
Setubandha Mahatmya
Setukhaṇḍa is anchored in the sacred geography of Setu (Rāma-setu / Setubandha) and adjacent coastal-pilgrimage zones associated with the crossing to Laṅkā. The section treats the seashore as a ritual boundary-space where vows, propitiation of the ocean (Varuṇālaya), and tīrtha networks converge. It maps merit through named bathing-sites (tīrthas) and narratively legitimizes them via the Rāma-cycle, presenting the region as both an epic memorial landscape and a functional pilgrimage itinerary.
52 chapters to explore.

सेतुमाहात्म्य-प्रस्तावना — Prologue to the Glory of Setu (Rāmasetu/Rāmeśvara)
باب کا آغاز مناجاتی و دعائیہ اشعار سے ہوتا ہے۔ نَیمِشَارَنیہ میں موکش کے طالب رِشی—ضبطِ نفس والے، بےتعلّق، سچ کے پابند اور وِشنو کے بھکت—ایک عظیم مجلس میں گناہ مٹانے والی روایات اور دنیاوی بھلائی و نجات کے طریقوں پر گفتگو کرتے ہیں۔ اسی اثنا میں وِیاس کے شاگرد، پُرانک راوی سُوت جی آتے ہیں اور شَونک وغیرہ رِشی اُن کی رسم کے مطابق تعظیم کرتے ہیں۔ رِشی اُن سے مقدّس کھیتر و تیرتھ، سنسار سے موکش، ہری و ہر کی بھکتی کے ظہور، اور تِرِوِدھ کرم کی تاثیر کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ سُوت جواب دیتے ہیں کہ رام سیتو پر واقع رامیشور سب تیرتھوں میں افضل ہے۔ سیتو کا محض درشن بھی سنسار کے بندھن کو ڈھیلا کرتا ہے؛ وہاں اسنان اور سمرن کو پاکیزگی کے مؤثر وسیلے بتایا گیا ہے۔ طویل پھل شروتی میں بڑے گناہوں کی تباہی، سزاوارِ آخرت حالتوں سے حفاظت، اور یَگّیہ، ورت، دان اور تپسیا کے برابر ہمہ گیر پُنّیہ کا وعدہ بیان ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ یاترا کی اخلاقیات بھی آتی ہیں—نیت کی صفائی، یاترا کے لیے جائز مدد طلب کرنا، دان قبول کرنے کی حدود، اور سیتو یاترا کے نام پر رقم میں فریب کی سخت مذمت۔ اختتام پر کہا گیا ہے کہ کِرت یُگ میں گیان، تریتا میں یَگّیہ، اور بعد کے یُگوں میں دان افضل مانا گیا، مگر سیتو کی سادھنا ہر یُگ میں عام فائدہ دینے والی بتائی گئی ہے۔

सेतुबंधनवर्णनम् (Setubandha—Account of the Bridge and the Setu Tīrthas)
اس اَدھیائے میں رِشی سوتا جی سے پوچھتے ہیں کہ اَکلِشٹ کرما شری رام نے گہرے ورُنالَی سمندر پر سیتو (پل) کیسے باندھا، اور سیتو-کشیتر نیز گندھمادن کے سیاق میں کتنے تیرتھ ہیں۔ سوتا جی مختصر طور پر رام-چرِت کا سلسلہ بیان کرتے ہیں—دَندکارَنیہ اور پنچوَٹی میں قیام، ماریچ کے بھیس کے ذریعے راون کا سیتا-ہَرن، رام کی تلاش اور ہنومان سے ملاقات، اگنی کو ساکشی بنا کر سُگریو سے میتری، والی وَدھ، سیتا کی بازیابی کے لیے وانر سینا کی تیاری، ہنومان کی لنکا میں خبرگیری اور چوڑامَنی کی واپسی، مہندر گِری کی طرف کوچ اور چکر-تیرتھ میں قیام، اور وِبھیشن کی آمد، جانچ اور اَبھِشیک۔ سمندر پار کرنے کے لیے کشتیوں، تیرتے سہاروں یا سمندر دیوتا کی پرارتھنا جیسے مشورے آتے ہیں۔ شری رام کُش شَیّا پر تین راتیں نِیَم سے اُپاسنا کرتے ہیں؛ جب سمندر دیوتا پرگٹ نہیں ہوتا تو وہ شسترَوں سے سمندر سُکھانے کو آمادہ ہوتے ہیں۔ تب سمندر دیوتا پرگٹ ہو کر بھکتی-ستوتر سے رام کی ستُتی کرتا ہے، سْوَبھاو (فطری قانون) اور حدیں بتاتا ہے، اور عملی اُپائے دیتا ہے کہ وانروں میں شلپی نَل پھینکی ہوئی چیزوں کو تَیرا کر سیتو بنا دے گا۔ رام نَل کو نیوگ دیتے ہیں؛ وانر پہاڑ، چٹانیں، درخت اور بیلیں لا کر سیتو تعمیر کرتے ہیں، اور اس کے مثالی پیمانے بھی بیان ہوتے ہیں۔ اس کے بعد سیتو-سنان کی بڑی پاکیزگی بیان کی جاتی ہے اور سیتو کے چوبیس مُکھّیہ تیرتھ گنوائے جاتے ہیں—چکر-تیرتھ، ویتال-ورَد، سیتا-سرس، منگل-تیرتھ، اَمِرت-واپِکا، برہما-کُنڈ، ہنومت-کُنڈ، اگستیہ-تیرتھ، رام-تیرتھ، لکشمن-تیرتھ، جٹا-تیرتھ، لکشمی-تیرتھ، اگنی-تیرتھ، شِو-تیرتھ، شنکھ-تیرتھ، یمنا-تیرتھ، گنگا-تیرتھ، گیا-تیرتھ، کوٹی-تیرتھ، مانس-تیرتھ، دھنشکوٹی وغیرہ۔ پھلشروتی کے مطابق اس اَدھیائے کا شروَن یا پاٹھ فتح عطا کرتا ہے اور پُنرجنم سے جڑے کَلیش کو دور کرتا ہے۔

चक्रतीर्थ-धर्मपुष्करिणी-माहात्म्य (Cakratīrtha and Dharma Puṣkariṇī: Etiology and Merit)
اس باب میں رِشی سوت سے چوبیس سیتو تیرتھوں میں سب سے افضل، روایت کے مطابق اوّل درجے کے مقام ‘چکرتیرتھ’ کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ سوت بیان کرتے ہیں کہ اس کی تطہیر بخش قوت بے مثال ہے—محض یاد، ستوتی یا ایک بار اشنان سے بھی جمع شدہ گناہ مٹ جاتے ہیں اور بار بار رحمِ مادر میں پڑنے (پُنرجنم) کا خوف دور ہو جاتا ہے۔ پھر وہ سببِ ظہور کی کہانی سناتے ہیں۔ وشنو بھکت مُنی گالَو جنوبی سمندر کے کنارے دھرم پُشکرِنی کے پاس سخت تپسیا کرتے ہیں۔ بھگوان وشنو جلوہ فرما ہو کر ور دیتے ہیں—اٹل بھکتی، آشرم میں قیام کی پختگی، اور اپنے چکر کے ذریعے حفاظت کی ضمانت۔ ضمنی حکایت میں دھرم دیوتا شِو کی تپسیا کر کے شِو کے واہن ‘ورِشبھ’ بننے کا ور پاتے ہیں اور اَکشَی پھل دینے والی اشنان-ستھلی ‘دھرم پُشکرِنی’ قائم کرتے ہیں۔ اس کے بعد ایک راکشس گالَو پر حملہ کرتا ہے؛ گالَو نارائن کی پناہ لیتے ہیں۔ تب سُدرشن چکر آ کر راکشس کا وध کرتا ہے اور تالاب کے پاس دائمی نگہبانی کا اعلان کرتا ہے۔ سُدرشن کی مسلسل قربت سے یہ مقام ‘چکرتیرتھ’ کے نام سے مشہور ہوتا ہے؛ یہاں اشنان اور پِتر ترپن سے اولاد اور اسلاف دونوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ آخر میں پھل شروتی ہے کہ اس باب کا سننا یا پڑھنا چکرتیرتھ کے اشنان کے برابر پُنّیہ دیتا ہے، دنیا میں خیریت اور آگے شُبھ گتی عطا کرتا ہے۔

Cakra-tīrtha Māhātmya and the Curse of Durdama (चक्रतीर्थमाहात्म्यं तथा दुर्दमशापवृत्तान्तः)
یہ باب سوال و جواب کے انداز میں ہے۔ رِشی سوت سے پوچھتے ہیں کہ وِشنو بھکت مُنی گالَو کو جس راکشس نے ستایا وہ کون تھا۔ سوت ہالاسیہ-کشیتر کا پس منظر بیان کرتے ہیں جہاں وشیِشٹھ کی قیادت میں بہت سے شِو بھکت رِشی پوجا میں مشغول تھے۔ وہاں دُردم نامی ایک گندھرو بہت سی عورتوں کے ساتھ لہو و لعب میں مگن تھا؛ رِشیوں کو دیکھ کر بھی اس نے حیا سے اپنا بدن نہ ڈھانپا، تو وشیِشٹھ نے غضب میں اسے راکشس بننے کی بددعا دی۔ عورتوں نے رحم کی التجا کی تو وشیِشٹھ نے شاپ کو سولہ برس تک محدود کیا اور بعد میں اصل روپ لوٹ آنے کی بشارت دی۔ دُردم بھٹکتا ہوا جانداروں کو ایذا دیتا دھرم-تیرتھ پہنچا اور گالَو پر حملہ آور ہوا۔ گالَو نے وِشنو کی ستوتی کر کے پناہ لی تو سُدرشن چکر بھیجا گیا، جس نے راکشس کا سر قلم کر دیا۔ دُردم نے پھر گندھرو روپ پایا، چکر کی حمد کی اور سوَرگ لوٹ گیا۔ گالَو نے سُدرشن سے درخواست کی کہ وہ اسی مقام پر قائم رہے؛ یوں چکر-تیرتھ گناہ نَاشک، خوف دور کرنے والا (بھوت پِشاش کے خوف سے بھی) اور موکش دینے والا تیرتھ مشہور ہوا۔ آخر میں تیرتھ کے ‘منقسم’ سے جغرافیے کی وجہ بتائی جاتی ہے: قدیم زمانے میں اِندر نے پروں والے پہاڑ کاٹے؛ ان کے کچھ ٹکڑے گر کر زمین کی ہیئت بدل گئے اور تیرتھ کے بیچ کا حصہ جزوی طور پر بھر گیا، اسی لیے یہ جگہ بٹی ہوئی سی دکھائی دیتی ہے۔

Vidhūma–Alambusā Brahmaśāpa-nivṛttiḥ (Cakratīrtha Māhātmya) | Release from Brahmā’s Curse through Cakratīrtha
سوت رشیوں کو چکراتیرتھ کی غیر معمولی عظمت سناتے ہیں، جسے پاپ-وِناشک تیرتھ کہا گیا ہے۔ برہما کی سبھا میں ہوا سے الَمبوسا کا لباس ہل گیا؛ برہما نے وِدھُوم وَسو کے دل میں اُبھرتی خواہش دیکھ کر اسے انسانی جنم کا شاپ دیا اور الَمبوسا کو اس کی آئندہ پتنی مقرر کیا۔ وِدھُوم کی التجا پر برہما نے شاپ کے خاتمے کی حد بتائی—راجا بن کر راج کرے، پُتر پیدا کرے، پُتر کو تخت پر بٹھائے، پھر جنوبی سمندر کے کنارے پھُلّگرام کے نزدیک چکراتیرتھ میں پتنی سمیت اسنان کرے؛ تبھی شاپ دور ہوگا۔ آگے یہ شاپ کی کہانی سوم وَنش سے وابستہ راجا شتانیک اور رانی وِشنومتی تک پہنچتی ہے؛ رشی شاندلیہ کے انُگرہ سے سہسرانیک (وِدھُوم ہی) جنم لیتا ہے اور اس کے سیوک بھی راج سَہچَر بن کر پیدا ہوتے ہیں۔ الَمبوسا راجا کِرتَوَرمَن کی بیٹی مِرگاوَتی کے روپ میں جنم لیتی ہے۔ ایک پرندہ اسے اُڑا لے جاتا ہے؛ وہ جمَدگنی کے آشرم میں پناہ پاتی ہے اور اُدَیَن کو جنم دیتی ہے؛ پھر شناختی نشانیوں اور رشی کی مداخلت سے میاں بیوی کا ملاپ ہوتا ہے۔ اُدَیَن کو راج گدی پر قائم کر کے سہسرانیک مِرگاوَتی اور ساتھیوں سمیت چکراتیرتھ کی یاترا کرتا ہے۔ وہاں اسنان کرتے ہی انسانی حالت فوراً مٹ جاتی ہے، دیویہ روپ واپس آ جاتے ہیں اور سوَرگ آروہن کا بیان آتا ہے۔ آخر میں پھل شروتی ہے کہ اس ادھیائے کا پاٹھ/شروَن من چاہا پھل دیتا ہے اور تیرتھ کی دھارمک اتھارٹی کو مضبوط کرتا ہے۔

देवीपत्तन-चक्रतीर्थ-प्रश्नः तथा दुर्गोत्पत्तिः (Devīpattana & Cakratīrtha Inquiry; Manifestation of Durgā)
اس باب میں رِشی سوتا سے پوچھتے ہیں کہ دیوی پور/دیوی پٹّن کا ٹھیک مقام کہاں ہے اور مقدّس چکر تیرتھ کی حد کہاں تک ہے، خصوصاً سیتو-مول کے پاس جہاں یاتری اسنان کرتے ہیں۔ سوتا بیان کرتے ہیں کہ یہ حکایت سننے اور پڑھنے والوں کے لیے تطہیر بخش ہے؛ وہ رام کے پتھروں سے سیتو باندھنے کے ابتدائی عمل کا حوالہ دے کر اسی پاکیزہ علاقے میں دیوی پور کی نسبت قائم کرتے ہیں۔ پھر دیوی-مہاتمیہ کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ دیواسُر جنگ میں غم زدہ دِتی، دیوتاؤں کو للکارنے والے بیٹے کی خواہش میں اپنی بیٹی کو سخت تپسیا پر لگاتی ہے۔ رِشی سپارشْوَر ور دے کر آنے والے پتر مہیش کا وصف کرتے ہیں—بھینسے کا چہرہ مگر انسانی بدن، جو اندرادی دیوتاؤں کو ستائے گا۔ مہیش قوت پکڑ کر اسُر سرداروں کو جمع کرتا ہے اور طویل جنگ میں دیوتاؤں کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیتا ہے؛ تب دیوتا برہما کی پناہ لیتے ہیں۔ برہما وشنو اور شِو کے پاس جاتے ہیں؛ ان کے غضب اور کئی دیوتاؤں کے تیج کے اجتماع سے نورانی نسوانی صورت میں دیوی دُرگا ظاہر ہوتی ہیں، اور ان کے اعضا میں دیوی طاقتوں کی نسبت واضح کی جاتی ہے۔ دیوتا انہیں ہتھیاروں اور زیورات سے آراستہ کرتے ہیں؛ ان کی گرج سے کائنات لرز اٹھتی ہے۔ جنگ میں دُرگا اپنے گنوں سمیت مہیش کی عظیم فوج اور وزیروں کو نیست و نابود کرتی ہیں؛ ان کی موجودگی سے دیوتاؤں میں پھر حوصلہ جاگتا ہے۔ یوں تیرتھ کے جغرافیے کے ساتھ الوہی طاقت، کائناتی نظم اور پران سننے کی روحانی تاثیر کا پیغام جڑ جاتا ہے۔

