
ऋश्यशृङ्गानयनकथा · The Account of Bringing Ṛśyaśṛṅga (and the Remedy for Drought)
बालकाण्ड
سرگ ۹ میں درباری مشورے کے انداز میں ایک قدیم مقدس نظیر بیان ہوتی ہے۔ سُمنتَر (شاہی سُوت/سارَتھی) تنہائی میں راجا دَشرتھ کو بتاتا ہے کہ اس نے پجاریوں کی تعلیم کے ذریعے ایک پرانی روایت سنی ہے، جسے سنَتکُمار کے رشیوں کے درمیان شاہی اولاد کے موضوع پر کیے گئے وعظ سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس روایت میں رِشیہ شِرِنگ کی گوشہ نشین پرورش کا ذکر ہے—وِبھاندک کے آشرم میں سخت برہماچریہ، ضبطِ نفس اور یَجْنَ و سیوا۔ اسی کے ساتھ اَنگ دیش میں اخلاقی و سیاسی بحران پیدا ہوتا ہے: راجا رُوماپاد کی بدکرداری کے سبب شدید قحط اور خشک سالی آتی ہے۔ وہ ودوان برہمنوں سے پرایشچت اور نِیَم (دینی پابندی) کے ذریعے کفارے کا طریقہ پوچھتا ہے۔ برہمن حکم دیتے ہیں کہ رِشیہ شِرِنگ کو عزت کے ساتھ بلایا جائے اور شانتَا کو رسم کے مطابق نکاح میں پیش کیا جائے۔ وزراء ابتدا میں رشی کے تَیَج سے خوف زدہ ہو کر الزام سے بچنے کی شرطیں طے کرتے ہیں، پھر قابلِ عمل تدبیر بتاتے ہیں۔ انجام کار دلالوں (رقاصاؤں/طوائفوں) کے ذریعے رِشیہ شِرِنگ کو لایا جاتا ہے، بارشیں لوٹ آتی ہیں، شانتَا کا دان ہوتا ہے اور رشی اولاد کا سبب بنتا ہے۔ یہ سن کر دَشرتھ خوش ہو کر سُمنتَر سے درخواست کرتا ہے کہ رِشیہ شِرِنگ کو لانے کی پوری تدبیر مزید تفصیل سے سنائے، تاکہ یہ نظیر اس کے اپنے نسلی مقاصد سے جڑ جائے۔
Verse 1
एतच्छ्रुत्वा रहस्सूतो राजानमिदमब्रवीत् ।ऋत्विग्भिरुपदिष्टोऽयं पुरावृत्तो मया श्रुतः ॥१॥
یہ سن کر سُوت نے خلوت میں راجا سے یوں کہا: “یہی تدبیر پہلے بھی رِتْوِج پجاریوں نے بتائی تھی؛ میں نے اس کا ایک قدیم واقعہ سنا ہے۔”
Verse 2
सनत्कुमारो भगवान्पूर्वं कथितवान्कथाम् ।ऋषीणां सन्निधौ राजन् तव पुत्रागमं प्रति ॥२॥
اے راجن! بھگوان سنَتکُمار نے پہلے ہی رِشیوں کی سبھا میں تمہارے ہاں پُتروں کے آوَن کے بارے میں یہ کتھا سنائی تھی۔
Verse 3
काश्यपस्यतु पुत्रोऽस्ति विभण्डक इति श्रुतः ।ऋष्यशृङ्ग इति ख्यातस्तस्य पुत्रो भविष्यति ॥३॥
کاشیپ کا ایک پُتر ہے جسے وِبھاندک کے نام سے سنا گیا ہے؛ اور کہا گیا کہ اُس کے ہاں ایک پُتر ہوگا جو رِشیَشْرِنگ کے نام سے مشہور ہوگا۔
Verse 4
स वने नित्यसंवृद्धो मुनिर्वनचरस्सदा ।नान्यं जानाति विप्रेन्द्रो नित्यं पित्रनुवर्तनात् ॥४॥
وہ جنگل میں ہی برابر پرورش پاتا رہا، اور سدا بن میں وِہار کرنے والا مُنی تھا؛ برہمنوں میں سرفراز وہ کسی اور کو نہ جانتا تھا، کیونکہ وہ ہمیشہ اپنے پتا ہی کی پیروی کرتا تھا۔
Verse 5
द्वैविध्यं ब्रह्मचर्यस्य भविष्यति महात्मनः ।लोकेषु प्रथितं राजन्विप्रैश्च कथितं सदा ॥५॥
