Prathama Pada
Maṅgalācaraṇa, Naimiṣāraṇya-Sabhā, Sūta-Āhvāna, and Narada Purāṇa-Māhātmya
یہ باب گرو، گنیش، واسودیو/نارائن، نر–نروتم اور سرسوتی کے منگل آچرن سے شروع ہو کر آدی پُرش کی ستوتی کرتا ہے، جن کے اَمش سے برہما–وشنو–مہیش جگت کا نظام چلاتے ہیں۔ نَیمِشارنّیہ میں شونک وغیرہ رشی تپسیا، یَجْن، گیان اور بھکتی کے ذریعے وشنو کی آرادھنا کر کے دھرم-ارتھ-کام-موکش کے لیے جامع اُپائے دریافت کرتے ہیں۔ وہ ویاس کے شِشْی اور مجاز پُران-وَکتا سوت رومہَرشن کو سدھّاشرم میں مقیم جان کر وہاں جاتے ہیں اور نارائن سے وابستہ اگنِشٹوم یَجْن کا پس منظر اور اَوَبھرتھ اختتام کی انتظارگاہ دیکھتے ہیں۔ رشی ‘مہمان نوازی کے روپ میں گیان’ مانگ کر وشنو کو راضی کرنے کی وِدھی، درست پوجا، ورن-آشرم آچار، اَتِتھی دھرم، پھل دینے والے کرم اور موکش دینے والی بھکتی کی حقیقت پوچھتے ہیں۔ سوت کہتا ہے کہ سنکادی اور برگزیدہ رشیوں نے نارَد کو جو گایا تھا وہی وہ سنائے گا؛ پھر نارَد پُران کی وید-مطابقت، گناہ نَاشک قوت، ابواب سننے/پڑھنے کے تدریجی پھل، اور دھارمک گفتگو کے آداب و اہلیت بیان کرتا ہے۔ آخر میں نارائن-سمَرَن اور یکسوئی سے شروَن بھکتی پیدا کر کے سب پُروشارته پورے کرتا ہے—یہی موکش دھرم کا خلاصہ ہے۔
Nārada’s Hymn to Viṣṇu (Nāradasya Viṣṇu-stavaḥ)
سُوت رِشیوں کے سوال کے جواب میں سنکادی کُماروں کا حال بیان کرتے ہیں—وہ برہما کے مانس پُتر، برہمچاری اور موکش پرायण تھے، مِیرو سے برہما سبھا کی طرف جا رہے تھے۔ راستے میں وہ وِشنو کی پَوِتر ندی گنگا کو دیکھ کر سیتا-جل میں اسنان کی خواہش کرتے ہیں۔ اسی وقت نارَد آتے ہیں، اپنے بزرگ بھائیوں کو پرنام کر کے نارائن، اچیوت، اننت، واسودیو، جناردن وغیرہ ناموں کا جپ کرتے ہوئے وسیع وِشنو-ستوتر پڑھتے ہیں۔ ستوتر میں وِشنو کو سَگُن و نِرگُن، گیان اور گیاتا، یوگ اور یوگ سے حاصل، اور وِشورُوپ ہو کر بھی اَسنگ بتایا گیا ہے؛ کُورم، وراہ، نرسِمھ، وامن، پرشورام، رام، کرشن، کلکی وغیرہ اوتاروں کا کیرتن اور نام-سمَرَن کی پاکیزگی و نجات بخش قوت بار بار سراہी گئی ہے۔ اسنان کے بعد سندھیا اور ترپن کے کرم پورے کر کے مُنی ہری-کَتھا میں مشغول ہوتے ہیں؛ پھر نارَد بھگوان کی تعریف و علامات، پھل دینے والے کرم، سچا گیان، تپسیا اور وِشنو کو پسند آنے والی مہمان نوازی کی وِدھی پوچھتے ہیں۔ آخر میں پھل شروتی ہے—صبح کے پاتھ سے پاکیزگی اور وِشنو لوک کی پرابتि۔
Sṛṣṭi-varṇana, Bhārata-khaṇḍa-mahātmya, and Jagad-bhūgola (Creation, Glory of Bhārata, and World Geography)
نارد سنک سے پوچھتے ہیں کہ ازلی ہمہ گیر پروردگار نے برہما اور دیوتاؤں کو کیسے پیدا کیا۔ سنک وشنو-مرکوز ادویت تعلیم بیان کرتے ہیں—نارائن ہر شے میں سراسر موجود ہے؛ تخلیق، بقا اور پرلے کے لیے پرجاپتی/برہما، رودر اور وشنو کی تثلیث ظاہر ہوتی ہے۔ مایا/شکتی کو ودیا اور اوِدیا دونوں کہا گیا—جدائی سمجھنے سے بندھن، اور عدمِ جدائی جاننے سے نجات۔ پھر سانکھیہ نما کائناتی پیدائش (پرکرتی–پورش–کال؛ مہت، بدھی، اہنکار؛ تنماترا اور مہابھوت) اور برہما کی بعد کی تخلیقات بیان ہوتی ہیں۔ سات اعلیٰ لوک، پاتال وغیرہ، میرو، لوکالوک، سات دویپ اور سمندر، اور بھارت ورش کو کرم بھومی کہا گیا ہے۔ آخر میں بھکتی اور نِشکام کرم کی تاکید—ہر عمل ہری/واسودیو کے سپرد کرنا، بھکتوں کی تعظیم، نارائن اور شِو کو غیر جدا دیکھنا، اور یہ اعلان کہ واسودیو کے سوا کچھ نہیں۔
Bhakti-Śraddhā-Ācāra-Māhātmya and the Commencement of the Mārkaṇḍeya Narrative
سنک نارَد کو تعلیم دیتے ہیں کہ شردھا (ایمان) تمام دھرم کی جڑ ہے اور بھکتی تمام سِدھیوں کی جان ہے؛ بھکتی کے بغیر دان، تپسیا اور اشومیدھ جیسے یَجْن بھی بےثمر ہیں، مگر شردھا کے ساتھ کیا گیا چھوٹا سا عمل بھی پائیدار پُنّیہ اور کیرتی دیتا ہے۔ وہ بھکتی کو ورن آشرم-آچار کے ساتھ جوڑ کر کہتے ہیں کہ مقررہ آچار چھوڑنے والا ‘پتِت’ ہے؛ آچار سے گرے ہوئے کو نہ ویدانت کا علم، نہ تیرتھ یاترا، نہ یَجْن بچا سکتے ہیں۔ بھکتی ستسنگ سے پیدا ہوتی ہے اور ستسنگ پچھلے پُنّیہ سے ملتا ہے؛ نیک لوگ خوش گفتار نصیحت سے باطن کی تاریکی دور کرتے ہیں۔ نارَد بھگوان کے بھکتوں کی نشانیاں اور انجام پوچھتے ہیں تو سنک مارکنڈَیَے کی رازدارانہ تعلیم کا آغاز کرتے ہیں۔ پھر پرلے میں وِشنو کو پرم نور، کَشیر ساگر میں دیوتاؤں کی ستوتی اور وِشنو کی تسلی بیان ہوتی ہے۔ مِرکنڈُو کی تپسیا و ستوتر سے وِشنو خوش ہو کر ور دیتے ہیں کہ وہ رِشی کے پتر روپ میں جنم لیں گے—یوں کہانی میں بھکتی کی نجات بخش منطق قائم ہوتی ہے۔
Mārkaṇḍeya-varṇanam (The Description of Mārkaṇḍeya)
نارد پوچھتے ہیں کہ بھگوان مِرکنڈو کے بیٹے کے طور پر کیسے پیدا ہوئے اور پرلے کے وقت مارکنڈےیہ نے وِشنو کی مایا کیسے دیکھی۔ سنک بیان کرتے ہیں: مِرکنڈو نے گِرہستھ آشرم اختیار کیا؛ ہری کے تیج سے ایک پُتر پیدا ہوا اور اس کا اُپنَین سنسکار ہوا۔ باپ نے سندھیا اُپاسنا، وید اَدھیَین، ضبطِ نفس، نقصان دہ کلام سے پرہیز اور ویشنو سَجّنوں کی سنگت سکھائی۔ مارکنڈےیہ نے اَچْیُت کے لیے تپسیا کی، پُران-سَمہِتا سے وابستہ سامرتھیا پایا، اور پرلے میں پانی پر پتے کی مانند رہ کر یوگ نِدرا میں آرام فرما ہری کا درشن کیا۔ پھر نِمیش سے کلپ، منونتر، برہما کے دن-رات اور پراردھ تک کائناتی زمانہ پیمائی بیان ہوتی ہے۔ سِرشٹی کے دوبارہ آغاز پر وہ جناردن کی ستوتی کرتا ہے؛ بھگوان بھاگوت لکشَن بتاتے ہیں—اہنسا، اَدویش، دان، ایکادشی، تُلسی کی تعظیم، ماں باپ/گائے/برہمن کی سیوا، تیرتھ یاترا اور شِو-وِشنو میں سمبھاو۔ شالگرام میں دھیان و دھرم سے وہ نروان پاتا ہے۔
The Greatness of the Gaṅgā (Gaṅgāmāhātmya)