Chapter 7: Durgā’s Victory over Mahiṣāsura and the Setu-Tīrtha Itinerary (Dharmapuṣkariṇī–Cakratīrtha–Setumūla)
اس باب میں دو رُخ یکجا ہوتے ہیں—دیوی کی جنگی فتح کی کہانی اور تیرتھ یاترا کا نقشۂ راہ۔ پہلے سوت بیان کرتا ہے کہ امبیکا/چنڈیکا/درگا/بھدرکالی نے مہیشاسُر کے وزیروں اور سورماؤں (چنڈکوپ، چتر بھانو، کرال وغیرہ) کو اسلحہ، جنگی تدبیر اور الٰہی قوت سے مغلوب کیا۔ مہیشاسُر فریب سے روپ بدلتا ہے—بھینسا، شیر جیسا بھیس، تلوار بردار انسان، ہاتھی اور پھر بھینسا؛ دیوی کی سواری شیر بھی معرکے میں شریک رہتا ہے۔ پھر ‘اشریری وانی’ دیوی کو ہدایت دیتی ہے کہ دھرمپُشکرِنی کے پانی میں چھپے مہیشاسُر کو بے اثر کیا جائے۔ شیر پانی پی کر تالاب کو خشک کر دیتا ہے، اسُر ظاہر ہوتا ہے؛ دیوی اس کے سر پر پاؤں رکھ کر گلے میں شُول پیوست کرتی ہے اور سر قلم کر دیتی ہے۔ اس کے بعد دیوتاؤں کی ستوتی، دھرم کی بحالی اور کائناتی نظم کی دوبارہ استواری بیان ہوتی ہے۔ دوسرے حصے میں تیرتھ-ماہاتمیہ اور سفر کی ترتیب آتی ہے—دیوی جنوبی سمندر کے کنارے ایک نگر بساتی ہے؛ تیرتھوں کو نام اور ور ملتے ہیں اور امرت سے نسبت کا ذکر بھی ہوتا ہے۔ نوپاشان کے مقام پر اسنان، چکرتیرتھ میں اسنان، اور سنکلپ کے ساتھ سیتوبندھ کی طرف روانگی بتائی گئی ہے؛ نل اور وانروں کے ذریعے شری رام کے سیتو کی تعمیر، اس کی پیمائش اور تقدیس کا بیان ہے۔ آخر میں بھکتی سے اس باب کے پڑھنے/سننے پر پُنّیہ اور سِدھی کے حصول کی پھل شروتی دی گئی ہے۔

Vetalavaradā-Tīrtha Māhātmya (वेतालवरदातीर्थ-माहात्म्य) — The Origin of the Vetalavarada Sacred Ford
اس باب میں رِشی سوت سے مزید مبارک حکایات سنانے کی درخواست کرتے ہیں اور خاص طور پر چکراتیرتھ کے جنوب میں واقع مشہور ویتالوردا تیرتھ کی مہاتمیا پوچھتے ہیں۔ سوت کیلاش میں شَمبھو کے پہلے بیان کردہ ایک گُہری مگر عوام کے لیے مفید روایت سناتے ہیں۔ قصے کا مرکز رِشی گالَو اور اُن کی بیٹی کانتِمتی ہے، جو باپ کی خدمت، ضبطِ نفس اور پاکیزہ سیرت سے فرائضِ فرزندی اور مراتبِ دھرم کی مثال قائم کرتی ہے۔ اسے دیکھ کر وِدیادھر شہزادے سُدرشن اور اس کا کم عمر ساتھی سُکرن خواہش کے تابع ہو جاتے ہیں؛ سُدرشن زبردستی اسے پکڑ لیتا ہے۔ کانتِمتی کی علانیہ فریاد پر مُنی جمع ہوتے ہیں اور گالَو شاپ دیتے ہیں—سُدرشن انسانی جنم میں گرے گا، سماجی ملامت سہے گا اور آخرکار ویتال بنے گا؛ سُکرن بھی انسان بنے گا مگر کم قصور کے سبب ویتال پن سے بچا رہے گا، اور آئندہ کسی وِدیادھر ادھپتی کی پہچان کے ساتھ رہائی کی شرط بتائی جاتی ہے۔ شاپ کے اثر سے دونوں یمنا کے کنارے ایک عالم برہمن گووندسوامِن کے بیٹے بن کر، طویل قحط کے زمانے میں پیدا ہوتے ہیں۔ ایک سنیاسی کی ہیبت ناک دعا بڑے بیٹے (وجےدت—یعنی سُدرشن) سے جدائی کی پیش گوئی کرتی ہے۔ ایک رات سنسان مندر میں اسے سردی کا بخار چڑھتا ہے اور وہ آگ مانگتا ہے؛ باپ شمشان سے آگ لانے جاتا ہے، بیٹا بھی پیچھے جاتا ہے، چتا کی آگ کے پاس کھوپڑی پر ضرب لگا کر خون اور چربی چکھتا ہے اور پل بھر میں ہولناک ویتال بن جاتا ہے۔ ایک الٰہی آواز اسے باپ پر حملے سے روکتی ہے؛ وہ دوسرے ویتالوں میں جا کر ‘کپال سفوٹ’ (کھوپڑی چیرنے والا) کہلاتا ہے اور جھگڑوں کے بعد ویتالوں کا سردار بن جاتا ہے۔ یوں باب یہ دکھاتا ہے کہ حد سے بڑھی ہوئی خواہش زوال کا سبب بنتی ہے اور اسی اخلاقی علت و معلول کی یاد اس مقدس مقام کے نام میں ثبت رہتی ہے۔

Aśokadatta’s Exploits and the Revelation of Vetalavaradā Tīrtha (अशोकदत्त-वीरचरितम् • वेतालवरदातीर्थ-माहात्म्यम्)
اس ادھیائے میں اخلاقی مثالوں کے ساتھ ایک مقدّس تیرتھ کی حقیقت کا انکشاف مربوط انداز میں آتا ہے۔ غم زدہ برہمن گووندسوامی کو رحم دل تاجر سمدردتّا پناہ دیتا ہے؛ اس کا بیٹا اشوکدتّ شاستر اور شستر—دونوں فنون میں غیر معمولی تربیت پاتا ہے۔ کاشی کے راجا پرتاپمکُٹ اسے جنوبی دیس کے زبردست پہلوان-راجا کو شکست دینے کے لیے مقرر کرتے ہیں؛ فتح سے اشوکدتّ کی عوامی ساکھ اور شاہی عنایت قائم ہوتی ہے۔ بعد ازاں راجا اور اشوکدتّ ایک سولی پر چڑھے، پیاس سے تڑپتے شخص کی فریاد سنتے ہیں؛ راجا پانی پلانے کا حکم دے کر راج دھرم میں کرُونا (رحم) کی اہمیت نمایاں کرتا ہے۔ بھوت، ویتال اور پِشाचوں سے بھرے شمشان میں ایک دلکش عورت خود کو اس مظلوم کی محبوبہ بتا کر اشوکدتّ سے کندھا مانگتی ہے؛ اشوکدتّ اس کے درندہ ارادے کو بھانپ کر جواہرات جڑا نُوپور چھین لیتا ہے اور واقعہ راجا کو بتاتا ہے۔ راجا اسے عزت دیتا ہے اور مدنلیکھا سے رشتۂ ازدواج جوڑ دیتا ہے۔ پھر راجا ویسا ہی نُوپور چاہے تو اشوکدتّ تدبیر سے دوبارہ شمشان جاتا ہے، ‘مہامانس’ (بڑا گوشت) کا لالچ دے کر راکشسی کو کھینچتا ہے اور دوسرا نُوپور، دوسری بیوی وِدیوت پربھا، نیز دیوی سرور سے وابستہ سونے کا کنول حاصل کرتا ہے۔ ویتال راجا کَپال وِسفوٹ سے متعلق جھیل کے پاس کشمکش میں وِدیادھر سردار وِجْنَپتِکَوتُک ظاہر ہو کر شاپ (لعنت) کا راز بتاتا ہے—اشوکدتّ کا بھائی سُکَرْن نامناسب تماس سے ویتال بنا، اور اشوکدتّ بھی شاپ کے بندھن میں شریک ہے۔ علاج کے طور پر جنوبی سمندر کے کنارے چکر تیرتھ کے نزدیک ایک اعلیٰ ترین تیرتھ بتایا جاتا ہے۔ وہاں ہوا کے ساتھ آنے والے پانی کے قطروں کے لمس سے ہی سُکَرْن ویتال حالت سے آزاد ہو جاتا ہے؛ اشوکدتّ سنکلپ کے ساتھ اشنان کر کے دیویہ روپ پاتا ہے۔ اس مقام کو ‘ویتال وَرَدا’ کہا گیا ہے اور اسے نہایت عظیم پھل دینے والا بتایا گیا؛ پِتروں کے لیے پِنڈدان وغیرہ کے ضابطے اور پاٹھ/شروَن سے نجات کی پھل شروتی کے ساتھ ادھیائے کا اختتام ہوتا ہے۔

गन्धमादन-सेतुरूप-वर्णनम् तथा पापविनाशन-तीर्थमाहात्म्यम् (Gandhamādana as Setu-form and the Glory of Pāpavināśana Tīrtha)
باب کا آغاز سوت کے سفرنامہ انداز ہدایت سے ہوتا ہے: ویتالوردا تیرتھ میں اشنان کے بعد یاتری آہستہ آہستہ گندھمادن کی طرف بڑھے۔ گندھمادن کو سمندر کے بیچ ‘سیتو-روپ’ میں قائم، برہملوک سے وابستہ ایک دیویہ راستے کے مانند بیان کیا گیا ہے۔ وہاں جھیلیں، ندیاں، سمندر، جنگلات، آشرم اور ویدک مقدس مقامات کثرت سے ہیں؛ وشیٹھ آدی رشی، سدھ، چارن، کنّر اور دیوتا دن رات وہاں سکونت رکھتے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ گندھمادن کی ہوائیں بڑے بڑے پاپوں کے ذخیرے کو مٹا دیتی ہیں اور محض درشن سے دل و دماغ کو سکون ملتا ہے۔ یاتری کو سیتو کو تھامنے والے اس پربت کو پرنام کر کے اس پر قدم رکھنے کی معافی مانگنی چاہیے، شکھر پر وراجمان شنکر کے درشن کی پرارتھنا کرنی چاہیے اور نرم قدموں سے آگے بڑھنا چاہیے۔ گندھمادن میں سمندر-اشنان اور رائی کے دانے جتنا بھی پنڈدان کیا جائے تو پترگن دیر تک ترپت رہتے ہیں، ایسا بیان ہے۔ پھر رشی ‘پاپ وِناشن’ تیرتھ کی مہیمہ پوچھتے ہیں۔ سوت ہِموت کے نزدیک ایک آشرم کا ذکر کرتا ہے جہاں نظم و ضبط والے ویدک سادھک رہتے ہیں۔ دِڑھمتی نامی ایک شودر دیکشا اور شکشا چاہتا ہے، مگر کُلپتی سماجی و آچاری پابندیاں بتا کر انکار کر دیتا ہے۔ دِڑھمتی الگ کٹیا بنا کر بھکتی سے اتھتی-ستکار کرتا ہے۔ سُمتی نامی برہمن محبت میں آ کر اسے خفیہ ویدک کرم (ہویہ-کویہ، شرادھ، مہالَیہ وغیرہ) سکھا دیتا ہے؛ نتیجتاً سُمتی کو سخت کرم-پتن، نرک بھوگ اور آگے جنم میں برہمرکشس کا دوش بھگتنا پڑتا ہے۔ متاثرہ بیٹے کو اگستیہ کے پاس لایا جاتا ہے؛ وہ سبب سمجھا کر واحد علاج بتاتے ہیں: سیتو-پردیش میں گندھمادن کے اوپر واقع پاپ وِناشن تیرتھ میں تین دن اشنان۔ اس انوشتھان سے دوش دور ہوتا ہے، صحت و خوشحالی لوٹتی ہے اور موت کے وقت موکش کا وعدہ ملتا ہے۔ آخر میں پاپ وِناشن کو ہمہ پاپ ہَر، سوَرگ و موکش دینے والا اور برہما-وشنو-مہیش کے نزدیک معزز تیرتھ قرار دے کر، نااہل کو رسم ویدک علم دینے میں احتیاط اور باقاعدہ تیرتھ یاترا کے ذریعے شُدھی کے راستے کی تعلیم دی گئی ہے۔

सीतासरः-माहात्म्यं (Sītāsaras / Sītākuṇḍa Māhātmya: Indra’s Purification Narrative)
اس باب میں سوت مُنی جستجو کرنے والے رِشیوں کو سیتاسرس/سیتاکُنڈ کی تیرتھ-ماہاتمیا بطورِ وعظ بیان کرتے ہیں۔ پہلے پاپناش تیرتھ میں اشنان کرکے، نِیَم کے ساتھ سیتاسرس میں اشنان کرنے سے کامل پاکیزگی حاصل ہوتی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ بڑے بڑے تیرتھوں کے پُنّیہ کا خلاصہ یہاں موجود ہے، اس لیے یہ سرور ایک مرکوز مرکزِ تقدیس ہے۔ پھر اندر (پورندر) پر برہمہتیا کا دوش کیسے آیا اور کیسے دور ہوا، یہ قصہ آتا ہے۔ وردانوں سے محفوظ طاقتور راکشس کَپالابھرن امراؤتی پر چڑھ دوڑتا ہے؛ طویل جنگ کے بعد اندر وَجر سے اسے وध کرتا ہے۔ “راکشس کے وध سے برہمهتیا کیوں؟”—اس کا جواب یہ کہ کَپالابھرن کی پیدائش برہمن-بیج سے وابستہ تھی: رِشی شُچی کی سُشیلا (راکشس تریوکر کی بیوی) کے ساتھ خطا سے وہ پیدا ہوا؛ اسی نسبت سے اس کے وध پر برہمهتیا اندر کے پیچھے لگ گئی۔ اندر برہما کی پناہ لیتا ہے۔ برہما گندھمادن پر واقع سیتاکُنڈ میں سداشیو کی پوجا اور کُنڈ-اشنان کا وِدھان بتاتے ہیں؛ اس سے دوش مٹتا ہے اور اندر اپنے لوک میں پھر قائم ہوتا ہے۔ آخر میں سیتا کے ساننِدھّیہ سے تیرتھ کے نام و عظمت کی وجہ بیان ہو کر پھل شروتی دی جاتی ہے—وہاں اشنان، دان اور کرمکاند سے مرادیں پوری ہوتی ہیں اور شُبھ پرلوک گتی ملتی ہے؛ اس کَتھا کا سَروَن/پाठ بھی اِہ-پَر میں کلیان کا سبب ہے۔

मंगलतीर्थमाहात्म्यम् (Mangalatīrtha Māhātmya: The Glory of the Auspicious Tīrtha)
اس باب میں سوت جی ‘منگل تیرتھ’ کی مہاتمیا بیان کرتے ہیں۔ سیتاکُنڈ میں اشنان کے بعد بھکت کو سکونِ دل کے ساتھ منگل تیرتھ جانا چاہیے؛ وہاں کملہ-لکشمی کی نِتیہ سَانِدھْی، دیوتاؤں کا باقاعدہ اجتماع، اور الکشمی/بدبختی دور کرنے والی برکت کا ذکر ہے۔ پھر سوم وَنشی راجا منوجَو کی حکایت آتی ہے۔ ابتدا میں وہ دھرم پر قائم، یَجْن کرنے والا، پِتروں کی ترپَن کرنے والا اور شاستروں کا طالبِ علم تھا؛ مگر اَہنکار سے لالچ، ہوس، غصہ، تشدد اور حسد بڑھ گئے۔ اس نے برہمنوں پر زیادتی کی، دیوتاؤں کے مال (دیودرویہ) میں دست درازی کی اور زمینیں ضبط کیں؛ نتیجتاً دشمن گولبھ سے شکست کھا کر بیوی سُمِترا اور بیٹے چندرکانت سمیت ہولناک جنگل میں جلاوطن ہوا۔ جنگل میں بچے کی بھوک راجا کے دل میں ندامت جگاتی ہے۔ وہ اعتراف کرتا ہے کہ دان، شِو-وشنو پوجا، شرادھ، اُپواس، نام کیرتن، تلک دھارن، جپ اور عوامی بھلائی کے کام—درخت لگانا اور پانی کے ذخائر بنانا—ان سب کی کوتاہی ہی دکھ کا سبب بنی۔ تب رِشی پراشر آتے ہیں، سُمِترا کو تسلی دیتے ہیں، تریَمبک (شیو) کی بھکتی اور منتر سے بے ہوش راجا کو سنبھالتے ہیں، اور گندھمادن پر رام سیتو کے نزدیک منگل تیرتھ کی یاترا، اشنان-شرادھ اور ضبطِ نفس کو علاج بتاتے ہیں۔ منوجَو چالیس دن ایکاکشر منتر کا جپ کرتا ہے؛ تیرتھ کے اثر اور رِشی کی کرپا سے دیویہ استر اور شاہی نشان ظاہر ہوتے ہیں۔ پراشر اس کا ابھیشیک کر کے استر وِدیا کی تعلیم دیتے ہیں۔ راجا واپس جا کر برہماستر سے گولبھ کو شکست دیتا ہے اور پھر اَہنکار سے پاک ہو کر راج کرتا ہے؛ آخر میں ویراغ لے کر دوبارہ منگل تیرتھ میں شِو دھیان کے ساتھ تپسیا کرتا ہے اور وفات پر شِولोक پاتا ہے، سُمِترا بھی پیروی کرتی ہے۔ پھل شروتی میں کہا گیا ہے کہ یہ تیرتھ دنیاوی بھلائی اور موکش کی راہ دونوں دیتا ہے، اور خشک گھاس کی طرح گناہوں کو آگ کی مانند جلا دیتا ہے۔

