Vastu-Pratishtha & Isana-kalpa
VastuTemplePratishthaArchitecture

Vastu-Pratishtha & Isana-kalpa

Temple Architecture & Sacred Installation

Detailed prescriptions for temple construction (vastu-shastra), deity installation (pratishtha), and the Isana-kalpa rituals for sanctification.

Adhyayas in Vastu-Pratishtha & Isana-kalpa

Adhyaya 43

Chapter 43 — प्रासाददेवतास्थापनम् (Installation of Deities in a Temple)

بھگوان اگنی بیان کرتے ہیں کہ درست دیوتا-ستھاپنا اور پرتِما-سنسکار کے ذریعے ہی مندر رسمًا کارآمد ہوتا ہے۔ پنچایتن منطق میں مرکز میں واسودیو/نارائن، اور سمتوں میں دیوتاؤں کی ترتیب—آگنیہ میں وامن، نَیٖرِتی میں نِرہری، وایویہ میں ہَیگریو، ایشان میں وراہ؛ نیز نوَدھام، لوکپال-گرہ-دشावतار مجموعے اور تیرہ مزاروں کا نمونہ (مرکز میں وِشورُوپ-ہری) جیسے متبادل نقشے بھی مذکور ہیں۔ پھر پرتِما-لکشَن: مٹی، لکڑی، دھات، جواہر، پتھر، خوشبودار مادّے، پھول وغیرہ سے مورتی بن سکتی ہے، اور بروقت پوجا سے مطلوبہ پھل ملتا ہے۔ شِلا کے انتخاب میں ورن کے مطابق رنگ و علامات، اور عمدہ پتھر نہ ملے تو سِنگھ-وِدیا کے ذریعے تدارک/متبادل کا حکم۔ آخر میں تراش سے پہلے کے سنسکار—جنگل سے حصول، وْرجَیاغ، بَلی، اوزار-پوجن، اَستر-منتر سے چھڑکاؤ، نرسِمْہ حفاظت، پُورن آہُتی، بھوت-بَلی، مقامی ہستیوں کی تسکین/نکاسی، خواب-منتر سے تشخیص، کاریگر کا وشنو/وشوکرما-بھاو، اور پتھر کے ٹکڑے کو کارگاہ میں لے جا کر رسمًا تعظیم—بیان کیے گئے ہیں۔

28 verses

Adhyaya 44

Vāsudevādi-pratimā-lakṣaṇa-vidhiḥ (Iconographic and Iconometric Procedure for Vāsudeva and the Vyūha Forms)

اس باب میں شانتی کرم کے بعد واسو دیو اور ویوہ روپوں کی پرتیما-لکشَن (مجسمہ شناسی) اور پیمائش کی بھکتی بھری مگر فنی تعلیم دی گئی ہے۔ حکم ہے کہ مندر کے شمالی حصے میں مورتی نصب ہو اور رخ مشرق یا شمال کی طرف ہو، تاکہ واستو-دھرم کے مطابق مقام متعین رہے۔ نصب اور بلی/نذر کے بعد مرکز نشان زدہ تختی کو نو حصوں میں بانٹ کر سوانگُل، گولک/کالنیترا اور تال-پرمان کے ذریعے پیمانے مقرر کیے جاتے ہیں۔ تاج، چہرہ، گردن، سینہ، پیٹ، ران، پنڈلی، پاؤں اور آنکھ، بھنویں، ناک، کان، ہونٹ، سر کا گھیر، بازو و کہنی، ہتھیلی، انگلیوں کے جوڑ، کمر اور ٹانگوں کے گھیر تک باریک تناسب بیان ہیں۔ زیورات کے قواعد، ہالہ و پیٹھ (چبوترہ) کی علامتیں، اور نشانات—دائیں چکر و پدم، بائیں شنکھ و گدا—کے ساتھ شری، پُشتی، ودیادھر وغیرہ خدام بھی مذکور ہیں۔ یوں یہ باب درست پوجا کے لیے مکمل آئیکونومیٹرک نقشہ فراہم کرتا ہے۔

49 verses

Adhyaya 45

Chapter 45 — Piṇḍikā-Lakṣaṇa (Characteristics and Measurements of the Pedestal/Plinth)

بھگوان اگنی پِنڈِکا-لَکشَṇ کا فنی مگر رسم و رواج سے وابستہ بیان کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ پِنڈِکا کی لمبائی مورتی کے برابر، اونچائی مورتی کی نصف، اور تعمیر 64 پُٹ/تہوں میں مقرر ہے۔ پھر مخصوص خالی پٹّیاں/لکیریں چھوڑنے، کوشٹھک (خانہ) بنانے اور اس کی تطہیر، اور دونوں جانب یکسانیت رکھنے کی ہدایت ہے—پاکیزگی، ہمواری اور ناپ تول کے ساتھ تقسیم سے واسو-شُبھتا اور پائیداری حاصل ہوتی ہے۔ بعد ازاں یَو، گول، اَمش، کَلا، تال، اَنگُل وغیرہ پیمانوں سے چہرے اور جسمانی چوڑائیوں کے تناسب بتا کر نتیجے کو لکشمی کی عنایت سے جوڑا گیا ہے۔ آخر میں دولت کی تجسیم، چامَر بردار خادمائیں، گَروڑ اور چکر وغیرہ علامات کے ساتھ پِنڈِکا-مورتی-پریوار کو ایشان-کلپ میں پرتِشٹھا کے لائق ایک مقدس مجموعہ قرار دیا گیا ہے۔

15 verses

Adhyaya 46

Chapter 46 — शालग्रामादिमूर्तिलक्षणकथनं (Exposition of the Characteristics of Śālagrāma and Other Sacred Forms)

واستو–پرتِشٹھا اور ایشان-کلپ کے تسلسل میں اس باب میں بھگوان اگنی شالگرام وغیرہ مقدّس شِلا-مورتیوں کے پرتِما-لکشَن بیان کرتے ہیں۔ اِنہیں بھُکتی-مُکتی-پردا کہہ کر، مورتی کی شناخت کو عبادت اور موکش کی سمت رغبت کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ واسودیو، سنکرشن، پردیومن، انیردھ، نارائن، وِشنو، نرسِمھ، وراہ، کورم، ہَیگریو، ویکُنٹھ، متسیہ، شری دھر، وامن، تری وِکرم، اننت، سُدرشن، لکشمی-نارائن، اچیوت، جناردن، پُروشوتم وغیرہ کی تعیین چکر کی تعداد، رنگ، ریکھا، بِندو، چھِدر/شُشِر، آوَرت اور گدا-آکرتی جیسے ظاہری نشانات سے کی جاتی ہے۔ درست لکشَن-شناسی سے درست پوجا، پرتِشٹھا اور پاکیزہ آچار ممکن ہوتا ہے، اور مادّی مقدّس وسیلہ دھارمک نیت کے مطابق قائم رہتا ہے۔

13 verses

Adhyaya 47

Chapter 47 — शालग्रामादिपूजाकथनं (Teaching the Worship of Śālagrāma and Related Sacred Forms)

اس باب میں بھگوان اگنی شالگرام اور ہری کے چکر سے مُہر شدہ روپوں کی پوجا کا منظم علم بیان کرتے ہیں۔ پوجا کو کامیہ (خواہش پر مبنی)، اکامیہ (بے خواہش/فرضی) اور اُبھیاطمِکا (مخلوط) اقسام میں بانٹ کر مینا وغیرہ روپ-طبقات کو مخصوص نتائج سے جوڑتے ہیں؛ چکر میں لطیف بندو (نقطہ) کی علامت بتاتے ہیں اور وراہ، نرسِمہ، وامن سے وابستہ موکش-مقصد عبادت کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔ پھر طریقۂ کار میں منڈل کی بناوٹ (چوکور کے اندر چکرابج؛ بعد میں سولہ-آرا اور آٹھ-پتّی ڈیزائن)، ہردے میں پرنَو کی پرتِشٹھا، ہاتھ و بدن پر شڈنگ نیاس اور مُدراؤں کی ترتیب بیان ہوتی ہے۔ دِشاپوجا میں حفاظتی دائرہ کے طور پر گرو، گن، دھاتṛ، ودھاتṛ/کرتṛ/ہرتṛ، وِشوکسین اور کھیترپال کی پوجا؛ نیز ویدک سہارے، آدھار-اننتک، بھو، پیٹھ، پدم کی کونیاتی تہیں اور سورج-چندر-اگنی منڈل قائم کرنے کا ودھان ہے۔ وِشوکسین/چکر/کھیترپال کی پیشگی تعظیم کے بغیر شالگرام پوجا ‘بے ثمر’ کہی گئی ہے—آگمی درستگی اور باطنی بھاؤ ہی سدھی اور دھارمک اثر پذیری کی بنیاد ہیں۔

13 verses

Adhyaya 48

Chapter 48 — Account of the Hymn to the Twenty-Four Forms (Caturviṁśati-mūrti-stotra-kathana)

واستو-پرتشٹھا اور ایشان-کلپ کے پس منظر میں بھگوان اگنی کیشو، نارائن وغیرہ وشنو کے چوبیس ویشنو روپوں کا بیان کرتے ہیں۔ ہر روپ کی پہچان پدم (کنول)، شنکھ، چکر اور گدا کی مقررہ ترتیب سے کی گئی ہے؛ بعض مقامات پر شارنگ دھَنُش اور کومودکی کا ذکر بھی آتا ہے۔ یہ باب پرتیما-لکشَن کا عملی رہنما اور پوجا، پردکشنا اور حفاظتی جپ کے لیے قابلِ تلاوت ستوتر ہے۔ پھر ویوہ نظریہ (واسودیو→سنکرشن→پردیومن→انِرُدھ) کے مطابق منتر-جپ کو کائناتی ظہور کے سلسلے سے جوڑا گیا ہے۔ آخر میں اسے دوادشاکشر منتر سے وابستہ چتروِمشتی-مورتی ستوتر بتا کر کہا گیا ہے کہ اس کی تلاوت یا سماعت سے تطہیر اور ہمہ گیر کامیابی حاصل ہوتی ہے، اور بھُکتی (حفاظت و آسودگی) اور مُکتی دونوں نصیب ہوتی ہیں۔

14 verses

Adhyaya 49

Chapter 49 — मत्स्यादिलक्षणवर्णनम् (Description of the Characteristics of Matsya and the Other Incarnations)

اس باب میں بھگوان اگنی، واستو-پرتِشٹھا اور ایشان-کلپ کے سیاق میں، دَشावतار اور دیگر ویشنو روپوں کی مُرتیوں کے پرتِما-لکشَن (قانونی شناختی اوصاف) کو شاستری انداز میں مگر بھکتی سے بھرپور لہجے میں بیان کرتے ہیں۔ متسیہ اور کُورم کے جسمانی نوع، وراہ کی پرتھوی-اُدھّرن مُدرا، کْشما/دھرا، اننت اور شری کے ساتھ پریوار، نیز راجیہ-لابھ اور سنسار-ترن کے پھل مذکور ہیں۔ نرسِمْہ کی اُگْر ڈرامائی بھنگی اور معیاری چتُربھُج چِہن-روپ، وامن اور رام/بلرام کی متعدد ترتیبیں ہتھیاروں کی جگہ بندی کے اصول سے بتائی گئی ہیں۔ بدھ کا پُرسکون مزاج و لباس، اور کلکی کا حلیہ، جلال اور یُگانت کاری کردار بیان ہوا ہے۔ پھر واسودیوادی نو-ویوہ اور متعلقہ روپ—برہما، گڑُڑارُوڑھ وشنو، وِشورُوپ، اَشْوَشِر ہری (ہَیگریو سَدرِش)، دتّاتریہ، وِشْوَکْسین—کو پاتھ-بھید کے ساتھ ذکر کر کے روایت کی صحت اور رسمِ عبادت میں افادیت دونوں دکھائی گئی ہیں۔

27 verses

Adhyaya 50

Chapter 50 — देवीप्रतिमालक्षणकथनं (Devi-Pratimā-Lakṣaṇa: Characteristics of the Goddess Image)

اگنی دیو عام پرتیما-لکشَن سے آگے بڑھ کر واستو–پرتِشٹھا اور ایشان-کلپ کے دائرے میں دیوی کی مورتی کے فنی اوصاف بیان کرتے ہیں۔ چنڈی/درگا کے لیے اسلحہ/آیُدھ کے مجموعے اور بازوؤں کی تعداد—بیس، اٹھارہ، سولہ، دس اور آٹھ بازوؤں والے روپ—متعین کیے گئے ہیں، اور نوپدم (نو کنول) منڈل میں تتّو-ترتیب کے مطابق نیاس/استھاپن کے مقامات بتائے گئے ہیں۔ پھر رودرچنڈا وغیرہ اُگر روپوں کے نام، رنگوں کی قسمیں، چال/گتی کے بھید، پرتِشٹھا کے مقاصد (اولاد، خوشحالی وغیرہ) اور لکشمی، سرسوتی، گنگا (جاہنوی)، یمنا، ماترکا جیسی شکتیوں سمیت معاون دیوی-دیوتاؤں کا ذکر آتا ہے۔ وِنایک کے پیمانے—خاص طور پر سونڈ کی لمبائی انگُلوں میں اور کلا/ناڑی کے مانات—اور اسکند وغیرہ کے روپ-لکشَن بھی شامل ہیں۔ آخر میں چامُنڈا کی قسمیں، بھَیروی، امباشٹک، گھَنٹاکرن وغیرہ محافظ دیوتا اور گنوں کو جوڑ کر بتایا گیا ہے کہ درست روپ-تعیّن سے حفاظت، سِدھی اور صحیح پرتِشٹھا کے نتائج حاصل ہوتے ہیں۔

42 verses

Adhyaya 51

अध्याय ५१: सूर्यादिप्रतिमालक्षणम् (Characteristics of the Images of Sūrya and Others)

دیوی-پرتیما کے لक्षणوں کے بعد بھگوان اگنی سورَیَ اور اس سے وابستہ دیوی ترتیب (آورَن/مندر-پرتِشٹھا) بیان کرتے ہیں۔ پہلے سورَیَ کی شاستری رتھ-صورت مقرر ہے—سات گھوڑے، ایک پہیہ، کنول کے نشان اور معاون آلات؛ دروازہ/پہلو کے خادموں میں ڈنڈ دھاری پِنگل، چامر بردار خادم، اور ‘نِشپربھا’ کہی گئی سَہچری۔ ایک متبادل میں سورَیَ کو گھوڑے پر سوار، وردا مُدرَا کے ساتھ اور کنول تھامے دکھانے کی ہدایت ہے۔ پھر دِکپال اور اُپدِک دیوتاؤں کو مخصوص کنول کی پنکھڑیوں کی بناوٹ پر ترتیب سے بٹھانے اور ان کے ہتھیار/علامات بتائے گئے ہیں۔ سورَیَ کے نام و اَشکال، راشی/ماہ کے مقامات اور رنگوں کی اقسام کو منتر/نیاس کی منطق کے ساتھ صورت میں جوڑا گیا ہے۔ آگے چندر سے کیتو تک نوگرہ کی پرتیمائیں، ناگوں کی فہرستیں، اور کِنّر، ودیادھر، پِشाच، ویتال، کْشیتْرپال، پریت وغیرہ سرحدی محافظ ہستیاں بیان ہو کر مقدس فضا کی تکمیل دکھائی گئی ہے۔

