
युद्धकाण्ड
یُدھّکاند، والمیکی کے آدیکاویہ کا عسکری اور الٰہیاتی نقطۂ عروج ہے۔ اس میں لنکا کی مہم بیان ہوتی ہے جو سیتا جی کی بازیابی اور راون کے زوال پر منتج ہوتی ہے۔ کتاب کا آغاز ہنومان جی کی کامیاب خبر رسانی اور رام و سُگریو کے زیرِ قیادت وانر سینا کی حکمتِ عملی کے ساتھ استحکام سے ہوتا ہے۔ پھر قصہ سمندر کے کنارے پہنچتا ہے: رام کا ساگر دیوتا سے وِدھی پُوروک آہوان، اس کے نتیجے میں کائناتی ہیجان، اور سیتو (پل) کی تعمیر—اور اس کے بعد روایت لنکا کے قلعہ بند، دولت مند مگر نحوست آمیز شہرنامے میں داخل ہوتی ہے۔ اس کاند کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہاں ‘منتر’ (مشورہ و تدبیر) اور ‘یُدھّ’ (جنگ) مسلسل ایک دوسرے کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ راون کی دربار میں بحث و تمحیص، وِبھیشَن کے دھارمک نصائح اور پھر اس کا دھرم کی طرف کھڑے ہو کر رام کی پناہ میں آنا—یہ سب بڑھتے ہوئے معرکوں کے ساتھ جڑا رہتا ہے۔ دشمن کے بڑے بڑے رाक्षس سردار موج در موج سامنے آتے ہیں—دھومراکْش، وجردنشتْر، پرہست، کُمبھکرن اور اندر جیت—اور ہر شکست اس اخلاقی منطق کو گہرا کرتی ہے کہ اَدھرم حکمتِ عملی کی نابینائی اور تنہائی کو جنم دیتا ہے۔ شاعری بار بار کائناتی پیمانے تک پھیلتی ہے—بدشگون نشانیاں، طوفانی مناظر، خون کی ندیاں، اور قیامت خیز تشبیہیں—مگر ساتھ ہی شوق کے نہایت ذاتی لہجے بھی محفوظ رہتے ہیں، خصوصاً سیتا جی کے نوحے اور رام کی انسانی کمزوری و درد میں۔ ۲۴ ہزار شلوکوں کی ساخت میں یُدھّکاند راج دھرم کی فیصلہ کن آزمائش گاہ ہے: قوت اسی وقت جائز ہے جب وہ سچ، ضبطِ نفس، اتحادی اخلاق، اور بے گناہوں کی حفاظت کے تابع ہو۔ یہ خلاصہ IIT کانپور کی جنوبی روایتِ متن کے مطابق ہے، جس میں بعض اضافی روایتی اشلوک محفوظ ہیں اور بعض جنگی مناظر و درباری مشاورتیں تنقیدی بازسازیوں کے مقابلے میں زیادہ مفصل ملتی ہیں۔
प्रथमः सर्गः — Rama Praises Hanuman; Anxiety over Crossing the Ocean
اس سَرگ کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ شری رام ہنومان کی رپورٹ سنتے ہیں اور نمایاں محبت کے ساتھ رسمی طور پر اس کی ستائش کرتے ہیں۔ رام ہنومان کے کارنامے کو قریب بہ قریب بے مثال قرار دیتے ہیں—عظیم سمندر کو پار کر کے سخت پہرے والی لنکا میں داخل ہونا—اور اسے مثالی خدمت و وفاداری (بھرتیہ دھرم) کی روشن مثال بتاتے ہیں۔ پھر خادموں کی اخلاقی درجہ بندی بیان ہوتی ہے: بہترین خادم وہ ہے جو بھکتی کے ساتھ دشوار کام انجام دے؛ درمیانہ وہ جو راجا کی پسندیدہ بات کو پیشگی نہ سمجھ سکے؛ اور پست وہ جو سونپا ہوا فرض بھی ادا نہ کرے۔ رام تسلیم کرتے ہیں کہ ہنومان کی کامیابی نے ویدہی (سیتا) کے مقام کی خبر دے کر رگھو وَنش کی حفاظت کی ہے۔ مگر وہ درد بھرے لہجے میں کہتے ہیں کہ ایسی خوشگوار گفتگو اور ایسی خدمت کا پورا بدلہ وہ اسی وقت نہیں چکا سکتے؛ اس گھڑی ان کے پاس بس ایک آغوش ہے، جو وہ اپنی طرف سے پیش کرتے ہیں۔ اس کے بعد گفتگو جشن سے حکمتِ عملی کی طرف مڑتی ہے: خبر مل جانے کے باوجود رام کا دل اس عظیم اور دشوارگزار سمندر کو جمع شدہ وانر لشکر کے ساتھ پار کرنے کی عملی اور وجودی مشکل سے بے چین ہو جاتا ہے۔ سَرگ کے اختتام پر رام غم سے متاثر مگر ثابت قدم رہتے ہیں اور ہنومان کو مرکز بنا کر سمندر پار کرنے کے مسئلے پر غور و مشورے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔
युद्धकाण्डे द्वितीयः सर्गः — Sugriva’s Counsel: From Grief to Strategy (Bridge to Lanka)
اس سَرگ میں سُگریو غم زدہ رام کو مسلسل اُپدیش دیتا ہے۔ وہ رام کے سوگ کو ایک کشتریہ رہنما کے شایانِ شان نہیں سمجھتا اور بتاتا ہے کہ غم شَوریہ کو گھلا دیتا اور کام کی کامیابی کو برباد کر دیتا ہے۔ اسی لیے وہ رام کو مایوسی چھوڑ کر پختہ عزم اختیار کرنے، اور ضرورت پڑے تو ضبط کے ساتھ غضب کو بھی دھرم یُدھ کی قوت بنانے کی تلقین کرتا ہے۔ پھر سُگریو بات کو حکمتِ عملی کی طرف لے جاتا ہے: سیتا کی جگہ معلوم ہو چکی ہے اور لنکا تریکوٹ پہاڑ پر متعین ہے، اس لیے سستی اور جمود کی کوئی وجہ نہیں۔ وہ وानر اتحادی قوت پر زور دیتا ہے—وانر سردار اہل، پرجوش ہیں اور رام کے کام کے لیے آگ میں بھی کودنے کو تیار ہیں۔ اس کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ بھیانک سمندر، جو ورُن کا دھام ہے، پار کیے بغیر لنکا مغلوب نہیں ہو سکتی؛ لہٰذا پہلے سیتو (پل) کی تعمیر لازم ہے۔ وہ بار بار معیارِ فتح بتاتا ہے کہ جب پل بن جائے اور لشکر پار اتر جائے تو جیت کو گویا یقینی سمجھو۔ باب کے آخر میں وہ شُبھ نِمِتّوں کا ذکر کر کے یقین دلاتا ہے کہ جب رام دھنش اٹھاتے ہیں تو تینوں لوکوں میں کوئی دشمن ان کا سامنا نہیں کر سکتا۔
लङ्कादुर्गवर्णनम् (Description of Lanka’s Fortifications and Forces)
اس سَرگ میں مکالمے کی صورت میں منظم خفیہ رپورٹ پیش کی گئی ہے۔ سُگریو کی معقول رائے سن کر شری رام ہنومان جی سے فرماتے ہیں کہ دشمن کی فوج کی مقدار، دشوار گزار دروازوں کی تعداد و نوعیت، حفاظتی تدابیر اور راکشسوں کی رہائش گاہوں کی ٹھیک ٹھیک خبر دو۔ فصاحت میں برتر ہنومان جی ترتیب وار قلعہ بندی کا بیان کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ ہنومان جی لنکا کو خوشحال اور ہمہ وقت چوکنا شہر بتاتے ہیں: رتھ، مست ہاتھی اور بے شمار راکشس؛ بلند و کشادہ دروازے جن کے پٹ دھات سے جڑے ہیں اور لوہے کی سلاخوں سے بند ہیں۔ نیز ایسے دفاعی آلات جو برچھیاں اور پتھر برساتے ہیں، اور پہرے دار جو کانٹेदार ہتھیار ‘شَتَگھنی’ وغیرہ لیے تیار رہتے ہیں۔ شہر کے گرد جواہرات سے آراستہ سنہری فصیل ہے اور گہری خندقیں ہیں جن میں ٹھنڈا پانی، مچھلیاں اور مگرمچھ ہیں؛ متحرک پلوں کو مشینوں سے اٹھا کر راستہ روکا جاتا ہے۔ ہنومان جی راون کی مسلسل نگرانی اور ہر دروازے پر تعینات دستوں کی تقسیم بھی بیان کرتے ہیں، اور حکمتِ عملی کا نتیجہ نکالتے ہیں کہ اگر سمندر پار کر لیا جائے تو لنکا کا سقوط یقینی ہے۔ آخر میں وہ شُبھ وقت میں فوری لشکر کشی اور تیز تر تیاری کی ترغیب دیتے ہیں۔
समुद्रतट-प्रयाणम् तथा वेलावन-निवेशः (March to the Seacoast and Encampment at the Shore)
حنومان کی لنکا سے متعلق خبر سن کر شری رام فوراً عزم کرتے ہیں کہ راکشسوں کے قلعے کو نیست و نابود کر کے سیتا جی کو واپس لائیں گے۔ وہ روانگی کو نہایت مبارک قرار دیتے ہیں—ستاروں کی سازگار کیفیت اور نیک شگونوں کا حوالہ دے کر—اور اتحاد یافتہ لشکر کے لیے منظم عملی احکام صادر کرتے ہیں۔ نیل کو پیش قدم دستے کی قیادت سونپی جاتی ہے کہ پانی، پھل اور کَند مُول سے بھرپور راستہ محفوظ کرے اور راکشسوں کو رسد میں تخریب سے روکے؛ وانروں کو حکم ہوتا ہے کہ دشوار زمین، نشیبی علاقے، جنگلی قلعے اور چھپی ہوئی کمین گاہوں کی ٹوہ لیں۔ اس کے بعد وانر سینا عظیم اور باقاعدہ صف بندی کے ساتھ پیش قدمی کرتی ہے؛ نامور سردار پہلوؤں اور عقب کی حفاظت کرتے ہیں۔ لکشمن آسمانی علامات کو فتح کی بشارت سمجھتے ہیں۔ لشکر سہیہ اور ملَیہ کے پہاڑی سلسلوں سے گزرتا ہوا مہندر تک پہنچتا ہے اور آخرکار ورُنالَیہ—سمندر—کے کنارے آ کھڑا ہوتا ہے۔ وسیع و ہیبت ناک سمندر، جو گویا آسمان سے جدا نظر نہیں آتا، مکر، ناگ اور تِمِنگِل جیسی مخلوقات کا مسکن بتایا جاتا ہے۔ اس رکاوٹ کے سامنے شری رام ساحل پر پڑاؤ کا حکم دیتے ہیں اور سمندر پار کرنے کے طریقے پر مشورہ طلب کرتے ہیں—یہی وہ حکیمانہ توقف ہے جو آگے آنے والے تدبیری، تعمیری اور سفارتی حل کی تمہید بنتا ہے۔
सेनानिवेशः रामविलापश्च (Encampment on the Northern Shore; Rama’s Lament and Sandhyā)
سرگ ۵ کا آغاز منظم فوجی ترتیب سے ہوتا ہے۔ نیل رسمِ قدیم کے مطابق سمندر کے شمالی کنارے پر وانر لشکر کو ٹھکانے لگاتا ہے، اور مَیند و دْوِوِد چاروں سمت گشت کر کے چھاؤنی کی حفاظت و نگرانی کرتے ہیں۔ لشکر کے مستقر ہونے کے بعد رام لکشمن سے سیتا کے فراق کا طویل نوحہ بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عام غم وقت کے ساتھ ہلکا پڑ جاتا ہے، مگر سیتا کے دیدار کے بغیر ان کا رنج بڑھتا ہی جاتا ہے۔ وہ دھرم کی فکر کے ساتھ سیتا کی کمسنی، راکشسوں کے بیچ اس کی بے بسی اور خطرات کو یاد کرتے ہیں، اور بلیغ تشبیہیں دیتے ہیں—جیسے پاس کے سیراب کھیت کی نمی سے خشک کھیت میں جان پڑتی ہے، ویسے ہی سیتا کے زندہ ہونے کی خبر سے وہ جی رہے ہیں؛ اور جیسے خزاں کے بادلوں سے ہلالِ ماہ نمودار ہوتا ہے، ویسے ہی سیتا راکشسوں کے بیچ سے ظاہر ہوگی۔ یہ نوحہ آرزو، محافظانہ فرض اور راون کو شکست دے کر سیتا کو واپس لانے کے عزم کے درمیان جھولتا رہتا ہے۔ دن ڈھلنے پر لکشمن انہیں تسلی دیتے ہیں؛ رام غم زدہ ہونے کے باوجود ضبط قائم رکھتے ہیں اور سیتا کی یاد کے ساتھ سندھیا اُپاسنا (شام کی عبادت) ادا کرتے ہیں۔
रावणस्य मन्त्रविचारः — Ravana’s Council on Strategy
اس سَرگ میں راون لنکا میں ہنومان کے اعمال کے ہولناک نتائج پر غور کرتا ہے—دشمن کا اندر گھس آنا، بڑے بڑے راکشسوں کا قتل، اور سیتا کے درشن کا کامیاب ہونا۔ شرم/ہری کی ایک نادر کیفیت کے ساتھ اور سر جھکا کر راکشس راجا اجتماعی مشورے کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور صاف کہتا ہے کہ فتح منتر-مول ہے، یعنی تدبیر و مشاورت ہی اس کی جڑ ہے۔ پھر وہ انسانی عمل اور مشیرانہ صلاحیت کو تین درجوں—اُتّم، مدھیَم، اَدھم—میں تقسیم کرتا ہے اور اہلیت کو مشورے کی پابندی اور دیو (اعلیٰ اخلاقی نظم) پر بھروسے سے جوڑتا ہے۔ اُتّم شخص قابل وزیروں اور دوستوں کے ساتھ صلاح کر کے دیو پر یقین رکھتے ہوئے قدم اٹھاتا ہے؛ مدھیَم اکیلا عمل کرتا ہے؛ اَدھم نفع و نقصان اور گُن و دوش کی پروا کیے بغیر انا کے زور پر “میں ہی کروں گا” کہہ کر دیو کو نظرانداز کرتا ہے۔ سیاسی اصول کے طور پر وہ خود مشورے کو بھی مرتب کرتا ہے: شاستر سے رہنمائی پانے والی متفقہ رائے سب سے بہتر؛ مختلف آرا کے بعد پیدا ہونے والا اتفاق درمیانی؛ اور اتحاد کے بغیر ضدی گروہی گفتگو قابلِ مذمت۔ آخر میں فوری خطرہ سامنے آتا ہے—ہزاروں دلیر وانروں کے ساتھ رام لنکا کا محاصرہ کرنے بڑھ رہا ہے—اور راون شہر اور لشکر دونوں کے فائدے کی تدبیر طلب کرتا ہے۔
राक्षसपरिषद्वाक्यम् — Counsel of the Rakshasa Court to Ravana
اس سَرگ میں راکشسوں کے بزرگ اور جنگجو ہاتھ جوڑ کر راون سے عرض کرتے ہیں اور درباری تسلیوں اور جنگی فخر کے ذریعے اس کے عزم کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ خطرہ ‘معمولی’ مخالفین سے ہے، اس لیے راجا کے دل میں اضطراب نہ ہو؛ مگر ان کی باتوں سے دشمن کے بارے میں باریک سیاسی فہم کی کمی بھی ظاہر ہوتی ہے۔ وہ راون کی سابقہ فتوحات کا تذکرہ کرتے ہیں: رساتل میں ناگوں (واسُکی اور تکشک وغیرہ) کو زیر کرنا، کیلاش سے کُبیر کو رسوا کر کے پُشپک وِمان چھین لینا، اور دانَو مایا کی بیٹی مندودری کو خوف کے سہارے قائم اتحاد کے ذریعے زوجہ بنانا۔ پھر دانَووں (مدھو وغیرہ) پر غلبہ اور اساطیری جنگی منظرنامے بیان کرتے ہیں، جیسے موت جیسے خطرات کے ‘یَم لوک کے سمندر’ میں اتر کر بھی بچ نکلنا—تاکہ راون کی ناقابلِ شکست شہرت نمایاں ہو۔ آخر میں وہ حکمتِ عملی بتاتے ہیں کہ اندرَجیت کو روانہ کیا جائے—جس نے یَجْیَ کے ذریعے مہیشور سے نایاب ور پائے، اور جو ایک بار اندر کو قید کر کے اسی کے ساتھ لنکا میں داخل ہوا تھا—تاکہ وہ وانر لشکر کو، بلکہ رام کو بھی، نیست و نابود کر دے۔
युद्धकाण्डे अष्टमः सर्गः — राक्षससभा-युद्धपरामर्शः (War-Council Boasts and Stratagems)
سرگ 8 میں لنکا کے دربار میں منعقدہ جنگی کونسل کا منظر پیش کیا گیا ہے، جہاں ہنومان کی تباہ کاریوں کے بعد راکشس سردار جوابی کارروائی کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ پرہست، جو بادل کی طرح سیاہ فام ہے، ہاتھ جوڑ کر تجویز دیتا ہے کہ محض طاقت کے مظاہرے کے بجائے 'اپائے' (حکمت عملی اور فریب) سے فتح حاصل کی جائے۔ وہ مشورہ دیتا ہے کہ ہزاروں راکشس انسانی بھیس بدل کر رام اور لکشمن کے پاس جائیں اور انہیں گمراہ کن باتوں سے کمزور کریں۔ اس کے بعد، دربار میں تکبر اور شیخی بگھارنے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ درمکھ اس توہین کو ناقابلِ برداشت قرار دیتا ہے، جبکہ وجرادمشٹر خون آلود آہنی گرز اٹھا کر اپنی طاقت دکھاتا ہے۔ وجراہنو اور دیگر جنگجو سگریو، انگد، ہنومان اور رام و لکشمن کو مارنے یا کھا جانے کے دعوے کرتے ہیں۔ دشمن میں افراتفری پھیلانے کے لیے یہ افواہ پھیلانے کا منصوبہ بھی بنایا جاتا ہے کہ بھرت فوج لے کر آ رہے ہیں۔ یہ سرگ راکشسوں کی نفسیات، ان کی فریب کارانہ حکمت عملی اور جھوٹے تکبر کی عکاسی کرتا ہے۔
विभीषणोपदेशः — Vibhishana’s Counsel to Ravana
اس سَرگ میں لنکا کے نمایاں راکشس سردار—جن میں اندرجیت اور دیگر نامور کمانڈر شامل ہیں—غصّے میں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ پریگھ (لوہے کا گُرز)، پٹّیش، پراس، شکتی، شول، پرشو، کمان و تیر اور تیز تلواریں لے کر رام، لکشمن، سُگریو اور ہنومان کو قتل کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہیں۔ تب وبھیشن مداخلت کر کے اس مسلح اجتماع کو روکتا ہے اور نیتی کا منظم وعظ پیش کرتا ہے: جو کام سام، دان، بھید—ان تین سفارتی تدبیروں سے حاصل نہ ہو، اسے بھی سوچے سمجھے بغیر محض زور سے نہیں کرنا چاہیے؛ کامیابی جلد بازی اور تحقیر سے نہیں، بلکہ طریقہ وار جانچ سے وابستہ ہے۔ وہ دشمن کو حقیر نہ سمجھنے کی تنبیہ کرتا ہے اور ہنومان کے سمندر پار کرنے کو غیر معمولی صلاحیت کی دلیل بناتا ہے۔ پھر وہ اخلاقی و حکمتِ عملی دونوں پہلوؤں سے جنگ کی بنیاد پر سوال اٹھاتا ہے کہ راون کا اصل جرم—سیتا کا اغوا—ناانصافی ہے۔ وبھیشن غصّہ چھوڑنے، دھرم پر قائم اور ثابت قدم رام سے بے مقصد دشمنی ترک کرنے، اور میتھلی سیتا کو واپس کرنے کی درخواست کرتا ہے، ورنہ لنکا اور راکشسوں کی تباہی یقینی ہے۔ راون نصیحت سن کر سبھا برخاست کر دیتا ہے اور محل میں چلا جاتا ہے؛ بات رسمی طور پر ختم ہوتی ہے، مگر تنبیہ دل میں جگہ نہیں پاتی۔
विभीषणोपदेशः — Vibhishana’s Counsel to Ravana and the Catalogue of Omens
سحر کے وقت وِبھیشَن راون کے قلعہ بند محل کی طرف روانہ ہوتا ہے، جہاں سونے سے آراستہ نشست گاہیں، ویدوں کی تلاوت اور یَجْیَہ کی تیاریوں کا باوقار بیان ہے۔ وہ آداب کے ساتھ اندر داخل ہو کر شاہانہ جلال میں بیٹھے راون کو سلام کرتا ہے اور وزیروں کی موجودگی میں بھی خلوت کے انداز میں نصیحت کرتا ہے۔ وہ اپنی بات کو ‘ہِت’ یعنی خیرخواہانہ مشورہ قرار دیتا ہے جو وقت، مقام اور عملی سیاستِ مملکت کے مطابق ہو۔ وِبھیشَن ویدَیہی کے لنکا آنے کے بعد سے ظاہر ہونے والے اَشُبھ نِمِتّ (بدشگون علامات) گنواتا ہے: قربانی کی آگ کا ٹھیک طرح نہ جلنا، دھواں اور چنگاریاں اٹھنا؛ یَجْیَہ کے مقام اور نذرانوں میں سانپوں اور چیونٹیوں کا نمودار ہونا؛ مویشیوں اور جنگی جانوروں کی بے چینی اور غیر معمولی کیفیت؛ کوّوں کی سخت آوازیں، شہر پر عقابوں کا جمع ہونا، اور دروازوں پر گوشت خور جانوروں کی گرج جیسی آوازیں۔ ان نشانیوں سے وہ سیاسی و اخلاقی علاج نکالتا ہے کہ مناسب ‘پَرایَشچِتّ’ یہی ہے کہ ویدَیہی کو راگھو کے حوالے کر دیا جائے۔ وہ واضح کرتا ہے کہ یہ بات نہ فریبِ نظر سے ہے نہ لالچ سے؛ دوسرے وزیر خوف کے سبب خاموش رہے ہیں۔ مگر غضب میں بھرے راون اپنی ناقابلِ شکست ہونے کی شیخی کے ساتھ اس نصیحت کو رد کرتا ہے اور وِبھیشَن کو جھڑک کر رخصت کر دیتا ہے—یہی وہ موڑ ہے جہاں معقول مشورہ ٹھکرا دیا جاتا ہے اور جنگ ناگزیر ہو جاتی ہے۔
रावणस्य सभाप्रवेशः (Ravana Enters the Royal Assembly and Summons Counsel)
سرگ 11 میں دربار سے جنگی تیاری کی طرف ایک باوقار مگر سخت انتقال دکھایا گیا ہے۔ میتھلی کے لیے شدید رغبت اور گناہ آلود عمل کے سماجی انجام سے کمزور ہوا راون وقت کے گزر جانے کی سنگینی کو سمجھتا ہے اور جنگ کے بارے میں مشورہ کو فوری اور ناگزیر قرار دیتا ہے۔ وہ نہایت آراستہ و پیراستہ رتھ پر سوار ہو کر نقاروں، سازوں اور شنکھ کی گونج کے شور میں سبھا کی طرف روانہ ہوتا ہے۔ مختلف لباسوں اور ہتھیاروں سے مسلح راکشس اس کے ساتھ محافظانہ انداز میں چلتے ہیں۔ پھر شاہی شان و شوکت کا منظر آتا ہے: شاہراہ، چھتر، چامَر کے پنکھے، سلام و تعظیم اور مدح سرائی۔ راون وشوکرما کے ہمیشہ روشن سبھا-بھون میں داخل ہوتا ہے جہاں سونے چاندی کے ستون، بلور جیسا اندرونی جلال، سنہری ریشمی پردے اور سخت پہرہ ہے۔ جواہرات سے جڑے تخت پر بیٹھ کر وہ تیز رفتار قاصدوں کو حکم دیتا ہے کہ لنکا بھر کے راکشسوں کو دشمنوں کے خلاف ایک بڑے کام کے لیے جمع کیا جائے۔ دارالحکومت بھر جاتا ہے؛ سردار رتھ، گھوڑے، ہاتھی اور پیدل آتے ہیں، سواریوں کو ٹھہرا کر پہاڑی غار میں شیروں کی طرح سبھا میں داخل ہوتے ہیں اور آداب کے مطابق خاموشی سے نشستیں سنبھالتے ہیں۔ وزیر، یودھا اور آخر میں وبھیشن بھی آتے ہیں؛ صندل اور دھونی کی خوشبو سبھا میں پھیل جاتی ہے، اور راون مسلح بہادروں کے درمیان ایسا چمکتا ہے جیسے وسوؤں کے درمیان اندر—یہ سیاسی آب و تاب اور اخلاقی کمزوری کے تضاد کو نمایاں کرتا ہے۔
युद्धकाण्डे द्वादशः सर्गः — रावणस्य परिषद्-सम्बोधनं कुम्भकर्णस्य नीत्युपदेशश्च (Ravana’s Council Address and Kumbhakarna’s Counsel)
اس سَرگ میں لنکا کے دربار میں جنگی حکمتِ عملی کی سنجیدہ نشست بیان ہوتی ہے۔ راون پوری راکشس سبھا کا جائزہ لے کر سپہ سالار پرہست کو حکم دیتا ہے کہ قلعہ بندی کے اندر اور باہر چتورنگی لشکر کی تعیناتی کر کے شہر کی حفاظت مزید سخت کی جائے۔ پرہست تیاری کی خبر دیتا ہے۔ پھر راون اپنے خاص مصاحبوں سے کہتا ہے کہ اس کے کام مشورے پر مبنی اور بے خطا ہیں، اور یہ بھی بتاتا ہے کہ کمبھ کرن طویل نیند کے سبب پہلے بے خبر رہا۔ وہ دندکارنیہ سے سیتا کے ہَرَن کو جواز دیتا ہے اور سیتا کے انکار پر اپنی خواہش اور جھنجھلاہٹ ظاہر کرتا ہے—یوں دکھاتا ہے کہ کام (خواہش) نے راج دھرم کے فیصلے کو بگاڑ دیا ہے۔ وہ سمندر پار کرنے کی فکر بھی اٹھاتا ہے، مگر ساتھ ہی انسانوں کے مقابل اپنی ناقابلِ شکست ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، کیونکہ رام اور لکشمن سُگریو اور وانر سینا کے ساتھ ساحل تک آ پہنچے ہیں تاکہ سیتا کو واپس لے جائیں۔ اس جذبہ آلود فریاد کو سن کر کمبھ کرن پہلے مشورہ نہ کرنے پر ملامت کرتا ہے اور نیتی سمجھاتا ہے کہ مناسب وسائل اور درست ترتیب کے بغیر کیا گیا کام ناکام رہتا ہے، اور عجلت میں دشمن کی قوت نظر انداز ہو جاتی ہے۔ تاہم وہ زورِ بازو سے صورتِ حال سنبھالنے کا عہد کرتا ہے—رام و لکشمن کے قتل اور وانر سرداروں کو کچلنے کی قسم کھا کر راون کو حوصلہ اور عیش میں واپس رہنے کو کہتا ہے، جبکہ وہ جنگ کی کاروائی خود انجام دے گا۔
महापार्श्वस्य परामर्शः — Mahāpārśva’s Counsel and Rāvaṇa’s Confession of Brahmā’s Curse
اس سرگ میں دربارِ راون میں مشورے کا سلسلہ آتا ہے اور پھر ایک الٰہی شاپ (لعنت) کا انکشاف راون کی جبر آمیز نیت کو ایک مقدر بندش کے تحت دکھاتا ہے۔ مہاپارشْو راون کے غضب کو دیکھ کر ہاتھ جوڑ کر قریب آتا ہے اور سخت گیر صلاح دیتا ہے کہ صلح و سفارت کی تدبیریں چھوڑ کر دَنڈ (زورِ بازو) پر بھروسا کیا جائے۔ وہ کہتا ہے کہ کمبھکرن اور اندرجیت تو اندرا تک کو روک سکتے ہیں، اور راون کو اکساتا ہے کہ دشمنوں کو مغلوب کر کے سیتا کو زبردستی اپنے بھوگ کے لیے تابع کرے۔ اس مشورے سے خوش ہو کر راون اپنی پوشیدہ داستان سناتا ہے: برہما کے دھام کی طرف سفر میں اس نے آتش کی مانند درخشاں دیوی/اپسرا پُنجِکاستھا کو دیکھا، اس کی بے حرمتی کی اور برہما کے قہر کا مستحق ہوا۔ برہما کے شاپ کے مطابق اگر راون کبھی کسی اور عورت کو جبر سے مجبور کرے تو اس کا سر سو ٹکڑوں میں پھٹ جائے گا؛ اسی لیے خواہش کے باوجود وہ سیتا کو زبردستی اپنے بستر تک نہیں لا سکتا۔ پھر راون جنگی شیخی بگھارتا ہے: اپنی تیزی کو سمندر جیسی اور حرکت کو ہوا جیسی بتاتا ہے، اور کہتا ہے کہ اسے جگانا غار کے شیر یا خود موت کو جگانے کے برابر ہے۔ وہ دھمکی دیتا ہے کہ بجلی کے کوندے جیسے تیروں سے رام کو جلا دے گا اور جیسے طلوعِ آفتاب ستاروں کو ماند کر دیتا ہے ویسے ہی رام کی فوج کو منتشر کر دے گا؛ آخر میں دعویٰ کرتا ہے کہ اندرا یا ورُن بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور اس نے قوت کے بل پر کُبیر سے لنکا چھین لی تھی۔
विभीषणोपदेशः (Vibhīṣaṇa’s Counsel to Rāvaṇa and the Rākṣasa Court)
اس سرگ میں لنکا کے دربار میں امکان، اخلاق اور سیاستِ مملکت پر ایک سنجیدہ مناظرانہ گفتگو دکھائی گئی ہے، جب جنگی تباہی دہانے پر کھڑی ہے۔ راون کے اصرار اور کمبھکرن کی گرج کے بعد وبھیشن نیتی پر مبنی نصیحت کرتا ہے کہ رام کے خلاف مقصد ناممکن ہے، اور اَدھرم نیت سے ‘سورگ جیسی’ کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔ وہ مثال دے کر سمجھاتا ہے کہ جو تیرنا نہیں جانتا وہ سمندر پار نہیں کر سکتا؛ اسی طرح رام کی دھرم-مرکوز قوت اور میدانِ جنگ میں برتری کے سامنے لنکا ٹھہر نہیں سکے گی۔ وبھیشن بار بار تاکید کرتا ہے کہ لنکا کے سرداروں کے سر بجلی جیسے تیروں سے کٹنے سے پہلے سیتا جی کو فوراً رام چندر کو واپس کر دیا جائے۔ پرہست شیخی سے کہتا ہے کہ وہ دیوتاؤں یا کسی اور سے نہیں ڈرتا؛ وبھیشن اس سے بھی سخت تنبیہ کرتا ہے اور راکشس سورماؤں کا ذکر کر کے بتاتا ہے کہ راگھو کے سامنے کوئی قائم نہیں رہ سکے گا۔ پھر گفتگو سیاسی بیماری کی طرف مڑتی ہے: راون کو عیبوں کے تابع، جلدباز اور اپنے ہی کیے ہوئے بندھن میں جکڑا ہوا دکھایا گیا ہے—گویا ہزار پھنوں والے سانپ نے لپیٹ رکھا ہو۔ باب کے اختتام پر وزارتی اصول بیان ہوتا ہے کہ دانا مشورہ دشمن کی طاقت، اپنی سکت اور ریاست کے بڑھنے یا گھٹنے کے امکانات کو تول کر، صرف راجا کی بھلائی کو مقصد بنائے۔
विभीषण–इन्द्रजित् संवादः (Vibhishana and Indrajit: Counsel, Boast, and Rebuttal)
سرگ ۱۵ میں راکشس لشکر کے سردار اندر جیت (میگھناد) اور وبھیشن کے درمیان تیز و تند مناظرانہ مکالمہ ہوتا ہے۔ وبھیشن کی نصیحت کو برہسپتی جیسی دانائی سے آراستہ بتایا گیا ہے، مگر اندر جیت اسے بزدلی اور ناموزون خوف کہہ کر رد کرتا ہے۔ وہ وبھیشن کو قبیلے میں بےجرأت ٹھہراتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ ایک معمولی راکشس بھی انسانی شہزادوں رام اور لکشمن کو جنگ میں مار سکتا ہے۔ اپنی برتری جتانے کے لیے اندر جیت جنگی شیخی بگھارتا ہے—کہتا ہے کہ اس نے کبھی اندر کو گرا دیا تھا اور ایراوت کو مسخر کیا تھا—اور اسی بنا پر رام و لکشمن کو محض “عام انسان” قرار دیتا ہے۔ وبھیشن نیتی اور دھرم کی روشنی میں جواب دیتا ہے کہ اندر جیت کی رائے ناپختہ ہے، اس کی باتیں خود ہلاکت کا سبب ہیں، اور وہ آنے والی تباہی سن کر بھی راون کے راستے کو اختیار کیے ہوئے فریب میں مبتلا ہے۔ یہ گفتگو اخلاقی الزام تک پہنچتی ہے—جھوٹی دوستی اور نقصان دہ مشورے کی مذمت ہوتی ہے—اور آخر میں وبھیشن ایک عملی تدبیر پیش کرتا ہے: سیتا کو دولت اور زیورات سمیت رام کے حوالے کر دیا جائے تاکہ غم کا خاتمہ ہو اور لنکا کی بربادی ٹل جائے۔ اس باب میں غرور آمیز عسکریت کے مقابلے میں اخلاقی حکمرانی اور حقیقت پسندانہ خطرہ سنجی نمایاں ہوتی ہے۔
विभीषणोपदेशे रावणस्य परुषवाक्यम् (Ravana’s Harsh Reply to Vibhishana’s Counsel)