اے راجن! اُس مہاتما کے برہماچریہ کی دوہری ریاضت ہوگی—جو جگت میں مشہور ہے اور وِدوان برہمنوں کے لبوں پر ہمیشہ بیان ہوتی رہتی ہے۔
Verse 6
तस्यैवं वर्तमानस्य कालस्समभिवर्तत ।अग्निं शुश्रूषमाणस्य पितरं च यशस्विनम् ॥६॥
وہ اسی طرح زندگی بسر کرتا رہا تو اس پر زمانہ گزرتا گیا—وہ مقدّس آگنی کی خدمت میں لگا رہتا اور اپنے نامور والد کی بھی دل سے خدمت و اطاعت کرتا تھا۔
Verse 7
एतस्मिन्नेव काले तु रोमपादः प्रतापवान् ।अङ्गेषु प्रथितो राजा भविष्यति महाबलः ॥७॥
اسی زمانے میں رومپاد نامی پرتابی بادشاہ—جو انگ دیش میں مشہور تھا—وہاں عظیم قوت و شجاعت کے ساتھ راج کر رہا تھا۔
Verse 8
तस्य व्यतिक्रमाद्राज्ञो भविष्यति सुदारुणा ।अनावृष्टिस्सुघोरा वै सर्वभूतभयावहा ॥८॥
اگر وہ راجا مر्यادا (دھرم) کی خلاف ورزی کرے تو نہایت ہولناک قحطِ باراں پیدا ہوگا، جو تمام جانداروں کے لیے خوف کا سبب بنے گا۔
Verse 9
अनावृष्ट्यां तु वृत्तायां राजा दुःखसमन्वितः ।ब्राह्मणान्श्रुतवृद्धांश्च समानीय प्रवक्ष्यति ॥९॥
جب قحط و بے بارانی واقع ہو جائے تو راجا غم سے مغلوب ہو کر برہمنوں اور شروت و ودیا سے معزز بزرگوں کو بلا کر اُن سے صلاح و مشورہ کے لیے خطاب کرتا ہے۔
Verse 10
भवन्तश्श्रुतधर्माणो लोकचारित्रवेदिनः ।समादिशन्तु नियमं प्रायश्चित्तं यथा भवेत् ॥१०॥
آپ حضرات شاستروں کے بتائے ہوئے دھرم کے جاننے والے اور دنیا کے دستور سے واقف ہیں۔ مہربانی فرما کر وہ قاعدہ بتائیے جس سے پرایَشْچِت (کفّارہ) پورا ہو سکے۔
Verse 11
वक्ष्यन्ति ते महीपालं ब्राह्मणा वेदपारगाः ।विभण्डकसुतं राजन्सर्वोपायैरिहानय ॥११॥
تب وید پارگت برہمنوں نے مہاراج سے کہا: “اے راجَن، وِبھاندک کے پتر رِشیَشْرِنگ کو ہر تدبیر سے یہاں لے آئیے۔”
Verse 12
आनाय्य च महीपाल ऋश्यशृङ्गं सुसत्कृतम् ।प्रयच्छ कन्यां शान्तां वै विधिना सुसमाहितः ॥१२॥
اے مہاراج! رِشیہ شِرِنگ کو یہاں لا کر اور اس کی خوب تعظیم و تکریم کر کے، پورے ادب و سکونِ دل کے ساتھ، شاستری ودھی کے مطابق اپنی کنیا شانتا کو اس کے ساتھ بیاہ دو۔
Verse 13
तेषां तु वचनं श्रुत्वा राजा चिन्तां प्रपत्स्यते ।केनोपायेन वै शक्य इहानेतुं स वीर्यवान् ॥१३॥
ان کی بات سن کر راجا فکر و اندیشے میں پڑ گیا: “کس تدبیر سے اس پرتابی رشی کو یہاں لایا جا سکتا ہے؟”
Verse 14
ततो राजा विनिश्चित्य सह मन्त्रिभिरात्मवान् ।पुरोहितममात्यांश्च ततः प्रेष्यति सत्कृतान् ॥१४॥
تب دانا راجا نے وزیروں کے ساتھ صلاح کر کے فیصلہ کیا، اور مناسب تعظیم کے بعد، پُروہت اور اماتیہ (مشیران) کو اس کام کے لیے روانہ کیا۔
Verse 15