17 verses

Adhyaya 52

Chapter 52: देवीप्रतिमालक्षणं (Devī-pratimā-lakṣaṇa) — Characteristics of Goddess Images

سلسلۂ پرتیما-لکشَṇ میں اس باب میں بھگوان اگنی یوگنی-گروہوں کی منظم توضیح بیان کرتے ہیں—آئندری مجموعہ سے آغاز کر کے شانتَا (تسکین/شمن کرنے والا) مجموعہ تک ‘اَشٹاشٹک’ (آٹھ اور آٹھ) ترتیب۔ اس کے بعد متعدد یوگنی/دیوی نام اور شکتی-نام شمار کیے جاتے ہیں، اور اسلحہ و شبیہاتی جزئیات میں مخطوطاتی/پাঠی اختلافات کی روایت بھی محفوظ رہتی ہے۔ ناموں کے بعد ہدایات—معاون دیویوں کو چار یا آٹھ بازوؤں کے ساتھ، مطلوبہ ہتھیار تھامے اور سِدھیاں عطا کرنے والی دکھایا جائے۔ بھیرَو کی شبیہ نگاری تفصیل سے—ہیبت ناک انداز، جٹاؤں میں قمری نشان، اور تلوار، اَنگُش، کلہاڑا، کمان، ترشول، کھٹوانگ، پاش وغیرہ کے جامع اسلحہ کے ساتھ وردا (عطا) مُدرَا۔ پھر اوِلوَم (الٹی) ترتیب سے اگنی تک وِنیاس، منتر کی تقسیم اور شَڈَنگ (چھ اَنگ) نیاس کی تعلیم دی جاتی ہے۔ آخر میں ویر بھدر، گوری/للِتا اور شیر سوار چنڈِکا—جو ترشول سے مہیش (بھینسے) کو گراتی ہے—ان کے مخصوص پرتیما نمونے دے کر عقیدہ، شلپ اور پرتِشٹھا-ودھی کو ایک ہی آگمک خاکے میں یکجا کیا گیا ہے۔

16 verses

Adhyaya 53

Chapter 53 — Liṅga-lakṣaṇa (Characteristics and Proportions of the Śiva-liṅga and Piṇḍikā)

اس باب میں بھگوان کمَل-جَنمے برہما کو واستو-پرتشٹھا اور ایشان-کلپ کے تحت شِو-لِنگ اور اس کی پِنڈِکا/پیٹھ کی تیاری کے لیے درکار مان، ریکھا اور وِبھاغ کی فنی و آگمی ہدایات دیتے ہیں۔ لمبائی اور چوڑائی کو مقررہ حصّوں میں بانٹ کر مرحلہ وار صورت گری بیان ہوتی ہے—چوکور بنیاد سے 8، 16، 32، 64 زاویوں والی تراشیدہ شکلوں کے ذریعے آخرکار کامل دائرہ نما صورت تک۔ لِنگ کے شِیرش کی چھتری جیسی خم دار لکیر، اونچائی و قطر کا تناسب، اور مدھیہ-سوتر پر برہما و رُدر سے وابستہ حصّوں کی تقسیم بھی متعین کی گئی ہے۔ عمومی لक्षणوں کے بعد پیٹھ کی بلندی، مرکزی کھاتا (گڑھا)، میکھلا-بند، وِکارانگ تزئینی اجزاء، اور شمال کی سمت پرنالہ (پانی کے اخراج) کی تنصیب کا عام ضابطہ آتا ہے؛ مخطوطاتی اختلافات کا اشارہ بھی ملتا ہے۔ یوں یہ باب دقیق تعمیراتی علم کو دھارمک عمل کے طور پر پیش کر کے مستحکم پوجا اور مقدّس حضور کی بنیاد رکھتا ہے۔

22 verses

Adhyaya 54

Liṅga-māna-ādi-kathana (Measurements and Related Particulars of the Liṅga)

اگنی دیو پرتِشٹھا سے متعلق تعلیم میں عام لِنگ-لکشَن سے آگے بڑھ کر درویہ (مواد)، مان (پیمائش) اور ودھی (طریقۂ کار) کا فنی ضابطہ بیان کرتے ہیں۔ کپڑے اور مٹی کے لِنگ (پکی/بھٹی میں پکی مٹی افضل) سے لے کر لکڑی، پتھر، دھاتوں اور قیمتی ذریعوں (موتی، لوہا، سونا؛ نیز چاندی، تانبا، پیتل، ٹِن اور رس-لِنگ) تک مواد کی درجہ بندی دی گئی ہے اور بعض مواد کو بھُکتی–مُکتی کے پھل سے جوڑا گیا ہے۔ پھر نصب کرنے کی جگہ کی منطق اور پیمائش کا نظام آتا ہے—گھریلو لِنگ 1–5 اَنگُل، جبکہ مندر میں دروازے اور گربھ گِرہ کے تناسب سے مان مقرر ہوتے ہیں؛ 36×3 پیمائشی اقسام اور ان کے امتزاج سے 108 کا مان-تنتر۔ چل (قابلِ حمل) لِنگ 1–5، 6–10، 11–15 اَنگُل طبقات میں، سُوتر (رسی/راہنما لکیر) کے نظام اور ہستہ-بنیاد توسیعات کا ذکر بھی ہے۔ آخر میں شبیہہ-پیمائی کی ہندسہ، باقی اَنگُل سے شگون-نِرنَے، دھوج/سنگھ/ورِش طبقات، سُوَر کی شُبھتا، ساختی صورتیں، برہما–وشنو–شیو کی تقسیمِ تَتّو، اور مُکھ-لِنگ و شِرو-بھید میں چہرے کے اجزاء اور ابھاروں کی پیمائشیں بیان کی گئی ہیں۔

48 verses

Adhyaya 55

Chapter 55 — Piṇḍikā-lakṣaṇa-kathana (Defining Features of the Pedestal/Base for Icons)

وَاستُو–پرتِشٹھا اور ایشان-کلپ کے سلسلے میں اگنی دیو پچھلے باب کے ظاہر/غیر ظاہر (وَیَکت–اَوَیَکت) مباحث کے بعد اب مُرتی-نصب کے دقیق شِلپ-قواعد بیان کرتے ہیں۔ وہ پِنڈِکا (آدھار/پیٹھ) کی تعریف تناسبی اصولوں سے کرتے ہیں: لمبائی مُرتی کے پیمانے کے مطابق، جبکہ چوڑائی اور مِکھلا (کمر بند/پٹّی) وغیرہ کسراتی مقداروں سے۔ پھر بنیاد کے گڑھے کے ابعاد، شمال کی طرف ہلکی ڈھلان، اور پرانالا (پانی کے نکاس کی نالی/ٹونٹی) کے خروج-مقام کی ہدایت دیتے ہیں، تاکہ آبی نظم کے ذریعے طہارت محفوظ رہے۔ باب میں سولہ حصّوں (شودشांश) کی اسکیم سے اونچائی کی تہہ بندی اور نچلے، درمیانی اور گردن والے حصّوں کی جز بندی بھی معیار بنائی گئی ہے۔ یہ ضابطے ‘عام’ مُرتیوں پر بھی لاگو ہیں؛ مزار/گربھ گِرہ کے دروازے کا تناسب مندر کے دروازے کے پیمانے سے جوڑا گیا ہے؛ اور مُرتی کی پربھا میں گج اور ویالک نقش و نگار مقرر ہیں۔ آخر میں پیمائش کا عمومی قاعدہ دیا گیا ہے: پُرش دیوتا ہری/وشنو کے مان پر، اور دیویاں لکشمی کے مان پر—تاکہ شوبھا (حُسنِ تناسب) کو دھارمک ضرورت کے طور پر قائم رکھا جائے۔

9 verses

Adhyaya 56

Chapter 56 — दिक्पालयागकथनम् (Account of the Worship of the Guardians of the Directions)

بھگوان پرتیِشٹھا-پنچک کو مابعدالطبیعی تثلیث کے طور پر بیان کرتے ہیں—پرتیما پُرُش سے پرانیت ہوتی ہے، پِنڈِکا پرکرتی کے مطابق ہے، اور لکشمی پرتیِشٹھا-کرم کی استحکام بخشنے والی شکتی ہے؛ ان کے اتصال کو ‘یوگک’ کہا گیا ہے۔ اِشٹ پھل کی کامنا سے یَگّہ شروع ہو کر واسوُتو و معمارانہ مقدمات سے گزرتا ہے—گربھ سُوتر محور کھینچنا، منڈپ کی اقسام و پیمائش، سْنان اور کلش کے کاموں کی ترتیب، اور یَگّہ درویوں کی تیاری۔ ویدی کو ایک تہائی/نصف پیمانے سے بنا کر کلش، گھٹیکا اور چھتر وغیرہ سے آراستہ کیا جاتا ہے؛ تمام مواد پنچگَوْیَ سے پاک کیے جاتے ہیں۔ گرو وشنو دھیان کے ساتھ خود کو یَگّہ کا آدھار مان کر آتم پوجا کرتا ہے، اور ہر کُنڈ میں اہل مُورتِپاش نصب کیے جاتے ہیں۔ سمتوں کے مطابق تورن-ستھمبھ کے لیے لکڑی متعین، “سیونَا پرتھوی” منتر پوجا، ستونوں کی جڑ میں اَنکُر، سُدرشن نشان، دھوج کی تفصیل اور کثیر کلش-ستھاپن کا بیان ہے۔ آخر میں کلشوں میں دِکپالوں کا آواہن کر کے ترتیب سے پوجا—مشرق میں اندر، آگنیہ میں اگنی، جنوب میں یم، نَیرِتّیہ میں نَیرِت، مغرب میں ورُن، وایویہ میں وایو، شمال میں سوم/کُبیر، ایشان میں ایشان؛ اوپر برہما اور نیچے اننت—ہر ایک کو اپنے دروازے اور سمت کی حفاظت پر مامور کر کے یَگّہ-کشیتر کو محفوظ کائناتی منڈل بنا دیا جاتا ہے۔

31 verses

Adhyaya 57

Chapter 57 — कुम्भाधिवासविधिः (Kumbhādhivāsa-vidhi: Rite of Installing/Consecrating the Ritual Jar)

بھگوان اگنی واستو-پرتشٹھا میں ابھیشیک کے لیے استعمال ہونے والے کلش(وں) کی تنصیب و کُمبھادھیواس کی مرحلہ وار آگمک विधی بیان کرتے ہیں۔ ابتدا میں بھومی-پریگرہ (زمین کا رسمًا اختیار)، حفاظت کے لیے چاول اور سرسوں کا چھڑکاؤ، نرسِمھ منتر سے راکشوگھن شُدھی اور پنچگَوْیہ کا پروکشن کیا جاتا ہے۔ پھر زمین سے لے کر کُمبھ تک پوجا، ہری کے اَنگ-اُپچار، اور معاون برتنوں کی اَستر منتر سے سنسکار؛ اَچھِنّ دھارا اور پرِکرما کے ذریعے ابھیشیک کا بہاؤ مسلسل رکھا جاتا ہے۔ منڈل میں “یوگے یوگے” منتر سے شَیّیا کی स्थापना، سْنان منڈپ میں سمتوں کے مطابق وِشنو روپوں کی تعیین اور ایشان کے لیے خاص جگہ مقرر کی جاتی ہے۔ سْنان و اَنولےپن کے لیے متعدد کُمبھ نصب کیے جاتے ہیں؛ پتے، لکڑی، مٹی، جڑی بوٹیاں، اناج، دھاتیں، جواہرات، پانی اور دیے وغیرہ کا مفصل سامان سمتوں کے مطابق رکھ کر اَرگھْیہ، پادْیہ، آچمن، نِیراجن وغیرہ اُپچار انجام دیے جاتے ہیں۔ یہ باب منتر، مادّہ، جگہ اور ترتیب کی دقیق تنظیم سے دیویہ سَنّیدھی کو مستحکم کرنے والی آگنیہ وِدیا کی رسماتی انجینئرنگ دکھاتا ہے۔

26 verses

Adhyaya 58

Chapter 58 — स्नानादिविधिः (Snānādi-vidhiḥ): Rules for Ritual Bathing and Related Consecration Rites

کلشادیواس کے بعد واستو–پرتشٹھا کے سلسلے میں بھگوان اگنی سْنانادی-ودھی بیان کرتے ہیں، جس سے شلپی کی بنائی ہوئی مورتی جاگرت، شُدھ اور عوامی پوجا کے لائق بن جاتی ہے۔ آچاریہ ایشان (شمال-مشرق) میں ویشنو اگنی قائم کر کے گھنا گایتری ہوم کرتا ہے اور سمپات کے ذریعے کلشوں کا ابھیمنترن کرتا ہے۔ کارگاہ اور یجمان-منڈلی کی شُدھی، ساز و گیت، اور دائیں ہاتھ پر رکشا-کوتُک باندھنا (دیشک سمیت) ہوتا ہے۔ مورتی کی پرتیشٹھا، ستوتی اور شلپی-دوش دور کرنے کی دعا کے بعد اسے سْنان منڈپ لے جا کر منتر اور آہوتیوں سے نیتروںمیلن (آنکھیں کھولنا) کیا جاتا ہے۔ پھر ابھیانگ، اُبٹن، گرم پانی سے دھونا، پروکشن، تیرتھ/ندی جل، خوشبودار درویہ، اوشدھیاں، پنچگوَیہ وغیرہ کے ساتھ متعدد منتر-فریموں میں مفصل سْنپن؛ بہت سے کلشوں سے وشنو آواہن تک کرم پورا ہوتا ہے۔ آخر میں کوتُک موچن، مدھوپرک، پویترک کی تیاری، دھوپ-انجن-تلک-مالا اور راج چِہنادی اُپچار، شوبھا یاترا اور اشٹ منگل وِنیاس؛ یہ ہر سمیت دیگر دیوتاؤں پر بھی لاگو ہے، اور ‘نِدرا’ کلش کو سر کے حصے میں رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

34 verses

Adhyaya 59

Chapter 59 — अधिवासनकथनं (Adhivāsana: The Rite of Inviting and Stabilizing Hari’s Presence)

باب 59 میں ‘اَدھیواسَن’ کو ہری کی پرتِشٹھا کے لیے اُن کی حضوری کو آواہن کر کے مستحکم کرنے کی رسم قرار دیا گیا ہے۔ اگنی دیو پہلے باطنی سادھنا بتاتے ہیں—آچاریہ اومکار میں شعور کو جوڑ کر چِتّ کو مرکوز کرتا ہے اور لَیَ-کرم سے تَتّووں کا ادغام کرتا ہے: پرتھوی وایو میں، وایو آکاش میں، آکاش من میں، من اہنکار میں، اہنکار مہت میں اور مہت اَویَکت میں لَین ہوتا ہے؛ اَویَکت کو واسودیو-سوروپ شُدھ گیان کہا گیا ہے۔ پھر سِرشٹی-نقشہ (ویوہ/کاسمو جینیسس) کے طور پر تنماترا، گیانِندریاں، کرمِندریاں اور ستھول دےہ کی گنتی کر کے سادھک کائنات کو ‘سنسکرت دےہ’ کی طرح رسماً دوبارہ قائم کرتا ہے۔ اس کے بعد بیجاکشر سے تَتّو اور دےہ-مقامات پر منتر-نیاس، ویشنو نام-نیاس (کیشو سے دامودر تک) اور شڈنگ-نیاس کیا جاتا ہے۔ دْوادش-اَر چکر منڈل، سورَیہ-سومیہ کلاؤں اور پریوار پوجا کے بعد پرتِما میں ہری کی स्थापना، ویشنو اگنی کا پرجولن، ہوم و شانتی کرم، پویتر ندیوں کی स्थापना، برہمنوں کو بھوجن، دِکپتیوں کو بَلی اور رات بھر جاگرن کے ساتھ پویتر پاٹھ کے ذریعے ادھیواسن سے تمام کرم انگ پویتر کیے جاتے ہیں۔

