Dharma-shastra
DharmaVarnaAshramaEthics

Dharma-shastra

Laws of Righteous Conduct

Exposition of dharma-shastra covering varnadharma, ashrama duties, samskaras, purification rites, and ethical codes for society.

Adhyayas in Dharma-shastra

Adhyaya 150

Chapter 150 — Manvantarāṇi (The Manvantaras) and the Purāṇic Map of Vedic Transmission

بھگوان اگنی دھرم پر مبنی کائناتی نظم کو ترتیب وار بیان کرتے ہوئے منونتروں کی گنتی کرتے ہیں—ہر منونتر کی شناخت منو، اندر، دیوگن، سپترشی اور وہ نسل/پرجا سے ہوتی ہے جو زمین پر دھرم کی ترتیب کو قائم رکھتی ہے۔ سوایمبھوو وغیرہ قدیم ادوار سے لے کر موجودہ شرادھ دیو/ویوسوت منو اور ان کے سپترشیوں تک ذکر کر کے، آئندہ ساورنِی وغیرہ منوؤں کی بھی خبر دیتے ہیں؛ اور بتاتے ہیں کہ برہما کے ایک دن میں ایسے چودہ منو-ادارے ہوتے ہیں۔ پھر دوآپَر کے اختتام پر ہری آدی وید کو تقسیم کر کے چار ویدوں میں یاجنک فرائض مقرر کرتا ہے، اور ویاس کے شاگردوں—پَیل، ویشمپاین، جَیمِنی، سُمنتُو—اور ان کی روایتوں و شاخاؤں کے ذریعے وید کی ترسیل کا سلسلہ دکھاتا ہے۔ یوں کائناتی چکر اور متنی/شاستری نسب نامے دونوں یَجْیَ، گیان اور دھرم کی حفاظت کرنے والا ایک ہی منظم تسلسل ثابت ہوتے ہیں۔

31 verses

Adhyaya 151

Duties outside the Varṇa Order (वर्णेतरधर्माः) — Agni Purana, Chapter 151

یہ باب روایتِ تعلیم کو قائم کرتے ہوئے شروع ہوتا ہے: اگنی کہتے ہیں کہ وہ منو وغیرہ قانون سازوں کے بتائے ہوئے، بھُکتی اور مُکتی عطا کرنے والے دھرموں کی شرح کریں گے، جو ورُن اور پُشکر کے واسطے سے پرشورام تک پہنچے۔ پھر پُشکر ‘ورناآشرم-اِتَر’ دھرم بیان کرتے ہیں، یعنی وہ اخلاقی فرائض جو ورن و آشرم کی تخصیصات سے پہلے یا ان سے ماورا ہوں: اہنسا، ستیہ، دَیا، اَنُگرہ؛ زندگی کو مقدّس بنانے والے اعمال—تیرتھ سیون، دان، برہماچریہ، اَماتسریہ؛ اور دھارمک تہذیب کے ستون—دیوتاؤں اور دْوِجوں کی سیوا، گرو سیوا، دھرم شروَن، پِتر پوجا۔ بادشاہ کے لیے نِتیہ بھکتی، شاستر کی رہنمائی، برداشت (کشما) اور آستیکیہ کو شہری اخلاق کے ساتھ ہم آہنگ مانا گیا ہے۔ اس کے بعد مشترک ورناآشرم دھرم (یَجّیہ، ادھیَاپن، دان) اور پھر برہمن، کشتریہ، ویشیہ، شودر کے پیشے/فرائض بیان ہوتے ہیں۔ آگے اَنُلوم/پرتِلوم ملاپ سے پیدا ہونے والی مخلوط جاتیوں کے نام، ان کی روزی، پابندیاں، نکاح کے اصول اور سماجی حد بندیاں درج ہیں۔ آخر میں کہا گیا ہے کہ اختلاط کی صورت میں جاتی کا اندازہ دونوں والدین کے آچار/کرم کے حوالے سے کیا جائے—یوں سماجی نظم کو دھرم شاستری فکر کے طور پر پورانک سیاق میں سمیٹا گیا ہے۔

18 verses

Adhyaya 152

The Livelihood of the Householder (गृहस्थवृत्तिः) — Agni Purana, Chapter 152

اس باب میں پُشکر ورنانتر-دھرم سے آگے بڑھ کر گِرہستھ-ورتّی (گھر والے کی روزی) کا دھرم شاستری بیان کرتے ہیں۔ برہمن کے لیے اپنے مقررہ فرائض سے خود کفالت اصل ہے؛ ضرورت میں کشتریہ، ویشیہ یا شودر-طراز کام بھی اختیار کیا جا سکتا ہے، مگر شودر کی غلامانہ تابع داری یا شودر-جنمی کو بنیادی ذریعۂ معاش بنانا ممنوع ہے۔ دْوِجوں کے لیے کھیتی، تجارت، مویشیوں کی حفاظت اور کُسید/قرض پر رقم دینا وغیرہ جائز بتائے گئے ہیں اور خوردونوش و کاروبار میں اخلاقی حدیں بھی قائم کی گئی ہیں۔ کھیتی میں زمین، نباتات اور کیڑوں کو پہنچنے والی ہنسا سے پیدا ہونے والے دَوش کو مان کر یَجْن اور دیو-پوجا کے ذریعے شُدھی/پرایَشچت کو دھارمک علاج کہا گیا ہے۔ ہل کے استعمال پر گایوں کی مقدار کے مطابق درجہ بہ درجہ جرمانہ مقرر کر کے ضرورت، سختی اور دھرم-ہانی کا توازن دکھایا گیا ہے۔ آخر میں رِت، اَمرت، مِرت، پرمرت—معاش کے طریقوں کی درجہ بندی بیان کر کے شدید آپت میں سچ-جھوٹ کے امتزاج تک کی گنجائش بتائی گئی ہے، مگر پست اور اَدھارمک روزی کو کبھی قابلِ قبول نہیں مانا گیا۔

