Jyotisha & Yuddhajayarnava
JyotishaAstrologyWarfareStrategy

Jyotisha & Yuddhajayarnava

Astrology & Military Strategy

Covers Vedic astrology (jyotisha) including planetary movements, omens, and muhurtas alongside military strategy and the science of warfare victory.

Adhyayas in Jyotisha & Yuddhajayarnava

Adhyaya 121

अध्याय १२१ — ज्योतिःशास्त्रम् (Jyotiḥśāstra / Astral Science)

بھگوان اگنی جیوتش شاستر کو شُبھ و اَشُبھ نتائج کے امتیازی فیصلے کی سائنسی ودیا کے طور پر نہایت اختصار کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ یہ باب مُہورت نامہ کی طرح ہے: نکشتر-رشتوں کے ذریعے شادی کی موافقت (مثلاً شٹکاشٹک دَوش سے پرہیز)، بعض گرہ-تبادلے اور اَست حالتوں میں (خصوصاً برہسپتی–شُکر) ممانعتیں، اور برہسپتی کی وکری یا بہت تیز چال کے دوران ممنوع اوقات۔ پھر پُنسون، اَنّ پراشن، چوڑا/کرن ویدھ، اُپنयन سے متعلق کرم، دوا کا استعمال، بیماری سے نجات کے لیے اسنان، اور تجارت میں (کچھ نکشتروں میں خرید و فروخت) کے لیے وقت کے قواعد بیان ہوتے ہیں۔ شریں–ہریں سمپُٹ، استمبھَن، مرتیو-نِوارن جیسے منتر-ینتر کے استعمال بھی مُہورت کے ڈھانچے میں شامل ہیں۔ آگے بھاو-فل، نوتارا/تارا-بل کی درجہ بندی، تری پُشکر یوگ، کرنوں سے سنکرانتی کے شگون، گرہن کے پُنّیہ کا ودھان، اور آخر میں گرہ-دشا کی مدتیں مذکور ہیں۔ مجموعی طور پر وقت کا علم دھرم، کرم-سِدّھی، سماجی استحکام، خوشحالی اور حفاظت کا وسیلہ بتایا گیا ہے۔

Adhyaya 122

Chapter 122 — Kāla-gaṇana (Computation of Time)

اگنی سورج کی حرکت پر مبنی منظم وقت شماری (سماغن) اور چَیتر سے شروع ہونے والے قمری مہینوں کی ترتیب کا فنی بیان کرتے ہیں۔ عددی اصطلاحات/رموز اور مقامی عملیات کے ذریعے قاعدہ بند حساب سے وار (ہفتے کا دن)، تِتھی، ناڑی/گھٹیکا، نکشتر، یوگ اور کرن جیسے پنچانگ کے اجزاء نکالنے کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ تفریق، 60 سے ضرب، خارجِ قسمت و باقی، قرض/منفی قدروں کی نگہداشت، مہینہ بہ مہینہ تصحیحات، اور بعض راشیوں سے الٹی گنتی جیسے خاص قواعد بھی شامل ہیں۔ اشوچ یا طریقۂ کار کے فرق سے پیدا ہونے والی کمی بیشی کے لیے، حساب شدہ فرق کے تناسب سے پرایَشچِتّ ہوم وغیرہ بطور تلافی نذر کرنے کی ہدایت ہے۔ آخر میں سورج و چاند کے پیمانوں کو برابر کر کے یوگ کو مستحکم کرنے اور پرتِپدا پر کِنتُگھن سمیت کرنوں کے تعین کے اصول دے کر، وقت شماری کو ایک دھارمک تکنیک کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو رسومات کی درست توقیت، سماجی نظم اور کائناتی دھرم کے ساتھ عمل کی ہم آہنگی قائم کرتی ہے۔

Adhyaya 123

युद्धजयार्णवीयनानायोगाः (Various Yogas from the Yuddha-jayārṇava)

گزشتہ حصے میں کال-گننا (وقت کی پیمائش) مکمل کرنے کے بعد بھگوان اگنی ‘یُدھ جَیارṇو’ سے ماخوذ جنگی فتح کی ودیا کا خلاصہ بیان کرتے ہیں۔ اس ادھیائے میں حروفِ صوت اور تِتھیوں کو نندا وغیرہ زمروں میں بانٹ کر عملی درجہ بندیاں کی جاتی ہیں، اور حروف کے مجموعوں کو سیّاروں کے حاکموں سے جوڑ کر لسانی-فلکی رمزنامہ کے طور پر شگون/غیب بینی قائم کی جاتی ہے۔ ناڑی-سپندن، اُچھواس اور پَل جیسے زمانی پیمانوں کے ذریعے جسم اور وقت کے اشاروں سے نتیجہ اخذ کرنے کی بات آتی ہے۔ پھر جنگی نجوم کے چکروں—سورودَی چکر، شنی چکر، کورم چکر اور راہو چکر—کی تقسیمات، سمتوں میں جگہیں اور موت دینے والے حصے بتائے جاتے ہیں؛ نیز نکشتر-مہورت کے ناموں سے یہ طے ہوتا ہے کہ کس وقت کون سا عمل مناسب ہے۔ آخر میں حفاظت و فتح کے لیے بھَیرو منتر کے استعمالات—شکھا بندھ، تلک، اَنجن، دھوپ-لیپن—اور پہننے والی جڑی بوٹیاں، وشی کرن کے یوگ، تلک/لیپ اور تیل وغیرہ بیان ہوتے ہیں؛ یوں اگنیہ ودیا میں جَیوتِش، رسمیات کی تکنیک اور دوا سازی کا دھرم کے مطابق امتزاج نمایاں ہوتا ہے۔

Adhyaya 124

Chapter 124 — युद्धजयार्णवीयज्योतिःशास्त्रसारः (Essence of the Jyotiḥśāstra of the Yuddhajayārṇava)

اس باب میں یُدھّجَیَارْنَو سے وابستہ جیوتِش شاستر کا آغاز ہوتا ہے اور جنگی فتح کو ایک مقدّس-فنی نظام سے جوڑا جاتا ہے—حروف، بیج اکشر، منتر-پیٹھ، ناڑیاں اور اوشدھی/جڑی بوٹیاں وغیرہ۔ اگنی، ایشور کے اُما کے لیے دیے گئے اُپدیش کی بازگشت کرتے ہوئے، شُبھ-اَشُبھ کی پہچان اور منتر-دھونی کی دقیق مطابقت کو رَن-جَے کا سبب بتاتا ہے۔ پھر منتر-شکتی کی بنیاد کائناتی بیان میں رکھی جاتی ہے—شکتی پندرہ اکشری قوّت کے طور پر ظاہر ہو کر جگت کی پیدائش و روانی کا باعث بنتی ہے؛ ‘پانچ منتر’ منتر-پیٹھ کو جنم دیتے ہیں جسے تمام منتروں کا زندگی-موت کا تत्त्व کہا گیا ہے۔ اس کے بعد ویدک منتر و دیوتا کے ربط، برہمن میں قائم سُوروں کی کلاہیں، اندرونی ناد، موکش-سُوچک ‘اِکار’، اور حواس-شکتی-ناڑی کے تعلقات ترتیب سے بیان ہوتے ہیں۔ آخر میں میدانِ جنگ میں فتح کے لیے اَنگ-نیاس اور مرتیونجَے کی پوجا کا وِدھان ہے، اور یہ تاکید کی جاتی ہے کہ منتر-پیٹھ کے زائل ہونے پر منتر کی حیات گویا مردہ ہو جاتی ہے۔

