Purvabhaga
मङ्गलाचरणम्, तीर्थ-परिसरः, सूतागमनम् — Invocation, Sacred Setting, and the Arrival of Sūta
باب 1 کا آغاز وِیاس کے منگل آچرن اور شِو ستوتی سے ہوتا ہے۔ وہ شِو کو سوم-روپ، گنوں کے ادھیپتی، پُتر سمیت پِتا، اور پرَधान–پُرُش کے سوامی—سِرشٹی، ستھِتی اور پرَلَے کے کارن—کے طور پر نمن کرتے ہیں۔ پھر شِو کی صفات—بے مثال شکتی، ہمہ گیر ایشوریہ، سوامِتو اور وِبھوتو—بیان ہو کر اَج، نِتیہ، اَوِیَے مہادیو کی شَرَناگتی کی جاتی ہے۔ اس کے بعد منظر دھرم-کشیتر اور تیرتھوں کی طرف منتقل ہوتا ہے—گنگا–کالِندی سنگم اور پریاگ وغیرہ میں—جہاں نِیَم پرائن رِشی مہان سَتر کر رہے ہیں۔ اس اجتماع کی خبر سن کر وِیاس پرمپرا سے وابستہ مشہور سوت، جو آکھ्यान، کال، نِیتی اور کاویہ-گفتگو میں ماہر ہے، وہاں پہنچتا ہے۔ رِشی اسے احترام کے ساتھ مہمان نوازی اور باقاعدہ اعزاز دیتے ہیں؛ یوں آگے کے مکالمے کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔
परस्य दुर्निर्णयः—षट्कुलीयमुनिविवादः तथा ब्रह्मदर्शनार्थं मेरुप्रयाणम् | The Dispute of the Six-Lineage Sages on the Supreme and Their Journey to Brahmā at Meru
اس ادھیائے میں سوت جی کلپ چکر میں سृष्टی کے آغاز کا پس منظر قائم کرتے ہیں۔ ‘شٹکُلیہ’ رشی ‘پرم’ یعنی اعلیٰ ترین حقیقت کیا ہے—اس پر طویل مناظرہ کرتے ہیں؛ ہر ایک جدا امیدوار پیش کرتا ہے، مگر چونکہ پرم تتّو دُرنِروپیہ (متعین کرنا دشوار) ہے اس لیے قطعی فیصلہ نہیں ہو پاتا۔ پھر اس الجھن کے حل کے لیے وہ دیووں اور دانَووں کی ستوتی کے درمیان متمکن، ابدی قانون کے مقرر کرنے والے برہما کے درشن کی خاطر مَیرو پربت کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ مَیرو کی مبارک چوٹی دیوتاؤں، دانَووں، سدھوں، چارنوں، یکشوں اور گندھرووں سے آباد، جواہرات، باغات، غاروں اور آبشاروں سے مزین بیان کی گئی ہے۔ اسی منظر میں ‘برہماون’ نامی وسیع جنگل، خوشبودار پاکیزہ جھیلیں، پھولوں سے لدے درخت اور مضبوط فصیلوں والی درخشاں عظیم نگری کا ذکر آتا ہے۔ یہ تفصیلی نقشہ تَتّو کے فیصلے سے پہلے کی تمہید ہے، جو بتاتا ہے کہ پرم سوال کا جواب مقدس فضا میں کائناتی مقتدر کے حضور جا کر ہی حاصل ہوتا ہے۔
सर्वेश्वर-परमकारण-निरूपणम् / The Supreme Lord as the Uncaused Cause
باب 3 میں برہما شیو/رُدر کی برتری کا عقیدتی و فلسفیانہ بیان کرتے ہیں۔ پروردگار کی حقیقت ایسی ہے کہ گفتار اور ذہن اسے پا نہیں سکتے اور لوٹ آتے ہیں؛ اس سرور کو جاننے والا بےخوف ہوتا ہے۔ وہی ایک ربّ جیووں کے ذریعے تمام عوالم کا نظام چلاتا ہے، اور اسی سے دیوتاؤں سمیت برہما-وشنو-رُدر-اِندر، عناصر، حواس اور کائنات کی پہلی نمود ظاہر ہوتی ہے۔ وہ اسباب کا سہارا اور مراقبے کا پرم سبب ہے، مگر خود کبھی کسی سے پیدا نہیں ہوتا۔ شیو ‘سرویشور’ ہے، ہر اقتدار کا مالک، موکش کے طالبوں کا مقصودِ دھیان؛ آکاش میں قائم ہو کر بھی سب میں رچا بسا ہے۔ برہما اقرار کرتے ہیں کہ پرجاپتی کا منصب انہیں شیو کی کرپا اور اُپدیش سے ملا۔ ایک میں کثرت، بےعملوں میں عمل، ایک بیج سے بےشمار روپ—رُدر ‘بےثانی’ ہے۔ وہ سب کے دلوں میں نِتّیہ وِراجمان، دوسروں سے پوشیدہ، اور ہر دم جگت کو تھامنے اور نگرانی کرنے والا ہے۔
सत्रप्रवृत्तिः — वायोः आगमनं च (Commencement of the Satra and the Arrival of Vāyu)
اس باب میں سوت بیان کرتا ہے کہ بہت سے برگزیدہ رشی مہادیو کی عبادت میں مشغول ہو کر طویل یَجْن-سَتر (دیرپا قربانی) کا آغاز کرتے ہیں۔ یہ سَتر عجیب و شاندار ہے اور اسے سَرشٹی کرتاؤں کی ازلی تخلیقی تحریک کے مانند کہا گیا ہے۔ کثیر دَکشِنا کے ساتھ سَتر کے اختتام پر پِتامہہ برہما کے حکم سے وایو دیو وہاں تشریف لاتے ہیں۔ پھر وایو کی تاتّوِک پہچان بیان ہوتی ہے—وہ براہِ راست ادراک رکھنے والے، حکم کے ذریعے نظم کرنے والے، مروتوں سے وابستہ؛ پران وغیرہ کے افعال سے جسم کے اعضاء کو حرکت دینے والے اور مجسم جیووں کو سنبھالنے اور قائم رکھنے والے ہیں۔ اَṇِما وغیرہ طاقتیں، جگت کو تھامنے کا کام، اور لطیف تَتّو کی زبان (شبد و سپرش، آکاش-یونی، اور تیجس سے نسبت) بھی آتی ہے۔ وایو کو آشرم میں داخل ہوتے دیکھ کر رشی برہما کے کلمات یاد کر کے خوش ہوتے ہیں، کھڑے ہو کر پرنام کرتے ہیں اور ان کے لیے باعزت آسن تیار کرتے ہیں—یوں آگے کی تعلیم و توضیح کی تمہید بنتی ہے۔
पशुपाशपतिज्ञान-प्राप्तिः (Acquisition of Paśupati–Pāśa Knowledge)