اس سرگ میں دربار کے اندر نصیحتِ اخلاق و سیاست کے پس منظر میں ایک شدید دراڑ دکھائی گئی ہے۔ ویبھیषण راون کی بھلائی کے لیے ہِت (خیرخواہانہ) بات کہتا ہے، مگر راون کو صاف طور پر کال-چودِت (موت/تقدیر کے اشارے پر چلنے والا) بتایا گیا ہے اور وہ پرُوش واکیہ (سخت کلامی) سے جواب دیتا ہے۔ وہ اَناریہ (نااہل/بےدھرم) شخص سے دوستی کی بےثمری سمجھانے کے لیے مثالوں کی کڑی پیش کرتا ہے: کنول کے پتے پر پانی جو ٹھہرتا نہیں، مٹھاس چکھ کر ناشکری کرنے والی مکھیاں، نہا کر پھر خود کو گندا کرنے والا ہاتھی، اور خزاں کے بادل جو گرجتے ہیں مگر نمی نہیں برساتے—ہر مثال یہ بتاتی ہے کہ جہاں دھرم نہ ہو وہاں نیکی کا پھل نہیں لگتا۔ پھر وہ ویبھیषण کو دھمکی دیتا ہے کہ اگر یہ بات کوئی اور کہتا تو فوراً سزا پاتا۔ نیائے وادی ویبھیषण گدا اٹھا کر چار راکشسوں کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، آکاش میں بلند ہو کر راون کو ملامت کرتا ہے: بڑے بھائی کا درجہ احترام کے لائق ہے، مگر راون دھرم سے بھٹک گیا ہے۔ وہ ایک بنیادی اصول بیان کرتا ہے کہ خوشامدی اور میٹھی باتیں کرنے والے بہت ہیں، مگر ناگوار ہونے کے باوجود فائدہ مند سچ کہنے والے اور اسے سننے والے نایاب ہیں۔ وہ خبردار کرتا ہے کہ راون موت کی رسی میں جکڑا ہے اور رام کے آتشیں تیروں سے زخمی ہوگا؛ کال کے قبضے میں آ کر بڑے بڑے یودھا بھی گر پڑتے ہیں۔ آخر میں ویبھیषण باادب رخصت لیتا ہے، بزرگ کے خیرخواہ کی حیثیت سے سچ کہنے پر معافی مانگتا ہے، راون کو اپنے اور لنکا کی حفاظت کی تلقین کرتا ہے اور روانہ ہو جاتا ہے۔ راوی نتیجہ نکالتا ہے کہ جن کی موت قریب ہو، وہ دوستوں کی نیک نصیحت قبول نہیں کرتے۔
विभीषणागमनम् (Vibhīṣaṇa’s Arrival and the Debate on Refuge)
سرگ 17 میں مشاورت پر مبنی واقعہ پناہ دینے کے اخلاقی اصول اور فریب کے خطرات کو نمایاں کرتا ہے۔ راون کو ملامت کرکے اور سیتا کو واپس کرنے کی نصیحت دینے کے بعد وبھیشن چار ساتھیوں کے ساتھ لنکا چھوڑ دیتا ہے اور شمالی ساحل کے قریب رام کے پاس پہنچ کر ہوا میں ہی ٹھہرا رہتا ہے۔ وہ اپنا تعارف راون کے چھوٹے بھائی کے طور پر کراتا ہے، سیتا کے اغوا اور قید کا حال سناتا ہے، اور درخواست کرتا ہے کہ راغھو کو خبر دی جائے کہ وہ پناہ کا طالب ہے۔ سگریو ریاستی حکمتِ عملی کے زاویے سے اس آمد کو دیکھتا ہے: وہ خبردار کرتا ہے کہ روپ بدلنے والے راکشس جاسوس ہو سکتے ہیں، سخت اقدام (حتیٰ کہ قتل) کی رائے دیتا ہے، اور مشورے، جنگی صف بندی اور خفیہ خبر رسانی میں چوکسی پر زور دیتا ہے۔ رام اس معقول تنبیہ کو تسلیم کرکے وानر وزیروں سے رائے لیتا ہے؛ انگد، شربھ، جامبوان اور میندہ شک، نگرانی اور محتاط تفتیش کی تجویز دیتے ہیں۔ ہنومان نفسیاتِ کردار کی بنیاد پر کہتا ہے کہ نیت فوراً معلوم نہیں ہوتی، مگر وبھیشن کی گفتگو، انداز اور سکون میں بدخواہی کے آثار نہیں؛ چھپی ہوئی غرض عموماً صورت و لہجے سے ظاہر ہو جاتی ہے۔ یوں یہ سرگ سیاسی احتیاط کی عملی تعلیم کو شरणاگتی کے اخلاقی سوال کے ساتھ جوڑتا ہے کہ پناہ کب اور کیسے دی جائے۔
शरणागति-धर्मनिर्णयः (Decision on Refuge and Dharma) / Rama’s Vow of Protection and the Acceptance of Vibhishana
اس سرگ میں فیصلہ کن گھڑی پر پالیسی اور اخلاقیات کی گفتگو سامنے آتی ہے: وِبھیشَن پناہ لینے کے لیے آتا ہے اور اتحادی لشکر میں تذبذب پھیل جاتا ہے۔ ہنومان کی بات سن کر شری رام خوش ہوتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ وہ وِبھیشَن کے بارے میں کلام کریں گے، پھر اپنے خیرخواہوں کو توجہ سے سننے کی دعوت دیتے ہیں۔ سُگریو شک کا اظہار کرتا ہے کہ وِبھیشَن راون کا بھیجا ہوا کارندہ بھی ہو سکتا ہے، اس لیے احتیاط، روک تھام یا قید کی رائے دیتا ہے۔ شری رام پہلے اپنی ناقابلِ تسخیر حیثیت بیان کر کے سُگریو کی تشویش کو کم کرتے ہیں، پھر دھرم کے اصولی استدلال کی طرف آتے ہیں۔ وہ قدیم مثالیں پیش کرتے ہیں—جیسے کبوتر نے دشمن کو بھی مہمان نوازی دی—اور رِشی کندو سے منسوب دھرم کے اشلوک یاد دلا کر یہ قائم کرتے ہیں کہ جو ہاتھ جوڑ کر پناہ مانگے، اسے نقصان پہنچانا جائز نہیں۔ یہ گفتگو ایک رسمی عہد میں ڈھل جاتی ہے: جو کوئی ایک بار بھی شَرَناگتی کرے—چاہے وِبھیشَن ہو، سُگریو ہو یا خود راون—شری رام اسے اَبھَے (بےخوفی) عطا کریں گے۔ اس دھارمک فیصلے اور وِبھیشَن کی باطنی پاکیزگی کو سمجھ کر سُگریو بھی قبولیت کی تائید کرتا ہے اور فوراً دوستی قائم کرنے کی درخواست کرتا ہے۔ آخر میں شری رام وِبھیشَن سے ملاقات کے لیے آگے بڑھتے ہیں، اور یہ واقعہ راج دھرم میں شَرَناگتی کے اصول کی مضبوط بنیاد بن جاتا ہے۔
विभीषणाभिषेकः — The Consecration of Vibhishana and Counsel on Crossing the Ocean
اس سَرگ میں رام اور ویبھیشن کی رفاقت کو عوام کے سامنے ایک مقدس رسم اور سیاسی جواز کے ساتھ قائم کیا جاتا ہے۔ رام کے اَبھَی (یقینی حفاظت) دینے کے بعد ویبھیشن نیچے اتر کر سجدۂ تعظیمی کرتا ہے، لنکا سے اپنے سابقہ رشتے توڑ کر شَرَناگتی (پناہ) مانگتا ہے اور اپنی جان و اقتدار رام کے سپرد کر دیتا ہے۔ رام وقار کے ساتھ اسے تسلی دیتے ہیں اور راکشسوں کی قوت و کمزوریوں پر خفیہ معلومات طلب کرتے ہیں۔ ویبھیشن راون کی ور-بخشیدہ قریب ناقابلِ شکست حیثیت، کمبھ کرن کی جنگی طاقت، پرہست کی منی بھدر پر سابقہ فتح، اندر جیت کی آگنی کرموں کے ذریعے غائب ہونے کی صلاحیت، اور دیگر سرداروں کے ساتھ لنکا کی عظیم و ہیبت ناک فوج کا بیان کرتا ہے۔ تب رام ایک پابند عہد کرتے ہیں کہ راون کے وध کے بعد ویبھیشن کو لنکا کا راجا مقرر کیا جائے گا۔ یہ وعدہ فوراً اَبھِشیک کے ذریعے نافذ ہوتا ہے: لکشمن سمندر کا جل لاتے ہیں اور وانر سرداروں کے بیچ ویبھیشن کو راکشس-راجا کے طور پر تِلک و اَبھِشیک دیتے ہیں، جس پر ہر طرف جے جے کار ہوتی ہے۔ آخر میں ہنومان اور سُگریو سمندر پار کرنے کی تدبیر پوچھتے ہیں؛ ویبھیشن ساگر کی شَرَن لینے کا مشورہ دیتا ہے اور سَگَر وَنش سے نسبت یاد دلاتا ہے۔ سُگریو یہ صلاح رام تک پہنچاتا ہے؛ رام اسے منظور کر کے ساحل پر کُشا گھاس پر آسن لگا کر بیٹھ جاتے ہیں، لنکا کی جانب اگلے مقدس و حکمتِ عملی قدم کے لیے آمادہ۔
दूत-नीति, शुक-प्रसङ्गः (Envoy-Ethics and the Episode of Śuka)
سرگ ۲۰ میں جاسوسی، سفارتی پیغام رسانی اور جنگی اخلاق کی علانیہ آزمائش ایک مربوط سلسلے میں سامنے آتی ہے۔ راکشس جاسوس شاردول سُگریو کے لشکرگاہ میں داخل ہو کر جھنڈوں سے آراستہ وانر-سینا کو دیکھتا ہے اور راون کو خبر دیتا ہے کہ وانر اور ریچھ لنکا کی طرف دوسرے، بے کنار سمندر کی مانند بڑھ رہے ہیں؛ وہ سمندر کنارے رام اور لکشمن کی موجودگی اور فوج کی وسیع پھیلاوٹ بھی بیان کرتا ہے۔ اس کے بعد راون شُک کو سُگریو کے پاس ایک سوچا سمجھا پیغام دے کر بھیجتا ہے: سُگریو کے نسب اور قوت کی تعریف کرتے ہوئے راون کے گناہ کو ہلکا دکھانا اور لنکا کی ناقابلِ تسخیر حیثیت جتانا—تاکہ نفسیاتی دباؤ پڑے اور اتحاد میں رخنہ آئے۔ شُک پرندے کی صورت اختیار کر کے آسمان سے گفتگو کرتا ہے مگر غضبناک وانر اس پر حملہ کرتے ہیں۔ شُک دوت-دھرم کی دہائی دیتا ہے کہ قاصد کو قتل کرنا اَدھرم ہے، اور امانت دار پیامبر اور وہ شخص جو اپنی طرف سے بات بڑھائے، دونوں میں فرق واضح کرتا ہے۔ رام دوت-دھرم کی حفاظت کے لیے مداخلت کرتے ہیں اور شُک کو چھوڑ دینے کا حکم دیتے ہیں۔ محفوظ ہو کر شُک دوبارہ بولتا ہے تو سُگریو راون کے لیے سخت جواب دیتا ہے: شکست یقینی ہے؛ چھپنے یا دیوتاؤں کی پناہ لینے سے بھی نجات نہیں؛ اور سیتا کے اغوا اور جٹایو کے قتل کے سبب اخلاقی مواخذہ کرتا ہے۔ انگد کو شبہ ہوتا ہے کہ شُک نے جاسوس کی طرح لشکر کا اندازہ لگا لیا ہے اور اسے پکڑنے کی رائے دیتا ہے؛ یوں یہ منظر سلامتی کی ضرورت اور شرعی/اخلاقی ضبط کے توازن کے ساتھ جنگ کے بیچ دوت کی حرمت کو ایک تعلیمی مرکز بنا دیتا ہے۔
सागरप्रतीक्षा-क्रोधप्रादुर्भावः (Rama’s Vigil at the Ocean and the Rise of Wrath)
ساحلِ سمندر پر رام نے نہایت ضبط و ریاضت کے ساتھ آدابِ تقرب ادا کیے۔ انہوں نے کُش گھاس بچھائی، مشرق رُخ ہو کر سمندر کو اَنجلی پیش کی اور ورت کے عہد میں شب بیداری کی حالت میں لیٹ گئے۔ تین راتیں گزر گئیں کہ وہ ‘ندیوں کے ناتھ’ ساگر کے ظہورِ جواب کے منتظر رہے، مگر واجب تعظیم کے باوجود سمندر نے کوئی پاسخ دینے والی صورت اختیار نہ کی۔ اس بے اعتنائی سے رام کا ضبط، دھرم یُکت غضب میں بدل گیا۔ انہوں نے لکشمن کو بتایا کہ سکون، برداشت، سادگی اور نرم گفتاری کو کبھی نِرگُن یا مغرور لوگ کمزوری سمجھ لیتے ہیں؛ محض مصالحت سے نام و فتح حاصل نہیں ہوتی۔ پھر رام نے عزم کیا کہ سانپ جیسے تیروں سے سمندر کو سُکھا دیں گے یا اسے عذاب میں مبتلا کریں گے تاکہ وانر لشکر پاؤں پاؤں پار اتر سکے۔ جب رام نے ہولناک کمان چڑھائی تو کائناتی ہیبت نمایاں ہوئی: تیر پانیوں میں شعلہ بن کر لپکے، موجیں پہاڑوں کی طرح اٹھیں، صدف و شَنگھ بھنور میں گھومے، دھواں بلند ہوا، اور پاتال کے ناگ اور دانَو بے چین ہو گئے۔ آخرکار سَومِتری (لکشمن) نے آگے بڑھ کر کمان تھام لی اور رام کو روک کر کہا: “بس کیجیے۔”
सागरप्रशमनम् / The Pacification of the Ocean and the Building of Nala’s Bridge
اس سَرگ میں رکاوٹ سے تدبیر اور تعمیر کی طرف رخ ہوتا ہے۔ سمندر کے راستہ روکنے پر شری رام غضبناک ہو کر برہماستر سے معمور قوت کے ساتھ یہ عہد کرتے ہیں کہ سمندر کو پاتال تک سُکھا دیں گے۔ تب کائناتی اضطراب برپا ہوتا ہے—تیز ہوائیں، گھٹائیں، بجلی، تاریکی—اور ظاہر و باطن، مرئی و نامرئی مخلوقات خوف زدہ ہو جاتی ہیں۔ اسی وقت سمندر کے مالک ساگر (ورُنالَی) شاہانہ تجلّی کے ساتھ ظاہر ہو کر پانچ مہابھوتوں کے اٹل سْوَبھاوا (فطری قانون) کی وضاحت کرتا ہے اور دھرم کے مطابق راستہ بتاتا ہے: پُل/سیتو بنا کر محفوظ گزرگاہ۔ وہ یہ بھی درخواست کرتا ہے کہ رام کا خطا نہ کرنے والا تیر ڈرُمکولیہ کے گناہگار لٹیروں پر چلایا جائے۔ رام اسی طرح استر کو موڑ دیتے ہیں؛ اس سے مشہور ریگستانی قطعہ ‘مروکانتار’ پیدا ہوتا ہے، کھارے اُبال والا ‘ورَن’ کنواں ظاہر ہوتا ہے اور ور کے سبب ایک نیا مبارک راستہ قائم ہوتا ہے۔ پھر سمندر نَل کو—وشوکرما کے پتر—الٰہی طور پر اہل معمار بتاتا ہے؛ نَل ذمہ داری قبول کرتا ہے۔ وانر لشکر درخت، چٹانیں اور پہاڑ جمع کرتے ہیں اور چند دنوں میں سیتو تیزی سے بن جاتا ہے؛ دیوتا اور رشی اس کی تحسین کر کے رام کو آشیرواد دیتے ہیں۔ یہ باب غضب کی تہذیب، سْوَبھاوا کے کونیاتی اصول اور دھرم کے لیے ریاستی تعمیر کو یکجا کرتا ہے۔
निमित्तदर्शनम् (Portents Before the March to Laṅkā)
اس سَرگ میں حکم اور شگونوں (نِمِتّوں) کا بیان ہے۔ شری رام، جو علامات کو پہچاننے والے ہیں، سَومِتری (لکشمن) کو گلے لگا کر عملی ہدایات دیتے ہیں: جنگل میں محفوظ پڑاؤ قائم کیا جائے، ٹھنڈا پانی اور پھل مہیا ہوں، لشکر کے دستے تقسیم کیے جائیں اور پوری چوکسی کے ساتھ وِیُوہ (صف بندی) میں کھڑا کیا جائے۔ پھر رام ہولناک اشاروں کی تفسیر کرتے ہیں—گرد آلود ہوائیں، زمین اور پہاڑوں کا لرزنا، درختوں کا گر پڑنا، گوشت رنگ بادلوں سے خون جیسے قطرے برسنا، خوفناک گودھولی، سورج سے آگ کے گولوں کا گرتا ہوا سا دکھائی دینا، جانوروں کی سورج کی سمت بے قرار چیخیں، اور چاند و سورج کے غیر معمولی رنگ اور ہالے۔ یہ نِمِتّ مفلوج کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اس بات کی پیش خبری ہیں کہ ریچھوں، بندروں اور راکشسوں میں بھاری جانی نقصان ہوگا اور فیصلہ کن خونریز ٹکراؤ قریب ہے۔ آخر میں فوراً کوچ ہوتا ہے۔ وانر لشکر راون کی نگری کی طرف رخ کرتا ہے؛ شری رام کمان ہاتھ میں لیے پیش پیش بڑھتے ہیں؛ سُگریو اور وِبھیشن گرجتے ہوئے آگے چلتے ہیں۔ وانر یودھا رام کا حوصلہ بڑھانے کے لیے جوشیلے کرتب کرتے ہیں، اور دھرم یُدھ کے عزم سے لشکر کا حوصلہ بلند رہتا ہے۔
लङ्कानिरीक्षणं व्यूहविन्यासश्च (Survey of Lanka and Deployment of the Battle Formation)
اس سَرگ میں کھلی جنگ سے عین پہلے کا فیصلہ کن لمحہ بیان ہوا ہے۔ رام کے حکم سے وانر لشکر ٹھہر کر ایسے چمکتا ہے جیسے مبارک ستاروں کے بیچ خزاں کی پورنیما کا چاند؛ پھر سمندر کی مانند جوش میں آگے بڑھتا ہے اور زمین لرز اٹھتی ہے۔ لنکا کی طرف سے خوفناک نقّاروں اور ڈھولوں کی گونج اٹھتی ہے؛ وانر اس سے بھی بلند غرّاہٹ سے جواب دیتے ہیں اور راکشسوں میں ہلچل و دہشت پھیل جاتی ہے۔ سیتا کے فراق میں غمگین رام، لکشمن کو لنکا کی بلند و بالا، آسمان کو چھوتی عمارتیں اور باغوں کی شان دکھاتے ہیں—سفید بادلوں جیسے وِمان، چَیتررتھ کے مانند گلستان، اور پرندوں، کوئلوں اور بھنوروں سے گونجتے درخت۔ پھر وہ شاستر کے مطابق فوجی تقسیم (ویوہ) قائم کرتے ہیں: مرکز میں انگد نیل کے ساتھ، جنوبی بازو پر رِشبھ، دائیں بازو پر گندھمادن؛ اگلے حصے میں رام اور لکشمن؛ ‘پیٹ’ کی حفاظت جامبوان اور سوشین ریچھ سرداروں کے ساتھ، اور عقب کی نگہبانی سُگریو کرتا ہے۔ منظم لشکر آسمان کے بادلوں کے تودوں کی طرح دمکتا ہے، اور وانر پہاڑوں کی چوٹیاں اور درخت ہتھیار بنا کر لنکا کو پاش پاش کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔ ویوہ مکمل ہونے پر قاصد شُک کو چھوڑ دیا جاتا ہے؛ وہ دہشت زدہ ہو کر راون کے پاس لوٹتا ہے۔ شُک وانروں کے غضب اور پل باندھ کر رام کے پہنچنے کی خبر دے کر کہتا ہے کہ فوراً فیصلہ کرو: سیتا واپس کرو یا جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ۔ راون سرخ آنکھوں سے غضبناک ہو کر شیخی بگھارتا ہے، دیوتاؤں کے مقابل بھی سیتا نہ دینے کا اعلان کرتا ہے اور اپنے تیروں کی ناقابلِ روک ‘آگ’ کا دعویٰ کرتا ہے—یوں ٹکراؤ یقینی ہو جاتا ہے۔
शुकसारण-चारप्रवेशः (Suka and Sāraṇa’s Espionage and Release)
جب راون کو معلوم ہوتا ہے کہ دَشرتھ کے فرزند شری رام وانر لشکر کے ساتھ سمندر پار کر چکے ہیں اور سمندر پر پل (سیتو) بھی بن گیا ہے، تو وہ جوش میں آ کر اپنے وزیر-جاسوس شُک اور سارَن کو حکم دیتا ہے کہ دشمن کے لشکرگاہ میں بے خبر داخل ہو کر خبر لائیں۔ انہیں ہدایت دی جاتی ہے کہ فوج کی تعداد کا اندازہ کریں، بڑے وانر سرداروں اور مؤثر کمانڈروں کی شناخت کریں، پل کی تعمیر کا جائزہ لیں، پہاڑوں، غاروں، ساحلوں، جنگلوں اور باغات میں پھیلے پڑاؤ تلاش کریں، اور رام و لکشمن کے عزم، شجاعت اور اسلحہ کی کیفیت پرکھیں۔ وانروں کا بھیس بدل کر وہ لشکر میں گھس جاتے ہیں، مگر فوج کی بظاہر بے شمار کثرت اور جنگی للکار کی گرج سے ششدر رہ جاتے ہیں۔ وبھیشن ان چھپے ہوئے جاسوسوں کو پہچان کر گرفتار کرتا ہے اور شری رام کے حضور پیش کرتا ہے۔ جاسوس قتل کے خوف میں مبتلا ہوتے ہیں، مگر رام سکون، لطیف مزاح اور اصولی ضبط کے ساتھ فرماتے ہیں کہ تمہاری جاسوسی پوری ہو چکی؛ بے خوف واپس جاؤ۔ اگر کچھ رہ گیا ہو تو وبھیشن تمہیں پوری فوج دکھا دے۔ رام جنگ کے دھرم کا قاعدہ واضح کرتے ہیں کہ قاصد اور بے ہتھیار کو قتل نہیں کیا جاتا، اور ان کی رہائی کا حکم دیتے ہیں۔ رام انہیں راون کے لیے پیغام دیتے ہیں: جس قوت سے سیتا کا ہَرن کیا تھا، وہی قوت دکھاؤ، اور سحر کے وقت دیکھو کہ لنکا کی مدافعت اور راکشسوں کی طاقت کیسے پاش پاش ہو گی۔ لنکا واپس جا کر شُک اور سارَن رام کی راست بازی کی گواہی دیتے ہیں اور رام، لکشمن، وبھیشن اور سُگریو—ان چاروں رہنماؤں کی ہیبت ناک صلاحیت بیان کر کے مشورہ دیتے ہیں کہ صلح کی راہ اختیار کی جائے اور میتھلی (سیتا) کو لوٹا دینا ہی دانائی ہے۔
वानरमुख्य-परिचयः (Catalogue of Principal Vānara Leaders)
سرگ 26 میں لنکا کے اندر جاسوسی سے حاصل شدہ خبر اور انٹیلیجنس کے تبادلے کا بیان ہے۔ سارن صاف گو اور مفید نصیحت پیش کرتا ہے، مگر راون تکبر کے ساتھ سیتا کو واپس کرنے سے انکار کرتا ہے، چاہے کائنات بھر کی مخالفت ہی کیوں نہ ہو۔ براہِ راست جائزے کے لیے راون شُک اور سارن (جاسوسوں) کے ساتھ ایک بلند، برف کی مانند سفید محل پر چڑھ کر ساحلی میدان میں پھیلی ہوئی عظیم وانر فوج کو دیکھتا ہے۔ لا تعداد لشکر دیکھ کر راون سارن سے پوچھتا ہے کہ وانروں میں سب سے ممتاز کون ہیں، سُگریو کے بڑے مشیر کون ہیں، اور کن سرداروں سے خوف کرنا چاہیے۔ تب سارن ترتیب وار فہرست کی صورت میں نمایاں کمانڈروں اور ان کی جنگی خصوصیات بتاتا ہے: سُگریو کی فوج کے آگے نیل؛ والی کا بیٹا اور ولی عہد انگد جو کھلا چیلنج دیتا ہے؛ سیتو (پل) کے کارنامے سے وابستہ نل؛ اور دیگر دستہ سالار (شویت، کُمُد، رمبھ، شربھ، پنس، وِنَت، کرودھن، گَوَیَہ) جن کے جسمانی اوصاف، پہاڑ/مسکن کی نسبتیں، لشکری تعداد اور لنکا پر یلغار کا عزم بیان ہوتا ہے۔ یہ باب رزمیہ شاعری کے ساتھ ریاستی حکمتِ عملی کے انداز میں “دشمن کی صف بندی” اور خطرے کے اندازے کو پیش کرتا ہے۔
वानर-ऋक्ष-सेना-प्रशंसा (Cataloguing the Vanara and Bear Forces)
یہ سَرگہ جنگی فہرست اور بصری بریفنگ کی مانند ہے۔ مقرر راکشس راجا کو “راجن” کہہ کر راغھو کے مقصد کے لیے جمع ہونے والی وानر اور رِکش (ریچھ) فوج کا بیان کرتا ہے اور زور دیتا ہے کہ وہ “راغھوارْتھے پراکرانتاḥ” ہیں—یعنی راغھو کے لیے جان کی بازی لگانے پر آمادہ۔ اس میں سرداروں اور لشکری جماعتوں کا جاندار تعارف تشبیہوں اور نسبی اشاروں کے ساتھ آتا ہے: ہرا کی کثیر رنگ، تابناک دُم؛ سیاہ طوفانی بادلوں جیسے ہیبت ناک ریچھ؛ ان کے آقا دھومر جو رِکشوان میں رہتا اور نرمدا کا پانی پیتا ہے؛ جامبوان جو پہاڑ کی مانند، سرداروں میں برتر، دیو-اسور جنگ میں اندر کا مددگار اور ور دان یافتہ ہے۔ دھمبا ایک خوفناک ہریشور ہے جو اندر کی طرح گھرا رہتا ہے؛ سنندن کو وانروں کا “پِتامہ” کہا گیا ہے، عظیم الجثہ، جس نے کبھی اندر سے لڑ کر بھی شکست نہ مانی۔ پھر کرودھن/کرَتھن کا ذکر ہے جو کیلاش پر کوبیر کے جامبو درخت کے پاس رہتا ہے؛ پرمَتھی گرد اڑاتی تیز رفتار فوج کی قیادت کرتا ہے؛ گواکش پل دیکھنے کے بعد گولانگول دستوں میں گھرا ہے؛ کیسری سونے کے پہاڑ پر ہمیشہ کے پھل اور شہد کے درمیان مسرور رہتا ہے؛ اور شتَبَلی سورج کا پجاری ہے اور لنکا کو کچل دینے کا عزم رکھتا ہے۔ اختتام پر اتحادی لشکر کی ناقابلِ شمار وسعت اور زمین کے پہاڑوں تک کو بدل دینے کی قدرت بیان کر کے دشمن کو مرعوب اور اپنے لشکر کا حوصلہ بلند کیا جاتا ہے۔
शुकवाक्यं (Śuka’s Report on the Vānara Host) / Śuka Describes the Allied Forces to Rāvaṇa
سارَنا کی بریفنگ کے بعد شُک راون کے سامنے ایک منظم جاسوسی رپورٹ جاری رکھتا ہے۔ وہ قریب آتی وानر اتحادی فوج کو جنگی حکمتِ عملی میں نہایت سخت اور اخلاقی طور پر دھرم پر قائم دکھاتا ہے—وانر ناقابلِ مزاحمت، روپ بدلنے والے اور دیوتاؤں جیسے پرتاب والے ہیں۔ وہ اہم سرداروں کی نشان دہی کرتا ہے: مَیند اور دِوِوِد کو قریب قریب امر یودھا بتاتا ہے؛ ہنومان کو پون پُتر، سمندر پھلانگنے والا، صورتیں بدلنے والا قرار دیتا ہے اور لنکا میں اس کے پہلے مشن—خصوصاً دُم جلائے جانے کے واقعے—سے اس کی صداقت ثابت کرتا ہے۔ پھر شُک انسانی نایकों کی طرف آتا ہے: رام کو اِکشواکو وَنش کا اَتِرَتھ، اٹل دھرم والا، برہماستر سے یُکت اور ایسی تیراندازی کا مالک بتاتا ہے جو گویا جگت کو چیر دے؛ لکشمن کو رام کا ناگزیر “دایاں ہاتھ”، راج نیتی اور یُدھ میں ماہر کہتا ہے۔ وبھیشن کو رام کے بائیں جانب ابھیشکت راجا کے طور پر دکھا کر راون کے خلاف دھرم کے پکش میں کھڑا بتاتا ہے۔ فوج کی بے پناہ تعداد جتانے کے لیے شُک شَنکھُو، مہاشَنکھُو، بِرِند، پَدْم، خَروَ، سَمُدر، اوگھ، مہاوگھ جیسے عددی نام لیتا ہے اور آخر میں تنبیہ کرتا ہے کہ اس “جلتے ہوئے سیّارے جیسی” فوج کو دیکھ کر راون کو شکست سے بچنے کے لیے اعلیٰ ترین کوشش کرنی چاہیے۔
शुकसारणनिग्रहः / Ravana Rebukes Suka and Sārana; Spies Reconnoiter Rama’s Camp
سرگ 29 میں دربار سے لشکرگاہ تک خبر رسانی اور جاسوسی کی وہ گردش دکھائی گئی ہے جو چار-نیتی کا مرکز ہے۔ شُک کی رپورٹ سن کر—جس میں جمع شدہ وانروں اور شری رام کے بڑے ساتھیوں کا ذکر ہے: لکشمن کو رام کا ‘دایاں بازو’ کہنا، سُگریو، انگد، ہنومان، جامبوان اور دیگر سردار—راون اندر سے لرز اٹھتا ہے مگر ظاہر میں غضبناک ہو جاتا ہے۔ وہ شُک اور سارَن کو جنگ سے پہلے دشمن کی تعریف کرنے پر سخت ملامت کرتا ہے اور اسے راج نیتی، وزارتی ذمہ داری اور وفاداری کی کوتاہی قرار دیتا ہے۔ سزا کی دھمکی دے کر بھی، ان کی سابقہ خدمات یاد کر کے انہیں قتل نہیں کرتا بلکہ صرف رخصت کر دیتا ہے۔ پھر راون عملی حکمتِ عملی کی طرف متوجہ ہو کر مہودر کو حکم دیتا ہے کہ ماہر جاسوس بلائے جائیں اور انہیں رام کے ارادوں، معمولات اور قریبی حلقے کی خبر لینے کا فرمان دیتا ہے۔ شاردول کی قیادت میں جاسوس بھیس بدل کر سوَیل کے علاقے تک پہنچتے ہیں، مگر نیک سیرت وبھیشن انہیں پہچان لیتا ہے اور شاردول پکڑا جاتا ہے۔ وانر انہیں مار ڈالنے کو بڑھتے ہیں، لیکن شری رام کی کرپا و رحم درمیان میں آ کر شاردول اور دوسروں کو چھوڑ دیتی ہے۔ خوف زدہ اور ستائے ہوئے جاسوس لنکا لوٹ کر سوَیل کے نزدیک ٹھہرے ہوئے زبردست لشکر کی خبر دَشگریو کو دیتے ہیں، اور یوں سرگ ایک حکمت آمیز جائزے پر ختم ہوتا ہے۔
शार्दूलचरवृत्तान्तः (Saardula’s Spy-Report on Rama’s Camp and the Vanara Host)
اس سَرگ میں جاسوسی کی خبر سے مشورے تک ایک مربوط سلسلہ دکھایا گیا ہے۔ لنکا کے جاسوس خبر دیتے ہیں کہ راغھو (رام) نے سوویلا پر ایک “ناقابلِ لرزش” لشکر کے ساتھ پڑاؤ ڈال لیا ہے۔ راون لمحہ بھر کے لیے مضطرب ہو کر اپنے کارندے شاردول سے بازپرس کرتا ہے؛ شاردول کے چہرے پر خوف کے آثار ہی وانروں کی سخت نگرانی کا ثبوت بن جاتے ہیں۔ شاردول اپنی گرفتاری کا حال سناتا ہے—فوراً پہچان لیا جانا، مارپیٹ، عوام کے سامنے گھمایا جانا اور پھر چھوڑ دیا جانا—جس سے رام کے کیمپ کی نظم و ضبط اور حفاظت نمایاں ہوتی ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ سمندر میں چٹانیں اور پتھر ڈال کر پل (سیتو) کا کام مکمل ہو چکا ہے اور رام لنکا کے دروازے کے قریب جنگی حالت میں موجود ہیں، جبکہ وانر لشکر نے گڑُڑ-ویوہ جیسی صف بندی بنا رکھی ہے۔ شاردول راون کو دو ٹوک راستہ دکھاتا ہے—سیتا کو واپس کر دو یا جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ، اس سے پہلے کہ رام فصیلوں تک پہنچ جائیں۔ مگر راون قطعی انکار کرتا ہے کہ دیوتاؤں کے اتحاد کے مقابل بھی وہ سیتا کو نہیں دے گا، اور وانروں کی طاقت، نسب اور تعداد کی تفصیلی خبر مانگتا ہے۔ شاردول سُگریو، جامبوان، ہنومان، نیل، انگد، میند، دویود اور دیگر سرداروں کا ذکر کرتا ہے، بہتوں کو دیویہ نسب سے جوڑتا ہے، اور لشکر کی بے پناہ کثرت (دس کروڑ) پر زور دیتا ہے۔ آخر میں وہ کہتا ہے کہ باقی تفصیلات بیان کی حد سے باہر ہیں۔ یوں یہ باب ایک طرف جنگی فہرست ہے اور دوسری طرف اخلاقی و نفسیاتی تصویر—منضبط دھارمک اتحاد کے مقابل راون کی ہٹ دھرمی۔
मायाशिरोप्रदर्शनम् (The Display of the Illusory Head of Rāma)
سرگ 31 کا آغاز لنکا کے جاسوسوں کی اس اطلاع سے ہوتا ہے کہ رام کی عظیم فوج سویلا پہاڑ پر پہنچ چکی ہے۔ اس خبر سے پریشان ہو کر، راون نے براہ راست جنگ کے بجائے نفسیاتی حربہ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے جادوگر راکشس ودیوجہوا کو طلب کیا اور اسے حکم دیا کہ وہ رام کا ایک نقلی سر اور کمان تیار کرے۔ راون اشوک واٹیکا پہنچا، جہاں سیتا غمگین حالت میں سر جھکائے اپنے شوہر کے خیال میں محو تھیں۔ راون نے جھوٹ بولا کہ پرہست کی قیادت میں رات کے حملے میں رام اور وانر فوج ماری گئی ہے۔ سیتا کے عزم کو توڑنے کے لیے، اس نے وہ نقلی سر اور کمان ان کے سامنے پیش کر دی۔ یہ باب راون کے فریب اور سیتا کی اٹل عقیدت کے درمیان تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔
सीताविलापः (Sītā’s Lament over the Illusory Head and Bow)
اس سرگ میں دو بیانیے ساتھ ساتھ چلتے ہیں: (1) اشوک واٹیکا میں سیتا کا ایک رچائے گئے تماشے کو دیکھ کر شدید غم و فریاد، اور (2) راون کا نظمِ سلطنت کے انداز میں جنگی مشاورت کی طرف رخ کرنا۔ سیتا کو رام کا کٹا ہوا سر اور ان کا مشہور کمان دکھایا جاتا ہے۔ وہ آنکھوں، رنگت اور بالوں کی لٹوں جیسی علامتوں سے پہچانتی ہے، چوڑامنی کی مبارک نسبت یاد کر کے بے ہوش ہو جاتی ہے، پھر طویل خطاب میں نوحہ کرتی ہے۔ اس کے کلام میں کیکئی پر ملامت، اپنی ذات پر خود الزام، اور ‘کال’ (وقت) کو عقل و تدبیر اور محافظتوں کو مٹا دینے والی قوت سمجھ کر ماورائی غور و فکر شامل ہے۔ وہ ایک دھارمک paradox بیان کرتی ہے کہ رام، جو سیاست اور آفت سے بچاؤ کے جاننے والے تھے، پھر بھی موت کے قابو میں آ گئے؛ وہ تصور کرتی ہے کہ اگر لکشمن اکیلا لوٹے تو کوسلیا پر کیسی قیامت گزرے گی؛ اور وہ اس سماجی و مذہبی ٹوٹ پھوٹ کا ذکر کرتی ہے کہ ایک ویر کا جسم سنسکار کے بغیر درندوں اور پرندوں کے حوالے ہو جائے۔ نوحہ کے آخر میں وہ راون سے التجا کرتی ہے کہ اسے بھی شوہر کے ساتھ موت میں ملا دے۔ راون کے وزیروں سے ملنے کے لیے جاتے ہی وہ سر اور کمان غائب ہو جاتے ہیں—یوں یہ واقعہ دھوکے اور جبر کی مایا ثابت ہوتا ہے۔ پھر منظر حکمرانی کی طرف پلٹتا ہے: ایک پہرے دار پرہست کی آمد کی خبر دیتا ہے؛ راون وزرا کو جمع کرتا ہے، وجہ بتائے بغیر نقاروں کے ذریعے لشکر اکٹھا کرنے کا حکم دیتا ہے، اور رام کے خلاف اقدام پر باقاعدہ مشاورت شروع کرتا ہے۔