سوت بیان کرتے ہیں کہ بھکتی سے مسرور نارَد، شاسترارتھ کے جاننے والے سنک سے پوچھتے ہیں کہ کون سا کْشَیتر اور کون سا تیرتھ سب سے اُتم ہے۔ سنک ‘راز’ برہموپدیش کے ساتھ تیرتھ-ستوتی کرتے ہوئے پریاگ میں گنگا–یَمُنا کے سنگم کو تمام کْشَیتر و تیرتھ میں سب سے شریشٹھ قرار دیتے ہیں، جہاں دیوتا، رِشی اور منو آتے ہیں۔ گنگا کی پاکیزگی (وشنو کے قدموں سے ظہور) کا مہاتم بیان ہے—نام کا سمرن، اُچارَن، درشن، سپرش، اسنان، بلکہ ایک بوند سے بھی پاپوں کا نِواڑن اور اعلیٰ گتی ملتی ہے۔ پھر کاشی/وارانسی (اوِمُکت) کی ستائش اور موت کے وقت سمرن سے شِو پد کی پرابتّی کہی گئی، مگر سنگم کو اس سے بھی بڑھ کر بتایا گیا۔ ہری اور شنکر (اور برہما) کی اَبھِنّتا کی تعلیم دے کر فرقہ وارانہ بھید سے روکا گیا۔ آخر میں پران-پाठ اور پران-وَکتا کا سمان گنگا/پریاگ کے پُنّ کے برابر کہا گیا، اور گنگا، گایتری، تُلسی کو نایاب تارک سہارا بتایا گیا۔
Gaṅgā-māhātmya: Bāhu’s Envy, Defeat, Forest Exile, and Aurva’s Dharmic Consolation
نارد سنک سے سگر کے نسب اور اُس شخص کے بارے میں پوچھتے ہیں جو دَیَتی مزاج سے آزاد ہوا۔ سنک پہلے گنگا دیوی کی برتر تطہیر بخش قوت بیان کرتے ہیں کہ اُن کے لمس سے سگر-کُل پاک ہو کر وشنو دھام کو پہنچتا ہے۔ پھر وِکو وَنش کے راجا باہو کی کہانی سناتے ہیں: وہ ابتدا میں دھرم پر قائم حکمران ہے، سات اشومیدھ یَگّیہ کرتا اور ورن-دھرم قائم کرتا ہے، مگر خوشحالی سے اَہنکار اور حسد بڑھتا ہے۔ وعظِ اخلاق میں بتایا جاتا ہے کہ حسد، سخت کلامی، خواہش اور ریاکاری عقل و دولت کو برباد کرتے ہیں اور اپنے بھی دشمن بن جاتے ہیں۔ جب وشنو کی کرپا ہٹتی ہے تو ہَیہَی اور تالَجَنگھ دشمن باہو کو شکست دیتے ہیں؛ وہ حاملہ رانیوں کے ساتھ جنگل میں چلا جاتا ہے اور رِشی اوروَ کے آشرم کے پاس ذلت کے ساتھ مر جاتا ہے۔ غم زدہ حاملہ رانی باہوپریا چتا پر چڑھنے لگتی ہے تو رِشی اوروَ دھرم کی یاد دہانی کر کے، رحم میں موجود آئندہ چکرورتی کے سبب اسے روکتے ہیں؛ کرم کے تحت موت کی ناگزیریت سمجھا کر مناسب انتیشٹی کراتے ہیں۔ دہن کے بعد باہو دیوی رتھ میں سوَرگ کو جاتا ہے؛ رانی اوروَ کی سیوا کرتی ہے؛ اور باب کرُونا اور لوک-ہِت کاری وانی کو وشنو جیسی قرار دے کر ختم ہوتا ہے۔
गङ्गामाहात्म्य — The Greatness of the Gaṅgā
سنک نارَد سے بیان کرتے ہیں کہ بادشاہ باہو کی دونوں رانیوں نے رشی اوروَ کی سیوا کی۔ بڑی رانی نے زہر پلانے کی کوشش کی، مگر سادھو-سیوا کے اثر سے چھوٹی رانی محفوظ رہی اور ہضم شدہ ‘گَر’ زہر کے سبب ‘سَگَر’ نامی بیٹا پیدا ہوا۔ رشی اوروَ نے سنسکار کر کے سگر کو راج دھرم اور منتر-بل سے یُکت ہتھیاروں کی ودیا سکھائی۔ سگر اپنے نسب کو جان کر غاصبوں کو شکست دینے کی پرتِگیا کرتا ہے اور وشیِشٹھ کے پاس جاتا ہے؛ وشیِشٹھ دشمن قبائل کو قابو میں کر کے کرم-نِیَتی اور آتما کی اَبدھیتا کا اُپدیش دے کر اس کا غصہ ٹھنڈا کرتے ہیں۔ تخت نشین ہو کر سگر اشومیدھ یَگّیہ کرتا ہے؛ اندر گھوڑا چرا کر پاتال میں کپل مُنی کے پاس چھپا دیتا ہے۔ سگر کے بیٹے زمین کھودتے ہوئے کپل کے سامنے پہنچتے ہیں اور اُن کی آتشیں نگاہ سے راکھ ہو جاتے ہیں۔ اَمشُمان عاجزی و ستوتی سے ور پاتا ہے کہ آگے بھگیرتھ گنگا کو اتارے گا؛ گنگا جل پِتروں کو پاک کر کے موکش دے گا۔ آخر میں بھگیرتھ تک وंश پرمپرہ اور گنگا کی شاپ-بھنگ شکتی (سوداس) کا ذکر آتا ہے۔
The Greatness of the Gaṅgā (Gaṅgā-māhātmya): Saudāsa/Kalmāṣapāda’s Curse and Release
نارد نے سنک سے پوچھا کہ راجہ سوداس کس طرح وششٹھ کے ذریعے لعنت زدہ ہوئے اور بعد میں گنگا کے قطروں سے پاک ہوئے۔ سنک نے بتایا: ریوا ندی کے کنارے شکار کے دوران راجہ نے ایک شیرنی (راکشسی) کو مار ڈالا، جس کے ساتھی نے بدلہ لینے کی ٹھانی۔ اشومیدھ کے بعد، راکشس نے وششٹھ کا روپ دھار کر راجہ کو گوشت پیش کرنے پر اکسایا۔ اصلی وششٹھ نے غصے میں آکر راجہ کو بارہ سال تک راکشس بننے کی بددعا دی اور گنگا جل سے نجات کا راستہ بتایا۔ لعنت کا پانی پیروں پر گرنے سے راجہ 'کلماش پاد' کہلائے۔ راکشس روپ میں انہوں نے گناہ کیے، لیکن آخر کار ایک برہمن کے ذریعے گنگا جل اور تلسی کے چھڑکاؤ سے وہ آزاد ہوئے۔ راجہ نے وارانسی جا کر گنگا اشنان کیا اور سدا شیو کے درشن کر کے موکش حاصل کیا۔
The Origin of the Gaṅgā and the Gods’ Defeat Caused by Bali
نارد سنک سے گنگا کے ظہور کا حال پوچھتے ہیں—گنگا وشنو کے پاؤں کے سرے سے ظاہر ہوئی اور بولنے والے و سننے والے کے گناہوں کو مٹانے والی ہے۔ سنک دیو-دیتیہ نسب نامہ بیان کرتے ہیں: کشیپ کی بیویاں ادیتی اور دِتی سے دیوتا اور دیتیہ پیدا ہوئے؛ دشمنی ہِرنیکشیپو کی نسل میں پرہلاد، ویروچن اور مہابلی بلی تک پہنچی۔ بلی بے شمار لشکر کے ساتھ اندرپوری پر چڑھ آیا؛ شنکھ ناد، اسلحہ و ہتھیار اور کائناتی ہیبت سے بھرپور ہولناک جنگ کا ذکر ہے۔ آٹھ ہزار برس بعد دیوتا شکست کھا کر بھاگتے ہیں اور زمین پر بھیس بدل کر پھرتے ہیں۔ بلی خوشحال ہو کر وشنو کی خوشنودی کے لیے اشومیدھ یگیہ کرتا ہے، مگر ادیتی اپنے بیٹوں کی سلطنت چھن جانے پر غمگین ہوتی ہے۔ وہ ہمالیہ جا کر ہری کو سچّدانند روپ میں دھیان کر کے سخت تپسیا کرتی ہے۔ دیتیہ جادوگر جسم کی پیمائش اور ماں کے دھرم کی دلیلیں دے کر روکنا چاہتے ہیں؛ ناکام ہو کر حملہ کرتے ہیں تو جل کر راکھ ہو جاتے ہیں۔ دیوتاؤں پر کرپا سے وشنو کا سدرشن چکر سو برس تک ادیتی کی حفاظت کرتا ہے۔
Vāmana’s Advent, Aditi’s Hymn, Bali’s Gift, and the Mahatmya of Bhū-dāna
نارد پوچھتے ہیں کہ جنگل کی آگ نے ادیتی کو کیسے نہیں جلایا۔ سنک بتاتے ہیں کہ ہری بھکتی انسان اور اس کے مقام کو پاک کر دیتی ہے؛ وہاں آفت، بیماری، چور اور بدخواہ ہستیاں غالب نہیں آ سکتیں۔ وِشنو ادیتی کو درشن دے کر ور دیتے ہیں؛ ادیتی اُن کے نرگُن/سگُن پرمَتْو، وِشو روپ، ویدمَی سوروپ اور شِو سے یکتائی پر مشتمل مفصل ستوتر پڑھتی ہے۔ بھگوان اُس کے پتر بننے کا وعدہ کرتے ہیں اور اُن بھکتوں کی باطنی نشانیاں بتاتے ہیں جو ‘اُنہیں دھارتے’ ہیں—اہنسا، سچ، وفاداری/نِشٹھا، گرو سیوا، تیرتھ کی رغبت، تلسی پوجن، نام سنکیرتن اور گؤ رکھشا۔ ادیتی سے وامن کا جنم ہوتا ہے؛ کشیپ ستوتی کرتے ہیں۔ بلی کے سوم یَگّیہ میں شُکر دان سے روکتے ہیں، مگر بلی وِشنو کو دان دینا ہی دھرم مان کر قائم رہتا ہے۔ وامن تین قدم زمین مانگتے ہیں، ویراغیہ اور اَنتریامی تتو سکھاتے ہیں اور بھو-دان کا مہاتمیہ—بھدرمتی-سُگھوش کی کہانی اور درجاتی پھل—تفصیل سے سناتے ہیں۔ پھر وِشنو وِراٹ ہو کر لوک ناپتے ہیں، برہمانڈ کو چیرتے ہیں؛ اُن کے پاؤں کے جل سے گنگا پرकट ہوتی ہے۔ بلی بندھا بھی رَساتل پاتا ہے اور وِشنو دروازے کے پالک بنتے ہیں۔ آخر میں گنگا اور اس کتھا کے شروَن کے پُنّیہ کی ستائش ہے۔