Adhyaya 125

Adhyāya 125 — Karṇamoṭī Mahāvidyā, Svarodaya-Prāṇa Doctrine, and Yuddha-Jaya Jyotiṣa

بھگوان اگنی وِسِشٹھ کو جنگی فتح کے لیے ایسا علم سکھاتے ہیں جس میں منتر-ودیا، لطیف جسم و پران کا نظریہ، اور جنگی جیوٹش ایک ساتھ آتے ہیں۔ باب کی ابتدا کرنموٹی-منتر سے ہوتی ہے جو غضبی عملی نسخہ کے طور پر مرن/پاتن، موہن اور اُچّاٹن کے اعمال میں بتایا گیا ہے؛ پھر کرنموٹی کو سوروُدیہ (سور/حروف کی روانی) اور ناف سے ہردے تک پران کی حرکت پر مبنی ‘مہاوِدیا’ کے طور پر قائم کیا جاتا ہے۔ کان/آنکھ کے بھیدَن جیسے مرمّی منطق اور ہردے–پایو–کنٹھ کی اندرونی نشانہ بندی سے بخار، جلن وغیرہ آفات اور دشمن قوت کے توڑ کی بات آتی ہے۔ اس کے بعد وایو چکر، تیجس اور رس چکر میں شکتیوں کی درجہ بندی اور 32 ماترکاؤں کی آٹھ آٹھ کے گروہوں میں ترتیب بیان ہے۔ پنچ ورگ ورن-شکتی سے جے سادھن، پھر تِتھی–نکشتر–وار کے یوگ، دِرشٹی، پُرن/رِکت راشی کا قاعدہ اور گرہ-فل کے جنگی نتائج دیے گئے ہیں۔ جسمانی علامتوں کے شگون، راہو چکر کی سمت وار ترتیب اور فتح کی شرطوں کے بعد استمبھَن کے عمل، جڑی بوٹی/تعویذ کی حفاظت، شمشان کی آگ کا عمل اور ہنومان پٹ کے محض دیدار سے دشمن کے بھاگنے کا ذکر ہے۔

Adhyaya 126

Chapter 126 — Nakṣatra-nirṇaya (Determination of the Lunar Mansions) and Rāhu-Based Victory/Defeat Omens

ایشور سورج کے موجودہ نکشتر کو جسم کے حصّوں (سر، چہرہ، آنکھیں، دل، اعضا، کمر، دُم) سے جوڑ کر “نکشتر-دیہ-گولک” کے نقشے کے ذریعے سعد و نحس نتائج کی پہچان بتاتے ہیں۔ پھر یُدھجَیَارṇوَ کی طرز پر راہو کا سانپ کی پھن والی شکل بیان ہوتی ہے—۲۸ نقطے لکھ کر راہو کے مقیم نکشتر سے آغاز کر کے ۲۷ نکشتر ترتیب دیے جاتے ہیں؛ اس میں خاص طور پر ساتویں سے متعلق جگہیں جنگ میں موت/نقص کے اشارے، اور دوسری جگہیں عزت، فتح اور شہرت دینے والی کہی گئی ہیں۔ یام کے نصف حصّوں کے سیّارہ-حاکم گنوائے گئے ہیں اور تدبیر بتائی گئی ہے کہ زحل، سورج اور راہو کو “پیچھے” رکھنا جنگ، سفر بلکہ جوئے میں بھی کامیابی دیتا ہے۔ آگے نکشتر ثابت، تیز، نرم، سخت اور پِتْر/نَیرِرت وغیرہ اقسام میں بانٹ کر سفر، پرتیِشٹھا، تعمیر، کھدائی اور شاہی اعمال کے لیے مُہورت چننے کی ہدایت ہے۔ آخر میں تِتھی “جلنے” کے قواعد، تِتھی–وار–نکشتر کے تری پُشکر یوگ سے نتیجوں کی افزائش، سفر سے واپسی کی علامتیں، اور گنڈانت وغیرہ خطرناک جوڑوں میں نیک اعمال اور ولادت تک کے لیے شدید خطرے کی تنبیہ کی گئی ہے۔

Adhyaya 127

Determination of the Nakṣatras (नक्षत्रनिर्णयः) — Chapter Conclusion Notice

یہ حصہ متن میں ایک ‘سَندھی’ کڑی کی حیثیت رکھتا ہے—یہ سابقہ ادھیائے “نکشتر-نرنئے” کا باقاعدہ اختتام درج کرتا ہے اور آگے زیادہ عملی جیوَتِش اور فتح و نصرت سے متعلق حصے کی طرف انتقال کا اشارہ دیتا ہے۔ نکشتر کے تعیّن کے بعد پوران درجہ بندی والے فلکی/نجومی نظریات سے آگے بڑھ کر مُہورت، وقت کی علامتوں اور گرہ-نکشتر عوامل کو حقیقی کاموں میں کیسے برتنا چاہیے—اس کے قواعد کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ اگنی پوران کی دائرۃ المعارفانہ روش میں ایسے اختتامی نوٹس محض کاتبانہ نہیں؛ یہ نصاب کی مانند ارتقائی ترتیب محفوظ رکھتے ہیں—نکشتر کے اصولی مباحث سے لے کر راج دھرم، مہمات اور عوامی زندگی کے فیصلہ جاتی ضوابط تک۔

Adhyaya 128

The Koṭacakra (कोटचक्रम्) — Fort-Diagram and Nakṣatra-Directional Mapping for Victory

