

Adhyaya 214

Adhyaya 214

गणपतिपूजाविधिमाहात्म्यवर्णनम् (Glorification of the Method of Gaṇapati Worship)

باب 214 میں وِنایک/گَنناتھ کی پوجا کو وِگھن-شانتی (رکاوٹوں کے ازالے) کی مؤثر سادھنا کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ سوت پہلے وشوامتر کے قائم کردہ گنناتھ کا ذکر کرتے ہیں اور زمانی قاعدہ بتاتے ہیں کہ ماہِ ماغھ کے شُکل پکش کی چَتُرتھی کو پوجا کرنے سے پورے سال رکاوٹیں دور رہتی ہیں۔ رشیوں کے سوال پر وہ گنیش جی کی پیدائش (دیوی گوری کے جسم کی میل سے)، ان کی علامتی ہیئت (ہاتھی کا چہرہ، چار بازو، موشک سواری، کُٹھار، مودک) اور دیوی-دیوتاؤں کے نزاع میں ان کے کردار کا بیان کرتے ہیں؛ پھر اندر اعلان کرتا ہے کہ ہر کام کے آغاز میں گنپتی کی پوجا واجب ہے۔ اس کے بعد ضمنی حکایت میں روہتاشو مارکنڈے سے زندگی بھر وگھن روکنے والے ایک ہی ورت کے بارے میں پوچھتا ہے۔ مارکنڈے نندنی کامدھینو کے سبب وشوامتر-وسِشٹھ کے تنازعے کا ذکر کرتے ہیں، جس سے وشوامتر سخت تپسیا کی طرف مائل ہو کر کیلاش میں مہیشور کی پناہ لیتا ہے۔ شِو شُدھی اور سِدھی کے لیے وِنایک پوجا کا وِدھان بتاتے ہیں، سوکت منتر (جیو-سوکت کے مفہوم) سے گنیش تتّو کے آواہن کی بات کرتے ہیں اور مختصر طریقہ دیتے ہیں: لمبودر، گنویبھو، کُٹھاردھاری، مودک بھکش، ایکدنت وغیرہ ناموں سے نمسکار، مودک نَیویدیہ، ارغیہ، اور کنجوسی چھوڑ کر برہمنوں کو بھوجن۔ دیوی پھل کی تصدیق کرتی ہیں کہ چتُرتھی کو سمرن/پوجا سے کام ثابت قدم ہوتے اور سمردھی ملتی ہے؛ پھل شروتی میں بے اولاد کو بیٹا، غریب کو دولت، فتح، غم زدہ کو بخت کی بہتری، اور روزانہ پڑھنے/سننے والوں کے لیے رکاوٹوں کے نہ اٹھنے کا وعدہ ہے۔

72 verses

Adhyaya 215

Adhyaya 215

श्राद्धावश्यकताकारणवर्णनम् (Necessity and Rationale of Śrāddha)

اس باب میں شِرادھ-کلپ (شِرادھ کی رسم و ضابطہ) کی روش اور اس کی ضرورت و علت بیان کی گئی ہے۔ رِشی سوت سے پوچھتے ہیں کہ اَکشَی (ناقابلِ زوال) پھل دینے والا شِرادھ کیسے کیا جائے—درست وقت کون سا ہے، کون سے برہمن موزوں ہیں، اور کون سے اَنّ/اشیا مناسب ہیں۔ سوت ایک سابقہ واقعہ سناتا ہے: مارکنڈَیَہ سرَیُو کے سنگم سے ایودھیا آتا ہے، جہاں راجا روہِتاشو اس کا استقبال کرتا ہے۔ رِشی راجا کی دھارمک خوشحالی جانچنے کے لیے وید، تعلیم، نکاح اور دولت کی “ثمرمندی” پر سوال کرتا ہے اور عملی تعریفیں دیتا ہے—جیسے اگنی ہوترا سے وید کی تکمیل، اور دان و درست مصرف سے دولت کی تکمیل۔ پھر راجا شِرادھ کی مختلف صورتیں پوچھتا ہے۔ مارکنڈَیَہ بھرتریَجْنَہ کے آنرت راجا کو دیے گئے وعظ کی مثال پیش کر کے اصل تعلیم بتاتا ہے کہ درش/اماواسیا کا شِرادھ خاص طور پر واجب ہے۔ پِتر (آباء) غروبِ آفتاب تک گھر کی دہلیز پر نذر کی امید لیے آتے ہیں؛ غفلت ہو تو وہ رنجیدہ ہوتے ہیں۔ نسل و اولاد کی اخلاقی وجہ بھی بیان ہوتی ہے—جیو کرم کے پھل کے مطابق مختلف لوکوں میں بھوگتے ہیں، بعض حالتوں میں بھوک پیاس کی تکلیف کا ذکر ہے؛ سہارا ٹوٹ جائے تو گراوٹ کا اندیشہ۔ اگر بیٹا نہ ہو تو اشوتھ (پیپل) کا درخت لگانا اور اس کی پرورش کرنا نسل کے استحکام کا قائم مقام بتایا گیا ہے۔ آخر میں پِتروں کے لیے باقاعدہ اَنّ اور اُدک کی نذر، ترپن اور شِرادھ کی تاکید ہے؛ ترکِ عمل کو ‘پِتر-دروہ’ (آباء سے بے وفائی) کہا گیا ہے، اور درست طریقے سے ترپن و شِرادھ کو مرادوں کی تکمیل اور تریورگ (دھرم، ارتھ، کام) کی تقویت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔

62 verses

Adhyaya 216

Adhyaya 216

श्राद्धोत्पत्तिवर्णन (Origin and Authorization of Śrāddha Rites)

اس باب میں اماؤسیا (اِندو-کشیہ) کے دن کیے جانے والے شرادھ کی خاص حجّیت اور سبب کو رسم و عقیدہ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ انرت بھرتریَجْیَہ سے پِتروں کے کرم کے لیے مبارک اوقات پوچھتا ہے۔ بھرتریَجْیَہ منونتر/یوگ کے سنگم، سنکرانتی، وْیَتیپات، گرہن وغیرہ کئی پُنّیہ کال بتا کر کہتا ہے کہ اگر مناسب برہمن میسر ہوں یا موزوں نذر و نیاز موجود ہو تو پَروَن کے دنوں کے باہر بھی شرادھ کیا جا سکتا ہے۔ پھر اماؤسیا کی کائناتی توضیح آتی ہے—چندرما سورج کی کرنوں میں مقیم ہوتا ہے، اس لیے اس وقت کیا گیا دھرم اور پِتروں کا کرتویہ ‘اکشیہ’ یعنی لازوال پھل دیتا ہے۔ آگے پِتروں کی جماعتوں (اگنِشواتّ، برہِشد، آجْیَپ، سومَپ وغیرہ) کا ذکر، نندی مُکھ پِتروں کی تمیز، اور دیو–پِتر نظام میں پِتر تَرضیہ کا مقام بیان ہوتا ہے۔ حکایت میں بتایا گیا ہے کہ جب اولاد کَوْیَہ (پِتروں کے لیے نذر) پیش نہیں کرتی تو سُورگ میں رہنے والے پِتر بھوک اور پیاس سے رنجیدہ ہو کر اندر سبھا میں جاتے ہیں اور پھر برہما سے فریاد کرتے ہیں۔ یوگوں کے بگاڑ کو دیکھ کر برہما عملی تدابیر مقرر کرتا ہے—(1) تین نسلوں (پِتر، پِتامہ، پرپِتامہ) کے نام سے ارپن، (2) بار بار علاج کے طور پر اماؤسیا شرادھ، (3) سال میں ایک بار خاص شرادھ کی گنجائش، اور (4) نہایت مؤثر متبادل—گیاشِرس میں شرادھ، جو سخت ترین حالتوں میں بھی مکتی کا فائدہ پہنچاتا ہے۔ آخر میں پھل شروتی ہے کہ ‘شرادھ اُتپتّی’ کا یہ بیان سننے/پڑھنے سے سامان کی کمی کے باوجود شرادھ کامل مانا جاتا ہے؛ اصل زور نیت کی پاکیزگی، درست پِتر-سمर्पن اور سماجی و اخلاقی استحکام پر ہے۔

138 verses

Adhyaya 217

Adhyaya 217

श्राद्धकल्पे श्राद्धार्हपदार्थब्राह्मणकालनिर्णय-वर्णनम् (Śrāddha-kalpa: Eligibility of recipients, proper materials, and timing)

اس ادھیائے میں آنرت شِرادھ کی مکمل وِدھی دریافت کرتا ہے۔ بھرتریَجْیَہ شِرادھ کرم کو تین بنیادی اصولوں کے تحت منظم کرتے ہیں—(1) شِرادھ میں لگایا جانے والا مال حلال و دھرم کے مطابق، دیانت داری سے کمایا ہوا اور پاکیزہ طریقے سے قبول کیا ہوا ہو، (2) مدعو کیے گئے برہمنوں کا انتخاب—شرادھارْہ (اہل) اور انارْہ (نااہل) کی تمیز اور نااہلی کے مفصل اسباب، (3) تِتھی اور سنکرانتی/وِشُوَو/اَیَن وغیرہ کے مطابق وقت کا تعین، جس سے اَکشَی (دائمی) پھل حاصل ہوتا ہے۔ یہاں دعوت کے آداب بھی بیان ہیں—وِشْویدیو اور پِتروں کے لیے جداگانہ آواہن، یجمان کے لیے ضبطِ نفس، نیز مقام کی طہارت اور نشست کی ترتیب۔ پھر وہ حالتیں گنوائی گئی ہیں جن سے شِرادھ ‘وِیَرتھ’ (بے اثر) ہو جاتا ہے—ناپاک خوراک کی حالت، نامناسب گواہی، دَکشِنا کا نہ ہونا، شور و جھگڑا، یا غلط وقت۔ آخر میں منوادِی اور یُگادِی اَنُشٹھانوں کا ذکر کر کے یہ تاکید کی گئی ہے کہ درست وقت پر تل-جل کی نذر بھی دیرپا پُنّیہ عطا کرتی ہے۔

66 verses

Adhyaya 218

Adhyaya 218

Śrāddha-niyama-varṇana (Rules and Ethical Guidelines for Śrāddha)

باب 218 میں بھرتریَجْیَہ راجہ کو شِرادھ کے عمل کے فنی اور اخلاقی قواعد سکھاتے ہیں۔ پہلے عام شِرادھ-نِیَم دہرائے جاتے ہیں، پھر وعدہ کیا جاتا ہے کہ اپنی شاخ/روایت اور سْوَدیش–وَرْن–جاتی کے مطابق موزوں خاص احکام بیان کیے جائیں گے۔ شِرادھ کی بنیاد ‘شردھا’ (خلوصِ ایمان) ہے؛ سچی نیت کے بغیر کیا گیا عمل بےثمر ٹھہرتا ہے۔ آگے بتایا گیا ہے کہ رسم کے ضمنی آثار بھی—برہمن کے قدموں کا پانی، گرے ہوئے اناج کے ذرے، خوشبوئیں، آچمن کا بچا ہوا پانی، اور دربھہ کی بکھری ہوئی تنکیاں—تصوراً مختلف طبقاتِ پِتر (اسلاف) کو، حتیٰ کہ پریت کی حالت یا حیوانی وغیرہ جنموں میں پڑے ہوئے جیووں کو بھی، غذا کے طور پر پہنچتے ہیں۔ دَکْشِنا کی اہمیت پر خاص زور ہے: دکشنا کے بغیر شِرادھ کو بانجھ بارش یا اندھیرے میں کیے گئے عمل کے مانند کہا گیا ہے؛ عطیہ و بخشش کو رسم کی تکمیل کا لازمی جز قرار دیا گیا ہے۔ شِرادھ دینے یا کھانے کے بعد چند پابندیاں بھی بیان ہوتی ہیں—سوادھیائے سے توقف، دوسرے گاؤں کے سفر سے پرہیز، اور جنسی ضبط—ان کی خلاف ورزی سے نتیجہ ضائع ہوتا ہے یا اسلاف کے لیے مقصود فائدہ بگڑ جاتا ہے۔ نامناسب دعوت قبول کرنے اور کرنے والے کے حد سے زیادہ کھانے پینے کی بھی ممانعت ہے۔ اختتام پر خلاصہ یہ ہے کہ یجمان اور شریکِ شِرادھ دونوں ان عیوب سے بچیں تو ہی شِرادھ کی تاثیر برقرار رہتی ہے۔

23 verses

Adhyaya 219

Adhyaya 219

काम्यश्राद्धवर्णनम् (Kāmya-Śrāddha: Day-wise Results and Exceptions)

باب 219 میں بھرتریَجْنَہ بادشاہ کو کامیہ شرادھ (مخصوص مقاصد کے لیے پِتروں کی رسم) کا فنی و دینی بیان سناتے ہیں۔ پِریت پکش یعنی کرشن پکش کی تِتھیوں کے مطابق روز بہ روز شرادھ کرنے کے جداگانہ نتائج بتائے گئے ہیں—دولت و خوشحالی، نکاح کی کامیابی، گھوڑوں اور گایوں کی حصولیابی، کھیتی اور تجارت میں کامیابی، عافیت، شاہی عنایت اور عمومی کامرانی۔ پھر تریودشی کو اولاد کے خواہش مندوں کے لیے ناموزوں قرار دے کر نحوست کے اندیشے بیان کیے گئے ہیں؛ تاہم مَغھا–تریودشی کے خاص اتصال میں شہد اور گھی ملا پَیاس (کھیر) نذر کرنے کی مخصوص رعایت بھی مذکور ہے۔ ہتھیار، زہر، آگ، پانی، سانپ/جانور کے حملے یا پھانسی وغیرہ سے غیر طبعی موت پانے والوں کی تسکین کے لیے چتُردشی کو ایکودِشٹ شرادھ کا حکم دیا گیا ہے۔ آخر میں اماؤسیا کا شرادھ تمام مذکورہ مقاصد کو جامع طور پر عطا کرنے والا بتایا گیا ہے، اور اس کامیہ شرادھ کے نظام کو سننے/جاننے سے مطلوبہ مراد پانے کی پھل شروتی بیان ہوتی ہے۔

25 verses

Adhyaya 220

Adhyaya 220

गजच्छायामाहात्म्यवर्णनम् (The Māhātmya of the “Elephant-Shadow” Tithi and Śrāddha Protocols)

اس باب میں شرادھ کے وقت کے تعین اور اس کے نتائج پر ایک فنی و دینی گفتگو مکالمے کی صورت میں بیان ہوتی ہے۔ انرت، بھرتریَجْیَہ سے پوچھتا ہے کہ تریودشی تِتھی پر شرادھ کرنے سے وंश-کشیہ (نسل کا زوال) کیوں کہا گیا ہے۔ بھرتریَجْیَہ ‘گجچھایا’ نامی ایک خاص تقویمی علامت سمجھاتا ہے—چندر-نکشتر کی مخصوص حالت اور گرہن کے قریب یُوگ وغیرہ میں—جس وقت کیا گیا شرادھ ‘اکشیہ’ (لازوال) پھل دیتا ہے اور پِتروں کو بارہ برس تک تسکین پہنچاتا ہے۔ تمثیلی قصے میں پُرانے یُگ کے پانچال راجا سیتاشو کا ذکر آتا ہے۔ برہمن اس کے شرادھ میں شہد-دودھ، کالاشاک اور کھڑگ-مانس وغیرہ دیکھ کر سبب پوچھتے ہیں۔ راجا اپنا پچھلا جنم بتاتا ہے کہ وہ شکاری تھا؛ اس نے رشی اگنیویش کی تعلیم میں گجچھایا-شرادھ کا قاعدہ سنا اور سادہ نذر کے ساتھ بھی شرادھ کیا، جس کے اثر سے اسے راج جنم ملا اور اس کے پِتر مطمئن ہوئے۔ آخر میں دیوتا تریودشی شرادھ کی غیر معمولی قوت سے فکرمند ہو کر ایک حد قائم کرتے ہیں کہ آئندہ عام طور پر اس دن شرادھ کرنا روحانی طور پر خطرناک ہوگا، اور کرنے سے وंश-کشیہ کا اندیشہ رہے گا۔ یوں گجچھایا کی خصوصی مہاتمیا بھی برقرار رہتی ہے اور احتیاط کی رسمّی سرحد بھی متعین ہوتی ہے۔

76 verses

Adhyaya 221

Adhyaya 221

Śrāddha-kalpa: Sṛṣṭyutpatti-kālika-brahmotsṛṣṭa-śrāddhārha-vastu-parigaṇana (Ritual Materials Authorized for Śrāddha by Cosmogonic Precedent)

باب 221 میں شِرادھ کے عمل میں ‘بدلی’ (وِکلپ) نذرانوں کی تَحقیقی و کلامی توضیح مکالمے کی صورت میں آتی ہے۔ بھرتریَجْیَہن بتاتے ہیں کہ ایک مخصوص تِتھی-کال میں اگر پورا شِرادھ نہ ہو سکے تو بھی پِتروں کی تسکین اور نسل کے منقطع ہونے کے خوف سے بچنے کے لیے کچھ نہ کچھ نذر ضرور دینی چاہیے۔ وہ گھی اور شہد ملا پَیاس، اور بعض خاص گوشت (خصوصاً کھڈگ اور وادھرِنس وغیرہ) کا ذکر کرتے ہیں؛ یہ میسر نہ ہوں تو عمدہ کھیر، اور آخر میں تل-دَربھا اور سونے کے ٹکڑے کے ساتھ ملا پانی بھی قابلِ قبول بدیل قرار دیتے ہیں۔ آنرت سوال اٹھاتا ہے کہ جس گوشت کی شاستروں میں مذمت ہے وہ شِرادھ میں کیوں آتا ہے۔ بھرتریَجْیَہن تخلیقِ عالم کی نظیر دے کر کہتے ہیں کہ برہما نے آغازِ سृष्टی میں پِتروں کے لیے بعض جانداروں اور اشیاء کو ‘بَلی کی مانند’ نذر کے طور پر مقرر کیا تھا؛ اس لیے پِتروں کی خاطر مقررہ حدود میں دینے والے کو گناہ نہیں لگتا۔ روہتاشو کے عدمِ دستیابی کے سوال پر مارکنڈےیہ اور بھرتریَجْیَہن جائز گوشتوں کی درجہ بندی، ان سے پِتروں کی تسکین کی مدت، نیز تل، شہد، کالاشاک، دَربھا، گھی، چاندی کے برتن وغیرہ شِرادھ کے لائق اشیاء اور مناسب مستحقین (دَوہِتر سمیت) کا بیان کرتے ہیں۔ آخر میں کہا گیا ہے کہ شِرادھ کے وقت ان ہدایات کی تلاوت یا تعلیم ‘اکشَی’ ثواب دیتی ہے، اور یہ تعلیم پِتروں کا ایک پوشیدہ (گُہْیَ) راز ہے جس کا اجر دیرپا ہے۔