Dharma-ākhyāna (Discourse on Dharma): Worthy Charity, Fruitless Gifts, and the Merit of Building Ponds
گنگا کی گناہ نَاش عظمت سن کر نارَد سنک سے دان کے لائق پاتر کی علامتیں پوچھتے ہیں۔ سنک بتاتے ہیں کہ اَمر پھل کے لیے دان اہل برہمنوں کو دینا چاہیے اور پرتیگرہ (دان قبول کرنے) کی پابندیاں بیان کرتے ہیں۔ پھر ایک طویل فہرست آتی ہے کہ ریاکاری، حسد، بدکاری، ضرر رساں/ادھرم پیشے، ناپاک یاجن، اور دھرم کرم کی خرید و فروخت کرنے والوں وغیرہ کو دیا ہوا دان ‘نِشْفَل’ ہے۔ نیت کے لحاظ سے دان کی درجہ بندی—شرَدھا سے وِشنو کی پوجا کے طور پر دیا گیا دان اعلیٰ ترین؛ خواہش سے، یا غصہ/تحقیر کے ساتھ، یا نالائق کو دیا گیا دان درمیانہ/ادنیٰ۔ دولت کا بہترین مصرف پرُوپکار ہے؛ دوسروں کے لیے جینا ہی سچی زندگی کی نشانی ہے۔ آگے دھرم راج بھگیرتھ کی ستائش کر کے دھرم/ادھرم کی مختصر تعلیم دیتے ہیں اور برہمنوں کی اعانت اور تالاب/آبگاہ بنانے کی عظیم پُنّیہ بتاتے ہیں۔ کھدائی، کیچڑ صاف کرنا، بند باندھنا، درخت لگانا، دوسروں کو ترغیب دینا—یہ عوامی آبی کام گناہ مٹاتے اور سوَرگ کا پھل دیتے ہیں، اسی پر باب ختم ہوتا ہے۔
Dharmānukathana (Narration of Dharma)
اس باب میں دھرم راج بادشاہ کو نصیحت کے انداز میں اُن دھارمک اعمال کا بیان کرتے ہیں جن کا پھل بتدریج بڑھتا ہے۔ شِو یا ہری کے مندر کی تعمیر، حتیٰ کہ مٹی کی چھوٹی سی عبادت گاہ بھی، کئی کلپوں تک وِشنو لوک میں قیام عطا کرتی ہے؛ پھر برہماپور، سُورگ وغیرہ کی ترقی کے بعد آخرکار یوگک جنم اور موکش تک پہنچاتی ہے۔ لکڑی، اینٹ، پتھر، سَفٹِک، تانبہ، سونا وغیرہ مواد کے فرق سے اور صفائی، لیپن، چھڑکاؤ، آرائش، حفاظت و نگہداشت جیسی خدمات سے پُنّیہ کئی گنا بڑھتا ہے۔ تالاب، ذخائرِ آب، کنویں، ٹینک، نہریں، گاؤں، آشرم، باغات وغیرہ عوامی بھلائی کے مطابق درجے پاتے ہیں؛ اور اصول یہ ہے کہ استطاعت کے مطابق دان کرنے سے غریب و امیر کو برابر پھل ملتا ہے۔ تُلسی لگانا و سینچنا، پتے دان کرنا، شالگرام کو ارپن اور اُردھوا پُنڈرا دھارن کرنا بڑے پاپوں کا نِواڑن اور نارائن دھام میں طویل قیام کا سبب بتایا گیا ہے۔ دودھ، گھی، پنچامرت، ناریل پانی، گنے کا رس، چھنا ہوا پانی، خوشبودار جل سے ابھیشیک اور ایکادشی، دوادشی، پورنیما، گرہن، سنکرانتی، نکشتر-یوگ میں خاص پھل مذکور ہے۔ دان دھرم میں اَنّ و جل سب سے اعلیٰ، گائے اور ودیا موکش دینے والی؛ رتن و سواری کے دان سے الگ الگ لوک ملتے ہیں۔ مندر کی کلا—سنگیت، نرتیہ، گھنٹیاں، شنکھ، دیپ—کو موکش کی سمت لے جانے والی سیوا کہا گیا ہے۔ اختتام پر وِشنو-مرکزی تَتّو ہے کہ دھرم، کرم، سادن اور پھل—سب وِشنو ہی ہیں۔
Dharmopadeśa-Śānti: Rules of Impurity, Expiations, and Ancestor Rites
دھرم راج بادشاہ کو شروتی–سمِرتی پر مبنی شَौچ اور نِشکرتی/پرایَشچِت کے قواعد بتاتے ہیں۔ کھانے کے وقت چنڈال/پتِت کا چھونا، اُچّھِشٹ کا داغ، جسمانی اخراجات، پیشاب، قے وغیرہ سے ناپاکی ہو تو تری-سندھیا اسنان، پنچگَوْیَ، روزہ، گھی کی آہوتی اور کثرتِ گایتری-جپ جیسے درجۂ بدرجہ علاج بیان ہیں۔ انتَیج کے لمس، حیض اور ولادت کے سوتک میں—برہماکُورچ جیسے کرم کے بعد بھی—غسل کو لازمی کہا گیا ہے۔ جنسی آداب میں رِتو/اَرِتو کی تمیز، ناجائز ملاپ کے دَوش، اور بعض مہاپاتک میں آگ میں داخل ہونا ہی واحد کفارہ بتایا گیا ہے۔ خودکشی یا حادثاتی موت والے ہمیشہ کے لیے خارج نہیں؛ چاندْرایَن/کِرِچّھر سے شُدّھی ممکن ہے۔ گائے کو نقصان کے اخلاقی اصول، ہتھیار کے مطابق تپسیا کی درجے بندی، منڈن-شکھا کے قواعد اور شاہی انصاف بھی مذکور ہیں۔ آخر میں اِشٹ–پورت کے ثواب، پنچگَوْیَ کی تیاری، سوتک/اسقاطِ حمل کی ناپاکی کی مدتیں، نکاح میں گوتر کی تبدیلی، اور شرادھ/ترپن کے طریقے و اقسام بیان ہوتے ہیں۔
Pāpa-bheda, Naraka-yātanā, Mahāpātaka-vicāra, Atonement Limits, Daśa-vidhā Bhakti, and Gaṅgā as Final Remedy
سنک کے بیان کردہ مکالمے میں دھرم راج یم، راجا بھگیرتھ کو گناہوں کی اقسام، نرکوں کے نام اور ہولناک یاتنائیں (آگ، کاٹنا، سخت سردی، گندگی/فضلہ سے متعلق سزائیں، لوہے کے اوزار) بتاتے ہیں۔ پھر چار مہاپاتک—برہمن ہتیا، سُرا پانا، ستیہ/چوری (خصوصاً سونے کی چوری)، اور گرو-تلپ-گمن—اور گناہ گاروں کی صحبت کو پانچواں قرار دے کر، ان کے ہم پلہ گناہوں کی سنگینی بیان ہوتی ہے۔ کفّارہ (پرایشچت) کے قابل اور بے کفّارہ (اپرایشچت) اعمال کی تمیز، نیز حسد، چوری، زنا، جھوٹی گواہی، دان میں رکاوٹ، حد سے زیادہ ٹیکس، مندر کی آلودگی وغیرہ پر نرک میں قیام اور پست جنموں کی طویل کڑی بیان کی گئی ہے۔ آخر میں وشنو کے حضور کفّارے کی تاثیر، گنگا کی نجات بخش عظمت، بھکتی کی دس قسمیں (تامس-راجس-ساتتوِک درجے)، ہری و شِو کی عدمِ دوئی، اور اجداد کی رہائی کے لیے بھگیرتھ کے گنگا لانے کے عزم کا ذکر ہے۔
Bhāgīratha’s Bringing of the Gaṅgā
نارد پوچھتے ہیں کہ ہمالیہ میں بھگیرتھ نے کیسے عمل کیا اور گنگا کیسے اتری۔ سنک بیان کرتے ہیں—تپسوی راجا بھگیرتھ بھِرگو کے آشرم میں جا کر انسان کی بلندی کا سبب اور بھگوان کو خوش کرنے والے اعمال دریافت کرتا ہے۔ بھِرگو ستیہ کو دھرم کے مطابق اور جانداروں کے لیے مفید کلام بتاتے ہیں، اہنسا کی تعریف کرتے ہیں، بدکار صحبت سے بچنے کی تنبیہ کرتے ہیں، اور ویشنو سمرن سکھاتے ہیں—پوجا و جپ کے ساتھ آٹھ اکشری “اوم نمو نارائنائے” اور بارہ اکشری “اوم نمو بھگوتے واسودیوائے”، نیز نارائن کا دھیان۔ بھگیرتھ ہِمَوَت پر سخت تپسیا کرتا ہے؛ اس کی شدت سے دیوتا گھبرا کر کَشیر ساگر میں مہا وشنو کی ستوتی کرتے ہیں۔ وشنو پرگٹ ہو کر پِتروں کے اُدھار کا وعدہ دیتے ہیں اور شمبھو (شیو) کی آرادھنا کا حکم دیتے ہیں۔ بھگیرتھ ایشان کی ستوتی کرتا ہے؛ شیو پرگٹ ہو کر ور دیتے ہیں—گنگا شیو کی جٹاؤں سے نکل کر بھگیرتھ کے پیچھے چلتی ہے، ساگر کے بیٹوں کے ہلاک ہونے کی جگہ کو پاک کرتی ہے اور انہیں وشنو لوک میں مکتی دیتی ہے۔ آخر میں پھل شروتی—اس قصے کا سننا/پڑھنا گنگا اسنان کا پُنّیہ دیتا ہے اور بیان کرنے والے کو وشنو دھام تک پہنچاتا ہے۔
