Agneya-vidya
AgniRitualsMantraWorship

Agneya-vidya

The Science of Ritual Worship

Comprehensive instructions on Agni-based rituals, temple worship procedures, mantra recitation, and the sacred science of fire ceremonies.

Adhyayas in Agneya-vidya

Adhyaya 17

Chapter 17 — सृष्टिविषयकवर्णनम् (An Account Concerning Creation)

اگنی دیو وِسِشٹھ کو اوتار کی روایت سے ہٹا کر تخلیقِ کائنات کی طرف لے جاتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ سृष्टی وشنو کی لیلا ہے جو بیک وقت سگُن بھی ہے اور نِرگُن بھی۔ اَویَکت برہمن سے وشنو کا پرکرتی-پُرُش میں ورود، پھر مہت، سہ گانہ اہنکار، اور تنماتراؤں سے آکاش سے پرتھوی تک مہابھوتوں کا ظہور سانکھیہ رنگ میں بیان ہوا ہے۔ ساتتوِک اہنکار سے من اور ادھِشٹھاتری دیوتا، اور تامس/تیجس سے حواس کی قوتیں پیدا ہوتی ہیں۔ ‘نارائن’ کے پانیوں کی اشتقاق، ہِرنیآنڈ اور ہِرنیاگربھ برہما کا انڈے کو آسمان و زمین میں تقسیم کرنا، آکاش، سمتیں، زمان و مکان، نیز کام، کرودھ، رتی جیسی نفسی قوتوں کی تاسیس مذکور ہے۔ آگے بادل و فضائی مظاہر، پرندے، پرجنیہ، یَجْن کے لیے ویدی چھند و منتر، اور آخر میں رُدر، سنَتکُمار، سات مانس برہمرشی اور برہما کی اَردھناری تقسیم سے مخلوقات کی پیدائش—یوں کائناتی نظم کو یَجْن کی ترتیب اور قربانی کی تاثیر سے جوڑا گیا ہے۔

16 verses

Adhyaya 18

Svāyambhuva-vaṁśa-varṇanam (Description of the Lineage of Svāyambhuva Manu)

اگنی سَرگ کی کہانی سے آگے بڑھ کر نسب نامہ اور دھرم کی مقدّس تاریخ بیان کرتے ہیں۔ سوایمبھُو منو کی اولاد—پریہ ورت، اُتّانپاد اور شتروپا—سے آغاز ہو کر دھرو کی تپسیا اور وِشنو کے انُگرہ سے دھرو لوک/دھرو پد (قطبی ستارے کا اٹل مقام) عطا ہونے کا ذکر آتا ہے۔ پھر وंश میں وینا سے پرتھو کا ظہور راجرشی حکمرانی کی مثال بنتا ہے؛ وسندھرا کا ‘دُوہن’ کر کے اناج و حیات کی بقا کے لیے وسائل کے دھارمک حصول کی علامت دکھائی گئی ہے۔ اس کے بعد پرچیتسوں کی تپسیا، مارِشا سے نکاح اور دکش کی پیدائش؛ دکش اپنی بیٹیوں کو دھرم، کشیپ، سوم وغیرہ کے سپرد کر کے سृष्टی کا پھیلاؤ کرتا ہے۔ آخر میں وشویدیَو، سادھْی، مروت، وسو، رودر؛ اسکند کے القاب اور وشوکرما کی دیوی معمارانہ حیثیت فہرستوں کی صورت میں آ کر پوران کی فہرستی روایت کو یَجْیَ، سماج، ہنر و شِلپ اور بھکتی کے عمل سے جوڑتی ہے۔

44 verses

Adhyaya 19

Chapter 19 — कश्यपवंशवर्णनम् (Description of Kaśyapa’s Lineage)

اس باب میں اگنی سृष्टی کے بیان سے نسب نامہ جاتی کائناتی نقشہ کی طرف آتے ہیں اور کشیپ کی اولاد کا تذکرہ کرتے ہیں، جس سے منونتروں میں دیوتا، نیم دیوتا اور مخالف نسلیں جہانوں کو کیسے آباد کرتی ہیں یہ واضح ہوتا ہے۔ ابتدا تُشِتاؤں اور آدتیوں کی فہرست سے ہوتی ہے (وشنو/اِندر اور شمسی دیوتا شامل)، پھر دِتی کی نسل میں ہِرنیکشیپو اور ہِرنیاکش کے ذریعے “یوگ بہ یوگ” دشمن قوتوں کے بار بار ظہور کا چکر بتایا جاتا ہے۔ دانَو شاخوں میں پرہلاد، بَلی، بाण وغیرہ کا ذکر ہے اور پرہلاد کی وشنو-بھکتی سے دیو نسل کے اندر بھی اخلاقی درجہ بندی نمایاں ہوتی ہے۔ آگے کشیپ کی بیویاں—پُلومَا، کالَکا، وِنَتا، کَدرو، سُرسا، سُرَبھِی وغیرہ—اور ان سے پرندوں، ناگوں، جانوروں اور نباتات کی پیدائش کو پراتِسَرگ (ثانوی تخلیق) کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اختتام پر چِتررتھ، واسُکی، تَکشَک، گَروڑ اور دِکپالوں کے اختیارات سمیت کائناتی نظمِ حکومت مرتب کر کے یَجْن کے ترتیب وار نظام جیسی دھارمک حکمرانی کی تائید کی گئی ہے۔

28 verses

Adhyaya 20

Sargaviṣayaka-varṇana — The Topics of Primary Creation (Sarga)

