
Dharmaranya Mahatmya
This section is anchored in the sacred landscape associated with Vārāṇasī (Kāśī) and the named forest-region Dharmāraṇya. It presents the area as a densely sacralized tīrtha-field served by major deities (Brahmā, Viṣṇu, Maheśa), directional guardians, divine mothers, and celestial beings, thereby situating local topography within pan-Indic cosmological governance. The narrative also encodes a social-religious ecology: communities of learned brāhmaṇas, ritual performance, śrāddha offerings, and merit-transfer doctrines are tied to the place’s identity.
40 chapters to explore.

धर्मारण्यकथाप्रस्तावः (Prologue to the Dharmāraṇya Narrative)
باب ۱ نَیمِش-کشیتر میں پُرانک تلاوت کا سانچہ قائم کرتا ہے۔ شَونک وغیرہ رِشی سُوت (لومہرشن) کا استقبال کر کے ایسی پاکیزہ حکایت کی درخواست کرتے ہیں جو مدتوں سے جمع شدہ گناہوں کو دھو ڈالے۔ سُوت منگل آچرن کے ساتھ آغاز کر کے بتاتا ہے کہ وہ الٰہی عنایت سے تیرتھوں کے اعلیٰ ترین پھل کا بیان کرے گا۔ پھر قصے کی دوسری سطح کھلتی ہے—دھرم (یَم/دھرم راج) برہما کی سبھا میں حاضر ہو کر دیوتاؤں، رِشیوں، ویدوں اور مجسّم اصولوں سے بھری کائناتی مجلس کا دیدار کرتا ہے۔ وہاں وہ ویاس سے ‘دھرم آرَنیہ-کتھا’ سنتا ہے، جسے دھرم-ارتھ-کام-موکش دینے والی، وسیع اور پُنّیہ بخش کہا گیا ہے۔ سَمیَمِنی واپس آ کر دھرم راج کی ملاقات نارَد سے ہوتی ہے؛ نارَد یَم کو نرم خو اور شاداں دیکھ کر حیران ہوتا ہے۔ یَم بتاتا ہے کہ دھرم آرَنیہ-کتھا کے شروَن سے یہ تبدیلی آئی اور اس کی تطہیری تاثیر—متن کے اسلوب میں سخت گناہوں سے بھی نجات دلانے والی—واضح کرتا ہے۔ آخر میں اشارہ ہے کہ نارَد انسانوں کی دنیا میں یُدھِشٹھِر کی دربار کی طرف جاتا ہے اور آئندہ بیان میں آغاز، حفاظت، زمانی ترتیب، سابقہ واقعات، آئندہ نتائج اور تیرتھوں کی حیثیت وغیرہ کا منظم تعارف ہوگا۔

Dharmāraṇya-Māhātmya: Vārāṇasī’s Sacred Forest, Merit of Death, and Ancestral Rites
یہ باب وِیاس کی آراستہ حمد سے شروع ہوتا ہے، جس میں وارانسی کی عظمت بیان کر کے اسی مقدّس منظرنامے میں “دھرماآرنْیہ” کو برترین پاکیزہ جنگل کے طور پر متعارف کرایا جاتا ہے۔ برہما، وِشنو، مہیش، اِندر، لوک پال/دِک پال، ماترِکائیں، شِو-شکتیاں، گندھرو اور اپسرائیں وغیرہ کی حضوری گنوا کر اس مقام کو دائماً معبود و منسکات سے معمور تیرتھ کے طور پر قائم کیا گیا ہے۔ پھر نجات و موکش کا مضمون آتا ہے—دھرماآرنْیہ میں جس کسی کی موت واقع ہو، کیڑے مکوڑوں سے لے کر دیگر جانداروں تک، اُن کے لیے ثابت قدم مکتی اور وِشنولोक کی حاضری کا وعدہ ہے، جسے پھل شروتی کے انداز میں اعداد کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اس کے بعد پِنڈ دان کی رسم: جو، وریہی (چاول)، تل، گھی، بِلْو پتے، دُروَا، گُڑ اور پانی کے ساتھ پِنڈ پیش کرنا پِتروں کی تسکین اور نسل و خاندان کی نجات کے لیے نہایت مؤثر بتایا گیا ہے، نسلوں اور نسبی شمار کے اشاروں سمیت۔ باب میں دھرماآرنْیہ کی ہم آہنگ فطرت بھی دکھائی گئی ہے—درخت، بیلیں، پرندے، اور فطری دشمن جانداروں میں بھی بے خوف میل جول—جو دھارمک ماحول کی اخلاقی تصویر بن جاتا ہے۔ لعنت و کرپا دونوں کی قدرت رکھنے والے برہمنوں اور وید-مطالعہ و نِیَم پر قائم عالم برہمن بستیوں (اٹھارہ ہزار وغیرہ) کا ذکر بھی ہے۔ آخر میں یُدھِشٹھِر پوچھتے ہیں کہ دھرماآرنْیہ کب اور کیوں قائم ہوا، زمین پر یہ تیرتھ کیسے بنا، اور برہمن آبادیوں (اٹھارہ ہزار کی تعداد سمیت) کی بنیاد کیسے پڑی—یوں اگلی توضیح کے لیے تمہید بنتی ہے۔

Dharmarāja’s Tapas in Dharmāraṇya and the Devas’ Attempted Distraction (धर्मारण्ये धर्मराजतपः–देवव्याकुलता–अप्सरःप्रेषणम्)
ویاس ایک پُرانک حکایت کا آغاز کرتے ہیں جس کا سننا پاکیزگی بخش ہے۔ تریتا یُگ میں دھرم آرانْیہ میں دھرم راج (بعد میں یُدھشٹھِر) نہایت سخت تپسیا کرتے ہیں—جسم نہایت نحیف، بالکل ساکن، اور کم سے کم سانس پر زندگی قائم؛ یہ اعلیٰ ترین خود ضبطی کی تصویر ہے۔ تپسیا سے پیدا ہونے والی تپش و قوت سے دیوتا گھبرا جاتے ہیں اور اندرا کے اقتدار کے متزلزل ہونے کے خوف سے کیلاش میں شیو کے پاس پناہ لیتے ہیں۔ برہما طویل ستوتی کرتے ہیں—شیو ناقابلِ تعریف، یوگیوں کی باطنی روشنی، گُنوں کی بنیاد، کائناتی عمل کے اصل سبب اور وِشو روپ ہیں۔ شیو تسلی دیتے ہیں کہ دھرم راج کوئی خطرہ نہیں؛ مگر اندرا دل ہی دل میں بے چین رہ کر مشورہ بلاتا ہے۔ برہسپتی کہتے ہیں کہ تپسیا کا براہِ راست مقابلہ ممکن نہیں، اس لیے اپسراؤں کو بھیجا جائے۔ اندرا کے حکم سے وہ موسیقی، رقص اور دل فریب اداؤں سے دھیان بھٹکانے کے لیے دھرم آرانْیہ جاتی ہیں۔ جنگل اور آشرم کی رعنائی—پھول، پرندوں کی نغمگی، اور جانوروں کی ہم آہنگی—بیان ہوتی ہے۔ سرکردہ اپسرا وردھنی وینا، تال اور رقص کے ساتھ جلوہ دکھاتی ہے؛ دھرم راج کا من ایک لمحے کو مضطرب ہوتا ہے۔ پھر یُدھشٹھِر پوچھتے ہیں کہ دھرم میں قائم شخص میں یہ اضطراب کیسے؟ ویاس اخلاقی تنبیہ کرتے ہیں: غفلت زوال کا سبب ہے؛ شہوانی فتنہ بڑی مایا ہے جو تپسیا، دان، دَیا، ضبطِ نفس، سوادھیائے، پاکیزگی اور حیا جیسی خوبیاں آہستہ آہستہ کمزور کر کے انسان کو بندھن میں ڈال دیتی ہے۔

Dharmāraṇya Māhātmya: Varddhanī–Dharma Dialogue, Śiva’s Boons, and the Institution of Dharmavāpī
اس ادھیائے میں ویاس ایک ایسی روایت پیش کرتے ہیں جو یم دوتوں کے خوف کو دور کرتی ہے، کیونکہ اس میں دھرم/یم کی دھارمک نیت واضح ہوتی ہے۔ دھرمآرن्य میں تپسیا کرتے ہوئے دھرم کی ملاقات اپسرا وردھنی سے ہوتی ہے؛ وہ اس کی شناخت پوچھتے ہیں۔ وردھنی بتاتی ہے کہ اندر کو اندیشہ تھا کہ دھرم کی تپسیا کائناتی نظم کو متزلزل کر دے گی، اسی خوف سے اسے بھیجا گیا۔ سچائی اور بھکتی سے خوش ہو کر دھرم اسے ور دیتے ہیں: اندرلوک میں استحکام اور اس کے نام کا تیرتھ، جس میں پانچ راتوں کی ورت-پالنا سمیت مقررہ آچارن ہوں، اور وہاں دان-جپ-پاتھ کا اَکشَی پھل ملے۔ اس کے بعد دھرم نہایت سخت تپسیا کرتے ہیں؛ دیوتا گھبرا کر شیو کی پناہ لیتے ہیں۔ شیو آ کر تپسیا کی ستائش کرتے ہیں اور ور دیتے ہیں۔ دھرم درخواست کرتے ہیں کہ یہ خطہ تینوں لوکوں میں ‘دھرمآرن्य’ کے نام سے مشہور ہو اور سبھی جیووں—انسان ہی نہیں، غیر انسانی حیات کے لیے بھی—موکش دینے والا تیرتھ قائم ہو۔ شیو نام کی توثیق کرتے ہیں، وشویشور/مہالِنگ روپ میں لِنگ کی سَنِدھی کا وعدہ کرتے ہیں اور دھرمواپی کے قیام کا بیان کرتے ہیں۔ آگے دھرمیشور کے سمرن و پوجن کی تاثیر، دھرمواپی میں اسنان اور یم کے لیے ترپن کے منتر، بیماری و رنج و آفتوں سے نجات، شرادھ کے افضل اوقات (اماواسیا، سنکرانتی، گرہن وغیرہ)، تیرتھوں کی درجہ بندی، اور آخر میں پھل شروتی—عظیم پُنّیہ اور بعد از مرگ بلند گتی—کا ذکر ہے۔

सदाचार-शौच-सन्ध्या-विधि (Ethical Conduct, Purity, and Sandhyā Procedure)
اس باب میں یُدھِشٹھِر دھرم اور خوشحالی کی جڑ ‘سداچار’ کی توضیح طلب کرتے ہیں۔ وِیاس جی مخلوقات اور فضائل کی درجہ بندی بیان کر کے برہمن کی ودیا اور برہمتتپرَتا (برہمن کی طرف یکسوئی) کو اعلیٰ ترین قرار دیتے ہیں۔ سداچار کو بغض و دلبستگی سے پاک دھرم-مول کہا گیا ہے؛ اور بدچلنی کے نتیجے میں سماجی ملامت، بیماری اور عمر میں کمی کی تنبیہ کی گئی ہے۔ پھر یم-نیَم (سچ، اہنسا، ضبطِ نفس، شَौچ، سوادھیائے، اُپواس وغیرہ)، کام-کروध-موہ-لوبھ-ماتسرْی جیسے باطنی دشمنوں پر غلبہ، اور بتدریج دھرم کے ذخیرے کا طریقہ بتایا جاتا ہے۔ انسان اکیلا پیدا ہوتا ہے اور اکیلا مرتا ہے؛ پرلوک میں صرف دھرم ہی ساتھ جاتا ہے—یہ مرکزی تعلیم ہے۔ آخری حصے میں روزمرہ آچار کی تفصیلی ہدایات ہیں: برہما مُہورت میں اسمِ الٰہی کا سمرن، آبادی سے دور قضائے حاجت کے قواعد، مٹی اور پانی سے طہارت، آچمن کے معیار، بعض دنوں میں دَنت دھاون کی ممانعت، صبح کے اسنان کی فضیلت، اور پرانایام، اَغمَرشَن، گایتری جپ، سورج کو اَرجھ، پھر ترپن اور گھریلو کرموں سمیت سَندھیا وِدھی۔ اسے منضبط دْوِج کے لیے مستحکم نِتیہ دھرم قرار دے کر باب مکمل ہوتا ہے۔