یُدھَجَیَارْنَو کے سلسلے میں ایشور ‘کوٹچکر’ کی تعلیم دیتے ہیں—قلعہ بند مقام کے لیے ایک فنی نقشہ، جس میں بیرونی قلعہ، اندرونی مربع، اور پھر مرکز میں ایک اور مربع—یوں تہہ در تہہ مربع ترتیب ہوتی ہے۔ پھر جیوتش کو سمتوں کی حکمتِ عملی سے جوڑ کر سمتوں اور ناڑی تقسیمات میں راشیوں اور مخصوص نکشتروں کی تعیین بیان کی جاتی ہے؛ باہری ناڑی اور مرکزی/اندرونی ناڑی کا فرق بھی واضح کیا گیا ہے۔ یہ سمتی نجوم عملی رہنمائی بنتی ہے—قلعے کے مرکزی حصے میں سعد سیاروں کا متعلقہ نکشتروں کے ساتھ ہونا فتح کی علامت ہے، جبکہ بعض مرکزی ترکیبات خلل اور انتشار کی تنبیہ کرتی ہیں۔ آخر میں دخول و خروج کے نکشتروں کے مطابق قواعد، زہرہ-عطارد-مریخ اور ‘چارا-بھید’ جیسے خفیہ اطلاعاتی اشارات سے فیصلہ کر کے، ہندسہ، وقت شماری اور آسمانی علامات کے امتزاج سے ایک دھرم-مبنی قلعہ فتح طریقہ پیش کیا گیا ہے۔

Adhyaya 129

अर्घकाण्डम् (Argha-kāṇḍa) — Standards of Argha and Month-wise Prescriptions under Portent Conditions

یُدھّجَیَارْنَو کی روایت میں اس ادھیائے میں بھگوان اگنی جنگی نقشوں اور تدبیروں سے ہٹ کر اس بات کی تعلیم دیتے ہیں کہ جب نحوست آمیز مظاہر ظاہر ہوں تو دھرم کے مطابق معاشی ردِّعمل کیسے کیا جائے۔ شہابِ ثاقب کا گرنا، زلزلہ، منحوس گرج، گرہن، دُھومکیتو کا ظہور اور سمتوں میں آگ لگنا—جَیوتِش کے مطابق یہ اضطراب کی نشانیاں ہیں؛ اس لیے شانتِی اور استحکام کے لیے ‘اَرْغ’ کا معیار (مقررہ نذرانہ/دان بطور جواب) بیان کیا گیا ہے۔ سادھک کو مہینہ بہ مہینہ اِن علامات کا حساب رکھ کر جمع آوری اور دان کی مقدار بڑھانی ہے—چَیتر میں چھ ماہ کے اندر نتیجہ شدید، وَیشاکھ میں ذخیرے کی چھ گنا افزائش، جَیَیشٹھ اور آشاڑھ میں جو اور گندم جیسے اناج پر زور۔ آگے شراوَن میں گھی/تیل، آشوِن میں کپڑے اور اناج، کارتِک میں اناج، مارگشیرش میں خریدی ہوئی دان کی اشیا، پُوشْیَ میں زعفران/عطر، ماگھ میں اناج، اور پھالگُن میں خریدی ہوئی خوشبودار اشیا مقرر ہیں۔ یوں شگون شناسی، موسمی معیشت اور دھارمک دان کو فتح کے پروٹوکول میں یکجا کیا گیا ہے۔

Adhyaya 130

Chapter 130: घातचक्रम् (Ghāta-cakra) — Maṇḍalas, Portents, and Regional Prognostics for Victory

بھگوان اگنی گھات چکر کی تعلیم شروع کرتے ہیں: فتح کے لیے مَṇḍلوں کو چار حصّوں میں بیان کرتے ہیں، پھر آگنیہ مَṇḍل کی علامات تفصیل سے بتاتے ہیں۔ غیر معمولی ہوائیں، سورج و چاند کے ہالے، زلزلے، ہولناک گرج، گرہن، دُھوم کیتو، دھوئیں بھری شعلہ، خون جیسی بارش، شدید گرمی اور پتھروں کا برسنا—ان بدشگونیوں کو بیماری، قحط، دودھ کی پیداوار میں کمی اور فصلوں کے نقصان جیسی سماجی و ماحولیاتی آفتوں سے جوڑا گیا ہے۔ پھر نَکشتر کے مطابق ان اشاروں کے جغرافیائی و سیاسی نتائج بتائے جاتے ہیں: اُتّرآپتھ اور دیگر جنپدوں میں مخصوص نَکشتر کے وقت زوال، اور وायویہ، وارُṇ، ماہِندر جیسے سمت/عنصر کی حکمرانی والے نَکشتر-طبقات سے تباہی سے لے کر صحت و فراوانی تک مختلف پھل۔ مُکھ گرام اور پُچھ گرام جیسے دیہی اقسام، ایک ہی راشی میں چاند–راہو–سورج کی حالت، اور تِتھی-سَندھی پر سوماگرام کے تعیّن کا قاعدہ بھی مذکور ہے۔ یوں یہ ادھیائے دھرم کی حفاظت کے لیے جنگی نجوم اور ریاستی پیش گوئی کی آگنیہ ودیا کو نمایاں کرتا ہے۔

Adhyaya 131

Ghāta-cakra and Related Diagrams (घातचक्रादिः)

اس باب (घातचक्रादिः) میں اِیشور-روپ اگنی، یُدھّجَیَارْنَو کے ضمن میں جنگی فیصلوں کے لیے جیوَتِش پر مبنی منظم طریقہ سکھاتے ہیں۔ سْوَرچکر میں حروفِ علت کو سمتوں میں دَکْشِناوَرْت (گھڑی کی سمت) ترتیب سے رکھا جاتا ہے، چَیتْر سے ماہ-چکر گھمایا جاتا ہے اور پرتیپدا سے پُورنِما تک تِتھیاں نشان زد کی جاتی ہیں۔ چَیتْر-چکر کے مخصوص ‘اتصالات’ سے سعد و نحس طے ہوتا ہے—طاق/غیر ہموار ترتیب سعد، جفت ترتیب نحس۔ نام کے اَکشَر اور ہرسو/دیرگھ سْوَر کے منطق سے ادائیگی کے آغاز/اختتام میں سْوَر کی چڑھت کو موت یا فتح کے شگون کے طور پر پڑھا جاتا ہے۔ نَرچکر میں نَکشتر-مجموعہ کو جسمانی پیکر پر نیاس (سر، منہ، آنکھیں، ہاتھ، کان، دل، پاؤں، پوشیدہ مقام) کے ذریعے رکھا جاتا ہے؛ اگر سورج زحل، مریخ اور راہو کے ساتھ ایک ہی نَکشتر میں ہو تو اسے مہلک یوگ کہا گیا ہے۔ آخر میں جَیَچکر میں حروف نویسی اور خطی جال کے ذریعے سمتیں، گرہ، رِشی، تِتھی، نَکشتر وغیرہ مقرر کر کے، نام سے حاصل مجموعہ کو آٹھ (وَسو) پر تقسیم کیا جاتا ہے اور حیوانی علامتوں سے قوت کی درجہ بندی کر کے جنگی شگونوں کا مختصر تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔

Adhyaya 132

Adhyaya 132 — Sevā-cakra and Tārā-cakra (Indicators of Gain/Loss, Compatibility, and Risk)