5 verses

Adhyaya 153

Chapter 153 — Brahmacarya-āśrama-dharma (The Dharma of the Student Stage)

اس باب میں گھریلو آداب کے بعد برہماچریہ آشرم دھرم بیان ہوا ہے؛ دھرم کو زندگی کے مرحلہ وار نصاب کی صورت میں دکھا کر سماجی تسلسل اور روحانی عروج کی حفاظت مقصود بتائی گئی ہے۔ ابتدا میں رِتو راتریوں کے قواعد اور حمل ٹھہرنے و حمل کے سنسکاروں سے متعلق وِدھیاں آتی ہیں۔ پھر پیدائش کے سنسکار—سیمَنت، جاتکرم، نامکرم—اور ورن کے مطابق نام رکھنے کی روایتیں بیان ہیں۔ اس کے بعد چوڑاکرم وغیرہ اور ورن و عمر کی حدوں کے مطابق اُپنَین کا وقت؛ طالبِ علم کی میکھلا، اجِن، ڈنڈا، لباس اور اُپویت کی مناسب ترتیب بھی دی گئی ہے۔ آچاریہ کے فرائض—پاکیزگی، سداچار، اگنی کارْی اور سندھیا اُپاسنا کی تربیت—واضح کیے گئے ہیں۔ کھانے کی سمت کی علامت، روزانہ آہوتی جیسا نظم، اور عیش پسندی، تشدد، بدگوئی اور فحش کلامی کی ممانعتیں مذکور ہیں۔ آخر میں وید سویکار، دکشِنا اور سماورتن اسنان کے ساتھ برہماچریہ کو شاستری تعلیم اور اخلاقی ضبط کے ہم آہنگ گیان ورت کے طور پر مکمل کیا گیا ہے۔

17 verses

Adhyaya 154

Chapter 154: विवाहः (Vivāha — Marriage)

اس باب میں برہماچریہ کی تعلیم کے بعد گِرہستھ دھرم میں داخل ہو کر نکاح/ویواہ کو دھرم کے ضابطوں کے تحت قائم ادارہ بتایا گیا ہے۔ ورن کے مطابق بیویوں کی تعداد کے قواعد اور اسَوَرنہ (غیر ہم ورن) زوجہ کے ساتھ دھرمک اعمال نہ کرنے کی ہدایت دے کر اندرونِ ورن شادی کو رسم و قانونِ مذہب کا اصول قرار دیا گیا ہے۔ بعض مواقع پر کنیا شُلک (دلہن کی قیمت)، کنیا کو دوبارہ دان نہ کرنے کی ممانعت، اور اغوا پر سزائیں بیان ہیں۔ برہما، آرش، پراجاپتیہ، آسُر، گاندھرو، راکشس، پَیشاچ وغیرہ اقسامِ ویواہ گنوائی گئی ہیں اور دان، خرید، باہمی پسند، جبر اور فریب کے فرق واضح کیے گئے ہیں۔ آفت کے زمانے میں استثنائی طور پر دوبارہ شادی کی اجازت، اور مرحوم شوہر کے چھوٹے بھائی کے ذریعے نیوگ جیسی کفالت کی صورت بھی مذکور ہے۔ آخر میں ویواہ مُہورت کے لیے سعد و نحس مہینے، دن، تِتھی، نکشتر اور سیاروی حالتیں—وشنو کے شَین (نیند) کے زمانے سے اجتناب، معیوب چاند، سعد سیاروں کا غروب، وِیَتیپات وغیرہ—اور ازدواجی آداب و تقویمی پابندیاں بیان کی گئی ہیں۔

19 verses

Adhyaya 155

Ācāra (Right Conduct)

یہ باب دھرم شاستر کی ایک مختصر رہنما کتاب کی طرح روزمرہ آچار (صحیح طرزِ عمل) بیان کرتا ہے۔ پُشکر برہما مُہورت میں دیو-سمَرَن کے ساتھ بیدار ہونے، قضائے حاجت میں سمت کا قاعدہ (دن میں شمال رُخ، رات میں جنوب رُخ) اور نامناسب جگہوں سے پرہیز کی ہدایت دیتا ہے۔ شَौچ کا نظام—مٹی سے آچمن، دَنت دھاون اور سْنان کی برتری—واضح ہے؛ بغیر سْنان کے کی گئی عبادتی/رسمی کارروائی کو بے ثمر کہا گیا ہے۔ پانیوں کی درجہ بندی: زمینی/زیرِزمین پانی، نکالا ہوا پانی، چشمے، جھیلیں، تیرتھ کا پانی اور سب سے زیادہ پاک کرنے والا گنگا جل۔ سْنان وِدھی ویدی منتر (ہِرَنیہ وَرناḥ، شَنّو دیوی، آپو ہِ شٹھا، اِدم آپَḥ)، پانی میں جپ، اور اَگھمرشن، دْرُپدا، یُنجتے منَḥ، پَورُش سوکت وغیرہ کے پاتھ-وِکلپ سے مربوط ہے؛ پھر ترپن، ہوم اور دان کا ذکر آتا ہے۔ دوسرے حصے میں سماجی و اخلاقی پابندیاں—اہنسا (عدمِ ایذا)، بوجھ اٹھانے والے اور حاملہ کو راستہ دینا، نگاہ و گفتار میں احتیاط، نحوست والے افعال سے بچاؤ، عوامی آداب، پانی کی صفائی، جنسی و سماجی طہارت کی حدیں، وید، دیوتاؤں، راجا اور رشیوں کا احترام، اور بعض تِتھیوں میں تیل کی مالش سے پرہیز—تفصیل سے بیان ہیں۔ مخطوطاتی اختلافات کا ذکر ہوتے ہوئے بھی مرکزی مقصد طہارت، ضبطِ نفس اور یوگ-کشیَم کے لیے منضبط آچار ہے۔

