
The Second Part -- Dharma Encyclopedia
نارد پُران کا اُتّر بھاگ (کتاب 2) عموماً تیرتھ-ماہاتمیہ اور ورت-اُپدیش سے وابستہ سمجھا جاتا ہے، مگر اس کی ابتدا ہی ایک مضبوط و سخت ویشنو ورت-الٰہیات قائم کرتی ہے۔ یہاں ایکادشی–دوادشی (ہری واسر) کے انوشتھان کو نجات بخش محور کے طور پر پیش کیا گیا ہے، اور واضح کیا گیا ہے کہ ورت کا پھل دولت یا نمود و نمائش سے نہیں، بلکہ بھکتی اور خالص طریقۂ ادا سے حاصل ہوتا ہے۔ ابتدائی حصے میں تِتھی-وچار کی باریکیوں پر خاص زور ہے۔ روزہ/اُپواس کی درست حد، پارن (افطارِ ورت) کا صحیح وقت، اور پِتر کرم/شرادھ وغیرہ کا کالی تعیّن—ان سب کو دھرم کے اعتبار سے فیصلہ کن کہا گیا ہے؛ وقت کی غلطی سے کرم کا پھل بدل جاتا ہے، یہ تنبیہ بار بار سامنے آتی ہے۔ یوں سادھنا کو جذبۂ عقیدت کے ساتھ شاستری ضابطہ بندی سے بھی جوڑا گیا ہے۔ اس کے بعد یم اور برہما کا مکالمہ ایک “الٰہی عدالت” کی صورت اختیار کرتا ہے، جہاں یہ اصول قائم ہوتا ہے کہ سچے وشنو-بھکتوں پر یم کا تعزیری اختیار لاگو نہیں ہوتا۔ ہری نام کی مہیمہ اس درجہ بیان کی گئی ہے کہ بے اختیار زبان سے نکلا نام بھی باطن کو بدل دینے والی تاثیر رکھتا ہے۔ دھرم کو یہاں شخصی پسند نہیں، بلکہ کائناتی نظم کا پابند کرنے والا قانون بتایا گیا ہے؛ مقررہ فرض کی غفلت روحانی زوال کا سبب بنتی ہے۔ رُکمَانگَد–موہنی کے قصّوں کا طویل سلسلہ انہی اصولوں کو زندگی کی کسوٹی پر رکھتا ہے۔ راج دھرم—رعایا کی حفاظت، بدکاروں کا سدِّباب، سچائی پر مبنی نظمِ حکومت، دان، اور کج پالیسی سے اجتناب—سب کو بھکتی کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے؛ ورت-پرتِگیا نبھانا بادشاہت کی اخلاقی سند کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ گھریلو دھرم میں رضامندی، بیویوں کے ساتھ انصاف و برابری، ماں کا احترام، اور سوتنوں کی حسد و رقابت کا نظم بھی روحانی تربیت کے میدان کے طور پر آتا ہے۔ اہنسا کو بلند مقام دے کر شکار اور جانوروں کے قتل کی مذمت کی گئی ہے—یہ اعلیٰ راج دھرم اور خالص پوجا کے منافی قرار پاتا ہے۔ “گوہڑا-موکش” جیسے مختصر واقعات کرم-کارن کے لطیف قانون کو نمایاں کرتے ہیں کہ دھرم و بھکتی کا لمس ایک لمحے میں بھی تقدیر کا رخ موڑ سکتا ہے۔ اس طرح اُتّر بھاگ کی ابتدا تیرتھ-رجحان سے پہلے ورت، وقت کے تعیّن، اور ویشنو بھکتی کی شاستری بنیاد کو مضبوط کرتی ہے۔
82 chapters to explore.
The Description of the Glory of Dvādaśī
باب کی ابتدا ہری کے بازوؤں اور کنول جیسے قدموں کی منقبت سے ہوتی ہے، جس سے ویشنو حفاظت اور کرپا کا پس منظر قائم ہوتا ہے۔ راجا ماندھاتا وِسِشٹھ سے پوچھتے ہیں کہ گناہ کے ہولناک ایندھن کو جلانے والی ‘آگ’ کون سی ہے—نادانی میں کیے گئے ‘خشک’ گناہ اور جان بوجھ کر کیے گئے ‘تر’ گناہ میں کیا فرق ہے، اور ماضی، حال، مستقبل کے گناہوں کا علاج کیا ہے؟ وِسِشٹھ بتاتے ہیں کہ یہ پاک کرنے والی آگ ہری کا مقدس دن ایکادشی ہے—ضبطِ نفس، روزہ/اپواس، مدھوسودن کی پوجا، دھاتری/آملکی سے وابستہ اشنان، اور رات بھر جاگَرَن کے ساتھ۔ متن کہتا ہے کہ ایکادشی سینکڑوں جنموں کے گناہ جلا دیتی ہے اور اشومیدھ و راجسوئے سے بھی بڑھ کر پُنّیہ دیتی ہے؛ صحت، نیک ہمسر، اولاد، سلطنت، سُورگ اور موکش کے پھل وعدہ کیے گئے ہیں۔ مشہور تیرتھوں کے مقابلے میں ہری-دن کے ورت کو وِشنو دھام تک پہنچنے کا فیصلہ کن وسیلہ کہا گیا ہے؛ اس کے ثمرات ماں کی طرف، باپ کی طرف اور سسرالی رشتوں تک کو بھی اُٹھاتے ہیں۔ دْوادشی کو اس عمل کی تکمیل کرنے والی آخری ‘آگ’ کے طور پر سراہا گیا ہے، جو وِشنولोक تک لے جا کر پُنرجنم کو روکتی ہے۔
Tithi-vicara (Determination of Tithi for Fasts, Parana, and Pitri Rites)
نَیمِشَارَنیہ میں رِشی سوت سے پوچھتے ہیں کہ ورت تِتھی کے آغاز سے رکھا جائے یا تِتھی کے اختتام تک۔ سوت بتاتے ہیں کہ دیو-اُدّیش روزوں میں تِتھی کی تکمیل کو اصل مانا جاتا ہے، جبکہ پِتر-کرم میں ‘مول’ تَسکین کو؛ اور پُوروَودّھا/وِدّھا (اوورلیپ-دوش) کے قواعد واضح کرتے ہیں۔ روزمرّہ اَنوِشٹھان میں سور्योदय کا لمس فیصلہ کن ہے؛ پارَنا اور موت کے وقت اسی لمحے کی غالب تِتھی لی جاتی ہے؛ پِتر-کرم میں جو تِتھی سوریاست کے حصّے کو چھو لے وہ ‘مکمل’ سمجھی جاتی ہے۔ ایکادشی/دوادشی کے باب میں وِدّھ ایکادشی، دوادشی کے روزے کی لازمیت، پارَنا تریودشی میں کرنے کا حکم، اور وار-نکشتر (مثلاً شروَن) کے مطابق صورتیں بیان ہوتی ہیں۔ پھر یُگ اور سنکرانتی کی تقویمی بحث میں یُگ آغاز، اَیَن اور سورج کے دخول کے پیمانے مختصراً آتے ہیں۔ آخر میں سخت تنبیہ ہے کہ وِدّھا تِتھی پر کی گئی پوجا، دان، جپ، ہوم، اسنان اور شرادھ کا پھل ضائع ہو جاتا ہے؛ اس لیے درست ورت-کال کے لیے اہلِ وقت (کال-وِد) سے مشورہ ضروری ہے۔
Yama’s Journey to Brahmaloka (Ekadashi–Dvadashi Mahatmya in the Rukmangada Cycle)
رِشی وشنو کو راضی کرنے والی اور مقاصد عطا کرنے والی تفصیلی روش پوچھتے ہیں۔ سوت کہتے ہیں کہ ہریشیکیش دولت سے نہیں، بھکتی سے خوش ہوتے ہیں؛ پھر گوتَم کی روایت میں راجا رُکمَانگَد کی کہانی آتی ہے—کشیراشائی/پدمنابھ کے ثابت قدم بھکت راجا نے ڈھول کی منادی سے ہری واسر (ایکادشی–دوادشی) کی پابندی قائم کی۔ اہل لوگ وشنو کے مقدس دن کا اعلان کریں؛ اس دن کھانا مذموم اور سماجی سزا کے لائق ہے، جبکہ دان اور گنگا اسنان کی ترغیب دی گئی ہے۔ باب میں زور دیا گیا ہے کہ بہانے سے بھی ایکادشی-دوادشی کا اہتمام وشنولोक تک پہنچاتا ہے؛ ہری کے دن کھانا ‘گناہ کو کھا جاتا ہے’ کہا گیا، اور روزہ دھرم کو سنبھالتا ہے۔ نتیجتاً چترگپت کے اندراج مٹ جاتے ہیں، دوزخیں بلکہ سُورگ بھی خالی ہو جاتے ہیں، اور جیو گڑوڑ پر سوار ہو کر اوپر اٹھتے ہیں۔ نارَد پاپیوں کی عدم موجودگی پر یم سے پوچھتے ہیں؛ یم بتاتا ہے کہ راجا کی منادیوں نے جیووں کو اس کے اختیار سے ہٹا دیا۔ غم زدہ یم نارَد اور چترگپت کے ساتھ برہملوک جاتا ہے؛ وہاں برہما کی کائناتی تصویرکشی، آخر میں یم کا نوحہ اور سبھا کی حیرت بیان ہوتی ہے۔
Yamavākya (The Words of Yama)
اس باب میں یم برہما سے کہتا ہے کہ روحانی جلال کا زوال موت سے بھی زیادہ ہولناک ہے، اور خواہ بے خواہش ہی کیوں نہ ہو، مقررہ فرض کی غفلت انسان کو پستی میں گرا دیتی ہے۔ وہ امانت/نیاس دھرم بیان کرتا ہے کہ آقا کے مال یا شاہی و عوامی خزانے میں خیانت اور انتظامی بدعنوانی کے بدلے طویل دوزخ اور پھر کیڑا، چوہا، بلی جیسی جونیں ملتی ہیں۔ یم کہتا ہے کہ وہ صرف پروردگار کے حکم سے حکومت کرتا ہے، مگر راجا رُکمَانگَد نے اسے ‘شکست’ دی، کیونکہ ہری کا دن ایکادشی گناہوں کو جڑ سے مٹا دیتا ہے؛ گویا زمین بھی تعظیم میں روزہ رکھتی ہے۔ وشنو کی اننّیہ شرناغتی کو سب سے اعلیٰ بتایا گیا—وشنو کے بغیر یَگّیہ، تیرتھ، دان، ورت یا سخت موت بھی پرم پد نہیں دیتی۔ ایکادشی کا ورت بھکتوں کو باپ دادا سمیت وشنو لوک کی طرف لے جاتا ہے، جس سے یم کو پِتر بندھن اور کرم کے سبب و علت کی فکر ہوتی ہے۔ آخر میں وشنو دوت یم کے تپتے راستے کو توڑ کر کُمبھی نرک سے جیووں کو چھڑا کر پرم دھام لے جاتے ہیں۔
Yama-vilāpana (The Lamentation Concerning Yama)
اُتّر بھاگ کے بھکتی-بھُوگول کے سیاق میں یم برہما (ویرانچ/پِتامہ) سے عرض کرتا ہے کہ بےعیب سداچاری لوگوں نے جس ہموار اور مستحکم راہ سے چکر دھاری بھگوان وِشنو تک رسائی پائی، وہی راستہ سب سے سہل ہے۔ وہ اعلان کرتا ہے کہ وِشنولोक بےپایاں اور اَکھَی (لازوال) ہے—بےشمار جہانوں اور جیووں سے بھی وہ کبھی ‘بھرتا’ نہیں۔ مادھو کے دھام میں رہائش محض سے، پاکی-ناپاکی کے فرق اور حتیٰ کہ ممنوع اعمال کے باوجود، سب کی تطہیر ہو جاتی ہے—ہری کے قرب کی برتری ظاہر ہوتی ہے۔ راج آگیہ اور اُپواس جیسے اسباب سے بھی وِشنولोक کی پرابتّی کا ذکر سن کر یم کو اندیشہ ہوتا ہے کہ روحوں پر اس کا اختیار کم ہو جائے گا۔ بھگوان خود بھکت کو گڑُڑ پر بٹھا کر ویشنو لوک لے جاتے ہیں اور اسے چتُربھُج روپ، پیتامبر، مالا اور اَنُلیپن عطا کر کے سَایُجیہ/سَارُوپیہ جیسی منزل دکھاتے ہیں۔ پھر راجا رُکمَانگد کی کمائی ہوئی شہنشاہی، ایسے دھرم نِشٹھ پُتر کو پالنے والی ماں کی ستائش، اور نیک بیٹے کی قدر کے مقابلے میں ادھرم پسند اولاد کی مذمت بطور نصیحت آتی ہے۔ آخر میں رُکمَانگد کی پیدائش کو ایک منفرد ‘شोधन’ (پاکیزگی) کی تدبیر کہا جاتا ہے اور ہری سیوا میں دکھائی دینے والی بےسابقہ تطہیری علامتوں پر یم حیرت کا اظہار کرتا ہے۔
Brahmavākya (Brahmā’s Pronouncement on Hari-nāma and the Non-punishability of Viṣṇu’s Devotees)
برہما دکھ دور کرکے گفتگو کو ہری نام اور وشنو بھکتی کی فیصلہ کن نجات بخش تاثیر کی طرف موڑتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ سَور مواقع پر بھگوان کے لیے روزہ اور نام کا اُچارَن پرم پد دیتا ہے؛ کرشن کو ایک بار نمسکار کرنا بھی دس اشومیدھوں کے اوبھرتھ اسنان سے بڑھ کر ہے، اور اشومیدھ کرنے والے کے برعکس بھکت پُنرجنم میں واپس نہیں آتا۔ کوروکشیتر، کاشی، وِرجا جیسے بڑے تیرتھ بھی زبان پر بسنے والے دو حرفی ‘ہری’ کے مقابلے میں ثانوی ٹھہرتے ہیں؛ موت کے وقت ہری سمرن سے سخت گناہ بھی مٹ جاتے ہیں—یہ بھکتی مرکز موکش دھرم ہے۔ پھر اختیار-دھرم میں کہا گیا کہ دیوی دوت اور اہلکار جناردن/مدھوسودن کے بھکتوں کو نہ روکیں؛ ان پر سزا کا اقدام سزا دینے والے ہی پر پلٹتا ہے۔ دوادشی ورت ملے جلے ارادوں سے بھی کیا جائے تو خود پاکیزہ کرتا ہے، اور وشنو بھکتوں کی مخالفت والے ادھرم کام میں برہما مدد سے انکار کرتے ہیں۔
Brahmā’s Discourse to Mohinī (Harivāsara, Desire, and the Satya-Test of Rukmāṅgada)
اس باب میں یم ہری-بھکتی کی برتری تسلیم کرتا ہے—جو ہری کا سمرن کریں، روزہ/اپواس رکھیں اور اس کی ستوتی کریں، انہیں یم قابو نہیں کر سکتا؛ ‘ہری’ کا اتفاقی تلفظ بھی پُنرجنم کو کاٹ کر یم کے دفتر سے آزاد کر دیتا ہے۔ سوتی برہما کے غور و فکر کا بیان کرتا ہے؛ یم کے فریضے کی توقیر کے لیے موہنی جیسی دل فریب دوشیزہ ظاہر ہوتی ہے اور شہوت کی سخت مذمت کی جاتی ہے—ممنوع رشتوں کی طرف محض دل میں خواہش بھی جہنم کا سبب اور جمع شدہ پُنّیہ کی بربادی ہے۔ برہما جسم کو ہڈی، گوشت اور نجاست وغیرہ سمجھ کر فریب دور کرتا ہے اور دوشیزہ کو اس کے کام کی ہدایت دیتا ہے۔ پھر سچائی اور ترکِ دنیا میں نمونہ راجا رُکمانگد اور شہزادہ دھرم انگد کی کہانی آتی ہے۔ برہما کی تدبیر یہ ہے کہ وہ دوشیزہ قسموں کے ذریعے راجا کو باندھے، ہری واسر کے ورت/اپواس کو چھوڑنے کا مطالبہ کرے، اور آخر میں اپنے ہی بیٹے کا سر قلم کرنے کی شرط رکھ کر سخت آزمائشِ ستیہ-دھرم کرائے؛ ثابت قدم سچ کا پھل وشنو دھام بتایا گیا ہے۔
The Description of Mandara (Mandaropavarṇanam) in the Mohinī Narrative
سوت بیان کرتا ہے کہ کنول نین دیوی برہما سے ایسا نام مانگتی ہیں جس کے سہارے وہ دیو-مندر کے احاطے میں آگے بڑھ سکیں۔ برہما انہیں سَگُن نام “موہنی” عطا کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ان کی حضوری میں روگوں کا شمن اور ہرس و سرور بخشنے کی قوت ہے۔ دیوی پرنام کر کے دیوتاؤں کے دیکھتے دیکھتے تیزی سے مندر (منداراچل) پہنچتی ہیں۔ پھر ادھیائے میں مندر پربت کی تیرتھ-مہِما پھیلتی ہے—واسکی اور سمندر منتھن کی نسبت، سمندر کی پیمائش و گہرائی، کورم کی ہڈیوں سے کِھیر کی دھارا اور آگ کا ظہور، اور پربت کا رتن و جڑی بوٹیوں کا خزانہ، دیوی کھیل کا میدان اور تپسیا کو جگانے والا مقام ہونا۔ سات یوجن نیل چمک والی شِلا آسن، دس ہاتھ پیمانے کا کَولیش لِنگ اور مشہور وِرش لِنگ مندر کا ذکر آتا ہے۔ موہنی راگ-تال، مورچھنا اور گاندھار ناد کے ساتھ نہایت لطیف دیوی سنگیت کرتی ہیں جس سے جمادات میں بھی کام ابھرتا ہے۔ اسے سن کر ایک دگمبر تپسوی عورت کا روپ دھار کر موہنی کے پاس آتا ہے، پاروتی کی نگاہ کے نیچے خواہش اور شرم میں مضطرب۔
The Dialogue between Rukmāṅgada and Dharmāṅgada
