

वराहपुराण
The Earth-Centered Purana
The sacred dialogue between Lord Varaha (the Cosmic Boar incarnation of Vishnu) and Prithvi (Bhu Devi) — covering tirthas, vratas, dharma, and the cosmic rescue of the Earth.
Start ReadingThe Varaha Purana is one of the eighteen Mahapuranas, narrated as a dialogue between Lord Vishnu in his Varaha (Boar) avatara and Bhu Devi (Mother Earth) after rescuing her from the cosmic ocean. It covers a wide range of topics including the glory of sacred tirthas, the significance of vratas and festivals, dharma shastra, cosmology, and the symbolism of the Cosmic Boar. With 218 chapters and approximately 10,657 verses, it is a rich repository of devotional and philosophical wisdom centered on the earth and her relationship with the divine.
The Varaha Purana is structured as a simple two-level hierarchy of 218 Adhyayas (chapters), each containing shlokas (verses).
218 chapters
Verses read one by one
This edition of the Varaha Purana on Vedapath includes:
The Varaha Purana contains 218 Adhyayas.
Each Adhyaya explores topics of dharma, tirtha, vrata, and cosmic truth as told by Lord Varaha to Bhu Devi.
Adhyaya 1
Praise of Varāha and Pṛthivī’s Foundational Questions
یہ باب منگلاچرن نما دعا سے شروع ہو کر ورَاہ اوتار کی طویل حمد بیان کرتا ہے، جو کائناتی نجات دہندہ بن کر سمندر کی گہرائیو
Adhyaya 2
Cosmogony and the Ninefold Creation: Rudra’s Origin and the Prelude to the Sāvitrī–Veda Narrative
اس ادھیائے میں پرتھوی کے سوال کے جواب میں ورَاہ پُران کے پانچ معیاری لक्षण بیان کرتے ہیں: سرگ، پرتِسرگ، وंश، منونتر، وंश
Adhyaya 3
Nārada’s Account of a Former Birth and a Hymn to Nārāyaṇa
وراہا–پرتھوی کے تعلیمی پس منظر میں یہ ادھیائے ایک ثانوی مکالمہ پیش کرتا ہے۔ پریہ ورت نارد رشی سے اس کے پچھلے جنم کے آچرن
Adhyaya 4
On Nārāyaṇa’s Ten Avatāras and Eightfold Manifestations, and the Account of King Aśvaśirā
مکالمے میں پرتھوی ورہاہ سے پوچھتی ہے کہ نارائن کیا ہر پہلو سے قابلِ بیان ہے یا اثبات و نفی سے ماورا۔ ورہاہ سالکوں کے لیے
Adhyaya 5
Reconciliation of Action and Knowledge: Offering All Acts to Nārāyaṇa and the Hymn to the Yajña-Puruṣa
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی پس منظر میں اس باب میں راجا اشوشِرس کپل کے پاس یہ بنیادی سوال لے کر آتا ہے کہ موکش کرم (اعمال/رسوم
Adhyaya 6
The Puṇḍarīkākṣapāraka Hymn and Puṣkara Tīrtha: The Account of King Vasu’s Release from Sin
پرتھوی ورہ سے پوچھتی ہے کہ رَیبھْیَ اور اَنگِرَس سے وابستہ شک دور کرنے والی تعلیم پانے کے بعد راجا وَسو نے کیا کیا۔ ورہ
Adhyaya 7
The Sanctity of Gayā: Raibhya’s Encounter and Hymn to Viṣṇu (Gadādhara)
پرتھوی سدھّ واسو کی بات سن کر ورہ سے رَیبھْی مُنی کے بارے میں پوچھتی ہے۔ ورہ بیان کرتا ہے کہ رَیبھْی مقدس گیا، جو پِتروں
Adhyaya 8
Dialogue on the Ethical Limits of Subsistence and the Five Great Sacrifices (Dharmavyādha, Mātaṅga, and Prasanna)
واراہ پرتھوی کو ایک دھرم ویادھ (شکاری) کی زندگی سناتے ہیں۔ وہ طویل عرصہ شکار کے پیشے میں رہتے ہوئے بھی صرف بقا کی حد تک
Adhyaya 9
The Sequence of Creation, the Emergence of the Praṇava, and the Fish Incarnation’s Retrieval of the Vedas
دھرتی (دھرنی) وراہ سے پوچھتی ہے کہ کِرت یُگ کے آغاز میں نارائن نے کیا کیا اور کائنات کیسے پیدا ہوئی۔ وراہ تخلیقِ عالم کا
Adhyaya 10
The Threefold Division by the Guṇas, the Deities’ Attainment of Worship, and the Opening of the Durjaya Episode
وراہ بیان کرتے ہیں کہ سृष्टि کے پھیلنے کے بعد قدیم دیوتاؤں نے جزیروں اور علاقوں میں نارائن کے لیے عظیم یَجْن کیے، یہاں ت
Adhyaya 11
Hospitality at Gauramukha’s Hermitage and the Power of the Wish-Fulfilling Jewel
وراہ پرِتھوی کو سناتے ہیں کہ راجا دُرجَے مہارشی گورمکھ کے آشرم میں آتا ہے اور باقاعدہ آتِتھّی (مہمان نوازی) پاتا ہے۔ خور
Adhyaya 12
Supratīka’s Hymn to Rāma and the Granting of a Boon through Divine Manifestation
وراہ پرتھوی کو راجا سوپرتیک کا واقعہ سناتے ہیں۔ جب اسے خبر ملتی ہے کہ اس کا بیٹا رتھانگ-اگنی (چکر کی آگ) سے جل گیا، تو و
Adhyaya 13
The Genealogy of the Pitṛs and the Determination of Śrāddha Times
مکالمے میں پرتھوی ورہ سے رشی گورمکھ، ہری کے تیز و فوری فعل کو دیکھ کر اس کے ردِّعمل، اور جواہر جیسے ور دان پانے کے “پھل”
Adhyaya 14
Ritual Procedure for Śrāddha: Sequence, Eligibility, and Offerings to Ancestors
واراہ–پرتھوی کے تعلیمی سیاق میں یہ باب شِرادھ (پِتروں کی رسومات) کی مکمل طریقۂ کار کو رشیوں کی روایت کے ذریعے بیان کرتا
Adhyaya 15
Gauramukha’s Recollection and the Hymn to Hari at Prabhāsa
پرتھوی کے ساتھ مکالمے میں وراہ شِرادھ سے متعلق روایت کو آگے بڑھاتے ہیں۔ پرتھوی پوچھتی ہے کہ گورمکھ پچھلے جنم میں کون تھا
Adhyaya 16
The Account of Saramā: Indra’s Restoration after Loss of Sovereignty
پرتھوی ورہاہ سے سوال کرتی ہے کہ درواسہ کے شاپ سے جب اندر کو مرتیہ لوک میں رہنا پڑا تو اندر اور دیوتاؤں نے کیا تدابیر کیں
Adhyaya 17
King Prajāpāla’s Visit to Sage Mahātapā’s Hermitage and the Doctrinal Praise of Nārāyaṇa
پرتھوی ورہاہ سے “منیجا” ہستیوں کی ابتدا، تریتا یُگ میں کہے گئے ور دان، ان کے اعمال اور جداگانہ ناموں کے بارے میں پوچھتی
Adhyaya 18
The Origin of Fire and the Liturgical Names of Agni
اس ادھیائے میں جسم اور کائنات سے وابستہ متعدد دیوتاؤں—اگنی، اشون، گنپتی، ناگ وغیرہ—کی پیدائش، مجسم صورتوں، یَجْنی ناموں
Adhyaya 19
The Glory of Lunar Days: The Pratipadā Observance and the Merit of Hearing Agni’s Origin
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی مکالمے کے ضمن میں مہاتپا بادشاہ سے وشنو کی وِبھوتی کے بعد تِتھیوں کے ماہاتمیہ کا بیان کرتا ہے۔ روا
Adhyaya 20
The Birth of the Aśvins: Solar Lineage, Saṃjñā and Chāyā, and the Granting of a Hymn and Boons
اس ادھیائے میں ورَاہ–پرتھوی کے تعلیمی مکالمے کے اندر یہ سوال حل ہوتا ہے کہ پران اور اپان کیسے دیویہ اشونوں کی صورت میں م
Adhyaya 21
The Disruption of Dakṣa’s Sacrifice, the Hari–Hara Conflict, and the Establishment of Rudra’s Sacrificial Share
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی مکالمے میں بیان ہے کہ پرجاپتی برہما کو ابتدا میں مخلوقات پیدا کرنے میں دشواری ہوئی تو غضب سے رودر
Adhyaya 22
Gaurī’s Rebirth, Umā’s Austerities, Rudra’s Test, and the Himalayan Wedding
واراہ–پرتھوی کے مکالمے میں یہ ادھیائے گوری–اُما کی کہانی کے ذریعے اخلاقی عزم، جسمانی ضبطِ نفس (تپسیا) اور سماجی طور پر م
Adhyaya 23
The Birth of Gaṇapati, the Emergence of the Vināyakas, and the Significance of the Fourth Lunar Day
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی مکالمے میں یہ باب بتاتا ہے کہ دنیاوی کاموں میں نظم کس طرح منضبط رکاوٹوں (وِگھن) کے ذریعے قائم رہتا
Adhyaya 24
The Birth of the Nāgas, Brahmā’s Curse, and the Pañcamī Observance
پرتھوی کے سوال کے جواب میں وراہ بتاتے ہیں کہ میل جول اور کرمی رجحان کے سبب کیسے طاقتور ہستیاں ناگوں کے جسم میں بندھ گئیں
Adhyaya 25
The Birth of Ahaṅkāra as Guha/Skanda and His Appointment as Divine Commander
یہ باب ورٰاہ اور پرتھوی کے تعلیمی مکالمے کی صورت میں اَہنکار کی پیدائش اور اس کے گُہا/سکند (اسکَند) کے طور پر دیوی لشکر
