
Venkatachala Mahatmya
This section is anchored in the sacred mountain geography of Veṅkaṭācala (Tirumala–Veṅkaṭeśvara hill complex in South India), presenting the landscape as a theologically charged tīrtha where divine presence is narrated through temple-centric myth, ritual instruction, and merit discourse. The setting repeatedly ties mountain topography to Vaiṣṇava iconography (Śrīnivāsa/Janārdana) and to the protective, stabilizing symbolism of Varāha in relation to Bhūdevī (Dharaṇī).
40 chapters to explore.

Veṅkaṭācalamāhātmya (Adhyāya 1): Nāradasya Varāhadarśanam, Dharaṇī–Varāha-saṃvādaḥ, Tīrtha-māhātmya-nirdeśaḥ
باب 1 کا آغاز نَیمِشَارَنیہ کے کلاسیکی پورانک ماحول سے ہوتا ہے، جہاں شونک وغیرہ رشی لوک-رکشا کے لیے بارہ برس کا سَتر انجام دے رہے ہیں اور پَورانِک سوت اُگرشروَس سے اسکند پران سنانے کی درخواست کرتے ہیں۔ سوت، ویاس سے کی گئی سابقہ جستجو یاد دلاتا ہے؛ ویاس ایک قدیم واقعہ بیان کرتے ہیں—نارد سُمیرو پر چڑھ کر کائناتی پِپّل کے درخت کے نیچے ایک درخشاں دیویہ منڈپ دیکھتے ہیں اور کمل آسن پر متمکن، رشیوں اور دیوتاؤں سے مُخدوم، ورَاہ مُکھ پُروشوتم کا درشن پاتے ہیں۔ وہاں دھَرَنی (بھومی دیوی) سہیلیوں کے ساتھ نذرانے لے کر آتی ہیں؛ ورَاہ انہیں آغوش میں لیتے ہیں اور دھَرَنی اپنے سہارے کے لیے قائم بڑے پہاڑوں کے بارے میں پوچھتی ہیں۔ ورَاہ متعدد پہاڑی سلسلوں کا ذکر کر کے جنوب کے پُنّیہ بھو-بھاغ کی خصوصیت بیان کرتے ہیں—نارایَنادری/شری وینکٹاچل، سُوَرن مُکھری، کَمَلاکھ سَروور اور مندر کے علاقے کی نشان دہی کرتے ہیں۔ پھر تیرتھوں کی درجہ بندی میں سوامی پُشکرِنی کو سب سے برتر بتایا جاتا ہے اور اس میں بے شمار تیرتھوں (روایتاً ‘چھاسٹھ کروڑ’) کی موجودگی بیان ہوتی ہے؛ نیز چھ بڑے تیرتھ مقرر کیے جاتے ہیں۔ کُمار دھارِکا، تُمب، آکاش گنگا، پانڈَو، پاپ ناشن اور دیو تیرتھ میں مقررہ اوقات کے مطابق اسنان کے پھل بتائے جاتے ہیں۔ اختتام پر دھَرَنی کی ورَاہ-ستُتی، ورَاہ کا دھَرَنی سمیت وِرشَبھ آچل/شیش آچل کی طرف گमन، اور عقیدت سے پڑھنے یا سننے والوں کے لیے مرتبہ و مطلوبہ مرادیں عطا کرنے والی پھل شروتی کے ساتھ باب مکمل ہوتا ہے۔

Śrīvarāha-mantrārādhanavidhiḥ (The Ritual Procedure for Worship through the Śrīvarāha Mantra)
اس باب میں سوت ایک قدیم واقعہ بیان کرتے ہیں—ویوَسوت منونتر کے کرت یُگ میں نارائنادری پر دھَرَنی دیوی ورَاہ بھگوان کے پاس جا کر پوچھتی ہیں کہ کون سا منتر بھگوان کو راضی کرتا ہے اور کس سادھنا سے ہمہ گیر پھل—خوشحالی، سلطنت و اقتدار کی علامتیں، اولاد، اور بالآخر ضبطِ نفس والے سادھک کو بھگوت پد—حاصل ہوتا ہے۔ ورَاہ بھگوان ایک ‘نہایت رازدارانہ’ منتر ظاہر کرتے ہیں اور تاکید کرتے ہیں کہ اس کی تعلیم صرف بھکت اور پرہیزگار شخص کو دی جائے۔ پھر منتر کا مختصر شاستری تعارف آتا ہے—منتر: “اوم نمہ شری ورَاہای دھَرَنی اُدھّرَناے چ”; رِشی: سنکرشن، دیوتا: ورَاہ، چھندس: پنکتی، بیج: شری بیج۔ سَدگرو سے حاصل کرنے والے کے لیے چار لاکھ جپ مقرر ہے، اس کے بعد شہد اور گھی ملا پَیاس (دودھ-چاول) سے ہوم کی ہدایت ہے۔ دھیان میں سَفٹک جیسی چمک، کنول سرخ آنکھیں، ورَاہ مُکھ مگر نرم و شانت، چار بھجاؤں میں چکر، شنکھ، اَبھَے مُدرا اور کنول، سرخ و سنہری پوشاک و زیورات، اور شیش وغیرہ کے کائناتی سہاروں کی علامتوں سمیت روپ بیان ہوتا ہے۔ پھل شروتی کے مطابق روزانہ 108 بار جپ سے مطلوبہ کام سدھ ہوتے ہیں اور آخرکار موکش ملتی ہے۔ پھر مثالیں دی جاتی ہیں—دھرم نامی منو نے دیوتا جیسی حالت پائی، شاپ سے گرے ہوئے اندر نے سوَرگ واپس پایا، رشیوں نے اعلیٰ گتی حاصل کی، اور شویت دویپ میں جپ سے اَننت پرتھوی کا آدھار بنا۔ آخر میں دھَرَنی شری نیواس کے وینکٹ پر آنے اور وہاں دائمی قیام کے بارے میں سوال کرتی ہیں۔

अगस्त्यप्रार्थनया भगवतः सर्वजनदृग्गोचरत्ववर्णनम्; तथा पद्मावत्युत्पत्तिः वसुदानजन्म च (Agastya’s Petition for Divine Visibility; Origins of Padmāvatī and Birth of Vasudāna)
اس باب میں شری وراہ دھَرَنی (زمین) سے ایک قدیم واقعہ بیان کرتے ہیں۔ وینکٹاچل پر سوامی پُشکرِنی کے قریب شری نِواس/ہری ایک الٰہی وِمان میں مقیم ہیں؛ کہا جاتا ہے کہ وہ قیامتِ یُگ (کلپ) کے اختتام تک عام لوگوں سے پوشیدہ رہتے ہیں، پھر بھی حکمِ الٰہی سے سب کے لیے قابلِ پرستش ہیں۔ دھَرَنی سوال کرتی ہے کہ اگر بھگوان انسانوں کو نظر نہ آئیں تو عوامی پوجا کیسے قائم رہے؟ تب شری وراہ اگستیہ کی بارہ برس کی آرادھنا اور اس کی یہ التجا سناتے ہیں کہ پرَبھو سب جسم دھاریوں کے لیے دیدار پذیر ہوں؛ بھگوان وِمان کی شان برقرار رکھتے ہوئے سب کو درشن عطا کرتے ہیں۔ اس کے بعد نسب نامہ اور سببِ پیدائش کی روایت آتی ہے۔ بعد کے زمانہ چکروں میں راجا مِتروَرما کا عروج اور وہاں سے آکاش راج تک کی نسل کا ذکر ہوتا ہے۔ یَجْیَ کے لیے ہل چلانے کے وقت زمین سے پدماوتی کا ظہور ہوتا ہے؛ اسے بیٹی مان کر رانی دھَرَنی کے سپرد کیا جاتا ہے۔ پھر دھَرَنی مبارک نشانیوں کے ساتھ وسودان کو جنم دیتی ہے؛ اس کی اسلحہ و فنون اور نظم و ضبط کی تعلیم کا خلاصہ بیان کر کے راج دھرم، حقانیت اور اس خطے کی مقدس تاریخ کو قائم کیا جاتا ہے۔

Pad्मिनी/Pad्मावती-Lakṣaṇa and Śrīnिवास Encounter in the Puṣpāṭavī (Chapter 4)
اس باب میں سوت کے بیان سے دھرتی (دھرنی) کا سوال نقل ہوتا ہے اور ورَاہ بھگوان جواب میں بتاتے ہیں کہ آکاش راج نے زمین سے پیدا ہوئی کنیا کا نام “پدمِنی” رکھا۔ پھر پدماؤتی کے باغ/آشرم کے نزدیک دیورشی نارَد اچانک آتے ہیں؛ پدماؤتی کی درخواست پر وہ شُبھ جسمانی لکشَنوں کی مفصل فہرست بیان کرتے ہیں اور آخر میں کہتے ہیں کہ اس کا روپ “وشنو-یوگیہ” ہے اور لکشمی کے مانند ہے۔ نارَد کے غائب ہو جانے کے بعد پدمِنی/پدماؤتی سہیلیوں کے ساتھ بہار کے پھول چننے پُشپَاٹوی میں داخل ہوتی ہے؛ طرح طرح کے پھولوں کا ذکر آتا ہے اور جنگل ایک پاکیزہ، رسم و جمال سے بھرپور مقام کے طور پر نمایاں ہوتا ہے۔ اسی دوران ایک خوفناک ہاتھی نمودار ہو کر دہشت پھیلاتا ہے، مگر فوراً ہی گھوڑے پر سوار، کمان بردار نورانی شخصیت ظاہر ہوتی ہے—وینکٹادری-نِواسی شری نِواس، جو اس مقامی روایت میں اپنے آپ کو سورَیَوَںشی “کرشن” بتاتا ہے۔ عورتیں کہتی ہیں کہ ‘ایہامِرگ’ نہیں دیکھا، یہ راج-محفوظ جنگل ہے اور اس کی شناخت پوچھتی ہیں؛ وہ شکار کے لیے آنے کی بات کہہ کر پدماؤتی کو دیکھ کر کشش کا اقرار کرتا ہے، پھر سہیلیوں کی راج-دَند کی تنبیہ سن کر خدام کے ساتھ تیزی سے پہاڑ کی طرف روانہ ہو جاتا ہے۔

पद्मावतीदर्शन-प्रसङ्गः तथा बकुलमालिकाया यात्रामार्ग-निर्देशः (Padmāvatī Encounter and Bakulamālikā’s Route Instructions)
اس باب میں الٰہی آمد کے بعد قصہ باطنی تڑپ اور شوقِ فراق کی طرف مڑتا ہے۔ شرینیواس جواہرات سے آراستہ منڈپ میں داخل ہو کر پدماوتی کے حسن کے تذکرے میں محو ہو جاتے ہیں اور موہ (حیرتِ عشق) کی سی کیفیت میں بے خود سے ٹھہر جاتے ہیں۔ تب بکُلمالیکا باقاعدہ تیار کی ہوئی نذر و نیاز کے ساتھ آتی ہے، ان کے جسمانی و ذہنی آثار دیکھ کر سوال کرتی ہے اور اس حالت کی تعبیر بیان کرتی ہے۔ شرینیواس جواب میں پدماوتی کا قدیم زمانے سے رشتہ واضح کرتے ہیں—ویدوتی/سیتا کے واقعے اور آئندہ یُگ میں ملاپ کے وعدے کا ذکر—جس سے موجودہ محبت دھرم کی قسم اور ربّانی ارادے کی تسلسل کے طور پر ثابت ہوتی ہے۔ پھر وہ بکُلمالیکا کو یاترا کا راستہ بتاتے ہیں: نرسِمھ گُہا، اگستیہ آشرم اور سوورنمکھری کے کنارے اگستیہیش لِنگ، اس کے بعد جنگلات اور جھیلوں سے گزرتے ہوئے نارائنپوری/آکاش راج کی نگری۔ راستے میں درختوں، پرندوں اور جانوروں کی بھرپور فہرست ایک مقدس نقشۂ ارض کی صورت اختیار کرتی ہے۔ آخر میں بکُلمالیکا سفر شروع کرتی ہے اور پدماوتی کی سہیلیوں سے ملاقات کر کے اگلے مکالمے کی بنیاد رکھتی ہے۔