سوتا بیان کرتے ہیں کہ ہری بھکت راجا رُکمَانگَد اپنے بیٹے دھرمَانگَد کو راجیہ بھار سونپنے کی تیاری کرتا ہے اور دستبرداری کو دھرم قرار دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ قابل بیٹے کو راج دینا پتا کا دھرم ہے، ورنہ دھرم اور کیرتی گھٹتی ہے۔ سچا بیٹا وہ ہے جو باپ کا بوجھ اٹھائے، کیرتی میں آگے بڑھے اور پِترو آگیہ کی پاسداری کرے؛ غفلت نرک کا سبب ہے۔ رُکمَانگَد رعایا کی حفاظت کی مشقت اور ہری-واسَر کے اُپواس کو بیماری/معذوری کے بہانوں کے باوجود نافذ کرنے کو راج دھرم اور عوامی بھلائی کی نظم و ضبط بتاتا ہے۔ دھرمَانگَد ذمہ داری قبول کر کے لوگوں سے کہتا ہے کہ جہاں دھرم یُکت دَند چلتا ہے وہاں یم کا اختیار باطل ہو جاتا ہے۔ وہ جناردن کی سمَرَن، مَمَتا کا تیاگ، ورن آشرم کے مطابق کرتویہ اور ہری کے دن خصوصاً دوادشی کے سخت ورت کی تلقین کرتا ہے۔ آخر میں وشنو کی کائناتی برتری (ہویہ/کویہ کے واہک، سورج و آکاش میں انتر یامی) اور یہ सिद्धانت آتا ہے کہ سب کرم پُروشوتّم کو ارپن کیے جائیں۔ رُکمَانگَد مطمئن ہو کر پِتر لوک پہنچتا ہے اور نیک بیٹے سے حاصل ‘مکتی’ کے لیے اپنی پتنی کی ستائش کرتا ہے۔
Rukmāṅgada–Vāmadeva Saṃvāda: Ahimsa, Hunting, and the Fruit of Dvādaśī-Bhakti
وَسِشٹھ رُکمَانگَد کو رانی کی نصیحت سناتے ہیں—سچا راج دھرم یہ ہے کہ حیوانی ہنسا ترک کر کے دھارمک یَجْیَ اور بھکتی کے ساتھ جناردن کی پوجا کی جائے، ہنسا کے ذریعے نہیں۔ اندریہ بھوگ دکھ لاتا ہے؛ ہریشیکیش کی گھریلو پوجا بھی قتل سے بہتر ہے۔ ہنسا کا گناہ چھ افراد میں شریک ہوتا ہے—منظوری دینے والا، قاتل، اکسانے والا، کھانے والا، پکانے والا اور سامان مہیا کرنے والا؛ اہنسا پرم دھرم ہے۔ راجا کہتا ہے کہ اس کا جنگل جانا شکار کے لیے نہیں، حفاظت کے لیے ہے۔ وہ خوبصورت آشرم میں جا کر رشی وام دیو سے ملتا ہے؛ رشی اس کی ویشنو بھکتی کی ستائش کرتے ہیں، بھکتی کو جنم سے برتر بتاتے ہیں اور دوادشی ورت کو ویکنٹھ پہنچانے والا کہتے ہیں۔ عاجزی سے رُکمَانگَد پوچھتا ہے کہ غیر معمولی بیوی، دولت، صحت اور بھکت بیٹا کس پُرو پُنّیہ کا پھل ہیں—یہ سب نِرہری بھکتی اور سابقہ پُنّیہ کے پَریپاک کا نتیجہ ہے۔
The Vision of Mohinī (मोहिनी-दर्शनम्)
وَسِشٹھ منظر باندھتے ہیں اور راجہ کے سوال پر وام دیو سابقہ کرموں کی کہانی کھولتے ہیں—پہلے شودر جنم میں فقر و فاقہ اور گھریلو دکھ، پھر برہمن سنگت اور تیرتھ یاترا سے زندگی میں تبدیلی۔ متھرا میں وِشرانتی تیرتھ پر جمنا اسنان اور ورَاہ مندر کے سَنِدھ میں وہ ‘اشونیہ شَین ورت’ چار پارناؤں سمیت بتاتے ہیں—شراون دوتیہا کو لکشمی سمیت جگن ناتھ (وشنو) کی پوجا، شَیّا و وَستر دان اور برہمن بھوجن سے سمردھی اور پاپ ناش؛ دوادشی کی پوجا کو وشنو-سایوجیہ کا سبب کہا گیا ہے۔ پھر راجہ راجیہ بھار بیٹے کو سونپ کر ویراغیہ کی راہ لیتا ہے، اور وام دیو فرماںبردار بیٹے کے دھرم کو محض تیرتھ اسنان سے بھی برتر بتاتے ہیں۔ آزاد ہو کر راجہ مندر پربت کی یاترا میں دیویہ پربتوں اور سونے جیسے لوکوں کا درشن کرتا ہے؛ آخر میں موہنی کی شیریں آواز و صورت سے مسحور ہو جاتا ہے، اور موہنی سنگم سے پہلے دھارمک دان کا مطالبہ کر کے دھرم بمقابلہ کام کی آزمائش قائم کرتی ہے۔
Samayakaraṇa (Determination of Proper Times / Formalizing the Condition)
وَسِشٹھ بیان کرتے ہیں کہ راجا رُکمَانگَد موہنی کی موجودگی سے بیدار ہو کر خواہش میں بے قرار ہو جاتا ہے، اس کے حسن کی ستائش کرتا ہے اور راج، پاتال-نگری، دولت بلکہ اپنا آپ تک دینے کو آمادہ ہو جاتا ہے۔ موہنی دنیوی لالچ رد کر کے کہتی ہے: ‘جب مناسب وقت آئے تو جو میں کہوں، بلا تردد پورا کرنا’—یوں یہ ملاقات جذبے سے بڑھ کر ایک باندھنے والا دھارمک ‘سمَی’ (عہد) بن جاتی ہے۔ راجا ہر شرط قبول کرتا ہے؛ تب موہنی تینوں لوکوں میں اس کی ستیہ اور دھرم کی شہرت یاد دلا کر عہد کی ضمانت کے طور پر اس کا دایاں ہاتھ مانگتی ہے۔ راجا عمر بھر سچ نبھانے کا اقرار کرتا ہے، ہاتھ دینے کو کافی دلیل سمجھتا ہے اور پابندی کے لیے اپنے جمع کیے ہوئے پُنّیہ تک کو داؤ پر رکھ دیتا ہے۔ وہ اپنا اِکشواکو وَنش، پتا رِتَدھوج، اپنا نام رُکمَانگَد اور بیٹا دھرمَانگَد بتا کر مَندَر پربت تک پہنچنے اور موہنی کے گیت سے کھنچ جانے کی بات کہتا ہے۔ موہنی ظاہر کرتی ہے کہ وہ برہما سے پیدا ہوئی، مَندَر پر تپسیا اور شِو پوجا کر کے شِو کرپا سے راجا کو پایا؛ پھر وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے اٹھاتی ہے—اس ادھیائے میں عہد، ضمانت اور دھرم کی عظمت نمایاں ہوتی ہے۔
Mohinī-Saṃmohana (The Enchantment of Mohinī)
وَسِشٹھ رُکمَانگَد راجا کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں۔ موہنی گِرہیہ سُوتر کے طریقے کے مطابق فوراً نکاح/ویواہ پر اصرار کرتی ہے اور کہتی ہے کہ غیر شادی شدہ کنیا کا حاملہ ہونا بڑا سماجی اور یاج्ञک عیب ہے۔ وہ پُرانوں میں مذکور مذموم پیدائش (دیواکیرتی) کا حوالہ دے کر تین نسبوں کو چانڈال-جنم کہتی ہے: غیر شادی شدہ لڑکی سے پیدا ہونے والا، ہم-گوترا ملاپ سے پیدا ہونے والا، اور شودر باپ و برہمنّی ماں سے پیدا ہونے والا۔ شادی کے بعد راجا شدید بھکتی کے ساتھ اس کی مرادیں پوری کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔ موہنی سوتن کی حسد کا مسئلہ اٹھا کر زوجہ-دھرم بتاتی ہے کہ بیوی کو شوہر کے ساتھ ہی رہنا چاہیے، فقر میں بھی؛ شوہر کے مناسب مقام کو چھوڑنا مذموم ہے اور تاریک کرم-پھل دیتا ہے۔ وہ اس کے ساتھ شہر جانے کا فیصلہ کرتی ہے، مگر آخر میں خود-ہلاکت کے اشاروں کے ساتھ باب پُرہیبت نزاکت سے ختم ہوتا ہے۔
The Liberation of the Lizard (Godhā-vimukti)
وَسِشٹھ رِشی رُکمَانگَد راجا کو پہاڑ سے اترنے کا حال سناتے ہیں، جہاں عجیب و غریب معدنی مانند صورتیں دکھائی دیتی ہیں۔ زمین پر پہنچ کر راجا کے گھوڑے کی ٹاپ سے ابھی ابھی ظاہر ہوئی ایک گھر کی چھپکلی زخمی ہو جاتی ہے۔ رحم کھا کر راجا ٹھنڈے پانی سے اسے ہوش میں لاتا ہے۔ وہ اعتراف کرتی ہے کہ شاکل میں اس نے رَکشا پاؤڈر/تعویذ جیسے وشی کرن کے ذریعے شوہر کو قابو میں کرنے کی کوشش کی، جس سے وہ سخت بیمار پڑ گیا؛ اسی کے پھل میں اسے تامربھراشٹری نرک اور پھر پست یونیوں میں بار بار جنم ملا، اور وہ طویل عرصہ چھپکلی کے روپ میں رہی۔ وہ راجا کے پُنّیہ کے سہارے نجات مانگتی ہے—وجیا-دائے اعمال کا اَکشَی پھل، شراون دْوادشی ورت اور تریودشی کو درست پارن، سرَیُو اور گنگا جیسی پوتر ندیوں کی پاکیزگی، اور گھر میں ہری-سمرن۔ موہنی کرم کے سخت بدلے پر زور دیتی ہے، مگر راجا ہریش چندر، ددھیچی، شِبی، جیموتواہن کی مثالوں سے کرُونا کی تعلیم دے کر پُنّیہ منتقل کرنے کا عزم کرتا ہے۔ پُنّیہ پاتے ہی چھپکلی دےہ چھوڑ کر دیویہ آراستگی کے ساتھ وِشنو کے لوکوں کو روانہ ہو جاتی ہے—شرن آگتی، رحم اور ورت پھل سے موکش کا درس۔
Dialogue of Father and Son (Pitṛputra-saṃvāda) — Mohinī Episode
گناہ سے پاک ہونے کے بعد راجا رُکمाङگد موہنی کے ساتھ ہوا کی تیزی والے گھوڑے پر سوار ہو کر آسمانی سفر میں جنگلوں، دریاؤں، بستیوں، قلعوں اور خوشحال علاقوں کا مشاہدہ کرتا ہے اور لمحہ بھر وام دیو کے آشرم کا دیدار بھی کرتا ہے۔ پھر وہ ویدیشا پہنچ کر دوبارہ سلطنت کا اختیار قائم کرتا ہے۔ ادھر بیٹا دھرم آنگد اتحادی راجاؤں میں گھرا ہوا باپ سے ملنے آگے بڑھنے کی مناسبت و ثواب پر گفتگو کرتا ہے؛ بے ادبی کی تنبیہ سن کر بھی وہ بہت سے راجاؤں کے ساتھ آگے جا کر سجدۂ تعظیمی کرتا ہے، اور رُکمाङگد محبت سے اسے اٹھا کر گلے لگا لیتا ہے۔ پھر باپ راج دھرم کی آزمائش کے طور پر سوالات کی لڑی کرتا ہے—رعایا کی حفاظت، شریعتِ دھرم کے مطابق محصول، برہمنوں کی پرورش، نرم گفتاری، گایوں کی نگہداشت اور چنڈال کے گھروں تک رحم، منصفانہ فیصلے، ناپ تول کی پابندی، حد سے زیادہ وصولی سے پرہیز، جوا اور شراب سے اجتناب؛ اور نیند کو ادھرم کی جڑ کہہ کر ملامت کرتا ہے۔ دھرم آنگد بار بار نمسکار کر کے کہتا ہے کہ باپ کی فرمانبرداری ہی بیٹے کا اعلیٰ ترین دھرم اور معبود ہے۔ آخر میں وہ موہنی کے حسن پر حیران ہو کر اسے مایا سمجھنے لگتا ہے اور شاہی گھرانے کے لائق قرار دے کر ستائش کرتا ہے۔
Pātivratya-kathana (The Narrative of the Pativrata)
وَسِشٹھ راجا کو رُکمाङگد–دھرمाङگد سلسلے کا ایک واقعہ سناتے ہیں۔ رُکمाङگد بیان کرتا ہے کہ دیوگیری میں تپسیا کرنے والی سُدرشنا/موہنی کو مَندَر پہاڑ پر دیوی یوگ سے پایا اور اسے دھرمाङگد کے لیے ماں کے مانند مقام دے کر پیش کیا۔ دھرمाङگد مثالی فرزندانہ عقیدت دکھاتا ہے—ساشٹانگ پرنام، پاؤں دھونا، چرنودک کو سر پر رکھنا، اور اس کے دل فریب روپ کے سامنے بھی ضبطِ نفس۔ زیورات کی پورانک اصل اور فراخ دلانہ دان کا بیان راج دھرم اور بھکتی دان کو مضبوط کرتا ہے۔ پھر نصیحت—راجا کی محبوبہ پتنی کا احترام، حسد اور سوتنوں کے جھگڑے کی مذمت، اور پتی کے ہِت کے مطابق سیوا کی ستائش۔ آخر میں پتی ورتا کی کہانی: پتنی دکھ سہہ کر کٹھن ورت رکھتی ہے اور بیمار پتی کے ساتھ آگ میں داخل ہو کر پاپوں کی شُدھی اور سوَرگ گتی پاتی ہے۔
Mohinī’s Speech (Mohinyāḥ Bhāṣaṇam)
بیٹا اپنی ماں سندھیاولی سے حسد چھوڑ کر موہنی کو سوتن نہیں بلکہ سَہَ دھرمِنی کے طور پر ماں جیسا احترام دینے کی درخواست کرتا ہے اور سوت کو مادری راستبازی سے ماننے کے نایاب دھرم کی ستائش کرتا ہے۔ سندھیاولی راضی ہو کر ایسے پرم ورت کی مہिमा بیان کرتی ہے جو جلد پھل دیتا اور بڑے پاپوں کا نाश کرتا ہے؛ وہ سکھاتی ہے کہ ایک سُگُنی بیٹا بہت سے اذیت دینے والے بیٹوں سے بہتر ہے اور بیٹے پر عمر بھر ماں کا رِن رہتا ہے۔ اس کی نگاہ سے برتن چھ رسوں والے بھوجن سے بھر جاتے ہیں؛ موہنی وِدھی کے ساتھ سیوا کرتی ہے اور کھانے کے بعد جل-شودھی اور تامبول وغیرہ کے کرم پورے ہوتے ہیں۔ بیٹے کی ماتا-بھکتی دیکھ کر موہنی دھارمک پتر کی ماں بننے کا سنکلپ کر کے راجا کو بلاتی ہے؛ راجا آتا ہے تو وہ راج وibhav کی لَگن اور دَمپتی دھرم کی غفلت پر ڈانٹتی ہے، کہتی ہے کہ شری اور مرتبہ پُنّیہ سے ملتے ہیں اور راج بھار کسی یوگّیہ وارث کے سپرد ہونا چاہیے۔ آخر میں راجا انکساری سے جواب دیتا ہے—ماں، بیاہ اور راج دھرم میں ہم آہنگی ہی دھرم کا نچوڑ ہے۔
Honoring the Mother (Mātṛpūjanam): Consent, Equity, and Dana to Restore Household Dharma
موہنی/وِموہنی کے فریب میں تھکا ہوا بادشاہ اپنے بیٹے کو حکم دیتا ہے کہ اسے بیوی کی طرح عزت دے، مگر وہ چلی جاتی ہے۔ ہوش میں آکر بادشاہ اس کی نصیحت قبول کرتا ہے۔ موہنی اسے دھرم کی راہ دکھاتی ہے—بڑی رانیوں کو تسلی دے؛ بڑی بیوی کی تذلیل کرکے ‘چھوٹی’ کو بٹھانا ہلاکت لاتا ہے، پتی ورتا بیویوں کے آنسو روحانی سکون کو جلا دیتے ہیں۔ پھر بے مثال سندھیہاولی کی ستائش ہوتی ہے اور گھر کی مائیں جمع ہوکر زہر، آگ، تلوار کی دھار جیسی مثالوں سے خودکُش خواہش کی مذمت کرتی ہیں۔ وہ قاعدہ بتاتی ہیں—شوہر دوسری بیوی رکھ سکتا ہے مگر صرف بڑی بیوی کی رضامندی سے؛ بڑی کو دوگنا حصہ اور جو وہ چاہے، اور میاں بیوی مل کر اِشٹ و پورت کے اعمال کریں۔ اس کے بعد شہزادہ عظیم دان کرتا ہے—مال، شہر، رتھ، سونا، خادم، گائیں، اناج، گھی، ہاتھی و اونٹ، خوشبوئیں، برتن وغیرہ—اور بلا امتیاز سب ماؤں کی تعظیم کرکے خاندان میں ہم آہنگی قائم کرتا ہے۔ مائیں خوش ہوکر دعا دیتی ہیں کہ بادشاہ موہنی کے ساتھ حسد کے بغیر سکھ بھوگے؛ یوں ماتر سمان اور منصفانہ تقسیم سے گھریلو دھرم بحال ہوتا ہے۔
The Description of Mohinī’s Love Episode
وَسِشٹھ دھرم انگد کو راج دھرم کی تعلیم دیتے ہیں—بدی کا قلع قمع، ہمہ وقت بیداری، تجارت کی حفاظت، دان، کجی سے پرہیز، اور خزانہ و رعایا کی حکیمانہ نگرانی؛ جیسے شہد کی مکھی پھولوں سے نچوڑ لے۔ شہزادہ والدین کی تعظیم کرتا ہے، باپ کو آسائشیں مہیا کرتا ہے اور زمین کی حفاظت کی ذمہ داری سنبھالتا ہے۔ اس کی حکومت میں سماج گناہ سے دور اور خوشحال ہو جاتا ہے—درخت پھل دیتے ہیں، کھیت اناج اگاتے ہیں، گائیں بہت دودھ دیتی ہیں، گھرانے باانضباط رہتے ہیں اور چوروں کا خوف نہیں رہتا۔ مادھو کے دن سے وابستہ ورت کو ماحول کی پائیداری اور خوشحالی کا سبب کہا گیا ہے اور ہری بھکتی کو سماج کا روحانی محور بتایا گیا ہے۔ پھر قصہ پلٹتا ہے—بوڑھا راجا بیٹے کی کامیابی سے گویا جوان ہو کر وِموہنی/موہنی پر فریفتہ ہو جاتا ہے؛ شہوانی فتنہ بڑھتا ہے اور وہ ایسی چیزیں بھی دان کرنے کی قسمیں کھاتا ہے جو دان کے لائق نہیں—مایا کے ذریعے تمیز کے زوال کی مثال۔
Dharmāṅgada’s Conquest of the Directions