بھگوان اگنی سَرگ (تخلیق) کے موضوعات کو ایک منظم درجہ بندی کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ پہلے پراکرت سَرگ—برہما کی ابتدائی تخلیقی نمود کے طور پر مہت تَتّو، پھر تنماترا کی بنیاد پر ثقیل بھوتوں کی پیدائش، اور اس کے بعد ویکارک/ایندریَک مرحلے میں حواس اور ان کے افعال کا ظہور۔ آگے ساکن مخلوقات، تِریَکسروتس (حیوانی اَرحام/یونیاں)، اُردھوسروتس دیوتا، اور واکسروتس انسان—یہ مدارج؛ آخر میں ‘انوگرہ سَرگ’ سَتّو-تَمَس کے اخلاقی و روحانی نتائج کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پھر نسبی مثالیں—دکش کی بیٹیوں اور رِشی سلسلوں سے دیوی و رِشی ہستیاں پیدا ہونا، رُدر کی پیدائش اور القاب، اور ستی کا پاروتی کے روپ میں پنرجنم۔ اختتام پر نارَد وغیرہ رِشیوں کی بتائی ہوئی سْنان-پوروک، سوایمبھُو روایت کی پوجا—وشنو اور دیگر دیوتاؤں کی بھکتی کے ذریعے بھُکتی اور مُکتی کا ذریعہ قرار دی گئی ہے۔

23 verses

Adhyaya 21

Chapter 21 — सामान्यपूजाकथनम् (Teaching on General Worship)

اس باب میں وِشنو وغیرہ دیوتاؤں کے لیے قابلِ اطلاق “سامانْیَ پوجا” کا معیاری خاکہ مرتب کیا گیا ہے۔ اچیوت کو سَپَریوار عمومی نمسکار سے آغاز کر کے، خادم دیوتاؤں، منڈل کی ترتیب اور حفاظت/قوت افزا اجزاء کو مرحلہ وار پھیلایا گیا ہے۔ دوار-شری، واستو جیسی مقاماتی طاقتیں، کورم اور اننت جیسے کائناتی سہارے، اور کنول کی علامت میں دھرم اور اس کے مخالف اوصاف کی نقشہ بندی بیان ہے۔ پھر وِشنو کے آیُدھ اور بیج (شریں، ہریں، کلیں)، شِو پوجا کی عمومی روش (نندی اور مہاکال سے آغاز)، اور سورْیَ پوجا میں ہردیہ/شِر/نیتر وغیرہ پر نیاس نما تقرریاں، کَوَچ کے اجزاء، اور راہو–کیتو سمیت سیّارگانہ ادغام دیا گیا ہے۔ منتر سازی کے قواعد (پرنَو، بِندو، چتُرتھی + نمہ) اور تل و گھی کے ہوم سے پُروشارتھ پھل دینے والی تکمیل، نیز نسخہ جاتی اختلافات کا ذکر بھی ملتا ہے۔

27 verses

Adhyaya 22

Chapter 22 — स्नानविधिकथनं (Instruction on the Rite of Bathing)

اس باب میں سْنان (رسمی غسل) کو عبادت/پوجا سے پہلے لازمی تطہیر اور باطنی ضبطِ نفس کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ نرسِمْہ/سِمْہ منتر کے ساتھ مِرتّکا (پاک مٹی) لے کر اسے تقسیم کیا جاتا ہے؛ ایک حصے سے ‘منَہ-سْنان’ کر کے بتایا جاتا ہے کہ پاکیزگی پہلے اندر سے ہے۔ غوطہ، آچمن کے بعد نیاس کیا جاتا ہے اور سِمْہ منتر کے جپ سے رکشا/دِگ بندھ قائم ہوتا ہے؛ تْورِتا یا تْرِپُرا کے حفاظتی منتر بطورِ اختلاف بھی مذکور ہیں۔ اَشٹاکشری منتر سے ہردے میں ہری-گیان کی استھاپنا، واسودیو-جپ سے تیرتھ-جل کی سنسکار، ویدک منتروں سے بدن کی شُدھی اور مورتی-پوجن کیا جاتا ہے۔ اَگھمرشن، پاک لباس، ہتھیلی کے جل کی شُدھی، نارائن منتر کے تحت پرانایام، دْوادشاکشری سے اَرگھْی اور یوگپیٹھ سے دِکپال، رِشی اور پِترگن تک آواہن-جپ کی تفصیل آتی ہے۔ آخر میں سب کو اپنے اپنے مقام پر رخصت کر کے اَنگ سنہار کیا جاتا ہے اور پوجا-ستھان کی طرف جایا جاتا ہے؛ یوں مول منتر پر مبنی اختتامی سْنان دیگر پوجاؤں کے لیے قابلِ تکرار نمونہ قائم کرتا ہے۔

8 verses

Adhyaya 23

Chapter 23 — पूजाविधिकथनम् (The Account of the Rules of Worship)

اس باب میں نارَد برہمنوں کو منضبط ویشنو پوجا کا سلسلہ بتاتے ہیں۔ ابتدا میں پاؤں دھونا، آچمن، خاموشی اور حفاظتی اعمال؛ پھر مشرق رُخ نشست، مُدرَا اور بیج دھیان—ناف میں ‘یَم’ بطور تیز ہوا، دل میں ‘کشَوں’ بطور درخشاں خزانہ—چاروں سمت کی آگ سے آلودگی کا دَہن، آسمانی چاند کی مانند اترتی امرت دھارا سے لطیف بدن کا اسنان اور سُشُمنَا و نادیوں میں اس کا گردش کرنا۔ اس کے بعد ہاتھوں کی شُدھی، اَستر منتر اور ویاپک استھاپن، اور ہردیہ-شِرَس-شِکھا-کَوَچ-اَستر-نیتر وغیرہ میں پورا نیاس۔ ویدی کی ترتیب (وردھنی بائیں، سامان دائیں)، منتر پروکشن سے تقدیس، اور یوگ پیٹھ کی تعمیر میں سمتوں کے مطابق گُن اور ضدّی گُنوں کی جگہ بندی۔ پدم منڈل کا دھیان کر کے ہردیہ سے دیوتا کا آواہن کر کے منڈل میں استھاپن؛ پُنڈریکاکش ودیا کے مطابق ارگھ، پادْی، آچمن، مدھوپرک، اسنان، وستر، آبھوشن، دھوپ، دیپ وغیرہ اُپچار۔ پھر آیُدھ چِہن، پریوار اور دِکپال پوجا؛ جپ، پردکشنا، ستوتی، ارگھ سے اختتام اور ‘اَہَم برہما؛ ہریس تُوَم’ کا تاداتمیہ قول۔ آخر میں ایک رُوپ پوجا سے نو-ویوہ اسکیم میں انگلی و بدن نیاس کے ساتھ انتقال اور چند نسخہ جاتی اختلافات کا ذکر ہے۔