Padmāvatī’s Vision, Royal Divination, and Vaiṣṇava Marks of Devotion (Chapter 6)
اس باب میں شاہی محل کی حکایت اور ویشنو دھرم کی تعلیم باہم پیوست ہے۔ آکاش راجا کے اندرونِ محل کی عورتیں بیان کرتی ہیں کہ شہزادی پدماوتی کے ساتھ پھول چنتے ہوئے انہوں نے درخت کے نیچے ایک نہایت عجیب مرد دیکھا—اندرنیل کی مانند سیاہ فام، سونے کے زیورات اور ہتھیاروں سے آراستہ—جو پل بھر میں غائب ہو گیا؛ اس کے بعد پدماوتی بے ہوش ہو گئی۔ راجا دَیوَجْن (نجومی) سے مشورہ کرتا ہے؛ وہ سیاروی نشانیاں عموماً مبارک بتاتا ہے، مگر ایک پراسرار اضطراب بھی بتاتا ہے—شہزادی اس غیر معمولی مرد کے دیدار سے متاثر ہوئی ہے اور آخرکار اسی سے اس کا ملاپ ہوگا؛ نیز ایک پیامبر عورت خیرخواہ نصیحت لے کر آئے گی۔ علاج کے طور پر وہ برہمنوں کی سرپرستی میں اگستیہیش لِنگ کا ابھیشیک کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔ پھر شری وینکٹادری سے بکُلمالِکا آتی ہے اور محل میں لائی جاتی ہے۔ دھَرَنی (دیوی/ملکہ نما ہستی) ایک پُلِندِنی سے سچ معلوم کرتی ہے—پدماوتی کی تکلیف عشق سے پیدا ہوئی ہے؛ سبب خود ویکنٹھ پتی ہری ہیں جو سوامی پُشکرِنی کے نزدیک وینکٹادری پر سیر کرتے ہیں؛ وہ للِتا کو واسطہ بنا کر بھیجیں گے اور ملاپ واقع ہوگا۔ آخر میں پدماوتی بھکت کے لक्षण بیان کرتی ہے—شنکھ و چکر کے نشان، اُردھوا پُنڈْر اور بارہ ناموں کی دھارن جیسے ظاہری امتیازات، اور وید پاتھ، سچائی، بے آزاری، برہمچریہ/ضبطِ نفس، اور کرُونا جیسے باطنی آداب۔ ہوم اور گرم مُہروں کے ذریعے پنچایُدھ (شنکھ، چکر، دھنش-بان، گدا، کھڑگ) ثبت کرنے کی رسم بھی بتائی جاتی ہے۔ باب کے اختتام پر عورتیں اگستیہیش کی پوجا مکمل کر کے برہمنوں کو کھانا اور دان دے کر عزت کرتی ہیں۔

बकुलमालिकादूत्यं पद्मावतीपरिणयनिश्चयश्च (Bakula-mālikā’s Embassy and the Determination of Padmāvatī’s Marriage)
اس باب میں دربارِ شاہی سے مندر تک ایک سفارتی و مذہبی سلسلے کے ذریعے پدماوتی–شرینیواس کے نکاحی قصّے کو رسم و رواج اور انتظامی ڈھانچے میں باقاعدہ کیا گیا ہے۔ ابتدا میں رانی دھَرَنی آنے والی دیوی سیواکار بَکُلمالِکا کی شناخت اور مقصد پوچھ کر تحقیق کے آداب اور اعتبار کے اصول قائم کرتی ہیں۔ بَکُلمالِکا وینکٹادری پر شرینیواس کی سیاحت، جنگلی مناظر کے واقعات، اور سوامی تیرتھ میں راجا شَنکھ سے ملاقات بیان کرتی ہے؛ وہاں تپسیا اور مندر/کشیتر کی بنیاد کو بھکتی کے جائز طریقے کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ شرینیواس راستے سے متعلق ہدایات دیتے ہیں—خصوصاً وِشْوَکسین کی تعظیم اور سوامی پُشکرِنی میں اشنان—یوں مقدس جغرافیہ کو معتبر عمل کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ پھر شاہی فیصلہ سازی سامنے آتی ہے۔ آکاش راجا وزیروں کے ساتھ پُروہت و نجومی اتھارٹی بْرِہَسپتی سے مشورہ کر کے شادی کا شُبھ وقت طے کرتا ہے—وَیشاکھ میں اُتّر پھالگُنی نَکشتر۔ اس کے بعد شہری و کائناتی جشن برپا ہوتا ہے: وِشوکَرما کی شہر آرائی، اِندر کی پھولوں کی بارش، اور دیگر دیوتاؤں کی نیک فال بخش عطائیں—یہ سب مل کر شُبھ نظم کی تصویر بناتے ہیں۔ آخر میں بَکُلمالِکا اور شُک (طوطا) دوت شرینیواس کے پاس لوٹ کر پدماوتی کی عرضداشت پہنچاتے ہیں؛ شرینیواس ہار بھیج کر قبولیت کا اشارہ دیتے ہیں، اور دیوتا کے استقبال کے لیے شاہی مہمان نوازی اور شادی کی تیاریاں باقاعدہ شروع ہو جاتی ہیں۔

Śrīnिवासस्य लक्ष्म्यादिकृत-परिणयालंकारः — The Bridal Adornment and Marriage Procession of Śrīnिवास
اس آٹھویں ادھیائے میں شری وراہ کے بیان کے مطابق شری نیواس لکشمی کو بلا کر شادی کی تمام تیاریوں کی نگرانی کا حکم دیتے ہیں۔ پھر شروتی، سمرتی، دھرتی، شانتی، ہری اور کیرتی وغیرہ ویدی تَتّو گویا مجسم ہو کر حاضر ہوتے ہیں اور خوشبودار تیل، لباس، زیورات، آئینہ، کستوری اور شاہی نشانیاں جیسا سامانِ رسم لاتے ہیں—یوں دھرم کے مطابق مبارک آرائش کی علامتی فہرست قائم ہوتی ہے۔ لکشمی دیوی لوکوں اور تیرتھوں سے لائے گئے معطر جل سے ابھینْگ-اسنان کروا کر پرمیشور کو پوشاک و زیور سے آراستہ کرتی ہیں؛ بھگوان اُردھوا پُنڈْر دھارن کر کے گڑوڑ پر سوار ہو کر نارائن پوری/آکاش راج کی نگری کی طرف جشنِ جلوس میں روانہ ہوتے ہیں، جہاں دیوتا، رشی، گندھرو اور اپسرا ئیں منگل پاٹھ کے ساتھ شریک ہوتی ہیں۔ پدماوتی کے ساتھ تین بار مالا کا تبادلہ، شُبھ گِرہ پرَوَیش، مانگلیہ سُوتر باندھنا اور لاجا ہوم وغیرہ شادی کے ارکان مکمل ہوتے ہیں۔ اس کے بعد پرابھرت (تحائف) کی طویل تفصیل آتی ہے—اناج، گھی، دودھ کی چیزیں، پھل، کپڑے، سونا و جواہرات، مویشی، گھوڑے، ہاتھی اور خدام—جس سے شاہی سخاوت دھارمک نذر کے طور پر نمایاں ہوتی ہے۔ آخر میں شری نیواس آکاش راج کو ور دیتے ہیں کہ اس کی بھکتی اٹل رہے اور من ہمیشہ بھگوان کے قدموں میں لگا رہے؛ دیوتا اپنے اپنے دھام لوٹتے ہیں اور بھگوان سوامی پُشکرِنی کے نزدیک قیام فرما کر نِرنتَر پوجا قبول کرتے ہیں۔

अथ वसुनिषादवृत्तान्तः—रंगदासकैंकर्यं—तोण्डमान्नृपकथा—पद्मसरोवरमाहात्म्यम् (Vasu the Niṣāda, Raṅgadāsa’s service, Toṇḍamān’s encounter, and the Padma-saras glory)
اس باب میں دھرتی دیوی کَلی یُگ میں پہاڑ پر بھگوان کی ظاہری حضوری کے بارے میں سوال کرتی ہیں۔ وراہ بھگوان مکالمے کے انداز میں چند نمونہ واقعات سنا کر تیرتھ-تتّو اور بھکتی کی مہِما بیان کرتے ہیں۔ پہلے واقعے میں جنگل میں رہنے والا نِصاد واسو پُروشوتم کا سچا بھکت بن کر شری اور بھو دیوی کے ساتھ بھگوان کو شہد ملا پکا ہوا شیاماک اناج نَیویدیہ کے طور پر چڑھاتا ہے۔ شہد لانے کے بعد جب وہ دیکھتا ہے کہ بیٹے نے نَیویدیہ کھا لیا ہے تو اسے چوری سمجھ کر تلوار اٹھاتا ہے؛ تب وِشنو درخت سے پرکٹ ہو کر تلوار روک دیتے ہیں، بچے کی بھکتی کو نہایت پیاری بتاتے ہیں اور سُوامی-سرس/سُوامی پُشکرِنی پر اپنے نِتیہ سانِّندھْی کی تصدیق کرتے ہیں۔ دوسرے واقعے میں پانڈیہ دیش سے آیا بھکت رنگداس وراہ استھان، سُوَرن مُکھری، کاملاکھْیہ سرور اور چکر تیرتھ وغیرہ کی یاترا کر کے سُوامی پُشکرِنی کے پاس شری نِواس کے درشن پاتا ہے۔ وہ باغ، کنویں اور پھولوں کی روزانہ سیوا کو کَینکریہ سمجھ کر انجام دیتا ہے؛ مگر ایک بار گندھروؤں کی جل-کِریڑا دیکھ کر دھیان بٹ جاتا ہے اور سیوا رہ جاتی ہے، جس پر وہ شرمندہ ہوتا ہے۔ دیوتا اسے تسلی دے کر فرماتے ہیں کہ اندرونی بھاؤ ہی اصل ہے؛ آگے اسے راجاؤں جیسی خوشحالی، مستقل بھکتی اور آخرکار موکش ملے گا۔ تیسرے واقعے میں سومکُل کے راجا ٹونڈمان شکار کے دوران وینکٹادری کے تیرتھوں سے گزرتے ہوئے دیوی رینوکا تک پہنچتے ہیں۔ ‘شری نِواس’ پکارنے والا پانچ رنگوں کا طوطا انہیں نِصاد جنگل-نگہبان کے پاس لے جاتا ہے، جو راجا کو سُوامی پُشکرِنی کے نزدیک چھپے ہوئے دیوتا کے استھان تک پہنچاتا ہے۔ دونوں پوجا کرتے ہیں، شیاماک-شہد کا پرساد لیتے ہیں؛ رینوکا ‘دیودیو پرساد’ کے طور پر ناقابلِ تسخیر راج اور ٹونڈمان کے نام کی راجدھانی کا ور دیتی ہیں۔ آخر میں شُک پدم-سرس کی مہاتمْیہ سناتے ہیں: دُروَاسا کے شاپ سے لکشمی (پدما/رما) کنولوں بھرے تالاب پر تپسیا کرتی ہیں؛ دیوتا باقاعدہ ستُتی کرتے ہیں۔ لکشمی اس ستوتر، بِلْو پتر سے پوجا اور اسنان کے ذریعے کھوئی ہوئی عزت، سمردھی اور موکش کے ور دیتی ہیں، پھر وِشنو کے ساتھ گڑُڑ پر سوار ہو کر ویکُنٹھ لوٹ جاتی ہیں۔