सरमा-सीता संवादः (Saramā Consoles Sītā; Preparations in Laṅkā)
اس سَرگ میں اشوک-واٹیکا جیسے اسیری کے مقام پر تسلی اور خبر رسانی پر مبنی مکالمہ آتا ہے۔ رحم دل راکشسی سرما، جو ویدہی سیتا سے خیرخواہ اور دوستانہ ہے، اُس وقت سیتا کے پاس آتی ہے جب وہ غم سے بے قرار ہو کر بے ہوشی کے قریب پہنچ جاتی ہے۔ سرما بتاتی ہے کہ اس نے سیتا اور راون کی گفتگو سن لی تھی، اور سمجھاتی ہے کہ راون کیوں مضطرب ہے—رام کو نیند میں چھپ کر حملہ کر کے مارنا ممکن نہیں، اور اس کی موت کو ناممکن سمجھا جاتا ہے۔ وہ یہ بھی کہتی ہے کہ درختوں کو ہتھیار بنا کر لڑنے والے وانر یودھا مارے جانا دشوار ہیں، کیونکہ وہ “رام کی حفاظت” میں ہیں—جیسے دیوتا اندر کی حفاظت میں۔ اس باب میں رام کی شان بار بار ابھرتی ہے: دھرم پر قائم، نامور، کمان بردار، فراخ سینہ اور ناقابلِ تسخیر؛ اور لکشمن کو بھی شریکِ محافظ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ پھر سرما حالات کی خبر دیتی ہے کہ رام سمندر پار کر کے جنوبی ساحل پر اپنی فوج کے ساتھ ٹھہر چکا ہے؛ جاسوسوں نے لنکا کو اطلاع دے دی ہے؛ اور راون اپنے وزیروں سے مشورہ کر رہا ہے۔ آخر میں لنکا کی جنگی تیاریوں کا صوتی منظر دکھایا جاتا ہے—نقّارے، گھنٹیاں، رتھ، گھوڑے، ہاتھی، ہتھیار اور زرہیں—جو قریب آتی لڑائی کی علامت ہیں۔ سَرگ کا اختتام اخلاقی و عبادتی نصیحت پر ہوتا ہے: سیتا کو دیواسکر سورج کی پناہ لینے کو کہا جاتا ہے، جو مخلوقات کے نصیب کا کائناتی نگہبان ہے۔
सरमायाḥ सीतासान्त्वनम् तथा रावणनिश्चयश्रवणम् (Saarana Consoles Sita and Reports Ravana’s Resolve)
یہ سَرگ یُدھّ کاند کے بیچ ایک اخلاقی و تسکینی وقفہ کی طرح ہے، جہاں قربت بھرے مکالمے کے ذریعے سیاسی ارادہ واضح کیا جاتا ہے اور سیتا کے باطن کو استقامت دی جاتی ہے۔ وقت کی پہچان رکھنے والی سرما نرم مسکراہٹ کے ساتھ بات کرتی ہے اور سیتا کو دلاسہ دیتی ہے، یہاں تک کہ سیتا کا غم بارش سے سیراب ہوئی سوکھی زمین کی طرح دھیرے دھیرے کم ہونے لگتا ہے۔ سیتا اپنی تشویش بیان کرتی ہے: راون کی مایا، اس کی بار بار دھمکیاں، اور اشوک واٹیکا میں راکشسیوں کی سخت نگرانی۔ وہ سرما سے درخواست کرتی ہے کہ راون کے پختہ فیصلے کی مصدقہ خبر لا کر دے۔ سرما یہ ذمہ داری قبول کر کے راون کے پاس جاتی ہے، وزیروں کی صلاح سنتی ہے اور جلد واپس آتی ہے؛ سیتا اسے گلے لگاتی ہے، بیٹھنے کو کہتی ہے اور راون کی نیت کی حقیقت پوچھتی ہے۔ سرما بتاتی ہے کہ راون کی ماں کیکسی اور ایک بوڑھا وزیر اوِدّھ (اَوِدّھا) میتھلی کو عزت کے ساتھ چھوڑ دینے کا مشورہ دیتے ہیں، اور رام کی قدرت کے ثبوت گنواتے ہیں: جنستھان کی تباہی، ہنومان کا سمندر پار کرنا اور اس کے ہاتھوں ہونے والی ہلاکتیں۔ مگر راون خزانے سے چمٹے بخیل کی مانند، جنگ میں موت کے ذریعے مجبور کیے بغیر رہائی پر آمادہ نہیں ہوتا۔ آخر میں ڈھول، شنکھ اور وانروں کے شور کی گونج زمین کو ہلا دیتی ہے؛ راکشس خدام کے دل بیٹھ جاتے ہیں اور اپنے راجا کی خطاؤں سے قریب آتی حکمتِ عملی کی شکست کا اندوہناک اشارہ نمایاں ہو جاتا ہے۔
माल्यवानुपदेशः — Malyavan’s Counsel, Portents in Laṅkā, and the Proposal of Alliance
سرگ 35 کا آغاز رام کے جنگی پیش قدمی سے ہوتا ہے، جسے شنکھوں اور نقاروں کی گونج نمایاں کرتی ہے۔ یہ منحوس شور سن کر لنکا کے دربار میں راون اپنے وزیروں سے مشورہ کرتا ہے اور ان کی خاموشی پر ملامت کرتا ہے، حالانکہ وہ بہادری کے دعوے دار ہیں۔ پھر ناموافق نمِتّوں (بدشگونیوں) کا ذکر آتا ہے—غیر فطری اختلاط، گھریلو رسومات میں بگاڑ، ہولناک خواب، پرندوں اور جانوروں کی دشمنانہ چیخیں، اور خون جیسی بارش—جو سلطنت کے زوال کی علامت ہیں۔ اسی فضا میں بزرگ مشیر مالیوان (راون کے ننھیال کے نانا) منظم نیتی-اپدیش دیتا ہے: جو راجا علم و انصاف پر قائم رہے وہی راج دھرم کے ساتھ اقتدار سنبھالتا ہے؛ اور جب قوت کمزور پڑے تو دانا بادشاہ حقارت آمیز وِگْرہ (دشمنی) کے بجائے سَنْدھی (اتحاد) اختیار کرتے ہیں۔ مالیوان سیتا کی واپسی—جو جنگ کی اصل وجہ ہے—کی تاکید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ کائناتی قوتیں رام کے ساتھ ہیں؛ سمندر پر پل کی غیر معمولی تعمیر اس کی دلیل ہے، اور رام انسان روپ میں وشنو ہیں۔ آخر میں وہ راون کی ضد دیکھ کر خاموش ہو جاتا ہے، اور ردّ شدہ نصیحت کا المیہ نمایاں ہو جاتا ہے۔
माल्यवानुपदेशः—रावणक्रोधः तथा लङ्काद्वाररक्षा-व्यवस्था (Malyavan’s Counsel, Ravana’s Anger, and the Fortification of Lanka)
سرگ 36 میں ایک مختصر سیاسی و اخلاقی منظرنامہ سامنے آتا ہے۔ موت کے قبضے (کال) میں آیا ہوا راون مالیوان کی خیرخواہانہ نصیحت برداشت نہیں کرتا۔ وہ بھنویں چڑھا کر اور آنکھیں گھما کر اپنے غضب کا اظہار کرتا ہے اور مشیر پر الزام لگاتا ہے کہ وہ دشمن کی طرف داری یا کسی کی اکساہٹ سے سخت باتیں کہہ رہا ہے۔ راون اپنی ناقابلِ تسخیر انا جتاتا ہے کہ وہ جھکنے کے بجائے ٹوٹ جانا پسند کرے گا، اور ضد کو اپنی فطرتِ پیدائشی بتا کر اسے قابو سے باہر قرار دیتا ہے۔ وہ پل باندھنے کو محض اتفاق کہہ کر حقیر سمجھتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ بندروں کے ساتھ پار اتر کر رام زندہ واپس نہ آئیں گے۔ راون کے قہر کو دیکھ کر مالیوان جواب دیے بغیر روایتی دعائیں دیتا ہے اور رخصت ہو جاتا ہے۔ پھر گفتگو سے انتظام کی طرف رخ ہوتا ہے۔ راون وزیروں سے صلاح کر کے لنکا کی “بے مثال” حفاظت کا بندوبست کرتا ہے: مشرقی دروازے پر پرہست، جنوبی دروازے پر مہاپارشوا اور مہودر، مغربی دروازے پر اندرجیت (اور مہامایا)، شمالی دروازے پر شک-سارن؛ اور شہر کے وسط میں ویروپاکش کو مضبوط ذخیرۂ قوت کے طور پر مقرر کرتا ہے۔ یہ احکام دے کر، تقدیر کے زیرِ اثر راون اپنا کام پورا سمجھتا ہے؛ وزیروں کی دعاؤں کے بعد وہ اندرونی محل میں داخل ہو جاتا ہے۔
लङ्काद्वारव्यूहवर्णनम् / Disposition at the Gates of Lanka
اس سرگ میں لنکا پر یلغار سے عین پہلے شہر کے دروازوں اور دفاعی ترتیب کا مفصل نقشہ سامنے آتا ہے۔ وانر لشکر کے سردار—سُگریو، ہنومان، جامبوان، انگد، نل وغیرہ—دشمن نگری کے قریب پہنچ کر کامیابیِ مہم کے طریقوں پر مشورہ کرتے ہیں۔ تب وبھیشن وزیرانہ جاسوسی کی خبر دیتا ہے: اس کے قاصد پرندوں کی صورت اختیار کر کے لنکا میں داخل ہوئے، راون کی قلعہ بندی اور فوجی تنظیم دیکھی، اور باقاعدہ معلومات لے کر لوٹے۔ راکشش دفاع چاروں سمتوں میں تقسیم ہے—مشرقی دروازے پر پرہست؛ جنوبی دروازے پر مہاپارشوا اور مہودر؛ مغربی دروازے پر اندرجیت مختلف ہتھیار برداروں کے ساتھ؛ شمالی دروازے پر خود راون، بے چین مگر سخت پہرے میں؛ اور شہر کے وسط میں ویروپاکش۔ ہاتھیوں، رتھوں، گھڑ سواروں اور بے شمار پیادوں کی تعداد کا ذکر جنگ کی وسعت اور ہیبت کو نمایاں کرتا ہے۔ پھر شری رام عملی ذمہ داریاں مقرر کرتے ہیں: مشرق میں پرہست کے مقابل نیل؛ جنوب کے سالاروں سے نبرد آزما ہونے کو انگد؛ مغرب پر دباؤ ڈالنے کو ہنومان؛ شمالی دروازے سے، جہاں راون کھڑا ہے، لکشمن سمیت شری رام خود داخل ہوں گے؛ اور مرکز کی نگہبانی سُگریو، جامبوان اور وبھیشن کریں گے۔ آخر میں شناخت کا ضابطہ مقرر ہوتا ہے کہ وانر انسانی روپ نہ دھاریں؛ صرف سات یودھا—شری رام، لکشمن اور وبھیشن سمیت چند منتخب ساتھی—انسانی روپ میں لڑیں۔ اس کے بعد شری رام سوویل پر چڑھ کر لشکر کے ساتھ لنکا کی طرف پیش قدمی کا عزم کرتے ہیں۔
सुवेलारोहणम् (The Ascent of Suvela and the First Full View of Laṅkā)
اس سرگ میں حکمتِ عملی کے تحت نظر کا زاویہ بلند کیا جاتا ہے۔ شری رام سوویل پہاڑ پر چڑھنے کا عزم کرتے ہیں اور رات وہیں ٹھہر کر راکشسوں کے قلعہ بند مسکن لنکا کا مشاہدہ کرنے کی تجویز دیتے ہیں۔ وہ سُگریو سے خطاب کرتے ہوئے وبھیشن کو دھرم-جْن، منتر-جْن اور ودھی-جْن (حق شناس، مشورہ دان اور طریقہ شناس) مانتے ہیں اور سیتا کے اغوا اور راون کی اخلاقی الٹ پھیر کے جواب میں اس مہم کو دھارمک اقدام قرار دیتے ہیں۔ رام کا غضب اصولی اور باوقار “دھرم-کروध” کے طور پر ظاہر ہوتا ہے؛ “راکششادھم” کا نام آتے ہی وہ تنبیہ کرتے ہیں کہ ایک فرد کی بدکرداری پوری نسل و خاندان کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ پھر سوویل کی چڑھائی منظم انداز سے ہوتی ہے: لکشمن کمان اور تیروں کے ساتھ پیچھے پیچھے چلتے ہیں؛ سُگریو، وزرا اور وبھیشن ساتھ ہوتے ہیں۔ ہنومان، انگد، نیل، میند، دویود، جامبوان، سوشین، رِشبھ اور دیگر وانر نائک سینکڑوں کے ساتھ ہوا کی سی تیزی سے اوپر چڑھتے ہیں۔ چوٹی سے لنکا یوں دکھائی دیتی ہے گویا آسمان میں معلق ہو—شاندار دروازے، فصیلیں، اور سیاہ راکشسوں کی قطاریں جو دوسری زندہ دیوار کی مانند کھڑی ہیں۔ جنگ کے شوقین وانر لشکر رام کی موجودگی میں طرح طرح کے نعرے بلند کرتا ہے۔ سورج ڈھل کر چاندنی رات آتی ہے تو رام سوویل کی کنگری پر آرام فرماتے ہیں؛ وبھیشن رسم کے مطابق تعظیم بجا لاتا ہے، اور لکشمن و جمع شدہ یوتھپوں کے ساتھ رام قیام کرتے ہیں—جنگ سے پہلے کی وہ پُرسکون گھڑی جو نگرانی، اتحاد اور دھارمک نیت پر قائم ہے۔
लङ्कादर्शनम् (Viewing Laṅkā and its Forest-Gardens)
اس سرگ میں قصہ سوَیلہ پہاڑ پر پڑاؤ سے آگے بڑھ کر لنکا کے براہِ راست دیدار کی طرف مڑتا ہے۔ رات بھر پہرہ دینے کے بعد وانر سردار لنکا کے جنگلات اور باغات کو دیکھتے ہیں—کوئلوں، بگُلوں، موروں اور بھونروں کی آوازوں سے وہ جگہ گویا زندہ ہے، اور پھولوں کی خوشبو سے بھری ہوا حواس کو معطر کرتی ہے۔ روپ بدلنے والے وانر خوشی سے ان باغوں میں داخل ہوتے ہیں؛ اور دوسرے لشکری سردار سُگریو کی اجازت سے جھنڈوں سے آراستہ شہر کی طرف لپکتے ہیں، ان کی گرج سے پرندے اور بڑے جانور چونک اٹھتے ہیں اور گرد و غبار بلند ہوتا ہے۔ پھر نگاہ تریکوٹ پہاڑ کی چوٹی کی طرف اٹھتی ہے—پھولوں سے ڈھکی، تاباں اور قریب قریب ناقابلِ رسائی—جس پر لنکا اپنے طول و عرض کے بیان کے ساتھ قائم دکھائی جاتی ہے۔ شہر کی ہیئت میں بلند گوپور، سونے چاندی کی فصیلیں، اور بادلوں کے تودوں جیسے محل نقش ہو جاتے ہیں؛ ایک مرکزی عمارت کو ویشنو دھام کے مانند کہا گیا ہے۔ ہزار ستونوں والا محل، جس کی نگہبانی سو راکشس کرتے ہیں، لنکا کی خاص زینت کے طور پر نمایاں کیا گیا ہے۔ آخر میں شری رام، لکشمن اور وانر لشکر کے ساتھ جواہرات سے آراستہ، مضبوط دروازوں والی خوشحال لنکا کو دیکھ کر اس کی شان پر حیرت کرتے ہیں، اور بیان محاصرہ و جنگ کی تیاری کی طرف بڑھتا ہے۔
सुवेलारोहणं रावण-सुग्रीव-नियुद्धम् (Ascent of Suvela and the Ravana–Sugriva Duel)
اس سرگ میں جنگی داستان ایک حکمتِ عملی کے بلند مقام سے آگے بڑھتی ہے۔ شری رام، سُگریو اور وانر لشکر کے ساتھ سُویلا پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر تریکوٹ پر آباد لنکا کو دیکھتے ہیں، جسے وشوکرما کی صناعی کا شاہکار بتایا گیا ہے۔ رام راون کو ایک بلند گوپور پر کھڑا دیکھتے ہیں—سفید چامروں کی ہوا، فتح کا چھتر، سرخ چندن کا لیپ، زیورات اور ایراوت سے منسوب زخموں کے نشان—یہ سب راکشس راجا کی شاہانہ ہیبت اور خطرناک قوت کو نمایاں کرتے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر سُگریو ضبط شدہ غضب کے ساتھ اٹھتا ہے۔ وہ راون کو مخاطب کر کے اعلان کرتا ہے کہ وہ “جہان کے مالک” شری رام کا وفادار خادم ہے، اور فوراً براہِ راست حملہ کرتا ہے۔ سُگریو راون کا تاج پکڑ کر گرا دیتا ہے—یہ تاج کا گرنا راون کی بادشاہی علامت کی رسوائی اور ذلت کی نشانی بن جاتا ہے۔ پھر دونوں میں قریب سے کشتی نما گھمسان ہوتا ہے—پٹخنیاں، جوابی وار، گرفت و آغوش، دائرہ وار قدم، فریبِ حرکت اور بیان کردہ یُدھ مارگ جنگی مہارت اور ویر رس کی شدت دکھاتے ہیں۔ راون جان لیوا انتقام کی دھمکی دیتا ہے اور مایا (فریب/جادو) سے پلڑا بدلنا چاہتا ہے، مگر سُگریو اس تدبیر کو بھانپ کر اسے تھکا کر الگ ہو جاتا ہے اور وانروں کے بیچ سے گزرتا ہوا رام کے پاس لوٹ آتا ہے۔ اس سے رام کا جنگی جوش اور اتحادیوں کا حوصلہ بڑھتا ہے، اور سُویلا و لنکا کی جغرافیائی فضا کے ساتھ خدمت، ضبط اور گرے ہوئے تاج کی شاہی علامتیں—سب مل کر طاقت کے مقابلے کی ایک معنوی نقشہ بندی کرتے ہیں۔
युद्धलक्षण-निमित्तदर्शनं तथा लङ्काद्वारव्यूहः (War Omens and the Encirclement of Lanka’s Gates)
سرگ 41 میں انتظار سے کھلے محاصرے تک کا مرحلہ نمایاں ہوتا ہے۔ شری رام جنگ کے منحوس شگون دیکھ کر سُگریو کو گلے لگاتے ہیں اور لکشمن کو حکم دیتے ہیں کہ ٹھنڈے پانی اور پھل دار جنگلات والے وسائل سے بھرپور مقام پر قبضہ کیا جائے، لشکر کو تقسیم کر کے منظم صف بندی میں کھڑا کیا جائے۔ پھر قیامت خیز علامتوں کا بیان آتا ہے—تیز و تند ہوائیں، زمین اور پہاڑوں کا لرزنا، خون آلود بارش، نامبارک جانوروں کی آوازیں، اور اجرامِ فلکی کا ماند پڑ جانا—جس سے جنگ محض سیاست نہیں بلکہ دھرم اور ادھرم کی کائناتی آزمائش بن جاتی ہے۔ وانر فوج تیزی سے بڑھتی ہے اور لنکا کے قریب پہنچتی ہے؛ شہر کی دلکشی اور مضبوط فصیلوں کا ذکر اس کی قریباً ناقابلِ تسخیر حیثیت کو اجاگر کرتا ہے۔ شری رام شمالی دروازہ روک لیتے ہیں، نیل مشرق، انگد جنوب، ہنومان مغرب سنبھالتے ہیں؛ سُگریو مرکز میں جم جاتے ہیں اور لکشمن وبھیشن کے ساتھ بے شمار سپاہ کو مختلف مقامات پر تعینات کرتے ہیں۔ پھر حکمتِ عملی کے طور پر سفارت آتی ہے: شری رام انگد کو ایلچی بنا کر دشگریو (راون) کو سخت، دھرم پر مبنی پیغام بھیجتے ہیں—ویدیہی (سیتا) کو واپس کر دو، ورنہ قانونِ دھرم کے مطابق ہلاکت اور وبھیشن کی جائز حکومت یقینی ہے۔ انگد پیغام پہنچاتا ہے؛ اسے قوت آزمانے کے لیے پکڑا جاتا ہے، وہ اپنے پاؤں سے محل کا ایک حصہ توڑ دیتا ہے اور واپس آ جاتا ہے—راون کے غضب کو بھڑکا کر محاصرے کی ناقابلِ واپسی رفتار کو ثابت کر دیتا ہے۔
लङ्काप्राकारारोहणम् / Assault on Lanka’s Ramparts and the Opening Clash
اس سرگ میں محاصرہ کی حالت سے کھلی جنگ کی طرف انتقال دکھایا گیا ہے۔ راکشس جاسوس راون کو خبر دیتے ہیں کہ شری رام اور وانر لشکر نے لنکا کے اطرافی راستوں پر مؤثر قبضہ کر لیا ہے؛ یہ سن کر راون غضبناک ہو کر فوراً لشکر کو مسلح اور تیارِ جنگ کرتا ہے۔ ادھر سیتا کے دکھ کا خیال شری رام کو بے چین کرتا ہے، وہ دشمن پر تیز کارروائی کا حکم دیتے ہیں؛ وانر شیر کی مانند للکارتے ہوئے درختوں، چٹانوں اور پہاڑی چوٹیوں کو ہی ہتھیار بنا لیتے ہیں۔ وانر دیواروں اور دروازوں پر چڑھائی کرتے ہیں، پانی بھری خندقوں کو مٹی، لکڑی اور ملبے سے بھر کر راستہ بناتے ہیں، اور سونے کے تورنوں اور کیلاش جیسے بلند گوپوروں کو توڑ کر دراندازی کرتے ہیں۔ پھر شہر کے دروازوں پر منظم پڑاؤ قائم ہوتا ہے: مشرق میں کُمُد، جنوب میں شتَبَلی، مغرب میں سُشین، اور شمال میں شری رام لکشمن اور سُگریو کے ساتھ؛ گواکش، دھومر اور وبھیشن اپنے وزیروں سمیت مدد اور حفاظت کے لیے مقرر ہوتے ہیں۔ راون عمومی یلغار کا حکم دیتا ہے؛ نقارے اور شنکھ گونج اٹھتے ہیں اور یہ آواز پہاڑوں، زمین، آسمان اور سمندر تک پھیل جاتی ہے۔ انجامِ کار ہولناک گھمسان برپا ہوتا ہے—راکشس گداؤں، نیزوں، ترشولوں، تلواروں اور بھنڈی پالوں سے وار کرتے ہیں؛ وانر درختوں، پتھروں، ناخنوں اور دانتوں سے جواب دیتے ہیں—اور خون و گوشت کی کیچڑ میں ڈوبا ہوا، حیرت انگیز وسعت کا میدانِ جنگ سامنے آتا ہے۔
द्वन्द्वयुद्धप्रवृत्तिः (Dvandva-Yuddha: The Onset of Single Combats)
سرگ 43 میں لنکا کا میدانِ جنگ انفرادی مقابلوں (دوند یودھ) کی شدت سے گونج اٹھتا ہے، جہاں وانر اور راکشس تیزی سے ایک دوسرے کے مدمقابل آتے ہیں۔ باب کا آغاز راکشسوں کے شدید غصے اور راون کی فتح کی خواہشمند افواج کے رتھوں، گھوڑوں اور جنگی سازوسامان کے شور سے ہوتا ہے۔ سگریو کا مقابلہ پرگھس سے ہوتا ہے اور لکشمن ویروپکش کا سامنا کرتے ہیں۔ بھگوان رام اگنی کیتو، رشمیکیتو، سپتگھن اور یگیہ کوپ کے حملوں کا جواب دیتے ہوئے اپنے تیز تیروں سے ان کے سر قلم کر دیتے ہیں۔ ہنومان جی سینے میں جمبومالی کی شکتی لگنے کے باوجود، اس کے رتھ پر چڑھ کر ایک ہی طمانچے سے اسے ہلاک کر دیتے ہیں۔ نل پرتاپن کی آنکھیں نکال دیتا ہے، مینڈ وجرمشٹی کو مکے سے ڈھیر کر دیتا ہے، اور دووید بجلی جیسے تیروں سے زخمی ہونے کے بعد سال کے درخت سے اشنی پربھ کو مار دیتا ہے۔ نیل نکمبھ کے تیروں کے طوفان کو سہتے ہوئے رتھ کے پہیے سے اس کا اور اس کے سارتھی کا خاتمہ کر دیتا ہے۔ آخر میں، میدانِ جنگ ٹوٹے ہوئے ہتھیاروں، لاشوں اور خون کی ندیوں سے بھر جاتا ہے، جو دیوتاؤں اور اسروں کی عظیم جنگ جیسا منظر پیش کرتا ہے۔
चतुश्चत्वारिंशः सर्गः (Sarga 44): निशायुद्धम्, धूलिरुधिरप्रवाहः, इन्द्रजितो मायायुद्धम्
جب وानروں اور راکشسوں کی گھمسان ٹکر ہوتی ہے تو غروبِ آفتاب کے ساتھ ہی جنگ کا مہلک رات والا مرحلہ شروع ہو جاتا ہے اور معرکہ تاریکی میں ایک الجھی ہوئی شبانہ ہاتھا پائی بن جاتا ہے۔ گھوڑوں اور رتھوں کے پہیوں سے اڑتی دھول نظر و سماعت کو ڈھانپ لیتی ہے؛ میدانِ جنگ خون آلود کیچڑ کی مانند دکھائی دیتا ہے اور ڈھولوں، شنکھوں، بانسریوں، دہاڑوں اور تریکوٹ کی غاروں میں گونجتی آوازوں سے ہیبت ناک منظر بن جاتا ہے۔ اندھیرے میں پہچان بگڑ جاتی ہے اور سپاہی دوست کو دشمن سمجھ کر اپنے ہی لوگوں پر وار کر بیٹھتے ہیں۔ رام کے تیر سمتوں کو روشن کرتے ہیں اور جو راکشس ان پر جھپٹتے ہیں وہ ہلاک ہو جاتے ہیں؛ کئی نامور راکشس تیر کھا کر بھی باقی ماندہ جان کے ساتھ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ انگد فیصلہ کن طور پر اندر جیت کے رتھ کو درہم برہم کر دیتا ہے—اس کے گھوڑوں اور سارَتھی کو مار کر—جس پر دیوتاؤں اور وانیری لشکر کی جانب سے ستائش بلند ہوتی ہے۔ غصّے میں اندر جیت کھلے میدان کی جنگ چھوڑ کر پوشیدہ طریقہ اختیار کرتا ہے: وہ غائب ہو کر سانپ جیسے تیر چلاتا ہے، رام اور لکشمن کو زخمی کرتا ہے، اور آخرکار تیروں کے جال سے دونوں بھائیوں کو باندھ دیتا ہے۔ یوں جنگ علانیہ مقابلے سے بڑھ کر مایا پر مبنی، ذہن کو متزلزل کرنے والی چالوں میں بدل جاتی ہے۔
इन्द्रजितः अन्तर्धानयुद्धं — Indrajit’s Concealed Assault and the Fall of Rama and Lakshmana
اس سرگ میں اندر جیت کے انتردھان (چھپ کر لڑنے) اور تیروں کی مسلسل بارش سے جنگ کا رخ یکایک پلٹ جاتا ہے۔ رام اندر جیت کی جگہ معلوم کرنے کے لیے دس وانر سرداروں کو مختلف سمتوں میں کھوج کے لیے بھیجتے ہیں۔ وانر اکھڑے ہوئے درختوں کو ہتھیار بنا کر آسمان کی طرف لپکتے ہیں، مگر اندر جیت کے تیز اور ماہرانہ تیر انہیں روک دیتے ہیں؛ اندھیرا اور پردہ پوشی کے سبب حملہ آور نظر نہیں آتا، جیسے بادلوں میں چھپا سورج۔ پردے ہی سے اندر جیت رام اور لکشمن کو للکارتا ہے کہ میدانِ جنگ میں اسے خود اندر بھی نہیں پہچان سکتا، اور وہ دونوں بھائیوں کو یم کے دھام پہنچانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ پھر وہ مختلف نوکوں والے تیروں اور سانپ جیسے استروں کی لگاتار بوچھاڑ کرتا ہے، مرم (حساس) مقامات میں تیر پیوست کر کے دونوں کو باندھ اور نڈھال کر دیتا ہے، اس تیزی سے کہ وہ جواباً وار نہیں کر پاتے۔ پہلے رام زمین پر گرتے ہیں؛ رام کو گرا دیکھ کر لکشمن غم سے ٹوٹ کر ڈھیر ہو جاتے ہیں۔ وانر لشکر رنج و الم میں دونوں شہزادوں کے گرد جمع ہو جاتا ہے۔ متن اس بات پر زور دیتا ہے کہ جسم پر زخموں کی ایسی بھرمار ہوئی کہ ایک انگشت بھر جگہ بھی بے چھدی نہ رہی—یہ فریب آمیز جنگ کے اخلاقی بوجھ، انسانی کمزوری اور برداشت پر ایک ہولناک تامل ہے۔
शरबन्धनम् (The Binding by Arrows) / Indrajit’s Illusory Assault and the Vanaras’ Consolation
سرگ 46 میں لنکا کی جنگ میں ایک اہم اور تشویشناک موڑ دکھایا گیا ہے۔ وانر سرداروں نے آسمان اور زمین پر تلاش کے بعد شری رام اور لکشمن کو تیروں کے جال (شر بندھن) میں جکڑے ہوئے اور بے ہوش پایا۔ اس منظر نے پوری وانر سینا میں غم اور خوف کی لہر دوڑا دی۔ اندرجیت، جو اپنی مایا (جادو) کی وجہ سے پوشیدہ تھا، اسے صرف وبھیشن ہی اپنی خاص بصیرت سے دیکھ سکے۔ اندرجیت نے تکبر سے اعلان کیا کہ کھرا اور دوشن کو مارنے والے بھائی اب اس کی گرفت میں ہیں اور دیوتا بھی انہیں آزاد نہیں کرا سکتے۔ اندرجیت نے نیل، ہنومان، انگد اور جامبوان جیسے اہم وانر جنگجوؤں کو بھی زخمی کر دیا اور راکشسوں کو بندھے ہوئے شہزادوں کو دیکھنے کی دعوت دی، جس سے لنکا میں فتح کا جشن شروع ہو گیا۔ سگریو خوفزدہ ہو گئے، لیکن وبھیشن نے مقدس پانی کے ذریعے انہیں تسلی دی اور سمجھایا کہ رام کی موت ممکن نہیں ہے، اس لیے وہ فوج کا حوصلہ بڑھائیں۔ آخر میں، اندرجیت نے راون کو اپنی 'فتح' کی خبر دی، جس نے خوش ہو کر اپنے بیٹے کو گلے لگا لیا۔
पुष्पकविमानेन सीताया युद्धभूमिदर्शनम् (Sita Shown the Battlefield in the Pushpaka)
اس سرگ میں اندر جیت کی ظاہری کامیابی کے بعد راون کی ایک نفسیاتی اور معلوماتی چال بیان ہوتی ہے۔ اندر جیت “کام پورا کر کے” لنکا لوٹتا ہے تو وانر سردار راگھو کی حفاظت کے لیے سخت چوکس حلقہ بنا لیتے ہیں اور معمولی سی جنبش کو بھی راکشسوں کی دراندازی سمجھتے ہیں۔ راون خوشی میں سیتا کی راکشسی خادماؤں، جن میں تریجٹا بھی شامل ہے، کو حکم دیتا ہے کہ پُشپک وِمان کے ذریعے سیتا کو اشوک واٹیکا سے لایا جائے اور رام و لکشمن کو گویا مقتول دکھا کر اس کے عزم کو توڑا جائے۔ لنکا کو سجایا جاتا ہے اور اعلان کیا جاتا ہے کہ دونوں بھائی جنگ میں مارے گئے ہیں۔ تریجٹا کے ساتھ سیتا میدانِ جنگ میں گرے ہوئے وانروں کو اور راکشسوں کے جشن آمیز انداز کو دیکھتی ہے، پھر رام اور لکشمن کو “تیروں کی سیج” پر بے ہوش پڑا پاتی ہے، جن کے زرہ بکتر اور کمانیں ٹوٹی ہوئی ہیں۔ اسے موت سمجھ کر سیتا شدید نوحہ و فریاد میں ڈوب جاتی ہے اور غم و بے یقینی کا اظہار کرتی ہے۔ اس باب کا سبق یہ ہے کہ فریب پر مبنی فتح کا شور اور قیدی کی امید سے کھیلنا اخلاقی طور پر مہنگا اور ادھرم ہے، جبکہ سیتا کی وفاداری ثابت قدم رہتی ہے۔
सीताविलापः—त्रिजटासान्त्वनं च (Sita’s Lament and Trijata’s Consolation)
سرگ 48 میں اندرجیت کی مایا کے زیرِ اثر رام اور لکشمن کے بظاہر گر پڑنے کا منظر سیتا کو دکھایا جاتا ہے۔ یہ دیکھ کر سیتا غم سے نڈھال ہو کر نوحہ کرتی ہے اور اپنے آپ کا محاسبہ کرتی ہے۔ وہ اسے بیوگی سمجھتی ہے اور کہتی ہے کہ برہمنوں، نجومیوں اور یَجْن و کرم کے ماہرین نے جو خوش حالی، ماں بننے اور شوہر کے ساتھ راج تلک کی پیش گوئیاں کی تھیں، وہ سب جھوٹی نکلیں۔ سیتا اپنے جسم کے شُبھ لکشَن (ستری-لکشَن) کی ایک نمایاں فہرست بیان کرتی ہے—پاؤں پر کنول کے نشان، جواہر جیسی رنگت، اعضا کی متناسب ساخت وغیرہ—اور دلیل دیتی ہے کہ ایسے شگون والے نشان مصیبت کے ساتھ جمع نہیں ہونے چاہییں؛ یوں شگون شناسی اور جیتے جاگتے دکھ کے بیچ کا تناؤ نمایاں ہوتا ہے۔ پھر اس کا غم اپنے سے ہٹ کر کوشلیا کی طرف مڑتا ہے؛ تپسیا میں جینے والی ساس کی ملاقات کی امید یاد آ کر سیتا کی اخلاقی کربناکی بڑھ جاتی ہے۔ سیتا پر مہربان راکشسی تریجٹا مشاہدے کی بنیاد پر اسے دلاسہ دیتی ہے: دونوں ویران کے چہرے اور جسمانی جلال میں موت کی سی علامت نہیں، لشکر کے طور طریقے میں سردار کے گرنے کے بعد والی شکستگی نہیں، اور شُبھ پُشپک وِمان سیتا کو نہ اٹھاتا اگر دونوں بھائی واقعی مر چکے ہوتے۔ تریجٹا سچائی کا یقین دلا کر سیتا کو موہ اور شوک چھوڑنے کی تلقین کرتی ہے۔ آخر میں سیتا پُشپک کے ذریعے لنکا واپس آ کر اشوک واٹیکا میں داخل ہوتی ہے؛ وہاں ‘راج کماروں’ (رام و لکشمن) کا دھیان کرتے ہی تسلی کے باوجود اس کا گہرا غم پھر جاگ اٹھتا ہے۔