بھگوان اگنی سیوا-چکر کا بیان کرتے ہیں—یہ جیوَتِش پر مبنی تشخیصی چکر ہے جس سے لابھ–الابھ (نفع و نقصان) اور باپ، ماں، بھائی اور زوجین/انحصاری رشتوں کے نتائج معلوم کیے جاتے ہیں۔ عمودی و افقی تقسیم سے 35 خانوں کا نقشہ بنا کر، سُوَر اور سپرش حروف کی ترتیب اور نام کی صوتی درجہ بندی سے فال نکالنے کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ نتائج کو مبارک حالتیں—سدھ، سادھیا، سُسدھ—اور خطرناک حالتیں—اَری، مرتیو—میں رکھا گیا ہے اور کاموں میں دشمن/موت کے اشاروں سے بچنے کی تاکید ہے۔ حروفی گروہوں کو دیو، دیتیہ، ناگ، گندھرو، رشی، راکشس، پِشَچ، انسان وغیرہ سے جوڑ کر قوت کی درجہ بندی دی گئی ہے اور دھارمک قید کہ طاقتور کمزور پر ظلم نہ کرے۔ پھر تارا-چکر میں نام کے ابتدائی ہجے سے نکشتر طے کر کے، ماترا گنتی اور 20 پر تقسیم سے جنم، سمپت، وِپت، کْشیم وغیرہ نتائج نکالے جاتے ہیں۔ آخر میں راشی-میتری/عداوت کے جوڑے دیے گئے ہیں اور ‘دوست راشی’ کے تحت خدمت نہ کرنے کی تنبیہ کے ساتھ رشتہ داری کی حکمتِ عملی شامل کی گئی ہے۔

Adhyaya 133

Chapter 133 — Various Strengths (Nānā-balāni) in Jyotiṣa and Battle-Protection Rites

اگنی دیو یُدھجَیَارْنَو کے سلسلے میں جیوتِش کے تشخیصی اصولوں کو میدانِ جنگ کی کامیابی سے جوڑتے ہیں۔ پہلے ‘کشیترادھِپ’ (میدان/لشکر کا سردار) کے متوازن جسمانی اوصاف اور معتدل مزاج بیان کرتے ہیں، پھر سورج، چاند، مریخ، عطارد، مشتری، زہرہ، زحل کی حالتوں سے طبیعت اور بخت کے نتائج واضح کرتے ہیں۔ اس کے بعد دشا کے پھل—دولت، زمین، شاہی خوشحالی وغیرہ—بتا کر نادی-پراواہ (بائیں/دائیں سانس) اور نام کے حروف کی جفت/طاق نسبت سے شگون شناسی، اور اسے تجارت و جنگ کے نتائج جانچنے میں برتنے کی تعلیم دیتے ہیں۔ پھر اگنیہ ودیا میں بھیرَو-مرکوز ہتھیار منتر، نیاس و جپ کے ساتھ دشمن فوج کو شکست و فرار دینے کے عمل، شمشان کے مواد سے لشکر توڑنے کی رسم اور کھینچی ہوئی پُتلی پر نام لکھنے کی ودھی آتی ہے۔ گڑُڑ/تارکشْی چکر فتح، زہر کے ازالے اور بھوت-گرہ آزار کی شانتि کے لیے دھیان اور اکشر-وِنیاس کے ساتھ سکھایا گیا ہے۔ آخر میں پِچّھِکا ودھی (گرہن-جپ)، دور سے روک/بھنگ کے طریقے، پتّوں پر لکھی ماترِکا ودیائیں، بیج-گربھت کنول-پتّی رَکشا یَنتر، مرتیونجَے وِیوہ اور ‘بھیلکھی’ ودیا سے دشمن کی جادوی موت کے حملوں کی روک تھام—اور تلوار کی لڑائی میں ناقابلِ مغلوب ہونے کا عملی دعویٰ—بیان ہوتا ہے۔

Adhyaya 134

Adhyāya 134 — त्रैलोक्यविजयविद्या (Trailokya-vijayā Vidyā)

اس باب میں ایشور کی تعلیم کردہ ‘تریلوکیہ وجیا ودیا’ بیان ہوتی ہے—یہ دشمن کے یَنتر اور رکاوٹ ڈالنے والی قوتوں کو کچل دینے والی تدبیر ہے۔ ابتدا میں منتر کے القاب کے روایتی اختلافات محفوظ کیے گئے ہیں—غم کو مٹانے والی، منتروں پر غلبہ پانے والی، اور دشمن، بیماری و موت کو دور کرنے والی۔ پھر اصل انکشاف میں جَیا دیوی کو قہرآمیز روپ میں—نیلے رنگ کی، پریت گنوں سے گھری، بیس بازوؤں والی—تصور کرنے کا حکم ہے؛ منتر کی ترتیب میں چھیدنے، کاٹنے اور ‘تینوں لوکوں پر فتح’ کی فرمان دہی آتی ہے۔ سادھک پنچانگ نیاس کر کے آگ میں سرخ پھولوں کی آہوتی دیتا ہے، باطنی تقدیس کو ظاہری ہوم سے جوڑتے ہوئے۔ بعد ازاں ستَمبھَن، موہن، دراوَن، آکرشن اور پہاڑ ہلانے، سمندر سکھانے جیسی مبالغہ آمیز کرتبیں گنوا کر، آخر میں سانپ کے نام سے منسوب مٹی کی مورت کے ذریعے دشمن کو مغلوب کرنے کا عمل بتایا گیا ہے۔

Adhyaya 135

Chapter 135: सङ्ग्रामविजयविद्या (Saṅgrāmavijayavidyā) — The Vidyā for Victory in Battle

اس باب میں سابقہ ‘تریلوکیہ وجے-ودیا’ کی تکمیل کا ذکر کرکے یُدھ جَیارنَو کے دائرے میں ‘سنگرام وجے-ودیا’ کا آغاز ہوتا ہے۔ ایشور ستَمبھَن/بَندھن کی حفاظتی غرض سے پدمالا منتر سکھاتے ہیں—منہ اور آنکھوں کو باندھنا، ہاتھ پاؤں کو روکنا، اور دُشٹ گرہوں (ضرر رساں گرفت کرنے والی قوتوں) کا شمن۔ یہ ودیا سمتوں، ذیلی سمتوں، زیریں حصے اور آخرکار ‘سب’ کو باندھنے والی ہمہ گیر فتح کی کرِیا بن جاتی ہے۔ بھسم، پانی، مٹی یا رائی کے دانوں سے عمل کرکے ‘پاتَیَ’ (گرا دے) کا حکم دیا جاتا ہے، پھر چامُنڈا کا آواہن ‘وِچّے ہُوں فَٹ سْواہا’ جیسے بیج-اختتام کے ساتھ ہوتا ہے۔ اثرپذیری کو ہوم، جپ اور پاٹھ کی پابندی سے جوڑا گیا ہے، اور 28 بازوؤں والی دیوی/دیوتا کی صورت کا دھیان بتایا گیا ہے جس میں تلوار، ڈھال، گدا، عصا، کمان-تیر، شنکھ، جھنڈا، وجر، چکر، کلہاڑا، ڈمرو، آئینہ، شکتی-بھالا، نیزہ، ہل، پھندا وغیرہ شامل ہیں۔ آخر میں ترجینتی، مہیش گھاتنی جیسے خاص ہوم اور تل-تریمدھو ہوم کی دیكشا-اخلاقی رازداری اور محدود ترسیل کی ہدایت دی گئی ہے۔