59 verses

Adhyaya 222

Adhyaya 222

चतुर्दशी-शस्त्रहत-श्राद्धनिर्णयवर्णनम् (Decision Narrative on the Caturdaśī Śrāddha for Violent/Untimely Deaths)

اس باب میں اُن لوگوں کے لیے جو ہتھیار سے، حادثے، آفت، زہر، آگ، پانی، جانور کے حملے، پھانسی وغیرہ جیسی اَپَمِرتیو (ناگہانی/غیر طبعی موت) سے مرے ہوں، پریت کال میں خاص طور پر چتُردشی تِتھی پر شرادھ مقرر ہونے کی علتِ شرعی و تاتّوِک بیان کی گئی ہے۔ آنرت نامی راجا پوچھتا ہے کہ چتُردشی ہی کیوں منتخب ہوئی، ایکودّشٹ شرادھ کیوں مناسب ہے، اور اس موقع پر پارون (پاروَن) رسم کیوں محدود ہے۔ بھرتریَجْن بُرہت کلپ کی نظیر سناتے ہیں: ہِرَنیّاکش برہما سے ور مانگتا ہے کہ جب سورج کنیا (Virgo) میں ہو تو پریت کال کے ایک ہی دن کی پنڈ-اُدک وغیرہ کی نذر سے پریت، بھوت، راکشس اور متعلقہ طبقات پورے سال سیر رہیں۔ برہما ور دیتے ہیں کہ اسی مہینے کی چتُردشی کو کیا گیا نذرانہ یقینی طور پر اُنہیں تسکین دے گا، خصوصاً جنگ میں یا پُرتشدد موت پانے والوں کو۔ پھر اصول بتایا جاتا ہے کہ اچانک موت اور میدانِ جنگ کی موت میں خوف، ندامت، حیرت و اضطراب سے ذہنی انتشار ہو سکتا ہے؛ اس لیے بہادروں میں بھی پریت-بھاو پیدا ہو سکتا ہے، اور اُن کی تسکین کے لیے ایک خاص دن مقرر کیا گیا۔ اس دن پارون نہیں بلکہ صرف ایکودّشٹ (ایک ہی متوفی کے نام) شرادھ کرنا چاہیے، کیونکہ اعلیٰ پِتر اس موقع پر قبول نہیں کرتے؛ اور غلط سمت کی نذر ور کے اثر سے غیر انسانی ہستیوں کے حصے میں چلی جاتی ہے۔ آخر میں سماجی قاعدہ بھی ہے کہ شرادھ مناسب مقامی/برادری کے اہلِ رسم کے ذریعے (ناگر کا ناگر ہی) ادا ہو، ورنہ عمل بے اثر سمجھا جاتا ہے۔

34 verses

Adhyaya 223

Adhyaya 223

श्राद्धार्हानर्हब्राह्मणादिवर्णनम् / Classification of Eligible and Ineligible Agents for Śrāddha

اس ادھیائے میں شرادھ کے عمل میں کون اہل ہے اور کون نااہل، نیز کس وقت اور کس طریقے سے شرادھ کرنا چاہیے—اس پر باریک اخلاقی و رسومی گفتگو ملتی ہے۔ بھرتریَجْیَہ کہتے ہیں کہ شرادھ شرادھ کے لائق برہمنوں کے ساتھ/ان کے ذریعے ہی ہونا چاہیے؛ درش وغیرہ اوقات میں پارون (پاروَن) کی مقررہ ودھی کی پابندی ضروری ہے، اور ودھی کو الٹ دینے سے پھل ضائع ہو جاتا ہے۔ وہ مزید بتاتے ہیں کہ جارَجات وغیرہ ممنوعہ پیدائش کی علامت رکھنے والوں کے ذریعے کیا گیا شرادھ بےثمر ہو جاتا ہے۔ آنرت، منو کے بیان کردہ ‘بارہ قسم کے بیٹوں’ کا حوالہ دے کر سوال اٹھاتا ہے کہ بےاولاد کے لیے بھی کچھ بیٹے بطورِ بیٹا مانے جاتے ہیں۔ تب بھرتریَجْیَہ یُگ کے لحاظ سے وضاحت کرتے ہیں کہ کچھ قسمیں پہلے یُگوں میں مانی گئیں، مگر کلی یُگ میں آچار کی کمزوری اور اخلاقی زوال کے سبب وہ تطہیر بخش نہیں سمجھی جاتیں؛ اس لیے قواعد زیادہ سخت ہیں۔ ادھیائے میں ورن-سنکر (ذاتوں کے اختلاط) اور ممنوعہ میل جول کے نتائج، اور ان سے پیدا ہونے والی نااہل اولاد کا ذکر آتا ہے۔ آخر میں ‘نیک بیٹے’ جو پِتروں کو پُمنام نرک سے بچاتے ہیں اور وہ قسمیں جو زوال کا سبب کہی گئی ہیں—ان میں فرق کر کے جارَجات سے وابستہ شرادھ کو بےاثر قرار دیا گیا ہے۔

19 verses

Adhyaya 224

Adhyaya 224

श्राद्धविधिवर्णनम् (Śrāddha-vidhi-varṇanam) — Procedural Account of the Śrāddha Rite

یہ باب گھریلو شرادھ کی منتر پر مبنی، مرحلہ وار تفصیل بیان کرتا ہے جس کا مقصد پِتروں کی تسکین ہے۔ سائل پوچھتا ہے کہ گِرہستھ شرادھ کیسے کرے۔ معلّم اہل برہمنوں کی دعوت، وِشویدیوؤں کا آواہن، پھول-اکشت-چندن کے ساتھ ارغیہ، اور دربھہ و تل کے درست استعمال کی ہدایت دیتا ہے۔ دیوتا کے کام میں سَوْیَ اور پِتر کے کام میں اَپَسَوْیَ کا فرق، ناندی مُکھ پِتروں کے استثنائی قواعد، نشست و سمت کے آداب (مادری سلسلے کے پِتر بھی) واضح کیے گئے ہیں۔ آواہن میں وِبھکتی وغیرہ کی نحوی/لسانی درستی کو بھی صحتِ عمل کی کسوٹی بتایا گیا ہے۔ اگنی اور سوم کے لیے مناسب منتر سے ہوم، نمک کو چھونا یا براہِ راست ہاتھ سے دینا جیسی غلطیوں سے شرادھ کے بے اثر ہونے کا حکم، کھانا کھلانے کا طریقہ اور اجازت کی دعا بیان ہے۔ کھانے کے بعد پِنڈ دان، ویدی کی تیاری، تقسیم کے قواعد، آخر میں آشیرواد، دکشِنا اور برتنوں کو چھونے کے حق و ممانعت کا ذکر آتا ہے۔ شرادھ دن کے وقت ہی کرنا چاہیے؛ وقت کے خلاف ہو تو عمل بے ثمر رہتا ہے—اسی پھل شروتی پر باب ختم ہوتا ہے۔

53 verses

Adhyaya 225

Adhyaya 225

सपिण्डीकरणविधिवर्णनम् (Description of the Sapīṇḍīkaraṇa Procedure)

اس باب میں انرت، معروف پارون-شرادھ کے نمونے کے حوالے سے، مخصوص مرحوم کے لیے کیے جانے والے ایکودّشٹ-شرادھ کی विधि پوچھتا ہے۔ بھرتریَجْیَہن موت کے رسومات سے وابستہ شرادھوں کا وقت اور ترتیب بیان کرتا ہے—اَستھی-سَنجَیَن سے پہلے کے اعمال، مقامِ وفات پر شرادھ، راستے میں جہاں آرام کیا گیا وہاں ایکودّشٹ، اور تیسرا شرادھ سَنجَیَن کے مقام پر۔ پھر دنوں کے حساب سے نو شرادھوں کا ذکر کرتا ہے (جیسے 1واں، 2را، 5واں، 7واں، 9واں، 10واں وغیرہ) اور ایکودّشٹ میں اختصار بتاتا ہے—دیوتاؤں کے حصے کے بغیر، ایک ہی اَर्घ्य، ایک ہی پَوِتر، اور آواہن (بلانے) کو چھوڑ دینا۔ مَنتروں کے استعمال میں نحوی احتیاط بھی بتائی گئی ہے—‘پِتر/پِتا’ کے الفاظ، گوتر اور نام کی صورت (شرمن) کی درست حالتیں (وِبھکتی) ضروری ہیں؛ غلطی ہو تو پِتروں کے لیے شرادھ بے اثر سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بعد سَپِنڈی کرن کا بیان آتا ہے—عام طور پر ایک سال بعد، مگر بعض حالات میں پہلے بھی۔ پریت کے لیے مقررہ نذرانہ مخصوص منتروں سے تین پِتر-پاتروں اور تین پِتر-پِنڈوں میں تقسیم کیا جاتا ہے؛ اس رائے میں چوتھے مستحق کو نہیں لیا جاتا۔ سَپِنڈی کرن کے بعد ایکودّشٹ ممنوع ہے، اور سَپِنڈی کِرت پریت کو الگ پِنڈ دینا بڑا دوش (سنگین خطا) کہا گیا ہے۔ آخر میں، اگر باپ کا انتقال ہو چکا ہو مگر دادا زندہ ہوں تو ناموں کی درست ترتیب، دادا کی تِتھی پر پارون-شرادھ، اور سَپِنڈتا قائم ہونے تک بعض شرادھ اعمال کو اسی طریقے سے نہ کرنے کی تاکید دہرائی گئی ہے۔

30 verses

Adhyaya 226

Adhyaya 226

तत्तद्दुरितप्राप्यैकविंशतिनरकयातनातन्निवारणोपायवर्णनम् (Chapter 226: On the Twenty-One Hells, Their Karmic Causes, and Remedial Means)

اس ادھیائے میں بھرتریَجْن سَپِنڈیکرن کی اہمیت بیان کرتے ہیں—اسی رسم سے پریت-اَواستھا ختم ہو کر مُردہ کا پِتروں سے رشتہ (سَپِنڈتا) قائم ہوتا ہے۔ پِتروں کے خواب میں درشن اور اُن لوگوں کی حالت جن کی پرلوک گتی غیر متعین ہو، اس پر سوال اٹھتا ہے؛ جواب میں کہا گیا ہے کہ ایسے ظہور عموماً اپنے ہی وंश/خاندان کے پِتروں سے متعلق ہوتے ہیں اور انجام کرم کے مطابق ہوتا ہے۔ بے اولاد شخص کے لیے نمائندہ/متبادل کا ذکر ہے؛ اور جب شرادھ وغیرہ میں کوتاہی ہو جائے، خاص طور پر اَکال یا غیر معمولی موت میں، تو پریت-نِوارک پرایَشچِت کے طور پر ‘نارائن-بلی’ کا وِدھان بتایا گیا ہے۔ آگے دھرم، پاپ اور گیان کے مطابق تین گتیاں—سورگ، نرک اور موکش—سمجھائی جاتی ہیں۔ یُدھِشٹھِر-بھیشم مکالمے کے انداز میں یمراج کی عدالت و انتظام، چِتر-وِچِتر نامی کاتب، رَودر اور سَومْی کام کرنے والے آٹھ قسم کے یم دوت، یممارگ اور ویتَرَنی کے پار اترنے کا بیان آتا ہے۔ اکیس نرکوں کی سزائیں اُن کے کرمی اسباب کے ساتھ گنوائی جاتی ہیں، اور ساتھ ہی تدارک کی ترتیب—مقررہ اوقات پر شرادھ اور ماہانہ/کئی ماہ کے وقفوں سے دان—بتائی جاتی ہے۔ آخر میں کہا گیا ہے کہ ان بیانات سے کرم پھل واضح ہوتا ہے اور تیرتھ یاترا کو پاکیزگی کا ذریعہ مانا گیا ہے۔

85 verses

Adhyaya 227

Adhyaya 227

नरकयातनानिरसनोपायवर्णनम् (Means for the Mitigation of Naraka-Sufferings)

نرکوں کی سزاؤں کا حال سن کر یُدھِشٹھِر خوف زدہ ہو کر پوچھتے ہیں کہ گناہ گار انسان بھی ورت، ضبطِ نفس، ہوم یا تیرتھ کی پناہ سے کیسے نجات پا سکتا ہے۔ بھیشم نرک کی تکلیفیں کم کرنے والے اعمال کی ہدایتی فہرست بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جن کی ہڈیاں گنگا میں سپرد کی جائیں اُن پر دوزخی آگ غالب نہیں آتی، اور میّت کے نام سے گنگا میں کیا گیا شرادھ اسے نرک کے ہولناک مناظر سے آگے اُٹھنے میں سہارا دیتا ہے۔ درست طریقے سے کیا گیا پرایَشچِت اور خیرات—خصوصاً سونے کا دان—گناہوں کے کفّارے کے طور پر بتایا گیا ہے۔ پھر مقام و زمان کے مخصوص راستے گنوائے جاتے ہیں: دھارا تیرتھ سمیت بعض تیرتھوں میں، اور وارانسی، کُرُکشیتر، نیمِش، ناگرپور، پریاگ اور پربھاس جیسے بڑے یاترا-کشیتر میں موت واقع ہو تو بڑے گناہوں کے باوجود بھی اُدھار ہوتا ہے۔ جناردن کی بھکتی کے ساتھ پرایوپویشن (روزہ رکھ کر جسم ترک کرنا) اور چترِیشور کے پاس ضبط و عبادت کو بھی نرک کے خوف سے نجات کا ذریعہ کہا گیا ہے۔ غریبوں، نابیناؤں، محتاجوں اور تھکے ہوئے یاتریوں کو بے وقت بھی کھانا کھلانا نرک سے حفاظت کرنے والا عمل بتایا گیا ہے۔ جل-دھینو اور تل-دھینو کے دان سورج کی خاص حالتوں میں، سومناتھ کے درشن، سمندر اور سرسوتی میں اسنان، کُرُکشیتر میں گرہن کے ورت، کارتّکا/کرتّکا یوگ میں پردکشنا اور تری پُشکر—یہ سب نرک-نِوارک تدابیر کے طور پر سمیٹے گئے ہیں۔ آخر میں کرم کے قانون پر زور دے کر بتایا گیا ہے کہ چھوٹی لغزش بھی نرک تک لے جا سکتی ہے، مگر مناسب اعمال سے اس کا ازالہ ممکن ہے۔

19 verses

Adhyaya 228

Adhyaya 228

जलशाय्युपाख्याने ब्रह्मदत्तवरप्रदानोद्धतान्धकासुरकृतशंकराज्ञावमाननवर्णनम् (Jalāśāyī Episode: The Boon to Brahmadatta and Andhaka’s Disregard of Śaṅkara’s Command)

باب ۲۲۸ دو مربوطہ حصّوں میں آگے بڑھتا ہے۔ پہلے سوت جی بِلَدْوار تیرتھ کی مہیمہ بیان کرتے ہیں—وہاں شیش ناگ پر شَیَن کرنے والے جلشائی وِشنو کے درشن و پوجا سے پاپوں کا کشَے ہوتا ہے۔ چاتُرمَاسْی کے چار مہینے لگاتار بھکتی کرنے سے بہت سی تیرتھ یاتراؤں اور مہایَگیوں کے برابر پھل، اور موکش کی پرابتّی بتائی گئی ہے؛ یہاں تک کہ سخت بدکرداروں کے لیے بھی نجات کا در کھلتا ہے۔ رشیوں کے شبہے پر کہ کَشیر ساگر شائی بھگوان بِلَدْوار میں کیسے حاضر ہو سکتے ہیں، سوت یہ سِدّھانت قائم کرتے ہیں کہ پراتپر دیوتا اپنی اِچھا سے کسی خاص استھان پر سُلبھ روپ میں پرگٹ ہو سکتا ہے۔ پھر کارن کتھا آتی ہے—ہِرنیکشیپو کے پتن کے بعد پرہلاد اور اندھک کا پرچَے؛ اندھک برہما سے وَر پا کر اِندر سے یُدھ کرتا ہے اور سَورگ کے ادھیکار چھین لیتا ہے۔ اِندر شنکر کی شرن لیتا ہے؛ شنکر ویر بھدر کو دوت بنا کر اندھک کو سَورگ چھوڑ کر پِتْر راجیہ لوٹنے کی آگیہ دیتے ہیں، مگر اندھک اس آگیہ کا مذاق اڑا کر اَوَگیا کرتا ہے—یوں دیوی دَند اور دھرم کی ستھاپنا کی سمت کتھا تیز ہو جاتی ہے۔

43 verses

Adhyaya 229

Adhyaya 229

भृंगीरिट्युत्पत्तिवर्णनम् | Origin Narrative of Bhṛṅgīriṭi

سوت بیان کرتے ہیں کہ شیو شدید غضب کے ساتھ اپنے گنوں سمیت، اندرَ پرمکھ دیوتاؤں کی تائید میں، امراوتی کی طرف بڑھتے ہیں۔ الٰہی لشکر کو دیکھ کر اندھک بھی چتورنگی فوج لے کر آگے آتا ہے اور طویل مدت تک ہولناک جنگ ہوتی رہتی ہے۔ شیو کے ترشول سے چھلنی ہونے پر بھی برہما کے وردان کے سبب اندھک مرتا نہیں، اس لیے کشمکش بہت زمانے تک جاری رہتی ہے۔ پھر شیو اندھک کو ترشول پر چڑھا کر اوپر معلق کر دیتے ہیں؛ اس کا جسم رفتہ رفتہ گھٹتا ہے، قوت ٹوٹتی ہے اور اسے اپنے ادھرم و خطا کا احساس ہوتا ہے۔ تب وہ جارحیت چھوڑ کر ستوتی اور شरणاگتی کرتا ہے—کہتا ہے کہ شیو نام کا محض اُچارَن بھی مکتی کے راستے کی طرف لے جاتا ہے، اور شیو بھکتی کے بغیر زندگی روحانی طور پر بنجر ہے۔ اندھک کی پاکیزگی اور عاجزی دیکھ کر شیو اسے آزاد کرتے ہیں، شیو-گنوں میں دوبارہ مقام عطا کرتے ہیں، اور نیا نام ‘بھृنگیریٹی’ دے کر محبت بھری قربت بخشते ہیں۔ یہ باب بتاتا ہے کہ تشدد اور غرور کا انجام خود شناسی، اعتراف و توبہ، اور کرپا کے ذریعے دوبارہ قبولیت میں ہوتا ہے۔

31 verses

Adhyaya 230

Adhyaya 230

वृकेन्द्रराज्यलम्भनवर्णनम् (Account of Vṛka’s Acquisition of Indra’s Sovereignty)