शरबन्धनविलापः (The Lament under the Net of Arrows)
اس سرگ میں ہولناک استر-حملے کے بعد کا منظر بیان ہوتا ہے۔ رام اور لکشمن میدانِ جنگ میں خوفناک “شرَبندھ” (تیروں کے جال) میں جکڑے ہوئے، خون بہاتے اور سانپوں کی طرح کراہتے پڑے ہیں۔ سُگریو اور وانر لشکر غم میں انہیں گھیر کر نوحہ کرتے ہیں۔ رام اپنے دھیرج اور ضبطِ نفس سے ہوش میں آتے ہیں؛ لکشمن کی حالت دیکھ کر طویل ماتم کرتے ہیں—بھائی کے بغیر زندگی اور سیتا کی بازیابی تک کو بے معنی سمجھتے ہیں، اور کوشلیا، کیکئی اور سُمِترا کو یہ اندوہناک خبر سنانے کی ناقابلِ برداشت ذمہ داری کا تصور کرتے ہیں۔ رام خود کو کمینہ اور گنہگار ٹھہراتے ہیں، لکشمن کی ثابت قدم نرمی اور اشتعال میں بھی اس کی شرافت کی ستائش کرتے ہیں، اور اس کی جنگی مہارت کو مبالغہ آمیز طور پر کارتویریہ اور حتیٰ کہ اندر کے ہتھیاروں سے تشبیہ دے کر یاد کرتے ہیں۔ پھر رام سُگریو کو حکم دیتے ہیں کہ لشکر سمیت سمندر پار واپس ہٹ جاؤ—اَنگَد، نیل اور نَل کو پیش رو رکھ کر—اور اس آفت کو “دَیو” کا فیصلہ بتاتے ہیں جسے انسان ٹال نہیں سکتا، ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ اتحادیوں نے اپنا دھرم پورا کر دیا ہے۔ یہ سن کر وانر اور زیادہ روتے ہیں۔ اسی وقت گدا ہاتھ میں وِبھیشَن آ پہنچتا ہے؛ جنگ کی افراتفری میں وانر لمحہ بھر کے لیے اسے اندرَجیت سمجھ کر گھبرا جاتے ہیں، جس سے میدانِ جنگ کی غلط فہمی اور حوصلے کی ناپائیداری نمایاں ہوتی ہے۔
सुपर्णागमनम् (Garuda’s Arrival and the Release from the Serpent-Arrow Bond)
سرگ 50 میں میدانِ جنگ کا ایک شدید بحران اور اس کا حل مشورے، طبّی علمِ جڑی بوٹیوں اور الٰہی مداخلت کے ذریعے بیان ہوا ہے۔ سُگریو وानروں کو گھبراہٹ میں دیکھ کر سبب پوچھتا ہے۔ اَنگَد بتاتا ہے کہ اِندرجیت کی مایا نے سانپوں کی صورت اختیار کر کے تیروں کے بندھن سے رام اور لکشمن کو جکڑ دیا ہے اور وہ “تیروں کی سیج” پر پڑے ہیں۔ وِبھیشَن آتا ہے؛ ابتدا میں اس پر شبہ کیا جاتا ہے، مگر شہزادوں کو زخمی دیکھ کر وہ آہ و زاری کرتا ہے، راون کے فریق کی فریب کاری کو الزام دیتا ہے اور اپنی دل شکستگی ظاہر کرتا ہے۔ سُگریو وِبھیشَن کو تسلّی دیتا ہے، راون کی شکست کی پیش گوئی کرتا ہے اور سُشین سے صلاح لیتا ہے۔ سُشین دیو-اسُر جنگ کی شفائی روایت یاد کر کے کہتا ہے کہ کِشیروَد سمندر کے علاقے (چندر اور درون پہاڑ) سے سنجیواکرنی اور وِشلیاکرنی جیسی نایاب جڑی بوٹیاں لائی جائیں، اور اس کام کے لیے ہنومان موزوں ہے۔ مگر یہ تدبیر عملی ہونے سے پہلے ہی فضا میں ہلچل اور جزیرے کے درختوں کے گرنے سے گڑُڑ کی آمد کا پتہ چلتا ہے۔ گڑُڑ کے آتے ہی سانپ بھاگ جاتے ہیں۔ گڑُڑ رام اور لکشمن کو چھو کر بندھن اور زخموں کی تکلیف دور کر دیتا ہے؛ فوراً ان کی آب و تاب، قوت، یادداشت اور حوصلہ بحال ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو رام کا دوست بتاتا ہے، جنگ میں راکشسوں پر بھروسا نہ کرنے کی تنبیہ کرتا ہے، فتح اور سیتا کی بازیابی کی بشارت دیتا ہے، پھر پرَدکشنہ کر کے رخصت ہو جاتا ہے۔ وانر لشکر شیر کی گرج، نقاروں اور شنکھوں کی آواز کے ساتھ خوشی مناتا ہوا دوبارہ لنکا کے دروازوں کی طرف بڑھتا ہے۔
धूम्राक्षप्रेषणम् (The Dispatch of Dhūmrākṣa)
سرگ 51 میں لنکا کی قیادت میں ایک اہم حکمتِ عملی اور نفسیاتی موڑ آتا ہے۔ راون بندروں کی جشن آمیز گرج سن کر سمجھ لیتا ہے کہ حالات غیر متوقع طور پر پلٹ گئے ہیں۔ وہ فوراً خبرگیری کا حکم دیتا ہے۔ پریشان راکشس فصیلوں پر چڑھ کر سُگریو کی محفوظ فوج کو دیکھتے ہیں اور فیصلہ کن خبر لاتے ہیں کہ رام اور لکشمن—جو پہلے اندر جیت کے ہولناک تیر-بندھن میں جکڑے تھے—اب کھلے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، گویا ہاتھی رسیوں کو توڑ ڈالیں۔ قاصد خوف کے باوجود سنبھلی ہوئی زبان میں رپورٹ دیتے ہیں۔ یہ سن کر راون کے دل میں اضطراب، غضب اور شک پیدا ہوتا ہے؛ وہ اپنی فوج کی سلامتی اور اپنے ہتھیاروں کی کارگزاری پر بھی تردد کرنے لگتا ہے۔ پھر وہ دھومراکْش کو بلا کر حکم دیتا ہے کہ فوراً نکل کر رام اور بندروں پر یورش کرے۔ فوج کی صف بندی ہوتی ہے؛ ہتھیاروں، رتھوں، گھوڑوں اور ہاتھیوں کی تیاری کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ دھومراکْش سونے سے آراستہ، گدھوں سے جتے رتھ پر سوار ہو کر مغربی دروازے کی طرف بڑھتا ہے جہاں ہنومان ڈٹا ہوا ہے۔ راستے میں گِدھوں کی پرواز، خون کے اشارے، مخالف ہوائیں، تاریکی اور زمین کے لرزنے جیسے بدشگون آثار آنے والی ہلاکت کی خبر دیتے ہیں؛ مگر یورش جاری رہتی ہے، یہاں تک کہ دھومراکْش راگھو کے زیرِ حفاظت وسیع و عریض وانر لشکر کو دیکھ لیتا ہے۔
धूम्राक्षवधः (The Slaying of Dhumrākṣa)
سرگ ۵۲ میں میدانِ جنگ کا ایک نہایت مرتکز منظر پیش ہوتا ہے۔ راکشسوں کا سپہ سالار دھومراکْش دوبارہ محاذ پر آتا ہے؛ وانروں کی جنگی للکار بلند ہوتی ہے اور قریب سے قریب تر خونریز ٹکراؤ شروع ہو جاتا ہے۔ راکشسوں کے تیر، ترشول، گدائیں، لوہے کی سلاخیں اور گرزوں کے مقابل وانر درختوں، پتھروں، پہاڑ کے ٹکڑوں، مُکّوں، پاؤں، دانتوں اور ناخنوں سے وار کرتے ہیں۔ کمانوں کی ٹنکار، گھوڑوں کی ہنہناہٹ اور ہاتھیوں کی آوازوں کو متن ‘یُدھ-گاندھرو’ جیسی نغمگی کے استعارے میں ڈھال کر ہنگامے کو مہاکاوی حسن عطا کرتا ہے۔ دھومراکْش تیر برساکر کچھ دیر کے لیے وانروں کو منتشر کر دیتا ہے اور برتری پاتا ہے۔ اتحادی لشکر کو ستایا ہوا دیکھ کر مہابلی ہنومان فیصلہ کن طور پر آگے بڑھتے ہیں۔ وہ ایک عظیم چٹان دھومراکْش کے رتھ پر پھینکتے ہیں؛ راکشس چھلانگ لگا کر نیچے اترتا ہے اور رتھ چکناچور ہو جاتا ہے۔ پھر دو بدو مقابلہ تیز ہو جاتا ہے۔ دھومراکْش کانٹوں والی گدا سے ہنومان پر ضرب لگاتا ہے، مگر ہنومان بے خوف و ثابت قدم رہتے ہیں اور ایک پہاڑی چوٹی اس کے سر پر گرا کر اسے وध کر دیتے ہیں۔ باقی راکشس خوف زدہ ہو کر لنکا میں بھاگ جاتے ہیں، اور وانر ہنومان کی ستائش و تعظیم کرتے ہیں؛ یوں جنگ کے بڑے دھارے میں حوصلے اور قیادت کا پلڑا وانر سینا کی طرف جھک جاتا ہے۔
युद्धकाण्डे त्रिपञ्चाशः सर्गः — धूम्राक्षवधश्रवणं, वज्रदंष्ट्रप्रेषणं, अङ्गद-राक्षसयुद्धम् (Ravana Dispatches Vajradamshtra; Portents and Angada’s Assault)
دھومراکشش کی موت کی خبر سن کر راون غصے سے سانپ کی طرح پھنکارنے لگا۔ اس نے راکشش جنگجو وجردنشٹر کو حکم دیا کہ وہ آگے بڑھے اور رام، سگریو اور وانر فوج کو ہلاک کر دے۔ راکشش فوج پوری شان و شوکت کے ساتھ جنوبی دروازے سے باہر نکلی جہاں انگد تعینات تھا۔ جیسے ہی لشکر روانہ ہوا، بدشگونی ظاہر ہونے لگی—شہاب ثاقب گرے اور گیدڑ رونے لگے، جو راکششوں کی تباہی کا اشارہ تھا۔ ان بدشگونیوں کے باوجود، وجردنشٹر میدانِ جنگ میں داخل ہوا۔ وانروں نے فتح کے نعروں کے ساتھ جواب دیا اور درختوں اور پتھروں سے شدید لڑائی شروع ہو گئی۔ وجردنشٹر کی تیر اندازی نے وانر صفوں میں خوف پھیلا دیا، یہاں تک کہ انگد نے طیش میں آکر ایک درخت اکھاڑ لیا اور راکشش فوج کو تباہ کر دیا۔ میدانِ جنگ لاشوں سے بھر گیا اور راکشش فوج ہوا سے بکھرے ہوئے بادلوں کی طرح تتر بتر ہو گئی۔
वज्रदंष्ट्रवधः — The Slaying of Vajradaṃṣṭra (Angada’s Duel)
سرگ 54 میں لنکا کی جنگ کا ایک نہایت شدید معرکہ بیان ہوتا ہے۔ راکشس وجردنشترا اپنی فوج کی تباہی اور انگد کی کامیابیوں سے غضبناک ہو کر وانر لشکر پر نہایت درست نشانے سے تیروں کی بارش کرتا ہے۔ میدانِ جنگ کی تصویر سخت اور عبرت انگیز ہے—کٹے ہوئے اعضا، بے سر دھڑ، اور بھاگتی ہوئی ٹکڑیاں—جو جنگ کی قیمت اور حوصلے کے ٹوٹنے کو نمایاں کرتی ہے۔ جب خوف زدہ وانر انگد کی پناہ لیتے ہیں تو والی کا بیٹا انگد قیادت سنبھال کر وجردنشترا کے سامنے ڈٹ جاتا ہے۔ پہلے تیراندازی کے دور چلتے ہیں، پھر درختوں اور پہاڑی چوٹیاں جیسے بھاری ہتھیار پھینکے جاتے ہیں؛ رتھ ٹوٹتا ہے اور آخرکار گدا اور مُکّوں کی قریب کی لڑائی چھڑ جاتی ہے۔ انجام یہ ہوتا ہے کہ انگد تھکن سے سنبھل کر ایک صاف تلوار کے وار سے وجردنشترا کا سر قلم کر دیتا ہے۔ اپنے سورما کے گرنے کو دیکھ کر راکشس خوف اور شرمندگی کے ساتھ لنکا کی طرف بھاگتے ہیں، اور وانر لشکر میں انگد کی ستائش ہوتی ہے۔ یہ واقعہ دکھاتا ہے کہ دھرم یُدھ میں قیادت محافظانہ جرأت اور فیصلہ کن ضبط کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔
अकम्पन-प्रेषणम् तथा कपि-राक्षस-रणवर्णनम् (Akampana Dispatched; The Vanara–Rakshasa Battle and Omens)
والی کے بیٹے انگد کے ہاتھوں وجردمشٹر کے مارے جانے کی خبر سن کر راون نے فوری طور پر اکمپن کو جنگ کے لیے روانہ کرنے کا حکم دیا۔ راون نے اکمپن کی تعریف کرتے ہوئے اسے ایک نظم و ضبط کا پابند سپہ سالار، محافظ اور جنگی حکمت عملی کا ماہر قرار دیا جو تمام ہتھیاروں میں مہارت رکھتا ہے۔ راکشس فوجیں حکم ملتے ہی نکل پڑیں اور اکمپن سونے سے سجے رتھ پر سوار ہو کر بادلوں اور گرج جیسی ہیبت کے ساتھ میدان کی طرف بڑھا۔ جیسے ہی وہ آگے بڑھا، قدرت نے بدشگونی کے اشارے ظاہر کیے۔ صاف موسم کے باوجود دن تاریک ہو گیا، تیز ہوائیں چلنے لگیں اور پرندے و جانور خوفناک آوازوں میں چیخنے لگے۔ تاہم، اکمپن نے ان بدشگونیوں کو نظر انداز کیا اور میدانِ جنگ میں داخل ہو گیا۔ لڑائی اتنی شدید ہو گئی کہ اڑتی ہوئی دھول نے آسمان کو سرخ کر دیا، جس سے پرچم، ہتھیار اور گھوڑے نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ اس افراتفری میں جنگجو دوست اور دشمن کی تمیز کھو بیٹھے، یہاں تک کہ بہتے ہوئے خون نے دھول کو بٹھا دیا اور زمین لاشوں سے اٹ گئی۔ آخر میں، وانر سرداروں—کمُد، نل اور مینڈ—نے جوابی حملہ کیا اور دشمن کی صفوں کو درہم برہم کر دیا۔
अकम्पनवधः — The Slaying of Akampana (Hanuman’s rout of the Rakshasa host)
اس سرگ میں میدانِ جنگ کا ایک اہم منظر پیش کیا گیا ہے جہاں جنگ کا پانسہ پلٹ جاتا ہے۔ اکمپنا، وانروں کی کامیابی دیکھ کر شدید غصے میں آ گیا اور اس نے اپنے رتھ بان کو آگے بڑھنے کا حکم دیا۔ اس نے تیروں کی بارش کر کے وانر فوج میں بھگدڑ مچا دی۔ جب ہنومان جی نے اپنے ساتھیوں کو مشکل میں دیکھا تو وہ ان کی ڈھال بن کر سامنے آئے اور وانروں نے ان کی پناہ میں آ کر دوبارہ حوصلہ پایا۔ اس کے بعد اکمپنا اور ہنومان کے درمیان زبردست مقابلہ ہوا۔ اکمپنا نے تیروں کی بوچھاڑ کی، جبکہ نہتے ہنومان نے پہلے ایک پہاڑ اور پھر ایک اشوکرن درخت اکھاڑ لیا۔ جب اکمپنا نے پہاڑ کو اپنے تیروں سے کاٹ دیا، تو ہنومان نے غصے میں آ کر درخت سے اس کے سر پر زوردار وار کیا، جس سے اکمپنا ہلاک ہو گیا۔ راکشس فوج خوفزدہ ہو کر لنکا کی طرف بھاگ گئی اور وانروں نے رام، لکشمن اور سگریو کے ساتھ مل کر ہنومان کی بہادری کی تعریف کی۔
प्रहस्तनिर्याणम् — Prahasta’s Departure and the Muster of the Rakshasa Host
سرگ 57 اکمپَن کی ہلاکت کے صدمے سے رाक्षسوں کی باقاعدہ جوابی یلغار کی طرف رخ کرتا ہے۔ راوَن، جو بیک وقت غضبناک اور زرد رو دکھایا گیا ہے، وزیروں سے مشورہ کرتا ہے، لنکا کی دفاعی چوکیوں کا معائنہ کرتا ہے، پھر جنگ کے ماہر پرہست سے خطاب کر کے کہتا ہے کہ اچانک دبے ہوئے شہر کو سنبھالنے کے لیے فیصلہ کن قیادت درکار ہے۔ وہ بحران کو قابلِ حل بتاتا ہے اور متبادل بوجھ اٹھانے والوں (خود، کمبھکرن، اندر جیت، نکمبھ) کے نام بھی لیتا ہے، مگر فوری لشکر کشی کی ذمہ داری پرہست ہی کو سونپتا ہے۔ پرہست نصیحت آمیز انداز میں پچھلی صلاح و مشورہ یاد دلاتا ہے اور کہتا ہے کہ سیتا کو واپس کرنا ہی بھلائی کا راستہ ہے؛ انکار کی صورت میں جنگ ناگزیر ہے۔ پھر بھی وہ وفاداری کا عہد کرتا ہے، عطیوں اور اعزازات کا اعتراف کرتا ہے اور میدانِ جنگ میں جان نچھاور کرنے کی بات کہتا ہے۔ وہ سپہ سالاروں کو حکم دیتا ہے کہ عظیم فوج جمع کی جائے؛ لنکا بھاری ہتھیاروں اور ہاتھی جیسے جثّوں والے جنگجوؤں سے بھر جاتی ہے، اور ساتھ ہی یَجّیہ کی آگ، برہمنوں کی تعظیم، مقدّس مالاؤں کی رسمیں ادا ہوتی ہیں۔ پرہست سانپ کے نشان والے جھنڈے، سونے کی جالی اور گرج دار آواز والے رتھ پر سوار ہو کر معاونوں سمیت روانہ ہوتا ہے؛ ڈھول، شنکھ اور ہولناک نعروں کی گونج چاروں طرف پھیل جاتی ہے۔ مگر اسی شان کے بیچ بدشگونیوں کا ہجوم آ جاتا ہے—الٹی سمت چکر لگاتے مردار خور پرندے، شہابِ ثاقب، تند ہوائیں، گیدڑوں کی آوازیں، خون کی بارش، جھنڈے پر گدھ، اور سارَتھی کے کوڑے کا پھسل جانا—جو آنے والی تباہی کی خبر دیتے ہیں۔ وानر لشکر درختوں اور چٹانوں کے ساتھ سنبھل جاتا ہے، للکاریں بڑھتی ہیں، اور پرہست شعلے میں گرتے پروانے کی مانند فتح کی طلب میں بندروں کی فوج میں گھس پڑتا ہے؛ یوں یہ سرگ غرور، بدشگون جارحیت اور جنگ کی الم ناک روانی کا درس دیتا ہے۔
प्रहस्तवधः (The Slaying of Prahasta)
سرگ 58 میں شری رام جی دیکھتے ہیں کہ خوفناک راکشس سپہ سالار پرہست بڑی فوج کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ وہ اطمینان اور وقار کے ساتھ وبھیषण سے اس کی شناخت پوچھتے ہیں۔ وبھیषण بتاتے ہیں کہ پرہست راون کا سیناپتی ہے، شجاعت اور اسلحہ و ہتھیار کی مہارت میں مشہور، اور لنکا کی فوج کے بڑے حصے کی کمان رکھتا ہے۔ اس کے بعد دونوں جانب سے سخت معرکہ برپا ہوتا ہے۔ پتھروں اور تیروں کی بارش میں میدانِ جنگ تلواروں، نیزوں، بھالوں، گداؤں اور لوہے کی سلاخوں سے بھر جاتا ہے اور بہت سے جنگجو گرتے ہیں۔ بیان میں خون، لاشوں اور ٹوٹے بازوؤں کی “دریا” جیسی طویل تشبیہ آتی ہے جو جنگ کی بھاری قیمت کو نمایاں کرتی ہے۔ پھر پرہست خود سامنے آ کر تیراندازی کے طوفان سے وانروں میں ہلچل مچا دیتا ہے۔ نیل اس کا مقابلہ کرتا ہے؛ تیروں سے چھلنی ہونے کے باوجود وہ اکھڑے ہوئے درختوں سے وار کرتا ہے، پرہست کا کمان توڑ دیتا ہے اور اسے گدے کے ساتھ قریب کی لڑائی پر مجبور کرتا ہے۔ آخرکار نیل ایک عظیم چٹان پرہست کے سر پر گرا دیتا ہے، سر پاش پاش ہو جاتا ہے اور پرہست مارا جاتا ہے۔ اپنے سپہ سالار کے گرنے سے راکشس فوج بددل ہو کر لنکا کی طرف ہٹ جاتی ہے اور غم سے گونگی ہو جاتی ہے۔ شری رام اور لکشمن نیل کی ستائش کرتے ہیں اور وانر لشکر اس اہم فتح پر مسرور ہوتا ہے۔
युद्धकाण्डे एकोनषष्टितमः सर्गः — Rāvaṇa’s Assault on Nīla and Lakṣmaṇa; Hanumān Bears Rāma
سرگ 59 میں جنگ کا رخ عام معرکے سے ہٹ کر براہِ راست شاہانہ مقابلے کی طرف مڑ جاتا ہے۔ راکشسوں کے سپہ سالار کے گرنے (نیل کے ہاتھوں ہلاک ہونے کی خبر) کے بعد راون لنکا سے باہر آ کر وानر لشکر کو دیکھتا ہے جو بادلوں کے سمندر کی مانند گھنا ہے اور درختوں اور چٹانوں سے مسلح ہے۔ تدبیری جھڑپوں میں سُگریو کا پہاڑی چوٹی والا حملہ ناکام بنایا جاتا ہے اور کئی وानر سردار رام کی پناہ میں آ جاتے ہیں۔ پھر راون اپنی توجہ نیل پر مرکوز کرتا ہے؛ نیل کی پھرتی—دشمن کے کمان پر چڑھ کر—کچھ لمحوں کے لیے راون کو متزلزل کر دیتی ہے، تب راون آگ سے بھرپور تیر چلا کر نیل کو گرا دیتا ہے، مگر اس کی جان نہیں جاتی۔ اس کے بعد قصہ راون اور لکشمن کے نہایت سخت دوئل کی طرف پلٹتا ہے: تیروں کی بارشیں کاٹی جاتی ہیں، راون برہما کے عطا کردہ تیر سے لکشمن کو زخمی کرتا ہے، اور آخرکار ایک ہیبت ناک شکتی (نیزہ) پھینک کر لکشمن کے سینے کو چھید دیتا ہے۔ لکشمن لڑکھڑاتا ہے تو راون اسے پکڑنے کی کوشش کرتا ہے مگر اٹھا نہیں پاتا۔ ہنومان بجلی جیسے مُکّے سے مداخلت کر کے لکشمن کو بچا کر رام کے پاس لے جاتا ہے اور اپنی پیٹھ سواری کے طور پر پیش کرتا ہے۔ رام ہنومان پر سوار ہو کر آگے بڑھتے ہیں، راون کا رتھ اور تاج توڑ دیتے ہیں، مگر اسے تھکا ہوا قرار دے کر دھرم کے مطابق قتل نہیں کرتے؛ اسے حکم دیتے ہیں کہ آرام کر کے پھر نئے مقابلے کے لیے لوٹے۔ یوں یہ سرگ درندگی کے ساتھ ضبط، ساتھی کی حفاظت اور قوت کے باوقار و محدود استعمال کو نمایاں کرتا ہے۔
कुम्भकर्णविबोधनम् (The Awakening of Kumbhakarna)
سرگ 60 میں راون، رام کے تیروں سے ذلیل و خوار ہو کر لنکا لوٹتا ہے اور اپنے بحران کو یاد آنے والی لعنتوں اور پیش گوئیوں کی روشنی میں سمجھتا ہے۔ ویدوتی کی بے حرمتی سے وابستہ شاپ، اُما، نندییشور، رمبھا، ورُن کی بیٹی وغیرہ کی بددعائیں، اور برہما کی یہ تنبیہ کہ خطرہ انسانوں سے اٹھے گا—یہ سب اس کے ذہن میں ابھرتا ہے۔ وہ دروازوں پر دفاع سخت کرنے کا حکم دیتا ہے اور آخری تدبیر کے طور پر کمبھکرن کو فوراً جگانے کو کہتا ہے، جس کی نیند کو برہما کے شاپ سے منسوب کیا جاتا ہے۔ بہت سے راکشس اسے جگانے کے لیے پہلے نذرانۂ طعام، خوشبوئیں، شنکھ اور نقارے بجاتے ہیں، پھر سخت تر طریقے اپناتے ہیں—گداؤں اور درختوں سے ضربیں، پانی انڈیلنا، باندھ کر مارنا، حتیٰ کہ ہاتھیوں کو اس کے جسم پر چلا دینا۔ آخرکار بھوک اور صدموں سے اس کی بے خودی ٹوٹتی ہے؛ اس کا بیدار ہونا قیامت خیز منظر کے ساتھ بیان ہوتا ہے—منہ پاتال سا، آنکھیں دہکتے سیاروں کی مانند۔ وہ بے پناہ مقدار میں گوشت، خون، چربی اور مے پی کر پوچھتا ہے کہ ایسی ہنگامی حالت کیوں پیش آئی۔ وزیر یوپاکش بتاتا ہے کہ خطرہ دیوتاؤں کا نہیں بلکہ انسان رام اور وانر لشکر کا ہے، اور لنکا کو پہنچے نقصان اور راون کے بال بال بچ نکلنے کا ذکر کرتا ہے۔ کمبھکرن فوراً فتح کا عہد کر کے روانہ ہوتا ہے؛ اس کے قدموں سے زمین لرزتی ہے۔ اس کے نکلنے سے وانر سرداروں میں خوف پھیل جاتا ہے—کئی بھاگتے ہیں اور کئی رام کی پناہ لیتے ہیں—اور یوں اگلے مرحلے کی جنگ سے پہلے ایک نفسیاتی موڑ قائم ہو جاتا ہے۔
कुम्भकर्णदर्शनम् — The Appearance of Kumbhakarna and the Account of His Might
اس سرگ میں شری رام کمان سنبھال کر تاج پوش، پہاڑ جیسے کُمبھکرن کو دیکھتے ہیں۔ اس کی بے پناہ جسامت دیکھ کر وانر سینا میں دہشت پھیل جاتی ہے۔ رام جی وبھیشن سے پوچھتے ہیں کہ یہ بے مثال ہستی کون ہے؛ وبھیشن بتاتے ہیں کہ یہ وشروَس کا پتر کُمبھکرن ہے، جس نے کبھی اندر کو شکست دی اور یم کی فوجوں تک کو پسپا کیا، اور جس کی فطری قوت اُن دوسرے راکشس سرداروں سے بڑھ کر ہے جو ور دانوں کے سہارے جیتے ہیں۔ پھر بیان ماضی کی طرف پلٹتا ہے: پیدائش ہی سے کُمبھکرن کی تباہ کن بھوک نے جانداروں کو نگلنا، لوگوں کو خوف زدہ کرنا شروع کیا، یہاں تک کہ اندر نے وجر سے حملہ کیا۔ کُمبھکرن نے ایراوت کے دانت سے اندر کو بھی ضرب لگائی۔ دیوتا اور دیگر ہستیاں برہما کے حضور فریاد کرتے ہیں کہ وہ دیوتاؤں پر حملہ کرتا، آشرموں کو اجاڑتا اور دوسروں کی پتنیوں کا اپہرن کرتا ہے۔ برہما اسے مُردہ جیسی نیند کی شاپ دیتے ہیں؛ راون نسب اور انصاف کی دہائی دیتا ہے، تو برہما فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ چھ ماہ سوئے اور ایک دن جاگے—مگر اس ایک دن کی بھوک کو بھی دنیا کے لیے ہلاکت خیز بتایا گیا ہے۔ میدانِ جنگ میں واپس آ کر وبھیشن حوصلہ سنبھالنے اور گھبراہٹ روکنے کی صلاح دیتا ہے۔ شری رام نیل کو حکم دیتے ہیں کہ لشکر پھیلا کر لنکا کے دروازوں، راستوں اور گزرگاہوں کو گھیر لے، اور وانروں کو درختوں، چٹانوں اور پہاڑی چوٹیوں سے مسلح کر کے گھنے بادلوں جیسے جنگی صف بند میں کھڑا کرے۔
कुम्भकर्णस्य प्रबोधनम् — The Awakening and Commissioning of Kumbhakarna
سرگ ۶۲ میں لنکا کے اندر کُمبھکرن کو جگانے اور میدانِ جنگ کے لیے آمادہ کرنے کا واقعہ ایک سیاسی و نفسیاتی منظر کے طور پر آتا ہے۔ نیند اور نشے کے اثر میں ہونے کے باوجود وہ ایک ہیبت ناک راکشس “شیر” کی طرح شاہی سڑک پر جلوہ گر ہوتا ہے؛ ہزاروں لوگ اس کے ساتھ چلتے ہیں اور پھولوں کی بارش سے اس کی تعظیم کی جاتی ہے۔ وہ سونے کی جالیوں اور آفتاب جیسی چمک والے راکشس راجا کے محل میں داخل ہوتا ہے اور اس کے قدم ایسے بھاری پڑتے ہیں کہ زمین لرزتی محسوس ہوتی ہے۔ پُشپک کے آسن میں بیٹھا ہوا، فکرمند راون اپنے بھائی کو دیکھ کر خوشی سے اٹھ کھڑا ہوتا ہے، اسے گلے لگاتا ہے اور عزت کے ساتھ بٹھاتا ہے۔ کُمبھکرن غصّے میں، خون آلود آنکھوں کے ساتھ پوچھتا ہے کہ مجھے کیوں جگایا گیا اور راون کس سے ڈرتا ہے۔ راون رام کا خوف ظاہر کرتا ہے، بتاتا ہے کہ رام اور سُگریو وانر سینا کے ساتھ سمندر پار کر آئے ہیں؛ لنکا کے باغات کی بربادی اور راکشسوں کے نقصان پر نوحہ کرتا ہے، جبکہ وانر جنگ میں بے شکست دکھائی دیتے ہیں۔ وہ تھکی ہوئی نگری کی حفاظت کی فریاد کرتا ہے جہاں اب صرف بچے اور بوڑھے رہ گئے ہیں، دیوتاؤں اور اسوروں پر کُمبھکرن کی پچھلی فتوحات کی تعریف کرتا ہے، اور اسے حکم دیتا ہے کہ دشمن لشکر کو یوں منتشر کر دے جیسے ہوا بارش کے بادلوں کو بکھیر دیتی ہے۔
कुम्भकर्णोपदेशः — Kumbhakarna’s Counsel and War-Boast to Ravana
سرگ ۶۳ میں لنکا کے اندر ایک نہایت اہم مشورے کا منظر سامنے آتا ہے۔ راون کے نوحے کو سن کر کمبھکرن پہلے طنزیہ قہقہہ لگاتا ہے، پھر سنجیدہ ہو کر نیتی (حکمتِ حکومت) کی باقاعدہ گفتگو کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ بادشاہ کو مختلف تدبیروں میں سے بہتر راہ پہچان کر وزیروں کے ساتھ، وقت (کال) اور انجام کو دیکھتے ہوئے اقدام کرنا چاہیے۔ وہ کلاسیکی چار طریقے بیان کرتا ہے: سانتوا (مصالحت)، دان (عطیہ)، بھید (تفریق/اختلاف پیدا کرنا)، اور وکرم/بل (زورِ بازو)؛ اور کہتا ہے کہ انہیں مناسب وقت کے مطابق اکیلے یا ملا کر برتنا چاہیے۔ وہ دھرم، ارتھ اور کام کو ترتیب وار توازن کے ساتھ حاصل کرنے کی نصیحت کرتا ہے، اور جاہل و گستاخ مشیروں سے، نیز اُن وزیروں سے خبردار کرتا ہے جو دشمن سے سازباز کریں؛ مشورے کے وقت کردار اور رویّے کی کڑی جانچ پر زور دیتا ہے۔ راون اس تنبیہ سے چراغ پا ہو کر ماضی کی باتیں رد کرتا ہے اور فوراً قابلِ عمل مشورہ مانگتا ہے۔ تب کمبھکرن لہجہ نرم کر کے راون کو حفاظت کا یقین دلاتا ہے اور خود کو جنگ کا فیصلہ کن ہتھیار قرار دیتا ہے—مبالغہ آمیز جنگی عہد کے ساتھ کہتا ہے کہ وہ رام، لکشمن، سُگریو اور ہنومان کو نیست و نابود کرے گا، بلکہ دیوتاؤں تک کو للکارے گا۔ یوں یہ باب سنجیدہ ریاست کاری اور نمائشی شیخی کو ساتھ رکھ کر دکھاتا ہے کہ جنگ کی دہلیز پر نصیحت کس طرح جوشِ تعبیر اور بسیجِ جنگ میں بدل جاتی ہے۔
महोदर-वाक्यं कुम्भकर्ण-प्रतिषेधः (Mahodara’s Counsel and the Critique of Kumbhakarna’s Solo Assault)
سرگ 64 میں لنکا کے دربار کے اندر مشاورتی مناظرہ بیان ہوا ہے۔ کمبھکرن کی بات سن کر مہودر سخت سرزنش کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اکیلے رام سے ٹکر لینے کی دلیل ناپختہ ہے۔ وہ جنستھان میں رام کے ہاتھوں راکشسوں کی سابقہ ہلاکت کی مثال دے کر رام کی آزمودہ قوت اور اس سے پیدا ہونے والے خوف کو یاد دلاتا ہے۔ وہ رام کو غضبناک شیر اور ایسے سوئے ہوئے اژدہے/سانپ سے تشبیہ دیتا ہے جسے جگانا نہیں چاہیے، اور یوں براہِ راست اشتعال انگیزی کو حکمتِ جنگ کے خلاف قرار دیتا ہے۔ پھر مہودر تنقید سے آگے بڑھ کر ایک واضح مگر اخلاقی طور پر مشتبہ منصوبہ پیش کرتا ہے: پانچ جنگجو—مہودر، دوی جِہوا، سمہرادی، کمبھکرن اور وِتردن—مل کر رام کا سامنا کریں۔ نتیجہ کچھ بھی ہو، شہر میں یہ افواہ پھیلائی جائے کہ رام اور لکشمن “نگل لیے گئے” ہیں تاکہ نفسیاتی صدمہ پیدا ہو۔ اسی خبر کے سہارے راون کو صلاح دی جاتی ہے کہ وہ سیتا کے پاس تنہائی میں جا کر اسے دلاسہ دے، دولت، اناج اور جواہرات کا لالچ دے، اور خوف، غم اور تنہائی کے ذریعے اسے تابع کرنے کی کوشش کرے۔ اس طرح یہ باب نیتی پر مبنی تدبیر اور معلوماتی فریب کی چالاکی کو دکھاتا ہے، مگر ساتھ ہی اس کی اخلاقی کمزوری بھی نمایاں کرتا ہے۔
कुम्भकर्णप्रस्थानम् — Kumbhakarna’s Departure for Battle