Amṛtavāpikā-Māhātmya and the Origin of Ekāntarāmanātha-kṣetra (अमृतवापिकामाहात्म्यं तथा एकांतरामनाथक्षेत्रोत्पत्तिः)
اس باب میں شری سوت جی تیرتھ-ماہاتمیہ بیان کرتے ہیں۔ منگلاکھیا مہاتیرتھ میں اسنان کے بعد یاتری ایکانترامناتھ-کشیتر جاتا ہے، جہاں جگن ناتھ-سوروپ شری رام سیتا، لکشمن، ہنومان اور وانروں کے ساتھ سدا حاضر و ناظر بتائے گئے ہیں؛ اس سے اس دھام کی دائمی پاکیزگی اور الٰہی حفاظت کا قرب ظاہر ہوتا ہے۔ پھر ‘امرتواپیکا’ نامی پُنّیہ سرور کی مہیمہ آتی ہے۔ شردھا سے کیا گیا اسنان بڑھاپے اور موت کے خوف کو مٹاتا، پاپوں کو شُدھ کرتا اور شنکر کی کرپا سے ‘امرتتو’ عطا کرتا ہے۔ رشیوں کے سوال پر نام کی وجہ بیان ہوتی ہے—ہِماوت کے پاس اگستیہ کے انوج نے سندھیا، جپ، اَتِتھی پوجا، پنچ یَجْن اور شرادھ وغیرہ نِتیہ کرموں کے ساتھ طویل عرصہ کٹھور تپسیا کی۔ شِو پرکٹ ہو کر سیتو/گندھمادن کے نزدیک منگلاکھیا تیرتھ میں اسنان کو شِیگھر موکش کا اُپائے بتاتے ہیں؛ وہ تپَسوی تین برس نِیَم سے اسنان کرتا ہے اور چوتھے برس برہمرندھر سے یوگ مارگ میں دےہ تیاگ کر کے دکھ سے مُکت ہو جاتا ہے۔ اسی سے سرور ‘امرتواپیکا’ کے نام سے پرسدھ ہوا اور تین برس کا اسنان ورت امرتتو کا سادن کہا گیا۔ آخر میں ایکانترامناتھ نام کی اُتپتی—سیتو نرمان کے وقت سمندر کی گرج کے سبب شری رام نے راون وَدھ کی یوجنا پر ساتھیوں سے ایکانت میں مشورہ کیا؛ وہی ایکانت منتَرنا-ستھل یہ کشیتر کہلایا۔ نتیجہ یہ کہ گہری فلسفیانہ سمجھ یا رسمی وِدھی-کوشل نہ بھی ہو تو یہاں اسنان سے ‘امرت’ کی پرابتि بتائی گئی ہے۔

Brahmakūṇḍa-māhātmya and the Liṅga-Origin Discourse (ब्रह्मकुण्ड-माहात्म्य तथा लिङ्गोद्भव-प्रसङ्ग)
اس باب میں دو حصّوں میں عقیدہ و رسمِ عبادت کا بیان ہے۔ پہلے سوت جی سیّتُو سے وابستہ مقدّس نقشۂ زیارت میں گندھمادن میں واقع برہماکُنڈ تک یاترا کا سلسلہ بتاتے ہیں۔ برہماکُنڈ کا درشن اور اسنان ہمہ گناہوں کے نِواڑک اور ویکُنٹھ-پرابتّی کا سبب کہا گیا ہے۔ خاص طور پر برہماکُنڈ سے اُتپن بھسم کی مہِما بیان ہوتی ہے—اسے تری پُنڈْر کے طور پر یا پیشانی پر ایک ذرّہ بھی لگانا فوراً موکش کی سمت لے جانے والا بتایا گیا ہے؛ اور اس کی توہین یا انکار کو سخت دھارمک لغزش اور مرنے کے بعد بُرے انجام کا باعث کہا گیا ہے۔ پھر رشیوں کے سوال پر سوت برہما–وشنو کے اَہنکار-وِواد اور اَنادی-اَننت سْوَیَم جْیوتی لِنگ کے ظہور کا قصہ سناتے ہیں۔ وشنو سچ مان لیتے ہیں، برہما جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں؛ تب شِو نِیَمی فیصلہ دیتے ہیں کہ برہما کی مُورت پوجا محدود ہو، مگر ویدی/سمارت پوجا برقرار رہے، اور خطا کے پرایشچت کے لیے گندھمادن میں بڑے یَگّیہ کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ وہی یَگّیہ-ستھل ‘برہماکُنڈ’ کہلاتا ہے، موکش کے ‘دروازے کی کنڈی’ توڑنے کی علامت سمجھا جاتا ہے؛ اور وہاں کی بھسم مہاپاتکوں اور بدخواہ ہستیوں کو بے اثر کرتی ہے۔ آخر میں دیوتاؤں اور رشیوں کی مسلسل حاضری اور وہاں یَگّیہ کرم جاری رکھنے کی سفارش آتی ہے۔

हनूमत्कुण्डमाहात्म्यं तथा धर्मसखराजचरितम् (Glory of Hanumat-Kuṇḍa and the Account of King Dharmasakha)
سوت بیان کرتے ہیں کہ نہایت پُرثواب برہماکنڈ میں اشنان کرکے باقاعدہ و منضبط یاتری کو ہنومت کنڈ جانا چاہیے۔ یہ اعلیٰ ترین تیرتھ ماروتاتمج ہنومان نے عالم کی بھلائی کے لیے قائم کیا؛ اس کی یکتا تاثیر کی ستائش کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ رودر بھی اس کی خدمت کرتے ہیں۔ وہاں اشنان سے بڑے گناہ دور ہوتے ہیں، شِولोक وغیرہ کی مبارک منزلیں ملتی ہیں اور دوزخی نتائج وقت کے ساتھ کم ہوتے جاتے ہیں۔ پھر راجا دھرمسکھ کا قصہ آتا ہے۔ کیکَیَہ نسل کا یہ دیندار اور کامیاب بادشاہ بہت سی رانیوں کے باوجود وارث نہ ہونے سے رنجیدہ تھا۔ اس نے دان، یَجْن (اشومیدھ)، اَنّ دان، شرادھ اور منتر جپ بہت کیے؛ طویل عرصے بعد ایک بیٹا سُچندر ملا، مگر بچھو کے ڈنک نے نسل کے ناپائیدار ہونے کا خوف جگا دیا۔ اس نے رِتوِکوں اور پُروہت سے دھرم کے مطابق طریقہ پوچھا؛ انہوں نے گندھمادن/سیتو علاقے کے ہنومت کنڈ میں اشنان اور کنارے پر پُتریَیشٹی کرنے کا وِدھان بتایا۔ بادشاہ گھرانے اور یَجْن کے سامان سمیت وہاں گیا، مسلسل اشنان اور یَگ کیا، کثیر دکشنا و دان دے کر واپس آیا۔ وقت آنے پر ہر رانی کے ہاں ایک ایک بیٹا پیدا ہوا—سو سے زیادہ۔ اس نے سب میں راج بانٹ دیے، پھر سیتو علاقے میں ہنومت کنڈ پر تپسیا کرکے سکون سے جسم چھوڑا اور ویکنٹھ کو پہنچا؛ بیٹوں نے بغیر رقابت کے راج کیا۔ آخر میں پھل شروتی ہے کہ یکسوئی سے پڑھنے یا سننے سے دنیا و آخرت کی خوشی اور الٰہی قرب نصیب ہوتا ہے۔

अगस्त्यतीर्थमहिमा तथा कक्षीवान्-स्वनय-कथा (Glory of Agastya Tīrtha and the Kakṣīvān–Svanaya Narrative)
سوت ہنومان کے کنڈ میں اشنان سے شروع ہونے والی تیرتھ یاترا کا سلسلہ بیان کرتے ہیں اور پھر اگستیہ تیرتھ کی مہیمہ سناتے ہیں، جسے کمبھ یونی (اگستیہ) نے قائم کیا۔ قدیم زمانے میں مِیرو اور وِندھیا کے واقعے میں وِندھیا پہاڑ کا پھیلاؤ کائناتی توازن کو بگاڑنے لگا تو شِو کے اُپدیش کے مطابق اگستیہ مُنی نے وِندھیا کو روک کر دھرم کی ترتیب قائم کی۔ بعد میں گندھمادن کے علاقے میں انہوں نے اپنے نام سے نہایت پُنیہ بخش تیرتھ کی स्थापना کی۔ متن میں مضبوط پھل شروتی ہے کہ وہاں اشنان اور جل پینے سے بار بار جنم کا بندھن کٹتا ہے، دنیاوی کامیابی اور موکش سے متعلق نتائج ملتے ہیں؛ تینوں کالوں میں اسے بے مثال تیرتھ کہا گیا ہے۔ پھر ایک تمثیلی روایت آتی ہے: دیرغتمس کا بیٹا ککشیوان اُدنک کے پاس وسیع ویدک تعلیم مکمل کرتا ہے اور اسے حکم ملتا ہے کہ اگستیہ تیرتھ میں تین برس نِیَم کے ساتھ واس کرے؛ اس کے ورت کے پھل کے طور پر چار دانتوں والا ہاتھی سواری کے طور پر ظاہر ہونے کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ راجا سونَی کی بیٹی نے ورت لیا تھا کہ وہ صرف اسی شخص سے بیاہ کرے گی جو ایسے ہاتھی پر آئے؛ ککشیوان کی پابندی سے شرط پوری ہوتی ہے اور دھرمک بیاہ انجام پاتا ہے۔ سُدرشن نامی قاصد کے ذریعے دیرغتمس سے رسمی اجازت لی جاتی ہے؛ وہ منظوری دے کر تیرتھ پر آتے ہیں، یوں نکاح/ویواہ کی اجازت، ورت کی پاسداری اور تیرتھ-نِیَم کی اخلاقی روایت مضبوط ہوتی ہے۔

कक्षीवद्विवाहः — Kakṣīvān’s Marriage at Agastya-tīrtha (Rituals, Gifts, and Phalaśruti)
اس باب میں سیتوخنڈ کے دائرے میں واقع اگستیہ تیرتھ پر ککشیوان کے نکاح کا واقعہ بیان ہوتا ہے۔ سوت کہتے ہیں کہ گرو کے حکم سے نکاح کے لیے مناسب تدبیر ڈھونڈتے ہوئے ککشیوان تیرتھ پر پہنچے۔ دریا کے کنارے پتر سمیت دیرغتمس رشی کی خبر پا کر راجا سونَیَ نے عقیدت سے پرنام کیا؛ اُدَنک بھی شاگردوں کے ساتھ رام سیتو/دھنشکوٹی میں اسنان کے لیے آ کر ویدک رسومات میں آچاریہ کی حیثیت سے شریک ہوا۔ مہمان نوازی کے آداب—ابھِوادن، آشیرواچن، اَرغیہ—باقاعدہ ادا کیے گئے؛ شُبھ مُہورت میں نکاح طے ہوا اور محل سے دلہن لانے کا انتظام کیا گیا۔ پھر عوامی منگل رسومات کے ساتھ برات، نیرाजन، ورمالا، اگنی استھاپن، لاجا-ہوم وغیرہ اور اُدَنک کی نگرانی میں پाणی گرہن مکمل ہوا۔ بعد ازاں راجا نے برہمنوں کو بڑا بھوجن کرایا، دان دیے اور بیٹی کو وافر ستری دھن اور تحائف عطا کیے۔ رشی ویدارنّیہ آشرم لوٹ گئے اور راجا اپنی نگری واپس گیا۔ آخر میں پھل شروتی ہے کہ اس قدیم، وید پر مبنی حکایت کا سننا یا پڑھنا خیروعافیت بڑھاتا اور تکلیف و فقر کو کم کرتا ہے۔

रामतीर्थ-रघुनाथसरः-माहात्म्य तथा धर्मपुत्रप्रायश्चित्तवर्णनम् (Rāma-tīrtha and Raghunātha-saras Māhātmya; Yudhiṣṭhira’s Expiation Narrative)
باب کی ابتدا ایک تِیرتھ-سفرنامے سے ہوتی ہے: کُمبھسمبھَو تِیرتھ میں اشنان کر کے رام کنڈ کی طرف جانا، جہاں اشنان سے گناہوں کی نجات بیان کی گئی ہے۔ پھر رَگھوناتھ-سَرَس کی مدح آتی ہے کہ یہ پاپ-ہرن مقام ہے؛ وید جاننے والوں کو معمولی نذر بھی کئی گنا ثواب دیتی ہے، اور یہاں سوادھیائے اور جپ خاص طور پر ثمر آور ہوتے ہیں۔ سوتا رِشی سُتیکشْن کی مقدس روایت سناتا ہے—اگستیہ کے شاگرد اور رام کے قدموں کے بھکت سُتیکشْن رامچندر-سَرَس کے کنارے سخت تپسیا کرتے ہیں، مسلسل چھ اَکشر والا رام منتر جپتے ہیں، اور رام کے ناموں، القاب اور لیلاؤں/کارناموں پر مشتمل نمسکار-ستوتر پیش کرتے ہیں۔ طویل سادھنا اور تِیرتھ-سیوا سے ان کی بھکتی ثابت و پاکیزہ ہو جاتی ہے؛ اَدویت بोध اور یوگک سِدھیاں ثانوی ثمرات کے طور پر بیان ہوتی ہیں۔ آگے تِیرتھ کی نجات بخش تاثیر بیان ہوتی ہے—رام مخلوقات کی بھلائی کے لیے کنارے پر ایک عظیم لِنگ کی پرتِشٹھا کرتے ہیں؛ اشنان اور لِنگ درشن کو موکش تک پہنچانے والا کہا گیا ہے۔ پھر دھرم پُتر یُدھشٹھِر کی مثال آتی ہے کہ جھوٹ سے پیدا ہونے والے دَوش سے وہ فوراً آزاد ہوئے؛ رِشیوں کے سوال پر سوتا مہابھارت کے واقعۂ دْرون وَدھ، ‘اشوتھاما’ سے متعلق حکمت آمیز قول اور اس سے پیدا ہونے والے اخلاقی بوجھ کا ذکر کرتا ہے۔ بعد میں ایک بےجسم آواز یُدھشٹھِر کو بغیر پرایشچت کے راج دھرم نہ اپنانے کی تنبیہ کرتی ہے؛ ویاس آ کر جنوبی سمندر کے رام سیتو سے وابستہ پرایشچت بتاتے ہیں۔ اختتام پر پھل شروتی ہے کہ اس کا سننا/پڑھنا کیلاش گتی اور بار بار جنم سے نجات کی طرف لے جاتا ہے۔

श्रीलक्ष्मणतीर्थ-माहात्म्य एवं बलभद्र-ब्रह्महत्या-शोधन (Lakṣmaṇa-tīrtha Māhātmya and Balabhadra’s Expiation Narrative)
اس باب میں سوت جی شری لکشمن تیرتھ کے اسنان کی عظمت بیان کرتے ہیں۔ وہاں اسنان کو پاپ ہَر، فقر و فاقہ دور کرنے والا، اور عمر، ودیا اور اولاد کے لیے مبارک نتائج دینے والا کہا گیا ہے۔ کنارے پر منتر جپ سے شاستر-مہارت حاصل ہوتی ہے، اور لکشمن کے قائم کردہ عظیم لِنگ ‘لکشمنیشور’ کے سبب یہ مقام جل-تیرتھ اور لِنگ-پوجا کا مشترک پُنّیہ-کشیتر بن جاتا ہے۔ پھر رشی پوچھتے ہیں کہ بل بھدر پر برہماہتیا کا دَوش کیسے آیا اور اس کی شُدھی کیسے ہوئی۔ سوت بیان کرتے ہیں کہ بل بھدر کوروکشیتر کے سنگرام میں غیر جانب دار رہ کر تیرتھ یاترا کے بہانے بہت سے تیرتھوں کی زیارت کرتے ہوئے نیمش آرنّیہ پہنچے۔ وہاں اونچے آسن پر بیٹھے ایک سوت نے نہ کھڑے ہو کر نہ نمسکار کیا تو غصّے میں بل بھدر نے کُش کی دھار سے اسے قتل کر دیا؛ رشیوں نے اسے گھور برہما-ودھ قرار دے کر لوک سنگرہ کے لیے پرایشچت کا حکم دیا۔ یَگّیہ کو آلودہ کرنے والے دیو بلول کے وध کی درخواست پر بل بھدر نے اسے ہلاک کیا اور ایک سال تک تیرتھ ورت کیا؛ پھر بھی سیاہ سایہ جیسی ناپاکی پیچھا کرتی رہی اور آواز آئی کہ پاپ پوری طرح نہیں مٹا۔ آخرکار رشیوں کے کہنے پر رام سیتو کے نزدیک گندھمادن میں لکشمن تیرتھ پر اسنان کر کے لکشمنیشور کو پرنام کیا تو مجسّم آواز نے کامل شُدھی کی تصدیق کی۔ اختتام پر پھل شروتی ہے کہ یکسوئی سے اس باب کا پاٹھ یا شروَن اپونربھَو (دوبارہ جنم سے آزادی) والی مکتی کی راہ دکھاتا ہے۔

