Rudra Samhita20 Adhyayas1211 Shlokas

Srishti Khanda

Srstikhanda

Adhyayas in Srishti Khanda

Adhyaya 1

मुनिप्रश्नवर्णनम् (Description of the Sages’ Questions)

باب 1 منگل شلوکوں سے آغاز کرتا ہے، جہاں شِو کو تخلیق-بقا-فنا کا واحد سبب، خالص شعور، مایا سے ماورا ہوتے ہوئے بھی مایا کا سہارا و بنیاد قرار دے کر سراہا گیا ہے۔ پھر پورانک مکالمے کا پس منظر قائم ہوتا ہے—نیمِشارنْیہ میں شونک کی قیادت میں رِشی، وِدییشور سنہتا (خصوصاً سادھیہ سادھن کھنڈ) کی مبارک روایت سن کر عقیدت کے ساتھ سوت کے پاس آتے ہیں۔ وہ سوت کو دعائیں دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کی گفتار سے معرفت کے امرت کی نہ ختم ہونے والی شیرینی بہتی ہے؛ اس لیے مزید شَیَو دھرم کی تعلیم کی درخواست کرتے ہیں۔ ویاس کی عنایت سے سوت کی سند و اتھارٹی ثابت کی جاتی ہے اور اسے ماضی-حال-مستقبل کا جاننے والا بتایا جاتا ہے۔ یوں یہ باب شِو تتّو کی عظمت، اہم متکلمین کا تعارف، اور بھکتی بھرے سوال و توجہ سے سماعت کو شَیَو عقیدے کے حصول کی درست روش قرار دے کر آنے والے سِرشٹی اُپاکھیان کی تمہید بنتا ہے۔

32 verses

Adhyaya 2

नारदतपोवर्णनम् (Nārada’s Austerities Described)

اس ادھیائے میں سوت جی نارَد کا بیان کرتے ہیں—برہما کے پُتر، ضبطِ نفس والے اور تپسیا میں راسخ۔ وہ تیز بہتی دیوی ندی کے نزدیک ہمالیہ کے مناسب غار-پَرتیش کی تلاش کر کے ایک نورانی، آراستہ آشرم میں پہنچتے ہیں اور طویل تپسیا کرتے ہیں—مضبوط آسن، مَون، پرانایام اور بدھی کی شُدھّی۔ پھر “اَہَم برہْم” کے اَدویت بھاؤ سے سمادھی میں استھت ہو کر برہْم ساکشاتکار کی طرف لے جانے والا گیان پاتے ہیں۔ نارَد کے تپو بَل سے جگت میں کھلبلی مچتی ہے؛ شکر/اِندر گھبرا کر اسے اپنی حاکمیت کے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور وِگھن ڈالنے کے لیے سمر/کام دیو کو بُلا کر نارَد کی یکسوئی توڑنے کو کام-شکتی کے استعمال کا حکم دیتا ہے۔

55 verses

Adhyaya 3

नारदमोहवर्णनम् — Description of Nārada’s Delusion

باب 3 مکالماتی انداز میں شروع ہوتا ہے۔ رشی احترام سے پوچھتے ہیں کہ وِشنو کے روانہ ہونے کے بعد کیا ہوا اور نارَد کہاں گئے۔ ویاس کے واسطے سے سوتا بیان کرتا ہے کہ شِو کی اِچھا سے مایا میں ماہر وِشنو نے فوراً ایک عجیب مایا پھیلا دی۔ مُنیوں کے راستے میں ایک وسیع و دلکش شہر نمودار ہوتا ہے—حُسن و تنوع میں بے مثال، مرد و زن سے آباد، اور چاتُروَرن (چار ورنوں) کی ترتیب کے ساتھ مکمل سماجی نظام۔ وہاں دولت مند اور طاقتور راجا شیلنِدھی اپنی بیٹی کے سویمور کے سلسلے میں عظیم جشن منعقد کرتا ہے۔ چاروں سمتوں سے سجے ہوئے راجکمار دلہن پانے کی آرزو میں آتے ہیں۔ یہ کرشمہ دیکھ کر نارَد موہ میں گرفتار ہو جاتے ہیں؛ تجسس اور خواہش بڑھتی ہے تو وہ راجا کے دروازے کی طرف بڑھتے ہیں—جہاں مایا، کشش اور غرور کی تربیت کا الٰہی سبق آگے کھلنے والا ہے۔

