मार्कण्डेयपुराण
The Purana of Sage Markandeya
Home of the sacred Devi Mahatmya — the supreme glorification of the Goddess. Encompassing Shakti theology, Manvantara cosmology, and the eternal triumph of dharma over adharma.
Start ReadingThe Markandeya Purana is one of the eighteen Mahapuranas, narrated by the ancient sage Markandeya to his disciple Kraustuki. Among all the Puranas, it holds a unique distinction as the home of the Devi Mahatmya (also known as Durga Saptashati or Chandi), the foundational text of Shakta philosophy and Goddess worship. The Purana weaves together cosmology, dharmic instruction, the Manvantara cycles, and the supreme glory of the Divine Feminine.
The Markandeya Purana is structured into 91 Adhyayas (chapters), with the celebrated Devi Mahatmya spanning chapters 81-93.
91 chapters covering cosmology, dharma, and Devi worship
Verses read one by one
This edition of the Markandeya Purana on Vedapath includes:
The Markandeya Purana spans 91 Adhyayas.
Each Adhyaya explores cosmology, dharma, or the glory of the Goddess.

Invocatory Introduction
اس پُران کے آغاز میں منگل آچرن کیا جاتا ہے۔ نارائن، وانی دیوی سرسوتی اور وید ویاس کو عقیدت سے نمسکار کر کے، سامعین کی بھلائی اور گرنتھ کی بے رکاوٹ تکمیل کے لیے دعا کی جاتی ہے۔

Jaimini's Questions
اس پہلے ادھیائے میں مُنی جَیمِنی مہابھارت کی کہانیوں میں دھرم اور اَدھرم کے پھلوں کی تقسیم کی عجیب صورت دیکھ کر شبہ میں پڑتے ہیں اور ویاس کے شِشْی سے سوال کرتے ہیں۔ جواب میں پکشیوپاکھیان کا آغاز ہوتا ہے، جہاں الٰہی فہم رکھنے والے دھرم نِشٹھ پرندوں کی پیدائش اور ان کے بیان کردہ دھرمارتھ اُپدیش کی جھلک ملتی ہے۔

The Wise Birds
اس ادھیائے میں سپرن وंश کی روایت بیان ہوتی ہے۔ گرڑ کی نسب نامہ کے ساتھ دھرم اُپدیش کا بیان آتا ہے اور دانا پرندوں کنک اور کندھر کی پیدائش کی کہانی سنائی جاتی ہے، جو دھرم کے راستے کی رہنمائی کرتی ہے۔

Birth of the Birds
اس باب میں دھرم پکشियों کے پچھلے جنم کی بددعا (شاپ) اور اس کے اسباب بیان ہوتے ہیں۔ سچ کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے اندر ان کی راست گوئی کی آزمائش کرتا ہے، مگر وہ دھرم اور ستیہ سے نہیں ڈگمگاتے۔ شاپ کے پھل کو بھگت کر بھی وہ دھرم کے راستے پر قائم رہتے ہیں اور آخرکار دیوی/دیوتاؤں کی کرپا اور سچ کی جیت کا پیغام نمایاں ہوتا ہے۔

Draupadi and Her Husbands
اس ادھیائے میں جَیمِنی وِندھیا گِری کی غاروں میں داخل ہو کر دھرم پکشियों سے ملاقات کرتا ہے۔ مہابھارت کے واقعات کے بارے میں اس کے دل میں چار بڑے شکوک پیدا ہوتے ہیں—دھرم کا فیصلہ، جنگ کا نتیجہ، کرداروں کی تقدیر، اور نارائن تتّو کا گہرا راز۔ وہ ادب سے سوالات پیش کرتا ہے۔ دھرم پکشی شاستری دلیل اور بھکتی بھاو سے جواب دینا شروع کرتے ہیں اور نارائن اُپدیش کی تمہید باندھتے ہیں، جس سے جَیمِنی کی عقیدت اور جستجو مضبوط ہوتی ہے۔

Balarama's Pilgrimage
اس ادھیائے میں اندَر کے ہاتھوں تواشٹا کے پُتر کے وध سے تواشٹا غضبناک ہو کر مہایَجْن کرتا ہے اور اسی سے ورتراسُر کی پیدائش ہوتی ہے۔ ورترا کے تَیج سے دیوتا خوف زدہ ہو کر اندَر کے ساتھ تدبیر ڈھونڈتے ہیں۔ آخر میں دھرم کی स्थापना کے لیے دیو اَمش سے پاندَووں کے بھومی پر اوتار کا اشارہ ملتا ہے۔

Vasu's Story
اس ادھیائے میں بلرام کے دل میں دھرم کا تذبذب پیدا ہوتا ہے۔ وہ تیرتھ یاترا کا آغاز کرکے ریوَتا کے باغ میں داخل ہوتے ہیں اور مے نوشی کے اثر سے مضطرب ہو کر بھٹکتے ہیں۔ وہاں سوت سے ان کا جھگڑا ہوتا ہے؛ ادھرم اور گستاخی دیکھ کر بلرام غضب میں سوت کو قتل کرکے دھرم کی مر्यادا قائم کرتے ہیں۔

Fall of Vasu
اس باب میں وشوامتر کی آزمائش کے لیے سچّے ورت والے ہریش چندر اپنا راجیہ دان کر کے شاہی سکھ ترک کرتے ہیں اور دھرم کے راستے پر ثابت قدم رہتے ہیں۔ دان کے بعد آنے والی تکلیف، فقر و فاقہ اور دل کی کربناکی بیان ہوتی ہے، نیز پانڈوؤں کے شاپ کی پس منظر کہانی بھی آتی ہے؛ ستیہ اور دھرم کی مہिमा نمایاں ہوتی ہے۔

Vasu's Redemption
اس باب میں ہریش چندر کی سچائی کی سخت آزمائش بیان ہوتی ہے۔ وشوامتر کے کڑے اصرار اور الٰہی امتحان کے سبب وہ راج و دولت ترک کر کے دان کی پرتیجیا نبھاتے ہوئے سب کچھ کھو دیتا ہے۔ قرض چکانے کے لیے اسے بیوی اور بیٹے کو بیچنا پڑتا ہے، اور خود چنڈال کے ماتحت شمشان میں بندھوا خدمت و قید کی حالت اختیار کرتا ہے۔ شدید غم و رسوائی کے باوجود وہ ستیہ اور دھرم سے نہیں ہٹتا؛ کرُونا اور ثابت قدمی نمایاں ہوتی ہے۔

Lineage of Manus
اس ادھیائے میں وِسِشٹھ اور وِشوامِتر کے باہمی شاپ (لعنت) کا بیان ہے۔ شاپ کے اثر سے آڈی اور بَک کے درمیان ہولناک جنگ چھڑتی ہے، جس سے جہان میں خوف اور اضطراب پھیل جاتا ہے۔ آخرکار برہما ظاہر ہو کر دونوں کے غضب کو فرو کرتے ہیں، دھرم کی حدیں یاد دلاتے ہیں اور عداوت کے خاتمے کے ساتھ امن قائم کرتے ہیں۔

Svayambhuva Manvantara
اس باب میں جَیمِنی رحم میں پیدائش، جسم کے اختیار کرنے کی وجہ، موت کے وقت پران کا نکلنا اور موت کے بعد جیو کی گتی کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ کرم پھل کے مطابق سکھ دُکھ کا بھوگ، یم مارگ، پِتر لوک وغیرہ کی رسائی اور پُنرجنم کے سلسلے کو مختصر مگر بامعنی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

Svarochisha Manvantara
اس باب میں بیٹا حمل کے بننے کی ترتیب، ماں کے رحم میں جیو کے کرب، اور ولادت کے وقت کے دکھ کا بیان کرتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ کرم کے مطابق جسم کی प्राप्तی، حواس کی نشوونما اور یادداشت و فراموشی کے اسباب ہوتے ہیں، اور جیو سنسار کے چکر میں بار بار جنم اور مرن بھوگتا رہتا ہے۔ آخر میں ویرागیہ، دھرم اور آتما-چنتن کو موکش کا راستہ کہا گیا ہے۔

