Dvitiya Pada
Sṛṣṭi-pralaya-kathana: Mahābhūta-guṇāḥ, Vṛkṣa-indriya-vādaḥ, Prāṇa-vāyu-vyavasthā
نارد سَنَندَن سے تخلیق کا سرچشمہ، پرلے (فنا) کا ٹھکانہ، جیووں کی پیدائش، ورن-تقسیم، پاکی و ناپاکی، دھرم و اَدھرم، آتما کی حقیقت اور موت کے بعد کی گتی پوچھتے ہیں۔ سَنَندَن قدیم اِتیہاس کے ذریعے بتاتے ہیں کہ بھردواج رِشی بھِرگو سے سنسار و موکش کا بھید اور اس نرائن کے گیان کے بارے میں سوال کرتے ہیں جو پوجیہ بھی ہے اور اندرونی پوجک (انتر یامی) بھی۔ بھِرگو اَویَکت پرمیشور سے مہت کی اُپتی، تتووں کا وکاس، تیزومَے کنول، اس سے برہما کا پرادُربھاو اور وشودیہ کی نقشہ بندی بیان کرتے ہیں۔ پھر پرتھوی، سمندر، اندھیرا، جل، اگنی، رساتل وغیرہ کی حدیں و پیمائشیں زیرِ بحث آتی ہیں؛ پرماتما اَپرِمَی ہونے سے ‘اَنَنت’ کہلاتے ہیں اور تتودرشَن میں بھوتوں کے بھید مٹ جاتے ہیں۔ من-سنکلپ سے سِرشٹی، جل و پران کی پرادھانتا، اور خاص ترتیب—جل سے وایو، پھر اگنی، پھر گھنی بھون سے پرتھوی—سمجھائی گئی ہے۔ پنچ مہابھوت و پنچ اِندریوں کا رشتہ اور درختوں میں بھی چیتنا (سننا، لمس/حرارت پر ردِعمل، سکھ-دکھ کا احساس) کا دفاع ملتا ہے۔ آخر میں دھاتُؤں میں تتو-نیاس، پانچ وایو (پران، اپان، ویان، اُدان، سمان)، ناڑیاں، جٹھراگنی اور یوگ مارگ سے سر کے شِکھر/برہمرَندھر تک گتی بیان ہوتی ہے۔
Jīva–Ātman Inquiry; Kṣetrajña Doctrine; Karma-based Varṇa; Four Āśramas and Sannyāsa Discipline
بھردواج شک کرتا ہے کہ اگر پران (وایو) اور بدن کی حرارت (اگنی/تیجس) ہی زندگی کی وجہ ہیں تو جدا ‘جیوا’ کی کیا ضرورت؟ سنندن کے قصے کے بعد بھِرگو جواب دیتا ہے کہ پران وغیرہ جسمانی افعال ہیں، آتما نہیں؛ سَتھول بدن پانچ بھوتوں میں مل جاتا ہے مگر دہی کرم کے مطابق جنم-مرن میں بھٹکتا رہتا ہے۔ جیوا کی پہچان پوچھنے پر بھِرگو اندرونی جاننے والے، حواس کے موضوعات کے ادراک کرنے والے، سکھ-دکھ کے بھوگتا ‘کشیترجْن’—انترْیامی ہری—کو بتاتا ہے اور ستّو-رج-تم گُنوں سے جیوا کی بندھی حالتیں سمجھاتا ہے۔ پھر بتایا جاتا ہے کہ ورن کا فرق پیدائشی نہیں بلکہ کرم اور آچرن پر مبنی ہے؛ برہمن، کشتری، ویش، شودر کی شناخت اخلاق اور ضبطِ نفس سے ہے۔ لالچ و غصّے کا نگہداشت، سچ، رحم، ویراغیہ موکش دھرم کے سہارے ہیں۔ آخر میں چار آشرم—برہماچریہ، گرہستھ، وانپرستھ، سنیاس—کے فرائض، مہمان نوازی، اہنسا اور سنیاسی کے باطنی اگنی ہوترا سے برہملوک کی پرابتھی تک کا بیان آتا ہے۔
Uttaraloka (Northern Higher World), Dharma–Adharma Viveka, and Adhyatma-Prashna (Prelude)
بھاردواج نے حواس سے ماورا ‘پرلوک’ کے بارے میں سوال کیا۔ مِرگو/بھِرگو ہمالیہ کے پار شمال میں ایک مقدس خطّے کا بیان کرتے ہیں—محفوظ، آرزوئیں پوری کرنے والا، بےگناہ اور بےطمع لوگوں سے آباد؛ جہاں بیماری نہیں ستاتی اور موت بھی مقررہ وقت پر ہی آتی ہے۔ وہاں دھرم کی نشانیاں—پتی ورتا کی نِشٹھا، اہنسا، اور دولت سے بےرغبتی—نمایاں کی گئیں۔ پھر اس دنیا کی ناہمواری اور دکھ (مشقت، خوف، بھوک، فریبِ نظر) کو کرم کے قانون سے جوڑا گیا—یہ جگت کرم-کشیتر ہے؛ اعمال پھل بن کر مناسب گتی دیتے ہیں۔ فریب، چوری، بدگوئی، کینہ، تشدد، جھوٹ وغیرہ تپسیا کو گھٹاتے ہیں؛ ملا جلا دھرم-ادھرم بےچینی پیدا کرتا ہے۔ پرجاپتی، دیوتا اور رشی پاک تپسیا سے برہملوک پاتے ہیں؛ گرو سیوا میں منضبط برہمچاری لوکوں کے راستے کو سمجھتے ہیں۔ آخر میں دھرم و ادھرم کی تمیز ہی کو گیان کہا گیا اور بھاردواج نے ادھیاتم پر نیا سوال شروع کیا—سِرشٹی و پرلے سے وابستہ، اعلیٰ بھلائی اور سکھ دینے والا گیان۔
Janaka’s Quest for Liberation; Pañcaśikha’s Sāṅkhya on Renunciation, Elements, Guṇas, and the Deathless State
سوت کہتے ہیں—سنندَن کے مُکتی بخش دھرم کو سن کر نارَد پھر ادھیاتم کی تعلیم مانگتے ہیں۔ سنندَن ایک قدیم حکایت سناتے ہیں—مِتھلا کے راجا جنک بہت سے استادوں کے مناظروں اور مرنے کے بعد کے کرم کانڈ کی باتوں میں گھرے رہتے ہوئے بھی آتما-تتّو کے سچ پر ثابت قدم تھے۔ کپل کی پرمپرا میں آسُری کے ذریعے منسلک، کامل ویراغیہ والے سانکھْی رِشی پنچشکھ مِتھلا آتے ہیں۔ جنک کئی آچاریوں کو واد میں لاجواب کرتے ہیں، مگر پنچشکھ کی طرف مائل ہو کر ‘پرم شریہ’ کے طور پر سانکھْی موکش سنتے ہیں—ورن-ابھیمان سے اوپر اٹھنا، کرم-آسکتی گھٹانا، اور آخرکار مکمل بےرغبتی۔ وعظ میں ناپائیدار پھل کی لالسا پر تنقید، پرمان (پرتیکش، شروتی، سدھانْت) کی توضیح، مادّی/ناستک نظریات کی تردید اور آتما و پُنرجنم کی الجھن دور کی جاتی ہے۔ جنک سوال کرتے ہیں کہ اگر موت پر آگہی ختم ہو جائے تو گیان کا فائدہ کیا؛ پنچشکھ پانچ مہابھوت، گیان-تریہ، اندریاں، بدھی اور گُنوں کا تجزیہ کر کے بتاتے ہیں کہ وِہِت کرم کا سار سنّیاس ہے، اور یہی بےنشان، بےغم ‘امرت اوستھا’ تک لے جاتا ہے۔ آخر میں شہر میں آگ لگنے پر جنک کا مشہور قول آتا ہے—“میرا کچھ بھی نہیں جلتا۔”
Threefold Suffering, Twofold Knowledge, and the Definition of Bhagavān (Vāsudeva); Prelude to Keśidhvaja–Janaka Yoga
سوت بیان کرتے ہیں کہ میتھلا میں آتما-اُپدیش کے بعد نارَد محبت سے سنندن سے پوچھتے ہیں: تین طرح کے دکھوں سے کیسے بچا جائے؟ سنندن کہتے ہیں کہ جسمانی زندگی رحم سے بڑھاپے تک آدھیاتمک، آدھیبھوتک اور آدھیदैوک کلیشوں سے نشان زد ہے؛ اس کا اعلیٰ علاج بھگوان کی پرابتि ہے—وہ خالص آنند ہے جو اضطراب سے پرے ہے۔ سادھن دو ہیں: گیان اور ابھیاس؛ گیان بھی دو قسم کا ہے—آگم سے ملا شبد-برہمن اور وِویک سے ملا پر-برہمن، جس کی تائید اتھروَن شروتی کے پرا-اپرا ودیا کے نمونے سے ہوتی ہے۔ باب میں ‘بھگوان’ کا مفہوم اَکشر پرم پرُش بتایا گیا ہے؛ ‘بھگ’ چھ اوصافِ کمال—اقتدار، قوت، شہرت، دولت/شری، علم، بےرغبتی—اور ‘بھگوان’ کا درست اطلاق واسو دیو پر ہی ثابت کیا گیا ہے۔ یوگ کو کلیشوں کا واحد ناسک کہا گیا ہے۔ پھر کیشِدھوج–کھانڈِکیہ (جنک) کی کہانی کا آغاز ہوتا ہے: راجیہ-تنازعہ پرایَشچت، گرو-دکشِنا اور اناتما میں ‘میں’ اور ‘میرا’ والی اوِدیا کی تعلیم کا سبب بنتا ہے، اور انجام کار یوگ و آتما-گیان کی طرف رجوع ہوتا ہے۔
योगस्वरूप-धारणा-समाधि-वर्णनम् (केशिध्वजोपदेशः)