31 verses

Adhyaya 156

Chapter 156 — द्रव्यशुद्धिः (Dravya-śuddhi) / Purification of Substances

یہ باب سابقہ آچار کے حصے کے فوراً بعد درویہ-شودھی (اشیاء کی طہارت) بیان کرتا ہے کہ ناپاک مادّے کیسے دوبارہ رسم و عبادت کے لائق بنتے ہیں۔ پُشکر مادّہ بہ مادّہ طریقے بتاتا ہے: مٹی کے برتن دوبارہ آگ میں تپا کر، تانبہ ترش/تیزابی پانی سے، کانسا اور لوہا قلوی محلول سے، اور موتی وغیرہ جواہرات دھونے سے پاک ہوتے ہیں۔ برتن، پتھر کی چیزیں، پانی میں پیدا ہونے والی پیداوار، سبزیاں، رسّیاں، جڑیں، پھل، بانس/سرکنڈے کی اشیاء—سب کی طہارت گھریلو اور یَجْن دونوں سیاق میں بیان ہے۔ یَجْن میں برتن پونچھنے اور چھونے کے قواعد سے، چکنی چیزیں گرم پانی سے؛ گھر کی جگہ جھاڑو دینے سے پاک مانی جاتی ہے۔ کپڑا مٹی اور پانی سے، کئی کپڑے چھڑکاؤ سے، لکڑی رندہ/تراش سے؛ جمی ہوئی چیزیں چھڑکاؤ سے اور مائعات بہا دینے/لبریز کرنے سے پاک ہوتے ہیں۔ جانوروں کے منہ کی طہارت، کھانے/چھینک/نیند/پینے/نہانے کے بعد کے آداب، عوامی راستے میں جانے کے بعد آچمن، حیض کی طہارت کی مدتیں، قضائے حاجت کے بعد مٹی کی مقدار، زاہدوں کے خاص قواعد، اور ریشم، کتان، ہرن کے بال کے لیے مخصوص صاف کرنے والے مادّے بھی درج ہیں۔ آخر میں پھول اور پھل پانی کے چھڑکاؤ سے پاک قرار دے کر بیرونی صفائی کو یَجْن کی اہلیت اور دھارمک نظم سے جوڑ دیا گیا ہے۔

16 verses

Adhyaya 157

Śāva-āśauca and Sūtikā-śauca: Death/Childbirth Impurity, Preta-śuddhi, and Śrāddha Procedure (Chapter 157)

اس باب میں موت سے پیدا ہونے والی شاوَ-آشَوچ اور ولادت سے پیدا ہونے والی سوتِکا-آشَوچ کے دھرم شاستری احکام کو منظم کیا گیا ہے۔ سپِنڈ رشتے کی بنیاد پر ورن اور حالت کے مطابق آشَوچ کی مدتیں بیان ہوتی ہیں۔ شیرخوار، تین برس سے کم/زیادہ اور چھ برس سے زیادہ عمر کے فرق، عورت کے چُوڑا سنسکار کے ہونے یا نہ ہونے، اور شادی شدہ عورت کے پدری خاندان سے تعلق کے لحاظ سے استثنائیں بھی دی گئی ہیں۔ موت کی خبر دیر سے ملے تو باقی دنوں کی گنتی، اور اگر دس راتیں گزر چکی ہوں تو تین راتوں کا حکم بتایا گیا ہے۔ پھر پریت-شودھی اور شرادھ کی عملی تفصیل آتی ہے: پِنڈ دان، برتنوں کی تقسیم، گوتر نام کا اُچار، پیمانے و مقداریں، اور سوما، اگنی/وہنی اور یم کے لیے تین آگیں روشن کر کے مقررہ آہوتیاں۔ ادھِی ماس وغیرہ تقویمی صورتیں، بارہ دن کے اندر تکمیل کے طریقے، سالانہ شرادھ کی ذمہ داری اور یہ دلیل کہ مرنے والے کی بعد از مرگ حالت کچھ بھی ہو شرادھ اسے فائدہ دیتا ہے—سب مذکور ہے۔ آخر میں بعض پُرتشدد/غیر معمولی اموات میں ناآشَوچ، جماع یا چتا کے دھوئیں کے بعد فوراً غسل، دِویج لاش کو کون سنبھال سکتا ہے، دہن کے بعد ہڈیوں کے جمع کرنے کا وقت اور پھر جسمانی لمس کی اجازت—یہ احکام بیان کر کے باب ختم ہوتا ہے۔

42 verses

Adhyaya 158

Srāvādya-śauca (Impurity due to bodily discharge and allied causes)

اس باب میں جسمانی اخراجات سے پیدا ہونے والی اَشَوچ (حمل کے دوران خون ریزی/اسقاطِ حمل سمیت)، پیدائش سے متعلق سوتک اور موت سے متعلق مرتک کی تطہیری مدتوں کو منظم کیا گیا ہے۔ ورن کے فرق، قرابت کی نزدیکی (سپِنڈ، سکُلیہ، گوترِن) اور عمر/مرحلے (دانت نکلنے سے پہلے، نکاح سے پہلے، چُوڑا کرم کے بعد) کے مطابق درجاتی اوقات بیان ہیں۔ غسل کے قواعد، استھی سنچین (ہڈیوں کا جمع کرنا)، اُدک کریا (آبِ نذر)، پِنڈوں کی تعداد، شیرخوار کے لیے جلانا یا دفن/سمادھی، خوراک/ہدیہ/شرادھ پر پابندیاں، اور متعدد اَشَوچ کے اجتماع میں شدیدتر کے غالب ہونے کا اصول بھی مذکور ہے۔ بجلی/آگ سے موت، وبا، قحط-جنگ-آفت کے حالات، غیر سپنڈ لاش کی تدفین/تکریم، اور بعض گناہگار طبقات کے استثنا بیان کر کے منو وغیرہ کے اقوال کی روشنی میں گھریلو نظم اور رسموں کی اہلیت کی حفاظت کو شریعتِ دھرم کے طور پر واضح کیا گیا ہے۔