اس ادھیائے میں اندھک کے وध کے بعد کی روایت آگے بڑھتی ہے اور اندھک کا بیٹا وِرک ایک باقی رہ جانے والی اسُر ہستی کے طور پر سامنے آتا ہے۔ وہ پہلے سمندر کے اندر نہایت محفوظ پناہ گاہ میں چھپ کر رہتا ہے، پھر جمبودویپ میں آ کر ہاٹکیشور-کشیتر کو روحانی اثر و برکت کا ثابت مقام سمجھتا ہے، کیونکہ وہاں پہلے اندھک نے تپسیا کی تھی۔ پوشیدگی میں وِرک بتدریج سخت تپسیا کرتا ہے—پہلے صرف پانی پر، پھر ہوا پر گزارا—شدید ضبطِ نفس اور یکسوئی کے ساتھ کمل سمبھَو پِتامہ برہما کا دھیان کرتا ہوا طویل مدت تک قائم رہتا ہے۔ طویل تپسیا سے برہما ظاہر ہوتے ہیں، اسے سخت ریاضت سے باز رہنے کی تلقین کرتے ہیں اور ور (نعمت) دینے کا وعدہ کرتے ہیں۔ وِرک بڑھاپے اور موت سے آزادی مانگتا ہے؛ برہما اسے یہ ور عطا کر کے غائب ہو جاتے ہیں۔ ور کے زور سے وِرک رَیوتک پہاڑ پر تدبیر بنا کر اندر کے خلاف بڑھتا ہے۔ اندر وِرک کی ور سے پیدا شدہ ناقابلِ شکست حیثیت جان کر امراؤتی چھوڑ دیتا ہے اور دیوتاؤں سمیت برہملوک میں پناہ لیتا ہے۔ وِرک دیولोक میں داخل ہو کر اندرآسن پر بیٹھتا ہے، شُکرآچاریہ سے ابھیشیک پاتا ہے، اور آدتیہ، وسو، رودر اور مروت کے عہدوں پر دیتیوں کو مقرر کر کے یَجْن بھاگوں کی ترتیب بھی شُکر کے حکم سے بدل دیتا ہے۔ یہ ادھیائے ورदान کی قوت و خطرے، تپسیا سے حاصل اقتدار کی اخلاقی پیچیدگی، اور کائناتی نظم کی نازکی کو نمایاں کرتا ہے۔

23 verses

Adhyaya 231

Adhyaya 231

हाटकेश्वरक्षेत्रमाहात्म्ये जलशाय्युपाख्यानम् — Ekādaśī-vrata Māhātmya (Hāṭakeśvara-kṣetra and the Jalāśayī Narrative)

اس ادھیائے میں دَیتیہ راج وِرک کے غلبے میں یَجْیَ، ہوم اور جَپ جیسے ویدک اعمال کے خطرے میں پڑنے کا بیان ہے۔ وہ سادھکوں کو ڈھونڈ کر قتل کرانے کے لیے اپنے کارندے بھیجتا ہے، مگر رِشی پوشیدہ طور پر پوجا جاری رکھتے ہیں۔ سانکرتی مُنی ہاٹکیشور-کشیتر میں چَتُربُھج ویشنو مُرتی کے سامنے چھپ کر تپسیا کرتا ہے؛ وِشنو کے تَیج کے سبب دَیتیہ اسے نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ وِرک خود حملہ کرتا ہے مگر اس کا ہتھیار ناکام رہتا ہے؛ مُنی کے شاپ سے اس کے پاؤں گر جاتے ہیں اور وہ بے بس ہو جاتا ہے، جس سے دیوتاؤں کو پھر استحکام ملتا ہے۔ بعد میں برہما وِرک کی تپسیا سے خوش ہو کر بحالی چاہتا ہے، لیکن سانکرتی کہتا ہے کہ مکمل بحالی سے جگت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ چنانچہ ایک مدت بند سمجھوتا طے ہوتا ہے—برسات کے موسم کی ترتیب کے مطابق کچھ عرصے بعد وِرک کو دوبارہ حرکت ملتی ہے۔ اندَر بار بار بے دخلی سے رنجیدہ ہو کر برہسپتی سے صلاح لیتا ہے اور وِشنو کے لیے ‘اشونیہ شَیَن’ ورت اختیار کرتا ہے۔ تب وِشنو چاتُرمَاس میں ہاٹکیشور-کشیتر میں وِرک پر شَیَن کر کے چار ماہ اسے ساکن رکھتا ہے اور اندَر کی حکومت کی حفاظت کرتا ہے؛ نیز شَیَن کے زمانے کے آچار-نِیَم اور شَیَن ایکادشی و بودھن ایکادشی کی خاص مہِما بیان کی گئی ہے۔

98 verses

Adhyaya 232

Adhyaya 232

चातुर्मास्यव्रतनियमवर्णनम् (Cāturmāsya Vrata and Niyama Regulations)

چاتُرمَاس کے زمانے میں جب شंख–چکر–گدا دھاری، گرُڑ دھوج بھگوان وِشنو کو ‘شَیَن’ (پرسُپت) میں مانا جاتا ہے تو کیا کرنا چاہیے—رِشیوں کے سوال پر سوت پِتامہ برہما کی معتبر تعلیم بیان کرتا ہے کہ اس مدت میں خلوص و شردھا سے اختیار کیا گیا ہر نِیَم اننت پھل دینے والا ہوتا ہے۔ اس باب میں چاروں مہینوں کے لیے درجۂ بدرجہ ضابطے آتے ہیں: خوراک کے نِیَم (ایک بھکت، نکشتر کے مطابق بھوجن، باری باری اُپواس، شَشٹھان-کال میں بھوجن، تری راتر اُپواس) اور طہارت و ضبط (شام-صبح کا نِیَم، اَیَاجِت زندگی، تیل/گھی کی مالش ترک کرنا، برہمچریہ، تیل کے بغیر اسنان، شہد و گوشت سے پرہیز)۔ مہینے کے لحاظ سے ترکِ غذا بھی بتایا گیا ہے—شراون میں شاک، بھادراپد میں دہی، آشون میں دودھ، اور کارتک میں گوشت ترک کرنا؛ نیز کانس کے برتنوں سے اجتناب، اور کارتک میں خاص طور پر گوشت، حجامت/استرا، شہد اور جنسی تعلق سے پرہیز۔ مثبت بھکتی اعمال میں تل-اکشت کے ساتھ ویشنو منتر سے ہوم، پوروُش سوکت کا جپ، خاموشی کے ساتھ نپی تلی قدموں/مٹھیوں سے پردکشنا، خصوصاً کارتک میں برہمنوں کو بھوجن، وشنو کے مندر میں وید سوادھیائے، اور نرتیہ-گیت کو نذر کے طور پر پیش کرنا شامل ہے۔ جلاشَیّی دیوتا کے مندر کی چوٹی کے کلش پر دیپ دان کو خاص تیرتھ کرم کہا گیا ہے جو پہلے نِیَموں کے پھل کا مشترک حصہ عطا کرتا ہے۔ آخر میں نیت اور استطاعت کے مطابق نِیَم نبھانے، اختتام پر برہمن کو دان دینے، اور بغیر کسی نِیَم کے چاتُرمَاس گزارنے کو روحانی طور پر بے سود قرار دیا گیا ہے۔ پھل شروتی میں سننے/پڑھنے والے کے بھی چاتُرمَاس سے متعلق دوشوں سے چھوٹ کر موکش پانے کا وعدہ بیان ہوا ہے۔

39 verses

Adhyaya 233

Adhyaya 233

चातुर्मास्यमाहात्म्ये गंगोदकस्नानफलमाहात्म्यवर्णनम् (Cāturmāsya Māhātmya: The Merit of Bathing with Gaṅgā-Water)

باب 233 میں چاتُرمَاسیہ کے ورت (چار ماہ کے مقدّس موسم) کی عظمت کو کئی سطحوں پر بیان کیا گیا ہے۔ سوت جی رشیوں سے خطاب کرتے ہیں اور اس کے اندر برہما–نارد سنواد آتا ہے؛ اس میں ثابت کیا جاتا ہے کہ چاتُرمَاسیہ کا زمانہ وِشنو بھکتی اور طہارت کے ضابطوں کے لیے نہایت بابرکت اور زیادہ اثر رکھنے والا وقت ہے۔ خصوصاً صبح کے وقت اشنان کو مرکزی عمل کہا گیا ہے؛ اس سے پاپ-کشَے (گناہوں کا زوال) ہوتا ہے اور دوسرے دھارمک کرموں کی کمزور پڑی ہوئی تاثیر بھی دوبارہ بحال ہو جاتی ہے۔ پانیوں اور تیرتھوں کی اقسام بھی بتائی گئی ہیں—ندیوں کے جل، پُشکر اور پریاگ جیسے مہاتیرتھ، ریوا/نرمدا اور گوداوری جیسے علاقائی جل، سمندر کے سنگم، اور متبادل جل جیسے تل ملا پانی، آملکی ملا پانی، اور بیل پتر ملا پانی۔ یہ بھکتی-طریقہ بھی بتایا گیا ہے کہ پانی کے برتن کے پاس ذہن میں گنگا کا سمرن کرنے سے بھی اشنان کا پھل ملتا ہے، کیونکہ گنگا کو بھگوان کے پادودک (قدموں کے جل) سے وابستہ مانا گیا ہے۔ رات کے اشنان سے پرہیز اور سورج کے دیدار کے ساتھ شُدھی پر زور دیا گیا ہے؛ آخر میں اگر جسمانی اشنان ممکن نہ ہو تو بھسم-اشنان، منتر-اشنان یا وِشنو کے پادودک سے اشنان کو بھی پاکیزگی دینے والے متبادل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

36 verses

Adhyaya 234

Adhyaya 234

चातुर्मास्यनियमविधिमाहात्म्यवर्णनम् (Glorification and Procedure of Cāturmāsya Disciplines)

اس باب میں برہما اور نارَد کے مکالمے کے ذریعے چاتُرمَاسیہ کی عظمت بیان ہوتی ہے۔ غسل کے اختتام پر روزانہ عقیدت کے ساتھ پِتروں کے لیے ترپن کرنے، خصوصاً مقدّس تیرتھ میں، اور سنگم کے مقامات پر دیوتاؤں کو نذر، جپ اور ہوم کرنے سے عظیم پُنّیہ حاصل ہونے کا ذکر ہے۔ پھر نیک اعمال سے پہلے گووند کا سمرن، اور سَت سنگ، دْوِج بھکتی، گرو-دیوتا-اگنی ترپن، گو دان، وید پاٹھ، سچ بولنا اور مسلسل دان-بھکتی کو دھرم کے سہارا دینے والے اصول بتایا گیا ہے۔ نارَد کے سوال پر برہما ‘نیَم’ کی تعریف اور اس کا پھل بتاتے ہیں—حواس اور کردار کی ضبط و تنظیم، اندرونی دشمنوں (شَڈ وَرگ) پر فتح، اور کْشَما و سَتْی جیسے اوصاف کی بنیاد۔ منونِگرہ کو گیان اور موکش کا سبب قرار دے کر کْشَما کو تمام نیَموں کو جوڑنے والی ایک جامع ریاضت کہا گیا ہے۔ سَتْی کو پرم دھرم، اہنسا کو دھرم کی جڑ، خصوصاً برہمنوں اور دیوتاؤں کی چیز چرانے سے سخت پرہیز، اَہنکار کا ترک، شَم، سنتوش اور بے حسدی کی پرورش کی تلقین ہے۔ آخر میں بھوت-دَیا یعنی تمام جانداروں پر کرم کو لازمی دھرم بتایا گیا ہے؛ کیونکہ ہری سب کے دلوں میں وِراجمان ہیں، اس لیے مخلوق کو اذیت دینا دینی و اخلاقی خلاف ورزی ہے، اور چاتُرمَاسیہ میں دَیا کو خاص طور پر سناتن دھرم کہا گیا ہے۔

31 verses

Adhyaya 235

Adhyaya 235

Cāturmāsya-dāna-mahimā (Theological Discourse on the Eminence of Charity during Cāturmāsya)

اس باب میں برہما–نارد کے مکالمے کے ذریعے چاتُرمَاسیہ کی عظمت بیان کی گئی ہے، جسے ‘ہَرَؤ سُپتے’—یعنی وہ زمانہ جب وشنو کو رسمًا حالتِ خواب میں تصور کیا جاتا ہے—میں خاص طور پر ثواب کا سبب کہا گیا ہے۔ ابتدا میں دان کو سب دھرموں میں برتر ٹھہرایا گیا، پھر اَنّ دان (غذا کا عطیہ) اور اُدک دان (پانی کا عطیہ) کو بے مثال و لاجواب قرار دیا گیا؛ ‘اَنّं برہ्म’ کے اصول اور اس حقیقت سے کہ پران (حیات) کا سہارا اَنّ ہی ہے، اس دعوے کی بنیاد رکھی گئی۔ چاتُرمَاسیہ میں انجام دیے جانے والے نیک اعمال کی فہرست دی گئی ہے: اَنّ و جل کا دان، گودان، وید پاتھ، ہوم، گرو اور برہمنوں کو بھوجن کرانا، گھرت دان، پوجا، اور سَجّنوں کی سیوا۔ ساتھ ہی ضمنی عطیات بھی بتائے گئے ہیں: دودھ کی مصنوعات، پھول، چندن/اگرو/دھوپ، پھل، ودیا دان اور بھومی دان۔ منت مانی ہوئی یا وعدہ شدہ خیرات کے بارے میں اخلاقی تنبیہ ہے: وعدہ کر کے دان میں تاخیر روحانی طور پر خطرناک ہے، جبکہ وقت پر دینا پُنّیہ بڑھاتا ہے؛ وعدہ شدہ چیز کو ہڑپ کرنا یا دوسری طرف موڑ دینا مذموم ہے۔ پھل شروتی میں یم لوک سے بچاؤ، مخصوص لوکوں کی حصولیابی، رِن تریہ سے نجات اور پِتروں کو فائدہ بیان ہوا ہے؛ اور اختتامیہ میں اس باب کو ناگرکھنڈ، ہاٹکیشور-کشیتر ماہاتمیہ، شیش شَیّیا اُپاکھیان اور چاتُرمَاسیہ ماہاتمیہ کے سلسلے میں رکھا گیا ہے۔

34 verses

Adhyaya 236

Adhyaya 236

इष्टवस्तुपरित्यागमहिमवर्णनम् (The Glory of Renouncing Preferred Objects during Cāturmāsya)

اس ادھیائے میں برہما–نارد سنواد کے ذریعے چاتُرمَاسیہ کا وعظ بیان ہوا ہے۔ برہما فرماتے ہیں کہ یہ زمانہ نارائن/وشنو کی خاص بھکتی اور ضبطِ نفس کا ہے؛ تیاگ اور سَیَم سے اَکشَیّ (ہمیشہ قائم) پُنّیہ پھل حاصل ہوتا ہے۔ یہاں بہت سے پرہیز گنوائے گئے ہیں—خصوصاً تانبے کے برتن کا ترک، پلاش/ارک/وٹ/اشوتھ کے پتّوں پر بھوجن، اور نمک، اناج و دالیں، رس، تیل، مٹھائیاں، دودھ کی چیزیں، شراب اور گوشت وغیرہ کا پرہیز۔ بعض لباس کے رنگ/اقسام اور چندن، کافور، زعفران نما خوشبودار تعیشات سے بھی کنارہ کشی، اور ہری کے یوگ نِدرا کے زمانے میں سنگھار و آرائش کم کرنے کی ہدایت ہے۔ خاص طور پر پرنِندا (دوسروں کی بدگوئی) کو سخت گناہ کہہ کر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اختتام پر نتیجہ یہ ہے کہ ہر طریقے سے وشنو کو راضی کرنا ہی اصل ہے؛ چاتُرمَاسیہ میں وشنو نام کا سمرن، جپ اور کیرتن نجات بخش اور عظیم ثمر دینے والا ہے۔

30 verses

Adhyaya 237

Adhyaya 237

Cāturmāsya-māhātmya and Vrata-mahimā (चातुर्मास्यमाहात्म्ये व्रतमहिमवर्णनम्)

اس باب میں برہما–نارد کے مکالمے کے ذریعے وِشنو کی عبادت کے ضمن میں وقت کی تعیین، اخلاقی ضبط اور بھکتی کے ارادے کی تعلیم دی گئی ہے۔ نارد پوچھتے ہیں کہ وِشنو کے قرب میں وِدھی اور نِشیدھ کب اختیار کیے جائیں۔ برہما کرکٹ-سنکرانتی کو زمانی نشان بتا کر، مبارک جامبو (جامن) پھلوں کے ساتھ اَرغیہ پیش کرنے اور واسودیو کے حضور خودسپردگی کے منتر-سنکلپ کے ساتھ پوجا کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ پھر وِدھی (مقررہ کرم) اور نِشیدھ (منضبط پرہیز) کو ایک دوسرے کا تکملہ قرار دے کر بتایا گیا ہے کہ دونوں کی بنیاد وِشنو ہی ہیں، اور خاص طور پر چاتُرمَاس میں بھکتی کے ساتھ ان کا پالن کرنا چاہیے؛ اس مدت کو سراسر مبارک کہا گیا ہے۔ دیوتا کے “شَیَن” کے زمانے میں کون سا ورت سب سے زیادہ پھل دیتا ہے—اس پر برہما وِشنو-ورت کو افضل بتاتے ہیں اور برہماچریہ کو اعلیٰ ترین ورت ٹھہراتے ہیں، جو تپسیا اور دھرم کی بنیادی قوت ہے۔ ہوم، برہمنوں کا احترام، سچ، دَیا، اہنسا، چوری سے پرہیز، ضبطِ نفس، بےغصہ رہنا، بےتعلقی، ویدوں کا مطالعہ، گیان اور کرشن کو منسوب چِت—ایسے اوصاف گنوا کر کہا گیا ہے کہ ایسا سادھک جیون مُکت اور گناہ سے بےلگ رہتا ہے۔ آخر میں زور دیا گیا ہے کہ چاتُرمَاس میں جزوی عمل بھی فائدہ دیتا ہے، تپسیا سے بدن پاک ہوتا ہے، اور ہری-بھکتی ہی ورت-نظام کا مرکزی ربط و اصول ہے۔

28 verses

Adhyaya 238

Adhyaya 238

चातुर्मास्यमाहात्म्ये तपोमहिमावर्णनम् (Tapas and the Greatness of Cāturmāsya Observance)

