
Adhyāya 140 — वश्यादियोगाः (Vaśyādi-yogāḥ): Sixteen-Square Diagram, Herb-Lists, and Encoded Formulas for Subjugation, Protection, and Prosperity
بھگوان اگنی ‘وشیادی یوگ’ نامی ایک فنی و عملی رسمیات کا بیان کرتے ہیں—جس کا مقصد وشیकरण، کشش اور متعلقہ اثرات ہیں—اور یہ سب دْویَشْٹ پَد (سولہ خانوں) کے نقش/یَنتَر میں منظم ہے۔ ابتدا میں عنوانات اور نسخہ جاتی اختلافات (پاتھ بھید) کی طرف اشارہ ہے، پھر مادّۂ طب/جڑی بوٹیوں کی فہرست میں بھृنگراج، سہدیوی، پترنجیو/کرتانجلی، وشنوکْرانتا/شِتا-آرکک وغیرہ کے نام اور مترادفات آتے ہیں، جو متن کی عملی دواشناسی دکھاتے ہیں۔ اس کے بعد یَنتَر کے خانوں میں رِتوِج، ناگ، مُنی/مَنو، شِو، وَسو، دِک، رَس، وید، گْرہ، رِتو، سورْیَ، چندر وغیرہ کی پد-دیوتاؤں اور زمروں کے مطابق کائناتی نقشہ بندی کر کے اسے بدن سے جوڑا گیا ہے۔ پھر عمل کی ترتیب: دھوپ (دھونی/فومیگیشن)، اُدوَرتن (ملش/اُبٹن)، اَنجن (سرمہ)، سْنان (غسل) اور متعدد لیپ (لیپ/پیسٹ)؛ خاص طور پر ہمہ کار دھوپ کی فضیلت اور مُعطّر/ملیدہ سادھک کو عزت ملنے کا ذکر ہے۔ گھر خوشبودار کرنے، آنکھ کے سرمے، غسل، کھانے، پینے، تلک وغیرہ کے استعمال کے مطابق منتر-درویہ کے گروہ الگ کیے گئے ہیں؛ آخر میں وشیہ، ہتھیار روکنے (شسترستَمبھن)، پانی میں حفاظت، زرخیزی، آسان ولادت اور پتر-پراپتی کے لیے گُٹِکا (گولیاں) اور لیپ، نیز بھوت-سنکھیا طرز پر اجزا کی تعداد کے رمزی اشارے دیے گئے ہیں۔ اختتام پر رِتوِج-پد سے منسوب جڑی بوٹیوں کے ‘پربھاو’ کی تصدیق کر کے اگنی پران کی مقدس اور منظم فنی رسمیات کی روایت کو مضبوط کیا گیا ہے۔
No shlokas available for this adhyaya yet.
It is a sixteen-square diagrammatic grid used to write/assign names or ingredients; the chapter frames vaśyādi procedures through this structured yantra-like layout with deity and category placements.
It sequences dhūpa (fumigation), udvartana (unction), añjana (collyrium), snāna (bathing), multiple lepa (pastes), and guṭikā (pills), each tied to specific formula-groups and intended effects.
It combines manuscript awareness, pharmacological synonym lists, cosmological deity-mapping (tithi/graha/dik/ṛtu), and operational instructions for outcomes ranging from protection to fertility—treating applied science as sacred revelation.
Yes. It employs encoded expressions (bhūta-saṅkhyā style), such as triṣoḍaśa-diśā-vāṇa and other compound-number markers, to indicate measures or ingredient groupings within lepa/guṭikā preparations.