59 verses

Adhyaya 4

नारदस्य विष्णूपदेशवर्णनम् — Nārada and Viṣṇu: Instruction after Delusion

باب ۴ میں سृष्ट्यوپाखیان آگے بڑھتا ہے اور وِموہِت نارَد کا حال بیان ہوتا ہے۔ شِو کے گنوں پر مناسب شاپ دینے کے بعد بھی شِوےच्छا سے وہ ابھی بیدار نہیں ہوتا؛ ہری کے کیے ہوئے چھل کو یاد کر کے ناقابلِ برداشت غضب میں وِشنولोक پہنچتا ہے۔ وہاں وہ وِشنو پر دو رُخی اور جگت کو موہ لینے والی طاقت کا الزام لگاتا ہے، موہِنی کے واقعے اور اسُروں کو اَمرت کے بجائے وارُنی بانٹنے کی بات چھیڑ کر سخت کلامی کرتا ہے۔ اس مکالمے سے مایا کی حکمرانی واضح ہوتی ہے—الٰہی تدبیریں اخلاقی انتشار نہیں بلکہ اعلیٰ شَیوی ارادے کے تحت منضبط لیلا ہیں۔ آگے وِشنو کا اُپدیش نارَد کی ردِّعملی سوچ کو سنبھالتا، غضب کو ٹھنڈا کرتا اور دیوتاؤں کے کردار نیز کائناتی نظام میں فریب/موہ کے مقصد کو روشن کرتا ہے۔

75 verses

Adhyaya 5

नारदप्रश्नवर्णन (Nāradapraśna-varṇana) — “Account of Nārada’s Inquiry”

اس باب میں سوت بیان کرتے ہیں کہ ہری (وشنو) کے اوجھل ہو جانے کے بعد نارَد جی زمین پر سیر کرتے ہوئے شیو کے متعدد روپوں اور شیو لِنگوں کا درشن کرتے ہیں، جنہیں بھُکتی اور مُکتی عطا کرنے والا کہا گیا ہے۔ وہاں دو شیوگن انہیں پہچان کر ادب و عقیدت سے پرنام کرتے ہیں، قدم پکڑ کر پچھلے شاپ سے نجات کی درخواست کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم اصل میں مجرم نہیں؛ ایک راجا کی بیٹی کے سویمور میں مایا کے موہ سے فریب کھا کر لغزش ہوئی تھی۔ وہ نارَد کے شاپ کو بھی پرمیشور (پریش) کی تحریک سمجھتے ہیں اور انجام کو اپنے کرم کا پھل مان کر قبول کرتے ہیں، کسی پر الزام نہیں رکھتے۔ ان کی بھکتی بھری باتیں سن کر نارَد جی محبت کے ساتھ پشیمانی ظاہر کرتے ہیں اور انुग्रह کا راستہ کھلتا ہے؛ یوں کرم کی ذمہ داری، الٰہی تدبیر، عاجزی سے صلح اور لِنگ درشن کی پاکیزگی اس باب میں نمایاں ہوتی ہے۔

35 verses

Adhyaya 6

विष्णूत्पत्तिवर्णनम् (Description of the Origin/Manifestation of Viṣṇu)

