Adhyaya 31
Vishnu KhandaVenkatachala MahatmyaAdhyaya 31

Adhyaya 31

باب کا آغاز پُرانوی بیانیہ فریم سے ہوتا ہے۔ شام کے نِتیہ کرم پورے کر کے ارجن ادب و عقیدت کے ساتھ رِشی بھاردواج کے پاس آتا ہے اور ایک عظیم دریا کی پیدائش، نیز وہاں اشنان اور دان سے حاصل ہونے والے پُنّیہ کے بارے میں تعلیم چاہتا ہے۔ بھاردواج ارجن کے نسب، شیل اور گُنوں کی ستائش کر کے فرماتے ہیں کہ توجہ سے سنی گئی یہ دیویہ کتھا گناہوں سے پیدا ہونے والی تکلیف کو دور کرتی اور چِتّ کو پاک کرتی ہے۔ پھر گفتگو شنکر کے وِواہ اُتسو سے وابستہ ایک واقعے کی طرف مڑتی ہے۔ دیوتاؤں اور دیگر ہستیوں کے اجتماع سے پرتھوی پر بوجھ بڑھتا ہے اور وہ ڈگمگا جاتی ہے۔ اس عدم توازن کو دیکھ کر مہادیو، جگت کی رکھشا کے لیے وقف، دیویہ شکتی سے اُدبھوت اگستیہ کو دَکشن دِش کی یاترا کا حکم دیتے ہیں۔ اگستیہ وِندھیا کو پار کر کے جنوب جاتے ہیں تو زمین پھر متوازن ہو جاتی ہے اور دیوتا اُن کی ستوتی کرتے ہیں۔ آگے اگستیہ ایک ایسے بلند پہاڑ کو دیکھتے ہیں جو گویا گھڑا ہوا سورج ہو، اس پر چڑھتے ہیں اور ایک حسین جھیل کے اُتّری کنارے کے پاس آشرم قائم کرتے ہیں۔ وہ وِدھی کے مطابق پِتروں، دیوتاؤں، رِشیوں اور واستو دیوتاؤں کی پوجا کر کے جگت کے استحکام کے لیے تپسیا کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔ یوں یہ باب مکالمہ، تِیرتھ کی علتِ پیدائش اور عالم کو سنبھالنے والی زاہدانہ کرِیا کے اخلاقی آدرش کو یکجا کرتا ہے۔

Shlokas

No shlokas available for this adhyaya yet.