
The Lexicon
A lexicographic section providing synonyms, technical terminology, and word-lists essential for understanding Vedic and Puranic literature.
Chapter 360 — अव्ययवर्गाः (Groups of Indeclinables)
اس کوشہ-سطح کے باب میں بھگوان اگنی رشی وسِشٹھ کو سنسکرت کے اَویَیوں (غیر مُصرَّف الفاظ) کا مختصر معنوی نقشہ عطا کرتے ہیں، تاکہ گفتگو، یَجْنَی کلام اور قواعدی دقّت قائم رہے۔ ابتدا ‘آ’ نِپات سے ہوتی ہے—اس کے معانی (جزویت، شمول/سرایت، حد، دھاتو-یوگ سے اشتقاق) اور اس کا پرگِرہْیَہ رویّہ بیان کیا گیا ہے۔ پھر ملامت کے ذرات (کُ، دھِگ)، عطف و اضافہ (چ)، دعائیہ/مبارک لفظ (سْوَسْتی)، زیادتی/تجاوز (اَتی)، استفہام و شک (سْوِت، نُ، نَنُ)، تقابل و تعیین (تُ، ہِ، ایوَ، وَی) وغیرہ کی درجہ بندی آتی ہے۔ زمان و ترتیب کے الفاظ (اَدْیَ، ہْیَہ، شْوَہ، تَدَا، اِدانِیم، سامْپْرَتَم)، مکان و سمت (پُرَسْتات، پْرَتیچْیام، اَگْرَتَہ)، تکرار/کثرت (مُہُہ، اَسَکْرِت، اَبْھیکْشْنَم)، اور جذباتی ندائیں (ہَنْت، ہا، اَہو) بھی منظم ہیں۔ سْواہا، وَوْشَٹ، وَشَٹ، سْوَدھا جیسے یَجْنَی نعرے شامل کر کے دکھایا گیا ہے کہ لسانی ذرات بھی درست لِٹرجیکل استعمال سے دھرم کی خدمت کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ باب بھُکتی کے لیے وضاحت اور مُکتی کے لیے دھرم کے مطابق پاکیزہ گفتار—دونوں کی بنیاد پیش کرتا ہے۔
Adhyāya 361 — अव्ययवर्गः (Avyaya-vargaḥ) — The Section on Indeclinables (Colophon/Closure)
اس باب میں اگنی پران کے کوش حصّے میں اویَیَہ وَرگ (غیر متصرّف الفاظ) کی تکمیل بیان کی گئی ہے۔ آگنیہ تعلیمی بہاؤ میں اویَیَہ جیسے نحوی طور پر غیر متبدّل الفاظ سے آگے بڑھ کر کلام/جملے میں معنی کی تنظیم و تدبیر کی طرف رہنمائی ملتی ہے۔ اختتامی صیغہ اس فنی اکائی کے ختم ہونے کی علامت ہے اور لغوی علم کی اگلی ودیا—نانارتھ (کثیرالمعنی) الفاظ کی درجہ بندی—کی طرف انتقال کی تیاری کرتا ہے۔ متن لغوی معرفت کو مکشوف/منکشف تعلیم کے طور پر رکھتا ہے اور بتاتا ہے کہ لسانی وضاحت یَجْن کرم، ویاوہار/قانونی استدلال، اور شاستری تفسیر میں ناگزیر ہے؛ یوں بھُکتی دھرمی مقاصد کے ساتھ جڑتی ہے اور مُکتی کی غایت بھی محفوظ رہتی ہے۔
Bhūmi–Vana–Auṣadhi–Ādi Vargāḥ (भूमिवनौषध्यादिवर्गाः) — Lexical Groups on Earth, Settlements, Architecture, Forests, Materia Medica, and Fauna
بھگوان اگنی وِسِشٹھ رِشی کو کوش-اسلوب میں مترادفات کے گروہ (ورگ) گنوا کر لفظی تعلیم دیتے ہیں۔ ابتدا میں زمین اور مٹی کے الفاظ، پھر عالم/لوک، سمت-دیار اور راہ/پتھ سے متعلق اصطلاحات آتی ہیں۔ اس کے بعد شہری و انتظامی اور واستو شاستر کے لیے ناموں کی فہرست—شہر، بازار، گلی/سڑک، دروازہ، فصیل، دیوار، سبھا/ہال، گھر، محل، دروازے کے آلات، سیڑھی اور صفائی کے الفاظ—بیان ہوتے ہیں۔ پھر پہاڑ، جنگل، باغات وغیرہ کے فطری طبقات اور طویل آیورویدی نِگھنٹو دھارا میں درخت، بیلیں، جڑی بوٹیاں اور ادویہ/درویہ کے مترادفات رنگ و شکل کے امتیاز کے ساتھ مذکور ہیں۔ آخر میں شیر، جنگلی سور، بھیڑیا، مکڑی، پرندے، بھونرا/شہد کی مکھی وغیرہ اور ڈھیر، گروہ، گچھا جیسے جمعی اسماء شامل ہیں۔ یہ باب دکھاتا ہے کہ لسانی دقت ایک دھرمی وسیلہ ہے جو طب، تعمیرات اور دنیاوی نظم کو روحانی ضبط کے ساتھ ہم آہنگ کرتی ہے۔