गृहस्थधर्म-उपदेशः (Householder Dharma: pañcayajña, hospitality, and conduct codes)
اس باب میں وِیاس جی گِرہستھ آچار (گھریلو نظمِ حیات) کی فنی اور مفصل ہدایت دیتے ہیں۔ وہ گِرہستھ کو سماج اور یَجْن کی معیشت کا سہارا بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیوتا، پِتَر (آباء)، رِشی، انسان اور دیگر جاندار بھی گِرہستھ کی کفالت و اعانت پر قائم ہیں۔ یہاں ‘تریی مَیی دھینو’ (وید-گائے) کی تمثیل آتی ہے جس کے چار تھن—سْواہا، سْودھا، وَشَٹ اور ہَنْت—بالترتیب دیوتاؤں کو آہوتی، پِتروں کو ترپن، رِشی/وِدھی کی پاسداری، اور انسانی محتاجوں کی پرورش کی علامت ہیں؛ یوں وید-پाठ اور اَنّ دان کو باہم مربوط نِتّیہ دھرم کہا گیا ہے۔ پھر روزمرہ اعمال کی ترتیب بیان ہوتی ہے—طہارت، ترپن، پوجا، بھوت-بلی، اور وِدھی کے ساتھ اَتِتھی-ستکار (مہمان نوازی)۔ ‘اَتِتھی’ کو خاص طور پر برہمن مہمان قرار دے کر ہدایت ہے کہ اسے بے تکلف قبول کیا جائے، حسبِ استطاعت کھانا کھلایا جائے اور میٹھی بات کہی جائے۔ یُدھِشٹھِر کے سوال پر آٹھ نکاح/شادی کی صورتیں—برہما، دیو، آرش، پراجاپتیہ، آسُر، گاندھرو، راکشس، پَیشاچ—اخلاقی درجے کے ساتھ بیان کی جاتی ہیں اور کنیا-شُلک (دلہن کی قیمت) کو خرید و فروخت جیسا کہہ کر مذمت کی جاتی ہے۔ آگے پنچ یَجْن—برہما، پِتْر، دیو، بھوت، نِر—کا حکم، ویشودیو اور مہمان نوازی کی کوتاہی کی ممانعت، نیز پاکیزگی، ضبطِ نفس، اَنَڌْیای (مطالعہ کی ممانعت کے اوقات)، گفتار کی اخلاقیات، بڑوں کا احترام اور دان کے پھل کے اصول بیان کر کے نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ یہ دھرم آرانْیہ کے باشندوں کے لیے شروتی-سمرتی کے مطابق ضابطے ہیں۔

धर्मवापी-श्राद्धमाहात्म्यं तथा पतिव्रताधर्म-नियमाः (Dharma-vāpī Śrāddha Māhātmya and the Ethical Guidelines of Pativratā-dharma)
اس ادھیائے میں مکالماتی انداز میں تیرتھ سے متعلق شرادھ کی ہدایات اور گھریلو اخلاقیات یکجا بیان ہوئی ہیں۔ ویاس پہلے دھرم واپی تیرتھ پر پہنچ کر پتر-ترپن اور پنڈدان کی غیر معمولی تاثیر بتاتے ہیں—اس سے پتر طویل مدت تک سیراب و مطمئن رہتے ہیں اور مختلف بعد از مرگ حالتوں میں گئے ہوئے مرحوم جیووں تک بھی اس کا پُنّیہ فائدہ پھیلتا ہے۔ پھر کلی یُگ کو لالچ، عداوت، بدگوئی اور سماجی انتشار کا زمانہ کہا گیا ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ ضبطِ نفس اور پاکیزہ چال چلن سے تطہیر ممکن ہے—قول و فکر و بدن کی پاکی، اہنسا، پرہیزگاری، والدین کی خدمت، دان اور دھرم-گیان/بھکتی کے ذریعے۔ شونک کے سوال پر سوت پتی ورتا عورت کی علامات تفصیل سے بیان کرتے ہیں—کردار میں ضبط، شوہر کی بھلائی کو مقدم رکھنا، بدنامی والے مواقع سے بچنا، نپی تلی گفتگو و شائستگی، اور گھریلو پوجا کے قواعد۔ بدعملی پر نیچ جنم وغیرہ جیسے نتائج کی تنبیہ کی گئی ہے۔ آخر میں دھرم-کشیتر میں شرادھ اور دان کی دوبارہ ستائش ہے—بھکتی سے کیا گیا معمولی نذرانہ بھی خاندان کی حفاظت کرتا ہے، جبکہ ادھرم سے کمائی ہوئی دولت کو شرادھ میں لگانا معیوب بتایا گیا ہے۔ اختتام پر دھرم آرنّیہ کو ہمیشہ مرادیں پوری کرنے والا، یوگیوں کے لیے موکش دینے والا اور سِدھوں کے لیے کامیابی بخش کہا گیا ہے۔

Dharmāraṇya-Prastāva: Deva-samāgama and Sṛṣṭi-Kathā (धर्मारण्यप्रस्तावः—देवसमागमः सृष्टिकथा च)
اس باب میں یُدھِشٹھِر دھرماآرَنیہ کی روایت مزید سننے کی درخواست کرتے ہیں۔ ویاس بتاتے ہیں کہ یہ قصہ اسکند پُران سے ماخوذ ہے، جو خود ستھانُو (شیو) نے اسکند کو سنایا تھا؛ اس کا سماع کثیر تیرتھوں کے پھل کے برابر اور رکاوٹوں کو دور کرنے والا ہے۔ پھر منظر کیلاش پر منتقل ہوتا ہے جہاں شیو پنچوکترا، دش بھُجا، ترینیترا، شُولپانی صورت میں کَپال اور کھٹوانگ دھارے گنوں کے ساتھ جلوہ گر ہیں، اور رشی، سدھ اور آسمانی گویّے ان کی ستوتی کرتے ہیں۔ اسکند دیکھتا ہے کہ دیوتا اور بلند مرتبہ ہستیاں شیو کے دروازے پر درشن کے لیے منتظر ہیں۔ شیو اٹھ کر روانگی کا ارادہ کرتے ہیں تو اسکند سبب پوچھتا ہے۔ شیو فرماتے ہیں کہ وہ دیوتاؤں کے ساتھ دھرماآرَنیہ جائیں گے، اور ساتھ ہی سَرشٹی کی کتھا سناتے ہیں—پرلے میں پربرہمن کی حالت، مہتتتو کا ظہور، وِشنو کا جل میں وِہار، برگد اور پتے پر لیٹے بال روپ کا درشن، ناف کے کمل سے برہما کی پیدائش، اور لوک منڈل و یونیوں کی تقسیم سمیت مخلوقات کی تخلیق کا حکم۔ آگے برہما کے مانس پُتر، کشیپ اور اس کی پتنیوں، آدتیوں کی پیدائش، اور دھرم کے کردار سے “دھرماآرَنیہ” نام کی توجیہ بیان ہوتی ہے۔ دیو-سدھ-گندھرو-ناگ-گرہ وغیرہ کے عظیم اجتماع کے بعد برہما ویکنٹھ جا کر وِشنو کی باقاعدہ ستوتی کرتا ہے؛ وِشنو اپنے الٰہی روپ میں ظاہر ہو کر کائناتی تخلیق، مقدس جغرافیہ اور ربّانی مشورے کے درمیان ربط قائم کرتے ہیں۔

धर्मारण्ये देवसमागमः तथा ऋष्याश्रमस्थापनम् (Divine Assembly in Dharmāraṇya and the Establishment of Ṛṣi-Āśramas)
یہ باب مکالماتی انداز میں بیان ہوا ہے۔ وِیاس ایک ثواب بخش حکایت سناتے ہیں: وِشنو برہما اور دیوتاؤں کی آمد کا سبب پوچھتے ہیں؛ برہما بتاتے ہیں کہ تینوں لوکوں میں کوئی خوف نہیں اور وہ ایک قدیم، دھرم سے قائم تیرتھ کے درشن کے لیے آئے ہیں۔ وِشنو گَرُڑ پر سوار ہو کر تیزی سے دھرماآرنَیہ جاتے ہیں اور دیوتا بھی ساتھ چلتے ہیں۔ دھرم راج یم دیوی جماعت کا باقاعدہ آتِتھّیہ اور ہر ایک کی جداگانہ پوجا سے استقبال کرتے ہیں، وِشنو کی ستوتی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کھیتر کا تیرتھ پن بھگوت کرپا اور دیوتا کی تسکین سے ثابت ہے۔ وِشنو ور دینے کو کہتے ہیں تو یم درخواست کرتے ہیں کہ دھرماآرنَیہ میں رِشی آشرم قائم کیے جائیں تاکہ تیرتھ کی حفاظت ہو، ایذا رسانی رکے اور وید پاتھ و یَجّیہ کی گونج سے جنگل معمور رہے۔ پھر وِشنو وِرَاط روپ دھار کر دیوی مدد سے بہت سے ودوان برہمن-رِشیوں کو، ان کے گوتر-پروَر اور وंश-پرَمپرا سمیت، مناسب مقامات پر قائم کرتے ہیں۔ آگے یُدھشٹھِر ان گروہوں کی ابتدا، نام اور ٹھکانوں کے بارے میں پوچھتے ہیں اور تفصیلی فہرستیں جاری رہتی ہیں۔ بعد کے اشلوکوں میں دیوی ناموں اور برہما کے کامدھینو کو بلانے کا اشارہ بھی ملتا ہے، جو دھرم کے نظام کی بقا میں الٰہی تائید کو نمایاں کرتا ہے۔

Kāmadhenū’s Creation of Attendants and the Regulation of Saṃskāras in Dharmāraṇya (कामधेन्वनुचर-निर्माण तथा संस्कारानुशासन)
ویاس یُدھشٹھِر کو دھرمآرَنیہ میں پیش آنے والا واقعہ سناتے ہیں، جس سے یَجْنَی زندگی کے لیے خدمت و نظم کا ایک نظام قائم ہوتا ہے۔ برہما کے اشارے پر کامدھینو کو پکارا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ ہر رسم کے ماہر (رتوِج) کے لیے جوڑوں کی صورت میں معاونین (اَنُچَر) مہیا کرے؛ یوں شِکھا اور یَجْنوپَوِیت جیسے مقدس نشانات رکھنے والی، شاستر-علم اور سُدھ آچارن میں ماہر، ایک بڑی باانضباط جماعت وجود میں آتی ہے۔ دیوتا حکم دیتے ہیں کہ سمِدھ، پھول، کُش وغیرہ روزانہ کی یَجْنی چیزیں فراہم کی جائیں، اور نامکرن، اَنّ پراشن، چُوڑاکرن/چَول، اُپنَین وغیرہ سنسکار اَنُچَروں کی اجازت سے ہی ہوں؛ اجازت کو نظرانداز کرنے پر بار بار آفتیں، بیماری اور سماجی نقصان جیسے برے نتائج بیان کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد کامدھینو کی ستوتی آتی ہے کہ وہ کئی دیویہ حضوریوں اور تیرتھوں کا جامع مقدس آستانہ ہے۔ یُدھشٹھِر کے سوال پر کہ اَنُچَروں میں بیاہ اور اولاد کیسے ہوئی، ویاس گندھرو کنیاؤں کے حصول کی روایت سناتے ہیں: شِو کے دوت نے وِشواوَسو سے بیٹیاں مانگیں، انکار ہوا تو شِو کی تیاری کے سبب گندھرو راجا نے آخرکار کنیاؤں کو سونپ دیا۔ اَنُچَر ویدک طریقے سے آجیہ-بھاغ وغیرہ کی آہوتیاں دیتے ہیں اور گندھرو-وِواہ کے سیاق میں رائج رسم کی نظیر بھی قائم ہوتی ہے۔ اختتام پر دھرمآرَنیہ میں پائیدار بستی دکھائی دیتی ہے جہاں جپ اور یَجْنَ کے متنوع عمل جاری رہتے ہیں؛ اَنُچَر برادری اور ان کی عورتیں گھریلو و یَجْنی خدمت سے سامان مہیا کر کے مقام-مرکوز دھرم کا دیرپا نمونہ قائم کرتی ہیں۔