ते तु राज्ञो वचश्श्रुशृत्वा व्यथिता विनताननाः ।न गच्छेम ऋषेर्भीता अनुनेष्यन्ति तं नृपम् ॥१५॥
مگر راجا کا حکم سن کر وہ گھبرا گئے، چہرے جھک گئے۔ رشی کے خوف سے انہوں نے راجا سے منت کی: “ہم نہیں جائیں گے۔”
Verse 16
वक्ष्यन्ति चिन्तयित्वा ते तस्योपायांश्च तत्क्षमान् ।आनेष्यामो वयं विप्रं न च दोषो भविष्यति ॥१६॥
پھر انہوں نے سوچ بچار کر کے اس مقصد کے مناسب طریقے بتانے کا کہا: “ہم اس برہمن رشی کو لے آئیں گے، اور ہم پر کوئی الزام نہ آئے گا۔”
Verse 17
एवमङ्गाधिपेनैव गणिकाभिः ऋषेस्सुतः ।आनीतोऽवर्षयद्देवश्शान्ता चास्मै प्रदीयते ॥१७॥
یوں انگ دیش کے راجا نے گنیکاؤں کو وسیلہ بنا کر اُس رِشی کے پُتر کو بلوایا؛ تب دیوتا نے بارش برسائی، اور شانتَا اُسے (ویواہ میں) سونپ دی گئی۔
Verse 18
ऋश्यशृङ्गस्तु जामाता पुत्रांस्तव विधास्यति ।सनत्कुमारकथितमेतावद्व्याहृतं मया ॥१८॥
رِشیہ شِرِنگ، جو تمہارا داماد ہوگا، تمہارے لیے پُتر پیدا ہونے کا سبب بنے گا۔ سنَت کُمار نے جو فرمایا تھا، اتنا ہی میں نے بیان کیا ہے۔
Verse 19
अथ हृष्टो दशरथस्सुमन्त्रं प्रत्यभाषत ।यथर्श्यशृङ्गस्त्वानीतो विस्तरेण त्वयोच्यताम् ॥१९॥
پھر خوش ہو کر دشرتھ نے سُمنترا سے کہا: “مجھے تفصیل سے بتاؤ کہ رِشیہ شِرِنگ کو کس تدبیر سے (رومپاد کے دربار میں) لایا گیا تھا۔”
The dilemma is how a ruler should respond when a breach of conduct produces public calamity (drought): the text frames the remedy as accountable consultation with learned authorities and performance of prāyaścitta/niyama, rather than coercive power alone—culminating in the deliberate act of bringing Ṛśyaśṛṅga as a dharmic corrective.
The sarga teaches that personal and political order are interlinked: ascetic integrity (brahmacarya, ritual service) generates moral authority, while kingship must be guided by śāstra-informed counsel; when disorder arises, restoration is pursued through disciplined observance, reverence to the virtuous, and ethically framed decision-making.
Aṅga is highlighted as the political setting for Romapāda’s crisis; the forest hermitage represents the cultural space of ascetic formation; and the court/ritual sphere is marked by institutions like ṛtviks, Vedic Brahmins, Agni-worship, prāyaścitta, and marriage as a formal dharmic rite (Śāntā’s offering).
Answers come straight from the texts, with the shlokas they draw on. Ask in your own words.
A free sign-in with Google or Apple keeps your chat saved across web and the app.