Adhyaya 26
The Sun’s Assumption of Form and the Gods’ Hymn of Pacification
وراہ پران کے مکالماتی سیاق میں پرجاپال رشی مہاتپا سے پوچھتا ہے کہ غیر مادی اصول (جیوتس) کیسے مجسم صورت (مورتی گرہن) اختی
Adhyaya 27
The Slaying of Andhaka and the Manifestation of the Eight Mother-Goddesses from Divine Afflictions
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی پس منظر میں یہ ادھیائے بیان کرتا ہے کہ جب اندھک کا پُرتشدد غلبہ کائناتی اور زمینی استحکام کو ہلا د
Adhyaya 28
The Manifestation of Māyā as Durgā/Kātyāyanī and the Slaying of Vaitrāsura
وراہ–پرتھوی کے مکالمے میں پرتھوی پوچھتی ہے کہ آدِکشیترا میں مایا کیسے لطیف ہوتے ہوئے بھی جداگانہ روپ میں شُبھ دُرگا/کاتی
Adhyaya 29
The Birth and Marriages of the Direction-Goddesses and the Daśamī Observance
وراہ پران کے تعلیمی سیاق میں مہاتپا بادشاہ سے بیان کرتا ہے کہ برہما کی ابتدائی تخلیق کے وقت یہ فکر پیدا ہوئی کہ مخلوقات
Adhyaya 30
The Origin of Dhanada (Kubera) from Vāyu and the Observance of the Ekādaśī Vow
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی پس منظر میں یہ ادھیائے بتاتا ہے کہ دولت کی نگہبانی (دھنپتیتو) کائناتی خدمت سے کیسے جڑی ہے۔ مہاتپا
Adhyaya 31
The Manifestation of Viṣṇu’s Form for Cosmic Governance (the Vaiṣṇava Creation Narrative)
پورانی تعلیمی سیاق میں (وراہ کا پرتھوی کو وعظ)، یہ ادھیائے بیان کرتا ہے کہ مخلوقِ عالم کی بقا و نظم کے لیے وِشنو کیوں ظا
Adhyaya 32
Dharma as the Bull-Form: Soma’s Transgression and the Institution of the Thirteenth Lunar Day Observance
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی پس منظر میں یہ ادھیائے سماجی و ارضی نظم کی اساطیری بنیاد بیان کرتا ہے: برہما سृष्टی کی حفاظت کے لی
Adhyaya 33
The Origin of Rudra, the Disruption of Dakṣa’s Sacrifice, and the Establishment of Paśupati
وراہ پرِتھوی کو رودر کے ازلی ظہور اور اس کے یَجْنَی اثرات سناتے ہیں۔ تپسیا سے بھرپور ایک نہایت قوی ہستی نمودار ہوتی ہے؛
Adhyaya 34
Account of the Origin of the Ancestors (Pitṛs) and the Regulations for Śrāddha Offerings
وراہ پران کے تعلیمی مکالمے میں (وراہ کا پرتھوی کو اپدیش) یہ ادھیائے پِتروں کی پیدائش اور شرادھ کے قواعد بیان کرتا ہے۔ تخ
Adhyaya 35
The Account of Soma’s Decline and Restoration, and the Paurṇamāsī Observance
واراہ–پرتھوی کے تعلیمی مکالمے کے ضمن میں یہ ادھیائے چاند کے گھٹنے اور پھر بڑھنے کی علّت بیان کرتا ہے۔ اتری کی نسل سے سوم
Adhyaya 36
Account of the Maṇija Kings and a Hymn to Govinda Leading to Liberation
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی مکالمے کے پس منظر میں یہ ادھیائے نصیحت آمیز تاریخ و نسب نامہ پیش کرتا ہے۔ مہاتپا ایک راجا کو تریتا
Adhyaya 37
The Threefold Discipline (Mental, Physical, Verbal) and the Salvific Power of Hearing Nārāyaṇa’s Name
پرتھوی دیوی ورہاہ سے پوچھتی ہے کہ مرد و عورت بھکت کس طرح پوجا کریں اور عملی رہنمائی چاہتی ہے۔ ورہاہ بتاتے ہیں کہ وہ دولت
Adhyaya 38
The Hunter’s Austerity and the Gaining of Durvāsas’ Favor
وراہ پرِتھوی کو ایک ویادھ (شکاری) کا واقعہ سناتے ہیں جو اپنے گرو کی مسلسل یاد کے ساتھ سخت تپسیا کرتا ہے۔ بھکشا کے وقت وہ
Adhyaya 39
Discrimination of the Three Bodies and the Dharaṇī Vow: A Manual for Dvādaśī Observance
یہ باب وراہ اور پرتھوی کے تعلیمی مکالمے کی صورت میں مجسّم وجود کو تین حالتوں میں تقسیم کرتا ہے: سابقہ “پاپ” کی حالت، موج
Adhyaya 40
Ritual Procedure for the Kūrma Dvādaśī Observance
اس ادھیائے میں درواسہ سے منسوب ورت (نذر) کی باقاعدہ وِدھی بیان ہوتی ہے، جو پُشیہ ماس میں جناردن/نارائن کے کُورم روپ کے ل
Adhyaya 41
Rite of the Varāha Dvādaśī Vow and an Exemplary Narrative on Expiation for Brahmin-Slaying
یہ باب، درواسہ کے تعلیمی فریم میں، ماہِ ماغھ کی شُکل دْوادشی پر ورَاہا ورت کی پوری وِدھی بیان کرتا ہے: سنکلپ اور اسنان،
Adhyaya 42
Ritual Procedure for the Phālguna Bright-Fortnight Dvādaśī Narasiṃha Worship, with the Narrative of King Vatsa
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی پس منظر میں رشی دُروَاسا فالغُن شُکل دوادشی کے نرسمہ ورت کی विधی بتاتے ہیں: پہلے اُپواس، پھر ہری/ن
Adhyaya 43
The Caitra Dvādaśī Observance and the Ritual Procedure for Worship of Vāmana
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی مکالمے میں یہ ادھیائے چَیتر ماہ کی دوادشی کے لیے مقررہ ورت-ودھی بیان کرتا ہے۔ روزہ/اپواس کے ساتھ ج
Adhyaya 44
The Vaiśākha Bright-Twelfth Observance: Worship of Hari as Jāmadagnya and Its Fruits
وراہ–پرتھوی کے مکالمے میں ویشاکھ شُکل دوادشی کے ورت کی پوری ودھی اور اس کا پھل بیان ہوا ہے۔ سْنان اور سنکلپ کے بعد مندر
Adhyaya 45
Ritual Procedure for Worship of Rāma and Lakṣmaṇa in the Month of Jyeṣṭha
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی مکالمے میں درواسہ جَیَیشٹھ ماہ میں رام اور لکشمن کی ارچنا کی وِدھی بیان کرتے ہیں۔ سادھک سنکلپ کر ک
Adhyaya 46
The Rite of the Āṣāḍha Bright-Fortnight Dvādaśī Fast and the Installation (Nyāsa) of the Fourfold Manifestation
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی مکالمے میں یہ ادھیائے دُروواس کے منسوب آشاڑھ شُکل دوادشی ورت کی پوری وِدھی بیان کرتا ہے۔ سادھک خوش
Adhyaya 47
The Rite of Śrāvaṇa Bright-Fortnight Dvādaśī (Dāmodara Worship) and the Exemplum of King Nṛga
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی مکالمے کے پس منظر میں یہ ادھیائے دُروَاسا اور وام دیو کی معتبر روایت کے ذریعے شراون شُکل دوادشی کے
Adhyaya 48
The Kalki Dvādaśī Observance and the Episode of King Viśāla
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی مکالمے میں بھادراپد شُکل دوادشی کے دن وشنو کے روپ کلکی کی عبادت کا طریقہ بیان ہوتا ہے: اَنگ-نیاس ک
Adhyaya 49
The Padmanābha Dvādaśī Observance, with the Eulogy of Lamp-Offering Merit
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی سیاق میں درواسہ آشویوج شُکل دوادشی کے پدمنابھ ورت کا بیان کرتے ہیں: اعضاء کے مطابق نذرانے، کلش کی
Adhyaya 50
The Procedure for the Dharaṇī Vow (Kārtika Dvādaśī Observance)
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی فریم میں یہ ادھیائے ایک ضمنی مکالمے کے ذریعے رسم و رواج کی پوری ترتیب بیان کرتا ہے۔ درواسا اگستیہ
Adhyaya 51
Recollection of the Dharaṇī-vrata and the Agastya–Bhadrāśva Dialogue on Liberation
دُروَاسا کے اعلیٰ دھراṇی ورت کے بیان کے بعد وراہ اپنا اُپدیش دوبارہ جاری کرتا ہے۔ وہ ستیہ تپاس کے ہِماوت کے علاقے میں پُ
Adhyaya 52
The Genealogy of Trivarṇa, Manohvā, and the Akṣa Lineage, with the Construction of the Nine-Gated City
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی پس منظر میں اس ادھیائے میں اگستیہ ایک ایسے نسب نامے کا بیان کرتے ہیں جو پہلے سے بے قاعدہ سماجی مید
Adhyaya 53
The Origin Account of Saptamūrti Svara and the Emergence of Saṃbhūti through Vibhūti
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی پس منظر میں، بھدراشوا اگستیہ سے پوچھتا ہے کہ پہلے بیان کی گئی کہانی کی ‘وبھوتی’ (ظاہر ہونے والی قو
Adhyaya 54
Nārada’s Teaching on a Viṣṇu-Vrata for Securing a Husband (Narrative of the Apsarases)