Auttami and Tamasa
اس بارہویں ادھیائے میں بیٹا باپ کو نرکوں کی ہولناک کیفیت بیان کرتا ہے۔ مہارَورَو، تَمَس، نِکِرِنتَن، اَپرَتِشٹھ، اَسِیپَترَوَن اور تَپت کُمبھ—ان نرکوں میں گنہگار اپنے کرموں کے مطابق سخت عذاب بھگتتے ہیں۔ اس بیان کا مقصد دھرم کی راہ اختیار کرنے اور پاپ سے بچنے کی ترغیب دینا ہے۔

Raivata and Chakshusha
اس باب میں بیٹا باپ کو جہنم (نرک) کی ہولناک سزاؤں کا بیان سناتا ہے۔ یم دوت گناہگاروں کو لے جاتے ہیں اور وہ اپنے اپنے کرم کے پھل کے مطابق مختلف نرکوں میں سخت عذاب بھگتتے ہیں۔ نیز ‘ادِرِشٹ پاپ’ یعنی انجانے یا پوشیدہ گناہ کیسے اثر دکھاتے ہیں، اور دھرم، دان اور پرایشچت کے ذریعے ان کا ازالہ کیسے ہوتا ہے—یہ بات سوال و جواب کی صورت میں واضح کی جاتی ہے۔

Vaivasvata Manvantara
اس باب میں یم کے قاصد (یَم دوت) کرم وِپاک کی حقیقت بیان کرتے ہیں۔ وہ سمجھاتے ہیں کہ گناہ و ثواب کے مطابق انجام کیسے مقرر ہوتا ہے، کن خطاؤں سے نرک کی اذیتیں ملتی ہیں، اور جرم کے مطابق سزا کیسے طے ہوتی ہے۔ بیان سے خوف، ندامت اور راہِ دھرم کی بیداری پیدا ہوتی ہے۔

Future Manvantaras
اس ادھیائے میں یم کے کِنکرَوں کے مکالمے کے ذریعے بتایا گیا ہے کہ نارک کے عذاب کے بعد جیو اپنے اپنے کرم پھل کے مطابق دوبارہ جنم لیتے ہیں۔ پاپ کرم کی سخت سزا، پُنّیہ سے تخفیف اور دھرم کے اٹل قانون کا بیان ہے۔ جہنم میں مبتلا مخلوق کو دیکھ کر راجہ کے دل میں کرُونا جاگتی ہے؛ دَیا، پشیمانی اور دھرم بُدھی کے جذبات نمایاں ہوتے ہیں۔

Surya's Dynasty
اس باب میں باپ بیٹے کے مکالمے کے ذریعے ویرागیہ اور سنیاس کے اصول بیان کیے گئے ہیں۔ انسویا–مانڈویہ کے واقعے میں بتایا جاتا ہے کہ پتی ورتا دھرم میں ثابت قدم انسویا کی روحانی قوت سے سورج کا طلوع گویا معطل ہو جاتا ہے اور عالم کا نظام متزلزل ہوتا ہے۔ پھر دیوتا اور رشی آ کر دھرم کی حدیں قائم کرتے ہیں اور مانڈویہ کے قصے کے ساتھ سچائی، تپسیا، کرُونا اور پتی ورتا شکتی کی عظمت ظاہر کرتے ہیں۔

Harishchandra
اس ادھیائے میں مہارشی اَتری کے تپسیا کی عظمت اور انسویا کے پتی ورت دھرم کی قوت بیان ہوتی ہے۔ تریدیو—برہما، وشنو اور رودر—ان کی آزمائش کرکے خوش ہوتے ہیں اور ور دیتے ہیں۔ اسی پرساد سے اَتری کے تین پتر پیدا ہوتے ہیں: چندر روپ سوم، وشنو اَمش دتاتریہ، اور رودر اَمش درواسا۔ ان کی پیدائش کا سبب، دیوی کرپا اور لوک کلیان کے لیے ان کے مزاج و اعمال کا مختصر مگر جامع ذکر ملتا ہے۔

Alarka's Story
اس ادھیائے میں ارجن تخت و تاج قبول کرنے سے انکار کرکے ویراغیہ ظاہر کرتا ہے۔ گرگ مُنی اسے دتاتریہ کی شَرَن میں جا کر آراڌنا کرنے کی ہدایت دیتے ہیں۔ دتاتریہ کے دیویہ درشن سے دیوتا لکشمی کے مقام اور اس کی حرکت کا بھید جانتے ہیں، اسی کے مطابق تدبیر کرکے دیتیوں کو شکست دیتے اور دھرم کی स्थापना کرتے ہیں۔

Dama's Teaching
اس باب میں کارتویریہ ارجن دتاتریہ کے آشرم میں حاضر ہو کر عقیدت سے ستوتی کرتا ہے۔ دتاتریہ خوش ہو کر اسے کئی ور عطا کرتے ہیں—ناقابلِ شکست قوت، دراز عمر، دولت و اقتدار، زورِ بازو اور سلطنت کی خوشحالی۔ ساتھ ہی ویشنو ستوتی، بھگوان کی مہिमा اور دھرم کے مطابق حکمرانی کا مثالی بیان بھی آتا ہے۔

Duties of Life Stages
اس ادھیائے میں رِتَدھوج ناگ لوک میں جا کر ناگ کماروں سے دوستی قائم کرتا ہے اور دھرم کے مطابق محبت و اخوت بڑھتی ہے۔ ان کے مکالمے سے باہمی مدد اور اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔ پھر کُبھلَیَ نامی دیویہ اشوَرَتن کی پیدائش کی کہانی، اس کی شان و صفات اور اسے پانے کی ودھی بیان ہوتی ہے؛ یہ گھوڑا مصیبت میں حفاظت، فتح اور ناموری عطا کرتا ہے۔

Householder's Dharma
اس باب میں مدالسا کے اغوا کی خبر سن کر کوولیاشوا غم و غضب کے ساتھ پاتال لوک میں اترتا ہے۔ وہاں دیوؤں اور راکشسوں سے جنگ کر کے وہ اغوا کو ناکام بناتا ہے، مدالسا کو بحفاظت رہائی دلاتا ہے اور دھرم کی حفاظت کرتے ہوئے فتح کے ساتھ واپس آ کر رعایا کو تسلی دیتا ہے۔

Dharma of Giving
اس ادھیائے میں دَیتّیوں کے فریب سے راجا کوولَیَاشو کا وध ہوتا ہے۔ شوہر کی موت کی خبر سن کر پتی ورتا مدالسا شدید غم میں ستی ہو کر چتا میں داخل ہوتی ہے، دےہ تیاگ کر کے پتی لوک کو پاتی ہے؛ اس قصے میں کرُونا رس اور دھرم بھاو نمایاں ہیں۔

The Brahmin and His Wife
مدالسا کو پانے کی خواہش میں اشوتار سخت تپسیا کرتا ہے۔ وہ عقیدت سے دیوی سرسوتی کی ستوتی کرتا ہے۔ دیوی خوش ہو کر اسے ور دیتی ہیں—مدالسا کی پرابتھی اور گیت، وادّیہ، نرتیہ سمیت سنگیت شاستر کا الٰہی گیان۔ ور پا کر وہ مطمئن ہو کر دھرم مارگ پر قائم رہتا ہے۔