69 verses

Adhyaya 159

Purification Concerning the Unsanctified (Asaṃskṛta) and Related Cases (असंस्कृतादिशौचम्)

اس باب میں سَنسکرت (جس کے صحیح سنسکار/رسوم ادا کی گئی ہوں) اور اَسَنسکرت کے مرنے کے بعد کے انجام میں فرق بیان کیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ موت کے وقت ہری کا سمرن/یادِ خداوندی سے سُورگ، بلکہ موکش بھی حاصل ہو سکتا ہے۔ گنگا سے متعلق انتیشٹی کرموں کی تاثیر پر زور ہے—اَستھی-کشیپ سے پریت کا اُدھار ہوتا ہے، اور ہڈیاں جتنی مدت گنگا جل میں رہیں اتنی مدت تک سُورگ واس کا ذکر ہے۔ خودکشی کرنے والوں اور پَتِتوں کے لیے وِدھی کی ممانعت کہہ کر بھی، کرپا کے طور پر پَتِت پریت کے لیے نارائن-بلی کو علاج و تدارک بتایا گیا ہے۔ پھر موت کی بے لاگ حقیقت، دنیاوی لگاؤ کی مہلت نہ ہونا، اور پرلوک یاترا میں دھرم ہی کا ساتھ (یَم پَتھ پر پتنی کا خاص ذکر) سمجھایا گیا ہے۔ کرم کی ناگزیرتا، سِرشٹی-پرلَے کا چکر، کپڑے بدلنے کی مانند پُنرجنم، اور آخر میں یہ کہ دےہ دھاری آتما اصل میں اَسنگ ہے—اس لیے غم چھوڑنے کی تلقین پر باب ختم ہوتا ہے۔

15 verses

Adhyaya 160

Vānaprastha-āśrama (The Forest-Dweller Stage of Life)

دھرم شاستر کے تسلسل میں پُشکر واناپرستھ اور جنگل کے تپسوی کی منضبط زندگی بیان کرتے ہیں—گِرہستھ کی ذمہ داری اور کامل سنیاس کے بیچ ایک باوقار پل کی طرح۔ جٹا، اگنی ہوترا کی پابندی، زمین پر سونا اور ہرن کی کھال پہننا جیسے ظاہری نشان سماج سے کنارہ کشی کے باوجود ویدی کرم کی پیوستگی دکھاتے ہیں۔ جنگل میں رہائش کے لیے محدود غذا (دودھ، کند و جڑیں، نیوار جنگلی چاول، پھل)، ہدیہ قبول نہ کرنا، دن میں تین بار غسل اور برہماچریہ جیسے ضابطے نیت کو پاک اور انحصار کو کم کرتے ہیں۔ دیوتاؤں کی پوجا اور مہمان نوازی سماجی دھرم ہے؛ یتیوں کو جڑی بوٹیوں سے گزر بسر کی ہدایت ہے۔ جب گھر والا اولاد اور پوتوں کو آباد دیکھ لے تو جنگل کی پناہ لے سکتا ہے۔ موسمی تپسیا منظم ہے—گرمی میں پنچ اگنی، برسات میں کھلے آسمان تلے بارش و فضا کی سختی، سردی میں نم کپڑوں کے ساتھ کڑی سادھنا؛ آخر میں عدمِ رجوع کا آگے بڑھنے والا ورت، دھارمک ویراغیہ کی ناقابلِ واپسی وابستگی کی علامت ہے۔

5 verses

Adhyaya 161

Yati-dharma (The Dharma of the Renunciate Ascetic)

اس باب میں یتی دھرم کو سماجی وابستگی سے نکل کر نجات بخش معرفت کی طرف منضبط انتقال کے طور پر مرتب کیا گیا ہے۔ جب ویراغیہ پیدا ہو اسی لمحے سنیاس اختیار کرنے، پراجا پتیہ اِشٹی ادا کرکے بیرونی اگنیوں کو باطن میں قائم کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیرونی رسوم سے اندرونی تپسیا کی طرف رخ ہوتا ہے۔ یکانت واس، اَپرِگرہ (عدمِ ملکیت)، قلیل غذا، اہنسا میں احتیاط، سچ سے پاکیزہ گفتار و کردار، اور بھکشا کے تفصیلی آداب بیان ہیں تاکہ گِرہستھوں پر بوجھ نہ پڑے۔ کُٹیراک→بہودک→ہنس→پرمہنس کی درجہ بندی فقیرانہ مراحل میں بڑھتی ہوئی باطنیّت دکھاتی ہے۔ پھر یم-نیَم، آسن، پرانایام (گربھ/اگربھ؛ پورک-کُمبھک-ریچک مع مقدارِ ماترا)، پرتیاہار، دھارنا، دھیان اور سمادھی کو یتی آچارن کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا ہے۔ اختتام پر مہاواکیا طرز کے اَدویت اقرار—آتما ہی برہمن/واسودیو/ہری—کے ذریعے سنیاس کو اخلاقی سختی اور براہِ راست گیان سے موکش کا ذریعہ بتایا گیا ہے؛ چھ پرانایام پرایشچت اور چاتُرمَاسیہ ورت بھی مذکور ہیں۔

31 verses

Adhyaya 162

अध्याय १६२ — धर्मशास्त्रकथनम् (Dharmaśāstra Exposition: Authorities, Pravṛtti–Nivṛtti, Upākarman, and Anadhyāya Rules)