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی پس منظر میں بھدر اشو اگستیہ سے پوچھتا ہے کہ سچا وِجنان (حقیقی معرفت) کس دیوتا سے پیدا ہوتا ہے اور
Adhyaya 55
Observance of the Auspicious Dvādaśī Vow and the Sacred Account of the Kubjākāmra Tīrtha
وراہ–پرتھوی کے مکالمے کے پس منظر میں یہ باب ویشنو ‘شُبھ دوادشی ورت’ کی ودھی بیان کرتا ہے: مارگشیرش میں سنکلپ، مقررہ تِتھ
Adhyaya 56
Ritual Procedure for the Dhanyavrata (Prosperity Vow)
وراہ پران کے تعلیمی سیاق میں وراہ، پرتھوی کو اگستیہ کے ذریعے دھنیہ ورت (خوشحالی کا ورت) کی عملی ودھی بتاتے ہیں۔ اس کا آغ
Adhyaya 57
The Observance for Attaining Radiance: The Soma Kānti-Vrata
واراہ–پرتھوی کے تعلیمی پس منظر میں رشی اگستیہ ایک راجہ کو کانتی ورت کی ودھی بیان کرتے ہیں۔ یہ ورت ‘کانتی’ (نورانیت/صحت/ح
Adhyaya 58
The Procedure for the Saubhāgyakaraṇa Vow (Rite for Auspicious Fortune)
اس باب میں سَوبھاگیہ کرن ورت کی تعلیمی ہدایت بیان ہوئی ہے جو عورتوں اور مردوں کے لیے سَوبھاگیہ (نیک بختی و خوش حالی) بڑھ
Adhyaya 59
The Obstacle-Removing Vow (Procedure for Worship of Vināyaka)
اس ادھیائے میں ‘اَوِگھن کر’ ورت کا باقاعدہ طریقہ بتایا گیا ہے، جس کا مقصد یَجنیہ اور دنیوی رکاوٹوں (وِگھن) کو روکنا یا د
Adhyaya 60
The Rite of the Śāntivrata: A Yearlong Observance with Viṣṇu-on-Śeṣa and Nāga-Anganyāsa Worship
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی پس منظر میں یہ باب رشی اگستیہ کی روایت کردہ ہدایت پیش کرتا ہے، جس میں وہ ایک راجہ کو شانتِ ورت کی
Adhyaya 61
The Observance for the Fulfilment of Desires: Worship of Keśava in the Form of Guha (Kumāra)
وراہ–پرتھوی کے وعظی فریم میں یہ ادھیائے رشی اگستیہ کی بتائی ہوئی ایک ورت (برَت) کی ودھی پیش کرتا ہے جو ایک مہاراجہ کو کا
Adhyaya 62
Instruction on the ‘Health Vow’ and the Rite of Solar Worship
اس پورانک مکالماتی اسلوب میں (ڈیجیٹل ترتیب کے لیے ورہاہ کا پرتھوی کو وعظ) اس ادھیائے میں ‘آروگیہ ورت’ کی تعلیم دی گئی ہے
Adhyaya 63
Procedure for the Son-Obtaining Vow (Kṛṣṇāṣṭamī Observance)
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی سیاق میں اگستیہ رشی بھاد्रپد کے کرشن پکش کی کرشن اشٹمی پر مرکوز پُتر-پراپتی ورت کی مختصر ودھی بتات
Adhyaya 64
Procedure for the Vow that Cultivates Valor (Durgā Navamī Observance)
وراہ پُران کے تعلیمی مکالمے میں (وراہ پرتھوی کو تعلیم دیتے ہیں) ایک ضمنی رِشی-آواز کے طور پر اگستیہ مُنی ‘شَوریہ ورت’ کی
Adhyaya 65
The Sovereignty Vow and the Cycle of Tithi-Based Observances
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی مکالمے کے پس منظر میں یہ باب قمری تاریخوں (تِتھی) اور مخصوص مہینوں سے وابستہ ورتوں کا مختصر مگر جا
Adhyaya 66
Nārada’s Journey to Śvetadvīpa and the Means of Attaining the Lord through the Pañcarātra
واراہ–پرتھوی کے تعلیمی پس منظر میں یہ ادھیائے روایت شدہ مکالمے کی صورت میں آتا ہے۔ بھدرآشو اگستیہ سے غیر معمولی علم و رؤ
Adhyaya 67
On the Two ‘Sita–Kṛṣṇā’ Figures, the Sevenfold Ocean, and the Twelvefold Year
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی پس منظر میں اس ادھیائے میں ایک ضمنی مکالمہ آتا ہے جہاں بھدر اشو رشی اگستیہ سے علامتی کائناتیات کے
Adhyaya 68
Dharma Across the Four Yugas, the Disruption of Social Conduct, and Ritual Purification from Varṇa-Mixing Transgressions
وراہ پران کے تعلیمی مکالمے کے پس منظر میں بھدر اشو اگستیہ سے پوچھتا ہے کہ چار یگوں میں وشنو کو کیسے سمجھا جائے اور ورنوں
Adhyaya 69
Agastya’s Vision of Varuṇa as Nārāyaṇa in Ilāvṛta
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی مکالمے میں پرتھوی کے سوال پر وراہ زمین کی ساخت، پوشیدہ جہانوں اور کائناتی نظم سے متعلق ایک نمونہ و
Adhyaya 70
Nārāyaṇa as the Sacrificial Principle, Analysis of the Three Guṇas, and the Account of Delusion-Doctrines
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی پس منظر میں یہ ادھیائے ایک ضمنی مکالمہ بیان کرتا ہے جس میں بھدر اشو وشنو کی طویل عبادت اور ایک یَج
Adhyaya 71
Vision of the Trimūrti in Rudra, the Gautama Curse, the Manifestation of the Godāvarī, and the Niḥśvāsa-saṃhitā Account
واراہ پرِتھوی کو ایک تعلیمی واقعہ سناتے ہیں جو اگستیہ کی بادشاہ کو دی گئی روایت کے ذریعے بیان ہوتا ہے۔ دندک جنگل میں رشی
Adhyaya 72
Instruction on the Unity of the Triad (Brahmā–Viṣṇu–Rudra)
وراھ پران کے تعلیمی سیاق میں (جہاں وراھ پرتھوی سے خطاب کرتے ہیں)، اس ادھیائے میں ایک ثانوی مکالمہ آتا ہے جس میں اگستیہ ر
Adhyaya 73
Rudra’s Hymn: Vision of Nārāyaṇa, the Emergence of the Ādityas, and the Mutual Boon of Hari and Hara
اس ادھیائے میں ورَاہ رُدر کے بیان کردہ ازلی واقعے کو سناتے ہیں۔ تخلیق کی ذمہ داری پانے والے برہما کائناتی پانیوں میں ڈوب
Adhyaya 74
Measures of the Earth and the Cosmos: The Expansion of the Universe and the Division of Continents and Regions
وراہ کے تعلیمی سیاق میں رشی ابدی رودر (شمبھو) سے زمین اور کائنات کے پیمانے پوچھتے ہیں—زمین کی ساخت، پہاڑوں، سمندروں، دری
Adhyaya 75
Description of Jambūdvīpa: its regions, mountains, measurements, and cosmic structure
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی سیاق میں (مروجہ متن کے مطابق رُدر کی زبان سے) جمبودویپ کی ساخت، اس کے گرد سمندروں اور محض تَرک/عقل
Adhyaya 76
Description of Svarga: Amarāvatī, the Sudharmā Assembly Hall, and the Directional Cities
وراہ–پرتھوی مکالمے کے سیاق میں اس ادھیائے کا مرکزی موضوع پُرانک کائناتی جغرافیہ ہے۔ رُدر مَیرو کے مشرق میں ایک تابناک خط
Adhyaya 77
Measurements of Mount Meru, the Boundary Mountains, and the Four Directional Great Trees
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی مکالمے کے تسلسل میں رودر سَپت-دویپ زمین کے لیے محور و ستون کی مانند کوہِ مَیرو کی کونیاتی توضیح بی
Adhyaya 78
Names of the Four Directional Mountain-Kings and Their Lakes (Rudra’s Geographical Description)
وراھہ–پرتھوی کے تعلیمی سیاق میں اس ادھیائے میں رودر مقدس جغرافیے کی ایک ہدایت آموز فہرست بیان کرتے ہیں۔ چاروں سمتوں کے م
Adhyaya 79
Description of the Inner Basins (Droṇīs): Śrīsaras, Śrīvana, Bilva Forest, and Tāla Grove
وراہ پران کے تعلیمی مکالمے میں (وراہ پرتھوی کو تعلیم دیتا ہے) یہ ادھیائے ماؤنٹ میرو کے پاس واقع “درونی” یعنی گھیرے ہوئے
Adhyaya 80
Cosmographic Ordering of the Southern and Western Quarters: Valleys, Forest-Plateaus, and Sacred Sites
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی سیاق میں (اس حصے میں رودر کے بیان کے طور پر) یہ ادھیائے جنوبی اور مغربی سمتوں کی کائناتی و زمینی ت
Adhyaya 81
Description of the Divine Mountain Abodes: Meru, Devakūṭa, and Kailāsa
واراہ–پرتھوی کے تعلیمی مکالمے کے فریم میں (یہاں رودر کی روایت کے ذریعے) یہ ادھیائے مقدّس پہاڑی علاقوں اور وہاں بسنے والی
Adhyaya 82
The Descent of the Rivers: The Sky-Gaṅgā and Her Fourfold Division
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی پس منظر میں رودر بیان کرتا ہے کہ آکاش-سمندر سے ایک عظیم ندی پیدا ہوتی ہے جسے اندر کا ہاتھی مسلسل م
Adhyaya 83
Description of the Bhadrāśva and Ketumāla Regions: Niṣadha’s Western Janapadas and River Systems