Toṇḍamān’s Accession; Varāha Revelation at the Valmīka; Bilamārga Guidance; Aṣṭhi-saras Revival; Bhīma the Potter’s Liberation; Phalaśruti
اس باب میں وینکٹاچل پر شاہی اقتدار کی شرعی و دھارمک توثیق، مقدس مقام کی دریافت اور عبادت کے نظام کی بنیاد ایک ساتھ بیان ہوتی ہے۔ آغاز میں ٹونڈمان کی تخت نشینی ہوتی ہے اور پدماسَرَس کی طہارت و برکت کا ذکر آتا ہے کہ کیرتن، سمرن اور اسنان سے پُنّیہ اور خوشحالی بڑھتی ہے۔ اسی کے ساتھ جنگل باسیوں کے سردار وَسو کو نورانی ورَاہ بھگوان کے درشن ہوتے ہیں؛ دیوتا وَلْمیک (چیونٹی کے ٹیلے) میں داخل ہو کر حکم دیتے ہیں کہ گائے کے دودھ سے ٹیلے کو دھویا جائے، شِلا پیٹھ پر قائم وِگرہ کو پہچان کر نکال کر پرتِشٹھا کیا جائے، اور ویکھانَس آچاریوں کے ذریعے نِتیہ پوجا قائم کی جائے۔ ٹونڈمان کو خواب میں بِلمارگ (سرنگی راستہ) کی رہنمائی ملتی ہے؛ پَلّوَ چِہن جیسے الٰہی آثار کے پیچھے چل کر وہ پرکار اور دروازے بنوا کر حفاظت کا بندوبست کرتا ہے، اور املی و چمپک کے درختوں کو دیوتا کی حضوری کی دائمی نشانی سمجھ کر محفوظ رکھنے کی ہدایت پاتا ہے۔ پھر ایک اخلاقی و انتظامی آزمائش آتی ہے: بادشاہ کی عارضی سرپرستی میں حاملہ برہمنی غفلت سے وفات پاتی ہے؛ شری نِواس کے حکم سے ‘اپمرتْیو نِوارن’ کہلانے والے اَشٹھی سَرَس میں اسنان بطور پرایشچت کرنے سے وہ دوبارہ زندہ ہو جاتی ہے۔ کُروَگرام کے کمہار بھیم کی سادہ بھکتی اور معمولی نذرانہ بھی بھگوان قبول کرتے ہیں؛ بادشاہ کے آنے پر بھیم اور اس کی بیوی ویکنٹھ کو پہنچتے ہیں۔ آخر میں ٹونڈمان جانشینی طے کر کے تپسیا کرتا ہے، بھگوان کے درشن سے سارُوپیہ اور وِشنوپد پاتا ہے۔ پھل شروتی میں وعدہ ہے کہ عقیدت سے سننے اور پڑھنے والوں کو بلند ثمرات اور الٰہی کرپا نصیب ہوگی۔

स्वामिपुष्करिणी-स्नानमाहात्म्यं तथा काश्यपोपाख्यानम् (Glory of bathing in Swāmipuṣkariṇī and the Kāśyapa episode)
یہ باب سوامی پُشکرِنی کو نہایت پاک کرنے والے تیرتھ کے طور پر بیان کرتا ہے۔ سوت کہتے ہیں کہ کاشیپ کا سوامی پُشکرِنی میں اشنان سخت اخلاقی آلودگیوں کو بھی مٹا دیتا ہے۔ رِشی کاشیپ کے قصور اور اس کی اچانک نجات کی وجہ پوچھتے ہیں تو سوت راجا پریکشت سے جڑا ہوا واقعہ سناتے ہیں۔ شکار کے دوران پریکشت ایک خاموش ورت والے رِشی کو دیکھتا ہے؛ جواب نہ ملنے پر غصّے میں اس کے کندھے پر مرا ہوا سانپ رکھ دیتا ہے۔ رِشی پُتر شرنگی شاپ دیتا ہے کہ ساتویں دن تکشک کے ڈسنے سے راجا مرے گا۔ بہت سے حفاظتی انتظامات کے باوجود تکشک فریب سے برہمن نما لوگوں کے بیچ آتا ہے اور پھل میں کیڑے کی صورت چھپ کر شاپ پورا کر دیتا ہے۔ زہر اتارنے والے منتر-ویدیہ کاشیپ راجا کو بچانے نکلتا ہے، مگر تکشک طاقت کی آزمائش اور مال کی لالچ دے کر اسے واپس موڑ دیتا ہے۔ پھر ‘قدرت کے باوجود راجا کی حفاظت نہ کی’ کہہ کر کاشیپ کی علانیہ ملامت ہوتی ہے۔ علاج و تدارک کے لیے وہ شاکلیہ مُنی کے پاس جاتا ہے؛ مُنی بتاتے ہیں کہ جب کسی کے پاس زہر زدہ جان بچانے کی صلاحیت ہو اور پھر بھی مدد نہ کرے تو یہ سخت پاپ ہے اور سماجی انجام بھی رکھتا ہے۔ کفّارے کے طور پر وینکٹادری جا کر سنکلپ کے ساتھ سوامی پُشکرِنی میں اشنان، وراہ سوامین اور پھر شری نیواس کی پوجا اور نِیَم پالَن کا حکم ہے؛ درشن اور ضبطِ نفس سے کاشیپ کی صحت، وقار اور عزت بحال ہو جاتی ہے۔ آخر میں پھل شروتی عقیدت سے سننے والوں کے لیے بلند مرتبے کی بشارت دیتی ہے۔

स्वामिपुष्करिणी-स्नानात् नरकनिस्तारः (Deliverance from Naraka through Bathing in Swāmi Puṣkariṇī)
اس باب میں رشی سوت سے پوچھتے ہیں کہ شری سوامی پُشکرِنی/سوامی تیرتھ کی ایسی کون سی عظمت ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ محض یاد کرنے سے بھی نجات ملتی ہے۔ سوت جواب دیتے ہیں کہ جو اس تیرتھ کی ستائش کریں، اس کی کتھا سنیں/سنائیں یا یہاں اسنان کریں، وہ نام لے کر گنوائے گئے اٹھائیس نرکوں میں نہیں جاتے۔ پھر باب میں ان نرکوں کے نام یکے بعد دیگرے بیان ہوتے ہیں اور بعض اخلاقی لغزشوں کو مخصوص سزا کے ٹھکانوں سے جوڑا جاتا ہے—دوسروں کے مال و رشتوں پر دست درازی، والدین اور اہلِ علم سے عداوت، ویدک راہ کی خلاف ورزی، جانداروں کو ایذا اور ہنسا، جنسی بدکرداری، پाखنڈی فرقوں سے دھرم میں خلل، ناپاک طرزِ عمل، حیوانات پر ظلم، اور رسومات میں ریاکاری وغیرہ۔ ہر مثال کے بعد تاکید کے ساتھ یہ یقین دہانی دہرائی جاتی ہے کہ سوامی تیرتھ میں اسنان اس سقوط سے بچا لیتا ہے۔ آخر میں پھل شروتی بتاتی ہے کہ یہ اسنان بڑے یَگیوں اور دانوں کے برابر ثواب دیتا ہے، سنگین گناہوں کو بھی فوراً پاک کرتا ہے، اور گیان، ویرागیہ اور ذہنی صفائی جیسی خوبیاں پیدا کرتا ہے۔ ساتھ ہی تنبیہ ہے کہ اسے مبالغہ سمجھ کر رد نہ کریں، کیونکہ بے اعتقادی روحانی طور پر خطرناک ہے۔ درشن، لمس، ستائش، نمسکار اور اسنان—یہ سب اس تیرتھ کو موت کے خوف سے امان اور بھُکتی–مُکتی (دنیاوی بھلائی اور موکش) کا جامع وسیلہ قرار دیتے ہیں۔

धर्मगुप्तचरित्रवर्णनम् | Dharma-gupta’s Episode and the Efficacy of Svāmipuṣkariṇī
سوت جی سوامی تیرتھ کی عظمت بیان کرتے ہوئے سوم وَنش کے نند کے بیٹے راجا دھرم گپت کا واقعہ سناتے ہیں۔ نند نے راجیہ کا بوجھ بیٹے کو سونپ کر جنگل کی راہ لی۔ دھرم گپت نے نیتی، یگیہ اور برہمنوں کو دان دے کر پرجا کی پرورش کی؛ سماج میں نظم قائم رہا اور لوٹ کھسوٹ و ظلم کا نام نہ رہا۔ ایک بار شکار کے دوران وہ ہولناک جنگل میں رات سے گھِر گیا۔ اس نے شام کی سندھیا کی پوجا کی، گایتری جپ کیا اور ایک درخت پر پناہ لی؛ شیر سے بھاگتا ہوا ایک ریچھ بھی اسی درخت پر چڑھ آیا۔ ریچھ نے رات بھر جاگنے کا عہد پیش کیا۔ شیر نے بھروسہ توڑنے پر اُکسایا، مگر ریچھ نے سمجھایا کہ وِشواس گھات (اعتماد شکنی) دوسرے گناہوں سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ بعد میں راجا نے سوئے ہوئے ریچھ کو نیچے گرا دیا۔ تب وہ ریچھ روپ بدل کر دھیانکاشٹھ نامی مُنی ظاہر ہوا اور راجا کو جنون کا شاپ دے دیا۔ مُنی نے یہ بھی بتایا کہ شیر دراصل بھدرناما یَکش ہے—کُبیر کا سابق وزیر—جو گوتم کے شاپ سے شیر کی صورت میں تھا؛ دھیانکاشٹھ سے گفتگو کے بعد وہ شاپ سے آزاد ہو کر الکا لوٹ گیا۔ وزیروں نے راجا کی دیوانگی کی خبر نند کو دی۔ نند نے مُنی جَیمِنی سے اُپائے پوچھا۔ جیمِنی نے وینکٹ پہاڑ پر سُورنمُکھری کے نزدیک سوامی پُشکرِنی میں اسنان کرانے کا حکم دیا؛ اسنان ہوتے ہی جنون دور ہو گیا۔ باپ بیٹے نے وینکٹیش/شری نیواس کی پوجا کی، دان دیے اور دھرم کے مطابق راج چلایا۔ آخر میں پھل شروتی ہے کہ سوامی پشکرنی میں ڈبکی جنون، اپسمار جیسے روگ اور بد اثر گرہوں کی پیڑا سے نجات دیتی ہے؛ کسی بھی جل میں اسنان سے پہلے “سوامی تیرتھم” تین بار پڑھنے سے برہملوک کی پرابتھی ہوتی ہے؛ اور اس کَتھا کا سننا بھی مہاپاپوں کا ناش کرتا ہے۔

सुमत्याख्यद्विजवृत्तान्तः — The Account of the Brahmin Sumati and Purification at Svāmi-puṣkariṇī
باب 14 میں سوت جی نَیمِشَارَنیہ کے رِشیوں کو ایک تعلیمی اِتِہاس سناتے ہیں جس کے ذریعے سوامی تیرتھ/سوامی پُشکرِنی کی تطہیر بخش قوت ظاہر ہوتی ہے۔ رِشی سُمَتی کے نسب، اس کے اخلاقی زوال اور نجات کے طریقے کی تفصیل چاہتے ہیں۔ سوت بیان کرتے ہیں کہ سُمَتی مہاراشٹر کے عالم و دیندار یَجْن دیو کا بیٹا تھا، مگر اس نے باپ اور وفادار پتنی کو چھوڑ کر ایک فتنہ انگیز کِراتی (قبائلی عورت) کی صحبت اختیار کی؛ چوری، نشہ اور دیگر بداعمالیوں میں پڑا، یہاں تک کہ ڈکیتی کے لیے بھیس بدل کر ایک برہمن کو قتل کر بیٹھا—یہ ‘مہاپاتک’ ٹھہرا۔ گناہ کا انجام ‘برہماہتیا’ کی ہولناک صورت میں مجسم ہو کر اس کا پیچھا کرتا ہے اور گھر پہنچ کر یَجْن دیو کے سامنے اخلاقی فیصلہ رکھتا ہے کہ ایسے پَتِت کو پناہ دینے سے پورا گھرانہ آلودہ اور خطرے میں پڑ جائے گا۔ باپ کی شفقت کے باوجود قصہ گناہ کی سنگینی اور سماجی و ویدک اخراج کو نمایاں کرتا ہے۔ اسی بحران میں رُدر اَمش کہلانے والے مہارشی دُروَاسا تشریف لاتے ہیں؛ یَجْن دیو کفّارے کا طریقہ پوچھتا ہے۔ دُروَاسا فرماتے ہیں کہ معمول کے پرایَشچِت سے یہ تقریباً ناممکن ہے، مگر ایک مقامِ مقدس کی پناہ ہے: وینکٹادری کے نہایت پُنیہ تیرتھ، سوامی پُشکرِنی میں اشنان۔ یَجْن دیو سُمَتی کو وہاں لے جاتا ہے؛ اشنان کرتے ہی آکاش وانی فوری پاکیزگی کی تصدیق کرتی ہے اور تیرتھ کو ‘پاپ-ورِکش-کُٹھارک’ (گناہ کے درخت پر کلہاڑا) کہہ کر سراہتی ہے۔ آخر میں پھل شُرُتی ہے کہ اس واقعہ کو سننے یا پڑھنے سے بلند ثواب حاصل ہوتا ہے۔