اس باب میں دھرم کو سمِرتی اتھارٹیز کی معتبر سلسلہ وار روایت میں قائم کیا گیا ہے—منو سے پاراشر تک، نیز آپستَمب، ویاس اور برہسپتی وغیرہ۔ ویدی کرم کو دو قسم کا بتایا گیا ہے—پروِرتّی (خواہش سے وابستہ عمل) اور نِوِرتّی (علم پر قائم کنارہ کشی)۔ تپسیا، سوادھیائے، حواس پر ضبط، اہنسا اور گرو سیوا کو ایسی ریاضتیں کہا گیا ہے جو آتما-گیان تک پہنچاتی ہیں؛ یہی نِشریَس اور اَمرَتْو کا اعلیٰ ترین وسیلہ ہے۔ پھر عملی دھرم میں وید پاتھ کے لیے زمان و مکان کے قواعد، اُپاکرم اور اُتسرگ کی رسومات، اور اَنَڌیائے (عارضی توقف) کے مواقع کی مفصل فہرست آتی ہے—موت سے متعلق اَشَوچ کے ادوار، گرہن، مخصوص تِتھیاں، گرج چمک/ماحولیاتی اضطراب، شہابِ ثاقب و زلزلہ، لاش/شمشان یا پَتِت سے تماس، منحوس آوازیں اور دیگر رکاوٹیں؛ اور انہیں مجموعی طور پر 37 اَنَڌیائے قرار دیا گیا ہے۔ یوں اگنی پران آتما-گیان کے مقصد کو دقیق آچاری ضوابط کے ذریعے روزمرہ زندگی میں ڈھالتا ہے۔

19 verses

Adhyaya 163

Śrāddha-kalpa-kathana (Exposition of the Śrāddha Procedure)

اس باب میں شِرادھ کی پوری کارروائی کو ایسا دھرم-نقشہ بتایا گیا ہے جو بھُکتی (خیروعافیت و خوشحالی) اور مُکتی دونوں عطا کرتا ہے۔ پچھلے دن برہمنوں کو دعوت اور اَپَراہْن میں پذیرائی؛ نشست کی ترتیب مشرق رُخ، دیوکارْی میں جفت تعداد اور پِترُکارْی میں طاق تعداد، اور یہی قاعدہ ماترُپکش کے لیے بھی۔ منتروں کے ساتھ وِشوے دیووں کا آواہن، پَوِتر سے آراستہ برتن، اناج کے دانے بکھیرنا، دودھ اور جو/تل ملانا، اَرغیہ دینا، اور پِتر کرم میں اَپَسَوْی ہو کر طواف/پرکرما۔ پِتر یَجْن کی طرز پر ہوم، ہُت شیش کی تقسیم، برتنوں کا سنسکار اور انگوٹھے کے لمس کے ساتھ پاٹھ سے اَنّ کی تقدیس۔ آخر میں بچا ہوا اور جل-دان، جنوب رُخ پِنڈ دان، سْوَسْتی اور اَکشَیّ اُدَک، سْوَدھا کے جملوں کے ساتھ دَکشِنا، باقاعدہ وِسَرجن اور کھانے کے بعد کے آداب۔ ایکودِّشٹ اور سَپِنڈی کرن کا فرق، وفات کے دن/ماہانہ/سالانہ شِرادھ کے چکر، غذا و عطیات کے نتائج، گیا اور مبارک اوقات، اور یہ کہ پِتر شِرادھ دیوتا ہیں جو عمر، دولت، علم، سُوَرگ اور موکش دیتے ہیں۔

42 verses

Adhyaya 164

Chapter 164: नवग्रहहोमः (Navagraha Fire-Offering)

اس باب میں پُشکر کے بیان کردہ نوگرہ ہوم کا دھرم شاستری اور رسم و ضابطہ پر مبنی طریقۂ کار آتا ہے، جو خوشحالی، تسکینِ آفات، بارش، درازیِ عمر، غذا و پرورش، اور حتیٰ کہ ابھچار جیسے سخت مقاصد کے لیے بھی تدبیر بتایا گیا ہے۔ سورج سے کیتو تک نو سیّاروی دیوتاؤں کا ذکر کر کے ان کی مورتیاں بنانے کے مواد کی ترتیب دی گئی ہے—تانبا، سفٹک (بلور)، سرخ چندن، سونا، ارک کی لکڑی (جوڑی کی صورت)، چاندی، لوہا اور سیسہ۔ سونے سے تحریر یا خوشبودار منڈل کی نقش بندی، رنگ کے مطابق لباس و پھول، عطر و خوشبو، کنگن اور گُگُّل کی دھونی کا اہتمام بتایا گیا ہے۔ رِک/منتروں کی تلاوت کی ترتیب، سمِدھاؤں (ایندھن) کی ترتیب، اور شہد، گھی، دہی کے ساتھ ہر گرہ کے لیے 128 یا 28 آہوتیوں کی تعداد مقرر ہے۔ نَیویدیہ، گرہ-ترتیب سے دْوِجوں کو بھوجن، اور پھر دکشنا کی ترتیب—گائے، شَنکھ، بیل، سونا، کپڑا، گھوڑا وغیرہ—بیان ہوئی ہے۔ آخر میں سیاسی و کونیاتی دلیل دی گئی ہے کہ بادشاہوں کا عروج و زوال اور دنیا کے حالات گرہوں کی قوتوں کے تابع ہیں، اس لیے گرہ پوجا نہایت لائقِ تعظیم ہے۔

14 verses

Adhyaya 165

Adhyaya 165 — नानाधर्माः (Various Dharmas)