Chapter 363: नृब्रह्मक्षत्रविट्शूद्रवर्गाः (Groups of terms for Men, Brahmins, Kṣatriyas, Vaiśyas, and Śūdras)
اگنی دیو کوش کے تسلسل میں پچھلے ادھیائے کی زمین/جنگل/ادویاتی اقسام سے ہٹ کر انسان مرکز درجہ بندی پیش کرتے ہیں۔ ابتدا میں “مرد”، “عورت”، “دلہن” کے مترادفات، پھر سماجی و اخلاقی طور پر نشان زدہ عورتوں کی اقسام، قرابت و نسب کے زمرے (سپِنڈ/سَنابھ، گوتر اور رشتہ دار)، اور گھریلو شناخت میں شوہر–بیوی کے جوڑی الفاظ آتے ہیں۔ اس کے بعد جنین، تولید و تناسل کی اصطلاحات، جسمانی حالتیں اور معذوریاں، بیماریوں کے نام—خصوصاً کوڑھ وغیرہ جلدی امراض اور سانس/دق جیسی علّتیں—اور منی، گوشت، چربی، رگیں وغیرہ جسمانی مادّوں کا بیان ہے۔ پھر ہڈیوں اور اعضا، قواعدی جنس (مذکر/مونث) کے استعمال کی نشان دہی، اور کمر و شرمگاہ سے لے کر کندھے، ناخن، گردن کے حصے اور بالوں تک جسمانی اعضا کی مفصل لغت دی گئی ہے۔ آخر میں انگل، وِتستی، رَتنی/اَرَتنی جیسے پیمانے، آرائش و لباس، زیورات، کپڑے/ریشے کی اصطلاحات، ابعاد و شکل اور ساختی صورتوں کے الفاظ جمع کر کے، دقیق نام گذاری کے ذریعے دنیوی فنون و علوم کو دھارمک معرفت کے طور پر واضح کیا گیا ہے۔
Chapter 364 — ब्रह्मवर्गः (Brahmavarga: Lexical Classification of Brahminical/Ritual Terms)
کوشی اسلوب کی مختصر تعریفوں میں بھگوان اگنی ویدی یَجْن کی خواندگی اور برہمنی سماجی و رسومی کرداروں کے لیے درکار نہایت دقیق اصطلاحات بیان کرتے ہیں۔ پہلے وَنْش، اَنْوَوای، گوتر، کُل/اَبھیجن-اَنْوَی کے ذریعے نسب و شناخت کے امتیازات واضح کرتے ہیں؛ پھر اَدھْوَر میں آچاریہ کو منتر کا شارح اور آدیشٹا کو یَجْن کا ہدایت کار عامل قرار دیتے ہیں۔ آگے یَجْن کے نظام—یَجَمان/یَشْٹا، ہم منصب و مجلس کی ذمہ داریاں، اور رِتْوِج ثلاثہ (اَدھْوَرْیُو، اُدْگاتا، ہوتَا) کو یَجُس-سامَن-رِک مہارت کے مطابق—مرتب کرتے ہیں۔ یُوپ پر چَشال، ویدی کا چوکور، آمِکشا، پْرِشَد آجْیَ، پَرَمانَّ، اُپاکْرِت پشو وغیرہ آلات و نذرانوں کی تعریفیں دیتے اور اَبھِشیک/پروکْشَن/پوجا کے مترادفات بتاتے ہیں۔ آخر میں نِیَم اور وْرَت کا فرق، کَلْپ بمقابلہ اَنُکَلْپ، طریقہ شناسی، شروتی مطالعہ کا اُپاکَرَن، زاہدوں کی اقسام، اور یَم (ہمیشہ کا جسمانی ضبط) بمقابلہ نِیَم (کبھی کبھار بیرونی سہارے سے التزام) کی فنی تمیز بیان کر کے برہما-بھویہ/برہمتو/برہما-سایوجیہ پر اختتام کرتے ہیں۔
Chapter 365 — क्षत्रविट्शूद्रवर्गाः (The Classes of Kṣatriyas, Vaiśyas, and Śūdras)