اس ادھیائے میں ورَاہ–پرتھوی کی تعلیمی فضا کے اندر، موصولہ سطور میں رُدر بطورِ متکلم بھدرآشو اور کیتُمال علاقوں کے نام لی
Adhyaya 84
Description of the Northern Regions: Ramyaka, Hiraṇmaya, Uttarakuru, Candradvīpa, Sūryadvīpa, and Rudrākara
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی پس منظر میں یہ ادھیائے رُدر کی رپورٹ کے ذریعے شمالی (اور اشارۃً جنوبی) ورشوں کا بیان پیش کرتا ہے۔
Adhyaya 85
The Ninefold Division of Bhārata and the Enumeration of Its Mountains and River Systems
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی مکالمے میں رُدر کی مقتدر آواز بطورِ شہادت نقل ہوتی ہے۔ متن پہلے بتاتا ہے کہ بھوپدم (زمین-کنول) کی
Adhyaya 86
Description of Śākadvīpa and Kuśadvīpa (Cosmographic Geography)
واراہ–پرتھوی مکالمے میں سابقہ کائناتی نقشہ نگاری کے بعد اب جزیرہ نما براعظموں (دویپوں) کی تعلیمی توضیح آتی ہے۔ پہلے شاک
Adhyaya 87
Description of Krauñcadvīpa: its mountains, regions, rivers, and encircling ocean
واراہ–پرتھوی کے تعلیمی مکالمے کے اندر یہ باب زمین کی منظم ساخت کو زمینی توازن کی صورت میں پیش کرتا ہے۔ متن میں مقرر (یہا
Adhyaya 88
Account of the Extents of Śālmaladvīpa, Gomedadvīpa, and Puṣkaradvīpa
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی سیاق میں رودر بقیہ دویپوں کی ترتیب اور نسبتاً پھیلاؤ کی مختصر کائناتی تعلیم دیتا ہے۔ وہ شالمَل دوی
Adhyaya 89
The Hierarchy of the Trimūrti and the Manifestation of the Goddess Trikalā
یہ باب پرتھوی کے سوال سے شروع ہوتا ہے کہ اعلیٰ ترین دیوتا کی پہچان میں اختلاف کیوں ہے—شیو، ہری (وشنو)، ایشان یا برہما می
Adhyaya 90
Description of the Threefold Goddess-Power and Brahmā’s Hymn to Sṛṣṭi
وراہ پُرتھوی (وراروہا/وشالاکشی) کو تعلیم دیتے ہوئے شِو/پرمیَشٹھِن کی تری شَکتی کا بیان کرتا ہے۔ پہلی شَکتی ‘سِرشٹی’ سفید
Adhyaya 91
The Vaiṣṇavī Goddess on Mount Mandara: Emergence of the Maidens, Construction of the Goddess-City, and Nārada’s Visit
وراہ پرِتھوی کو مندار پہاڑ پر مقیم ویشنوَی دیوی کا واقعہ سناتے ہیں۔ دیوی کُومار ورت اختیار کر کے تپسیا میں لگی رہتی ہے؛
Adhyaya 92
The Demon King’s Council Deliberation and the Mobilization of an Army to Conquer the Devas
وراہ بیان کرتے ہیں کہ نارَد کے رخصت ہونے کے بعد دَیتیہ راجا مہِشہ اُس مبارک دوشیزہ کے خیال میں ڈوبا رہتا ہے۔ تدبیر پانے
Adhyaya 93
The Battle of Mahiṣa Daitya and the Gods
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی مکالمے میں یہ ادھیائے دیوؤں اور اسوروں کی عظیم جنگ بیان کرتا ہے، جو کائناتی نظم کو بگاڑنے والی بے
Adhyaya 94
The Birth of Mahiṣāsura and the Goddess’s Victory as Mahīṣamardinī
Devī-māhātmya (Mythic-Theology) and Protective Hymn (Stotra-Prayoga)
Adhyaya 95
The Slaying of the Daitya Ruru, the Hymn to Cāmuṇḍā/Kālarātri, and the Doctrine of the Threefold Power
Mythic-Theology (Devī-Māhātmya) with Ritual/Protective Phalaśruti
Adhyaya 96
The Threefold Power: The Raudrī Observance and the Manifestation of Chāmuṇḍā
وراہ پرِتھوی کو تری شکتی (تین گونوں والی شکتی) اور رَودری ورت کا بیان سناتے ہیں۔ نیلاگیری پر تامسک رَودری شکتی سخت تپسیا
Adhyaya 97
The Glory of Rudra: The Origin of the Kapālamocana Pilgrimage Site and Rudra’s Expiatory Vow
وراہ پرِتھوی کو رودر ماہاتمیہ سناتے ہیں—رودر کے کفّارے کے ورت (رودر ورت) کی ابتدا اور کَپال موچن تیرتھ کے ظہور کا سبب۔ ر
Adhyaya 98
Chapter on the Sacred Hill Episode: Satyatapā and the Marvel of Varāha
پرتھوی دیوی ہِمَوَنت سے متعلق ایک عجیب واقعہ کی وضاحت کے لیے ورَاہ سے سوال کرتی ہیں۔ ورَاہ برہمن ستیہ تپا کی سرگزشت سنات
Adhyaya 99
The Greatness and Rite of the Sesame-Cow (Tiladhenu) Gift
پرتھوی کے ساتھ مکالمے میں ورَاہ بھگوان ایک نجات بخش ویشنوَی رسم و ضابطہ بیان کرتے ہیں جو بڑے گناہوں کو مٹاکر خوشحالی لوٹ
Adhyaya 100
Ritual Procedure for the Donation of the ‘Water-Cow’ (Jaladhenu)
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی مکالمے میں یہ باب جلادھینو-دان کی باقاعدہ ودھی بیان کرتا ہے—پانی سے بھرے کمبھ کے گرد علامتی ‘گائے’
Adhyaya 101
The Eulogy and Procedure of the ‘Rasadhenu’ (Sugarcane-Juice Cow) Donation
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی سیاق میں یہ ادھیائے ہوتری کے ذریعے راجا کو ‘رسدھینو’ دان کی ودھی بتاتا ہے۔ گنے کے رس (اکشو رس) سے
Adhyaya 102
The Merit and Ritual Procedure of Donating a Jaggery Cow (Guḍadhenu)
وراہ–پرتھوی کے مکالمے میں گُڑدھینو دان کی مکمل رسم و رہنمائی بیان ہوتی ہے۔ زمین و آسن کی تیاری کے بعد گُڑ سے گائے کی صور
Adhyaya 103
Ritual Procedure for the Donation of the ‘Sugar-Cow’ (Śarkarā-Dhenu)
واراہ–پرتھوی کے تعلیمی سیاق میں بادشاہ کے لیے ‘شرکرا-دھینو’ (شکر کی گائے) بنانے اور دان کرنے کا باقاعدہ طریقہ بیان ہوتا
Adhyaya 104
The Eulogy and Procedure of the ‘Honey-Cow’ Gift (Madhudhenudāna)
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی مکالمے میں یہ ادھیائے مدھودھینو دان (شہد سے تشکیل دی گئی گائے کا دان) کی رسم و طریقہ بیان کرتا ہے،
Adhyaya 105
Ritual Procedure for the Gift of the Milk-Cow (Kṣīradhenu)
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی مکالمے میں یہ ادھیائے ‘کشیردھینو’ یعنی علامتی دودھ دینے والی گائے کی تیاری اور دان کی ودھی بیان کر
Adhyaya 106
The Significance and Rite of Donating the ‘Curd-Cow’ (Dadhidhenudāna)
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی مکالمے کے پس منظر میں یہ ادھیائے ددھی دھینو دان (دہی سے بنائی/نمائندہ گائے کا دان) کی مختصر وِدھی
Adhyaya 107
The Glorification of Donating a Butter-Cow (Navanīta-Dhenu)
وراہ کی پرتھوی کو تعلیم کے پیرائے میں یہ ادھیائے نَوَنیت (تازہ مکھن) سے بنی علامتی “دھینو” تیار کرنے اور دان کرنے کی مقر
Adhyaya 108
The Eulogy and Procedure of Donating the ‘Salt-Cow’ (Lavaṇadhenu)
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی مکالمے میں یہ باب لَوَṇدھینو-دان (نمک سے بنی ہوئی گائے کا دان) کی عظمت اور طریقۂ کار بیان کرتا ہے۔
Adhyaya 109
The Merit and Procedure of Donating the ‘Cotton Cow’ (Kārpāsa-dhenu)
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی مکالمے کے پس منظر میں یہ ادھیائے کارپاس دھینو-دان (کپاس سے بنی علامتی گائے کا دان) کو تدارکی اور پ
Adhyaya 110
The Glory and Procedure of the Grain-Cow (Dhānyadhenu) Donation
اس ادھیائے میں وراہ–پرتھوی کے تعلیمی مکالمے کے انداز میں ‘راجن’ کو دھانیہ دھینو (خصوصاً چاول کے اناج سے بنی گائے کی صورت
Adhyaya 111
The Eulogy of Donating a Tawny (Kapilā) Cow
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی پس منظر میں یہ ادھیائے کپیلا دھینو دان، یعنی کپیلا (سنہری مائل) گائے کے دان کی عظمت بیان کرتا ہے۔
Adhyaya 112
Praise and Procedure of Donating the Two-Faced Kapilā Cow and the Golden Pot (Hema-kumbha)
ادھیائے 112 میں پرتھوی ورہ سے کپیلا گائے کے پُنّیہ پھل کے بارے میں پوچھتی ہے، خصوصاً بچھڑا جننے کے وقت اس کے دان کی فضیل
Adhyaya 113
Hymn to Varāha and Pṛthivī’s Inquiry (Prelude to the Sanatkumāra Dialogue)
ادھیائے 113 کا آغاز ورہا-ستوتی سے ہوتا ہے، جس میں وشنو کے سور-اوتار کو کائناتی عامل کہا گیا ہے جو دھرتی کو اٹھا کر زمینی
Adhyaya 114
The Varāha Incarnation and Pṛthivī’s Inquiries on Ritual Procedure and Devotional Outcomes