سنندَن بیان کرتے ہیں کہ نِمی کے خاندان میں یوگ کے معتبر عالم کے طور پر مشہور راجا کیشِدھوج نے راجا کھانڈِکْیَ کو یوگ کی حقیقت سمجھائی۔ یوگ یہ ہے کہ من کو ارادۃً برہمن کے ساتھ جوڑا جائے؛ حِسّی موضوعات میں لَگاہوا من بندھن کا سبب ہے اور ان سے ہٹا ہوا من موکش کا سبب۔ مرحلہ وار یم اور نیَم (پانچ پانچ)، پھر پرانایام (سبیج/ابیج) اور پرتیاہار، اس کے بعد شُبھ آلمبن پر دھارَنا۔ آلمبن اعلیٰ/ادنیٰ، ساکار/نِراکار ہوتے ہیں؛ بھاونا تین—برہمن مُخی، کرم مُخی اور مِشر۔ نِراکار کو یوگ کی ریاضت کے بغیر پکڑنا دشوار ہے، اس لیے یوگی ہری کے ساکار روپ اور وِشورُوپ کا دھیان کرتا ہے جس میں کائناتی مراتب اور سبھی جیو شامل ہیں۔ دھارَنا پختہ ہو کر سمادھی بنتی ہے اور جب بھید-گیان مٹتا ہے تو پرماتما سے اَبھیدتا حاصل ہوتی ہے۔ کھانڈِکْیَ نے بیٹے کو راج دے کر تیاگ کیا اور وِشنو میں لَین ہوا؛ کیشِدھوج نے نِشکام کرم سے کرم جلا کر تِرِتاپ سے آزادی پائی۔
Bharata’s Attachment and the Palanquin Teaching on ‘I’ and ‘Mine’
نارد اعتراف کرتا ہے کہ تین طرح کے دکھوں کے علاج سن کر بھی اس کا من بےقرار ہے، اور وہ پوچھتا ہے کہ بدکار لوگوں کی ذلت آمیز باتیں اور ظلم کیسے سہے جائیں۔ سوت سنندَن کا ذکر کرتا ہے۔ سنندَن قدیم حکایت میں رِشبھ کے وَنشج راجا بھرت کی کہانی سناتا ہے—بھرت دھرم کے ساتھ راج کرتا ہے، ادھوکشج واسودیو کی بھکتی کرتا ہے، پھر شالگرام میں سنیاس لے کر نِتّیہ پوجا، ورت اور نیَم میں رہتا ہے۔ خوف سے ایک حاملہ ہرنی کا حمل ضائع ہوتا ہے؛ بھرت بچے کو بچا کر اس سے دلبستہ ہو جاتا ہے اور مرتے وقت اسی کا دھیان ہونے سے ہرن کی یَونی میں جنم لیتا ہے۔ پچھلے جنم کی یاد کے ساتھ شالگرام لوٹ کر پرایشچت کرتا ہے اور گیان یُکت برہمن کے روپ میں دوبارہ جنم پاتا ہے۔ وہ جڑ سا بھیس بنا کر عوام کی تحقیر سہتا ہے اور سوویر کے راجا سے پالکی اٹھانے پر مجبور ہوتا ہے۔ جب راجا ناہموار اٹھانے کی شکایت کرتا ہے تو وہ کرتَرتو اور دےہ-अبھیمان پر گہرا سوال اٹھاتا ہے—بوجھ جسم کے اعضا اور زمین پر ہے؛ طاقت و کمزوری ثانوی ہیں؛ سب جیو کرم کے مطابق گُنوں کے بہاؤ میں چلتے ہیں؛ آتما پاک، بےتبدیل اور پرکرتی سے پرے ہے؛ ‘راجا’ اور ‘بردار’ جیسے نام محض تصوری تعینات ہیں؛ اس لیے ‘میں’ اور ‘میرا’ کا وہم تتّو وچار سے ٹوٹ جاتا ہے۔
Śreyas and Paramārtha: The Ribhu–Nidāgha Teaching on Non-Dual Self (Advaita)
سنندَن بیان کرتے ہیں کہ امتیازی تعلیم سن کر بادشاہ پھر ‘اعلیٰ ترین خیر’ کے بارے میں پوچھتا ہے۔ اسے سمجھایا جاتا ہے کہ فاعلیت کرم سے محرَّک گُنوں کی ہے، آتما کی نہیں۔ برہمن-گرو شریَس کی نئی توضیح کرتے ہیں—دولت، بیٹے، سلطنت جیسے دنیوی مقاصد ثانوی ہیں؛ پرماتما سے یگانگت اور ثابت قدم آتما-دھیان ہی حقیقی شریَس ہے۔ مٹی اور گھڑے کی مثال سے بتایا کہ ایندھن، گھی، کُشا وغیرہ فنا پذیر سامان پر قائم یَجْن کرم فنا پذیر ہے؛ پرمارَتھ اَکْشَی ہے، بنایا ہوا نتیجہ نہیں—آتما-گیان ہی وسیلہ بھی ہے اور منزل بھی۔ پھر رِبھُو–نِداغھ کا قصہ آتا ہے: مہمان نوازی اور کھانے کے سوال بھوک پیاس سے اپنی شناخت کی نفی کا دروازہ بنتے ہیں؛ رہائش و سفر کے سوال سَروَویَاپی پُرُش پر لاگو نہیں ہوتے۔ دوسری ملاقات میں راجا–ہاتھی کی درجہ بندی سے ‘اوپر-نیچے’ کے فرق کی ساختگی کھلتی ہے۔ نِداغھ رِبھُو کو گرو مانتا ہے؛ نتیجہ—کائنات اکھنڈ ہے اور واسودیو کی ہی فطرت ہے۔ بھید-بدھی چھوڑ کر بادشاہ بیدار یاد اور اَدویت درشن سے جیون مُکتی پاتا ہے۔