जटातीर्थमाहात्म्य (Jatātīrtha Māhātmya: The Glory of Jatātīrtha)
یہ باب ‘جٹاتیِرتھ ماہاتمیہ’ کے طور پر باطنی طہارت اور جہالت کے ازالے کی تعلیم دیتا ہے۔ سوت برہمنوں سے کہتے ہیں کہ سالک لکشمن کے عظیم تیرتھ (جسے برہماہتیا کا ناس کرنے والا کہا گیا ہے) سے آگے بڑھ کر چِتّ شُدھی کے لیے جٹاتیِرتھ کا قصد کریں۔ محض ویدانت کی زبانی بحثیں، مناظرے اور علمی الجھاؤ اگر نزاع پر مبنی ہو جائیں تو دل پاک نہیں ہوتا—اس کی تنقید کی گئی ہے؛ اس کے بدلے ‘لَگھو اُپائے’ کے طور پر جٹاتیِرتھ میں اسنان کو انتہکرن شُدھی، اَجنان-ناش، گیان کے اُبھار اور آخرکار موکش—یعنی اکھنڈ سچّدانند کی معرفت—کا براہِ راست وسیلہ بتایا گیا ہے۔ تیرتھ کی عظمت کو اصل حکایات سے ثابت کیا گیا ہے—کہ شَمبھو نے اسے عالمگیر بھلائی کے لیے قائم کیا، اور راون کے وध کے بعد شری رام نے یہاں کے جل میں اپنی جٹا دھوئیں، اسی سے اس کا نام جٹاتیِرتھ پڑا۔ ثواب کے بیانات میں اسے مشہور اسنان-چکروں کے برابر یا بڑھ کر کہا گیا ہے، اور ایک ہی بار کا اسنان بھی مؤثر بتایا گیا ہے۔ نصیحت آموز مثال میں شُک دیو و्यास سے ایسا رازدارانہ طریقہ پوچھتے ہیں جو چِتّ شُدھی، گیان اور نجات دے؛ و्यास جٹاتیِرتھ ہی کی تلقین کرتے ہیں۔ بھِرگو کو ورُن کا اُپدیش، دُروَاسا اور دتّاتریہ کے واقعات بھی یہی بتاتے ہیں کہ یَجْن، جَپ، اُپواس یا پیچیدہ ریاضتوں کے بغیر محض اسنان سے بُدھی شُدھی حاصل ہوتی ہے۔ آخر میں پھل شروتی ہے کہ اس باب کا پڑھنا یا سننا گناہوں کو دھو دیتا ہے اور ویشنو گتی/پد عطا کرتا ہے۔

लक्ष्मीतीर्थमाहात्म्य (Laxmī-tīrtha Māhātmya) — The Glory of Lakṣmī Tīrtha
اس باب میں سوت جی رشیوں کو تِیرتھوں کی ترتیب سناتے ہوئے خاص طور پر لکشمی-تیرتھ کی عظمت بیان کرتے ہیں۔ ابتدا میں جٹا-تیرتھ میں اشنان کو گناہوں کو مٹانے والا کہا گیا ہے؛ پھر پاکیزہ یاتری لکشمی-تیرتھ پر جا کر سنکلپ کے ساتھ اشنان کرے تو مطلوبہ مقاصد پورے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد مہابھارت کا نمونہ آتا ہے۔ اندراپرستھ میں رہنے والے یدھشٹھِر (دھرم پُتر) شری کرشن سے پوچھتے ہیں کہ انسان کس دھرم سے بڑی سلطنت، ایشوریہ اور خوشحالی پاتا ہے۔ کرشن گندھمادن پہاڑی علاقے میں واقع لکشمی-تیرتھ کی طرف رہنمائی کرتے ہیں اور اسے ایشوریہ کا خاص سبب بتاتے ہیں۔ وہاں اشنان سے دھن و دھانّیہ بڑھتا ہے، دشمن کمزور ہوتے ہیں، کشتریہ طاقت مضبوط ہوتی ہے، پاپ دور ہوتے ہیں اور بیماری گھٹتی ہے۔ یدھشٹھِر ایک ماہ تک نیَموں کے ساتھ بار بار اشنان کرتے ہیں، پھر برہمنوں کو بڑا دان دے کر راجسوئے کے لائق بنتے ہیں۔ کرشن مزید فرماتے ہیں کہ راجسوئے سے پہلے دِگ وِجَے (چاروں سمتوں کی فتح) اور خراج/نذرانہ جمع کرنا ضروری ہے۔ پانڈو دِگ وِجَے کر کے بے پناہ دولت لے کر لوٹتے ہیں اور یدھشٹھِر وسیع دان-دکشنا کے ساتھ راجسوئے یَگّیہ ادا کرتے ہیں۔ اختتام پر بتایا گیا ہے کہ یہ سب لکشمی-تیرتھ کے ماہاتمیہ سے ممکن ہوا؛ اس کا سننا یا پڑھنا برے خوابوں کو مٹاتا ہے، مرادیں پوری کرتا ہے، دنیاوی خوشحالی دیتا ہے اور آخرِ عمر جائز بھوگ کے بعد موکش عطا کرتا ہے۔

अग्नितीर्थमहात्म्य (Agnitīrtha Māhātmya: The Glory and Origin of Agni Tīrtha)
اس باب کے آغاز میں شری سوت لکشمی تیرتھ سے یاتریوں کو اگنی تیرتھ کی طرف رہنمائی کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ یہ نہایت پُرثواب ہے اور بھکتی کے ساتھ حاضری بڑے بڑے گناہوں کو بھی مٹا دیتی ہے۔ رِشی اگنی تیرتھ کی پیدائش، مقام اور اس کی خاص قوت کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ سوت رام کتھا کا ضمنی واقعہ سناتے ہیں—راون کے وध کے بعد وبھیषण کو لنکا کے راج پر بٹھا کر شری رام سیتا اور لکشمن کے ساتھ سیتو مارگ سے روانہ ہوتے ہیں؛ دیوتا، رِشی، پِتر اور وانر بھی ساتھ ہوتے ہیں۔ لکشمی تیرتھ پر بہت سے گواہوں کے سامنے سیتا کی پاکیزگی کے اثبات کے لیے رام اگنی کا آہوان کرتے ہیں؛ اگنی دیو پانی سے پرकट ہو کر سیتا کے پتی ورت دھرم کی ستائش کرتے ہیں اور تَتّو کے طور پر کہتے ہیں کہ سیتا وشنو کی نِتیہ دیوی سَہ دھرمِنی ہیں جو ہر اوتار میں ساتھ رہتی ہیں۔ جہاں اگنی پانی سے اُبھرا وہی جگہ ‘اگنی تیرتھ’ کہلائی۔ پھر یاترا کے آداب بیان ہوتے ہیں—بھکتی سے اسنان، اُپواس، ودوان برہمنوں کی تعظیم، کپڑا، دھن، بھومی کا دان اور سجا سنورا کنیا دان؛ اس کا پھل گناہوں کی صفائی اور وشنو-سایوجیہ بتایا گیا ہے۔ بعد میں مثال کے طور پر تاجر کا بیٹا دُشپَنیہ بار بار بچوں کا قتل کرتا ہے، جلاوطن ہوتا ہے، رِشی کے شاپ سے دوچار ہو کر ڈوب کر مرتا ہے اور طویل عرصہ پِشाच یونی بھوگتا ہے؛ آخرکار کرُنا اور پرایشچت کے راستے سے اگنی تیرتھ کی سیوا کو شُدّھی اور بحالی کا ذریعہ قرار دے کر باب کا مدعا مضبوط کیا جاتا ہے۔

चक्रतीर्थमाहात्म्य (Glory of Chakratīrtha): Sudarśana’s Protection and Savitṛ’s Restoration
اس باب میں سوت جی یاترا کے سلسلے کو بیان کرتے ہیں۔ ‘سرو پاتک ناشن’ کہے گئے اگنی تیرتھ میں اسنان کرکے شُدھ یاتری کو چکرتیرتھ جانے کی ہدایت ہے۔ چکرتیرتھ میں جس نیت و سنکلپ کے ساتھ اسنان کیا جائے، اسی کے مطابق پھل ملتا ہے؛ یوں یہ تیرتھ دھرم کے مطابق مراد پوری کرنے کا مقام ٹھہرتا ہے۔ تیرتھ کی عظمت ایک قدیم واقعے سے ثابت کی جاتی ہے۔ گندھمادن میں اہربُدھنْی رشی تپسیا کرتے ہیں تو خوفناک راکشس تپسیا میں وِگھن ڈالنے کے لیے ستاتے ہیں؛ تب سُدرشن پرکٹ ہوکر اُن وِگھن کاروں کا نِدھن کرتا ہے اور بھکتوں کی پرارتھنا پر وہیں نِتیہ وِراجمان رہتا ہے—اسی سے نام ‘چکرتیرتھ’ پڑا اور وہاں راکشسادی آفات پیدا نہیں ہوتیں۔ دوسری روایت میں ساوتِر/آدِتیہ کے لقب ‘چھِنّ پَانی’ (کٹے ہوئے ہاتھ) کی وجہ بیان ہوتی ہے۔ دیتیوں کے دباؤ سے پریشان دیوتا برہسپتی کے مشورے سے برہما کے پاس جاتے ہیں؛ برہما گندھمادن میں سُدرشن کی کرپا و حفاظت کے ساتھ ماہیشور مہایَجْیہ کا وِدھان کرتا ہے اور ہوتَر، اَدھورْیُ وغیرہ رِتوِجوں کے فرائض تفصیل سے آتے ہیں۔ پراشِتر بھاگ تقسیم کرتے وقت چھونے ہی سے ساوتِر کے ہاتھ کٹ جاتے ہیں؛ بحران میں اشٹاوکر اسے اسی مقامی تیرتھ (پہلے مُنی تیرتھ، اب چکرتیرتھ) میں اسنان کا مشورہ دیتا ہے۔ اسنان کے بعد ساوتِر کو سونے جیسے ہاتھ دوبارہ مل جاتے ہیں۔ پھل شروتی کے مطابق اس باب کا پاتھ/شروَن بدن کی تکمیل، مطلوبہ سِدھی اور موکش کے طالب کو مُکتی عطا کرتا ہے۔

शिवतीर्थमाहात्म्ये कालभैरवब्रह्महत्याशमनवृत्तान्तः (Śivatīrtha Māhātmya: The Kālabhairava Narrative of Brahmahatyā Pacification)
اس باب میں زیارتِ تیرتھ کا حکم بیان ہوا ہے—چکراتیرتھ میں غسل کرکے شِوتیرتھ جانا چاہیے؛ وہاں غوطہ لگانے سے بڑے بڑے گناہوں کا ذخیرہ بھی مٹ جاتا ہے۔ کال بھیرَو پر برہماہتیا کا داغ کیوں آیا—اس سوال پر سوت جی برہما اور وِشنو کے درمیان کائناتی کارگزاری کے بارے میں قدیم نزاع سناتے ہیں۔ وید درمیان میں آکر دونوں سے برتر پرمیشور کی خبر دیتے ہیں، اور پرنَو (اوم) شِو کی برتری اور گُنوں کی تدبیر واضح کرتا ہے—رجس سے برہما تخلیق، ستو سے وِشنو حفاظت، اور تمس سے رُدر سنہار کرتا ہے۔ مغلوبِ وہم برہما آگنی پانچواں سر ظاہر کرتا ہے؛ تب شِو کے حکم سے کال بھیرَو وہ سر کاٹ دیتا ہے، اور برہماہتیا کی ناپاکی مجسم صورت میں بھیرَو کے پیچھے لگ جاتی ہے۔ تطہیر کے لیے شِو ایک راستہ مقرر کرتا ہے—کپال (کھوپڑی) کے پیالے کے ساتھ فقیرانہ بھٹکنا، وارانسی میں داخل ہوکر داغ کو کم کرنا، اور آخر میں جنوبی سمندر کے کنارے گندھمادن کے پاس شِوتیرتھ میں غسل کرکے باقی آلودگی کو مٹا دینا۔ غسل کے بعد شِو کامل پاکیزگی کی تصدیق کرتا ہے اور بھیرَو کو کاشی میں کپال قائم کرنے کا حکم دیتا ہے، جس سے کپالتیرتھ وجود میں آتا ہے۔ آخر میں پھل شروتی ہے کہ اس ماہاتمیہ کا پڑھنا اور سننا دکھوں سے نجات اور سخت خطاؤں کے ازالے کا سبب ہے۔

Śaṅkhatīrtha Māhātmya (शंखतीर्थमाहात्म्य) — Purification from Kṛtaghnatā (Ingratitude)
سوت جی شَنکھ تیرتھ کی مہاتمیا بیان کرتے ہیں۔ گندھمادن پہاڑ پر واقع اس تیرتھ میں اسنان کرنے سے سخت گناہ بھی مٹ جاتے ہیں، خصوصاً کِرتَگھنتا (ناشکری)—ماں، باپ اور گرو کے حق میں کی گئی گستاخیاں، احسان فراموشی اور احسان شکنی—سے پیدا ہونے والے دَوش کی پاکیزگی ہوتی ہے۔ اسی ضمن میں ایک اتیہاس آتا ہے۔ رِشی وَتسنابھ طویل عرصہ جسم کو بےحرکت رکھ کر تپسیا کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ دیمک کے ٹیلے (وَلمیک) سے ڈھک جاتے ہیں۔ تب اس علاقے میں سات دن مسلسل شدید آندھی اور بارش برستی ہے۔ دھرم دیوتا اُن کی ثابت قدمی سے متاثر ہو کر بڑے مہیش (بھینسے) کی صورت اختیار کرتے ہیں اور سات دن بارش سے بچانے کے لیے اُن پر سایہ بن کر کھڑے رہتے ہیں۔ طوفان تھمنے پر وَتسنابھ مہیش کو دیکھ کر اس کے دھرم جیسے برتاؤ پر غور کرتے ہیں، پھر تپسیا میں لگ جاتے ہیں؛ مگر دل بےقرار ہو جاتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ نجات دینے والے کا احترام نہ کرنا کِرتَگھنتا ہے، اور کفّارے میں خودکشی کا ارادہ کرتے ہیں۔ تب دھرم اپنے اصلی روپ میں ظاہر ہو کر انہیں روکتے ہیں اور بےضرر کفّارہ بتاتے ہیں—شَنکھ تیرتھ میں اسنان۔ اس اسنان سے وَتسنابھ کا من شُدھ ہوتا ہے اور وہ برہما بھاو کو پاتے ہیں۔ آخر میں تیرتھ کی تاثیر اور اس ادھیائے کے شروَن و پاٹھ کی پھل شروتی بیان ہوتی ہے جو موکش کی راہ ہموار کرتی ہے۔