اس سَرگ میں کُمبھکرن کی روانگی دربار کی مشاورت سے شروع ہو کر ہتھیار بندی کی رسم اور میدانِ جنگ کی طرف خروج تک پہنچتی ہے۔ وہ مہودر کے حوصلہ شکن لہجے کو جھڑک کر کشتریہ دھرم کی بات کہتا ہے کہ بہادری کی سند خود ستائی نہیں بلکہ عمل ہے؛ اور یہ کہ اجتماعی حکمتِ عملی کی لغزشوں کی تلافی کے لیے وہ رَن بھومی میں جائے گا۔ راون مہودر کے خوف کو رام کے ڈر کے طور پر پہچانتا ہے، کُمبھکرن کی بے مثال قوت اور خیرخواہی کی تعریف کرتا ہے اور اسے وानر لشکر اور دونوں شہزادوں کے وِناش پر ابھارتا ہے۔ کُمبھکرن راون کی گھبراہٹ مٹانے کے لیے رام کے ودھ کی پرتِگیا کرتا ہے اور اکیلے بڑھنے کی بات رکھتا ہے، مگر راون تنہا غرور سے روکتا ہے اور محافظوں کے ساتھ پیش قدمی کا حکم دیتا ہے۔ پھر رسمِ آراستگی ہوتی ہے: ہار، بازوبند، انگوٹھیاں، زیورات، تاج، کنڈل، کمر بند اور زرہ پہنائی جاتی ہے؛ اسے آگ، چاند اور نارائن/تری وِکرم جیسی کائناتی تشبیہوں سے بیان کیا جاتا ہے۔ ڈھول، شنکھ، رتھ، ہاتھی اور گوناگوں سواریوں کے شور میں وہ نکلتا ہے، مگر نحوست کے آثار ظاہر ہوتے ہیں—کالی گھٹائیں بجلی کے ساتھ، گیدڑوں کی آوازیں، منڈلاتے پرندے، اس کے ہتھیار پر گِدھ کا بیٹھنا، شہابِ ثاقب، سورج کی ماندگی اور ہوا کا ساکن ہو جانا—پھر بھی وہ ودھی کے جبر کے تحت آگے بڑھتا ہے۔ فصیل پار کرتے ہی اس کی گرج سے وانر صفیں دہشت زدہ ہو کر بکھر جاتی ہیں؛ یوں شاہانہ جاہ و جلال اور خطیبانہ اعتماد کے مقابلے میں شگونِ بد اور قریب آتی موت کا وزن اس سَرگ کا مرکزی موڑ بن جاتا ہے۔
कुम्भकर्णप्रस्थानम् तथा अङ्गदप्रेरणा (Kumbhakarna’s sortie and Angada’s rallying of the Vanaras)
سرگ 66 میں لشکر کے حوصلے کا بحران اور اس کی بحالی بیان ہوتی ہے۔ پہاڑی چوٹی کے مانند عظیم الجثہ کُمبھکرن لنکا کی حد پار کر کے تیزی سے آگے بڑھتا ہے اور ایسا ہولناک نعرہ مارتا ہے کہ سمندر تک گونج اٹھتا ہے۔ اس کی ہیبت سے وانر سینا اسے بڑے دیوتاؤں کے لیے بھی ناقابلِ تسخیر سمجھ کر خوف زدہ ہو کر بکھر جاتی ہے—کوئی پیچھے دیکھے بغیر بھاگتا ہے، کوئی سمندر میں جا گرتا ہے، کوئی غاروں، پہاڑوں یا درختوں کی اوٹ لیتا ہے، اور کوئی مردہ سا ڈھیر ہو جاتا ہے۔ اسی وقت والی کے پتر اَنگَد میدانِ جنگ کے رہنما بن کر سامنے آتے ہیں۔ وہ سب کو پلٹ آنے کا حکم دیتے ہیں اور سمجھاتے ہیں کہ ہتھیار چھوڑ کر بھاگنا سماجی رسوائی ہے؛ دھرم یُدھ میں مرنا بہتر ہے—جیت سے یَش ملتا ہے، اور اگر ویرگتی ہو تو برہملوک کی پرابتھی۔ وہ پہلے کی خودستائی کو بھی یاد دلا کر کہتے ہیں کہ اب کی گھبراہٹ ان باتوں کی نفی کر رہی ہے۔ بھاگے ہوئے وانر کہتے ہیں کہ کُمبھکرن نے ہولناک تباہی مچائی ہے اور جان عزیز ہے؛ مگر ہنومان کی تائیدی ترغیب اور مثالوں کے ساتھ اَنگَد لشکر کو پھر مجتمع کر دیتے ہیں۔ پھر رِشبھ، شَرَبھ، مَیند، دھومر، نیل، کُمُد، سُشین، گَواکش، رَمبھ، تارا، دْوِوِد، پَنَس اور ہنومان وغیرہ تیزی سے رَن کی طرف بڑھتے ہیں۔ چٹانیں اور پھولوں سے لدے درخت کُمبھکرن پر پھینکے جاتے ہیں، مگر اس کے اعضا سے ٹکرا کر ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں؛ یوں اس کی دہشت ناک پائیداری نمایاں ہوتی ہے اور جنگ دوبارہ بھڑک اٹھتی ہے۔
कुम्भकर्णवधः — The Slaying of Kumbhakarna
سرگ 67 میں لنکا کے میدانِ جنگ کی ہیبت اور بڑھ جاتی ہے۔ کمبھکرن کی بے پناہ، گویا کائناتی پیمانے کی خونریزی سے وانر لشکر کے حوصلے متزلزل ہوتے ہیں، مگر انگد کی للکار اور نصیحت انہیں پھر ثابت قدم کر کے دوبارہ معرکے میں اتارتی ہے۔ انگد، سُگریو، ہنومان، نیل، رِشبھ، شربھ، گواکش اور گندھمادن جیسے مہاویر درختوں، چٹانوں اور پہاڑی چوٹیوں سے کمبھکرن پر حملہ کرتے ہیں، لیکن اکثر وار بے اثر رہتے ہیں—اس سے راکشس کی قریب بہ ناقابلِ شکست قوت اور طاقت کے عدم توازن کا اظہار ہوتا ہے۔ کمبھکرن جواباً جنگجوؤں کو نگلتا، صفیں منتشر کرتا اور تکبر بھرے تمسخر کے ساتھ ایسی للکاریں دیتا ہے گویا یہ مقابلہ خود موت سے ہے۔ تب شری رام براہِ راست مداخلت کرتے ہیں: وانروں کو تسلی دیتے ہیں، کمان اور ترکش کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں اور دیویہ استروں—خصوصاً وایویہ اور پھر اندر-تیج سے بھرے ہتھیار—کا استعمال کرتے ہیں۔ ایک فیصلہ کن موڑ پر رام کمبھکرن کا ایک بازو کاٹ دیتے ہیں؛ پہاڑی چوٹی کے مانند وہ کٹا ہوا عضو وانر صفوں میں گر کر جانی نقصان کا سبب بنتا ہے—یہ اس بات کی علامت ہے کہ جنگ کی المناک لپیٹ راست بازو پر بھی پڑتی ہے۔ اعضا کٹنے کے باوجود کمبھکرن حملہ جاری رکھتا ہے، تو رام مرحلہ وار اس کے دوسرے بازو اور پاؤں بھی کاٹ کر اس کی جنگی قوت مفلوج کرتے ہیں، اور آخرکار ایک درخشاں آخری تیر سے اس کا سر قلم کر دیتے ہیں۔ زمین اور پہاڑ لرز اٹھتے ہیں، دیوتا خوشی مناتے ہیں، اور وانر لشکر کا اعتماد بحال ہوتا ہے—کمبھکرن وध جنگ میں حکمتِ عملی اور اخلاقی اعتبار سے ایک بڑا موڑ ثابت ہوتا ہے۔
कुम्भकर्णवधश्रवणेन रावणविलापः (Ravana’s Lament on Hearing of Kumbhakarna’s Slaying)
اس سَرگ میں میدانِ جنگ کے نتیجے سے لَنکا کے دربار میں اس کے نفسیاتی اثرات کی طرف رخ ہوتا ہے۔ راکشس قاصد راون کو خبر دیتے ہیں کہ جلیل القدر راغھو راما نے کُمبھکرن کو وِدھ کر دیا، اگرچہ کُمبھکرن نے تھوڑی دیر کے لیے نہایت ہولناک یلغار کر کے وانروں کو منتشر کیا اور بہتوں کو نگل لیا تھا۔ قاصد لاش کی ہیبت ناک، پہاڑ جیسی صورت بیان کرتے ہیں—رام کے تیروں نے اس عظیم جسم کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے خون میں لت پت کر دیا اور وہ لَنکا کے ایک دروازے پر آ کر رکاوٹ بن گیا—یوں جنگی شکست شہر کے لیے بدشگونی کی علامت بن جاتی ہے۔ یہ سن کر راون پر سکتہ طاری ہوتا ہے، پھر ہوش میں آ کر طویل وِلاپ کرتا ہے۔ وہ کُمبھکرن کو اپنا “دایاں بازو” کہہ کر پکارتا ہے، حیران ہوتا ہے کہ دیوتاؤں اور دانَووں کے غرور کو توڑنے والا ایسا سورما راما کے ہاتھوں کیسے گرا، اور اسے کال (تقدیر) کی غالب قوت قرار دیتا ہے۔ وہ اندیشہ ظاہر کرتا ہے کہ آسمان میں دیوتا اور رِشی خوشیاں منائیں گے اور اب وانر دلیر ہو کر لَنکا کی فصیلوں پر چڑھ آئیں گے۔ پھر وِلاپ خود احتسابی میں بدل جاتا ہے: راون اس آفت کو اپنے سابقہ اَدھرم کے وِپاک (پکنے والے انجام) کے طور پر دیکھتا ہے، خصوصاً دھرماتما وِبھیشن کو نکال دینا اور اس کی نصیحت کو نظرانداز کرنا۔ سَرگ کے آخر میں وہ عزم کرتا ہے کہ جب تک وہ راغھو کو قتل نہ کرے زندگی بے وقعت ہے، اور غم سے ٹوٹ کر گر پڑتا ہے—کہانی بہادری کی مزاحمت سے تقدیر کے سائے میں ڈوبی بے قرار ٹھان کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔
त्रिशिरा-प्रबोधनम् तथा नरान्तक-वधः (Trisira’s Counsel and the Slaying of Naranthaka)
سرگ 69 میں دربار کے غم سے داستان میدانِ جنگ کی تیزی کی طرف پلٹتی ہے۔ تریشیرا، کمبھکرن پر راون کے نوحے کو ملامت کرتا ہے اور اسے راج دھرم یاد دلاتا ہے کہ بادشاہ کو ضبط و وقار کے ساتھ ثابت قدم رہنا چاہیے۔ وہ راون کو اس کے ور دانوں اور اسلحہ و ہتھیار کی قوت یاد دلا کر اس کے حوصلے کو پھر سے بیدار کرتا ہے۔ اس نصیحت سے راون میں نئی جان پڑتی ہے اور وہ چھ نامور راکشس سردار—تریشیرا، اتیکایہ، دیوانتک، نرانتک، مہودر اور مہاپارشوا—کو رسمِ تیل و آب سے آراستہ کر کے شاندار ساز و سامان کے ساتھ روانہ کرتا ہے؛ کوئی ہاتھی پر، کوئی رتھ پر، کوئی گھوڑے پر، اور سب بھاری ہتھیاروں سے لیس۔ ان کی پیش قدمی گرجتے بادلوں کی مانند ہے، تو وानر نیتا للکارتے ہیں، درخت اکھاڑتے اور پہاڑ اٹھا کر مقابلے کو لپکتے ہیں۔ گھمسان میں نرانتک آگ کی طرح دہکتے نیزے سے وانروں کی صفیں چیرتا ہے اور لشکر میں کھلبلی مچ جاتی ہے۔ سُگریو انگد کو حکم دیتا ہے کہ اس سوار حملہ آور کو روکو۔ انگد بے ہتھیار—ناخن اور دانت کو فطری ہتھیار بنا کر—نرانتک کو للکارتا ہے، اسے بجلی جیسے نیزے کے پھینکنے کو کہتا ہے اور اس کی ٹوٹتی ہوئی ضرب سہہ لیتا ہے۔ پھر وہ ہتھیلی کے ایک وار سے نرانتک کے گھوڑے کو گرا دیتا ہے، دشمن کے مکے کی چوٹ برداشت کر کے ایسا کاری گھونسا مارتا ہے کہ نرانتک کا سینہ پھٹ جاتا ہے اور وہ مارا جاتا ہے۔ آسمان میں دیوتاؤں اور وانروں کی جے جے کار گونج اٹھتی ہے، اور انگد کی یہ دشوار فتح جنگ میں حوصلہ بڑھانے والی قرار پاتی ہے۔
त्रिशिरा–देवान्तक–महोदर–मत्त (महापार्श्व) वधः | Slaying of Trisira, Devantaka, Mahodara, and Matta (Mahaparsva)
اس سرگ میں میدانِ جنگ میں اہم راکشس جنگجوؤں کے زوال کا ذکر کیا گیا ہے۔ نرانٹک کی موت کے بعد، مہودر، دیوانتک اور ترشیرا نے انگد پر حملہ کیا۔ انگد نے بہادری سے مقابلہ کیا، مہودر کے ہاتھی کو مار گرایا اور اس کے دانت سے دیوانتک کو زخمی کر دیا۔ جب انگد کو گھیر لیا گیا تو ہنومان اور نیل ان کی مدد کو پہنچے۔ ہنومان نے اپنے طاقتور مکے سے دیوانتک کے سر پر وار کر کے اسے ہلاک کر دیا، جبکہ نیل نے ایک بڑی چٹان پھینک کر مہودر کو کچل دیا۔ اس کے بعد ترشیرا نے ہنومان کے ساتھ شدید جنگ کی۔ ہنومان نے اس کے ہتھیاروں کو تباہ کر دیا اور آخر کار ترشیرا ہی کی تلوار سے اس کے تینوں سر کاٹ دیے، جیسے اندر نے وشواروپ کو مارا تھا۔ آخر میں، مہاپارشوا (مت) غصے میں آیا اور ایک بھاری گرز کے ساتھ وانروں پر حملہ کیا۔ رشبھ نامی وانر نے اس کا مقابلہ کیا، اس کا گرز چھین لیا اور اسی سے مہاپارشوا کو ہلاک کر دیا۔ اپنے کمانڈروں کو مرتے دیکھ کر باقی راکشس فوج خوفزدہ ہو کر بھاگ گئی۔
अतिकायवधः (The Slaying of Atikāya)
سرگ 71 میں اَتِکایہ کا ظہور ہوتا ہے—راون کا بیٹا، پہاڑ کی مانند عظیم الجثہ اور برہما کے ور سے محفوظ۔ راکشس لشکر اور اپنے عزیزوں کو گرتا دیکھ کر وہ غضبناک ہو کر میدانِ جنگ میں اترتا ہے۔ دور سے اس مہارَتھی کو دیکھ کر شری رام وِبھیشن سے دریافت کرتے ہیں؛ وِبھیشن اَتِکایہ کی پہچان بتاتا ہے، اسے دھانْیَمالِنی کا پتر کہتا ہے، اس کی اَستر وِدیا اور اس ور-رکشِت کَوَچ کا ذکر کرتا ہے جس کے سبب عام ہتھیار اسے بے اثر رہتے ہیں۔ اَتِکایہ وانر فوج کی صفوں میں دہشت پھیلاتا اور کسی لائق حریف کو للکارتا ہے۔ لکشمن آگے بڑھ کر جواب دیتے ہیں؛ دونوں کے درمیان فخر و دعویٰ اور دھرم-نیتی کی باتیں ہوتی ہیں اور یہ بات نمایاں ہوتی ہے کہ شوریہ گفتار نہیں، عمل سے ثابت ہوتا ہے۔ پھر اگنی، سورْیَ، اِنْدر، وایو، یم اور تْوَشْٹْر/اِیشیک وغیرہ اَستروں کا سخت تبادلہ ہوتا ہے؛ آکاش میں تیروں کی ٹکر ہوتی ہے مگر اَتِکایہ کا ناقابلِ نفوذ کَوَچ قائم رہتا ہے۔ ایک سانپ جیسے تیر سے لکشمن کچھ دیر کے لیے ساکت ہو جاتے ہیں، پھر سنبھل کر اَتِکایہ کے رتھ کے گھوڑے، سارتھی اور دھُرا وغیرہ کو توڑ دیتے ہیں۔ تب وایودیو ایک اہم قید ظاہر کرتے ہیں کہ اس ور-رکشِت زرہ کو صرف برہما کا ہتھیار، برہماستر، ہی چیر سکتا ہے۔ لکشمن برہماستر کا آہوان کرتے ہیں؛ اس کے چارج ہوتے ہی کائنات لرز اٹھتی ہے، اور وہ اَستر اَتِکایہ کی جوابی تدبیروں کو پار کر کے اس کا مُکُٹ دھاری سر کاٹ دیتا ہے۔ باقی راکشس گھبرا کر لنکا کی طرف بھاگتے ہیں، وانر لشکر لکشمن کی جے جے کار کرتا ہے، اور وہ تیزی سے شری رام کے پاس لوٹ آتے ہیں۔
अतिकायवधश्रवणं रावणस्य लङ्कारक्षाविधानम् (Ravana’s Reaction to Atikaya’s Death and the Fortification Orders for Lanka)
اس سرگ کا آغاز اس خبر سے ہوتا ہے کہ نہایت پرجوش اور مہابلی لکشمن نے اتیکایہ کو وध کر دیا ہے۔ یہ سن کر راون پر اضطراب طاری ہو جاتا ہے؛ غم میں ڈوبا ہوا غضب اس کے چہرے اور گفتار میں نمایاں ہو جاتا ہے۔ وہ لنکا کے برگزیدہ رाक्षس یودھاؤں کی مسلسل ہلاکتوں پر غور کرتا ہے—پہلے کے سالار اور نامور جنگجو رام اور وانر سینا کے ہاتھوں گر چکے ہیں—اور رाक्षسوں کی ناقابلِ شکست ہونے کی دھاک کمزور پڑتی دکھائی دیتی ہے۔ راون اندرجیت کے اس کارنامے کو یاد کرتا ہے جب اس نے دیویہ شستر سے دونوں بھائیوں کو باندھ دیا تھا، اور حیران ہوتا ہے کہ جس بندھن کو دیوتا اور آسمانی ہستیاں بھی ناقابلِ توڑ سمجھتی تھیں وہ بھی ٹوٹ گیا؛ گویا مخالفین کی تاثیر اس کی سمجھ سے بڑھ گئی ہے۔ پھر نوحہ سے نکل کر وہ انتظامی حکم دیتا ہے کہ پوری لنکا میں سخت پہرہ ہو، خاص طور پر اشوک واٹیکا میں جہاں سیتا کی نگہبانی ہے، اور دروازوں، راستوں، آمد و رفت کے مقامات اور فوجی چوکیوں کی بار بار جانچ کی جائے۔ وہ رات کے گشتی رाक्षسوں کو حکم دیتا ہے کہ شام، آدھی رات اور سحر کے وقت وانروں کی ہر حرکت پر نظر رکھیں، تاکہ لشکر ٹھہرا ہو یا پیش قدمی کر رہا ہو، ہر دم تیار رہے۔ آخر میں رाक्षس فوج ان احکام پر عمل کے لیے اٹھ کھڑی ہوتی ہے، اور راون غضب کی کانٹے جیسی چبھن دل میں لیے، بیٹے کی موت کے ذاتی سانحے پر آہیں بھرتا ہوا اپنے محل کی طرف لوٹ جاتا ہے۔
इन्द्रजितः ब्रह्मास्त्र-यागः तथा वानरसेनाविध्वंसः (Indrajit’s Brahmastra Rite and the Crushing of the Vanara Host)
سرگ ۷۳ میں بچ جانے والے راکشس راون کو خبر دیتے ہیں کہ دیوانٹک، تریشِرس اور اتیکایہ جیسے بڑے سورما مارے گئے۔ راون غم اور جنگی تدبیر کی فکر سے بے قرار ہو جاتا ہے، تب اندرجیت اسے تسلی دیتا ہے اور عہد کرتا ہے کہ وہ رام اور لکشمن کو گرا دے گا۔ شنکھوں اور نقاروں کی گونج، چھتریوں اور چَوروں کی شان دار فوجی-شاہانہ آرائش کے ساتھ وہ میدانِ جنگ کی طرف روانہ ہوتا ہے۔ میدان میں پہنچ کر اندرجیت حفاظتی حصار قائم کرتا ہے اور ہوم (آگنی یَگ) انجام دیتا ہے، جس میں جنگی ہتھیاروں کو یَگ کی سامگری کی طرح برتا جاتا ہے۔ آگ دھوئیں کے بغیر بھڑکتی ہے اور فتح کے شگون ظاہر ہوتے ہیں؛ اگنی دیوتا آہوتی قبول کرتے ہیں۔ پھر اندرجیت برہماستر کا آہوان کر کے اپنے رتھ اور دھنش کو شکتِی سے بھر دیتا ہے، اور سیاروں و ستاروں تک میں لرزہ پڑ جاتا ہے۔ مایا کے پردے میں چھپ کر وہ تیروں اور استروں کا جال برساتا ہے، جس سے وانر سینا تہس نہس ہو جاتی ہے اور ہنومان، سُگریو، انگد، جامبوان، نل وغیرہ بڑے نیتا زخمی ہوتے ہیں۔ رام برہماستر کی اصل پہچان کر لکشمن کو تلقین کرتے ہیں کہ وہ ثابت قدمی سے اس کی بارش سہیں۔ رام اور لکشمن کو زخمی اور لشکر کو بددل دیکھ کر اندرجیت فتح کا نعرہ لگاتا ہے اور لنکا لوٹ کر اپنے پتا کو کامیابی کی خبر سناتا ہے۔
औषधिपर्वताहरणम् / The Retrieval of the Herb-Bearing Mountain
سرگ ۷۴ میں اندرجیت کے برہماستر کے جال سے رام اور لکشمن بے ہوش ہو جاتے ہیں اور وانر لشکر پر شدید تباہی آتی ہے۔ قیادت کے حلقے میں اضطراب اور انتشار پھیل جاتا ہے، مگر داناؤں میں سب سے بڑے حکمت کار وبھیشن سپہ سالاروں کو تسلی دیتا ہے کہ خالقِ عالم کی عطا کردہ اس دیویہ شستر کی تاثیر ناگزیر ہے، اور اس کی حرمت و مراتب کا لحاظ کرنا ہی دھرم کی راہ ہے۔ وبھیشن ہنومان کے ساتھ زخمیوں اور شہیدوں کا جائزہ لیتا ہے اور تیروں سے چھلنی بوڑھے جامبوان کو پاتا ہے۔ جامبوان بینائی سے محروم ہونے کے باوجود آواز سے وبھیشن کو پہچان لیتا ہے اور پُرعزم لہجے میں کہتا ہے کہ بقا کی امید ہنومان کی زندگی اور اس کے عمل سے وابستہ ہے۔ ہنومان ادب و عقیدت کے ساتھ قریب آ کر جامبوان کا حوصلہ بلند کرتا ہے۔ جامبوان واضح حکم دیتا ہے: سمندر پار کر کے ہِمَوَت (ہمالیہ) جاؤ، رِشبھ اور کیلاش کے درمیان واقع اوشدھی-پربت کو تلاش کرو اور چار دوائیں—مرت سنجیونی، وشلیہ کرنی، سوورن کرنی اور سندھان کرنی—لے آؤ۔ ہنومان کی پرواز کائناتی ہیبت کے ساتھ بیان ہوتی ہے؛ زمین و سمندر لرزتے ہیں اور پہاڑ دب کر ٹوٹتے ہیں۔ ہمالیہ پہنچ کر جب جڑی بوٹیاں خود کو چھپا لیتی ہیں تو ہنومان پورا شِکھر ہی اکھاڑ کر واپس لے آتا ہے۔ اوشدھیوں کی خوشبو سے رام، لکشمن اور وانر یودھا فوراً ہوش میں آ کر تندرست ہو جاتے ہیں اور لشکر کی جنگی قوت پھر سے قائم ہو جاتی ہے۔
लङ्कादाह-प्रचोदनं तथा वानर-राक्षस-समरारम्भः (The Burning of Lanka and the Outbreak of Battle)
اس سَرگ میں سُگریو ہنومان اور وانر-ویروں کو کارِ مہم کی تکمیل کے لیے متنبہ اور برانگیختہ کرتا ہے۔ وہ دلیل دیتا ہے کہ کُمبھکرن کے وध اور راون کے بیٹوں کی ہلاکت کے بعد راون کی دفاعی قوت پھر سے کمزور پڑ چکی ہے۔ غروبِ آفتاب پر وانر جلتی مشعلیں لے کر لنکا کی طرف بڑھتے ہیں اور گوپور، پرتولی، محلّات وغیرہ میں آگ بھڑکا دیتے ہیں۔ آگ میں اگرو اور ہری چندن، کَشوم و کاوشَیَے کپڑے، موتی، منی، وجر اور پروال، گھوڑوں، ہاتھیوں اور رتھوں کا سامان، چمڑے کے زرہیں اور اسلحہ کے ذخیرے جل جاتے ہیں۔ عمارتیں بجرآہت پہاڑی چوٹیوں کی طرح ڈھہ جاتی ہیں، تورن بجلی کی مانند چمکتے ہیں، اور رات میں لنکا گویا کِنشُک کے پھولوں سے کھلی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ عورتوں کی فریاد دھوئیں کے ساتھ دور تک سنائی دیتی ہے، اور چھوٹے ہوئے ہاتھی اور گھوڑے شہر کو کھولتے سمندر کی طرح مضطرب کر دیتے ہیں۔ اسی اثنا میں رام اور لکشمن زخموں سے پاک ہو کر کمانیں سنبھالتے ہیں؛ رام کی کمان کی تانت کی گونج وانروں اور راکشسوں کے شور سے بھی بلند ہو جاتی ہے۔ رام کے تیروں سے لنکا کے دروازے کا گوپور ٹوٹ کر گر پڑتا ہے۔ راکشس سردار ہتھیار باندھتے ہیں؛ غضبناک راون کُمبھکرن کے بیٹوں کُمبھ اور نِکُمبھ کو، اور یوپاکش، شونِتاکش، پرجنگھ، کمپن وغیرہ کو روانہ کرتا ہے۔ دونوں لشکروں کے زیوروں کی چمک چاند اور تاروں کی طرح آسمان کو روشن کرتی ہے، پھر ہولناک وانر-راکشس جنگ چھڑ جاتی ہے—درختوں، چٹانوں اور مُکّوں سے، اور تلوار، شُول، گدا، نیزہ، تومر وغیرہ سے؛ باہمی للکاریں گونجتی ہیں۔ دونوں طرف کے نقصان و فائدے کو ‘دس-سات’ کے تناسب سے بیان کیا گیا ہے۔
युद्धे अङ्गद-मैन्द-द्विविद-राक्षसयुद्धम्; कुम्भस्य प्रादुर्भावः तथा सुग्रीवेण पराभवः (Sarga 76: Angada and the Vanara chiefs battle Kampana, Prajaṅgha, Yūpākṣa, Śoṇitākṣa; Kumbha enters and is checked by Sugrīva)
سرگ 76 میں میدانِ جنگ میں ہونے والے شدید انفرادی مقابلوں کا ذکر ہے۔ انگد، جو جنگ کے لیے بے تاب تھے، نے کمپن کا مقابلہ کیا۔ چوٹ کھانے کے باوجود، انگد نے سنبھل کر پہاڑ کی چوٹی کے وار سے کمپن کو ہلاک کر دیا۔ اس کے بعد شونتکش، پرجنگھ اور یوپاکش نے حملہ کیا، جس کے جواب میں انگد کے ماموں، مینڈ اور دووِد، ڈھال بن کر سامنے آئے۔ درختوں اور چٹانوں سے لڑی گئی اس جنگ میں پرجنگھ اور یوپاکش مارے گئے، اور دووِد نے شونتکش کو بری طرح زخمی کر دیا۔ اس کے بعد کمبھ کرن کا بیٹا کمبھ میدان میں آیا اور راکشسوں کا حوصلہ بڑھایا۔ اس نے اپنی تیر اندازی سے انگد کو زخمی کر دیا اور وانر فوج کی پیش قدمی روک دی۔ آخر کار سگریو نے مداخلت کی، کمبھ کی کمان توڑ دی اور اسے کشتی کے لیے للکارا۔ سمندر میں پھینکے جانے کے بعد واپسی کرتے ہوئے، سگریو نے ایک زوردار گھونسے سے کمبھ کو ہلاک کر دیا، جس سے زمین لرز اٹھی اور راکشس فوج میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
निकुम्भवधः — The Slaying of Nikumbha (Hanuman’s Duel)
سرگ 77 میں نکمبھ اور ہنومان کے درمیان شدید جنگ کا منظر پیش کیا گیا ہے۔ اپنے بھائی کو سگریو کے ہاتھوں مارا ہوا دیکھ کر، نکمبھ غصے میں بپھر گیا اور مہیندر پربت جیسا بھاری لوہے کا گرز (پریگھ) لے کر میدان میں اترا۔ اس کی دہشت اتنی زیادہ تھی کہ دونوں طرف کی فوجیں خوف سے جم گئیں۔ صرف ہنومان جی اپنی جگہ ڈٹے رہے اور اپنا سینہ پیش کر دیا۔ نکمبھ نے پوری طاقت سے وار کیا، لیکن وہ لوہے کا گرز ہنومان کے سینے سے ٹکرا کر چکنا چور ہو گیا۔ اس کے بعد ہنومان نے جوابی حملہ کیا، نکمبھ کو زمین پر پٹخ دیا، اور اس کے سینے پر چڑھ کر اس کی گردن مروڑ کر اسے ہلاک کر دیا۔ اس فتح سے وانروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور راکشسوں میں خوف پھیل گیا۔
मकराक्षस्य निर्गमनम् — The Deployment of Makaraksha and Ravana’s Fury
سرگ 78 میں راکشسوں کے بڑے نقصان کے بعد جنگ کی شدت مزید بڑھ جاتی ہے۔ نکمبھ اور کمبھ کی ہلاکت کی خبر سن کر راون غم و غضب سے بھڑک اٹھتا ہے اور کھَر کے کشادہ چشم بیٹے مکاراکش کو طلب کرتا ہے۔ وہ اسے صاف حکم دیتا ہے کہ رام، لکشمن اور وانر سینا کو قتل کرے۔ مکاراکش سپاہیانہ اعتماد کے ساتھ حکم قبول کرتا ہے، باادب سجدۂ تعظیم اور پرَدکشنہ (طواف) کرتا ہے، رتھ اور لشکر تیار کرنے کا حکم دیتا ہے۔ رتھ پر سوار ہو کر وہ راکشسوں کو ہدایت کرتا ہے کہ میرے آگے بڑھ کر لڑائی چھیڑ دو۔ راکشس لشکر کو روپ بدلنے والا، ہیبت ناک اور ہاتھیوں کی مانند گھنا مجمع بتایا گیا ہے جو اپنے سالار کو گھیر کر زمین کو لرزا دیتا ہے؛ نقاروں، شنکھوں اور ہاتھوں کی تال سے میدانِ جنگ کی گونج اٹھتی ہے۔ روانگی کے وقت منحوس شگون ظاہر ہوتے ہیں—سارتھی کا کوڑا گر پڑتا ہے، جھنڈا ڈھلک جاتا ہے، گھوڑے کمزور ہو کر آنسو بہاتے ہیں اور گرد آلود تیز ہوا چلتی ہے—مگر سپاہی ان اشاروں کو نظرانداز کر کے رام اور لکشمن کی طرف بڑھتے جاتے ہیں۔ یہ باب حکم کی زنجیر، رسمِ روانگی اور نِمِتّ (شگون) کے ذریعے آنے والی شکست کی پیش خبری کو یکجا کرتا ہے۔
मकराक्षवधः (The Slaying of Makarākṣa)
سرگ 79 میں لنکا کی عظیم جنگ کے بیچ ایک نہایت شدید دو بدو مقابلہ بیان ہوا ہے۔ خَر کے بیٹے مکاراکش کے نمودار ہوتے ہی وानر سردار جمع ہو کر جنگ کے لیے آمادہ ہوتے ہیں اور وानروں اور راکشسوں کے درمیان گھمسان کا رَن چھڑ جاتا ہے؛ درخت، چٹانیں اور ہتھیاروں کی بوچھاڑ سے میدانِ کارزار گونج اٹھتا ہے۔ مکاراکش دندکارنیہ کی پرانی عداوت کا حوالہ دے کر شری رام کو براہِ راست دُوئل کی للکار دیتا ہے اور یم کے دھام بھیجنے کی دھمکی دیتا ہے۔ شری رام گفتار سے فتح کو رد کرتے ہیں اور خَر کی فوج کی سابقہ ہلاکت یاد دلا کر کہتے ہیں کہ فیصلہ عمل سے ہوتا ہے۔ پھر دونوں جانب سے تیروں کی تیز بارش شروع ہوتی ہے؛ گرجتی آوازوں اور فضا کے ہیبت ناک منظر کو آکاش کے دیوتا بھی دیکھتے رہتے ہیں۔ شری رام مکاراکش کا رتھ توڑ کر اسے پیدل لڑنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ تب راکشس رودر کے عطا کردہ شعلہ زن شُول (نیزہ) کو اٹھاتا ہے، جو گویا پرلے کا ہتھیار ہے اور جسے دیکھ کر دیوتا بھی گھبرا اٹھتے ہیں۔ شری رام تین تیروں سے ہوا میں آتے شُول کو چیر دیتے ہیں؛ آکاش سے ستائش کی آوازیں بلند ہوتی ہیں۔ پھر شری رام پاوک آستر جوڑ کر مکاراکش پر وار کرتے ہیں؛ اس کا دل شق ہو جاتا ہے اور وہ زمین پر گر پڑتا ہے۔ اپنے سالار کے گرنے کو دیکھ کر راکشس شری رام کے تیروں کے خوف سے لنکا کی طرف پسپا ہو جاتے ہیں۔
इन्द्रजितो यज्ञानुष्ठानं अन्तर्धानं च (Indrajit’s Rite and the Invisible Assault)
سرگ 80 میں مکاراکش کی موت پر راون کا ردِّعمل بیان ہوتا ہے۔ جنگوں میں فتح یافتہ اور تجربہ کار راون غضب میں دانت پیستے ہوئے فوری جوابی کارروائی کا ارادہ کرتا ہے اور اپنے بیٹے اندرجیت (راونی) کو میدانِ جنگ میں اترنے کا حکم دیتا ہے۔ اندرجیت پہلے راکشسوں کی رسم کے مطابق آگنی یَجْن/ہوم کرتا ہے—لال لباس، لوہے کے چمچے، اور ہتھیاروں کو بھی یَجْن کے سامان کی طرح برتا جاتا ہے؛ نذر کے لیے ایک سیاہ بکرے کو پکڑا جاتا ہے۔ بے دھواں، سنہری شعلوں والی آگ میں آہوتیاں پڑنے سے فتح کی شگونیں ظاہر ہوتی ہیں۔ دیوتاؤں، دانَووں اور راکشسوں کو راضی کر کے اندرجیت نہایت آراستہ رتھ پر سوار ہوتا ہے، اَنتَردھان (غائب) ہو جاتا ہے اور اپنے باپ کو جیت دلانے کے لیے رام، لکشمن اور وانروں کے وध کا دعویٰ کرتا ہے۔ غیب رہ کر وہ آسمان سے تیر برساتا ہے اور دھوئیں و کہر کی ایسی تاریکی پھیلاتا ہے کہ سمتوں کا شعور مٹ جاتا ہے، آواز و صورت چھپ جاتی ہے، اور سینکڑوں وانر گر پڑتے ہیں۔ رام اور لکشمن دیویہ استر چلاتے ہیں مگر نظر نہ آنے والے دشمن کو چھو نہیں پاتے۔ لکشمن وسیع پیمانے پر برہماستر چلانے کی رائے دیتا ہے، مگر رام دھرم کے قاعدے کے مطابق روکتا ہے: ایک کے لیے بہتوں کا سنہار نہیں کرنا چاہیے، نہ ہی غیر جنگجو، چھپے ہوئے، پناہ مانگنے والے، بھاگتے ہوئے یا غافل کو مارنا مناسب ہے۔ پھر رام مایوی اندرجیت پر ٹھیک نشانہ باندھ کر استروں کے استعمال کا عزم کرتا ہے اور اس کی جلد شکست کے طریقے سوچتا ہے، جبکہ وانر سینا تیار کھڑی رہتی ہے۔
इन्द्रजितो मायासीतावधः — Indrajit’s Illusory Sita Episode and Hanuman’s Rebuke