Adhyaya 136

The Nakṣatra Wheel (नक्षत्रचक्रम्)

اگنی دیو باب ۱۳۶ میں سفر وغیرہ کے نتائج معلوم کرنے کے لیے ایک عملی نجومی آلہ ‘نکشتر چکر’ کا تعارف کراتے ہیں۔ یہ چکر اشونی سے شروع کر کے بنایا جاتا ہے اور تین ہم مرکز حلقوں/تری ناڑی کی صورت میں مرتب ہوتا ہے، جس سے تعبیر کی تہیں واضح ہوتی ہیں۔ پھر نکشتر گروہوں اور حرف/مدرا کے اشارات (مثلاً مُشتی–مُدگر، رِشٹی–مُدگر؛ اور اَبھَے، سواستک، ستَمبھِکا کے ساتھ مجموعے) کی فہرست دی گئی ہے، جو نتائج پڑھنے کی رمزی درجہ بندی بتاتی ہے۔ کرتّکا–روہِنی، چترا–سواتی–وشاکھا، شروَنا–ریوتی وغیرہ کو ‘اَہی’، ‘بھں’ جیسے صوتی نشانات سے جوڑ کر یادداشت کے لیے نقشہ بھی دیا گیا ہے۔ اس ساخت کو ‘فَنییشور چکر’ کہا گیا ہے اور تری ناڑی کے ساتھ جڑی گرہ-ترتیبات سے شُبھ/اَشُبھ کا فیصلہ بتایا گیا ہے۔ سورج، مریخ، زحل اور راہو کے اقتران کو اَشُبھ کہا گیا ہے؛ موافق یوگ میں نتیجہ شُبھ میں بدل سکتا ہے، اور ملک/گاؤں نیز بھائی، بیوی وغیرہ رشتوں تک تعبیر پھیلائی گئی ہے۔

Adhyaya 137

Adhyāya 137 — महामारीविद्या (Mahāmārī-vidyā)

یہ باب نَکشتر-چکر کے بیان کے فوراً بعد ‘مہاماری-ودیا’ پیش کرتا ہے، جو آفت، بیماری اور دشمن قوت کے مقابلے کی حفاظتی منتر-کریا ہے۔ ایشور ہردیہ، شِر، شِکھا، کَوَچ اور اَستر-منتر کے منظم نیاس کی تعلیم دے کر مہاماری، کالراتری اور مہاکالی کے اُگْر روپوں کا آہوان کرتے ہیں اور سادھک کو منتر-شستر سے مسلح کرتے ہیں۔ پھر موت و اَشَوچ سے وابستہ کپڑے پر مربع یَنتر بنا کر مشرق رُخ سیاہ، تِرِمُکھ، چَتُربُھج روپ کا دھیان بتایا گیا ہے—ہاتھوں میں دھنش، ترشول، کاٹنے والا ہتھیار اور کھٹوانگ؛ جنوب میں سرخ زبان والا ہیبت ناک روپ اور مغرب رُخ سفید، شُبھ روپ کی خوشبودار نذروں سے پوجا کا وِدھان بھی مذکور ہے۔ آگے روگ-ناش اور وشی کرن کے لیے منتر سمرن، مخصوص سَمِدھا و درویوں سے ہوم کر کے شترُو-پیڑا، مَرَن، اُچّاٹن اور اُتسادَن جیسے جنگی کرم بتائے گئے ہیں۔ آخر میں میدانِ جنگ میں دھوج/پٹ کی نمائش، کنواریوں کی معیت، دشمن کو سَتَمبھِت کرنے کی بھاونا، اور ‘تریلوکیہ وجیا مایا’ کے نام سے سَتَمبھَن-ودیا کو دُرگا/بھَیروی روپ میں رازدارانہ طور پر منتقل کر کے، کُبجِکا، بھَیرو، رُدر اور نرسِمْہ سے متعلق ناموں کے اوچار سے اختتام کیا گیا ہے۔

Adhyaya 138

अध्याय १३८: षट्कर्माणि (The Six Ritual Operations)

اِیشور منتر-تنتر میں مستعمل شٹکرم—چھ عملی مقاصد—کا خاکہ بیان کرتے ہیں۔ آغاز میں منتر-تحریر کا بنیادی قاعدہ ہے کہ سادھْی (ہدف/مقصود) کو منتر کے نسبتاً مقررہ مقامات پر لکھا جائے۔ پھر وِنیاس کی سمپردایائیں رسم کی ‘نحو’ کی طرح بتائی گئی ہیں—پَلّوَ (اُچّھاٹن پر مبنی)، یوگ-وِدھی (دشمن کے وَنْش/کُل کے اُکھاڑ پھینکنے کے لیے)، رودھک (ستَمبھَن اور دیگر روکنے والے اعمال میں)، اور سمپُٹ (وشیکرن/آکرشن میں حفاظتی حصار)۔ وِدَربھ جیسے جال-وِنیاس اور حرف بہ حرف رکھنے کے قواعد بھی مذکور ہیں۔ آکرشن کے لیے بہار کے موسم کا وقت، اور سْواہا، وَشَٹ، فَٹ—ان نعرہ نما الفاظ کا شانتی، پُشٹی، آکرشن، پرتیاکرشن، بھیدن اور خطرہ دور کرنے وغیرہ کے مطابق درست استعمال بیان ہوا ہے۔ آخر میں یم کی آہوان کے ساتھ جے-رکشا کا क्रम، رات کے شگون/علم، دُرگا کی حفاظت، اور دشمن-نाश کے لیے بھَیروی جپ کا منتر دیا گیا ہے—جو دھرم کے دائرے میں، گرو-پرَمپرا سے منتقل شدہ منضبط تکنیک کے طور پر پیش ہوتا ہے۔

Adhyaya 139

Chapter 139 — षष्टिसंवत्सराः (The Sixty Years)