باب ۶ میں برہما لوکوں کی بھلائی کے لیے کیے گئے نیک سوال کا تعلیمی جواب دیتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ اس تعلیم کو سننے سے تمام گناہوں کا کلی زوال ہوتا ہے اور وہ ‘انامَی’ بے عیب شِو-تتّو کی توضیح کریں گے۔ پھر پرلَے کی حالت بیان ہوتی ہے—جب متحرک و غیر متحرک کائنات فنا ہو جائے تو ہر طرف تاریکی چھا جاتی ہے؛ سورج و چاند، دن و رات، آگ، ہوا، زمین اور پانی تک موجود نہیں رہتے۔ نفی کے طریق سے کہا گیا ہے کہ وہاں ظاہری اوصاف نہیں، آواز و لمس نہیں، بو اور صورت غیر ظاہر ہیں، ذائقہ نہیں اور سمتوں کا ادراک بھی نہیں۔ برہما اقرار کرتے ہیں کہ شِو-تتّو کو برہما اور وِشنو بھی حقیقتاً پوری طرح نہیں جان سکتے۔ وہ من و گفتار سے ماورا، نام و روپ و رنگ سے پاک، نہ کثیف نہ لطیف ہے؛ یوگی اسے باطن کے آکاش میں دیکھتے ہیں۔ اسی ناقابلِ بیان شِو-بنیاد کے پس منظر میں، خاتمے کے مطابق، وِشنو کے ظہور کا بیان آتا ہے—غیر ظاہر پرلَے سے منظم سَرشٹی کی طرف انتقال میں وِشنو کا پرکاش۔

56 verses

Adhyaya 7

विष्णु-ब्रह्म-विवाद-वर्णनम् (Description of the Viṣṇu–Brahmā Dispute and Brahmā’s Confusion)

باب ۷ میں سوئے ہوئے نارائن کی ناف سے نکلنے والے کنول (پدم) سے برہما کے ظہور کا بیان ہے۔ یہ کنول بے اندازہ اور نورانی بتایا گیا ہے، جو کائناتی تجلی کے عظیم پھیلاؤ کی علامت ہے۔ چارمکھ ہیرنیہ گربھ برہما اپنی پہچان تو کرتا ہے، مگر مایا کے اثر سے کنول سے آگے اپنے مولد کو نہیں پہچان پاتا؛ وہ اپنی ہستی، مقصد اور آغاز کے بارے میں سوال کرتا ہے۔ یہ حیرت و التباس مہیشور کی لیلا کے طور پر مایا-موہن سے پیدا ہوا بتایا گیا ہے۔ باب کا مقصود یہ ہے کہ علت و معلول اور مرتبہ و برتری کے باب میں بلند دیوتا بھی تردد میں پڑ سکتے ہیں؛ صحیح معرفت تب ملتی ہے جب وہم دور ہو اور ظہور کے پسِ پردہ پرم تتّو کی پہچان ہو۔ اسی جہالت کو آئندہ نزاع کی جڑ قرار دیا گیا ہے، نہ کہ آخری حقیقت کو۔

68 verses

Adhyaya 8

शब्दब्रह्मतनुवर्णनम् — Description of the Form of Śabda-Brahman

اس باب میں شبد/ناد کو برہمن/شیو کا مکاشفاتی اور روشن کرنے والا روپ مان کر فنی و الٰہیاتی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ برہما روایت کرتے ہیں کہ عاجزوں پر کرم کرنے والے اور غرور مٹانے والے شمبھو، دیوتاؤں کی درشن کی طلب کے پس منظر میں جواب دیتے ہیں۔ تب واضح اور طویل (پلُت) ‘اوم’ کی مخصوص گونج پیدا ہوتی ہے۔ وشنو مراقبے کے ساتھ اس عظیم صدا کے منبع کی جستجو کرتے ہیں اور لِنگ کے تعلق سے اومکار کی صوتی ساخت—اَکار، اُکار، مَکار اور آخری ناد—کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ سورج کے قرص، آگ جیسی چمک، چاند جیسی ٹھنڈی روشنی اور بلور جیسی پاکیزگی کی تمثیلات سے حرف، سمت اور تَتّو کے مدارج واضح کیے گئے ہیں۔ آخر میں تُریاتیت، بے داغ، بے جزو، بے اضطراب حقیقت کا ذکر ہے—اَدویت، گویا خلا نما، ظاہر و باطن کی دوئی سے ماورا، مگر دونوں کی بنیاد کے طور پر حاضر۔