سرگ 81 میں اندرجیت کی طرف سے پیدا کردہ ایک نفسیاتی اور اخلاقی بحران کو بیان کیا گیا ہے۔ رام کے ارادوں کو بھانپتے ہوئے، اندرجیت لنکا میں واپس چلا گیا اور مارے گئے راکشسوں کو یاد کر کے غصے میں مغربی دروازے سے باہر نکلا۔ رام اور لکشمن کو جنگ کے لیے تیار دیکھ کر، اس نے اپنی مایاوی طاقتوں کا مظاہرہ کیا: اس نے ایک رتھ پر 'مایا سیتا' (نقلی سیتا) کو بٹھایا اور وانر فوج کو گمراہ کرنے کے لیے آگے بڑھا۔ ہنومان، جو پہاڑ کی چوٹی اٹھائے وانر فوج کی قیادت کر رہے تھے، نے اس خاتون کو دیکھا۔ اس کی حالت ایک تپسوی جیسی تھی اور ہنومان نے اسے حقیقی سیتا سمجھا۔ جب اندرجیت نے اس کے بال پکڑے اور اسے مارنے کا ناٹک کیا، تو ہنومان نے اس عمل کی شدید مذمت کی اور کہا کہ عورت پر وار کرنا بزدلی ہے۔ آخر کار، اندرجیت نے تلوار سے اس مایاوی سیتا کو 'قتل' کر دیا، جس سے وانر فوج میں غم اور افراتفری پھیل گئی، جبکہ اندرجیت اپنی چال کامیاب ہونے پر خوشی سے گرجنے لگا۔
इन्द्रजित्-हनूमद्-युद्धं तथा निकुम्भिलायां होमः (Indrajit vs Hanuman; Indrajit’s Nikumbhila rite)
سرگ 82 میدانِ جنگ کی ہیبت سے کھلتا ہے۔ اندر جیت سے منسوب گرجدار دھاڑ سن کر وانر سردار خوف زدہ ہو کر بکھر جاتے ہیں۔ ماروتاتمج ہنومان اس بھگدڑ کو روکتا ہے، ان کے یُدھوتساہ (جنگی عزم) کے زوال پر ملامت کرتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ واپس محاذ پر آ کر صفیں درست کریں۔ حوصلہ پا کر وانر درخت اور پہاڑی چوٹیاں اکھاڑ کر للکارتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔ ہنومان آگ کی مانند راکشس لشکر میں گھس کر سخت ہلاکتیں کرتا ہے۔ وہ ایک عظیم چٹان راونی کے رتھ کی طرف پھینکتا ہے؛ سارتھی بچا لے جاتا ہے، چٹان اندر جیت کو نہ لگ کر زمین چیرتی ہوئی جہاں گرتی ہے وہاں سپاہ کو کچل دیتی ہے۔ پھر وانر درختوں اور پتھروں کی بارش کرتے ہیں اور اندر جیت اپنے ساتھیوں سمیت تیروں کی بوچھاڑ اور نیزہ، تلوار، ترشول، گدا وغیرہ سے جواب دیتا ہے۔ دشمن کی صف روک کر ہنومان حکمتِ عملی کے تحت وانر فوج کو پیچھے ہٹنے کی تلقین کرتا ہے—ان کا اعلیٰ فرض رام کے مقصد کی تکمیل ہے؛ سیتا کے قتل کی سنگین خبر رام تک پہنچا کر رام اور سُگریو کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے۔ ہنومان کو رام کی طرف بڑھتے دیکھ کر اندر جیت نِکُمبھِلا جاتا ہے اور خون کی آہوتی والا ہوم شروع کرتا ہے۔ رسم کے ماہر راکشسوں کی موجودگی میں یَجْن کی آگ سورج کی طرح دہک اٹھتی ہے—یوں یہ سرگ جنگ اور یَجْنی طاقت کے سنگم پر ختم ہوتا ہے۔
त्र्यशीतितमः सर्गः (Sarga 83) — Hanumān Reports Sītā’s ‘Slaying’; Rāma Collapses; Lakṣmaṇa’s Counter-Discourse on Dharma and Artha
اس سَرگ میں شری رام رाक्षسوں اور وانروں کے درمیان شدید سنگرام-نِرگھوش (جنگی شور) سنتے ہیں اور رِکشپتی (ریچھ راجا) جامبوان کو حکم دیتے ہیں کہ مغربی دروازے پر ہنومان کی مدد کے لیے مزید لشکر بھیجو۔ جنگ سے تھکے ہوئے وانروں کے ساتھ ہنومان آ کر ایک ہولناک خبر سناتا ہے کہ راون کے پتر اندرجیت نے اُن کی آنکھوں کے سامنے روتی ہوئی سیتا کو مار ڈالا۔ یہ سن کر شری رام شोक سے مغلوب ہو کر جڑ سے کٹے درخت کی مانند گر پڑتے ہیں۔ وانر نائک دوڑ کر انہیں اٹھاتے ہیں اور کنول و کُمُد کی خوشبو والے پانی کے چھینٹے دیتے ہیں، گویا نہ بجھنے والی آگ کے اچانک بھڑک اٹھنے کو ٹھنڈا کر رہے ہوں۔ پھر لکشمن شری رام کو گلے لگا کر نہایت تیز اور منطقی گفتار کرتے ہیں۔ وہ دھرم-سنکٹ پیش کرتے ہیں کہ اگر نیک، ضبطِ نفس والا انسان دکھ پائے اور ادھرم والے پھلیں پھولیں تو دھرم بے اثر دکھائی دیتا ہے۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا دھرم کا پھل ظاہر طور پر ملتا ہے یا سب کچھ بھاگ्य (تقدیر) کے ہاتھ میں ہے؛ اور کیا ‘سچ بولنا’ بطور دھرم ہمیشہ راج دھرم اور شاہی تدبیر سے ہم آہنگ رہتا ہے۔ اس کے بعد وہ ارتھ-شاستر جیسی حقیقت پسندی بیان کرتے ہیں کہ خوشحالی سے ہی رشتے، عمل اور حتیٰ کہ اوصاف قائم رہتے ہیں؛ دولت سے کنارہ کشی کاموں کو روک کر لغزش کا سبب بن سکتی ہے۔ لکشمن عزم کرتے ہیں کہ اندرجیت کے سبب پیدا ہونے والے غم کو فیصلہ کن کارروائی سے مٹائیں گے اور شری رام کو اپنے مہاتما مرتبے کو پہچان کر دھیرج اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔
निकुम्भिला-यज्ञविघ्नोपदेशः (Counsel to Disrupt the Nikumbhilā Rite)
سرگ 84 میں میدانِ جنگ کے نفسیاتی بحران اور درست مشورے کے ذریعے اس کی اصلاح بیان ہوتی ہے۔ لشکر کی ترتیب مقرر کر کے وبھیषण آتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ہنومان کی خبر کو اندر جیت کے فریب سے سیتا کی موت سمجھ لیا گیا ہے، اس لیے شری رام لکشمن کی گود میں بے خود و غمگین پڑے ہیں۔ لکشمن سبب بتاتے ہیں؛ وبھیषण اضطراب کو روکتے ہیں، خبر کو ناقابلِ یقین قرار دیتے ہیں اور سمجھاتے ہیں کہ راون سیتا کو قتل نہیں کرے گا—یہ مایا، یعنی دھوکے کی چال ہے تاکہ وانر سینا بھٹک جائے۔ پھر اصل حکمتِ عملی ظاہر ہوتی ہے: اندر جیت نکمبھلا کے مقدس مقام پر ہوم/یَجْن کرنے جا رہا ہے؛ اگر یہ کرم پورا ہو گیا تو وہ جنگ میں نہایت دشوارِ مقابل ہو جائے گا، یہاں تک کہ دیوتاؤں کے لیے بھی گویا غیر مرئی۔ وبھیषण فوری پیش بندی کی تاکید کرتے ہیں: جھوٹے غم کو چھوڑ کر لشکر کو جلد حرکت دی جائے اور لکشمن کو فیصلہ کن کارندہ بنا کر یَجْن میں وِگھن ڈالنے کے لیے بھیجا جائے، تاکہ اندر جیت قابلِ ہلاکت ہو۔ یوں یہ باب وِویک (تمیز) کو وقت کی پابند تدبیر سے جوڑ کر دکھاتا ہے کہ سچا مشورہ ہی غم سے دھرم یُکت عمل تک پل بنتا ہے۔
निकुम्भिला-यज्ञविघ्नः — Vibhishana’s Counsel and Lakshmana’s March to Nikumbhila
سرگ 85 میں غم، ذہانت اور وقتی حکمت عملی پر مبنی ایک اہم فیصلہ بیان کیا گیا ہے۔ شری رام، جو غم کی وجہ سے وبھیشن کی باتوں کو فوراً سمجھ نہیں پائے تھے، خود کو سنبھالتے ہیں اور دوبارہ دریافت کرتے ہیں۔ وبھیشن اطلاع دیتے ہیں کہ وانر فوج کو مناسب طریقے سے تعینات کر دیا گیا ہے اور رام سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ پریشانی ترک کر دیں کیونکہ اس سے دشمن کے حوصلے بلند ہوتے ہیں۔ وہ سیتا کی بازیابی اور راکشسوں کے خاتمے کے لیے نئے عزم کا مطالبہ کرتے ہیں۔ وبھیشن ایک اہم خفیہ اطلاع دیتے ہیں کہ اندرجیت نکمبھلا میں ایک خاص یگیہ (قربانی کی رسم) ادا کرنے گیا ہے۔ اگر یہ رسم مکمل ہو گئی تو برہما کے وردان کی وجہ سے اسے شکست دینا ناممکن ہو جائے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ رسم مکمل ہونے سے پہلے اسے روکا جائے۔ رام کی اجازت سے، لکشمن، ہنومان اور جامبوان کی قیادت میں وانر فوج کے ساتھ نکمبھلا کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ لکشمن شری رام کو سلام کر کے فتح کا عہد کرتے ہوئے راکشس فوج میں داخل ہوتے ہیں۔
इन्द्रजितः कर्माननुष्ठानात् उत्थाय हनूमन्तं प्रति प्रस्थानम् / Indrajit Abandons the Unfinished Rite and Moves Against Hanuman
سرگ 86 میں جنگ کا رخ مشورے سے شدید لڑائی کی طرف مڑتا ہے۔ وبھیشن لکشمن کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ راکشس فوج پر فوراً حملہ کریں تاکہ اندرجیت اپنی رسم (یگیہ) مکمل کرنے سے پہلے ہی باہر آنے پر مجبور ہو جائے۔ اس کے بعد ایک گھمسان کی جنگ چھڑ جاتی ہے، جس میں آسمان تیروں، درختوں اور پہاڑوں سے ڈھک جاتا ہے۔ اپنی فوج کی تباہی کی آواز سن کر، اندرجیت نامکمل رسم کو چھوڑ کر تاریک جنگل سے باہر نکل آتا ہے۔ وہ اپنے رتھ پر سوار ہوتا ہے، جس کی چمک طوفانی بادلوں جیسی اور آنکھیں سرخ ہوتی ہیں۔ جب راکشس لکشمن کو گھیر لیتے ہیں، تو ہنومان بڑے بڑے درختوں کے ساتھ دشمنوں پر قہر بن کر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ہزاروں راکشس ہنومان پر ہتھیاروں کی بارش کرتے ہیں، جس پر اندرجیت اپنے سارتھی کو ہنومان کی طرف بڑھنے کا حکم دیتا ہے۔ وبھیشن لکشمن کو اندرجیت کے ارادوں سے آگاہ کرتے ہیں، اور لکشمن فوراً اندرجیت پر تیروں کی بارش شروع کر دیتے ہیں۔
न्यग्रोध-प्रवेश-निवारणम् (Preventing Indrajit’s Banyan-Tree Rite) / Indrajit Confronts Vibhishana
اس سرگ میں جنگی حکمت عملی اور دھرم پر ایک اہم مکالمہ پیش کیا گیا ہے۔ وبھیشن لکشمن کو جنگل میں ایک خوفناک برگد کے درخت (نیاگرودھا) کے پاس لے جاتے ہیں جو سیاہ بادلوں کی مانند دکھائی دیتا ہے۔ وہ سمجھاتے ہیں کہ اندرجیت یہاں نذرانہ پیش کرنے کے بعد غائب ہو جاتا ہے اور ناقابل تسخیر طاقت حاصل کر لیتا ہے؛ لہٰذا لکشمن کو چاہیے کہ اندرجیت کے درخت میں داخل ہونے سے پہلے ہی اس کے رتھ اور بان کو تباہ کر دیں۔ لکشمن اس منصوبے کو قبول کرتے ہیں اور اندرجیت کو للکارتے ہیں۔ اس کے بعد اندرجیت وبھیشن کو اپنے خاندان کو چھوڑنے اور 'اجنبیوں' کی پناہ لینے پر ملامت کرتا ہے۔ جواب میں، وبھیشن دھرم کی بنیاد پر اپنا دفاع کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ وہ راکشسوں میں پیدا ہوئے، لیکن انہوں نے گناہ اور ظلم کو ترک کر دیا ہے، بالکل اسی طرح جیسے کوئی زہریلے سانپ کو جھٹک دیتا ہے یا جلتے ہوئے گھر سے بھاگ جاتا ہے۔ وہ راون کے گناہوں، جیسے دوسروں کی بیویوں کو چرانا اور رشیوں کو قتل کرنا، کا شمار کرتے ہیں اور لنکا کی تباہی کی پیشین گوئی کرتے ہیں۔ آخر میں، وبھیشن تنبیہ کرتے ہیں کہ موت کے پھندے میں جکڑا ہوا اندرجیت لکشمن کے تیروں سے بچ نہیں سکے گا۔
इन्द्रजित्–लक्ष्मण संवादः तथा युद्धप्रवृत्तिः (Indrajit and Lakshmana: War-Boasts, Rebuke, and the Clash)
سرگ 88 میں زبانی مقابلہ فوراً تیراندازی کی گھمسان جنگ میں بدل جاتا ہے۔ وِبھیشَن کی نصیحت سن کر اندرجیت (راوَنی) غضب و فریبِ خشم میں مبتلا ہو جاتا ہے، سیاہ گھوڑوں سے جُتے ہوئے جواہرات سے آراستہ رتھ پر سوار ہو کر میدانِ جنگ میں موت جیسی ہیبت ناک شان اختیار کرتا ہے۔ وہ لکشمن کو رات کی لڑائی کے پچھلے دعووں سے چھیڑتا ہے، اسے یم کے دھام بھیجنے کی دھمکی دیتا ہے اور اس کی لاش پر مُردار خور پرندوں کے اترنے کی پیش گوئی کر کے خوف کو ہتھیار بناتا ہے۔ لکشمن بے خوف اور غضب ناک مگر ضبط کے ساتھ کشتریہ دھرم کے مطابق جواب دیتا ہے کہ فتح عمل سے ثابت ہوتی ہے، محض واگ-بل (زبان کی قوت) سے نہیں۔ وہ جنگ میں غائب ہو کر لڑنے کو سورما کا طریقہ نہیں بلکہ چور کا راستہ قرار دے کر ملامت کرتا ہے اور اندرجیت کو للکارتا ہے کہ تیر کی حد میں آ کر اپنی قوت دکھائے۔ تب اندرجیت سانپ جیسے سسکارتے تیر چھوڑتا ہے جو لکشمن کو چھید دیتے ہیں، مگر لکشمن پھر بھی “بے دھوئیں آگ” کی طرح درخشاں رہتا ہے۔ اندرجیت دوبارہ جان لیوا ارادہ جتاتا ہے؛ لکشمن کم گوئی اور عزم کے ساتھ کہتا ہے کہ وہ بغیر شیخی کے وار کرے گا۔ پھر فوراً تیروں کی بارش میں لکشمن اندرجیت کے سینے میں پانچ تیر جما دیتا ہے اور اندرجیت تین درست نشانے والے تیروں سے جواب دیتا ہے۔ باب کا اختتام دو قریباً ناقابلِ تسخیر جانبازوں کی ہولناک اور برابر کی ٹکر سے ہوتا ہے، جنہیں آسمانی اجرام اور اساطیری حریفوں سے تشبیہ دی گئی ہے، اور یوں شیخی آمیز دھمکی کے مقابلے میں منضبط عمل کی اخلاقی برتری نمایاں ہوتی ہے۔
इन्द्रजित्–लक्ष्मणयोर् घोरः शरयुद्धः (Indrajit and Lakshmana’s Fierce Exchange of Arrows)
سرگ 89 میں لکشمن اور اندرجیت کا دُوئل مزید ہولناک ہو جاتا ہے—کبھی تیز و تند کلامی (واک یُدھ) اور کبھی تیروں کی گھمسان جنگ (شر یُدھ)۔ لکشمن غضب کو قابو میں رکھ کر نہایت درستگی سے کمان چلاتے ہیں؛ کمان کی ٹنکار راکشس سردار کے دل میں اضطراب پیدا کرتی ہے۔ وبھیشن اندرجیت کے چہرے کی زردی کو نفسیاتی کمزوری کی دراڑ سمجھتے ہیں۔ اندرجیت پچھلی لڑائی کی باتیں چھیڑ کر لکشمن کو اشتعال دلاتا ہے، اُن کی یادداشت کو للکارتا ہے اور “یَم کے دھام” کی طرف جانے کی دھمکی دیتا ہے۔ پھر دونوں جانب سے تیروں کی بارش شروع ہوتی ہے: لکشمن تیر برساتے ہیں؛ اندرجیت لکشمن، ہنومان اور وبھیشن کو بھی زخمی کرتا ہے؛ ڈھالیں اور جھنڈے ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں۔ آسمان تیروں کی جالی بن جاتا ہے، گویا پرلَے کے وقت کے بادل چھا گئے ہوں۔ خون آبشاروں کی طرح بہتا ہے اور زخمی بدن شگفتہ درختوں کی مانند چمکتے دکھائی دیتے ہیں؛ مگر دونوں یودھا نہ پیچھے ہٹتے ہیں نہ تھکن ظاہر کرتے ہیں۔ آخر میں وبھیشن ناقابلِ شکست لکشمن کی مدد کے لیے آگے بڑھتے ہیں—ساتھی دھرم اور میدانِ جنگ کی نگہداشت کا اشارہ دیتے ہوئے۔
इन्द्रजित्-लक्ष्मणयुद्धम् तथा वानरप्रोत्साहनम् (Indrajit–Lakshmana Battle and the Rallying of the Vanaras)
سرگ 90 لنکا کی جنگ کے ایک فیصلہ کن مرحلے کو بیان کرتا ہے، جس میں وبھیشن وانر سرداروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور لکشمن اور اندرجیت کے درمیان شدید جنگ چھڑ جاتی ہے۔ وبھیشن میدانِ جنگ میں مارے جانے والے اہم راکشس کمانڈروں کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اب صرف اندرجیت ہی راکشسوں کی مزاحمت کا واحد ستون باقی رہ گیا ہے۔ وہ شری رام کی خاطر اپنے بھتیجے کے خلاف لڑنے کی اخلاقی کشمکش (دھرم سنکٹ) کا بھی اظہار کرتے ہیں۔ جنگ کی شدت میں اس وقت اضافہ ہوتا ہے جب ہنومان لکشمن کو اپنی پیٹھ پر بٹھاتے ہیں اور ایک دیو ہیکل درخت سے راکشس فوج کو تباہ کرتے ہیں۔ لکشمن اور اندرجیت کے درمیان تیر اندازی اتنی تیز ہوتی ہے کہ آسمان تیروں سے ڈھک جاتا ہے۔ لکشمن اندرجیت کے رتھ کے چاروں گھوڑوں کو ہلاک کر دیتے ہیں اور اس کے سارتھی کا سر قلم کر دیتے ہیں۔ آخرکار، اندرجیت کو پیدل لڑنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے، جبکہ لکشمن اس کے حملوں کو روکتے ہوئے اس کی شکست کو یقینی بناتے ہیں۔
इन्द्रजित्-वधः (The Slaying of Indrajit)
سرگ ۹۱ میں لکشمن (سومِتری) اور اندرجیت (راوَنی) کے درمیان فیصلہ کن دوئل بیان ہوتا ہے، جہاں میدانِ جنگ کی کارروائی بڑھتے ہوئے اَستر-شستر اور دھرم پر قائم عزم کے پس منظر میں جلوہ گر ہے۔ اندرجیت سونے سے آراستہ رتھ تیار کر کے دوبارہ جنگ میں آتا ہے اور لکشمن و وبھیشن پر یورش کرتا ہے؛ نیز اپنی لاغَوَ (جنگی چابک دستی) دکھاتے ہوئے تیروں کی گھنی بوچھاڑ سے وانر سرداروں کو بھی زخمی کرتا ہے۔ لکشمن اس کے دھنش کاٹ دیتا ہے، اسے بار بار گھائل کرتا ہے اور رتھ کی کمان—سارتھی سمیت—درہم برہم کر دیتا ہے، جس سے گھوڑے بے مہار ہو کر چکر کھانے لگتے ہیں۔ وبھیشن بھی براہِ راست مقابلہ کرتا ہے۔ غضب اور تقدیر کے زیرِ اثر اندرجیت پہلے آگنی اَستر، پھر اَسُر اَستر چلاتا ہے جو ہتھیاروں کی بارش کی صورت ظاہر ہوتا ہے؛ مگر لکشمن سورْیَ اور ماہیشور پرتیاَستر سے انہیں روک دیتا ہے، اور دیوتا گواہ بن کر اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ آخرکار لکشمن ناقابلِ شکست اَیندْر اَستر جوڑ کر سچّے سنکلپ کے ساتھ اس کی تاثیر کو منتر بند کرتا ہے اور چھوڑ دیتا ہے؛ وہ اندرجیت کا سر تن سے جدا کر دیتا ہے۔ یوں جہانوں کا خوف مٹ جاتا ہے، آسمان سے پھولوں کی بارش اور جے-گھوش ہوتا ہے، اور راکشس لشکر بدحواس ہو کر بھاگ نکلتا ہے۔
युद्धकाण्डे द्विनवतितमः सर्गः — Indrajit’s Fall, Rama’s Embrace, and Sushena’s Battlefield Healing
سرگ 92 میں اندرجیت کی موت کے فوراً بعد کے حالات بیان کیے گئے ہیں، جو جنگ کا پانسہ پلٹنے اور لکشمن کی خدمات کی اخلاقی توثیق کا لمحہ ہے۔ خون میں لت پت اور زخمی لکشمن نے اندرجیت کے قتل کی خبر دی، اور وبھیشن نے بھی راکشس شہزادے کا سر قلم ہونے کی تصدیق کی۔ شری رام کا ردعمل انتہائی جذباتی تھا؛ انہوں نے لکشمن کی عوامی سطح پر تعریف کی اور انہیں اپنی گود میں بٹھا کر ان کے زخموں کا معائنہ کیا اور انہیں تسلی دی۔ رام نے اس واقعے کو راون کی جنگی صلاحیت کے خاتمے کی علامت قرار دیا اور اعلان کیا کہ وہ اب غمزدہ راون اور اس کی فوج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس کے بعد، سرگ میں میدانِ جنگ میں طبی امداد اور اتحادیوں کی فلاح و بہبود کا ذکر ہے۔ رام نے وید سشین کو طلب کیا اور ہدایت کی کہ وہ لکشمن اور وبھیشن کے ساتھ ساتھ زخمی ریچھوں اور وانر جنگجوؤں کا بھی علاج کریں۔ سشین نے ناک کے ذریعے سونگھنے والی ایک بہترین دوا دی، جس سے لکشمن فوراً تیروں سے پاک (وشلیہ)، درد سے نجات اور صحت یاب ہو گئے۔ اتحادی رہنماؤں نے خوشی کا اظہار کیا، اور سرگ کا اختتام اس ناممکن کارنامے کی تعریف اور فوج کے حوصلے میں اضافے کے ساتھ ہوتا ہے۔
Sarga 93: Rāvaṇa’s Grief and Fury after Indrajit’s Fall; Move to Slay Vaidehī and Ministerial Restraint
اس سَرگ میں پولاستیہ (راون) کے وزراء نہایت رنجیدہ خبر دیتے ہیں کہ اندرجیت/میگھناد، وبھیषण کی مدد سے لکشمن کے ہاتھوں مارا گیا۔ یہ سن کر راون پہلے بے ہوش ہوتا ہے، پھر نوحہ و ماتم کرتا ہے، اور پھر اس کا غضب قیامت خیز تمثیلات کے ساتھ بھڑک اٹھتا ہے—بھنویں گویا ہنگامہ خیز سمندر، منہ سے آگ اور دھواں، اور آنسو جیسے جلتے چراغوں سے ٹپکتا ہوا تیل۔ وہ اپنے ورادانوں اور دیویہ ہتھیاروں کا سہارا لے کر (برہما کا عطا کردہ ناقابلِ شکست کَوَچ اور ہولناک کمان) راکشسوں کے حوصلے کو پھر سے سخت کرتا ہے اور رام و لکشمن پر نئی یلغار کا اعلان کرتا ہے۔ مگر غم انتقام کو غلط رخ دے دیتا ہے: راون ویدیہی (سیتا) کو مار ڈالنے کا ارادہ کرتا ہے، تلوار کھینچ کر اشوک وَن کی طرف لپکتا ہے، اور راکشس اس کی نام نہاد ناقابلِ تسخیر قوت پر خوشی مناتے ہیں۔ پھر بیان سیتا کی طرف منتقل ہوتا ہے—وہ خوف زدہ ہے، ہنومان کی پہلے والی رہائی کی پیشکش رد کرنے پر خود کو ملامت کرتی ہے، اور رام اور کوسلیا کی فکر میں ڈوبی رہتی ہے۔ اسی وقت نیک سیرت وزیر سوپرشوا راون کو روکتا ہے: عورت کا قتل دھرم کے خلاف ہے؛ غضب کا رخ میدانِ جنگ کی طرف ہونا چاہیے، سیتا کی طرف نہیں۔ راون یہ نصیحت قبول کر کے واپس پلٹتا ہے اور پھر دربار کی جانب بڑھتا ہے—یوں ذاتی انتقام سے ہٹ کر جنگی آداب اور راج دھرم کی طرف عارضی طور پر لوٹ آتا ہے۔
रावणस्य सभाप्रवेशः — रामस्य शरवृष्ट्या राक्षससेनाविनाशः (Ravana Enters Council; Rama’s Arrow-Storm Destroys the Rakshasa Host)
سرگ ۹۴ میں راون غم و غصّے کی حالت میں دربار میں داخل ہوتا ہے۔ وہ ہاتھ جوڑ کر اپنے سالاروں سے کہتا ہے کہ پوری قوت کو ایک ہی ہدف—رام—پر مرکوز کر کے یکجا حملہ کیا جائے۔ ہاتھیوں، گھوڑوں، رتھوں اور پیادہ لشکر کی مشترکہ صف بندی کا حکم جاری ہوتا ہے۔ طلوعِ آفتاب کے ساتھ ہی ہولناک جنگ چھڑ جاتی ہے؛ تیر، گدائیں، تلواریں، کلہاڑے، درخت اور چٹانیں ایک دوسرے پر برسنے لگتے ہیں۔ میدانِ کارزار گرد و خون سے ایسا دکھائی دیتا ہے گویا خون کی ندیاں بہہ رہی ہوں، لاشیں لکڑی کی طرح بہہ رہی ہوں اور جنگی آلات کناروں اور درختوں کی مانند کھڑے ہوں۔ جب وانر زخمی ہوتے ہیں تو رام کی پناہ لیتے ہیں۔ تب رام راکشس لشکر میں اتر کر تیروں کی زبردست بارش برساتے ہیں۔ گندھرو سے منسوب اعلیٰ استر اور رام کی برق رفتار حرکت سے راکشسوں کو کئی رام نظر آنے لگتے ہیں؛ وہ رام کو براہِ راست دیکھ نہیں پاتے اور غلط فہمی و غضب میں ایک دوسرے ہی پر وار کر بیٹھتے ہیں۔ دن کے نہایت قلیل حصّے میں راکشس فوج کی بڑی تباہی ہو جاتی ہے اور بچ جانے والے لنکا کی طرف بھاگتے ہیں۔ دیوتا رام کی ستائش کرتے ہیں، اور رام سُگریو، وبھیشن، ہنومان، جامبوان، میند اور دویود کو کہتے ہیں کہ ایسی دیویہ استر-شکتی صرف انہیں اور تریَمبک (شیو) کو حاصل ہے۔
युद्धकाण्डे पञ्चनवतितमः सर्गः (Sarga 95: Lamentation in Laṅkā and the Causal Chain of Enmity)
اس سَرگ میں جنگ کی تباہی کا محاسبہ اور اس کے اسباب کی معنوی تشخیص بیان ہوتی ہے۔ راون کی بھیجی ہوئی بے شمار فوجیں—آگ جیسے رنگ کے گھوڑے، جھنڈوں والے رتھ، سونے کے زیور سے آراستہ سپاہی، لوہے کی سلاخیں تھامنے والے جنگجو اور روپ بدلنے والے راکشس—سب رام کے تیز، درخشاں اور زرّیں آرائش والے تیروں سے ڈھیر ہو جاتے ہیں۔ اس سے رام کی اَکلیشٹ کرمَتا، یعنی بے تھکن اور بے مثال کارگزاری نمایاں ہوتی ہے۔ پھر داستان نوحہ و تفسیر کی طرف مڑتی ہے: لنکا میں راکشسی عورتیں اور بچ جانے والے لوگ جمع ہو کر شوہروں، بیٹوں اور عزیزوں پر ماتم کرتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ دشمنی کی یہ زنجیر کہاں سے چلی۔ وہ سورپَنکھا کی رام کے لیے بدقسمت خواہش اور اس کے مذموم حملے کو آغازِ بلا سمجھتے ہیں، جس سے خر اور دُوشن کی ہلاکت ہوئی اور بالآخر سیتا کا ہَرن واقع ہوا۔ رام کے پرَاکرم کے “کافی ثبوت” کے طور پر وِرادھ کا وَدھ، جنستھان کی مہم، خر، دُوشن، تریشِرا، کبندھ اور والی کی ہلاکتیں، اور سُگریو کی بحالی گنوائی جاتی ہے۔ وِبھیشن کی دھرمک نصیحت کا راون کے ہاتھوں رد ہونا بھی یاد دلایا جاتا ہے؛ خوف بڑھتا ہے، لنکا شمشان کی مانند دکھائی دیتی ہے، بدشگونیاں اٹھتی ہیں، اور رام کو رُدر، وِشنو، اِندر بلکہ اَنتک (موت) سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ آخر میں برہما کے ور کی بات سامنے آتی ہے کہ راون کو دیوتاؤں، دانَووں اور راکشسوں سے امان تھی مگر انسانوں سے نہیں؛ اسی لیے انسان روپ رام اس کے زوال کا وسیلہ بنتے ہیں۔ عورتیں ایک دوسرے سے لپٹ کر بے بسی میں گریہ کرتی ہیں اور جنگ کو محض عسکری شکست نہیں بلکہ اخلاقی و دھرمک محاسبہ قرار دیتی ہیں۔
युद्धाय रावणस्य निर्याणं तथा उत्पातदर्शनम् (Ravana’s Mobilization for War and the ظهور of Fatal Portents)
سرگ 96 میں راون لنکا بھر میں نوحہ و فریاد سنتا ہے، جس سے شہر کی بے چینی اور جنگ کے گھریلو زخم نمایاں ہوتے ہیں۔ وہ کچھ دیر ٹھہرتا ہے، پھر ہیبت ناک غضب ناک روپ دھار کر مہودر، مہاپارشوا اور ویروپاکش کو تیز احکام دیتا ہے کہ باقی ماندہ نِشَچَر (راکشش) لشکر کو فوراً جمع کر کے جنگ کے لیے تیار کیا جائے۔ پھر فخر آمیز جنگی عہدوں کے ساتھ راون اعلان کرتا ہے کہ وہ راغھو اور لکشمن کو یم کے دھام پہنچا دے گا، کھَر، کمبھکرن، پرہست اور اندرجیت جیسے گرے ہوئے سورماؤں کا بدلہ لے گا، اور بادلوں جیسی تیر برسات سے وانر فوجوں کو مٹا دے گا۔ راکشش سپاہ طرح طرح کے استر شستر سنبھالتی ہے، رتھوں پر سوار ہو کر گرجتی ہوئی نکل پڑتی ہے۔ جب راون کمان چڑھائے، دمکتا ہوا آگے بڑھتا ہے تو آسمانی اور جسمانی اپشگن ظاہر ہوتے ہیں: سورج مدھم پڑتا ہے، سمتیں تاریک ہو جاتی ہیں، شہاب گرتے ہیں، خون کی بارش دکھائی دیتی ہے، جانور منحوس آوازیں نکالتے ہیں، اور اس کی بائیں آنکھ اور بازو پھڑکتے ہیں۔ ان موت کے اشاروں کے باوجود وہ پیش قدمی کرتا ہے اور ہولناک ٹکراؤ شروع ہو جاتا ہے، جس میں اس کے سنہری پروں والے تیر وانر صفوں کو سخت زخم پہنچاتے ہیں۔
सप्तनवतितमः सर्गः (Yuddha Kāṇḍa 97): Sugrīva’s Onslaught and the Fall of Virūpākṣa
اس سرگ میں جنگ کا پانسہ پلٹنے کا منظر پیش کیا گیا ہے، جہاں راون کی تیر اندازی کے بعد سگریو نے زبردست جوابی حملہ کیا۔ ابتدا میں راون کے تیروں کی بوچھاڑ نے وانر فوج کو تتر بتر کر دیا اور میدانِ جنگ لاشوں سے اٹ گیا۔ اس تباہی کو دیکھ کر وانر راج سگریو نے سشین کو فوج کو منظم کرنے کا حکم دیا اور خود ایک دیو ہیکل درخت اور چٹانیں لے کر راکشسوں پر حملہ آور ہوئے۔ سگریو کے اس حملے نے راکشس فوج میں کہرام مچا دیا۔ راکشسوں کو پسپا ہوتے دیکھ کر، بہادر ویروپاکش ایک مست ہاتھی پر سوار ہو کر میدان میں آیا اور سگریو کو للکارا۔ دونوں کے درمیان تیروں، درختوں، چٹانوں اور تلواروں سے شدید مقابلہ ہوا۔ آخرکار، جب ہتھیار ٹوٹ گئے تو دست بدست لڑائی شروع ہوئی۔ سگریو نے اپنی پوری طاقت مجتمع کرتے ہوئے ویروپاکش کو ایک بجلی جیسا زوردار طمانچہ مارا، جس سے وہ زمین پر گر کر ہلاک ہو گیا۔ ویروپاکش کے مارے جانے سے وانر فوج میں خوشی کی لہر دوڑ گئی جبکہ راکشس فوج خوفزدہ ہو گئی۔
महोदरवधः (The Slaying of Mahodara)