نَیمِشَارَنیہ میں سوت، رِشیوں کی باقاعدہ جستجو وायु کے سامنے رکھتا ہے—کہ اسے ایشور تک رسائی والا گیان کیسے ملا اور اس میں شَیو بھاو کیسے پیدا ہوا۔ وायु ش्वेतلوہت کلپ کا بیان کرتا ہے: سِرشٹی کی خواہش سے برہما نے سخت تپسیا کی۔ پرسن ہو کر پرم پِتا مہیشور کَومار روپ میں ‘شویت’ کے نام سے پرकट ہوئے اور برہما کو ساکشات درشن، پرم گیان اور گایتری عطا کی۔ اس انوگرہ سے برہما چر اَچر سِرشٹی کے لائق ہوا۔ پرمیشور سے برہما نے جو ‘اَمِرت’ سا اُپدیش سنا تھا، وायु نے اپنی تپسیا کے بل پر برہما کے مُنہ سے پایا۔ رِشی پوچھتے ہیں کہ وہ مبارک گیان کیا ہے جو پختہ اختیار کرنے سے پرم سِدھی دیتا ہے؛ وायु اسے پشوپاشپتی-گیان بتا کر سچے کلیان کے طالبوں کے لیے پَرا نِشٹھا کی تاکید کرتا ہے۔
पशु-पाश-पतिविचारः / Inquiry into Paśu, Pāśa, and Pati
اس باب میں رشی وायु سے پوچھتے ہیں کہ پشو (بندھا ہوا جیوا) اور پاش (بندھن کا اصول) کی حقیقت کیا ہے اور ان سب کا ماورائی مالک پتی کون ہے۔ وायु واضح کرتا ہے کہ تخلیق کے لیے ایک شعوری اور बुद्धिमत्कारण (جاننے والا سبب) ضروری ہے؛ بے جان اصول—چاہے پرधान ہو، ایٹم ہوں یا دیگر مادی اقسام—اپنے بل پر منظم کائنات کی توجیہ نہیں کر سکتے۔ جیوا فاعل دکھائی دیتا ہے، مگر اس کی مؤثر فاعلیت پرمیشور کی प्रेरणा سے چلتی ہے، جیسے بصیرت سے محروم اندھے کی حرکت۔ پھر بتایا جاتا ہے کہ پشو-پاش-پتی تینوں سے پرے ایک اعلیٰ پد ہے؛ تत्त्वودیا/برہموِدیا کے ذریعے اس سچ کا ادراک یونی مُکتی اور پُنرجنم سے نجات دیتا ہے۔ حقیقت کو بھوکتا-بھोगیہ-پریرَیِتا کی تثلیث کے طور پر سمجھا کر کہا گیا ہے کہ اس امتیاز کے بعد موکش کے طالب عارف کے لیے اس سے بڑھ کر کچھ جاننے کو باقی نہیں رہتا۔
कालतत्त्वनिर्णयः / Doctrine of Kāla (Time) and Its Subordination to Śiva
رِشی کَال (وقت) کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ وہ پیدائش اور پرلے (فنا) کی ہمہ گیر شرط ہے، اور کائنات چکر کی مانند سَرجن اور لَے میں بار بار گردش کرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ برہما، وِشنو (ہری)، رُدر اور دیگر دیو و اسُر بھی کَال کے قائم کردہ قانونِ تقدیر (نیَتی) سے تجاوز نہیں کر سکتے؛ کَال ہی ماضی، حال اور مستقبل کی تقسیم کرتا ہے اور سب جانداروں کو بڑھاپا دیتا ہے۔ وہ پوچھتے ہیں: یہ الٰہی کَال کون ہے، کس کے تابع ہے، اور کیا کوئی اس سے ماورا ہے؟ وायु جواب دیتا ہے کہ کَال نیمیش، کاشٹھا وغیرہ پیمانوں سے ناپا جانے والا تَتْو ہے؛ وہ کال آتما ہے، پرم ماہیشور تیج ہے—نیَوگ روپ ایک ناقابلِ مزاحمت ضابطہ بخش قوت جو متحرک و ساکن جگت پر حکم چلاتی ہے۔ موکش بھی اسی مہاکال آتما سے وابستہ حصّہ/فیضان کے طور پر ظاہر ہوتا ہے، جیسے آگ سے تحریک پانے والا لوہا حرکت میں آتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ جگت کَال کے تابع ہے، مگر کَال جگت کے تابع نہیں؛ کَال شِو کے تابع ہے، شِو کَال کے تابع نہیں۔ شِو کا ناقابلِ شکست شارْو تیج کَال میں قائم ہے، اسی لیے کَال کی حد (مریادا) عبور کرنا نہایت دشوار ہے۔
कालमान-निर्णयः (Determination of the Measures of Time)
اس باب میں کال-مان (وقت کی پیمائش) کا شاستری فیصلہ بیان ہوا ہے۔ رشی پوچھتے ہیں کہ عمر اور عددی صورتِ زمان (سنکھیہ روپ کال) کس معیار سے گنے جاتے ہیں اور قابلِ پیمائش وقت کی آخری حد کیا ہے۔ وایو آنکھ کے جھپکنے کو بنیاد بنا کر ‘نِمیش’ کو سب سے چھوٹی اکائی قرار دیتا ہے، پھر بتدریج نمیش سے کاشٹھا، کاشٹھا سے کلا، کلا سے مہورت اور مہورت سے اہوراتر (دن-رات) تک پیمائش کی سیڑھی بیان کرتا ہے۔ اس کے بعد مہینوں، رتُوؤں اور اَیَن (نصف سال) کا ربط، انسانی سال (مانوش-ابد) کی تعریف، اور دیو-گنتی و پِتر-گنتی کا فرق واضح کرتا ہے۔ بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ شاستر کے مطابق دکشنایَن دیوتاؤں کی رات اور اترایَن ان کا دن ہے۔ اسی دیوی معیار پر یُگ-گنتی کی بنیاد رکھ کر کہا گیا ہے کہ بھارت ورش میں چار یُگ معروف ہیں۔
शक्त्यादिसृष्टिनिरूपणम् / The Account of Creation Beginning with Śakti
اس باب میں رشی پوچھتے ہیں کہ پرمیشور اپنی آज्ञا (حکم) سے لیلا کے طور پر پوری کائنات کی تخلیق اور فنا کیسے کرتا ہے، اور وہ کون سا اوّلین تَتْو ہے جس سے سب پھیلتا اور جس میں سب جذب ہو جاتا ہے۔ وایو مرحلہ وار کائناتی پیدائش بیان کرتا ہے—سب سے پہلے شکتی ظاہر ہوتی ہے جو ‘شانتیَتیت’ درجے سے بھی ماورا ہے؛ شکتی سے یُکت شِو سے مایا اور پھر اَویَکت نمودار ہوتا ہے۔ شانتیَتیت، شانتی، وِدیا، پرتِشٹھا، نِوِرتّی—یہ پانچ ‘پد’ ایشور کی تحریک سے سृष्टی کے مراحل ہیں؛ سنہار انہی کے اُلٹے क्रम میں ہوتا ہے۔ جگت پانچ ‘کلا’ؤں سے محیط ہے، اور اَویَکت تبھی سبب-بھومی ہے جب اس میں آتما کا ادھِشٹھان ہو۔ پھر فلسفیانہ استدلال آتا ہے کہ نہ اَویَکت بذاتِ خود کرتا ہے نہ آتما کو مجرد طور پر کرتا کہا جا سکتا؛ پرکرتی جڑ ہے اور پُرُش اس سیاق میں اَکرتا/غیر عارف سا ہے، اس لیے پرَधान، پرمانو وغیرہ جیسے جڑ اسباب کسی عاقل سبب کے بغیر منظم عالم پیدا نہیں کر سکتے۔ یوں سृष्टی کے پیچھے لازمی شعوری فاعل شِو ہی ثابت ہوتا ہے۔