Lolajihva-vadhaḥ and the Naming of Satya Mandira (लोलजिह्ववधः सत्यमन्दिरनामकरणं च)
یہ باب وِیاس–یُدھِشٹھِر کے مکالمے پر مشتمل ہے۔ یُدھِشٹھِر مزید حکایت سنانے کی درخواست کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وِیاس کے کلمات کا ‘امرت’ انہیں کبھی سیر نہیں کرتا۔ وِیاس آخری دور کے ایک بحران کا بیان کرتے ہیں—راکشش راج لولاجِہوا اُبھرتا ہے، تینوں لوکوں میں دہشت پھیلاتا ہے، پھر دھرماآرنَیہ پہنچ کر علاقوں کو مغلوب کرتا اور ایک حسین، مقدّس بستی کو جلا دیتا ہے؛ وہاں کے برہمن خوف سے ہجرت کر جاتے ہیں۔ تب شری ماتا کی قیادت میں بے شمار دیویاں ظاہر ہوتی ہیں۔ وہ ترشول، شنکھ-چکر-گدا، پاش-انکُش، کھڑگ، پرشو وغیرہ دیوی ہتھیار لیے برہمنوں کی حفاظت اور راکشش کے وِناش کے لیے جنگ کرتی ہیں۔ لولاجِہوا کی گرج سے سمتیں اور سمندر لرز اٹھتے ہیں؛ اندر (واسَو) نلکوبَر کو خبرگیری کے لیے بھیجتا ہے، جو جنگ کی روداد سناتا ہے۔ اندر وِشنو کو اطلاع دیتا ہے؛ وِشنو (اس روایت میں ستیہ لوک سے) اتر کر سُدرشن چکر چھوڑتے ہیں اور لولاجِہوا کو بے بس کر دیتے ہیں؛ دیویوں کے حملوں کے بیچ راکشش مارا جاتا ہے۔ دیوتا اور گندھرو وِشنو کی ستوتی کرتے ہیں۔ بے گھر برہمنوں کو ڈھونڈ کر تسلّی دی جاتی ہے کہ واسودیو کے چکر سے راکشش کا خاتمہ ہو گیا۔ برہمن خاندانوں سمیت واپس آ کر تپسیا، یَجْیَ اور ادھیَین پھر سے شروع کرتے ہیں۔ بستی کا نام بھی سبب کے ساتھ مقرر ہوتا ہے—کرت یُگ میں ‘دھرماآرنَیہ’ اور تریتا یُگ میں ‘ستیہ مندر’ کے نام سے مشہور ہوتی ہے۔

गणेशोत्पत्तिः एवं धर्मारण्ये प्रतिष्ठा (Gaṇeśa’s Origin and Installation in Dharmāraṇya)
ویاس یُدھِشٹھِر کو دھرماآرَنیہ میں ‘ستیہ مندر’ کہلانے والی بستی کی حفاظت کے لیے تقدیس اور احاطے کی ترتیب بیان کرتے ہیں۔ جھنڈوں اور پتاکاؤں سے آراستہ فصیل (پراکَار)، برہمنوں سے وابستہ مقام میں مرکزی پیٹھ، اور چاروں سمتوں میں پاک کیے گئے دروازے قائم کیے جاتے ہیں۔ مشرق میں دھرمیشر، جنوب میں گننایک (گنیش)، مغرب میں بھانو (سورج) اور شمال میں سویمبھُو کی پرتیِشٹھا سے سمتوں کی نگہبانی کا الٰہی نقشہ بنتا ہے۔ پھر گنیش کی پیدائش کی روایت آتی ہے۔ پاروتی اپنے جسم کی صفائی کے لیپ/میل سے ایک بچے کی صورت بناتی ہیں، اس میں جان ڈالتی ہیں اور اسے دربان مقرر کرتی ہیں۔ مہادیو کے داخلے میں رکاوٹ پر جنگ ہوتی ہے اور اس کا سر کاٹ دیا جاتا ہے۔ پاروتی کے غم کو دور کرنے کے لیے مہادیو ہاتھی کا سر (گج شِرس) لگا کر اسے زندہ کرتے ہیں اور ‘گجانن’ نام دیتے ہیں۔ دیوتا اور رشی ستوتی کرتے ہیں؛ گنیش ور دیتے ہیں کہ وہ دھرماآرَنیہ میں ہمیشہ رہ کر سادھکوں، گِرہستوں اور ویاپاری برادری کی حفاظت کریں گے، وِگھن دور کر کے کلیان دیں گے، اور شادی، تہواروں اور یَگیوں میں سب سے پہلے پوجے جائیں گے۔

रविक्षेत्रे संज्ञातपः, अश्विनौ-उत्पत्तिः, रविकुण्ड-माहात्म्यं च (Saṃjñā’s austerity in Ravikṣetra, the birth of the Aśvins, and the Māhātmya of Ravikuṇḍa)
اس ادھیائے میں یُدھِشٹھِر، ویاس جی سے پوچھتے ہیں کہ اشوِنی کُماروں کی پیدائش کیسے ہوئی اور زمین پر سورَیَ تَتْو/سورَیَ سانِدھْی کیسے ظاہر ہوا۔ ویاس جی سنجْنا–سورَیَ کا قصہ بیان کرتے ہیں۔ سورَیَ کے شدید تَیج کو برداشت نہ کر سکنے پر سنجْنا اپنی جگہ چھایا کو قائم کر کے، گھر کے دھرم کو نبھانے اور اس راز کو چھپائے رکھنے کی ہدایت دے کر روانہ ہو جاتی ہیں۔ اسی سلسلے میں یم اور یمُنا کا ظہور، اور بعد میں یم کے ساتھ نزاع کے سبب چھایا کی حقیقت آشکار ہونے کا ذکر آتا ہے۔ سورَیَ سنجْنا کی تلاش میں دھرم آرَنیہ میں انہیں وڈوا (گھوڑی) کے روپ میں سخت تپسیا کرتے ہوئے پاتے ہیں۔ روایت میں ناک کے حصّے سے وابستہ ایک خاص اتحاد کے ذریعے ناستیہ اور دسر—اشوِناؤ—الٰہی جڑواں پیدا ہوتے ہیں۔ پھر روی کُنڈ کا ماہاتمیہ بیان ہوتا ہے—وہاں اسنان، دان، ترپن، شرادھ اور بکولارک کی پوجا سے پاپوں کی صفائی، صحت، حفاظت، خوشحالی اور کرم پھل میں اضافہ کا پھل بتایا گیا ہے۔ سَپْتمی، اتوار، گرہن، سنکرانتی، وْیَتیپات اور ویدھرتی جیسے اوقات میں خاص پھل کی فضیلت بھی بیان کی گئی ہے۔

Hayagrīva-hetu-nirūpaṇa (The Causal Account of Viṣṇu as Hayagrīva) | हयग्रीवहेतुनिरूपणम्
اس باب میں متعدد آوازوں کے ساتھ ایک عمیق دینی و تاتّوِک جستجو سامنے آتی ہے۔ یُدھِشٹھِر درخواست کرتا ہے کہ دھرماآرنْیہ میں وِشنو نے کب اور کیسے تپسیا کی—اس کی ترتیب وار وضاحت کی جائے۔ پھر اسکند رُدر/ایشور سے پوچھتا ہے کہ جو پرمیشور سراسر پھیلا ہوا، گُناّتیت، سَرشٹی-پالن-سَمہار کرنے والا ہے، اُس نے اَشو مُکھ (گھوڑے کے سر والا) روپ کیوں دھارا—جسے ہَیَگریو اور کرشن کے روپ کے طور پر واضح کیا گیا ہے۔ اس کے بعد ورَاہ، نرَسِمْہ، وَامَن، پرشُورام، رام اور کرشن کے معروف اوتار-کرتب اور کلکی کے آئندہ افق کا مختصر بیان آتا ہے، جس سے یہ بات قائم ہوتی ہے کہ دھرم کی بحالی کے لیے وہی اعلیٰ قدرت مختلف روپوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ رُدر سبب کی کہانی سناتا ہے۔ یَجْیَ کی تیاری میں دیوتا وِشنو کو یوگارُوڑھ اور دھیانستھ حالت میں نہیں پاتے اور بْرِہَسپتی کے پاس جاتے ہیں۔ پھر وامریہ (چیونٹیاں/ولمیک سے وابستہ جاندار) سے دھنُش کی ڈوری (گُن) کتروا کر اسے بیدار کرنے کا طریقہ اپنایا جاتا ہے؛ ‘سمادھی نہ ٹوٹے’ کی اخلاقی جھجھک بھی ظاہر ہوتی ہے، مگر وامریہ کو یَجْیَ میں حصہ دے کر معاملہ طے کیا جاتا ہے۔ ڈوری کٹتے ہی دھنُش کے جھٹکے سے ایک سر کٹ کر آسمان کی طرف اٹھ جاتا ہے؛ دیوتا مضطرب ہو کر تلاش میں لگتے ہیں—یہیں سے ہَیَگریو کی شناخت اور یوگک جذب و کائناتی سببیت کے اصول کی تمہید بنتی ہے۔

हयग्रीवोत्पत्तिः तथा धर्मारण्यतीर्थमाहात्म्यम् (Hayagrīva’s Manifestation and the Māhātmya of Dharmāraṇya Tīrthas)
اس ادھیائے میں دو باہم مربوط سلسلے بیان ہوئے ہیں۔ پہلے ایک الٰہی بحران آتا ہے—دیوتا ‘شِرَس’ (سر) کا سراغ نہیں پاتے؛ تب برہما وشوکرما کو حکم دیتا ہے کہ یَجْنَ کی تکمیل سے وابستہ دیوتا کے لیے موزوں اور کارآمد صورت بنائے۔ سورج کے رتھ کے واقعے میں ایک گھوڑے کا سر ظاہر ہوتا ہے، جو وشنو سے جوڑ دیا جاتا ہے اور یوں ہَیَگریو روپ پرکَٹ ہوتا ہے۔ دیوتا باقاعدہ ستوتی کرتے ہیں اور ہَیَگریو/وشنو کو اومکار، یَجْنَ، کال، گُنوں اور بھوت دیوتاؤں کے ادھِشٹھان کے طور پر پہچانتے ہیں؛ وشنو ور دیتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ یہ ظہور خیر و برکت والا اور پوجنیہ ہے۔ دوسرے حصے میں ویاس–یُدھِشٹھِر مکالمے کے ذریعے سبب کی وضاحت ہوتی ہے—سبھا میں برہما کا غرور، اس سے پیدا ہونے والا شاپ جیسا نتیجہ اور وشنو کے سر سے متعلق واقعہ، نیز دھرمآرَنیہ میں وشنو کی تپسیا۔ پھر دھرمآرَنیہ کو عظیم کْشَیتر قرار دے کر مُکتیش/موکشیشور اور دیوسرس/دیَوکھاٹا جیسے تیرتھوں کی مہاتمیا بیان کی جاتی ہے۔ اسنان، پوجا (خصوصاً کارتک میں کرتِکا-یوگ کے ساتھ)، ترپن/شرادھ، جپ اور دان کی ہدایات دی گئی ہیں؛ اور پھل کے طور پر پاپوں کی نِوِرتی، پِتروں کی اُدھار، درازیِ عمر، عافیت، نسل کی افزائش اور اعلیٰ لوک کی پرابتّی کا وعدہ کیا گیا ہے۔

