
اس باب میں شری سوت نَیمِشَارَنیہ کے رِشیوں سے آکاش گنگا تیرتھ کی مہاتمیا اور بھاگوت کی پہچان بیان کرتے ہیں۔ رامانوج نامی ایک شاستر دان، ضبطِ نفس والا، ویکھانَس دھرم کا پابند برہمن آکاش گنگا کے کنارے طویل تپسیا کرتا ہے—گرمی میں پنچ آگنی، برسات میں کھلے آسمان تلے قیام، سردی میں جل شَین؛ ساتھ ہی اشٹاکشری منتر جپ اور جناردن کا باطنی دھیان مسلسل کرتا رہتا ہے۔ تپسیا سے پرسن ہو کر وینکٹیش/شری نیواس شنکھ-چکر-گدا دھاری روپ میں، دیویہ پریوار کے ساتھ، نارَد کے گیت اور آسمانی سازوں کے بیچ، سینے پر لکشمی سمیت پرکٹ ہوتے ہیں۔ رامانوج کی ستوتی سن کر بھگوان اسے گلے لگاتے ہیں اور ور مانگنے کو کہتے ہیں؛ رامانوج اٹل بھکتی مانگتا ہے اور درشن کو ہی پرم سِدھی سمجھتا ہے۔ یہاں بھگوان کے نام اور درشن کی موکش دینے والی شکتی پر زور دیا گیا ہے۔ پھر بھگوان آکاش گنگا میں اسنان کا خاص پُنّیہ کال بتاتے ہیں—میش سنکرانتی کے دن، چِترا نکشتر یُکت پُورنِما پر اسنان کرنے سے پرم دھام کی پرابتि اور پُنرآورتن سے نجات ملتی ہے۔ اس کے بعد ‘بھاگوت کو کیسے پہچانیں؟’ کے جواب میں اہنسا، حسد سے پاکی، سَیَم، سچائی، ماں باپ/برہمن/گاؤ سیوا، ہری کتھا شروَن کی رغبت، تیرتھ یاترا کا میلان، پانی و اَنّ دان، ایکادشی ورت، ہری نام میں رس، تُلسی کی عقیدت، اور تالاب-کنواں-باغ-مندر جیسے عوامی بھلائی کے کام—یہ سب بھاگوتوتم کی علامتیں بتائی جاتی ہیں۔ آخر میں سوت وِرشادری (وینکٹادری) کی وِیَد گنگا کے اس ‘اُتّم’ مہاتمیا کا اختتام کرتے ہیں۔
No shlokas available for this adhyaya yet.