त्रिमूर्तिसाम्यं तथा महेश्वरस्य परमार्थकारणत्वम् | Equality of the Trimūrti and Maheśvara as the Supreme Cause
اس باب میں وایو شَیوی کائناتی تخلیق اور عقیدۂ توحیدِ ربوبیت کی ترتیب بیان کرتا ہے۔ سابقہ اَویَکت سے ربّ کے حکم پر بدھی وغیرہ بتدریج ظاہر ہوتے ہیں؛ انہی تغیرات سے رُدر، وِشنو اور پِتامہ (برہما) سبب و مسبب کے منتظمین کے طور پر نمودار ہوتے ہیں۔ الٰہی اصول کی ہمہ گیری، بے رکاوٹ قدرت، بے مثال معرفت اور سِدھیوں کا ذکر کرکے واضح کیا گیا ہے کہ تخلیق، بقا اور فنا—تینوں افعال میں مہیشور ہی اعلیٰ ترین سبب اور حاکمِ مطلق ہے۔ بعد کے دور میں سَرگ (پیدائش)، رَکشا (حفاظت) اور لَیَ (انحلال) کی ذمہ داریاں تریمورتی کو جدا جدا دے کر کہا گیا ہے کہ وہ باہم ایک دوسرے سے پیدا ہوتے، ایک دوسرے کو سنبھالتے اور باہمی موافقت سے بڑھتے ہیں۔ یہ بھی رد کیا گیا ہے کہ کسی ایک دیوتا کی مدح دوسرے کی خدائی کو گھٹاتی ہے؛ اور تنبیہ ہے کہ جو ان دیوتاؤں کی توہین کرے وہ آسُری/نامبارک حالت کو پہنچتا ہے۔ آخر میں مہیشور کو تری گُناتیت، چتورویوہ روپ، سب کا سہارا، لیلا سے کائنات کا خالق، اور پرکرتی-پُرُش و تریمورتی کا باطنی آتما قرار دیا گیا ہے۔
मन्वन्तर-कल्प-प्रश्नोत्तरम् / Discourse on Manvantaras, Kalpas, and Re-creation
اس باب میں رشی تمام منونتروں اور کَلپوں کی اقسام کا منظم بیان، خصوصاً آنتَر-سَرگ اور پرتِسَرگ (ازسرِنو تخلیق) کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ وایو دیوتا برہما کی عمر کے پیمانے میں پراردھ وغیرہ کا ذکر کرکے بتاتے ہیں کہ متعلقہ چکر کے اختتام پر دوبارہ تخلیق واقع ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ برہما کے ایک دن میں منوؤں کی گردش کے مطابق چودہ بڑے حصے ہوتے ہیں۔ مگر کَلپ اور منونتر اَنادی و اَننت اور پوری طرح قابلِ بیان نہیں؛ اور سب کچھ کہہ دینے پر بھی سامعین کا حاصل محدود رہتا ہے—اس لیے وہ عملی طور پر موجودہ جاری کَلپ کا مختصر بیان اختیار کرتے ہیں۔ یہ ورَاہ کَلپ ہے، جس میں چودہ منو ہیں—سات سوایمبھوَو سے اور سات ساوَرْنِک سے—اور اس وقت ساتواں وَیوَسْوَت منو نافذ ہے۔ باب یہ بھی اشارہ کرتا ہے کہ سَرشٹی-پرلَے کی روش منونتروں میں یکساں طور پر دہرائی جاتی ہے، اور پچھلے کَلپ کے خاتمے اور کال و وایو کی قوتوں سے نئے چکر کے آغاز کی تصویر کشی کرکے آگے کی مفصل کائناتی روایت کی تمہید باندھتا ہے۔
सर्गविभागवर्णनम् (Classification of Creation: the Nine Sargas and the Streams of Beings)
اس ادھیائے میں وایو دیو سَرگ (کائناتی تخلیق کے ظہور) کی فنی و تاتّوِک درجہ بندی بیان کرتے ہیں۔ برہما کی تخلیقی خواہش سے تمس سے پیدا ہونے والا موہ (فریب) بتدریج تموموہ، مہاموہ، تامسِر اور اندھ کی صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے، اور اسے پانچ قسم کی اوِدیا (جہالت) کا روپ کہا گیا ہے۔ پھر سृष्टی مختلف طبقات اور ‘سروتس’ (دھاراؤں) کی شکل میں دکھائی جاتی ہے—پہلے مُکھْی/ستھاور: جامد اور رکاوٹ والی تخلیق؛ پھر تِریَک سروتس (حیوانی تخلیق) جس میں اندر کچھ روشنی مگر باہر پردہ اور بھٹکی ہوئی رغبتیں؛ اُردھْو سروتس (دیوتا تخلیق) جو صفائی، مسرت اور ستّو گُن کی برتری سے یکت ہے؛ اور اَروَاک سروتس (انسانی تخلیق) جو سادھک کہی گئی ہے مگر دکھ کے بندھن میں سخت جکڑی ہے۔ مزید ‘انوگرہ’ نوع کی تخلیق چار صورتوں—وِپریَیَہ، شکتی، تُشٹی، سِدھی—میں گنی گئی ہے۔ آخر میں نو سَرگوں کی معیاری گنتی دی جاتی ہے: تین پراکرت (مہت، تنماتر/بھوت، ویکارک/ایندریَک) اور پانچ ویکرت مُکھْی-ستھاور سے شروع ہو کر، نویں کَومار؛ یوں گُنوں کی برتری کے مطابق شعور اور اخلاقی صلاحیت کا تدریجی نقشہ سامنے آتا ہے۔
रुद्रस्य परमात्मत्वे ब्रह्मपुत्रत्वादिसंशयप्रश्नः — Questions on Rudra’s Supremacy and His ‘Sonship’ to Brahmā
باب 13 میں رِشی پرم بھَو (شیو) سے سृष्टی کی پیدائش کی سابقہ تعلیم کو تسلیم کرکے ایک عقیدتی و فلسفیانہ اشکال پیش کرتے ہیں۔ رُدر کو وِروپاکش، شولدھر، نیللوہت، کپرْدی وغیرہ القاب سے سراہا گیا ہے اور اسے یُگ کے اختتام پر برہما اور وِشنو تک کا سنہار کرنے والا کہا جاتا ہے؛ مگر وہ یہ بھی سنتے ہیں کہ برہما، وِشنو اور رُدر ایک دوسرے کے اَنگ سے باہمی طور پر ظاہر ہوتے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ گُن-پردھان کے اعتبار سے یہ باہمی ظہور کیسے ممکن ہے۔ اگر رُدر آدی دیو، پراتن اور یوگ-کشیَم دینے والا ہے تو پھر اَویَکت جنم والے برہما کی ‘پُترتْو’ (بیٹاپن) اسے کیسے منسوب کیا جاتا ہے؟ رِشی برہما کے مُنیوں کو دیے ہوئے اُپدیش کے مطابق دقیق تَتْو-وضاحت چاہتے ہیں تاکہ پورانک نسب و علّت کی حقیقت روشن ہو۔
रुद्राविर्भावकारणम् — Causes and Pattern of Rudra’s Manifestation (Pratikalpa)
