Adhyaya 27
Vishnu KhandaVenkatachala MahatmyaAdhyaya 27

Adhyaya 27

باب 27 میں رشی سوت جی سے پوچھتے ہیں کہ وینکٹادری کیوں ‘مہاپُنّیہ گِری’ کہلاتا ہے، وہاں تیرتھوں کی کل تعداد کیا ہے، کون سے تیرتھ ‘پرَधान’ ہیں، اور کون سے تیرتھ دھرم کی رغبت، گیان، بھکتی-ویراغیہ اور موکش عطا کرتے ہیں۔ سوت جی ترتیب کے ساتھ تیرتھوں کی وسیع گنتی بیان کرتے ہیں، پھر ‘پرَधान’ تیرتھوں اور نتائج کے اعتبار سے ذیلی اقسام واضح کرتے ہیں۔ اس کے بعد وینکٹاچل کی چوٹی پر موکش سے وابستہ تیرتھوں کے لیے یاترا کے اوقات و ضوابط آتے ہیں—سوامی پُشکرِنی، وِیَدگنگا، پاپ وِناشن، پانڈوتیرتھ، کُمار دھارِکا اور تُنبوشٹیرتھ۔ کُمبھ ماس میں مَغھا-یوگ، میناسْتھ روی، میش سنکرانتی پر چِترا، وِرشبھسْتھ روی کے ساتھ دوادشی/ہری واسر، اور دھنُر ماس کی سحر کی دوادشی—ان اوقات میں اسنان کے پھل راجسویا وغیرہ یَگیہ کے برابر پُنّیہ، رکاوٹوں سے نجات، پاپوں کا نِواڑن اور موکش بتائے گئے ہیں؛ نیز استطاعت کے مطابق سونے کا دان، گودان، شالگرام-شِلا دان وغیرہ کی ہدایت ہے۔ پھر باب مقام-مرکوز کرم سے آگے بڑھ کر کلی یُگ میں وشنو کی پورانک کتھا کے شروَن کو نہایت مؤثر بتاتا ہے—تھوڑی دیر بھی یکسوئی اور شردھا سے سننا یَگیہ و دان کے مجموعی پھل کے برابر کہا گیا ہے اور نام-سنکیرتن کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ آخر میں پوران-وَکتا اور شروتا کے آداب—وَکتا کی ہر جگہ تعظیم، پاٹھ کے لیے موزوں مقام، سننے والوں کی پاکیزگی، نشست و شائستگی، اور بے ادبی/خلل/غفلت کے منفی نتائج—مقرر کر کے رشی سوت جی کی تکریم کرتے اور خوشی مناتے ہیں۔

Shlokas

No shlokas available for this adhyaya yet.