23 verses

Adhyaya 24

Chapter 24 — कुण्डनिर्माणादिविधिः (Procedure for Constructing the Fire-pit and Related Rites)

اس باب میں نارَد مطلوبہ مقاصد میں کامیابی دینے والے اگنی-کارْیَ کا اعلان کرتے ہیں۔ ہوم کُنڈ کی تعمیر کے لیے واسْتو جیسے دقیق پیمانے—رسی سے ناپ تول، جگہ کی کھدائی، میکھلا (اُبھرا ہوا کنارہ) بنانا، یونی-نالہ کی تدریجی چوڑائیاں، مقررہ ڈھلوان اور سمت—تفصیل سے بیان ہیں۔ دائرہ، نیم چاند، کنول نما وغیرہ متبادل کُنڈ اشکال اور شُرُک/شُرُوا، سْرُوا پیالے کے اَنگُل (انگلی) پر مبنی تناسب بھی دیے گئے ہیں۔ پھر دربھہ کی تہیں بچھانا، برتنوں کی ترتیب، پرنیت پانی تیار کرنا، چھڑکاؤ، گھی کا آجیَہ-سنسکار اور پرنَو کو وحدت کے منتر-تتّو کے طور پر لے کر ہوم کی ترتیب آتی ہے۔ گربھادھان سے سماورتن تک کے سنسکاروں کو ویشنو اگنی پوجا میں مربوط دکھایا گیا ہے۔ آخر میں بیج-شودھی، برہمانڈ دھیان، لِنگ کی تبدیلی جیسی باطنی سادھنا، گرو کی رہنمائی میں دیکشا کے اجزاء، وِشوَکسین کو آہوتی اور نتیجہ—بھोगی کو دنیوی تکمیل، مُمُکشو کو ہری میں لَے—یوں بھُکتی اور مُکتی کا اتحاد واضح کیا گیا ہے۔

59 verses

Adhyaya 25

Explanation of the Vāsudeva and Related Mantras (वासुदेवादिमन्त्रनिरूपणम्)

اس باب میں نارَد واسو دیو-منتر نظام اور چتُرویوہ (واسودیو، سنکرشن، پردیومن، انِرُدھ) سے وابستہ عبادت کی علامتیں دریافت کرتے ہیں۔ متن پرَنو اور ‘نمو’ کے صیغوں سے منتر کی تشکیل، سَور-بیج (ا، آ، اں، اَہ) اور طویل/مختصر حروفِ علت و قواعدِ مقام کے ذریعے اَنگ–اُپانگ کی تمیز بیان کرتا ہے۔ پھر شَڈَنگ بیج-نیاس اور دْوادَشَنگ مُول-نیاس کے تحت ہردیہ، شِر، شِکھا، کَوَچ، نَیتر، اَستر وغیرہ میں منتر اجزاء کی تنصیب بتائی گئی ہے۔ گَرُڑ/وَینَتےی، پانچجنیہ شَنکھ، کَؤستُبھ، سُدرشن، شریوتس، وَنَمالا، اَنَنت جیسے دیویہ نشانات میں بیج-گروہوں کے وِنیوگ سے بھکتی اور صوتی تَتّو کا سنگم دکھایا گیا ہے۔ عناصر، وید، لوک، حواس، بدھی-اہنکار-من-چت اور 26 تَتّوؤں تک ویوہ-ترتیب کی مطابقت بھی آتی ہے۔ آخر میں دِکپالوں سمیت منڈل پوجا، کرنِکا-مرکزی دیوتا، اور وِشورُوپ و وِشوَکسین کی پھل بخش عبادت—استحکام اور شاہی فتح—کا بیان ہے۔

50 verses

Adhyaya 26

Explanation of the Characteristics of Mudrās (मुद्रालक्षणकथनं)

پچھلے باب میں منتروں کے بیان کے بعد یہاں مُدرَا-لَکشَṇ (ہاتھ کے مقدس اشاروں کی علامات و ہیئت) کا ذکر ہے، جن سے دیوتا کی سَنّिधی اور دیگر کرم-پھل حاصل ہوتے ہیں۔ نارَد دل کے قریب کی جانے والی ‘اَنجَلی’ کو بنیادی نمسکار مُدرَا بتا کر بھکتی کو فنی طریقۂ عبادت کا دروازہ قرار دیتے ہیں۔ پھر بائیں مُٹھی، اوپر اٹھا انگوٹھا، اور دائیں انگوٹھے کی گرفت/گرہ بندی وغیرہ کے ذریعے باریک جسمانی ترتیب کو منتر-ودیا کا حصہ بتایا گیا ہے۔ یَجْن-ویوہ میں سادھارن اور اسادھارن مُدراؤں کا فرق، اور چھوٹی انگلی سے شروع کر کے بتدریج کھولتے ہوئے آٹھ مُدراؤں کی ترتیب بیان ہوتی ہے۔ بیج کے استعمال اور سِدّھی جیسے مقاصد میں نسخوں کے اختلافات کا اشارہ، ورَاہ مُدرَا اور اَنگَنا مُدراؤں کا سلسلہ بھی آتا ہے۔ آخر میں دائیں جانب اسی ساخت کو سمیٹ کر عکس کی طرح دہرا کر بتایا گیا ہے کہ درست تشکیل سے مُدرَا-سِدّھی، یعنی رسم کی کامیابی، حاصل ہوتی ہے۔

7 verses

Adhyaya 27

Dīkṣāvidhi-kathana (Explanation of the Rite of Initiation)