وایو رُدر کے بار بار (پرتیکلپ) ظہور کا سبب بیان کرتے ہیں۔ ہر کلپ میں برہما سृष्टی کرتے ہیں، مگر جب مخلوقات میں افزائش نہیں ہوتی تو وہ غمگین ہو جاتے ہیں۔ برہما کے غم کے ازالے اور جیووں کی نشوونما کے لیے پرمیشور کے حکم سے کالात्मا، رُدرگنوں کے ادھپتی رُدر پے در پے کلپوں میں ظاہر ہوتے ہیں۔ وہ مہیش نیللوہت روپ میں پرकट ہو کر برہما کی مدد کرتے ہیں—گویا پُتر کی مانند، مگر پھر بھی دیوی آدھار میں مستحکم۔ اس باب میں رُدر کی اعلیٰ حقیقت—تیجوراشی، انادی-نِدھن، وِبھُو—اور پراشکتی کے ساتھ اُن کی یکتائی بیان ہوتی ہے: وہ اختیار کی علامتیں دھارتے، حکم کے مطابق نام و روپ اختیار کرتے، دیوی کام انجام دینے پر قادر اور اعلیٰ آज्ञا کے پابند ہیں۔ پھر اُن کی مورتی کی علامتی تصویر کشی آتی ہے—ہزار سورجوں جیسی تابانی، چاند کے زیور، سانپوں کے آभूषण، مقدس کٹیسوتر، کپال کے نشان اور گنگا دھار جٹائیں—جو نیللوہت/رُدر کے دھیان اور روایت کی یاد کو مضبوط کرتی ہے۔
अर्धनारीश्वरप्रादुर्भावः (Manifestation of Ardhanārīśvara and the Impulse for Procreative Creation)
باب 15 میں ابتدائی تخلیق کا بحران بیان ہوا ہے۔ برہما نے مخلوقات تو پیدا کیں مگر وہ بڑھتی نہیں۔ وہ مَیتھُنَج سृष्टی (جنسی تولیدی تخلیق) قائم کرنے کا ارادہ کرتا ہے، لیکن ایشور سے ابھی تک نسوانی اصول/نسوانی سلسلہ ظاہر نہ ہونے کے سبب وہ اس میں کامیاب نہیں ہو پاتا۔ تب وہ طے کرتا ہے کہ افزائشِ خلق کے لیے پرمیشور کا پرساد (فضل و عنایت) لازم ہے؛ الٰہی کرم کے بغیر پیدا شدہ آبادی پھیل نہیں سکتی۔ برہما اننت، پاک، نرگُن، تصور سے ماورا اور ایشور کے قریب رہنے والی لطیف پاراشکتی کا دھیان کرتے ہوئے سخت تپسیا کرتا ہے۔ خوش ہو کر شیو مرد و زن اصولوں کی وحدت کے روپ میں اردھناریشور کی صورت ظاہر ہوتے ہیں۔ اس باب کی تعلیم یہ ہے کہ تولیدی کثرت شیو-شکتی کی قطبیت کے ظہور سے ہی، باطنی اَدویت الوہیت میں قائم رہتے ہوئے، ممکن ہے؛ اور تپسیا کا انجام محض میکانکی تخلیق نہیں بلکہ دیدارِ الٰہی ہے۔
Śiva’s Boon to Viśvakarman and the Manifestation of Devī (Bhavānī/Parāśakti)
اِس ادھیائے 16 میں مہادیو ہر شفقت بھرے القابات کے ساتھ وِشوکرما سے خطاب کرتے ہیں، اس کی پرجا-وِردھی اور لوک-کلیان کے لیے کی گئی تپسیا اور درخواست کی سنگینی کو تسلیم کر کے خوش ہوتے ہیں اور مطلوبہ ور عطا فرماتے ہیں۔ پھر ورदान کی گفتار سے آگے بڑھ کر ایک تَتّوی واقعہ ظاہر ہوتا ہے—شیو اپنے ہی جسم کے ایک اَنس سے دیوی کا پرادُربھاو کرتے ہیں؛ اہلِ علم اسے پرماتما (بھَو) کی پرم شکتی کہتے ہیں۔ دیوی جنم-مرن-جَرا سے پاک ہے؛ جہاں وाणी، من اور اندریاں لوٹ آتی ہیں وہاں بھی وہ پراتر ہے، تاہم عجیب و غریب روپ میں ظاہر ہو کر اپنی مہِما سے سارے وِشو میں ویاپت دکھائی دیتی ہے۔ یوں یہ ادھیائے پورانک کتھا کو شاکت-شیو تَتّو کے ساتھ جوڑ کر دیوی کو اَچِنتیہ پرाशکتی اور جگت کے تجربے کو ممکن بنانے والی باطنی شکتی کے طور پر قائم کرتا ہے۔
मनु-शतरूपा-प्रसूतिः तथा दक्षकन्याविवाहाः (Manu–Śatarūpā, Prasūti, and the Marriages of Dakṣa’s Daughters)
اس باب میں تخلیق کی نسب نامہ روایت آگے بڑھتی ہے۔ وायु بیان کرتا ہے کہ پرجاپتی نے ایشور سے شاشوتی پرا شکتی حاصل کی اور میتھُن‑پربھوا (جوڑی دار) سृष्टی پیدا کرنے کا ارادہ کیا۔ خالق دو حصوں میں ظاہر ہوتا ہے: آدھا پُرش اور آدھا استری؛ استری‑حصہ شترُوپا کے روپ میں نمودار ہوتا ہے۔ برہما وِراج کو پیدا کرتا ہے؛ پُرش تَتْو سوایمبھُو منو کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ شترُوپا سخت تپسیا کر کے منو کو پتی کے طور پر قبول کرتی ہے۔ ان سے دو پتر—پریہ ورت اور اُتّانپاد—اور دو کنیا—آکوتی اور پرَسوتی—پیدا ہوتی ہیں۔ منو پرَسوتی کا وِواہ دکش سے اور آکوتی کا رُچی سے کرتا ہے؛ آکوتی سے یَجْن اور دَکشِنا جنم لیتے ہیں جن کے ذریعے لوک‑دھرم کی وِیَوَستھا قائم رہتی ہے۔ دکش کی چوبیس بیٹیاں—شرَدّھا، لکشمی، دھرتی، پُشتی، تُشتی، میدھا، کریا، بُدھی، لجّا، وپُہ، شانتی، سِدھی، کیرتی وغیرہ—کا ذکر ہے۔ دھرم داکشاینیوں کو پتنیوں کے طور پر قبول کرتا ہے؛ نیز کھیاتی، سمرتی، پریتی، کْشَما، اَنَسُویا، اُورجا، سواہا، سَوَدھا وغیرہ بھی بیان ہوتی ہیں۔ بھِرگو، مریچی، اَنگِرس، پُلَہ، کرتو، پُلستیہ، اَتری، وسِشٹھ، پاوَک، پِتَر وغیرہ ان کے وِواہوں سے نسلیں پھیلاتے ہیں۔ باب یہ بتاتا ہے کہ دھرم سے جڑی اولاد سُکھ کا سبب ہے اور اَدھرم سے جڑی اولاد دُکھ اور ہِنسا کا باعث بنتی ہے۔
दक्षस्य रुद्रनिन्दा-निमित्तकथनम् / The Cause of Dakṣa’s Censure of Rudra