Dvādaśī-vrata: Month-by-month Viṣṇu Worship and the Year-End Udyāpana
سوت جی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہیں؛ پہلے بیان کردہ گنگا-ماہاتمیہ سے متاثر ہو کر نارَد جی سنک سے ایسے ہری-ورت پوچھتے ہیں جو وشنو کو خوش کریں اور پرَوِرتّی و نِورتّی کا سنگم کرائیں۔ سنک شُکل پکش کی دوادشی پر مارگشیرش سے کارتک تک ماہ بہ ماہ دوادشی-ورت کا منظم چکر بتاتے ہیں—اپواس، پاکیزگی کے قواعد، مقررہ مقدار کے دودھ وغیرہ سے ابھیشیک، کیشو-نارائن-مادھو-گووند-تری وکرم-وامن-شری دھر-ہریشیکیش-پدمنابھ- دامودر وغیرہ ناموں کے منتر، 108 آہوتیوں کا ہوم، رات بھر جاگَرَن اور تل، کِرشرا، چاول، گیہوں، شہد، اپوپ، کپڑے، سونا وغیرہ کا دان۔ آخر میں مارگشیرش کرشن دوادشی کو سالانہ اُدیَاپن—منڈپ کی تعمیر، سروتوبھدر نقش، بارہ کُمبھ، لکشمی-نارائن پرتِما یا ہم قیمت نذر، پنچامرت ابھیشیک، پران شروَن، بڑا تل-ہوم، بارہ برہمنوں کو بھوجن اور آچاریہ کو دان۔ پھل شروتی میں گناہوں کی صفائی، خاندان کی بلندی، مطلوبہ کامیابی اور وشنو دھام کی پرابتّی؛ سننے/پڑھنے سے بھی واجپےی یَگّیہ کے برابر پُنّیہ بتایا گیا ہے۔
Pūrṇimā-vrata (Lakṣmī–Nārāyaṇa-vrata): Observance, Moon Arghya, and Annual Udyāpana
سنک نارد کو ‘پورنیما ورت’ کی تعلیم دیتے ہیں—یہ پاپوں کو مٹانے والا، غم دور کرنے والا، بُرے خوابوں اور نحس سیّاروی اثرات سے حفاظت کرنے والا ورت ہے۔ مارگشیर्ष شُکل پورنیما سے ورتی دَنت دھاون، اسنان، سفید لباس، آچمن کر کے نارائن کا سمرن کرتا ہے اور سنکلپ کے ساتھ لکشمی–نارائن کی پوجا کرتا ہے؛ اُپچار، کیرتن/پাঠ اور گِرہیہ وِدھی کے مطابق چوکور ستھنڈِل پر گھی اور تل کی آہوتیاں پُرش سوکت کے مطابق دے کر، پھر شانتی سوکت سے شمن کرتا ہے۔ پورنیما کے دن اُپواس رکھ کر سفید پھول اور اَکشَت سے چاند کو اَرگھ دیتا ہے اور پاشنڈیوں سے بچتے ہوئے رات بھر جاگرتا ہے۔ اگلی صبح پھر پوجا، برہمنوں کو بھوجن، پھر گھر والوں کا بھوجن۔ یہ ورت ہر ماہ ایک سال تک کیا جاتا ہے؛ کارتک میں اُدیापन کے وقت منڈپ کی سجاوٹ، سروتوبھدر نقش، کُمبھ ستھاپن، پنچامرت ابھیشیک، گرو کو پرتِما اور دکشنا، برہمن بھوجن، تل دان اور تل ہوم—جس سے سمردھی اور آخرکار وشنو دھام کی پرابتि ہوتی ہے۔
Dhvajāropaṇa and Dhvajāgopaṇa: Procedure, Stotra, and Phala (Merit) of Raising Viṣṇu’s Flag
سنک مُنی شری وِشنو کے دھوج (جھنڈے) کے نصب کرنے اور اس کی حفاظت کے مقدّس ورت کا بیان کرتے ہیں؛ اسے گناہ نِشٹ کرنے والا اور دان-تیرتھ کرم کے برابر یا اس سے برتر کہا گیا ہے۔ کارتک شُکل دشمی کو طہارت و نِیَم کے ساتھ آغاز، ایکادشی کو ضبطِ نفس اور مسلسل نارائن سمرن۔ برہمنوں کے ساتھ سوستی واچن اور نندی شرادھ کے بعد گایتری منتر سے دھوج اور ڈنڈ کا سنسکار؛ سورج، گرُڑ (وَینتیہ) اور چاند کی پوجا، اور دھوج ڈنڈ پر دھاتا و ودھاتا کی ارچنا۔ گِرہیہ اگنی قائم کر کے پُرش سُوکت، وِشنو ستوتر، اِراوتی وغیرہ کے ساتھ 108 پائَس آہوتیاں، گرُڑ اور سَور-شانتی کے خاص ہوم، پھر ہری کے سَنّیدھ میں رات بھر جاگرن۔ سنگیت و ستوتر کے ساتھ دھوج لے جا کر دروازے یا مندر کے شِکھر پر نصب کیا جاتا ہے، وِشنو پوجن اور طویل ستوتر پاٹھ ہوتا ہے۔ آخر میں گرو و برہمنوں کا سَتکار، بھوجن اور پارن؛ پھل شروتی میں جلد گناہوں کا زوال، دھوج قائم رہنے تک ہزاروں یُگوں کا سارُوپیہ، اور جو صرف دیکھ کر خوش ہوں اُنہیں بھی پُنّیہ لابھ بتایا گیا ہے۔
Dhvaja-Dhāraṇa Mahātmyam: Sumati–Satyamatī, Humility, and Deliverance by Hari’s Messengers
نارد سنک سے پوچھتے ہیں کہ دھوجا دھارن (بھگوان وِشنو کے لیے جھنڈا بلند کرنے) میں سُمتی کی برتری کی کیا وجہ ہے۔ سنک کِرت یُگ کی کہانی سناتے ہیں: ستپدویپ کے راجا سُمتی اور رانی ستیہ متی مثالی ویشنو حکمران ہیں—سچّے، مہمان نواز، اَہنکار سے پاک، ہری کتھا کے شیدائی، اَنّ و جل کے دان اور تالاب، باغ، کنویں جیسے عوامی کاموں میں سرگرم۔ سُمتی دوادشی کو وِشنو کی خوشنودی کے لیے خوش نما دھوجا چڑھاتا ہے۔ رِشی وِبھاندک آ کر راجا کی وِنَے (عاجزی) کی ستائش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وِنَے سے دھرم، ارتھ، کام اور موکش کی سِدھی ہوتی ہے۔ دھوجا دھارن اور مندر کے نرتیہ سے ان کا خاص رشتہ کیوں ہے—پوچھنے پر سُمتی پچھلے جنم کا قصہ بتاتا ہے: بڑے پاپ کے بعد جنگل میں ایک خستہ وِشنو مندر کے پاس رہتے ہوئے انجانے میں بھی مسلسل سیوا—مرمت، صفائی، پانی چھڑکنا، دیے جلانا؛ اور آخر میں مندر کے احاطے میں ناچ۔ تب یم دوتوں کے مقابل ہری کے دوت دلیل دیتے ہیں کہ ہری سیوا اور اتفاقی بھکتی بھی پاپ کو جلا دیتی ہے۔ جوڑے کو وِشنو لوک لے جایا جاتا ہے، پھر سمردھی کے ساتھ واپس آتے ہیں؛ اور باب اس پاپ ناشک کہانی کے شروَن و کیرتن کی فضیلت پر ختم ہوتا ہے۔
The Pañcarātra Vow (Haripañcaka Vrata): Observance from Śukla Ekādaśī to Pūrṇimā
سنک نارد کو نایاب ہری پنچک/پانچراتر ورت کی تعلیم دیتے ہیں—مارگشیِرش کے شُکل ایکادشی سے پُورنِما تک پانچ راتوں کا وِشنو ورت، جو دھرم، ارتھ، کام اور موکش دیتا ہے۔ ابتدا میں طہارت، دَنت دھاون و اسنان، دیو پوجا، پنچ مہایَجْن اور ایک وقت کھانے کا نِیَم؛ ایکادشی کو اُپواس، صبح سویرے اُٹھ کر گھر میں ہری پوجن اور پنچامرت ابھیشیک۔ گندھ-پُشپ-دھوپ-دیپ-نَیویدْی-تامبول وغیرہ اُپچار، پردکشنا، واسودیو/جناردن کو گیان پرadhan نمسکار؛ پانچ راتوں کے نِراہار سنکلپ کے ساتھ ایکادشی کی جاگرن اور دوادشی تا چتوردشی تک تسلسل۔ پُورنِما پر دودھ سے ابھیشیک، تل ہوم اور تل دان؛ چھٹے دن آشرم کرتویوں کے بعد پنچگَوْیَہ کا سیون، برہمنوں کو بھوجن، شہد و گھی والا پَیاس، پھل، خوشبودار جل کا کلش، پانچ رتنوں سمیت گھڑا وغیرہ دان، اور سالانہ چکر کے بعد اُدیापन۔ آخر میں عظیم پُنّیہ و موکش، اور بھکتی سے سننے پر بھی نجات کا پھل بیان ہوا ہے۔