ادھیائے 114 میں رشی نارائن کی ستوتی کرتے ہیں۔ پھر بھگوان ورَاہ وسندھرا (پرتھوی) سے خطاب کر کے وعدہ کرتے ہیں کہ وہ اسے پہ
Adhyaya 115
The Arising of Diverse Dharmas: Devotional Observances and Varṇa-Based Duties
پرتھوی کے سوال کے جواب میں وراہ (بطور نارائن) بیان کرتے ہیں کہ آسمانی بھلائی اور انسان کے مستحکم کردار کے لیے دولت، بڑے
Adhyaya 116
An Exposition on the Causes of Happiness and Suffering
پرتھوی (وسندھرا) سے مکالمے میں بھگوان وراہا سکھ (بھلائی/خوشی) اور دکھ کے اسباب کو جوڑی دار اخلاقی اصولوں کی صورت میں بیا
Adhyaya 117
The Thirty-Two Offenses: Rules of Purity and Proper Conduct in Worship
اس ادھیائے میں بھگوان وراہ پرتھوی (وسندھرا) سے ‘آہار-ودھی-نشچئے’ بیان کرتے ہیں اور خوراک و پوجا کے گرد جائز و ناجائز آچر
Adhyaya 118
Procedure for Divine Worship Services (Ritual Attendant Protocol)
اس ادھیائے میں شری وراہ پرتھوی کو بھکت یا سیوک کے لیے روزانہ کے دیووپچار (عبادی خدمات) کا منضبط طریقہ بتاتے ہیں۔ منتر کے
Adhyaya 119
Ritual Regulations on Permissible Foods for Offering and Consumption
ادھیائے 119 میں پرتھوی (دھارَنی/وسُدھا) اور ورَاہ دیو کے درمیان تعلیمی مکالمہ جاری رہتا ہے۔ سابقہ کرم وِدھی کو سن کر، جو
Adhyaya 120
Procedure for the Three Daily Twilight Mantra-Observance
مکالمے کی صورت میں وراہ پُرتھوی (دھرا/دیوی) کو سنسار سے پار اُتارنے کے لیے ایک “نہایت رازدارانہ” تعلیم دیتا ہے۔ درست غسل
Adhyaya 121
Avoidance of Rebirth in the Womb: Ethical Conduct and the Prevention of Degraded Rebirth
ایک تعلیمی مکالمے میں وراہ، پرتھوی (وسندھرا/مادھوی) کو بتاتے ہیں کہ کن اوصاف و اعمال سے انسان “دوبارہ رحم میں نہیں جاتا”
Adhyaya 122
The Greatness of Kokāmukha (Sacred Site Eulogy and Salvific Narrative)
وراہ بھگوان پرتھوی (وسندھرا) سے رازدارانہ طور پر “کوکامکھ-ماہاتمیہ” بیان کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ اہنسا، ضبطِ نفس، قناع
Adhyaya 123
The Greatness of Fragrant Flowers and Leaves: Prabodhinī (Awakening) Observances and Seasonal Rites
کوکا کے پُنّیہ کی پچھلی حکایت سن کر پرتھوی تعجب کرتی ہے کہ حیوانی جنم میں بھی اعلیٰ مقصد حاصل ہو سکتا ہے، اور ورَاہ سے پ
Adhyaya 124
Ritual Observances Aligned with the Seasons (Seasonal Devotional Procedure)
اس ادھیائے میں وراہ (سؤر-روپ نارائن) اور پرتھوی (وسندھرا) کے درمیان تعلیمی مکالمہ ہے۔ وراہ فالغن کے شُکل پکش کی دوادشی ک
Adhyaya 125
The Cycle of Māyā (Illusory Causation and Perceptual Reversal)
سوتا ایک مکالمہ بیان کرتے ہیں جس میں پرتھوی پہلے بیان کردہ مبارک و پاکیزہ کرنے والے ورت اور آچارن سن کر وراہ (وشنو) سے پ
Adhyaya 126
The Greatness of Kubjāmraka: Raibhya’s Boon and the Teaching on the Sacred Tīrthas
مکالمے میں پرتھوی ورہ سے پوچھتی ہے کہ پہلے ذکر کی گئی مگر نامعلوم کبجامرک کی عظمت، اس کی ‘پُشٹی’ (پرورش/برکت بخش قوت) او
Adhyaya 127
Description of the Brāhmaṇa Initiation Procedure (Dīkṣā-sūtra)
پہلی تعلیمات سن کر پرتھوی (زمین) جناردن/وراہ سے عرض کرتی ہے کہ بیان کردہ کْشیتر کی قوت نے اس کا بوجھ ہلکا کر دیا ہے، اور
Adhyaya 128
Rites for the comb, collyrium, and mirror; initiations for the four social orders; and the Gaṇāntikā vow/insignia
وراہ بھگوان پرتھوی کو تعلیم دیتے ہوئے اس باب میں کشتریہ، ویشیہ اور شودر امیدواروں کے لیے ویشنو دیکشا کے جداگانہ طریقے بی
Adhyaya 129
Initiation for the Four Social Orders, Sandhyā Mantra Procedure, and the Merit of Offering Water in a Copper Vessel
ادھیائے 129 ایک تعلیمی مکالمہ ہے جس میں پرتھوی (وسندھرا) ورَاہ/واسودیو کے بھکت کے لیے سندھیا کے گُہیہ منتر اور طریقۂ کار
Adhyaya 130
Expiation and Dietary Discipline Concerning the Consumption of Royal Food (rājānna)
ادھیائے 130 ایک تعلیمی مکالمہ ہے۔ پرتھوی (وسندھرا) دیکشا کی پچھلی روایت سن کر وراہ/نارائن سے پوچھتی ہے کہ مذکورہ گناہوں
Adhyaya 131
Expiation for Chewing the Tooth-stick (Dantakāṣṭha)
اس ادھیائے میں ورَاہ اور پرتھوی کے درمیان طہارتِ رسم و رواج اور روزمرہ عمل کے اخلاقی نتائج پر تعلیمی مکالمہ ہے۔ ورَاہ فر
Adhyaya 132
Expiatory Rites for Contact with a Corpse and with a Menstruating Woman
ادھیائے ۱۳۲ میں ورَاہ اور پرتھوی (دھارَنی) کے درمیان تعلیمی مکالمہ ہے۔ ورَاہ لاش کو چھونے (مرتک-سپَرش) اور حیض والی عورت
Adhyaya 133
Expiations for ritual-time impurity and the offense of defecation/urination in a sacred context
ادھیائے 133 میں تعلیمی مکالمے کے ذریعے بھگوان وراہ پوجا کے وقت کی ناپاکی اور مقدس سیاق میں قضائے حاجت/پیشاب کے جرم کے لی
Adhyaya 134
Expiations for Ritual and Temporal Offences in Worship, and the Prescribed Purificatory Procedure (Upaspṛśya)
اس ادھیائے میں ورَاہ اور پرتھوی (دھرنی/وسندھرا) کے درمیان تعلیمی مکالمہ ہے کہ پوجا اور روزمرہ آچرن میں ہونے والی رسومی ل
Adhyaya 135
Prescriptions for Expiation of Offences: Red/Black Garments, Improper Touch in Darkness, Impure Leftovers, Eating Boar-Meat, and Consuming Jālapāda
وراہ بھگوان پرتھوی کو سماجی و یاجنک لغزشوں اور اُن کے پرایَشچِتّ (کفّارہ) بتاتے ہیں، تاکہ کرموں کا بوجھ کم ہو اور زمین پ
Adhyaya 136
A Sūtra-like Manual of Expiations for Ritual Transgressions
اس ادھیائے میں ورَاہ پِرتھوی کو “مَم کرمَانی” یعنی ورَاہ کے مقررہ آداب و اعمال کی خلاف ورزی پر پرایَشچِت (کفّارہ/تلافی)
Adhyaya 137
The Tale of the Vulture and the She-Jackal: The Māhātmya of the Saukarava Sacred Field
اس باب میں تعلیمی مکالمے کے انداز میں پرتھوی ورہاہ سے اس کے اعلیٰ ترین مقدس کشترا، سَوکارَو، کی عظمت اور وہاں یاترا، اسن
Adhyaya 138
The Episode of the Khañjarīṭa Bird (and the Saukarava Tīrtha’s Merit)
مکالمے میں پرتھوی دیوی ورہ سے سوکارَو کْشَیتر کی تاثیر پوچھتی ہے: اکام مرتیو (ناخواستہ موت) کے باوجود انسان جنم کیسے ملت
Adhyaya 139
The Glory of Varāha’s Rite: Merits of Cow-dung Plastering, Sweeping, Singing, Instrumental Music, and Dance (with a Truth-Vow Exemplum)
وراہ بھگوان پرتھوی کو اپنی پوجا سے وابستہ عملی خدمتوں کے کرمی نتائج بتاتے ہیں۔ گومَیَہ (گوبر) سے گھر یا مندر کی لیپائی،
Adhyaya 140
The Greatness of Kokāmukha (Badarī): Varāha’s Hidden Abode and the Sacred Waters
مکالمے میں پرتھوی (دھرا) ورَاہ سے پوچھتی ہے کہ وہ ہمیشہ کہاں قیام کرتا ہے، اس کا اعلیٰ ترین مقام کیا ہے، اور کون سے اعما
Adhyaya 141
The Sacred Greatness of Badarikāśrama (Badrinath Region)
پرتھوی (زمین) سے مکالمے میں وراہ ہمالیہ کی ڈھلوانوں پر واقع بدریکاشرم کی غیر معمولی تقدیس بیان کرتے ہیں، اسے ایک نایاب ا
Adhyaya 142
The Greatness of Esoteric Practice: Menstrual Impurity, Mental Equanimity, and Seasonal Conjugal Ethics
ادھیائے 142 میں پرتھوی (وسندھرا) اور وراہ کے درمیان تعلیمی مکالمہ کے ذریعے گُہیہ کرم کی عظمت بیان ہوتی ہے۔ پرتھوی رَجسول
Adhyaya 143
Exposition of the Glory of the Mandāra Sacred Grove
وراہ بھگوان پرتھوی (وسندھرا) سے ایک “نہایت رازدار” دھام مندارا کا تعارف کراتے ہیں، جو بھکتوں کو محبوب ہے اور وندھیا کے ن
Adhyaya 144
The Māhātmya of Someśvara and Related Liṅgas: The Liberation-Field of Triveṇī and the Śālagrāma Sacred Landscape
مکالمے میں پرتھوی (وسندھرا) وراہ سے مندارا سے بھی برتر ایک مقدس مقام کی وضاحت چاہتی ہے۔ وراہ شالگرام خطّے کی پیدائش اور