Śakti-Sthāpana in Dharmāraṇya: Directional Guardianship, Sacred Lake, and Akṣaya Merit (अध्याय १६)
باب 16 میں یُدھِشٹھِر اور ویاس کے درمیان سوال و جواب کی صورت میں دینی و الٰہیاتی گفتگو بیان ہوتی ہے۔ یُدھِشٹھِر دھرماآرنْیہ میں راکشس، دَیتیہ، یکش اور دیگر مُخلّاتِ مُفسِدہ سے پیدا ہونے والے خوف کے ازالے کے لیے نصب کی گئی حفاظتی شکتیوں کے نام اور مقامات کی فہرست وار تفصیل چاہتے ہیں۔ ویاس بتاتے ہیں کہ دیوی اختیارات رکھنے والی ہستیوں نے ان شکتیوں کو چاروں سمتوں میں برہمنوں (دویجوں) اور عام برادری کی حفاظت کے لیے قائم کیا۔ شری ماتا، شانتَا، ساوتری، گاتْرایی، چھتراجا اور آنندا وغیرہ دیوی روپوں کے القاب، ان کی جنگی علامتیں (اسلحہ)، اور گڑوڑ و شیر جیسے واهن، نیز مقام کی نگہبانی اور یَجْن دھرم کی ترتیب کی پاسبانی کا ذکر آتا ہے۔ اس کے بعد چھتراجا کے مقام کے سامنے واقع ایک مقدس جھیل کا بیان ہے جہاں سْنان، ترپن اور پِنڈدان کو اَکشَی (ہمیشہ قائم رہنے والا) پھل دینے والا کہا گیا ہے۔ پھر ثواب و فضیلت کے اصول پھیلتے ہیں: بیماریوں اور دشمنوں کا دفع ہونا، خوشحالی اور فتح کی بشارت۔ آخر میں آنندا کو ساتتوِکی شکتی کے طور پر سراہا جاتا ہے؛ مقررہ نذرانوں کے ساتھ اس کی پوجا سے دیرپا نتائج، علم میں اضافہ اور عافیت و بہبود حاصل ہونے کی تعلیم دی جاتی ہے۔

Śrīmātā-Kulamātā-Stuti and Pūjāvidhi (Protective Śakti Discourse)
اس باب میں وِیاس جی راجہ کو جنوب کی سمت میں مُنصَّب ایک عظیم شکتی کا بیان دیتے ہیں۔ وہ شانتَا دیوی، شری ماتا، کُل ماتا اور ستھان ماتا جیسے متعدد ناموں سے معروف ہے اور نسل و بستی کی محافظ قوت سمجھی گئی ہے۔ دیوی کے کثیر بازو روپ، گھنٹی، ترشول، اکش مالا، کمنڈلو وغیرہ اوزار و اسلحہ، سواری کے اشارات، اور سیاہ و سرخ لباس کی علامتیں بیان ہوتی ہیں؛ نیز وشنو کی نسبتِ استقرار، دَیتیہ وِناشک صفت اور صریح طور پر سرسوتی-روپ کی شناخت بھی آتی ہے۔ پھر پوجا کا طریقہ بتایا گیا ہے—پھول، خوشبوئیں (کافور، اگر، چندن)، دیپ و دھوپ، اور نَیویدیہ (اناج، مٹھائیاں، پَیاس، مودک) پیش کرنا۔ ہر نیک و مبارک کام کے آغاز سے پہلے درست نِویدن کر کے برہمنوں اور کماریوں کو بھوجن کرانا لازم قرار دیا گیا ہے۔ پھل کے طور پر جنگ و مقابلوں میں فتح، رکاوٹوں کا ازالہ، بیاہ-اُپنَین-سیمَنت وغیرہ سنسکاروں میں کامیابی، خوشحالی، علم، اولاد اور آخرکار سرسوتی کی کرپا سے بلند اخروی مقام کی بشارت دی گئی ہے۔

Karṇāṭaka-Dānava-Vadhaḥ — The Slaying of Karṇāṭaka and the Institution of Śrīmātā Worship
اس اَدھیائے میں دو بیانیہ سلسلے باہم پیوست ہیں۔ رُدر اسکند کو دھرماآرنَیہ کا قدیم واقعہ سناتے ہیں کہ کرṇاṭک نامی دانو مسلسل رکاوٹیں ڈالتا تھا، خاص طور پر جوڑوں کو نشانہ بنا کر اور ویدک نظم و ضبط کو توڑ کر۔ تب شری ماتا ماتنگی/بھونیشوری کے روپ میں پرकट ہو کر اس کا وध کرتی ہیں۔ دوسری طرف ویاس یُدھشٹھِر کے سوال کے جواب میں کرṇاṭک کی سرشت، اس کی اَوَیدک جارحیت، اور برہمنوں و مقامی سماج (تاجروں سمیت) کی اختیار کردہ دھارمک تدبیر کا بیان کرتے ہیں۔ اَدھیائے میں منظم پوجا-وِدھان بتایا گیا ہے—پنچامرت سے اسنان، گندھودک، دھوپ-دیپ، نَیویدیہ اور دودھ سے بنی اشیا، مٹھائیاں، اناج، چراغ اور تہواری کھانے وغیرہ کی گوناگوں نذر۔ شری ماتا درشن دے کر حفاظت کا ور دیتی ہیں اور پھر اٹھارہ ہتھیاروں سے آراستہ، کثیر بازوؤں والی اُگر یودھا-روپ میں ظاہر ہوتی ہیں۔ دانو فریب اور اسلحہ سے جنگ کرتا ہے، مگر دیوی دیویہ بندھنوں اور فیصلہ کن شکتی سے اسے مغلوب کر کے آخرکار کرṇاṭک کا سنہار کرتی ہیں۔ اختتام پر ہدایت ہے کہ شُبھ کرموں کے آغاز میں، خصوصاً وِواہ میں، شری ماتا کی پوجا کرنے سے وِگھن دور ہوتے ہیں۔ بے اولاد کو اولاد، غریب کو دھن، اور عمر و صحت میں افزائش—یہ پھل شروتی واضح طور پر بیان کی گئی ہے، جو مسلسل انُشٹھان سے حاصل ہوتی ہے۔

इन्द्रतीर्थ-माहात्म्य एवं इन्द्रेश्वरलिङ्गप्रादुर्भावः (Indra Tīrtha Māhātmya and the Manifestation of the Indreśvara Liṅga)
یہ ادھیائے ویاس–یُدھِشٹھِر کے مکالمے کی صورت میں اندرسَر میں اسنان اور دھرماآرنْیہ میں اندریشور شِو کے درشن و پوجا کی مہِما بیان کرتا ہے۔ ویاس فرماتے ہیں کہ وہاں اسنان، لِنگ درشن اور ارچنا سے دیرینہ جمع شدہ پاپ بھی مٹ جاتے ہیں۔ یُدھِشٹھِر اس تیرتھ اور لِنگ کے ظہور کی کہانی پوچھتے ہیں۔ ویاس بتاتے ہیں کہ ورتروَدھ سے پیدا ہونے والی برہماہتیا جیسی آفت کو دور کرنے کے لیے اندَر نے شمال کی سمت ایک بستی سے آگے جا کر سخت تپسیا کی۔ تب شِو ہیبت ناک روپ میں پرگٹ ہو کر تسلی دیتے ہیں کہ دھرماآرنْیہ میں ایسے کَلیش ٹھہرتے نہیں؛ اندر داخل ہو کر اندرسَر میں اسنان کرو۔ اندَر اپنے نام سے شِو کی پرتِشٹھا کی درخواست کرتا ہے؛ شِو یوگ بل سے پرادُربھوت پاپ ناشک لِنگ (کُرم نشان سے وابستہ) ظاہر کرتے ہیں اور جیووں کے کلیان کے لیے وہیں ‘اندریشور’ کے طور پر وِراجمان رہتے ہیں۔ ادھیائے میں نِتّیہ پوجا و نذرانے، ماگھ کی اشٹمی اور چتُردشی کے وِشیش ورت، دیوتا کے سامنے نیلوتسرگ، چتُردشی کو رُدر جپ، دِوِجوں کو سونے اور جواہرات سے بنی آنکھ کی پرتِما کا دان، اسنان کے بعد پِتر ترپن وغیرہ کے پھل بیان کیے گئے ہیں۔ بیماریوں اور بدقسمتی سے نجات، من چاہا پھل، اور توجہ سے سننے والوں کی پاکیزگی کی پھلشروتی کے ساتھ، جینت کی بھکتی اور اندَر کی وقتاً فوقتاً پوجا کا ذکر کر کے اختتام ہوتا ہے۔

देवमज्जनकतीर्थमाहात्म्यं तथा मन्त्रकूटोपदेशः (Devamajjanaka Tīrtha-Māhātmya and Instruction on Mantra ‘Kūṭa’ Structures)
اس باب میں وِیاس–یُدھِشٹھِر مکالمے کے ذریعے دھرماآرنْیہ میں واقع دیومجّجنک نامی بے مثال شِو-تیرتھ کا تعارف ہوتا ہے۔ وہاں شنکر پر طاری ہونے والی ایک عجیب جمود اور حیرت و بھٹکاؤ جیسی کیفیت کا ذکر آتا ہے، جس سے اس تیرتھ کی غیر معمولی مہیمہ ظاہر ہوتی ہے۔ اس کے بعد بیان ایک فنی و دینی گفتگو کی طرف مڑتا ہے۔ پاروتی شِو سے منتر کے بھید اور ‘چھ گُنا’ شکتیوں کے بارے میں پوچھتی ہیں؛ شِو احتیاط کے ساتھ بیج اَکشر اور ‘کُوٹ’ ترکیبات کی تعلیم دیتے ہیں—مایا-بیج، وَہنی-بیج، برہما-بیج، کال-بیج اور پارتھِو-بیج وغیرہ کا حوالہ دے کر اثر، کشش اور موہن جیسے دعوائے کارکردگی بیان کرتے ہیں، اور غلط استعمال سے خبردار بھی کرتے ہیں۔ آخر میں دیومجّجنک تیرتھ-ماہاتمیہ بیان ہوتا ہے—اسنان (اور پینے) کی فضیلت، آشوِن کرشن چتُردشی کی خاص پابندی، اُپواس کے ساتھ پوجا اور رُدر-جپ کو پاکیزگی، حفاظت اور فلاح کا سبب کہا گیا ہے۔ پھل شروتی کے مطابق اس روایت کا سننا اور آگے پہنچانا مہایَگّیہ کے برابر پُنّیہ دیتا ہے اور خوشحالی، صحت اور نسل کی افزائش عطا کرتا ہے۔

गोत्र–प्रवर-विवाहनिषेधः तथा प्रायश्चित्तविधानम् (Gotra–Pravara Marriage Prohibitions and Expiatory Regulations)
اس باب 21 میں گوتر–پروَر کے قواعد اور نکاح/شادی کی اہلیت سے متعلق دھرم شاستری مواد جمع کیا گیا ہے۔ بیان کا آغاز وِیاس کے کلام سے ہوتا ہے، پھر مقامِ بیان سے وابستہ دیوتاؤں اور شکتیوں (متعدد ناموں والی دیوی صورتوں سمیت) کی فہرست آتی ہے؛ اس کے بعد گوتر–پروَر کی فنی تفصیلات اور یکساں/مختلف پروَر کی مثالیں بیان کی جاتی ہیں۔ پھر ایک ہی گوتر یا ایک ہی پروَر میں، نیز بعض مادری رشتوں کی مخصوص اقسام میں، شادی کی صریح ممانعت کی جاتی ہے۔ ممنوعہ شادی کے سماجی و یاجنک نتائج—برہمنیت کے مرتبے کا زوال اور اولاد میں پستی کی علامت—ذکر کرکے، ایسے نکاح کرنے والوں کے لیے خصوصاً چاندریائن ورت وغیرہ کے پرایَشچِت (کفّارہ) کا حکم دیا گیا ہے۔ کاتْیاین، یاجْنَولْکیہ، گوتَم وغیرہ کے اقوال کی روشنی میں پدری و مادری نسب میں قابلِ قبول فاصلہ، بڑے/چھوٹے بھائی کے نکاح کی ترجیحی ترتیب، اور “پُنَربھو” وغیرہ گھریلو دھرم کی درجہ بندیاں بھی واضح کی گئی ہیں۔ اس باب کا مقصد دھارمک گھرانہ سازی کے ضابطوں کی حفاظت اور خلاف ورزی پر تطہیر کا راستہ بتانا ہے۔