57 verses

Adhyaya 60

Chapter 60 — वासुदेवप्रतिष्ठादिविधिः (Procedure for the Installation of Vāsudeva and Related Rites)

بھگوان اگنی واسودیو/ہری کی پرتیِشٹھا کا مرحلہ وار وِدھان بیان کرتے ہیں۔ گربھ گِرہ کو سات حصّوں میں بانٹ کر برہما-بھاغ میں بِمب (مورتی) قائم کی جاتی ہے اور دیو، انسان اور بھوت حصّوں کی مقررہ تقسیم کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔ پھر پِنڈِکا-ستھاپن، ضرورت ہو تو رتن-نیاس، نرسِمہ آہوتیوں سے ربط، ورن-نیاس، اور اندر آدی منتروں کے ساتھ نو سمتوں کے گڑھوں میں چاول، جواہرات، تری دھاتو، دھاتیں، چندن وغیرہ کا نِکشےپ اور گُگّلو کی حلقہ بندی کی جاتی ہے۔ کھنڈِل ہوم ویدی تیار کر کے آٹھ سمتوں میں کلش رکھے جاتے ہیں؛ اشٹاکشری منتر سے اگنی آواہن، گایتری-پرधान آہوتیاں، پُورن آہوتی اور شانتی اُدک سے دیوتا کے سر پر ابھیشیک ہوتا ہے۔ اس کے بعد برہما-یان سے بِمب کو گیت، وادّیہ اور ویدک دھونی کے ساتھ مندر لے جا کر آٹھ منگل کلشوں سے اسنان کرایا جاتا ہے، شُبھ لگن میں پیٹھ پر پرتیِشٹھت کر کے تری وِکرم نمسکار سے مستحکم کیا جاتا ہے۔ جیَو-آواہن اور سانّندھْی-کرن کے ذریعے چیتنا کا بِمب میں اترنا واضح کیا گیا ہے؛ ساتھ ہی پریوار دیوتا، دِک پال، گرُڑ، وِشوَکسین کی ستھاپنا، بھوت بلی اور دکشِنا کی نیتی بھی بیان ہے۔ آخر میں قاعدہ—مول منتر دیوتا کے مطابق بدلتے ہیں، مگر باقی طریقہ سب پرتیِشٹھاؤں میں یکساں ہے۔

35 verses

Adhyaya 61

Chapter 61 — द्वारप्रतिष्ठाध्वजारोहाणादिविधिः (Gateway Installation, Flag Hoisting, and Allied Rites)

اس باب میں مندر کی تعمیر کو زندہ رسومی قوت سے جوڑنے والے آگنیہ طریقوں کی ترتیب بیان ہوتی ہے۔ ابتدا میں اوبھرتھ اسنان کے بعد 81 مقامات پر کمبھوں کی جالی دار ترتیب سے مکمل منڈلیकरण کیا جاتا ہے، پھر ہری کی پرتِشٹھا کی بنیاد بنتی ہے۔ دروازہ (دوار) پرتِشٹھا میں آہوتی، بلی، گرو کی تعظیم، دہلیز کے نیچے سونے کا نِکشےپ اور مقررہ ہوم؛ نیز چنڈ–پرچنڈ اور شری/لکشمی کی ساختی مقامات پر स्थापना، شری سوکت کی پوجا اور دکشِنا سے سماجی-رسومی نظام مکمل ہوتا ہے۔ پھر ہرت-پرتِشٹھا میں آٹھ رتن، جڑی بوٹیاں، دھاتیں، بیج، لوہا اور پانی سے مُقدّس کمبھ؛ نرسِمھ منتر سمپات اور نارائن تتّو نیاس کے ذریعے پران روپ نِکشےپ کو حیات بخشی جاتی ہے۔ واستو کے مطابق پرساد کو پُرش (انسانِ کیہانی) سمجھ کر اعضا کی مماثلت—دروازہ منہ، شکناسہ ناک، پرنالہ زیریں مخرج، سدھا جلد، کلش بال/چوٹی۔ آخر میں دھوجاروہن: پیمانے، ایشان/وایویہ میں نصب، جھنڈے کے کپڑے و زیورات، چکر (8/12 تیلیاں) کی بناوٹ، ڈنڈ میں سوتراَتمن اور جھنڈے میں نِشکل نیاس؛ پردکشِنا، منتر، دان اور دھوج دان کی شاہانہ پُنّیہ کا بیان ہے۔

50 verses

Adhyaya 62

Chapter 62 — Lakṣmīpratiṣṭhāvidhiḥ (The Procedure for Installing Lakṣmī)

بھگوان اگنی وشیِشٹھ کو سمودایین دیوتا-پرتِشٹھا کا مربوط क्रम سکھاتے ہیں—لکشمی سے آغاز کر کے تمام دیویوں کے مجموعے تک۔ پہلے بیان کردہ منڈپ اور اسنانادی پیش کارموں کے بعد شری کو بھدراسن پر بٹھا کر آٹھ کلش قائم کیے جاتے ہیں۔ ابھیَنگ، پنچگوَیہ اسنان، نیتروन्मیلن، مدھورتریہ وغیرہ نَیویدیہ؛ نیز بعض منتر-جملوں اور مقامات میں پاتھ بھید بھی مذکور ہیں۔ سمتوں کے مطابق جدا جدا منتروں سے چھڑکاؤ کیا جاتا ہے؛ آخر میں ایشان سمت میں 81 گھڑوں کے پیمانے سے شِرَسنان کر کے جل کو زمین پر چھوڑا جاتا ہے۔ گندھ-پُشپ سنسکار، تنمیَواہ کے ذریعے تاداتمیہ، ‘آنند’ رِک کی تلاوت؛ شَیّا پر شاینتیَیہ نیاس سے استحکام، شری سوکت سے ساننِدھْی، لکشمی بیج سے چِچّھ شکتی کی بیداری، پھر کمل یا کرویر سے مقررہ تعداد میں ہوم۔ اختتام پر اوزار و مندر کا سنسکار، پِنڈِکا کی تشکیل، شری سوکت کا پد بہ پد پاٹھ، گرو/برہمن دان اور سْورگادی پھل دھیان—مبارکی اور دھرم کی دقیق وِدھی کو نمایاں کرتا ہے۔

13 verses

Adhyaya 63

Chapter 63 — सुदर्शनचक्रादिप्रतिष्ठाकथनं (Procedure for Consecrating the Sudarśana Discus and Other Divine Emblems)

اس باب میں بھگوان اگنی، وشنو-پرتِشٹھا کی روش کو وشنو سے وابستہ دیویہ صورتوں اور علامات—تارکشیہ (گرُڑ)، سُدرشن، برہما اور نرسِمْہ—تک پھیلاتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ نصب و تقدیس ‘وشنو کے طریقے پر’ ہو، مگر ہر ایک کی بیداری/پران-پرتشٹھا اس کے اپنے منتر سے ہو۔ پہلے سُدرشن کا نہایت قوی حفاظتی و جنگی منتر دیا گیا ہے؛ چکر نیکوں کے لیے شانت اور بدکاروں کے لیے ہیبت ناک ہے، دشمن ارواح و بھوت پریت کو جلا دیتا اور مخالف منتروں کو کاٹتا ہے۔ پھر ‘پاتال’ نامی مفصل نرسِمْہ-ودیا بیان ہوتی ہے جو پاتال/آسُری قوتوں کو مغلوب کر کے شک و آفت کو دور کرتی ہے۔ اس کے بعد ‘تریلوکیہ-موہن’ مورتی کی علامتیں اور ‘تریلوکیہ-موہن’ منتروں سے پرتِشٹھا—گدا بردار، دو یا چار بازو—اور چکر و پانچجنّیہ کے ساتھ، شری–پُشتی اور بل–بھدر سمیت مجموعی ترتیب مذکور ہے۔ آگے متعدد وشنو روپ/اوتار اور شیو-شاکت ہم آہنگ صورتیں—رُدر مورتی لِنگ، اردھناریشور، ہری-شنکر، ماترِکائیں—اور سورج/سیّارگان کے دیوتا مع وِنایک کی پرتِشٹھا بھی آتی ہے۔ نصفِ آخر میں خاص طور پر پُستک-پرتِشٹھا کی تفصیل: سواستک منڈل پوجا، لکھنے کے اوزار اور مخطوطے کی تعظیم، ناگری رسم الخط، قیمتی قلم/صندوقچہ کے آداب، ایشان سمت میں نشست، آئینہ درشن، چھڑکاؤ، ‘آنکھیں کھولنا’، پوروُش سوکت نیاس، سجیوی کرن، ہوم، جلوس اور تلاوت کے آغاز و اختتام پر مسلسل عبادت۔ آخر میں ودیا دان/کتاب دان کو اَکشَے پُنّیہ کہا گیا ہے؛ سرسوتی/علم کا دان اعلیٰ ترین ہے اور ورقوں و حروف کی مقدار کے مطابق ثواب کی افزائش بتا کر رسم، شبیہہ شناسی اور متنی روایت کو ایک ہی دھارمک نظام میں جوڑ دیا گیا ہے۔

21 verses

Adhyaya 64

Chapter 64 — कूपादिप्रतिष्ठाकथनं (The Account of the Consecration of Wells and Other Water-Works)

بھگوان اگنی وشیِشٹھ کو کنویں، باولی/سیڑھی دار کنواں، تالاب اور حوض وغیرہ کی ورُن-مرکوز پرتِشٹھا (تقدیس و نصب) کی وِدھی سکھاتے ہیں۔ پانی کو ہری (وشنو)، سوم اور ورُن کی زندہ حضوری مانا گیا ہے۔ ابتدا میں سونے/چاندی/جواہر کی ورُن مُورت اور اس کا دھیان-لکشَن—دو بازو، ہنس آسن، اَبھَے مُدرا اور ناگ پاش—بیان ہوتا ہے۔ پھر منڈپ، ویدی، کنڈ، تورن اور وارُن کُمبھ سمیت رسم کی تعمیراتی ترتیب آتی ہے۔ اس کے بعد آٹھ کُمبھوں کا نظام: سمتوں کے مطابق پانی کے مصادر—سمندر، گنگا، بارش، چشمہ/پرسروَن، دریا، نباتاتی ماخذ کا پانی، تیرتھ جل وغیرہ—اور عدمِ دستیابی میں متبادل قواعد اور منتر سے تقدیس۔ شُدھی، نیتروन्मیلن (آنکھیں کھولنا)، اَبھِشیک، مدھوپرک-وستر-پوتر کی نذر، اَدھیواس (رات بھر ٹھہرانا)، سجیواکَرَن؛ ساتھ ہوم کے سلسلے، دس سمتوں میں بَلی اور شانتی-توئے۔ آخر میں آبی ذخیرے کے بیچ مقررہ پیمائشوں کے ساتھ مرکزی یوپ/نشان نصب کر کے جگت-شانتی، دکشِنا، بھوجن اور بے روک ٹوک جل دان کے دھرم کی عظمت بیان کی گئی ہے، جس کا پُنّیہ بڑے یَگیوں سے بھی بڑھ کر کہا گیا ہے۔

44 verses

Adhyaya 65

Chapter 65 — सभास्थापनकथनं (Account of Establishing an Assembly-hall)

بھگوان اگنی سبھا-استھاپن کی تعلیم میں تعمیر کو رسمِی جواز سے جوڑتے ہیں—زمین کی جانچ کے بعد یجمان کو پہلے واستو-یاگ کرنا چاہیے، تاکہ مقام کائناتی نظم کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ سبھا-بھون گاؤں کے چار راستوں کے سنگم پر یا گاؤں کی سرحد پر بنایا جائے؛ سنسان جگہ پر نہیں—تاکہ شہری زندگی قابلِ رسائی اور محفوظ رہے۔ استطاعت کے مطابق تعمیر پسندیدہ ہے، مگر حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرنا دَوش (عیب) ہے؛ چتُح شالا نقشہ بے عیب و افضل ہے، جبکہ تری شالا/دوی شالا/ایک شالا کے اختیارات سمتوں کی احتیاط کے ساتھ مشروط طور پر پرکھے جاتے ہیں۔ ‘کرراشی’ کے حسابات، آٹھ حصوں میں تقسیم، گرگ شاستر کے مطابق تعبیر، اور جھنڈا، دھواں، شیر وغیرہ شگونوں کی سمت وار جانچ بھی بیان ہوئی ہے۔ آخر میں سکونت کے لیے برادری کی اجازت، سحر کے وقت جڑی بوٹیوں کے غسل سے طہارت، برہمنوں کو کھانا کھلانا، مبارک آرائشیں، اور نندا، واشِشٹھی، جیا، پورنا، بھدرا، کاشیپی، بھارگوی، اشٹکا کے ناموں سے منسوب خوشحالی منتر—دولت، لوگوں اور مویشیوں کی افزائش اور گھر و مقدس اینٹ کی کامیاب پرتِشٹھا کی دعا کرتا ہے۔

23 verses

Adhyaya 66

Chapter 66: साधारणप्रतिष्ठाविधानम् (The Procedure for General Consecration)

اس باب میں بھگوان اگنی ایک معیاری (سادھارن) پرتِشٹھا-ودھان بیان کرتے ہیں جو تمام دیوتاؤں اور مقدّس اداروں/مقامات پر لاگو ہے—انفرادی تنصیب سے لے کر واسودیو نمونے پر مبنی اجتماعی (سموہ) پرتِشٹھا تک۔ ابتدا میں آدتیہ، وسو، رودر، سادھیہ، وشویدیَو، اشون اور رِشیوں کے آواہن کا ترتیب وار ذکر ہے۔ پھر منتر سازی میں دیوتا کے نام کو ماترا/طویل اجزاء کے لحاظ سے تقسیم کر کے بیج منتر نکالا جاتا ہے اور اس میں بندو، پرنَو (اوم) اور ‘نمَہ’ شامل کیا جاتا ہے۔ ماہانہ دوادشی کا ورت/روزہ، آدھار پیٹھ و کلش کی स्थापना، کپِلا گائے کے دودھ سے یَو چَرو پکا کر ‘تَد وِشنوہ’ کا جپ، اور اوم سے ابھیشیک بتایا گیا ہے۔ ویاہرتیوں، گایتری کے ساتھ ہوم چکر؛ سورَیہ، پرجاپتی، انترکش، دَیوہ، برہما، پرتھوی، سوم، اندر وغیرہ کو ہوی کی آہوتیاں۔ آگے گرہ، لوک پال، پہاڑ، ندیاں، سمندر وغیرہ کی کونیاتی شکتیوں کی پوجا، پُورن آہوتی، ورت-موچن، دکشِنا، برہمن بھوجن اور مٹھ، پرپا، گھر، سڑک/پل کے دان کے سوَرگ پھل—واستو، رسم و رواج اور سماجی دھرم کے سنگم کو ظاہر کرتے ہیں۔