اس باب میں برہما–نارد کے مکالمے کے ذریعے، شیش شائی وِشنو کے پس منظر میں، چاتُرمَاسیّہ کے زمانے میں تپسیا کی حقیقت بیان کی گئی ہے۔ تپسیا کو محض روزہ/فاکہ نہیں کہا گیا، بلکہ وِشنو کی سولہ اُپچاروں سے پوجا، نِتّیہ پنچ یَجّیوں کی ادائیگی، سچائی، اہنسا (عدمِ تشدد) اور حواس پر قابو—ان سب کی جامع ریاضت قرار دیا گیا ہے۔ گھریلو لوگوں کے لیے پنچایتن طرز پر سمتوں کے مطابق پوجن کی ترتیب بھی بتائی گئی ہے—زمانی مرکز میں سورج اور چاند، آگ کے کونے میں گنیش، نَیرِرت میں وِشنو، وایویہ میں کُل/वंش دیوتا، اور ایشان میں رُدر؛ مخصوص پھولوں اور نیتوں کے ساتھ رکاوٹوں کا ازالہ، حفاظت، اولاد کی برکت اور اپمِرتیو (ناگہانی موت) سے بچاؤ جیسے مقاصد بیان ہوئے ہیں۔ بعد کے حصے میں چاتُرمَاسیّہ کی تپسیاؤں کی درجہ بندی آتی ہے—مختلف محدود غذائیں، ایک وقت کا کھانا/ایک دن چھوڑ کر، کِرِچّھر اور پاراک وغیرہ، اور دْوادشی کے نشانوں کے مطابق ‘مہاپاراک’ کے سلسلے۔ ہر عمل کی پھل شروتی میں گناہوں کی پاکیزگی، ویکنٹھ کی حصولیابی اور بھکتی-گیان میں اضافہ بتایا گیا ہے۔ آخر میں سننے اور پڑھنے کی فضیلت بیان کر کے، وِشنو کے شَیَن (نیند) کے موسم میں گِرہستھوں کے لیے اسے اعلیٰ قدر کی اخلاقی و رسومی رہنمائی قرار دیا گیا ہے۔

60 verses

Adhyaya 239

Adhyaya 239

चातुर्मास्यमाहात्म्ये तपोऽधिकार-षोडशोपचार-दीपमहिमवर्णनम् | Cāturmāsya Māhātmya: Sixteenfold Worship and the Merit of Lamp-Offering

باب 239 ایک برہما–نارد مکالمہ ہے۔ نارد پوچھتے ہیں کہ ہری کی شَیَن (آرام/لیٹے ہوئے) حالت میں خصوصاً شُوڑش اُپچار (سولہ خدماتِ عبادت) کس طرح ادا کیے جائیں؛ وہ تفصیلی بیان چاہتے ہیں۔ برہما وید کی حجّیت قائم کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ وِشنو بھکتی کی بنیاد وید ہے، اور عبادت کا نظم وید–برہمن–اگنی–یَجْن کی مقدّس وساطتی ترتیب کے مطابق ہے۔ پھر چاتُرمَاسیَہ کی خاص عظمت بیان ہوتی ہے—اس مدت میں ہری کا دھیان آب سے وابستہ بھاو میں کیا جاتا ہے؛ آب سے اَنّ (غذا) اور اَنّ سے وِشنو-مُول تقدّس کی ontological نسبت واضح کی جاتی ہے۔ نذرانوں کو سنسار کے بار بار آنے والے دکھوں سے حفاظت کا ذریعہ کہا گیا ہے۔ اندرونی و بیرونی نیاس، ویکُنٹھ روپ کا آواہن (علامات کے ساتھ)، پھر آسن، پادْی، اَرگھْی، آچمن، خوشبودار و تیرتھ جل سے اسنان، وستردان، یَجْنوپویت کی اہمیت، چندن لیپن، پاکیزہ سفید پھولوں کی پوجا، منتر سمیت دھوپ، اور آخر میں دیپدان کا ترتیب وار ذکر ہے۔ دیپدان کو اندھیرا اور گناہ مٹانے والی نہایت قوی عبادت بتایا گیا ہے۔ پورے باب میں بار بار شرط رکھی گئی ہے کہ اثر و ثمر ‘شردھا’ (اخلاصِ نیت و ایمان) سے ہی حاصل ہوتا ہے، اور پوجا کو اخلاقی و روحانی ریاضت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ چاتُرمَاسیَہ میں دیپدان وغیرہ کی مضبوط پھل-شروتی کے ساتھ باب ختم ہوتا ہے۔

58 verses

Adhyaya 240

Adhyaya 240

Haridīpa-pradāna Māhātmya (Theological Discourse on Offering a Lamp to Hari/Vishnu, especially in Cāturmāsya)

اس باب میں برہما–نارد کے مکالمے کے ذریعے ہری/وشنو کو دیپ (چراغ) دان کرنے کی مہاتمیا بیان ہوئی ہے۔ برہما فرماتے ہیں کہ دوسرے دان اور پوجا کے مقابلے میں ہری کے لیے پیش کیا گیا دیپ سب سے برتر ہے؛ یہ پاپ (گناہ) کو دور کرنے والا ہے اور چاتُرمَاسیہ میں خاص طور پر سنکلپ کی تکمیل اور مطلوبہ پھل دینے والا مانا گیا ہے۔ پھر عبادت کا ترتیب وار طریقہ بتایا گیا ہے—دیپ ارپن کے ساتھ باقاعدہ پوجا، تریودشی کو نَیویدیہ کی نذر، اور ‘ہری-شین’ کے زمانے یعنی چاتُرمَاسیہ میں روزانہ اَर्घ्य دان۔ شنکھ-جل کے ساتھ پان کے پتے، سپاری، پھل وغیرہ اَर्घ्य میں رکھ کر کیشو کو منتر کے ساتھ ارپن کرنے کا حکم ہے؛ اس کے بعد آچمن، آرتی، چتُردشی کو ساشٹانگ پرنام، اور پورنیما کو پردکشنا—جسے وسیع تیرتھ یاترا اور جل دان کے برابر ثواب کہا گیا ہے۔ اختتام پر دھیان کی تعلیم ہے: یوگ سے آشنا سادھک کو جامد صورت کی قید سے آگے بڑھ کر ہر جگہ الٰہی حضوری کا دھیان کرنا چاہیے، آتما کا وشنو سے رشتہ سوچنا چاہیے، اور ویشنو بھاو کے ساتھ بدن میں رہتے ہوئے بھی جیون مُکتی کے قریب ہونا چاہیے۔ چاتُرمَاسیہ کو ایسی منضبط بھکتی کے لیے خاص طور پر موزوں زمانہ بتایا گیا ہے۔

22 verses

Adhyaya 241

Adhyaya 241

सच्छूद्रकथनम् (Discourse on the 'Sat-Śūdra' and household dharma in Chāturmāsya)

اس باب میں مکالمے کے انداز میں دینی و اخلاقی تعلیم بیان ہوتی ہے۔ ابتدا میں ایشور اہلِ صلاحیت سادھکوں کے لیے وشنو پوجا کے سولہ طریقے بتاتے ہیں جو اعلیٰ ترین مقام تک پہنچنے کا وسیلہ ہیں۔ پھر رسم و عبادت کی اہلیت اور یہ سوال اٹھتا ہے کہ مخصوص کرشن اُپاسنا پر براہِ راست انحصار کیے بغیر نجات کی طرف لے جانے والا پُنّیہ کیسے حاصل ہو۔ کارتّیکیہ شُودر اور عورتوں کے دھرم کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ ایشور وید کے پاٹھ وغیرہ کے بارے میں کچھ پابندیاں بیان کر کے “ست-شُودر” کی تعریف زیادہ تر گِرہستھ دھرم کے ذریعے کرتے ہیں: مناسب اوصاف والی باقاعدہ شادی شدہ بیوی، منضبط گھریلو زندگی، منتر کے بغیر پنچ یَجْن، مہمان نوازی، دان، اور دْوِج مہمانوں کی خدمت۔ پتی ورتا کے آدرش، میاں بیوی کی ہم آہنگی کے دینی ثمرات، نیز ذاتوں کے مطابق نکاح کے قواعد، نکاح کی اقسام اور اولاد کی اقسام کو سمرتی طرز کی درجہ بندی میں بیان کیا گیا ہے۔ آخر میں عدمِ تشدد، عقیدت کے ساتھ خیرات، محدود و جائز روزگار، روزمرہ نظم، اور چاتُرمَاس میں خاص پُنّیہ افزائی کی ہدایات آتی ہیں۔ یوں گھریلو آچارن اور موسمی پابندی کو بنیاد بنا کر عمل پر مبنی، درجۂ بدرجۂ دھرم کا نقشہ پیش کیا گیا ہے۔

52 verses

Adhyaya 242

Adhyaya 242

Aṣṭādaśa-prakṛti-kathana (Discourse on the Eighteen Social/Occupational Natures)

باب 242 ایک تِیرتھ-ماہاتمیہ کے سیاق میں برہما–نارد کے دینی و اخلاقی مکالمے کی صورت میں ہے۔ نارد “اَشٹادش پرکرتیاں” (اٹھارہ طبائع/طبقات) اور اُن کی مناسب وِرتّی—یعنی روزی اور طرزِ عمل—کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ برہما اپنی تخلیقی یاد بیان کرتے ہیں: کنول سے ظہور، بے شمار کائناتی انڈوں/برہمانڈوں کا دیدار، سستی و جمود میں پڑ جانا، پھر تپسیا کی ہدایت سے اصلاح، اور آخرکار تخلیق کا اختیار ملنا۔ اس کے بعد باب تخلیق سے سماجی اخلاقیات کی طرف آتا ہے اور ورن کے مطابق فرائض بتاتا ہے—برہمن کے لیے ضبطِ نفس، ودیا/ادھیयन اور بھکتی؛ کشتری کے لیے رعایا کی حفاظت اور کمزوروں کی پناہ؛ ویش کے لیے معیشت کی نگہداشت، دان اور تجارت کا دھرم؛ شودر کے لیے خدمت، پاکیزگی اور فرض شناسی۔ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ منتر کے بغیر نیک اعمال کے ذریعے بھی بھکتی کا راستہ میسر ہے۔ اٹھارہ پرکرتیوں کے اندر مختلف پیشہ ور گروہوں کو اعلیٰ/درمیانی/ادنیٰ طور پر اجمالاً بیان کیا گیا ہے، اور اختتام پر کہا گیا ہے کہ وشنو-بھکتی ورن، آشرم اور پرکرتی کے فرق سے بالا تر سب کے لیے سراسر مبارک ہے۔ پھل شروتی کے مطابق اس پاکیزہ پورانک حصے کا سننا یا پڑھنا گناہوں کو زائل کرتا ہے اور سُدھ آچارن پر قائم سالک کو وشنو کے دھام تک لے جاتا ہے۔

45 verses

Adhyaya 243

Adhyaya 243

शालिग्रामपूजनमाहात्म्यवर्णनम् | The Glory of Śālagrāma Worship (Paijavana Upākhyāna)

برہما دھرم کی تعلیم کے لیے پَیجَوَن نامی ایک شودر گِرہست کی مثال بیان کرتے ہیں۔ وہ سچّا، جائز و دھارمک روزگار والا، مہمان نواز، وشنو اور برہمنوں کا بھکت ہے۔ اس کے گھر میں موسموں کے مطابق دان، عوامی بھلائی کے کام (کنویں، تالاب، سرائے) اور ورت و نیَم کی پابندی دکھائی گئی ہے، جس سے یہ بات قائم ہوتی ہے کہ گِرہست دھرم بھی روحانی طور پر پھل دینے والا ہے۔ گالَو رِشی شاگردوں سمیت آتے ہیں اور پَیجَوَن انہیں احترام سے قبول کرتا ہے۔ وہ اس آمد کو پاکیزگی کا سبب سمجھ کر پوچھتا ہے کہ جسے وید-پাঠ کا حق نہ ہو، اس کے لیے موکش دینے والی سادھنا کون سی ہے۔ گالَو شالگرام-مرکوز ہری بھکتی کا حکم دیتے ہیں—اس کا پُنّیہ اَکشَے (ناقابلِ زوال) ہے، چاتُرمَاسیَہ میں اس کی تاثیر بڑھ جاتی ہے، اور یہ آس پاس کی جگہ کو بھی مقدّس کرتی ہے۔ اہلیت کے باب میں ‘اَسَت شودر’ اور ‘سَت شودر’ کا فرق بتا کر لائق گِرہستوں اور نیک سیرت عورتوں کے لیے بھی اس عبادت کی گنجائش ثابت کی جاتی ہے، اور شک کو نتیجہ برباد کرنے والا کہا جاتا ہے۔ تُلسی کی نذر (پھولوں سے افضل)، ہار، چراغ، لوبان/دھونی، پنچامرت سے اشنان اور شالگرام روپ میں ہری کا سمرن—یہ اعمال بیان ہوتے ہیں؛ ان کے پھل کے طور پر پاکیزگی، نہ گرنے والا سوَرگ-واس اور آخرکار موکش کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اختتام پر شالگرام کے چوبیس روپوں کی درجہ بندی کا ذکر آتا ہے اور ماہاتمیہ کی روایت مکمل ہوتی ہے۔

67 verses

Adhyaya 244

Adhyaya 244

चतुर्मास्यमाहात्म्ये चतुर्विंशतिमूर्त्तिनिर्देशः (Cāturmāsya Māhātmya: Enumeration of the Twenty-Four Forms)

اس باب میں پیجَوَن استاد کے کلامِ شیریں کو سن کر بھی سیراب نہ ہونے کی بات کہہ کر عقیدے کے ‘بھید’ (اقسام و امتیازات) کی تفصیلی توضیح طلب کرتا ہے۔ گالَو وعدہ کرتے ہیں کہ وہ پورانوں میں مذکور ایک ایسی شمار بندی بیان کریں گے جس کے سننے سے گناہوں سے رہائی حاصل ہوتی ہے۔ اس کے بعد ہری/وشنو کے چوبیس تعبدی روپوں/ناموں کی ترتیب وار فہرست دی جاتی ہے—کیسو، مدھوسودن، سنکرشن، دامودر، واسودیو، پردیومن وغیرہ، کرشن تک—اور انہیں سال بھر کی عبادت کے لیے ایک معتبر و مقرر مجموعہ قرار دیا جاتا ہے۔ ان ناموں کو تِتھیوں اور سالانہ گردشِ زمانہ کے ساتھ جوڑ کر منظم عبادتی پروگرام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، نیز چوبیس کی دیگر ہم عدد ترتیبوں (مثلاً اوتاروں کی گنتی) سے بھی مناسبت دکھائی گئی ہے۔ آخر میں کہا گیا ہے کہ مقررہ اوقات میں یکسوئی اور بھکتی کے ساتھ پوجا کرنے سے دھرم، ارتھ، کام اور موکش—چاروں پرشارتھ حاصل ہوتے ہیں؛ اور عقیدت سے سماعت یا تلاوت کرنے پر مخلوقات کے نگہبان ہری خوش ہوتے ہیں—یہی اس کی پھل شروتی ہے۔

14 verses

Adhyaya 245

Adhyaya 245

Devas Returning to Mandarācala for Śiva-darśana (Tāraka-opadrava Context) | मंदराचलंप्रतिगमनवर्णनम्

اس باب میں پیجَوَن، گالَو سے شالگرام کی اصل اور یہ کہ پتھر میں بھی نِتیہ بھگوان کی حضوری کیسے سمجھی جائے، دریافت کرتا ہے اور بھکتی کو استوار کرنے والی تعلیم چاہتا ہے۔ گالَو جواب کو پوران-مشہور اِتیہاس کی کڑی میں رکھ کر قصہ شروع کرتا ہے—دکش کا شِو سے عداوت یَجْیَ میں ستی کے دےہ-تیاغ تک پہنچتی ہے؛ پھر وہ پاروتی کے روپ میں جنم لے کر مہادیو کے لیے طویل تپسیا کرتی ہے۔ شِو آزمائش کے روپ میں آ کر اس کی نِشٹھا پرکھتے ہیں، اسے قبول کرتے ہیں اور دیوتاؤں کی موجودگی میں ویدک وِدھی سے وِواہ انجام پاتا ہے۔ آگے شِو کی اجازت سے کام دیو کے پُنَردیہ دھارن کا بیان ہے۔ ور دان سے طاقتور ہوئے تارک کے ظلم سے پریشان دیوتا برہما کی پناہ لیتے ہیں؛ برہما بتاتا ہے کہ پاروتی سے پیدا ہونے والا شِو پُتر سات دن کے بعد تارک کا وध کرے گا۔ آخر میں دیوتا مندراآچل کی طرف جاتے ہیں، جہاں شِوگن چوکس پہرے میں ہیں، اور دیوتا چاتُرمَاسیَ بھاؤ سے طویل تپسیا کر کے شِو درشن اور کرپا کی یाचنا کرتے ہیں۔

50 verses

Adhyaya 246

Adhyaya 246

पार्वत्येन्द्रादीनां शापप्रदानवृत्तान्तवर्णनम् | Parvatī’s Curse upon Indra and the Devas: Narrative Account and Ritual Implications

اس باب میں گالَو مُنی ورت-چریا کے سوال کے جواب میں دیوتاؤں کا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ دیوتا شیو کے پرتیَکش درشن سے محروم رہ کر شَیَو بھاو سے شیو کی ایک مُورت/پرتیک روپ گھڑتے ہیں اور تپسیا کرتے ہیں—شدکشر منتر جپ، چاتُرمَاسّیہ کی پابندی، اور بھسم دھارن، کَپال-دَند کے نشان، اَردھ چندر اور پنچوَکتر روپ کی علامتیں وغیرہ کو ورت کی پہچان کے طور پر بتایا جاتا ہے۔ شیو ان کی پاکیزگی اور بھکتی سے پرسن ہو کر ‘شُبھ مَتی’ عطا کرتے ہیں، اور کہا جاتا ہے کہ وِدھی کے مطابق شترُدریہ جپ، دھیان، دیپ دان اور شودشوپچار پوجا سے وہ سنتُشٹ ہوتے ہیں۔ اسی دوران ایک دیوی/دیوتائی ہستی پرندے کی صورت اختیار کر کے شیو کے پاس آتی ہے؛ اس سلسلے سے پاروتی کو رنج و غضب ہوتا ہے اور وہ دیوتاؤں کو شاپ دیتی ہیں کہ وہ پتھر جیسے اور بے اولاد ہو جائیں۔ دیوتا طویل ستُتی کے ذریعے پاروتی کو پرکرتی، منتر-بیج اور سِرشٹی-ستھِتی-پریلے کی ابدی بنیاد مان کر معافی مانگتے ہیں۔ چاتُرمَاسّیہ میں خاص طور پر بِلو پتر سے پوجن کو نہایت پھل دایَک کہا گیا ہے؛ انکساری، ضبطِ نفس اور صلح و صفائی کی تعلیم، اور شیو-شکتی کی باہمی تکمیل و برتری اس تیرتھ-کَتھا کا عملی حاصل قرار پاتی ہے۔

38 verses

Adhyaya 247

Adhyaya 247

अश्वत्थमहिमवर्णनम् (Aśvattha-Mahimā Varṇanam) — The Glory of the Aśvattha Tree in Chāturmāsya