53 verses

Adhyaya 9

शिवतत्त्ववर्णनम् (Śiva-tattva-varṇana) — “Description/Exposition of the Principle of Śiva”

باب 9 میں بھکتی اور ستوتی کے جواب میں شیو کا کرپامय خود ظہور اور پھر معتبر گیان کی عطا بیان ہوتی ہے۔ برہما روایت کرتے ہیں کہ مہادیو نہایت خوش ہو کر کرونانِدھی کے روپ میں پرकट ہوتے ہیں—پنچ وکتر، ترینتر، جٹا دھاری، بھسم سے ملمع جسم، زیورات سے آراستہ اور کثیر بازو؛ یہ روپ محض آرائش نہیں بلکہ الہامی انکشاف ہے۔ وشنو برہما کے ساتھ حمدیہ ستوتی کر کے ادب سے شیو کے قریب جاتے ہیں۔ تب شیو اپنے ‘شواس-روپ’ میں نگم عطا کرتے ہیں اور وشنو کو گیان کا اپدیش دیتے ہیں؛ آگے چل کر برہما کو بھی وہی پرماتما گیان بخشتا ہے—یوں وحی/انکشاف کو انوگرہ پر مبنی بتایا گیا ہے۔ پھر وشنو پوچھتے ہیں کہ شیو کو کیسے پرسن کیا جائے، درست پوجا و دھیان کیسے ہو، انہیں موافق/وش میں کیسے کیا جائے، اور شیو کی آگیا کے تحت کون سے کرم انجام دینے چاہئیں—اس طرح شیو تتّو پر مبنی شَیو آچار کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔

65 verses

Adhyaya 10

रुद्र-विष्णोः ऐकत्व-उपदेशः तथा धर्म-आज्ञा (Instruction on Rudra–Viṣṇu Unity and Divine Injunctions)

اس باب میں پرمیشور رودر-شیو وِشنو کو کائناتی نظم و نسق اور بھکتی دھرم کے احکام دیتے ہیں۔ شیو حکم دیتے ہیں کہ وِشنو تینوں لوکوں میں معزز اور پوجنیہ رہیں، اور برہما کی سೃشتی میں جب دکھ پھیلے تو فیصلہ کن اقدام کرکے اجتماعی کَلیش دور کریں۔ دشوار کاموں اور طاقتور دشمنوں کے دمن میں شیو اپنی مدد کا وعدہ کرتے ہیں، اور دھرم-کیرتی کے پھیلاؤ اور جیووں کے تارَن (نجات) کے لیے وِشنو کو گوناگوں اوتار دھارن کرنے کی ہدایت دیتے ہیں۔ مرکزی عقیدہ یہ ہے کہ رودر اور ہری ایک دوسرے کے دھیان کے لائق ہیں اور ان میں حقیقی جدائی نہیں؛ حقیقت میں، वरदान سے اور لیلا میں بھی ایکتا ہی ہے۔ نیز قاعدہ ہے کہ جو رودر بھکت وِشنو کی نندا کریں وہ پُنّیہ کھو کر شیو کے حکم سے نرک میں گرتے ہیں؛ وِشنو بھوگ و موکش دینے والے، بھکتوں کے لیے پوجنیہ، اور دھرم کی رکھشا میں نگ्रह و انوگرہ دونوں کرتے ہیں۔

40 verses

Adhyaya 11

लिङ्गपूजनसंक्षेपः (Concise Teaching on Liṅga Worship / Śiva-arcana-vidhi)