Tīrthatraya-Āvāhana and Jñāna-Upadeśa (यमुनागङ्गागयातीर्थत्रयप्रादुर्भावः)
اس ادھیائے میں سوت جی یاترا کا ترتیب وار طریقہ بیان کرتے ہیں—شنکھ تیرتھ کے اعمال کے بعد یمنا، گنگا اور گیا—یہ تین مشہور تیرتھ اختیار کیے جائیں۔ یہ تیرتھ عام طور پر معروف، رکاوٹیں دور کرنے والے اور دکھوں کو کم کرنے والے ہیں؛ خصوصاً جہالت کو مٹاکر معرفت و گیان عطا کرنے والے کہے گئے ہیں۔ رشی پوچھتے ہیں کہ گندھمادن میں یہ تینوں تیرتھ کیسے ظاہر ہوئے اور غسل کے ذریعے راجا جانشرُتی نے گیان کیسے پایا۔ سوت رَیکوَ (سایُگوانگ کے نام سے بھی معروف) نامی تپسوی کا حال سناتے ہیں۔ وہ پیدائشی جسمانی کمزوری کے باوجود سخت تپسیا والا تھا؛ سفر سے عاجز ہوکر اس نے منتر اور دھیان کے ذریعے تیرتھ ترَے کا آواہن کرنے کا عزم کیا۔ تب پاتال سے یمنا، جاہنوی گنگا اور گیا انسانی روپ میں نمودار ہوئیں اور جہاں ظاہر ہوئیں وہیں ٹھہرنے کی درخواست قبول کی۔ وہ مقامات یمناتیرتھ، گنگاتیرتھ اور گیاتیرتھ کہلائے؛ وہاں غسل سے جہالت دور ہوتی ہے اور گیان کا اُدے ہوتا ہے—یہ پھل بیان ہوا ہے۔ پھر مہمان نوازی اور سخاوت میں مشہور راجا جانشرُتی کا قصہ آتا ہے۔ ہنسوں کی صورت میں مکالمہ کرنے والے دیویہ رشی بتاتے ہیں کہ رَیکوَ کا برہماگیان راجا کے پُنّیہ سے بھی برتر ہے۔ مضطرب راجا رَیکوَ کو ڈھونڈ کر دولت پیش کرتا اور اُپدیش مانگتا ہے، مگر رَیکوَ مادی قدر و قیمت کو رد کرتا ہے۔ ادھیائے کا نتیجہ یہ ہے کہ سنسار اور پُنّیہ-پاپ دونوں سے ویراغیہ ہی اَدویت گیان کی تمہید ہے؛ یہی گیان جہالت کو فیصلہ کن طور پر مٹاکر برہما بھاؤ کی طرف لے جاتا ہے۔

Kotitīrtha-māhātmya and Pilgrimage Ethics (कोटितीर्थमाहात्म्य तथा तीर्थयात्रानैतिकता)
اس باب میں سوت جی رشیوں کو تیرتھ یاترا کا مرتبہ وار طریقہ اور راستے کی دینی اخلاقیات بتاتے ہیں۔ یمنا، گنگا اور گیا میں درست طریقے سے اشنان کے بعد یاتری کو نہایت پُنیہ بخش کوٹیتیرتھ جانا چاہیے۔ اسے عالمگیر شہرت یافتہ، دولت و برکت دینے والا، پاکیزگی بخش، گناہ ناپاک کرنے والا، بُرے خوابوں اور بڑے رکاوٹوں کو دور کرنے والا کہا گیا ہے۔ نام کی وجہ یہ بیان ہوتی ہے کہ راون کے وध کے بعد شری رام برہماہتیا کے دوش سے نجات کے لیے گندھمادن پہاڑ پر ‘رامناتھ’ لِنگ کی پرتِشٹھا کرتے ہیں۔ ابھیشیک کے لیے پانی نہ ملا تو وہ کمان کے ‘کوٹی’ (نوک) سے زمین کو چیر کر جاہنوی (گنگا) کا سمرن کرتے ہیں، تب گنگا پرकट ہوتی ہے؛ اسی لیے یہ جگہ کوٹیتیرتھ کہلائی۔ یہاں کا اشنان کئی جنموں کے جمع شدہ پاپ بھی گھلا دیتا ہے؛ دوسرے تیرتھوں میں اشنان کبھی کبھی گہرے دوش کو مٹا نہیں پاتا—اس طرح کوٹیتیرتھ کو آخری پاک کرنے والا بتایا گیا ہے۔ رشی پوچھتے ہیں: اگر کوٹیتیرتھ کافی ہے تو دوسرے تیرتھوں میں اشنان کیوں؟ سوت جواب دیتے ہیں کہ راستے میں آنے والے تیرتھوں/مندروں کو نظرانداز کر کے گزر جانا ‘تیرتھاتیکرم-دوش’ ہے؛ اس لیے درمیانی اشنان لازم ہیں اور آخر میں کوٹیتیرتھ باقی رہ جانے والا دوش بھی دور کرتا ہے۔ مثال میں شری رام برہماہتیا کے دوش سے آزاد ہو کر ایودھیا لوٹتے ہیں۔ شری کرشن بھی نارَد کے اُپدیش سے لوک-شکشا کے لیے، کنس وध سے جڑے سماجی طور پر بیان کیے گئے دوش کو शांत کرنے کی خاطر کوٹیتیرتھ میں اشنان کر کے متھرا واپس جاتے ہیں۔ پھل شروتی کے مطابق اس باب کا سننا یا پڑھنا برہماہتیا وغیرہ گناہوں سے نجات دیتا ہے۔

साध्यामृततीर्थमाहात्म्यं तथा पुरूरवोर्वशी-वियोगशापमोक्षणम् (The Glory of Sādhyāmṛta Tīrtha and the Curse-Release of Purūravas and Urvaśī)
اس باب میں سوت پہلے کوٹیتیर्थ کا بیان کرکے گندھمادن میں واقع عظیم تیرتھ ‘سادھیامرت’ کی عظمت بیان کرتا ہے۔ وہاں کا اسنان تپسیا، برہمچریہ، یَجْیَہ اور دان سے بھی برتر کہا گیا ہے؛ اس کے جل کا محض سپرش بدن میں لگی ہوئی پاپ-میل کو فوراً نष्ट کر دیتا ہے۔ پرایشچتّ کے بھاو سے اسنان کرنے والے وشنولوک میں معزز ہوتے ہیں، اور بھاری کرم-بندھن والے بھی ہولناک نرکوں سے بچ جاتے ہیں—یہ فَلَشروتی ہے۔ پھر مثال کے طور پر راجا پوروروا اور اپسرا اُروشی کی کہانی آتی ہے۔ چند شرطوں پر ان کا ملاپ ہوتا ہے—ننگا پن ظاہر نہ ہو، اُچّھِشٹ بھوجن نہ ہو، اور دو میمنوں کی حفاظت ہو۔ گندھرو چال سے میمنے چرا لیتے ہیں؛ پوروروا بچانے دوڑتا ہے، بجلی کی چمک میں وہ بے لباس دکھائی دیتا ہے اور اُروشی جدائی اختیار کرکے چلی جاتی ہے۔ بعد میں اندرسبھا میں اُروشی کے ناچ کے وقت دونوں ہنس پڑتے ہیں تو تُنبُرو فوراً جدائی کا شاپ دے دیتا ہے۔ پوروروا اندر کی پناہ لیتا ہے؛ اندر دیوتاؤں، سدھوں اور یوگی مُنیوں سے سَیوِت، بھُکتی-مُکتی دینے والے اور شاپ ہٹانے والے سادھیامرت تیرتھ کی یاترا بتاتا ہے۔ وہاں اسنان سے شاپ چھوٹتا ہے، اُروشی سے پُنمِلن ہوتا ہے اور وہ امراوتی لوٹتے ہیں۔ آخر میں کہا گیا ہے—کامناؤں کے ساتھ اسنان سے مطلوبہ پھل اور سوَرگ، نِشکام اسنان سے موکش؛ اور اس باب کا پاٹھ یا شروَن ویکُنٹھ گتی عطا کرتا ہے۔

Sarvatīrtha-Māhātmya (मानसतीर्थ / सर्वतीर्थ माहात्म्य) — The Glory of the ‘All-Tīrthas’ Bath
باب کے آغاز میں سوت بیان کرتے ہیں کہ باقاعدہ اور منضبط یاتری پہلے کسی مُکتی دینے والے تیرتھ میں اشنان کر کے پھر ‘سروتیرتھ’ نامی نہایت پُنیہ مقام پر جائے۔ یہاں کا اشنان بڑے سے بڑے گناہوں کو بھی مٹا دیتا ہے؛ اشنان کرنے والے کے سامنے گناہ گویا لرزتے ہیں۔ طویل ویدی پاتھ، بڑے یَجْن، دیوتا پوجا، مقدس تِتھیوں کے ورت/اپواس اور منتر جپ سے جو پھل ملتا ہے، وہ یہاں صرف غوطہ لگانے سے حاصل ہو جاتا ہے۔ رشی پوچھتے ہیں کہ اس جگہ کو ‘سروتیرتھ’ نام کیسے ملا۔ سوت بھِرگو وَنش کے تپسوی سُچَرِتا کی کہانی سناتے ہیں—وہ نابینا، بوڑھے اور سارے دیشوں کی تیرتھ یاترا سے عاجز تھے۔ چنانچہ انہوں نے جنوبی سمندر کے نزدیک گندھمادن پہاڑ پر شیو کی سخت تپسیا کی—تریکال پوجا، اتھتی سیوا، رِتو تپ، بھسم دھارن، رودراکْش دھارن اور طویل سَیَم۔ شیو پرسن ہو کر پرگٹ ہوئے، انہیں بینائی دی اور ور مانگنے کو کہا۔ سُچَرِتا نے یاترا کے بغیر سبھی تیرتھوں کے اشنان کا پھل مانگا۔ شیو نے فرمایا کہ رام سیتو سے پَوِتر اسی مقام میں وہ سب تیرتھوں کو آواہن کریں گے؛ اس لیے یہ ‘سروتیرتھ’ اور ‘مانس تیرتھ’ کے نام سے مشہور ہوگا اور بھوگ و موکش دونوں دے گا۔ سُچَرِتا نے اشنان کرتے ہی جوانی پائی؛ انہیں وہیں رہ کر شیو سمرن کے ساتھ نِتّیہ اشنان کرنے اور دور کی یاتراؤں سے پرہیز کا اُپدیش ملا۔ انجامِ کار وہ شیو کو پرابت ہوئے؛ اور پھل شروتی میں آیا ہے کہ اس آکھ्यान کے پڑھنے یا سننے سے گناہوں کا کَشَی ہو جاتا ہے۔

धनुष्कोटि-तीर्थमाहात्म्य (Dhanuskoṭi Tīrtha-Māhātmya)
اس باب میں سوت جی نَیمِشَارَنیہ کے رِشیوں کو دھنُشکوٹی تیرتھ کا ماہاتمیہ سناتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ مقررہ آداب کے ساتھ وہاں اسنان کرنا، اور اس تیرتھ کا سمرن، بیان، سماعت اور ستوتی بھی، بڑے سے بڑے پاپوں کو پاک کر دیتی ہے۔ پھر اٹھائیس نرکوں کی فہرست آتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ دھنُشکوٹی میں اسنان کرنے والے یا عقیدت سے اس کی مدح و ثنا کرنے والے ان عذاب گاہوں میں نہیں جاتے۔ چوری، عہد شکنی/خیانت، ہنسا، وید-مخالف چال چلن، جنسی بے راہ روی، اختیار کا ناجائز استعمال، اور یَجْیَہ کے قواعد کی خلاف ورزی—ایسے اعمال کے لیے جن جن نرکوں کا ذکر ہے، ان کی مثالیں دے کر بار بار یہی تاکید کی گئی ہے کہ دھنُشکوٹی-اسنان سے زوال رک جاتا ہے۔ اس کے بعد پھل شروتی میں دھنُشکوٹی میں غوطہ زنی کو مہادانوں اور مہایَجْیوں، اشومیدھ وغیرہ کے برابر پُنّیہ دینے والا بتایا گیا ہے؛ آتما-گیان اور چار طرح کی مکتی کے مفہوم کے حصول کا بھی بیان ہے۔ آخر میں نام کی وجہ بیان ہوتی ہے—راون کے وध کے بعد جب وبھیشن کی स्थापना ہو گئی تو وہ سیتو کے بارے میں شری رام سے عرض کرتا ہے؛ شری رام کے دھنُش سے وابستہ نشان/عمل کے سبب وہ مقام مقدس ہو کر ‘دھنُشکوٹی’ کے نام سے مشہور ہوتا ہے۔ باب سیتو-کشیتر کے دیگر دیویہ استھانوں کے ساتھ اس کی عظمت قائم کر کے اسے سارے پاپوں کو ہرنے والا اور بھُکتی-مُکتی عطا کرنے والا تیرتھ قرار دے کر ختم ہوتا ہے۔

Aśvatthāmā’s Night Assault (Suptamāraṇa) and Prescribed Expiation (Prāyaścitta)
یہ باب سوال و جواب کی صورت میں دینی و اخلاقی بحث پیش کرتا ہے۔ رِشی پوچھتے ہیں کہ اشوتھاما نے سوئے ہوئے لوگوں کا قتل (سُپتمارن) کیسے کیا اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے گناہ سے کیسے نجات پائی؛ نیز کمان کی نوک کے برابر پیمانے کے تِیرتھ-اسنان کے ذریعے تطہیر کا اشارہ بھی آتا ہے۔ دُریودھن کے گرنے کے بعد اشوتھاما، کرِپ اور کِرتَوَرما پانی کے قریب جنگل میں پناہ لیتے ہیں۔ وہاں ایک شکاری پرندے کو سوتے کوّوں کو مارتے دیکھ کر اشوتھاما اسے رات کے حملے کی تدبیر سمجھتا ہے۔ کرِپ کے اخلاقی اعتراض کے باوجود وہ مہادیو کی پوجا کرتا ہے، پاکیزہ تلوار پاتا ہے اور سوئے ہوئے لشکرگاہ میں گھس کر دھِرِشتَدْیُمن وغیرہ کو قتل کرتا ہے؛ دروازے پر کرِپ اور کِرتَوَرما پہرہ دیتے ہیں۔ بعد ازاں زاہد اسے سنگین خطا کا مرتکب کہہ کر ملامت کرتے ہیں۔ کفّارے کے لیے وہ ویاس کے پاس جاتا ہے؛ ویاس سُپتمارن-دوش کی پاکیزگی کے لیے ایک ماہ تک مسلسل اسنان (غسل) کے ورت کا حکم دیتے ہیں۔ آخر میں پھل شروتی ہے کہ عقیدت سے اس کا پاٹھ یا شروَن گناہوں کو دور کرتا ہے اور شِو لوک میں عزت عطا کرتا ہے۔

धनुष्कोटि-माहात्म्य (Dhanuṣkoṭi Māhātmya: The Glory of Dhanuṣkoṭi)
سوت نَیمِشَارَنیہ کے رِشیوں سے دھنُشکوٹی تیرتھ کا وَیبھَو بیان کرتا ہے۔ سوم وَنش کے راجا نَند اپنی سلطنت بیٹے دھرم گپت کے سپرد کر کے تپَوَن میں چلے جاتے ہیں۔ دھرم گپت دھرم کے مطابق راج کرتا ہے، بہت سے یَگیہ کرتا ہے اور برہمنوں کی پرورش و خدمت کرتا ہے؛ اس سے رعایا میں امن اور نظم قائم رہتا ہے۔ ایک دن خوفناک جنگل میں شکار کے دوران رات ہو جاتی ہے۔ راجا سندھیا وِدھی ادا کر کے گایتری کا جپ کرتا ہے۔ اسی درخت پر شیر سے بھاگتا ہوا ایک ریچھ (ऋक्ष) چڑھ آتا ہے اور رات بھر باہمی حفاظت کا دھرم-سندھی پیش کرتا ہے۔ ریچھ کے سو جانے پر شیر راجا کو اعتماد شکنی پر اکساتا ہے؛ ریچھ جاگ کر کہتا ہے کہ ‘وشواس-گھات’ سب سے بھاری پاپ ہے۔ پھر شیر کے بہکاوے میں آ کر راجا سوئے ہوئے ریچھ کو گرا دیتا ہے؛ وہ پُنّیہ کے بل پر بچ جاتا ہے اور خود کو بھِرگو وَنش کے رِشی دھیانکاشٹھ ریچھ-روپ میں ظاہر کر کے، بےقصور سوئے ہوئے جیو کو نقصان پہنچانے پر راجا کو جنون (اُنْماد) کی شاپ دیتا ہے۔ بعد میں شیر بھی یَکش نکلتا ہے—کُبیر کا سیکرٹری بھدرنام، جو گوتم کے شاپ سے شیر بنا تھا؛ دھیانکاشٹھ سے گفتگو کے بعد وہ شاپ مُکت ہو کر یَکش-روپ پا لیتا ہے۔ جنون زدہ دھرم گپت کو وزیر نَند کے پاس لے جاتے ہیں؛ نَند رِشی جَیمِنی سے اُپائے پوچھتا ہے۔ جَیمِنی سیتو کے نزدیک جنوبی سمندر کے کنارے دھنُشکوٹی میں اسنان اور رام ناتھ (شیو) کی پوجا بتاتا ہے—یہ تیرتھ بڑے سے بڑے دَوش بھی دھو دیتا ہے۔ نَند وہاں نِیَم سے اسنان-پوجا کراتا ہے تو دھرم گپت کا جنون فوراً دور ہو جاتا ہے؛ وہ دان اور بھومی دان کر کے پھر دھرم سے راج کرتا ہے۔ آخر میں پھل شروتی ہے کہ اس کَتھا کا سننا بھی پاکیزگی دیتا ہے، اور اسنان سے پہلے “دھنُشکوٹی” تین بار کہنے سے اعلیٰ پھل ملتا ہے۔