وَسِشٹھ بیان کرتے ہیں کہ رُکمَانگَد حسی آسائش میں ڈوبا ہوا آٹھ برس گزارتا ہے۔ نویں برس اس کا بیٹا دھرمانگَد ملَیَ پہاڑ سے لوٹتا ہے؛ ویشنو اَستر سے پانچ وِدیادھروں کو شکست دے کر پانچ کامد رتن لاتا ہے—دولت بخش، لباس و زیور بخش، جوانی/امرت بخش، سبھا و طعام بخش، اور تینوں لوکوں میں آکاش گمن کا داتا۔ وہ رتن والدین کے قدموں میں نذر کر کے موہنی کو زیور کے لیے دینے کی درخواست کرتا ہے۔ پھر وہ سات دیپوں کی فتح، سمندر میں ورود، ناگوں کی بھوگوتی پر غلبہ، جواہرات و موتیوں کے ہار حاصل کرنا، دانَووں کو زیر کرنا، اور رَساتل میں ورُن سے ایک سال تک جنگ کا ذکر کرتا ہے؛ نارائن اَستر سے ورُن کو مغلوب کر کے بھی جان بخشتا ہے اور گھوڑے اور ایک کنیا کو زوجہ کے طور پر پاتا ہے۔ آخر میں نصیحت—ساری خوشحالی باپ پر موقوف ہے، بیٹے کو فخر نہیں کرنا چاہیے، برہمنوں کا حق روکنا گناہ ہے، اور بیٹے باپ کے بیج کی قوت سے ہی عمل کرتے ہیں۔ دھرمانگَد اپنی نو بیاہتا کو ماتاؤں کی سبھا میں برکت و حفاظت کے لیے پیش کرتا ہے۔
Śikṣā-nirūpaṇa (Exposition of Discipline): Son’s Marriage, Paternal Duty, and Royal Administration
ماندھاتا وِسِشٹھ سے پوچھتے ہیں کہ بیٹے کی بات سن کر راجا نے کیا کیا اور برہما (وِدھاتṛ) سے وابستہ وہ موہنی کون تھی۔ وِسِشٹھ بیان کرتے ہیں کہ وِشنو بھکت راجا محبوبہ کے ساتھ خوش ہو کر دولت تقسیم کرتا ہے: بیٹے کی شادی کے لیے ایک حصہ، موہنی کے لیے ایک حصہ، اور باقی مناسب طور پر۔ وہ خاندانی پجاری کو حکم دیتا ہے کہ شُبھ مُہورت میں دھرم انگد کی شادیاں شاستروکت ریت سے کرائے، اور کہتا ہے کہ بیٹے کی شادی نہ کرانا سخت گناہ ہے، جبکہ شادی کرانے سے بیٹے کی خوبیوں یا خامیوں سے قطع نظر یَجْیوں کا پھل ملتا ہے۔ دھرم انگد ورُن کی بیٹی اور ناگ کنواریوں سے ودھی کے مطابق بیاہ کرتا ہے، برہمنوں کو دان دیتا ہے اور والدین کی تعظیم کرتا ہے۔ وہ ماں سندھیہ والی سے کہتا ہے کہ میرا سب سے بڑا ورت سوَرگ سُکھ نہیں بلکہ پتا کی سیوا ہے۔ پھر جب اسے راجیہ کے انتظام پر بھیجا جاتا ہے تو وہ نگرانی، انصاف کے طریقے، درست تول و پیمائش، گھروں کی حفاظت اور سماجی ضابطے قائم کرتا ہے، اور آخر میں شاہی اختیار سے وِشنو کی یکانت بھگتی کا سخت نفاذ کراتا ہے۔
Kārtika-Māhātmya (The Greatness of Kārtika)
وَسِشٹھ راجا ماندھاتا کو ہری واسر کے اہتمام سے قائم ایک مثالی راج کا حال سناتے ہیں—دھرم سے لبریز، خوشحال، اور وِشنو کے بیدار ہونے کے مبارک موسم کے پس منظر میں روشن۔ پھر رُکمَانگَد اور موہنی کا قصہ آتا ہے: سحر و لذت کے باوجود راجا اٹل رہتا ہے کہ وِشنو کے مقدس دنوں اور کارتک ورت کی بے قدری نہ ہو۔ وہ موہنی کو کارتک ماہ کی برتری سمجھاتا ہے کہ تھوڑا سا ضبط بھی اَمر پُنّیہ دیتا ہے اور وِشنولोक تک رسائی بخشتا ہے۔ اس ادھیائے میں ورت-کلپ کے احکام بیان ہیں—کِرِچّھر اور پراجاپتیہ جیسے پرायशچت، روزہ/اُپواس کے طریقے، دیپ دان کو سب سے اعلیٰ دان، پربودھنی، بھیشم پنچک، رات بھر جاگَرَن، پُشکر، دوارکا اور شَوکر/وراہ درشن سے وابستہ تیرتھ پھل، نیز تیل، شہد، گوشت، جنسی لذت اور بعض غذاؤں کی ممانعت۔ آخر میں چاتُرمَاسیہ سے متعلق ورتوں کے اُدیापन کے قواعد—ہر پرہیز کے مطابق دان، دَکشِنا، برہمن رہنمائی، اور غفلت پر کرم پھل کی تنبیہ۔
The Discourse of Rukmāṅgada (Prabodhinī Ekādaśī, Kārtika-vrata, and Satya-dharma)
موہنی بادشاہ رُکماؔنگد کو کار्तک ورت چھوڑنے پر للچاتی ہے اور ورت کے بدلے لذّت و وصل کی پیشکش کرتی ہے۔ خواہش اور دھرم کے بیچ مضطرب راجا اپنی بڑی رانی سندھیہاولی کو بلا کر حکم دیتا ہے کہ بھکتی-پُنّیہ محفوظ رہے اس لیے کِرِچّھر/ورکِرِچّھر تپسیا کرے۔ اسی دوران شہر میں نقّارے کے اعلان سے کار्तک کے آچارن عام کیے جاتے ہیں—سحر خیزی، ایک وقت کا بھوجن، نمک و کھار سے پرہیز، ہویشیہ آہار، زمین پر سونا، ویراغ اور پُروشوتم کا سمرن۔ اعلان پربودھنی (بودھنی) ایکادشی پر منتہی ہوتا ہے—مکمل اُپواس، ہری کو جگانا اور نذر و نیاز کے ساتھ پوجا؛ عدمِ پابندی کو شہری نظم کے لیے قابلِ سزا بتایا جاتا ہے۔ روبرو ہونے پر راجا ایکادشی کو مُکتی داینی کہہ کر قواعد و استثنا بیان کرتا ہے—دوادشی کا پارن نہ چھوٹے؛ شیرخوار، کمزور، حاملہ اور محافظ/سپاہی مستثنیٰ ہیں۔ وہ موہنی کے کھانے کے مطالبے کو رد کر کے لذّت پر ورت کی پاسداری کو ترجیح دیتا ہے۔ آخر میں ستّیہ-ستُتی ہے—سچ سے سورج و چاند، عناصر، زمین اور سماجی استحکام قائم ہیں؛ اس لیے ورت نبھانا راجا کی اعلیٰ ترین اخلاقی ضرورت ہے۔
Mohinī-prashna (The Question about Mohinī)
بادشاہ ہری واسر (ایکادشی) کے دن کھانا کھانے سے انکار کرتا ہے۔ وہ پُرانوں کے احکام کا حوالہ دے کر ناقابلِ اعتماد تعلیمات کی مذمت کرتا ہے اور ایکادشی کو سخت ممانعت قرار دیتا ہے—یہاں تک کہ پُروڈاش بھی ‘ممنوع غذا’ ٹھہرتا ہے۔ کمزوروں کے لیے صرف تھوڑا سا جڑیں، پھل، دودھ، پانی وغیرہ کی اجازت دے کر، کھانے پر دوزخی انجام کی تنبیہ کرتا ہے۔ موہنی ویدک رسم و رواج والوں کا حوالہ دیتی ہے کہ مکمل روزہ انہیں پسند نہیں، اور کہ راجا کا سْوَدھرم رعایا کی حفاظت ہے جو ریاضتی ورت سے بڑھ کر ہے۔ بادشاہ شاستروں کی درجہ بندی بیان کرتا ہے: وید عملِ یَجْن میں ظاہر ہوتا ہے اور گِرہستھ کے لیے سمرتی کی صورت لیتا ہے؛ پُران دونوں کی بنیاد و توضیح ہیں، شروتی میں نہ ملنے والے تِتھی-ورت-نِیَم بتاتے ہیں اور گناہ کے لیے دوا کی مانند پرایَشچِتّ سکھاتے ہیں۔ پھر موہنی گوتم وغیرہ وید دان برہمنوں کو بلاتی ہے؛ وہ کہتے ہیں اَنّ سے ہی کائنات قائم ہے، اپنے منصب سے باہر ورت پرَدھرم بن کر تباہی لاتا ہے؛ حکمرانوں کے لیے حکمرانی ہی ورت ہے، اور خون کے بغیر منظم ریاست ہی سچا یَجْن۔
Mohinī-ākhyāna: The Trial of Ekādaśī and the King’s Satya-saṅkalpa
وَسِشٹھ بیان کرتے ہیں کہ موہنی کے کلمات کے بعد ایک نزاع اٹھا۔ برہمنوں نے راجا سے کہا کہ ایکادشی کا روزہ شاستر کے مطابق نہیں، اور خاص طور پر حکمرانوں کے لیے فاقہ مناسب نہیں؛ برہمنوں کی اتھارٹی پر بھروسا کر کے ‘ورت بھنگ’ کے بغیر کھانا کھا لو۔ راجا رُکمَانگَد ویشنو دھرم کی مر्यادا پیش کرتا ہے—دونوں پکشوں کی ایکادشی میں نِراہار، نشہ آور چیزوں کا ترک، اور برہمنوں پر تشدد سے پرہیز؛ اور کہتا ہے کہ ایکادشی کو کھانا روحانی زوال کا سبب ہے۔ وہ اٹل رہتا ہے کہ برہما وغیرہ بھی اسے ورت سے نہیں ہٹا سکتے؛ ورت توڑنے والوں کے لیے نرک کا پھل اور ایکادشی کو ہلکا کرنے والی تاویلات کی مذمت کرتا ہے۔ غضبناک موہنی اسے اَدھرم اور جھوٹ کا الزام دے کر رشیوں کے ساتھ چلی جاتی ہے؛ رشیوں کا نوحہ اور راجا کی پریشانی بڑھتی ہے۔ پھر بیٹا دھرمَانگَد درمیان میں آ کر موہنی کو واپس لاتا ہے اور باپ کو سَتیہ-پرتِگیا نبھانے پر آمادہ کرتا ہے—راجا کی سچائی اور عوامی ناموری بچانے کے لیے خود کو بیچ دینے تک کو تیار ہو جاتا ہے۔ آخر میں تعلیم یہ ہے کہ ورت ٹوٹے تو دھرم اور شہرت دونوں گر جاتے ہیں۔
Mohinī-Ākhyāna: Rukmāṅgada’s Refusal to Eat on Harivāsara (Ekādaśī)
موہنی کے واقعے میں راجا رُکمَانگَد ہری واسر/ایکادشی کے دن کھانے سے پرہیز کے ورت کا اٹل عزم بیان کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ شہرت جاتی رہے، جھوٹا کہہ کر الزام لگے، سلطنت برباد ہو، لوگوں کی ملامت ہو، عزیزوں سے جدائی ہو، حتیٰ کہ موت یا دوزخ بھی قبول ہے؛ مگر ایکادشی کا ورت نہیں توڑوں گا۔ باب میں ایکادشی کے روزے کو گناہ نِشٹ کرنے والا، یَش اور پُنّیہ دینے والا سادھَن بتایا گیا ہے اور ممنوع کھانے، بُری صحبت اور شراب نوشی جیسے سرکشی بھرے طرزِ زندگی کی مذمت کی گئی ہے۔ ‘یہ میرا ہے’ والی موہ و مَمَتا کو بندھن کی جڑ بتا کر ورت سے پیدا ہونے والے ضبطِ نفس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ڈھول کی گونج کی طرح عوام میں معتبر یہ ورت، اور اسی کی وفاداری سے رُکمَانگَد کی تینوں لوکوں میں کیرتی قائم رہتی ہے۔
The Account of Kāṣṭhīlā (Kāṣṭhīlā-ākhyāna) within the Mohinī Narrative
وَسِشٹھ بیان کرتے ہیں کہ دھرم انگد اپنی ماں سندھیہ والی کو بلاتا ہے۔ سندھیہ والی راجا رُکم انگد اور موہنی کے درمیان ثالث بن کر کہتی ہے کہ ہری واسر/ایکادشی کے دن راجا کو گناہ آلود یا ممنوع غذا نہیں کھانی چاہیے؛ راجا کی سچائی اور ورت کی حفاظت کرتے ہوئے موہنی سے کہتی ہے کہ کوئی اور वर مانگ لے۔ پھر استری دھرم کی گفتگو بڑھتی ہے—بیوی کا فرض ہے کہ شوہر کے دھرم ورت کو قائم رکھے، اور شوہر کو اَدھرم پر مجبور کرنے سے دوزخی انجام اور پست جنم ملتے ہیں۔ موہنی گناہ، تقدیر اور حمل ٹھہرنے کے وقت ذہنی کیفیت کی برتری—جس سے اولاد کی طبیعت بنتی ہے—پر بھی تفصیل سے بولتی ہے۔ اس کے بعد ضمنی حکایت میں کاشٹھیلا سندھیہ والی کے سامنے پچھلے جنم کا اقرار کرتی ہے: غرور، گرے ہوئے شوہر کی مدد سے انکار اور گھر کی لالچ نے کرموں کی گراوٹ پیدا کی؛ جنموں کے سلسلے میں راکشس واقعہ آتا ہے جس میں اغوا، سوتنوں کی رقابت، فریب اور قریب آتی خونریزی کا بحران ہے۔ باب بحران کے بیچ ختم ہوتا ہے اور ایکادشی دھرم و ستیہ ورت کو اخلاقی مرکز بناتا ہے۔
Kāṣṭhīla-Upākhyāna: Rākṣasī, Spear-Śakti, and Kāśī as Śakti-kṣetra
ایک راکشسی، دھاوا بولتے راکشس سے خوف زدہ ہو کر اپنے برہمن شوہر سے کہتی ہے کہ دہکتی ہوئی شکتی-بھالا پھینکے؛ وہ ہتھیار راکشس کا سنہار کر دیتا ہے۔ پھر وہ اپنے ہی راکشس شوہر کی ہلاکت کا بندوبست کر کے برہمن کو غار میں لبھانے کی کوشش کرتی ہے۔ عورت پر بھروسا کرنے کے بارے میں نیتی شاستر کی تنبیہوں کے بیچ مکالمہ دھرم کی باریکی سکھاتا ہے—وشنو کے اوتاروں، ویاس اور موہنی-پرسنگ میں شیو کے بظاہر متضاد افعال کی وجہ، سداچار اور مقررہ رسومات کی اہمیت، اور یہ کہ سچ برہمن ہے مگر گفتار کو احتیاط سے قابو میں رکھنا چاہیے تاکہ نقصان نہ ہو۔ کاشی/وارانسی کو پانچ گویوتیوں کے اندر شکتی-کشیتر کہا گیا ہے جہاں موت سے پُنرجنم ختم ہوتا ہے، اور برہمن کو حکم ملتا ہے کہ کنیا کو پِتَرگھر واپس پہنچائے۔ راکشسی اپنا پچھلا کرم (کندلی→شاپ→راکشسی جنم) بتا کر دھرم-رکشا کو اپنا فریضہ کہتی ہے، پانچ عناصر کے سامنے قسم کھاتی ہے اور غار کے خزانے سمیت برہمن اور رتناؤلی کو ہوا کے راستے کاشی پہنچا دیتی ہے۔
The Description of Kāśī (Kāśī-māhātmya): Avimukta, Kapālamocana, and Śiva’s Purification
کاشٹھیل کاشی/وشویشور میں آمد بیان کرتا ہے اور کاشی کو گناہ ناشنی اور موکش داینی بتا کر یہ عقیدہ پیش کرتا ہے کہ موکش کے لیے ویشنو کشتروں کی برتری ہے۔ پھر شیو کا برہما کے پانچویں سر کو کاٹنے کا اپرادھ، کَپال کا چمٹ جانا اور برہماہتیا کے پاپ کا پیچھا کرنا مذکور ہے؛ وشنو سمجھاتے ہیں کہ کرم پھل مقررہ بھٹکنے اور تپسیا سے بھگتنا ہی پڑتا ہے۔ بدریکاشرم، کوروکشیتر/برہماہرد وغیرہ کی طویل تیرتھ یاترا کے بعد شیو اویمکت کی سرحد پر پہنچتا ہے جہاں برہماہتیا داخل نہیں ہو سکتی۔ شیو وشنو کی کثیر روپ ستوتی کرتا ہے، وشنو-کشیتر میں واس کا ور پاتا ہے اور وہ جگہ شیو بھکتوں میں بھی مشہور ہو جاتی ہے۔ آنسوؤں سے بندوسرس پیدا ہوتا ہے؛ اسنان سے کَپالموچن تیرتھ میں کَپال اتر جاتا ہے۔ آخر میں کاشی کی یکتا تاثیر—کرموں کا زوال، وہاں موت سے مکتی، اور دنیاوی خواہش والوں کو بھی فائدہ—کی ستائش ہے۔
Kāṣṭhīlā-Ākhyāna: Ratnāvalī’s Return, Co-wife Dharma, and the Phālguna Propitiation
کاشٹھیلا بیان کرتی ہے کہ ایک برہمن اپنی راکشسی بیوی کے ساتھ بچائی گئی شہزادی رتناؤلی کو لے کر راجہ سُدیُمن کے شہر پہنچتا ہے۔ دربان اباہو خبر دیتا ہے؛ راجہ گنگا کے کنارے آ کر بیٹی سے ملتا اور خوش ہوتا ہے۔ رتناؤلی بتاتی ہے کہ راکشس تلپتھ اسے ارنواگِری پہاڑ پر لے گیا تھا، مگر راکشسی بیوی کے بُدھی-یوگ سے اس کی اَدھرم نیت پلٹ گئی اور برہمن بھی بچ گیا۔ پھر دھرم کا سوال اٹھتا ہے—‘سہاسن’ (ایک ہی آسن میں شراکت) کی علامت سے رتناؤلی دھرم-دوش سے بچنے کے لیے برہمن کو شوہر کے طور پر مانگتی ہے۔ سُدیُمن راکشسی سے درخواست کرتا ہے کہ رتناؤلی کو دوسری بیوی کے طور پر قبول کر کے سوتن کی رقابت کے بغیر حفاظت کرے۔ راکشسی عوامی پوجا کی شرط پر راضی ہوتی ہے—پھالگُن شُکل اَشٹمی سے چتُردشی تک سات دن کا اُتسو، گیت و ناٹک کے ساتھ، اور سُرا، گوشت، خون وغیرہ کی نذر؛ اور بھکتوں کی حفاظت کا وعدہ کرتی ہے۔ آخر میں لالچ اور ازدواجی دولت کی نصیحت—پہلی بیوی پراکّالِکی غربت میں شوہر کو چھوڑ کر رسوا ہوتی ہے؛ دوبارہ ملاپ کے بعد عذاب بھگتتی ہے اور یم کی تنبیہ سنتی ہے کہ شوہر کے مال اور جان کی حفاظت ہی استری-دھرم کا مرکز ہے۔
The Greatness of the Month of Māgha (Māgha-snāna, Harivāsara, and the Kāṣṭhīlā-Upākhyāna)