اس باب میں مُدرَا-پردرشن کے بعد دِیکشا کی رسم کا باقاعدہ طریقہ بیان ہوتا ہے۔ نارَد ویشنو دِیکشا میں پدم-آکار منڈل میں ہری کی پوجا، حفاظتی تدابیر (نرسِمْہ-نیاس، ‘فٹ’ والے منتر سے رائی/سرسوں کے دانوں کا چھڑکاؤ) اور پراساد-روپ میں شکتی کی پرتِشٹھا بتاتے ہیں۔ اوشدھی اور پنچگوَیّہ سے ابھیشیک، کُشا سے پروکشن، نارائن-انت منترون سے سنسکار، کُمبھ-پوجا اور اگنی-پوجا ہوتی ہے؛ واسودیو، سنکرشن، پردیومن، انِرُدھ—ان ویوہ ناموں سے پکا ہوا ہوی نذر کیا جاتا ہے۔ پھر دیشِک سِرشٹی-کرم کے مطابق پرکرتی سے پرتھوی تک تتّوؤں کو شِشْی پر نیاس سے قائم کرتا ہے اور سنہار-کرم میں ہوم کے ذریعے اُن کا پرتیاہار/شودھن کر کے پورن آہُتی تک لے جا کر بندھن-موکش کا مقصد واضح کرتا ہے۔ منتر اور اعمال کے متعدد پاتھ-بھید بھی محفوظ ہیں؛ آخر میں گرہستھ، سادھک، غریب/تپسوی/بچّے وغیرہ کی اہلیت اور شکتی-دِیکشا کے امکان کا ذکر ہے۔

76 verses

Adhyaya 28

Abhiṣeka-vidhāna (The Procedure for Consecratory Bathing)

اس باب میں دیक्षा کے بیان کے بعد نارَد جی ابھِشیک (تقدیسی غسل) کے وِدھان کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ ابھشیک آچاریہ اور سادھک-شِشیہ کو سِدھی عطا کرنے والا اور بیماریوں کے شَمَن کے لیے علاجی کرم بھی کہا گیا ہے۔ رتنوں سے آراستہ، پرتِما-یُکت کُمبھوں کو مرکز سے شروع کرکے پورب وغیرہ سمتوں کے क्रम میں منظم طور پر رکھا جاتا ہے، جس سے کائناتی نقشہ ظاہر ہو۔ وِدھی کو مثالی طور پر ہزار بار، یا استطاعت کے مطابق سو بار دہرانے سے اس کی شدّت بڑھتی ہے۔ منڈپ-منڈل میں وِشنو کو پیٹھ پر پورب اور ایشان (شمال-مشرق) رُخ پرتِشٹھت کرکے واستو-منطق سے جوڑا جاتا ہے۔ آچاریہ گن اور پُترک کی تیاری، خود ابھشیک کی پوجا، اور گیت/پاتھ جیسی مَنگل دھونیوں کے ساتھ کرم آگے بڑھتا ہے۔ آخر میں یوگپیٹھ سے متعلق سامان کی فراہمی، گرو کی طرف سے سَمَیَ و्रتوں کا اعلان، اور راز داری و ضبط کے ذریعے شِشیہ کو پرمپرا کے کامل حقوق کا اہل ٹھہرایا جاتا ہے۔

5 verses

Adhyaya 29

The Description of the Sarvatobhadra Maṇḍala (सर्वतोभद्रमण्डलकथनम्)

اس باب میں منتر سادھنا کے لیے مقدّس کشترا کے طور پر سروتوبھدر منڈل کی تعمیر اور پرتِشٹھا کا سخت ضابطہ بیان ہوا ہے۔ شُدھ بھومی اور ابتدائی پوجا کے بعد مربع جال کو کملی احاطوں—پیٹھ، ویتھکا، دروازے—میں ترتیب دے کر جہتی دیوتاؤں اور ویدک تقسیمات کو مقرر کیا جاتا ہے؛ تتو، اندریاں اور انتہکرن کی کثیر سطحی جگہ بندی بھی دی گئی ہے۔ پھر رنگوں کے قواعد، رنگ ساز مواد، صفائی و نشان کشی کی ترتیب، انگل-ہست-کر پیمائشیں، اور بیج/منتر/ودیا جپ کے معیار کے ساتھ پورشچرن کی پابندی بتائی گئی ہے۔ اس کے بعد منڈل کی ساخت کو یوگک بدن کے طور پر—ناڑیاں، ہردیہ کمل، بیج شکتی کی کرنیں—سمجھا کر درجہ بہ درجہ دھیان: سْتھول شبد-مورتی، سوکشْم نورانی ہردیہ-روپ، اور فکر سے ماورا پرم پد تک بیان کیا گیا ہے۔ آخر میں 9، 25، 26 وغیرہ کے وسیع ویوہ نقشے، دروازہ آرائش کے اصول، اور مبارک مرتیےشٹیا منڈل کا ذکر کر کے دکھایا گیا ہے کہ مقدّس ڈیزائن عبادت اور ادراک دونوں کو منظم کرتا ہے۔

50 verses

Adhyaya 30

Chapter 30: मण्डलविधिः (Maṇḍala-vidhi) — Procedure for the Maṇḍala

یہ باب مَṇḍala کی خصوصیات پر سابقہ گفتگو سمیٹ کر عملی عبادتی طریقہ بیان کرتا ہے۔ نارَد کمل-بنیاد مَṇḍala میں پوجا کا سلسلہ بتاتے ہیں: وسطی پدم میں برہما کو اُن کے اَنگوں (معاون اجزاء) سمیت قائم کر کے پوجن کیا جائے، تاکہ مَṇḍala محض نقشہ نہیں بلکہ الوہیت کا زندہ میدان بنے۔ پھر مشرقی حصے/پتّی میں پدمَنابھ وِشنو کی تعیین کر کے سمتوں اور پنکھڑیوں کے مطابق دیوتاؤں کی منظم ترتیب دکھائی جاتی ہے۔ یہ اَگنیہ-وِدیا کی روح ہے: مقدس جیومیٹری، منتر-مرکوز عبادت اور دھارمک نظم ایک طریقے میں جمع ہو کر بھکتی کے ساتھ قابلِ تکرار سادھنا قائم کرتے ہیں۔