The Fowler's Discourse
اس ادھیائے میں کُوولَیَاشوَ اُپاخیان کے تحت راجا کُوولَیَاشوَ دان، تحفوں اور تعریف کی لالچ کو ٹھکرا کر نِشکام راج دھرم اور ویراغیہ کی مثال قائم کرتا ہے۔ پھر مدالسا اپنی مایا کا درشن کرا کے دنیا کی ناپائیداری، موضوعی رغبت کی بندش اور آتما گیان کی عظمت ظاہر کرتی ہے۔ اس مایادर्शन سے راجا کا وِویک مضبوط ہوتا ہے اور وہ شانتی، دھیرج اور دھرم نِشٹھا میں زیادہ ثابت قدم ہو جاتا ہے۔

Madalasa's Teaching I
اس باب میں مدالسا گھر واپس آ کر راجا کے ساتھ دھرم کے مطابق ریاستی نظم و نسق پر گفتگو کرتی ہے۔ جانشینی کے سلسلے میں بیٹوں کی فطرت اور اہلیت کے مطابق سلطنت کی ذمہ داری طے کی جاتی ہے۔ پھر وہ وکرانت کو پہلی تعلیم دیتی ہے—آتما گیان، ویراغیہ اور راج دھرم میں فرض شناسی، تاکہ وہ حکومت کرتے ہوئے بھی موکش کے راستے کو نہ بھولے۔

Madalasa's Teaching II
اس باب میں مدالسا اپنے چوتھے بیٹے کا نام رکھتی ہے اور اسے ‘الَرک’ کہہ کر پکارتی ہے۔ وہ اسے کشتریہ دھرم کی طرف متوجہ کرتی ہے—راجیہ کی حفاظت، پرجا کی پرورش، دَند نیتی، شجاعت اور دھرم کے مطابق راجکاج کی تعلیم دیتی ہے۔ ویراغیہ کا بھاؤ رکھتے ہوئے بھی فرضی عمل سے نہ ہٹنا اور دھرم کے لیے پرाकرم کرنا—یہ عزم الَرک کے دل میں پختہ ہو جاتا ہے۔

Madalasa's Teaching III
اس باب میں مدالسا بادشاہ الارک کو راج دھرم کی تعلیم دیتی ہیں۔ وہ خود پر قابو، حواس کی ضبط، سچ اور دھرم کی پاسداری، عدل پر مبنی دَند نیتی، اہل وزیروں کا انتخاب، رعایا کی نگہبانی، محصول و خراج کی درست ترتیب، دوست و دشمن کی پہچان اور ریاست کے استحکام کے لیے حکمت آمیز حکمرانی کی ہدایت کرتی ہیں۔

Madalasa's Teaching IV
اس باب میں راجرشی الَرک ورن اور آشرم دھرم کی حقیقت جاننے کے لیے اپنی ماں مدالسا سے سوال کرتا ہے۔ مدالسا برہمن، کشتریہ، ویشیہ اور شودر کے سوَدھرم، نیز برہمچریہ، گِرہستھ، وانپرستھ اور سنیاس—چار آشرموں کے فرائض کی ترتیب بیان کرتی ہے؛ یَجْن، دان، تپسیا، طہارت، سچائی، دَیا اور ضبطِ نفس کو دھرم کی بنیاد بتا کر سوکرم نِشٹھا کے ذریعے لوک-ہِت اور موکش مارگ کی تعلیم دیتی ہے۔

Dama and Moksha
اس باب میں راجکمار اَلرک مدالسا سے گِرہستھ دھرم کی حقیقت دریافت کرتا ہے۔ مدالسا گارھستھ آشرم کی حدود، نِتیہ کرم، پنچ مہایَجْن اور خصوصاً ویشودیو یَجْن کے طریقے بیان کرتی ہے۔ وہ سمجھاتی ہے کہ اَنّ دان، پاکیزہ آچارن، دَیا، سچائی اور ضبطِ نفس کے ساتھ آئے ہوئے اَتِتھی کی تعظیم و خدمت گِرہستھ کا بڑا دھرم ہے؛ اَتِتھی کو مایوس لوٹانا اَدھرم اور مناسب مہمان نوازی مہاپُنّیہ ہے۔

Dattatreya's Story
اس ادھیائے میں مدالسا اپنے پُتر کو گِرہستھ دھرم کی تعلیم دیتی ہیں—گھر کی پاکیزگی، اَتیَتھی کا ستکار، دان، سچائی اور میاں بیوی کے باہمی فرائض۔ وہ نِتیہ کرموں کو وِدھی کے مطابق کرنے کی تاکید کرتی ہیں اور نَیمِتِک شرادھ کی وِدھی بیان کرتی ہیں—پِتر پوجن، پِنڈ و اُدک دان، برہمن بھوجن، اور شردھا و شُدھتا کی پابندی۔ لالچ و غصّہ ترک کر کے دیش-کال کے مطابق نیَم نبھانا اور کرُونا کے ساتھ دھرم میں استقامت اختیار کرنا اس کا مرکزی پیغام ہے۔

Yoga Philosophy
اس باب میں نَیمِتِّک وغیرہ شرادھ کے قواعد بیان کیے گئے ہیں۔ سپِنڈی کرن کی विधی، شرادھ کرنے والے کی اہلیت، دیس‑کال‑تِتھی کا تعیّن، مناسب وقت، برہمن کا انتخاب اور آواہن‑پوجا، پِنڈ دان، تِل و اُدک دان، اَنّ دان‑بھوجن، دَکشِنا اور منتر کے استعمال کی ترتیب بیان ہوتی ہے۔ پِتروں کی تسکین کے لیے شردھا، طہارت اور ضابطے کے مطابق کرم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

Sankhya Philosophy
اس باب میں پارون شِرادھ کی विधی بیان کی گئی ہے۔ پِتروں کو خوش کرنے والے کھانے پینے، ساگ و پھل، گھی، تل وغیرہ اور طہارت، برتن، وقت اور مقام کے قواعد بتائے گئے ہیں۔ جو چیزیں شِرادھ کو آلودہ کرتی ہیں اُن سے پرہیز کی ہدایت ہے، اور یہ بھی کہ श्रद्धा و بھکتی سے کیا گیا شِرادھ پِتروں کی تسکین اور ثواب کا سبب بنتا ہے۔

Nature of the Self
اس باب میں مدالسا شرادھ کے پھل کا فیصلہ بیان کرتی ہیں۔ قمری تِھتیوں اور نکشتروں کے مطابق طریقۂ شریعت/ودھی سے کیا گیا شرادھ پِتروں کی تسکین، خاندان کی افزائش اور عمر، صحت، دولت و شہرت میں اضافہ دیتا ہے؛ ناموزوں وقت یا بے قاعدگی سے کیا جائے تو ثمر کم ہو جاتا ہے۔

Duties of Women
اس باب میں مدالسا گِرہستھ کے سداچار کی تعلیم دیتی ہیں—طہارت و پاکیزگی، غسل، سندھیا وندن، دیوتا پوجا اور پِتر ترپن، مہمان نوازی، سچ بولنا، دان، اہنسا، ضبطِ نفس اور نِتیہ کرموں کی پابندی۔ وہ بتاتی ہیں کہ ان اعمال سے دل کی صفائی، دھرم کی بڑھوتری اور خاندان کی نیک نامی قائم رہتی ہے۔

Sins and Their Remedies
اس باب میں مدالسا الَرک کو شَؤچ اور اَشَؤچ کا فرق، جسم‑گفتار‑دل کی پاکیزگی، پیدائش و وفات وغیرہ سے پیدا ہونے والی ناپاکی کی مدتیں، اور غسل، دان، جپ، ہوم کے ذریعے تطہیر و کفّارہ (پرایشچت) کے قواعد سکھاتی ہے۔ وہ سچائی، رحم، ضبطِ نفس، گرو کی پوجا اور سداچار کو دھرم کی بنیاد قرار دیتی ہے۔