باب کے آغاز میں پَیجَوَن سوال کرتا ہے کہ شری (لکشمی) کس طرح تُلسی میں اور پاروتی کس طرح بِلوَ کے درخت میں مقیم ہیں۔ تب رِشی گالَو سابقہ واقعہ سناتے ہیں: دیو–اسُر جنگ میں شکست خوردہ اور خوف زدہ دیوتا برہما کی پناہ لیتے ہیں؛ برہما جانب دارانہ مداخلت سے انکار کر کے ایک بلند تر حل کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ اسی ضمن میں ہریہر روپ بیان ہوتا ہے—آدھا شِو، آدھا وِشنو—جو عدمِ تقسیم کے عقیدے کی علامت ہے اور اختلافی مناظروں میں الجھے لوگوں کو نِروان کی سمت راہ دکھاتا ہے۔ پھر منظرنامۂ عقیدہ سامنے آتا ہے: دیوتا جانتے ہیں کہ بِلوَ میں پاروتی اور تُلسی میں لکشمی کا نِواس ہے، اور آکاش وانی سے سنتے ہیں کہ چاتُرمَاسیہ میں ایشور کرپا سے درختی روپ میں بھی وِراجمان رہتا ہے۔ اَشوَتھ (پیپل) کو خاص طور پر عظیم بتایا گیا ہے، خصوصاً جمعرات کو؛ اس کے لمس، دیدار، پوجا، آب پاشی اور دودھ و تل کے مرکب نذرانوں سے تطہیر کا پھل کہا گیا ہے۔ اَشوَتھ کی یاد اور خدمت گناہوں اور یم لوک کے خوف کو کم کرتی ہے، اور درخت کو نقصان پہنچانے کی سخت ممانعت ہے۔ آخر میں وِشنو کی ہمہ گیری یوں بتائی گئی—جڑ میں وِشنو، تنے میں کیشو، شاخوں میں نارائن، پتّوں میں ہری، اور پھلوں میں اَچُیوت—اور نتیجہ یہ کہ عقیدت سے درخت کی سیوا موکش کی سمت لے جانے والا پُنّیہ دیتی ہے۔

43 verses

Adhyaya 248

Adhyaya 248

पालाशमहिमवर्णनम् (The Glorification of the Palāśa/Brahma-Tree) — Cāturmāsya Context

اس ادھیائے میں وانی پالاش کے درخت (برہماورِکش/برہما کا درخت) کی عظمت کو دینی و تاتوی انداز میں بیان کرتی ہیں۔ پالاش کو متعدد اُپچاروں کے ساتھ خدمت و پوجا کے لائق، مرادیں پوری کرنے والا اور بڑے گناہوں کو مٹانے والا کہا گیا ہے۔ اس کے پتّوں کے بائیں، دائیں اور وسطی مقام کے ساتھ دیوتاؤں کے تثلیثی ربط کی علامتی توضیح ملتی ہے؛ نیز جڑ، تنا، شاخ، پھول، پتّا، پھل، چھال اور گودے—ہر حصے میں دیوتاؤں کی سکونت بتا کر درخت کے جسم کو سراسر مقدّس قرار دیا گیا ہے۔ پالاش کے پتّوں کے برتنوں میں کھانا کھانے سے عظیم یَجْنوں کا پھل، کئی اشومیدھ کے برابر پُنّیہ—خصوصاً چاتُرمَاسیہ کے زمانے میں—حاصل ہونے کا ذکر ہے۔ اتوار کو دودھ سے پوجا اور جمعرات کو بھکتی بھرا آچرن خاص طور پر سراہا گیا ہے؛ سحر کے وقت پالاش کا دیدار بھی پاکیزگی کا سبب بتایا گیا ہے۔ آخر میں پالاش کو ‘دیوبیج’ اور برہمن کا ظاہر روپ کہہ کر، چاتُرمَاسیہ میں شردھا کے ساتھ اس کی سیوا کو تطہیر اور دکھوں سے نجات کا اخلاقی راستہ قرار دیا گیا ہے۔

16 verses

Adhyaya 249

Adhyaya 249

तुलसीमाहात्म्यवर्णनम् (Glorification of Tulasī: Virtue, Protection, and Cāturmāsya Practice)

اس باب میں تلسی کی عظمت کو گھریلو دھرم اور ورت/نذر کے دھرم میں پاکیزگی بخشنے والی حضوری اور بھکتی کے وسیلے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ گھر میں تلسی لگانا عظیم پھل دیتا ہے اور فقر و افلاس کو دور کرتا ہے۔ پھر تلسی کے دیدار، صورت، پتے، پھول، پھل، لکڑی، گودا اور چھال وغیرہ میں شری/لکشمی اور مبارکی کے سکونت پذیر ہونے کا ذکر کر کے تلسی کو ہر پہلو سے طہارت اور برکت کی حامل بتایا گیا ہے۔ سر پر، منہ میں، ہاتھوں میں، دل میں، کندھوں پر اور گلے میں تلسی رکھنے کے مراتب کے ذریعے حفاظت، بیماری و غم سے نجات، کلفتوں کا زوال اور موکش کی طرف رغبت والی حالت بیان ہوتی ہے۔ روزانہ تلسی کے پتے ساتھ رکھنا اور باقاعدہ پانی دینا بھکتی آچرن کے طور پر سراہا گیا ہے؛ خصوصاً چاتُرمَاس میں تلسی کی سیوا نایاب اور نہایت پُنیہ بخش—دودھ سے سینچنا اور تلسی کے آلوالے/حوض کی نگہداشت و دان بھی مذکور ہے۔ آخر میں یہ جامع تصور دیا گیا ہے کہ ہری سب درختوں میں جلوہ گر ہیں اور کملہ (لکشمی) درخت میں سکونت کر کے ہمیشہ دکھ دور کرتی ہیں—یوں ویشنو بھکتی، مقدس درختوں کی ماحولیات اور موسمی ضبط ایک ساتھ جڑ جاتے ہیں۔

20 verses

Adhyaya 250

Adhyaya 250

बिल्वोत्पत्तिवर्णनम् | Origin and Sacred Significance of the Bilva Tree

اس باب میں وانی کے مکالماتی انداز میں بیل کے درخت (بلوترو) کی پیدائش اور اس کی مقدس عظمت بیان کی گئی ہے۔ مندر پہاڑ پر گردش کے دوران تھکی ہوئی پاروتی دیوی کے جسم سے پسینے کا ایک قطرہ زمین پر گرتا ہے اور وہی ایک عظیم دیویہ درخت بن جاتا ہے۔ اسے دیکھ کر دیوی جیا اور وجیا سے پوچھتی ہیں؛ وہ بتاتی ہیں کہ یہ دیوی کے جسم سے پیدا ہوا، پاپوں کو ناش کرنے والا اور پوجا کے لائق ہے، اس لیے اس کا نام رکھا جائے۔ پاروتی اس کا نام ‘بیل’ رکھتی ہیں اور اعلان کرتی ہیں کہ آئندہ زمانے میں راجے اور بھکت شردھا کے ساتھ بیل کے پتے جمع کرکے ان کی پوجا میں ارپن کریں گے۔ پھر پھل شروتی بیان ہوتی ہے—مرادیں پوری ہوتی ہیں؛ بیل پتوں کا درشن اور بھروسے کے ساتھ پوجا میں ان کا استعمال پوجا کو سہارا دیتا ہے؛ پتے کے اگلے حصے کا چکھنا اور پتے کے اگلے حصے کو سر پر رکھنا بہت سے گناہوں کو مٹاتا اور سزا کے دکھ سے بچاتا ہے۔ آخر میں درخت کو دیوی کا جیتا جاگتا تیرتھ-مندِر بتایا گیا ہے—جڑ میں گریجا، تنے میں دکشاینی، شاخوں میں ماہیشوری، پتوں میں پاروتی، پھل میں کاتیاینی، چھال میں گوری، اندرونی ریشوں میں اپرنا، پھولوں میں درگا، شاخ-انگوں میں اُما اور کانٹوں میں محافظ شکتیوں کا واس۔

20 verses

Adhyaya 251

Adhyaya 251

Viṣṇu-śāpaḥ and the Etiology of Śālagrāma (Cāturmāsya Context)

باب 251 گالَو کے مکالماتی انداز میں شالگرام کی پیدائش کی علّت بیان کرتا ہے۔ چاتُرمَاسیہ کے زمانے میں مبارک آکاش وانی ہوتی ہے اور دیوتا چار درختوں کی باقاعدہ پوجا کرتے ہیں۔ پھر ہری اور ہر ایک متحد ‘ہریہرآتْمک’ روپ میں ظاہر ہو کر دیوتاؤں کے اپنے اپنے اختیارات اور لوک-نظام کو دوبارہ قائم کرتے ہیں۔ اس کے بعد پاروتی کے شاپ سے متاثر دیوتا بیلْو پتر اور بار بار ستوتی کے ذریعے دیوی کو راضی کرتے ہیں۔ دیوی شاپ کو منسوخ نہیں کرتیں، مگر کرپا سے اسے لوک-ہت کے لیے نئی ترتیب دیتی ہیں—دیوتا انسانوں کی دنیا میں ہر ماہ پرتیما/نشان کی صورت میں سُلَبھ ہوں گے اور بیاہ سنسکار، اولاد کی پرابتि وغیرہ میں بر دینے والے بنیں گے۔ پھر دیوی وشنو اور مہیشور کو شاپ کا پھل بتاتی ہیں—وشنو پاشان (پتھر) روپ اختیار کریں گے، اور شِو برہمن-شاپ کے پس منظر میں لِنگ سے وابستہ پاشان روپ دھاریں گے؛ اس سے سماج میں نزاع اور دکھ بھی پیدا ہوگا۔ وشنو دیوی کی باقاعدہ ستوتی کرتے ہیں اور انہیں گُن تریہ مَیی مایا اور تری روپہ شکتی کے طور پر سراہتے ہیں۔ پاروتی نجات بخش جغرافیہ متعین کرتی ہیں—وشنو گنڈکی کے پاکیزہ پانیوں میں شالگرام-شِلا روپ سے وِراجمان ہوں گے؛ پران-جاننے والے سنہری رنگت اور چکر کے نشان وغیرہ سے پہچانیں گے۔ تُلسی بھکتی کے ساتھ شِلا روپ وشنو کی پوجا سے بھکتوں کی مرادیں پوری ہوتی ہیں اور موکش کے قریبیت ملتی ہے؛ محض درشن بھی یم کے خوف سے حفاظت کہا گیا ہے۔ آخر میں شالگرام کی اصل کہانی اور شاپ کے بعد دیوی-دیوتاؤں کے نِواس کی ترتیب پھر سے ثابت کی جاتی ہے۔

35 verses

Adhyaya 252

Adhyaya 252

Cāturmāsya-vṛkṣa-devatā-nivāsaḥ (Divine Abiding in Trees during Cāturmāsya)

اس ادھیائے میں ایک شودر سوال کرنے والے اور رشی گالَو کے درمیان سوال و جواب کی صورت میں گفتگو ہے۔ شودر پوچھتا ہے کہ چاتُرمَاسیہ میں دیوتا درختوں کی شکل اختیار کرکے درختوں میں کیسے قیام کرتے ہیں۔ گالَو بتاتے ہیں کہ الٰہی ارادے سے اس موسم میں پانی کو امرت کے مانند مانا جاتا ہے؛ درخت-دیوتا اسے ‘پان’ کرکے قوت، تجلّی، حسن اور وِیریہ جیسے اوصاف پیدا کرتے ہیں۔ پھر رسم و اخلاق کی ہدایات آتی ہیں: درختوں کی خدمت ہر مہینے میں ستائش کے لائق ہے، مگر چاتُرمَاسیہ میں خاص طور پر ثمر آور۔ تل ملا پانی (تلودک) سے درختوں کو سیراب کرنا مرادیں پوری کرنے والا کہا گیا ہے؛ تل کو پاکیزگی بخشنے والا، دھرم و ارتھ کا سہارا اور دان میں نمایاں شے بتایا گیا ہے۔ اس کے بعد مختلف درختوں کے ساتھ دیوتاؤں اور گندھرو، یکش، ناگ، سدھ وغیرہ کے تعلقات فہرست وار بیان ہوتے ہیں—مثلاً وٹ میں برہما، جو میں اندر۔ آخر میں اشوتھ/پیپل اور تلسی کی سیوا کو پوری نباتاتی دنیا کی سیوا کے برابر مانا گیا ہے؛ یَجْیَ کی ضرورت کے سوا چاتُرمَاسیہ میں درخت کاٹنا منع ہے۔ جمبو درخت کے نیچے برہمنوں کو بھوجن کرانا اور درخت کی پوجا کرنا دولت و خوشحالی اور چاروں پُرُشارتھوں کی تکمیل کا سبب بتایا گیا ہے۔

50 verses

Adhyaya 253

Adhyaya 253

शंकरकृतपार्वत्यनुनयः (Śaṅkara’s Appeasement of Pārvatī) — Cāturmāsya-Māhātmya Context

باب 253 ایک مکالماتی، دینی و اخلاقی واقعہ بیان کرتا ہے۔ سوال اٹھتا ہے کہ پاروتی کے غضب، اُن کے شاپ (لعنت) اور رُدر کے بگڑے ہوئے حال میں دکھائے جانے کے بعد دوبارہ دیویہ روپ میں لوٹنے کی کیا وجہ ہے۔ گالَو بتاتے ہیں کہ دیوی کے خوف سے دیوتا اَدِرش (غائب) ہو جاتے ہیں اور منُشّیہ لوک میں پرتِما (مورت) کی صورت میں قائم ہوتے ہیں؛ پھر دیوی کرپا فرماتی ہیں۔ وِشنو کی جگن ماتا اور پاپ ہَرنے والی حیثیت سے ستوتی کی جاتی ہے۔ اس کے بعد نیتی-دھرم کی تعلیم آتی ہے: خطا ہو تو نگراہ (تادیب) اور اصلاح فرض ہے، اور یہ فرض باپ-بیٹے، گرو-شِشّیہ، شوہر-بیوی جیسے رشتوں میں بھی مناسب حد تک نبھانا چاہیے۔ کُل، جاتی اور دیش-دھرم چھوڑنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ پاروتی غم و غضب میں شِو پر الزام رکھتی ہیں اور یہ سخت بات بھی کہتی ہیں کہ برہمنوں کے ہاتھوں شِو کو نقصان پہنچے گا۔ شِو کرُونا اور اہنسا کو بنیاد بنا کر بتدریج اُنہیں مناتے ہیں۔ صلح و قرار وِرت اور ضبطِ عبادت سے مشروط ہے: پاروتی چاتُرمَاسیہ کی پابندی، برہماچریہ، اور دیوتاؤں کے سامنے علانیہ تاندَو کرنے کی شرط رکھتی ہیں۔ شِو قبول کرتے ہیں تو شاپ انُگرہ میں بدل جاتا ہے۔ آخر میں پھل شُروتی ہے کہ عقیدت سے سننے والوں کو ثابت قدمی، کامیابی اور مبارک پناہ نصیب ہوتی ہے۔

38 verses

Adhyaya 254

Adhyaya 254

चातुर्मास्य-माहात्म्ये हरताण्डवनृत्य-वर्णनम् | Description of Śiva’s Haratāṇḍava Dance within the Glory of Cāturmāsya

باب کی ابتدا ایک سوال کرنے والے (شودر) کے تعجب اور شوقِ عقیدت سے ہوتی ہے۔ وہ پوچھتا ہے کہ دیوتاؤں کے درمیان مہادیو نے رقص کیسے کیا، چاتُرمَاسیہ ورت کی ابتدا کیسے ہوئی اور کون سا عہد اختیار کیا جائے، اور کون سا الٰہی انُگرہ (فضل) ظاہر ہوا۔ رشی گالَو پُنّیہ بخش روایت بیان کرتے ہیں۔ چاتُرمَاسیہ کے آنے پر ہَر برہماچریہ ورت دھारण کر کے مَندَر پہاڑ پر دیوتاؤں اور رشیوں کو بلاتا ہے اور بھوانی کو خوش کرنے کے لیے ہرتانڈَو رقص شروع کرتا ہے۔ دیوتا، رشی، سدھ، یکش، گندھرو، اپسرائیں اور گنوں کی عظیم محفل قائم ہوتی ہے؛ سازوں کی اقسام، تالیں اور گائیکی کی روایتیں تفصیل سے آتی ہیں۔ پھر شیو سے ظہور پانے والے راگ اپنی زوجاؤں سمیت شخصی صورت میں بیان ہوتے ہیں، اور چکر وغیرہ کے لطیف جسمانی اشارات کے ساتھ جمالیات و تَتّو کا ربط دکھایا جاتا ہے۔ موسموں کا چکر پورا ہونے پر پاروتی خوش ہو کر آئندہ واقعہ بتاتی ہیں کہ ایک برہمن کے شاپ سے گرا ہوا لِنگ نَرمدا کے جل سے وابستہ ہو کر دنیا بھر میں قابلِ تعظیم ہوگا۔ اس کے بعد شیو-ستوتر اور اس کی پھل-شروتی ہے: جو بھکتی سے اس کا پاٹھ کریں، انہیں مطلوب سے جدائی نہیں ہوتی، جنم جنم میں صحت و خوشحالی ملتی ہے، دنیاوی نعمتیں نصیب ہوتی ہیں اور آخرکار شیو لوک کی رسیدگی ہوتی ہے۔ اختتام پر برہما وغیرہ شیو کی ہمہ گیری اور شیو-وشنو کے اَبھید (عدمِ فرق) کی ستائش کرتے ہیں، اور گالَو دیویہ روپ کے دھیان کو نجات بخش نتیجہ قرار دیتے ہیں۔

99 verses

Adhyaya 255

Adhyaya 255

लक्ष्मीनारायणमहिमवर्णनम् (Glorification of Lakṣmī–Nārāyaṇa and Śāligrāma Worship during Cāturmāsya)

باب 255 میں تیرتھ-تتّو اور گھریلو عبادات کے طریقۂ کار کو یکجا کیا گیا ہے۔ اس میں گنڈکی کے شالگرام کو سویمبھُو (غیر مصنوعی) بتایا گیا ہے اور نرمدا کو مہیشور سے منسوب کر کے فطرت میں ظاہر ہونے والی مقدّس علامتوں کی ایک روحانی درجہ بندی قائم کی گئی ہے۔ پھر شروَن (سماع)، جزوی پاٹھ، مکمل پاٹھ اور بے فریبی کے ساتھ مطالعہ—ان سب کو غم سے آزادی والے ‘اعلیٰ مقام’ کے حصول کا مؤثر ذریعہ کہا گیا ہے۔ چاتُرمَاسیہ کے لیے خاص معمول بیان ہوتا ہے—فائدہ و برکت کے لیے گنیش پوجا، صحت کے لیے سورَی پوجا، اور گِرہستھوں کے لیے پنچایتن اُپاسنا؛ چار ماہ کی اس عبادت میں ثواب بڑھ جاتا ہے۔ شالگرام کے ذریعے لکشمی–نارائن کی پوجا، نیز دواروتی-شِلا، تُلسی اور دکشِناوَرت شنکھ وغیرہ کی اہمیت بتا کر طہارت، خوشحالی، گھر میں ‘شری’ کی پائیداری اور موکش کی طرف لے جانے والے نتائج کا وعدہ کیا گیا ہے۔ آخر میں تاکید ہے کہ سَروَویَاپی پروردگار کی عبادت گویا پوری کائنات کی عبادت ہے، اس لیے بھکتی سب کے لیے کافی ہے۔