Māsopavāsa (Month-long Fast) and Repeated Parāka Observances: Procedure and Fruits
سنک شُکل پکش میں آषاڑھ سے آشوِن تک کے چار مہینوں میں سے کسی ایک مہینے میں کیے جانے والے ‘گناہ نِشک’ ویشنو ورت کی विधی بیان کرتے ہیں۔ ورتی حواس پر ضبط رکھے، پنچ گویہ لے، وِشنو کے سَنِدھ میں سوئے، صبح اُٹھ کر نِتیہ کرم کرے اور غصّہ سے پاک ہو کر وِشنو کی پوجا کرے۔ ودوان برہمنوں کی موجودگی میں سوَستی واچن کر کے ماہ بھر کے اُپواس کا سنکلپ کرے اور کہے کہ پارن صرف پرَبھو کے آدیش سے ہوگا۔ ہری مندر میں قیام کر کے روزانہ پنچامرت سے دیوتا کا اسنان، اکھنڈ دیپ جلانا، اپامارگ سے دنت دھاون و ودھی اسنان، پوجن، برہمن بھوجن دکشنہ سمیت کرے اور رشتہ داروں کے ساتھ نِیَمِت آہار لے۔ پھر بار بار ماسوپواس/پراک کے انُشٹھان کی تعداد کے مطابق بڑھتے ہوئے پھل بیان ہیں جو بڑے ویدک یَگیوں سے بھی بڑھ کر ہیں اور آخرکار ہری سادِرشْی اور پرمانند دیتے ہیں۔ عورتوں اور مردوں، سب آشرموں کے لیے، نیز نارائن بھکتی سے اس اُپدیش کے سننے یا پڑھنے سے بھی موکش سُلبھ بتایا گیا ہے۔
Ekādaśī Vrata-Vidhi and the Galava–Bhadrashīla Itihāsa (Dharmakīrti before Yama)
سنک ایکادشی کو سب کے لیے قابلِ عمل وشنو-بھکتی کا ورت بتاتے ہیں۔ وہ اسے سب سے زیادہ پُنیہ تِتھی قرار دے کر گیارہویں دن مکمل اُپواس، اور دشمی و دوادشی کو ایک وقت کا بھوجن—یوں تین دن کا ضابطہ بیان کرتے ہیں۔ اس میں اسنان، وشنو پوجا، منتر-سنکلپ، رات بھر جاگرن میں کیرتن اور پران شروَن، پھر دوادشی کو پوجا کے بعد برہمنوں کو بھوجن کرانا اور دکشنا دینا، اور اس کے بعد ضبطِ کلام کے ساتھ کھانا شامل ہے۔ کُسنگ اور دَنبھ سے بچ کر باطنی پاکیزگی پر زور دیا گیا ہے۔ پھر ایک اتہاس میں گالَو رشی کا بیٹا بھدرشیلا اپنے پچھلے جنم کے راجا دھرمکیرتی کی کہانی سناتا ہے—ریوا کے کنارے اتفاقاً ایکادشی کا اُپواس و جاگرن ہو جانے پر چترگپت اسے گناہوں سے مُبرّا قرار دیتا ہے؛ یم اپنے دوتوں کو نارائن بھکتوں سے دور رہنے کا حکم دیتا ہے—یوں ایکادشی اور نام-سمرن کی نجات بخش قوت ظاہر ہوتی ہے۔
Varṇāśrama-ācāra: Common Virtues, Varṇa Duties, and the Four Āśramas
سوت بیان کرتے ہیں کہ سنک کے ہری کے مقدّس ورت-دن کے سابقہ اُپدیش کے بعد نارَد نے سب سے زیادہ ثواب والے ورت کی ترتیب وار تفصیل پوچھی، پھر ورن کے قواعد، آشرم کے فرائض اور پرایَشچِتّ کے طریقوں کے بارے میں بھی سوال بڑھایا۔ سنک نے جواب دیا کہ اَبدی و اَکشَی ہری کی پوجا ورن-آشرم کے مطابق آچرن سے ہوتی ہے۔ وہ چاروں ورنوں اور اُپنَین سے قائم تین دْوِج گروہوں کی تعریف کرتے ہیں؛ اپنے سْوَدھرم اور گِرہْیَ کرموں میں استقامت پر زور دیتے ہیں؛ اور سمِرتی کے خلاف نہ ہو تو دیس آچار کو جائز مانتے ہیں۔ کلی یُگ میں بعض ممنوع یا محدود اعمال، کچھ یَجْن اور استثنائی وِدھیوں کا ذکر کر کے سْوَدھرم چھوڑنے سے پाखنڈ میں گرنے کی تنبیہ کرتے ہیں۔ پھر برہمن، کشتریہ، ویشیہ اور شودر کے فرائض، اور عام اوصاف—سادگی، شادمانی، برداشت، انکساری—بیان کر کے آشرم-کرم کو اعلیٰ دھرم کا وسیلہ بتاتے ہیں۔ آخر میں وشنو بھکتی سے یُکت کرم یوگ کو عدمِ بازگشت والے پرم دھام تک پہنچنے کا راستہ قرار دیتے ہیں۔
Varṇāśrama Saṁskāras, Upanayana Windows, Brahmacārin Ācāra, and Anadhyāya Prohibitions
سنک نارَد سے ویدک ورن آشرم آچار بیان کرتے ہیں—پردھرم کی مذمت، گربھادھان سے شروع ہونے والے سنسکار، حمل و ولادت کے کرم (سیمَنت، جاتکرم، ناندی/وردھی شرادھ)، نامकरण کے اصول، اور چوڑاکرن کا وقت نیز کوتاہی پر پرایشچت۔ وہ ورن کے مطابق اُپنَین کی عمر، مقررہ بنیادی مدت چھوٹ جائے تو سزائیں، اور میکھلا، اجِن، ڈنڈا اور لباس وغیرہ کی درست علامتیں بتاتے ہیں۔ پھر برہماچاریہ—گروکل میں رہائش، بھکشا پر گزارہ، نِتّیہ سوادھیائے، برہمیَجْیَ اور ترپن، غذا کی پابندیاں، سلام و آداب کی مراتب اور کن کا احترام/کن سے اجتناب—یہ سب مقرر ہے۔ آخر میں شُبھ اَشُبھ اوقات، دان پھل دینے والی تِتھیاں (منوادِی، یُگادِی، اَکشَے دن) اور اَنَڌیائے کے قواعد؛ ممنوعہ وقت میں مطالعہ کو فلاح برباد کرنے والا مہاپاپ کہا گیا ہے۔ انجام میں ویدادھیاین کو برہمن کا لازمی راستہ اور وید کو وِشنو-سوروپ شبد-برہمن قرار دیا گیا ہے۔
Gṛhastha-praveśa: Vivāha-bheda, Ācāra-śauca, Śrāddha-kāla, and Vaiṣṇava-lakṣaṇa
سَنَک–نارد کے تعلیمی مکالمے میں برہ्मچریہ کی تکمیل کے بعد گرو-سیوا، اجازت، اگنی کی स्थापना، دکشِنا اور نکاح/ویواہ کے ذریعے گِرہستھ آشرم میں داخلے کا بیان ہے۔ مناسب دلہن/دولہا کے اوصاف، سگوتر اور قریبی رشتے کی حدود، اور نااہل بنانے والی علامتیں بتائی گئی ہیں۔ ویواہ کی آٹھ اقسام گنوا کر بعض کی مذمت اور بعض کی درجہ بہ درجہ اجازت کا ذکر ہے۔ بیرونی و باطنی آچار—لباس، طہارت، گفتار پر ضبط، گرو کا احترام، بدگوئی اور بُری صحبت سے پرہیز—مقرر ہے؛ ناپاک تماس کے بعد تطہیری غسل اور نیک/بد شگون کی نشانیاں بھی بیان ہیں۔ سندھیا پوجا، نِتیہ و نیمِتّک یَجْن اور شرادھ کے اوقات—گرہن، سنکرانتی، پریت پکش، منوادِی، اشٹکا، تیرتھ کے مواقع—تفصیل سے مقرر کیے گئے ہیں۔ اختتام پر ویشنو بھاؤ نمایاں ہے: اُردھوا پُنڈْر کے بغیر کرم بےثمر، شرادھ میں تُلسی/تلک کی ممانعت بے بنیاد رسم، اور وِشنو کی کرپا ہی دھرم کی کامیابی کی ضمانت ہے۔
Gṛhastha-nitya-karman: Śauca, Sandhyā-vidhi, Pañca-yajña, and Āśrama-krama