اگنی–وسِشٹھ روایت کے تسلسل میں یہ باب دھرم کو مراقبہ کے تناظر میں رکھتا ہے—دل میں بسنے والے پروردگار کا من، بدھی، سمرتی اور حواس کو یکسو کرکے دھیان کرنے کی ہدایت ہے۔ پھر شرادھ، دان اور غذا کے ضوابط؛ گرہن کی سندھی میں دان اور پِتر کرم کی خاص تاثیر؛ اور آگ موجود نہ ہو تو ویشودیو کی درست विधि بیان ہوتی ہے۔ اس کے بعد عورتوں، جبر/اکراہ اور اشوچ سے متعلق طہارت کی بحث آتی ہے، مگر ساتھ ہی اَدویت کی اصلاح بھی—جو آتما کے سوا ‘دوسرا’ نہیں دیکھتا، اس کے لیے تضاد و امتیاز ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔ یوگ حصے میں چِتّ ورتّی نِرودھ کو اعلیٰ یوگ، کشتریجْن کا پرماتما/برہمن میں لَے، اور پرانایام و ساوتری (گایتری) کو برترین پاکیزہ کرنے والے کہا گیا ہے۔ آخر میں پرایشچت کی حدیں اور کرم پھل (پست جنم، طویل مدت) بتا کر نتیجہ—گناہ کے ازالے میں یوگ ہی بے مثال ہے؛ رسمِ دھرم اور باطنی ادراک کا امتزاج۔

29 verses

Adhyaya 166

Chapter 166: वर्णधर्मादिकथनं (Exposition of Varṇa-Dharma and Related Topics)

اس باب میں دھرم کو وید–سمِرتی پر مبنی اور “پانچ قسم” کا قرار دے کر بتایا گیا ہے کہ اعمال کا اختیار (ادھیکار) ورن (ذات/طبقہ) کی شناخت سے پیدا ہوتا ہے، جبکہ آشرم دھرم زندگی کے مرحلے کے مطابق مخصوص پابندیاں اور آچارن ہیں۔ چاروں آشرموں (برہماچاری، گِرہستھ، وانپرستھ، یتی) میں نافذ نَیمِتِک کرم—خصوصاً پرایَشچِت—اور کرم کے مقاصد: اَدِرِشٹارتھ (منتر، یَجْن)، دِرِشٹارتھ، اور مِشرارتھ (ویَوَہار اور دَند) کی درجہ بندی کی گئی ہے۔ تفسیر کے باب میں شروتی–سمِرتی کی ہم آہنگی، اَنُواد (گُناَرتھ، پَریسَنگھیاَرتھ) اور اَرتھواد (تحسینی/تشریحی بیان) سمجھایا گیا ہے۔ پھر سنسکاروں—بالخصوص 48—کی فہرست، پنچ یَجْن، پاک یَجْن–ہَوِریَجْن اور سوم یَگ کے اقسام، اور آخر میں اخلاقی اوصاف، روزمرہ آداب (گفتار، غسل و طعام کی پابندی)، دَہ/دَشاہ میں غیر رشتہ دار کی بھی اہلیت، پنکتی دوش کے ازالے، اور پانچ پراناہُتیوں کا ذکر آتا ہے۔

22 verses

Adhyaya 167

Ayuta–Lakṣa–Koṭi Fire-offerings (अयुतलक्षकोटिहोमाः) — Graha-yajña Vidhi

بھگوان اگنی دھرم شاستری ‘گرہ-یَجْیَ’ کی وِدھی دوبارہ بیان کرتے ہیں، جو خوشحالی، شانتی اور فتح کے لیے ہے۔ وہ ہوم کے تین پیمانے—ایوت (10,000)، لکْش (100,000) اور کوٹی (10,000,000)—متعین کرکے اگنی کنڈ سے گرہوں کا آواہن کرتے ہیں اور منڈل کے مقررہ حصّوں میں ان کی स्थापना کرتے ہیں؛ مرکز میں سورج کو رکھتے ہیں۔ ادھیدیوَتا اور پرتیہ ادھیدیوَتا کی فہرستیں، لکڑی/سمِدھ، ہویشّیہ آمیزے، 108 آہوتیاں اور 108 کُمبھ، اور آخر میں پُورن آہوتی، وسودھارا، دکشِنا اور ابھیشیک منتر—مہادیوتاؤں، نوگرہوں اور حفاظتی قوتوں کو پکارتے ہیں۔ دان (سونا، گائیں، زمین، جواہرات، کپڑے، بستر) کو پھل-سِدھی سے جوڑا گیا ہے؛ جنگی فتح، نکاح، تہوار اور پرتِشٹھا جیسے مواقع پر اس کے استعمال کا ذکر ہے۔ لکْش/کوٹی ہوم کے لیے کنڈ کے پیمانے، پجاریوں کی تعداد، منتر کے اختیارات، نیز مثلث کنڈ میں پتلا/پرتیما-کرم کے ساتھ ابھچار/وِدوَیشَن کی جداگانہ وِدھی بھی دی گئی ہے، جس سے کرم اور کائناتی-اخلاقی نظم کا امتزاج ظاہر ہوتا ہے۔

44 verses

Adhyaya 168

Chapter 168 — महापातकादिकथनम् (Exposition of Great Sins and Related Topics)

اس باب میں پُشکر کی فقہی و رسومی ہدایت بیان ہوتی ہے کہ جو مقررہ پرایَشچِتّ (کفّارہ) قبول نہ کرے، راجا اسے سزا دے؛ اور دانستہ یا نادانستہ گناہوں کے لیے بھی پرایَشچِتّ لازم ہے۔ پھر خوراک اور چھونے سے پیدا ہونے والی طہارت و ناپاکی کے قواعد آتے ہیں—مہاپاتکی، حیض والی عورت، پَتِت، خارج از ذات/انتَیَج گروہ، مذموم پیشوں والے وغیرہ کا کھانا یا میل جول کب ناپاکی کا سبب بنتا ہے اور کب اجتناب واجب ہے، یہ متعین کیا گیا ہے۔ اس کے بعد کِرِچّھر، تپت کِرِچّھر، پراجاپتیہ اور چاندَرایَن جیسے درجۂ بہ درجۂ کفّارے ممنوع غذا، اُچّھِشٹ (بچا ہوا جھوٹا)، اور ناپاک اشیا کے استعمال وغیرہ کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔ آگے گناہوں کی درجہ بندی میں چار مہاپاتک—برہمن ہتیا، سُراپان، ستیہ (چوری)، اور گُروتلپ گمن—کی تعریف، ان کے ہم پلہ اعمال، نیز اُپپاتک اور جاتی بھَرنشکر اعمال کا ذکر ہے۔ پورے باب میں راج دھرم، شَؤچ (طہارت) اور دھرم شاستری تقسیم کو جوڑ کر سماجی نظم اور رسومی اصلاح کو اگنیہ دھرم کے باہمی تقویت دینے والے راستے بتایا گیا ہے۔