30 verses

Adhyaya 67

Jīrṇoddhāra-vidhāna (Procedure for Renovation / Replacement of Dilapidated Installations)

سابقہ اجتماعی پرتشٹھا کے بیان کے بعد بھگوان اگنی رشی وسیشٹھ کو جیर्णودھّار کا وِدھان بتاتے ہیں—بوسیدہ، عیب دار یا ٹوٹی ہوئی مقدّس تنصیبات کے ساتھ درست طریقۂ کار۔ آراستہ مورتی کو اسنان کرا کے پرکھا جاتا ہے: اگر وہ مستحکم اور سیوا کے قابل ہو تو برقرار رکھی جائے، اور اگر حد سے زیادہ خستہ ہو تو ترک کی جائے۔ جب تبدیلی ضروری ہو تو آچاریہ پہلے کی طرح نئی مورتی قائم کر کے سنہار-ودھی کے ذریعے پرانی صورت سے تتّووں کو واپس کھینچ کر ان کے منبع میں لَیَن کرتا ہے۔ مادّہ کے لحاظ سے نِستار—لکڑی کی صورت کو چیر کر آگ میں جلانا، پتھر کی صورت کو پانی میں ڈالنا، دھات/جواہر کی صورت کو کپڑے سے ڈھانپ کر سواری پر احترام سے لے جانا۔ آخر میں نارَسِمْہ منتر سے ہوم، جل-ارپن میں ساز، گرو کو دکشنہ؛ ناپ اور سامان اسی دن طے کرنے پر زور ہے۔ کنواں، تالاب، سرور وغیرہ عوامی آبی تعمیرات کی مرمت کو عظیم پُنّیہ دینے والا بتایا گیا ہے۔

5 verses

Adhyaya 68

Chapter 68 — यात्रोत्सवविधिकथनं (Account of the Procedure for the Processional Festival / Yātrā-Utsava Vidhi)

بھگوان اگنی وِسِشٹھ سے فرماتے ہیں کہ اُتسو کے بغیر دیوتا کی پرتِشٹھا (प्रतिष्ठा) ادھوری رہتی ہے؛ اس لیے پرتِشٹھا کے فوراً بعد یاترا اُتسو منانا چاہیے—ایک، تین یا آٹھ راتوں تک، اور اَیَن-انت، وِشُو (اعتدالین) وغیرہ کی کال-سندھیوں پر بھی۔ رسم کا آغاز مبارک مقدمات سے ہوتا ہے—اناج اور دالوں سے مناسب برتنوں میں اَنکُراروپن، دِشاؤں میں بَلی نذر، اور چراغوں کے ساتھ رات کو شہر کی پرکرما، جس سے مندر کی پاکیزگی شہری فضا میں پھیلتی ہے۔ پھر گرو تِیرتھ یاترا شروع کرنے کے لیے دیوتا سے اجازت مانگتا ہے؛ چار ستونوں والے منڈپ میں سواستک پر مُرتی رکھ کر اَدھِواسَن کرتا ہے، اور رات بھر گھرتابھِشیک دھارا، نِیراجن، سنگیت، پوجا اور مقدس چورنوں کے مُکُٹ-ارپن جیسی منگل سیوائیں ہوتی ہیں۔ اُتسو مُورتی رتھ پر سوار ہو کر شاہی نشانات کے ساتھ جلوس میں جاتی ہے؛ تیار ویدی پر استھاپن کر کے ہوم کیا جاتا ہے اور ویدک جل-منتر سے تِیرتھوں کا آواہن ہوتا ہے۔ اَگھامَرشَن شُدھی اور اسنان کے بعد دیو-سنّیدھی کو پھر مندر میں واپس لایا جاتا ہے؛ درست اُتسو کرانے والا گرو بھُکتی اور مُکتی عطا کرنے والا کہہ کر سراہا گیا ہے۔

18 verses

Adhyaya 69

Chapter 69 — स्नानविधानम् (Rules for Ritual Bathing / Snapanotsava-vidhi)

بھگوان اگنی سناپنوتسوَ کی وِدھی بتاتے ہیں—مندر کے سامنے پرتِشٹھا اور اُتسوَ چکروں کے ضمن میں ہونے والا عظیم رسمِ غسلِ دیوتا۔ ابتدا دھیان، اَرچنا اور ہری کے لیے ہوم سے ہوتی ہے اور پُورن آہُتی پر اختتام۔ منڈپ میں منڈل بنا کر دھاگے کی مالاؤں سے سنسکرت کلش نصب کیے جاتے ہیں؛ چوکور احاطہ کو رودر-بھاغوں میں بانٹ کر سمتوں کے مطابق اناج و بیج، تیرتھ جل، پھل و پھول، اوشدھیاں، خوشبوئیں اور رتن/معدنی اجزا رکھے جاتے ہیں۔ مرکز میں خاص کلش—گھی (اِندر-سموہ)، شہد (آگنیہ-سموہ)، تل کا تیل (یامیہ/جنوب)، دودھ (نَیرِرتیہ/جنوب مغرب)، دہی (سَومیہ/مشرق)—یوں نوک-آدھارت ترتیب بیان ہے۔ قہوہ/کَشای، مقدس مٹی (مِرتّکا) اور شنکھ ناد جیسے مبارک اصوات سناپن کی تکمیل کرتے ہیں۔ مول منتر سے سناپن کے بعد اگنی پوجا، سَرو بھوت بَلی، بھوجن دان اور دکشِنا؛ مکمل سناپنوتسوَ میں 1008 کلش تک ہو سکتے ہیں۔ گوری–لکشمی وِواہ وغیرہ دیگر اُتسوَوں کے لیے اسے پیشگی کرم مان کر اُتسوَ وِدھی کو پرتِشٹھا-شودھی کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔

23 verses

Adhyaya 70

Chapter 70 — वृक्षादिप्रतिष्ठाकथनम् (Consecration of Trees and Related Objects)

اس باب میں بھگوان درخت/ونَسپتی اور باغیچے کے مقامات کی پرَتِشٹھا (تقدیس) کا منظم وِدھی بیان کرتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ زندہ نباتات کی تقدیس سے بھُکتی (دنیاوی بھلائی) اور مُکتی (نجات) دونوں حاصل ہوتی ہیں۔ ابتدا میں اوषدھی آمیز پانی سے اَبھینجَن، ہار و پھول اور کپڑے کی لپیٹ سے آرائش، سونے کی سوئی سے علامتی کرن ویدھ، اور سونے کے آلے سے اَنجن لگانا بتایا گیا ہے۔ ویدی پر سات پھلوں کا اَدھیواس، ہر گھٹ کے لیے بَلی، اِندر آدی دیوتاؤں کا اَدھیواس اور ونَسپتی کے لیے ہوم ہوتا ہے۔ ایک نمایاں عمل کے طور پر درخت کے بیچ سے گائے کو آزاد کیا جاتا ہے، پھر مقررہ اَبھِشیک منترَوں سے اَبھِشیک کیا جاتا ہے۔ رِگ/یجُر/سام منتر، ورُن منتر، منگل دھونیاں اور لکڑی کی ویدیکا پر رکھے کُمبھوں کے ساتھ سناپن انجام پاتا ہے۔ یجمان کی معاونت، دَکشِنا (گائیں، زمین، زیورات، کپڑے)، چار دن دودھ پر مبنی غذا، تل اور پلاش کی سمِدھا سے ہوم، اور آچاریہ کو دوگنا نذرانہ بیان کر کے، آخر میں درختوں کے گروہ/واٹیکا کی پرتشٹھا کو گناہ نَاشک اور روحانی کمال بخش کہا گیا ہے اور ہری کے پریوار کی آئندہ پرتشٹھاؤں کی طرف انتقال دکھایا گیا ہے۔

9 verses

Adhyaya 71

Gaṇeśa-pūjā-vidhiḥ (The Procedure for Worship of Gaṇeśa)

واستو-پرتِشٹھا اور ایشان-کلپ کے سیاق میں ایشور اہم اعمال سے پہلے نِروِگھنَتا (رکاوٹوں سے آزادی) کے لیے گنیش-پوجا کا طریقہ بیان کرتے ہیں۔ ابتدا میں منتر-نیاس کے ذریعے گنپتی کے القاب کو ہردیہ، شِرَس، شِکھا، وَرم، نَیتر اور اَستر کے مقامات پر قائم کر کے سادھک کے بدن کو مقدس آلۂ عبادت بنایا جاتا ہے۔ پھر منڈل-مرکوز پوجا میں گن، گرو اور پادُکا، شکتی اور اننت، دھرم، اور یَنتر کی تہیں (مرکزی ‘اَستھی-چکر’ اور اوپر/نیچے کے آوَرَن) شامل ہو کر سلسلۂ روایت، قوت، کائناتی سہارا اور نظم کو یکجا کرتی ہیں۔ پدمکرنیکا-بیجا، جوالِنی، نندیا، سوریَیشا، کامروپا، اُدَیا، کامورتِنی وغیرہ دیوی روپوں کا آہوان، پاتھ-بھید کی نشان دہی اور بیج-اصوات کا عناصر و افعال سے مختصر ربط بھی دیا گیا ہے۔ آخر میں گنپتی گایتری اور ناماوالی کے ذریعے انہیں وِگھن ناشک مان کر پرتِشٹھا کی کامیابی اور دھارمک سِدھی پر زور دیا گیا ہے۔

7 verses

Adhyaya 72

Chapter 72 — स्नानविशेषादिकथनम् (Special Rules of Bathing, Mantra-Purification, and Sandhyā)

اس باب میں واستو-پرتِشٹھا اور ایشان-کلپ کے ضمن میں عبادت و تقدیس کی بنیاد کے طور پر طہارت و شُدھی کے قواعد بیان کیے گئے ہیں۔ بھگوان اسکند کو نِتیہ اور نَیمِتِک اسنان سکھاتے ہیں—مِرد/مٹی کا اخذ اور استر-منتر سے اس کی تطہیر، کُش کی تقسیم سے بدن کی دھلائی، پرانایام اور غوطہ، ہردیاسْتر کا سمرن، اسنان کے بعد کی شُدھی؛ پھر استر-سندھیا اور وِدھی-اسنان۔ آگے مُدرا کے تحت اعمال (انکُش، سنہار)، سمتوں میں منتر کا پرکشیپ، شِو-مرکوز ٹھنڈک و مَنگل جپ کو سر سے پاؤں تک لگانا، اور حواس کے مسام کا ‘سمّکھی کرن’ مذکور ہے۔ آگنیہ، ماہندر، منتر-اسنان، مانس-اسنان جیسے خاص اسنان اور نیند/کھانے/چھونے کے بعد کی تطہیر بھی بتائی گئی ہے۔ پھر سندھیا-ودھی—آچمن، پرانایام، ذہنی جپ، صبح/دوپہر/شام کے دیوتا-دھیان، جاننے والوں کے لیے چوتھی ‘ساکشی’ سندھیا اور باطنی اَنتَہ سندھیا۔ آخر میں ہست-تیرتھ، مارجن، اَگھمرشن، اَرگھْی، گایتری-جپ اور دیوتا، رِشی، پِتر، سمتوں اور محافظ ہستیوں کے لیے ترتیب وار ترپن—یوں طہارت کو پرتِشٹھا اور ایشان-اوپاسنا کی کامیابی کا دروازہ ٹھہرایا گیا ہے۔

50 verses

Adhyaya 73

अध्याय ७३: सूर्यपूजाविधिः (Sūrya-pūjā-vidhi — The Procedure for Sun-Worship)

اس باب میں اِیشان-کلپ کے اسلوب میں منظم سُورْیَ اُپاسنا بیان کی گئی ہے—نیاس، بیج-منتر کی جگہ بندی، مُدراؤں کے اعمال، اور رَکشا/اَوَگُنٹھن جیسی تہہ دار حفاظتیں نمایاں ہیں۔ ہاتھوں اور اعضاء پر نیاس کے بعد “میں نورانی سُورْیَ ہوں” کی بھاونا سے آغاز ہوتا ہے اور بنیادی نذر کے طور پر اَرگھْیَ (آبِ نذر) پیش کیا جاتا ہے۔ سرخ نشان/رَیخا-منڈل بنا کر اسے مرکزِ پوجا مانا جاتا ہے، اشیا پر پروکشن (چھڑکاؤ) کیا جاتا ہے اور مشرق رُخ عبادت ہوتی ہے۔ مقام کی حفاظت میں مقررہ نقاط پر گنیش پوجا، آگ میں گرو کی تعظیم، اور وسطی پیٹھ/آسن پر سُورْیَ روپ کی स्थापना شامل ہے۔ پَدْم-منڈل میں رَاں، رِیں، رَں، رُوں، ریں، رَیں، روں، رَوں جیسے سَور بیج اور شکتیوں کی وِنیاس کے بعد شَڈَکشَر سُورْیَ روپ کو اَرکاسن پر پرتِشٹھت کیا جاتا ہے۔ “ہْرَاں ہْرِیں سَہ” وغیرہ آہوان منتر کے ساتھ وِمب، پَدْم اور بِلو مُدرائیں، نیز ہردَی-شِر-شِکھا-کَوَچ-نَیتر-اَستر اَنگ نیاس دِشاؤں کی نسبت کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ سوما، بُدھ، بْرِہَسپتی، شُکر اور مریخ، زحل، راہو، کیتو کی بیج پوجا کے ذریعے گرہ پرنام بھی شامل ہے۔ اختتام پر جپ، اَرگھْیَ، ستوتی، معافی کی درخواست، سنہارنِی اُپَسَنسکرتی سے لطیف سَمہار؛ اور یہ کہا گیا ہے کہ روی کے ذریعے جپ، دھیان اور ہوم مؤثر ہوتے ہیں۔

17 verses

Adhyaya 75

Agnisthāpana-vidhi (Procedure for Establishing the Sacred Fire) and Protective Īśāna-kalpa Homa Sequences

اس باب میں منضبط یَجْن-محیط کے اندر یاغاگنی کی تنصیب اور بیداری کا مرحلہ وار طریقۂ عمل بیان ہوا ہے۔ آچاریہ اَर्घیہ پاتر لے کر اَگنیّاگار میں داخل ہوتا ہے، شمال رُخ کُنڈ کا معائنہ کر کے پروکشن، کُش-تاڑن، اَستر-منتر اور وَرم/کَوَچ کے ذریعے حفاظت قائم کرتا ہے۔ کُنڈ کی کھدائی، میل کچیل کی صفائی، بھرائی، ہمواری، لیپ اور خط کشی کی جاتی ہے؛ باطنی طور پر نیاس، بیج-دھیان اور واگییشوری و ایشا کا آواہن ہوتا ہے۔ نِتیّاگنی سے آگ لا کر اس کا سنسکار و شُدھی کر کے اَنل-ترَے کی صورت میں یکجا کیا جاتا ہے، دھینو مُدرَا اور پردکشنا سے مُہر بند کیا جاتا ہے۔ پھر گربھادھان، پُنسون، سیمنتونّین، جاتکرم جیسے گھریلو سنسکاروں کی اعانت کے لیے مخصوص آہوتیاں، پنچبرہما (سدیو جات–ایشان) کے کرم، وکتر-اُدگھاٹن اور وکتر-ایکیکرن (پانچ چہروں کی یکجائی) بیان ہیں۔ آخر میں ہوم کے اقدامات، یاغاگنی اور شِو کے درمیان ناڑی-ہم آہنگی، اور رُدر، ماترِکا، گن، یکش، ناگ، گرہ، راکشس، کشتراپال وغیرہ کو اندرونی/بیرونی بَلی دے کر سنہار مُدرَا سے سمیٹنا اور معافی کی دعا کے ساتھ اختتام بتایا گیا ہے۔