1 verses

Adhyaya 31

Chapter 31 — मार्जनविधानं (The Procedure of Mārjana / Purificatory Sprinkling)

بھگوان اگنی ‘مارجن’ نامی حفاظتی رسم بیان کرتے ہیں—اپنی حفاظت اور دوسروں کے تحفظ کے لیے پاکیزگی بخش چھڑکاؤ/پروکشن۔ باب کے آغاز میں پرماتما کو نمسکار اور وشنو کے اوتاروں (وراہ، نرسِمْہ، وامن، تری وِکرم، رام، ویکنٹھ، نر) کی وندنا ہے، جس سے یہ بنیاد قائم ہوتی ہے کہ ستیہ، سمرتی (یادِ الٰہی) اور منتر-شکتی کے ذریعے حفاظت حاصل ہوتی ہے۔ پھر دکھ، پاپ، دشمن کے کیے ہوئے اَبھچار، دَوش/سَنّیپات کی قسموں جیسے امراض، متعدد ماخذ کے زہر، اور گِرہ‑پریت‑ڈاکنی‑ویتَال‑پِشَچ‑یکش‑راکشش وغیرہ آفات کے تسکین و ازالے کی تفصیل آتی ہے۔ سُدرشن اور نرسِمْہ کو جہات کے محافظین کے طور پر پکارا جاتا ہے اور ‘کاٹو/چھیدو’ جیسی تکراری صیغوں سے درد و بیماری کے قطع کرنے کا بیان ہے۔ آخر میں کُش گھاس کو وشنو/ہری کا روپ اور اپامارجنک کو بیماری دور کرنے والا ‘ہتھیار’ قرار دے کر، منترجپ، رسم کے مادّی وسائل اور بھکتی-مابعدالطبیعات کو یکجا کرنے والی اگنیہ وِدیا کی جامع حفاظتی تکنیک پیش کی جاتی ہے۔

48 verses

Adhyaya 32

Saṃskāra-kathana (Account of the Saṃskāras)

اگنیہ-ودیا کی مسلسل تعلیم میں اس باب میں بھگوان اگنی نِروان-دیکشا وغیرہ دیکشا کے سیاق میں سنسکاروں کی حیثیت واضح کرکے اڑتالیس سنسکاروں کا جامع وِدھان بیان کرتے ہیں، جو سادھک کو ‘دیویہ’ طرزِ حیات کی طرف بلند کرتا ہے۔ وہ گربھادھان، پُنسون، سیمَنتونّین، جاتکرم اور نامکرن جیسے جیون-سنسکار گنواتے ہیں، پھر گِرہیہ اور شروت دائرے میں پاکَیَجْن، دوری/دَوریہ شرادھ، رِتو کرم اور ہویریَجْن—آدھان، اگنی ہوتْر، درش اور پَورنماس—کی تفصیل دیتے ہیں۔ آخر میں سوم یَگ کی प्रणالیوں میں اگنِشٹوم اور اس کی توسیعات کے نام لے کر، اشومیدھ کو ‘ہِرَنیہ’ القابات اور دَیا، کْشانتی، آرجَو، شَؤچ وغیرہ آٹھ اخلاقی اوصاف سے جوڑتے ہیں، یوں یَگ کی شکتی کو اخلاقی تزکیے کے ساتھ مربوط کرتے ہیں۔ اختتام پر جپ، ہوم، پوجا اور دھیان کو سنسکار کی تکمیل کی سادھنا بتا کر بھُکتی و مُکتی، بیماری اور باطنی نقص سے آزادی کے ساتھ دیوتا کی مانند جینے کی بات کہی گئی ہے۔

12 verses

Adhyaya 33

Chapter 33 — पवित्रारोहणविधानं (The Procedure for Pavitrārohaṇa / Installing the Sacred Thread or Consecratory Amulet)

اگنی دیو اس ادھیائے میں پویترا روہن کو ہری کی سالانہ عبادت کی مقررہ مدت بتاتے ہیں—آषاڑھ سے کارتک تک، پرتپدا افضل تِتھی؛ دیگر دیوتاؤں کے لیے اپنی تِتھیوں کا الگ क्रम (مثلاً شِو/برہما دْوِتییا سے) ہے۔ پھر پویترا-سوتر کے انتخاب و تیاری (برہمنی کاتا ہوا دھاگا بہتر، ورنہ شُدھ کیا ہوا)، تانتوں کی تین/نو گنا افزائش، گرنتھیوں کی گنتی (۱۲-گرنتھی وغیرہ)، مورتی پر باندھنے کے مقامات (گھٹنے/کمر/ناف سے اوپر تک)، اور مالا کے پیمانے (۱۰۸/۱۰۰۸؛ انگل-مان) بیان ہوتے ہیں۔ واستو-اپسارن، کھیترپال و دروازہ پوجا، بلی، اور بھوت-شُدھی میں منترودگھات کے ذریعے تنماترا و بھوتوں کا لَے (پرتھوی→جل→اگنی→وایو→آکاش)، پھر بدن کی تطہیر، دیویہ-دہہ دھیان اور ہردے-کمل میں مانس یَگ بتایا گیا ہے۔ آخر میں نیاس، کَوَچ/استر-رکشا، ویشنو وْیوہ-آورنوں کی پرتِشٹھا، رکشا-سوتر باندھنا اور ورت کے آداب (اپواس، کام و کرودھ پر ضبط) سے دنیاوی کمال اور روحانی پھل کی بشارت دی گئی ہے۔

53 verses

Adhyaya 34

Chapter 34 — होमादिविधिः (The Procedure for Homa and Related Rites)