धनुष्कोटि-माहात्म्यं (Dhanuṣkoṭi Māhātmya) — Expiation through the Dhanuṣkoṭi Tīrtha
اس ادھیائے میں رشیوں کے سوال پر سوت جی سیتو-پردیش کے دھنشکوٹی تیرتھ کی پوشیدہ اور حیرت انگیز مہیمہ بیان کرتے ہیں۔ رَیبھْی نامی شروت-کرم کے ودوان کے پتر ارواؤسو اور پراواؤسو راجا برہَدْدیومن کے طویل ستّر یَجْیہ میں بے عیب وِدھی سے سہایتا کرتے ہیں۔ مگر پراواؤسو رات کو جنگل سے لوٹتے ہوئے ہرن کے گمان میں اپنے پتا کا وध کر بیٹھتا ہے، جس سے برہماہتیا کے سیاق میں مہاپاتک جیسا ہولناک دوش پیدا ہو جاتا ہے۔ پراۓشچت کے لیے دونوں بھائی ذمہ داری بانٹتے ہیں—یَجْیہ کا کام رکے نہ، اس لیے بڑا بھائی پراواؤسو یَجْیہ میں لگا رہتا ہے اور چھوٹا بھائی ارواؤسو اس کی جگہ طویل ورت دھارن کرتا ہے۔ پھر بھی سماج اور راج دربار کے ردِّعمل سے بے قصور ارواؤسو کو باہر کر دیا جاتا ہے؛ وہ سخت تپسیا کر کے دیودर्शन پاتا ہے۔ دیوتا بتاتے ہیں کہ سیتو-پردیش کے دھنشکوٹی میں اسنان ہی خاص علاج ہے—یہ پنچ مہاپاتک سمیت بڑے دوشوں کو نष्ट کرتا ہے اور دنیاوی بھلائی کے ساتھ موکش کا پھل دیتا ہے۔ پراواؤسو نیت سنکلپ کے ساتھ وہاں اسنان کرتا ہے تو آکاشوانی دوش کے زوال کی گھوشنا کرتی ہے؛ پھر میل ملاپ ہو جاتا ہے۔ پھل شروتی میں کہا گیا ہے کہ اس ادھیائے کا پاتھ/شروَن اور دھنشکوٹی-اسنان سخت آفتوں اور دوشوں کو دور کرتا ہے۔

धनुष्कोटिप्रशंसनम् (Praise of Rāma-dhanus-koṭi) — Sṛgāla–Vānara Saṃvāda and the Expiatory Bath
اس باب میں سوت جی ‘اتہاس’ کے طور پر جنوبی سمندر میں واقع شری رام-دھنشکوٹی تیرتھ کی مدح بیان کرتے ہیں۔ شمشان کے ماحول میں دو ‘جاتی-سمر’ مخلوقات—سِرگال (گیدڑ) اور وانر (بندر)—کا ذکر آتا ہے، جو پچھلے جنم میں انسانی دوست تھے۔ بندر گیدڑ کی پست خوراک اور خستہ حالی کا سبب پوچھتا ہے۔ گیدڑ بتاتا ہے کہ پچھلے جنم میں وہ ویدشرما نامی عالم برہمن تھا، مگر ایک برہمن سے کیا ہوا وعدہ پورا نہ کر سکا اور وعدہ شدہ دان نہ دیا؛ ‘پرتِشرُتیہ-اپردان’ کے دوش سے اس کا پُنّیہ ضائع ہوا اور اسے گیدڑ کی یونی ملی۔ متن وعدہ شکنی کی سخت وعید اور پُنّیہ کے زیاں کو نمایاں کرتا ہے۔ پھر گیدڑ بندر سے اس کی وجہ پوچھتا ہے۔ بندر اقرار کرتا ہے کہ پچھلے جنم میں وہ ویدناتھ نامی برہمن تھا اور اس نے ایک برہمن کے گھر سے سبزیاں چرائیں۔ گرنتھ ‘برہمسو-ہرن’ (برہمن کی ملکیت چرانا) کو نہایت سنگین پاپ قرار دے کر بتاتا ہے کہ اس کے نتیجے میں پہلے نرک کا بھوگ اور پھر حیوانی جنم ملتا ہے۔ نجات کی خواہش سے دونوں راکھ آلود، تری پُنڈْر دھاری اور رودراکْش دھاری سدھ سنت سندھودویپ رشی کے پاس جاتے ہیں۔ رشی ان کی سابقہ شناخت کی تصدیق کر کے جنوبی سمندر میں شری رام-دھنشکوٹی پر اسنان کو شُدھی اور پرایشچت کا اُپائے بتاتے ہیں۔ تیرتھ کی تاثیر ثابت کرنے کے لیے وہ یجّندیو کے پتر سُمتی کی کتھا سناتے ہیں—جو کُسنگ سے چوری، مدیراپان وغیرہ میں گرتا ہوا برہمہتیا تک کر بیٹھتا ہے اور برہمہتیا کی مُجسّم طاقت اس کا پیچھا کرتی ہے۔ آخر میں درواسا رشی فرماتے ہیں کہ شری رام-دھنشکوٹی میں اسنان سے مہاپاپوں سے بھی جلد مکتی ملتی ہے۔ یوں یہ باب وعدہ نبھانے، چوری سے بچنے، رشی-وچن کی حجّت اور تیرتھ-اسنان کے پرایشچت کو ایک ہی تعلیم میں سمو دیتا ہے۔

धनुष्कोटिस्नानमाहात्म्यं — The Māhātmya of Bathing at Dhanuṣkoṭi
اس باب میں تیرتھ کی سادھنا کے ذریعے پرایَشچِتّ (کفّارہ) کا تاتّوِک بیان کثیر آوازوں کے مکالمے کی صورت میں آتا ہے۔ یَجْنَدیَو دُروَاسا سے پوچھتا ہے کہ دُروِنیّت نامی برہمن نے فریبِ نفس اور خواہش کے غلبے میں ماں کی حرمت کی حد توڑ کر سنگین گناہ کیا؛ پھر وہ کیسے پاک ہوا؟ دُروَاسا اس کی سرگزشت سناتا ہے—پانڈیہ دیس کا وہ برہمن قحط کے سبب گوکرن گیا، وہاں لغزش ہوئی، پھر ندامت کے ساتھ رِشیوں کی پناہ میں پہنچا؛ بعض نے ردّ کیا مگر ویاس نے کرم سے راہ بتائی۔ ویاس نے مقام و زمانہ کے مطابق ورت مقرر کیا—ماں کے ساتھ رام سیتو/دھنُشکوٹی جائے، ماگھ کے مہینے میں جب سورج مکر میں ہو تو ضبطِ نفس رکھے، اہنسا اور عداوت ترک کرے، ایک ماہ تک مسلسل اسنان اور روزہ رکھے۔ اس سے بیٹا اور ماں دونوں کی تطہیر بیان کی گئی ہے۔ پھر ویاس گِرہستھ دھرم میں دوبارہ داخلے کے لیے اخلاقی ہدایات دیتا ہے—اہنسا، سندھیا اور نِتیہ کرم، حواس پر قابو، مہمان و بزرگ و گرو کی تعظیم، شاستر کا مطالعہ، شِو اور وِشنو کی بھکتی، منتر جپ، دان اور طہارتِ رسوم۔ ایک دوسرے فریم میں سندھودویپ کہتا ہے کہ یَجْنَدیَو اپنے بیٹے کو برہماہتیا وغیرہ گناہوں سے نجات کے لیے دھنُشکوٹی لاتا ہے؛ وہاں بےجسم آواز (اَشَریرِنی واک) مکتی کی تصدیق کرتی ہے۔ آخر میں پھل شروتی ہے کہ اس ادھیائے کا سننا یا پڑھنا بھی دھنُشکوٹی اسنان کا پھل دیتا ہے اور جلد ایسی مکتی نما حالت عطا کرتا ہے جو یوگیوں کی مجلسوں کے لیے بھی دشوار ہے۔

धनुष्कोटि-माहात्म्यम् (Dhanushkoti Māhātmya: Bathing Merit and Mahālaya Śrāddha)
اس باب میں سوت اور رشیوں کے مکالمے کے ذریعے دھرم کی تعلیم دی گئی ہے۔ ‘دُراچار’ نامی برہمن کی مثال سے ‘سنگ-دھرم’ بیان ہوتا ہے کہ مہاپاتکیوں کی طویل صحبت سے برہمنی پُنّیہ اور مرتبہ بتدریج گھٹتا ہے؛ ساتھ رہنے، ساتھ کھانے اور ساتھ سونے سے گناہ میں برابری تک ہو جاتی ہے۔ پھر دھنشکوٹی تیرتھ کی شکتی کا بیان ہے، جو شری رام چندر جی کے دھنش سے منسوب اور مہاپاتک-ناشنی کہی گئی ہے۔ وہاں اسنان کرنے سے فوراً پاپوں سے نجات ملتی ہے اور ویتال کی جبری گرفت/آویش بھی دور ہو جاتا ہے—یہ بات قصے کے ذریعے واضح کی گئی ہے۔ اس کے بعد بھاد्रپد کے کرشن پکش میں مہالَی شرادھ کے وقت و ضابطے، تِتھی کے مطابق پھل، اور غفلت کی صورت میں دوش بیان کیے گئے ہیں۔ استطاعت کے مطابق وید-جاننے والے، سُداچاری برہمنوں کو بھوجن کرانا خاص تاکید کے ساتھ آیا ہے۔ آخر میں دھنشکوٹی کے ماہاتمیہ کو سننا اور جاننا پاپ-نाशک اور مکتی میں مددگار—یہ عام پھل شروتی بیان کی گئی ہے۔

Kṣīrakuṇḍa–Kṣīrasaras Māhātmya (Origin and Merit of the Milk-Tīrtha)
باب 37 میں جمع ہوئے رِشی سوت جی سے پوچھتے ہیں کہ چکرتیرتھ کے نزدیک پہلے مذکور کَشیَرکُنڈ کی پیدائش اور اس کی مہیمہ کیا ہے۔ سوت بتاتے ہیں کہ یہ تیرتھ جنوبی سمندر کے کنارے پھُلّگرام میں واقع ہے اور رام کے سیتو-کارْی سے وابستہ ہونے کے سبب نہایت پاک ہے۔ اس کے درشن، لمس، دھیان اور اس کی ستوتی کے پاٹھ سے پاپ نَشت ہوتے ہیں اور موکش کی پرابتि ہوتی ہے۔ پھر مُدگل رِشی کی کتھا آتی ہے۔ وہ نارائن کو پرسنّ کرنے کے لیے وید-وِدھی کے مطابق یَجْیَہ کرتے ہیں؛ وِشنو پرتیَکش ہو کر ہَوی قبول کرتے ہیں اور وَر دیتے ہیں۔ مُدگل پہلے بےدغا، اٹل بھکتی مانگتے ہیں، اور پھر وسائل نہ ہونے کے باوجود دن میں دو بار دودھ کی آہوتی والا ہوم (پَیَو-ہوم) کرنے کی شکتِی کی یाचنا کرتے ہیں۔ وِشنو وِشوکرمہ کو بلا کر ایک حسین سرور بنواتے ہیں اور سُرَبھِی کو حکم دیتے ہیں کہ وہ روزانہ اسے دودھ سے بھر دے۔ یوں یہ تیرتھ ‘کَشیَرسرس’ کے نام سے مشہور ہوتا ہے؛ یہاں اسنان کرنے والوں کے مہاپاپ نَشت ہوتے ہیں اور مُدگل کو زندگی کے آخر میں مُکتی کی بشارت ملتی ہے۔ آخر میں کَدرو سے متعلق سبب-کتھا اور پھلشرُتی ہے کہ اس باب کا پاٹھ یا شروَن کَشیَرکُنڈ میں اسنان کے پھل کے برابر ہے۔

Kadrū–Vinatā Saṃvāda, Garuḍa-Amṛtāharaṇa, and Kṣīra-kuṇḍa Praśaṃsā (कद्रू-विनता संवादः, गरुडामृताहरणम्, क्षीरकुण्डप्रशंसा)
رِشی سوتا سے پوچھتے ہیں کہ کدرو کس طرح کِشیر-کُنڈ میں غوطہ زنی کے بندھن سے آزاد ہوئی اور وِنَتا کس فریب آمیز شرط کے سبب داسی بنی۔ سوتا کِرتَیُگ کا پس منظر بیان کرتے ہیں—کشیپ کی دو بیویاں کدرو اور وِنَتا؛ وِنَتا سے اَرُوṇ اور گَروڑ پیدا ہوئے، اور کدرو سے واسُکی کی قیادت میں بہت سے ناگ۔ اُچّیَہ شْرَوَس گھوڑا دیکھ کر دُم کے رنگ پر شرط لگی؛ کدرو نے ناگ پُتروں کو دُم سیاہ کرنے کا حکم دے کر دھوکا کیا، اور انکار پر شاپ دیا—جو آگے راج سَپّ یَگّیہ میں ان کی ہلاکت کی پیش گوئی بنتا ہے۔ وِنَتا ہار کر غلامی میں پڑی؛ گَروڑ نے سبب جان کر ماں کی رہائی کا طریقہ ڈھونڈا۔ ناگوں نے دیوتاؤں کا اَمِرت مانگا۔ وِنَتا نے گَروڑ کو دھرم کی حدیں بتائیں—اَمِرت خود نہ پینا اور برہمن کو گزند نہ پہنچانا۔ گَروڑ نے کشیپ سے صلاح لی؛ شاپ زدہ دشمن ہاتھی اور کچھوے کو کھا کر قوت پائی، اور والکھِلیہ رِشیوں کو نقصان نہ ہو اس لیے شاخ کو دوسری جگہ رکھا۔ پھر دیوتاؤں کا مقابلہ کر کے اَمِرت لے آیا؛ وِشنو نے ور دے کر گَروڑ کو اپنا واہن مقرر کیا۔ اِنْدر نے اَمِرت واپس لینے کی تدبیر کی؛ آخرکار وِنَتا داسیت سے آزاد ہوئی۔ انجام میں کِشیر-کُنڈ ورت (تین دن کا اُپواس اور اسنان) کی ستائش ہے، اور پھل شروتی میں تلاوت و سماعت کو بڑے دانوں کے برابر پُنّیہ بخش کہا گیا ہے۔

कपितीर्थ-माहात्म्य तथा रंभा-शापमोचन (Kapitīrtha Māhātmya and Rambhā’s Release from the Curse)
اس ادھیائے میں دو حصے ہیں۔ پہلے سوت کَپِتیर्थ کی پیدائش اور اس کی عبادتی تاثیر بیان کرتا ہے۔ راون وغیرہ کی قوتوں کی شکست کے بعد گندھمادن پہاڑ پر وانروں نے سارے جگت کے بھلے کے لیے یہ تیرتھ قائم کیا؛ وہاں اشنان کر کے انہوں نے ور پائے۔ پھر شری رام نے خاص ور دیا کہ کَپِتیर्थ میں اشنان کا پھل گنگا-اشنان اور پریاگ-اشنان کے برابر، تمام تیرتھوں کے مجموعی پُنّیہ کے مساوی، اگنِشٹوم وغیرہ سوم یَگّیہ، گایتری سمیت مہا منتر جپ، گودان وغیرہ مہادان، وید-پاراۓن اور دیو-پوجا کے پھل کے ہم پلہ ہے۔ دیوتا اور رشی جمع ہو کر اس استھان کی بے مثال مہِما گاتے ہیں اور موکش کے خواہاں لوگوں کو وہاں ضرور جانے کی ہدایت دیتے ہیں۔ دوسرے حصے میں رمبھا کے شاپ اور موچن کی کتھا ہے۔ کُشِک وَنش کے وشوامتر پہلے راجا تھے؛ وِسِشٹھ کے برہمتَیج سے ہار کر انہوں نے برہمنیت حاصل کرنے کے لیے سخت تپسیا کی۔ دیوتاؤں نے ان کی تپسیا میں وِگھن ڈالنے کو اپسرا رمبھا کو بھیجا؛ چال سمجھ کر وشوامتر نے اسے طویل مدت تک پتھر بننے کا شاپ دیا اور کہا کہ کسی برہمن کے ذریعے ہی مکتی ہوگی۔ آگے اگستیہ کے شِشیہ شویت کو ایک راکشسی ستاتی ہے؛ ایک دیوی کرِیا سے وہ پتھر کَپِتیर्थ میں آ گرتا ہے۔ تیرتھ کے سپرش سے رمبھا اپنا روپ واپس پاتی ہے، دیوتاؤں سے سمان پا کر سوَرگ لوٹتی ہے اور کَپِتیर्थ کی بار بار ستُتی کرتے ہوئے رام ناتھ اور شنکر کی وندنا کرتی ہے۔ آخر میں پھل شروتی ہے کہ اس ادھیائے کا شروَن یا پاٹھ کَپِتیर्थ-اشنان کا پھل دیتا ہے۔