31 verses

Adhyaya 256

Adhyaya 256

रामनाममहिमवर्णनम् (Glorification of the Name “Rāma” and Mantra-Discipline in Cāturmāsya)

باب کا آغاز کوہِ کیلاش پر ہوتا ہے جہاں رُدر اُما کے ساتھ جلوہ‌فرما ہیں اور بے شمار گَणوں سے گھِرے ہیں؛ گَणوں کے نام یکے بعد دیگرے بیان ہو کر ایک مقدّس، کائناتی دربار کا پس منظر قائم کرتے ہیں۔ بہار کے آنے سے حِسّی دلکشی اور کھیل کی چنچل فضا پھیلتی ہے؛ تب شِو گَणوں کو حکم دیتے ہیں کہ بے جا لہو و لعب چھوڑ کر تپسیا میں لگیں۔ پاروتی شِو کی جپ مالا دیکھ کر پوچھتی ہیں کہ آپ جو آدی پربھو ہیں، کس کا جپ کرتے ہیں اور کس برتر تَتّو کا دھیان کرتے ہیں؟ شِو جواب دیتے ہیں کہ وہ ہری کے سہسرنام کے سار کا نِرنتر چنتن کرتے ہیں اور منتر-تتّو کی تعلیم دیتے ہیں۔ پرنَو اور دوادشاکشری منتر کو وہ وید-سار، پاکیزہ اور موکش دینے والا بتاتے ہیں، اور خاص طور پر چاتُرمَاسیہ میں اس کے عظیم پھل—بڑے پاپ-سنجوگ کے نِشٹ ہونے وغیرہ—کا ذکر کرتے ہیں۔ پھر اہلیت و قواعد کی بات آتی ہے: پرنَو سے وابستہ صورتوں کے ساتھ اُن طبقات کے لیے جو پرنَو استعمال نہیں کرتے، دو حرفی “رام” نام کو نہایت مؤثر منتر قرار دیا جاتا ہے۔ آخر میں “رام” نام کی مسلسل مدح ہوتی ہے—یہ خوف و بیماری دور کرتا، فتح بخشتا اور سب کو پاک کرتا ہے؛ چاتُرمَاسیہ میں نام کا سہارا رکاوٹیں مٹاتا اور سزا نما اخروی نتائج کو بھی ٹال دیتا ہے۔

54 verses

Adhyaya 257

Adhyaya 257

द्वादशाक्षरनाममहिमपूर्वकपार्वतीतपोवर्णनम् (The Glory of the Twelve-Syllable Mantra and the Account of Pārvatī’s Austerity)

اس باب میں منتر-ادھیکار (اہلیت) اور منضبط بھکتی و تپسیا کا عقیدتی مکالمہ بیان ہوا ہے۔ پاروتی دْوادشاکشر منتر کی عظمت، درست صورت، ثمرات اور جپ کی روش تفصیل سے پوچھتی ہیں۔ مہادیو ورن-آشرم کے لحاظ سے قاعدہ بتاتے ہیں—دویجوں کے لیے پرنَو (اوم) کے ساتھ جپ، اور عورتوں و شودروں کے لیے پوران-سمِرتی کے فیصلے کے مطابق پرنَو کے بغیر، نمسکار کے ساتھ “نمو بھگوتے واسودیوائے” کی تعلیم۔ مقررہ کرم کی خلاف ورزی کو دَوش قرار دے کر اس کے منفی نتائج سے خبردار کرتے ہیں۔ پاروتی سوال اٹھاتی ہیں کہ وہ تین ماتراؤں سے پوجا کرتی ہیں، پھر بھی پرنَو-ادھیکار کیوں نہیں؟ شیو پرنَو کو اوّلین تَتّو بتا کر کہتے ہیں کہ برہما، وشنو اور شیو کی معنوی بنیاد اسی میں قائم ہے؛ مگر اہلیت تپسیا سے حاصل ہوتی ہے، خاص طور پر ہری کی خوشنودی کے لیے چاتُرمَاسیہ ورت کے پالن سے۔ تپسیا مقاصد و اوصاف دیتی ہے مگر دشوار ہے؛ ہری-بھکتی ہی تپسیا کی حقیقی افزائش ہے، اور بھکتی کے بغیر تپسیا کو کمزور بتایا گیا ہے۔ وشنو-سمَرَن وانی کو پاک کرتا ہے اور ہری-کتھا چراغ کی طرح گناہ و تاریکی کو دور کرتی ہے۔ آخر میں پاروتی ہماچل پر برہمچریہ اور سادگی کے ساتھ چاتُرمَاسیہ تپسیا اختیار کرتی ہیں اور مقررہ اوقات میں ہری-شنکر کا دھیان کرتی ہیں۔ اختتام پر (گالَو کے قول کے طور پر) انہیں جگت ماتا اور گُناتیت پرکرتی کہہ کر سراہا جاتا ہے، اور ان کی تپسیا کو ورت و کھیتر کی روایت میں نمونہ قرار دیا جاتا ہے۔

27 verses

Adhyaya 258

Adhyaya 258

हरशापः (Haraśāpaḥ) — “The Curse upon Hara / Śiva”

اس باب میں مُنی-مکالمے کے انداز میں گالَو کے سوال سے واقعہ شروع ہوتا ہے۔ شَیلپُتری پاروتی سخت تپسیا میں مشغول ہیں اور خواہش سے متاثر شِو سکون کی تلاش میں بھٹکتے ہوئے یمنا کے کنارے آتے ہیں۔ اُن کے تپومَی تیز سے یمنا کا پانی بدل کر سیاہی مائل ہو جاتا ہے؛ پھر پھلَشروتی میں بتایا گیا ہے کہ وہاں اشنان کرنے سے بڑے بڑے گناہوں کے انبار مٹ جاتے ہیں اور وہ مقام “ہرتیرتھ” کے نام سے مقدس مشہور ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد شِو دلکش اور کھیل بھری تپسوی صورت بنا کر رِشیوں کے آشرموں میں گھومتے ہیں۔ رِشیوں کی پتنیوں کے من اُن کی طرف کھنچ جاتے ہیں تو سماجی بے چینی پھیلتی ہے۔ رِشی دیوتا کو پہچان نہیں پاتے اور غصّے میں ذلت آمیز سزا کے طور پر شاپ دے دیتے ہیں؛ شاپ سے شِو کے بدن میں ہولناک عارضہ ظاہر ہوتا ہے اور کائنات میں اضطراب، دیوتاؤں میں خوف پیدا ہو جاتا ہے۔ پھر رِشی اپنی جہالت پر نادم ہو کر شِو کی ماورائی حقیقت کو مانتے اور ستوتی کرتے ہیں۔ دیوی کی ہمہ گیری اور کائناتی افعال کی اصل بنیاد کے طور پر حمد آتی ہے، اور شِو شاپ کے اثرات سے نجات کے لیے کرپا مانگتے ہیں—یوں تیرتھ کی بنیاد، جلد بازی کے فیصلے سے پرہیز، اور الوہی حقیقت کی باطنی/فوقانی شان ایک ہی تعلیم میں جمع ہو جاتی ہے۔

50 verses

Adhyaya 259

Adhyaya 259

अमरकण्टक-नर्मदा-लिङ्गप्रतिष्ठा तथा नीलवृषभ-स्तुति (Amarakantaka–Narmadā Liṅga स्थापना and the Praise of Nīla the Bull)

باب 259 میں تیِرتھ ماہاتمیہ کا کثیر حصّہ بیان ہوا ہے۔ رِشی ایک عظیم گرا ہوا لِنگ دیکھ کر اس میں زمانوں سے جمع شدہ ہمہ گیر قوت کو محسوس کرتے ہیں اور اس واقعہ سے زمین کے مضطرب ہونے کا ذکر آتا ہے۔ وہ وِدھی کے مطابق لِنگ کی پرتِشٹھا کرتے ہیں؛ اسی کے ساتھ پانی کی مقدّس شناخت قائم ہوتی ہے—وہ رِیوا/نرمدا کہلاتا ہے اور لِنگ امَرکنٹک سے منسوب نام سے معروف ہوتا ہے۔ پھر نرمدا میں اسنان و آچمن، پِتر ترپن، اور نرمدا سے وابستہ لِنگوں کی پوجا کے ثمرات گنوائے جاتے ہیں۔ خاص طور پر چاتُرمَاسیّہ کے اَنُشٹھان میں لِنگ پوجا، رُدر جپ، ہرا پوجن، پنچامرت ابھیشیک، شہد کی دھارا اور دیپ دان کی بڑی فضیلت بیان ہوتی ہے۔ اس کے بعد برہما کی وانی رِشیوں کی کائناتی اضطراب کی فکر کو نمایاں کرتی ہے؛ دیوتا آ کر برہمنوں کی طویل ستوتی کرتے ہیں، وانی (واگ) کی الٰہی طاقت دکھاتے ہیں اور برہمن کے قہر کو نہ بھڑکانے کی اخلاقی ہدایت دیتے ہیں۔ پھر قصہ گولوک کی طرف مڑتا ہے جہاں سُرَبھِی کے پتر ‘نیل’ نامی ورِشبھ، اس کے نام کی وجہ اور دھرم و شِو سے اس کا ربط بیان ہوتا ہے۔ رِشی نیل کو جگت کا سہارا اور دھرم کا روپ کہہ کر سراہتے ہیں؛ دیویہ ورِشبھ/دھرم کے خلاف سرکشی کی سخت تنبیہ اور شرادھ میں مرحوم کے لیے ورِشبھ اُتسرگ نہ کرنے کے دُوش پھل بھی بیان ہوتے ہیں۔ آخر میں نیل کو چکر و شُول کے نشانوں کے ساتھ آیُدھوپچار دے کر گایوں کے بیچ اس کی گردش دکھائی جاتی ہے اور رِیوا کے جل میں شاپ، بھکتی اور پتھر میں روپانتر کی نسبت والا شلوک باب کا اختتام کرتا ہے۔

74 verses

Adhyaya 260

Adhyaya 260

Cāturmāsya Māhātmya and the Worship of Śālagrāma-Hari and Liṅga-Maheśvara (Paijavana-upākhyāna context)

اس باب میں شالگرام-کَتھانک کے ضمن میں جاری الٰہیاتی گفتگو آگے بڑھتی ہے۔ مہیشور کے ظہور کا تذکرہ کرتے ہوئے لِنگ-سوروپ کی حقیقت بیان کی گئی ہے۔ شالگرام-روپ میں ہری کی بھکتی سے پوجا اور ہری-ہر (وشنو-شیو) کی جوڑی کی عبادت—خصوصاً چاتُرمَاسیہ کے زمانے میں—کو نہایت عظیم و بابرکت کہا گیا ہے، اور اسے سُورگ اور موکش دینے والی سادھنا کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی دھرم کے سہارے بتائے گئے ہیں: ویدوکت کرم، اِشٹ-پورت اعمال، پنچایتن پوجا، سچائی اور لالچ سے پاک زندگی۔ اہلیت اور اخلاقی تربیت کے باب میں ویویک، برہماچریہ اور دوادشاکشر منتر کے دھیان کو مرکزی قرار دیا گیا ہے۔ پوجا سولہ اُپچاروں کے ساتھ کرنے کی ہدایت ہے، چاہے منتر نہ بھی ہوں؛ آخر میں رات گزرنے پر سب روانہ ہوتے ہیں، اور پھل شروتی میں بتایا گیا ہے کہ اس حصے کو سننے، پڑھنے یا سکھانے سے پُنّیہ میں کمی نہیں ہوتی۔

11 verses

Adhyaya 261

Adhyaya 261

ध्यानयोगः (Dhyāna-yoga) — Cāturmāsya Māhātmya within Brahmā–Nārada Dialogue

اس باب میں ناگرکھنڈ کے تیرتھ-پس منظر میں برہما–نارد کا مکالمہ بیان ہوتا ہے۔ نارد پوچھتے ہیں کہ ہری کے یوگ نِدرا کے زمانے، یعنی چاتُرمَاسیہ کے چار مہینوں میں، بارہ اَکشری منترراج کے ذریعے سدا مبارک پاروتی نے کیونکر گہری یوگک سِدھی پائی۔ برہما بتاتے ہیں کہ پاروتی نے من، وانی اور کرم سے بھکتی رکھتے ہوئے دیوتاؤں، دْوِجوں، اگنی، اشوتھ درخت اور مہمانوں کی پوجا کی، اور پِناک دھاری شِو کے حکم کے مطابق نِیَم ورت اور منتر جپ کیا۔ تب وِشنو چتُربھُج، شنکھ-چکر دھاری، گَرُڑ پر سوار، نورانی تجلّی کے ساتھ پرگٹ ہو کر درشن دیتے ہیں۔ پاروتی جنم-پُنرآورتن روکنے والی نِرمل وِدیا مانگتی ہیں؛ وِشنو آخری بیان شِو کے سپرد کر کے کہتے ہیں کہ پرم تتّو ہی اندر اور باہر کا ساکشی اور دھرم کی بنیاد ہے۔ شِو کے آتے ہی وِشنو لَی ہو جاتے ہیں۔ شِو پاروتی کو دیویہ وِمان میں ایک دیویہ ندی اور شَرَوَن جیسے وَن تک لے جاتے ہیں؛ وہاں کِرتّکائیں روشن شَڑمُکھ بالک کارتّکَیّہ کو پرگٹ کرتی ہیں اور پاروتی اسے گلے لگا لیتی ہیں۔ پھر دْویپوں اور سمندروں کے اوپر سے دیویہ سفر کے بعد شْوَیت پردیش کے شْوَیت شِکھر پر شِو ایک رازدارانہ، شُرُتی سے ماورا اُپدیش دیتے ہیں—پرنَو سے یُکت منتر اور دھیان وِدھی: آسن، اندرونی پوجا، آنکھیں بند کرنا، ہست مُدرا اور وِشو پُرُش کا دھیان۔ کہا گیا ہے کہ چاتُرمَاسیہ میں تھوڑے سے دھیان سے بھی میل کَشیہ اور شُدھی حاصل ہوتی ہے۔

59 verses

Adhyaya 262

Adhyaya 262

ज्ञानयोगकथनम् (Jñānayoga-kathana) — Discourse on the Yoga of Knowledge

اس باب میں پاروتی دھیان یوگ کی ایسی روش طلب کرتی ہیں جس سے آگے چل کر گیان یوگ حاصل ہو اور ‘امرت’ یعنی لافانی حالت تک رسائی ہو۔ ایشور بارہ اکشروں والے ‘منترراج’ کی فنی توضیح فرماتے ہیں—رِشی، چھند، دیوتا اور وِنیوگ کے ساتھ، نیز ہر اکشر کے لیے رنگ، تتّو-بیج، متعلقہ رِشی اور عملی فائدے کی باریک تقسیم بیان کرتے ہیں۔ پھر پاؤں سے ناف، دل، گلا، ہاتھ، زبان/منہ، کان، آنکھیں اور سر تک دیہ-نیاس کی جگہیں اور لِنگ، یونی، دھینو—ان تین مُدروں کا ذکر آتا ہے۔ اس کے بعد گفتگو دھیان کے نظریے کی طرف منتقل ہوتی ہے: پاپ-کشے اور پاکیزگی کے لیے دھیان کو فیصلہ کن سادھن کہا گیا ہے۔ یوگ کی دو صورتیں واضح کی جاتی ہیں—سالمبن دھیان جس سے نارائن درشن ہوتا ہے؛ اور بلند تر نِرالَمبن گیان یوگ جو نِراکار، اَمیہ برہمن کی طرف لے جاتا ہے۔ نِروِکَلپ، نِرنجن، ساکشی ماتر جیسے اَدویت اشارات کے ساتھ بھی، تربیتی پل کے طور پر جسمانی تامل باقی رکھا گیا ہے؛ خاص طور پر شِر (سر) کو یوگک توجہ کا مرکزی مقام بتایا گیا ہے، اور چاتُرمَاس کے دوران دھیان کی تاثیر بڑھ جانے کا بیان ہے۔ اخلاقی شرط یہ ہے کہ یہ تعلیم بےضبط یا بدخواہ لوگوں پر ظاہر نہ کی جائے، مگر بھکتی، ضبطِ نفس اور طہارت رکھنے والے سادھک کو—سماجی امتیاز سے بالا تر—دی جا سکتی ہے۔ اختتام میں بدن کو کائنات کا خرد نمونہ بتا کر، دیوتاؤں، ندیوں اور گرہوں کی جسمانی مقامات میں نسبت یاد دلائی جاتی ہے، اور ناد-انوسندھان اور وشنو-مرکوز دھیان کی مسلسل مشق سے موکش کے پھل کی پھر توثیق کی جاتی ہے۔

81 verses

Adhyaya 263

Adhyaya 263

मत्स्येन्द्रनाथोत्पत्तिकथनम् (Origin Account of Matsyendranātha)

اس باب میں ایشور کرم، گیان اور یوگ کے بارے میں تَتّو اُپدیش دیتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ پاکیزہ دل، بےتعلقی اور بھکتی کے ساتھ ہری/وشنو کے حضور نذر کیے گئے اعمال بندھن نہیں بنتے۔ شَم، وچار، سنتوش اور سادھو-سنگ کو موکش-مارگ روپ ‘نگر’ کے چار ‘دروازہ بان’ کہا گیا ہے، اور گرو اُپدیش کو جسم میں رہتے ہوئے بھی برہما-بھاو کی پہچان اور جیون مُکتی کے لیے فیصلہ کن وسیلہ بتایا گیا ہے۔ پھر منتر-مرکوز بیان آتا ہے۔ دوادشاکشر منتر کو پاک کرنے والا بیج اور دھیان کا مرکز کہہ کر سراہا گیا ہے۔ چاتُرمَاسیہ کو مبارک پُنّیہ کال قرار دے کر کہا گیا ہے کہ اس زمانے میں ورت کی پابندی اور کَتھا-شروَن سے جمع شدہ دوش جل جاتے ہیں۔ اس کے بعد برہما قصہ سناتے ہیں—ہر ایک عجیب مچھلی-روپ دھاری جیو کو دیکھ کر سوال کرتا ہے۔ وہ مچھلی نسب کے خوف سے ترک کیے جانے، طویل قید، اور شِو کے کلمات سے گیان-یوگ کے بیدار ہونے کا حال بیان کرتی ہے۔ رہائی کے بعد اس کا نام ‘متسیندرناتھ’ رکھا جاتا ہے؛ اسے حسد سے پاک، اَدویت نِشٹھ، ویراغی اور برہما-سیوا میں رَتّ ایک برتر یوگی کہا گیا ہے۔ آخر میں شروَن-فل شروتی ہے—خصوصاً چاتُرمَاسیہ میں اس کتھا کا سننا مہاپُنّیہ دیتا ہے اور اشومیدھ یَگّیہ کے برابر پھل عطا کرتا ہے۔