اگنی دیو مرحلہ وار ہوم-ودھی بیان کرتے ہیں—مکان و سادھک کی تطہیر سے لے کر آگنی-پرتِشٹھا، آہوتیاں اور موکش سے جڑے دھیان تک۔ پہلے یاگ-ستھان کو پروکشن منتر سے پاک کر کے وید-دَیہ کے مانند منڈل بنایا جاتا ہے؛ پھر تورن پوجا، دِشاؤں کی استھاپنا، دوارپال کی وندنا اور استر-منتر سے پھول نچھاور کر کے وِگھن-ناش کیا جاتا ہے۔ بھوت-شودھی، نیاس اور مُدرا کے بعد رکشا-ودھان—رائی کا چھڑکاؤ، پنچگوَیہ کی تیاری، متعدد کلشوں کی استھاپنا؛ لوکپالوں کے لیے دس کلش اور ایشان کونے میں وردھنی سمیت کمبھ میں ہری اور استر کی پرتِشٹھا۔ پھر ہوم کی عملی ترتیب—شروک/شروو، پری دھی، اِدھم کی سجاوٹ، پرنیتا/پروکشنِی جل، چرو پاک، ریکھائیں کھینچنا، یونی مُدرا دکھانا اور کنڈ میں اگنی استھاپت کرنا۔ کنڈ-لکشمی (تری گُنا تمک پرکرتی) کا آگ کے مرکز میں دھیان کیا جاتا ہے؛ اور اگنی کو جیووں اور منتروں کی یونی اور موکش-داتا کہا گیا ہے۔ آخر میں سمِدھا اور آہوتیوں کی مقررہ تعداد (108 سمیت) پیش کر کے سات-جِہوا ویشنو اگنی کو بے شمار سورجوں جیسا درخشاں دھیان کیا جاتا ہے۔

41 verses

Adhyaya 35

Chapter 35: पवित्राधिवासनादिविधिः (Method of Consecrating the Pavitra and Related Rites)

بھگوان اگنی رشی وسِشٹھ کو پویتروں کے ادھیواسن (تقدیسی نصب) اور اس کے ساتھ وابستہ حفاظتی و تمہیدی اعمال سکھاتے ہیں۔ ابتدا سمپات کے ذریعے پروکشن (چھڑکاؤ) سے ہوتی ہے، پھر نرسِمہ منتر سے منتر-شکتی، اور استر منتر سے پردہ/حفاظت کی جاتی ہے۔ یَجْن کے برتن کپڑے میں لپیٹ کر مقررہ جگہ رکھے جاتے ہیں، بلْو ملا پانی چھڑکا جاتا ہے اور پھر جپ سے دوبارہ توانائی دی جاتی ہے۔ کُمبھ کے پاس رَکشا وِدھان، اوزاروں کا سمتوں میں نیاس اور ویوہا نسبت (سنکرشن، پردیومن، انِرُدھ) بیان ہے؛ بھسم-تل، گوبر اور سوستی مُدرا سے نشان زد مٹی وغیرہ تطہیری اشیا رکھی جاتی ہیں۔ ہردیہ/شِرس/شِکھا منتروں سے دربھ-جل، دھوپ اور سمتی نذرانوں کی ترتیب؛ پُٹِکا میں چندن، پانی، اَکشَت، دہی اور دُروَا۔ گھر کو تین دھاگوں سے گھیر کر رائی/سرسوں کے دانے بکھیرتے، دروازوں کی پوجا کرتے ہیں؛ وِشنو-کُمبھ کرم سے ‘وِشنو-تیج’ پیدا ہو کر گناہوں کا ناس کرتا ہے۔ گندھ-پُشپ-اَکشَت کے ساتھ پویترا پہلے گرو اور پریوار کو، پھر مول منتر سے ہری کو ارپن کیا جاتا ہے؛ اس کے بعد پرارتھنا، بَلی، کُمبھ کی سجاوٹ، منڈل کی تیاری، رات بھر جاگَرَن اور پران پاتھ—کچھ افراد کے لیے رعایت/حدود ہیں، مگر گندھ-پویتراک کبھی ترک نہ کیا جائے۔

18 verses

Adhyaya 36

Pavitrāropaṇa-vidhāna (The Procedure for Installing the Pavitra)

بھگوان اگنی رشی وسِشٹھ کو پَوِتر (پَوِترک) کے آروپن کا سالانہ پرایشچتّ اور تطہیری عمل بیان کرتے ہیں، جو روزمرہ پوجا میں ہونے والی کوتاہیوں کی تلافی کرتا ہے۔ صبح کے اسنان، دوارپالوں کی پوجا اور خلوت میں تیاری کے بعد پہلے سے استعمال شدہ سنسکار کے سامان اور باسی نَیویدیہ ہٹا کر دیوتا کی ازسرِنو پرتِشٹھا اور پوجا کی تجدید کی جاتی ہے۔ پنچامرت، کشای قہوے اور خوشبودار جل سے سناپن، ہَون اور نَیمِتّک پوجا ہوتی ہے؛ وِشنو‑کُمبھ کا آواہن، ہری سے عرض و نیاز اور ہردادی منتروں سے منتر‑سنسکار کیا جاتا ہے۔ پھر پَوِتر دھارن/स्थاپت کر کے دیوتا کو ارپن کیا جاتا ہے اور دوارپال، آسن، گرو اور پریچارکوں کو بھی نذر کیا جاتا ہے۔ پُورن آہُتی سے پرایشچتّ مُہر بند ہوتا ہے؛ 108 کی گنتی اور کثیر پھول‑مالا کی بھینٹ کمال و تکمیل دکھاتی ہے۔ آخر میں معافی کی یाचنا، بَلی و دَکشِنا، برہمنوں کا اکرام اور پَوِتر کا وِشنولोक کے لیے وِسَرجن؛ استعمال شدہ پَوِتر برہمن کو دان کرنے سے تاروں کی تعداد کے مطابق پُنّیہ، نسل کی سربلندی اور بالآخر موکش حاصل ہوتا ہے۔

22 verses

Adhyaya 37

Chapter 37 — सर्वदेवपवित्रारोहणविधिः (Procedure for Installing the Pavitra for All Deities)