Gayatrī–Sarasvatī Sannidhāna at Gandhamādana and the Establishment of the Twin Kuṇḍas (गायत्रीसरस्वती-सन्निधानं तथा कुण्डद्वय-माहात्म्यम्)
باب کے آغاز میں سوت جی رشیوں سے کہتے ہیں کہ گایتری اور سرسوتی کی روایات کا شروَن و کیرتن مُکتی دینے والا اور پاپوں کو نَشٹ کرنے والا ہے۔ جو خوش دلی سے گایتری‑سرسوتی تیرتھوں میں اسنان کرتا ہے وہ گربھواس کے دکھ سے بچتا ہے اور یقینی موکش پاتا ہے۔ رشی پوچھتے ہیں کہ گندھمادن پہاڑ پر گایتری اور سرسوتی کا سَنِّدان کیوں ہے۔ سوت جی سبب کی کتھا سناتے ہیں: پرجاپتی برہما اپنی بیٹی واک پر فریفتہ ہوا؛ واک ہرنی کا روپ دھار کر بھاگی اور برہما اس کے پیچھے دوڑا۔ دیوتاؤں نے اس نِشِدھ آچرن کی مذمت کی۔ تب شِو نے شکاری (ویادھ) کا روپ لے کر برہما کو بان سے وِدھ کیا؛ اس ضرب سے مہاجیوتی نمودار ہوئی جو مِرگشیرش نَکشتر بنی، اور شِو کا تعاقب فلکی علامت کے طور پر بیان ہوا۔ برہما کے زوال سے رنجیدہ گایتری اور سرسوتی نے شوہر کی بحالی کے لیے گندھمادن میں سخت تپسیا کی—اپواس، اندریہ‑سَیم، شِو دھیان اور پنچاکشر منتر جپ۔ اسنان کے لیے انہوں نے اپنے ناموں سے دو کُنڈ/تیرتھ بنائے اور تری‑سَوَن اسنان کیا۔ پرسن شِو پاروتی اور دیوگن کے ساتھ پرگٹ ہوا؛ ستوتی سن کر ور دیا اور برہما کے سروں کو جوڑ کر اسے پھر چتورمکھ سِرشٹیکرتا کے روپ میں قائم کیا۔ برہما نے قصور مان کر آئندہ نِشِدھ کرم سے بچاؤ مانگا؛ شِو نے پرماد سے بچنے کی نصیحت کی۔ آخر میں شِو نے ان دو کُنڈوں کی نِتیہ تارک مہِما بیان کی: وہاں اسنان سے شُدھی، مہاپاتک نَش، شانتی اور اِشٹ سِدھی ملتی ہے؛ وید ادھیَن یا نِتیہ کرم سے محروم لوگوں کو بھی ہم پلہ پھل ملتا ہے۔ پھل شروتی کے مطابق، بھکتی سے اس باب کا شروَن یا پاٹھ کرنے والے کو دونوں تیرتھوں میں اسنان کا پھل حاصل ہوتا ہے۔

गायत्री-सरस्वतीतीर्थमाहात्म्य तथा कश्यपप्रायश्चित्तकथा (Glory of the Gayatrī–Sarasvatī Tīrthas and the Atonement Narrative of Kaśyapa)
اس ادھیائے میں سوت جی گایتری–سرسوتی کے جوڑے تیرتھوں پر مرکوز ایک پاکیزہ و تطہیری اِتیہاس سنانے کا عہد کرتے ہیں۔ پہلے راجا پریکشت کی معروف حکایت آتی ہے—شکار کے دوران اس نے دھیان میں بیٹھے رِشی کی توہین کرتے ہوئے اس کے کندھے پر مرا ہوا سانپ رکھ دیا؛ رِشی کے بیٹے شرنگی نے غضب میں شاپ دیا کہ ساتویں دن تَکشک کے ڈسنے سے راجا کی موت ہوگی۔ راجا بچاؤ کے انتظامات کرتا ہے، اور برہمن منترِک کشیپ زہر کے اثر کو دور کرنے کے لیے روانہ ہوتا ہے۔ راستے میں تَکشک اسے روک کر برگد کے درخت کو جلا کر اپنی مہلک قوت دکھاتا ہے، مگر کشیپ منتر کے بل پر درخت اور اس پر موجود آدمی کو پھر زندہ کر دیتا ہے۔ تَکشک دولت دے کر کشیپ کو واپس موڑ دیتا ہے، اور آخرکار پھل کے اندر کیڑے کی صورت اختیار کر کے راجا کو ڈس کر ہلاک کر دیتا ہے۔ پھر کشیپ کا اخلاقی بحران بیان ہوتا ہے۔ قدرت رکھنے کے باوجود لالچ کے سبب اس نے زہر زدہ شخص کی حفاظت نہ کی، اس لیے سماج اسے ملامت کرتا ہے؛ وہ رِشی شاکلیہ سے مشورہ لیتا ہے۔ شاکلیہ سخت دھارمک اصول بتاتے ہیں کہ جانتے بوجھتے لالچ میں جان بچانے والی مدد سے انکار کرنا مہاپاپ کے مانند ہے اور اس کے سماجی و ویدک نتائج بھگتنے پڑتے ہیں۔ کفّارہ کے طور پر وہ جنوبی سمندر کے سیتو-پراَنت میں، گھَنڈمادن سے وابستہ مقام پر واقع گایتری–سرسوتی تیرتھوں میں نِیَم کے ساتھ سنکلپ کر کے اسنان کی ہدایت دیتے ہیں۔ کشیپ اسنان کرتے ہی فوراً پاک ہو جاتا ہے؛ تب دیویاں گایتری اور سرسوتی پرکٹ ہو کر خود کو تیرتھ-نِواسنِی روپ بتاتی ہیں، ور دیتی ہیں اور وِدیا و وید-ماتا کے روپ میں کشیپ کی ستوتی قبول کرتی ہیں۔ آخر میں ان تیرتھوں کے اسنان اور مہِما-شروَن سے عظیم تطہیری پھل ملنے کی پھلشروتی بیان کی گئی ہے۔

ऋणमोचन–देवतीर्थ–सुग्रीव–नल–नीलादि तीर्थमाहात्म्य (Release from Debts and the Glories of Key Setu Tīrthas)
اس باب میں شری سوت جی رشیوں کے سامنے سیتو-پریش کے متعدد تیرتھوں کا وائبھو (جلال و اثر) بیان کرتے ہیں۔ سب سے پہلے ‘رِن موچن’ تیرتھ کا مہاتمیہ ہے، جہاں اشنان سے تین قرض—رِشی رِن، دیو رِن اور پِتر رِن—سے نجات بتائی گئی ہے۔ متن واضح کرتا ہے کہ برہماچریہ کے آداب کی عدم پابندی، یَجْیَہ کرموں کی کوتاہی، اور اولاد/آبائی تسلسل کو قائم نہ رکھنا ان قرضوں کا سبب بنتا ہے؛ رِن موچن میں اشنان ان ذمہ داریوں سے رہائی دیتا ہے۔ پھر پانڈوؤں سے منسوب ایک مہاتیرتھ کا ذکر آتا ہے، جہاں صبح و شام سمرن کو بھی بڑے تیرتھوں کے اشنان کے برابر کہا گیا ہے، اور ترپن، دان اور برہمن بھوجن کو عظیم پُنّیہ کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ اس کے بعد دیوتیرتھ/دیو کنڈ کا بیان ہے جسے نہایت نایاب رسائی والا کہا گیا ہے؛ وہاں اشنان کو بڑے ویدک یَجْیَہ کے برابر ثواب، گناہوں کی ہلاکت اور اعلیٰ لوکوں کی حصولیابی سے جوڑا گیا ہے۔ دو سے چھ دن قیام اور بار بار اشنان کو بھی نہایت مؤثر بتایا گیا۔ پھر سُگریو تیرتھ کا تذکرہ ہے—اشنان، سمرن، اُپواس، ابھیشیک اور ترپن سے سورَی لوک کی پرابتھی، سخت گناہوں کا پرایَشچِت اور بلند رسومی پھل حاصل ہوتے ہیں۔ نَل تیرتھ اور نیل تیرتھ پاکیزگی اور مہایَجْیَہ کے ہم پلہ پھل دینے والے ہیں؛ نیل کو اگنی پُتر اور بانی کہا گیا ہے۔ وانروں کے قائم کردہ کئی تیرتھوں کے سلسلے کے بعد آخر میں وبھیشن کے تیرتھوں کا مہاتمیہ آتا ہے جو دکھ، روگ، غربت، برے خواب اور نرک کے کلےش دور کر کے ویکنٹھ سمان ‘اناؤرتّی’ (عدمِ بازگشت) پد عطا کرتے ہیں۔ اختتام پر سیتو/گندھمادن بھومی کو رام چندر جی کے حکم سے دیوتاؤں، پِتروں، رشیوں وغیرہ کی نِتیہ نِواس بھومی بتایا گیا ہے، اور اس مہاتمیہ کے پاٹھ و شروَن سے دکھوں کی نِورتّی اور کیولیہ کی پرابتھی کی پھل شروتی سنائی گئی ہے۔

रामनाथ-महालिङ्ग-माहात्म्यम् (Glory of the Rāmanātha Mahāliṅga)
اس ادھیائے میں شری سوت رامناتھ/رامیشور مہالِنگ کی عظمت کو مربوط انداز میں بیان کرتے ہیں۔ آغاز میں پھل شروتی ہے کہ اس حکایت کے سننے سے انسان گناہوں سے چھوٹ جاتا ہے، اور رام کے قائم کردہ لِنگ کا ایک بار درشن بھی شِو-سایوجیہ (شِو کے ساتھ یگانگت) کی صورت میں موکش دینے والا بتایا گیا ہے۔ یُگ-حساب کے ذریعے کلی یُگ میں بھکتی کے رابطے کا پھل جلد اور کئی گنا بڑھ کر ملتا ہے—یہ بات خاص طور پر نمایاں کی گئی ہے۔ اس دھام کو اس طرح بتایا گیا ہے کہ یہاں سب تیرتھ، دیوتا، رشی اور پِتر (آباء) کی سَنِدھی موجود ہے۔ سمرن، ستوتی، پوجا اور نام کا محض اُچارَن بھی دکھ، خوف اور مرنے کے بعد کی سزا سے بچانے والا دھارمک اُپائے قرار دیا گیا ہے۔ درشن یا کیرتن سے بڑے بڑے پاپوں کے مٹنے کی طویل فہرست بھی پھل شروتی میں آتی ہے۔ پھر مہالِنگ کو مرکز بنا کر آٹھ طرح کی بھکتی بتائی گئی ہے—بھکتوں کی سیوا، خوشنودی کے ساتھ پوجا، ذاتی اُپاسنا، دیوتا کے لیے جسمانی محنت، مہاتمیہ کو توجہ سے سننا، بھکتی سے پیدا ہونے والی جسمانی کیفیت، لگاتار سمرن، اور لِنگ-پرائن روزگار—اور اسے ہر طبقے کے لیے قابلِ رسائی کہا گیا ہے۔ آخر میں مندر تعمیر اور دودھ، دہی، گھی، پنچگوَیہ، رس، خوشبودار پانی وغیرہ سے ابھیشیک، ویدک پاٹھ کے ساتھ، اور ان کے مطابق لوک/پھل بیان کر کے یہ نتیجہ دیا گیا ہے کہ مسلسل سیوا سے دنیاوی خوشحالی اور پرم موکش حاصل ہوتا ہے۔

रामेश्वरलिङ्गप्रतिष्ठा, कुबेरजलदर्शनविधि, तथा रामस्तोत्रफलश्रुति (Rāmeśvara Liṅga-Installation, Kubera’s Vision-Water Rite, and the Fruit of Rāma-Stotra)
اس باب میں سوت جی رشیوں کے سامنے کئی حصّوں پر مشتمل، دھرم تَتّو سے بھرپور رام کتھا بیان کرتے ہیں۔ رام سمندر کی حد تک پہنچ کر سیتو (پل) بناتے ہیں اور لنکا میں داخل ہوتے ہیں۔ وہاں بڑے راکشس سپہ سالاروں کے ساتھ سخت جنگیں ہوتی ہیں؛ ناگاستر سے بندھے رام اور لکشمن کو گرُڑ آزاد کرتا ہے، اور پھر ماتلی اور ایندرا کے رتھ کی دیوی مدد سے اندرجیت اور راون کا وध (ہلاکت) ہوتا ہے۔ اس کے بعد بیان وِدھی اور کرم کانڈ کی طرف مڑتا ہے—وبھیشن کُبیر کی بھیجی ہوئی منتر-پوت (مقدّس) آب دکھاتا ہے۔ اس آب کو آنکھوں پر لگانے سے اَنتَرحِت (چھپے ہوئے) جیو دکھائی دینے لگتے ہیں اور جنگ میں نظر کی صفائی اور حکمتِ عملی کی وضاحت حاصل ہوتی ہے۔ فتح کے بعد دندکارنیہ سے اگستیہ پرمکھ مُنی آ کر طویل رام-ستوتر پڑھتے ہیں؛ اس کی پھل شروتی حفاظت اور پاکیزگی کے ثمرات بتاتی ہے۔ آخر میں راون وध سے باقی رہ جانے والے پاپ کے بارے میں رام سوال کرتے ہیں؛ مُنی لوک سنگرہ کے لیے گندھمادن پر شِو ارچنا اور لِنگ پرتِشٹھا کا وِدھان دیتے ہیں۔ ہنومان کیلاش سے لِنگ لا کر “رامیشور” کی پرتِشٹھا و پوجا کراتے ہیں، اور اس کے درشن و سیوا کا عظیم پُنّیہ بیان کیا گیا ہے۔

हनूमद्विषाद-रामोपदेशः (Hanumān’s Distress and Rāma’s Instruction at Setu)
اس باب میں سیتو پر لِنگ کی پرتیِشٹھا کے وقت ایک گہرا دینی و اخلاقی مکالمہ بیان ہوتا ہے۔ ہنومان تپسیا کے ذریعے شیو کی کرپا پا کر کیلاش سے شُبھ لِنگ تیزی سے لاتے ہیں، مگر دیکھتے ہیں کہ رام رِشیوں اور دیوتاؤں کی گواہی میں سیتا کے بنائے ہوئے ریت کے لِنگ (سَیکت لِنگ) کی پہلے ہی پرتیِشٹھا اور پوجا کر رہے ہیں۔ اسے اپنی سیوا کی ناقدری سمجھ کر ہنومان غم، خود ملامتی اور غصہ ظاہر کرتے ہیں اور یہاں تک کہ جسم چھوڑ دینے کا خیال بھی کرتے ہیں۔ رام انہیں سنبھالتے ہوئے اُپدیش دیتے ہیں کہ آتما کرم سے پیدا ہونے والے جنم-مرن کے بہاؤ سے جدا ہے؛ تین شریروں سے پرے نِرگُن، اَدویت آتما-تتّو کا دھیان کرو۔ سچائی، اہنسا، اندریوں کا ضبط، دوسروں کی خطا جوئی سے پرہیز اور نِتّیہ دیوتا پوجن جیسے آچار بتاتے ہیں؛ جسمانی لذت کے فریب کو ناپاکی اور ناپائیداری کے خیال سے توڑ کر ویراغیہ پیدا کرتے ہیں۔ پھر رام وقت کی پابندی کا سبب بتا کر سیتا کے ریت-لِنگ کی پرتیِشٹھا کی ضرورت سمجھاتے ہیں اور ہنومان کے لائے ہوئے کیلاش-لِنگ کی بھی پرتیِشٹھا کا وعدہ کرتے ہیں۔ ہنومدیِشور اور راغویِشور کے درشن کا ربط اور تیرتھ-فل کی منطق بیان ہوتی ہے؛ کئی لِنگوں کے ذکر کے بعد شیو کے “ایکادش روپ” کی نِتّیہ سنّیدھی کہی جاتی ہے۔ آخر میں ہنومان ریت کے لِنگ کو اکھاڑنے کی کوشش کرتے ہیں مگر ناکام رہتے ہیں، سخت مشقت سے خون بہہ کر گر پڑتے ہیں؛ تب رام، لکشمن، سیتا اور وانر کرُونا سے ان کے پاس آتے ہیں۔