62 verses

Adhyaya 264

Adhyaya 264

तारकासुरवधः (Tārakāsura-vadha) — The Slaying of Tārakāsura

اس ادھیائے میں برہما گنگا کے کنارے پاروتی اور شیو کے قرب میں نوخیز اسکند/کارتیکیہ کی الٰہی لیلا بیان کرتے ہیں، جس سے دیوتا کی مقدس سرزمین سے قربت ظاہر ہوتی ہے۔ تارکاسُر کے ظلم سے پریشان دیوتا شنکر کی پناہ لیتے ہیں؛ اسکند کو سیناپتی مقرر کیا جاتا ہے، دیویہ سازوں کی گونج، جے گھوش اور اگنی کی شکتی وغیرہ کائناتی مدد کے ساتھ۔ پھر تامرَوَتی نامی مقام پر اسکند کے شنکھ ناد سے جنگ چھڑتی ہے؛ دیو اور اسُر کی ہولناک لڑائی، شکست و تباہی کی تصویریں آتی ہیں۔ آخرکار تارک کا ودھ ہوتا ہے، فتح کی رسومات و جشن منائے جاتے ہیں، اور پاروتی اسکند کو گلے لگاتی ہیں۔ اس کے بعد گفتگو گیان-وَیراگیہ کی طرف مڑتی ہے۔ شیو پाणیگرہن (نکاح/شادی) کا موضوع چھیڑتے ہیں، مگر اسکند بےتعلقی، سم درشتی اور گیان کی نایابی و حفاظت کی تاکید کرتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ سَروَویَاپی برہمن کے ساکشاتکار سے یوگی کے کرم تھم جاتے ہیں؛ آسکت من چنچل رہتا ہے، سم چتّ شانت—اور فیصلہ کن سادھن گیان ہی ہے۔ پھر اسکند کرونچ پربت پر تپسیا کے لیے روانہ ہوتا ہے: دوادشاکشر بیج منتر کا جپ، حواس پر قابو، اور سدھیوں کے فتنوں پر غلبہ۔ اختتام میں شیو پاروتی کو تسلی دے کر چاتُرمَاسیَہ ماہاتمیہ کو پاپ ناشک بتاتے ہیں؛ سوتا سامعین کو مزید شروَن کی دعوت دے کر پورانک مکالمے کی روایت قائم رکھتا ہے۔

41 verses

Adhyaya 265

Adhyaya 265

अशून्यशयनव्रतमाहात्म्यवर्णन (The Māhātmya of the Aśūnya-Śayana Vrata)

باب 265 دو مربوطہ حصّوں میں تعلیم دیتا ہے۔ پہلے رِشی پوچھتے ہیں کہ جسمانی طور پر کمزور یا نازک لوگ بہت سے قواعد و ورت کیسے نبھائیں؟ سوت کارتیِک کے شُکل پکش میں ایکادشی سے شروع ہونے والا پانچ روزہ آسان “بھیشم-پنچک” ورت بتاتا ہے۔ اس میں صبح طہارت و اسنان، واسودیو پر مرکوز نیام، اُپواس یا اگر اُپواس ممکن نہ ہو تو دان کے ذریعے بدل، برہمن کو ہویشیانن کی نذر، جلشائی ہریشیکیش کی دھوپ، خوشبو اور نیویدیہ سے پوجا، رات بھر جاگَرَن، اور چھٹے دن برہمنوں کی تعظیم کے بعد پنچگوَیہ کی تمہید کے ساتھ خود بھوجن کر کے سمापन شامل ہے۔ ایکادشی کو جاتی پھول، دوادشی کو بِلْو پتر وغیرہ دن بہ دن پتر/پھول کی نذر اور اَرغیہ منتر بھی مذکور ہے۔ دوسرے حصّے میں رِشی “اشونیہ-شیَن” ورت کی تفصیلی رسم چاہتے ہیں، جسے پہلے اندر نے چکرپانی کو راضی کرنے کے لیے کیا تھا۔ شراوَنی گزرنے کے بعد دْوِتییا تِتھی کو، وشنو سے وابستہ نکشتر میں آغاز بتایا گیا ہے، اور گناہگار/پتِت/ملیچھ وغیرہ سے گفتگو سے پرہیز کی ہدایت بھی آتی ہے۔ دوپہر کو اسنان کر کے پاک لباس پہن کر جلشائی وشنو کی پوجا کی جاتی ہے اور دعا کی جاتی ہے کہ گھر کی برکت، پِتر، اگنی، دیوتا اور ازدواجی دھرم فنا نہ ہو—یہ لکشمی-وشنو کی یکتائی اور جنم جنم میں ‘بستر کا خالی نہ ہونا’ کے بھاؤ کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ورت بھادْرپد، آشْوِن اور کارتیِک تک تیل سے پرہیز جیسے غذائی ضوابط کے ساتھ چلتا ہے۔ آخر میں پھل، چاول اور کپڑے کے ساتھ بستر دان، اور سونے کی دکشنا دی جاتی ہے۔ پھل شروتی میں اُپواس سے بڑھا ہوا پُنّیہ، دیوتا کی تسکین، جمع شدہ پاپ کا نِواڑن؛ عورتوں کے لیے پاکیزگی و ذہنی استحکام، کنیا کے لیے شادی کی توفیق؛ اور نِشکام سادھک کے لیے چاتُرمَاسْیہ کے نیاموں کا پھل بتایا گیا ہے۔

40 verses

Adhyaya 266

Adhyaya 266

शिवारात्रिमाहात्म्यवर्णनम् (The Māhātmya of Śivarātri)

باب 266 میں رشی حضرات بڑے تیرتھوں اور اُن مشہور لِنگوں کی فہرست چاہتے ہیں جن کے درشن سے جامع پُنّیہ حاصل ہوتا ہے۔ سوت مَنکَṇیشور اور سِدّھیشور وغیرہ کا ذکر کرکے خاص طور پر مَنکَṇیشور کے پھل کو—بالخصوص شِو راتری کے ورت کے ساتھ—بیان کرتا ہے۔ شِو راتری کو ماہِ ماغھ کے کرشن پکش کی چتُردشی کی رات کہا گیا ہے؛ اس رات شِو کا سب لِنگوں میں ‘پرَوِش’/سرايت کرنا مانا جاتا ہے، اور مَنکَṇیشور میں اس کی خاص شہرت بتائی گئی ہے۔ روایت میں راجا اشوسین کَلی یُگ کے لیے کم محنت میں زیادہ پھل دینے والے ورت کے بارے میں رشی بھرتریَجْن سے پوچھتا ہے۔ رشی شِو راتری کو ایک رات کے جاگرن والا ورت بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ اس رات دان، پوجا، ہوم اور جپ ‘اکشَے’ (ناقابلِ زوال) پھل دیتے ہیں۔ دیوتا بھی انسانوں کی شُدّھی کے لیے ایک دن/رات کی سادھنا مانگتے ہیں؛ شِو اسی تِتھی کی رات اترنے کی بات قبول کرتا ہے اور مختصر پنچوَکتْر-کرم منتر، ارگھْی وغیرہ اُپچار، برہمن ستکار، بھکتی کتھا، سنگیت و نرتیہ سمیت پوجا-وِدھی بتاتا ہے۔ پھر مثال آتی ہے: ایک چور انجانے میں لِنگ کے پاس درخت پر رہ کر رات بھر جاگتا ہے اور پتے گرا دیتا ہے؛ ناپاک نیت کے باوجود اسے ورت کا پُنّیہ ملتا ہے، بہتر جنم پاتا ہے اور بعد میں مندر تعمیر کرتا ہے۔ آخر میں شِو راتری کو اعلیٰ تپسیا اور عظیم پاکیزگی بخشنے والی کہہ کر اس کی ستوتی اور پاٹھ/شروَن کا پھل بیان کیا گیا ہے۔

88 verses

Adhyaya 267

Adhyaya 267

तुलापुरुषदानमाहात्म्यवर्णनम् | Tula-Puruṣa Donation: Procedure and Merit (Siddheśvara Context)

باب 267 ایک مکالماتی سلسلے میں طریقۂ عبادت اور عقیدۂ دین کی توضیح پیش کرتا ہے۔ سوتا بیان کرتے ہیں کہ شِوَراتری جیسے ورت دونوں جہانوں میں بھلائی دینے والے ہیں۔ منکَنےشور اور شِوَراتری کی سابقہ مدح سن کر آنرت سِدّھیشور کے ظہور کی پوری روداد پوچھتا ہے؛ تب بھرتریَجْن سِدّھیشور کے درشن کے ثمرات—خصوصاً شاہانہ اقتدار اور چکرورتی شان و شوکت—بیان کر کے تُلا-پُرُش دان کو نہایت پسندیدہ کرم قرار دیتے ہیں۔ اس کے بعد تُلا-پُرُش دان کی وِدھی بتائی جاتی ہے: گرہن، اَیَنَانت اور وِشُوَو جیسے مبارک اوقات میں منڈپ اور ویدیاں بنانا، اہل برہمنوں کا انتخاب اور قاعدے کے مطابق دان کی تقسیم۔ مخصوص مبارک درختوں کی لکڑی کے ستونوں سے ترازو (تُلا) قائم کر کے داتا تُلا دیوی کو تقدیس کے اصول کے طور پر آواہن کرتا ہے، اپنے جسم کو سونے/چاندی یا مطلوبہ اشیا کے برابر تولتا ہے، اور پانی و تل کے ساتھ شاستر کے مطابق نذر کرتا ہے۔ پھل شروتی میں کہا گیا ہے کہ دان کی مقدار کے مطابق جمع شدہ پاپ کا نِشٹ ہونا، آفات سے حفاظت، اور سِدّھیشور کے حضور دیا گیا دان ہزار گنا پھل دیتا ہے۔ آخر میں اس کشتَر کی جامع پاکیزگی—ایک ہی جگہ بہت سے تیرتھ اور دیوستھانوں کا اجتماع—اور سِدّھیشور کے درشن، لمس اور پوجا سے ہمہ گیر فائدے کا اعلان کیا گیا ہے۔

40 verses

Adhyaya 268

Adhyaya 268

पृथ्वीदानमाहात्म्यवर्णनम् (The Glory and Procedure of the Earth-Gift)

اس باب میں آنرت بھرتریَجْن سے پوچھتا ہے کہ عالمگیر سلطنت (چکروَرتِتو) کن اعمال کے نتیجے میں ملتی ہے اور اسے کیسے حاصل کیا جائے۔ بھرتریَجْن بیان کرتا ہے کہ بادشاہی نایاب اور پُنّیہ (ثواب) پر موقوف ہے؛ جو راجا گوتَمیشر کے حضور ایمان و عقیدت کے ساتھ سونے کی بنی ہوئی زمین کی علامتی صورت (ہِرنمَیی پرتھوی) کا دان کرے، وہ چکروَرتی بن جاتا ہے۔ ماندھاتا، ہریش چندر، بھرت، کارتویریہ وغیرہ بادشاہوں کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ پھر رسمِ دان کی تفصیل آتی ہے—زمین کا ماڈل مقررہ وزن و پیمائش سے بنایا جائے اور مال میں فریب نہ ہو۔ اس میں سات سمندر (نمک، گنّے کا رس، سُرا، گھی، دہی، دودھ، پانی)، سات دْویپ، مَیرو وغیرہ پہاڑ اور گنگا سمیت بڑی ندیاں دکھائی جاتی ہیں۔ منڈپ، کنڈ، تورن، درمیان میں ویدی، پنچگَوْیہ اور پاک پانی سے ابھیشیک، اور منتر کے ساتھ اسنان، وستر، دھوپ، آرتی اور اناج کی نذر کا حکم ہے۔ داتا زمین کو جگت کی آدھار مان کر ستوتی کرتا اور دان کے لیے اس کی حضوری کی دعا کرتا ہے۔ دان علامتی طور پر پانی میں منتقل کیا جاتا ہے—نہ زمین پر رکھا جاتا ہے، نہ براہِ راست لینے والے کے ہاتھ میں دیا جاتا ہے۔ پھر احترام سے وسرجن کر کے برہمنوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پھل شروتی میں سلطنت و نسل کی پائیداری، سننے سے بھی گناہوں کا زوال، گوتَمیشر میں کرنے پر کئی جنموں تک اثر اور وشنو کے ابدی دھام کی قربت، نیز دوسروں کی دان کی ہوئی زمین چھیننا سخت ممنوع بتایا گیا ہے۔

41 verses

Adhyaya 269

Adhyaya 269

कपालमोचन-ईश्वर-उत्पत्तिमाहात्म्यवर्णनम् (Kapālamocaneśvara: Origin and Glory of the Skull-Release Lord)

باب کے آغاز میں سوت کپال موچن-کشیتر کے کپالیشور کی ماہاتمیا بیان کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کا محض سننا بھی پاکیزگی عطا کرتا ہے۔ رشی پوچھتے ہیں—کپالیشور کی پرتیِشٹھا کس نے کی، درشن و پوجا کا پھل کیا ہے، اندَر کی برہماہتیا کیسے پیدا ہوئی اور کیسے دور ہوئی، نیز “پاپ-پُرُش” (گناہ کی علامتی صورت) کی نذر کا درست طریقہ، منتر اور ضروری سامان کیا ہیں۔ سوت بتاتا ہے کہ برہماہتیا سے نجات کے لیے اندَر نے ہی اس دیوتا کو قائم کیا۔ پھر سبب کی کہانی آتی ہے—تواشٹṛ سے پیدا ہونے والا ورترا برہما کے ور سے برہمن-بھاو پاتا ہے اور برہمنوں کا بھکت بن جاتا ہے؛ دیوتاؤں اور دانَووں میں جنگ چھڑتی ہے۔ برہسپتی اندَر کو حکمتِ عملی اور چال کا مشورہ دیتا ہے، اور بعد میں ددھیچی کی ہڈیوں سے وجر بنانے کی ہدایت کرتا ہے۔ اندَر “برہما-بھوت” کہلائے ورترا کو قتل کرتا ہے تو برہماہتیا کا دوش ظاہر ہو کر تیز کا زوال اور بدبو وغیرہ کی آلودگی پیدا کرتا ہے۔ برہما اندَر کو تیرتھوں کی پرکرما کر کے اسنان، منتر کے ساتھ سونے کے جسمانی روپ میں “پاپ-پُرُش” ایک برہمن کو دان کرنے، اور ہاٹکیشور-کشیتر میں کپال کی پرتیِشٹھا کر کے پوجا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اندَر وشوامتر-ہرد میں اسنان کرتا ہے؛ کپال گر پڑتا ہے؛ وہ ہَر کے پنچ مُکھوں سے وابستہ پانچ منتروں سے پوجا کر کے اپنی ناپاکی سے چھوٹ جاتا ہے۔ واتک نامی برہمن سونے کا پاپ-روپ قبول کرتا ہے مگر سماجی ملامت سہتا ہے؛ مکالمہ قبولیت کی دھارمک نیت کو واضح کرتا ہے اور مقام کی دائمی رسوماتی اتھارٹی اور “کپال موچن” کی شہرت کی پیش گوئی کرتا ہے۔ آخر میں اس روایت کے سننے/پڑھنے کو گناہ مٹانے والا اور تیرتھ کو برہماہتیا کے ازالے میں مؤثر بتایا گیا ہے۔

151 verses

Adhyaya 270

Adhyaya 270

पापपिण्डप्रदानविधानवर्णनम् | Procedure for the Donation of the Pāpa-Piṇḍa (Sin-Effigy)

اس باب میں اُس شخص کے لیے کفّارہ/تطہیر کا طریقہ بیان ہوا ہے جس سے جہالت، غفلت، خواہش یا ناپختگی کے سبب گناہ سرزد ہوا ہو اور اس نے معمول کا پرایَشچِتّ (کفّارہ) نہ کیا ہو۔ آنرت فوری طور پر گناہ مٹانے والا اور جلد اثر دکھانے والا عمل پوچھتا ہے؛ بھرتریَجْیَگْنَ ‘پاپ-پِنڈ’ کے دان کی رسم بتاتے ہیں—پچیس پل وزن کا سونے کا پِنڈ۔ یہ عمل اَپَر پَکش میں، غسل، پاک لباس اور منڈپ/ویدی کی تیاری کے ساتھ انجام دینے کا حکم ہے۔ داتا زمین سے آغاز کر کے تَتّوَ کے क्रम میں بھوتوں اور اِندریوں وغیرہ کی منترانہ آہوان و پوجا کرتا ہے۔ پھر وید و ویدانگ میں ماہر برہمن کو بلایا جاتا ہے، پاؤں دھلوانا، لباس و زیور سے اکرام کیا جاتا ہے اور مناسب مورتی/پِنڈ پیش کیا جاتا ہے؛ رسمی منتر کے ذریعے اعلان ہوتا ہے کہ سابقہ گناہ اس دان کی صورت میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ برہمن پرتِگْرہ منتر پڑھ کر قبولیت ظاہر کرتا ہے؛ پھر دَکْشِنا دے کر احترام کے ساتھ رخصت کیا جاتا ہے۔ نتائج کی علامتوں میں بدن کی ہلکی پن، نورانیت میں اضافہ اور نیک خواب بیان ہوئے ہیں؛ حتیٰ کہ اس طریقے کو سننا بھی پاکیزگی کا سبب کہا گیا ہے۔ کاپالیشور کے سیاق میں اس کی تاثیر زیادہ بتائی گئی ہے اور گایتری کے ساتھ ہوم کرنے کی بھی سفارش ہے۔

23 verses

Adhyaya 271

Adhyaya 271

Liṅgasaptaka-pratiṣṭhā and Indradyumna’s Fame: The Hāṭakeśvara-kṣetra Narrative (लिङ्गसप्तक-माहात्म्यं तथा इन्द्रद्युम्न-कीर्तिः)

باب 271 میں سوت ہاٹکیشور-کشیتر میں واقع سات لِنگوں (لِنگسپتک) کی عظیم فضیلت بیان کرتے ہیں۔ ان کے درشن اور پوجا سے درازیِ عمر، بیماریوں سے نجات اور گناہوں کا زوال ہوتا ہے۔ مارکنڈیشور، اندردیومنیشور، پالیشور، گھنٹاشِو، کلشیشور (وانریشور سے وابستہ) اور ایشان/کشیتر یشور وغیرہ کے نام آتے ہیں۔ رِشی پوچھتے ہیں کہ ہر لِنگ کی بنیاد کس نے رکھی، کون سی وِدھی ہے اور کون سے دان مقرر ہیں۔ اس کے بعد راجا اندردیومن کی مثال تفصیل سے آتی ہے۔ بے شمار یَجّیوں اور دانوں کے باوجود جب زمین پر اس کی کیرتی گھٹتی ہے تو اس کا سوَرگ کا مرتبہ بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے؛ چنانچہ وہ کیرتی کی تجدید کے لیے پھر سے پُنّیہ کارْیوں کی طرف لوٹتا ہے۔ اپنی شناخت کو بے حد طویل زمانے میں ثابت کرنے کے لیے وہ بترتیب مارکنڈیہ، بَک/ناڑی جنگھ، اُلُوک، گِردھر، کُورم (منتھرک) اور آخر میں رِشی لوماش سے ملتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ شِو بھکتی (مثلاً بِلو پتر کی ارچنا) سے ہی درازیِ عمر ملی، اور حیوانی جسم تپسوی کے شاپ کا پھل ہے۔ آخر میں بھرتریَجّیہ اور سنورت سے متعلق اُپدیش کے مطابق ہاٹکیشور-کشیتر میں سات لِنگوں کی پرتِشٹھا اور ‘پربت-دان’ کے طور پر میرو، کیلاش، ہمالیہ، گندھمادن، سوویل، وندھیا اور شرنگی—ان سات پہاڑوں کی علامتی دانیاں مخصوص مواد سے کرنے کا وِدھان بتایا جاتا ہے۔ پھل شروتی میں کہا گیا ہے کہ صبح محض درشن سے بھی انجانے گناہ چھوٹ جاتے ہیں؛ اور وِدھی پوروک پوجا و دان سے شِو کا ساننِدھ (گنتو)، طویل سوَرگ سُکھ اور جنم جنمانتر میں اعلیٰ راجیہ و اقتدار حاصل ہوتا ہے۔