سرگ 98 میں وسیع اور طویل جنگ کے بیچ ایک فیصلہ کن یک بہ یک مقابلہ بیان ہوا ہے۔ اپنی فوج کے بکھرنے اور ویروپاکش کے مارے جانے پر راون غضب ناک ہو کر مہودر کو “فتح کی امید” قرار دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ وہ شاہی سرپرستی کا حق غیر معمولی شجاعت سے ادا کرے۔ مہودر آگ میں پروانے کی طرح وانر لشکر میں گھس پڑتا ہے، سخت جانی نقصان پہنچاتا اور صفیں منتشر کر دیتا ہے۔ سوگریو بھاگتے ہوئے وانروں کو سنبھالتا ہے اور مہودر سے دو بدو جنگ چھیڑ دیتا ہے۔ ہتھیاروں کا تبادلہ بتدریج شدید تر ہوتا جاتا ہے: پتھر، سال کا درخت گُرز کی طرح، لوہے کا پریگھ، گدائیں، اور آخرکار تلوار و ڈھال کی لڑائی۔ میدانِ کارزار کی تشبیہیں—فوجیں جیسے گرمیوں میں سوکھے ہوئے تالاب، اور جنگجو جیسے بجلی والے گرجتے بادل—تھکن اور ذاتی مقابلے کی تیزی کو نمایاں کرتی ہیں۔ انجام یہ کہ جب مہودر پھنسی ہوئی تلوار نکالنے میں لگا ہوتا ہے تو سوگریو اس کا سر قلم کر دیتا ہے؛ راکشسوں میں ہراس پھیلتا ہے اور وہ بھاگ کھڑے ہوتے ہیں، وانر خوشی مناتے ہیں اور راون کا غضب اور بھڑک اٹھتا ہے—یہ واقعہ جنگی موڑ بھی ہے اور بحران میں قیادت کی اخلاقی مثال بھی۔
Mahāpārśva-vadhaḥ — The Slaying of Mahāpārśva (Angada’s Counterstrike)
اس سرگ میں سُگریو کے ہاتھوں مہودر کے وध کے بعد میدانِ جنگ میں ایک تیز الٹ پھیر دکھایا گیا ہے۔ مہودر کے مارے جانے پر مہاپارشوا کا غضب بھڑک اٹھتا ہے اور وہ تیروں کی سخت بارش سے انگد کی فوج کو منتشر کر دیتا ہے؛ بہت سے وانروں کو زخمی اور اعضا بریدہ کر کے اگلی صف کو کچھ دیر کے لیے پژمردہ کر دیتا ہے۔ انگد یہ کم ہمتی دیکھ کر آگے بڑھتا ہے اور لوہے کا پریگھ (بھاری گُرز نما ڈنڈا) مہاپارشوا پر پھینک کر اسے رتھ سے گرا دیتا ہے۔ اسی وقت جامبوان ایک عظیم چٹان سے راکشسوں کی رتھ بندی پر حملہ کرتا ہے، گھوڑوں کو کچلتا اور رتھ توڑ دیتا ہے۔ ہوش میں آ کر مہاپارشوا پھر وار کرتا ہے—انگد کو بیندھتا ہے اور جامبوان و گواکش کو بھی زخمی کرتا ہے۔ تب انگد ہولناک پریگھ کو گھما کر مہاپارشوا پر ضرب لگاتا ہے اور قریب جا کر ہتھیلی کا وار کرتا ہے؛ مہاپارشوا جنگی کلہاڑا پھینکتا ہے مگر انگد بچ نکلتا ہے۔ آخرکار انگد سینہ/دل کے مقام پر نشانہ باندھ کر فیصلہ کن مُکّا مارتا ہے، مہاپارشوا کا دل چکناچور ہو جاتا ہے اور وہ مر کر گر پڑتا ہے۔ وانر فتح کے نعرے لگاتے ہیں، لنکا کی عمارتیں لرز اٹھتی ہیں، اور شور سن کر راون دوبارہ جنگ کی طرف متوجہ ہوتا ہے—یوں حکمتِ عملی اور نفسیاتی دباؤ دونوں بڑھ جاتے ہیں۔
रावण–रामयुद्धप्रारम्भः (The Intensification of the Rama–Ravana Duel)
سرگ 100 میں رام اور راون کے درمیان جنگ شدت اختیار کر لیتی ہے۔ مہودر، مہاپارشوا اور ویروپکش کی موت کے بعد، راون شدید غصے میں آ جاتا ہے اور اپنے رتھ بان کو آگے بڑھنے کا حکم دیتا ہے۔ وہ برہما کے عطا کردہ 'تاما' ہتھیار (استر) کا استعمال کرتا ہے، جس سے میدانِ جنگ میں اندھیرا چھا جاتا ہے اور وانر فوج میں بھگدڑ مچ جاتی ہے۔ شری رام اور لکشمن مضبوطی سے کھڑے رہتے ہیں اور تیروں کی بارش شروع کر دیتے ہیں۔ راون اپنی جادوئی طاقتوں کا استعمال کرتے ہوئے سانپوں اور جانوروں کے چہروں والے تیر چلاتا ہے۔ اس کے جواب میں، شری رام اگنی دیوتا (آگ) سے منسوب ہتھیار چلاتے ہیں، جو سورج اور بجلی کی طرح چمکتے ہیں۔ رام کے یہ ہتھیار راون کے جادوئی تیروں کو ہزاروں ٹکڑوں میں بکھیر دیتے ہیں۔ وانر سردار دشمن کے ہتھیاروں کے ناکارہ ہونے پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور سگریو شری رام کی جنگی مہارت کی تعریف کرتے ہیں۔
शक्तिप्रहारः (Ravana’s Shakti Javelin and Lakshmana’s Wounding)
سرگ ۱۰۱ میں رام اور راون کا دو بدو سنگرام ہتھیاروں کی سخت آزمائش کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ راون کے چھوڑے ہوئے تیر اور چکر نما، درخشاں پروجیکٹائل شری رام اپنے استروں سے بے اثر کر دیتے ہیں، مگر راون دوچند غضب میں آ کر رام کو متزلزل کرنے کے لیے گھنے تیر برسाता ہے۔ پھر اتحادی دفاع نمایاں ہوتا ہے: لکشمن راون کے رتھ کا نشانِ علم توڑ دیتے ہیں، سارتھی کو وध کرتے ہیں اور راون کا دھنش بھنگ کر دیتے ہیں۔ وبھیشن گدا سے راون کے گھوڑوں کو گرا دیتے ہیں۔ بدلے میں راون جلتی ہوئی شکتی (بھالا) وبھیشن پر پھینکتا ہے، مگر لکشمن بیچ ہی میں روک کر اسے توڑ دیتے ہیں اور وانر سینا جے کار کرتی ہے۔ اس کے بعد راون مایا سے تیار کردہ، آٹھ گھنٹیوں والی نہایت ہیبت ناک شکتی اٹھا کر کھلی دھمکی کے ساتھ لکشمن پر دے مارتا ہے؛ وہ لکشمن کے سینے میں پیوست ہو جاتی ہے اور وہ گر پڑتے ہیں۔ رام کا غم لمحہ بھر ظاہر ہوتا ہے مگر فوراً دھرم کے عزم میں بدل جاتا ہے؛ وہ پیوست شکتی نکال کر توڑ دیتے ہیں، ہنومان اور سُگریو کو لکشمن کی حفاظت کا حکم دیتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ جلد دنیا یا تو راون سے خالی ہوگی یا رام سے۔ سرگ کا اختتام پھر سے ہولناک تیر اندازی کے تبادلے پر ہوتا ہے، جہاں شدید زخم کے بیچ بھی دھرم پر قائم ارادہ جلوہ گر رہتا ہے۔
लक्ष्मण-प्राणरक्षा: (Lakshmana’s Revival by the Herb-Mountain)
اس سَرگ میں میدانِ جنگ کا ایک طبی بحران اور اس کے اخلاقی اثرات نمایاں ہوتے ہیں۔ راون کی شکتی (نیزہ) لگنے سے لکشمن خون میں لت پت ہو کر گر پڑتے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر شری رام کا ضبط ٹوٹ جاتا ہے؛ وہ سوچتے ہیں کہ بھائی کے بغیر فتح، زندگی اور حتیٰ کہ جنگ کا مقصد بھی بے معنی ہے۔ سوشین تشخیص کے ساتھ رام کو تسلی دیتا ہے کہ لکشمن کے چہرے کی تابانی باقی ہے اور دل و اعضا میں حیات کی نشانیاں موجود ہیں، اس لیے مایوسی ترک کی جائے۔ پھر وہ ہنومان کو اوشدھی-پروت (جڑی بوٹیوں کے پہاڑ) سے چار مہا اوشدھیاں—سورنکرنی، ساورنیکرنی، سنجیونیکرنی، سندھانی—لانے کا حکم دیتا ہے۔ ہنومان انہیں پہچان نہ پانے پر جنوبی چوٹی سمیت پورا پہاڑ ہی اکھاڑ کر تیزی سے لے آتے ہیں۔ سوشین جڑی بوٹیاں نکال کر پیس کر ناک کے راستے لکشمن کو دیتا ہے؛ لکشمن جسم میں پیوست شکتی اور درد سے آزاد ہو کر اٹھ بیٹھتے ہیں۔ وانر سردار خوشی مناتے ہیں، شری رام آنسوؤں کے ساتھ لکشمن کو گلے لگاتے ہیں؛ مگر لکشمن رام کو یاد دلاتے ہیں کہ اپنی پرتِگیا نبھائیں اور راون کا وِناش مکمل کریں، تاکہ ذاتی غم دھرم، وعدہ وفا اور عوامی انصاف کے عظیم مقصد میں ڈھل جائے۔
ऐन्द्ररथप्रदानम् — Indra’s Chariot Offered to Rāma; The Duel Intensifies
سرگ 103 میں دوئل کی انصاف پسندی پر سوال اٹھتا ہے—شری رام زمین پر کھڑے ہیں جبکہ راون رتھ پر سوار ہو کر جنگ کرتا ہے۔ دیوتا اور آسمانی ہستیاں کہتے ہیں کہ یہ مقابلہ برابر نہیں۔ ان ‘امرت جیسے’ کلمات کو سن کر اندر اپنے سارَتھی ماتلی کو حکم دیتا ہے کہ دیوی رتھ میدانِ جنگ میں لے جا کر شری رام کو اس پر سوار ہونے کی دعوت دے۔ ماتلی سونے سے آراستہ، سبز گھوڑوں سے جتا ہوا رتھ لے کر آتا ہے اور اندر کے جنگی ساز و سامان—عظیم دھنش، آگ کی مانند روشن زرہ، سورج جیسے تیر، اور بے داغ مبارک شکتی—پیش کرتا ہے۔ وہ شری رام کو باادب پرنام کر کے فتح کے لیے اندر کا عطیہ بتاتا ہے اور خود کو سارَتھی کے طور پر پیش کرتا ہے۔ شری رام احتراماً پردکشنا کر کے رتھ پر سوار ہوتے ہیں اور ان کا جلال بڑھ جاتا ہے۔ پھر جنگ شدت اختیار کرتی ہے: راون ہولناک راکشسی استر چلاتا ہے جن کے تیر زہریلے سانپ بن کر چاروں سمت بھر دیتے ہیں۔ شری رام گڑوڑ استر سے جواب دیتے ہیں اور سانپ نما تیروں کو سنہری سوپرن روپ میں بدل کر خطرہ مٹا دیتے ہیں۔ راون گھنے تیر برساتا ہے، ماتلی کو زخمی کرتا ہے، رتھ کا جھنڈا کاٹ دیتا ہے اور اندر کے گھوڑوں کو بھی گھائل کرتا ہے—جس سے دیوتا، رشی اور وانر سردار بے چین ہو جاتے ہیں۔ سرگ کے اختتام پر سیاروں کی گرہ بندی، مدھم ہوتا سورج اور طوفانی سمندر کی تصویریں اس رام–راون ٹکراؤ کی کائناتی اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں۔
रावणशूलप्रक्षेपः — Ravana Hurls the Trident; Rama Counters with Indra’s Javelin
سرگ 104 میں جنگ شدت اختیار کر لیتی ہے اور بدشگونیوں کا ظہور ہوتا ہے۔ شری رام کے غضبناک چہرے کو دیکھ کر پہاڑ لرز اٹھتے ہیں اور سمندر میں طلاطم برپا ہو جاتا ہے۔ دیوتا، گندھرو اور رشی آسمان سے اس جنگ کا نظارہ کرتے ہیں جو قیامت خیز معلوم ہوتی ہے۔ راون، جس کی آنکھیں غصے سے سرخ ہیں، ایک خوفناک اور بجلی کی طرح کڑکنے والا ترشول اٹھاتا ہے اور رام کو ہلاک کرنے کے ارادے سے اسے پوری طاقت سے پھینکتا ہے۔ رام پہلے تیروں کی بارش کرتے ہیں، لیکن راون کا ترشول انہیں آگ میں پتنگوں کی طرح بھسم کر دیتا ہے۔ اس پر رام، ماتلی کا لایا ہوا اندر کا دیا ہوا 'شکتی' نامی مقدس نیزہ اٹھاتے ہیں۔ یہ نیزہ آسمان میں شہاب ثاقب کی طرح چمکتا ہے اور راون کے ترشول سے ٹکرا کر اسے توڑ دیتا ہے۔ آخر میں، رام اپنے تیروں سے راون کے گھوڑوں کو ہلاک کر دیتے ہیں اور راون کے سینے اور پیشانی کو چھلنی کر دیتے ہیں، جس سے وہ لہولہان ہو کر کھلے ہوئے اشوک کے درخت کی مانند دکھائی دیتا ہے۔
रावणक्रोधः—रामस्य परुषवाक्यम् (Ravana’s Fury and Rama’s Harsh Admonition)
سرگ 105 میں دو بدو جنگ کے اندر ایک نفسیاتی موڑ نمایاں ہوتا ہے۔ میدانِ کارزار کے غرور میں مشہور راون، کاکُتستھ رام کے تیروں کی چوٹ سے تڑپ کر شدید غضب میں آ جاتا ہے اور تیروں کی گھنی بارش برساتا ہے، یہاں تک کہ کچھ لمحوں کے لیے میدان تاریک سا ہو جاتا ہے۔ مگر رام اٹل رہتے ہیں—گویا ایک غیر متزلزل پہاڑ—اور تیر-جال کو روک کر اسے سورج کی کرنوں کی طرح سہہ لیتے ہیں۔ رام کے بدن پر خون کے نشان شکست نہیں، بلکہ کھلے ہوئے کِمشُک کے پھولوں جیسی شانِ برداشت دکھاتے ہیں۔ پھر رام کا غضب دھرم کے فیصلے میں ڈھل جاتا ہے۔ وہ راون کو “ویریہ وان” (حقیقی بہادر) ماننے سے انکار کرتے ہیں، کیونکہ اس نے بے بس سیتا کو چور کی طرح ہرا لیا اور یہ عمل مریادا اور مقبول چاریتر کے خلاف ہے۔ رام کے کلمات پیش گوئی جیسے ہولناک جنگی مناظر تک بڑھتے ہیں—کٹا ہوا سر، گِدھ، پھٹی ہوئی انتڑیاں—جو نفسیاتی دباؤ بھی ہے اور دھرم کی عدالت بھی۔ رام کی جنگی توانائی دوگنی بیان ہوتی ہے؛ آتم-گیان اور شُبھ نشانوں سے استر انہیں گویا خود ظاہر ہوتے ہیں، اور وہ حملہ مزید تیز کر دیتے ہیں۔ رام کے تیروں کی بارش اور وانروں کے پتھروں کی یلغار کے مشترک دباؤ میں راون ذہنی طور پر الجھ جاتا ہے، ٹھیک طرح جواب نہیں دے پاتا؛ تب اس کا سارَتھی اسے میدان سے ہٹا لے جاتا ہے—حوصلے اور اختیار کے عارضی انہدام کی علامت۔
रावण-सारथि-संवादः (Ravana and the Charioteer: Counsel, Omens, and Battlefield Conduct)
سرگ 106 میں میدانِ جنگ سے وقتی پسپائی کے لمحے پر راون اور اس کے سارتھی (رتھ بان) کے درمیان نہایت نازک اور سخت مکالمہ ہوتا ہے۔ راون، جو موہ میں ڈوبا ہوا اور بھاگ्य کے بہاؤ میں بہتا دکھایا گیا ہے، غصّے سے سرخ آنکھوں کے ساتھ سارتھی کو ڈانٹتا ہے کہ اس نے دشمن کے سامنے رتھ کیوں موڑ دیا؛ وہ اسے بزدلی، نااہلی بلکہ مخالفین سے سازباز تک کا الزام دیتا ہے۔ سارتھی نیتی پر مبنی، متوازن اور دلجوئی کرنے والی باتوں سے جواب دیتا ہے۔ وہ خوف یا غداری کی نفی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ سارتھی کا دھرم ہے کہ وقت، جگہ، زمین، نشانیاں و شگون، یودھا کی حالت اور لشکروں کی قوت و کمزوری کو دیکھ کر ہی رتھ چلائے۔ وہ تھکے ہوئے گھوڑوں اور ناموافق فال و علامات کو پسپائی کی عملی وجہ بتاتا ہے اور سمجھاتا ہے کہ حکمتِ عملی کے تحت جگہ بدلنا دھرم کے مطابق اور جنگی تدبیر کے لحاظ سے بھی درست ہو سکتا ہے۔ راون اس بات سے قائل ہو کر سارتھی کی تعریف کرتا ہے، اسے ایک مبارک دست زیور عطا کرتا ہے اور راگھو (رام) کی طرف فوراً پیش قدمی کا حکم دیتا ہے۔ سرگ کے اختتام پر رتھ تیزی سے رام کے رتھ کے سامنے جا پہنچتا ہے اور یوں براہِ راست مقابلہ پھر قائم ہو جاتا ہے، جہاں غضب سے بھرے حکم اور دانا مشورے کے بیچ کی کشمکش نمایاں رہتی ہے۔
आदित्यहृदयम् (Aditya Hridayam Upadeśa — Agastya’s Instruction to Rāma)
سرگ ۱۰۷ میں رام میدانِ جنگ میں کھڑے ہیں؛ معرکے کی شدت سے وہ لمحہ بھر کے لیے بوجھل محسوس کرتے ہیں، جبکہ راون ان کے سامنے پوری تیاری کے ساتھ موجود ہے۔ اسی وقت رشی اگستیہ دیوتاؤں کے ساتھ آ کر اس فیصلہ کن مقابلے کے گواہ بنتے ہیں اور رام کو “گُہْیَم سَناتَنَم” یعنی آدتیہ ہردیم کا مقدس منتر/ستوتر سکھاتے ہیں۔ اس وعظ میں سورَیَ/آدتیہ کو کائنات کا نگہبان اور باطنی اصول بتایا گیا ہے جو دیوتاؤں، جانداروں اور یَجْنَیَ نظم کو سنبھالے ہوئے ہے—وہی سَرْجَن اور سَنْہار کرنے والا، اندھیرے اور سردی کو دور کرنے والا، انوار کا مالک، اور ویدی کرموں کا سرچشمہ اور پھل ہے۔ اگستیہ یکسو عبادت اور دن میں تین بار پاٹھ کی ہدایت دیتے ہیں، جس سے غم مٹتا ہے، اضطراب دور ہوتا ہے اور فتح نصیب ہوتی ہے۔ رام آچمن کر کے آدتیہ کا دھیان کرتے ہیں، ستوتر کا جپ کرتے ہیں، اور ذہنی صفائی و مسرت دوبارہ پاتے ہیں۔ پھر کمان اٹھا کر نئی ثابت قدمی کے ساتھ راون کے وध کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔ سرگ کے اختتام پر سورَیَ دیو کی تائید اور فوری کامیابی کی بشارت کے ساتھ جنگ میں قریب الوقوع فتح کا اشارہ ملتا ہے۔
रावणरथवैभव–निमित्तदर्शन–राममातलिसंवादः (Ravana’s Chariot, Portents, and Rama–Matali Instructions)
اس سَرگ کا آغاز راون کے رتھ کی نہایت پُرشکوہ اور تیز رفتار تصویرکشی سے ہوتا ہے۔ وہ گندھرو کی نگری کے مانند دکھائی دیتا ہے، جھنڈوں اور عَلَموں سے بھرا ہوا، سونے کی زنجیروں سے آراستہ گھوڑوں سے جُتا ہوا، اور میدانِ جنگ میں ہیبت بٹھانے کے لیے خاص طور پر تیار کیا گیا۔ جب مقابلہ شدت اختیار کرتا ہے تو شری رام دشمن کے رتھ کی جارحانہ پیش قدمی دیکھ کر ماتلی (اندَر کے سارتھی) کو خبردار کرتے ہیں کہ راون کی الٹی اور بے لگام چال خود ہلاکت کی علامت ہے۔ رام واضح ہدایات دیتے ہیں: ہوشیار رہو، رتھ کو سیدھا دشمن کی طرف لے چلو، ذہن کو پراگندہ نہ ہونے دو، اور ثابت نظر کے ساتھ لگامیں قابو میں رکھو۔ ماتلی خوش ہو کر مہارت سے رتھ چلاتا ہے اور پہیوں سے اڑتی گرد کے ذریعے راون کو مضطرب کرتا ہے۔ راون تیروں سے رام پر وار کرتا ہے؛ رام اندَر جیسے زور آور دھنش کو سنبھال کر جواب دیتے ہیں۔ دونوں شیر کی مانند آمنے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں، ہر ایک دوسرے کی موت کا ارادہ کیے ہوئے، اور دیوتا اس عظیم دوئل کو دیکھنے کے لیے جمع ہو جاتے ہیں۔ پھر راون کے گرد بدشگونیوں کا سلسلہ گہرا ہو جاتا ہے: خون کی بارش، گھومتی ہوائیں، گِدھ اور گیدڑ، گرد سے سمتوں کا تاریک ہونا، شہابِ ثاقب، بادلوں کے بغیر گرج اور بجلی—جبکہ رام کے لیے فتح کی نوید دینے والی نیک علامتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ ان نِمِتّوں کو پڑھ کر رام کو فتح کا یقین ہو جاتا ہے اور وہ بڑھتے ہوئے پرَاکرم کے ساتھ آگے بڑھ کر دشمن کے انجام کو قریب لے آتے ہیں۔
राघव-रावणयोः घोर-द्वैरथ-युद्धम् (The Fierce Chariot-Duel of Rama and Ravana)
سرگ ۱۰۹ میں رام اور راون کے درمیان براہِ راست رتھ-دوئیل (دویَرَتھ-یُدھ) کی ہیبت ناک شدت بیان ہوتی ہے، جسے دنیا کے لیے خوف انگیز کہا گیا ہے۔ دونوں لشکر کچھ دیر کے لیے اپنی اپنی لڑائیاں روک دیتے ہیں اور ہتھیار اٹھائے، حیرت میں منجمد تماشائی بن کر کھڑے رہتے ہیں—یوں یہ دوئیل ہی دھرم اور داستان کا فیصلہ کن محور بن جاتا ہے۔ غصّے سے بھرا راون رام کے رتھ کے دھوج (پرچم) کو نشانہ بناتا ہے؛ مگر اس کے تیر نشان کو کاٹ نہیں پاتے، رتھ کو چھو کر گر جاتے ہیں۔ تب رام سنبھلی ہوئی تپش کے ساتھ راون کے دھوج-دَند (کیتو) پر تیر چلاتے ہیں اور اسے کاٹ گراتے ہیں؛ دَند زمین پر گرتا ہے اور راون کی توہین کی آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ راون بدلے میں تیروں کی بوچھاڑ کرتا ہے اور مایا کے زور سے وسیع ‘شستر-ورش’ برساتا ہے—گدا، لوہے کی سلاخیں، چکر، ڈنڈے، پہاڑی چوٹیاں، درخت، ترشول اور کلہاڑیاں وغیرہ۔ دونوں طرف سے تیر آسمان کو گھنے جال کی طرح بھر دیتے ہیں، گویا دوسرا آسمان بن گیا ہو؛ کوئی وار رائیگاں نہیں جاتا—یا تو نشانے پر لگتا ہے یا ہوا میں ٹکرا کر نیچے آ گرتا ہے۔ گھوڑوں پر بھی ضربیں پڑتی ہیں، اور پرچم کے گرنے سے راون کا غضب مزید بڑھ کر اس دوئیل کو چند لمحوں کے لیے نہایت ہولناک اور ہنگامہ خیز مرحلے تک پہنچا دیتا ہے۔
रामरावणयोर्युद्धवैषम्यं तथा रावणशिरश्छेदनम् (Rama–Ravana Duel Intensifies; Ravana’s Heads Severed and Reappear)
سرگ ۱۱۰ میں رام اور راون کا دو بدو سنگرام اور زیادہ شدید ہو جاتا ہے اور ایسا عظیم منظر بن جاتا ہے جسے تمام مخلوقات دیکھتی ہیں۔ دیوتا اور آسمانی جماعتیں حیرت اور اضطراب کے ساتھ اس جنگ کو تکتی رہتی ہیں۔ رتھوں کی تیز چالیں—گھومنا، آگے بڑھنا، پیچھے ہٹنا—سارتھیوں کی مہارت اور جواب در جواب وار کی برابری کو نمایاں کرتی ہیں۔ راون گرجدار تیروں سے رام کے سارتھی ماتلی کو نشانہ بناتا ہے، مگر ماتلی بے خوف و ثابت قدم رہتا ہے؛ رام کا ردِّعمل ذاتی تکلیف نہیں بلکہ اپنے ساتھی کی توہین پر اصولی اور دھارمک غضب کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ تیروں اور بھاری ہتھیاروں—گدا، موسل، لوہے کے ڈنڈے وغیرہ—کی ہولناک بوچھاڑ سے کائنات میں کھلبلی مچتی ہے: سمندر متلاطم ہوتے ہیں، پاتال کے باشندے پریشان ہوتے ہیں، زمین لرزتی ہے، سورج مدھم پڑتا ہے اور ہوا ساکن ہو جاتی ہے۔ دیو اور رشی گائے اور برہمنوں کی خیر و برکت کے لیے منگل آشیرواد پڑھتے ہیں اور رام کی جے کی دعا کرتے ہیں، جس سے جنگ کا دھرم پر مبنی افق روشن ہوتا ہے۔ رام راون کا ایک سر کاٹ دیتے ہیں، مگر فوراً دوسرا سر اُگ آتا ہے؛ بار بار سر قلم کرنے پر بھی راکشس راجا کا خاتمہ نہیں ہوتا۔ سب استروں کے ماہر رام سوچتے ہیں کہ جو تیر پہلے فیصلہ کن ہوتے تھے وہ اب بے اثر کیوں دکھائی دیتے ہیں۔ سرگ کے اختتام پر جنگ بلا توقف جاری رہتی ہے اور ماتلی کچھ کہنے کو تیار ہوتا ہے، گویا راون کی جان کی گرہ اور اسے ختم کرنے کے درست طریقے کا بھید بتانے والا ہو۔
रावणवधः — The Slaying of Ravana (Brahmāstra Discharge)
سرگ 111 میں جنگ کا فیصلہ کن لمحہ نہایت مربوط ترتیب میں سامنے آتا ہے۔ رتھ بان اور مشیر ماتلی رام کو یاد دلاتا ہے کہ راون کے مقدر انجام کے وقت پِتامہ/برہما کی عطا کردہ برہماستر کا استعمال کیا جائے۔ پھر رام وہ عظیم تیر اٹھاتے ہیں جو پہلے اگستیہ سے انہیں ملا تھا؛ متن اس کے کائناتی سانچے کو بیان کرتا ہے—ہوا، آگ، سورج، پہاڑ اور آکاش بطور اصولِ نگہبان—یوں اسلحہ محض تشدد نہیں بلکہ دھرم کے تابع، یَجْنہ سمان ایک اخلاقی و رسومی تکنیک کے طور پر ظاہر ہوتا ہے۔ ویدوں میں مذکور طریقۂ کار کے مطابق منتر-سنسکار کر کے رام تیر کو کمان پر چڑھاتے ہیں؛ زمین لرز اٹھتی ہے اور جاندار خوف زدہ ہو جاتے ہیں، گویا یہ عمل عالمگیر اہمیت رکھتا ہو۔ ضبط شدہ غضب کے ساتھ رام تیر چھوڑتے ہیں؛ وہ اندر کے وجر کی مانند راون کے سینے میں پیوست ہو کر اس کے حیات بخش مرکز کو چیر دیتا ہے، پران-وایو چھین لیتا ہے اور اپنا کام پورا کر کے خاموشی سے ترکش میں لوٹ آتا ہے۔ گرا ہوا راون اپنا کمان گنوا دیتا ہے، راکشس منتشر ہو جاتے ہیں اور وانر لشکر فتح کے نعرے بلند کرتا ہے۔ آسمان میں دُندُبھیاں بجتی ہیں، پھولوں کی بارش ہوتی ہے، خوشبودار ہوائیں چلتی ہیں اور “سادھو” کی صدائیں گونجتی ہیں۔ پھر کائنات کا توازن بحال ہو جاتا ہے—زمین سنبھلتی ہے، سمتیں روشن ہوتی ہیں، سورج مستحکم دکھائی دیتا ہے—اور ساتھی آگے بڑھ کر رام کی تعظیم کرتے ہیں، جو دیوتاؤں میں اندر کی طرح درخشاں نظر آتے ہیں۔
रावणवधोत्तरं विभीषणशोकः—क्षत्रधर्मोपदेशः (Vibhishana’s Lament after Ravana’s Fall; Instruction on Kshatriya-Dharma)
سرگ 112 میں راون کے وध کے فوراً بعد کا منظر ہے۔ میدانِ جنگ میں بھائی کی لاش دیکھ کر وبھیषण آہ و زاری کرتا ہے اور بلند استعاروں میں گرے ہوئے راکشس راجا کی عظمت بیان کرتا ہے: راگھو کے طوفان سے ٹوٹا ہوا “راکشس-راجا درخت”، اِکشواکو-شیر کے ہاتھوں پچھاڑا گیا مست ہاتھی، اور رام کے بادل کی بارش سے بجھی ہوئی راکشس-آگ۔ وہ یہ بھی ماتم کرتا ہے کہ راون کے ساتھ لنکا کی ترتیب اور زندگی کی حرارت ڈھ گئی؛ گویا سورج گر پڑا، چاند تاریک ہو گیا، اور آگ بجھ گئی—کائناتی الٹ پھیر کی سی کیفیت۔ رام سنجیدہ اخلاقی خطاب کرتے ہیں: جو یودھا کشتریہ-دھرم کے مطابق رن میں گرے، اس پر نوحہ مناسب نہیں؛ جنگ میں فتح کبھی مطلق نہیں ہوتی؛ اور تینوں لوکوں سے ڈرائے جانے والے بھی کال (وقت) کے آگے سر جھکاتے ہیں۔ یہ سن کر وبھیषण آخری رسومات کی اجازت مانگتا ہے، راون کی یَجْنَی اہلیت اور دھارمک مرتبہ یاد دلاتا ہے اور کہتا ہے کہ موت کے ساتھ دشمنی ختم ہو جاتی ہے۔ رام اجازت دے کر جنگ سے سنسکار (انتیم کرم) اور راج-دھارمک استحکام کی طرف انتقال کی راہ ہموار کرتے ہیں۔
रावणवधदर्शनम् — Lament of the Rākṣasa Women upon Seeing Rāvaṇa Slain
اس سَرگ میں راون کے وِدھ کے فوراً بعد لنکا کے شہری و گھریلو ماحول کا دل خراش منظر سامنے آتا ہے۔ غم سے نڈھال راکشسی عورتیں انتَہ پور (محل کے اندرونی حصّے) سے دوڑتی ہوئی خون آلود کیچڑ میں لتھڑے میدانِ جنگ میں داخل ہوتی ہیں اور کٹے دھڑوں اور گرے ہوئے جسموں کے بیچ اپنے شوہروں اور عزیزوں کو ڈھونڈتی پھرتی ہیں۔ پھر وہ راون کی بے پناہ لاش کو سیاہ پہاڑ کے ڈھیر کی مانند دیکھتی ہیں اور اس کے اعضا پر گر پڑتی ہیں—کوئی گلے لگاتی ہے، کوئی قدموں اور گردن سے لپٹتی ہے، کوئی زمین پر لوٹتی ہے، کوئی بے ہوش ہو جاتی ہے؛ آنسو اس کے چہرے کو یوں بھگوتے ہیں جیسے کنول پر شبنم۔ ان کا نوحہ فکر انگیز اور عبرت آموز بن جاتا ہے۔ وہ یاد دلاتی ہیں کہ جس راون سے کبھی اندر، یم، گندھرو، رِشی اور دیوتا تک لرزتے تھے، وہ آج ایک فانی انسان یودھا کے ہاتھوں مارا ہوا بے بس پڑا ہے۔ وہ سبب بھی صاف بتاتی ہیں: خیر خواہ نصیحت (خصوصاً وبھیشن کی) نہ ماننا، سیتا کا اغوا اور اسے قید میں رکھنا، اور اسی سے ان کی برادری کی جڑ کٹ جانا (مولہَر)۔ ساتھ ہی وہ دَیو/قسمت کی اٹل چال کا بیان کرتی ہیں کہ دولت، ارادہ، پرَاکرم یا شاہی حکم بھی اسے پلٹ نہیں سکتا۔ آخر میں ان کی چیخیں کرونچ/کُرَری پرندوں کی طرح دردناک گونج بن کر رہ جاتی ہیں، اور یُدھّ کاند کے جنگی فضا میں مرثیے کی باوقار لے قائم رہتی ہے۔
रावणस्य अन्त्येष्टिः — Ravana’s Funeral Rites and the Ethics of Post-War Conduct
سرگ 114 میں داستان جنگ سے ہٹ کر اس کے بعد کے حالات کی طرف مڑتی ہے۔ ابتدا راکشسی عورتوں کے نوحے سے ہوتی ہے؛ مندودری اور ملکۂ اعظم کا غم نمایاں ہے۔ وہ پچھلی علامتوں کو یاد کر کے—ہنومان کا “دشوارگزار” لنکا میں داخل ہونا اور وانروں کا سمندر پر پل باندھنا—اس نتیجے تک پہنچتی ہیں کہ رام عام انسان نہیں بلکہ غیر معمولی عظمت کے حامل ہیں۔ گفتگو میں راون کی ہلاکت کو ادھرم، خصوصاً سیتا کے اغوا، اور کرم پھل کی اخلاقی جزا کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ پھر ایک اہم اخلاقی موڑ آتا ہے: رام حکم دیتے ہیں کہ موت کے بعد دشمنی باقی نہیں رہتی، اس لیے گرے ہوئے راجا کے لیے مناسب انتیشٹی (آخری رسومات) ادا کی جائیں۔ وبھیشن لنکا میں جا کر پجاریوں کو جمع کرتا ہے، یگیہ کی آگ، چندن اور خوشبودار اشیا مہیا کرتا ہے اور سجی ہوئی ارتھی کے ساتھ جنازہ جلوس کا انتظام کرتا ہے۔ راکشس وید کے مطابق پترمیध وغیرہ کے طریق پر ویدی کی ترتیب، آہوتیاں اور دہن کی رسومات پوری کرتے ہیں؛ پھر وبھیشن بیواؤں کو تسلی دے کر عاجزی کے ساتھ رام کے پاس لوٹ آتا ہے۔ اختتام پر رام کی کیفیت بدلتی ہے: دشمن کو زیر کر کے اور دیویہ استر رکھ کر وہ غضب چھوڑ دیتے ہیں اور فتح میں مریادا قائم رکھتے ہوئے نرمی و شفقت کی طرف واپس آتے ہیں۔
विभीषणाभिषेकः (Vibhīṣaṇa’s Consecration) and Hanumān’s Commission to Sītā