سنک نارد کو برہ्म مُہورت سے گِرہستھ کے نِتیہ دھرم کی تعلیم دیتے ہیں—قضائے حاجت میں سمت کا ضابطہ اور ضبطِ نفس، ممنوع مقامات، اور باہری و باطنی شَوچ کا اصول۔ مٹی اور پانی سے طہارت، قابلِ قبول مٹی کے مصادر، صفائی کے مرحلہ وار اعداد، آشرم کے لحاظ سے اضافہ، بیماری/آفت میں رخصت اور عورتوں کے سیاق کے احکام بیان ہوتے ہیں۔ پھر آچمن کے لمس کے قواعد، دَنت دھاون کے لیے داتن کا انتخاب منتر سمیت، ندیوں/تیرتھوں/موکش دینے والے شہروں کے آہوان کے ساتھ اسنان، اور سندھیا کی لِترجی—سنکلپ، ویاہرتی پروکشن، نیاس، پرانایام، مارجن، اَگھمرشن، سورج کو اَرگھ، اور گایتری/ساوتری/سرسوتی دھیان۔ سندھیا کی غفلت کا دَوش، آشرم کے مطابق اسنان کی تعداد، برہمیَجْن، ویشودیو، اَتِتھی ستکار اور پنچ مہایَجْنوں کا وِدھان آتا ہے۔ آخر میں وانپرستھ کی تپسیا، یتی آچار، نارائن مرکز ویدانت دھیان اور وشنو کے پرم دھام کی پرتیگیا بیان کی گئی ہے۔
Śrāddha-prayoga: Niyama, Brāhmaṇa-parīkṣā, Kutapa-kāla, Tithi-nyāya, and Vaiṣṇava-phala
سنک نارَد کو شِرادھ کی ‘اعلیٰ ترین طریقۂ کار’ سکھاتے ہیں۔ باب میں پہلے دن کی پابندیاں—ایک وقت کھانا، برہماچریہ، زمین پر سونا، سفر/غصہ/جماع سے پرہیز—اور مدعو افراد کے ضبطِ نفس توڑنے پر سخت گناہ کی وعید بیان ہوتی ہے۔ پھر موزوں برہمن کی صفات—شروتریہ، وِشنو بھکت، سمرتی و ویدانت کا ماہر، رحم دل—اور نااہلیاں—جسمانی عیب، ناپاک روزگار، بدکرداری، وید/منتر کی خرید و فروخت وغیرہ۔ کُتپ کال اپراہن میں مقرر ہے؛ کَشیہاہ، وِدّھا، کَشیہ/وِردھی تِتھی اور پرا-تِتھی کے فیصلے کے قواعد تفصیل سے آتے ہیں۔ آگے عمل—وشویدیَو اور پِترُوں کی دعوت، منڈل کی شکلیں، پادْی/آچمنیہ، تل چھڑکنا، ارغیہ کے برتن، منتر کے اشارے، پوجا، ہویس ہوم (آگ نہ ہو تو تال-ہوم)، خاموشی کے ساتھ بھوجن، گایتری جپ کی تعداد، پُرُش سوکت/تری مدھو/تری سپرن/پاومانا پاٹھ، پِنڈ دان، سوستی واچن، اکشَیّ اُدک، دکشنا اور وسرجن منتر۔ اختتام پر ہنگامی متبادل اور ویشنوی نتیجہ—سب کچھ وِشنو سے معمور ہے؛ درست شِرادھ گناہ مٹاتا اور نسل کو فروغ دیتا ہے۔
Tithi-Nirṇaya for Vratas: Ekādaśī Rules, Saṅkrānti Punya-kāla, Eclipse Observances, and Prāyaścitta
سنک رشیوں کو بتاتے ہیں کہ شروت/سمارت کرم، ورت اور دان میں درست تِتھی کا تعیّن نہایت ضروری ہے۔ وہ روزہ کے لائق تِتھیاں بیان کرکے پروِدھا‑پوروِدھا، پوروَاہن‑اپرَاہن، پردوش کال اور کَشَیَہ‑وِردھی تِتھی کے مطابق قبولیت کے قواعد سمجھاتے ہیں۔ تِتھی‑نکشتر پر مبنی ورتوں کا فیصلہ، خصوصاً ایکادشی‑دوادشی کے ٹکراؤ میں دشمی دوش، دوہری ایکادشی، پارن کا وقت، اور گِرہستھ‑سنیاسی فرق تفصیل سے آتا ہے۔ پھر گرہن کے آداب میں کھانے کی ممانعت، گرہن بھر جپ‑ہوم، اور قمری/شمسی گرہن کے لیے جدا جدا ویدک منتروں سے آہوتی کا وِدھان بتایا گیا ہے۔ سنکرانتی کے پُنّیہ کال کی مدت برجوں کے حساب سے گھٹیکاؤں میں ناپی گئی ہے؛ کرکٹ میں دکشناین اور مکر میں اتراین کا ذکر ہے۔ آخر میں کہا گیا ہے کہ ضابطے کے ساتھ دھرم پر چلنا کیشو کو راضی کرتا ہے اور وشنو کے پرم دھام تک لے جاتا ہے۔
Prāyaścitta for Mahāpātakas and the Sin-destroying Power of Viṣṇu-smaraṇa
سنک نارَد کو بتاتے ہیں کہ پرایَشچِتّ رسومات کی ناگزیر تکمیل ہے—پرایَشچِتّ کے بغیر اعمال بےثمر ہیں، اور حقیقی پاکیزگی نارائن کی طرف رُخ رکھنے سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ اس باب میں چار مہاپاتک—برہمن ہتیا، سُراپان، سُورن استَیَہ (سونے کی چوری) اور گُرو-تلپ گمن—بیان کیے گئے ہیں؛ ایسے مجرموں کی صحبت کو بھی پانچواں عیب کہا گیا ہے، اور ہم بستری کی مدت کے مطابق سقوط کی درجے بندی کی گئی ہے۔ برہمن وغیرہ کے قتل کے کفّارے میں کَپال دھارن تپسیا، تیرتھ واس، بھکشا، سندھیا اُپاسنا اور کئی برس کے ورت شامل ہیں؛ شاہی سزا کے اصول اور عورت، بچے اور مریض کے لیے تخفیف بھی مذکور ہے۔ سُرا کے انواع، برتن، دوائی کے طور پر استثنا اور چاندْرایَن کے ذریعے دوبارہ دیक्षा کا حکم آتا ہے۔ چوری کے پرایَشچِتّ میں سونا-چاندی کی قیمت، تْرَسَرَےنُو سے سُورن تک باریک پیمانے، اور پرانایام و گایتری جپ کی حدیں مقرر ہیں۔ ناجائز جنسی تعلق، حیوانی ہنسا، اَشَौچ کا لمس، اور کھانے و گفتار کی ممانعتیں بھی بیان ہوتی ہیں۔ اختتام پر موکش دھرم کے طور پر ہری بھکتی اور وِشنو سمرن کی عظمت—کہ ایک بار کا سمرن بھی گناہوں کے انبار مٹا کر دھرم-ارتھ-کام-موکش کا پھل دیتا ہے—واضح کی گئی ہے۔
Yamapatha (The Road of Yama), Dāna-Phala, and the Imperishable Fruition of Karma
نارد سنک سے یم کے زیرِ اختیار مرنے کے بعد کے نہایت دشوار راستے کی وضاحت چاہتا ہے۔ سنک نیکوکاروں—خصوصاً دان کرنے والوں—کی آسان گزرگاہ اور گناہگاروں کی طویل مسافت، سخت زمین، پیاس، یم دوتوں کی مار، باندھ کر گھسیٹنے جیسی ہولناک اذیتیں بیان کرتا ہے۔ پھر دھرمک زندگی کی تسلی اور جزا بتاتا ہے: اناج، پانی، دودھ-گھی، چراغ، کپڑا، دولت کا دان اسی کے مطابق بھوگ و خوشحالی دیتا ہے؛ گائے، زمین، گھر، سواری، جانور وغیرہ کے مہادان سے سوَرگی شان اور دیویہ واهن ملتے ہیں؛ ماں باپ و رشیوں کی سیوا، کرُونا، گیان-دان اور پران پاتھ سے سفر بلند ہوتا ہے۔ یم پُنّیہ والوں کو دیویہ روپ میں عزت دیتا اور باقی گناہ سے خبردار کرتا ہے؛ گناہگار چترگپت کے حساب سے پرکھے جا کر نرکوں میں ڈالے جاتے ہیں، اور پرایشچت کے بعد جماد (ساکن) یونی میں جنم بھی ہو سکتا ہے۔ آخر میں پرلے میں پُنّیہ کیسے قائم رہتا ہے—اس شبہے کو سنک نارائن کی اَویَی (لازوال) حقیقت، گُنوں کے مطابق برہما-وشنو-رُدر روپ ظہور، کائنات کی ازسرِنو سِرجنا، اور نہ بھوگا ہوا کرم کلپوں تک نہ مٹنے کی تعلیم سے دور کرتا ہے۔
Saṃsāra-duḥkha: Karmic Descent, Garbhavāsa, Life’s Anxieties, Death, and the Call to Jñāna-Bhakti