Anūcāna (True Learning), the Vedāṅgas, and Śikṣā: Svara, Sāmavedic Chant, and Gandharva Theory
سوت بیان کرتے ہیں کہ سنندَن کا وعظ سننے کے بعد بھی نارَد جی کی بے قراری باقی رہتی ہے۔ وہ شُک دیو کے طفلانہ مگر غیر معمولی ویراغیہ اور گیان-سِدھی کے بارے میں پوچھتے ہیں، جو گویا بزرگوں کی خدمت کی معمول کی شرط کے بغیر حاصل ہوئی۔ سنندَن ‘عظمت’ کو عمر یا سماجی نشانیاں نہیں بلکہ سچی ودیا (اَنُوچان) قرار دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ حقیقی علم استاد کے قرب میں ضابطہ بند مطالعہ سے پیدا ہوتا ہے، بے شمار کتابیں پڑھ لینے سے نہیں۔ وہ چھ ویدانگ اور چار ویدوں کا ذکر کرتے ہیں۔ پھر باب ‘شِکشا’ میں سُوَر (لہجہ/آہنگِ تلفظ) کی برتری، گان کے اقسام، سُوَر کی تبدیلیاں، اور غلط سُوَر یا ہجا بندی سے ہونے والی تباہی—اِندر-شترُو کے واقعے سے—واضح کی جاتی ہے۔ آگے سام ویدی گائیکی اور گاندھرو سنگیت کی باریکیاں—سُوَر، گرام، مُورچھنا، راگ، آواز کی خوبیاں و عیوب، ذوق، سُوَروں کے رنگی نسبتیں، اور سام وید کے سُوَروں کا موسیقیاتی اصطلاحات سے تطابق—بیان ہو کر آخر میں جانوروں اور پرندوں کی آوازوں سے سُوَروں کی فطری مماثلت دکھائی جاتی ہے۔
Kalpa-Lakṣaṇa and Gṛhya-Kalpa: Classifications, Purifications, Implements, and Spatial Rite-Design
نارد جی رشیوں کو کَلپ کو وید کا “طریقۂ عمل” بتا کر اس کی اقسام سمجھاتے ہیں: نکشتر-کَلپ (نکشتر دیوتا)، آنگِرس-کَلپ (شٹ کرم/اَبھچار اعمال)، اور شانتی-کَلپ (دیوی، زمینی اور فضائی شگونِ بد کا شمن)۔ پھر گِرہیہ-کَلپ میں گھریلو یَجْیَ کی عملی ہدایات آتی ہیں: اومکار اور مبارک الفاظ کی اوّلیت؛ کُش/دَربھ کا درست جمع و استعمال؛ اہنسا کی حفاظت (پری-سموہن)؛ گوبر کے لیپ اور پانی کے چھڑکاؤ سے تطہیر؛ آگ لانا اور اس کی پرتِشٹھا؛ جگہ کی حفاظتی ترتیب (جنوب میں خطرہ؛ برہما کی स्थापना؛ برتن شمال/مغرب میں؛ یجمان مشرق رُخ)؛ معاونین کا انتخاب (اپنی شاخا کے دو برہمچاری؛ پجاری دستیابی کے مطابق)؛ اور انگل کی پیمائش سے انگوٹھی، سُرو، پیالے، فاصلے اور “بھرا ہوا برتن” کے معیار۔ آخر میں اوزاروں کی دیوتائی معنویت (سُرو میں چھ دیوتا) اور آہوتیوں کے جسمانی ربط کو بیان کر کے کرم کو کائناتی معنی سے جوڑا گیا ہے۔
Vyākaraṇa-saṅgraha: Pada–Vibhakti–Kāraka–Lakāra–Samāsa