यॊगिनीनां स्थानविन्यासः (Placement of the Yoginīs and Directional Śaktis)
یہ باب سوال و جواب کے انداز میں ہے۔ یُدھِشٹھِر وِیاس سے پوچھتے ہیں کہ کاجیش نے جن یوگنیوں کو قائم کیا وہ کون ہیں، ان کی ہیئت کیسی ہے اور وہ کہاں رہتی ہیں؟ وِیاس بیان کرتے ہیں کہ وہ طرح طرح کے زیورات، لباس، سواریوں اور نغموں سے آراستہ ہیں، اور ان کا مقصد واضح طور پر حفاظت ہے—وِپروں اور بھکتوں کے خوف کو دور کرنا۔ پھر سمتوں کے مطابق ان کی تنصیب کا بیان آتا ہے: چاروں اصلی سمتوں اور آگنیہ، نَیرِت، وایویہ، ایشان وغیرہ درمیانی سمتوں میں یہ شکتیان قائم ہیں۔ آشا پوری، چھترا، گیانجا، پِپّلَامبا، شانتا، سِدّھا، بھٹّارِکا، کَدَمبا، وِکَٹا، سُپَنا، وَسُجا، ماتَنگی، واراہی، مُکُٹیشوری، بھدرا، مہاشکتی، سِمھارا وغیرہ نام آتے ہیں، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کے سوا بے شمار یوگنیاں ہیں۔ مزید یہ کہ کچھ دیویاں آشا پورنا کے نزدیک ہیں، کچھ مشرق/شمال/جنوب/مغرب میں مقرر مقامات پر؛ جل-ترپن اور بَلی جیسے نذرانوں کا ذکر ہے۔ ایک شکتی شیر پر آسن نشین، چار بازوؤں والی اور वर دینے والی ہے؛ ایک کا دھیان کرنے سے سِدّھی ملتی ہے؛ ایک بھُکتی اور مُکتی عطا کرتی ہے؛ اور کچھ روپ تینوں سندھیاؤں کے وقت محسوس/مُشاہدہ کیے جاتے ہیں۔ آخر میں نَیرِت سمت میں برہمانی وغیرہ اور ‘جل-ماتر’ کے گروہ کی موجودگی بتا کر باب حفاظتی نسوانی شکتیوں کے مقدس جغرافیائی اشاریے کے طور پر مکمل ہوتا ہے۔

धर्मारण्ये देवसत्र-प्रवर्तनं लोहासुरोपद्रवश्च | The Devas’ Satra in Dharmāraṇya and the Disruption by Lohāsura
ویاس بیان کرتے ہیں کہ دَیتیوں کے ساتھ کشمکش سے پریشان دیوتا پناہ کے لیے برہما کے پاس جاتے ہیں اور فتح کا طریقہ پوچھتے ہیں۔ برہما دھرمآرَنیہ کی سابقہ تعمیر کا ذکر کرتے ہیں—برہما، شنکر اور وِشنو کے الٰہی تعاون سے، اور یم کے تپسیا کو سبب و سہارا مان کر۔ وہ یہ اصول بھی بتاتے ہیں کہ دھرمآرَنیہ میں کیا گیا دان، یَجْن یا تپس ‘کوٹی-گُنِت’ یعنی کئی گنا بڑھ جاتا ہے؛ وہاں پُنّیہ اور پاپ—دونوں کے پھل میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ پھر دیوتا دھرمآرَنیہ پہنچ کر ہزار برس کا عظیم سَتر شروع کرتے ہیں۔ بڑے رِشیوں کو یَجْن کی مخصوص ذمہ داریوں پر مقرر کر کے وسیع ویدی-پرِسر قائم کرتے ہیں، منتر-وِدھی سے آہوتیاں دیتے ہیں، اور وہاں رہنے والے دْوِجوں اور محتاجوں کے لیے اَنّ دان اور مہمان نوازی کا اہتمام کرتے ہیں۔ بعد کے زمانے میں لوہاسُر برہما جیسی صورت بنا کر آتا ہے اور یَجْن کرنے والوں اور بستیوں کو ستاتا ہے۔ وہ یَجْن کا سامان تباہ کرتا، مقدس ڈھانچوں کو ناپاک کرتا ہے، جس سے لوگ خوف زدہ ہو کر منتشر ہو جاتے ہیں۔ بے گھر گروہ نئی بستیاں بساتے ہیں جن کے نام خوف، حیرت اور راستہ بدلنے کی یاد دلاتے ہیں؛ اور دھرمآرَنیہ بھی بے حرمتی کے باعث رہائش کے لیے دشوار ہو جاتا ہے، اس کی تیرتھ-شان گھٹتی دکھائی دیتی ہے، یہاں تک کہ اسُر مطمئن ہو کر چلا جاتا ہے۔

धर्मारण्य-माहात्म्य-वर्णनम् | Description of the Glory of Dharmāraṇya (Dharmāraṇya Māhātmya)
ویاس دھرماآرنْیَ نامی برتر تیرتھ-پریش کی ماہاتمْیہ کو مکمل کر کے اسے نہایت مبارک اور کئی جنموں کے جمع شدہ پاپوں کو پاک کرنے والا قرار دیتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ وہاں اسنان کرنے سے خطاؤں سے نجات ملتی ہے؛ اسی لیے دھرم راج یُدھِشٹھِر بڑے پاپوں کے ازالے اور نیکوں کی حفاظت کے لیے اس جنگل میں داخل ہوتے ہیں۔ پھر اس دھام کی عبادتی ترتیب بیان ہوتی ہے: مختلف تیرتھوں میں غوطہ/اسنان، دیوتا-مندروں کے درشن، اور اپنی نیت کے مطابق اِشٹ-پورت (یَجْیَ، دان، سیوا) اعمال۔ پھل شروتی میں کہا گیا ہے کہ جو وہاں پہنچے یا صرف اس کی مہیمہ سنے، وہ بھوگ اور موکش دونوں پاتا ہے اور دنیاوی تجربات کے بعد آخرکار نروان کو پہنچتا ہے۔ خاص طور پر کہا گیا ہے کہ دو بار جنمے (دْوِج) شْرادھ کے وقت اس کا پاٹھ کریں تو پِتروں کی دیرپا اُٹھان ہوتی ہے۔ دھرم واپی تیرتھ میں تو صرف پانی ہی، بغیر کسی اور سامان کے، عظیم پاپ-راشی کو مٹا دیتا ہے اور گیا-شرادھ اور بار بار پِنڈ دان کے برابر پھل دیتا ہے—پانی اور یادِ الٰہی/سمَرَن پر مبنی سادہ مگر نہایت مؤثر رسمیات۔

सत्यलोकात्सरस्वती-आनयनं तथा द्वारावतीतीर्थे पिण्डदानफलम् | Bringing Sarasvatī from Satyaloka and the Merit of Piṇḍa-dāna at Dvāravatī Tīrtha
اس ادھیائے میں سوت جی دھرماآرنّیہ میں سرسوتی کے تقدّس اور مقام پر ایک ‘عمدہ تیرتھ-ماہاتمیہ’ بیان کرتے ہیں۔ پُرسکون، عالم اور پابندِ ریاضت یوگی مُنی مارکنڈےیہ (کمندلو اور جپ مالا کے ساتھ) کے پاس بہت سے رِشی ادب و عقیدت سے حاضر ہوتے ہیں۔ وہ نَیمِشاآرنّیہ وغیرہ میں سنی ہوئی ندیوں کے نزول کی روایات یاد کرکے سرسوتی کے ظہور اور اس سے متعلق رسم و طریقہ دریافت کرتے ہیں۔ مارکنڈےیہ بتاتے ہیں کہ سرسوتی کو ستیہ لوک سے سُریندرادری کے نزدیک دھرماآرنّیہ میں لایا گیا؛ وہ پناہ دینے والی اور نہایت پاکیزہ ہے۔ پھر زمانی حکم بیان ہوتا ہے: بھاد्रپد کے شُکل پکش کی مبارک دوادشی کو، دواراوَتی تیرتھ میں (جہاں مُنی اور گندھرو سیوا کرتے ہیں) پِنڈ دان اور شرادھ وغیرہ پِتر کرم انجام دینے چاہییں۔ اس کا پھل پِتروں کے لیے اَکشَے (ناقابلِ زوال) بتایا گیا ہے، اور سرسوتی کا جل نہایت مبارک اور مہاپاتک نَاشک (متن کی اصطلاح میں برہماہتیا وغیرہ جیسے بڑے گناہوں کو بھی دور کرنے والا) کہا گیا ہے۔ آخر میں سرسوتی کو سوَرگ کے پُنّیہ اور اَپَوَرگ (موکش سے متعلق بھلائی) دونوں کی سبب، اور من کی مراد پوری کرنے والی قرار دے کر عمل کو اعلیٰ روحانی مقصد سے جوڑا گیا ہے۔

द्वारवती-तीर्थमाहात्म्य (Dvāravatī Tīrtha Māhātmya: Merit of Viṣṇu’s Abiding Sacred Ford)
ویاس دُواروتی سے وابستہ وشنو-متعلق تیرتھ کو مرکز بنا کر اعمالِ صالحہ کی تقدیس و تاثیر بیان کرتے ہیں۔ باب کے آغاز میں کہا گیا ہے کہ مارکنڈےیہ نے ‘سورگ کا دروازہ کھول دیا’؛ اور جو لوگ وشنو-پراپتی کے ارادے سے جسم ترک کرتے ہیں، وہ وشنو کے قرب اور سایوجیہ (وصال) کو پاتے ہیں۔ پھر ضبطِ نفس کے طریقے، خصوصاً اُپواس/اناشن، کو نہایت قوی تپسیا قرار دیا گیا ہے۔ تیرتھ-اسنان، کیشو کی پوجا، اور پنڈ و جل-ترپن کے ساتھ شرادھ—ان اعمال سے پِتروں کی تسکین طویل مدت تک، گویا کائناتی پیمانے کے زمانے تک، ہوتی ہے۔ چونکہ ہری وہاں حاضر ہیں اس لیے گناہوں کا زوال ہوتا ہے؛ اور یہ تیرتھ موکش کے طالب کو نجات، دولت کے خواہاں کو خوشحالی، اور عام بھکت کو درازیِ عمر و مسرت عطا کرتا ہے۔ ایمان و شرَدھا سے وہاں دیا گیا دان ‘اکشے’ یعنی لازوال پھل والا بتایا گیا ہے۔ بڑے یَگیہ، دان اور تپسیا کے برابر پھل محض وہاں اسنان سے بھی مل جاتا ہے—حتیٰ کہ سماجی طور پر فروتن حال مگر بھکتی والے سادھک کے لیے بھی—یوں اس تیرتھ کی سہولتِ رسائی اور بھگوان کی حضوری سے ثابت تاثیر پر زور دیا گیا ہے۔