باب 11 میں رِشی سوتا سے شَیَو کتھا کی پاکیزہ کرنے والی قوت کی ستائش کرتے ہیں اور خاص طور پر لِنگوتپتّی کی عجیب و مبارک حکایت یاد دلاتے ہیں جس کے سننے سے دکھ دور ہوتا ہے۔ برہما–نارد کے مکالمے کے تسلسل میں وہ شِوارچنا-ودھی کی واضح توضیح چاہتے ہیں کہ شِو کو کیسے پوجا جائے کہ وہ راضی ہوں؛ سوال میں برہمن، کشتری، ویش، شودر سبھی ورن شامل ہیں۔ سوتا اسے ‘رہسّیہ’ کہہ کر وعدہ کرتے ہیں کہ جیسا سنا اور سمجھا ہے ویسا ہی بیان کریں گے، اور روایت کی زنجیر قائم کرتے ہیں: ویاس نے سنَتکُمار سے پوچھا، اُپمنیو نے سنا، کرشن نے جانا، اور برہما نے پہلے نارد کو سکھایا۔ پھر برہما کی آواز آتی ہے کہ لِنگ پوجن اتنا وسیع ہے کہ سو برس میں بھی مکمل بیان نہیں ہو سکتا، اس لیے وہ اسے اختصار کے ساتھ سکھائیں گے۔ یوں یہ باب سماعت کی نجات بخشی، پرمپرا کی حجّت، اور لِنگ پوجا کی مختصر مگر معتبر خاکہ بندی پیش کرتا ہے۔

85 verses

Adhyaya 12

सेवातत्त्वप्रश्नः — The Question of Whom to Serve (Sevā) for the Removal of Suffering

اس ادھیائے میں نارَد شِو نِشٹھ پرجاپتی برہما کی ستوتی کرکے مزید تفصیل چاہتے ہیں۔ برہما پچھلا واقعہ سناتے ہیں کہ انہوں نے رِشیوں اور دیوتاؤں کو جمع کرکے کْشیر ساگر کے کنارے، بھگوان وِشنو کے دھام کی یاترا کی۔ وہاں وِشنو شِو کے چرن کملوں کا سمرن کرتے ہوئے برہما اور سُر-رِشیوں سے آمد کا مقصد پوچھتے ہیں۔ دیوتا ہاتھ جوڑ کر سوال کرتے ہیں: ‘دُکھ کے نِوارن کے لیے کس کی نِتیہ سیوا کرنی چاہیے؟’ بھکت وَتسل وِشنو کرُنا سے سچی سیوا-بھکتی کی پہچان، اس کے پھل اور وہ تَتّو بیان کرتے ہیں جس سے سیوا مُکتی کا سبب بنتی ہے، اور شِو-پرَتا کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

84 verses

Adhyaya 13

पूजाविधिः (Pūjā-vidhiḥ) — The Supreme Procedure of Worship (Morning Observances)

باب 13 میں برہما ایک ‘بے مثال’ پوجا-ودھی بیان کرتے ہیں جو تمام مطلوبہ مقاصد اور خوشی عطا کرتی ہے۔ ترتیب یہ ہے کہ برہما مُہورت میں بیدار ہو کر سامبک شیو کا سمرن کیا جائے، کائنات کی خیریت کے لیے بیداری کی پرارتھنا کی جائے، اور اپنی اخلاقی ناتوانی پیش کر کے یہ مانا جائے کہ رہنمائی صرف مہادیو کے دل میں قائم نیوگ سے ملتی ہے۔ پھر شَوچ کے آداب آتے ہیں: گرو کے قدموں کا احتراماً سمرن، مناسب سمت میں قضائے حاجت، مٹی اور پانی سے بدن کی طہارت، ہاتھ پاؤں دھونا، دانت صاف کرنا اور بار بار آچمن۔ بعض تِتھیوں اور واروں میں دانت صاف کرنا ممنوع بتایا گیا ہے، اور شرادھ، سنکرانتی، گرہن، تیرتھ، اُپواس وغیرہ مواقع پر دیش-کال کے مطابق ضوابط بیان ہوتے ہیں۔ یوں پوجا کا آغاز رسمی نذر و نیاز سے پہلے ہی سمرن، طہارت اور مبارک اوقات کی پابندی سے قرار پاتا ہے۔

82 verses

Adhyaya 14

पुष्पार्पण-विनिर्णयः (Determination of Flower-Offerings to Śiva)