سنندَن نارَد کو وید کی تفسیر کے ‘منہ’ کی مانند ویاکرن کا مختصر نصاب سناتے ہیں۔ وہ سُپ/تِنگ-پرَتیَیَانت کو ‘پَد’ اور ‘پراتیپَدِک’ کی تعریف بیان کرتے ہیں؛ سات وِبھکتیوں کا کارکوں سے ربط (کرم، کرن، سمپردان، اپادان، سمبندھ/ششٹھی، ادھیکرن) واضح کرتے ہیں اور حفاظت کے سیاق میں اپادان کے خاص استعمال، نیز اَویَیوں کے سبب دُوِتییا/پنچمی کے حکم میں فرق جیسے استثنا بھی بتاتے ہیں۔ ‘اُپ’ وغیرہ اُپسرگوں کے معانی اور نمَہ، سوَستی، سوَاہا وغیرہ کے ساتھ چَتُرتھی کے استعمال کا ذکر آتا ہے۔ پھر فعلی نظام میں پُرُش، پرسمَیپَد/آتمنےپَد، دس لَکاروں کے استعمال (ما سْم + لُنگ، دعائیہ میں لوٹ/لِنگ، بعید ماضی میں لِٹ، مستقبل میں لِرُٹ/لِرُنگ)، گَڻ، اور ںِج، سَنّنَنت، یَنگ-لُک وغیرہ اشتقاقی عمل، نیز فاعلیت اور سَکرمک/اَکرمک بھاؤ پر گفتگو ہوتی ہے۔ آخر میں سَماس کی اقسام (اَویَیی بھاو، تتپُرُش، کرم دھارَیَ، بہُووریہی)، تَدھّت لاحقے اور لفظی فہرستیں دے کر یہ نتیجہ بتایا جاتا ہے کہ رام–کرشن جیسے مرکب دیویہ ناموں میں ایک ہی برہمن کی ایک ہی بھکتی-پوجا کی وحدت ہے۔
Nirukta, Phonetic Variants, and Vedic Dhātu–Svara Taxonomy
اس باب میں سنندَن نارد کو نِرُکت (ویدانگ) کی تعلیم دیتے ہیں جو دھاتُوؤں اور لفظ سازی پر قائم ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ زائد ہجّے، حروف کی الٹ پھیر، بگاڑ اور حذف جیسی ظاہری ‘خرابیاں’ معتبر نحوی/ویّاکرنی عملیات سے کیسے سمجھی جاتی ہیں، اور ہنس/سِمْہ جیسے نمونے پیش کرتے ہیں۔ سَمیوگ، پْلُت سُروں، ناسیكی/اَنُسوار اور چھند کی شہادت کے ساتھ تلاوت کی روایت بیان ہوتی ہے؛ باہُلَک (رائج استعمال) اور واجسنیی شاخہ کے مخصوص صیغے بھی معتبر ٹھہرتے ہیں۔ پھر پَرَسمَیپَد اور آتمنےپَد کی تقسیم، گن/طبقوں کی فہرست، اُداتّ، اَنُداتّ، سْوَرِت کے قواعد، دھاتُوؤں کی فہرستیں اور اِت، کِٹ، ڻِ، ٹونگ وغیرہ علامات کی گہری فنی بحث آتی ہے۔ اختتام میں زور دیا گیا ہے کہ صحیح تلاوت اور پرکرتی-پرتیہ، آدیش، لوپ، آگم کے تجزیے سے ہی صیغوں اور لغت کا درست تعین ہوتا ہے، اگرچہ یہ فن عملی طور پر بے کنار ہے۔
Jyotiṣa-śāstra Saṅgraha: Threefold Division, Gaṇita Methods, Muhūrta, and Planetary Reckoning
سنندَن نارَد سے بیان کرتے ہیں کہ جَیوتِش برہما کی عطا کردہ ودیا ہے جو دھرم کے کاموں میں کامیابی بخشتی ہے۔ وہ اس کے تین شعبے—گنِت، جاتک، سمہِتا—بتا کر گنِت میں عملیات، سیّاروں کی درست حالتیں، گرہن، جذر، کسر، ترَیراشِک، زمین و دائرہ کی ہندسہ، جیا و تریجیا کے حساب اور شَنکو (گنومَن) سے سمتوں کی تعیین کا ذکر کرتے ہیں۔ یُگ و منونتر کے پیمانے، مہینے و ہفتہ کے دن، ادھِک ماس، تِتھی-کشیہ/آیام اور یوگ-گننا کے ذریعے پنچانگ سے ربط واضح ہوتا ہے۔ سمہِتا و مُہورت میں شگون و نِمِت، گربھادھان سے اُپنَین تک سنسکار، سفر و گھر کے اشارے، سنکرانتی، گوچر، چندر بل اور راہو وغیرہ انتخابی عوامل آتے ہیں۔ آخر میں جیا، کرانتی، پات، یُتی-کال اور گرہن کی پیمائش کے طریقے بتا کر راشی-سنجھا اور مفصل جاتک کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں۔
Jyotiṣa-saṅgraha: Varga-vibhāga, Bala-nirṇaya, Garbha-phala, Āyuḥ-gaṇanā