440 verses

Adhyaya 272

Adhyaya 272

युगस्वरूपवर्णनम् (Description of the Nature of the Yugas and Measures of Time)

اس باب میں رشی پہلے بیان کیے گئے اُس ‘دن’ کے پیمانے کے بارے میں سوال کرتے ہیں جو ایشان اور ایک شاہی شخصیت کے تذکرے میں آیا تھا۔ سوت جی نہایت باریک زمانی اکائیوں (نِمیش وغیرہ) سے لے کر دن-رات، مہینہ، رِتو، اَیَن اور سال تک وقت کے مراتب کو شاستری طریقے سے بیان کرتے ہیں۔ اس کے بعد یُگوں کی حقیقت واضح کی جاتی ہے—کرت، تریتا، دواپر اور کلی یُگ میں دھرم اور پاپ کے تناسب، معاشرتی و اخلاقی حالت، اور یَجْنَ کرم کی رواج پذیری اور سوَرگ-پراپتی سے اس کے ربط کا ذکر ہے۔ کلی یُگ میں لالچ، عداوت، ودیا و آچار کی گراوٹ، قلت و افلاس کی علامتیں اور آشرم-دھرم کی بگاڑ کی تفصیل آتی ہے؛ پھر چکر کے مطابق آئندہ کرت یُگ کے دوبارہ ظہور کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ آخر میں ان پیمانوں کو برہما کے دن اور سال جیسے مہاکال کے پیمانوں سے جوڑ کر شِو-شکتی سے وابستہ کائناتی تصور کی جھلک دکھائی گئی ہے۔ یہ ناگرکھنڈ کے ہاٹکیشور-کشیتر-ماہاتمیہ میں ‘یُگسوروپ ورنن’ نامی باب ہے۔

57 verses

Adhyaya 273

Adhyaya 273

युगप्रमाणवर्णनम् (Yuga-Pramāṇa Varṇana) — Description of Cosmic Time Measures

اس باب میں سوت جی یُگوں، منونتروں اور شکر (اِندر) کے منصب کی ترتیب و توالی کے ساتھ کَال-پرمان (زمانے کی پیمائش) پر ایک فنی و دینی گفتگو پیش کرتے ہیں۔ وہ پچھلے شکروں کا شمار کر کے موجودہ شکر کو “جاینت” اور موجودہ منو کو “وَیوَسوَت” بتاتے ہیں۔ پھر بیان کرتے ہیں کہ آئندہ “بلی” واسو دیو کے فضل (واسودیو-پرساد) سے شکرپد پائے گا، کیونکہ پہلے اسے آنے والے ایک منونتر میں راجیہ/حکومت ملنے کا وعدہ دیا گیا تھا۔ اس کے بعد وقت کے حساب میں برہما کے زمانی حساب کا ذکر کر کے چار عملی پیمانے بتائے جاتے ہیں: سور (شمسی)، ساون (دنوں/دیوانی شمار)، چاندَر (قمری) اور ناکشتر/آرکش (ستاروں/نکشتر پر مبنی)۔ موسموں کی علامتیں (سردی، گرمی، بارش)، کھیتی اور مہایَجْن شمسی پیمانے سے؛ سماجی لین دین اور مبارک کام ساون سے؛ قمری حساب میں ادھِماس (اضافی مہینہ) ضروری؛ اور سیاروں کی گنتی نکشتر-بنیاد حساب پر قائم ہے۔ آخر میں پھل شروتی ہے کہ ان یُگ-کال-پرمانوں کی بھکتی سے تلاوت حفاظت کا سبب بنتی ہے اور بے وقت موت کے خوف سے بھی نجات دیتی ہے۔

18 verses

Adhyaya 274

Adhyaya 274

Durvāsas-स्थापित-त्रिनेत्र-लिङ्गमाहात्म्य (The Glory of the Trinetra Liṅga Established by Durvāsas)

اس باب میں سوت–رِشی کے مکالمے کے ذریعے دُروَاسا مُنی کے قائم کردہ ترِنیتر لِنگ کی عظمت بیان ہوتی ہے۔ ایک مٹھ کا مہنت لِنگ پوجا تو کرتا ہے مگر لین دین سے حاصل دولت کو لالچ میں جمع کرتا رہتا ہے اور سونا تالا بند صندوق میں رکھتا ہے۔ دُحشیل نامی چور ترکِ دنیا کا ڈھونگ رچا کر مٹھ میں داخل ہوتا ہے، شَیَو دِکشا لیتا ہے اور موقع کی تاک میں رہتا ہے؛ سفر کے دوران مُرلا ندی کے کنارے قیام پر گرو کا اعتماد بڑھتا ہے، صندوق کچھ دیر کے لیے قابلِ رسائی رہ جاتا ہے اور وہ سونا چرا کر فرار ہو جاتا ہے۔ بعد میں گِرہست بن کر وہ ایک تیرتھ میں دُروَاسا سے ملتا ہے اور لِنگ کے سامنے رقص و گیت کے ساتھ بھکتی کا منظر دیکھتا ہے۔ دُروَاسا واضح کرتے ہیں کہ مہیشور ایسی بھکتی سے خوش ہوتے ہیں، اسی لیے انہوں نے یہ لِنگ قائم کیا۔ پھر وہ کفّارہ اور اخلاقی دھرم کا طریقہ بتاتے ہیں: کرشن اجِن (کالا ہرن کی کھال) کا دان، سونے کے ساتھ تل کے پاتر میں باقاعدہ تل دان، ادھورے پراساد/مندر کی تعمیر مکمل کر کے گرو دکشنا دینا، نیز پھول، نَیویدیہ اور بھکتی کی فنون کا ارپن۔ آخر میں پھل شروتی ہے: چَیتر ماہ میں درشن سال بھر کے پاپ مٹاتا ہے، اسنان/ابھشیک دہائیوں کے پاپ دور کرتا ہے، اور دیوتا کے حضور رقص و گیت عمر بھر کے پاپوں سے رہائی اور موکش سے وابستہ پُنّیہ عطا کرتا ہے۔

112 verses

Adhyaya 275

Adhyaya 275

Nimbēśvara–Śākambharī Utpatti Māhātmya (Origin-Glory of Nimbēśvara and Śākambharī)

سوت بیان کرتے ہیں کہ دُحشیل نامی ایک شخص، کردار میں عیب ہونے کے باوجود، گرو کے قدموں کا سمرن کرتے ہوئے گرو کے نام پر شِو کا ایک مندر قائم کرتا ہے۔ یہ مندر جنوبی سمت کی طرف واقع بتایا گیا ہے اور “نِمبیشور” کے نام سے مشہور ہوتا ہے۔ وہ بھکتی کے ساتھ بنیاد کا عمل انجام دیتا ہے اور گروبھکتی کو اپنا سہارا بناتا ہے۔ اس کی بیوی شاکمبھری اپنے ہی نام سے دُرگا کی مورتی پرتیِشٹھت کرتی ہے، یوں شِو–دیوی کا جوڑا تِیرتھ-سنکُل بن جاتا ہے۔ دونوں باقی دولت کو پوجا کے لیے مقرر کر کے دیوتاؤں اور برہمنوں کو دان دیتے ہیں، پھر بھکشا پر گزارا کرتے ہیں۔ وقت آنے پر دُحشیل کا انتقال ہوتا ہے؛ شاکمبھری ثابت قدم دل کے ساتھ پتی کے جسم کو تھام کر چتا کی آگ میں داخل ہوتی ہے—یہاں اسے شرعی/قانونی حکم نہیں بلکہ دینی مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ پھر دونوں دیویہ وِمان میں، بہترین اپسراؤں کی معیت میں، سوَرگ کو جاتے دکھائے گئے ہیں۔ اختتامی پھل شروتی کے مطابق اس “عمدہ” حکایت کی تلاوت کرنے والا نادانی سے کیے گئے گناہوں سے پاک ہوتا ہے؛ بھکتی، دان اور تِیرتھ-وابستگی کی تاثیر نمایاں ہوتی ہے۔

9 verses

Adhyaya 276

Adhyaya 276

एकादशरुद्रोत्पत्ति-वर्णनम् | Origin Account of the Eleven Rudras (at Hāṭakeśvara-kṣetra)

اس باب میں مکالماتی انداز سے ایک عقیدتی اشکال کا ازالہ کیا گیا ہے۔ رشی پوچھتے ہیں کہ روایت میں رُدر تو ایک ہی ہیں—گوری کے پتی اور اسکند کے پتا—تو پھر گیارہ رُدر کیسے؟ سوت رُدر کی وحدت کو ثابت کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ خاص موقع پر شیو نے گیارہ صورتوں میں ظہور فرمایا۔ وارانسی میں تپسوی ہاٹکیشور کے اولین درشن کے لیے ورت رکھتے ہیں۔ رقابت پیدا ہوتی ہے اور قاعدہ بنتا ہے کہ جو پہلے درشن نہ کر سکے وہ سب کی تھکن سے پیدا ہونے والا دوش اپنے سر لے گا۔ شیو ان کے مسابقتی ارادے کو جانتے ہوئے بھی بھکتی کی قدر کرتے ہیں، ناگ-دوار سے زیرِزمین لوک سے نمودار ہو کر ترشول دھاری، ترینتر، کپرڈا سے مزین گیارہ مُورتی روپ اختیار کرتے ہیں۔ تپسوی ساشٹانگ پرنام کر کے سمتوں سے وابستہ رُدر اور محافظ صورتوں کی ستوتی کرتے ہیں۔ شیو اعلان کرتے ہیں کہ ‘میں ہی گیارہ گنا ہوں’ اور ور دیتے ہیں۔ تپسوی درخواست کرتے ہیں کہ سروتیرتھ-سوروپ ہاٹکیشور-کشیتر میں وہ گیارہ روپوں میں سدا قائم رہیں۔ شیو رضا دیتے ہیں، فرماتے ہیں کہ ایک روپ کیلاش پر رہے گا، اور عبادت کا طریقہ مقرر کرتے ہیں: وشوامتر-ہرد میں اسنان، نام لے کر مُورتियों کی پوجا—جس سے پُنّیہ کئی گنا بڑھتا ہے۔ پھل شروتی میں روحانی عروج، غریب کے لیے خوشحالی، بے اولاد کے لیے اولاد، بیمار کے لیے صحت اور دشمنوں پر فتح بیان ہے؛ بھسم-اسنان کے ضابطے والے دیکشت کو شڈاکشر منتر سے معمولی نذر پر بھی زیادہ پھل ملتا ہے۔ چَیتر شُکل چتُردشی کو خاص پوجا کا وقت بتا کر، گیارہ رُدر کو مہادیو کی ہی مجسم صورتیں قرار دیا گیا ہے۔

44 verses

Adhyaya 277

Adhyaya 277

एकादशरुद्रसमीपे दानमाहात्म्यवर्णनम् (The Glory of Donations in the Presence of the Eleven Rudras)

اس باب میں سوال و جواب کے انداز میں دینی و الٰہی مباحث بیان ہوتے ہیں۔ رشی وارाणسی میں رُدر سے وابستہ برہمنانہ ناموں کے گیارہ گُروہ کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ راوی ہری کے حکم کے مطابق رُدر کے روپوں کے نام گنواتا ہے—مِرگ ویادھ، سروَجْن، نِندِت، مہایَشَس، اَجَیکَپاد، اَہِربُدھنْی، پِناکِی، پرَنتَپ، دہن، ایشور اور کَپالی۔ پھر رشی دان کی مناسب صورت اور پہلے مذکور جپ کے بارے میں رہنمائی چاہتے ہیں۔ راوی ایک منظم دَان-وِدھی بتاتا ہے: ‘پرتیکش’ (حقیقی) دھینُوؤں کو ترتیب سے دان کیا جائے، اور ہر گائے کو کسی خاص شے کے تعلق سے منسوب کیا جائے، جیسے گُڑ سے متعلق، مکھن سے متعلق، گھی سے متعلق، سونے سے متعلق، نمک سے متعلق، رس سے متعلق، اَنّ سے متعلق، پانی سے متعلق وغیرہ۔ پھل شروتی میں کہا گیا ہے کہ ایسا دان کرنے والا چکرورتی (عالمگیر فرمانروا) بنتا ہے، اور مقدس سَنّیدھ کے قریب دیا گیا دان زیادہ اثر و ثواب رکھتا ہے۔ اگر سب کچھ ممکن نہ ہو تو بھی، سب رُدروں کی نذر سمجھ کر کم از کم ایک گائے کوشش کے ساتھ دان کرنی چاہیے۔

14 verses

Adhyaya 278

Adhyaya 278

द्वादशार्कोत्पत्तिरत्नादित्योत्पत्तिमाहात्म्ये याज्ञवल्क्यवृत्तान्तवर्णनम् (Origin of the Twelve Suns and the Ratnāditya: Account of Yājñavalkya)

اس باب میں سوت رشیوں کو بتاتے ہیں کہ اگرچہ آسمان میں سورج ایک ہی دکھائی دیتا ہے، پھر بھی ہاٹکیشور-کشیتر میں بارہ سُوریہ-روپوں کی باقاعدہ پرتِشٹھا کیوں کی جاتی ہے۔ یہ سَور-استھاپنائیں یاج्ञولکْی کی دِیکشا اور پرتِشٹھا سے وابستہ بتائی گئی ہیں؛ ساوتری کے شاپ سے برہما کا نزول اور اس کے نتیجے میں ازدواجی ترتیب اور یَجْن آچار کی پاکیزگی سے متعلق جو دھارمک کشمکش پیدا ہوئی، وہ بھی بیان ہوتی ہے۔ آگے راجاؤں کی بار بار شانتی کرم کی درخواستوں کے پس منظر میں گرو شاکلیہ اور یاج्ञولکْی کے درمیان ٹکراؤ ہوتا ہے—بے ادبی، انکار اور گرو-شِشیہ نزاع بڑھتے بڑھتے اس واقعے تک پہنچتی ہے جہاں یاج्ञولکْی سابقہ تعلیم کی علامتی ترک کے طور پر حاصل شدہ ودیا کو ‘اُگل’ دیتے ہیں۔ پھر بحالی کے لیے وہ سُوریہ کی سخت بھکتی کرتے ہیں، بارہ سُوریہ مُورتیاں بنا کر پرتِشٹھت کرتے ہیں، معتبر فہرست کے مطابق نام لے کر اَرگھْیہ وغیرہ نذرانوں سے پوجا کرتے ہیں۔ سُوریہ دیو پرتیَکش ہو کر ور دیتے ہیں اور سُوریہ-اشو کے کان میں اُپدیش کے عجیب اسلوب سے ویدک ودیا دوبارہ عطا کر کے یاج्ञولکْی کی ویدک اہلیت کو پھر سے سند دیتے ہیں۔ آخر میں اس تعلیم کی اشاعت، تیرتھ کے پھل—گناہوں کی صفائی، بلند گتی اور موکش—کا ذکر، اور اتوار کے دن درشن کو خاص طور پر مؤثر بتا کر اس کشیتر کی سَور-پوجا کو رسم و تعلیم دونوں کی مقدس وراثت کے طور پر قائم کیا جاتا ہے۔

140 verses

Adhyaya 279

Adhyaya 279

पुराणश्रवणमाहात्म्यवर्णन (Glorification of Listening to the Purāṇa)

باب 279 میں سوت جی روایتِ سند (پرَمپرا) کے ذریعے اسکند پران کی حجّیت قائم کرتے ہیں۔ اسکند نے یہ پران بھِرگو کو (جسے برہما کا پُتر بتایا گیا ہے) سکھایا؛ پھر یہ انگِرس، چَیون اور رِچیک تک بتدریج منتقل ہوا—یوں اسے مستند سلسلۂ روایت کی مثال بنایا گیا ہے۔ اس کے بعد پھل شروتی میں کہا گیا ہے کہ نیک لوگوں کی مجلس میں اسکند پران کا شروَن جمع شدہ پاپ-مل کو دور کرتا، عمر بڑھاتا اور ہر ورن-آشرم کے لیے بھلائی لاتا ہے۔ ہاٹکیشور-کشیتر کا ماہاتمیہ بے اندازہ پُنّیہ دینے والا ہے؛ اور اس دھرم-ماہاتمیہ کو برہمن کو دان کرنے سے طویل آسمانی اجر ملتا ہے۔ بیٹے کی نعمت، دولت، نکاح کی توفیق، رشتہ داروں سے ملاپ اور راج-وجے جیسے دنیوی فائدے بھی بیان ہوئے ہیں۔ واعظ/گرو کا احترام برہما-وشنو-رُدر کے احترام کے برابر ہے؛ معمولی سی تعلیم بھی مال سے ادا نہیں ہو سکتی، اس لیے دستور کے مطابق دکشِنا اور مہمان نوازی سے گرو کی خدمت لازم ہے۔ شروَن کو تمام تیرتھوں کے پھل کے برابر اور کئی جنموں کے دوش کو دبانے والا کہا گیا ہے۔

20 verses

FAQs about Tirtha Mahatmya

The place is presented as an ascetic forest in Ānarta where a crisis triggered by the falling of Śiva’s liṅga becomes the basis for establishing liṅga worship as uniquely authoritative; the site’s “glory” lies in being a setting where cosmic disorder is resolved through proper devotion and reinstatement of the liṅga.

Merit is framed through devotional correctness: sustained, faith-filled liṅga-pūjā (including tri-kāla worship) is said to lead to elevated spiritual outcomes (“parā gati”), and the act of honoring the liṅga is treated as honoring the triad of Śiva, Viṣṇu, and Brahmā.

The core legend is Śiva’s wandering after Satī’s separation, the ascetics’ curse causing the liṅga to fall into the earth and enter Pātāla, the ensuing cosmic omens, and the devas’ intervention culminating in the installation and worship of a golden liṅga named Hāṭakeśvara.