سنک نارَد کو بندھن کی حقیقت سمجھاتے ہیں—جیو پُنّیہ لوکوں کا بھوگ کرکے پاپ کے دُکھد پھل سے گرتے ہیں اور سَتاوَر (درخت، گھاس، پہاڑ) سے لے کر کیڑے، پھر جانوروں کی یونیوں میں بھٹکتے ہوئے آخرکار انسانی جنم پاتے ہیں۔ نباتاتی بڑھوتری کی تمثیل سے بتایا گیا ہے کہ سنسکار جسم کے ظہور اور پھل کے بھوگ کو کیسے متعین کرتے ہیں۔ پھر گربھواس کی تفصیل آتی ہے—شُکر کے ساتھ جیو کا پرَوِیش، کلل وغیرہ بھروُن مراحل، گربھ کی یاتنا اور پچھلے نرکوں کی یاد؛ جنم کو پُرتشدد اور بھول کو اَگیان کا نتیجہ کہا گیا ہے۔ آگے بےبس شیرخوارگی، بےضبط بچپن، لالچ و کام سے بھرا جوانی کا دور، فکرمند گھریلو زندگی، بڑھاپا اور موت، یم دوتوں کی گرفت اور پھر نرک کا تجربہ۔ انجام میں دُکھ کو کرم-کشیہ کے ذریعے پاکیزگی کا سبب بتا کر علاج یہ بتایا گیا ہے کہ پرم گیان کی سادھنا اور جگت کے کارن و لَے سوروپ ہری/نارائن کی بھکتی و پوجا ہی سنسار سے مکتی کا سیدھا راستہ ہے۔
Mokṣopāya: Bhakti-rooted Jñāna and the Aṣṭāṅga Yoga of Viṣṇu-Meditation
نارد سنک سے پوچھتے ہیں کہ جب جیو لگاتار کرم کرتا اور اس کا پھل بھوگتا رہتا ہے تو سنسار کی رسی کیسے کٹے۔ سنک نارد کی پاکیزگی کی ستائش کر کے وشنو/نارائن کو سृष्टि-ستھتی-پرلَے کا کرتا اور موکش دینے والا بتاتے ہیں—بھکتی، شرن آگتی اور دیویہ روپوں کی اُپاسنا کے طور پر بھی، اور حقیقت میں اَدویت، خود روشن برہمن کے طور پر بھی۔ پھر نارد یوگ سدھی کا سبب پوچھتے ہیں۔ سنک سکھاتے ہیں کہ مکتی گیان سے ہے، مگر گیان کی جڑ بھکتی ہے؛ دان، یَجْیَ، تیرتھ وغیرہ پُنّیہ کرموں سے بھکتی اُپجتی ہے۔ یوگ دو طرح کا ہے—کرم یوگ اور گیان یوگ؛ گیان یوگ کے لیے شُدھ کرم کی بنیاد ضروری ہے، کیشو کی پرتِما پوجا اور اہنسا پر مبنی آچار پر زور دیا گیا ہے۔ پاپوں کے کَھتم ہونے پر نِتّیہ-اَنِتّیہ وِویک سے ویراغ اور مُمُکشُتوا جاگتا ہے۔ پر/اَپر آتما، کشتْر-کشتْرَجْن، مایا اور شبد-برہمن (مہاواکْیہ) کو مکتی بخش بصیرت کے محرک بتایا گیا ہے۔ آخر میں اشٹانگ یوگ—یم، نیم، آسن، پرانایام (ناڑیاں اور چار طرح کی سانس)، پرتیاہار، دھارنا، دھیان، سمادھی—کی تفصیل دے کر وشنو روپ دھیان اور پرنَو ‘اوم’ کے چنتن کو اعلیٰ سادھنا کہا گیا ہے۔
The Characteristics of Devotion to Hari
نارد سنک سے پوچھتے ہیں کہ یوگ کے اَنگ سکھانے کے بعد بھی پرمیشور کیسے راضی ہوتا ہے۔ سنک جواب دیتے ہیں کہ نارائن کی یکسو عبادت سے ہی موکش ملتا ہے؛ بھکت دشمنی اور آفتوں سے محفوظ رہتے ہیں، اور حواس وشنو کے درشن، پوجا اور نام سیوا میں لگ کر بامعنی ہو جاتے ہیں۔ وہ گرو اور کیشو کی برتری بار بار بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بے ثبات سنسار میں ہری اُپاسنا ہی واحد قائم حقیقت ہے۔ اہنسا، ستیہ، استیہ، برہماچریہ، اپریگرہ، عاجزی، کرُونا، ستسنگ اور مسلسل نام جپ کے ساتھ جاگرت–سُوپن–سُشُپتی کے وچار سے پرماتما کو اُپادھیوں سے پرے اندر یامی نِیَنتا بتاتے ہیں۔ زندگی کی کمی کو دیکھ کر فوراً بھکتی کی تاکید کرتے ہیں، غرور، حسد، غصہ اور خواہش کی مذمت کرتے ہیں، وشنو مندر کی سیوا (صفائی تک) کی تعریف کرتے ہیں، اور بھکتی کو سماجی درجوں سے بالا ثابت کرتے ہیں۔ آخر میں جناردن کا سمرن، پوجن اور شرناغتی سنسار کے بندھن کاٹ کر پرم دھام تک پہنچاتی ہے۔
The Exposition of Spiritual Knowledge (Jñāna-pradarśanam)
سنک وِشنو کی عظمت کے شروَن/کیرتن کی فوری پاپ-ناشک قوت کی ستائش کرتے ہیں اور عبادت گزاروں کی اہلیت کے مطابق فرق بتاتے ہیں—پُرسکون لوگ چھ باطنی دشمنوں کو جیت کر گیان-یوگ سے اَکشر تک پہنچتے ہیں، شُدھ کرم والے کرم-یوگ سے اَچُیُت کو پاتے ہیں، اور لالچ و موہ میں ڈوبے لوگ پروردگار کو نظرانداز کرتے ہیں۔ پھر اَشوَمیدھ کے برابر پُنّیہ دینے والی قدیم کہانی آتی ہے—ویدمالی نامی وید-پارانگت ہری بھکت خاندانی لالچ میں آ کر ناروا تجارت میں پڑتا ہے؛ ممنوعہ اشیا، شراب، حتیٰ کہ ورت بھی بیچتا اور ناپاک دان قبول کرتا ہے۔ امید کی نہ ختم ہونے والی پیاس دیکھ کر وہ ویراغ اختیار کرتا، دولت بانٹتا، عوامی بھلائی کے کام اور مندر تعمیر کراتا اور نر-نارائن کے آشرم جاتا ہے۔ وہاں نورانی مُنی جاننتی سے مل کر مہمان نوازی پاتا اور موکش دینے والا گیان مانگتا ہے۔ جاننتی مسلسل وِشنو-سمرن، بدگوئی سے پرہیز، کرُونا، چھ عیوب کا ترک، اَتِتھی-ستکار، نِشکام پھول-پتّہ پوجا، دیو-رِشی-پِتر ترپن، اگنی سیوا، مندر کی صفائی/مرمت/دیپ دان، پردکشنا و ستوتر، اور روزانہ پران و ویدانت کے مطالعے کی تلقین کرتے ہیں۔ ‘میں کون ہوں؟’ کا جواب من سے پیدا ہونے والے اَہنکار، نِرگُن آتما اور ‘تَت تْوَم اَسی’ مہاواکْیہ کی تعلیم سے برہمن کے ساکشاتکار تک پہنچتا ہے؛ وارانسی میں آخری مکتی ملتی ہے۔ پھل شروتی میں شروَن و پاٹھ کو کرم بندھن کاٹنے والا کہا گیا ہے۔
Yajñamālī–Sumālī Upākhyāna: Merit-Transfer through Temple Plastering (Lepa) and the Redemption of a Sinner
سنک نارَد کو ویدمالا کے دو برہمن بھائیوں—یَجْنمالی اور سُمالی—کی متضاد زندگیاں سناتے ہیں۔ یَجْنمالی وراثت انصاف سے بانٹ کر دان و دھرم کرتا، باپ کے عوامی فلاحی کام سنبھالتا اور وِشنو کے مندر کی سیوا کرتا ہے؛ سُمالی موسیقی، شراب، طوائفوں کی صحبت، پرستری گمن وغیرہ میں دولت اڑاتا، پھر چوری اور ممنوعہ غذا تک گر جاتا ہے۔ دونوں ایک ہی وقت میں مرتے ہیں تو یَجْنمالی کو وِشنودوت وِمان میں وِشنولोक لے جاتے ہیں؛ راستے میں وہ سُمالی کو یمدوتوں کے ہاتھوں بھوک پیاس سے تڑپتے پریت کی طرح گھسیٹتے دیکھتا ہے۔ رحم کھا کر وہ دوستی کے دھرم (سپتپدی) کو یاد کر کے پوچھتا ہے کہ ایسے گناہوں سے لدے شخص کی نجات کیسے ہو۔ وِشنودوت بتاتے ہیں کہ پچھلے جنم میں یَجْنمالی نے ہری کے مندر میں کیچڑ ہٹا کر لیپ (پلستر) کے لائق جگہ بنائی تھی؛ اس لیپ-کرم کا پُنّیہ دوسرے کو دیا جا سکتا ہے۔ یَجْنمالی وہ پُنّیہ سُمالی کو منتقل کرتا ہے؛ یمدوت بھاگ جاتے ہیں، دیویہ رتھ آتا ہے اور دونوں وِشنولोक پہنچتے ہیں۔ یَجْنمالی کو نهایی موکش ملتا ہے؛ سُمالی بعد میں زمین پر لوٹ کر ہری بھکت نیک برہمن بنتا، گنگا اسنان کرتا، وشویشور کے درشن پاتا اور پرم دھام کو پہنچتا ہے۔ آخر میں بتایا گیا ہے کہ وِشنو بھکتی، ہری بھکتوں کی سنگت اور ہری نام بڑے سے بڑے پاپ بھی مٹا دیتے ہیں۔