اس باب میں سنندَن مُنی نارَد کو علمِ جَیوتِش کا گہرا خلاصہ سکھاتے ہیں۔ ابتدا زمانے کے ‘اعضا’ کی کائناتی ترتیب سے ہوتی ہے، پھر بروج کی حاکمیت اور ہورا، دریشکان، پنچانش، ترِمشاںش، نوامش، دوادشامش وغیرہ تقسیمات بیان کر کے شَڈوَرگ کو تعبیرِ نتائج کی بنیاد ٹھہرایا جاتا ہے۔ بروج کو دن/رات کے طلوع، جنس، متحرک/ثابت/اُبھَی، اور جہتی مقام کے لحاظ سے بانٹا جاتا ہے؛ اور گھروں کو کیندر، پَنَفَر، آپوکلِم؛ تِرِک اور رِہف جیسے گروہوں میں رکھ کر مقام سے قوت، انحصار یا زوال کے اشارے بتائے جاتے ہیں۔ سیاروں کی علامتیں رنگ، مزاج، طبقاتی سرپرستی اور دربار کے مناصب (بادشاہ/وزیر/سپہ سالار) کے ذریعے دی جاتی ہیں، نیز ستھان، دِگ، چیشٹا اور کال-بل کے اصول بیان ہوتے ہیں۔ پھر حمل و ولادت کے شگون، بچے کی جنس، جڑواں کے آثار، جنینی عیوب اور ماں کے خطرے کے یوگ آتے ہیں۔ آخر میں عمر کے تعین میں یوگج، پَیند اور نِسَرگ اقسام کے ساتھ سال/مہینہ/دن کی حسابی ترکیب اور عمر کو خطرہ ہو تو شانتی-سنسکار جیسے دھارمی علاج بتا کر پیش گوئی کو دھرمی جواب سے جوڑا جاتا ہے۔
Graha–Ketu–Utpāta Lakṣaṇas: Solar/Lunar Omens, Comets, Eclipses, and Calendar Rules
اس ادھیائے میں سنندن رشی/راجہ کو سورج، چاند، سیّاروں اور کیتو (دُم دار/شہابی) کے ذریعے زمانہ شناسی اور شُبھ اَشُبھ نِمِتّ پڑھنے کی تعلیم دیتے ہیں۔ چَیتر سے سنکرانتیوں کی ترتیب، چَیتر-شُکل پرتیپدا کے وار کی برتری اور گرہوں کی سعد و نحس درجہ بندی بیان ہوتی ہے۔ سورج کے شگونوں میں قرص کی صورتیں، دھوئیں کے تودے، ہالہ/پریویش، موسم کے مطابق غیر معمولی رنگ اور ان کے نتائج—جنگ، راجہ کی موت، بے بارانی، قحط، وبا—جوڑے گئے ہیں۔ چاند کے شگونوں میں ‘سینگ’ کی حالت، الٹا طلوع، جنوبی گام نَکشتر کا دَوش، اور ‘گھٹوشن’ وغیرہ نشانیاں برج و ہتھیار کی علامتوں سے مربوط کی گئی ہیں۔ مریخ و عطارد کی رجعت/طلوع کی حالتیں نَکشتر کے مطابق بارش، فصل، پیشوں اور عوامی سلامتی پر اثر ڈالتی ہیں؛ مشتری کا رجعتی رنگ اور دن میں دکھائی دینا بحران کی علامت کہا گیا ہے۔ زہرہ کی وِیتھیکاؤں میں حرکت و قران کے قواعد، اور زحل کا بعض نَکشتر میں گزر مفید بتایا گیا ہے۔ پھر کیتو کی اقسام—دُم کی لمبائی، رنگ، شکل، سمت—اور ان کے نتائج منظم کیے گئے ہیں۔ آخر میں نو وقت پیمانے، سفر/نکاح/ورت وغیرہ کے انتخابی اصول، ساٹھ سالہ مشتری چکر اور یُگ کے حاکم، اترائن/دکشنائن میں اعمال کی موزونیت، مہینوں کے نام، تِتھی کی قسمیں (نندا/بھدرا/جیا/رِکتا/پُورنا)، دْوِپُشکر وغیرہ دَوش-شانتि، اور سنسکار و زراعت کے لیے نَکشتر کی درجہ بندی دی گئی ہے۔
Chandas: Varṇa-gaṇas, Guru-Laghu, Vṛtta-bheda, and Prastāra Procedures
اس باب میں سنندَن نارد جی کو علمِ عروض (چھندہ شاستر) کی تعلیم دیتے ہیں۔ وہ چھندوں کو ویدک اور لوکک میں تقسیم کرکے، ماترا (مقدار) اور ورن (ہجائی نقش) کے اعتبار سے تجزیے کا فرق بیان کرتے ہیں۔ م، ی، ر، س، ت، ج، بھ، ن—گن کے اشارات اور گرو-لگھو کے قواعد واضح کیے جاتے ہیں؛ مرکب حروف، وِسَرگ اور اَنُسوار سے ہجے کا وزن (گروتوا) کیسے بدلتا ہے یہ بھی بتایا جاتا ہے۔ پاد (ربع) اور یتی (وقفہ) کی تعریف کرکے پادوں کی برابری کے مطابق سم، اردھ سم اور وِشم ورتّوں کی قسمیں بیان ہوتی ہیں۔ 1 سے 26 ہجوں تک پادوں کی گنتی، دَندک کی اقسام، اور گایتری سے اَتی جگتی تک نمایاں ویدک چھندوں کا ذکر آتا ہے۔ آخر میں پرستار (ترتیبی ترکیبیں)، نَشٹانک کی بازیافت، اُدِّشٹ طریقہ اور سنکھیا/اَدھون کی گنتی سمجھا کر انہیں ویدک چھندوں کی علامتیں قرار دیا جاتا ہے اور آئندہ مزید نامی تقسیمات بتانے کا وعدہ کیا جاتا ہے۔