Hell Realms
اس باب میں مدالسا اپنے آخری وعظ میں بیٹوں اور راجہ رِتَدھوج کو جسم و دنیا کی ناپائیداری، دھرم کی پیروی اور آتم گیان کے اعلیٰ ثمرات سمجھاتی ہیں۔ وہ ویراغیہ، سچائی اور فرض شناسی کا راستہ دکھا کر بتاتی ہیں کہ سلطنت بھی لمحاتی ہے۔ مدالسا کے کلمات سے متاثر ہو کر رِتَدھوج بیٹے کے سپرد راج پاٹ کر کے تپوبن کی طرف جاتا ہے، سنیاس اختیار کرتا ہے اور باطنی سکون پاتا ہے۔

Cycle of Rebirth
اس باب میں بادشاہ الَرک کی شدید پریشانی اور بحران بیان ہوتا ہے۔ سلطنت کے لذّات اور وابستگی نے اسے مضطرب کر کے بصیرت سے دور کر دیا؛ تب مدالسا کی سابقہ نصیحت یاد دلا کر ویراغیہ (عدمِ تعلق) کی تعلیم دی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دنیوی لذتیں ناپائیدار، جسم فانی اور آتما گواہ‑سروپ ہے؛ اسی ادراک سے انَاسکتی، شَم‑دَم اور دھرم کے راستے پر قائم رہنے کی ہدایت ملتی ہے۔ آخرکار الَرک موہ ترک کر کے ویراغیہ میں ثابت قدم ہو جاتا ہے۔

Shraddha Rites
اس باب میں دتاتریہ ‘ممتا’ یعنی ‘میرا’ کے احساس کو بندھن کی جڑ بتاتے ہیں۔ جسم، گھر، اولاد اور مال وغیرہ سے وابستگی دکھ کا سبب ہے؛ اس لیے وہ سنگت ترک کرنے، یکساں نظر، ویراغ اور آتما-گیان کے ذریعے موکش کے راستے کی تعلیم دیتے ہیں۔

Funeral Rites
اس باب میں یوگ وِدھی بیان کی گئی ہے۔ آسن کی پختگی، پرانایام کا طریقۂ کار، حواس کا پرتیاہار اور ذہن کا ضبط بتایا گیا ہے۔ دھیان و سمادھی کی سادھنا، سالک کی طہارت کی علامتیں اور حصول/سِدھی کے اشارے بھی اختصار سے مذکور ہیں۔

Creation of the World
اس باب میں یوگ سادھنا کے راستے میں آنے والے اُپسَرگ/رکاوٹیں—مرض، سستی، شک، غفلت، حواس کی پراگندگی اور دیو-دانَو وغیرہ کی ترغیبات—کا بیان ہے۔ لطیف دھرنائیں، پرانایام-دھیان-سمادھی کی تدریجی مشق، اور چِتّ کی پاکیزگی و ویراغیہ کی اہمیت سمجھائی گئی ہے۔ پھر اَنیما وغیرہ آٹھ سِدھّیوں کی علامتیں بتا کر خبردار کیا گیا ہے کہ سِدھی کا غرور سالک کو مقصد سے ہٹا سکتا ہے؛ اس لیے بصیرت اور بھکتی کے ساتھ ہوشیاری لازم ہے۔

Secondary Creation
اس باب میں یوگ سدھی تک پہنچانے والا آداب و ضبط بیان کیا گیا ہے۔ یم و نیَم، پاکیزہ خوراک و طرزِ زندگی، حواس پر قابو، گرو کی بھکتی، اور آسن، پرانایام، پرتیاہار، دھارنا، دھیان اور سمادھی کی ترتیب بتائی گئی ہے۔ ان ریاضتوں سے چِتّ کی پاکیزگی، یکسوئی اور سدھی حاصل ہو کر سالک موکش کے راستے میں ثابت قدم ہوتا ہے۔

Origin of Species
اس باب میں دتاتریہ پرنَو ‘اوم’ کے یوگک مفہوم کی توضیح کرتے ہیں۔ اَ-اُ-م تین ماتراؤں کا جسم، پران اور من سے ربط اور تری لوک کی علامتیت بیان کرکے، جپ، دھیان اور سمادھی کے ذریعے چِتّ کی شُدّھی، گیان کا اُدَے اور آخرکار موکش (نجات) کا راستہ بتایا گیا ہے۔

The Sun's Course
اس باب میں موت سے پہلے ظاہر ہونے والی اَرِشٹ لکشَنائیں (بدشگون علامتیں) بیان کی گئی ہیں۔ یوگی ایسے اشارے دیکھ کر خوف یا غم میں مبتلا نہیں ہوتا؛ وہ اومکار کے سمرن، دھیان اور ویراغیہ سے اپنے من کو پرسکون کرتا ہے۔ الَرک بھی اس تعلیم سے دنیا کی ناپائیداری سمجھ کر بادشاہت چھوڑ دیتا ہے اور تپسیا، دھرم اور آتما-کلیان کے راستے پر چل پڑتا ہے۔

Planetary System
اس باب میں سُباہو کاشی کے بادشاہ کو راج دھرم، رعایا کی نگہداشت، ضبطِ نفس، دان اور عفو و درگزر کی نصیحت کرتا ہے۔ اس وعظ سے الَرک یوگ کے ذریعے دل و دماغ کو قابو میں لا کر لذتوں کی وابستگی چھوڑ دیتا ہے، ویراغیہ پاتا ہے اور سلطنت ترک کر کے موکش کے راستے پر گامزن ہوتا ہے۔

Mount Meru
اس باب میں منی جَیمِنی کائنات کی ‘پراکرت سَرگ’ یعنی ابتدائی مادی تخلیق کے بھید، مہتَتَتو، اہنکار، اندریوں، تنماتروں اور پنچ مہابھوتوں کی پیدائش کے ترتیب وار بیان کے بارے میں رشی مارکنڈے سے سوال کرتے ہیں۔ مارکنڈے رشی اس جستجو کو دھرم کے مطابق سمجھ کر آدی سृष्टی کا بیان شروع کرتے ہیں—اویَکت سے مہت، مہت سے اہنکار، پھر اندریہ-سموہ اور تنماتریں، اور آخر میں بھوت سृष्टی کی توسیع۔ وہ گُنوں کی حرکت، علت و معلول کے ربط اور سृष्टی-پرلَے کے چکر کی طرف اشارہ کر کے آگے کی مفصل روایت کی تمہید باندھتے ہیں۔

The Continents
اس باب میں پرلے کے وقت تمام کائنات کے فنا ہو جانے اور ہر طرف صرف آبِ عظیم کے باقی رہنے کی کیفیت بیان ہوئی ہے، نیز نارائن کی یوگ نِدرا سے برہما کا ظہور اور تخلیق کا آغاز ذکر کیا گیا ہے۔ پھر کِرت-تریتا-دواپر-کلی یُگوں، منونتروں اور برہما کے دن رات (کلپ) کے زمانی پیمانوں کا شاستری فیصلہ پیش کیا گیا ہے۔

Bharata-varsha
اس ادھیائے میں برہما کے بیدار ہونے کا بیان ہے۔ یوگ نِدرا کے زائل ہوتے ہی وہ تخلیق کے क्रम کو یاد کرتے ہیں اور نوگُنا سَرگ کی ترتیب بتاتے ہیں—مہتتتو سے اہنکار، پھر تنماترا اور پنچ بھوت، اندریاں اور من، لوکوں کی ساخت اور پرجا کا پھیلاؤ۔ کال، کرم اور سْوَبھاو کے مطابق ستھاور-جنگم کی تقسیم، دیو-رشی-پتر-مانوش وغیرہ کی پیدائش، اور پرلے کے بعد پُنَہ سِرشٹی کا راز عقیدت کے ساتھ اختصار میں بیان کیا گیا ہے۔