66 verses

Adhyaya 76

Chapter 76 — चण्डपूजाकथनम् (Narration of the Worship of Caṇḍa/Caṇḍeśa)

اس باب میں ایشان-کلپ کے مطابق شَیَوَ آگمک دائرے میں چنڈ/چنڈیش کی پوجا کا طریقہ بیان ہوا ہے۔ سادھک شِو کے حضور پہنچ کر پوجا اور ہوم ادا کرتا ہے اور عمل کے پُنّیہ کو قبول کرنے کی درخواست کرتا ہے۔ اُدبھَو مُدرَا کے ساتھ اَرغیہ دینا، ہِرد-بیج کو مول منتر سے پہلے رکھنے کی منتر-ترتیب، ستوتی و پرنام، اور پھر پیٹھ پھیر کر معافی مانگتے ہوئے خاص اَرغیہ—عاجزی اور خطا کے اعتراف کی علامت—ذکر کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد نارَچ مُدرَا کے ساتھ فَٹ پر ختم ہونے والے اَستر منتر سے باطنی قوتوں کا سمیٹاؤ/واپسی، پھر مورتی منتر سے لِنگ کی توانائی بخشی جاتی ہے۔ چنڈ کا آواہن، ہردیہ-شِرَس-شِکھا-کَوَچ-اَستر کے اَنگ/نیاس منتر، اور دھیان میں ان کی صورت—رُدر-اَگنی سے منسوب، سیاہ رنگ، ترشول اور ٹنک دھارک، جپ مالا اور کمنڈلو کے ساتھ—بیان ہے۔ اہم منترپاتھ کے مخطوطاتی اختلافات، جپ کی مقدار (اَنگوں کے لیے دسواں حصہ)، بعض مادی نذرانوں کی ممانعت، اور شِو کے حکم سے نِرمالیہ اور بھکت-شیش (کھانے کے بعد بچا ہوا) نذرانہ کرنے کی ہدایت بھی ملتی ہے۔ آخر میں سنہار مُدرَا و سنہار منتر سے وسرجن، گوبر ملے پانی سے نِکشےپ-جگہ کی تطہیر، باقیات کی تلفی/نِکشےپ، آچمن اور بقیہ رسومات کی تکمیل کا ذکر ہے۔

14 verses

Adhyaya 77

Kapilādipūjāvidhāna — Procedure for Worship Beginning with Kapilā

اس باب میں ربِّ اِیشور گھریلو عبادات کا مرحلہ وار پروگرام بتاتے ہیں، جس میں واستو-پرتِشٹھا کی حسّیت کو ایشان-کلپ کی طہارت و پاکیزگی کی پابندیوں کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ آغاز کپیلا (مقدّس گائے) کی پوجا سے ہوتا ہے—خاص منتروں اور اعترافی/پرایشچتّی جملوں کے ساتھ—اور اسے جگت ماتا اور گناہ دور کرنے والی قرار دیا گیا ہے۔ پھر دوپہر میں اَشٹ پُشپِکا رسم کے ذریعے شیو اُپاسنا (پیٹھ-روپ اور شیو کے اَنگ/تتّو-روپ) بیان ہوتی ہے۔ پکا ہوا اَنّ مرتیونجَے منتر کے جپ اور دربھ سے سنسکرت پانی کے چھڑکاؤ سے پاک کیا جاتا ہے۔ کُولّکا ہوم میں نابی-اگنی، رےچک، وہنی-بیج اور ورن-اِستھان-گتی جیسے باطنی آگ کے استعارے آتے ہیں؛ آخر میں آہوتی، کَشما (معافی) اور وِسَرجن۔ گھر کے واستو-بَلی کے مقامات—دروازہ، اوکھلی-موسل، جھاڑو کی جگہ، خواب گاہ، مرکزی ستون—اور وِگھن راج، کام، سکند وغیرہ دیوتاؤں کی تعیین۔ پاک برتن، خاموشی سے کھانا، پرہیزات، پران اُپچار، ذیلی وایوؤں کو نذر، اور کھانے کے بعد آچمن؛ نیز پاتھ-بھید کی نوٹس زندہ روایت کو محفوظ رکھتی ہیں۔

24 verses

Adhyaya 78

Chapter 78 — पवित्रारोहणकथनं (Pavitrārohaṇa: Installing the Sanctifying Thread/Garland)

اس باب میں پویترا روہن (پویترک کی تنصیب) کی رسم کا آغاز ہوتا ہے—یہ آگمی ‘تکمیل/پرِی پورن’ عمل ہے جو عبادت اور پرتِشٹھا میں رہ جانے والی کوتاہیوں کو پورا کرتا ہے۔ بھگوان نِتیہ اور نَیمِتِک—دو طریقے بتا کر آषاڑھ سے بھاد्रپد تک شُکل/کرشن پکش میں چتُردشی اور اشٹمی تِتھیوں (یا متبادل طور پر کارتّکی ورت) کی مدت مقرر کرتے ہیں۔ یُگ کے مطابق سونا/چاندی/تانبا وغیرہ اور کلی یُگ میں کپاس/ریشم/کنول کے ریشے جیسا سامان؛ پھر دھاگوں کی تعداد، گرہوں کی تعداد، فاصلہ، اَنگُل-ہست پیمائشیں، اور گرنتھیوں کی اقسام—پرکرتی، پوروُشی، ویرا، اپراجِتا، جَیا-وِجَیا وغیرہ—قوت کے ناموں سمیت بیان ہیں۔ آگے جگہ کی شُدھی، دروازے اور دوارپال کی پوجا (کلا-تتّو کے ساتھ)، واستو و بھوت شُدھی، کلش/وردھنی پرتِشٹھا، مسلسل مول منتر جپ، اَستر رَکشا، ہوم کی ترتیب، رُدر/کشیترپال/دِکپالوں کو بَلی کی تقسیم، اور ‘ودھی-چھِدر-پورن’ کا پرایشچت آتا ہے۔ آخر میں سَروَرَکشا کے لیے پویترک کی آہوتی—خصوصاً شِو، گُرو اور شاستر کے لیے—اور مقررہ جاگَرَن، پاکیزگی کے ضابطے، اور ایش سمرن میں آرام کی ہدایت دی گئی ہے۔

69 verses

Adhyaya 79

पवित्रारोहणविधिः (The Rite of Raising/Placing the Pavitra)

اس باب میں واستو-پرتِشٹھا اور ایشان-کلپ میں تکمیل اور نقص-زُدائی کے لیے ‘پوتراروہن’—پوتر (پاکیزگی بخش حلقہ/ڈوری) کو اٹھا کر/قائم کرنے کی رسم—بیان کی گئی ہے۔ پجاری صبح کے غسل اور سندھیا کے بعد پاک ہو کر منڈپ میں داخل ہوتا ہے اور ایشان (شمال-مشرق) گوشے میں صاف برتن میں پوتر رکھتا ہے، بلا اس کے کہ مدعو حضورِ الٰہی کو رخصت کرے۔ پھر باقاعدہ تطہیر و وداع کے بعد سورَیَ (بھانو/آدتیہ)، دروازہ دیوتا، دِک پال، کمبھیش/ایشان، شِو اور اگنی کی نَیمِتِک پوجا ہوتی ہے؛ منتر-ترپن، پرایشچتّ ہوم، 108 آہوتیاں اور پُورن آہوتی ادا کی جاتی ہے۔ منتر، کریا اور درویہ میں رہ جانے والی کمی کا اعتراف، تکمیل کی دعا، اور ‘گنگا-اوتارک’ نزول-دعا کے ذریعے خطاؤں کو دیوی حکم کے ایک ہی دھاگے میں پرو دیا جاتا ہے۔ آگے ویاہرتی اور اگنی/سوم کے سلسلوں سمیت چار طرح کے ہوم، پوتر کے ساتھ دِک پالوں کو نذر، گرو-پوجا کو شِو-پوجا ماننا، دْوِجوں کو بھوجن، ناڑی-یوگ کے ساتھ باطنی ادغام و وداع، اور چنڈیشور کی پوجا کا حکم ہے؛ نیز بتایا گیا ہے کہ دوری کے باوجود پوتر-کرم میں گرو کی سنّیدھی ضروری ہے۔

41 verses

Adhyaya 80

दमनकारोहणविधिः (Dāmanaka-ārohaṇa-vidhi) — Procedure for Raising/Placing the Dāmanaka Garland

اس باب میں واستو-پرتِشٹھا کی تقدیسی عبادت کے ضمن میں دامنک (مالا/نذر) کی ایشان-مرکوز رسم کا بیان ہے۔ ہَر کے غضب سے پیدا ہونے والا بھَیرو دیوتاؤں کو مغلوب کرتا ہے اور شِو کے اعلان سے اس پوجا کا یقینی پھل ثابت ہوتا ہے—یہی اس عمل کی اساطیری سند ہے۔ سادھک کو مبارک تِتھی (سپتمی یا تریودشی) اختیار کر کے، شَیوی اُچار سے مقدس درخت کی پوجا کر کے اسے ‘بیدار’ کرنا، باقاعدہ آواہن کرنا اور دوپہر کے بعد اَدھیواسَن کرنا بتایا گیا ہے۔ پھر سورَیَ، شنکر اور پاوَک (اگنی) کی پوجا کے بعد جڑ، سر، ڈنڈی، پتا، پھول، پھل وغیرہ کو دیوتا کے گرد مقررہ سمتوں میں رکھا جاتا ہے، خصوصاً ایشان (شمال-مشرق) میں شِو پوجا پر زور ہے۔ صبح کے غسل کے بعد جگن ناتھ کی پوجا، دامنک کی نذر، اَنجلی کے ساتھ منتر جپ (آتم وِدیا، شِواتم اور مول سے ایشور تک کے منتر) اور آخر میں کمی/زیادتی کی اصلاح کی دعا اور چَیتر ماہ کے پُنّیہ سے سُورگ (جنت) کی حصولیابی کا ذکر ہے۔

13 verses

Adhyaya 81

Chapter 81 — समयदीक्षाविधानम् (Procedure for Samaya Initiation)

اس باب میں سمایہ-دیکشا کا طریقہ بیان ہوا ہے۔ یہ دیکشا شاگرد میں معرفت پیدا کرتی ہے اور مَل اور مایا کے بندھن کاٹ کر بھُکتی اور مُکتی—دونوں کا وسیلہ بنتی ہے۔ کَلا کے امتیاز سے مجسّم حالتیں (پرلَی-آکل؛ سکل) بیان کی گئی ہیں؛ دیکشا کو نِرادھارا (شدید شکتی-نِپات سے) اور سادھارا (رسومی سہاروں کے ساتھ) کہا گیا ہے، اور پھر سمایاچار و اہلیت کے مطابق سَویجا/نِروِیجا کی تفصیل بھی ہے۔ اس کے بعد شَیَو-آگمک لِتورجی—وِگھن-نِوارن، بھوت-شُدھی، وِشیش اَرجھْیَ، پنچگَوْیَ، اَستر-کَوَچ کے اعمال، سِرشٹیادی و تاداتمیہ نیاس، اور آخر میں ‘شیووऽہم’ کا پختہ یقین—بیان ہوتی ہے۔ شِو کی پرتِشٹھا منڈل، کلش، آگنی اور خود شاگرد میں کی جاتی ہے، تاکہ بیرونی تقدیس کے ساتھ باطنی نجات بھی حاصل ہو۔ پھر ہوم کے ضابطے—آہوتی کے درویے، تعداد، دیپن/ترپن، چَرو کی تیاری، پُورن آہوتی—تفصیل سے آتے ہیں۔ آخر میں بھُکتی و مُکتی کے مطابق شاگرد کے قواعد، منتر-جل/بھسم سے تطہیر، پاش-بھید کی علامت، اور شِو-ہست عطا کر کے بھاو-پوجا کا اختیار دیا جاتا ہے۔ اختتام پر کہا گیا ہے کہ سمایہ-دیکشا شَیَو اَرچنا کے لیے یوگیہ بناتی ہے۔

93 verses

Adhyaya 82

अध्याय 82 — संस्कारदीक्षाकथनम् (Saṃskāra-Dīkṣā: Consecratory Initiation)

یہ باب سمایہ-دیکشا کے بیان کو مکمل کرکے فوراً سنسکار-دیکشا کا آغاز کرتا ہے، جسے زیادہ تبدیلی لانے والی تقدیسی دیکشا کہا گیا ہے۔ آگمی طریقے کے مطابق ہوم آگنی میں مہیش کا آواہن، قلبی نیاس، اور دیویہ حضوری کو مستحکم کرنے کے لیے گنتی کے ساتھ پنچاہُتی (پانچ آہوتیاں) کا سلسلہ بتایا گیا ہے۔ باطنی عمل میں استر-منتر سے سنسکار، ‘بچے’ کے دل پر تाड़ن، اور ستارے جیسی چیتنا کی چمک کا دھیان شامل ہے۔ ریچک–پورک–کمبھک پرانایام، ‘ہُوں’ بیج کا اُچار، اور سنہار–اُدبھَو مُدراؤں سے منتر-شکتی کو سمیٹ کر قائم اور مُہر بند کیا جاتا ہے، پہلے سادھک میں اور پھر شِشیہ کے ہردے-کمل کی کرنِکا میں پرتِشٹھا کی جاتی ہے۔ ہوم کی تشخیص بھی دی گئی ہے—بھڑکتی بے دھواں آگ کامیابی کی، کمزور دھواں دار آگ ناکامی کی علامت؛ مبارک آگ کی نشانیاں بھی گنوائی گئی ہیں۔ پھر اخلاقی و ضبطی عہد—بدگوئی سے پرہیز، شاستر اور نِرمالیہ کا احترام، شِو–اگنی–گرو کی عمر بھر پوجا، اور استطاعت کے مطابق رحمت و دان۔ آخر میں یہ دیکشا شِشیہ کو آگمک ہوم-گیان کے لائق بنا کر طہارت کے ساتھ واستو-پرتشٹھا اور ایشان-کلپ کے اعمال میں اہل کرتی ہے۔

24 verses

Adhyaya 83

Chapter 83 — निर्वाणदीक्षाकथनम् (Description of the Nirvāṇa Initiation)