Śuka’s Origin, Mastery of Śāstra, and Testing at Janaka’s Court
نارد نے سنندَن سے شُک کی پیدائش کا حال پوچھا۔ سنندَن نے بیان کیا کہ کوہِ مِیرو کے کرنیکار ون میں ویاس نے سخت تپسیا کی؛ وہاں مہادیو اپنے دیویہ گنوں سمیت پرگٹ ہوئے اور شُدھتا اور برہمتَیج کا ور دیا۔ ارَنیوں سے آگ مَتھن کرتے وقت گھرتاچی اپسرا طوطے کی صورت اختیار کر کے پل بھر ویاس کے چِت کو ڈگمگاتی ہے، اور ارَنی کے سمبندھ سے ہی دیپتمان شُک جنم لیتا ہے—جو پیدائش ہی سے وید-گیان سے یُکت تھا۔ دیوتاؤں نے اُتسو منایا؛ شُک کو دیکشا اور دیویہ درشن ملا۔ اس نے وید، ویدانگ، اتیہاس، یوگ اور سانکھیہ کا ادھیَن کیا۔ موکش کے آخری نِشچَے کے لیے ویاس نے اسے راجا جنک کے پاس بھیجا اور راہ میں شکتی-پردرشن اور اَہنکار سے بچنے کی نصیحت کی۔ مِتھلا میں محل کی مہمان نوازی اور طوائفوں کی آزمائش کے باوجود شُک دھیان میں مستغرق رہا، سندھیا کرتا رہا اور سمبھاؤ (سمتا) قائم رکھا۔
Janaka Instructs Śuka: Āśrama-Sequence, Guru-Dependence, and Marks of Liberation
سنندَن ایک شاہی تعلیم کا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ راجہ جنک شُک دیو کو اَर्घ्य‑پادya، آسن‑دان، گَو‑دان اور منتر‑پوجا سے پورا احترام دے کر مقصد پوچھتے ہیں۔ شُک، ویاس کی آج्ञا سے آئے ہیں—پروِرتّی و نِوِرتّی، برہمن کا دھرم، موکش کا سوروپ، اور کیا نجات گیان اور/یا تپسیا سے ہوتی ہے—اس کا فیصلہ چاہتے ہیں۔ جنک ترتیب سے بتاتے ہیں: اُپنَین کے بعد برہماچریہ میں وید اَدھیَین، تپس اور نِیَم؛ گرو کی اجازت سے سَماورتن کر کے گِرہستھ آشرم میں اگنی دھارن کے ساتھ یَجْن کرم؛ پھر وانپرستھ؛ آخر میں اگنیوں کو اندر سمیٹ کر برہماشرم/سنیاس میں آسنکتی اور دُوَند سے رہت ہونا۔ گرو‑سنگ کی ناگزیریت پر جنک کہتے ہیں—گیان کشتی ہے اور گرو پار لگانے والا؛ منزل ملنے پر وسیلے چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ کئی جنموں کے پُنّیہ سے جلد موکش کی گنجائش اور یَیاتی کے موکش شلوک—باطنی نور، بےخوفی، اہنسا، سَمَتا، اندریہ‑نِگرہ، شُدھ بُدھی—آتے ہیں۔ جنک شُک کی پختہ ویراغیہ حالت پہچانتے ہیں؛ شُک آتم‑درشن میں استھِر ہو کر شمال کی سمت ویاس کے پاس لوٹتے ہیں، یہ مکالمہ سناتے ہیں، اور ویدک شِشْیہ پرمپرہ و کرم‑سیوا جاری رکھتے ہیں۔
Anadhyaya and the Winds: From Vedic Recitation Protocol to Sanatkumara’s Moksha-Upadesha