وَسِشٹھ ایک مکالمہ بیان کرتے ہیں: سندھیاؤلی کی ملاقات کاشٹھیلا سے ہوتی ہے جو سابقہ زندگی میں ازدواجی فریب اور مال روک لینے کے سبب ذلیل رحم (نِندِت یونی) کی طرف جا رہی ہے۔ رحم دلی سے سندھیاؤلی پوچھتی ہے کہ ایسے پست جنم سے نجات کیسے ملے؟ کاشٹھیلا ماغھ-ماہاتمیہ سکھاتی ہے: ماغھ کی نایابی و برتری، سورج نکلنے سے پہلے صبح کا اسنان، پُنّیہ کی درجہ بندی (قدرتی پانی افضل، کنویں کا اٹھا کر لایا ہوا پانی کم)، اسنان کا مقصد دھرم-سیوا، اور دریا نہ ہوں تو متبادل قواعد۔ روزانہ تل اور شکر کا دان، مقررہ اناج اور گھی سے ہوم، برہمنوں کو بھوجن، کپڑوں اور مٹھائی کا دان، اور وِشنو کے بے داغ روپ سورَیَ کی پرارتھنا بتائی گئی ہے۔ پھر ایکادشی/ہری واسر اور دوادشی کو مہاپاتک-ناشک، مشہور تیرتھوں سے بھی برتر کہا گیا۔ نئے تانبے کے برتن میں بیجوں سمیت وراہ-سونے کا دان، رات بھر جاگنا، ویشنو برہمن کو دان اور درست پارن سے عدمِ تولد (پُنرجنم کا خاتمہ) کا پھل بتایا گیا۔ آخر میں کاشٹھیلا سُلوچنا کے پچھلے ایکادشی پُنّیہ کا چوتھائی حصہ مانگتی ہے؛ پانی کے ساتھ سنکلپ کر کے پُنّیہ کی منتقلی ہوتی ہے اور کاشٹھیلا نورانی ہو کر وِشنو دھام پہنچتی ہے—پتی ورتا دھرم اور کرم کے قانون کی تاکید ہوتی ہے۔
Saṃdhyāvalī-ākhyāna (Mohinī-parīkṣā; Dvādaśī-vrata-mahattva)
وَسِشٹھ بیان کرتے ہیں کہ برہما کی بیٹی موہنی فریب پھیلانے کے ارادے سے سندھیہاولی پر نہایت سخت مطالبہ ڈالتی ہے۔ دھرم اور پتی ورتا کے دان کی آزمائش کے لیے وہ کہتی ہے کہ اگر لڑکا دھرم آنگد ہری/دوادشی کے پرہیز کو توڑ کر کھا لے تو ‘جان سے بھی زیادہ عزیز’ چیز کے طور پر اپنے بیٹے کا سر نذر کرنا ہوگا۔ سندھیہاولی کانپتی ہے مگر پھر سنبھل کر پورانک سند سے کہتی ہے کہ دوادشی ورت کا پالن سُورگ اور موکش دینے والا ہے؛ دولت، رشتے یا جان کے لیے بھی اسے ترک نہیں کرنا چاہیے۔ وہ سچ اور ورت پر قائم رہتے ہوئے موہنی کو راضی کرنے کا وعدہ کرتی ہے۔ پھر وہ ویروچن اور اس کی پتنی وشالاکشی کی قدیم مثال سناتی ہے جو برہمنوں کی سیوا اور پادودک/چرن امرت پینے میں لگے رہتے تھے۔ اسوروں کی قوت سے پریشان دیوتا وشنو کی بے شمار صورتوں کے ساتھ وسیع ستوتی کرتے ہیں؛ وشنو بوڑھے برہمن کے بھیس میں ویروچن کے گھر آ کر آخرکار اس سے اپنی عمر کا دان مانگتے ہیں۔ وشنو کے چرن امرت کے پرساد سے وہ جوڑا دیویہ روپ پا کر اوپر اٹھتا ہے اور دیوتاؤں کی تکلیف دور ہو جاتی ہے۔ آخر میں سندھیہاولی کہتی ہے کہ پتی رکمانگد کے لیے بھی وہ سچ سے نہیں ہٹے گی؛ سچ ہی پرم گتی ہے اور سچ سے گرنا ذلت و پستی ہے۔
Dharmāṅgada’s Discourse (Dharmāṅgadopadeśa) in the Mohinī Episode
وَسِشٹھ بیان کرتے ہیں کہ رانی سندھیہاولی راجا رُکمَانگَد کو نصیحت کرتی ہے کہ بیٹے کی قربانی جیسی ناقابلِ برداشت قیمت بھی دینی پڑے تو بھی سچ اور دھرم کو چھوڑنا اس سے بڑھ کر ہولناک ہے؛ دھرم کا ترک ذاتی آفت سے بھی بڑا انرتھ ہے۔ یہاں ‘نِکَش’ (کَسوٹی) کا مضمون گہرا ہوتا ہے: جب ورت کی آزمائش ہوتی ہے تو ہری (ہریشی کیش) پھل عطا کرتے ہیں، اور سچ کی स्थापना کے لیے آنے والی مصیبتیں بھی پُنّیہ بن جاتی ہیں۔ رُکمَانگَد موہنی سے التجا کرتا ہے کہ بیٹے کے بدلے کوئی اور تپسیا قبول کرے؛ وہ نایاب روحانی نعمتوں—سُپُتر، گنگا جل، ویشنو دیکشا، ہری پوجن، اور ماہِ ماغھ کے کرم—کی تعریف کرتا ہے۔ موہنی واضح کرتی ہے کہ اسے صرف ہری کے مقدس دن راجا کا بھوجن مطلوب ہے، بیٹے کی موت نہیں۔ پھر دھرمَانگَد آگے بڑھ کر تلوار پیش کرتا ہے اور باپ کو وعدہ پورا کرنے پر ابھارتا ہے—خود قربانی باپ کے سچ کی حفاظت والا دھرم ہے اور اعلیٰ لوکوں کا سبب بنتی ہے۔ باب کے اختتام پر ستیہ کو موکش دینے والا اور کیرتی بڑھانے والا کہا گیا ہے، چاہے دیوتا بھی بھکت کے راستے میں رکاوٹ بن کر کیوں نہ ظاہر ہوں۔
The Vision of the Lord Granted to Rukmangada (Prepared to Slay His Son)
وَسِشٹھ موہنی-اُپاکھیان کا نقطۂ عروج بیان کرتے ہیں۔ موہنی کے مطالبے اور اپنے دھارمک عہد سے بندھے راجا رُکمَانگَد تلوار اٹھا کر اپنے بیٹے دھرمَانگَد کو قتل کرنے پر آمادہ ہوتا ہے۔ بیٹا پِتربھکتی اور شَرَناگتی کے بھاؤ سے اپنی گردن پیش کر دیتا ہے؛ تب زمین لرزتی ہے، سمندر اُبلتے ہیں، شہابِ ثاقب گرتے ہیں—دھرم کی آزمائش کی سنگینی ظاہر ہوتی ہے۔ موہنی غم سے گر پڑتی ہے اور ڈرتی ہے کہ دیوتاؤں کا مقصد ناکام ہو گیا۔ فیصلہ کن لمحے میں بھگوان وِشنو ساکشات ظاہر ہو کر راجا کا ہاتھ تھام لیتے ہیں، اپنی رضا مندی ظاہر کرتے ہیں اور رُکمَانگَد کو بیوی سندھیہاولی اور بیٹے سمیت اپنے دھام/حضور میں داخلہ عطا کرتے ہیں۔ دیولोक میں جشن ہوتا ہے؛ چترگپت وغیرہ تقدیر کے کھاتے میں ترمیم کرتے ہیں، اور بتایا جاتا ہے کہ سزا و جزا صرف پرمیشور کے اعلیٰ حکم سے ہی جاری ہوتی ہے۔
Śāpaprāpti (Receiving a Curse) — Mohinī Narrative
موہنی–رُکمَانگَد کے سلسلے میں یم افسوس کرتا ہے کہ اس کی تدبیر ناکام رہی، کیونکہ وِشنو ورت کا ذرا سا پالن بھی جیووں کو ویکُنٹھ پہنچا دیتا ہے۔ برہما اور دیوتا موہنی کو جگانے/تسلی دینے اترتے ہیں اور اسے شرمندہ و نڈھال پاتے ہیں۔ طویل سلسلۂ تشبیہات سے سمجھایا جاتا ہے کہ تزکیہ، درست وسیلہ، کرُونا، نیک مشورہ اور صحیح طریقِ ادائیگی کے بغیر دھرم، گیان، وانی اور کرم کانڈ بےثمر ہو جاتے ہیں۔ دیوتا ویشاکھ شُکل پکش کی موہنی ایکادشی اور راجا کی اٹل سچّائی کی ستائش کرتے ہیں؛ آخرکار وِشنو ان تینوں کو اپنے دھام ویکُنٹھ لے جاتا ہے۔ پھر اجرت، قرض/فرض اور اَنّ/روزگار روکنے کے پاپ پر اخلاقی ہدایت آتی ہے۔ موہنی فریاد کر کے بلند وِشنو-ستُتی کرتی ہے۔ واپس آئے تپسوی/پروہت کو یہ ادھرم اور عوامی ملامت دکھائی دیتی ہے؛ وہ غضبناک ہو کر جل-شاپ دیتا ہے، اور برہمن کے کلام کی قوت سے موہنی راکھ ہو جاتی ہے—یہی ‘شاپ پرابتی’ ادھیائے ہے۔
The Account of Mohinī (Mohinī-upākhyāna)
وَسِشٹھ راجا کو موہنی کا اُپاکھیان سناتے ہیں۔ ہری واسر/ایکادشی کی بے حرمتی اور دھرم کی خلاف ورزی—شوہر سے عداوت اور بیٹے پر تشدد تک—کے سبب وایو کا دیوتائی قاصد اسے سُورگ سے ردّ کرکے پے در پے نرکوں میں دھکیلتا ہے۔ یم لوک میں بھی ‘برہما-دَنڈ’ کے اثر سے اس کے محض لمس سے نرک واسی راکھ ہو جاتے ہیں؛ چنانچہ وہ دھرم راج سے فریاد کرتے ہیں کہ اسے نکالا جائے۔ نکالی گئی موہنی پاتال میں پناہ چاہتی ہے مگر وہاں بھی روکی جاتی ہے؛ پھر راجا جنک کے پاس جا کر اپنے گناہوں اور برہمن کے شاپ (لعنت) کی وجہ کا اقرار کرتی ہے۔ برہما، شِو، اِندر، دھرم، سورج، اگنی اور رِشی مل کر برہمن سے نرمی کی درخواست کرتے ہیں؛ برہمن دھرم کی باریکی، وِشنو کے ویکُنٹھ کی برتری اور بھکتی کی عظمت بیان کرتا ہے—جو صرف سانکھیہ یا اشٹانگ یوگ سے حاصل نہیں۔ آخر میں زمین، سمندر، سُورگ، نرک اور پاتال—ہر جگہ موہنی کے لیے ‘بے-جگہ’ ہونے کا مسئلہ، ایکادشی/ہری واسر کی نجات بخش قوت اور موہنی کے کردار کے الٰہی مقصد سے حل ہوتا ہے۔
The Account of Mohinī (Mohinī-kathanam): Ekādaśī Nirṇaya, Daśamī Boundary, and Aruṇodaya
اُتّر بھاگ میں موہنی دیوتاؤں سے کہتی ہے کہ ایکادشی سب سے بڑی پاک کرنے والی ہے، اور روزہ (ورت) اور پارن (افطارِ ورت) کا شُدھ وِدھان بتاتی ہے۔ ویشنو دھرم کے مطابق مہادوادشی کی الگ پابندیاں، تین دن کا طریقہ، اور سورج اُگنے یا آدھی رات کے وقت ایکادشی کے ‘بٹنے’ یا ‘ویدھ’ ہونے پر فیصلہ کن قواعد بیان کیے گئے ہیں۔ ارُنو دَی کو دو مُہورت قرار دے کر رات/دن کے مُہورتوں کی گنتی اور موسم کے لحاظ سے تناسبی تبدیلی بھی بتائی گئی ہے۔ سورج اُگنے سے چھونے والی دَشمی مذموم ہے؛ دَشمی کی سرحد پر موہنی کو غلط عمل کو فریب دینے والی ٹھہرایا گیا اور تقویمی غلطی کو روحانی نقصان سے جوڑا گیا۔ قصے میں یم کی عزت کی بحالی، غصّے سے موہنی کا راکھ ہونا، برہما کا کمندلو کے پانی سے جسم کی بحالی، پجاری سے صلح—اور آخر میں سحر کے وقت اس کی تعیین اور درست ایکادشی سے وشنو کا پُنّیہ ملنے کی تاکید آتی ہے۔
The Description of the Greatness of the Gaṅgā
اس باب میں موہنی کے سوال کے جواب میں وسو گنگا کی بے مثال عظمت بیان کرتا ہے اور اسے تمام تیرتھوں میں برتر ٹھہراتا ہے۔ بھاگیرتھی کی قربت زمینوں اور آشرموں کو پاک کرتی ہے، اور گنگا بھکتی تپسیا، برہماچریہ، یَجْیَہ، یوگ، دان اور تیاگ سے بھی بڑھ کر ‘پرَم پد’ عطا کرتی ہے۔ کلی یُگ میں دوسرے تیرتھ اپنی قوت گنگا میں ودیعت کرتے ہیں، مگر گنگا خود مستقل و خودسِدھ ہے۔ درشن، اسنان، آچمن، جل ساتھ لے جانا، حتیٰ کہ گنگا کے قطروں سے چھوئی ہوئی ہوا کا لمس بھی گناہوں—بڑے پاتکوں سمیت—کو مٹانے والا کہا گیا ہے۔ گنگا جل میں وشنو/جناردن کی مائع صورت میں حضوری اور گنگا جل سے ادا کیے گئے کرموں میں شیو کی سَنِّدهی کا وعدہ بھی آتا ہے۔ گنگا کی زمین-پاتال-سورگ میں زمانی گردش، بعض تِتھیوں پر وارانسی میں خاص مکتی، اور پانی کے باسی نہ ہونے کا ذکر بھی ملتا ہے۔ اختتام پر گنگا سیوا سے سُورگ، گیان، یوگ سدھی اور موکش کی بخشش دہرائی گئی ہے۔
The Greatness of Bathing in the Ganges (Gaṅgā-snānā-mahātmya)
موہنی کے قصے کے ضمن میں وَسو موہنی کو گنگا کے تارک (نجات بخش) مہاتم کی تعلیم دیتا ہے۔ محض درشن (دیدار) سے ہی گناہ یوں مٹتے ہیں جیسے گرُڑ سانپ کے زہر کو بے اثر کر دے؛ سپرش اور اسنان سے یہ اثر بڑھ کر کُل کی پاکیزگی تک پہنچتا ہے اور پِتر (آباء) و اولاد کئی نسلوں تک اُدھار پاتے ہیں۔ گنگا نام کا کیرتن اور سمرن دوری سے بھی مؤثر ہے، دوزخ کے قریب پہنچے ہوئے کو بھی بچاتا ہے اور گناہوں کے ‘پنجرہ نما’ ذخیرے کو توڑ دیتا ہے۔ گنگا سے تعلق کو نَیمِش، کُرُکشیتر، نَرمدا، پُشکر جیسے تیرتھوں کے پھل، چاندْرایَن ورت اور اشومیدھ یَگّیہ کے برابر—خصوصاً کلی یُگ میں—بتایا گیا ہے۔ دوپہر اور شام کے اسنان سے پھل میں اضافہ، ہریدوار، پریاگ اور سندھُ سنگم کی عظمت، اور آخر میں روی (سورج) و ورُن کی گواہی سے یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ گنگا اسنان یا گھر بیٹھے نام-ستوتی سے بھی سوَرگ و موکش ملتا ہے۔
The Account of the Fruits of Bathing at Particular Sacred Places (Tīrtha-viśeṣa-snāna-phala)
اُتّر بھاگ کے گنگا-ماہاتمیہ میں موہنی–وسو مکالمے کے اندر وسو گنگا-اسنان کا دھرم-نقشہ اور پھلوں کی درجہ بندی بیان کرتا ہے۔ وہ پہلے وقت کے اعتبار سے مراتب بتاتا ہے—مسلسل ماگھ اسنان سے اندرلोक، پھر برہماپوری کی حصولی؛ اُترایَن میں نِیَم-تپسیا (مثلاً محدود غذا) اور سنکرانتی اسنان سے وِشنولोक کی پرابتّی۔ وِشُو/اَیَن کی تبدیلیاں، اَکشَیا تِتھی، منونتر-یُگ آرمبھ، نایاب نکشتر-یوگ، پَرو، مہودَی/اَردھودَی اور گرہن اسنان کو پُنّیہ بڑھانے والا اور پیدائش سے اب تک کے گناہوں کو پاک کرنے والا کہا گیا ہے۔ پھر وہ مقام کے اعتبار سے پُنّیہ کی افزائش بتا کر کُروکشیتر، وِندھیا کے علاقے، کاشی اور آخر میں موکش دینے والے تین مرکز—گنگادوار (ہریدوار)، پریاگ اور ساگر-سنگم—کی عظمت بیان کرتا ہے۔ آگے کُشاوَرت، کنکھل، سَوکر/وراہ-ستھان، برہمتیرتھ، کُبج، کاپِل، سرَیُو–گنگا سنگم کا وینیراجیہ، گانڈو، رام تیرتھ، سوم تیرتھ، چمپک کی اُترواہِنی گنگا، کلش، سومدویپ، جہنو کا سرور، اَدِتی/تارک تیرتھ، کشیپ/شِلوچّیَہ، اندرانی، پردیومن تیرتھ، دکش-پریاگ اور یمنا وغیرہ تیرتھوں کے لیے یَجْن کے برابر پُنّیہ، بیماریوں کا زوال، پاپ-کشیہ اور سوَرگ یا وِشنوپد کی پرابتّی کا وعدہ بیان ہوا ہے۔
Description of the Rules for Charitable Gifts and Related Rites (Gaṅgā-māhātmya)
واسو موہنی کو گنگا-اَوگاہن (مقدّس غسل) سے شروع ہونے والے اعمال کے ثمرات بتاتا ہے اور گنگا کو پُنّیہ بڑھانے والی اور پِتروں کے اُدھّار کی براہِ راست وسیلہ قرار دیتا ہے۔ باب میں گنگا کے کنارے سندھیا، کُش اور تِل کے ساتھ پِتृ-ترپن، اور گنگا-جل کی ایسی مہِما بیان ہے کہ نرک میں موجود آباء و اجداد بھی اس سے نجات پاتے ہیں۔ گنگا-سنان کو روزانہ شِو-لِنگ پوجا، منتر-جپ—اَشٹاکشری ‘اوم نمو نارائنای’ اور پنچاکشری ‘اوم نمہ شِوای’—اور گنگا-تٹ کی مِٹّی سے مُورتی/لِنگ پرتِشٹھا کے ساتھ جوڑا گیا ہے؛ روزانہ ارپن و نِمَجّن سے اَننت پُنّیہ بتایا گیا ہے۔ ویشاکھ میں اَکشَے ترتیہ اور کارتک میں رات بھر جاگَرَن کے ساتھ وِشنو، گنگا اور شمبھو کی بھکتی-ارپن والی ورت-کلپ کا ذکر ہے۔ بعد کے حصے میں دان-شاستر کی فہرست—گھی والی دھینو، گودان، سونا، بھومی دان (نِوَرتن پیمانہ)، گرام دان، اور گنگا کنارے باغات و رہائشیں بنانا—اور ہر دان کے پھل کو وِشنولोक، شِولोक، برہملोक، اِندرلوک، گندھرو لوک وغیرہ سے مربوط کیا گیا ہے؛ آخر میں گیان اور برہمن کی ساکشاتکار کو اعلیٰ ترین پھل کہا گیا ہے۔