باب ۱۸ میں رِشی سوال کرتے ہیں کہ دکش کی بیٹی ستی (داکشاینی) بعد میں مینا کے وسیلے سے ہِمَوت کی بیٹی کیسے بنی، مہاتما دکش نے رُدر کی نِندا کیوں کی، اور چاکشُش منونتر میں بھَو کے شاپ سے دکش کی پیدائش کا ربط کیسے ہے۔ وایو جواب دیتے ہیں کہ دکش کی کم فہمی (لَگھو چیتس) اور تمیز کی لغزش ایک اخلاقی و یَجْنی خطا بن کر دیوتاؤں کے سماج کو ‘ملوّث’ کرتی ہے۔ واقعہ ہِمَوان کی چوٹی پر ہے جہاں دیو، اسُر، سِدھ اور مہارِشی دیوی کے ساتھ ایشان کے درشن کو جمع ہوتے ہیں؛ دکش بھی اپنی بیٹی ستی اور داماد ہَر کو دیکھنے آتا ہے۔ مگر دیوی کے بیٹی ہونے سے ماورا، برتر الوہی مقام کو نہ پہچاننے سے اس کی جہالت دشمنی میں ڈھل جاتی ہے؛ اور وِدھی (تقدیری حکم) کے ساتھ مل کر اسے دِیکشا کے ساتھ یَجْنی عمل کرتے ہوئے بھی بھَو کا واجب احترام نہ کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ یوں یہ باب آئندہ یَجْن-بھنگ کی علتیں قائم کرتا ہے—شیو کی تاتّوِک برتری، یَجْن میں اَہنکار کا خطرہ، اور اَپرادھ سے کائناتی اضطراب تک پہنچنے والی کرم-منطق۔
दक्षस्य यज्ञप्रवृत्तिः तथा ईश्वरवर्जितदेवसमागमः (Dakṣa’s Sacrificial Undertaking and the Devas’ Assembly without Īśvara)
باب ۱۹ میں رشی پوچھتے ہیں کہ دھرم اور ارتھ کے نام پر یَجْن کرنے والا، مگر دُرآتْما دَکش؛ اس کے یَجْن میں مہیشور نے وِگھن کیسے پیدا کیا؟ وایو زمانہ و مقام بتاتا ہے—ہِمَوَت پر دیوی کے ساتھ دیوتا کے طویل کِریڑاواس کے بعد وَیوَسْوَت مَنونتر آتا ہے۔ تب پراچیتس دَکش گنگادوار کے مبارک علاقے میں، ہمالیہ کی پشت پر، رشیوں اور سِدھوں کے مُبارک مقام پر اَشوَمیدھ یَجْن قائم کرتا ہے۔ اِندر کی قیادت میں آدِتیہ، وَسو، رُدر، سادھْی، مَرُت، سوَم‑آجْیَ‑دھُوم کے حصّہ دار دیوتا، اَشوِنی کُمار، پِتَر، مہارشی اور وِشنو—سب یَجْن بھاگی بن کر جمع ہوتے ہیں۔ مگر ایشور (شیو) کے بغیر سارے دیو‑سماج کو آیا دیکھ کر ددھیچی غصّے میں دَکش سے کہتا ہے کہ نااہل کی پوجا اور اہل کا احترام نہ کرنا مہاپاپ کا سبب ہے۔ یوں شیو کی محرومی سے یَجْن بظاہر مکمل مگر باطن میں عیب دار ٹھہرتا ہے، اور یہی آنے والے تصادم کی مذہبی و رسومی بنیاد بنتی ہے۔
दक्षयज्ञदर्शनम् — The Vision of Dakṣa’s Great Sacrifice (and the Onset of Vīrabhadra’s Terror)
باب ۲۰ میں وायु دیو بیان کرتے ہیں کہ وِشنو کی قیادت میں دیوتاؤں کا مہاسَتر یَجْن شاندار ترتیب سے جاری ہے۔ ویدی پر دربھ بچھا ہے، آگنیاں بھڑک رہی ہیں، سونے کے برتن چمک رہے ہیں اور رِشی ترتیب وار ویدک ودھان کے مطابق کرم انجام دے رہے ہیں؛ اپسراؤں کے ناچ گانے، وینو/وینا کی دھن اور گونجتی ویدپাঠ سے فضا دیویہ ہو جاتی ہے۔ اسی مقدس نظم میں دکش کے اَدھور کو دیکھ کر ویر بھدر بادل گرجنے جیسی شیر دہاڑ نکالتا ہے، اور گنوں کا لشکر اس آواز کو بڑھا کر آسمان بھر میں ہنگامہ کر دیتا ہے۔ خوف سے دیوتا بھاگ کھڑے ہوتے ہیں، لباس و زیورات بکھر جاتے ہیں؛ یوں لگتا ہے جیسے میرو ٹوٹ گیا ہو یا زمین پھٹ رہی ہو۔ اس دھونی کو گھنے جنگل میں ہاتھیوں کو دہلا دینے والی شیر گرجنا سے تشبیہ دی گئی ہے؛ بعض تو دہشت سے جان بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ پھر پہاڑ شق ہو جاتے ہیں، زمین لرزتی ہے، ہوائیں بگولوں کی طرح گھومتی ہیں اور سمندر میں ہیجان اٹھتا ہے—یہ شیو کی اصلاحی قوت کے ظہور اور دکش یَجْن کے قریب الوقوع انہدام کا اشارہ ہے۔
भद्रस्य देवसंघेषु विक्रमः (Bhadra’s Onslaught among the Deva Hosts)
اس ادھیائے میں وایو کے بیان کردہ معرکے کا حال ہے، جہاں وِشنو اور اِندر وغیرہ سرکردہ دیوتا خوف زدہ ہو کر منتشر ہو جاتے ہیں۔ اپنے ہی (پہلے بے داغ) اعضا/قوت کے ذریعے دیوتاؤں کو مبتلا دیکھ کر اور یہ سمجھ کر کہ سزا کے مستحق لوگ بے سزا رہ گئے، رودر کے غضب سے پیدا ہوا گن نایک بھدر غضبناک ہو اٹھتا ہے۔ وہ شَروَ کی طاقت کو دبانے کے قابل ترشول کو تھام کر، بلند نگاہ اور شعلہ فشاں دہن کے ساتھ، ہاتھیوں میں شیر کی مانند دیوسینا پر ٹوٹ پڑتا ہے؛ اس کی چال مَست ہاتھی جیسی ہے اور اس کی ہیبت ناک کارروائی گویا ایک عظیم جھیل کو کئی رنگوں میں متھ کر افراتفری پھیلا دیتی ہے۔ ببر شیر کی کھال کا لباس پہنے، عمدہ سنہری ستارہ نما زیورات سے آراستہ، بھدر دیوتاؤں کے لشکروں میں خیرخواہ جنگل کی آگ کی طرح گھومتا ہے؛ دیوتا ایک ہی یودھا کو ہزاروں کے برابر دیکھتے ہیں۔ بھدرکالی بھی رَن کے جوش کی افزائش سے مدہوش و خشمگیں ہو کر شعلہ اگلتے ترشول سے دیوتاؤں کو چھیدتی ہے۔ یوں بھدر رودر کے غضب کا براہِ راست ظہور بن کر چمکتا ہے اور یہ عقیدہ قائم کرتا ہے کہ رودر کے گن اس کی تادیبی و اصلاحی مشیت کے مظاہر ہیں۔
भद्रस्य दिव्यरथारोहणं शङ्खनादश्च — Bhadra’s Divine Chariot-Ascent and the Conch-Blast