یُدھجَیَارْنَو کے جَیوتِش-پراکَرَن میں ایشور ساٹھ سالہ سموتسر چکر کو بادشاہت اور معاشرتی بہبود کے لیے سعد و نحس نتائج جانچنے کا معیار بتاتے ہیں۔ پربھَو، وِبھَو، پرجاپتی، اَنگِرا، ایشور، پرماتھِی، وِکرم، دُرمُکھ، ہیمَلَمب، وِلَمب وغیرہ نامی برسوں کو یَجْیَ کی خوشحالی، عوامی مسرت، فصل کی پیداوار، بارش (معتدل/حد سے زیادہ)، صحت و بیماری، دولت کا نقصان، سماجی سختی اور فتح کے امکانات سے مربوط کیا گیا ہے۔ خون جیسا اخراج، خون آلود آنکھیں، زردی مائل/تانبئی آسمان، اُبلتے پانی اور ‘سِدھارتھ/رَودْر/دُرمَتی/دُندُبھِی’ جیسی حالتوں کو وقت سے وابستہ شگون/نیمِت کے طور پر بیان کر کے پالیسی، عسکری احتیاط اور رعایا کی فلاح کے اقدامات کی رہنمائی کی گئی ہے۔ یوں یہ باب ریاست کے لیے مختصر جَیوتِش رہنما ہے، جہاں کائناتی وقت کو دھرم، فراوانی اور حکمتِ عملی کی کامیابی کے لیے قابلِ عمل معلومات سمجھا گیا ہے۔

Adhyaya 140

Adhyāya 140 — वश्यादियोगाः (Vaśyādi-yogāḥ): Sixteen-Square Diagram, Herb-Lists, and Encoded Formulas for Subjugation, Protection, and Prosperity

بھگوان اگنی ‘وشیادی یوگ’ نامی ایک فنی و عملی رسمیات کا بیان کرتے ہیں—جس کا مقصد وشیकरण، کشش اور متعلقہ اثرات ہیں—اور یہ سب دْویَشْٹ پَد (سولہ خانوں) کے نقش/یَنتَر میں منظم ہے۔ ابتدا میں عنوانات اور نسخہ جاتی اختلافات (پاتھ بھید) کی طرف اشارہ ہے، پھر مادّۂ طب/جڑی بوٹیوں کی فہرست میں بھृنگراج، سہدیوی، پترنجیو/کرتانجلی، وشنوکْرانتا/شِتا-آرکک وغیرہ کے نام اور مترادفات آتے ہیں، جو متن کی عملی دواشناسی دکھاتے ہیں۔ اس کے بعد یَنتَر کے خانوں میں رِتوِج، ناگ، مُنی/مَنو، شِو، وَسو، دِک، رَس، وید، گْرہ، رِتو، سورْیَ، چندر وغیرہ کی پد-دیوتاؤں اور زمروں کے مطابق کائناتی نقشہ بندی کر کے اسے بدن سے جوڑا گیا ہے۔ پھر عمل کی ترتیب: دھوپ (دھونی/فومیگیشن)، اُدوَرتن (ملش/اُبٹن)، اَنجن (سرمہ)، سْنان (غسل) اور متعدد لیپ (لیپ/پیسٹ)؛ خاص طور پر ہمہ کار دھوپ کی فضیلت اور مُعطّر/ملیدہ سادھک کو عزت ملنے کا ذکر ہے۔ گھر خوشبودار کرنے، آنکھ کے سرمے، غسل، کھانے، پینے، تلک وغیرہ کے استعمال کے مطابق منتر-درویہ کے گروہ الگ کیے گئے ہیں؛ آخر میں وشیہ، ہتھیار روکنے (شسترستَمبھن)، پانی میں حفاظت، زرخیزی، آسان ولادت اور پتر-پراپتی کے لیے گُٹِکا (گولیاں) اور لیپ، نیز بھوت-سنکھیا طرز پر اجزا کی تعداد کے رمزی اشارے دیے گئے ہیں۔ اختتام پر رِتوِج-پد سے منسوب جڑی بوٹیوں کے ‘پربھاو’ کی تصدیق کر کے اگنی پران کی مقدس اور منظم فنی رسمیات کی روایت کو مضبوط کیا گیا ہے۔

Adhyaya 141

Ṣaṭtriṃśat-padaka-jñāna (Knowledge of the Thirty-Six Padakas) — Mṛtasañjīvanī-Rasāyana and Coded Therapeutic Counts

اس باب میں بھگوان اگنی “چھتیس پدک” نامی ایک فنی رसायناتی طریقہ بیان کرتے ہیں، جسے برہما، رودر اور اندر نے معزز جانا اور جو مِرت سنجیونی-رसायن کے طور پر معروف ہے۔ متن میں 36 دوائی اجزاء (درویہ) گنوائے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ ایکادی وغیرہ ترتیب وار مرکبات کی صورت میں تیار کرنے پر یہ ہمہ گیر مرض کُش بن کر امری کرن—یعنی بےمرگی کے مانند قوتِ حیات—عطا کرتے ہیں۔ مقدار کی حدیں اور استعمال کی صورتیں (سفوف، گولیاں، لعوق/لیہ، جوشاندہ، میٹھا لڈو/گڑ-شکر کے پکوان) بتائی گئی ہیں، نیز نچوڑ (سورس) سے بار بار بھاونہ/ترسیب کر کے تاثیر بڑھانے کی ہدایت ہے۔ جھریوں اور بالوں کی سفیدی میں کمی، جسم کے مختلف “کوشٹھ” میں ہمہ گیر اثر، اور باقاعدہ ضبطِ نفس کے ساتھ 300 برس عمر کا مثالی پھل بیان ہوا ہے۔ تِتھی و شمسی پیمائشوں کی رمزدار گنتیاں، وाण/رتو/شیل/وسو جیسے کوڈ الفاظ، اور سیاروی تا کسوفی اعمال کے حوالوں سے علاج کو جوتش نما تقویمی و رسومی نظم سے جوڑا گیا ہے۔ آخر میں تاکید ہے کہ یہ پدک-گیان راز ہے اور بلا امتیاز کسی کو نہ دیا جائے۔

Adhyaya 142

Mantrāuṣadha-ādi (Mantras, Medicinal Herbs, and Ritual Diagrams for Protection and Victory)

یُدھَجَیَارْنَو کے سیاق میں بھگوان اگنی وِسِشٹھ کو فتح و نصرت کے لیے عملی و فنی طریقہ سکھاتے ہیں، جس میں منتر، اوشدھ (جڑی بوٹیاں) اور چکر/ریکھا کے نقشوں کا باہمی امتزاج ہے۔ ابتدا میں نام پر مبنی حرف/ماترہ کی گنتی سے جنم اور سوال (ہورَری) کے نتائج کے اشارے، جفت/طاق حروف کی تعداد، اور چھند/گُن کی جانچ کے قواعد بیان ہوتے ہیں۔ پھر رَن-جَیوتِش میں شنی-چکر کی رعایت، بعض پہر/یام کی تقسیمات سے اجتناب، اور ‘دن-راہو’ و ‘تِتھی-راہو’ کو سمتوں سے جوڑ کر میدانِ جنگ میں فائدہ مند رخ متعین کیا جاتا ہے۔ مُولبھیدک ریکھائیں اور وِشٹی–راہو کی آٹھ-ریکھا گردش دیوتاؤں/سمتوں کے ساتھ، نیز ہوا کی سمت کو شگون مان کر وقت کو مکانی حکمتِ عملی سے مربوط کرتی ہیں۔ آخر میں پُشیہ نَکشتر میں جمع کی گئی مخصوص جڑی بوٹیاں تیر و تلوار وغیرہ سے حفاظت کے لیے، اور گرہ-پیڑا، بخار، بھوت-بाधا وغیرہ اور عام اعمال کے لیے کثیر-بیج والا طاقتور حفاظتی منتر مقرر کیا گیا ہے—یوں آگنیہ وِدیا کائناتی فہم، رسومی تکنیک اور عملی دفاع کا جامع سنگم دکھاتی ہے۔