Govatsa-tīrtha Māhātmya and the Self-Manifolding Liṅga (गोवत्सतीर्थमाहात्म्यं)
سوت جی ‘گووتس’ نامی مشہور تیرتھ کی مہاتمیا بیان کرتے ہیں، جو مارکنڈےیہ سے منسوب مقام کے قریب بتایا گیا ہے۔ وہاں امبیکاپتی شیو گووتس (بچھڑے) کے روپ میں قیام کرتے ہیں اور سویمبھو لِنگ کے روپ میں بھی پرکاش پاتے ہیں۔ رودر بھکت اور شکاری مزاج راجا بالاہک اس عجیب بچھڑے کا جنگل میں پیچھا کرتا ہے؛ پکڑنے کی کوشش کرتے ہی نورانی لِنگ ظاہر ہو جاتا ہے۔ راجا حیرت و خشوع میں اس دیویہ واقعہ کا دھیان کرتے کرتے دےہ تیاگ دیتا ہے، اور دیودندوبھی کی آواز اور پھولوں کی بارش کے ساتھ فوراً شیو لوک کو پہنچتا ہے۔ لوک کلیان کے لیے دیوتا شیو سے عرض کرتے ہیں کہ وہ وہیں روشن لِنگ روپ میں قائم رہیں۔ شیو کرپا فرما کر بھاد्रپد کے مہینے کی کرشن پکش میں کُہو تِتھی پر وِشیش ورت و پوجا کا وِدھان بتاتے ہیں اور پوجنے والوں کو بےخوفی اور پُنّیہ کا ور دیتے ہیں۔ اس باب میں پِنڈدان اور ترپن کی بڑی فضیلت بھی بیان ہوئی ہے—خاص طور پر گووتس کے پاس گنگا-کوپک میں کیا گیا شرادھ دشوار حالت میں پڑے پِتروں تک کو تسکین دیتا ہے۔ “چنڈال-ستھل” نام کی وجہ ایک اخلاقی حکایت سے واضح کی جاتی ہے کہ کردار سے ہی چنڈال پن پیدا ہوتا ہے؛ لِنگ کی غیر معمولی بڑھوتری کو شانت کرنے کا وِدھان کر کے کھیتر کی پرتِشٹھا مستحکم کی جاتی ہے۔ آخر میں پھل شروتی کہتی ہے کہ لِنگ درشن اور تیرتھ سیوا سخت گناہوں کو بھی پاک کر دیتی ہے، اور یہ ادھیائے ستھان-مہاتمیا، کرم-وِدھی اور اخلاقی تبدیلی کی تعلیم دیتا ہے۔

लोहोयष्टिका-तीर्थमाहात्म्य (Lohayaṣṭikā Tīrtha-Māhātmya: Ritual Efficacy of Ancestral Offerings)
اس باب میں وِیاس–مارکنڈےیہ کے مکالمے کے ذریعے نَیرِت (جنوب مغربی) سمت میں واقع لوہویَشٹِکا تیرتھ کی عظمت بیان کی گئی ہے۔ وہاں رُدر کی حضوری سْوَیَمبھو لِنگ کی صورت میں اور سرسوتی کے پاکیزہ پانی سے وابستہ شِرادھّھ–ترپن کے طریقے مذکور ہیں۔ خصوصاً اماوسیا اور نَبھسیہ/بھادْرپَد کے کرشن پکش میں پِنڈدان، شِرادھّھ اور ترپن کے اوقات و آداب مقرر کیے گئے ہیں۔ متن کے مطابق اس تیرتھ پر بار بار پِنڈ ارپن کرنے کا پھل گیا-کشیتر کے برابر ہے؛ باقاعدہ اور منضبط رِیت سے اپنے ہی علاقے میں پِتروں کی تسکین حاصل ہو سکتی ہے۔ موکش کے خواہاں سادھکوں کے لیے رُدر تیرتھ میں گودان اور وِشنو تیرتھ میں سُورن دان جیسے معاون عطیات بھی بتائے گئے ہیں۔ ‘ہری کے ہاتھ’ (جناردن) میں پِنڈ سپرد کرنے کا بھکتی بھرا کلمہ دیا گیا ہے، جس سے پِتر کرم ویشنو بھاو اور رِن-تریہ (تین قرضوں) سے رہائی کے مضمون سے جڑ جاتا ہے۔ پھل شروتی میں پریت حالت سے نجات، اَکشَے پُنّیہ، اور اولاد کو صحت و حفاظت کے فوائد بیان ہوئے ہیں؛ نیز یہ بھی کہ حلال و دھارمک کمائی سے دیا گیا تھوڑا سا دان بھی یہاں کئی گنا ثمر دیتا ہے۔

लोहासुरविचेष्टितम् (The Deeds of Lohāsura) — Dharmāraṇya Pitṛ-Tīrtha Māhātmya
سوت جی لوہاسُر نامی دَیتیہ کی سرگزشت بیان کرتے ہیں۔ بزرگوں کی بلند سِدھی دیکھ کر اس کے دل میں ویراغ پیدا ہوتا ہے اور وہ بے مثال تپسیا-ستھل کی تلاش میں باطنی بھکتی کا نرالا طریقہ اختیار کرتا ہے—سر پر گنگا، آنکھوں میں کنول، دل میں نارائن، کمر پر برہما، اور بدن میں دیوتاؤں کا عکس جیسے پانی میں سورج۔ وہ دیویہ سو برس سخت تپسیا کر کے شِو سے ور پاتا ہے کہ اس کا جسم زوال سے محفوظ رہے اور موت کا خوف نہ ہو؛ پھر سرسوتی کے کنارے مزید تپسیا کرتا ہے۔ اِندر اس کی تپسیا سے گھبرا کر اسے توڑنے کی کوشش کرتا ہے؛ جنگ چھڑتی ہے اور ور کے زور سے کیشو (وشنو) بھی مغلوب سا بیان ہوتا ہے۔ تب برہما-وشنو-رُدر مشورہ کر کے سَتیہ کی اخلاقی و دھارمک قوت اور ‘واک پاش’ (کلام کا بندھن) کے ذریعے دَیتیہ کو قابو میں کرتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ سچ بولنے کے دھرم کی حفاظت کرے اور دیوتاؤں کو نہ ستائے۔ بدلے میں دیوتا پرلے تک اس کے بدن میں واس کرنے کا وعدہ کرتے ہیں؛ دھرم آرَنیہ میں دھرمیشور کے نزدیک اس کی جسمانی حضوری تِیرتھ بن جاتی ہے۔ اس باب میں پِتر کرم کا مہاتمیہ بھی ہے—مقامی کنویں پر اور مقررہ تِتھیوں میں، خاص طور پر بھادْرپد کی چتُردشی اور اماوسیا کو، ترپن اور پِنڈ دان سے پِتروں کی تسکین کئی گنا بڑھتی ہے؛ اسے گیا/پریاگ کے برابر یا اس سے بڑھ کر بتایا گیا ہے۔ پِتر گاتھا اور معلوم و نامعلوم نسلوں کے لیے نذر و نیاز کا عملی منتر بھی دیا گیا ہے۔ آخر میں پھل شروتی ہے کہ یہ کَتھا سننے سے مہاپاپ دور ہوتے ہیں اور بار بار گیا شرادھ اور کثیر گو دان کے برابر پُنّیہ ملتا ہے۔

रामचरित-संक्षेपः (Condensed Rāma Narrative and the Ideal of Rāma-rājya)
اس ادھیائے میں سورَیوَمش میں جنم لینے والے وِشنو-اَمش اوتار شری رام کی سَنگْشِپت مگر زمانی ترتیب کے ساتھ دھرمیہ گفتگو پیش کی گئی ہے۔ ابتدا میں وشوامتر کے ساتھ گमन، یَجْیَ رَکشا، تاڑکا وَدھ، دھنُروید کی پرابتِی اور اہلیا کا اُدھّار—ان واقعات سے رام کی دھرم-پالن اور آگیہ-پالن کی شان ظاہر ہوتی ہے۔ پھر جنک کی سبھا میں شِو دھنُش کا بھنگ اور سیتا سے وِواہ کے ذریعے شاہی و ازدواجی جواز قائم ہوتا ہے۔ کیکئی کے وَرْدانوں کے سبب چودہ برس کا وَنواس، دشرَتھ کا دیہانت، بھرت کی واپسی اور پادُکا-راج (نمائندہ حکمرانی) تیاگ اور راج دھرم کے آدرش کے طور پر بیان ہوتے ہیں۔ شورپنکھا کا پرسنگ، سیتا-ہَرَن، جٹایو کا پتن، ہنومان و سُگریو سے مَیتری، تلاش اور دوت کاری—یہ سب بحران اور بازیافت کی کڑیوں کو آگے بڑھاتے ہیں۔ سیتو-بندھ، لنکا کا محاصرہ، تِتھی کے مطابق جنگی مراحل، اندرَجیت اور کُمبھکرن کے واقعات، اور راون وَدھ سے فتح مکمل ہوتی ہے۔ وبھیشن کا ابھیشیک، سیتا کی شُدھی کا استعارہ، ایودھیا واپسی اور ‘رام راجیہ’ کا اخلاقی آدرش—عوام کی بھلائی، جرم سے پاک سماج، خوشحالی، بزرگوں اور دْوِجوں کا احترام—تفصیل سے آتا ہے۔ آخر میں رام کا تیرتھ-ماہاتمیہ کے بارے میں سوال، اتہاس کی یاد کو تیرتھ یاترا کی تعبیر سے جوڑ دیتا ہے۔

Dharmāraṇya as Supreme Tīrtha: River-Māhātmya, Phalāśruti, and Rāma’s Pilgrimage Movement (धर्मारण्य-माहात्म्य-प्रकरणम्)
اس باب میں شری رام، وِسِشٹھ سے پوچھتے ہیں کہ پاپ کی تطہیر کے لیے سب سے اعلیٰ تیرتھ کون سا ہے۔ سیتا ہَرن کے واقعے میں برہمرکشسوں کے وध سے وابستہ گناہ کے کفّارے کی اخلاقی فکر اُن کے سوال کی بنیاد بنتی ہے۔ وِسِشٹھ گنگا، نرمدا/ریوا، تاپتی، یمنا، سرسوتی، گنڈکی، گومتی وغیرہ مقدّس ندیوں کا درجہ وار بیان کرتے ہیں اور دیدار، یاد، اشنان اور مخصوص اوقات کے اَعمال کے جدا جدا ثمرات بتاتے ہیں—جیسے کارتک میں سرسوتی میں اشنان اور ماگھ میں پریاگ میں اشنان۔ پھر تیرتھ-فل شروتی کے طور پر گناہوں کے زوال، دوزخ سے نجات، پِتروں کی اُدھار اور وِشنو لوک کی پرابتِی کی بشارت دی جاتی ہے۔ آخر میں دھرمآرَنیہ کو سب تیرتھوں میں برتر قرار دیا جاتا ہے—قدیم طور پر قائم، دیوتاؤں سے ستوت، مہاپاتک نाशک، اور کامی، یتی، سِدھھ وغیرہ سالکوں کو من چاہا پھل دینے والا۔ برہما کے بیان کے مطابق رام خوش ہو کر سیتا، بھائیوں، ہنومان، رانیوں اور بڑے قافلے کے ساتھ روانہ ہوتے ہیں اور قدیم تیرتھ کی طرف پیدل جانے کی مر्यادا نبھاتے ہیں۔ رات کو ایک عورت کا نوحہ سن کر وہ قاصد بھیجتے ہیں کہ غم کی وجہ معلوم کریں—یہی اگلی कथा کی تمہید بنتی ہے۔