The Netherworlds
اس باب میں برہما سے تخلیق کے پراکرت اور ویکرت سرگ کے ترتیب وار بیان کا ذکر ہے۔ رات، دن اور شام (سندھیا) زمانے کی صورت میں ظاہر ہو کر آفرینش کے عمل کو حرکت دیتے ہیں۔ تین گُنوں کے اثر سے مختلف جاندار، بھوت گن اور کائناتی نظام کیسے پیدا ہوتے ہیں، ان کی فطرت اور عمل کی رغبت کیا ہے—یہ سب نہایت مختصر مگر مربوط انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

Cosmic Dissolution
اس باب میں ابتدائی انسانی تخلیق کا بیان ہے۔ آغاز میں انسان بے خواہش، یکساں مزاج اور پُرسکون تھے؛ پھر زمانے کے ساتھ خواہش اور کام پیدا ہوا، جس سے ملکیت کا احساس، ذخیرہ اندوزی اور تصرف بڑھا۔ اسی کے نتیجے میں گاؤں اور شہر جیسی بستیاں قائم ہوئیں، زمین کی حد بندیاں طے ہوئیں، تول اور ناپ کے پیمانے رائج ہوئے، اور کھیتی باڑی کا آغاز ہوا—بیج بونا، اناج کا ذخیرہ اور معاش کے قواعد مستحکم ہوئے۔

The Pitris
اس ادھیائے میں برہما کی مانس سृष्टی کا بیان ہے—سنکادی اور مریچی وغیرہ پرجاپتیوں کی پیدائش، پھر سوایمبھوو منو اور شترُوپا، ان کی اولاد اور منو وंश کی روایت۔ سृष्टی کے بہاؤ میں دھرم کے ضابطے اور لوک-نظام کی بنیاد بھی بتائی گئی ہے۔ آخر میں برہما الکشمی کے حاشیہ بردار دُحسہ وغیرہ کو حکم دیتا ہے کہ سَت پُرشوں کے گھروں میں داخل نہ ہوں، جھگڑا-لالچ-ادھرم جہاں ہو وہیں رہیں اور حد سے تجاوز نہ کریں۔

Jaimini Returns
اس ادھیائے میں یَکشا نُشاسن بیان ہوا ہے۔ گھریلو امور اور یَجْیَہ/یَجْن کے کرموں میں خلل ڈالنے والے گِرہ-بالک اور نسوانی ارواح/یوگنیاں کے اوصاف، ان کے فتنہ و آزار کے اسباب، اور شانتِی، حفاظت و پرایشچت کے طریقے دھرم کے مطابق اختصار سے بتائے گئے ہیں۔

Markandeya's Powers
اس باب میں نیل لوہت (رُدر) کے ظہور کا بیان ہے۔ اُن کے متعدد نام، اُن ناموں کے اسباب، اور اُن کے قیام گاہوں اور جہات کی تعیین ذکر کی گئی ہے۔ اُن کی زوجاؤں کا تعارف، بیٹوں کی نسل و نسب کی ترتیب، گنوں کی تقسیم، اور دیوتاؤں کے ذریعے اُن کی प्रतिष्ठا (تقدیس) کی رسم کا خلاصہ پیش ہوتا ہے۔

The Great Flood
اس باب میں رودرسَرگ کا بیان ہے—رُدر کا ظہور، اُن کے گَणوں کی پیدائش اور تخلیق کا ترتیب وار ذکر۔ نیز منونتروں کی مقدار، زمانے کی تقسیم اور حساب کا طریقہ واضح کیا گیا ہے۔ سوایمبھُو منونتر میں سوایمبھُو منو کی رعایا کی تخلیق و تنظیم، پریہ ورت کی نسل کی روایت اور راج دھرم کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ سات دْویپوں کے نام، تقسیم، پیمائش اور پہاڑوں و دریاؤں کی ترتیب کو اختصار سے بیان کر کے کائنات کی مقدس، منظم ساخت دکھائی گئی ہے۔

Surya the Sustainer
اس باب میں جمبودویپ کی کائناتی جغرافیہ نگاری بیان کی گئی ہے۔ اس کے مختلف ورش، پہاڑ، ندیاں اور چاروں طرف پھیلے سمندروں کی ترتیب وار تفصیل ملتی ہے۔ عالم کے وسط میں واقع کوہِ مِیرو کو مرکز مان کر سمتوں کے مطابق خطّوں کی تقسیم سمجھائی گئی ہے۔ دیپ و سمندر کی ہیئت اور پیمائش کا شاستری انداز میں مختصر مگر جامع بیان کیا گیا ہے۔

Surya's Chariot
اس باب میں بھوننکوش کے ضمن میں جمبودویپ کی کیفیت بیان کی گئی ہے۔ کوہِ مِیرو کے چاروں سمت واقع چار جنگلات، اُن کے جھیل/سروور، اور مِیرو منڈل کو گھیرنے والی پہاڑی سلسلوں کی ترتیب مذکور ہے۔ دریاؤں، خطّوں کی تقسیم اور آبادی کے نظام کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے۔ خصوصاً بھارت ورش کو ‘کرم بھومی’ قرار دیا گیا ہے—جہاں دھرم و اَدھرم کے اعمال کے پھل بھوگ کر جیو ترقی کرتا اور موکش کے راستے کی طرف بڑھتا ہے—یہ بات تقدّس کے ساتھ بیان ہوتی ہے۔

Seasons and Time
اس ادھیائے میں گنگا کے سُورگ سے اترنے، شیو کی جٹاؤں میں ٹھہرائے جانے اور پھر پرتھوی پر چار سمتوں میں چار دھاراؤں کی صورت بہنے کا پاکیزہ بیان ہے۔ نیز جمبودویپ کے مختلف ورش (خطّے)، وہاں کے دھرم و آچار، لوگوں کی فطرت، عمر، سکھ-دُکھ اور بھوگ کی حالتوں کا مختصر مگر واضح تذکرہ کیا گیا ہے؛ گنگا کے لمس و اسنان سے شُدھی اور تیرتھ مہِما بھی ظاہر کی گئی ہے۔

Clouds and Rain
اس باب میں بھارت ورش کی نو گونہ تقسیم کا بیان ہے۔ پہاڑوں، دریاؤں اور مختلف جن پدوں و اقوام کے نام ترتیب سے ذکر کیے گئے ہیں، نیز ملک کی سرحدوں اور سمتوں کی ترتیب کی طرف بھی اشارہ ہے۔ اس سے بھارت بھومی کی پاکیزگی، تنوع اور دھرم کی بنیاد ہونے کا احساس مختصر مگر جامع طور پر نمایاں ہوتا ہے۔

The Solar Attendants
اس ادھیائے میں نارائن کے کُورم روپ کی بنیاد پر بھارت ورش کی ہیئت و نقشہ نما توضیح کی گئی ہے۔ نکشتروں کی ترتیب، ان کے مطابق ملک و علاقوں کی نسبت، اور سورج وغیرہ سیاروں کی آفتوں سے جنپدوں پر آنے والی مصیبتیں اور ان کی شانتی کے اُپائے اختصار سے بیان ہوئے ہیں۔

Markandeya and Vishnu
اس باب میں کائنات کی مقدّس جغرافیائی ترتیب اور یُگوں کا نظام بیان ہوا ہے۔ جمبودویپ میں مَیرو کے گرد واقع بھدر اشو اور کیتومال علاقوں کی ہیئت، وہاں کے باشندوں کی فطرت، دیوتاؤں کی عبادت اور خوشحالی کا ذکر ہے۔ اُترکُرو کو خاص پُنیہ بھومی کہا گیا ہے جہاں دھرم فطری ہے، موسم معتدل، عمر دراز اور زندگی آسودہ ہے۔ کُورمنِویش کے ضمن میں لوکوں کی تقسیم، سمتوں کی حدبندی اور یُگوں کے مطابق دھرم کے زوال و عروج کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔

Surya Worship
اس باب میں کِمپورُش-ورش، ہری-ورش، اِلاؤرت (میرو-ورش)، رَمیَک اور ہِرَنیَمَی علاقوں کا مختصر مگر واضح بیان ہے—ان کے پہاڑ، ندیاں، جھیلیں، جنگلات اور وہاں کے دیویہ باشندوں کی فطرت و دھرم آچرن۔ بھگوان وِشنو اور شِو کی بھکتی سے لبریز طرزِ حیات اور اُتّرکُرو کی پُنّیہ بھومی کی مہِما بھی بیان کی گئی ہے۔

Avanti Narrative
اس ادھیائے میں سواروچِش منونتر کے آغاز کا بیان ہے۔ ایک برہمن نہایت تیزی سے ہِمَوَت (ہمالیہ) کی طرف روانہ ہوتا ہے۔ راستے میں دیوی صفت ورُوتھِنی اسے کام و لالچ کے فتنوں سے بہکانے کی کوشش کرتی ہے، مگر وہ تپسیا، ضبطِ نفس اور دھرم نِشٹھا کے سہارے ثابت قدم رہ کر اس آزمائش پر غالب آتا ہے۔ اس حکایت سے منونتر کی تبدیلی کے مبارک آثار، برہمن کی استقامت اور دھرم کی فتح نمایاں ہوتی ہے۔

Sumati's Tale
اس باب میں اگنی دیو برہمن نوجوان کے جسم میں داخل ہو کر اسے تجلّی، قوتِ گفتار اور اثر عطا کرتے ہیں۔ ورُوتھنی عشق و فراق کی تپش میں مبتلا ہو کر محبت کی بیماری سے نڈھال ہو جاتی ہے۔ پھر کَلی بھیس بدل کر آتا ہے، لوگوں کو فریب میں ڈالتا اور راہِ دھرم میں رکاوٹیں پیدا کرتا ہے، جس سے قصے میں نیا موڑ آتا ہے۔

Sumati's Dharma
اس باب میں سوروچِس کی پیدائش کا بیان اور منورما کی لعنت کے بندھن سے رہائی کا واقعہ آتا ہے۔ رِشیوں کے مکالمے میں لعنت کا سبب، اس کے زائل ہونے کا طریقہ اور دیوی/دیوتاؤں کی کرپا سے حاصل ہونے والی شانتی واضح کی جاتی ہے۔ ‘استر-ہردیہ’ نامی رازدارانہ اُپدیش دیا جاتا ہے جس سے منتر-استروں کا جوہر سمجھ کر خوف، روگ اور دکھ دور ہوتے ہیں۔ اختتام پر کرُونا رس اور دھرم کی حفاظت کا پیغام نمایاں ہوتا ہے۔

Creation Narrative
اس باب میں کلاوتی، جو وِبھاوَری کے نام سے بھی معروف ہے، مہارشی سوروچِش کے حضور اپنے دل کے جذبات بیان کر کے خود کو نذر کرتی ہے۔ وہ انہیں ‘پدمِنی وِدیا’ نامی ایک نہایت رازدارانہ نسوانی ودیا عطا کرتی ہے، جس سے حسن، لطافت اور کشش کی سِدھی حاصل ہونے کا ذکر ہے۔ روایت میں حیا، دھرم کی مر्यادا، ایثار اور بھکتی کے رنگ نمایاں ہیں؛ سوروچِش اسے تسلی دے کر دھرم کے مطابق قبول کرتے ہیں۔

The Divine Plan
اس ادھیائے میں راجا سوروچِش پہاڑ کے دلکش باغات میں بھوگ-ویہار کرتا ہے۔ وہاں کلہنسی اور چکروَاکی کے درمیان مکالمہ ہوتا ہے جس میں ازدواجی وفاداری، خواہشِ نفس، غیر کی طرف میلان کے عیوب اور دھرم کے مطابق ضبطِ نفس کی اہمیت بیان کی جاتی ہے۔ آخر میں شیل اور پتی ورتا دھرم کی ستائش کی جاتی ہے۔

Prelude to Devi Mahatmya
اس باب میں بیوی کی بے قدری/ترکِ زوجہ کو بڑا گناہ بتایا گیا ہے، جس سے بادشاہ کا دھرم کمزور ہوتا اور سلطنت میں بے چینی پھیلتی ہے۔ بزرگ اسے پرایَشچت (کفّارہ) کا طریقہ بتاتے ہیں؛ بادشاہ ندامت کے ساتھ بیوی کو عزت دے کر دوبارہ قبول کرتا اور ازدواجی دھرم و راج دھرم کی بحالی کرتا ہے۔

Meditation on Devi
اس ادھیائے میں راجا راکشس کا سامنا کرکے دھرم یُدھ کرتا ہے اور برہمن کی بیوی کو اس کی قید و بند سے آزاد کراتا ہے۔ راکشس کا غرور ٹوٹ جاتا ہے، راج دھرم اور پرجا کی حفاظت کی عظمت ظاہر ہوتی ہے، اور دیس میں پھر سے امن قائم ہوتا ہے۔

Madhu-Kaitabha
اس باب میں بادشاہ بیوی کی جدائی سے غمگین ہو کر اپنے قصور یاد کرتا اور سخت ندامت میں مبتلا ہوتا ہے۔ وہ ایک مُنی کی پناہ لے کر گِرہستھ دھرم میں زوجہ کی ناگزیر اہمیت کے بارے میں پوچھتا ہے۔ مُنی نصیحت کرتے ہیں کہ بیوی سَہَ دھرمِنی ہے؛ دھرم، ارتھ اور کام کی سادھنا میں رفیقہ، یَجْیَہ اور دان وغیرہ کے کرموں میں شریک، اور راج دھرم کی ادائیگی میں راجا کو استحکام دینے والی۔ اس وعظ سے بادشاہ کا غم کم ہوتا ہے اور وہ دھرم کے راستے پر ثابت قدم ہو جاتا ہے۔

Mahishasura's Rise
اس ادھیائے میں پرجاپتی کے وَنش میں پیدا ہونے والے اختلاف کو فرو کرنے کے لیے دیورشی ‘مَیتری-اِشٹی’ کا وِدھان کرتے ہیں اور باہمی میل ملاپ قائم ہوتا ہے۔ پھر دیوی سرسوتی کی کرپا کے لیے ‘سارَسوتی-اِشٹی’ بیان کی گئی ہے، جس سے وाणी، ودیا اور دھرم کی افزائش ہوتی ہے۔ آخر میں پُنّیہ کرم کے پھل سے اُتّم منو کی پیدائش کا ذکر آتا ہے اور آؤتّم منونتر کی تمہید قائم ہوتی ہے۔

Birth of the Goddess
اس باب میں اوتّم منونتر کا بیان ہے۔ دیوتاؤں کے مختلف طبقات، ان کے فرائض اور نظام کی وضاحت کی گئی ہے۔ اس منونتر میں اندر سُشانتِی، رشیوں اور پرجاپتیوں کی مقررہ حیثیت اور لوک-رکشا کا विधान مذکور ہے۔ نیز شاہی نسب نامہ، دھرم پالَن اور رعایا کی بھلائی کا مختصر مگر جامع تذکرہ آتا ہے۔

Battle with Mahishasura
اس باب میں دین دار بادشاہ سواراشٹر کا بیان ہے۔ ہرنی ملکہ کی بددعا سے اس کی سلطنت میں آفتیں اور بے چینی پھیلتی ہے، بادشاہ غم سے گزر کر کفّارہ و توبہ کے ساتھ دھرم کے راستے پر قائم ہوتا ہے۔ آخر میں تامس منو کے ظہور اور تامس منونتر کے آغاز کا اشارہ ملتا ہے۔

Slaying of Mahishasura
اس باب میں رَیوَت منونتر کا آغاز بیان ہوا ہے۔ رِیوَتی نَکشتر کے زوال سے جہان میں اضطراب، خوف اور غم پھیلتا ہے۔ دیوتا اور رِشی تپسیا، ستوتی اور منتر-بل کے ذریعے رِیوَتی کو دوبارہ قائم و مستحکم کرتے ہیں۔ آخر میں رَیوَت منو کی پیدائش کی طرف اشارہ کر کے دھرم کی بقا، رعایا کی بھلائی اور کال چکر میں نَکشتروں کی دَیوی ترتیب کا راز واضح کیا گیا ہے۔