اس باب میں سمایہ-دیکشا سے نروان-دیکشا کی طرف انتقال کرتے ہوئے، ایشان-کلپ کی موکش-مرکوز دیکشا-ودھی بیان کی گئی ہے۔ مول-منتر کی منتر-دیپن (فعّال سازی)، ہردیہ-شِر-مکھ میں اَنگ-نیاس، اور ہوم کے طریقے—ایک یا تین آہوتیاں، وشٹ/وؤشٹ اختتام، دھرووا منتر—اُگر، شانتی اور پُشتی کرموں کے مطابق بتائے گئے ہیں۔ مرکزی تکنیک سنسکرت سُوتر (دھاگا) ہے جسے سُشُمنّا کے روپ میں دھیان کر کے سنہار-مدرا، ناڑی-کریاؤں اور اوگُنٹھن-حفاظت سے پرتیِشٹھت کیا جاتا ہے؛ تریاہوتی اور ہردیہ-منتر سے دیو-سنّیدھی قائم کرنے پر بار بار زور ہے۔ پھر کلا-پاش کی شُدھی و بندھن، گرہن–بندھن، تتّو آدھارت کلپنائیں اور شانتیَتیت دھیان آتے ہیں۔ آخر میں پرایشچت ہوم، شِشْی کی ترتیب (دِشَا-نِیَم، اسنان، آہار-نِیَم)، وِسَرجن، چنڈیش پوجا اور دیکشا-ادھیواسَن کی تکمیل—سب موکش کے مقصد سے مربوط ہے۔

53 verses

Adhyaya 84

अधिवासनं नाम निर्वाणदीक्षायाम् (Adhivāsana in the Nirvāṇa-dīkṣā)

یہ باب نروان-دیکشا کے لیے پیشگی تیاری ‘ادھیواسن’ بیان کرتا ہے۔ دیکشا کی کامیابی کے لیے یاغ-پریسر کی طہارت اور گرو/آچاریہ کی پاکیزہ آچارن کو لازمی شرط ٹھہرایا گیا ہے۔ گرو برہما مُہورت میں اٹھ کر اسنان اور روزمرہ تطہیرات مکمل کرتا ہے اور غذا میں ساتتوِک ضبط رکھتا ہے—دہی، کچا گوشت، شراب اور دیگر ناپاک اشیاء سے پرہیز کرتا ہے۔ شُبھ و اَشُبھ خوابوں کے شگون لطیف حالتوں کے اشارے ہیں؛ اَشُبھ علامات کا ازالہ ‘گھور’ پر مبنی شانتی-ہوم سے کیا جاتا ہے۔ یوں آچار، باطنی آمادگی، علمِ شگون اور منتر-کرما کی یکجائی دکھا کر دیکشا کو موکش کے ہدف سے جوڑا جاتا ہے، اور آگے کے مراحل—یاغالَیہ میں ورود، شُدھی-ودیا، اور سادھک کی ہم آہنگی—کی تمہید بنتی ہے۔

58 verses

Adhyaya 85

Pratiṣṭhā-Kalaśa-Śodhana-Ukti (Instruction on Purifying the Consecration Pitcher) — Chapter 85

یہ باب نِوِرِتّی-کلا کی شُدھی کے فوراً بعد شروع ہو کر ایشان-کلپ کی فنی کارروائی کے طور پر پرتِشٹھا-کلش (ابھیشیک گھڑا) کی تطہیر اور بیداری کی ہدایت دیتا ہے۔ ایشور ہرسو-دیرگھ ادائیگی کے قواعد، ناد–اناد–نادانت کے مدارج اور صوتی پیمائش کے ذریعے شُدھ و اَشُدھ تتوؤں کے ‘سندھان’ کو سمجھاتے ہیں اور منتر-صوتیات کو تتو-شُدھی سے جوڑتے ہیں۔ پرتِشٹھا-مقام میں پنچ وِمشتی تتو—پُرُش کو چتُروِمشتیتم مان کر—اور مقررہ اکشر-سلسلے کے ساتھ دھیان-نیاس کیا جاتا ہے۔ پھر رُدر کے روپوں اور متعلقہ لوکوں کی طویل فہرست پرتِشٹھا کے لیے حفاظتی اور وجودی جال بن جاتی ہے۔ اس کے بعد دیكشا سے متعلق عمل واضح ہوتا ہے: یجنوپویت کو بدن میں داخل کرانا، پاش-شکتی کو جدا کر کے مُدرا اور پرانایام سے کُمبھ میں منتقل کرنا، اور دیكشا کے اختیار کے حامل کے طور پر وِشنو کا آواہن۔ آخر میں پرایشچت جپ، بندھن کاٹنے والے استر-منتر، ہوم کی تعدادیں، اختیار سے دستبرداری اور پُورن آہُتی کے ذریعے آخری تطہیر کر کے پرتِشٹھا کو ‘شُدھ’ قرار دیا جاتا ہے۔

31 verses

Adhyaya 86

Vidyā-viśodhana-vidhāna (Procedure for Purifying Mantra-Vidyā)

بھگوان اگنی (ایشور) پچھلی پرتِشٹھا-کلش-شودھن کے بعد نِروان-دیکشا کے دائرے میں منتر-ودیا-شودھن کا وِدھان بیان کرتے ہیں۔ مخصوص بیج-علامتوں سے سندھان (ربط/اتصال) قائم کر کے راگ، شُدھّودیا، نیَتی (کلا سمیت)، کال، مایا اور اوِدیا—ان سات تتوؤں کی گنتی دے کر اس عمل کو محض تکنیک نہیں بلکہ مابعدالطبیعی نقشے پر قائم کرتے ہیں۔ پرنَو سے شروع مقدس پدوں کی تعداد، حروفی مجموعے اور نسخہ جاتی پاتھ-بھید ذکر کر کے متعدد روایتوں کی قراءت محفوظ رکھی گئی ہے۔ پھر رُدر-کونیات میں وام دیو کو پہلا رُدر کہا گیا ہے اور ناموں کا سلسلہ پچیس تک پہنچتا ہے۔ اس کے بعد دو بیج، ناڑیاں، وایو اور حواس کے موضوعات/گُنوں کا مختصر ربط بتایا جاتا ہے۔ سادھک دل کے مقام سے تاڑن، چھیدن، پرویش، یوجن، آکرشن-گرہن کر کے کلا کو کُنڈ میں نِکشپت کرتا ہے، رُدر کو کارن-روپ میں آواہن کر کے دیکشت (بالک) میں سَنِدھی پرتِشٹھت کرتا ہے۔ آخر میں 100 آہوتیوں کا پرایشچتّ ہوم، رُدرانی پوجا، پاش-سوتر میں چیتنیا-پرتِشٹھا، پُورن آہوتی اور اپنے ہی بیج سے ودیا-شودھن کا قاعدہ—یوں ودیا-وشودھن مکمل ہوتا ہے۔

21 verses

Adhyaya 87

Śānti-Śodhana-Kathana (Instruction on the Purification of Śānti) — Agni Purāṇa, Adhyāya 87

نِروان-دیکشا کے سلسلے میں بھگوان ایشور بتاتے ہیں کہ وِدیا (منترک ضبط و ریاضت) کو قاعدے کے مطابق شانتی-کرم کے ساتھ کیسے جوڑا جائے، اور شانتی کی حالت میں بھاوَیشور اور سداشیو کے دوئی اصول کس طرح تاتّوِک طور پر لَے ہو جاتے ہیں۔ پھر ہ اور کْش حروف سمیت صوتی و کائناتی مناسبتوں کی نقشہ بندی اور شانتی عمل کے لیے قائم رُدر روپوں کی تعداد بیان ہوتی ہے۔ بارہ پاد پُرُش-وِدھان میں شیو کی ہمہ گیری کا ورد، ساتھ ہی کَوَچ-منتر جوڑے، بیج-تصورات، ناڑی و وایو کے اشارے اور حواس و موضوعات کے ربط بتائے جاتے ہیں۔ سادھک کو تاڑن، بھید، پرویش، ویوجن جیسی عملی کرِیائیں، باطنی ادغام اور کَلا کو کُنڈ میں نِکشےپ کرنے کی ہدایت ملتی ہے؛ نیز وِجْنیاپنا، چَیتنْی پرتِشٹھا، دیوی میں ‘گربھ’ کا اِمپلانت، اور بدن کی پیدائش و تطہیر کے لیے نیاس نما اعمال۔ جپ و ہوم، اَستر منتر کے ذریعے پاش (بندھن) کی ڈھیل اور قطع، بُدھی و اَہنکار کی صورت میں شُلک کی نذر، آخر میں اَمرت بِندو عطا اور پُورن آہُتی سے تکمیل—بلا رنج و اذیت حاصل ہونے والی شُدّھی پر زور ہے۔

23 verses

Adhyaya 88

Adhyāya 88 — निर्वाणदीक्षाकथनं (Teaching of the Nirvāṇa-Initiation)

یہ باب شانتِی-رِیت کی تطہیر کے بعد اِیشان (شیو) کے تناظر میں نِروان-دِیکشا کی تعلیم دیتا ہے۔ اس میں سندھان (منتر-رابطے)، شکتی–شیو تتّو کی سمت، ا سے وِسرگ تک سولہ ورن، اور لطیف بدن کے اشارات (کُہُو/شَنگھِنی ناڑیاں؛ دیودتّ/دھننجے وایو) بیان ہوتے ہیں۔ شانتی-اَتیت اعمال میں کلا-پاش کو ضرب و شق کرنا، فَٹ/نَمو پر ختم ہونے والے منتروں سے ورود و تفریق، اور مُدرا کے ساتھ پرانایام (پورک–کُمبھک–ریچک) کے ذریعے پاش کو اوپر کھینچ کر کُنڈ میں آگنی-پرتِشٹھا کرانا شامل ہے۔ سداشیو کا آواہن و پوجن، شِشْیَ کا چَیتنْیَ-وِبھاغ، دیوی کے گربھ-پرتیک میں نیاس، جپ اور مقررہ تعداد کی ہوم آہوتیاں (خصوصاً 25، پھر 5 اور 8) کے ذریعہ رہائی کا وِدھان بتایا گیا ہے۔ آخر میں سداشیو کو ادھیکار-سمَرپن، دوادشانت تک لَیَ سادھنا، شَڈگُن آدھان، اَمِرت بوندوں سے تسکین، آشیرواد اور مکھ کی تکمیل مذکور ہے۔

52 verses

Adhyaya 89

Teaching of the One-Principle (Ekatattva) Initiation (एकतत्त्वदीक्षाकथनम्)

بھگوان اگنی رشی وسِشٹھ سے ‘ایک تتّو-دیکشا’ کا مختصر طریقہ بیان کرتے ہیں، جو ایشان-کلپ اور پرتِشٹھا کے سیاق میں آسان راستہ سمجھا گیا ہے۔ سادھک پہلے خود ترتیب کے ساتھ سوتربندھ وغیرہ ابتدائی کرم پورے کرے۔ پھر کالاغنی سے شِو تک پوری تتّو-سلسلہ کو ایک ہی برابر پرم حقیقت میں باطن میں سموئے—جیسے ایک دھاگے میں موتی پروئے ہوں۔ شِوتتّو سے دیوتا کا آواہن کر کے، پہلے بتائے گئے گربھادھان وغیرہ سنسکار مول منتر کے بل سے انجام دے اور تکمیلِ رسم کے لیے شُلک/دکشِنا سمیت تمام واجبات نذر کرے۔ آخر میں تتّو-وات سے یُکت ‘پُورن’ دیکشا دے کر کہا گیا ہے کہ ایک ہی طریقے سے شِشیہ کی نِروان-سِدھی کافی ہے۔ اختتام پر یوجنا اور استحکام کے لیے مقررہ کلشوں سے شِو-کُمبھ ابھیشیک کیا جاتا ہے۔

5 verses

Adhyaya 90

Abhiṣeka-Ādi-Kathana (Consecratory Bathing and Related Rites)

یہ باب پچھلے دیक्षा-موضوع سے آگے بڑھ کر شِو بھگتی میں شِشیہ کے لیے اَبھِشیک کو قوتِ باطنی اور سعادت و خوش حالی کا ذریعہ بتاتا ہے۔ ابتدا شِو پوجا سے ہوتی ہے، پھر ایشان (شمال-مشرق) سے ترتیب وار نو کُمبھ رکھے جاتے ہیں، جنہیں علامتی ‘سمندروں’ کے مادّوں سے جوڑا گیا ہے: نمکین پانی، دودھ، دہی، گھی، گنّے کا رس، کادَمبری، میٹھا پانی، چھاچھ/وے وغیرہ۔ اس کے بعد یَگالَیہ کی حیثیت رکھنے والے سْنان منڈپ میں مرکز میں شِو، سمندر اور شِو منتر کی स्थापना، اور آٹھ وِدییشوروں اور رُدر روپوں (شِکھنڈِن، شری کنٹھ، تری مُورت، ایک نَیتر، ‘سوکشْم نام’، ‘اَننت’ وغیرہ) کی پرتِشٹھا بیان کی گئی ہے۔ شِشیہ کو مشرق رُخ بٹھا کر مقررہ اشیا سے نِرمَانچن-شودھی کی جاتی ہے، پھر کُمبھ جل سے سْنان کرایا جاتا ہے؛ ورت و نیَموں کی پابندی کے ساتھ سفید لباس پہنایا جاتا ہے اور پگڑی، یوگ پٹّہ، مُکُٹ وغیرہ اختیار کی علامتوں سے سمان کیا جاتا ہے۔ آخر میں اُپدیش، وِگھن نِوارن کی پرارتھنا، پانچ-پانچ آہوتیوں کے پانچ مجموعوں سے منتر چکر پوجن، تلک/نشان لگانا، اور راجاؤں و گِرہستھوں کے لیے حفاظتی راج اَبھِشیک منتر—یوں اگنی پران میں واستو-رچنا اور آتمک انضباط کا سنگم دکھایا گیا ہے۔

18 verses

Adhyaya 91

Chapter 91 — विविधमन्त्रादिकथनम् (Teaching of Various Mantras and Related Matters)

پچھلے باب کے ابھिषیک کے بیان کے بعد یہ باب پرتِشٹھا کو مسلسل عبادت سے جوڑتا ہے۔ مبارک سازوں کی آوازوں کے درمیان سادھک پنچگوَیہ سے دیوتا کو اسنان کراتا ہے اور شِو، وِشنو، سورَیہ اور دیگر دیوتاؤں کی پوجا کرتا ہے۔ پھر عمل سے وِدیا کی طرف رخ ہوتا ہے—نشان زدہ/شرح شدہ مقدس متن کے براہِ راست مطالعہ و خدمت پر ثواب کی بشارت دی گئی ہے، اور گھی و چندن وغیرہ کو پاک کرنے والے اور مرتبہ بڑھانے والے نذرانے کہا گیا ہے۔ آگے تثلیث و چہارگانہ اشاروں سے جیوا، مول دھاتو اور علم کی اقسام کی تحلیل، آخر و وسط کی جگہوں سے سعد و نحس نتائج کا تعین، عددی مجموعے، اور بھورج پتر پر دیوتا-منتر لکھنے کی ہدایت ملتی ہے۔ خط کشی کے مراحل، مروت/ویوم زمروں کے ساتھ 64 گنا ترتیب، اور چھند کی تقسیم—سما، ہینا، وِشما—کا ذکر ہے۔ اختتام پر منترشاستر: سُروں اور ک-ورگ حروف سے نکلنے والے تریپورا نام-منتر، بڑے دیوتاؤں کے بیجاکشر، اور روی، ایش، دیوی، وشنو کے لیے 360 جپ گنتی کے ساتھ منڈل-چکر کا ضابطہ—دھیان اور گرو-دیکشا سمیت—جس سے واستو-پرتشٹھا کی رسمیت اور ایشان-کلپ کی منتر سادھنا یکجا ہوتی ہے۔