راون کے سقوط کے بعد دیوتا، گندھرو اور دانَو اپنے اپنے وِمانوں میں آسمان کی راہ روانہ ہوتے ہیں اور فتح کی مبارک حکایات بیان کرتے ہیں—شری رام کی شجاعت، وانر لشکر کی مہم، سُگریو کی دانائی بھری رائے، لکشمن کی عقیدت و دلیری، سیتا کی وفاداری و پاکدامنی، اور ہنومان کی بے مثال بہادری۔ شری رام اندرا کے سارَتھی ماتَلی کو باعزت رخصت کرتے ہیں؛ ماتَلی دیوی رتھ سمیت سوَرگ لوٹ جاتا ہے۔ پھر رام سُگریو کو گلے لگا کر لشکرگاہ میں واپس آتے ہیں۔ شری رام لکشمن کو حکم دیتے ہیں کہ لنکا میں وِبھیشن کی تخت نشینی (ابھِشیک) کی جائے، کیونکہ اس کی بھکتی، وفاداری اور سابقہ خدمت ثابت ہے۔ لکشمن سونے کا کلش منگواتے ہیں؛ تیز رفتار وانر سردار سمندر کا جل لاتے ہیں۔ وِبھیشن کو بہترین سنگھاسن پر بٹھا کر، راکشسوں کے درمیان، شاستروں کے مطابق منتر پڑھ کر “رام کے حکم سے” اس کا اَبھِشیک کیا جاتا ہے اور جائز اقتدار قائم ہوتا ہے۔ راکشس اور وانر خوشی سے رام کو نمسکار کرتے ہیں۔ وِبھیشن رعایا کو تسلی دیتا ہے، دہی، اَکشَت، مٹھائیاں، لَجا (بھنا ہوا اناج) اور پھول وغیرہ مبارک نذرانے لے کر رام اور لکشمن کی خدمت میں پیش کرتا ہے؛ رام اس کی محبت کی لاج رکھتے ہوئے قبول فرماتے ہیں۔ آخر میں رام ہنومان کو ہدایت دیتے ہیں کہ وِبھیشن کی اجازت لے کر لنکا میں جائیں، ویدیہی (سیتا) کو خوش خبری سنائیں اور اس کا پیغام لے کر واپس آئیں۔
सीतासान्त्वनम् / Hanuman Consoles Sita with the News of Victory
یہ سرگ جنگ کے بعد کی خبر رسانی ہے جو میدانِ کارزار کے انجام کو اخلاقی تسلی میں بدل دیتی ہے۔ نئی حکومت کے تحت لنکا میں عزت و آداب کے ساتھ داخل ہو کر ہنومان اشوک واٹیکا پہنچتے ہیں اور سیتا سے ملتے ہیں، جو جسمانی طور پر کمزور، دل گرفتہ اور راکشسی پہرے داروں کے درمیان گھری ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ ہنومان شری رام کا پیغام سناتے ہیں: راون مارا گیا، لنکا ویبھیشن کے زیرِ انتظام محفوظ ہو گئی، اور اب خوف کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ قید کا سابقہ پس منظر ختم ہو چکا ہے۔ یہ سن کر سیتا پر خوشی اس طرح غالب آتی ہے کہ کچھ دیر زبان ساتھ نہیں دیتی؛ پھر وہ شکر گزاری سے قاصد کو انعام دینے کا ارادہ کرتی ہیں مگر کہتی ہیں کہ مبارک خبر کے برابر کوئی دولت نہیں۔ یہاں دھرم کا اہم موڑ آتا ہے: ہنومان اُن راکشسیوں سے بدلہ لینے کی بات کرتے ہیں جنہوں نے سیتا کو دھمکایا تھا، مگر سیتا انتقام سے منع کرتی ہیں۔ وہ اپنے دکھ کو بھاگ्य اور سابقہ حالات کا نتیجہ بتاتی ہیں اور دھرم کے مطابق نصیحت کرتی ہیں کہ حکم کے تحت عمل کرنے والے خطاکاروں کے ساتھ بھی ضبط اور کرُونا برتنی چاہیے۔ ہنومان ان کی اخلاقی اتھارٹی قبول کر کے شری رام کے لیے جواب مانگتے ہیں؛ سیتا اپنے پتی کے درشن کی خواہش ظاہر کرتی ہیں۔ آخر میں ہنومان تیزی سے واپس جا کر سیتا کے الفاظ اسی ترتیب سے راگھو کو سنا دیتے ہیں۔
सीतासमीपगमनम् / Sītā Brought Near to Rāma (Public Witness and Protocol)
اس سَرگ میں جنگی فتح سے اخلاقی و دھارمک فیصلے کی طرف انتقال ایک باقاعدہ اور قابو میں رکھی گئی ملاقات کے ذریعے دکھایا گیا ہے۔ نہایت عالم ہنومان جی رام جی کو بامعنی رپورٹ دیتے ہیں اور عرض کرتے ہیں کہ جن کے لیے پوری مہم لڑی گئی، اُس غم زدہ میتھلی سیتا جی کے درشن کیے جائیں۔ رام جی کا ردِّعمل نفسیاتی طور پر گہرا ہے—آنکھیں نم ہوتی ہیں، وہ غور و فکر میں ڈوبتے ہیں، پھر وبھیشن کو حکم دیتے ہیں کہ سیتا جی کو غسل دے کر، تیل و عطر سے معطر کر کے اور زیورات سے آراستہ کر کے پیش کیا جائے۔ سیتا جی ابتدا میں چاہتی ہیں کہ بغیر غسل کے ہی رام جی کو دیکھ لیں، مگر وبھیشن راماج्ञا کی پابندی پر زور دیتے ہیں؛ سیتا جی رضا مند ہو جاتی ہیں۔ پھر انہیں نورانی پالکی میں، بہت سے راکشسوں کی پہرے داری میں لایا جاتا ہے۔ ان کی آمد کی خبر سن کر رام جی کے دل میں خوشی، ناگواری اور غضب—تینوں جذبات بیک وقت ابھرتے ہیں، گویا ذاتی ملاپ اور عوامی جواز کے بیچ دھرم کی کشمکش ہو۔ رام جی فرماتے ہیں کہ سیتا جی کو قریب لایا جائے۔ وبھیشن بھیڑ ہٹانے لگتے ہیں، مگر رام جی روک کر کہتے ہیں کہ یہ میرے اپنے لوگ ہیں؛ بحران، جنگ یا یَجْن کے موقع پر عورت کا عوام کے سامنے آنا بذاتِ خود عیب نہیں، اور سیتا جی کا یہاں آنا بے قصور ہے۔ پھر رام جی حکم دیتے ہیں کہ پالکی ہٹا دی جائے اور سیتا جی پیدل آئیں، تاکہ وانروں کے سامنے بھی سب کچھ واضح رہے اور اجتماعی گواہی قائم ہو۔ لکشمن، سُگریو اور ہنومان جی رام جی کے سخت انداز سے دل گرفتہ ہوتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ شاید سیتا جی سے ناراضی ہے۔ سیتا جی حیا کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں، رام جی کے چہرے کو دیکھتی ہیں، اور ان کا دیرینہ غم دور ہو جاتا ہے—باب جذباتی سکون پر ختم ہوتا ہے مگر آئندہ اخلاقی جانچ کی جھلک بھی دکھاتا ہے۔
सीताप्रत्याख्यानम् / Rama’s Post-Victory Address to Sītā (Public Opinion and Royal Duty)
جنگ کے بعد، جب رام سیتا کو اپنے قریب کھڑی دیکھتے ہیں تو اپنے دل میں چھپی ہوئی ناراضی اور اضطراب کو عوام کے سامنے ظاہر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ راون کے وध سے توہین مٹ گئی، عہد پورا ہوا، اور ساتھیوں کی کوششیں کامیاب ہوئیں—ہنومان کی سمندر پر جست اور لنکا کی تباہی، سُگریو کی صلاح اور لشکر کی محنت، اور وبھیشن کا دھرم کی طرف آ جانا۔ پھر گفتگو راج نیتی اور نام و آبرو کی طرف مڑتی ہے۔ رام اعلان کرتے ہیں کہ یہ جنگ ‘سیتا کے لیے’ نہیں بلکہ اپنے آچرن اور رگھوونش کی شہرت کو بدنامی اور عوامی طعن (جَنَواد) سے بچانے کے لیے لڑی گئی؛ ان کا دل محبت اور لوگوں کی باتوں کے خوف کے بیچ منقسم ہے۔ سخت دلیل کے ساتھ وہ کہتے ہیں کہ جو بیوی دوسرے کے گھر رہی اور جس پر ہوس بھری نگاہیں پڑیں، اسے قبول کرنا نامناسب سمجھا جا سکتا ہے؛ اس لیے سیتا جہاں چاہے جا سکتی ہے—حتیٰ کہ لکشمن، بھرت، شترُگھن، سُگریو یا وبھیشن جیسے محافظوں کا بھی اشارہ کرتے ہیں۔ یہ سن کر سیتا آنسوؤں سے بھر جاتی ہے، کانپ اٹھتی ہے، اور ہاتھی کے ضرب سے ٹوٹی بیل کی مانند ہو جاتی ہے—جس سے جسمانی نجات کے بعد عوامی تردید کی ذہنی اذیت نمایاں ہوتی ہے۔
सीताया अग्निप्रवेशः (Sita’s Ordeal by Fire / Agni-Pariksha)
اس سرگ میں رام کے سخت اور سماجی دھرم سے رنگے ہوئے کلمات مجمع کے سامنے ویدیہی سیتا کے دل کو زخمی کرتے ہیں اور ایک علانیہ اخلاقی بحران پیدا ہوتا ہے۔ سیتا دلیل کے ساتھ اپنا موقف پیش کرتی ہیں: وہ کہتی ہیں کہ انہیں “عام/بازاری عورتوں” کے چال چلن سے ناپنا ناانصافی ہے؛ قید کے دوران جسم پر جبر اور دل و نیت کی پاکیزگی میں فرق ہے۔ وہ ازدواجی قربت اور دیرینہ اعتماد کی دہائی دیتی ہیں اور کہتی ہیں کہ اگر محض شبہ ہی فیصلہ کن ہو تو پھر نجات کا یہ سارا کام اور ساتھیوں کی ساری محنت بے معنی ٹھہرے گی۔ گفتگو سے آگے بڑھ کر سیتا رسمِ ثبوت کی طرف جاتی ہیں اور لکشمن سے چتا تیار کرنے کی درخواست کرتی ہیں—جب سبھا میں علانیہ ردّ کر دیا جائے تو خودسوزی ہی ان کے لیے آخری باوقار راستہ رہ جاتا ہے۔ لکشمن غصّے میں بھی رام کے خاموش اشارے کی اطاعت کرتے ہوئے آگ تیار کرتے ہیں؛ رام عزم میں گویا موت کی مانند بے جنبش ہیں، کوئی انہیں روک نہیں پاتا۔ سیتا پردکشنا کرتی ہیں، دیوتاؤں اور برہمنوں کو نمسکار کرتی ہیں، اور کائناتی دیوتاؤں اور اگنی کو گواہ بنا کر اپنے عمل، گفتار اور فکر میں اٹل وفاداری کا اعلان کرتی ہیں۔ پھر وہ بے خوف دہکتی آگ میں داخل ہو جاتی ہیں؛ انسان، وانر، راکشس اور آسمانی جماعتیں حیرت، نوحہ اور ستائش کے ساتھ ردِّعمل دکھاتی ہیں—اس باب میں اجتماعی گواہی ہی فیصلے کا بنیادی طریقہ بن جاتی ہے۔
रामस्तवः — ब्रह्मणा रामस्य नारायणत्वप्रकाशनम् (Rama-Stava: Brahma Reveals Rama’s Nārāyaṇa Identity)
سرگ 120 میں جنگ کے بعد کے انسانی غم و اندوہ سے روایت اچانک ایک الٰہی انکشاف کی طرف مڑتی ہے۔ عوام کی آہ و بکا سن کر شری رام آنسوؤں سے دھندلی آنکھوں کے ساتھ ٹھہر جاتے ہیں—یہ منظر رعایا کے جذبات اور راج دھرم کی ذمہ داری کو نمایاں کرتا ہے۔ پھر لنکا میں سورج کی مانند روشن وِمانوں پر دیوتاؤں کی عظیم سبھا آتی ہے: کوبیر (ویشرون)، یم پِتروں کے ساتھ، اندر، ورُن، مہیشور (چھ آنکھوں والے، بیل کے جھنڈے والے) اور برہما؛ یہ کائناتی اجتماع حالیہ واقعات کو ایک وسیع تر الٰہی تناظر میں رکھ دیتا ہے۔ دیوتا سوال کرتے ہیں کہ خالق اور پرمیشور کہلانے والے رام نے سیتا کی آگ کی آزمائش کے کرب کو گویا نظرانداز کیسے کیا—یہاں الٰہی ہمہ دانی اور انسانی کردار کے تقاضوں کے درمیان کشمکش ظاہر ہوتی ہے۔ رام جواب دیتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو دشرتھ کے انسانی پتر کے طور پر ہی جانتے ہیں اور برہما سے اپنی اصل حقیقت واضح کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔ برہما ایک طویل ستَو (رام ستَو) میں رام کو نارائن/وشنو کے طور پر ظاہر کرتے ہیں: وہ یَجْیَ اور اومکار ہیں، آغاز بھی اور انجام بھی؛ تمام جہات اور جانداروں میں قائم رکھنے والا اصول؛ اور تری وِکرم/وامن لیلا میں بلی کو باندھنے والا بھی وہی ہیں۔ باب کے اختتام پر اعلان ہوتا ہے کہ راون کا وध اوتار کے مقصد کی تکمیل ہے، اور اس قدیم حمد کی تلاوت کامیابی عطا کرتی اور بے عزتی سے حفاظت کرتی ہے—یوں یہ سرگ روایت کی گتھی بھی سلجھاتا ہے اور عبادتی متن کی سند بھی بن جاتا ہے۔
अग्निपरीक्षासाक्ष्यं (Agni’s Testimony and Sītā’s Revalidation)
اس سَرگ میں جنگی بیانیے کا ایک عدالتی و الٰہی اختتام گواہی کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ برہما کے خطاب کے بعد اگنی (وبھاوَسو/ہویَوَاہن/پاواک) ‘لوک-ساکشی’ یعنی عالم کا گواہ بن کر آگ سے ظاہر ہوتا ہے، ویدیہی کو اٹھائے ہوئے راما کے پاس لاتا ہے اور اسے روشن و بےتغیر حالت میں واپس سونپ دیتا ہے۔ اگنی باقاعدہ اعلان کرتا ہے کہ سیتا گفتار، دل، عقل اور حتیٰ کہ نگاہ تک میں بےگناہ اور وفادار رہی؛ راکشسیوں کی نگرانی، لالچ اور دھمکیوں کے باوجود راما کی بھکتی سے ذرّہ بھر انحراف نہ ہوا۔ پھر راما عوامی اعتبار کی اخلاقی منطق بیان کرتا ہے: اگرچہ تینوں لوکوں میں سیتا کی پاکیزگی معروف ہے، مگر راون کے اندرونی محل میں طویل قیام سماجی بدگمانی کا سبب بن سکتا تھا؛ اسی لیے ‘لوک-پرتیَے’ (عالمی اطمینان) کے لیے اس نے آگ میں داخلے کی اجازت دی، ذاتی شک کی بنا پر نہیں۔ وہ سیتا کی عصمت کو ایسی شعلہ نما پاکیزگی سے تشبیہ دیتا ہے جو بدکار کے خیال تک سے دور ہے، اور کہتا ہے کہ جیسے آدمی اپنی شہرت یا اپنے آپ کو نہیں چھوڑ سکتا ویسے ہی وہ سیتا کو ترک نہیں کر سکتا۔ آخر میں راما مشورہ قبول کرتا ہے، ستائش پاتا ہے اور زوجہ کے ساتھ ملاپ کے بعد جائز مسرت سے بہرہ مند ہوتا ہے۔
दशरथदर्शनम् — Dasharatha’s Epiphany and Benedictions (Sarga 122)
اس سَرگ میں جنگ کے اختتام کے بعد الٰہی ظہور اور نصیحت کا سلسلہ بیان ہوتا ہے۔ مہیشور رाघو کے مبارک کلام سے خوش ہو کر ہدایت دیتے ہیں کہ رام ایودھیا واپس جائیں، بھرت اور رانیوں—کوشلیا، کیکئی، سُمِترا—کو تسلی دیں، اِکشواکو راج کو مستحکم کریں، راج دھرم کے مطابق شاہی یَجْن (اشومیدھ وغیرہ) ادا کریں، اور برہمنوں کو دان دے کر میدانِ جنگ کے دھرم سے شہری دھرم تک اپنی ذمہ داری پوری کریں۔ پھر مہیشور وِمان میں دشرتھ کو ظاہر کرتے ہیں۔ رام اور لکشمن پرنام کرتے ہیں۔ نورانی دشرتھ رام کو گلے لگا کر اپنی گود میں بٹھاتے ہیں اور پدرانہ یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ رام کے بغیر سُورگ کے اعزاز بھی بے لذت ہیں؛ آج بن باس کی تکمیل اور دشمنوں کی ہلاکت دیکھ کر وہ کِرتارتھ ہیں۔ وہ کیکئی کے ور مانگنے سے پیدا ہونے والے درد کا ذکر کرتے ہوئے بھی بھرت اور کیکئی پر کرپا رکھنے کی تلقین کرتے ہیں، اور رام دعا کرتے ہیں کہ ہولناک شاپ اُن تک نہ پہنچے۔ دشرتھ لکشمن کو وفادار سیوا پر آشیرواد دیتے ہیں اور سیتا کو صبر و برداشت اور پتی ورتا دھرم کی نرم نصیحت کرتے ہیں، رام کو اُس کا اعلیٰ ترین سہارا بتاتے ہیں۔ آخر میں دشرتھ وِمان کے ذریعے اندرلوک روانہ ہوتے ہیں؛ یوں باپ بیٹے کے فراق کا رسمِی اختتام ہوتا ہے اور کتھا ایودھیا کی بحالی کی طرف بڑھتی ہے۔
इन्द्रवरदानम् / Indra Grants Boons: Restoration of the Vanara Host
سرگ ۱۲۳ میں جنگ کے بعد استحکام کا منظر ایک الٰہی مکالمے کی صورت میں آتا ہے۔ اندرا (مہیندر/پاکشاسن/سہسرآکش) رام سے، جو ہاتھ جوڑے کھڑے ہیں، فرماتا ہے کہ اپنی خواہش بیان کریں۔ رام کی درخواست ذاتی نہیں بلکہ اجتماعی اور تلافی پر مبنی ہے: وہ تمام وانر اور رِکش جو ان کے مقصد کے لیے لڑ کر یم کے دھام کو پہنچ گئے ہیں، دوبارہ زندگی پائیں، زخموں سے پاک ہوں اور اپنے عزیزوں سے مل جائیں؛ نیز جہاں وانر بستے ہیں وہاں بے موسم پھول اور پھل کثرت سے ہوں اور ندیاں پاکیزہ اور بھرپور بہیں۔ اندرا اس عظیم ور کو یقینی قرار دے کر قبول کرتا ہے۔ فوراً اثر ظاہر ہوتا ہے: گرے ہوئے اور زخمی یودھا ایسے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں جیسے نیند سے جاگے ہوں—قوت و صحت کے ساتھ اور حیرت زدہ۔ دیوتا رام اور لکشمن کی ستائش کرتے ہیں اور ایودھیا واپسی کی صلاح دیتے ہیں—وانروں کو رخصت کرنا، میتھلی (سیتا) کو تسلی دینا، بھرت اور شترگھن سے ملاقات کرنا، ماؤں کے درشن کرنا اور راجیہ ابھیشیک پانا۔ اندرا دیوگن کے ساتھ سورج کی مانند روشن ویمانوں میں روانہ ہوتا ہے؛ رام باقاعدہ طور پر وانر لشکر کو آرام کے لیے رخصت کرتے ہیں اور فوج اپنی نئی شان و شوکت کے ساتھ درخشاں دکھائی دیتی ہے۔
पुष्पकविमान-प्रस्थानम् (The Pushpaka Vimāna Offered and the Return Prepared)
ایک رات آرام کے بعد وِبھیشَن ادب و نیاز کے ساتھ شری رام کے حضور آتا ہے اور فتح و کامرانی کی خیریت دریافت کرتا ہے۔ وہ ماہر خادموں کے ذریعے مہمان نوازی کے آداب پیش کرتا ہے—غسل، خوشبودار لیپ، لباس، زیورات، صندل اور ہار—اور رام اور وानر سرداروں سے تازگی و طہارت کی رسومات قبول کرنے کی درخواست کرتا ہے۔ شری رام ضبط کے ساتھ مگر عجلتِ دل میں فرماتے ہیں کہ ان کا جی بھرَت کے دیدار کو بے تاب ہے؛ چترکوٹ میں بھرَت کی سابقہ التجائیں، نیز رانیوں اور شہریوں کی درخواستیں انہیں یاد ہیں۔ تب وِبھیشَن پُشپک وِمان پیش کرتا ہے—سورج سا درخشاں، بادل سا، خواہش کے مطابق چلنے والا (کامگ)، ناقابلِ تسخیر اور خیال کی طرح تیز۔ وہ بتاتا ہے کہ یہ کُبیر کا سواری تھا جسے راون نے جنگ میں چھین لیا تھا، اور اب رام کے مقصد کے لیے محفوظ رکھا گیا ہے۔ رام طویل قیام سے انکار کرتے ہیں، روانگی کی اجازت چاہتے ہیں اور وِمان تیار کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ وِبھیشَن اسے منگواتا ہے؛ متن میں اس کی زرّیں شان، جواہراتی قربان گاہیں، جھنڈے، گھنٹیاں، موتیوں سے آراستہ دریچے اور وِشوکرمَا کی بنائی ہوئی مِرو جیسے عظیم پیمانے کی دلکش تصویر کشی آتی ہے۔ آخرکار رام اور لکشمن اس کی ہیبت و وسعت پر حیران ہو کر اس میں بیٹھتے ہیں، اور داستان جنگ کے اختتام سے وطن واپسی کے سفر کی طرف مڑ جاتی ہے۔
पुष्पकारोहणम् (Boarding the Puṣpaka; Honoring the Allies and Departure for Ayodhyā)
اس سَرگ میں فتح کے بعد صلح و آشتی اور ایودھیا کی روانگی کی مبارک ترتیب بیان ہوتی ہے۔ ویبھیषण پھولوں سے آراستہ پُشپک وِمان شری رام کے حضور نہایت ادب سے فاصلے پر کھڑے ہو کر پیش کرتا ہے اور حکم طلب کرتا ہے۔ لکشمن کے سنتے ہوئے رام جی غور و فکر کے بعد ایک نیتی بھرا فرمان دیتے ہیں کہ جنگ کا بوجھ اٹھانے والے جنگل نشین حلیف—وانر وغیرہ—کو دولت اور جواہرات سے عزت دی جائے؛ کیونکہ شکرگزاری ہی راج دھرم کی ساکھ کو قائم رکھتی ہے، اور بے فضیلت حاکم کو لشکر چھوڑ دیتے ہیں۔ ویبھیषण اسی کے مطابق قیمتی اشیا تقسیم کرتا ہے۔ جب رام جی دیکھتے ہیں کہ سپاہ کی قدر افزائی ہو چکی ہے تو وہ عالی شان وِمان پر سوار ہوتے ہیں۔ جمع لشکروں کے سامنے سیتا جی حیا کے ساتھ رہتی ہیں؛ رام جی انہیں محبت سے آغوش میں لے کر ساتھ بٹھاتے ہیں۔ پھر رام جی خصوصاً سُگریو کو اجازت دیتے ہیں کہ وہ اپنی فوج کے ساتھ کِشکِندھا لوٹ جائیں، اور ویبھیषण کو لنکا میں محفوظ اور دھرم یُکت راج کی برکت دیتے ہیں۔ حلیف یہ خواہش ظاہر کرتے ہیں کہ ایودھیا جا کر رام جی کے راجیا بھِشیک کے درشن کریں اور کوشلیہ ماتا کو پرنام کریں؛ رام جی اجازت دیتے ہیں اور سب پُشپک میں سوار ہو جاتے ہیں۔ رام جی کے حکم سے کُبیر کا پُشپک آسمان کی طرف بلند ہوتا ہے، اور رام جی کُبیر کی مانند درخشاں دکھائی دیتے ہیں—جنگ کے بعد حق و انصاف سے روشن بادشاہت کی علامت۔
पुष्पकविमानयात्रा—सेतुबन्धादि-दर्शनम् (Pushpaka Aerial Journey and Survey of Sacred Landmarks)
سرگ 126 میں جنگ کے بعد پُشپک وِمان کی فضائی یاترا بیان ہوتی ہے، جو سیتا کے لیے رام کی رہنمائی میں یادوں کی سیر بن جاتی ہے۔ رام کی اجازت سے ہنس کی مانند خوش آہنگ پُشپک بلند ہوتا ہے اور اوپر سے جنگ اور یادگار مقامات دکھائی دیتے ہیں۔ رام خون آلود میدانِ جنگ کی طرف اشارہ کرکے نمایاں راکشس ہلاکتوں اور اُن کے قاتلین کا ذکر کرتے ہیں—یہ جنگ کے اختتام اور جواب دہی کا باقاعدہ اندراج بن جاتا ہے۔ پھر بیان مقدس جغرافیے کی طرف مڑتا ہے: عبور کے ساحل، نل کا پل (نل سیتو)، گرجتا سمندر جو ورُن کا دھام کہا گیا ہے، ہنومان کے گزر سے وابستہ آرام گاہ والا پہاڑ، اور سیتھوبندھ تیرتھ جسے تری لوک میں معزز اور گناہ نَاشک کہا گیا ہے۔ پرواز کِشکندھا، رِشیَمُوک، پَمپا اور شبری کے مقام، جنستھان اور جٹایو کے سقوط کی جگہ، کھَر–دوشن–تری شِرس کے واقعے والے تپون، گوداوری اور اگستیہ آشرم، سُتیکشْن اور شَرَبھنگ کے آشرم، اَتری کا نِواس، وِرادھ کا علاقہ، چترکوٹ، یمنا اور بھاردواج آشرم، گنگا، شرِنگی بیر (گُہا)، سرَیو اور آخر میں ایودھیا—جو امراؤتی کی مانند دکھائی دیتی ہے—تک پہنچتی ہے؛ سیتا عقیدت سے سلام کرتی ہے۔ اسی دوران سیتا درخواست کرتی ہے کہ تارا اور دیگر وانری عورتیں بھی ایودھیا چلیں؛ رام منظوری دیتے ہیں، سُگریو گھرانوں کو تیار کراتا ہے، اور وانریاں سیتا کے دیدار کی شوقین ہو کر وِمان میں سوار ہوتی ہیں۔
भरद्वाजाश्रम-समागमः / Meeting Bharadvaja at the Hermitage (Homeward Blessings)
جلاوطنی کی مدت کے پورا ہونے (مقررہ قمری تاریخ کے مطابق) کے بعد رام اور لکشمن بھردواج مُنی کے آشرم میں پہنچ کر عقیدت سے پرنام کرتے ہیں۔ رام ایودھیا کے حالات دریافت کرتے ہیں—عوام کی خوشحالی، بھرت کی حکمرانی، اور رانیوں کی خیریت—یوں داستان کا رخ جنگی مقاصد سے شہری و ریاستی نظم کی طرف پلٹتا ہے۔ بھردواج مُنی محبت سے بتاتے ہیں کہ بھرت زاہدانہ صورت میں رام کے انتظار میں ہیں اور اپنے سامنے پادُکا (لکڑی کی جوتیاں) رکھ کر خدمت گزار ہیں؛ یہ سپرد کردہ اقتدار اور غیر متزلزل وفاداری کی علامت ہے۔ مُنی کہتے ہیں کہ تپسیا اور شاگردوں کی خبروں سے رام کی پوری یاترا انہیں معلوم ہے—سیتا کا اغوا (رشیوں اور برہمنوں کی حفاظت کے دوران)، ماریچ، کبندھ، پمپا، سُگریو سے میل، والی کا وध، ہنومان کا سیتا کو پانا اور لنکا کو جلانا، نل کا پل، راون کا وध اور دیوی عطائیں۔ مُنی ارگھیا پیش کرتے اور ور مانگنے کو کہتے ہیں۔ رام درخواست کرتے ہیں کہ ایودھیا کے راستے میں بے موسم، امرت جیسی خوشبو والے پھل اور پھول بکثرت ہو جائیں۔ مُنی کی رضا سے کئی یوجن تک منظر بدل جاتا ہے: بنجر درخت پھل دینے لگتے ہیں، بے برگ درخت پھر سرسبز ہو جاتے ہیں، اور شہد جیسی مٹھاس والی فراوانی ظاہر ہوتی ہے—رام کی واپسی کے ساتھ بحال ہونے والے دھرم و نظم کا ایک مبارک نشان۔
अयोध्याप्रत्यागमन-सन्देशः (Hanuman Sent Ahead to Ayodhya)
پُشپک وِمان سے ایودھیا کو دیکھتے ہوئے شری رام واپسی کے سفر کے اہم مراحل یاد کرتے ہیں—سمندر کے قریب پہنچنا، سمندر دیوتا کا ظہور، سیتو (پل) کی تعمیر، راون کا وध اور دیوی و دیوتاؤں کے ور۔ پھر وہ ہنومان جی کو تیز رفتار قاصد بنا کر ایودھیا کی طرف روانہ کرتے ہیں۔ رام ہنومان کو ہدایت دیتے ہیں کہ بھرت کے باطنی ارادے کو ظاہری علامتوں سے پرکھیں—چہرے کا رنگ، نگاہ، گفتگو اور لہجہ—کیونکہ موروثی راج کی فراوانی کبھی کبھی نیک لوگوں کو بھی آزمائش میں ڈال سکتی ہے۔ یوں حساس جانشینی سے پہلے سیاسی تصدیق کا ایک باقاعدہ طریقۂ کار بیان ہوتا ہے۔ ہنومان انسانی روپ دھار کر برق رفتاری سے سفر کرتے ہیں، گنگا–یَمُنا کے سنگم کو پار کرتے ہیں، شرِنگبیرپور پہنچ کر گُہَ سے ملاقات کرتے ہیں اور رام کی خیریت اور سفر کی روداد سناتے ہیں۔ نندیگرام کی طرف بڑھتے ہوئے وہ بھرت کی زاہدانہ نیابتِ حکومت دیکھتے ہیں: دبلا پتلا جسم، تپسویانہ لباس، اور رام کی پادُکا کو تخت کی علامت بنا کر راج چلانا، جبکہ وزیر، پُروہت اور سپہ سالار خدمت میں حاضر ہیں۔ ہنومان رام کی فتح، سیتا کی بازیابی اور قریب الوقوع ملاپ کی خبر دیتے ہیں۔ بھرت خوشی سے بے خود ہو جاتے ہیں، ہنومان کو گلے لگاتے ہیں اور اس مبارک خبر پر کثیر انعام و عطایا پیش کرتے ہیں، اور انتقالِ اقتدار کے اس نازک وقت میں اپنی وفاداری اور دھارمک حکمرانی کی تجدید کرتے ہیں۔
Yuddhakāṇḍa frames war as a dharmic necessity rather than a celebration of violence: force becomes legitimate only when subordinated to truth, restraint, and the protection of the wronged. The narrative repeatedly contrasts Rāma’s disciplined adherence to counsel, alliance-ethics, and vows with Rāvaṇa’s pride-driven rejection of wise advice. Vibhīṣaṇa’s defection and Rāma’s granting of asylum further establish rājadharma as the capacity to recognize virtue even in an enemy camp. The book thus presents adharma not merely as “sin” but as strategic blindness that collapses sovereignty from within.
Key episodes include: Hanumān’s report and the march to the sea; Rāma’s observance and confrontation with Sāgara; construction and crossing of the setu; reconnaissance and the siege of Laṅkā; Vibhīṣaṇa’s counsel, rejection, and asylum; successive gate-battles and the fall of leading commanders (e.g., Dhumrākṣa, Vajradaṃṣṭra, Prahasta); Indrajit’s māyā that temporarily disables Rāma and Lakṣmaṇa and the counter-operation against his ritual power (Nikumbhilā); Kumbhakarṇa’s awakening, rampage, and death; and the tightening of the campaign toward the final confrontation with Rāvaṇa and the recovery of Sītā.
The central figures are Rāma and Lakṣmaṇa (leaders of the righteous campaign), Sītā (the moral and emotional center), Hanumān and Sugrīva (vānaras coalition leadership), and Vibhīṣaṇa (insider counselor who joins Rāma). The principal antagonists are Rāvaṇa (king of Laṅkā), Indrajit/Meghanāda (ritual and illusion warfare specialist), and Kumbhakarṇa (colossal champion). Aṅgada and Jāmbavān function as prominent vānaras leaders who stabilize morale and lead assaults.
Yuddhakāṇḍa is the epic’s decisive resolution-phase: it transforms the quest and alliance-building of earlier books into direct confrontation, adjudicating the moral claims established in Araṇya and Kiṣkindhā and operationalized in Sundara through Hanumān’s mission. It also prepares the ethical aftermath addressed in the concluding book (Uttarakāṇḍa), where questions of kingship, public scrutiny, and the costs of restoring order are explored. Structurally, it is the hinge where private suffering (Sītā’s captivity, Rāma’s grief) becomes a public test of sovereignty and dharma.
The book teaches that (1) power without counsel and humility becomes self-destructive; (2) perseverance and clarity can be restored even after catastrophic reversals; (3) righteous leadership includes ethical alliance-making and protection of those who seek refuge; (4) grief is real and voiced, yet duty demands action guided by principle; and (5) adharma ultimately erodes both personal judgment and political stability, leading to downfall despite material strength.
Read Valmiki Ramayana in the Vedapath app
Scan the QR code to open this directly in the app, with audio, word-by-word meanings, and more.