سنندَن بیان کرتے ہیں—ویاس جی شُک کے ساتھ دھیان میں بیٹھے؛ ایک بےجسم آواز نے برہما-شبد کی بحالی کے لیے ویدک سوادھیائے کی ترغیب دی۔ طویل تلاوت کے دوران سخت آندھی اٹھی تو ویاس نے اَنَڌیائے (پाठ کی معطلی) کا اعلان کیا۔ شُک کے سوال پر ویاس دیو-پتھ اور پِتر-پتھ کی میلانیں، اور مختلف ہواؤں/پرانوں کے کائناتی کام (بادل بننا، بارش کی ترسیل، اجرامِ نورانی کا طلوع، پرانوں کی حکمرانی، اور پریواہ کی موت کو آگے بڑھانے والی قوت) گنواتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ تیز ہوا میں وید-پाठ کیوں ممنوع ہے، پھر دیویہ گنگا کو روانہ ہو کر شُک کو سوادھیائے میں لگاتے ہیں۔ شُک سوادھیائے جاری رکھتا ہے؛ تب سنَتکُمار تنہائی میں آ کر موکش-دھرم کی تعلیم دیتے ہیں—گیان سب سے اعلیٰ، لگاؤ کے مقابلے ویراغیہ، اہنسا-دیا-کشما، کام و کرودھ پر ضبط، اور بندھن کی تمثیلیں (ریشم کے کیڑے کا کوکون، ویویک کی کشتی)۔ آخر میں کرم-سنسار کا تجزیہ اور سَیَم و نِورتّی سے نجات بیان ہوتی ہے۔
Śokanivāraṇa: Non-brooding, Impermanence, Contentment, and Śuka’s Renunciation
سنتکمار شوق کے ازالے کی عملی موکش دھرم کی تعلیم دیتے ہیں—روزمرہ کے سکھ دُکھ موہ میں پڑے ہوئے کو جکڑ لیتے ہیں، مگر گیانی ثابت قدم رہتا ہے۔ غم کی جڑ آسکتی ہے: گزرے ہوئے موضوعات پر بار بار سوچنا، جہاں لگاؤ ہو وہاں عیب جوئی، اور نقصان و موت پر مسلسل نوحہ۔ علاج یہ ہے کہ جان بوجھ کر غیرضروری غوروفکر ترک کیا جائے، ذہنی غم (جو گیان سے دور ہو) اور جسمانی بیماری (جو دوا سے قابلِ علاج ہو) میں فرق رکھا جائے، اور زندگی، جوانی، دولت، صحت، رفاقت کی ناپائیداری پر صاف دھیان کیا جائے۔ پھر کرم کی حقیقت بیان ہوتی ہے—نتائج یکساں نہیں، کوشش کی حد ہے، اور کال، بیماری، موت سب کو بہا لے جاتے ہیں؛ اس لیے قناعت ہی سچی دولت ہے۔ حواس پر ضبط، لتوں سے آزادی، تعریف و ملامت میں برابری، اور اپنے سوا بھاؤ کے مطابق ثابت قدم کوشش کی ہدایت ہے۔ آخر میں سنتکمار رخصت ہوتے ہیں؛ شُک سمجھ کر ویاس کے پاس جاتا ہے اور کیلاش کو روانہ ہو جاتا ہے؛ ویاس کا غم تعلیم کو نمایاں کرتا ہے اور شُک کی خودمختاری مکتی کی مثال بنتی ہے۔
Śuka’s Yoga-ascent, the Echo of ‘Bhoḥ’, and the Vaikuṇṭha Vision
سوت بیان کرتے ہیں کہ مطمئن ہونے کے باوجود جستجو رکھنے والے نارَد شُک کے مانند برہماَنुभوति پانے والے برہمن رِشی سے پوچھتے ہیں کہ موکش-پرायण آزاد ہستیاں کہاں قیام کرتی ہیں۔ رِشی شُکدیَو کی نجات کا نمونہ واقعہ سناتے ہیں: شاستر کے حکم سے استقامت اختیار کر کے شُک کرم-یوگ کے ذریعے باطنی شعور کو مرحلہ وار قائم کرتے ہیں، کامل سکون کے آسن میں بیٹھ کر وابستگیاں چھوڑتے ہیں اور یوگ-बल سے اوپر اٹھتے ہیں۔ دیوتا اور آسمانی ہستیاں ان کی تعظیم کرتی ہیں؛ ویاس ‘شُک’ پکارते ہیں تو شُک ہمہ گیر انداز میں صرف ایک حرف ‘بھوः’ سے جواب دیتے ہیں، اور پہاڑی درّوں میں دیرپا گونج باقی رہتی ہے۔ وہ رَجَس و تَمَس کو ترک کر کے، پھر سَتْو کو بھی پار کر کے نِرگُن حالت پاتے ہیں؛ شویتَدویپ اور ویکُنٹھ پہنچ کر چار بازو والے نارائن کے درشن کرتے ہیں اور اوتار و ویوہ سے لبریز ستوتی پیش کرتے ہیں۔ بھگوان ان کی کمالیت کی تصدیق کرتے، نایاب بھکتی کی ستائش کرتے اور ویاس کو تسلی دینے کے لیے واپس جانے کی ہدایت دیتے ہیں؛ نر-نارائن کے اُپدیش کو ویاس کی بھاگوت تصنیف سے جوڑتے ہیں۔ آخر میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے کا شروَن-کیرتن ہری بھکتی بڑھاتا ہے۔