Procedure for the Guḍa-dhenū (Jaggery-Cow) Gift; Ten Dhenu-dānas; Yearlong Gaṅgā Worship and Darśana
موہنی گنگا کی بے مثال پاکیزگی کی ستائش کر کے گُڑ-دھینو سے شروع ہونے والے علامتی دھینو-دانوں کی ترتیب وار وضاحت مانگتی ہے۔ وِسِشٹھ پس منظر قائم کرتے ہیں اور خاندانی پجاری و شاستر-دان وَسو طریقہ بیان کرتا ہے—زمین کی تطہیر، گوبر کا لیپ، کُشا بچھانا، مشرق رُخ کرشن اجِن، گُڑ کی گائے اور بچھڑے کی ساخت و سمت، وزن و پیمائش، اور زیور و اوصاف سے دان کو مقدس بنانا۔ لکشمی-سوروپا گاؤ ماتا کے آہوانی منتر و دعاؤں کے ساتھ برہمن کو دکشنا سمیت دان دینے کا حکم ہے۔ پھر گناہ ناشک دس دھینو-دان گنوائے جاتے ہیں—گُڑ، گھی، تل، پانی، دودھ، شہد، شکر، دہی، رتن اور روپ-دھینو۔ آگے دھینو-دان کو تیرتھ-بھکتی سے جوڑ کر اَیَن، وِشُو، وِیَتیپات، یُگ/منونتر کے آغاز، گرہن وغیرہ کے مبارک اوقات میں گنگا پوجا کا بیان ہے—چاول، دودھ، پائس، شہد، گھی، مٹھائیاں، دھاتیں، خوشبوئیں، پھولوں کی نذر اور پران-اوکت نمسکار منتر۔ ماہانہ نظم سے سال بھر کا ورت پورا کرنے پر گنگا پرتیَکش درشن دے کر ور دیتی ہیں: خواہش مندوں کو دنیوی پھل، بے خواہشوں کو موکش۔
Pūjādi-kathana — Gaṅgā Vratas, Tenfold Worship, Stotra, and Mokṣa on the Riverbank
وَسِشٹھ کے بیان میں برہمن وَسو، سماج سے ترک کی گئی اور پناہ کی طالب موہنی کو شیو کے منسوب اُپدیش کے مطابق گنگا اور دیگر مقدّس ندیوں کے بے مثال ورت اور پوجا کا طریقہ بتاتا ہے۔ پہلے درجۂ بدرجہ نِیَم، نکت بھوجن، گنگا کے کنارے ماہانہ ورت (خاص طور پر ماگھ اور ویشاکھ)، شِو لِنگ پر پنچامرت ابھیشیک، پھول و دیپ کی نذر، گودان، برہمنوں کو بھوجن، برہماچریہ، خوراک کی پابندیاں اور مَون کا حکم ہے۔ پھر جیَیشٹھ شُکل دَشمی (ہستا نکشتر) کو جاگَرَن سمیت ‘دس گُنا’ گنگا پوجا، تل‑جل اَرجھ، پِنڈ دان، مُرتی بنانے کے اختیار (دھات/مٹی/آٹے کا نقش)، آبی جانداروں کی نذر اور شمال رُخ گنگا رتھ یاترا بیان ہوتی ہے۔ جسم‑گفتار‑من کے دس گناہ گنوا کر اس کرم اور دشہرا منتر جپ سے گناہوں کے زوال کا قول، اور طویل گنگا ستوتر سے شفا، حفاظت اور برہمن میں لَین ہونے کا پھل بتایا گیا ہے۔ آخر میں شِو‑وشنو کی عدمِ دوئی، اُما‑گنگا کی یکتائی، گنگا کنارے مرنے/یاد کرنے/ہڈیوں کے وسرجن سے موکش دھرم، تیرتھ کی حدوں کے قواعد اور مقدّس مقامات پر دان لینے کی ممانعت مذکور ہے۔
The Greatness of Gayā (Gayā-Māhātmya)
حضرت وِسِشٹھ اور ملکہ موہنی کے مکالمے میں موہنی گیا-تیرتھ کی ابتدا اور شہرت دریافت کرتی ہیں۔ وسو بیان کرتے ہیں کہ گیا سب سے برتر پِتروں کا تیرتھ ہے جہاں برہما کا قیام ہے؛ پِتروں کی ستائش ہے کہ اگر ایک بیٹا بھی گیا جا کر شرادھ کرے تو اولاد کا مقصد پورا ہو جاتا ہے۔ پھر گیا سُر کی حکایت آتی ہے—اس کی تپسیا سے مخلوق کو اذیت ہوتی ہے، دیوتا وِشنو کی پناہ لیتے ہیں؛ وِشنو کی مایا سے اسور کا وध ہوتا ہے اور گیا میں وِشنو ‘گدाधر’ (گدا بردار) روپ میں موکش دینے والے کے طور پر قائم ہوتے ہیں۔ مقدس میدان کی حد، برہما کی حضوری، اور یَجْیَہ، شرادھ، پِنڈ دان اور اسنان کے پھل بتائے گئے ہیں—دوزخ سے نجات اور سُورگ/برہملوک کی حصولی۔ مثالوں میں راجا وِشال کا گیا-شرادھ اویچی/ویچی میں گرے گناہگار پِتروں کو آزاد کرتا ہے؛ یم ایک تاجر کو پریت حالت سے چھٹکارے کے لیے گیا کے کرم کرنے کی ہدایت دیتے ہیں۔ آخر میں اَکشَیَوَٹ، دھرم پرِشٹھ، برہمارَنیہ، نِہکشِیرا، مانس، دھینُک، گِردھروَٹ، پھلگو، برہما سروور وغیرہ اُپ-تیرتھوں کے نام اور ان کے خاص پھل—ناقابلِ زوال پُنّیہ اور نسل کی سربلندی—بیان ہوتے ہیں۔
The Procedure for Offering Piṇḍa (Funerary Rice-balls) — Gayā-māhātmya
وَسو–موہنی کے مکالمے میں یہ باب پہلے پریت شِلا کو پربھاس/پربھاسیش اور اَتری کے قدم کے نشان والی شِلا سے جوڑ کر مقدّس ٹھہراتا ہے؛ یہاں پِنڈ دان اور اسنان سے پریت-بھاؤ سے نجات ملتی ہے۔ پھر گیا-شرادھ کی سخت ترکیب بیان ہوتی ہے: پربھاسیش (شیو) کو نَمسکار، جنوب میں یم/دھرم اور اُن کے دو کتّوں کے لیے بَلی، اور اصل پِنڈ-کرَم—پِتروں کا آواہن، پراچیناوِیت، جنوب رُخ بیٹھنا، کَویَوَاہن/اَنَل/سوم/یَم/آریَما کا سمرن، پنچگَوَیہ سے شُدھی، تِلودَک، جو/تل/گھی/شہد کی آمیزش، درست منتر-صورتیں، اور میاں بیوی کا مشترک پِنڈ چڑھانا ممنوع۔ گیا میں وقت کی کوئی نااہلی نہیں، پِنڈ کے لیے کئی غذائی مادّے جائز ہیں، اور نرکوں و تِریَک یونیوں تک اَکال/مُبتلا اموات کی سب قسموں کے لیے نذر کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے۔ آگے پریت پہاڑ، برہما کنڈ، پنچ تیرتھ، اُتر/دکشن مانس (سورج پوجا اور سپِنڈی کرن)، آخر میں پھلگو تیرتھ پر گدाधر کی پوجا اور دھرم آرَنیہ/ماتنگ تالاب—یہ ‘دوسرے دن’ کے اعمال کا مجموعہ ہے۔
The Greatness of Offering Piṇḍas at Viṣṇvādipada (Viṣṇupada) — Gayā Śrāddha Procedure and Fruits
گیا-ماہاتمیہ میں وَسو موہنی کو تیسرے دن کے اُس شرادھ وِدھان کی تعلیم دیتا ہے جو بھوگ اور موکش دونوں عطا کرتا ہے اور گیا کی سنگت کے برابر پُنّیہ دیتا ہے۔ برہماسرس/برہمتیرتھ میں اسنان کے بعد ساپِنڈ شرادھ، پِنڈدان اور ترپن کنویں اور یوپ کے درمیان، نیز برہما کے یوپ کے پاس کیے جاتے ہیں۔ برہما کے قائم کردہ آم کے درختوں کو جل دینا، برہما کی پردکشنا اور نمسکار پِتروں کی مُکتی کو مضبوط کرتے ہیں۔ یم بَلی اور دِگ بَلی (کتے، کوّے وغیرہ کے لیے نذر سمیت) منترون کے ساتھ اور ضبطِ نفس والے آچارن کے ساتھ مقرر ہیں۔ پھر فلگو تیرتھ، گیاشِر اور وِشنوپد جا کر ساپِنڈی کرن سے اختتام ہوتا ہے؛ وِشنوپد کا درشن، سپرش اور پوجا محض گناہوں کا نِواڑن اور پِتروں کی رہائی بتائی گئی ہے۔ بھاردواج کا پدری شناخت پر شک، بھیشم کا شرادھ، اور رام کا دشرَتھ کے لیے پِنڈدان—یہ مثالیں درست/نادرست طریقہ (ہاتھ سے یا زمین پر) اور مقام کی قوت دکھاتی ہیں۔ رودر، برہما، سورج، کارتّکیہ، اگستیہ وغیرہ کے پاد-ستھانوں کی فضیلت کو واجپَیَہ، راجسوُیَہ، جیوتِشٹوم یَگیہ کے برابر ثواب سے درجہ بند کیا گیا ہے؛ گدالولا اور کرونچ-پاد کی مقامی وجہی کہانیاں بھی آتی ہیں۔ آخر میں شِلا تیرتھوں پر ساپِنڈ شرادھ کرنے سے کئی نسلوں کو برہملوک اور حتیٰ کہ وِشنو-سایوجیہ تک کا پھل وعدہ کیا گیا ہے۔
Gayā-māhātmya (The Greatness of Gayā): Gadālola, Akṣayavaṭa, and the Śrāddha Circuit for Pitṛ-Liberation
اُتّر بھاگ کے مکالمے میں وَسو، موہنی کو پِتروں کے ترپن اور سپِنڈیکرن شرادھ کے لیے گیا کی مرحلہ وار یاترا بتاتا ہے۔ رسم گڈالولا (گدا-پرکشالن) پر تطہیری اسنان سے شروع ہو کر اکشیہ وٹ کے پاس شرادھ پر ختم ہوتی ہے، جہاں پِتروں کو برہماپور کی طرف ‘رہنمائی’ دی جاتی ہے۔ یوگ نِدرا دھاری بھگوان اور اَمر برگد (اکشیہ وٹ) کی ستوتر نما بندگی کے ساتھ یہ سبب-کَتھا بھی آتی ہے کہ وِشنو نے گدا سے ہیتی اسُر کا وَدھ کر کے گڈالولا گھاٹ کو پَوِتر کیا۔ پھر گیا کے گرد بے شمار تیرتھ—ندیاں، سنگم، کنڈ، قدموں کے نشان، شِلا اور وِشنو، شِو، گایتری/ساوتری، برہما، گنیش کے استھان—اور اُن کے پھل بیان ہوتے ہیں: اشومیدھ کے برابر پُنّیہ، 7×3 نسلوں کا اُدھّار، اور برہملوک/وِشنولोक/شِولोक کی پرابتि۔ آخر میں عقیدہ ہے کہ گیا میں جناردن ہی پِتೃ-روپ ہیں؛ ودھی کے مطابق پِنڈ دان سے تین قرضوں سے نجات ملتی ہے۔ موت کا سبب بننے والے رویّوں سے پرہیز کی تنبیہ اور سوستیہ یَن پاٹھ کی پھل شروتی—ناموری، دراز عمری، اولاد اور سوَرگ پرابتि—کے ساتھ ادھیائے ختم ہوتا ہے۔
The Greatness of Kāśī (Kāśī-māhātmya) and Avimukta’s Liberative Power
موہنی گیا کے ماہاتمیہ کی ستائش کرکے کاشی کی مفصل توضیح چاہتی ہے۔ خاندانی پجاری وسو وارانسی کو تینوں لوکوں کا نچوڑ، بیک وقت ویشنو اور شیو روپ، اور موکش دینے والی بے مثال نگری بتاتا ہے۔ باب میں کہا گیا ہے کہ کاشی میں پہنچتے ہی برہماہتیا، گوہتیا، گروتلپ گمن، نیاس کی چوری جیسے مہاپاپ بھی مٹ جاتے ہیں؛ وہاں رہنے سے آچرن پاک ہوتا، خوف و غم دور ہوتے اور یوگک سدھیاں ملتی ہیں۔ کشترا کی حدیں اور اندرونی ‘نڑیاں’ (اِڑا–سُشُمنّا) کو ورُنا اور مرکزی دھارا کے ساتھ جوڑ کر علاقوں اور دیوتاؤں کے نام بیان کیے جاتے ہیں اور ‘اوِمُکت’ (جسے شیو کبھی نہیں چھوڑتے) لقب کی وجہ سمجھائی جاتی ہے۔ منیکرنیکا/شمشان کو پرم یوگ پیٹھ کہا گیا ہے جہاں شرادھ، دان، ورت اور پوجا سے بے حد پُنّیہ ملتا ہے۔ آخر میں عقیدہ یہ ہے کہ اوِمُکت میں موت کے وقت شیو رُدروں کے ساتھ کان میں تارک منتر سناتے ہیں؛ اس سے نہ نرک میں گراوٹ ہوتی ہے اور نہ سنسار میں دوبارہ واپسی۔
Tīrtha-yātrā-varṇana (Description of Pilgrimage to the Sacred Fords)
اس باب میں واسو، موہنی کو اویمکت/کاشی کے شمال مغربی اور وسطی حصّوں کے تیرتھوں—نامور لِنگ، تالاب اور رسومی مقامات—کا بیان سناتے ہیں۔ ساگر کے نصب کردہ چتُرمُکھ لِنگ اور بھدر دیہ سرور کی عظمت بیان ہوتی ہے؛ وہاں اسنان کا پھل ہزار گودان کے برابر کہا گیا ہے اور تیرتھ-اسنان سے پُنّیہ کی افزونی واضح کی جاتی ہے۔ پھر کِرتّیواسیشور کی قرب و جوار کے مندروں میں جگہ، بار بار درشن سے تارک-گیان کی प्राप्तی، اور یُگ کے مطابق ناموں کی تبدیلی (تریمبک، کِرتّیواس، مہیشور، ہستی پالیشور) کے ذریعے شِو کی ازلی پیوستگی دکھائی گئی ہے۔ مہینوں کے حساب سے چتُردشی پوجا کا وِدھان مختلف دیویہ لوکوں کی प्राप्तی بتا کر آخر میں شِولोक کی ترغیب دیتا ہے۔ اویمکت کے اندرونی احاطوں میں گھَنٹاکرنی تالاب، ڈنڈخات میں ترپن سے پِتر اُدھار، پِنڈ دان سے پِشाच موچن، للِتا کی پوجا و جاگرن، اور منیکرنی/منیکرنیکیشور کے ساتھ گنگیشور کا مہاتم آتا ہے۔ آخر میں راکشس کے واقعے اور مرغ کے شگون سے ‘اویمکتتار’ اور ‘وِمکت’ ناموں کی کہانی بیان ہو کر یہ نِشچَے کیا جاتا ہے کہ اویمکت میں دیکشا و شरण لے کر درشن، اسنان اور سندھیا کرنے سے پُنرجنم رُک جاتا ہے اور فوراً کیولیہ حاصل ہوتا ہے۔
The Greatness of Kāśī (Avimukta): Pilgrimage Calendar, Yātrā-Dharma, and the Network of Śiva-Liṅgas
اس باب میں وَسو موہنی کو اویمُکت کاشی کی عظمت سناتا ہے۔ تیرتھ یاترا کے ‘مناسب وقت’ کا تعین کرکے مختلف مہینوں میں دیوی و دیوتاؤں کے گروہوں کے لیے کامکُنڈ، رُدراواس، پریادَیوی کُنڈ، لکشمی کُنڈ، مارکنڈَیَہ سرور، کوٹیتیرتھ، کَپال موچن، کالیشور وغیرہ پر اسنان و پوجا کا بیان ہے۔ پھر یاترا-دھرم—انّ و پھولوں کے ساتھ جل-کلش دان، چَیتر شُکل تِرتیا کو گوری ورت کا پھل، سَورگ دوار میں کالیکا اور سنورتا/للیتا کی آرادھنا، شِو بھکت برہمنوں کو بھوجن، اور پنچ گوری کا آہوان—مقرر کیا گیا ہے۔ وِگھن نِوارن کے لیے وِنایک درشن کا क्रम (ڈھونڈھی، کِل، دیویا، گوپریکش، ہستی-ہستِن، سندوریہ) اور وڈوا دیوی کو لڈّو نَیویدیہ بتایا گیا ہے۔ سمتوں کے مطابق محافظ چنڈیکاؤں کا ذکر، پھر تریسروتا/منداکنی/متسیودری کے سنگم اور گنگا کے مبارک ورود کی فضیلت آتی ہے۔ آخر میں نادیشور، کَپال موچن، اومکاریشور (ا-اُ-م کی تَتّو وِچار)، پنچایتن، گوپریکشک/گوپریکشیشور، کپیلا ہرد، بھدر دوہ، سَورلوکیشور/سَورلیلا، ویاغریشور/شَیلَیشور، سنگمیشور، شُکریشور اور جمبوک وध سے وابستہ لِنگ وغیرہ تیرتھوں کا نقشہ دے کر پاپ نाश اور شِو لوک میں مُکتی کا وعدہ کیا گیا ہے۔
Kāśī-māhātmya: Avimukta Gaṅgā and the Pañcanada Tīrtha
اس باب میں واسو موہنی کو بتاتے ہیں کہ اویمکت (کاشی/وارانسی) اور شمال کی طرف بہنے والی گنگا نہایت نجات بخش ہیں۔ اویمکت میں کیے گئے اعمال اَکشَی پُنّیہ دیتے ہیں اور گناہ گاروں کو بھی دوزخ سے بچاتے ہیں؛ نیز یہ کہا گیا ہے کہ تمام موکش دینے والے تیرتھ وہاں پوری طرح موجود ہیں۔ گنگا اسنان (خاص طور پر کارتک اور ماگھ میں)، وشویشور شیو کے درشن، دشاشومیدھ اور ورُنا–اَسی–جاہنوی سنگم وغیرہ مقدس مقامات کی یاترا کا طریقہ بیان ہوا ہے۔ پنچنَد تیرتھ کی بڑی ستوتی کی گئی—یُگوں کے لحاظ سے اسے دھرمنَدا/دھوتَپاپ/بِندو تیرتھ سے جوڑا گیا ہے؛ وہاں ترپن اور شرادھ کے ساتھ اسنان و دان پریاگ کے ماگھ پُنّیہ سے بھی بڑھ کر ہے اور دان اَکشَی پھل دیتا ہے۔ آخر میں اس ماہاتمیہ کے سننے/پڑھنے/پاتھ کرنے سے یَجْن اور تیرتھ کے برابر پُنّیہ ملتا ہے، اور دان میں تمیز پر زور ہے—سچے بھکتوں اور گرو سیوکوں کو دان پسندیدہ، جبکہ فریبی، گرو دُروہی اور برہمن/گاؤ مخالف لوگوں کو دان قابلِ مذمت کہا گیا ہے۔
Puruṣottama-māhātmya (The Greatness of Puruṣottama Kṣetra)