Hymn to the Goddess
اس باب میں چھٹے منونتر کے چاکشوش منو کا بیان، اس عہد کے دیو-رشی اور پرجاپتی روابط، اور بچوں کو اٹھا لے جانے والی راکشسی کا واقعہ آتا ہے۔ خوف و کرُونا کے رنگ میں کُل-گوتَر، قرابت، متبنّی ہونے جیسے امور کے ذریعے ‘اپنا کون ہے’ کے دھرمی مسئلے کی توضیح و فیصلہ کیا گیا ہے اور حفاظتِ خلق کے دھرم کی عظمت ظاہر کی گئی ہے۔

Shumbha and Nishumbha
اس ادھیائے میں سورج کے شدید تیز سے رنجیدہ سنجنا کا اپنے پدر کے گھر جانا، اپنی ہم شکل ‘چھایا’ کو قائم کر کے تپسیا میں لگ جانا بیان ہوا ہے۔ چھایا کے بطن سے یم دھرم راج اور یمنا کی پیدائش ہوتی ہے؛ پھر سنجنا کی واپسی، سورج کا اعتدال اور دیوکُل میں دھرم کی ترتیب و استحکام کا ذکر آتا ہے۔

Dhumralochana
اس باب میں سورج دیو کی حمد و ثنا بیان ہوئی ہے اور اُن کے نور کی تقسیم اور جہانوں میں اس کے پھیلاؤ کا ذکر ہے۔ ویوَسوت کی نسل نامہ، خصوصاً چھایا کی اولاد کی روایت، اُن کے نام، اوصاف اور دھرم کی پابندی کا مختصر بیان آتا ہے۔ سورج کی کرپا سے نسل کی افزائش، راج دھرم اور خلقِ خدا کی بھلائی کا پیغام نمایاں ہوتا ہے۔

Chanda and Munda
اس باب میں وایوسوت منونتر کا بیان ہے۔ دیوتاؤں کی مختلف جماعتیں، سَپت رِشی اور وایوسوت منو کے نو بیٹوں کا تعارف ترتیب سے دیا گیا ہے۔ دھرم کی حفاظت، رعایا کی نگہبانی اور نسل و نسب کے آغاز کی مقدس روایت کو مختصر مگر جامع انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

Raktabija
اس باب میں ویوَسوت منونتر کا کیرتن بیان ہوا ہے۔ سابقہ منوؤں کی ترتیب وار گنتی، اُن کی نسل و سلسلہ، اور ہر منونتر کے دیوتا، رشی اور اندر کا مختصر تذکرہ کیا گیا ہے۔ پھر آٹھویں منو ‘ساورنِی’ کا تعارف، اس کی پیدائش اور آئندہ منونتر میں دھرم کے استقرار کے لیے اس کی ذمہ داری و تقرری بیان کی جاتی ہے۔

Death of Nishumbha
اس باب میں سلطنت سے محروم راجہ سُرتھ اور اپنے عزیزوں سے بےرغبت ویشیہ سمادھی اپنے دکھ اور ذہنی اضطراب کے ساتھ رشی میدھس کی پناہ میں آتے ہیں۔ میدھس مُنی سمجھاتے ہیں کہ رغبت و بےرغبتی اور موہ جگت کی ادھِشٹھاتری مہامایا دیوی کی شکتی سے پیدا ہوتے ہیں۔ پھر دیوی ماہاتمیہ کا آغاز ہوتا ہے—وشنو کی یوگ نِدرا، ناف کے کمل سے برہما کا ظہور، مدھو‑کَیٹبھ دَیتّیوں کی پیدائش اور برہما وध کی کوشش، اور دیوی کے انُگرہ سے وشنو کا بیدار ہونا۔

Death of Shumbha
اس باب میں مہیشاسُر کے عروج، اس کے غرور سے دیوتاؤں کی شکست اور تری لوک کی اذیت کا بیان ہے۔ دیوتا برہما، وشنو اور شِو کی پناہ لیتے ہیں۔ ان کے غضب و غم سے پیدا ہونے والا تیجس یکجا ہو کر مہادیوی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے؛ دیوتا اپنے اپنے ہتھیار اور زیورات نذر کرتے ہیں۔ ستوتیوں سے مسرور ہو کر دیوی مہیشاسُر کے ودھ کے لیے یُدھ کا سنکلپ کرتی ہیں۔

Narayani Stuti
اس باب میں دیوی دُرگا مہیشاسُر کی عظیم فوج کو ہولناک جنگ میں نیست و نابود کرتی ہیں۔ شُول، چکر اور دیگر الٰہی ہتھیاروں سے وہ رتھ، گھوڑے، ہاتھی اور پیادہ لشکروں کو چیر کر بکھیر دیتی ہیں۔ آخر میں مہیشاسُر کئی روپ دھار کر مایاوی جنگ کرتا ہے، مگر دیوی اس کے غرور کو توڑ کر میدانِ رزم میں اسے ہلاک کرتی ہیں اور دیوتاؤں و جگت کو خوف سے نجات دیتی ہیں۔

Devi's Promise
مہیشاسُر کے وध کے بعد تمام دیوتا دیوی کے پاس آ کر عقیدت سے ستوتی کرتے ہیں اور اس کے شجاعت و کرُونا کی ستائش کرتے ہیں۔ دیوی प्रसنّ ہو کر ان کے خوف و غم کو دور کرتی ہے، वरदान دیتی ہے اور دھرم کی حفاظت کے لیے وقتاً فوقتاً پرकट ہونے کی یقین دہانی کراتی ہے۔

Suratha's Devotion
اس باب میں شُمبھ-نِشُمبھ کے خوف سے دیوتا ہمالیہ جا کر پاروتی دیوی کی پناہ لیتے ہیں اور عقیدت سے دیوی کی حمد و ثنا کرتے ہیں۔ ستوتی سے خوش ہو کر دیوی پاروتی کے کوش سے ‘کوشیکی’ نامی نورانی و جلالی روپ میں ظاہر ہوتی ہیں اور پاروتی کا رنگ سیاہ ہو جاتا ہے۔ کوشیکی دیوتاؤں کو اَبھَے دیتی ہیں اور دیوؤں کے وِناش کا عزم کرتی ہیں۔ ان کے حسن کی خبر سن کر شُمبھ ایک قاصد بھیجتا ہے کہ دیوی کو اپنے قابو میں کر کے اپنے پاس لے آئے۔

Devi's Grace
اس ادھیائے میں شُمبھ دیوی کے حسن سے موہت ہو کر دھومرلوچن کو قاصد بنا کر بھیجتا ہے کہ دیوی کو سمجھا بجھا کر یا زور سے لے آئے۔ دھومرلوچن لشکر سمیت آ کر تکبر سے سخت باتیں کہتا ہے۔ دیوی اس کے غرور کو رد کرتی ہیں اور غضب میں محض اپنے ‘ہُنکار’ سے اسے راکھ کر دیتی ہیں۔ دھومرلوچن کے وध کی خبر سن کر شُمبھ بھڑک اٹھتا ہے اور دیوی سے جنگ کے لیے چنڈ اور مُنڈ کو روانہ کرتا ہے۔

After the Mahatmya
اس ادھیائے میں شُمبھ اور نِشُمبھ دھومرلوچن کو دیوی امبیکا کو گرفتار کر کے لانے کے لیے بھیجتے ہیں۔ دیوی صرف ایک ‘ہُنکار’ سے اس کے غرور کو بھسم کر دیتی ہیں۔ دیوی کے غضب سے کالی پرकट ہو کر دَیتیہ سینا کا قلع قمع کرتی ہیں۔ پھر چنڈ اور مُنڈ جنگ کے لیے آتے ہیں؛ کالی انہیں قتل کر کے ان کے سر لے لیتی ہیں، اسی سبب وہ ‘چامُنڈا’ کے نام سے مشہور ہوتی ہیں۔