Dharmāraṇya-adhidevatā’s Lament and Śrī Rāma’s Restoration of the Vedic Settlement (Satya-Mandira)
باب کا آغاز وِیاس کے بیان کردہ سلسلۂ روایت سے ہوتا ہے۔ شری رام کے قاصد ایک تنہا، زیورات سے آراستہ مگر غمزدہ دیوی کو دیکھتے ہیں اور اس کی خبر رام تک پہنچاتے ہیں۔ رام نہایت انکساری سے اس کے پاس جا کر اس کی شناخت اور ترک کیے جانے کا سبب پوچھتے ہیں اور حفاظت کا وعدہ کرتے ہیں۔ وہ دیوی باادب ستوتی کر کے رام کو پرم، نِتیہ، دکھ ہَرنے والا، جگت کا آدھار اور راکشسوں کا سنہارک بتاتی ہے اور خود کو دھرمآرَنیہ-کشیتر کی ادھیدیوَتا قرار دیتی ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ ایک طاقتور اسُر کے خوف سے بارہ برس سے یہ علاقہ ویران ہے؛ برہمن اور ویشیہ بھاگ گئے، یَجْن ویدی اور گھریلو اگنی ہوتَر مٹ گئے۔ جہاں پہلے دیرگھِکا میں اسنان، کھیل، پھول، خوشحالی اور منگل نشان تھے وہاں اب کانٹے، جنگلی جانور اور نحوست کی علامتیں ہیں۔ رام چاروں سمتوں میں بکھرے برہمنوں کو ڈھونڈ کر دوبارہ بسانے کا عہد کرتے ہیں۔ دیوی بہت سے گوتر کے وید-وِد برہمنوں اور دھرم پرائن ویشیہ سماج کا ذکر کرتی ہے اور اپنا نام بھٹّارِکا—مقامی محافظہ—بتاتی ہے۔ رام اس کی بات کو سچ مان کر ‘ستیہ-مندِر’ نامی شہر بسانے کا اعلان کرتے ہیں اور خدام کو حکم دیتے ہیں کہ برہمنوں کو اَرجھْیَہ-پادْیَہ کے ساتھ عزت دے کر لے آئیں؛ جو انہیں قبول نہ کرے اس کے لیے سزا اور جلاوطنی کا فرمان جاری ہوتا ہے۔ برہمن ملتے ہیں، معزز کیے جاتے ہیں اور رام کے پاس لائے جاتے ہیں؛ رام کہتے ہیں کہ ان کی شان و شوکت وِپْر-پرساد پر قائم ہے۔ پھر پادْیَہ، اَرجھْیَہ، آسن سے استقبال، ساشٹانگ پرنام اور زیورات، کپڑے، یَجْنوپَویت اور بکثرت گؤدان کے ذریعے دھرمآرَنیہ کی ویدک بستی اور نظم دوبارہ قائم ہو جاتا ہے۔

जीर्णोद्धार-दानधर्मः | Jīrṇoddhāra and the Ethics of Dāna (Qualified Giving)
اس باب میں دھرمآرَنیہ میں جیर्णوद्धار اور دان دھرم کی دینی و اخلاقی توضیح ملتی ہے۔ شری ماتا کے حکم سے رام جیर्णوद्धار کا عزم کرتے ہیں اور دان کو شاستروکت طریقے سے تقسیم کرنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ دان ‘پاتر’ کو ہی دیا جائے، ‘اپاتر’ کو نہیں—پاتر کشتی کی مانند داتا اور گراہک دونوں کو پار لگاتا ہے، جبکہ اپاتر لوہے کے لوتھڑے کی طرح ہلاکت خیز ہے۔ برہمنیت صرف پیدائش سے نہیں؛ کریا-سامرتھ اور یجیہادی کرم کی تکمیل کو پھل کا معیار قرار دیا گیا ہے۔ کچھ برہمن سادہ و ضبط والی روزی کا ذکر کرتے ہوئے شاہی دان قبول کرنے سے خوف ظاہر کرتے ہیں اور راج آشرے کو خطرناک کہتے ہیں۔ رام وشیِشٹھ سے مشورہ کرتے ہیں اور تریمورتی کو پکارते ہیں؛ تریمورتی ظاہر ہو کر جیर्णوद्धار کی منظوری دیتے ہیں اور دھرم کی حفاظت میں رام کے سابقہ کارنامے کی ستائش کرتے ہیں۔ پھر تعمیر و اوقاف شروع ہوتے ہیں—سبھاگھر، رہائشیں، گودام؛ دولت، گائیں اور گاؤں عالم پجاریوں کو دیے جاتے ہیں، اور ‘ترائی وِدیا’ کے ماہرین کی تقرری بھی ہوتی ہے۔ دیوتا چامر، تلوار وغیرہ کی نشانیاں عطا کرتے ہیں اور مستقل آداب بتاتے ہیں—گرو اور کُل دیوتا کی پوجا، ایکادشی اور ہفتہ کے دن دان، کمزور و محتاج کی کفالت، اور بے رکاوٹ کامیابی کے لیے شری ماتا اور وابستہ دیوتاؤں کو پہلی نذر۔ آخر میں تیرتھ کی سہولتوں (تالاب، کنویں، خندقیں، دروازے) کی توسیع، شاہی فرمان مٹانے کی ممانعت، ہنومان کی نگہبان کے طور پر تقرری اور الٰہی برکت کا بیان ہے۔

Rāma-śāsana on Dharmāraṇya: Protection of Land Grants and the Dharma of Endowments (रामशासन-भूमिदानधर्मः)
یہ باب مکالمے کی صورت میں ہے۔ یُدھِشٹھِر ویاس سے پوچھتے ہیں کہ تریتا یُگ میں ستیہ-مندِر میں شری رام کے لکھے ہوئے قدیم ‘شاسن’ (شاہی فرمان/تانبے کی تختی) کی حقیقت کیا ہے۔ ویاس دھرمآرنّیہ کا پس منظر بیان کرتے ہیں—وہاں نارائن مالک ہیں، ایک یوگنی نجات بخش قوت ہے، اور دھرم کے نوشتوں کی پائیداری کے لیے تانبے کو نہایت دیرپا وسیلہ بتایا گیا ہے۔ آگے وید، پران اور دھرم شاستر میں وشنو کی یکتائی کو ہر جگہ ثابت کیا جاتا ہے، اور رام کو دھرم کی حفاظت کے لیے اوتار اور مخالف قوتوں کے ہلاک کرنے والے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ شاسن کے اندرونی اسلوب میں کتبہ-دھرم کی روایت جھلکتی ہے—زمین کے دان دینے والے کی ستائش، زمین چھیننے والوں/اس کی تائید کرنے والوں پر سخت سزائیں، اور محافظوں کے لیے عظیم ثواب۔ زمین چوری کے دوزخی نتائج، پست جنم، تھوڑی سی زمین کے دان کا بھی بڑا پھل، اور برہمن کو دی گئی زمین کے ناقابلِ انتقال ہونے کا اعلان شامل ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عالم برہمن تانبے کی تختی کی حفاظت کریں، اس کی رسم کے مطابق پوجا اور روزانہ عبادت کریں؛ نیز رام نام کا مسلسل جپ ایک محافظانہ بھکتی ریاضت ہے۔ آخر میں رام حکم دیتے ہیں کہ یہ شاسن کائناتی ادوار تک محفوظ رہے، اور حکم توڑنے والوں کو سزا دینے کے لیے ہنومان کو محافظ و نافذ کرنے والے کے طور پر یاد کرتے ہیں؛ پھر رام ایودھیا لوٹ کر طویل مدت تک راج کرتے ہیں۔

धर्मारण्ये रामयज्ञः, सीतापुरस्थापनं च (Rāma’s Sacrifice in Dharmāraṇya and the Founding of Sītāpura)
اس ادھیائے میں نارَد کے سوال سے تحریک پا کر برہما، دھرماآرنَیہ میں شری رام کے یَجْن اور نظمِ حکومت کا بیان کرتے ہیں۔ پریاگ/تریوینی، شکلتیرتھ، کاشی، گنگا، ہریکشیترا اور دھرماآرنَیہ وغیرہ کے تیرتھ-ماہاتمیہ سن کر رام دوبارہ تیرتھ یاترا کا سنکلپ کرتے ہیں اور سیتا، لکشمن، بھرت اور شترگھن کے ساتھ طریقۂ عمل جاننے کے لیے وِسِشٹھ کے پاس جاتے ہیں۔ رام پوچھتے ہیں کہ مہاکشیترا میں برہماہتیا جیسے مہاپاپوں کے نِوارن کے لیے دان، نیَم، اسنان، تپ، دھیان، یَجْن، ہوم یا جپ—ان میں کون سا شریشٹھ ہے؛ وِسِشٹھ دھرماآرنَیہ میں یَجْن کا وِدھان بتاتے ہیں اور اس کے پھل کو زمانے کے ساتھ کئی گنا بڑھنے والا کہتے ہیں۔ سیتا صلاح دیتی ہیں کہ وہی وید-پارانگت برہمن رِتوِج ہوں جو پُرویوگوں سے وابستہ اور دھرماآرنَیہ کے باشندے ہیں۔ پھر ناموں سمیت مذکور اٹھارہ یاجنک وِدوان بلائے جاتے ہیں؛ یَجْن مکمل ہو کر اَوَبھرتھ اسنان ہوتا ہے اور پُروہتوں کی تعظیم و پوجا کی جاتی ہے۔ آخر میں سیتا یَجْن کی سمردھی کو قائم رکھنے کے لیے اپنے نام پر بستی بسانے کی درخواست کرتی ہیں؛ رام برہمنوں کو محفوظ ٹھکانہ دے کر ‘سیتاپور’ قائم کرتے ہیں اور اسے شانتا اور سُمنگلا جیسی محافظ و مبارک دیویوں سے منسوب کرتے ہیں۔ اس کے بعد ادھیائے ایک انتظامی-دھارمک منشور کی صورت اختیار کرتا ہے—بہت سے گاؤں بسائے جاتے ہیں اور برہمنوں کی رہائش کے لیے عطا کیے جاتے ہیں؛ معاون آبادی کے طور پر ویشیہ اور شودر مقرر ہوتے ہیں اور گائے، گھوڑے، کپڑے، سونا، چاندی، تانبا وغیرہ کے دان مقرر کیے جاتے ہیں۔ رام تاکید کرتے ہیں کہ برہمنوں کی درخواستیں قابلِ احترام ہیں اور ان کی سیوا سے سمردھی آتی ہے؛ بیرونی بدخواہوں کی رکاوٹ قابلِ مذمت ہے۔ انجام میں رام ایودھیا واپس آتے ہیں، رعایا خوشی مناتی ہے، دھرم راج جاری رہتا ہے اور سیتا کے حاملہ ہونے کا اشارہ وंश-پرَمپرا کی بقا کو مضبوط کرتا ہے۔

Adhyāya 36: Hanumān’s Guardianship, Kali-yuga Portents, and the Contest over Śāsana (Rāma’s Ordinance)
اس باب میں تہہ در تہہ مکالموں کے ذریعے روایت آگے بڑھتی ہے۔ نارَد برہما سے پوچھتے ہیں کہ اس کے بعد کیا ہوا، وہ مقدّس مقام کب تک قائم رہا، اس کی حفاظت کس نے کی، اور کس کے حکم سے وہاں شاسن (رام کا فرمان) جاری رہا۔ برہما بتاتے ہیں کہ تریتا سے دوَاپر کے اختتام تک اور کَلی کے آغاز تک صرف وایو پُتر ہنومان ہی اس دھام کی نگہبانی کے اہل تھے، اور وہ صریحاً شری رام کی آج्ञا کے تحت محافظ رہے؛ عوامی زندگی میں اجتماعی مسرّت، مسلسل رِگ، یجُس، سام اور اَتھرو وید کا پاٹھ، تہوار اور گوناگوں یَجّیہ بستیوں میں پھیلے ہوئے تھے۔ پھر یُدھِشٹھِر ویاس سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ مقام کبھی دشمنوں کے ہاتھوں ٹوٹا یا فتح ہوا۔ ویاس کَلی یُگ کے اوّلین احوال بیان کرتے ہیں اور اخلاقی و سماجی زوال کی نشانیاں گنواتے ہیں: جھوٹ کا غلبہ، رِشیوں سے عداوت، والدین کی خدمت و عقیدت میں کمی، رسومات میں سستی، بدعنوانی، اور ورن-دھرم کا الٹ جانا—یوں دھرم کے انحطاط کی تشخیص سامنے آتی ہے۔ اس کے بعد کانْیَکُبْج کے نیک بادشاہ آما اور اس کے ماحول کا ذکر آتا ہے، اور دھرمآرَنیہ میں اِندرَسوری کے اثر سے جین مائل حکمرانی اور شاہی رشتوں کے ذریعے اس کا استحکام دکھایا جاتا ہے، جس سے ویدک ادارے اور برہمنوں کے حقوق دبنے لگتے ہیں۔ برہمنوں کا ایک وفد بادشاہ سے فریاد کرتا ہے اور داماد حکمران کُمارپال کے ساتھ اَہِمسا بمقابلہ ویدک یَجّیہ-ہِنسا پر مناظرہ ہوتا ہے۔ برہمن دلیل دیتے ہیں کہ وید میں مقررہ ہنسا اگر ہتھیاروں کے بغیر، منتر اور ودھی کے ساتھ، ظلم کے لیے نہیں بلکہ یَجّیہ کے نظم کے لیے ہو تو وہ اَدھرم نہیں۔ کُمارپال رام/ہنومان کی جاری نگہبانی کا عینی ثبوت مانگتا ہے؛ تب برادری رامیشور/سیتوبندھ کی طرف باقاعدہ یاترا اور تپسّیا کا عہد کرتی ہے تاکہ ہنومان کے درشن سے پہلے والی دھارمک حالت پھر قائم ہو۔ آخر میں ہنومان کی کرونامئی پذیرائی، رام کے فرمان کی تجدید، اور معاشی سہارا دینے والی دان-ویوستھا کی طرف اشارے ملتے ہیں۔