اَدھیائے 22 میں فیصلہ کن جنگی و الٰہی لمحہ بیان ہوا ہے۔ آسمان میں نہایت درخشاں دیویہ رتھ ظاہر ہوتا ہے، جس پر وِرش دھوج (بیل کا پرچم) ہے اور جو قیمتی اسلحہ و زیورات سے آراستہ ہے۔ اس رتھ کا سارتھی برہما بتایا گیا ہے، اور تریپور وِدھ کے سابقہ واقعے کی یاد دلا کر موجودہ کارروائی کو روایت سے جوڑا جاتا ہے۔ شیو کی صریح آج्ञا سے برہما ہری (وشنو) کے پاس جا کر بہادر گن نایک بھدر کو رتھ پر سوار ہونے کا حکم دیتا ہے۔ ریبھا کے آشرم کے نزدیک بھدر کی ہیبت ناک شجاعت کو تریَمبک شیو امبیکا کے ساتھ دیکھتا ہے، یوں یہ واقعہ مقدس جغرافیے میں قائم ہوتا ہے۔ بھدر برہما کو نمسکار کر کے رتھ پر چڑھتا ہے اور اس کی لکشمی بڑھتی ہے، جیسے پورَدْوِش رودر کی۔ آخر میں روشن شنکھ ناد دیوتاؤں کو خوف زدہ کر کے ان کی جٹھرانل کو بھڑکاتا ہے اور شدید تصادم و دیویہ قوتوں کی بسیج کا اشارہ دیتا ہے۔
वीरभद्रक्रोधशमनं देवस्तुतिश्च (Pacification of Vīrabhadra and the Gods’ Hymn)
اس ادھیائے میں دکش یَجْن کے تصادم کے بعد کی کیفیت بیان ہوتی ہے۔ وِشنو سمیت دیوتا شکست خوردہ، زخمی اور خوف زدہ ہیں، اور ویر بھدر کے پرمَتھ گن انہیں لوہے کی بیڑیوں میں جکڑ کر قابو میں رکھتے ہیں۔ اسی نازک گھڑی میں برہما صلح جو ثالث کے طور پر ویر بھدر (یا اس کے ماتحت گن پتی) کے پاس جا کر غضب روکنے اور دیوتاؤں و متعلقہ ہستیوں کو معافی عطا کرنے کی درخواست کرتا ہے۔ برہما کے مرتبے اور التجا کے احترام میں ویر بھدر کا قہر ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔ موقع پا کر دیوتا سر پر اَنجَلی رکھ کر شَرنागत بھاؤ سے شِو کی ستوتی کرتے ہیں—انہیں شانت، یَجْن وِدھونْسک، ترشول دھاری اور کال آگنی رُدر کہہ کر، شِو کے ہیبت ناک تادیبی پہلو کو بھی کائناتی نظم و دھرم کی نگہبانی کے لیے جائز مانتے ہیں۔ خوف کا بھکتی میں بدلنا، شفاعت کی تاثیر، اور شِو کے القاب میں اس کی شکتیوں کا نقشہ—یہی اس ادھیائے کا مرکزی مضمون ہے۔
मन्दरगिरिवर्णनम् — Description of Mount Mandara as Śiva’s Residence (Tapas-abode)
اس باب میں رِشی وایو سے پوچھتے ہیں کہ دیوی اور گنوں سمیت ہر (شیو) انتردھان ہو کر کہاں گئے، کہاں قیام کرتے ہیں، اور آرام سے پہلے کیا کیا۔ وایو جواب دیتا ہے کہ دیوادھیدیو کو محبوب مَندر گِری تپسیا سے وابستہ اُن کی رہائش گاہ ہے، جہاں عجیب و غریب غاروں کی رونق ہے۔ اس پہاڑ کی زیبائی ہزار زبانوں سے بھی طویل زمانے تک ناقابلِ بیان بتائی گئی ہے؛ پھر بھی اس کی رِدھی، ایشور کے لیے موزونیتِ قیام، اور دیوی کو خوش کرنے کے لیے ‘انتحپُری’ جیسی صورت اختیار کرنا بیان ہوتا ہے۔ شیو–شکتی کی نِتّیہ قربت سے وہاں کی زمین و نباتات دنیا سے بڑھ کر ہو جاتے ہیں، اور ندی نالوں و آبشاروں کا پانی غسل و نوش سے پاکیزہ پُنّیہ عطا کرتا ہے۔ یوں مَندر محض منظر نہیں بلکہ تپس، الٰہی قربت اور فطری مَنگل کے اجتماع کا مقدس مرکز ٹھہرتا ہے۔
सत्याः पुनस्तपश्चर्या — Satī’s Return to Austerity (Tapas) and Fearless Liṅga-Worship
اس باب میں ستی شیو کی پرَدَکشِنا کر کے جدائی کے درد کو ضبط کرتی ہے اور ہمالیہ میں اپنے سابقہ تپسیا-ستھان پر دوبارہ لوٹتی ہے۔ وہ ہِمَوَت اور مینا کے سامنے اپنا سنکلپ بیان کر کے اجازت لیتی ہے، پھر وَن آشرم میں داخل ہو کر زیورات ترک کرتی اور پاک تپسوی ویش اختیار کرتی ہے۔ شیو کے چرن کملوں کا مسلسل دھیان رکھتے ہوئے وہ سخت تپسیا کرتی ہے؛ پرگٹ لِنگ میں شیو دھیان کر کے تری سندھیا پوجا جنگلی پھولوں، پھلوں وغیرہ سے انجام دیتی ہے۔ اسی دوران ایک بدکار بڑا ببر شیر قریب آتا ہے مگر تصویر کی طرح ساکت ہو جاتا ہے؛ ستی یکسو بھکتی اور فطری استقامت کے سبب بے خوف رہتی ہے۔ یہ باب پتی ورتا بھکتی، تپسیا، لِنگ اُپاسنا اور یک نِشٹھ شَیو چنتن سے پیدا ہونے والی بے خوفی کا پھل دکھاتا ہے۔
कौशिकी-गौरी तथा शार्दूलरूप-निशाचरस्य पूर्वकर्मवर्णनम् | Kauśikī-Gaurī and Brahmā’s account of the tiger-formed niśācara
اس باب میں وायु کے بیان کے تسلسل میں کوشیکی-گوری دیوی برہما سے اُس شارْدُول (ببر شیر/باغ) کے بارے میں کہتی ہیں جو اُن کے قریب پناہ گزیں ہے۔ دیوی اس کی یکسو بھکتی کی ستائش کرتی ہیں اور فرماتی ہیں کہ اس کی حفاظت مجھے عزیز ہے؛ نیز اشارہ کرتی ہیں کہ شنکر اسے گنیشور کا مرتبہ عطا کریں گے اور وہ دیوی کے پریوار کے ساتھ چلے گا۔ برہما ہنستے ہوئے تنبیہ کرتے ہیں اور اس کے پچھلے کرم سناتے ہیں—وہ اگرچہ باغ کی صورت میں ہے، مگر دراصل بدکردار نِشَچَر، کامروپی اور گائے و برہمنوں کو ایذا دینے والا رہا ہے؛ اس لیے گناہ کا پھل بھگتنا ناگزیر ہے۔ مضمون یہ ہے کہ کرُونا میں وِویک ضروری ہے، تاہم شیو کی مرضی سے آئندہ اُٹھان اور تبدیلی کا امکان باقی رہتا ہے۔
गौरीप्रवेशः—शिवसाक्षात्कारः (Gaurī’s Entry and the Vision of Śiva)