اگنی دیو کوش کے سلسلے میں سماجی و انتظامی اصطلاحات کی تعیین کرتے ہیں۔ وہ بادشاہت کے درجے—راجنیہ، کشتریہ/ویرات، ادھیشور؛ چکروَرتی، ساروبھوم، منڈلیشور—اور وزارتی و دفتری نظام—منترِن، دھی-سچِو، اماتیہ، مہاماتر—بیان کرتے ہیں؛ نیز عدالتی و مالی نگرانی کے عہدے—پرادویواک، اکشدَرْشک، بھورِک، کنکادھیکش۔ محل کے اندرونی انتظام میں انتروَمشک، سووِدَلّ، کنچُکِن، ستھاپتیہ وغیرہ آتے ہیں۔ پھر راجدھرم سے قریب تر حکمتِ عملی—دشمن/دوست/اُداسین/پارشنِگراہ، جاسوس و مخبر، فوری و تاخیری نتائج، ظاہری و پوشیدہ سببیت—کا ذکر ہے۔ آگے طبی فنی نام، قواعد میں جنس کی نشان دہی، اور دھنُروید—زرہ، ویوہ/چکر/انیک، اکشوہِنی تک لشکری حساب، اور کمان، ڈوری، تیر، ترکش، تلوار، کلہاڑا، چھری، نیزہ، جھنڈا وغیرہ کے نام۔ آخر میں ویشیہ کی معیشت—زراعت، سود، تجارت—پیمانے و سکے، دھاتیں و رَس/کیمیاوی مادّے، اور شودر/انتیج کی جماعتوں و پیشوں کی لغت دے کر دکھایا گیا ہے کہ حکمرانی، اقتصاد اور ہنر میں درست زبان دھرم کا حصہ ہے۔
Chapter 366 — सामान्यनामलिङ्गानि (Common Noun-Forms and Their Grammatical Genders)
اس باب میں بھگوان اگنی پیشہ ورانہ اور ادارہ جاتی اصطلاحات سے ہٹ کر، کوش کی طرز پر عام اسماء و صفات، ان کے لِنگی استعمال، مترادفات اور رواجی کاربرد کی درجہ بندی پیش کرتے ہیں۔ نیکی و فضیلت (سکرتی، پُنْیوان، دھنْی، مہاشَے)، اہلیت و علم، سخاوت و فیاضی، اور اقتدار و قیادت (نایک، ادھِپ) کے الفاظ جمع کیے گئے ہیں۔ پھر اخلاقی و رفتاری تضادات—بدکرداری، تاخیر، جلدبازی، سستی، محنت، لالچ، انکسار، جرأت، ضبط، بک بک، رسوائی، سنگدلی، فریب، کنجوسی، غرور اور مبارک مزاجی—بیان ہوتے ہیں۔ حسن بمقابلہ خلا، برتری، فربہی و لاغری، قرب و بُعد، گولائی، بلندی، ثبات (دھرو، نِتْی، سناتن) اور تلاوت/پڑھت کی خامیوں کے الفاظ بھی آتے ہیں۔ مزید ابھیوگ/ابھیگرہ جیسے عملی اوصاف اور معرفتی اصطلاحات—شبْد پرمان (لفظی شہادت)، اُپمان (تشبیہ/قیاس)، ارتھاپتّی (استنباط)، پرارتھدھی، اور اَبھاو کی معرفت—ذکر کر کے، آخر میں ہری کو انسانی فہم کے لیے ‘اَلِنگ’ کہہ کر نحو، معنیات اور پرمان-وِدیا کو دھرم کی تائید کرنے والے الٰہی نظامِ علم میں یکجا کیا جاتا ہے۔
Chapter 367 — नित्यनैमीत्तिकप्राकृतप्रलयाः (The Nitya, Naimittika, and Prākṛta Dissolutions)
حضرتِ اَگنی پرلے کے सिद्धान्त کو چار اقسام میں مرتب فرماتے ہیں: نِتیہ (جانداروں کا مسلسل فنا ہونا)، نَیمِتِک (برہما کے کلپ کے اختتام پر ہونے والی دوری تحلیل)، پراکرت (عظیم یُگ چکروں کے آخر میں کائناتی جذب)، اور آتیَنتِک (مُکتی کے گیان سے آتما کا پرماتما میں لَے ہونا)۔ نَیمِتِک پرلے میں طویل قحط، سورج کی سات کرنوں سے پانی کا جذب، سات سورج-روپوں کا ظہور، ہمہ گیر آتش سوزی جو کالاغنی-رُدر تک پہنچتی ہے، پاتال سے سُورگ تک دَہن، اور جیووں کا اعلیٰ لوکوں کی طرف انتقال بیان ہوتا ہے۔ پھر بارش آگ بجھاتی ہے، ہوائیں بادل بکھیر دیتی ہیں؛ ہری شیش پر ایک ہی سمندر میں یوگ نِدرا اختیار کر کے دوبارہ برہما-روپ میں سृष्टی کی تخلیق کرتے ہیں۔ پراکرت پرلے سانکھیا کے क्रम سے—پرتھوی جل میں، جل آگ میں، آگ ہوا میں، ہوا آکاش میں، آکاش اہنکار میں، پھر مہت میں اور آخر پرکرتی میں لَے ہوتا ہے؛ بالآخر پرکرتی اور پُرُش بھی نام و ورن سے ماورا پرم میں جذب ہو جاتے ہیں، جہاں تمام تصورات موقوف ہو جاتے ہیں۔