कृष्णतीर्थमाहात्म्य (Kṛṣṇatīrtha Māhātmya / The Glory of Kṛṣṇatīrtha)
باب ۱۵ میں شری سوت وینکٹ پہاڑ کے نہایت پُنیہ بخش کرشن تیرتھ کا ماہاتمیہ بیان کرتے ہیں اور اسے گناہوں کو مٹانے والا بتاتے ہیں۔ اخلاقی اصلاح پر زور ہے—کرتگھن (ناشکرا) اور والدین و گرو (استاد) کی بے ادبی کرنے والے بھی یہاں اشنان سے پاک ہو جاتے ہیں۔ پھر سبب کی کتھا آتی ہے: کرشن نامی رشی (رام کرشن کے پس منظر کے ساتھ) وینکٹاچل پر برسوں تک بے حرکت سخت تپسیا کرتے ہیں۔ ان کے جسم پر وَلْمیک/چیونٹیوں کا ٹیلہ چڑھ جاتا ہے، شدید بارش اور گرج چمک ہوتی ہے۔ بجلی گرنے سے ٹیلے کی چوٹی ٹوٹتی ہے تو گڑوڑ پر سوار، شنکھ‑چکر‑گدا دھاری، ون مالا سے آراستہ وشنو/شری نیواس پرکٹ ہوتے ہیں۔ بھگوان تپسیا سے خوش ہو کر خاص اشنان‑یوگ بتاتے ہیں: جب سورج مکر میں ہو اور پُشیہ نکشتر والی پُورنماسی ہو، اس دن کرشن تیرتھ میں اشنان گناہوں سے نجات اور من چاہا پھل دیتا ہے۔ دیوتا، انسان اور دِک پال بھی شُدھی کے لیے وہاں جمع ہوتے ہیں؛ تیرتھ رشی کے نام سے مشہور ہوگا۔ آخر میں اس کتھا کے سننے اور پڑھنے سے وشنو لوک کی پرابتि کی پھل شروتی کے ساتھ باب ختم ہوتا ہے۔

Jaladāna-praśaṃsā at Veṅkaṭādri (Praise of Water-Giving at Veṅkaṭācala)
اس باب میں وینکٹادری پر جل دان (پیاسوں کو پانی دینا/پانی کی فراہمی کرنا) کو فیصلہ کن اخلاقی و دینی عمل کے طور پر سراہا گیا ہے۔ شری سوت بیان کرتے ہیں کہ خصوصاً پیاسے کے حق میں پانی دینے سے غفلت کرنا بُرے جنموں کا سبب بنتا ہے، جبکہ وینکٹاچل میں کیا گیا جل دان کئی گنا ثواب دیتا ہے۔ تمثیلی اِتہاس میں اِکشواکو وَنش کے راجا ہیمانگ کو گائے دان، دھن دان اور یَجّیہ کی سرپرستی میں سخی دکھایا گیا ہے، مگر وہ یہ کہہ کر جل دان روک لیتا ہے کہ “پانی تو آسانی سے مل جاتا ہے”، اس لیے اسے وہ کم ثواب سمجھتا ہے۔ وہ ناپاک/نااہل مستحقین کو عزت دیتا اور ودوان، ضبطِ نفس والے برہمنوں کو نظرانداز کرتا ہے—یعنی پاتر-ویویک میں خطا۔ نتیجتاً وہ پست یونیوں میں گرتا ہوا متھلا میں گھر کی چھپکلی (گِرہ گودھِکا) بن جاتا ہے۔ ایک دن رشی شروت دیو آتے ہیں؛ مقامی راجا ان کی پوجا کرتا ہے۔ پاؤں دھونے کا پانی (پادو دک) چھینٹوں کی صورت میں چھپکلی کو لگتا ہے تو اسے سابقہ جنموں کی یاد (جاتی-سمَرَن) آ جاتی ہے۔ ہیمانگ اپنی غلطی مان لیتا ہے۔ شروت دیو سبب و مسبب واضح کرتے ہیں کہ وینکٹادری پر جل دان نہ کرنا اور غلط جگہ دان دینا ہی اس زوال کا باعث بنا۔ رشی پُنّیہ کی منتقلی اور پانی کے لمس کی تطہیر سے اسے حیوانی حالت سے رہائی دیتے ہیں؛ وہ دیولोक کو جاتا ہے، پھر راج جنم پاتا ہے اور آخرکار وشنو-سایوجیہ (قربِ خاص/اتحاد) حاصل کرتا ہے۔ اختتام پر وینکٹادری کی پاک کنندہ عظمت اور جل دان کے وشنو لوک دینے والے ہونے کی پھر تاکید کی جاتی ہے۔

Śrīveṅkaṭācala-kṣetrādi-varṇanam (Description of Veṅkaṭācala and its Sacred Preeminence)
اس باب میں سوت جی وینکٹادری/وینکٹاچل کی عظمت کا سلسلہ وار بیان کرتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ زمینی اور کونیاتی تمام تیرتھ وینکٹ پہاڑ میں موجود ہیں، اس لیے یہ کشتَر سرْو تیرتھ مَی پُنیہ دھام اور ایک دیویہ خرد-کائنات کی مانند ہے۔ دیوتا کی صورت کلاسیکی ویشنو روپ میں بیان ہوتی ہے—شنکھ اور چکر دھاری، پیتامبر پوش، کوستبھ سے مزین—جو بھکتوں کے محافظ اور وید پر قائم پاکیزگی کے سرچشمہ ہیں۔ آگے سالانہ سیوا میں مختلف علاقوں کے یاتریوں کی شرکت اور بھاد्रپد کے تہوار کے پس منظر میں درشن و سیوا کو تطہیر کا سبب کہا گیا ہے۔ خاص طور پر برہموَتسو—کنیا ماہ میں برہما کے قائم کردہ دھوجاروہن (جھنڈا بلند کرنے) کے رسم کی بات آتی ہے، اور اس سالانہ مہوتسو کو انسانوں، دیوتاؤں، گندھرووں، سدھوں اور ودوان دْوِجوں کے اجتماع کا مرکز بتایا گیا ہے۔ گنگا جیسے ندیوں میں افضل اور وشنو جیسے دیوتاؤں میں افضل—ایسی تشبیہوں سے وینکٹ کو کشتروں میں ‘اُتّموتّم’ قرار دیا گیا ہے۔ آخر میں پھل شروتی بتاتی ہے کہ بھکتی سے اس مہاتمیہ کا شروَن وشنو لوک میں بلند مرتبہ عطا کرتا ہے؛ نیز شری سوامی-پشکرِنی کو اہم تیرتھ کہہ کر اس کے نزدیک لکشمی کے ساتھ دیوتا کی ورَدانی حضوری کا ذکر کیا گیا ہے۔

Śrīveṅkaṭeśvaravaibhava-varṇanam (Theological Description of the Glory of Veṅkaṭeśvara)
باب 18 میں سوت جی شری نیواس/وینکٹیشور کی نجات بخش عظمت کا عقیدتی و تاتّوِک بیان کرتے ہیں۔ یہاں مقام پر مبنی نجات کا نظریہ پیش ہوتا ہے—وینکٹیشور کے ایک ہی درشن سے مکتی اور وِشنو-سایوجیہ کی حصولیابی بتائی گئی ہے؛ نیز یُگوں کے تقابل سے کلی یُگ میں پُنّیہ کا پھل فوری ملنے کی بات پر زور دیا گیا ہے۔ وینکٹاچل کو سَروَتیرتھ مَیَ کْشَیتر کہا گیا ہے، جہاں بہت سے مقدّس مقامات کی تاثیر یکجا ہے اور دیوتا، مُنی اور پِتر علامتی طور پر موجود ہیں۔ بیرونی رسومات کے مقابلے میں سمرن اور ستوتی کو برتری دے کر اَشٹ وِدھ بھکتی کی توضیح کی گئی ہے—بھکتوں سے محبت، پوجا سے تسکین، ذاتی سیوا، پرماتما کی مہیمہ سننے کی بےتابی، اور مسلسل سمرن وغیرہ۔ مقدّس مرکز کی بے ادبی یا دشمنی سے خبردار کیا گیا ہے۔ پھل شروتی میں پاپوں کے زوال، یم کی اذیتوں سے نجات، وشنو لوک کی پرابتि، اور بھکتی سے اس باب کے شروَن و پاٹھ کا عظیم پھل وعدہ کیا گیا ہے۔

Veṅkaṭācala-Nityāvasthā, Ārohaṇa-Krama, and Pāpavināśana-Tīrtha Māhātmya (दर्शन-आरोहण-तीर्थमाहात्म्य)
اس باب میں سوت جی وینکٹاچل کو ایک ہمیشہ پاک و مقدس دیویہ دھام کے طور پر بیان کرتے ہیں—بے شمار جھیلیں، ندیاں، سمندر، جنگلات اور آشرم؛ وشیِشٹھ وغیرہ رشی، سدھ، چارن اور کنّروں کی بستیاں وہاں آباد ہیں۔ وشنو لکشمی اور دھرنی کے ساتھ، برہما ساوتری اور سرسوتی کے ساتھ، شِو پاروتی کے ساتھ، گنیش اور شنمکھ، اندرادی دیوتا، گرہ دیوتا، وسو، پِتر اور لوک پال—سب کی نِتیہ سَنّیدھی سے یہ پہاڑ گویا ایک مسلسل دیوتا سبھا بن جاتا ہے۔ پھر یاترا کا آروہن-کرم بتایا گیا ہے—یاتری وینکٹادری سے زبان کے ذریعے معافی مانگ کر مادھو درشن کی پرارتھنا کرے اور نرمی سے قدم رکھتا ہوا پُنّیہ بھومی پر چڑھے۔ سوامی پُشکرِنی میں ضبط کے ساتھ اسنان کر کے، تھوڑا سا بھی پِنڈدان پِتروں کو دے تو پرلوک کی حالتوں میں اُدھار کا پھل ملتا ہے۔ اس کے بعد پاپ وِناشن تیرتھ کی مہاتمیہ—صرف اس کا سمرن بھی گربھ واس کی تکلیف کو ٹال دیتا ہے؛ سوامی-تیرتھ کے شمال میں اسنان کرنے سے ویکنٹھ کی پرابتّی کا وعدہ ہے۔ رشیوں کے سوال پر سوت ایک تعلیمی کتھا سناتے ہیں—ہِماوت کے نزدیک برہماش्रम میں شودر دِڑھمتی اعلیٰ رسومات چاہتا ہے مگر کُلپتی برہمن اہلیت کے سخت اصول بتا کر دیکشا نہیں دیتا۔ دِڑھمتی تپسیا کرتا اور بھکتی سیوا کے انتظامات قائم کرتا ہے؛ طویل سنگت سے سُمتی نامی برہمن اسے ویدک کرم سکھا کر پِتر کرم بھی کر دیتا ہے، جس کے سبب سُمتی کو مرنے کے بعد سخت عذاب اور کئی جنموں کی زنجیر بھگتنی پڑتی ہے۔ اگستیہ سبب بتا کر واحد علاج کہتے ہیں—وینکٹاچل کے پاپ وِناشن میں تین دن اسنان؛ اس سے برہمرکشس دوش مٹتا ہے اور باپ بیٹا آخرکار موکش پاتے ہیں۔ دِڑھمتی بھی ادھم یونیوں کے بعد پرندے کی صورت میں وہاں اسنان و پان کر کے فوراً دیویہ وِمان میں عروج پاتا ہے؛ آخر میں تیرتھ کی سَروپاپ شُدھی کرنے والی طاقت دوبارہ ثابت کی جاتی ہے۔