41 verses

Adhyaya 169

Mahāpātaka-ādi-kathana (Account of the Great Sins) — concluding note incl. ‘Mārjāra-vadha’ (killing of a cat)

یہ باب دھرم شاستر کے حصے کا اختتام کرتا ہے؛ اس میں مہاپاتک وغیرہ سنگین گناہوں اور متعلقہ عیوب کی درجہ بندی کے بعد آخر میں انتقالی نوٹ کے طور پر ‘مارجار-ودھ’ (بلی کو قتل کرنا) کے موضوع کا صریح ذکر آتا ہے۔ آگنیہ تعلیمی بہاؤ میں گناہوں کی فہرست محض اخلاقی لیبل نہیں، بلکہ مناسب تناسب کے ساتھ علاج—پرایَشچِت—بتانے کے لیے ایک بنیادی نقشہ ہے۔ یہ اختتام ایک کڑی کی طرح کام کرتا ہے: گناہ کی شناخت سے متن اب تطہیر کی عملی تکنیک، یعنی پرایَشچِت، کی طرف مڑتا ہے۔ اگنی پران کی انسائیکلوپیڈیائی روش میں جیسے واستو یا راج دھرم میں پہلے اقسام و پیمانے، پھر طریقۂ کار، ویسے ہی یہاں بھی۔ یوں دھرم کے تحت سماجی نظم اور باطنی پاکیزگی ایک ساتھ مربوط رہتے ہیں۔

41 verses

Adhyaya 170

प्रायश्चित्तानि (Expiations) — Association-Impurity, Purification Rites, and Graded Penance

اس باب (اگنی پران 170) میں پرایَشچِتّ کو دھرم کی ایک منظم “تکنیک” کے طور پر بیان کیا گیا ہے، خاص طور پر ایسے آلودگی کے ازالے کے لیے جو صحبت اور رسومات میں شرکت سے منتقل ہوتی ہے۔ پُشکر خبردار کرتا ہے کہ پَتِت (گرا ہوا شخص) کی طویل رفاقت ایک سال کے اندر سقوط کا سبب بن سکتی ہے؛ تاہم قابلِ مؤاخذہ “صحبت” صرف پُروہتانہ خدمت، تعلیم/اُپدیش یا جنسی تعلق سے بنتی ہے، محض ایک ہی سواری، کھانا یا نشست شریک کرنے سے نہیں۔ پھر تطہیر کا طریقہ بتایا گیا ہے: پَتِت کے مانند ہی ورت/نذر اختیار کرنا، سپِنڈ (قریبی خاندانی) کے ساتھ جل دان، پریت کی مانند گھڑا الٹانے کی علامتی رسم، دن رات کی پابندی اور محدود سماجی میل جول۔ اس کے بعد کِرِچّھر، تپت-کِرِچّھر، چاندْرایَن، پراک، شانتپن وغیرہ درجۂ وار کفّارے چانڈال سے تماس، اُچّھِشٹ، لاش سے تماس، حیضی آلودگی، ناجائز عطیہ، ممنوع پیشے اور یَجْن کی کوتاہی جیسے عیوب کے مطابق مقرر کیے گئے ہیں۔ توبہ/انُتاپ کو ہوم، جپ، روزہ، پنچگوَیّہ، غسل اور اُپنَیَن/سنسکار کی بحالی کے ساتھ جوڑ کر ورن آشرم نظم اور رسومی اہلیت کی حفاظت مقصود بتائی گئی ہے۔

46 verses

Adhyaya 171

Chapter 171 — प्रायश्चित्तानि (Prāyaścittāni / Expiations)

اس باب میں دھرم شاستر کے طہارت و تطہیر کے دستور کا آغاز ہوتا ہے اور مخطوطاتی اختلافات کو محفوظ رکھتے ہوئے پرایَشچِتّ (کفّارات) کی منظم فہرست پیش کی جاتی ہے۔ پُشکر بتاتے ہیں کہ منتر-جپ اور پابند ریاضتوں سے گناہ دور ہوتے ہیں: ایک ماہ تک پوروُش سوکت کی تلاوت، اَگھمرشن بھجن/ستوتر کی تین بار قراءت، وید کا مطالعہ، وایو اور یم سے متعلق ضوابط، اور گایتری ورت۔ پھر کِرِچّھر وغیرہ کی درجۂ بدرجہ تپسیا جسم و غذا کے دقیق قواعد کے ساتھ آتی ہے—سر منڈوانا، اسنان، ہوم، ہری کی پوجا، دن میں کھڑے رہنا اور رات کو ویرآسن میں بیٹھنا۔ یتی اور شِشو روپ چندراین، لقمہ/پِنڈ کی مقدار کے ساتھ؛ تپت-کِرِچّھر اور شیت-کِرِچّھر کے چکر؛ اور پنچگَوْیہ وغیرہ سے وابستہ سخت اَتِکِرِچّھر۔ شانتپن، مہا/اَتی شانتپن، بارہ دن کا پراک روزہ، اور پراجاپتیہ سلسلے ‘پاد’ کے طور پر بیان ہوتے ہیں۔ آخر میں پھل، پتے، پانی، جڑیں، تل اور برہما-کورچ پر مبنی خاص کِرِچّھر، اور دیوتا-پوجا کے ساتھ تپسیا سے خوشحالی، قوت، سُورگ اور گناہوں کی نابودی کا پھل بتایا گیا ہے۔