Adhyaya 145
The Greatness of the Śālagrāma Sacred Region
مکالمے میں پرتھوی ورَاہ سے پوچھتی ہے کہ موکش دینے والے کشتَر میں تپسوی سالنکایَن نے تپسیا کیوں کی۔ ورَاہ بیان کرتا ہے کہ
Adhyaya 146
The Greatness of Hṛṣīkeśa at Rurukṣetra: The Origin Narrative of Ruru and the Sacred Site
سوت کے مکالماتی فریم میں پرتھوی ورہاہ سے روروکشیتر کی تقدیس، “رورو” نام کی اصل اور وہاں ہریشیکیش کے قائم ہونے کی وجہ پوچ
Adhyaya 147
The Sacred Merit of Goniṣkramaṇa (the Tīrtha of the Cows’ Emergence/Release)
مکالمے میں پرتھوی ورہ سے درخواست کرتی ہے کہ روروکشیتر اور ہریشیکیش کے بعد ایک اور نہایت خفیہ اور پاک کرنے والے تیرتھ کا
Adhyaya 148
The Greatness of Stutasvāmi: Varāha’s Disclosure of the Bhūtagiri Sacred Landscape and Its Ethical Discipline
اس باب میں مکالمے کے انداز میں پرتھوی، گونِشکرمَن کی پوشیدہ عظمت سن کر، وراہ سے اس سے بھی زیادہ رازدارانہ تعلیم اور ایک
Adhyaya 149
The Sacred Geography and Merit of Dvārakā
اس باب کے آغاز میں پرتھوی (دھرنی) ستوتسوامن کی سابقہ مدح سن کر گہری طمانیت محسوس کرتی ہے اور مزید اعلیٰ تعلیم کی درخواست
Adhyaya 150
The Sacred Greatness of Sānandūra
دوارکا کی عظمت سن کر پرتھوی (وسندھرا) شکرگزاری ظاہر کرتی ہے اور وراہ (وشنو) سے اس سے بھی زیادہ خفیہ مقدس تعلیم بیان کرنے
Adhyaya 151
The Sacred Greatness of Lohārgala (The ‘Iron-Bolt’ Tīrtha)
اس باب میں تعلیمی مکالمہ ہے۔ پچھلی مقدس حکایات سن کر پرتھوی ورَاہ سے پوچھتی ہے کہ کیا سَانَندُورا سے بڑھ کر کوئی اور “گُ
Adhyaya 152
Praise of the Sacred Geography of Mathurā
اس باب میں پرتھوی دیوی، ورہاہ کی عظمت سن کر، لوہارگل سے آگے ایک نہایت نایاب اور اعلیٰ تیرتھ کے بارے میں تعلیم مانگتی ہے۔
Adhyaya 153
The Glory of the Mathurā Sacred Landscape: Saṃyamana Tīrtha and the Twelve Sacred Forests
پرتھوی (وسندھرا) سے مکالمے میں وراہ مَتھُرا کے تیرتھ-چکر کا تعارف کراتے ہیں۔ وہ شیوکنڈ کے قریب نوگنا تیرتھ-مجموعے کی غیر
Adhyaya 154
The Efficacy of Yamunā River Pilgrimage Sites (Merits of Mathurā-Region Tīrthas)
پرتھوی (وسندھرا) سے مکالمے میں ورَاہ مَتھرا کو یمنا کے گرد قائم ایک نہایت مؤثر تِیرتھ-بھومی کے طور پر بیان کرتا ہے۔ ضمنی
Adhyaya 155
The Efficacy and Sacred Merit of Akrūra Tīrtha
وراہ بھگوان، پرتھوی (وسندھرا) سے جاری تعلیماتی مکالمے میں، اننت/اکرور تیرتھ کی نایابی اور پائیداری اور اس کی نجات بخش تا
Adhyaya 156
The Manifest Sacred Landscape of Mathurā: Merits of Vatsakrīḍanaka, Bhāṇḍīraka, Vṛndāvana, Keśītīrtha, and the Sūrya-Tīrthas
اس باب میں ورٰہ بھگوان پرتھوی (وسندھرا) کو خطاب کرتے ہوئے متھرا کے گرد و نواح کی مقدس جغرافیہ اور تیرتھوں کے ثمرات بیان
Adhyaya 157
Praise of the Malayārjuna Sacred Ford and the Mathurā–Yamunā Pilgrimage Cycle
مکالماتی انداز میں ورَاہ بھگوان پرتھوی کو یمنا اور متھرا کے گرد مقدّس پانیوں اور باغات/ونوں کے جال کی تعلیم دیتے ہیں۔ اس
Adhyaya 158
The Manifestation and Sanctifying Power of the Mathurā Tīrtha
وراہ پرتھوی کو بتاتے ہیں کہ متھرا اُن کا اپنا مقدس منڈل ہے؛ وہاں اشنان (غسل) گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور یہ مقام دیگر تمام
Adhyaya 159
The Procedure and Merit of Circumambulating Mathurā
اس باب میں دھرتی (پرتھوی/دھرنی) اور ورَاہ دیو کے درمیان تعلیمی مکالمہ ہے۔ دھرتی کہتی ہے کہ اس نے تیرتھوں کے مفصل بیان سن
Adhyaya 160
The Prescribed Emergence and Procedure of the Mathurā Circumambulation (Parikramā)
وراہ بھگوان پرتھوی کو متھرا پریکرما کے درست وقت، ورتوں، اور راستے کا ضابطہ بتاتے ہیں، اور یاترا کو نظم و ضبط اور اخلاقی
Adhyaya 161
The Efficacy of the Sacred Forests: The Merit of Pilgrimage to Mathurā’s Twelve Groves
تعلیمی مکالمے میں پرتھوی (دھرنی) ورہاہ سے پوچھتی ہے کہ جو لوگ دھرم سے روگرداں اور صحیح گیان سے محروم ہیں، دردناک کرم پھل
Adhyaya 162
The Efficacy and Merit of Cakra-tīrtha
وراہ پرِتھوی کو متھرا کے شمال میں پیش آنے والا واقعہ سنا کر چکر تیرتھ کی پربھاوا (اثر و فضیلت) واضح کرتے ہیں۔ وید میں تر
Adhyaya 163
The Greatness of Kapila-Varāha: The Efficacy of Vaikuṇṭha Tīrtha and the Installation History of the Varāha Image
وراہ دیوِی پرتھوی (وسندھرا) سے مخاطب ہو کر ویکنٹھ تیرتھ کی تطہیری قوت کا ایک قدیم واقعہ سناتے ہیں۔ متھلا سے سب ورنوں کے
Adhyaya 164
The Efficacy of Circumambulating Annakūṭa (Govardhana)
مکالمے کی صورت میں وراہ بھگوان پرتھوی کو متھرا کے مغرب میں واقع گووردھن/انّکُوٹ کے مقدس جغرافیے اور پرکرما کی تاثیر بتات
Adhyaya 165
The Glory of Mathurā: The Account of Piṇḍa-Offering at the Catuḥsāmudrika Well
وراہ پرِتھوی سے خطاب کرکے دکشنापتھ کے علاقے میں پرتِشٹھان کی ایک مثال بیان کرتے ہیں۔ ایک مالدار ویشیہ سُشیلا گھر کے انتظ
Adhyaya 166
The Greatness of the Sacred Pond Called Asikuṇḍa
پرتھوی دیوی ورَاہ سے اسیکُنڈ نامی تیرتھ کی مہاتمیا پوچھتی ہیں۔ ورَاہ ایک شاہی واقعہ سناتے ہیں: نیک بادشاہ سُمتی پہلے تیر
Adhyaya 167
The Glory of the Viśrānti Tīrtha and the Account of a Rākṣasa’s Liberation
پرتھوی کے سوال پر وراہ بتاتے ہیں کہ “وشراںتی” کا مقدس نام سب سے پہلے ایک راکشس کی زبان سے کیوں نکلا۔ اُجّینی کا ایک برہم
Adhyaya 168
The Merit of Seeing Mathurā’s Guardian-Deity and a Catalog of Mathurā’s Sacred Geography
پرتھوی مَتھُرا کی حفاظت پر مامور نگہبان کے بارے میں پوچھتی ہے اور یہ بھی کہ اس کے دیدار سے کون سا پُنّیہ حاصل ہوتا ہے۔ و
Adhyaya 169
The Greatness of Mathurā: The Ardhacandra Sacred Bathing Rite and the Procedure for the Yajñopavīta Observance
وراہ بھگوان متھرا کو تینوں لوکوں میں بے مثال مقدس دھرتی قرار دیتے ہیں، جو شری کرشن کی حضوری سے معمور ہے اور جس کے مرکز م
Adhyaya 170
The Birth of Gokarṇa and the Fruits of Śiva Worship (including the Śukodara Parrot Episode and Hospitality Ethics)
وراہ پرِتھوی سے متھرا کی ایک قدیم حکایت بیان کرتے ہیں: تاجر وسوکرن اور اس کی بیوی سُشیلا بے اولادی کے غم میں مبتلا ہیں،
Adhyaya 171
Śuka’s Ocean Voyage: Adverse Winds, Arrival at a Viṣṇu Shrine, and Aid from the Jaṭāyu Birds
وراہ پرِتھوی کو شُک اور اس کے والد گوکرن کا واقعہ سناتے ہیں۔ دونوں متھرا سے قیمتی جواہرات کی تلاش میں تاجرانہ سمندری سفر
Adhyaya 172
The Harm of Destroying a Grove and the Merit of Tree-Planting as Pūrta-Dharma
وراہ گوکَرْن کے گرد ایک نصیحت آموز واقعہ بیان کرتے ہیں۔ گوکَرْن چند ایسی دیویوں کو دیکھتا ہے جو پہلے نہایت درخشاں تھیں م
Adhyaya 173
Account of Gokarṇa’s Śuka-Satra, Temple Consecration, and the Resulting Merit
وراہ پرِتھوی کو گوکرن کی مبارک سکونت کے بعد کا حال سناتے ہیں: وہ شُک، اس کے والدین اور ایک نیک گھرانے کی تعظیم و سَتکار
Adhyaya 174
The Sanctifying Power of River Confluences: Release from the Preta-State and the Rite of Śravaṇa Dvādaśī with Vāmana Worship
اس ادھیائے میں ورَاہ بھگوان بتاتے ہیں کہ ندیوں کے سنگم (سنگم) کا اسنان سخت گناہوں کو بھی پاک کر دیتا ہے۔ نظم و ضبط والے
Adhyaya 175
The Sanctity of the Kṛṣṇagaṅgā Pilgrimage-Ford and the Account of the Brahmin Vasu’s Daughter
واراہ پرتھوی کو کرشن گنگا اور یمنا (کالندی) سے وابستہ تیرتھ-سنکل کی تقدیس بیان کرتے ہیں، جہاں باقاعدہ اشنان، اسمِ الٰہی
Adhyaya 176