Hari-nāma Mahimā and Caraṇāmṛta: The Redemption of the Hunter Gulika (Uttaṅka Itihāsa)
سنک کملापتی/وشنو کی عظمت بیان کرتے ہیں کہ حواس کے موضوعات اور مملکتِ مَمَتا کے فریب میں پڑے لوگوں کے گناہ ہری کے ایک ہی نام سے مٹ جاتے ہیں۔ وہ واضح حدیں قائم کرتے ہیں: ہری پوجا سے خالی گھر شمشان کے مانند ہے؛ وید سے دشمنی اور گائے و برہمنوں سے نفرت راکشسی خصلت ہے؛ بد نیتی سے کی گئی پوجا خود تباہی کا سبب بنتی ہے؛ سچے بھکت لوک-ہت کے لیے جیتے ہیں اور ‘وشنومَی’ ہوتے ہیں۔ پھر کِرت یُگ کا قدیم اِتیہاس آتا ہے—ظالم گنہگار گُلِکا کیشو کے مندر کو لوٹنے چلتا ہے اور ویشنو مُنی اُتّنگ پر حملہ کرتا ہے۔ اُتّنگ اسے روک کر برداشت، مَمَتا کی بے ثباتی اور دَیو (تقدیر) کی ناگزیریت پر دھرم-وچن دیتا ہے، اور بتاتا ہے کہ موت کے بعد صرف دھرم/ادھرم ہی ساتھ جاتے ہیں۔ ستسنگ اور ہری کی قربت سے گُلِکا نادم ہو کر گناہ اقرار کرتا ہے اور مر جاتا ہے؛ وشنو کے پاد-پرکشالن جل/چرن امرت سے وہ پھر زندہ اور پاک ہو جاتا ہے۔ گناہوں سے آزاد ہو کر وہ وشنو دھام پہنچتا ہے، اور اُتّنگ مہاوشنو کی ستوتی کر کے بھکتی-مرکوز موکش دھرم کی تعلیم مکمل کرتا ہے۔
The Greatness of Viṣṇu (Uttaṅka’s Hymn, Hari’s Manifestation, and the Boon of Bhakti)
نارد سنک سے پوچھتے ہیں کہ وہ کون سا स्तوتر تھا جس سے جناردن خوش ہوئے اور اتنک کو کیا वर ملا۔ سنک بیان کرتے ہیں کہ ہری بھکت اتنک، بھگوان کے پادودک (چرن امرت) کی پاکیزگی سے متاثر ہو کر طویل स्तوتر پڑھتا ہے؛ اس میں وشنو کو آدی کارن، اندر آتما، مایا و گُنوں سے ماورا پرم سچّائی اور جگت کے آدھار کے طور پر सर्वव्यاپی کہا گیا ہے۔ اس کی کامل شरणागتی سے لکشمی پتی ساکشات ظاہر ہوتے ہیں؛ اتنک ساشٹانگ پرنام کر کے روتا ہے اور پربھو کے چرن دھو کر س্নان کراتا ہے۔ وشنو वर دیتے ہیں تو اتنک سب جنموں میں اٹل بھکتی ہی مانگتا ہے۔ بھگوان یہ वर عطا کرتے ہیں، شنکھ کے لمس سے نایاب دیویہ گیان دیتے ہیں اور کریا-یوگ سے پوجا کر کے نر-نارائن کے دھام میں جا کر موکش پانے کی ہدایت کرتے ہیں۔ آخر میں फलश्रuti ہے کہ اس کا پڑھنا/سننا گناہ مٹاتا، مرادیں پوری کرتا اور انجامِ کار موکش دیتا ہے۔
The Greatness of Viṣṇu (Viṣṇor Māhātmya)
سنک برہمنوں کو بتاتے ہیں کہ ہری-کتھا، ہری-نام اور بھکتوں کی سنگت نجات دینے والی عظیم قوت ہیں۔ جو نام-کیرتن میں ثابت قدم ہوں، اُن کی ظاہری روش جیسی بھی ہو وہ قابلِ تعظیم ہیں؛ گووند کا دیدار، یاد، پوجا، دھیان اور نمسکار بھی سنسار کے سمندر سے پار اتارتا ہے۔ پھر ایک قدیم حکایت آتی ہے—چندرونشی راجا جے دھوج رِیوا/نرمدا کے کنارے وشنو مندر کی صفائی اور دیپ دان کرتا ہے؛ پُروہت ویتی ہوترا اِن دونوں اعمال کے خاص پھل کے بارے میں پوچھتا ہے۔ راجا پچھلے جنموں کی کڑی سناتا ہے: عالم مگر گرا ہوا برہمن رَیوتا ممنوعہ ذریعۂ معاش میں پڑ کر ذلت سے مرتا ہے اور پاپی چنڈال دَنڈکیتو بن کر جنم لیتا ہے۔ وہ رات کو ایک عورت کے ساتھ خالی وشنو مندر میں جاتا ہے؛ اتفاقاً صفائی کے کام سے اس کا واسطہ پڑتا ہے اور ایک چراغ بھی رکھ دیا جاتا ہے۔ نیت پاک نہ ہونے پر بھی گناہ کٹ جاتے ہیں؛ پہرے دار انہیں مار دیتے ہیں مگر وشنو کے دوت انہیں وشنولوک لے جاتے ہیں، طویل زمانوں کے بعد وہ زمین پر خوشحالی پاتے ہیں۔ جے دھوج نتیجہ نکالتا ہے کہ ارادے کے ساتھ بھکتی کا پھل بے حد ہے؛ جگن ناتھ/نارائن کی پوجا، ست سنگ، تلسی سیوا، شالگرام ارچنا اور اُن بھکتوں کی تعظیم کی تلقین کرتا ہے جن کی سیوا کئی نسلوں کو سنوارتی ہے۔
Manvantaras and Indras; Sudharmā’s Liberation through Viṣṇu-Pradakṣiṇā; Supremacy of Hari-Bhakti
سنک ایک ایسی ویشنو ستوتی کا ذکر کرتے ہیں جسے سننے اور کیرتن کرنے سے گناہ نَشٹ ہوتے ہیں۔ قدیم مکالمے میں اندر دیوی لذتوں کے درمیان برہسپتی سے پچھلے برہما-کلپ کی سृष्टی، اور اندر و دیوتاؤں کی حقیقی ماہیت اور فرائض پوچھتا ہے۔ برہسپتی اپنی علم کی حد بتا کر اسے اندرپوری میں برہملوک سے اُترے ہوئے سُدھرمہ کے پاس بھیجتے ہیں۔ سُدھرمہ کی سبھا میں اندر کلپ کا حال اور سُدھرمہ کی برتری کا سبب دریافت کرتا ہے۔ سُدھرمہ برہما کے ایک دن (1000 چتُریُگ) کی توضیح کر کے چودہ منو، اُن کے اندر اور مختلف دیوگنوں کو منونتر کے حساب سے بیان کرتا ہے، اور کائناتی نظمِ حکومت کی تکراری ساخت واضح کرتا ہے۔ پھر وہ اپنا پچھلا جنم سناتا ہے—وہ ایک گناہگار گِدھ تھا جو وِشنو مندر کے پاس مارا گیا؛ ایک کتے نے اسے اٹھا کر مندر کے گرد گھمایا، یوں بے ارادہ پردکشنا ہوئی اور دونوں کو پرم پد ملا۔ آخر میں بھکتی-فل بتایا گیا ہے—محض ظاہری پردکشنا بھی بڑا پُنّیہ دیتی ہے؛ نارائن کی یاد و پوجا گناہ مٹاتی، جنم-مرن ختم کرتی اور وشنو دھام عطا کرتی ہے؛ اس اُپدیش کا سننا/پڑھنا اشومیدھ کے برابر پھل دیتا ہے۔
Yuga-Dharma Framework, Kali-Yuga Diagnosis, and the Hari-Nāma Remedy (Transition to Vedānta Inquiry)
نارد سنک سے یُگوں کی پہچان، مدت اور عملی ضابطے پوچھتے ہیں۔ سنک سندھیا–سندھیاांश سمیت چتُریُگ کی ساخت بیان کرکے کِرت سے کَلی تک دھرم کے بتدریج زوال، یُگ کے مطابق ہری کے رنگ، اور دوَاپر میں وید کی تقسیم کا ذکر کرتے ہیں۔ پھر کَلی یُگ کی واضح تصویر آتی ہے—ورت و یَگّیہ کا مٹ جانا، ورن آشرموں میں ریاکاری، سیاسی ظلم، سماجی کرداروں کی گڑبڑ، قحط و بےبارانی، اور پाखنڈ و فریب کا پھیلاؤ۔ اس کے باوجود سنک کہتے ہیں کہ ہری بھکت کو کَلی نقصان نہیں پہنچا سکتا، اور یُگ دھرم کے اہم سادن بتاتے ہیں؛ کَلی میں دان اور خصوصاً ہری نام سنکیرتن کو سب سے بڑا علاج قرار دیتے ہیں۔ ہری (اور شِو) کے ناموں کی لِتانیاں حفاظت اور موکش دینے والی بتائی گئی ہیں۔ آخر میں گفتگو یُگ دھرم سے موکش دھرم کی طرف مڑتی ہے—نارد برہمن کی مثال چاہتے ہیں، سنک انہیں سنندن کے پاس بھیجتے ہیں، اور ویدانتی تحقیقِ نجات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