کاشی کی عظمت سن کر موہنی، واسو سے عرض کرتی ہے کہ حری کے اُس مقدس کشتَر کا ماہاتمیہ بتائیں جو زندگی کے مقصد کو پورا کرتا ہے۔ واسو بھارت ورش کے اُتکل دیش میں جنوبی سمندر کے کنارے واقع ایک رازدارانہ، ریت سے ڈھکا، موکش دینے والا اور دس یوجن تک پھیلا ہوا پُروشوتم کشتَر بیان کرتا ہے، اور متعدد ‘سب میں افضل’ مثالوں سے اسے تمام تیرتھوں میں برتر ثابت کرتا ہے۔ وہ اسے ایک کائناتی سنگم بتاتا ہے جہاں دیوتا، رشی، وید، اتہاس-پُران، ندیاں، پہاڑ اور سمندر حاضر ہیں؛ تیرتھ راج میں اسنان اور پُروشوتم کے درشن کا پھل عظیم ہے۔ پھر راجا اندرَدْیُمن کے ویشنو گُن، مناسب پوجا-ستھان کی تلاش، کشتَر میں آمد، اشومیدھ، سنکرشن (بلرام)، کرشن اور سُبھدرا کی پرتِشٹھا، پنچ تیرتھ کی بنیاد اور نِتّیہ پوجا سے موکش کی حصولیابی کا بیان آتا ہے۔ بعد ازاں موہنی قدیم ویشنو مورتی کے بارے میں پوچھتی ہے؛ واسو سُمیرو پر لکشمی کے جناردن سے سوال کا حوالہ دیتا ہے۔ وشنو سمندر کنارے کے نیگروध، کیشو مندر اور یم کے ستوتر کا راز کھولتا ہے؛ یم اندرنیل (نیلم) روپ مورتی بتاتا ہے جو بے خواہش بھکتوں کو شویت لوک دیتی ہے، اس لیے وشنو اسے ریت اور بیلوں سے چھپا دیتا ہے۔ آخر میں شویت مادھو، سوَرگ دوار، نرسِمھ درشن، اننت واسودیو، سمندر اسنان، ترپن اور پنچ تیرتھ کی فضیلت و ورت کے آداب جیسے آئندہ موضوعات کی جھلک دی جاتی ہے۔
The Glory of Puruṣottama (Puruṣottama-māhātmya): Indradyumna’s Praise and the Origins of Sacred Images
موہنی وسو سے پوچھتی ہے کہ اندردیومن نے پہلے مقدّس پیکر (پرتیما) کیسے بنوائے اور کس طریقے سے مادھو خوش ہوئے (1–3)۔ وسو بیان کرتا ہے کہ تعمیر کے بعد قابلِ عبادت وِگرہ نہ ملنے سے راجا سخت بے چین ہوا؛ نہ نیند آتی، نہ شاہی لذّتوں میں دل لگتا (4–6)۔ شاستر کے مطابق وشنو کی مورتیاں پتھر، لکڑی یا دھات کی ہو سکتی ہیں، مگر مقررہ لکشَنوں سے یُکت ہوں تو ہی معتبر ہیں؛ راجا ایسی ہی پرتیما قائم کرنے کا عزم کرتا ہے (7–8)۔ پانچراتر پوجا کے بعد وہ طویل ستوتر میں موکش داتا واسودیو، سنکرشن-پردیومن-انِرُدھ، نارائن اور نرسِمھ-وراہ وغیرہ اوتاروں کو نمسکار کرتا ہے (9–19)۔ وہ ہری کی بھیداتیت یکتائی بیان کر کے دھیان کے لیے چتربھج روپ کی توصیف کرتا ہے (20–30)۔ پھر ستوتی شرناغتی بن جاتی ہے—جیو کے بار بار جنم، کرم بندھن، نرک و سوَرگ اور سنسار کی بے ثباتی بیان کر کے نجات اور ہر جنم میں اٹل بھکتی مانگتا ہے؛ پشچاتاپ کے ساتھ پوجا کے انگ پورے کرتا ہے (31–68)۔
Kāruṇya-stotra Phalaśruti; Dream-Darśana of Vāsudeva; Manifestation and Pratiṣṭhā of Jagannātha, Balabhadra (Ananta), and Subhadrā
موہنی–وسو مکالمے میں پہلے ‘کارونْیَ’ نامی پُروشوتم ستوتر کی پھل شروتی بیان ہوتی ہے—جگن ناتھ کی پوجا کے بعد روزانہ ستوتی اور تینوں سندھیاؤں میں پاٹھ کرنے سے چاروں پُروشارْتھ، خصوصاً موکش، حاصل ہوتا ہے۔ ساتھ ہی دھرم شاستر جیسے ضابطے ہیں کہ ناستک، مغرور، کِرتگھن اور بھکتی سے خالی شخص کو رازدارانہ اُپدیش یا دان نہ دیا جائے؛ دان سُچارِتر ویشنوؤں کو ہی دیا جائے۔ پھر راجا کی بے چینی اور خواب کی وحی آتی ہے—گروڑ پر سوار آٹھ بازوؤں والے واسودیو درشن دے کر سمندر کنارے ایک عجیب بے پھل درخت ڈھونڈنے، اسے کاٹ کر اسی کے مطابق وِگرہ بنانے کا حکم دیتے ہیں۔ وِشنو اور وِشوکرما برہمن کے بھیس میں آ کر راجا کے سنکلپ کی تعریف کرتے ہیں اور تین مُورتیاں بنواتے ہیں—کرشن روپ واسودیو (جگن ناتھ)، سفید ہل دھار اننت/بلبھدر، اور سنہری سُبھدرا، سب شُبھ لکشَنوں سے یُکت۔ راجا کو طویل سلطنت، شہرت اور پرم دھام تک رسائی کے ور ملتے ہیں؛ اندردیوسم سرور کے تیرتھ مہاتم اور پِنڈ دان کے پھل بھی بیان ہوتے ہیں۔ آخر میں شوبھا یاترا، شُبھ مہورت میں پرتِشٹھا و ابھیشیک، کثیر دان و دکشنہ، دھرم پر مبنی راج، ویراغیہ اور وِشنو کے پرم پد کی پرابتِی—یہی اس ادھیائے کا انجام ہے۔
Glory of Puruṣottama: Pañcatīrthī Observance and Narasiṃha Worship
موہنی اور وَسو کے مکالمے میں پہلے وقتِ مقدّس بیان ہوتا ہے—جَیَیشٹھ ماہ، شُکل پکش کی دْوادشی—اور یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ پُروشوتّم کا درشن سخت ریاضتوں (حتیٰ کہ طویل کُرُکشیتر تپسیا) سے بھی بڑھ کر ہے۔ وَسو پنچ تیرتھی ورت/یात्रا کی ترتیب بتاتا ہے: مارکنڈَیَے سرور میں تین بار اشنان، شِو سے متعلق پرایَشچِتّ منتر جپ، دیو-رِشی-پِتر ترپن؛ پھر شِوالَے میں پردکشنا، پوجا اور اَگھور منتر سے معافی کی دعا—جس سے شِولोक کی پرابتِی اور آخرکار موکش ملتا ہے۔ اس کے بعد کلپ وٹ (نیگروध) کی پردکشنا و ستوتی، گَروڑ کو نمسکار کر کے وِشنو مندر میں داخلہ؛ سنکرشن (بلرام)، سُبھدرا اور آخر میں کرشن/پُروشوتّم کی دْوادشاکشری منتر سے پوجا، ‘جَے’ ستوتیوں اور دھیان کی تصویرکشی کے ساتھ اختتام۔ متن بار بار کہتا ہے کہ محض درشن و نمسکار سے وید، یَجْن، دان اور آشرم دھرم کے مجموعی پھل حاصل ہوتے ہیں، نسلوں کی بھلائی کے ساتھ مکتی ملتی ہے۔ پھر نرسِمْہ اُپاسنا کا بیان ہے—اُن کی نِتّیہ سَنّिधی، دھرم-ارتھ-کام-موکش کے لیے پناہ؛ سادہ نذرانے، کَوَچ/اگنی شِکھا جپ، اُپواس، ہوم، حفاظتی کرم اور سِدّھی کے طریقے، جن سے گناہوں کا نाश، مصیبت میں حفاظت اور مطلوبہ کامیابی کی ضمانت دی گئی ہے۔
Puruṣottama-kṣetra Māhātmya: Śveta-Mādhava & Matsya-Mādhava; Mārkaṇḍeya-tīrtha Mārjana and Bath Liturgy
وسو موہنی کو شری پُروشوتم-کشیتر کے نہایت پُنیہ تیرتھوں کا ماہاتمیہ سناتا ہے کہ محض درشن سے بھی پاپ نَشٹ ہو جاتے ہیں۔ وہ شویت-مادھو کی ویشنو علامتوں کے ساتھ صورت بیان کرتا ہے اور شویت گنگا میں اسنان سے شویت دویپ کی پرابتि بتاتا ہے۔ پھر متسیہ-مادھو کی ستوتی کرتے ہوئے پرلے سمندر میں متسیہ اوتار کے جگت-رکشا کارج کو یاد دلاتا ہے اور ہری کی یکسو پوجا و یوگ سے اَجےیتا، راجیہ-لابھ اور آخرکار موکش کا پھل وعدہ کرتا ہے۔ اس کے بعد ودھی بھاگ میں مارکنڈےیہ سرور پر مارجن-شودھی، چتوردشی اور جَیِشٹھ پُورنما (جَیِشٹھا نکشتر) کے خاص اوقات، کلپ وٹ کے پاس جا کر پردکشنا کا حکم ہے۔ اشٹاکشری منتر-نیاس، سمتوں کا وشنو-کَوَچ، آتم-تاداتمیہ دھیان اور تیرتھ راج سے اسنان-پراتھنا دی گئی ہے۔ اسنان کے بعد اَگھمرشن، پاک کپڑے، پرانایام، سندھیا و سورج پوجا، 108 گایتری جپ، سوادھیائے اور کُشا وِنیاس کے ساتھ دیو-پتر ترپن کا क्रम بتایا گیا ہے، اور یہ بھی کہ پتر نذر زمین پر ہی دی جائے کیونکہ وہی ان کا ثابت ٹھکانہ ہے۔
The Greatness of Puruṣottama (Aṣṭākṣarī Maṇḍala-Pūjā and Nyāsa)
وَسو–موہنی مکالمے میں وَسو، نارائن کی مکمل پوجا-ودھی بیان کرتے ہیں۔ چار دروازوں والے چوکور احاطے کے اندر آٹھ پتیوں والے کمل-منڈل کی رچنا کر کے، آچمن اور وانی-سَیَم وغیرہ سے شُدھی کے بعد سادھک منتر-دھیان کے ذریعے باطنی شُدھی کرتا ہے—ہردے میں کْش/ر ورن کی بھاونا، اور سر کے چندرمنڈل میں ایکار-نیاس؛ پھر امرت-سنان جیسی شُدھی سے ‘دیویہ دےہ’ کی پرابتّی کہی گئی ہے۔ اس کے بعد اشٹاکشری نیاس، ویشنو پنچانگ سَہائک اَنگ، کر-شُدھی اور چتُرویوہ (واسودیو، سنکرشن، پردیومن، انِرُدھ) کا دےہ-ویاپی چنتن ہوتا ہے۔ دِشاؤں کی رکھشا کے لیے چاروں طرف وشنو نام رکھ کر سورج–چندر–اگنی منڈلوں کا آواہن کیا جاتا ہے۔ کمل-کرنِکا میں دیوتا کی پرتِشٹھا کر کے اشٹاکشری اور دوادشاکشری منتروں سے پوجن، اور متسیہ، نرسِمھ، وامن اوتاروں کا آواہن ہوتا ہے۔ پادْیہ، اَرگھْیہ، مدھوپرک، آچمنیہ، سنان، وستَر، گندھ، اُپویت، دیپ، دھوپ، نیویدیہ وغیرہ اُپچار بیان ہیں؛ پتیوں پر ویوہ/اوتار نیاس، شنکھ-چکر-گدا-شارنگ، کھڑگ، تُونیر، گڑُڑ وغیرہ اور دِکپال و لوک آدھاروں کا بھی آواہن ہے۔ آخر میں جپ کی گنتی (8/28/108)، مُدرا کا پریوگ اور پھلشروتی—ایسی پوجا کا درشن بھی اَکشَے وشنو کی طرف لے جاتا ہے، مگر ہری-پوجا-ودھی کی اَگیانتا پرم دھام کی پرابتّی میں رکاوٹ بنتی ہے۔
Description of the Origin of the Cosmic Egg (Brahmāṇḍa) and the Ocean as King of Tīrthas
مُوہنی–وسو مکالمے میں (بہ روایتِ وِسِشٹھ) وسو پُروشوتّم-کشیتر کے سمندر کنارے کی عبادتی ترتیب بتاتا ہے—پہلے پُروشوتّم کی پوجا اور پرنام، ‘ندیوں کے مالک’ کے طور پر ساگر کی تسکین/ترپن، اسنان، پھر کنارے پر نارائن کی آرادھنا۔ رام–کرشن–سُبھدرا کو وندنا اور ساگر کو نمسکار کرنے سے اشومیدھ کے برابر پُنّیہ، پاپوں کا نِواڑن، سُورگ آروہن اور آخرکار ویشنو-یوگ کے ذریعے موکش ملتا ہے۔ گرہن، سنکرانتی، اَیَن، وِشُوَو، یُگ/منونتر کے آغاز، وِیَتیپات، آشاڑھ اور کارتک وغیرہ کے شُبھ کال بیان ہوئے ہیں؛ یہاں برہمنوں کو دان اور پِنڈ دان ہزار گنا اور اَکشَی پھل دیتے ہیں۔ وسو سمندر کی برتری قائم کرتا ہے—سب تیرتھ، ندیاں اور سرور اسی میں ملتے ہیں؛ وہاں کیا گیا کرم اَمر/اَوناشی ہے؛ اس خطّے میں ‘ننانوے کروڑ’ تیرتھ ہیں۔ موہنی نمکینی کی وجہ پوچھتی ہے تو سات سمندروں کے طفلانہ روپ، رادھکا کے شاپ اور کرشن کی آج्ञا کی کتھا آتی ہے کہ سب سے چھوٹا سمندر کشار (نمکین) بنا۔ آخر میں سانکھیہ کے مطابق گُنوں اور تتووں سے وِراٹ، برہما اور چودہ لوکوں تک برہمانڈ کی اُتپتّی کا مختصر بیان ہے۔
The Greatness of Puruṣottama (Goloka-tattva and Rādhā–Kṛṣṇa Upāsanā)
اس ادھیائے میں واسو موہنی کو تعلیم دیتا ہے کہ شری کرشن بےداغ شُدھ چَیتنْی اور الٰہی نور ہیں؛ وہ گولوک میں نِتّیہ اندرونی روشنی کے طور پر اور ظاہر و غیر ظاہر دونوں حالتوں میں برہمن کے روپ میں قائم ہیں (1–5)۔ ورِنداون، گائیں، گوپ، درخت اور پرندوں سمیت گولوک کی پاکیزہ فضا بیان ہوتی ہے، اور یہ بھی کہ پرلَے کے وقت تَتْو کی پہچان اوجھل ہو جاتی ہے (3–5)۔ پھر نورانی درشن—جوان ش्याम، بانسری دھاری، دو بازوؤں والے پرمیشور، جن کے سینے پر رادھا جلوہ گر ہے؛ رادھا سنہری، پرکرتی سے ماورا اور اُن سے غیر جدا بتائی گئی ہے (6–9)۔ پرم کارن ناقابلِ بیان ہے؛ شِو کو وہاں بنیادی طور پر دھیان کے مارگ سے رسائی ہے، جبکہ بھکتوں کو بار بار چاربھج پرکاش روپ کے درشن ہوتے ہیں؛ لکشمی، سنَتکمار، وِشوَکسین، نارائن، برہما اور دھرم پُتر کی پرمپرا سے نارَد تک اُپدیش کا ذکر ہے (10–21)۔ آگے لیلا-تتّو، دیویوں کی یکجائی (رادھا=لکشمی/سرسوتی/ساوتری؛ ہری=درگا)، شکتی کے ستی/پاروتی وغیرہ روپ، اور آخر میں ‘نیتی نیتی’ کے ساتھ سادھنا—شرناغتی کی قسمیں، ظاہر شدہ منتر-ودھان، گرو کی تعظیم، ویشنوؤں کا احترام، مسلسل سمرن اور اُتسو/ورت کا آچرن (22–48)۔
Abhiṣeka (Consecratory Bathing Rite)
پورُشوتّم ماہاتمیہ کے واسو–موہنی مکالمے میں یہ باب اندردیومن سرور (جسے اشومیدھ کے اعضا سے اُبھرا ہوا تیرتھ کہا گیا ہے) میں داخلے کا طریقہ بتاتا ہے—طہارت، آچمن، ہری-سمَرَن، ادب سے کھڑے ہو کر تیرتھ-منتر کا جپ۔ غسل کے بعد دیوتاؤں، رشیوں اور پِتروں کے لیے مقررہ مقدار میں جل-ترپن، گفتار میں ضبط، پِتروں کو پِنڈ-دان اور پورُشوتّم کی پوجا کا حکم ہے؛ اس کے پھل میں اشومیدھ کے برابر پُنّیہ، اجداد کی نجات، سُورگ بھوگ اور آخرکار موکش بتایا گیا ہے۔ جیَیشٹھ شُکل دشمی سے ایک ہفتہ تہوار کا زمانہ—اس دوران ندیاں اور سمندر پورُشوتّم دھام میں ظاہر مانے جاتے ہیں اور دیوتا کے درشن سے سب اعمال اَکشَے ہو جاتے ہیں؛ دشہرا، ایکادشی ورت/روزہ، پُورنِما (پنچدشی) درشن، ویشاکھ تِرتیا کا چندن-لیپن درشن اور پھالگُن کا جھولا درشن خاص ہیں۔ پھر بھارت بھر کے تیرتھوں، ندیوں اور پہاڑوں کی فہرست دے کر کہا گیا ہے کہ کرشن-درشن کے برابر کچھ نہیں۔ آخر میں عظیم ابھیشیک منڈپ، ساز و سنگیت، ویدک منترگوشی، دیوتاؤں، رشیوں اور کال-تتّووں کی حاضری میں گنگا جل اور پھولوں سے شری کرشن کا دیویہ ابھیشیک بیان ہو کر باب ختم ہوتا ہے۔
Description of the Fruits of Pilgrimage to Puruṣottama-kṣetra
اس باب میں واسو، موہنی/سوپربھا/نندنی کو تعلیم دیتا ہے۔ ابتدا میں ایک الٰہی ستوتی ہے—دیوتا اور آسمانی ہستیاں رام اور سُبھدرا کے ساتھ شری کرشن کے لیے بار بار ‘جَے’ کا اعلان کرتی ہیں؛ انہیں جگدیشور، متسیہ-کورم-وراہ اوتار اور چکر-شنکھ-گدا دھاری کہہ کر سراہتی ہیں۔ پھر دھرم کی برابری کی منطق بیان ہوتی ہے کہ منڈپ کے پیٹھ پر براجمان تثلیث (کرشن-رام-سُبھدرا) کے محض درشن سے ہی گودان، کنیا دان، سونے سمیت بھودان، مہمان نوازی، ورشوتسرگ اور بہت سے تیرتھوں کی یاترا کے برابر پُنّیہ ملتا ہے۔ ابھشیک کے بچا ہوا جل خاص طور پر مہیم ہے—اس کے چھڑکاؤ سے بانجھ پن، بیماری، گرہ پیڑا، راکشس گرفت وغیرہ دور ہو کر شُدھی اور من چاہی سدھی ملتی ہے۔ اسنان کے بعد، خصوصاً دکشنابھمُکھ گमन میں، کرشن درشن مہاپاپ ناشک اور وشو پریکرما و مشہور تیرتھ اسنان کے برابر پھل دینے والا بتایا گیا ہے۔ آگے ورت کی وِدھی: جَیَیشٹھ شُکل ایکادشی کو اسنان، سورج جپ، مندر میں گھی-دودھ-شہد/چندن جل سے ابھشیک، پنچوپچار پوجا، بارہ دیے، نیویدیہ، منتر جپ، پرنام، گرو پوجا، منڈپ/منڈل، واسودیو کتھا و کیرتن کے ساتھ جاگرن؛ دوادشی کو بارہ برہمنوں کی پوجا، گائے-سونا-برتن دان، بھوجن اور رخصتی کے کرم۔ پھل کے طور پر کئی دیوی لوکوں میں طویل قیام، پھر دھارمک راجا کے طور پر جنم، اور آخر میں ویشنو یوگ اور کیولیہ کی پرابتّی بیان ہوئی ہے۔