17 verses

Adhyaya 92

Chapter 92 — प्रतिष्ठाविधिकथनम् (Narration of the Consecration / Installation Procedure)

ایشور گُہا سے مندر کی پرتیِشٹھا کا مابعدالطبیعی جوہر بیان کرتے ہیں—پیٹھ شَکتی ہے، لِنگ شِو ہے، اور شِو کی لطیف قوتیں ‘شِوانُو’ دونوں کو مؤثر طور پر ملا کر چَیتنْیَ (شعورِ الٰہی) کا آواہن کرتی ہیں؛ یہی پرتیِشٹھا کی اصل ہے۔ اس باب میں پرتیِشٹھا کے پانچ طریقے، برہما-شِلا (بنیادی پتھر) کی امتیازی اہمیت، اور ستھاپنا، ستھِت-ستھاپنا اور اُدھّار کے بعد اُتھّاپنا (دوبارہ نصب) کے قواعد واضح کیے گئے ہیں۔ پھر واستو شاستر کے مطابق زمین کی پانچ گونہ جانچ، طبقہ/ورن کے مطابق زمین کی خوبیاں، سمتوں کی ترجیح، ناپاک زمین کی تطہیر، اور کھدائی، مویشی بسانے یا ہل چلانے سے بار بار زمین کی تیاری کا حکم آتا ہے۔ اس کے بعد منڈپ کے اعمال، اَگھوراستر کی حفاظت، مبارک مواد سے خطوط کھینچنا، ایشان خانے میں شِو پوجا، اوزاروں کی تقدیس، حدبندی، اَرجھْیَ اور مقام کا باقاعدہ پرِگْرہ (قبضہ) بیان ہوتا ہے۔ شَلیہ-دوش (زمین میں دفن مضر اشیا) کی تشخیص کے لیے شگون، جانوروں کی آوازیں اور ماترِکا حروف کے گروہوں کی سمتی نسبتیں دی گئی ہیں۔ آخر میں شِلا (پتھروں) کے انتخاب و پرتیِشٹھا—نَو-شِلا مجموعوں سمیت—غسل و تیل مالش، اور مفصل تَتْوَ-نیاس: شِو، وِدیا اور آتما تَتْوَ کی تنصیب ان کے دیوتاؤں، لوکپالوں، بیج منتر، کُمبھ، پرکار-رکشا، ہوم اور اَستر آہوتیوں کے ساتھ، تاکہ عیوب دور ہوں اور واستو-بھومی پاک ہو۔

59 verses

Adhyaya 93

Chapter 93 — वास्तुपूजादिविधानम् (Procedure for Vāstu-worship and Related Rites)

بھگوان اگنی ایشان-کلپ کے مطابق واستو-پرتِشٹھا کا فنی مگر رسم و رواج سے بندھا ہوا بیان شروع کرتے ہیں۔ مندر کی منصوبہ بندی کے بعد ہموار، ویدی جیسے کثیرالاضلاع مقام پر واستو-منڈپ/منڈل قائم کر کے اسے شاستری گرِڈ میں تقسیم کیا جاتا ہے—بالخصوص 64 پد، اور موقع کے مطابق 81، 100، 25، 16 اور 9 پد (گھر، شہر، ویدی وغیرہ کے لیے)۔ بانس کی پیمائشی چھڑیاں اور رسّیاں، سمتوں و قطری خطوط کی ترتیب، اور شمال رُخ لیٹے ہوئے اسوراکار واستو-پُروش کے دھیان کے ساتھ تعمیر کی نشست بیان ہوتی ہے۔ پھر واستو-دہ/پدوں پر دیوتاؤں کا نیاس، کونوں کے ادھیپتی، اور ایک/دو/چھ/نو-پد کے باشندگان کی تعیین کی جاتی ہے؛ سواستک، وجَر، ترشول وغیرہ کی علامتوں سے نشان زدہ مرم-ستانوں پر تعمیر سے منع کیا گیا ہے۔ دِگ دیوتاؤں اور بیرونی حلقے کے بھوت-پدوں (چَرکی، وِداری، پوتنا وغیرہ) کے لیے مخصوص نَیویدیہ و مواد کے ساتھ طویل بَلی/نذر کا क्रम دیا گیا ہے۔ آخر میں پانچ-ہاتھ کے معیاری پیمانے کی توثیق اور پرتِشٹھا میں میٹھے پَیاس/کھیر وغیرہ کی نذر کا حکم دے کر فنِ تعمیر کو دھارمک تقدیس کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔

42 verses

Adhyaya 94

Chapter 94 — शिलाविन्यासविधानम् (The Procedure for Laying the Foundation Stones)

اِیشور پچھلی واستو پوجا کے سانچے کے مطابق شِلا-وِنیاس (بنیادی پتھروں کی تنصیب) کی رسم مرحلہ وار بیان کرتے ہیں۔ ابتدا میں باہر اِیش اور ‘چارکْی’ وغیرہ دیوگن کی پوجا کر کے ہر ایک کو ترتیب سے تین آہوتیاں دی جاتی ہیں۔ مبارک لگن میں بھوت-بلی دے کر عناصر و سرحدی قوتوں میں ہم آہنگی کی جاتی ہے، پھر مدھیہ-سوتر پر شکتی کو کمبھ اور اننت کے ساتھ قائم کیا جاتا ہے۔ “ن” حرف سے وابستہ منتر-مول کے ذریعے کمبھ میں شِلا کو ثابت کر کے مشرق سے سمت وار سبھدرا/سوبھدرا وغیرہ آٹھ کمبھ رکھے جاتے ہیں۔ لوکپال-انشوں کے ساتھ نیاس، گڑھوں میں شکتیوں کی स्थापना، اور روایت کے اختلاف کے مطابق اننت کو آخر/قریب مقرر کیا جاتا ہے؛ نندا وغیرہ شکتیوں کو پتھروں پر پرتِشٹھت کیا جاتا ہے۔ شمبر رسیوں سے دیواروں کے وسط میں ادھی دیوتاؤں کے مقامات متعین ہوتے ہیں اور دھرم وغیرہ اصول کونہ بہ کونہ تقسیم کیے جاتے ہیں۔ دھیان میں برہما اوپر اور مہیشور سراسر ویاپی؛ ویوم-پراساد میں آدھان۔ بلی اور استر-منتر سے وِگھن دور کر کے مرکز میں پُورن شِلا رکھی جاتی ہے؛ آخر میں ویوم دھیان، تتّو-تریہ نیاس، پرایشچت آہوتی اور یَگ وِسرجن ہوتا ہے۔

17 verses

Adhyaya 95

Pratiṣṭhā-sāmagrī-vidhāna — Prescription of Materials and Conditions for Consecration

اس باب میں ایشور مندر میں لِنگ کی پرتِشٹھا کا طریقہ بیان کرتے ہیں—اگر یہ مبارک ‘دیویہ دن’ اور موافق نجومی حالات میں ہو تو بھوگ اور موکش دونوں عطا کرتی ہے۔ پہلے وقت کا تعین: ماگھ پر مبنی پانچ مہینوں کی حد (چَیتر مستثنیٰ)، مناسب تِتھیاں، پرہیزی قواعد، پسندیدہ نکشتر اور لگن۔ پھر سیّاروں کی جگہ، نظر (اسپیکٹ) اور بھاؤ کے مطابق نفع و نحوست کا جائزہ لے کر عمل کی کامیابی کو جیوتش-نِدان سے جوڑا گیا ہے۔ اس کے بعد جگہ کی ترتیب: معاون زمین کی تقسیم، منڈپوں کی ساخت، ستون والی مربع ویدی، کُنڈ اور میکھلا کی تعداد/مقام/شکل/پیمائش، نیز یونی کی بناوٹ اور اس کی سمت۔ آخر میں پرتِشٹھا کی سامگری: تورن، جھنڈے، ڈنڈے، پاک مٹیاں، کشایہ، پانی، اوشدھی جڑیں، حفاظت و تطہیر کے مادّے، کُمبھوں کی ترتیب، ہوم کے اوزار، ہوی کی آہوتیاں، آچاریہ کو دکشِنا، اور جواہرات/دھاتوں/معدنیات/اناج کی فہرست—یوں کائنات، مقام اور مادّہ کو یکجا کرنے والی تقدیس کی جامع تکنیک پیش کی گئی ہے۔

60 verses

Adhyaya 96

Adhivāsana-vidhi (Procedure for Preliminary Consecration in Vāstu–Pratiṣṭhā / Īśāna-kalpa)

باب 96 میں ادھیواسن-ودھی بیان ہوتی ہے—مندر پرتِشٹھا میں باقاعدہ اور منضبط داخلہ۔ اسنان اور نِتیہ کرموں سے پاک گرو معاونین اور رِتوِجوں کے ساتھ یَجْن منڈپ میں داخل ہو کر حفاظت، ترتیب اور دیویہ سَنِّدهی قائم کرتا ہے۔ تورن پوجا، دوارپالوں کی تقرری اور حفاظتی آلات کی تنصیب سے وِگھن نِوارن اور کرتو کی نگہبانی ہوتی ہے۔ دھوج دیوتا، کھیترپال، کلشوں پر لوکپال، اور مقررہ منتر، ہوم، نذرانے اور دھیان کے ذریعے سمتوں اور سرحدی حدود کی حفاظت مضبوط کی جاتی ہے۔ پھر بیرونی واستو سے باطنی واستو کی طرف—بھوت شودھی، اَنتریاگ، منتر-درویہ شودھن، تہہ در تہہ نیاس، اور آخر میں سَروَویَاپی نِشکل شِو کا لِنگ میں پرتِشٹھاپن۔ ہوم کی کارروائیاں، شاخا کے مطابق وید پاتھ کی تقسیم، اور ابھیشیک کے سلسلے—پنچگوَیہ، پنچامرت، تیرتھ جل، اوشدھی دھارائیں—کے بعد مُرتی کی سنسکار، شَیَن، اور لکشمی-اوتَرَن/نشان دہی کے طریقے تناسبی پیمانوں سمیت آتے ہیں۔ اختتام پر ادھیواس کو منظم رات بھر قیام (یا مختصر متبادل) قرار دے کر، اختصار میں بھی اثرپذیری تسلیم کی جاتی ہے اور اسے دھرمک کامیابی اور شِو-ساکشاتکار کے درمیان پُل بتایا جاتا ہے۔

124 verses

Adhyaya 97

Śiva-pratiṣṭhā-kathana — Account of Installing Śiva (Liṅga-Pratiṣṭhā within Vāstu-Pratiṣṭhā & Īśāna-kalpa)

اس باب میں سابقہ ادھیواسن رسومات کے بعد شَیَوَ (شیوا) پرَتِشٹھا کا مفصل طریقہ بیان ہوتا ہے۔ دن کا آغاز نِتیہ کرم اور دْوارپالوں کی پوجا سے ہو کر اہلیت قائم کرتے ہوئے گربھ گِرہ میں داخلے سے ہوتا ہے۔ پھر دِکپال، شِو-کُمبھ اور وردھنی کی پوجا، اور اَستر منتر—خصوصاً “ہُوں پھٹ”—سے وِگھنوں کا اخراج کیا جاتا ہے۔ واستو ہدایت یہ ہے کہ لِنگ کو عین مرکز میں نہ رکھا جائے؛ بیدھ-دوش سے بچنے کے لیے یَو (جو) کے پیمانے کے مطابق ہلکا سا ہٹاؤ ضروری ہے۔ ایشان سمت کے مطابق بنیاد کو مقدس کر کے سَروادھار اَننتا کی स्थापना، سِرشٹی یوگ/آسن منتر اور استحکام دینے والی مُدراؤں کا ذکر ہے۔ دھات، جواہر، جڑی بوٹیاں اور اناج کے نِکشےپ، چاروں سمتوں کے گڑھوں کی ترتیب، دروازوں کے قواعد، پیٹھ بَندھن، تری تتّو اور شَڈ اَرچا نیاس، اور پنچامرت ابھیشیک کا क्रम آتا ہے۔ نقص دور کرنے کے لیے شِو-شانتی، مرتیونجَے جپ، تکمیلی دعائیں؛ پرتشٹھا کے بعد اُتسو/جشن اور دان، عام و خاص لِنگ کے قواعد، بعض اقسام میں چنڈ آچاریہ کی ممانعت، स्थापک کی دکشنہ، اور چل لِنگ و دیگر دیوتاؤں کی پرتشٹھا تک توسیع—یوں اگنی پران میں واستو، منتر-تنترا اور بھکتی کے منظم امتزاج کی جھلک ملتی ہے۔

87 verses

Adhyaya 98

Chapter 98 — गौरीप्रतिष्ठाकथनम् (Gaurī-Pratiṣṭhā: Installation and Worship of Gaurī; Īśāna-kalpa Elements)

باب 98 میں ابتدا میں مختصر متنّی اختلافات (پاتھ بھید) کی نشاندہی کے بعد گوری-پرتِشٹھا کا بیان شروع ہوتا ہے۔ ایشور ہدایت دیتے ہیں کہ پہلے منڈپ اور ابتدائی رسومات کی تیاری ہو، پھر پرتِشٹھا کے مقام کو بلند کرکے قائم کیا جائے۔ سادھک مورتی-منتروں سے لے کر شَیّیا (رسمی بستر) سے متعلق منتروں تک ترتیب وار نیاس کرتا ہے؛ گُہا-منتر اور آتم وِدیا سے شِو تک کے سلسلے کا نیاس کرکے آخر میں ایشان-نِویشن (ایشان کی آہوان/نصب) کرتا ہے۔ پھر پرا-شکتی کا نیاس، سابقہ طریقے کے مطابق ہوم اور جپ، مدعو قوتوں کا اتحاد اور کریا-شکتی کے مجسم روپ میں پِنڈی کی تشکیل ہوتی ہے۔ دیوی کو یَجّیہ علاقے میں ہمہ گیر تصور کرکے رتن اور نذرانے رکھے جاتے ہیں اور اسے پرتِما/آسن میں منسوب کیا جاتا ہے۔ آخر میں کریا-شکتی کو پیٹھ پر اور گیان-شکتی کو وِگْرہ میں قائم کرکے امبیکا/شیوا کی نہایت ادب سے لمس-سنسکار سمیت مکمل اُپچاروں سے پوجا کی جاتی ہے۔

6 verses

Adhyaya 99

Sūrya-pratiṣṭhā-kathana (Account of Installing Sūrya)