Hanumān’s Epiphany, Authentication Tokens, and the Protection of Brāhmaṇas in Dharmāraṇya (अञ्जनीसूनोः स्वरूपदर्शनम् अभिज्ञानपुटिकाप्रदानं च)
اس باب میں دھرماآرنیا کے برہمن پون پتر ہنومانؑ کی طویل ستوترا کے ذریعے مدح کرتے ہیں—ان کی رام بھکتی، محافظانہ قوت، اور گو–برہمن فلاح کے مطابق اخلاقی و دھارمک استقامت کو سراہتے ہیں۔ خوش ہو کر ہنومانؑ ور عطا کرنے کو کہتے ہیں؛ برہمن دو درخواستیں پیش کرتے ہیں: (۱) لنکا کے کارنامے کا عینی مظاہرہ، (۲) ایسے گناہگار حکمراں کے خلاف اصلاحی مداخلت جو روزگار اور دھرم کے نظم کو نقصان پہنچا رہا ہو۔ ہنومانؑ فرماتے ہیں کہ کلی یُگ میں ان کا حقیقی روپ عموماً دیدنی نہیں ہوتا؛ تاہم بھکتی سے متاثر ہو کر وہ ایک واسطہ دار/معتدل روپ ظاہر کرتے ہیں، جو پورانوں کی توصیف کے مطابق ہونے کے باعث سب کے لیے تصدیق اور ہیبت کا سبب بنتا ہے۔ وہ ایسے پھل بھی عطا کرتے ہیں جو غیر معمولی سیرابی دیتے ہیں، اور دھرماآرنیا کو بھوک کے تسکین بخش معجزاتی مقام کے طور پر معروف کرتے ہیں۔ پھر وہ ‘ابھجنان’ یعنی توثیقی نشان کی تدبیر قائم کرتے ہیں—اپنے جسم کے بال/روم کھینچ کر دو پُوٹیکاؤں میں مُہر بند کرتے ہیں۔ ایک پُوٹیکا رام بھکت راجا کو دی جائے تو برکت و ور دینے والی ہے؛ دوسری سزا کے ثبوت کے طور پر ہے، جو دھارمک تلافی ہونے تک لشکر اور خزانے وغیرہ کو آگ لگانے کی قدرت رکھتی ہے اور گاؤں کے واجبات، تاجروں کے محصول اور سابقہ انتظامات کی بحالی پر مجبور کرتی ہے۔ تین راتیں برہما یَجیہ اور قوی ویدی پاٹھ کے بعد ہنومانؑ ایک وسیع پتھریلے چبوترے پر برہمنوں کی نیند کی حفاظت کرتے ہیں اور پدرانہ ہوا کی قوت سے چھ ماہ کی مسافت چند مُہورتوں میں سمیٹ کر انہیں دھرماآرنیا پہنچا دیتے ہیں۔ صبح یہ واقعہ عوامی حیرت بن کر پھیلتا ہے اور باب کا پیغام مضبوط ہوتا ہے: بھکتی کے ذریعے دھرم کی پاسداری، قابلِ تصدیق نشان، اور اہلِ علم برادری کی حفاظت۔

Rājā Kumarapālakaḥ—Vipra-saṃvādaḥ, Agni-upadravaḥ, Rāma-nāma-prāyaścittaṃ ca (King Kumarapālaka’s dialogue with Brahmins, the fire-crisis, and expiation through Rāma’s Name)
ویاس ایک واقعہ بیان کرتے ہیں—آراستہ برہمن سردار پھل لیے شاہی دروازے پر جمع ہوئے اور راج پتر کمارپالک نے ان کا استقبال کیا۔ راجا جِنا/اَرحَت کی تعظیم، جانداروں پر کرُونا، یوگ شالا میں حاضری، گرو-پوجا، مسلسل منتر-جپ اور پنچوشن ورت کے التزام پر مبنی ایک مرکب اخلاقی پروگرام پیش کرتا ہے، جس سے برہمن ناخوش ہوتے ہیں۔ وہ رام اور ہنومان کی نصیحت یاد دلا کر کہتے ہیں کہ راجا کو وِپر-ورتّی (برہمنوں کی کفالت) دینی چاہیے اور دھرم کی حفاظت کرنی چاہیے؛ مگر راجا معمولی خیرات بھی نہیں دیتا۔ پھر سزا کے طور پر ہنومان سے منسوب ایک تھیلی محل میں پھینکی جاتی ہے اور شاہی ذخائر، سواریوں اور شاہی نشانوں میں ہولناک آگ پھیل جاتی ہے؛ انسانی تدبیریں ناکام رہتی ہیں۔ خوف زدہ راجا برہمنوں کے پاس جا کر ساشٹانگ پرنام کرتا ہے، اپنی نادانی کا اعتراف کرتا ہے اور بار بار ‘رام’ نام کا جپ کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ رام-بھکتی اور برہمنوں کی تعظیم ہی نجات کا ذریعہ ہیں؛ آگ کی شانتِی کی درخواست کرتا ہے اور عہد کرتا ہے کہ برہمن سیوا اور رام-بھکتی کے بغیر اس کا قصور مہاپاتک کے برابر ہے۔ برہمن نرم پڑتے ہیں، شاپ (لعنت) کو شانت کرتے ہیں؛ آگ بجھ جاتی ہے اور ریاست میں نظم بحال ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد نیا انتظامی بندوبست قائم ہوتا ہے—علما کے گروہوں کی ازسرِنو ترتیب، برادریوں کی حد بندی، اور سالانہ رسومات و عطیات کے قواعد، خصوصاً پَوش شُکل تریودشی کے ورت و دان کی ہدایات۔ باب کے اختتام پر دھرم پر مبنی حکمرانی مستحکم ہوتی ہے اور اخلاقی بنیاد کے طور پر رام نام کی بھکتی دوبارہ مؤکد کی جاتی ہے۔

Cāturvidya–Traividya Organization, Gotra–Pravara Mapping, and Dharmāraṇya Settlement Register (अध्याय ३९)
اس باب میں برہما نارَد سے تعلیمی مکالمے میں بیان کرتے ہیں کہ منضبط ویدک تعلیم رکھنے والے ممتاز دْوِج سماج سنہِتا، پَد، کرم اور گھَن پاٹھ کی نہایت درست قراءت کے ذریعے وید کی مقدس آواز کو محفوظ رکھتے ہیں۔ برہما اور وِشنو سمیت دیوتا وہاں آ کر ان کے یَجْن کی صوتی فضا، آچاری پاکیزگی اور اخلاقی نظم کو دیکھتے ہیں اور اسے تریتا یُگ جیسی دھرم-حالت کی علامت سمجھتے ہیں۔ کلی یُگ کی خرابیوں کے اندیشے سے دیوتا ایک باقاعدہ معاشی و کرمی نظام قائم کرتے ہیں: چاتُروِدْی اور ترَیوِدْی کے درمیان روزگار کے حصے، پیشہ ورانہ حدود، باہمی شادی کی ممانعت، اور خاندانوں کی رسمی تقسیم—جس کے ناظم کا نام متن میں ‘کاجیش’ آیا ہے۔ پھر باب ایک وسیع رجسٹر کی صورت اختیار کرتا ہے: برادری سے وابستہ 55 بستیوں کے نام، ہر بستی کے لیے گوتر-پروَر کے مجموعے، اور بستی بہ بستی ‘گوتر دیوی’ (نسب کی محافظ دیوی) کی تعیین۔ نارَد کے سوالات سے گوتر، کُل اور دیوی کی شناخت کا طریقہ واضح ہوتا ہے، اور برہما مقامات کو نسب و پروَر کے ساتھ ترتیب وار جوڑتے ہیں۔ اختتام میں بعد کے زمانوں کی آمیزش اور زوال کو یُگ کے تغیرات کا نتیجہ مانتے ہوئے بھی اس رجسٹر کو دھرمآرَنیہ کے لیے معتبر حوالہ قرار دیا گیا ہے۔

Dharmāraṇya: Community Dharma, Adjudication Norms, and Phalaśruti
اس باب میں نارَد برہما سے پوچھتے ہیں کہ موہیرکاپُر میں جب قرابت داری کے اندر تقسیم اور گروہ بندی پیدا ہو جائے تو تَری وِدیا (ویدوں کے عالم) اہلِ علم کیا رویّہ اختیار کرتے ہیں۔ برہما بیان کرتے ہیں کہ شِشت برہمن برادریاں اگنی ہوترا، یَجْیَہ، اسمارْت آچار اور شاستری استدلال کے ساتھ نظم قائم رکھتی ہیں؛ اور واڈَو کے سرکردہ لوگ دھرم شاستر، مقامی رواج (ستھان آچار) اور کُلاچار کی بنیاد پر موروثی/پرَمپراگت دھرم کو واضح کرتے ہیں۔ اس کے بعد ایک طرح کا سماجی ضابطہ آتا ہے: رام سے وابستہ نشانات اور مُدرَا (ہاتھ کی مُہر) کی تعظیم، نیک چلنی سے انحراف پر مقررہ سزائیں، اہلیت کے اصول، سماجی تعزیرات اور مجرموں سے برادری کا اجتناب۔ پیدائش سے متعلق نذرانے (چھٹے دن کی رسم وغیرہ)، روزی کے حصّوں (وِرتّی بھاگ) کی تقسیم، کُلدیوتاؤں کے لیے مقررہ حصّہ، اور منصفانہ فیصلے کا طریقہ بھی بتایا گیا ہے—جانبداری، رشوت اور ظالمانہ فیصلوں سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ ویاس کلی یُگ میں ویدی آچرن کے زوال اور فریقہ بندی کے بڑھنے کا ذکر کرتے ہوئے بھی گوتر، پروَر اور اَوَتَنگ جیسے شناختی نشانات کی حرمت کو برقرار رکھتے ہیں۔ آخر میں ہنومان کو پوشیدہ طور پر عدل کے محافظ کے طور پر دکھایا گیا ہے—جانبداری اور واجب خدمت سے غفلت نقصان کا سبب بنتی ہے، جبکہ دھرم پر چلنے والوں کی حفاظت ہوتی ہے۔ پھل شروتی میں دھرم آرَنیہ کی روایت سننے اور اس کا احترام کرنے کو پاکیزگی اور خوشحالی بخش کہا گیا ہے، اور پرانک پاٹھ و دان کے آداب بھی بیان کیے گئے ہیں۔
Dharmāraṇya is portrayed as a concentrated tīrtha-zone where divine beings continually 'serve' the place, making it inherently merit-generating and spiritually protective for residents and pilgrims.
The text highlights enduring salvific outcomes for beings who die there, and emphasizes śrāddha/pinda-style offerings as mechanisms for uplifting multiple ancestral generations and extended lineages.
The section foregrounds aetiological questioning about how Dharmāraṇya became established among the gods, why it is tīrtha-like on earth, and how large communities of brāhmaṇas were instituted there.