Adhyaya 143

Chapter 143 — Worship of Kubjikā (कुब्जिकापूजा)

اس باب میں منتر اور دوائی‑تدابیر کے موضوع سے آگے بڑھ کر یُدھجَیارṇَو کے دائرے میں شاکت‑تانترک فتح کے عمل کا بیان ہے۔ بھگوان کُبجِکا کی کرم‑پوجا کو “سَروارتھ‑سادھنی” بتاتے ہیں—ابھِمنترِت مادّے، خصوصاً آجْیَ (گھی)، اور شستر‑ادھیواسن کے ساتھ مل کر جنگ میں جیت بھی عطا کرتی ہے۔ چکر‑پوجا کی علامتیں، بیجاکشر، اور گُہْیَ اَنگ، ہاتھ، دل اور سر پر نیاس کے ذریعے سادھک کے بدن کو شکتی‑کشیتر بنایا جاتا ہے۔ پھر منڈل میں سمتوں میں اَستر، کَوَچ، نَیتر، شِکھا وغیرہ منتر قائم کیے جاتے ہیں اور ۳۲‑پَتّر مرکز میں بنیادی کثیر‑حرفی بیج کی پرتِشٹھا کی جاتی ہے۔ چنڈِکا کی برتری سے ماترِکاؤں کا ظہور، پِیٹھوں اور سمتوں کی ترتیب، اور وِمَلَپَنجَک کی تقسیم بھی مذکور ہے۔ آخر میں گنپتی/وٹُک، گرو، ناتھ اور دیگر دیوتاؤں سے منڈل کو بھر کر کُبجِکا (اور کُلٹا) کو مرکز بنا کر حفاظت، تسلط اور دھارمک فتح کے لیے کرم‑پوجا مکمل کی جاتی ہے۔

Adhyaya 144

Adhyāya 144 — Kubjikā-pūjā (कुब्जिकापूजा)

خداوندِ ایشور کُبجِکا-پوجا کے نظام کو دھرم، ارتھ وغیرہ تمام پُروشارتهوں میں فتح و کامیابی کی سادھنا کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ سادھک صرف مُولا-منتر سے یا پورے پریوار کے ساتھ پوجا کر سکتا ہے۔ پھر کُبجِکا کے مفصل منتر کا جپ، کر اور انگ-نیاس، اور واما–جَیَشٹھا–رَودری ترتیب سے تینوں سندھیاؤں کا انوشتھان بتایا گیا ہے۔ کَولا گایتری میں کُبجِکا کو کُلا-واک کی ملکہ اور مہاکالی کے روپ میں سراہا گیا ہے۔ پادُکا-پوجا منظم نام-سلسلے سے (کہا گیا ساٹھ کا مجموعہ، ‘نمو’ پر اختتام) پھیلتی ہے؛ منڈل-نیاس، سمتوں کی پوجا، بَلی کے فقرے، بیج اکشر کی تعیین وغیرہ درج ہیں۔ آخر میں دیوی کا دھیان 32 اکشروں کی کلیت، نیلے کنول جیسی سیاہ فام، چھ چہروں والی، بارہ بازوؤں والی، ناگ-علامتوں سے مزین اور ہتھیار و اوزار تھامے ہوئے روپ میں کرایا گیا ہے۔ ودیا–دیوی–گرو کی تطہیرِ ثلاثہ، مقام/آسن کی گنتی، ماترِکا اور ڈاکِنی شکتی گروہوں کے ساتھ یہ اگنیہ تانترک طریقہ منتر، بدن-نیاس اور کائناتی ترتیب کو یکجا کر کے منضبط فتح-سادھنا پیش کرتا ہے۔

Adhyaya 145

Chapter 145: Mālinīnānāmantrāḥ (The Various Mantras of Mālinī)

اس باب میں ایشور مالِنی پر مرکوز ایک منضبط منترک-رسومی پروگرام بیان کرتے ہیں، جس سے پہلے صراحتاً شوڈھا-نیاس (چھ گونہ استقرار) کیا جاتا ہے۔ نیاس کو شاکت، شامبھَو اور یامل—تین نظاموں کی صورت میں سمجھایا گیا ہے، جہاں شبد-راشی (صوتی/حروفی مجموعہ)، تتّو-تریہ اور جسم میں استقرار کا ربط قائم ہوتا ہے۔ پھر چھند/منتر کی تقسیمات آتی ہیں—بارہ اکشروں والی ونمالا، پانچ اکائیوں کی رتنپنچاتما، نو اکائیوں کی نواتما؛ نیز شاکت ذیلی تقسیمات میں جھ سے نشان زدہ سولہ پرتیرُوپوں والی تری وِدیا، اَدھور-اشٹک اور دوادش انگ ساخت۔ بیج اکشر اور آیُدھ منتر کے بعد سَروَسادھک منتر دیا گیا ہے—“کریں ہروں کلیں شریں کروں پھٹ” (پھٹ تین بار)۔ اس کے بعد طویل جسمانی نقشہ بندی: سر، آنکھیں، کان، منہ، دانت، گلا، کندھے، بازو، انگلیاں، کمر، ناف، دل، رانیں، گھٹنے، پنڈلیاں، پاؤں اور خون، گوشت، ہڈی، گودا، منی، پران، کوش وغیرہ لطیف دھاتوں پر اکشر اور شکتیوں/دیوتاؤں کا نیاس۔ آخر میں ہریں بیج سے مُقوّی رُدر-شکتیوں کی پوجا کو ہمہ گیر سِدھی عطا کرنے والی کہا گیا ہے—یوں اگنی پران کی عملی تانترک تکنیک اور دھارمک و روحانی مقاصد کا امتزاج نمایاں ہوتا ہے۔

Adhyaya 146

Chapter 146 — Aṣṭāṣṭaka Devī-s (अष्टाष्टकदेव्यः)