باب 14 میں رِشی سوتا سے پوچھتے ہیں کہ شِو پوجا میں کون سے پھول کے ارپن سے کون سا پھل معتبر طور پر حاصل ہوتا ہے۔ سوتا بتاتے ہیں کہ یہ ‘پُشپارپن-وِنِرنَے’ پہلے نارَد کے سوال پر برہما نے مقرر فرمایا تھا، اس طرح یہ تعلیم پرمپرا کی سند کے ساتھ قائم ہوتی ہے۔ پھر کمل، بِلوَپتر، شتپتر، شنکھ پُشپ وغیرہ پھولوں اور ارپنیہ مواد کا ذکر اور ان کے نتائج—لکشمی/خوشحالی، پاپوں کا زوال، اور لکش جیسی بڑی تعداد میں ارپن کرنے پر خاص پھل—بیان کیے جاتے ہیں۔ پرستھ، پل، ٹنک وغیرہ پیمانوں سے پھولوں کی مقدار/گنتی کی برابریاں دکھا کر رسم کو معیاری بنایا گیا ہے۔ لِنگ پوجا، اَکشَت/تَندُل، چندن لیپ، جل دھارا-ابھشیک وغیرہ پوجا کے اَنگوں کے ذکر سے واضح ہوتا ہے کہ پھولوں کا ارپن شِو پوجا کے وسیع وِدھان کا حصہ ہے۔ مجموعی طور پر یہ باب درست دَرویہ، پیمانہ اور بھکتی بھاؤ کے مطابق کامیہ پھل سے لے کر شِو رُخ نِشکامتا تک کے فوائد کی رہنمائی کرتا ہے۔

86 verses

Adhyaya 15

हंस-वराह-रूपग्रहण-कारणम् (The Reason for Assuming the Swan and Boar Forms)

باب ۱۵ لِنگ-واقعہ کے بعد کی گفتگو کو آگے بڑھاتا ہے۔ نارَد، برہما سے پہلے سنی ہوئی شَیوی پاکیزہ حکایت کی تعریف کرکے پوچھتے ہیں کہ اس کے بعد کیا ہوا اور تخلیق کا طریقہ کیا تھا۔ برہما بتاتے ہیں کہ جب نِتیہ شِو-سوروپ بھگوان شِو اوجھل ہوگئے تو انہیں اور وِشنو کو خاص راحت اور مسرت حاصل ہوئی۔ پھر عوالم کی تخلیق اور نظم و نسق کے ارادے سے برہما نے ہنس (سوان) کا روپ اور وِشنو نے وراہ (خنزیر) کا روپ اختیار کیا۔ نارَد سوال اٹھاتے ہیں کہ دوسرے روپ چھوڑ کر یہی روپ کیوں؟ سوت کے واسطے سے برہما پہلے شِو کے قدموں کا سمرن کرکے جواب دیتے ہیں کہ ہنس کی اوپر کی سمت ثابت قدم پرواز اور تَتّو-اَتَتّو وِویک (دودھ اور پانی جدا کرنے کی مثال) اس روپ-گ्रहن کی علامتی اور عملی وجہ ہے۔ یہ باب بتاتا ہے کہ دیوی روپ کائناتی کام اور روحانی تعلیم کے نشان بردار ہیں اور شِو کی برتری کو مضبوط کرتے ہیں۔