بھگوان اگنی، وِشنو کے پَوِتر آروپن کی ہدایت کے بعد، تمام دیوتاؤں کے لیے عام ‘سَروَدیو پَوِتر آروپن’ کی رسم بیان کرتے ہیں۔ پَوِتر کو مبارک علامات والا پاکیزہ کرنے والا وسیلہ کہا گیا ہے، جو پاک مادّہ، درست منتر-دھونی اور سنسکرت آگنی-ہوم کی قوت کے ساتھ مل کر مؤثر ہوتا ہے—یوں مادّی طہارت، صوتی درستی اور ہوم-شکتی ایک ہی ضابطۂ عبادت میں جمع ہو جاتی ہیں۔ دیوتا کو کائنات کی رحم/منبع اور خالق کہہ کر، خاندانِ دیوتا سمیت آواہن کیا جاتا ہے اور صبح کے وقت پَوِترک نذر کیا جاتا ہے۔ اس عمل کا نام صراحتاً ‘پَوِتر آروپن’ ہے؛ یہ سال بھر کی پوجا کا پھل دینے والا تطہیری عمل ہے جو پچھلی نذروں کو مُہر لگا کر کامل کرتا ہے، گویا سالانہ محاسبۂ عبادت۔ شِو، سورَیَ، وانےشور اور شکتی دیو وغیرہ کے لیے مخصوص قبولیت کے منتر بھی دیے گئے ہیں۔ سُوتر/یجنوپویت کی رمزیت کو نارائن، انِرُدھ، سنکرشن، کام دیو اور واسودیو سے معمور بتا کر حفاظت، خوشحالی، صحت، علم، اولاد اور چاروں پُرُشارتھ سے جوڑا گیا ہے۔ آخر میں پَوِترک کو دیوی لوک کی طرف روانہ/وسرجن کر کے چکر مکمل کیا جاتا ہے؛ نیز پاتھ بھید کا ذکر روایتِ نقل و اشاعت کی تاریخ دکھاتا ہے۔

14 verses

Adhyaya 38

Chapter 38 — देवालयनिर्माणफलं (The Merit of Constructing a Temple)

اگنی فرماتے ہیں کہ دیوالیہ/مندر، خصوصاً واسودیو کا مندر قائم کرنا بے شمار جنموں کے جمع شدہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے؛ جو صرف خوش ہو کر اس کارِ خیر میں مدد دے، وہ بھی ثواب پاتا ہے۔ تعمیر، نگہداشت، لیپ/پلستر، جھاڑو دینا، اینٹیں فراہم کرنا، حتیٰ کہ بچوں کا ریت سے مندر بنانا بھی دھرم ہے؛ اس سے وشنو لوک اور نسل کی بلندی ملتی ہے۔ فریب یا محض نمود و نمائش سے جنت کا پھل نہیں ملتا۔ ایک، تین، پانچ، آٹھ اور سولہ حصوں والے پرساد/معبد کی صورتوں کے مطابق مختلف لوکوں کے پھل بتائے گئے ہیں؛ اعلیٰ مندروں سے بھکتی-مکتی اور پرم ویشنو آیتن سے موکش۔ دولت ناپائیدار ہے؛ اسے مندر سازی، دوِجوں کو دان، کیرتن اور ستوتی میں لگانا افضل ہے۔ وشنو سب کے سبب اور سب میں محیط ہیں؛ ان کے دھام کی स्थापना عدمِ بازگشت (پونرجنم سے نجات) کا سبب ہے۔ پرتِما سازی اور پرتِشٹھا کے پھل کا تقابل، مواد کے درجے، اور پرتِشٹھا میں لامحدود پھل بیان ہوا ہے۔ یم کے حکم سے مندر بنانے والے اور پرتِما پوجنے والے دوزخی گرفت سے محفوظ رہتے ہیں؛ آخر میں ہयग्रीو کی منسوب پرتِشٹھا ودھی کی تمہید آتی ہے۔

50 verses

Adhyaya 39

Chapter 39 — भूपरिग्रहविधानम् (Bhū-parigraha-vidhāna: Procedure for Acquiring and Ritually Securing Land)

ہیاگریو پرتِشٹھا کے طریقے کی تمہید کے طور پر زمین کے شرعی/دھارمک حصول اور تطہیر کا بیان کرتے ہیں۔ پہلے ہَیَشیِرش تَنتر وغیرہ کے نام گنوا کر پانچراتر/تانترک سلسلے کی سند قائم کی جاتی ہے، پھر کون پرتِشٹھا کر سکتا ہے، جھوٹے آچاریہ کی علامتیں، اور یہ کہ سچا گرو بیرونی نشانوں سے نہیں بلکہ تانترک مہارت سے پہچانا جاتا ہے۔ اس کے بعد واستو منصوبہ بندی میں دیوتاؤں کا بستی کی طرف رُخ اور سمتوں کے مطابق نیاس/استقرار—اگنی، یم، چنڈیکا، ورُن، وایو، ناگ، کُبیر/گُہ، اور ایشان حصے کے دیوتا—مقرر کیے جاتے ہیں۔ تناسب اور حد بندی کی تنبیہ کے بعد بھومی شودھن، بھوت بلی، آٹھ سمتوں میں آٹھاکشر منتر کے ساتھ ستّو کا چھڑکاؤ، پھر ہل چلانا اور گائے کے پاؤں سے زمین کو جما دینا بتایا گیا ہے۔ آخر میں ترسرینو سے پدمہست تک پیمائش کی زنجیر دے کر طہارت کو تعمیراتی علم سے جوڑا گیا ہے۔

21 verses

Adhyaya 40

Chapter 40 — भूपरिग्रहो नाम (Bhū-parigraha) / अर्घ्यदानविधानम् (Arghya-dāna-vidhāna)