Hanūmat-stuti, Hanūmat-kuṇḍa-māhātmya, and Setu-liṅga Context (हनूमत्स्तुति-हनूमत्कुण्डमाहात्म्य-सेतुलिङ्गप्रसङ्गः)
اس ادھیائے میں تین باہم مربوط حصے بیان ہوتے ہیں۔ پہلے حصے میں بے ہوش ہنومان کو دیکھ کر شری رام لَنکا-مہم میں اس کی خدمت کے کارنامے یاد کرتے ہیں—سمندر پار کرنا، مَیناک اور سُرسا سے ملاقات، سایہ پکڑنے والی راکشسی کو زیر کرنا، لَنکا میں داخلہ، سیتا کی تلاش، چوڑامَنی حاصل کرنا، اشوک واٹیکا کو تہس نہس کرنا، راکشسوں اور سرداروں سے جنگ، اور پھر واپسی۔ رام کا نوحہ اخلاقی اعلان بن جاتا ہے کہ بھکت کے بغیر راج، رشتہ داری، حتیٰ کہ جان بھی بے معنی ہے؛ بھکتی کو خطرات کا سامنا کرنے والی مجسم وفاداری کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ دوسرے حصے میں ہنومان ہوش میں آ کر رام کی باقاعدہ ستوتی کرتا ہے، انہیں ہری/وشنو اور نرسمہ، وراہ، وامن وغیرہ متعدد اوتار روپوں میں سراہتا ہے۔ پھر سیتا کی مدح شری/لکشمی، پرکرتی، ودیا اور کرونامئی مادرانہ شکتی کے طور پر کرتا ہے۔ اس ستوتر کو پاپ-ناشک کہا گیا ہے اور اس کے پاٹھ سے دنیاوی کامیابی اور آخرکار موکش/نجات کا پھل بتایا گیا ہے۔ تیسرے حصے میں استھان-ماہاتمیہ آتا ہے: رام بتاتے ہیں کہ لِنگ کے بارے میں کیا گیا اَتِکرم بڑے دیوتا بھی نہیں مٹا سکتے؛ جہاں ہنومان گرا وہاں “ہنومت کنڈ” کا نام و کیرتی قائم کی جاتی ہے۔ وہاں اسنان کو بڑی ندیوں کے تیرتھوں سے بھی برتر پھل دینے والا کہا گیا ہے، اور کنارے پر شرادھ و تِلودک دینے سے پِتروں کو خاص فائدہ بتایا گیا ہے۔ آخر میں سیتو کے نزدیک پرتِشٹھا کا ذکر اور پاٹھ/شروَن سے پاکیزگی اور شِو لوک میں عزت پانے کی پھل شروتی بیان ہوتی ہے۔

Rāvaṇa-vadha-hetukā Brahmahatyā-śāntiḥ — Rāmeśvara-liṅga-pratiṣṭhā ca (Chapter 47)
باب کے آغاز میں رِشی سوتا سے پوچھتے ہیں کہ راون تو عموماً راکشس سمجھا جاتا ہے، پھر اس کے وध کے بعد راغھو (رام) پر برہمن-ہتیا کا دَوش کیسے آیا؟ سوتا پُلستیہ کی نسل بیان کرتا ہے: برہما سے پیدا پُلستیہ کے پتر وشروَس؛ وشروَس کا راکشس سُمالی کی بیٹی کَیکسی سے سنجوگ ہوا، جن سے راون (دشگریو)، کُمبھکرن، وبھیشن اور شورپنکھا پیدا ہوئے۔ اَشُبھ سندھیا کے وقت آئی کَیکسی سے وشروَس نے کہا کہ پتر اُگْر راکشس ہوں گے، مگر آخری وبھیشن دھارمک اور شاستر-گیانی ہوگا۔ پھر یہ بات قائم کی جاتی ہے کہ وشروَس اور پُلستیہ کے سبب راون اور کُمبھکرن کا برہمنی نسب سے رشتہ ہے؛ اسی لیے ان کے وध سے رام پر برہمن-ہتیا کے مانند آلودگی آتی ہے۔ اس کی شانتی کے لیے رام ویدک وِدھی کے مطابق رامیشور (رامناتھ) لِنگ کی پرتِشٹھا کرتے ہیں اور برہمن-ہتیا وِموچن والا تیرتھ قائم ہوتا ہے۔ اس کھیتر میں آدتیہ، سوم، اگنی، یم، ورُن، وایو، کُبیر وغیرہ دیوتاؤں اور وِنایک، کُمار، ویر بھدر اور شِو گنوں کی سمت وار موجودگی کا ذکر ہے۔ ایک شدید برہمن-ہتیا کو زیرِ زمین غار میں قید کیا جاتا ہے تاکہ وہ اوپر نہ اٹھ سکے، اور حفاظت کے لیے بھَیرو کو نگہبان کے طور پر نصب کیا جاتا ہے۔ آخر میں رام برہمن رِتوِج مقرر کرتے ہیں اور گاؤں، دولت، زیورات، کپڑے وغیرہ دان دے کر نِتیہ پوجا جاری رکھتے ہیں۔ پھل شروتی کے مطابق اس باب کا پڑھنا/سننا گناہوں کو مٹاتا ہے اور ہری کے ساتھ سایوجیہ عطا کرتا ہے۔

अध्याय ४८: रामनाथसेवा-माहात्म्यं तथा ब्रह्महत्या-प्रायश्चित्तोपदेशः (Chapter 48: The Glory of Service to Rāmanātha and Instruction on Expiation for Major Transgressions)
سوت جی رشیوں کو پانڈیا راجہ شنکر کی کہانی سناتے ہیں، جو ویدوں کا عالم تھا لیکن شکار کے دوران اس نے نادانستہ طور پر ایک منی اور اس کی بیوی کو قتل کر دیا۔ اس برہم ہتیا اور استری ہتیا کے سنگین گناہ کے بعد، منی کے بیٹے جانگل نے رشیوں کے مشورے پر اپنے والدین کی استھیاں رام سیتو کے قریب رام ناتھ کے مقام پر وسرجن کیں اور شرادھ کی رسومات ادا کیں، جس سے انہیں وشنو لوک حاصل ہوا۔ راجہ کو اس گناہ کے کفارے کے طور پر خود سوزی کا حکم دیا گیا، لیکن ایک غیبی آواز نے اسے روکا اور رام ناتھ (بھگوان رام کے قائم کردہ لنگ) کی ایک سال تک مسلسل عبادت کا طریقہ بتایا۔ راجہ نے عقیدت کے ساتھ ابھیشیک، پریکرما اور پوجا کی، جس سے اس کے تمام گناہ دھل گئے اور اس نے دوبارہ اپنی سلطنت حاصل کر کے خوشحالی کے ساتھ حکومت کی۔

स्तोत्राध्यायः — Rāmanātha (Rāmeśvara) Stotra and Phalaśruti
سوت ایک “مہاپُنّیہ” ستوتر-ادھیائے کا تعارف کراتے ہیں، جس کا مرکز رام ناتھ (رامیشور) کے پرتِشٹھت لِنگ پر شیو کی ستوتی ہے۔ رام، لکشمن، سیتا، سُگریو اور دیگر وانر، پھر دیوتا اور رِشی باری باری حمدیہ کلمات پیش کرتے ہیں؛ شیو کو شُولِن، گنگا دھر، اُماپتی، تریپورگھن جیسے بھکتی بھرے القاب سے اور ساکشی، ست-چت-آنند، نِرلِیپ، اَدویہ جیسے تَتّوی اوصاف سے بیان کرتے ہیں۔ لکشمن جنم جنم تک اٹل بھکتی، ویدک آچارن کی پابندی اور “اَسَت مارگ” سے بچنے کی دعا کرتے ہیں۔ سیتا پتی ورتا دھرم کی حفاظت اور پاک نیت کی التجا کرتی ہیں۔ سُگریو، وبھیشن اور وانر سماج سنسار کو خوف، بیماری، غصہ، لالچ اور موہ سے بھرے سمندر/جنگل کی مانند بتا کر نجات مانگتے ہیں؛ دیو-رِشی کہتے ہیں کہ بھکتی کے بغیر کرم کانڈ، شاستر-گیان اور تپسیا بے ثمر ہیں، جبکہ ایک بار درشن/سپرس/نمَسکار بھی زندگی بدل دینے والا ہے۔ شیو ستوتر کی تحسین کر کے پھل شروتی بیان کرتے ہیں: اس کی تلاوت یا سماعت سے پوجا کا پھل اور عظیم پُنّیہ ملتا ہے، جو نادر تیرتھ سیوا اور رام سیتو میں قیام کے برابر سمجھا گیا ہے۔ مسلسل کیرتن سے بڑھاپے اور موت کا بندھن کٹتا ہے اور آخرکار رام ناتھ کے ساتھ سایوجیہ مُکتی حاصل ہوتی ہے۔

सेतुमाधववैभवम् (The Glory of Setumādhava and the Test of Royal Devotion)
سوتا بیان کرتے ہیں کہ متھرا کے سَوْمَوَںشی راجا پُنْیَنِدھی (گُنَنِدھی) تِیرتھ یاترا کے لیے رام سیتو پہنچے۔ انہوں نے دھنُشکوٹی میں اسنان کیا، رام ناتھ کی پوجا کی اور ودھی کے مطابق ورت، کرم اور دان کیے؛ تولاپورُش طرز کا مہادان بھی کیا۔ وہاں آٹھ برس کی ایک یتیم لڑکی نے سخت شرطوں کے ساتھ گود لینے اور حفاظت کی درخواست کی؛ راجا اور رانی وِندھیاوَلی نے اسے بیٹی کے طور پر قبول کیا۔ پھر دیوی لکشمی نے کھیل کے سے جھگڑے کے بہانے راجا کی بھکتی کی آزمائش رکھی اور وِشنو برہمن تپسوی کے بھیس میں آئے۔ جب بھیس دھاری وِشنو نے لڑکی کا ہاتھ زبردستی پکڑ کر لے جانا چاہا تو وہ رو پڑی؛ راجا نے اپنی حفاظت کی پرتِگیا نبھاتے ہوئے اس ‘برہمن’ کو باندھ کر رام ناتھ کے احاطے میں قید کر دیا۔ رات کو خواب میں حقیقت کھلی—قیدی شَنکھ، چکر، گدا، پدم اور مالا سے آراستہ وِشنو ہیں اور لڑکی مہالکشمی۔ صبح راجا نے پہچان کر ستوتر پڑھ کر پوجا کی اور باندھنے کے قصور پر معافی مانگی۔ وِشنو نے فرمایا کہ یہ عمل مجھے پسند آیا کیونکہ اس سے پرتِگیا کی پاسداری اور بھکتی ثابت ہوئی؛ لکشمی نے پائیدار راج، چرنوں میں اٹل بھکتی اور دوبارہ جنم کے بغیر موکش کے ور دیے۔ آخر میں اعلان ہے کہ بھگوان سیتو پر ‘سیتو مادھو’ روپ میں وِراجیں گے، سیتو برہما اور شنکر/رام ناتھ کی حفاظت میں ہے، اور اس ادھیائے کا شروَن-پاٹھ ویکنٹھ گتی عطا کرتا ہے۔

सेतुयात्राक्रमः (Setu-yātrā-kramaḥ) — The Prescribed Order of the Setu Pilgrimage
اس ادھیائے میں سوت جی دْوِجوں کے لیے سیتو-یاترا کا دھارمک اور باقاعدہ طریقۂ کار بیان کرتے ہیں۔ اسنان، آچمن، نِتیہ-ودھی اور شَौچ آچار پورا کرکے رام ناتھ/راغھو کے حضور بھکتی-سنکلپ کرنا، اور وید-دان برہمنوں کو ترپت کرکے بھوجن دان دینا اہم کرتویہ بتایا گیا ہے۔ یاتری بھسم-ترپُنڈْر یا اُردھْو پُنڈْر، رودراکْش دھارن کرے؛ تپسیا اور وانی-سَیَم رکھے؛ اشٹاکشر اور پنچاکشر منتروں کا نِیَت جپ کرے اور عیش و عشرت و بےجا مشاغل سے بچے۔ راستے میں سیتو-ماہاتمیہ، رامائن یا دیگر پرانوں کا پاٹھ/شروَن، دان، اَتِتھی-ستکار اور دھرم آچرن مسلسل رکھنے کی ہدایت ہے۔ سمندر کے کنارے ایک خاص رسم بیان ہوئی ہے: پاشان دان (ایک یا سات پتھر ارپن) کے بعد آواہن، نمسکار، اَرگھْی دے کر اسنان کی اجازت مانگنا؛ ہر مرحلے کے لیے منتر مقرر ہیں۔ پھر منتر اُچارَن کے ساتھ اسنان کرکے رِشیوں، دیوتاؤں، وانر-سہایوں اور پِتروں کے نام لے کر ترپن کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد شرادھ کا کرم—یَتھاشکتی سادہ یا شَڈرَس سے بھرپور وسیع، اور گاؤ، بھومی، تِل، ہِرَنیہ وغیرہ دانوں سمیت۔ آگے تیرتھ-پریکرمہ—چکرتیرتھ، کپیتیرتھ، سیتاکُنڈ، رِنموچن، لکشمن تیرتھ، رام تیرتھ، ہنومت کُنڈ، برہما کُنڈ، ناگ کُنڈ، اگستیہ کُنڈ، اگنی تیرتھ—کرکے رامیشور اور سیتو مادھو کی پوجا و دان، پھر سَیَم کے ساتھ گھر واپسی اور سَموہی بھوجن/اَنّ دان کا حکم ہے۔ آخر کی پھل شروتی کے مطابق سیتو-یاترا-کرم اور سیتو-ماہاتمیہ کا شروَن/پاٹھ بھی پاکیزگی اور دکھوں کی نِوِرتّی دیتا ہے، حتیٰ کہ اُن کے لیے بھی جو خود یاترا نہیں کر سکتے۔

धनुष्कोटिमाहात्म्य (Dhanuṣkoṭi Māhātmya) — Ritual Merit of Snāna, Dāna, and Setu-Observances
اس باب میں سوت جی رشیوں کو دھنُشکوٹی (رام سیتو) کا ماہاتمیہ سناتے ہیں۔ اسے اعلیٰ ترین پُنّیہ-کشیتر قرار دے کر کہا گیا ہے کہ یہاں جپ، ہوم، تپسیا اور دان اَکشَی (ناقابلِ زوال) پھل دیتے ہیں، اور دیگر مشہور تیرتھوں میں طویل قیام یا اسنان کے برابر پُنّیہ یہاں آسانی سے حاصل ہوتا ہے۔ ماگھ ماہ کے اسنان، سورج/چندر گرہن کے مواقع، اور اَردھودَی–مہودَی جیسے یوگوں میں اسنان-دان وغیرہ کا پھل خاص طور پر بڑھتا ہے؛ پاپ-کشَی، سوَرگ پرابتھی، اور ویشنو/شیو گتیاں—سالوکْی، سامیپْی، سارُوپْی، سایُجْی—کی پھل شروتی بھی بیان ہوئی ہے۔ دان کے باب میں اخلاقی ضابطہ سختی سے رکھا گیا ہے کہ دان صرف سَتپاتر کو دیا جائے؛ پُنّیہ-ستھان میں کُپاتر کو دیا گیا دان آتمک ہانی کا سبب بتایا گیا ہے۔ وسِشٹھ–دِلیپ سمباد میں ستپاتر کی نشانیاں—وید آچار، نِتیہ کرم کی پابندی، اور فقر میں بھی شیل و پاکیزگی—متعین کی گئی ہیں؛ اور اگر لائق پاتر نہ ملے تو سنکلپ کر کے جل-ارپن کے طور پر علامتی دان کی ترکیب بھی بتائی گئی ہے۔ آخر میں سیتو کو دیویہ حفاظت میں بتایا گیا ہے—وشنو ‘سیتومادھو’ کے روپ میں، دیوتا، رشی اور دیگر ہستیاں حاضر—اور مٹھ/مندِر یا مقدس کناروں پر سیتو کا سمرن، پاتھ اور شروَن کرنے والوں کے لیے عظیم پھل کی تصدیق کے ساتھ باب ختم ہوتا ہے۔
It elevates Setu (the bridge-site) as a sanctified liminal geography where epic action becomes ritual memory, and where contact with designated tīrthas is framed as ethically transformative.
The section repeatedly associates Setu-related bathing and visitation with purification from transgressions (pāpa-kṣaya) and the accrual of merit through regulated acts such as snāna, recitation, and attentive listening.
The central legend is the Setubandha episode: Rāma’s alliance with the vānaras, the ocean’s propitiation, Nāla’s bridge-building, and the subsequent sanctification of multiple tīrthas along the Setu corridor.