اس باب میں اگنی (بطورِ آوازِ ایشور) تری کھنڈی—برہما، وِشنو اور ماہیشوری—کو ماترِکاؤں کے مخفی ‘ہردیہ’ سے وابستہ منتر-ساخت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ماؤں کی شکتیوں کو مقاصد پورے کرنے والی، اَکشَی (ناقابلِ زوال)، بے رکاوٹ گتی والی اور وشی کرن، اُچّاٹن اور مولن جیسے اعمال میں کارگر بتایا گیا ہے—خصوصاً دشمنانہ کرِتیاؤں کے قطع و برید اور سِدھی کے حصول کے لیے۔ ‘وِچّے سْواہا’ پر ختم ہونے والے منتر-اجزا، نسخہ جاتی اختلافات، پد/لفظ شمار اور بڑے منتر-مجموعے میں ان کی ترتیب بیان ہوتی ہے۔ پانچ پرنَو حدود کے ساتھ جپ و پوجا، پد-سندھیوں میں کُبجِکا-ہردیہ کی درآمیزی، ‘تین کے بیچ’ صوتی نیاس کے قواعد، شِکھا-شیوا/بھیرَو فارمولے، اور 32 حروفی ترتیب کے مطابق تین حرفی بیج-مجموعے (بیج سمیت/بیج کے بغیر) مذکور ہیں۔ آخر میں کُلا/نسب کے مطابق برہمانی، ماہیشوری، کوماری، ویشنوَی، واراہی، ایندری، چامُنڈا، مہالکشمی وغیرہ دیوی نام گنوائے گئے ہیں اور یُدھ جَیارنَو روایت میں فتح کے لیے منڈل پوجا پر زور دیا گیا ہے۔

Adhyaya 147

Adhyāya 147 — Guhyakubjikā-Tvaritā Mantra: Upadrava-Śānti, Stambhana–Kṣobhaṇa, and Nyāsa for Jaya (Victory)

اس ادھیائے میں ایشور گُہْیَکُبْجِکا اور تْوَرِتا دیوی پر مرکوز نہایت قوی حفاظتی اور فتح بخش منتر-تکنیک سکھاتے ہیں۔ دشمن کے یَنتر، منتر، تنتر اور چُورن کے استعمال سے پیدا ہونے والے ‘اُپَدْرَو’ کی شانتی کا وِدھان ہے، جس میں کِرت، کارِت، کریامان، کرِشْیَت—ماضی، حال، مستقبل—تمام کرم-ایجنسی شامل ہے۔ پھر کْشوبھن، آکَرشن، وَشْی، موہن، ستَمبھَن وغیرہ مخصوص منتر-افعال اور بیج-دھونی و ورن کے اشارے بیان ہوتے ہیں۔ جَے (فتح) کے لیے تْوَرِتا منتر-سوتر اور مکمل نیاس—آسن، ہردیہ، شِرس، شِکھا، کَوَچ، نَیتر، اَستر—‘پھٹ’ اختتام کے ساتھ حفاظتی سیلنگ سمیت دیا گیا ہے۔ نو شکتیوں کا ذکر اور سمتوں کے محافظ ‘دوری’وں کی آہوانا سے بیرونی جہتی حفاظت کو اندرونی اعضا-نیاس کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ آخر میں بیجوں کو برہما، آدتیہ وغیرہ دیوتاؤں سے منسلک کر کے ‘دارُن’ اور ‘پھٹ’ جیسے زور دار الفاظ کی دائمی حفاظتی حیثیت دوبارہ ثابت کی جاتی ہے۔

Adhyaya 148

Saṅgrāma-Vijaya-Pūjā (सङ्ग्रमविजयपूजा) — Rapid Worship and Sūrya-Mantra for Victory

اس باب میں ایشور جنگی فتح کے لیے سورج کو مرکز بنا کر مختصر ‘سنگرام-وجے-پوجا’ کی تعلیم دیتا ہے۔ ابتدا میں سورج کے شڈنگ منترون سے نیاس کر کے حفاظت، تَیَس اور رسم کی تکمیل قائم کی جاتی ہے۔ پھر دھرم سے شروع ہونے والی آٹھ صفات—دھرم، گیان، ویراغیہ، ایشوریہ وغیرہ—کو باطنی اہلیت سمجھ کر آواہن و پوجن کیا جاتا ہے۔ سادھک سورج-چندر-اگنی کے منڈل کو کنول کی کرنیکا و کیسر کی مانند تصور کرتا ہے، اس میں دیپتا، سوکشما، جیا، بھدرا، وبھوتی، وِملا وغیرہ شکتیوں اور ستّو-رجس-تمس، پرکرتی-پُرش جیسے تتوؤں کی स्थापना کرتا ہے۔ آخر میں آتما-انترآتما-پرما آتما کا سہ گانہ دھیان، آٹھ دوارپالوں کی حفاظت کے ساتھ، نذرانہ، جپ اور ہوم سے مکمل ہو کر جنگ کے آغاز اور دیگر فیصلہ کن کاموں میں فتح عطا کرتا ہے۔

Adhyaya 149

Lakṣa–Koṭi Homa (लक्षकोटिहोमः)

اس باب میں بھگوان اگنی یُدھّجَیَارْنَو کے دائرے میں جنگی حفاظت اور اقتدارِ سلطنت کی تقویت کے لیے لکش–کوٹی ہوم کا وِدھان سکھاتے ہیں۔ ہوم کو فوری جنگی فتح، راجیہ/حکومت کے حصول اور وِگھن (رکاوٹ) کے ناس میں مؤثر بتایا گیا ہے، مگر اس کی بنیاد پیشگی تطہیر پر ہے: کِرِچّھر ورت اور باقاعدہ پرانایام۔ پھر جپ اور سانس کے ضبط (بیج سمان خاص اُچارَن سمیت) اور دِکشِت آگ میں آہوتی دینے کے وقت کے قواعد بیان ہوتے ہیں؛ تکمیل تک ایک بھُکت (دن میں ایک بار غذا) کا ضابطہ لازم ہے۔ اَیُت (10,000)، لکش (100,000) اور کوٹی (نہایت عظیم شمار) کے مطابق پھل—چھوٹی سِدھیاں، بیماری و رنج کا شمن، اور سَروکام سِدھی و ہر سمت حفاظت—مقرر ہیں۔ یہ کرم اُتپات شمن بھی ہے؛ قحط، حد سے زیادہ بارش، کیڑوں کا حملہ، دشمن/ناپاک ہستیاں وغیرہ جیسے سماجی و قدرتی آفات دب جاتی ہیں۔ بڑے ہوم میں رِتوِجوں کی تعداد، قابلِ قبول منتر خاندان (گایتری، گرہ منتر، دیوتا-ویشیش مجموعے)، ہَوِش (اناج، تل، دودھ، گھی، کُش، پتے وغیرہ) اور ہوم کُنڈ کی پیمائش سمیت تعمیر—سب کو دھرم اور ریاستی نظم کی حفاظت کے لیے دقیق اَگنیَی وِدیا کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