اس باب میں بھگوان واستو–پرتشٹھا اور ایشان-کلپ کے سیاق میں سورْیہ-پرتشٹھا کا طریقہ بیان کرتے ہیں۔ رسم بیج/ورن کے منتر-حروفی سلسلوں سے شروع ہو کر، سابقہ بیان کے مطابق منڈپ کی ترتیب، اسنان (غسلِ رسم) اور شدھی (تطہیر) جیسے ابتدائی اعمال کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔ ودیا-آسن/شیّیا پر پجاری بھاسکر کا انگ-نیاس کرتا ہے، پھر تری-تتّو کی स्थापना اور سُوَروں کے ساتھ کھادی-پنچک کا نیاس کر کے منتر، تتّو اور روپ/ادھِشٹھان کی تہہ در تہہ ترتیب دکھاتا ہے۔ پِنڈی کو دوبارہ پاک کر کے تتّو-پنچک کے ذریعے مقررہ س-دیش-پد تک نیاس پھیلایا جاتا ہے۔ گرو سرْوتومکھی شکتی قائم کر کے اپنے ہاتھ سے شکتی-یُکت سورْیہ کی پرتشٹھا کرتا ہے۔ آخر میں ‘سوامِن’ پر ختم ہونے والی نامگذاری کی روایت اور پہلے سکھائے گئے سورْیہ-منتروں کی حجّیت کو پرتشٹھا کے لیے پھر سے ثابت کیا جاتا ہے۔

5 verses

Adhyaya 100

Chapter 100 — द्वारप्रतिष्ठाकथनम् (Dvāra-pratiṣṭhā-kathana: Procedure for Door Consecration)

اس ادھیائے میں ایشور دروازے (دْوار) کی پرتِشٹھا کا مخصوص وِدھان بیان کرتے ہیں۔ دروازے کے اجزاء کو قَشایہ وغیرہ تطہیری مادّوں سے سنسکار دے کر شَیَن (پرتِشٹھا-شَیّا) پر رکھا جاتا ہے۔ جڑ، وسط اور نوک کے حصّوں میں تثلیثی نیاس کیا جاتا ہے—آتما تتّو سے آغاز کر کے درمیانی اصولوں کے क्रम سے ایشور تک—پھر سنّیوِش، ہوم اور جپ کے ذریعے ‘یَتھارُوپ’ سِدّھی کرائی جاتی ہے۔ دروازے پر اَننت منتر کی حفاظت میں واستو پوجا، رَتن پنچک کی स्थापना اور رکاوٹوں کی شانتی کے لیے شانتی ہوم مقرر ہے۔ حفاظت کے لیے جڑی بوٹیاں، اناج وغیرہ مادّے گنوائے گئے ہیں؛ پرنَو کے اُچار کے ساتھ اُدُمبر کے سہارے رَکشا پوٹلی باندھی جاتی ہے۔ سمت و ترتیب میں ہلکا سا شمالی جھکاؤ، نیچے آتما تتّو، پہلو کے ستونوں پر وِدیا تتّو اور آکاش-پردیش میں شِو نیاس، آخر میں مُولا منتر سے پرتِشٹھا ہوتی ہے۔ اختتام پر دْوارپال دیوتاؤں اور تَلپ وغیرہ سہاروں کو حسبِ استطاعت نذر، کمی کی تلافی کے لیے پرایشچت آہوتیاں، دِک بَلی اور مناسب دَکشِنا کا حکم ہے۔

9 verses

Adhyaya 101

Chapter 101 — प्रासादप्रतिष्ठा (Prāsāda-pratiṣṭhā): Consecration and Installation of the Temple

اس باب میں بھگوان اگنی پرساد-پرتِشٹھا کا سلسلہ بیان کرتے ہیں، جس میں واستو کی ترتیب اور تانترک-آگمک باطنی استقرار یکجا ہوتا ہے۔ پرتِشٹھا کا مقام شُکنَاشا کے اختتام کے قریب، مشرقی ویدی/ویدیکا-پیٹھ کے وسط میں مقرر ہے، جس سے مندر کی پران-شکتی کے لیے مکانی قواعد قائم ہوتے ہیں۔ آدھار-شکتی سے آغاز کر کے پدم آسن نصب کیا جاتا ہے اور پرنَو سے مُہر بند کیا جاتا ہے؛ پھر سونے وغیرہ کی بنیاد پر پیٹھ تیار کر کے پنچگَوْیہ سمیت پاکیزہ مادّوں سے سنسکار کیا جاتا ہے۔ شہد و دودھ سے آراستہ کُمبھ قائم کر کے پانچ قسم کی قیمتی اشیا کا نِکشےپ رکھا جاتا ہے، کپڑا، ہار، خوشبو، پھول اور دھوپ سے آراستگی ہوتی ہے؛ معاون یَگّی اوزار اور آم کے پَلّوَو سجا دیے جاتے ہیں۔ پھر پرانایام (پورک/ریچک) اور نیاس کے ذریعے گرو شَمبھو کو بیدار کر کے دوادشانت سے آگ جیسی چنگاری کھینچ کر کُمبھ میں پرتِشٹھت کرتے ہیں۔ بعد ازاں آیوُدھ، کلاؤں، کْشانتی، واگیشور، ناڑی-پران جال، اندریاں اور ان کے دیوتا، اور سَروَویَاپی شِو کو مُدرا، منتر، ہوم، پروکشن، لمس اور جپ سے یکجا کر کے دیوتا-روپ مکمل کیا جاتا ہے؛ آخر میں کُمبھ کی سہ حصّی ترتیب سے مستحکم دیویہ نِواس قائم ہوتا ہے۔

13 verses

Adhyaya 102

Chapter 102 — ध्वजारोपणं (Dhvajāropaṇa: Raising/Installing the Temple Flag)

یہ باب ایشان-کلپ کے شَیو-آگمک طریقِ کار میں واستو–پرتِشٹھا کے سلسلے کو آگے بڑھاتا ہے۔ اس میں چولک (شِکھر کا بالائی حصہ/فِنِیئل)، دھوجا-دَنڈ (جھنڈا ستون) اور دھوجا (پتاکا) کی تطہیر، تقدیس اور تنصیب بیان کی گئی ہے۔ کُمبھ پر ویشنو نشان، ‘اَگرچول’ کی تعیین، اور لِنگ پر ایش-شول-چولک جیسے امتیازی اوصاف مذکور ہیں؛ نیز دھوجا چڑھاتے وقت ٹوٹ پھوٹ ہونا راجا/یجمان کے لیے اَشُبھ نِمِتّ قرار دیا گیا ہے۔ شانتی کرم، دوارپال پوجا، منتر دیوتاؤں کو ترپن، اَسترمنتر سے اسنان/پروکشن، پھر نیاس اور اَنگ پوجا کا نظم بتایا گیا ہے۔ شِو کو سَروَتَتّوَمَی اور ویاپک مان کر دھیان کیا جاتا ہے؛ اَننت، کالرُدر، لوک پال، بھون اور رُدرگن برہمانڈ کی اسکیم میں تصور کیے جاتے ہیں۔ دھوجا ایک عمودی کاسموگرام بن جاتا ہے—تتّو، شکتیوں (کنڈلنی سمیت)، ناد اور حفاظتی حضوریوں کی ترتیب کے ساتھ۔ آخر میں مطلوبہ پھل کے لیے پردکشنا، پاشوپت چنتن سے حفاظت، عیبوں کا پرایَشچِت، دکشِنا، اور پرتِما/لِنگ/ویدی بنانے والوں کے لیے طویل مدّت پُنّیہ کا وعدہ بیان ہوا ہے۔

30 verses

Adhyaya 103

जीर्णोद्धारः (Jīrṇoddhāra) — Renovation and Ritual Handling of Defective Liṅgas and Old Shrines

علمِ دَھوجاروہن کی تکمیل کے بعد یہ باب جیर्णودھّار—قدیم مندروں اور عیب دار شِو لِنگ کی شرعی/آگمی مرمت و بحالی—کا بیان کرتا ہے۔ ایشور لِنگ کے عیوب گنواتے ہیں: شُبھتا کی کمی، ٹوٹ پھوٹ، سوجن/موٹاپا، بجلی/وَجر کا لگنا، ڈھانپ جانا، دراڑ، بگاڑ، عدمِ استحکام، بےترتیب نصب، سمتوں میں اشتباہ اور گر پڑنا۔ تدارک میں پِنڈی (پیٹھ) اور وِرش/نَندی کا نشان وغیرہ، منڈپ کی تعمیر، دروازہ پوجا، ستھنڈِل کی تیاری، منتر-توشن، واستو دیو کی پوجا اور بیرونی دِشاؤں کی بَلی کا مرحلہ وار طریقہ ہے۔ پجاری شَمبھو سے دعا کر کے مقررہ اشیا اور تعداد کے ساتھ شانتی-ہوم کرتا ہے، اَنگ منتر اور اَستر منتر سے سنسکار کرتا ہے، کوپ-لِنگ سے وابستہ رکاوٹی قوتوں کا وِسرجن کر کے پروکشن، کُش-سپَرش، جپ اور تتّو اَدھیپتیوں کو اُلٹے (پرتیلوم) क्रम سے اَرغیہ پیش کرتا ہے۔ پھر لِنگ کو باندھ کر لے جانا، نِمَجّن (غوطہ/غسل) اور اس کے بعد پُشٹی-ہوم اور حفاظتی اعمال ہوتے ہیں۔ بنیادی قاعدہ دہرایا گیا ہے: پرتِشٹھت لِنگ یا پرانا/ٹوٹا مندر منتقل نہ کیا جائے؛ مرمت میں تقدّس برقرار رہے۔ آخر میں گربھ گِرہ کے نقشے کی تنبیہ: حد سے زیادہ تنگی موت کی علامت، اور حد سے زیادہ وسعت دولت کے زیاں کا سبب۔

21 verses

Adhyaya 104

Prāsāda-Lakṣaṇa (Characteristics of Temples): Site Division, Proportions, Doorways, Deity-Placement, and Bedha-Doṣa

اس ادھیائے میں بھگوان ایشور شکھدھوج کو پرساد (مندر) کی عمومی علامات بتاتے ہیں۔ ابتدا میں تعمیراتی زمین کی منضبط تقسیم اور گربھ (گربھ گِرہ)، پِنڈِکا، اندرونی خلا اور بھِتّی پٹّہ کے معیاری پیمانوں کے مطابق تناسب کی منطق بیان ہوتی ہے۔ چار، پانچ اور سولہ حصوں والی مختلف روایتیں/پাঠ تسلیم کی جاتی ہیں، مگر پرمان (معیاری ناپ) کی برتری برقرار رہتی ہے۔ پھر جگتی، نیمی کے گرداگرد بند، محیط کی تقسیم اور رتھک ابھاروں سمیت بلندی کے نقشے کا ذکر آتا ہے۔ دِک-پرتِشٹھا میں مشرق میں آدتیہ، دیگر سمتوں میں یم وغیرہ، اور وायु کے حصے میں سکند–اگنی کی स्थापना؛ باہر پردکشنا کا حکم ہے۔ پرساد، میرو، مندر، وِمان اور بالبھī، گِرہراج، شالاگِرہ وغیرہ اقسام کی درجہ بندی، مربع، دائرہ، طویل اور ہشت پہلو شکلوں سے نکلنے والی نو نو ذیلی قسموں سمیت دی گئی ہے۔ آخر میں دروازوں کے اصول—بین السمتوں میں دروازہ نہ ہو، انگُل پیمائش سے درجۂ وار سائز، شاخاؤں کی تعداد، دوارپالوں کی جگہ، بِدھ/بیدھ عیب کے شگون، اور کن حالتوں میں حد شکنی کا عیب پیدا نہیں ہوتا—واضح کیے گئے ہیں۔

34 verses

Adhyaya 105

नगरादिवास्तुकथनं (Discourse on Vāstu for Cities and Related Settlements)

اس ادھیائے میں بھگوان ایشور شہر، گاؤں اور قلعہ وغیرہ بستیوں کی خوشحالی کے لیے 81-پد (9×9) منڈل کے ذریعے واستو پوجا اور پرتِشٹھا کی رسم و تکنیک بیان کرتے ہیں۔ مشرقی سمت کی ناڑیوں کے نام، منڈل کے پد/‘پاؤں’ سے وابستہ القاب، اور سمتوں، بین السمتوں، درمیانی حصّوں اور پنکھڑی نما ذیلی تقسیمات میں دیوتاؤں و قوتوں کی تقرری (مایا، آپوتس، سویتṛ/ساوتری/ویوسوان، وِشنو، مِتر وغیرہ) مذکور ہے۔ پھر تعمیر کے باب میں ایکاشی پد مندر، شت انگھرک منڈپ جیسے نقشے، کمروں کی جگہ بندی، دیواروں کے تناسب، وِیتھی/اُپ وِیتھی راستے، اور بھدرا، شری-جَی جیسے لے آؤٹ بتائے گئے ہیں۔ ایک، دو، تین، چار اور آٹھ شالا گھروں کی اقسام، سمت کی کمیوں کی علامتیں، شُول/تری شُول/تری شالا نشانات سے شگون شناسی، سمت کے مطابق سونے، ہتھیار، دولت، مویشی اور دیکشا کے مقامات کی زون بندی، باقیہ (remainder) پر مبنی درجہ بندی اور دروازوں کے نتائج (پھل) تفصیل سے دے کر—واستو شاستر کو دیوتا-نظام کے مطابق ایک دھارمک علم قرار دیا گیا ہے جو مستحکم بھُکتی اور مبارک رہائش عطا کرتا ہے۔

39 verses

Adhyaya 106

Chapter 106 — नगरादिवास्तुः (Vāstu Concerning Towns and Related Settlements)

بھگوان اگنی (بصورتِ ایشور) وشیِشٹھ کو راجیہ-وِردھی کے لیے شہر بسانے اور اس کی ترتیب کے واستو اصول سکھاتے ہیں۔ ابتدا میں یوجنا کے پیمانوں سے جگہ کا انتخاب، پھر پرتِشٹھا کے ابتدائی اعمال—واستو دیوتاؤں کی پوجا اور بَلی کی نذر—بیان ہوتے ہیں۔ اس کے بعد 30-پَد واستو منڈل اور دروازوں کی سمت وار تعیین: مشرق سورَیّہ کھنڈ میں، جنوب گندھرو میں، مغرب ورُن میں، شمال سَومیہ میں—مقرر کی گئی ہے۔ ہاتھی کے گزرنے کے قابل دروازے کی پیمائش، منحوس دروازہ-ہیئتوں کی ممانعت، اور شہری دفاع کے لیے شانتی کر (حفاظتی) ترتیبیں بتائی گئی ہیں۔ چاروں سمتوں میں پیشوں و انتظامیہ کی تقسیم—کاریگر، فنکار/نٹ، وزراء، عدالتی اہلکار، تاجر، طبیب، گھڑسوار—اور شمشان، مویشی باڑے، کاشتکاروں کی جگہ کا ذکر ہے۔ دیوتاؤں کی پرتِشٹھا کے بغیر بستی ‘نِردَیوت’ کہلا کر آفات کا شکار ہوتی ہے؛ دیوتا-محفوظ شہر فتح، بھوگ اور موکش دیتا ہے۔ آخر میں گھر کے اندرونی حصے—باورچی خانہ، خزانہ/کوش، غلہ گودام، دیوتا کمرہ—اور گھروں کی اقسام—چتُہ شالا، تری شالا، دوی شالا، ایک شالا؛ آلِند/دلِند وغیرہ—بیان کی گئی ہیں۔

24 verses