पापनाशनतीर्थमाहात्म्यं तथा भूमिदानप्रशंसा (Glory of Pāpanāśana Tīrtha and the Praise of Land-Donation)
شری سوت پاپناشن تیرتھ کی گناہ-ناشک عظمت کو ایک مثالی حکایت کے ذریعے بیان کرتے ہیں۔ بھدرمتی نامی ایک عالم مگر مفلس برہمن اپنی غربت سے پیدا ہونے والی سماجی تحقیر اور ذہنی کرب کا ذکر کرتا ہے—علم و حسنِ کردار کے باوجود وسائل کی کمی سے لوگوں کی نگاہ میں وقار گھٹ جاتا ہے۔ اس کی پتی ورتا اور اخلاقی بصیرت رکھنے والی بیوی کامنی، نارَد کے بتائے ہوئے اُپدیش اور اپنے والد کی مثال پیش کر کے وینکٹاچل کی یاترا کا مشورہ دیتی ہے—سنکلپ کے ساتھ اسنان، شری نیواس کے درشن، اور بھو-دان (زمین کا دان) کرنا۔ اس کے بعد بھو-دان کو دانوں میں سب سے برتر قرار دے کر اس کے تقابلی پھل، بڑے یگیوں کے برابر پُنّیہ، اور اہل مستحق (شروتریہ، اہیتاگنی) کو دینے پر مہاپاپوں کے زائل ہونے کی قوت بیان کی جاتی ہے۔ سُگھوش نامی داتا بھدرمتی کو ناپ تول کر زمین کا ایک ٹکڑا دان کرتا ہے اور اس عمل کو جناردن کے نام پر سمرپت کرتا ہے؛ روایت کے مطابق اس دان سے سُگھوش کی آخرت کی گتی مبارک ہوتی ہے۔ بھدرمتی خاندان سمیت وینکٹاچل جا کر سوامی-سرس میں اسنان کرتا ہے، وینکٹیشور کے درشن پاتا ہے اور پاپناشن تیرتھ میں بھو-دان مکمل کرتا ہے۔ اس ودھی کے اثر سے شنکھ-چکر-گدا دھاری وشنو پرکٹ ہو کر اس کی ستوتی قبول کرتے ہیں اور دنیاوی بھلائی و آخری موکش کی بشارت دیتے ہیں؛ آخر میں سوت تیرتھ اور دان کی مہیمہ دوبارہ دہراتے ہیں۔

Ākāśagaṅgā-tīrtha Māhātmya and Bhāgavata-Lakṣaṇa (रामानुजतपः, वेंकटेशदर्शनम्, भागवतलक्षणानि)
اس باب میں شری سوت نَیمِشَارَنیہ کے رِشیوں سے آکاش گنگا تیرتھ کی مہاتمیا اور بھاگوت کی پہچان بیان کرتے ہیں۔ رامانوج نامی ایک شاستر دان، ضبطِ نفس والا، ویکھانَس دھرم کا پابند برہمن آکاش گنگا کے کنارے طویل تپسیا کرتا ہے—گرمی میں پنچ آگنی، برسات میں کھلے آسمان تلے قیام، سردی میں جل شَین؛ ساتھ ہی اشٹاکشری منتر جپ اور جناردن کا باطنی دھیان مسلسل کرتا رہتا ہے۔ تپسیا سے پرسن ہو کر وینکٹیش/شری نیواس شنکھ-چکر-گدا دھاری روپ میں، دیویہ پریوار کے ساتھ، نارَد کے گیت اور آسمانی سازوں کے بیچ، سینے پر لکشمی سمیت پرکٹ ہوتے ہیں۔ رامانوج کی ستوتی سن کر بھگوان اسے گلے لگاتے ہیں اور ور مانگنے کو کہتے ہیں؛ رامانوج اٹل بھکتی مانگتا ہے اور درشن کو ہی پرم سِدھی سمجھتا ہے۔ یہاں بھگوان کے نام اور درشن کی موکش دینے والی شکتی پر زور دیا گیا ہے۔ پھر بھگوان آکاش گنگا میں اسنان کا خاص پُنّیہ کال بتاتے ہیں—میش سنکرانتی کے دن، چِترا نکشتر یُکت پُورنِما پر اسنان کرنے سے پرم دھام کی پرابتि اور پُنرآورتن سے نجات ملتی ہے۔ اس کے بعد ‘بھاگوت کو کیسے پہچانیں؟’ کے جواب میں اہنسا، حسد سے پاکی، سَیَم، سچائی، ماں باپ/برہمن/گاؤ سیوا، ہری کتھا شروَن کی رغبت، تیرتھ یاترا کا میلان، پانی و اَنّ دان، ایکادشی ورت، ہری نام میں رس، تُلسی کی عقیدت، اور تالاب-کنواں-باغ-مندر جیسے عوامی بھلائی کے کام—یہ سب بھاگوتوتم کی علامتیں بتائی جاتی ہیں۔ آخر میں سوت وِرشادری (وینکٹادری) کی وِیَد گنگا کے اس ‘اُتّم’ مہاتمیا کا اختتام کرتے ہیں۔

दानार्हसत्पात्रनिर्णयः तथा आकाशगंगामाहात्म्यम् (Eligibility for Worthy Recipients of Gifts and the Glory of Ākāśagaṅgā/Viyadgaṅgā)
باب کے آغاز میں رِشی سوتا سے پوچھتے ہیں کہ دان (دَان) کے لائق سَت پاتر کون ہیں اور کن اوقات/شرائط میں دان دینا مناسب ہے۔ سوتا برہمن کو بنیادی دان پاتر قرار دیتے ہیں، مگر ساتھ ہی یہ قید لگاتے ہیں کہ دان وہی قبول کرے جو شیل، آچار اور ضبطِ نفس کا پابند ہو۔ وید و دھرم سے عداوت رکھنے والے، فریبی، تشدد پسند، مقدس علم کو بیچنے والے، اور ہمیشہ مانگتے رہنے والے وغیرہ کی طویل فہرست دے کر بتایا گیا ہے کہ ایسے لوگوں کو دیا گیا دان ‘نِشْفَل’ (بے اثر) ہو جاتا ہے۔ پھر اَبھِوادن (سلام/تعظیم) کی آداب بیان ہوتے ہیں—کن مواقع پر کن کو نمسکار نہیں کرنا چاہیے، اور بے سوچ یا طریقے کے خلاف تعظیم سے پہلے کا پُنّیہ گھٹتا ہے۔ اس کے بعد آکاش گنگا/ویَیَد گنگا کا ماہاتمیہ نارد‑سنَت کُمار کے ضمنی بیان میں آتا ہے۔ پُنّیہ شیل نامی نیک برہمن ہر سال شرادھ کرتا ہے، مگر غلطی سے ‘وَندھیا پتی’ کو شرادھ کا رِتوِج مقرر کر دیتا ہے؛ نتیجتاً اس کا چہرہ گدھے جیسا ہو جاتا ہے۔ وہ اگستیہ کے پاس جاتا ہے؛ اگستیہ عیب بتا کر شرادھ کی دعوت کے سخت اصول بیان کرتے ہیں—اولاد والا، باقاعدہ گِرہست برہمن؛ نہ ملے تو قریبی رشتہ دار، یا خود ہی کرم۔ کفّارے کے طور پر وینکٹاچل کی یاترا، پہلے سوامی پُشکرِنی میں اسنان اور پھر تیرتھ‑ودھی کے مطابق آکاش گنگا/ویَیَد گنگا میں اسنان کا حکم ہے؛ درست اسنان سے بگاڑ فوراً دور ہو جاتا ہے، اور سوتا روایت کی سند کو دوبارہ قائم کرتے ہیں۔

Cakratīrtha-māhātmya and Padmanābha’s Tapas; Sudarśana’s Protection (चक्रतीर्थमाहात्म्यं)
سوت جی رشیوں سے چکراتیرتھ کی ماہاتمیا بیان کرتے ہیں۔ اس تِیرتھ کی عظمت سننے سے پاپوں کی میل دور ہوتی ہے، چِت شُدھ ہوتا ہے اور بھکت وِشنو دھام کی طرف رُخ کرتا ہے—یہاں اسی پھل شروتی کا بیان ہے۔ پھر چکرپُشکرِنی کے کنارے پدمنابھ نامی ایک باانضباط برہمن تپسوی طویل عرصہ تپسیا کرتا ہے۔ سچائی، کرُونا، اِندریہ نِگرہ، ویراغیہ اور سب کے بھلے کی بھاونا سے یُکت اس کی تپسیا سے پرسن ہو کر شری نیواس/وینکٹیشور پرکٹ ہوتے ہیں؛ پدمنابھ ستُتی کرتا ہے اور بھگوان اسے تِیرتھ کے پاس رہ کر نِتیہ پوجا کرنے کی آگیا دیتے ہیں۔ بعد میں ایک راکشس مُنی کو دھمکاتا ہے؛ پدمنابھ شَرن آگتی کے کلمات سے بھگوان کو پکارتا ہے۔ وِشنو سُدرشن چکر بھیجتے ہیں؛ وہ آتشیں تیج کے ساتھ آ کر راکشس کو بھگاتا اور آخرکار وध کرتا ہے۔ پدمنابھ سُدرشن کی ستُتی کر کے دائمی حفاظت مانگتا ہے؛ سُدرشن چکراتیرتھ میں لوک کلیان کے لیے نِتیہ نِواس کا ور دیتا ہے۔ وہاں اسنان کو موکش پرد اور نسلوں تک شُدھی دینے والا کہا گیا ہے؛ اختتام پر شروَن-پাঠ کے پُنّیہ اور چکراتیرتھ کی بے مثال مہِما پھر سے ثابت کی جاتی ہے۔

सुन्दरगन्धर्वस्य शापः, राक्षसत्वनिवृत्तिः, चक्रतीर्थमाहात्म्यम् (Sundara Gandharva’s Curse, Release from Rākṣasa-form, and the Glory of Cakratīrtha)
باب کے آغاز میں رِشی سوتا سے پوچھتے ہیں کہ وہ کون سا ظالم راکشس تھا جس نے وِشنو بھکت برہمن کو ستایا۔ سوتا شری رنگ دھام کا پچھلا واقعہ بیان کرتا ہے جو ویکنٹھ کے مانند مقدس ہے، جہاں بھکت شری رنگناتھ کی پوجا کرتے ہیں۔ وہاں ویر باہو کا بیٹا سندر گندھرو ایک جل تیرتھ پر بہت سی عورتوں کے ساتھ بے حیائی سے پیش آتا ہے۔ دوپہر کے کرم کے لیے وِسِشٹھ آتے ہیں تو عورتیں خود کو ڈھانپ لیتی ہیں مگر سندر نہیں؛ اس بے شرمی پر وِسِشٹھ اسے راکشس بننے کا شاپ دیتے ہیں۔ عورتیں وِسِشٹھ سے رحم کی درخواست کرتی ہیں کہ ایسا شاپ سماجی دھرم اور اخلاق کو نقصان پہنچائے گا۔ وِسِشٹھ اپنے کلمے کی سچائی برقرار رکھتے ہوئے علاج بتاتے ہیں: شاپ سولہ برس رہے گا؛ پھر سندر راکشس روپ میں بھٹکتے ہوئے مبارک وینکٹادری اور چکرتیرتھ پہنچے گا۔ وہاں پدمنابھ نامی یوگی رہتا ہے؛ جب راکشس اس پر حملہ کرے گا تو وِشنو کا سُدرشن چکر برہمن کی حفاظت کے لیے متحرک ہو کر راکشس کا سر کاٹ دے گا، اور سندر دوبارہ دیویہ روپ پا کر سوَرگ لوٹ جائے گا۔ کథا اسی طرح پوری ہوتی ہے—سندر خوفناک راکشس بن کر سولہ برس گھومتا ہے اور آخر چکرتیرتھ پر پدمنابھ پر چڑھ دوڑتا ہے۔ یوگی جناردن کی ستوتی کرتا ہے؛ سُدرشن ظاہر ہو کر راکشس کو وध کرتا ہے۔ سندر روشن و تاباں ہو کر سُدرشن کی مدح کرتا ہے، سوَرگ واپسی اور غم زدہ بیویوں کے درشن کی اجازت مانگتا ہے؛ سُدرشن اجازت دیتا ہے۔ پدمنابھ بھی عرض کرتا ہے کہ سُدرشن چکرتیرتھ میں سدا حاضر رہے، پاپوں کا نाश کرے، موکش دے اور بھوت پِشाच وغیرہ کے خوف سے بچائے۔ آخر میں سوتا کہتا ہے کہ اس قصے کے سننے سے انسان گناہوں سے پاک ہوتے ہیں اور تیرتھ کی پاکیزہ مہिमा بیان ہوئی۔