اس باب میں رِشی وایو سے پوچھتے ہیں کہ ہِماونت کی دختر دیوی نے گورا اور تابناک روپ اختیار کرکے آراستہ اندرونی محل میں داخل ہوکر اپنے سوامی شِو سے کیسے ملاقات کی، دروازے پر مقرر گنیشوں نے اس وقت کیا کیا، اور انہیں دیکھ کر شِو نے کیسا جواب دیا۔ وایو اس منظر کو پرنَے سے پیدا ہونے والا ‘پرَم رس’ قرار دیتا ہے، جو نازک دلوں کو بھی مسحور کر دیتا ہے۔ دیوی امید اور جھجک کے ملے جلے بھاؤ سے اندر جاتی ہیں اور اپنے آنے کے مشتاق شِو کو دیکھتی ہیں۔ اندر کے گن س्नेہ بھرے کلمات سے ان کا استقبال کرتے ہیں؛ دیوی تریَمبک کو پرنام کرتی ہیں۔ اٹھنے سے پہلے ہی شِو خوشی سے انہیں گلے لگا کر گود میں بٹھانا چاہتے ہیں؛ دیوی صوفہ/شَیّا پر بیٹھتی ہیں تو شِو کھیل ہی کھیل میں انہیں گود میں اٹھا لیتے ہیں اور مسکرا کر چہرہ تکتے ہیں۔ پھر شِو نرم، چھیڑ چھاڑ آمیز گفتگو میں ان کی پچھلی حالت یاد دلا کر روپ، خود ارادیت اور الوہی قربِ وصال و مصالحت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
अग्नीषोमात्मकविश्ववर्णनम् / The Universe as Agni–Soma (Fire and Nectar)
اس باب میں رِشی پوچھتے ہیں کہ دیوی/شکتی کو ‘آجْنیا’ (حکم) کیوں کہا گیا اور کائنات کو کیسے اگنی–سوم اور واک–ارتھ (کلام و معنی) کی صورت بتایا گیا۔ وایو وضاحت کرتے ہیں کہ اگنی شکتی کی رَودری، تیز، تَیجَسی روشن کیفیت ہے اور سوم شکتی کی شاکت، امرت سے بھرپور، سکون بخش کیفیت۔ وہ تیجس اور رس/امرت کو تمام جانداروں میں پھیلے ہوئے لطیف عناصر بتاتے ہیں: تیجس سورج/آگ کی طرح فعّال ہے اور رس سومیہ پانی کی طرح پرورش دینے والا؛ انہی کے امتیازی انداز سے متحرک و غیر متحرک جگت قائم ہے۔ یَجْن اور فطرت کی علت و معلول زنجیر—آہوتی سے اناج، بارش سے نمو—کے ذریعے کہا گیا کہ دنیا کی پائیداری اگنی–سوم کے چکر پر ہے۔ آخر میں آگ کا اوپر اٹھنا اور سوم/امرت کا نیچے بہنا دکھا کر، نیچے کالागنی اور اوپر شکتی کو باہم تکمیلی اعمال قرار دیا گیا ہے۔
षडध्ववेदनम् (Ṣaḍadhva-vedanam) — The Sixfold Path: Sound, Meaning, and Tattva-Distribution
باب 29 میں وایو شَیو متافزکس کے اندر شبد (لفظ) اور ارتھ (معنی) کی باطنی یگانگت بیان کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ لفظ کے بغیر معنی نہیں، اور کوئی لفظ بالآخر بے معنی نہیں؛ عرفِ عام میں الفاظ ہمہ گیر طور پر معنی کے حامل ہیں۔ یہ شبد–ارتھ ترتیب پرکرتی کی تبدیلی ہے اور شِو-شکتی سمیت پرم شِو کی ‘پراکرتی مورتی’ کہلاتی ہے۔ شبد-وبھوتی تین درجوں—ستھول، سوکشْم اور پرا—میں بیان ہوتی ہے، جس کی انتہا شِوتتّو میں قائم پراشکتی ہے۔ آگے گیان شکتی اور اِچھا شکتی کا ربط، شکتی تتّو میں تمام قوتوں کی کلیت، اور شُدّھادھون سے وابستہ کنڈلنی-مایا کو اصل سبب کی ماتریکا کہا گیا ہے۔ اسی بنیاد سے شَڈدھْو تین شبد-پَتھ اور تین ارتھ-پَتھ کی صورت پھیلتا ہے؛ کلاؤں سے محیط تتّو-تقسیم اور پرکرتی کی پانچ گونہ تبدیلی کے مطابق جیووں کی بھوگ اور لَی کی صلاحیت ان کی پاکیزگی پر منحصر بتائی گئی ہے۔
शिवतत्त्वे परापरभावविचारः (Inquiry into Śiva’s Principle and the Parā–Aparā Paradox)
باب 30 میں رِشی کہتے ہیں کہ شِو‑شِوا کے عجیب و غریب کارنامے اتنے عمیق ہیں کہ دیوتاؤں کے لیے بھی سمجھنا دشوار ہے، اس سے معرفتی حیرت و تذبذب پیدا ہوتا ہے۔ پھر یہ درجہ بندی واضح کی جاتی ہے کہ برہما وغیرہ اگرچہ سृष्टि‑ستھتی‑پرلَے کے کارگزار ہیں، مگر وہ شِو کے اَنُگرہ‑نِگرہ (فضل و ضبط) سے ہی عمل کرتے ہیں، اس لیے شِو کے تابع ہیں۔ شِو کسی کے فضل یا سزا کا موضوع نہیں؛ اس کی حاکمیت پوری طرح غیرِ وابستہ (اَنایَتّ) اور اس کی فطرت سے ثابت شدہ خودمختاری ہے۔ لیکن مُورتِمَتوا (جسمانی ظہور) سببیت و وابستگی کا گمان پیدا کرتا ہے—یہی فکری کشمکش ہے۔ شاستر میں پر اور اَپر دو حالتیں بیان ہوتی ہیں؛ ایک ہی حقیقت میں دونوں کیسے جمع ہوں؟ اگر پرم سوروپ نِشْفَل/نِشْکریہ ہے تو وہی حقیقت سَکَل/ظاہر کیسے بنتی ہے؟ اگر شِو اپنی فطرت پلٹ دے تو نِتّیہ‑اَنِتّیہ کا فرق بھی مٹ جائے؛ لہٰذا ظہور اس کی بےتضاد فطرت کے مطابق ہی ہے۔ آخر میں اصولی بات—ایک سَکَل مُورتاتما تَتّو ہے اور ایک نِشْفَل اَویَکت شِو؛ اور سَکَل کا اَدھِشٹھاتا شِو ہی ہے۔
अनुग्रह-स्वातन्त्र्य-प्रमाणविचारः | Inquiry into Pramāṇa, Divine Autonomy, and Grace
اس ادھیائے میں وایو رشیوں کے شک کو ناستکیتا نہیں بلکہ درست جِجْناسَا (تحقیقی جستجو) مان کر پرمان (دلیل) کی بنیاد پر وضاحت کرتا ہے تاکہ نیک نیت لوگوں کا وہم دور ہو۔ وہ بتاتا ہے کہ شِو پرِپُورن (کامل) ہیں، اس لیے اُن پر کوئی ‘فرض’ لازم نہیں؛ پھر بھی پشو–پاش سے بندھا ہوا جگت ‘انُگرہ کے لائق’ کہا گیا ہے۔ حل سْوَبھاَو اور سْواتَنْتْرْیَ سے ہے: شِو کی کرپا اُن کی اپنی فطرت سے جاری ہوتی ہے، نہ لینے والے پر منحصر ہے نہ کسی بیرونی حکم پر۔ پرمیشور کی اَنَپیکشتا اور انُگرہ-یوگیہ جیَو کی پرتنترا حالت میں فرق دکھایا گیا ہے؛ انُگرہ کے بغیر بھوگ اور موکش ممکن نہیں۔ شَمبھو میں اَجْنان کی کوئی بنیاد نہیں؛ اَجْنان بندھن والی نظر میں ہے، اور کرپا شِو کے گیان/آدیش سے اَجْنان کی دوری ہے۔ آخر میں نِشْکَل–سَکَل پہلو کی طرف اشارہ ہے: شِو حقیقت میں بےجز ہیں، مگر دےہ دھاریوں کی بھکتی و گیان کے لیے مُورتی-آتمن روپ میں بھی قابلِ ادراک ہوتے ہیں۔