اس باب میں بھگوان اگنی بھومی-کرم کو واستو-پُرش کے اساطیری و یَجنی تَصوّر پر قائم کرتے ہیں—دیوتاؤں نے ایک ہیبت ناک ہستی کو قابو میں لا کر زمین پر لٹا دیا، اس لیے مقام خود ایک مقدّس جسم بن جاتا ہے۔ پھر سادھک ۶۴-پد (منڈل) میں پدوں اور آدھے پدوں پر دیوتاؤں/قوّتوں کی ترتیب کر کے گھی، اَکشَت، پھول، اناج، گوشت، شہد، دودھ کی مصنوعات اور رنگین مواد سے ہوم-بلی پیش کرتا ہے، تاکہ خیر کی قوّتیں تقویت پائیں اور آسُری رکاوٹیں، پاپ اور روگ دب جائیں۔ تعمیر سے پہلے رکشسوں، ماترِگن، پِشَچوں، پِتروں اور کھیترپال وغیرہ کو بلی دینا مقام کی ہم آہنگی کے لیے لازمی شرط بتایا گیا ہے۔ آگے پرتِشٹھا کے طریقوں میں کُمبھ-ستھاپن (مہیشور/واستو روپ وردھنی سمیت)، برہما اور دِکپال کُمبھ، پُورن آہُتی، منڈل پرَدکشن، دھاگے اور پانی سے نقشہ کشی، کھدائی، مرکزی گڑھے کی تیاری، چتُربھُج وِشنو کو اَرجھ، اور مبارک نِکشےپ—سفید پھول، دکشِناورت شنکھ، بیج اور مٹی—کا بیان ہے۔ آخر میں واستو شاستر کی تنبیہ: پانی کی سطح تک کھود کر شَلیہ (چھپی ہوئی اجنبی رکاوٹ) تلاش کر کے نکالو؛ شگون و علامات سے اس کا پتا چلتا ہے، نہ نکالنے پر دیواروں میں خرابی اور گھر کے مالک کو تکلیف وغیرہ کے دَوش ہوتے ہیں—یوں روحانی پاکیزگی اور انجینئرنگ احتیاط دونوں یکجا کی جاتی ہیں۔

31 verses

Adhyaya 41

Chapter 41 — शिलाविन्यासविधानं (The Procedure for Laying the Stones / Foundation Setting)

خداوندِ آگنی شِلا-وِنیاس اور پاد-پرتِشٹھا کی ہدایات دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ مندر کی تعمیر محض انجینئرنگ نہیں بلکہ تقدیسی سنسکار اور پرتِشٹھا کا عمل ہے۔ ترتیب یوں ہے: منڈپ کی تیاری اور رسوماتی انتظام، پھر کُمبھ-نیاس اور اِشٹکا-نیاس؛ دروازہ و ستونوں کے تناسب؛ کھدائی کو جزوی بھر کر ہموار سطح پر واستو-پوجن۔ اچھی طرح پکی اینٹوں کے اَنگُل پیمانے مقرر ہیں؛ پتھر پر مبنی متبادل میں متعدد کُمبھوں کے ساتھ نصب۔ پنچ-کشایہ، سروَوشدھی-جل اور گندھ-توئے سے پتھروں کا جوڑ/استحکام، اور ‘آپو ہی شٹھا’, ‘شم نو دیوی’, پَوَمانی، ورُن سُوکت اور شری سُوکت کے منتر۔ اس کے بعد ہوم: آگھار، آجیہ-بھاغ، ویاہرتی آہوتیاں اور پرایشچت۔ پجاری اینٹوں اور سمتوں پر دیوتا و شکتیوں کا نیاس کر کے مرکز میں گربھادھان کرتا ہے؛ دھاتوں، جواہرات اور ہتھیاروں سمیت گربھ-کلش نصب کرتا ہے؛ تانبے کے کنول نما برتن میں پرتھوی کا آواہن کر کے کُوپ کرم پورے کرتا ہے—گوموتر چھڑکاؤ، رات کا گربھادھان اور دان۔ آخر میں پیٹھ-بندھ کے پیمانے، تعمیر کے بعد دوبارہ واستو-یَجْن، مندر کے سنکلپ و تعمیر کے پُنّیہ کی ستائش، اور گاؤں کے دروازوں کے سمتی قواعد بیان ہوتے ہیں۔

36 verses

Adhyaya 42

Chapter 42 — प्रासादलक्षणकथनं (Prāsāda-lakṣaṇa-kathana: Characteristics of the Temple/Prāsāda)

اس باب میں ہیاگریو پرساد (معبد) کی تعمیر کا عمومی ضابطہ بیان کرتے ہیں—چوکور زمین کو سولہ حصّوں میں تقسیم کر کے گربھن्यास، دیواروں کی تقسیم اور تناسب کے مطابق بلندی مقرر کی جاتی ہے۔ پھر پرتیما اور اس کی پِنڈِکا (پیٹھ) کو بنیاد بنا کر پیمائش کا نظام دیا جاتا ہے؛ گربھ گِرہ اور دیواروں کے ابعاد نکالے جاتے ہیں اور شِکھر کو دیوار کی اونچائی سے دوگنا رکھنے کا حکم ہے۔ پردکشنا پَتھ کی وسعت، رتھک ابھار، شِکھر و شُکنَاس کی سُوتر (رسی) سے نشان دہی، اور سِمْہ نقش، ویدی، کلش وغیرہ آرائشوں کی جگہیں بتائی گئی ہیں۔ دروازے کی ہیئت معیّن ہے—اونچائی چوڑائی کی دوگنی—اُدُمبَر وغیرہ مبارک لکڑی، اور چنڈ–پرچنڈ، وِشوَکسین، شری وغیرہ دربان دیوتاؤں کا وِدھان ہے۔ پرکار کی اونچائی پرساد کی چوتھائی، گوپورا کچھ کم؛ ورَاہ، نرسِمْہ، شری دھر، ہیاگریو، جامدگنیہ وغیرہ کی سمت وار پرتِشٹھا سے مقام مقدّس ہوتا ہے۔ بعض مخطوطات میں کسری پیمانوں کے اختلافات بھی درج ہیں، جس سے شاستری دقّت اور دھارمک مبارکی پر زور دیا گیا ہے۔

25 verses