The Māhātmya of Kṛṣṇagaṅgodbhava, Kāliñjara, and the Five Sacred Baths: The Tale of Pāñcāla and Tilottamā
واراہ–پرتھوی کے تعلیمی مکالمے میں یہ ادھیائے بتاتا ہے کہ تِیرتھ زمینی مقدس مقامات اخلاقی خرابی کی اصلاح کا ذریعہ ہیں۔ تا
Adhyaya 177
The Curse of Sāmba and the Prescribed Observance of Sun-Worship
وراہ پرِتھوی کو دوارکا میں کرشن کے آچرن سے متعلق سامب کا ایک اور واقعہ سناتے ہیں۔ نارَد آ کر آدابِ مہمانی کے بعد خلوت می
Adhyaya 178
Ritual Observance for Reciting the Deeds of Śatrughna (Remembrance of the Slaying of Lavaṇa)
وراہ بھگوان پرتھوی کی نیکی کے اعمال میں دلچسپی کے مطابق بتاتے ہیں کہ حکایت کا تذکرہ و یاد بھی رسم کی تاثیر سے جڑا ہے۔ اس
Adhyaya 179
Enumeration of Ritual Offenses and Their Expiations; The Sacred Merit of Saukara and Mathurā Pilgrimage
پرتھوی دھرم و رسم کی حفاظت کی فکر میں پوچھتی ہے کہ “اپرادھ” کیسے پیدا ہوتا ہے اور جب آچرن ناپاک ہو تو پوجا کا پھل کیسے م
Adhyaya 180
The Glory of Dhruva-Tīrtha: Rules of Ancestor Libations and Śrāddha, and the Consequences of Lineage-Continuity
وراہ بھگوان پرتھوی کو دھروَتیِرتھ کی ایک حکایت سنا کر ‘پِتر-ترپتی’ (آباء کی تسکین) کی اہمیت واضح کرتے ہیں۔ راجا چندرسین
Adhyaya 181
Ritual Procedure for Installing and Consecrating a Madhūka-Wood Icon
اس باب میں تعلیمی مکالمہ ہے۔ پرتھوی (وسندھرا) مقدس مقامات اور ان کے اعمال کی برتری سن کر ‘کشیتر-شکتی’ پر حیرت کرتی ہے او
Adhyaya 182
Installation of a Stone Image (Ritual Procedure for Consecration)
مکالمے کی صورت میں وراہ پرِتھوی کو نارائن کی پتھر کی مورتی کی ستھاپنا/پرتِشٹھا کا مرحلہ وار دستور بتاتے ہیں۔ ابتدا میں خ
Adhyaya 183
Installation of a Clay Icon (Mṛnmayārcā) and the Ritual Protocol of Worship
پرتھوی (وسندھرا) سے مکالمے میں ورَاہ مِرنمَیا ارچا (مٹی کی مورتی) کی تنصیب اور پوجا کے ضابطے بیان کرتے ہیں۔ وہ مورتی کی
Adhyaya 184
Installation of a Copper Icon (Tāmrārcā) and Its Consecratory Worship
اس ادھیائے میں ورٰاہ بھگوان پرتھوی کو تانبے کی مورتی (تامرارچا) کی پرتِشٹھا اور پوجا کا مرحلہ وار طریقہ بتاتے ہیں۔ روشن
Adhyaya 185
Installation of a Bronze (Kāṁsya) Icon (Arcā)
اس ادھیائے میں ورَاہ بھگوان پرتھوی کو گھریلو مندر میں اپنے کانسیا (کانسے/برونز) اَرچا وِگْرہ کی تنصیب کا درست طریقہ بتات
Adhyaya 186
Ritual Procedure for Installing Silver and Gold Images, and the Special Status of Śālagrāma
وراہ پرِتھوی کو چاندی کی مورتی بنانے اور اس کی پرتیِشٹھا کا مرحلہ وار طریقہ بتاتے ہیں: دھات کی خصوصیات، موسیقی اور منگل
Adhyaya 187
Determination of the Origin and Procedure of the Ancestral Offering (Pitṛyajña/Śrāddha)
مکالمے میں پرتھوی (دھرنی) ورہاہ سے پِتْریَجْیَ/شرادھ کے پوشیدہ اصول—اس کے ثواب، طریقہ، آغاز، مقصد اور باطنی معنی—کی وضاح
Adhyaya 188
Section on the Origin and Procedure of Piṇḍa-Rites and Śrāddha: Rules of Mourning Impurity (Aśauca)
تعلیمی مکالمے میں پرتھوی ورَاہ سے اَشَوچ (وفات کے بعد کی ناپاکی) اور شرادھ و پنڈ دان کی درست ادائیگی پوچھتی ہے۔ ورَاہ دن
Adhyaya 189
Section on the Origin and Procedure of Piṇḍa-Rites (Funerary Offerings) and Donor–Recipient Purification
پرتھوی ورہاہ سے شرادھ کے ایک عملی و اخلاقی مسئلے پر سوال کرتی ہے: اگر برہمن پریت-بھوجیہ (مرحوم کے لیے مخصوص کھانا) قبول
Adhyaya 190
Determinative Exposition on Śrāddha and the Pitṛyajña (Ancestral Offering)
پرتھوی کے ساتھ مکالمے میں ورَاہ شِرادھ اور پِتْریَجْیَہ (آبائی نذر) کی رسموں کی منطق اور سماجی و اخلاقی پابندیاں بیان کر
Adhyaya 191
Section on the Origin of Madhuparka and the Procedure for Its Ritual Donation
کثیر دھارمک تعلیمات سننے کے بعد پرتھوی پھر وراہ سے “راز” کی وضاحت مانگتی ہے: مدھوپارک کیا ہے، اس کا پُنّیہ کیا ہے، کس دی
Adhyaya 192
Description of the Universal Peace-Recitation and the Madhuparka Rite
مدھوپارک کی پیدائش، نذر اور اس کے پھل سن کر، ضبطِ نفس اور ورتوں کی پابند پرتھوی جناردن (وراہ) کے پاس آتی ہے اور پوچھتی ہ
Adhyaya 193
Naciketas’ Journey to Yama’s Abode and the Eulogy of Truthfulness
یہ باب ورَاہ–پرتھوی کے تعلیمی اسلوب میں ایک نمونۂ حکایت پیش کرتا ہے۔ کرم کے نتائج کے خوف سے مضطرب راجہ جنمیجَے رشی ویشم
Adhyaya 194
The Return of Naciketas from Yama’s Abode: Inquiry into Death, Karma, and Dharmic Release
یہ باب (وراہ–پرتھوی مکالمے کے تعلیمی سانچے میں) نچیکیتا کے یم کے دھام سے واپس آنے کا بیان کرتا ہے۔ اس کے تپونِدھی والد ا
Adhyaya 195
Description of Sinners Abiding in Yama’s Realm (Catalog of Transgressions and the Logic of Retribution)
وراہ پران کے مکالماتی اسلوب میں وراہ، پرتھوی کو دھرم کو زمین کو سنبھالنے والی اخلاقی بنیاد کے طور پر سمجھاتے ہیں۔ اس ادھ
Adhyaya 196
Description of the City of Dharmarāja (Yama)
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی پس منظر میں یہ ادھیائے سلسلہ وار روایت کے ذریعے بیان ہوتا ہے: ویشمپاین رشیوں کی مجلس کو سناتے ہیں
Adhyaya 197
The Division of the Gates of Yama’s City and the Description of the Tribunal Hall
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی فریم میں یہ باب کرموں کے فیصلے کو اخلاقی ضبط اور زمینی نگہبانی کی تعلیم کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یم
Adhyaya 198
Description of the Torments within the Cycle of Rebirth: Hymn to Yama and the Introduction to Citragupta’s Administration
وراہا–پرتھوی کے تعلیمی پس منظر میں یہ ادھیائے ایک رشی کے بیٹے کی روداد پیش کرتا ہے جو پریت پور کے حاکم یم سے ملاقات کرتا
Adhyaya 199
Description of the Torments of Rebirth: The Asipatravana Punishment and the Mechanics of Karmic Retribution
اس ادھیائے میں وراہ–پرتھوی کے مکالمے کے پس منظر میں مضر اعمال کے بعد ہونے والی یاتناؤں (سزاؤں) کی تعلیمی فہرست بیان کی گ
Adhyaya 200
Description of the Forms of Infernal Torments (Naraka Yātanās)
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی مکالمے میں یہ ادھیائے اخلاقی تنبیہ ہے، جو مضر اعمال کے نتیجے میں نرک کی تجرباتی “جغرافیہ” بیان کرت
Adhyaya 201
The Battle between the Rākṣasas and Yama’s Attendant-Messengers
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی پس منظر میں یہ باب کائناتی نظم و نسق اور اخلاقی قانون کے نفاذ کی مثال پیش کرتا ہے۔ یم کے قاصد مختل
Adhyaya 202
Description of Infernal Punishments and the Ripening of Karmic Consequences
اس ادھیائے میں کرم وِپاک کی تعلیم نرک کے نظم و نسق کی روایت کے ذریعے دی گئی ہے، جہاں ورَاہ بھگوان پرتھوی کی اخلاقی ترتیب
Adhyaya 203
Enumeration and Description of Classes of Sins and Their Consequences
وراہ کے پرتھوی کو دیے گئے پُرانک وعظی اسلوب میں یہ ادھیائے پاپ (مضر اعمال) کی درجہ بند فہرست اور ان کے کرم پھل بیان کرتا
Adhyaya 204
Description of the Dispatching of Messengers (Yama’s Envoys) and Chitragupta’s Orders
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی پس منظر میں یہ ادھیائے ایک رِشی کی زبانی چترگپت کے احکامات کی رپورٹ کے طور پر بیان ہوتا ہے، جس میں
Adhyaya 205
Description of the Proclamation of Auspicious and Inauspicious Karmic Results
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی پس منظر میں یہ ادھیائے ایک رِشی کے بیٹے کی روایت کے ذریعے یم اور چترگپت کے ہاتھوں انسانی اعمال کے