जाबालितीर्थमाहात्म्यवर्णनम् | The Glory of Jābāli Tīrtha (Jābālītīrtha Māhātmya)
باب 25 میں شری سوت نَیمِشَارَنیہ کے رشیوں کو وینکٹادری پر واقع جابالی تیرتھ کی مہیمہ سناتے ہیں۔ وہ اسے ایسا مقدس مقام بتاتے ہیں جو تمام پاپوں کا نाश کرتا ہے۔ رشی ‘دُراچار’ نامی شخص اور اس کی بدکرداری کی نوعیت دریافت کرتے ہیں۔ سوت بیان کرتے ہیں کہ کاویری کے نزدیک رہنے والا ایک برہمن دُراچار مہاپاتکیوں (برہماہتیا کرنے والا، شراب نوش، چور، گروتلپگ وغیرہ) کی طویل صحبت سے آلودہ ہو گیا۔ متن میں درجۂ بدرجہ بتایا گیا ہے کہ ایسے مجرموں کے ساتھ دیر تک رہنا، چھونا، ساتھ کھانا اور ساتھ سونا—ان سے برہمنیت گھٹتی جاتی ہے اور آخرکار دَوش کی برابری ہو جاتی ہے۔ پھر دُراچار پر ویتال کا اثر ہو گیا اور وہ بھٹکتا رہا؛ مگر باقی ماندہ پُنّیہ اور دیوی یوگ سے وہ وینکٹادری پہنچا اور جابالی تیرتھ میں اشنان کرتے ہی ویتال اور پاپوں سے فوراً چھوٹ گیا۔ بعد میں وہ رشی جابالی کے پاس جا کر سبب پوچھتا ہے۔ جابالی سمجھاتے ہیں کہ وہ ویتال پہلے ایک برہمن تھا؛ اس نے موت کی تِتھی پر مقررہ پارون-شرادھ نہ کیا، اس لیے پِتروں کے شاپ سے ویتال بنا۔ جابالی تیرتھ میں اشنان سے اسے بھی وِشنولوک کی پرابتھی ہوتی ہے۔ ساتھ ہی نصیحت ہے کہ مرحوم ماں باپ کے شرادھ کی لاپرواہی ویتال گتی اور نرک کا سبب بنتی ہے۔ آخر میں پھل شروتی ہے کہ جابالی تیرتھ میں صرف اشنان سے وہ سخت پاپ بھی مٹتے ہیں جن کا سمریتیوں میں واضح پرایشچت نہیں، اور اس مہیمہ کا شروَن بھی پاپ موچک ہے۔

Ghōṇa-tīrtha (Tumburu-tīrtha) Māhātmya and the Tumburu Gandharva Narrative
اس باب میں شری سوت گھوṇا-تیرتھ (تُمبُرو-تیرتھ) کی غیر معمولی پاکیزگی بیان کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ اُتّراآ پھالگُنی کے ساتھ شُکل پکش اور سورج کے برجِ حوت (مین) میں ہونے کے وقت یہ گھڑی نہایت مبارک ہے؛ اسی وقت گنگا وغیرہ بڑے تیرتھ یہاں جمع ہوتے ہیں، اس لیے اس زمانے میں اسنان خاص ثمر دیتا ہے۔ پھر گھوṇا-تیرتھ میں اسنان سے روگردانی کرنے والوں کے لیے سخت دینی و اخلاقی تنبیہ آتی ہے—انہیں سنگین سماجی اور ویدک آچار شکنیوں کی فہرست کے ساتھ جوڑ کر ملامت کیا گیا ہے، تاکہ یاترا-دھرم اور پرایشچت کی منطق مضبوط ہو۔ اس کے بعد نجات بخش انداز میں کہا گیا ہے کہ اس تیرتھ میں اسنان، پانی پینا اور سیوا وغیرہ سے بے شمار گناہ و دوش پاک ہو جاتے ہیں اور اخلاقی بحالی ہوتی ہے۔ ضمنی اِتہاس میں تُمبُرو-تیرتھ نام کی وجہ بیان ہوتی ہے: دیول، گارگیہ کو سناتے ہیں کہ گھریلو نزاع سے لعنت زدہ تُمبُرو گندھرو نے وینکٹیشور کی پوجا کر کے تیرتھ-اسنان کیا اور وشنولوک پا لیا۔ لعنت یافتہ بیوی مینڈک بن کر پیپل کے کھوکھلے میں رہتی ہے؛ اگستیہ آ کر پتی ورتا دھرم کی تعلیم دیتے ہیں اور اس کی رہائی ہوتی ہے۔ آخر میں پھل شروتی کہتی ہے کہ پُورنماشی کو گھوṇا-تیرتھ اسنان بڑے دان اور یگیہ کے برابر پھل دیتا ہے، اور اس باب کا شروَن واجپَیَہ جیسا پُنّیہ اور دیرپا وشنولوک عطا کرتا ہے۔

Veṅkaṭācala as the Basis of All Tīrthas: Tīrtha-Enumeration, Auspicious Bathing Times, and the Merit of Purāṇa-Śravaṇa
باب 27 میں رشی سوت جی سے پوچھتے ہیں کہ وینکٹادری کیوں ‘مہاپُنّیہ گِری’ کہلاتا ہے، وہاں تیرتھوں کی کل تعداد کیا ہے، کون سے تیرتھ ‘پرَधान’ ہیں، اور کون سے تیرتھ دھرم کی رغبت، گیان، بھکتی-ویراغیہ اور موکش عطا کرتے ہیں۔ سوت جی ترتیب کے ساتھ تیرتھوں کی وسیع گنتی بیان کرتے ہیں، پھر ‘پرَधान’ تیرتھوں اور نتائج کے اعتبار سے ذیلی اقسام واضح کرتے ہیں۔ اس کے بعد وینکٹاچل کی چوٹی پر موکش سے وابستہ تیرتھوں کے لیے یاترا کے اوقات و ضوابط آتے ہیں—سوامی پُشکرِنی، وِیَدگنگا، پاپ وِناشن، پانڈوتیرتھ، کُمار دھارِکا اور تُنبوشٹیرتھ۔ کُمبھ ماس میں مَغھا-یوگ، میناسْتھ روی، میش سنکرانتی پر چِترا، وِرشبھسْتھ روی کے ساتھ دوادشی/ہری واسر، اور دھنُر ماس کی سحر کی دوادشی—ان اوقات میں اسنان کے پھل راجسویا وغیرہ یَگیہ کے برابر پُنّیہ، رکاوٹوں سے نجات، پاپوں کا نِواڑن اور موکش بتائے گئے ہیں؛ نیز استطاعت کے مطابق سونے کا دان، گودان، شالگرام-شِلا دان وغیرہ کی ہدایت ہے۔ پھر باب مقام-مرکوز کرم سے آگے بڑھ کر کلی یُگ میں وشنو کی پورانک کتھا کے شروَن کو نہایت مؤثر بتاتا ہے—تھوڑی دیر بھی یکسوئی اور شردھا سے سننا یَگیہ و دان کے مجموعی پھل کے برابر کہا گیا ہے اور نام-سنکیرتن کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ آخر میں پوران-وَکتا اور شروتا کے آداب—وَکتا کی ہر جگہ تعظیم، پاٹھ کے لیے موزوں مقام، سننے والوں کی پاکیزگی، نشست و شائستگی، اور بے ادبی/خلل/غفلت کے منفی نتائج—مقرر کر کے رشی سوت جی کی تکریم کرتے اور خوشی مناتے ہیں۔

कटाहतीर्थमाहात्म्यम् (Kataha Tīrtha Māhātmya) — Glory and Ritual Use of Kataha Tīrtha
اس ادھیائے میں شری وینکٹاچل کے کٹاہ تیرتھ کی تقدیس و عظمت کو متعدد آوازوں کے مذہبی مکالمے کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ رشی تری لوک میں اس کی شہرت کا سبب پوچھتے ہیں؛ نارَد کو سند کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مہادیو بھی اس کی کامل شان سے واقف ہیں۔ گنگا وغیرہ مقدس ندیاں اور دیگر تیرتھ اپنی تطہیر کے لیے کٹاہ تیرتھ کا سہارا لیتے ہیں—یوں اس کی برتری ثابت ہوتی ہے۔ ساتھ ہی تنبیہ ہے کہ اس مدح کو محض ‘ارتھواد’ سمجھ کر رد کرنا روحانی طور پر خطرناک ہے۔ پھر تیرتھ جل پینے کا طریقہ بتایا جاتا ہے: اشٹاکشر منتر یا وشنو کے ناموں (تین گونہ ناموچار سمیت) کے ساتھ پینا افضل ہے؛ منتر کے بغیر پینے پر کفّارہ نما کلمات کی ہدایت ہے۔ آخر میں مثال آتی ہے: برہمن کیشو بدعادات اور تشدد کے باعث گِر کر برہماہتیا کے گناہ میں مبتلا ہوتا ہے اور گناہ کی مجسم قوت اس کا پیچھا کرتی ہے۔ بھاردواج کی رہنمائی سے وہ سوامی پشکرِنی میں اسنان، وراہ پوجا، شری نیواس/وینکٹیش درشن اور کٹاہ تیرتھ کا پان کرتا ہے؛ نتیجتاً برہماہتیا مٹ جاتی ہے اور وینکٹیش خود الٰہی تصدیق عطا کرتے ہیں۔ اختتام میں اسے اتہاس سے مؤید اور معتبر روایت کے طور پر منتقل شدہ بیان کیا گیا ہے۔

अर्जुनस्य तीर्थयात्रा-प्रसङ्गः तथा सुवर्णमुखरी-वेङ्कटाचल-प्राप्तिः (Arjuna’s Pilgrimage Prelude and Arrival at Suvarṇamukharī and Veṅkaṭācala)
باب کے آغاز میں رِشی سُوَرنمُکھری ندی اور اس سے وابستہ تیرتھ-مجموعے کی پیدائش اور تاثیر کی مزید تفصیل طلب کرتے ہیں۔ سوت منی بندگی کے بعد بھردواج کے بیان کے حوالے سے قصہ سناتے ہیں اور مہابھارت سے جڑی روایت کی طرف بڑھتے ہیں—اندراپرستھ میں پانڈوؤں کا قیام اور دروپدی کے بارے میں گھریلو عہد و ضابطہ۔ شرط یہ تھی کہ اگر کوئی بھائی دوسرے بھائی کے گھر میں دروپدی کو دیکھ لے تو اسے ایک سال کی تیرتھ یاترا کرنی ہوگی۔ پھر ایک برہمن کی چوری شدہ گائے واپس دلانے کے لیے ارجن کو اسلحہ خانے میں جانا پڑتا ہے، جہاں دروپدی اور یدھشٹھِر موجود ہوتے ہیں؛ یوں عہد کی شرط لاگو ہو جاتی ہے۔ یدھشٹھِر اسے برہمن کی حفاظت اور مال کی حفاظت کے سبب اخلاقی و دھارمک طور پر درست قرار دیتے ہیں، مگر ارجن عہد کی پاسداری کو سب سے بڑھ کر مانتے ہیں—ورنہ نام و نیکنامی اور دھرم دونوں کو نقصان پہنچے گا۔ شاہی اجازت سے ارجن خدام اور وسائل کے ساتھ روانہ ہوتے ہیں اور گنگا، پریاگ، کاشی، جنوبی سمندر، پوری/پُروشوتّم، سِمھ آچل، گوداوری وغیرہ متعدد تیرتھوں کی زیارت کرتے ہیں۔ آخرکار وہ شری پربت اور وینکٹاچل پہنچ کر چوٹی پر ہری کی پوجا کرتے ہیں اور سُوَرنمُکھری کے درشن کرتے ہیں۔ روایت ہے کہ کُمبھ سمبھَو مہارشی اگستیہ نے اس مقدس ندی کو وہاں لایا/ظاہر کیا؛ اس طرح زاہدِ برحق کی سند سے ندی اور تیرتھ کی پاکیزگی ثابت ہوتی ہے۔

सुवर्णमुखरीवर्णनम् — Description of the Suvarṇamukharī and Arjuna’s visits to Kālahastīśvara and Bharadvāja’s āśrama
اس باب میں سورن مکھری ندی کی خوبصورتی اور روحانی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ ندی کی ٹھنڈی ہواؤں اور مقدس ماحول کا ذکر کرنے کے بعد، ارجن کی تیرتھ یاترا کا حال بیان کیا گیا ہے۔ ارجن کالہستی پہاڑ کا نظارہ کرتے ہیں، ندی میں اشنان کرتے ہیں اور بھگوان کالہستیشور (شیو) کی پوجا کر کے روحانی سکون حاصل کرتے ہیں۔ اس کے بعد، ارجن سدھوں اور یوگیوں کے مقامات سے گزرتے ہوئے بھردواج منی کے آشرم پہنچتے ہیں۔ وہاں کے قدرتی حسن اور سکون کا تجربہ کرتے ہوئے، وہ منی کی مہمان نوازی قبول کرتے ہیں۔ آخر میں، ارجن ندی کی اصل اور طاقت کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔

अर्जुन–भरद्वाजसंवादः । अगस्त्यदक्षिणगमनं च (Arjuna–Bhāradvāja Dialogue and Agastya’s Southward Journey)
باب کا آغاز پُرانوی بیانیہ فریم سے ہوتا ہے۔ شام کے نِتیہ کرم پورے کر کے ارجن ادب و عقیدت کے ساتھ رِشی بھاردواج کے پاس آتا ہے اور ایک عظیم دریا کی پیدائش، نیز وہاں اشنان اور دان سے حاصل ہونے والے پُنّیہ کے بارے میں تعلیم چاہتا ہے۔ بھاردواج ارجن کے نسب، شیل اور گُنوں کی ستائش کر کے فرماتے ہیں کہ توجہ سے سنی گئی یہ دیویہ کتھا گناہوں سے پیدا ہونے والی تکلیف کو دور کرتی اور چِتّ کو پاک کرتی ہے۔ پھر گفتگو شنکر کے وِواہ اُتسو سے وابستہ ایک واقعے کی طرف مڑتی ہے۔ دیوتاؤں اور دیگر ہستیوں کے اجتماع سے پرتھوی پر بوجھ بڑھتا ہے اور وہ ڈگمگا جاتی ہے۔ اس عدم توازن کو دیکھ کر مہادیو، جگت کی رکھشا کے لیے وقف، دیویہ شکتی سے اُدبھوت اگستیہ کو دَکشن دِش کی یاترا کا حکم دیتے ہیں۔ اگستیہ وِندھیا کو پار کر کے جنوب جاتے ہیں تو زمین پھر متوازن ہو جاتی ہے اور دیوتا اُن کی ستوتی کرتے ہیں۔ آگے اگستیہ ایک ایسے بلند پہاڑ کو دیکھتے ہیں جو گویا گھڑا ہوا سورج ہو، اس پر چڑھتے ہیں اور ایک حسین جھیل کے اُتّری کنارے کے پاس آشرم قائم کرتے ہیں۔ وہ وِدھی کے مطابق پِتروں، دیوتاؤں، رِشیوں اور واستو دیوتاؤں کی پوجا کر کے جگت کے استحکام کے لیے تپسیا کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔ یوں یہ باب مکالمہ، تِیرتھ کی علتِ پیدائش اور عالم کو سنبھالنے والی زاہدانہ کرِیا کے اخلاقی آدرش کو یکجا کرتا ہے۔

सुवर्णमुखरी-नदी-प्रवर्तनम् (The Manifestation and Course-Setting of the Suvarṇamukharī River)
اس ادھیائے میں بے ندی خطّے میں مخلوقات کی بھلائی کے لیے ایک مقدّس دریا کے ظہور اور اس کے راستے کے تعیّن کی علّت بیان ہوتی ہے۔ بھاردواج روایت کرتے ہیں کہ صبح کے نِتیہ کرم اور دیو پوجا کے بعد اگستیہ مُنی آکاش وانی سنتے ہیں: “جہاں ندی نہیں، وہاں یَجْیَہ اور سنسکاروں کی رونق نہیں رہتی؛ گہرے اَدھرم سے پیدا ہونے والے خوف کو مٹانے والی ہِتکاری ندی جاری کرو۔” وہ جمع شدہ رِشیوں سے مشورہ کرتے ہیں؛ رِشی اُن کے سابقہ غیر معمولی کارناموں کی ستائش کر کے اس لیے درخواست کرتے ہیں کہ اشنان اور شُدھی ممکن ہو، ایک عظیم ندی لائی جائے۔ پھر اگستیہ سخت موسموں میں قواعد بڑھا کر شدید تپسیا کرتے ہیں۔ اس تپسیا سے کائنات میں اضطراب اور جانداروں میں خوف پھیل جاتا ہے۔ دیوتا برہما کی پناہ لیتے ہیں؛ برہما اگستیہ کے آشرم میں ظاہر ہو کر ور دیتے ہیں۔ اگستیہ دیس کو پاکیزہ اور محفوظ کرنے کے لیے ایک بڑی ندی کی یَچنا کرتے ہیں۔ برہما گنگا کو بلا کر حکم دیتے ہیں کہ وہ اپنے سْوانش (جزوی تجلّی) سے اتر کر ایسی ندی بنے جو لوگوں کو پاک کرے اور رِشیوں و دیوتاؤں کی نِتیہ سیوا پائے۔ گنگا اپنے حصّے سے پیدا شدہ نورانی روپ ظاہر کر کے تکمیل کا وعدہ کرتی ہیں؛ اگستیہ راستہ بتاتے ہیں۔ آخر میں وہ پہاڑی چوٹیوں سے اس ندی-روپ کو مطلوبہ پथ پر لے جا کر سوورنمکھری کی تقدیس کی بنیاد قائم کرتے ہیں۔

सुवर्णमुखरीप्रभावप्रशंसा (Praise of the Efficacy of the Suvarṇamukharī River)
اس باب میں وینکٹاچل ماہاتمیہ کے ضمن میں دریائے سُوَرْنَمُکھری کے ظہور، نامگذاری اور اس کی رسم و عقیدہ کے اعتبار سے مقدّس حیثیت کا بیان ہے۔ بھردواج روایت کرتے ہیں کہ شکر (اندرا) کی قیادت میں دیوتا، اور رشیوں، سدھوں، چارنوں اور گندھرووں کی جماعتیں، اگستیہ کے ساتھ چلتی ہوئی اس ندی کی ستائش کرتی ہیں۔ وایودیو اس کے منبع اور شہرت کی توضیح کرتے ہیں کہ اگستیہ نے اسے زمین پر لایا، اسی لیے یہ ‘سُوَرْنَمُکھری’ کے نام سے مشہور ہو کر ندیوں میں افضل اور خدمت کے لائق مانی جائے گی۔ آگے اس کا مفصل ماہاتمیہ آتا ہے—اس ندی کا سمرن اور اس میں اسنان گناہوں کا نِشّے کرتا ہے؛ ہڈیوں کا وسرجن (استھی-نِمَجّن) اُخروی گتی میں مددگار ہے؛ اور اس کے کنارے کیے گئے دان، جپ، شرادھ وغیرہ اعمال کئی گنا ثمر دیتے ہیں۔ پھل شروتی میں صحت، رکاوٹوں کا ازالہ، پِتروں کے کرم کی تکمیل، اور گرہن و سنکرانتی جیسے اوقات میں خاص پُنّیہ کا ذکر ہے۔ آخر میں اگستیہ اُدَے کے دن سالانہ ورت بتایا گیا ہے—سونے کی اگستیہ مورتی بنا کر پوجا و دان، برہمنوں کو بھوجن اور نذر و سپردگی؛ جس سے جمع شدہ خطاؤں سے رہائی اور دیرپا روحانی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔

अगस्त्यतीर्थ–अगस्त्येश्वरप्रभावः; देवर्षिपितृतीर्थमाहात्म्यम्; सुवर्णमुखरी–वेणासङ्गमः; व्याघ्रपदासङ्गमः; शङ्खतीर्थवर्णनम् (Agastya Tīrtha and Agastyeśvara; Deva–Ṛṣi–Pitṛ Tīrthas; River Confluences; Śaṅkha Tīrtha)
ارجن مزید سننے کی لگن کے ساتھ دریا کے کنارے واقع تیرتھوں، اُن کے سنگموں اور وہاں اشنان و پوجا کے خاص ثواب کے بارے میں رشی سے سوال کرتا ہے۔ بھاردواج ترتیب سے بیان کرتے ہیں—سب سے پہلے اگستیہ تیرتھ، جسے سخت گناہوں کو بھی پاک کرنے والا کہا گیا ہے؛ پھر اگستیہ کے قائم کردہ اگستیہیشور لِنگ، جہاں دریا میں اشنان کے بعد پوجا کرنے سے یَجْن کے برابر عظیم پُنّیہ ملتا ہے۔ مکر سنکرانتی کے وقت کو مبارک اشنان کا زمانہ بتا کر اسی موسم میں اگستیہیش کے درشن کی خاص فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اس کے بعد دیو–رشی–پِتر تیرتھوں کی تثلیث آتی ہے؛ وہاں اشنان اور ودھی کے مطابق ترپن کرنے سے ‘رِن تریہ’ (دیو، رشی، پِتر کے قرض) سے نجات کا ذکر ہے۔ پھر دریاؤں کے سنگم—سوورنمکھری کا وینا سے سنگم اور سوورنمکھری کا ویاگھرپدا سے سنگم—ہر ایک کو پُنّیہ بڑھانے والا مقام بتایا گیا ہے۔ آخر میں شنکھ تیرتھ اور شنکھ رشی کے قائم کردہ شنکھیش کا تعارف ہے، جہاں درشن، اشنان اور تیرتھ جل پینا (پان) کو ملا کر ورشبھاچل کے علاقے کی طرف بڑھتی ہوئی بھکتی بھری یاترا کی تاثیر و مہاتم بیان ہوتا ہے۔

सुवर्णमुखरी–कल्यानदीसंगमः, वेंकटाचलवर्णनम्, नारायणमाहात्म्यं च (Suvarṇamukharī–Kalyā Saṅgama, Description of Veṅkaṭācala, and the Greatness of Nārāyaṇa)
اس باب میں بیان تین مربوط حصّوں میں آگے بڑھتا ہے۔ پہلے بھاردواج سوورنمکھری ندی کے پُنیہ کلیا ندی سے سنگم کا ذکر کرتے ہیں اور اسے غیر معمولی طور پر پاک کرنے والا بتاتے ہیں۔ وہاں اشنان کو مہایَگّیوں کے پھل دینے والا کہا گیا ہے، اور سنگم کی تقدیس و ابھیشیک سے وابستہ طہارت کے سبب برہماہتیا جیسے سنگین پاپ بھی کم ہوتے ہیں۔ پھر وینکٹاچل کی جگہ اور عظمت بیان ہوتی ہے—یہ ‘سبھی تیرتھوں کی پناہ’ اور وراہ-کشیتر ہے۔ وہاں شری کے ساتھ اچیوت وشنو کا نِواس بتایا گیا ہے؛ سدھ، گندھرو، رشی اور انسان بھگوان کی سیوا میں حاضر رہتے ہیں۔ وینکٹادری ناتھ کا سمرن آفتوں کو دور کرنے والا اور اَکشَے پد کی طرف لے جانے والا کہا گیا ہے۔ ارجن کے سوالات پر بھاردواج نارائن کی برتری، ناموں کی ہم معنویت، چتورویوہ کی توضیح، منتر-نِشٹھ سادھنا اور سِرشٹی-پرلے کا خاکہ پیش کرتے ہیں—دیویہ دےہ سے دیوتاؤں اور تتووں کی اُتپتی، یوگ نِدرا میں پرلے، پھر برہما کا ظہور، اور دھرم کی استھاپنا کے لیے بھگوان کا روپ دھارن۔ یوں یاترا-نیتی، بھکتی کی نجات بخش راہ اور پورانک مابعدالطبیعات ایک ہی تعلیم میں جمع ہو جاتی ہیں۔