Surya's Progeny
اس باب میں دیوی کے قہرآمیز روپ سے اسوروں کی فوجیں پاش پاش ہو جاتی ہیں۔ رکتبیج کو ایسا ور ملا تھا کہ اس کے جسم سے گرے خون کے ہر قطرے سے نیا رکتبیج پیدا ہو جاتا، اس لیے جنگ نہایت دشوار بن جاتی ہے۔ تب دیوی کے تیج سے ماترکائیں ظاہر ہوتی ہیں—برہمانی، ماہیشوری، کوماری، ویشنوی، واراہی، ایندری اور چامُنڈا—اور اپنی اپنی شکتی سے دانوؤں کا سنہار کرتی ہیں۔ کالی/چامُنڈا خون پی لیتی ہیں اور ماترکائیں گرا ہوا خون سمیٹ لیتی ہیں، یوں رکتبیج کی دوبارہ پیدائش رک جاتی ہے۔ آخرکار دیوی کے وار سے رکتبیج وध ہوتا ہے؛ دیوتا ستوتی کرتے ہیں اور جگت میں شانتی قائم ہوتی ہے۔

The Pious King
اس باب میں شُمبھ اور نِشُمبھ کا غضب بھڑک اٹھتا ہے اور دیوی کے ساتھ ہولناک جنگ چھڑ جاتی ہے۔ طرح طرح کے ہتھیاروں کے وار سے اسوروں کی فوج کمزور پڑتی ہے اور کئی دَیتّیہ سورما پسپا ہوتے ہیں۔ دیوی اپنے تیج اور شکتی سے دشمنوں کو دباتی ہیں اور نِشُمبھ پر فیصلہ کن ضرب لگاتی ہیں۔ آخرکار نِشُمبھ کا جسم چاک ہو کر وہ میدانِ جنگ میں گر پڑتا ہے۔ بھائی کی ہلاکت دیکھ کر شُمبھ غم و غصّے سے بے قابو ہو کر جنگ کو اور زیادہ شدید کرنے کا عزم کرتا ہے۔

Dharma Teachings
اس ادھیائے میں دیوی امبیکا شُمبھ کے ساتھ سخت جنگ کرتی ہیں۔ شُمبھ کا غرور، اس کی مایا اور دانَووں کی فوج دیوی کے تیج سے نیست و نابود ہو جاتی ہے اور آخرکار شُمبھ وِدھ ہوتا ہے۔ پھر جو دیویاں جدا جدا روپوں میں پرकट ہوئی تھیں وہ سب دوبارہ امبیکا میں لَیَن ہو جاتی ہیں؛ دیوتا ستوتی کرتے ہیں اور جگت میں شانتی قائم ہوتی ہے۔

Cosmic Recapitulation
اس ادھیائے میں دیوتا کات्यاینی دیوی کی حمد و ثنا کر کے جگت کی حفاظت کے لیے ور مانگتے ہیں۔ دیوی ان کی بھکتی قبول کر کے دھرم کی स्थापना کے لیے یگ یگ میں مختلف روپوں میں پرकट ہونے کی بھوشیہ وانی دیتی ہیں اور دُشٹوں کے دمن اور سادھوجن کی رکھشا کا وعدہ کرتی ہیں۔

Blessings of Knowledge
اس باب میں دیوی ماہاتمیہ کی پھل شروتی اور دیوی کی حفاظت کی یقین دہانی بیان ہوئی ہے۔ جگدمبا فرماتی ہیں کہ جو عقیدت سے اس کا پاٹھ، شروَن یا ستوتی کرتا ہے، اس کے خوف، بیماری، دکھ، فقر اور دشمنی کا نِسْتار ہوتا ہے؛ عمر، ناموری، دولت و خوشحالی اور اولاد کی سعادت بڑھتی ہے۔ جنگ، دربارِ شاہی، آگ، پانی، جنگل، چور کے خوف اور سیاروی آفات میں بھی دیوی مددگار و محافظ بنتی ہیں۔ نورتری، چنڈی پاٹھ، ہوم، دان اور ورت کے ساتھ پاٹھ کرنے کے خاص پھل اور آخر میں موکش بخشنے والی برکت کی ستائش کی گئی ہے۔

Conclusion
دیو ی کے ظہور پر راجا سُرَتھ اور سمادھی ویشیہ نے عقیدت سے ستوتی کر کے ور مانگے۔ دیوی نے سُرَتھ کو دوبارہ راجیہ کی بازیابی کا ور دیا اور یہ بھی فرمایا کہ آئندہ سوایمبھُو منونتر میں وہ ‘ساورنِی’ نام سے منو ہوگا۔ ویشیہ کو ویراغیہ، آتما-گیان اور سنسار بندھن سے نجات کا ور ملا، جس سے وہ موکش پائے گا۔ پھر جگدمبا دیوی غائب ہو گئیں؛ رشی نے دیوی ماہاتمیہ کی پھل شروتی بیان کر کے نتیجہ بتایا کہ دیوی ہمیشہ بھکتوں کی رکھشا کرتی ہیں۔
Rather than posing a narrative question, this adhyāya establishes the ethical and soteriological premise: Purāṇic discourse is framed as a purifier of kalmaṣa (moral impurity) and a support for yogic clarity that overcomes bhava-bhaya (existential fear).
It does not yet enter Manvantara chronology; it prepares the reader for later analytical sections by sanctifying the text and grounding authority in the Nārāyaṇa–Vyāsa transmission line.
Direct Devi Māhātmya content is not present here; the only Shākta-adjacent element is the conventional invocation of Devī Sarasvatī as the presiding deity of speech and learning, authorizing the forthcoming discourse.
The chapter foregrounds hermeneutic and ethical doubts raised by Jaimini about the Mahābhārata’s narrative logic—especially divine incarnation, contested marital norms, expiation for grave sin, and seemingly undeserved deaths—while asserting the Bhārata’s status as an all-encompassing puruṣārtha-śāstra.
This Adhyāya does not yet enter a Manvantara catalogue; instead it establishes the Purāṇa’s pedagogical architecture (Mārkaṇḍeya → birds) that will later be used to transmit long-range cosmological and genealogical materials, including Manvantara-related discourse.
Adhyāya 1 is prior to the Devī Māhātmya (Adhyāyas 81–93) and contains no direct Śākta stuti or Devī-centered battle narrative; its relevance is structural, setting the multi-layered frame narrative through which later high-authority Śākta sections are delivered.
The chapter interrogates possessiveness and violence (mamatā and adharmic aggression) and then broadens into a reflection on death’s inevitability: fear and flight do not determine longevity, while effort (puruṣakāra) remains ethically mandated even under the sovereignty of time (kāla/daiva).
This Adhyaya is not a Manvantara-chronology unit; instead, it builds the text’s instructional frame by establishing a Suparṇa genealogy and the origin-context for extraordinary birds whose later speech and counsel function as a vehicle for analytic dharma exposition.
It does not belong to the Devi Mahatmyam sequence (Adhyayas 81–93). Its relevance is genealogical and didactic: it traces the Suparṇa line (Garuḍa → descendants → Kaṅka/Kandhara → Tārkṣī) and introduces a karma-focused ethical discourse through Śamīka’s rescue and instruction.
The chapter centers on a dharma-conflict between satya-vākya (keeping a pledged word) and the moral limits of fulfilling that pledge through हिंसा/self-destruction. The birds argue that a son is not obliged to “pay debts” by surrendering his body for another’s promise, while Indra frames the episode as a test that clarifies the hierarchy and intent of dharmic action.