शैवधर्मप्रशंसा तथा पञ्चविधसाधनविभागः / Praise of Śaiva Dharma and the Fivefold Classification of Practice
اس باب 32 میں رِشی وायु (ماروت) سے پوچھتے ہیں کہ کون سا سب سے برتر اَنُشٹھان موکش کو اَپروکش (براہِ راست ادراک) بناتا ہے اور اس کا سادھن کیا ہے۔ وायु جواب دیتے ہیں کہ شَیو دھرم ہی پرم دھرم اور اعلیٰ ترین آچرن ہے، کیونکہ اسی دائرے میں براہِ راست پہچانے جانے والے شِو خود مکتی عطا کرتے ہیں۔ پھر وہ اس سادھنا کو پانچ تدریجی ‘پَروَن’ میں تقسیم کرتے ہیں: کریا، تپسیا، جپ، دھیان اور گیان۔ باب میں پَروکش اور اَپروکش گیان کا فرق واضح کر کے موکش پیدا کرنے والے گیان کی عظمت بیان کی گئی ہے۔ پرم دھرم اور اَپر دھرم—دونوں کو شروتی سے ثابت مانا گیا ہے اور ‘دھرم’ کے معنی کے تعین میں شروتی کو فیصلہ کن پرمان کہا گیا ہے۔ پرم دھرم یوگ پر منتہی ہے اور ‘شروتی-شِروگت’ کے طور پر بیان ہوا ہے، جبکہ اَپر دھرم زیادہ عام اور قابلِ رسائی ہے۔ اہلیت (ادھیکار) کے لحاظ سے پرم دھرم اہل افراد کے لیے اور اَپر دھرم سب کے لیے سادھارن بتایا گیا ہے۔ آخر میں کہا گیا ہے کہ شَیو دھرم کی توسیع و تائید دھرم شاستر، اتیہاس-پوران اور بالخصوص شَیو آگموں کے اَنگ، تفصیلی ودھیوں اور سنسکار/ادھیکار کے نظام کے ساتھ مکمل طور پر ہوتی ہے۔
पाशुपतव्रतविधिः | The Procedure of the Supreme Pāśupata Vow
باب 33 میں رشی ‘اعلیٰ پاشُپت ورت’ کی تعلیم چاہتے ہیں—یہ وہ عمل ہے جسے برہما وغیرہ دیوتاؤں نے بھی اختیار کیا اور ‘پاشُپت’ کہلائے۔ وایو اسے رازدارانہ، گناہ نِگار اور وید-مُطابق (اتھروَشیرس سے وابستہ) ورت بتا کر اس کی رسمیات بیان کرتا ہے۔ پہلے مبارک وقت کا انتخاب (خصوصاً چَیتر کی پورنیما)، شِو سے منسوب مقام (کشیتر، باغ یا نیک علامتوں والا جنگل)، غسل اور روزمرہ کرم پورے کر کے تیاری کا ذکر ہے۔ سادھک آچاریہ کی اجازت لے کر خاص پوجا کرتا ہے اور طہارت کی علامت کے طور پر سفید لباس، سفید یَجنوپویت، سفید مالا/لیپ دھارتا ہے۔ دربھ آسن پر بیٹھ کر دربھ ہاتھ میں لے، مشرق یا شمال رُخ تین بار پرانایام، شِو اور دیوی کا دھیان، اور ‘میں یہ ورت گرهَن کرتا ہوں’ کا سنکلپ کر کے دیکشت کی مانند ہو جاتا ہے۔ ورت کی مدت عمر بھر سے بارہ برس تک، پھر نصف وغیرہ، بارہ ماہ، ایک ماہ، بارہ دن، چھ دن حتیٰ کہ ایک دن تک بتائی گئی ہے۔ آخر میں اگنیادھان اور وِرجا-ہوم جیسے شُدھی ہوم کے ذریعے ورت کا عملی آغاز ہوتا ہے، جس سے پاپ-کشیہ اور شِو سے یگانگت حاصل ہوتی ہے۔
शिशुकस्य शिवशास्त्रप्राप्तिः (Śiśuka’s Attainment of Śaiva Teaching and Grace)
باب 34 میں رِشی پوچھتے ہیں کہ دودھ کے لیے تپسیا کرنے والا بچہ شیشُک کیسے شِو شاستر کا مُبلّغ بنا، اس نے شِو کی حقیقی ماہیت کیسے پہچانی، اور رُدراغنی کی برتر قوت پا کر محافظ بھسم کیسے حاصل کی۔ وायु بتاتے ہیں کہ شیشُک عام بچہ نہیں بلکہ دانا رِشی ویاگھرپاد کا بیٹا ہے؛ پچھلے جنم کے اسباب سے کامل ہوا اور زوال کے بعد مُنی کے پتر کے طور پر دوبارہ جنما۔ شِو کے پرساد اور نیک بختی سے اس کی سادہ دودھ کی خواہش تپسیا کا دروازہ بنی؛ پھر شنکر نے خود اسے کْشیرساگر کا ور اور دائمی مرتبہ عطا کیا—ہمیشہ کا ‘کُمارَتو’ اور شِو گنوں میں پیشوائی۔ پرساد سے اسے ‘کَومار’ گیان آگم، یعنی شکتی مَی گیان ملا اور وہ شَیو دھرم کا اُپدیشک بنا۔ ماں کے غم آلود دودھ سے متعلق کلمات فوری سبب بن کر قصہ آگے بڑھاتے ہیں؛ باقی حصے میں کرمی پس منظر، الٰہی عطا کی کیفیت، اور رُدراغنی/بھسم کی حفاظتی و دیكشاوی علامتوں کی اہمیت شَیو نجاتی تناظر میں بیان ہوتی ہے۔
उपमन्युतपः-निवारणप्रसङ्गः / Śiva restrains Upamanyu’s tapas (Śiva disguised as Indra)
باب 35 میں پیدا ہونے والے بحران سے گھبرا کر دیوتا ویکنٹھ پہنچتے ہیں اور ہری (وشنو) کو ماجرا سناتے ہیں۔ وشنو غور کرکے فوراً مندر پہاڑ پر مہیشور کے پاس جاتے ہیں اور عرض کرتے ہیں کہ دودھ کی خواہش میں برہمن بالک اُپمنیو اپنے تپسیا کے زور سے سب کچھ جلا رہا ہے، اسے روکا جائے۔ مہیشور تسلی دیتے ہیں کہ وہ خود اس کے تپس کو قابو میں کریں گے اور وشنو کو اپنے دھام لوٹنے کو کہتے ہیں؛ یوں تپس اور اس کے کائناتی نتائج کی نگرانی میں شیو کا اختیار ثابت ہوتا ہے۔ پھر شیو شکر (اندر) کا بھیس دھار کر سفید ہاتھی پر سوار، دیو و نیم دیووں کے ساتھ تپوون کی طرف روانہ ہوتے ہیں؛ چھتر، چامر وغیرہ کے ساتھ اندر جیسی شاہانہ شان میں، مندر پر چاند کی مانند درخشاں بیان ہوتے ہیں۔ یہ باب منضبط الٰہی مداخلت کی تمہید ہے—بھیس بدل کر آنا، تپس کی طاقت کو سچائی، تتّو اور درست بھکتی کی سمت موڑنا۔