Varāha-kṛta-dharaṇyuddharaṇa-kramaḥ and Śvetavarāha-kalpa-vṛttānta (Varāha’s Raising of Earth and the White Boar Kalpa Account)
اس ادھیائے میں بھاردواج مکالماتی انداز میں بھگوان وِشنو کے ورَاہ اوتار کی روایت بیان کرتے ہیں۔ پرلَے کے جل میں ڈوبی ہوئی وسومتی کے بغیر جیووں کا بوجھ کوئی نہیں سنبھال سکتا—یہ جان کر بھگوان پاتال کے علاقوں میں غرق زمین کو دیکھتے ہیں اور یَجْنَ مَی ورَاہ-دَہن دھارن کرتے ہیں؛ جس میں ویدک چھند، اگنیاں اور یَجْن کے اوزار اعضا پر علامتی طور پر منطبق بتائے گئے ہیں۔ ورَاہ جل میں اتر کر اندھیرا دور کرتے ہیں، رساتل کو مغلوب کرتے ہیں اور دانت پر زمین کو اٹھا کر اوپر لاتے ہیں؛ رشی ستوتی کرتے ہیں اور سمندر کی ہلچل کو منگل دھونی اور آہوتی جیسی تمثیلات سے بیان کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ارجن پوچھتے ہیں کہ پرلَے میں زمین کیسے قائم رہتی ہے اور سات پاتالوں کے نیچے اس کا سہارا کیا ہے۔ بھاردواج ناڑیکا، دن، مہینہ، سال جیسے کالمَان، یُگ-منونتر کی بناوٹ اور شویت ورَاہ کلپ میں منوؤں کی ترتیب بتاتے ہیں۔ پرلَے کے مراحل میں پہلے خشک سالی/حرارت، پھر کئی برسوں کی بارش، عالم گیر سیلاب، وِشنو کی ناف کے کمل پر برہما کی یوگ نِدرا، اور پھر الٰہی حکم سے نئی سِرشٹی کا ذکر آتا ہے۔ آخر میں کہا گیا ہے کہ اسی کلپ میں وِشنو نے سفید ورَاہ روپ لیا، پھر وینکٹاچل آ کر سوامی پُشکرِنی کے پاس وِہار کیا؛ برہما کی درخواست پر دیویہ روپ اختیار کرنے کے بعد پرتیَکش درشن دشوار ہو گیا—تب ارجن بھکتی اور کَتھا-شروَن کے ذریعے انسانوں کے لیے بھگوان تک رسائی کا طریقہ پوچھتے ہیں۔

शंखराजवृत्तान्तः — King Śaṅkha’s Devotion and the Veṅkaṭācala Darśana-Path
اس باب میں بھاردواج رشی ہَیہَیہ وَنش کے راجا شَنکھ کی مثالی ویشنو بھکتی کا بیان کرتے ہیں۔ راجا وِشنو کے یکسو بھکت ہیں—نِتیہ سمرن، جپ، پوجا اور ویشنو پرانک کتھاؤں کا عقیدت سے شروَن کرتے ہیں؛ نیز دان، ورت اور مہایَگّ یَتھوچت دَکشِنا کے ساتھ ودھی پورَوَک ادا کرتے ہیں۔ اتنے پُنّیہ کے باوجود پرتیَکش درشن نہ ملنے پر وہ غمگین ہوتے ہیں اور اسے پوروَکرم کے آورن کا شیش سمجھتے ہیں۔ تب کیشو اَدِرشّی وانی کے ذریعے فرماتے ہیں کہ وینکٹ نام اَدری (وینکٹاچل) اُن کا نہایت پریہ دھام ہے؛ وہاں دیرگھ تپسیا کرنے پر بھگوان خود پرگٹ ہوں گے۔ شَنکھ اپنے پتر وَجر کو راجیہ میں نیوکت کر کے نارائن گِری جاتے ہیں، سوامی-پُشکرِنی کے تٹ پر تپووَاس قائم کرتے ہیں۔ اسی دوران برہما کے آدیش سے اگستیہ مُنی بھی آتے ہیں؛ پربت کی پردکشنہ کرتے، سکندھ دھارا وغیرہ تیرتھوں کی سیوا کرتے اور گووند کی آرادھنا کرتے ہیں، مگر ابتدا میں درشن نہیں ہوتا۔ پھر برہسپتی، اُشنس اور راجوپریچر نامی وَسو ہدایت دیتے ہیں کہ وینکٹ پر گووند اگستیہ اور شَنکھ—دونوں کو درشن دے گا، اور اس سے وہاں جمع سبھی جیووں کو بھی اجتماعی درشن نصیب ہوگا۔ آخر میں اگستیہ و ساتھی پربت کی مبارک فطرت دیکھتے ہوئے سوامی-پُشکرِنی کے کنارے پہنچتے ہیں؛ شَنکھ ودھی پورَوَک اُن کا ستکار کر کے سب کے ساتھ کیرتن پر مبنی بھکتی میں مشغول ہوتا ہے۔

अगस्त्य-शङ्खतपःप्रसादः, सौम्यरूपप्रादुर्भावः, सुवर्णमुखरी-माहात्म्यम् (Agastya & Śaṅkha’s tapas—divine grace, the gentle epiphany, and Suvarṇamukharī’s sanctity)
بھردواج بیان کرتے ہیں کہ جگن ناتھ کے بھکت دنوں تک ستوتی اور پوجا کے آداب میں محو رہتے ہیں۔ تیسری رات انہیں مبارک خواب میں شंख، چکر اور گدا تھامے ہوئے چار بازوؤں والے پُروشوتم کے درشن ہوتے ہیں۔ پھر وہ سوامی پُشکرِنی میں اسنان کرکے صبح کے کرم ادا کرتے ہیں اور دوبارہ عبادت میں لگتے ہیں؛ تب ایک غیر معمولی نور ظاہر ہوتا ہے، گویا کائنات کی ساری روشنی ایک جگہ سمٹ آئی ہو۔ اس ہیبت ناک تجلّی کو دیکھ کر برہما وغیرہ دیوتا آتے ہیں، نارائن کی برتری و ماورائیت کی ستائش کرتے ہیں اور خوف کے سبب پُرامن (شانت) روپ کی درخواست کرتے ہیں۔ بھگوان جواہراتی وِمان پر سَومیہ روپ میں ظاہر ہو کر اگستیہ کو ور دیتے ہیں۔ اگستیہ اپنی تپسیا کی تکمیل عرض کرکے اٹل بھکتی مانگتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ بھگوان کے پہاڑ کے نزدیک سُوَرن مُکھری ندی پاپ ہارنی تیرتھ بنے—جہاں اسنان کرکے وینکٹ پر بھگوان کے درشن کرنے والوں کو بھُکتی اور مُکتی حاصل ہو۔ بھگوان یہ ور عطا فرماتے ہیں، ویکُنٹھ نامی شیل پر اپنی دائمی حضوری کا اعلان کرتے ہیں اور زیارت و سیوا نیز کہیں سے بھی سمرن کرنے والوں کے عظیم پھل بیان کرتے ہیں۔ پھر راجا شَنکھ کو اعلیٰ پرلوک گتی دے کر بھگوان غائب ہو جاتے ہیں۔ آخر میں بھردواج وینکٹادری، سوامی پشکرِنی اور اس ماہاتمیہ کے سننے اور یاد کرنے کی نجات بخش تاثیر کی پھل شروتی سناتے ہیں۔

अञ्जनातपःप्रकारः (Añjanā’s Mode of Austerity and the Vāyu-Boons at Veṅkaṭācala)
یہ باب سوت کے بیان کردہ مکالمے کی صورت میں ہے۔ اولاد نہ ہونے کے غم میں مبتلا اَنجنا کے پاس رِشی متنگ آتے ہیں اور اس کے مقصد کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ اَنجنا بتاتی ہے کہ پہلے شِو نے اس کے والد کیشری کو یہ ور دیا تھا کہ اگرچہ اس جنم میں کچھ حدیں ہوں گی، پھر بھی ایک نامور بیٹی پیدا ہوگی اور اسی بیٹی کا بیٹا کیشری کو عظیم مسرت دے گا۔ اَنجنا اولاد کے لیے موسمی و ماہانہ ورت، اسنان و دان، پردکشنا و نمسکار، شالگرام سے متعلق نذرانے اور طرح طرح کے دان دھرم کرتی رہی، مگر بیٹا نہ ملا تو اس نے تپسیا کا سہارا لیا۔ متنگ رِشی اسے مقدس مقامات کا ٹھیک راستہ بتاتے ہیں: جنوب کی طرف گھناچل اور برہمتیرتھ، مشرق کی طرف سوورنمکھری، شمال کی طرف ورشبھاچل اور سوامی پشکرِنی؛ وہاں اسنان کر کے وراہ اور وینکٹیش کی پوجا کرے، پھر مبارک درختوں سے گھِرے ویَدگنگا تیرتھ میں وایو کے لیے مقررہ تپسیا کرے۔ اَنجنا بتدریج سخت ریاضت اختیار کرتی ہے—پھل پر گزارے سے پانی پر، پھر مزید ضبط و قید۔ ہزار برس بعد نجومی طور پر مبارک گھڑی میں وایو پرگٹ ہو کر ور دیتا ہے؛ اَنجنا بیٹے کی یَچنا کرتی ہے تو وایو خود کو اس کا بیٹا قرار دے کر یش و کیرتی کا وعدہ کرتا ہے۔ آخر میں دیوتا، رِشی اور دیویاں اس غیر معمولی تپسیا کے درشن کے لیے جمع ہوتے ہیں—یہی تعلیم ابھرتی ہے کہ درست تیرتھوں میں منضبط سادھنا سے دیویہ انُگرہ حاصل ہوتا ہے۔

अञ्जनावरलब्ध्य्-आकाशगङ्गास्नानकालनिर्णय-करणीयदानप्रशंसा (Añjanā’s Boon; Determination of the Proper Time for Ākāśagaṅgā Bath; Praise of Prescribed Gifts)
اس باب میں سوت جی مکالمے کی صورت میں دھرم اور کرم کی تعلیم بیان کرتے ہیں۔ اَنجنا اپنے شوہر کے ساتھ برہما اور دیگر دیوتاؤں سے ملاقات کرتی ہے؛ اُن کی رضامندی سے ویاس جی کو مرکزی اُستاد مقرر کیا جاتا ہے۔ ویاس ‘لوک ہِت’ کے وعظ میں متنگ رِشی کے سابقہ قول کو جوڑ کر بتاتے ہیں کہ وینکٹ پربت پر سخت تپسیا کے بعد اَنجنا کے بیٹے کی پیدائش مقدر ہے۔ اس کے بعد آکاش گنگا/وینکٹ تیرتھ‑مجموعے میں اسنان کے لیے کال‑نِرنَے (مناسب وقت کا تعین) بتایا جاتا ہے۔ اَنجنا کے ‘پرتyaksh‑دیوس’ پر گنگا وغیرہ تمام تیرتھوں کے وہاں یکجا ہونے کا ذکر ہے اور خاص طور پر سوامی پُشکرِنی کی نہایت پاکیزگی کی ستائش کی گئی ہے۔ پُورنِما، میش‑پوشن کے سنگم اور نکشتر کے اشارے کے ساتھ مخصوص تقویمی یوگ بیان ہوا ہے؛ اس وقت اسنان کا پھل طویل مدت تک گنگا کنارے کے بہت سے تیرتھوں میں اسنان کے برابر کہا گیا ہے۔ پھر وینکٹادری پر مقررہ دان کی فضیلت آتی ہے—اَنّ دان اور وَستر دان کی تعریف، اور باپ کے لیے شرادھ کو خاص طور پر مؤثر بتایا گیا ہے۔ سونا، شالگرام، گائے، زمین، کنیا دان، پانی کی سبیل، تل، اناج، خوشبو و پھول، چھتری و چَور، پان وغیرہ کے دان سے بتدریج سوَرگ بھوگ، راجیہ‑ایشوریہ، شاستر‑ودیا سے آراستہ برہمنیت اور آخرکار چکرپانی (وشنو) کے فضل سے موکش تک کے نتائج بیان کیے گئے ہیں۔ پھل شروتی کے مطابق جو لوگ اس بیان کو باقاعدہ سنتے یا پڑھتے ہیں وہ گناہوں سے پاک ہو کر وشنو لوک پاتے ہیں اور اس پُنّیہ کا فائدہ اولاد تک پھیلتا ہے۔
It presents Veṅkaṭācala as a sanctified mountain where divine presence is localized through mythic etiologies, with Varāha and Śrīnivāsa narratives establishing the site’s ritual authority.
The section typically frames pilgrimage merit through disciplined worship, mantra-japa, and place-based devotion, promising both prosperity-oriented outcomes and liberation-oriented benefits depending on intent and observance.
Key legends include Varāha’s relationship with Dharaṇī (Bhūdevī), the establishment and secrecy of a potent Varāha mantra, and anticipatory questions about Śrīnivāsa’s arrival and enduring presence on Veṅkaṭa.