Tīrtha-vidhi (Procedure for Holy Places) — Prayāgarāja-māhātmya
وَسو–موہنی مکالمے میں موہنی، پُروشوتم کی عظمت سن کر پریاگ کی مہاتمیا اور تیرتھ یاترا کے آداب پوچھتی ہے۔ وَسو پہلے عمومی اصول بتاتا ہے—دان، ضبطِ نفس اور شردھا/بھاو کے ساتھ کی گئی تیرتھ یاترا بہت سے یَجْیوں سے بڑھ کر پھل دیتی ہے؛ محض جسمانی قربت (گنگا میں مچھلی کی طرح) بھکتی کے بغیر بے فائدہ ہے۔ کام، کرودھ، لوبھ پر قابو، برداشت، قناعت اور پرتِگْرہ (تحفہ لینے) سے بے رغبتی کو باطنی اہلیت کہا گیا ہے۔ روانگی سے پہلے گنیش پوجا، دیوتاؤں، پِتروں، برہمنوں اور سادھوؤں کا احترام، تیرتھوں میں شرادھ/ترپن کی روش، پِنڈ کے مواد اور ناپاکی سے بچاؤ بیان ہوا ہے۔ پریاگ اور گیا کے خاص قواعد—سوگ میں مُنڈن، کارپٹی بھیس، دان/ہدیہ قبول نہ کرنا۔ تکبر والی سواری کی مذمت اور سفر کے طریقوں کے مطابق دوش و پُنّیہ کی درجہ بندی دی گئی ہے۔ آخر میں مُنڈن اور کَشَور کا فرق، کوروکشیتر، وشالا، وِراجا، گیا وغیرہ کے استثنا، گنگا سے متعلق خاص احکام، اور پانی/زمین/آگ کی قوت و رشیوں کی تائید سے تیرتھ کی پاکیزگی کی بنیاد واضح کی گئی ہے۔
Prayaga-mahatmya (Glory of Prayaga and the Magha Bath at Triveni)
اس باب میں واسو، موہنی کو مکالمے کے انداز میں ویدوں سے ثابت شدہ پرَیاغ کی عظمت سناتا ہے۔ سورج کے مکر میں ہونے پر ماہِ ماغھ کے ورت اور خصوصاً تریوینی اسنان کو نہایت اعلیٰ ثمر دینے والا بتایا گیا ہے۔ گنگا سے وابستہ تیرتھوں میں داخلہ-مقام، سنگم اور بہاؤ کی سمت کے لحاظ سے پُنّیہ کی درجہ بندی بیان کر کے نایاب وینی/تریوینی (گنگا–یمنا، روایتاً سرسوتی) کو سب سے برتر ٹھہرایا گیا ہے۔ ماغھ میں دیوتا، رشی، سدھ، اپسرا اور پِترگن وہاں جمع ہوتے ہیں؛ اسنان میں منتر جپ اور مَون وغیرہ کا مختصر طریقہ بتایا گیا ہے۔ اسنان کی جگہ (گھر کا گرم پانی، تالاب، ندی، مہا سنگم) اور زمانہ (مکر-ماغھ) کے مطابق پھل کئی گنا بڑھتا ہے۔ پرَیاغ کے کشترا-منڈل کی حد پانچ یوجن، اور پرتِشٹھان، ہنس پرتاپن، دشاشومیدھک، رِن موچنک، اگنی تیرتھ، نرک تیرتھ وغیرہ اُپ تیرتھوں کے ساتھ برہمچریہ، اہنسا، سچائی، ترپن جیسے آچار بیان ہوئے ہیں۔ دان—خاص طور پر شروتریہ کو گو-دان—اور چوڑاکرم وغیرہ کی ترغیب دی گئی ہے، اور اندرونی بھکتی کو فیصلہ کن کہا گیا ہے۔ آخر میں پرَیاغ میں ماغھ اسنان سے موکش اور موت کے وقت پرَیاغ کی یاد سے بھی پرم گتی کا پختہ دعویٰ کیا گیا ہے۔
The Determination of the Extent of the Sacred Field and Related Matters (Kurukṣetra Māhātmya)
وَسُو–موہنی مکالمے میں موہنی تِیرتھوں میں کُرُکشیتر کی برتری کی تفصیل چاہتی ہے۔ وَسُو بتاتا ہے کہ کُرُکشیتر پرم پُنّیہ کْشَیتر ہے—یہاں اسنان پاپ ہرتا ہے اور اس کی مہاتمّیہ سننا بھی موکش دینے والا ہے۔ وہ اسے برہماورت میں سرسوتی اور دِرشَدوتی کے بیچ واقع بتا کر چار موکش-سادن گنواتا ہے: برہما-گیان، گیا-شرادھ، گؤشالا میں مرتیو، اور کُرُکشیتر میں نِواس۔ برہما-سرس، رام-ہرد اور رام-تیرتھ کے ظہور اور برہما، وِشنو، شِو، پرشورام اور مارکنڈَیَہ کی تپسیا سے ان کا ربط بیان ہوتا ہے۔ سرسوتی کے بہاؤ، کُرُؤں کی کاشت، اور کُرُکشیتر/شیامنت پنچک کی حد پانچ یوجن مقرر کی جاتی ہے۔ اسنان، اُپواس، دان، ہوم، جپ اور دیو-پوجا کے اَکشَی پھل اور وہاں مرنے والوں کے لیے پُنرآگمن نہ ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ آخر میں مقامی یکش نگہبان سُچندر کی شانتی کا وِدھان اور وِشنو کے مقرر کردہ محافظوں کا ذکر ہے جو پاپیوں کو روک کر کْشَیتر کی رکھشا کرتے ہیں۔
Description of the Pilgrimage to the Sacred Tīrthas (Kurukṣetra-yātrā-krama)
موہنی کوروکشیتر کے مبارک جنگلات، دریاؤں اور پوری تیرتھ یاترا کے منظم بیان کی درخواست کرتی ہے۔ وسو ترتیب وار تیرتھ-یاترا-ودھی بتاتے ہیں—سات مرکزی وَن (کامیک، ادیتی وَن، ویاس وَن، پھلکی وَن، سوریا وَن، مدھو وَن، سیتا وَن) اور موسمی ندیاں جن کے لمس اور پانی پینے سے پُنّیہ ملتا ہے۔ یاترا دروازہ بان یکش رنتُک کو نمسکار سے شروع ہو کر وِمل/وِملیشور، پارِپلاو، پرتھوی تیرتھ، دکش آشرم (دکشیشور)، شالکِنی، ناگ تیرتھ، پنچنَد، کوٹی تیرتھ/کوٹیشور، اشوی تیرتھ، وراہ تیرتھ، سوم تیرتھ اور متعدد شِو لِنگ مقامات تک جاتی ہے، جہاں سنان، پوجا، دان اور برہمن بھوجن کا وِدھان ہے۔ تیرتھ کرموں کو اگنِشٹوم، اشومیدھ، راجسوئے اور سوم یگیہ کے برابر بتا کر چَیتر کے آچارن، کارتک میں کنیا دان، پترپکش/مہالَیہ شرادھ اور گرہن کے وقت دان کے قواعد بھی بیان کیے گئے ہیں۔ آخر میں کہا گیا ہے کہ کوروکشیتر کے برابر کوئی تیرتھ نہیں، اور ستھانُو تیرتھ موکش کا بلند ترین مقام ہے۔ پھل شروتی کے مطابق اس ماہاتمیہ کا سننا/پڑھنا گناہوں کو مٹاتا اور سالک کو موکش کے راستے پر لے جاتا ہے۔
The Greatness of Haridvāra (Gaṅgādvāra-māhātmya)
وَسُو–موہنی مکالمے میں موہنی، کُرُکشیتر کی عظمت سن کر گنگادوار (ہریدوار) کی ثواب بخش داستان طلب کرتی ہے۔ وَسُو بیان کرتا ہے کہ بھگیرتھ کے پیچھے پیچھے گنگا لَکانَندا کے روپ میں اتری اور یہ خطہ دَکش پرجاپتی کے یَجْیَہ کی بھومی ہونے سے مقدّس ہوا۔ پھر دَکش یَجْیَہ کا بحران آتا ہے—شیو کا بائیکاٹ، ستی کی بے حرمتی، اور ان کا دےہ تیاگ؛ اسی مقام پر اسنان اور ترپن کا عظیم پھل دینے والا تیرتھ قائم ہوتا ہے۔ ویر بھدر یَجْیَہ کو تہس نہس کرتا ہے، اور بعد میں برہما کی التجا سے یَجْیَہ کی بحالی ہوتی ہے۔ اس کے بعد ہریدوار کے ذیلی تیرتھ—ہری تیرتھ (ہری پاد)، تری گنگا، کنکھل، جہنو تیرتھ، کوٹی تیرتھ/کوٹیش، سَپت گنگا اور سَپت رِشی آشرم، آوَرت، کپیلا تالاب، ناگ راج تیرتھ، للیتکا، شانتنو تیرتھ، بھیم استھل وغیرہ—اور ان کے ورت، دان اور ثمرات گنوائے گئے ہیں۔ کُمبھ سے وابستہ سورج سنکرانتیوں اور وارُن/مہاوارُنک جیسے نایاب یوگوں میں اسنان کی خاص فضیلت، برہمنوں کی تکریم، نیز ہریدوار میں سمرن، پاٹھ، گنگا سہسرنام جپ، پران شروَن اور تحریری ماہاتمیہ رکھنے سے حفاظت و ثواب کے فوائد بیان کیے گئے ہیں۔
Badarikāśrama-māhātmya: The Five Śilās, Tīrthas, and the Path of Liberation
وسو اور موہنی کے مکالمے میں بدری کا مہاتمیہ بیان ہوتا ہے—یہ ہری کا کشترا ہے جہاں نر اور نارائن جگت کے کلیان کے لیے یگوں تک تپسیا کرتے ہیں۔ اگنی/وہنی تیرتھ میں اسنان سے پاپ دَہن، نارَدی شِلا اور نارَد کُنڈ سے شُدھی، اور پنچ گنگا میں ترپن سے برہملوک سے پُنرآگمن کی نِوِرتّی بتائی گئی ہے۔ گرُڑ کی تپسیا اور وِشنو کے وردان سے وینتیہ-شِلا کی پرتِشٹھا ہوتی ہے، جس کا سمرن بھی پُنّیہ داتا ہے۔ واراہی اور نرسِمھ شِلا اوتار-کرتیہ سے جڑی ہیں؛ دُرگتی سے رکشا اور ویشنَو دھام کی پرابتّی دیتی ہیں۔ پانچویں نر-نارائن شِلا کو یُگ دھرم کے انوسار سمجھایا گیا—پُرو یُگوں میں پرتیکش، کَلی میں نارَد کُنڈ میں پرتِشٹھت شِلا-ارچن (ویشاکھ/کارتک) سے سُلبھ۔ کَپال موچن وغیرہ انیک تیرتھوں کی فہرست سے یاترا کا جامع نقشہ بنتا ہے۔ آخر میں پھل شروتی—بدری میں پاٹھ، نِواس اور بھکتی سے پاپ رہِتتا، سمردھی، اَکال مرتیو سے نِجات اور ہری درشن حاصل ہوتا ہے۔
Kāmodākhyāna (Glory of the Kāmodā Sacred Place)
موہنی کے سوال پر وسو گنگا کے کنارے واقع ‘کامودا’ تیرتھ کی عظمت بیان کرتا ہے۔ وہ اسے کَشیر ساگر کے منتھن سے جوڑتا ہے، جہاں سے چار ‘کنیا رتن’ ظاہر ہوئے—رَما، وارُنی، کامودا اور وَرا۔ وِشنو کی اجازت سے وارُنی کو اسُروں نے لے لیا، اور لکشمی وِشنو کی اٹل سَہ دھرمِنی کے طور پر قائم ہوئیں۔ دیوتا آئندہ مقاصد جان کر وِشنو کے حکم سے کامودا نگر میں دھیان میں لَین، وِشنو-سنگم کی آرزو رکھنے والی دیوی کامودا کی پوجا کرتے ہیں؛ وہاں دل کی بھکتی سے وِشنو کی پرابتھی ممکن بتائی گئی ہے۔ دیوی کے سرور بھرے آنسو گنگا میں گر کر خوشبودار پیلے ‘کامود’ کنولوں سے منسوب کیے گئے ہیں۔ درست وِدھی سے پوجا کرنے پر من چاہا پھل ملتا ہے، اور بے وِدھی پوجا سے دکھ۔ تیرتھ گنگادوار کے اوپر بتایا گیا ہے؛ ایک سال دْوادشاکشری منتر جپ، اور بارہ سال سے ساکشات درشن۔ چَیتر دْوادشی کے سنان و کَتھا شروَن سے پُنّیہ اور کامنا پوری ہوتی ہے؛ بھکتی سے یہ کَتھا سننا پاپوں کا ناش کرتا ہے۔
Kāmākṣā-māhātmya (Glory of Kāmākṣā) with Siddhanātha Account
وَسو–موہنی مکالمے میں، پہلے بیان کی گئی گناہ-نابود کرنے والی حکایت سن کر موہنی کاماکشی کی پوجا کا پھل پوچھتی ہے۔ وَسو مشرقی سمندری ساحل کے علاقے میں کاماکشی کا مقام بتا کر ورت جیسا طریقہ مقرر کرتا ہے—محدود و منضبط غذا، شاستروکت پوجا، اور ایک رات قیام؛ جس سے درشن ہوتا ہے۔ دیوی ہیبت ناک روپ میں ظاہر ہوتی ہیں؛ ثابت قدمی ہی سدھی کی کسوٹی ہے، جبکہ خوف اور اضطراب رکاوٹ بنتے ہیں۔ پھر پاروتی پتر سدھناتھ کا ذکر آتا ہے—کلی یگ میں عموماً پوشیدہ، مگر کلی کے ایک نازک مرحلے کے بعد ظاہر ہو کر مایا و تدبیروں سے لوگوں کو قابو میں کرے گا اور کلی کی سہ گانہ رفتار کو تیز کرے گا۔ جو سدھیش کا دھیان کر کے ایک سال تک لگاتار کاماکشی کی عبادت کرتے ہیں، انہیں خواب میں درشن، سدھی اور دنیا کی سیاحت جیسے ور ملتے ہیں۔ پھر متسیہ ناتھ کی کہانی—سمندر میں پھینکا گیا بچہ مچھلی نے نگل لیا؛ شیو کے پرم تتّو کے اُپدیش (بارہ اکشری منتر سے وابستہ) سے کامل ہوا اور اُما نے اسے ‘سدھوں کا ناتھ’ مان لیا۔ آخر میں اس مہاتمیہ کے سننے سے پاکیزگی، مطلوبہ مرادیں اور سُورگ کی بشارت بیان کی گئی ہے۔
Prabhāsa-kṣetra: Circuit of Tīrthas and Shrines Leading to Bhukti and Mokṣa
موہنی، واسو سے پربھاس کی عظمت بیان کرنے کی درخواست کرتی ہے۔ واسو پربھاس کو ایک وسیع مقدّس یاترا-دائرہ بتاتا ہے جس میں مرکزی ویدیکا ہے اور ارکستھل میں نہایت طاقتور سُوکشم تیرتھ ہے؛ وہ اعلان کرتا ہے کہ سومناتھ کے اسنان اور پوجا سے موکش حاصل ہوتا ہے۔ پھر وہ ترتیب وار یاترا بیان کرتا ہے—سدّھیشور سے آغاز کر کے بے شمار لِنگوں کی پوجا، اگنی تیرتھ و کپرَدّیش، کیداریش سمیت متعدد شَیو مندر، اور مکمل گرہ/آدتیہ پرکرما (مریخ، مشتری، چاند، زہرہ، زحل، راہو، کیتو)۔ راستے میں دیوی کی عبادت، گنیش/ونایک کے وِدھان، ویشنو پرسنگ (آدی نارائن، نگرادتیہ کے قریب کرشن-سایوجیہ)، اور شرادھ-پنڈ دان—جسے گیا کے برابر پھل والا کہا گیا—شامل ہیں۔ کنوؤں، ندیوں، سنگموں اور کنڈوں کے ناموں کی گھنی فہرست آخرکار موکش تیرتھوں تک پہنچتی ہے۔ باب کے اختتام پر پربھاس کی برتری اور پربھاس-ماہاتمیہ کے سننے/پڑھنے یا تحریری صورت محفوظ رکھنے سے حفاظت اور خوف کے زوال کی قوت بیان کی گئی ہے۔
Puṣkara-Māhātmya (The Glory of Puṣkara)
موہنی کے سوال پر وَسو پُشکروُدبھَو پُشکر کی عظمت بیان کرتا ہے—یہ نِتّیہ مرادیں پوری کرنے والا مقدّس کْشَیتر ہے، جہاں بڑے دیوتا سکونت رکھتے ہیں اور شِودُوتی اس کی حفاظت کرتی ہے۔ جَیَیشٹھ ماہ میں وہاں قیام اور اسنان کو نہایت پُنیہ بخش کہا گیا ہے؛ ایک بار اسنان یا محض درشن بھی عظیم ویدک یَگیوں کے پھل کے برابر بتایا گیا۔ پھر پُشکر کے اندرونی تیرتھوں کی ساخت—چوٹیاں، دھارائیں، تین سرور (بڑا/درمیانی/چھوٹا)، سرسوتی سے وابستہ گھاٹ، اور نندا، کوٹیتیرتھ، اگستیہ آشرم، سپترشی آشرم، منو کا استھان، گنگا اُدگم، وِشنوپَد، ناگ تیرتھ، پِشَچ تیرتھ، شِودُوتی سرور، آکاش پُشکر وغیرہ—گنوائے گئے ہیں۔ ہر تیرتھ کے ساتھ گودان، بھودان، سونا، اَنّ، اناج، تل دان وغیرہ اور ان کے ثمرات—گناہوں کا زوال، درازیِ عمر، خوشحالی، رشیوں کے ساتھ سالوکْیہ، برہملوک/وشنولोक/رُدرلوک، سُورگ یا موکش—وعدہ کیے گئے ہیں۔ کارتک اسنان کے لیے نَکشتر-یوگ کے قواعد بھی بیان ہوتے ہیں اور آخر میں کہا گیا ہے کہ یاد، نام کا اُچارَن اور مہاتمیہ سننا بھی پُشکر کے پُنیہ کا سبب بنتا ہے۔
An Account of the Power of Sage Gautama’s Austerities (Gautamāśrama-māhātmya)