Adhyaya 206
Section on the Manifestation of the Fruits of Auspicious Deeds
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی پس منظر میں یہ ادھیائے ایک رِشی کی رپورٹ کے طور پر آتا ہے، جس میں چترگپت کے پیغام کے ذریعے مرنے کے
Adhyaya 207
Section on the ‘Person’ who Entices Beings within the Cycle of Rebirth
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی سلسلے میں یہ ادھیائے ایک نصیحت آموز ذیلی مکالمہ پیش کرتا ہے: رِشی پُتر نارد سے سنی ہوئی بات بیان ک
Adhyaya 208
Narration of the Exemplum of the Pativratā (Devoted Wife)
وراہ–پرتھوی کے مکالمے کے ضمن میں یہ ادھیائے دھرم کی تعلیم کے لیے پتی ورتا (وفادار بیوی) کی مثال بیان کرتا ہے۔ یم (دھرم ر
Adhyaya 209
Description of the Greatness of the Pativratā (Marital Fidelity and Ethical Devotion)
وراہ پران کے تعلیمی اسلوب میں (وراہ–پرتھوی کے پس منظر کے ساتھ) اس ادھیائے میں ایک ضمنی مکالمہ آتا ہے جہاں نارَد یم سے پو
Adhyaya 210
Inquiry into Moral Agency (Karma) and Practical Means for the Dissolution of Sin: the Śiśumāra Contemplation
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی سیاق میں یہ ادھیائے مکالمہ ہے، جہاں نارَد یم سے پوچھتا ہے کہ ریاضت کے باوجود دکھ کیوں باقی رہتا ہے
Adhyaya 211
Methods for the Removal of Sin and the Eulogy of Prabodhinī Ekādaśī/Dvādaśī
باب کا آغاز نارَد کے دھرم راج یم سے خطاب سے ہوتا ہے؛ نارَد یم کی ہمہ گیر غیر جانب داری کے پیشِ نظر شُودر سمیت سب کے لیے
Adhyaya 212
An Awakening Description within the Allegory of the Wheel of Saṃsāra
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی پس منظر میں یہ ادھیائے سابقہ “سنسار چکر” کی تمثیلی دھرم کتھا کے بعد کا حصہ ہے۔ نارَد راجہ کی اس با
Adhyaya 213
The Glory of Gokarṇeśvara: Nandin’s Austerities and Śiva’s Boons
وراہ پران کے مکالماتی انداز میں وراہ، پرتھوی کو تعلیم دیتا ہے۔ ضمنی مکالمے میں سنَتکُمار برہما سے شمالی و جنوبی گوکرن، ک
Adhyaya 214
The Glory of Gokarṇa: Description of Nandikeśvara’s Boon and the Assembly of Deities on Mount Muñjavat
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی فریم میں یہ ادھیائے تیرتھ-ماہاتمیہ کی کہانی پیش کرتا ہے کہ کیسے الٰہی ور اور مقدس جغرافیہ سماجی نظ
Adhyaya 215
Description of the Māhātmya of Gokarṇeśvara and Jaleśvara (Śaileśvara) in the Śleṣmātaka Forest
وراہ–پرتھوی کے تعلیمی مکالمے میں یہ ادھیائے شلیشماتک جنگل میں گوکرنیشور اور جلیشور (شیلشور) کے تیرتھ-ماہاتمیہ کی روایت پ
Adhyaya 216
The Sacred Account of Gokarṇa, Śṛṅgeśvara, and Related Tīrthas
واراہ–پرتھوی کے تعلیمی پس منظر میں یہ ادھیائے گوکرن اور شرِنگیشور کے گرد مقدّس خطّے کی پیدائش و معنویت بیان کرتا ہے۔ ضمن
Adhyaya 217
Eulogy of the Merits (Phalaśruti) of the Dharāṇī–Varāha Dialogue
یہ ادھیائے دھارَنی–وراہ سمवाद کی رسمی پھل شروتی ہے۔ اس کے سننے، پڑھنے اور محفوظ رکھنے سے اخلاقی تطہیر، عوامی فلاح، خوش ح
Adhyaya 218
Index of Topics and Reading Protocols (Anukramaṇikā Chapter)
یہ ادھیائے ایک انُکرمنِکا (منظم فہرستِ مضامین) کے طور پر وراہ پران کے بڑے بیانیہ اور تعلیمی حصّوں کا خلاصہ و اشاریہ پیش
The chapter frames an Earth-centered ethic through narrative: Pṛthivī’s rescue becomes the basis for asking how the world is created, stabilized, and protected. The text positions terrestrial preservation (bhū-uddhāra and ongoing safeguarding) as a central cosmological concern, expressed through praise, inquiry, and protective recitation directed to Viṣṇu/Varāha.
No explicit tithi, lunar month, vrata timing, or seasonal markers appear in this adhyāya. The temporal framework is instead kalpa-based recurrence (“kalpe kalpe”), emphasizing cyclical cosmic time rather than ritual calendrics.
Terrestrial balance is encoded through the motif of Earth’s destabilization and recovery: Pṛthivī is carried toward rasātala and restored from the mahārṇava by Varāha. The subsequent protective stuti and body-guarding invocations function as a literary model for safeguarding the integrity of the world-body (Earth) within a broader cosmological order.
The chapter references avatāra-linked figures and antagonists as cultural memory rather than genealogical lists: Hiraṇyakaśipu, Bali (bound by Vāmana), Jāmadagnya Rāma (Paraśurāma), and Rāvaṇa. It also includes cosmological personnel: Śeṣa (supporting Viṣṇu) and Brahmā (four-faced, lotus-born from the navel).
The text foregrounds a cosmological pedagogy: correct knowledge of creation (sarga) and its ordered taxonomies is presented as foundational to understanding dharma and sustaining the intelligibility of the world. By casting Pṛthivī as ‘bhūta-dhātrī’ and by linking knowledge-loss/restoration (through Sāvitrī and the Vedas) to cosmic order, the chapter implicitly treats the maintenance of terrestrial balance as dependent on disciplined cognition, lineage memory, and orderly social-cosmic roles.
The chapter uses cosmological chronology rather than ritual calendrics: it references kalpa transitions (end of a prior kalpa and awakening at the start of a new cycle), and it introduces the caturyuga sequence (kṛta, tretā, dvāpara, kali). No tithi, nakṣatra, māsa, or seasonal observances are specified in the provided passage.
Environmental balance is encoded through cosmogony: Pṛthivī is explicitly described as bhūta-dhātrī (support of beings), and creation proceeds through graded differentiation (elements, guṇas, and sarga classes). The narrative’s emphasis on ordered emergence (rather than chaos) frames ‘Earth-sustenance’ as a function of correct cosmic sequencing and knowledge continuity—reinforced by the Śvetadvīpa episode where Vedic knowledge is lost and restored, symbolizing the recovery of an ordering principle that stabilizes worldly life.
The text references Svāyambhuva Manu and early royal figures Priyavrata and Uttānapāda, situating cosmogony alongside genealogy. It lists major sages/Prajāpatis (Sanaka and related Kumāras; Marīci, Atri, Aṅgiras, Pulaha, Kratu, Pulastya, Pracetā, Bhṛgu, Nārada, Vasiṣṭha) and introduces Dakṣa as a progenitor whose daughters generate classes of beings (devas, dānavas, gandharvas, uragas, and birds). Rudra is described as arising from Brahmā’s anger and differentiated into multiple forms (eleven Rudras).
The text advances renunciation and disciplined devotion (tapas with Nārāyaṇa-japa) as a means to transcend social dualities and reorient conduct toward restraint, continuity of learning, and service across cosmic cycles; it culminates in an explicit injunction to become viṣṇu-parāyaṇa (Viṣṇu-centered in life-practice).
No lunar tithi, vrata-calendar, or seasonal observance is specified. The chapter instead uses cosmic time markers: “brahmaṇaḥ yuga-sahasram” (a thousand yugas of Brahmā) and the creative ‘day’ of Brahmā (dinādi), placing Nārada’s rebirth within cyclical creation (sṛṣṭi) rather than ritual calendrics.