17 verses

Adhyaya 172

Chapter 172 — “Expiations beginning with the Secret (Rites)” (Rahasya-ādi-prāyaścitta)

یہ باب پرایَشچِتّ کے سلسلے کا اختتامی حصہ ہے، جس سے آگنی پران کے دھرم شاستر میں کفّارہ/توبہ کو تدریجی اور مرحلہ وار نظام کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ‘رہسیہ-آدی’ یعنی خفیہ و باطنی پرایَشچِتّ کے ذریعے بتایا جاتا ہے کہ تطہیر محض ظاہری سزا نہیں؛ بلکہ سنکلپ (نیت) کے مطابق اندرونی اصلاح، ضبطِ نفس پر مبنی ریاضت اور لطیف خطاؤں کی درستی بھی اس میں شامل ہے۔ آگنیہ ودیا کے بہاؤ میں—جہاں بھگوان اگنی کی تعلیم دنیاوی نظم اور روحانی عروج کو یکجا کرتی ہے—یہ باب سابقہ کفّارات کا نقطۂ کمال بن کر اگلے باب کی ہمہ گیر دوا، یعنی ستوتر-جپ، کی طرف انتقال کی تیاری کرتا ہے۔ یہ موڑ واضح کرتا ہے کہ دھرم مقررہ اعمال اور باطنی ہم آہنگی دونوں سے قائم رہتا ہے، تاکہ سادھک بھُکتی (دنیاوی استحکام) اور مُکتی (پاکیزہ نجات) دونوں کی سمت بڑھے۔

22 verses

Adhyaya 173

Prāyaścitta — Definitions of Killing, Brahmahatyā, and Graded Expiations

بھگوان اگنی دھرم شاستر میں پرایَشچِتّ (کفّارہ) کا بیان شروع کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ یہ نظام برہما کی طرف منسوب ہے۔ ‘وَدھ’ کی تعریف یہ ہے کہ کوئی بھی ایسا عمل جو پران کے وियोग (موت) پر منتج ہو۔ گناہ صرف براہِ راست قتل تک محدود نہیں—کسی سے قتل کروانا، مشترکہ مسلح کارروائی میں گروہی شرکت، اور بالواسطہ سبب بننا (مثلاً ظلم/جبر سے اُکسائی گئی خودکشی) بھی، خصوصاً برہمن-ہتیا (برہماہتیا) کے طور پر، مہاپاتک شمار ہوتے ہیں۔ پھر کفّارے کے تعیّن کے اصول—مقام، زمانہ، استطاعت اور جرم کی نوعیت—بیان کیے جاتے ہیں۔ برہمن کے قتل کے لیے بڑے کفّارے: جان نثار کرنا، طویل تپسیا کے نشانات کے ساتھ بھکشا پر گزارہ، اور کردار کی بنیاد پر تخفیف—گنوائے گئے ہیں۔ آگے ورن اور کمزوری (بوڑھے، عورتیں، بچے، بیمار) کے لحاظ سے درجۂ سزا، گائے کے قتل، زخم، اوزار سے حادثاتی موت وغیرہ کے کفّارے، طہارت و ناپاکی اور خوراک کی آلودگی، شراب و دیگر ممنوعہ اشیاء کا استعمال، چوری میں واپسی/بادشاہی سزا کی منطق، اور گُروتلپ وغیرہ جنسی خطاؤں کے لیے یا تو موت کے کفّارے یا کئی ماہ کے چاندْرایَن کا حکم دیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر اگنی پرایَشچِتّ کو قانونی میزان بھی بتاتے ہیں اور باطن کی تطہیر کی روحانی دوا بھی۔

54 verses

Adhyaya 174

Chapter 174 — प्रायश्चित्तानि (Expiations)

اگنی دیو بیان کرتے ہیں کہ اگر پوجا، آشرم-فرائض یا ہوم میں ترک یا خلل ہو جائے تو رسم و عبادت کی پاکیزگی بحال کرنے کے لیے پرایَشچِتّ کا دھارمک طریقہ اختیار کیا جائے۔ چھوٹی ہوئی پوجا کے لیے آٹھ سو جپ اور دوگنی پوجا؛ دیوتا سے متعلق ناپاکی کے لمس پر پنچوپنشد منتر، ہوم اور برہمنوں کو کھانا کھلانے سے شانتि۔ آلودہ ہوم-مواد، خراب نذرانہ، یا منتر/درویہ کی گڑبڑ میں صرف متاثرہ حصہ ترک کر کے پروکشن سے تطہیر اور مول منتر کا دوبارہ جپ۔ شدید حادثات—جیسے مورتی کا گرنا، ٹوٹنا یا گم ہونا—پر روزہ اور سو آہوتیاں۔ پھر باب طریقۂ کار سے آگے بڑھ کر نجاتی پہلو دکھاتا ہے کہ سچا پشچاتاپ اعلیٰ ترین پرایَشچِتّ، یعنی ہری-سمَرَن، میں کامل ہوتا ہے۔ چاند्रायण، پراک، پراجاپتیہ؛ گایتری، پرنَو-ستوتر، سورَی/ایش/شکتی/شریش منتر-جپ؛ تیرتھ کی قوت، دان و مہادان، اور ‘میں برہمن، پرم نور’ کی اَدویت بھاونا گناہوں کو مٹاتی ہے۔ اختتام میں ہری کو تمام ودیاؤں اور شاستروں کا سرچشمہ و پاک کرنے والا بتا کر اگنی پران کی جامعیت دوبارہ ثابت کی جاتی ہے۔

24 verses