وَسُو–موہنی مکالمے میں موہنی، پُشکر کے پُنّیہ کو سن کر گوتم آشرم کی عظمت پوچھتی ہے۔ وَسُو بیان کرتا ہے کہ گوتم کے تپسیا سے آشرم پاپوں کو مٹانے والی پناہ گاہ ہے، دکھوں کو शांत کرتا ہے اور طویل ورت و بھکتی سے شِو لوک عطا کرتا ہے۔ بارہ برس کے قحط میں بھوکے رشی وہاں آ کر اَنّ مانگتے ہیں؛ کرونامَی گوتم گنگا کا دھیان کرتا ہے اور گنگا زمین سے ظاہر ہو کر گوداوری بن جاتی ہے۔ تپو بل سے اسی دن دھان بویا اور کاٹا جاتا ہے، اور قحط ختم ہونے تک سب کی پرورش ہوتی رہتی ہے۔ خوش ہو کر تریَمبک شِو پرگٹ ہو کر اٹل بھکتی عطا کرتا ہے اور نزدیک کے پہاڑ پر اپنے نِتیہ نِواس کا ور دیتا ہے؛ وہ پہاڑ تریَمبک کے نام سے مشہور ہوتا ہے۔ گوداوری (گنگا) میں اسنان، تریَمبک کی ودھیوت پوجا، پِتر کرم اور پنچوَٹی کے ورت—رام کے تریتا یُگ نِواس سے بھی پَوِتر—موکش دایَک بتائے گئے ہیں؛ اس ادھیائے کا پاٹھ و شروَن پُنّیہ اور من چاہا پھل دیتا ہے۔
Vedapāda-stava (Hymn in Vedic Quarters): Śiva’s Tāṇḍava at Puṇḍarīkapura
وسو–موہنی مکالمے میں موہنی گوداوری–پنچوٹی کے نزدیک تریَمبک کی عظمت اور اُس پُنڈریکاپُر کی پیدائش پوچھتی ہے جہاں مہادیو نے تاندَو کیا تھا۔ وسو بیان کرتا ہے کہ ویاس کے شاگرد جَیمِنی اپنے شاگردوں سمیت وہاں پہنچے، شہر جیسے تیرتھ-پریش کو دیکھا، اسنان کیا، ترپن اور نِتیہ کرم ادا کیے؛ مٹی کا شِو لِنگ بنا کر شودشوپچار سے پوجا کی۔ پرسن ہو کر شِو اُما، گنیش اور سکند کے ساتھ پرگٹ ہوئے؛ جَیمِنی کی خواہش پر شِو نے عجیب نرتک-روپ دھارا، پرمَتھوں کو بلایا اور سرمست تاندَو کیا—بھسم، چندر، گنگا، تیسری آنکھ، سانپ، چرم وغیرہ کی علامتوں سے جگت کانپ اٹھا۔ جَیمِنی نے وید-پدوں سے یُکت طویل ستوتر میں شِو کی کائناتی بادشاہی، پنچبرہما روپ (ایشان، تتپُرُش، اَگھور/گھور، وام دیو، سدیوجات) اور سنسار کے بھَے سے پناہ کی ستُتی کی؛ درازیِ عمر، صحت، ودیا، سمردھی اور جنم جنم کی داسَتا کے ور مانگے۔ پھل شروتی کے مطابق پاتھ سے فتح، بدھی، دھن، پتر اور شِولोक/سایُجیہ ملتا ہے؛ تاندَو تیرتھ میں اسنان موکش دیتا ہے، پِتر شراَدھ کو बल دیتا ہے اور دان کو اَکشَے بناتا ہے۔
The Greatness of Gokarṇa (Gokarṇa-māhātmya)
وَسو–موہنی مکالمے میں موہنی، پُنڈریکاپُر کا حال سن کر گوکرن کی عظمت دریافت کرتی ہے۔ وَسو بیان کرتا ہے کہ مغربی سمندر کے کنارے واقع گوکرن کا محض دیدار ہی موکش (نجات) عطا کرتا ہے؛ یہ وسیع پُنّیہ بھومی ہے جہاں بے شمار تیرتھ، کھیتر اور بن اُپون ہیں اور دیوتا، اسُر اور انسان بستے ہیں۔ ساگر کے بیٹوں کی کھدائی سے سمندر چڑھ آتا ہے، تو گوکرن کے رشی جگہ بدل کر کھیتر کی بحالی کا راستہ ڈھونڈتے ہیں۔ وہ مہندر پربت پر پرشورام کے پُرسکون آشرم میں پہنچ کر مہمان نوازی پاتے ہیں اور سمندر کو پیچھے ہٹا کر اپنا کھیتر واپس دلانے کی التجا کرتے ہیں۔ پرشورام ساحل پر جا کر ورُن کو بلاتے ہیں؛ ورُن غرور سے دیر کرے تو وہ بھارگو اَستر کا آہوان کر کے پانی سُکھانے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ خوف زدہ ورُن شَرَن آ جاتا ہے؛ پانی ہٹ جاتا ہے اور گوکرن ظاہر ہو جاتا ہے۔ پرشورام شنکر کی ‘گوکرن’ نام سے پوجا کرتے ہیں۔ آخر میں پھل شروتی—یاد، دیدار، قیام اور وہاں کے کرم سے کئی گنا پُنّیہ؛ وہاں موت سے سوَرگ؛ اور شِو کی حضوری گناہوں کا ناس کرتی ہے۔
The Greatness of Lakṣmaṇācala, with the Narrative of Rāma and Lakṣmaṇa
موہنی–وسو کے مکالمے میں موہنی، گوکرن کی گناہ نِگار (پاپ نाशک) عظمت سن کر لکشمن آچل کا ماہاتمیہ پوچھتی ہے۔ وسو چتُرویوہ کے مطابق لکشمن کی الوہی پہچان بیان کرتا ہے: رام نارائن، بھرت پردیومن، شترُگھن انیرُدھ، اور لکشمن سنکرشن (شیو/مَنگل سے وابستہ)۔ پھر مختصر رامائن: وشوامتر یَجْن، تاڑکا و سُباہُو کا وध، دیویہ استروں کی प्राप्तی، متھلا میں شِو دھنش توڑنا اور وِواہ، پرشورام کی سرکوبی، وَنواس، سیتا ہَرن، سُگریو سے مِتری، ہنومان کی دُوتی، سیتو بندھ، اندرَجیت و راون کا وध، سیتا کی اگنی پریکشا، ایودھیا واپسی و راجیہابھشیک، سیتا تیاگ، کُش–لو اور اشومیدھ کا پس منظر، اور آخر میں دُروَاسا کے واقعے سے لکشمن کی آتم-تیاگ بھری روانگی اور رام کا پرم دھام گमन۔ لکشمن پہاڑ پر تپسیا کر کے دائمی تیرتھ ادھیکار قائم کرتا ہے؛ لکشمن آچل کا درشن زندگی کی تکمیل اور ہری دھام دیتا ہے، دان و کرم اَکشَے پھل دیتے ہیں، پاتھ و شروَن سے رام کی پریتی ملتی ہے؛ اگستیہ کی اجازت کو موکش دायक درشن کا دروازہ کہا گیا ہے۔
Setu-māhātmya (The Glory of Setu and the Fruits of its Tīrthas)
وَسُو–موہنی مکالمے میں موہنی پہلے رامائن کے پاٹھ کو گناہ ناشک اور پُنّیہ بڑھانے والا کہہ کر سراہتی ہے اور سیتو کی اعلیٰ ترین مہِما پوچھتی ہے۔ وَسُو کہتا ہے کہ سیتو کا محض درشن ہی سنسار کے ساگر سے پار اتار دیتا ہے، کیونکہ وہاں بھگوان شری رامیشور وراجمان ہیں؛ ضبطِ نفس والے من سے کی گئی پوجا پرم پد عطا کرتی ہے۔ پھر سیتو کے تیرتھ—چکر تیرتھ، تال تیرتھ، سیتا کنڈ، منگل تیرتھ، امرت واپی، برہما کنڈ، لکشمن تیرتھ، جٹا تیرتھ، ہنومت کنڈ، اگستیہ تیرتھ، رام کنڈ، لکشمی تیرتھ، اگنی تیرتھ، شیو تیرتھ، شنکھ تیرتھ، کوٹی تیرتھ، سادھیامرت، سرو تیرتھ، دھنش کوٹی، کْشیر کنڈ، کپی تیرتھ، گایتری و سرسوتی تیرتھ، اور رِن موچن—ہر ایک کے جداگانہ پھل بیان ہوتے ہیں: امرتتوا، برہملوک/شیولोक، یوگ گتی، صحت، فتح، اولاد و دولت، خوشحالی و حسن، بندھن اور قرض سے نجات، اور بُری جنم سے بچاؤ۔ آخر میں کہا گیا ہے کہ اس سیتو تیرتھ-ماہاتمیہ کا پڑھنا یا سننا گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔
नर्मदातीर्थमाहात्म्ये तीर्थसंग्रहः (The Greatness of the Sacred Fords of the Narmadā)
سیتو کی عظمت سن کر موہنی رِیوا/نرمدا کے تیرتھوں کا مختصر مگر جامع بیان چاہتی ہے۔ واسو دونوں کناروں پر پھیلے چار سو تیرتھوں کے ‘مجموعے’ کا ذکر کرتا ہے، کناروں کے حساب سے تعداد بتاتا ہے اور رِیوا کے سمندر-سنگم کی خصوصیت نمایاں کرتا ہے۔ پھر ثواب کا نقشہ آتا ہے—اومکار کے دو کروش کے دائرے میں ‘ساڑھے تین کروڑ’ پُنّیہ، کپیلا-سنگم اور اشوک-ون جیسے سنگم و بنوں کی مہاتیرتھ-برابر فضیلت، اور متعدد مقامات پر سو گنا، ہزار گنا، دس ہزار گنا وغیرہ بڑھتے ہوئے ثواب کی ترتیب۔ 108 وغیرہ مقررہ اعداد والے سنگم، نمایاں شَیَو لِنگ-مندر اور ‘سورن تیرتھ’ بھی گنوائے جاتے ہیں۔ آخر میں شَیَو، ویشنو، شاکت، ماترِکا، برہما سے متعلق اور کشتراپال روایتوں کے مطابق تیرتھوں کی درجہ بندی اور یہ عقیدہ بیان ہوتا ہے کہ نرمدا کا پُنّیہ صرف درشن سے ملتا ہے؛ اس ماہاتمیہ کا سننا، پڑھنا یا لکھنا گناہوں کو دھوتا، گھروں کو آفتوں سے بچاتا اور خوشحالی عطا کرتا ہے۔
The Glory of Avantikā (Avanti-māhātmya)
موہنی، وسو سے اونتی/اونتیکا (اُجّینی) کی پاکیزہ ابتدا، عظمت اور دیوتاؤں کے معبود مہاکال کی شان بیان کرنے کی درخواست کرتی ہے۔ وسو مہاکال وَن کو مرکز بنا کر تیرتھوں کی فہرست سناتا ہے—یہ بے مثال کْشَیتر اور تپسیا کی نشست ہے جہاں مہاکال وِراجمان ہیں۔ متعدد تیرتھ، کنڈ، سروور اور لِنگوں کے نام، اسنان و پوجا کے طریقے اور ان کے پھل بتائے گئے ہیں—کپال موچن سے بڑے پاپوں کی پاکی، کلکلِیش سے جھگڑوں میں فتح، دولت و خوشحالی، صحت، بے خوفی، کاموں میں کامیابی، سوَرگ کی دستیابی اور آخرکار شِولोक یا وِشنولोक کی پرابتھی۔ یاترا آچار میں اندرونی درشن کے لیے وِگھنےش، بھَیرو اور اُما کی پوجا کا ودھان ہے۔ مہاکال وَن میں اَن گنت لِنگ ہیں؛ جو بھی لِنگ ملے اس کی پوجا سے بھکت شِو کا پیارا بن جاتا ہے۔ اختتام پر کہا گیا ہے کہ اونتی کی مہاتمیہ سننا ہی پاپوں کا نाश کرتا ہے۔
The Description of the Greatness of Mathurā (Mathurā-māhātmya)
وَسو اور موہنی کے مکالمے سے باب شروع ہوتا ہے۔ اوَنتی کی عظمت سن کر موہنی متھرا کی شان پوچھتی ہے۔ وَسو متھرا کو بھگوان کا ظاہر شدہ دھام بتاتا ہے، جو شری کرشن کے جنم، گوکل لیلا اور کَنس کے دیوتاؤں/دَیتیوں کے وध سے پاک ہوا۔ پھر وہ بارہ وनों کا ذکر کرتا ہے—مدھون، تالاہویہ، کُمُد، کامیہ ون (وِمل ہرد سمیت)، بہُل، بھدرون، خادِر، مہاون، لوہجنگھ، بِلوارنّیہ، بھانڈیر اور سب سے اُتم ورِنداون—اور ہر ایک میں اسنان و پوجا کے بھکتی پھل بیان کرتا ہے۔ متھرا-منڈل کو بیس یوجن کی یاترا-پرکرما قرار دے کر کہا گیا ہے کہ جہاں کہیں بھی اسنان ہو، وشنو بھکتی حاصل ہوتی ہے۔ وِشرانتی/وِمُکت، رام تیرتھ، پریاگ، کنکھل، تِندُک، پٹوسوامی، دھرو، رِشی تیرتھ، موکش تیرتھ، بودھنی، کوٹی تیرتھ، اَسیکُنڈ، نو تیرتھ، سَنیمن، دھارایتن، ناگ تیرتھ، برہملوک/گھنٹابھرن، سوم، پراچی سرسوتی، چکر تیرتھ، دَشاشومیدھک، وِگھن راج، اَننت وغیرہ بڑے تیرتھ گنوائے گئے ہیں۔ آخر میں کیشو کی حاکمیت، چتورویوہ کی صورت میں دیویہ سَنِدھی، اور متھرا-ماہاتمیہ کے سننے/پڑھنے کی نجات بخش قوت بیان ہوتی ہے۔
The Greatness of Śrī Vṛndāvana (Śrī-vṛndāvana-māhātmya)
موہنی، واسو سے ورنداون کی پوشیدہ تقدیس و عظمت پوچھتی ہے۔ واسو رازدارانہ سلسلہ بیان کرتا ہے کہ نارَد نے ورندا دیوی سے گوپیکیش (گوپیوں کے سوامی شری کرشن) کی نہایت گُہری تعلیم حاصل کی۔ باب میں متھرا کے مقدس جغرافیے میں ورندارنّیہ کی جگہ—پُشپسرس، کَوسُمسرس، جمنا کے کنارے، گوپیکیشَر، اور سَخیستھل کے نزدیک گووردھن—کا ذکر ہے اور نارَد کے ورندا کے آشرم میں پہنچنے کی कथा آتی ہے۔ مادھوی کی رہنمائی سے نارَد مخصوص کناروں پر اشنان کر کے تبدیلی لانے والا درشن پاتا ہے—ناردی روپ اختیار کر کے جواہراتی محل میں داخل ہوتا ہے، گوپیکیشور کا دیدار/ملاقات کرتا ہے، پھر لوٹ کر مردانہ روپ دوبارہ پاتا ہے۔ ورندا کُبجا/سنکیت سے جڑا باطنی راز کھولتی ہے اور گرو–ششیہ کے بھید کے طور پر ‘دگدھ-شٹکرنگ’ منتر-سادھنا عطا کرتی ہے، اور آخر میں ایک ہی اَدویت حقیقت کا صریح بیان کرتی ہے۔ بعد کے حصے میں ورنداون کے تیرتھ اور ان کے پھل—برہما کنڈ، گووند کنڈ، تتو پرکاش گھاٹ، اَرِشٹ کنڈ، شری کنڈ، رُدر/کام کنڈ وغیرہ—گنوائے جاتے ہیں؛ کلی یُگ میں ورنداون کی پناہ کی ستائش، گووردھن کی تطہیر کی کہانی، اور ورنداون کو اعلیٰ ترین یاترا-ستھان اور بھکتی دھرم کا میدان قرار دے کر اختتام ہوتا ہے۔
The Exposition of the Deeds of Vasu (Vasu’s Vrindavan Boon and the Future Deeds of Hari)
وسو موہنی کو تیرتھ-پرکرما کے پھل کے حصول کی نصیحت کرتا ہے اور پھر موہنی کا واقعہ برہما کو سناتا ہے۔ برہما وسو کی ستائش کر کے اسے ور دیتا ہے؛ وسو ورِندارنّیہ (ورِنداون) میں سکونت اختیار کر کے طویل تپسیا کرتا ہے، تب وِشنو پرگٹ ہو کر اسی ور کی توثیق کرتے ہیں۔ ورِنداون کے اسرار جاننے کی لگن میں وسو نارَد سے ملتا ہے اور بھکتی کو بڑھانے والے دھرم پوچھتا ہے۔ نارَد شِو کے ذریعے ملی پیشین گوئی بیان کرتا ہے—جو شِو نے گولوک میں سُرَبھی سے سنی تھی: دھرتی کا بوجھ ہٹانے کے لیے ہری کا اوتار، کرشن کی برَج لیلائیں (پوتنا وध، کالیہ دمن، دیگر دیو-نِگ्रह)، متھرا میں کنس وध، دوارکا میں شادیاں اور جنگیں، آخر میں یادوؤں کا اُپسنہار اور ہری کا اپنے سْودھام کو لوٹ جانا۔ نارَد وینا بجاتے ہوئے گاتا ہوا روانہ ہو جاتا ہے؛ وسو برَج میں کرشن لیلا کے درشن کا مشتاق رہتا ہے۔
The Fruits of Hearing the Mahāpurāṇas; Mohinī’s Tīrtha-Yātrā; Mohinī Ekādaśī Discipline
رِشی سوتا کی کِرشن لیلا کے بیان کی ستائش کرتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ وسو کے برہملوک چلے جانے کے بعد برہما کی بیٹی موہنی نے کیا کیا۔ سوتا بیان کرتے ہیں کہ موہنی نے وسو کے بتائے ہوئے ودھی کے عین مطابق تیرتھ یاترا کی—گنگا وغیرہ ندیوں میں اسنان، وشنو سے آغاز کر کے دیوتاؤں کی پوجا، برہمنوں کو دان، گیا میں پِنڈدان، کاشی میں عبادت، اور پھر پُروشوتم، دوارکا، کُرُکشیتر، گنگادوار، بدری آشرم (نر-نارائن)، ایودھیا، امرکنٹک، اومکار، تریَمبکیشور، پُشکر اور متھرا میں اندرونی پریکرما کے ساتھ درشن اور گودان۔ اس کے بعد ورت-کلپ میں ایکادشی کے سفر/وقت کے قواعد، ‘موہنی-ویدھ’ سے بچاؤ، اور دوادشی کو وشنو پوجا سے ویکنٹھ پرابت ہونے کا پھل بتایا گیا ہے۔ ‘موہنی’ نام کو برہما کے حکم سے جوڑا گیا، لکشمی سے رقابت کا اشارہ آیا، اور رُکمانگد کی مثال سے وشنو بھکتی کی ناقابلِ شکست پختگی ثابت کی گئی۔ آخر میں پھل شروتی ناردیہ پران کی حجیت، تمام مسالک کے لیے جامعیت، سب ورنوں کے لیے نفع، اور شِو/پردھان/پُرش/کرم جیسی اصطلاحات میں ظاہر اَدویت برہمن کے تَتّو کی عظمت بیان کرتی ہے۔