65 verses

Adhyaya 16

सृष्टिक्रमवर्णनम् / Description of the Sequence of Creation

اس باب میں برہما نارَد سے کائنات کی تخلیق کا فنی ترتیب وار بیان اور نظامِ تاسیس بیان کرتے ہیں۔ وہ شبد وغیرہ لطیف عناصر سے پنچیکرن کے ذریعے آکاش، وایو، اگنی، جل اور پرتھوی جیسے کثیف بھوتوں کی پیدائش، پھر پہاڑوں، سمندروں، درختوں وغیرہ کی تخلیق اور کلا و یُگ چکروں کے ذریعہ زمانے کی تقسیم کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ سب کرنے کے باوجود عدمِ اطمینان پر وہ سامبا شِو کا دھیان کرتے ہیں؛ تب آنکھوں، دل، سر اور پران وغیرہ سے سادھک اور اہم رِشیوں کو پیدا کرتے ہیں۔ سنکلپ سے دھرم ظاہر ہوتا ہے جو ہر سادھنا کا ہمہ گیر وسیلہ ہے؛ برہما کے حکم سے وہ انسانی روپ دھار کر سادھکوں کے ذریعے پھیلتا ہے۔ پھر برہما اپنے مختلف اعضا سے بہت سی اولاد پیدا کر کے انہیں دیو و اسُر وغیرہ گوناگوں اجسام میں مقرر کرتے ہیں۔ آخر میں شنکر کی باطنی ترغیب سے وہ اپنا جسم تقسیم کر کے دو رُوپی ہو جاتے ہیں، اور شِو کی حاکمیت میں امتیازی تخلیقی طریقوں کی طرف انتقال کی علامت دیتے ہیں۔

50 verses

Adhyaya 17

कैलासगमनं कुबेरसख्यं च — Śiva’s Journey to Kailāsa and His Friendship with Kubera

باب 17 مکالماتی انداز میں ہے۔ سوت بیان کرتے ہیں کہ برہما کے پچھلے اقوال سن کر نارَد دوبارہ ادب سے پوچھتے ہیں: شنکر کا کیلاش پر آنا کیسے ہوا، کُبیر (دھنَد) سے ان کی دوستی کن حالات میں بنی، اور وہاں کامل، مبارک شِو-آکرتی میں بھگوان نے کیا کیا۔ برہما یہ واقعہ سنانے پر آمادہ ہو کر پہلے پس منظر بیان کرتے ہیں—کامپِلیہ میں یَجْنَدَتّ نامی ایک عالم دِکشِت رہتا تھا؛ ویدی کرم اور ویدانگوں میں ماہر، سخی اور باوقار۔ اس کا بیٹا گُنَنِدھی اُپنَین وغیرہ کے بعد تعلیم یافتہ تھا، مگر چھپ کر جوئے میں مبتلا ہوا، بار بار ماں کا مال لیتا اور جواریوں کی صحبت اختیار کرتا رہا۔ یوں یہ باب نیکی و علم کے مقابل پوشیدہ گناہ، دولت کے زوال، اور آگے چل کر کُبیر-شِو تعلق کو کرم اور بھکتی کی منطق سے سمجھانے کی تمہید باندھتا ہے۔

60 verses

Adhyaya 18

दीक्षितपुत्रस्य दैन्यचिन्ता तथा शिवरात्र्युपासनाप्रसङ्गः / The Initiate’s Son in Distress and the Occasion of Śivarātri Worship

باب 18 میں برہما نارَد کو دیکشت پُتر (دیکشتانگج) کا واقعہ سناتے ہیں۔ اپنا سابقہ حال سن کر وہ اپنے پچھلے کردار کی ملامت کرتا ہے اور ایک نامعلوم سمت روانہ ہو جاتا ہے۔ کچھ سفر کے بعد روزی اور سماجی عزت کی فکر اسے افسردہ اور بے حس کر دیتی ہے؛ وہ تعلیم کی کمی اور دولت کی قلت پر غور کرتا ہے، اور سوچتا ہے کہ پیسہ ساتھ رکھنے میں چوروں کا خوف ہے اور پیسہ نہ ہو تو بے سہارگی۔ یاجک خاندان میں جنم لے کر بھی بڑی بدقسمتی پر وہ فریاد کرتا ہے اور مانتا ہے کہ وِدھی/قسمت کرم کے پھل کے مطابق مستقبل کو باندھتی ہے۔ وہ بھیک بھی ڈھنگ سے نہیں مانگ سکتا؛ آس پاس کوئی شناسا نہیں، کوئی پناہ نہیں؛ یہاں ماں کی شفقت بھی یاد آ کر دور محسوس ہوتی ہے۔ درخت کے نیچے شام تک سوچتے ہوئے کہانی میں ایک متضاد منظر آتا ہے—شہر سے نکلتا ایک ماہیشور بھکت، لوگوں کے ساتھ نذرانے لیے، شِو راتری کا اُپواس رکھ کر ایشان کی پوجا کو جا رہا ہے۔ یوں انسانی بے بسی اور کرم بندھن کے مقابل شَیَو ورت اور پوجا کو سہارا، پُنّیہ اور شِو کی طرف رجوع کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔

66 verses

Adhyaya 19

अलकापतेः तपः-लिङ्गप्रतिष्ठा च वरप्राप्तिः / The Lord of Alakā: Austerity, Liṅga-Establishment, and the Receiving of a Boon

باب ۱۹ میں برہما پچھلے کلپ کا پس منظر بیان کرتے ہیں اور الکاپتی (وَیشروَن/کُبیر) کی بھکتی و تپسیا کی مثال پیش ہوتی ہے۔ پدم کلپ میں پُلستیہ سے وِشروَا اور اُن سے وَیشروَن پیدا ہوا؛ وشوکرما کی بنائی ہوئی الکا نگری اس کی بھوگیہ و حاکمانہ راجدھانی بتائی گئی ہے۔ پھر الکاپتی تریَمبک شِو کو راضی کرنے کے لیے نہایت سخت تپسیا کرتا ہے اور بھکتی کے اثر کو دکھاتے ہوئے کاشی (چِت پرکاشِکا) کی طرف روانہ ہوتا ہے۔ سادھنا میں اندر شِو کا بیدار ہونا، اَننّیہ بھکتی، ثابت دھیان، کام و کرودھ کا ترک، اور تپ کی آگ سے شُدھ ہو کر شِوَیکیہ بھاؤ پیدا کرنا بیان ہے۔ وہ شانبھو لِنگ کی پرتِشٹھا کر کے سَدبھاؤ کے پُھولوں سے پوجا کرتا ہے۔ طویل تپسیا کے بعد وِشوَیشور پرسن ہو کر پرگٹ ہوتے ہیں اور ورداتا کے طور پر ور مانگنے کو کہتے ہیں؛ یوں لِنگ پرتِشٹھا، دھیان اور ویراغیہ سے درشن و ور پرابتی کی علت-زنجیر واضح ہوتی ہے۔

33 verses

Adhyaya 20

शिवागमन-नाद-समागमः (Śiva’s Advent, the Drum-Sound, and the Cosmic Assembly)

اس باب میں برہما نارَد کو کُبیر کے تعلق سے کیلاش میں شیو کے آگمن (آمد) کا مثالی واقعہ سناتے ہیں۔ وِشوَیشور شیو کُبیر کو نِدھیوں کی سرداری (نِدھیپتیّتْو) کا ور دے کر اپنے ظہور کی تدبیر پر غور کرتے ہیں—رُدر برہما کے دل سے پیدا ہونے والا پُورن اَمش ہے، نِرمل اور پرم تَتْو سے اَبھِنّن؛ ہری (وشنو) اور برہما جس کی سیوا کرتے ہیں، مگر وہ دونوں سے ماورا ہے۔ رُدر اسی روپ میں کیلاش جانے، کُبیر کے کُشیتْر سے وابستہ مہان تپسیا کرنے اور دوست کی طرح وہاں بسنے کا نिश्चय کرتا ہے۔ پھر وہ ڈھکّا بجاتا ہے؛ اس کا گھنا اور عجیب ناد پکار اور تحریک بن جاتا ہے۔ اسے سن کر وشنو، برہما، دیوتا، مُنی، سِدھ، آگم و نگم کی مجسّم صورتیں، نیز سُر و اَسُر اور مختلف مقامات کے پرمَتھ گن و گناتسوَ کی سی کیفیت میں جمع ہو جاتے ہیں۔ آگے گنوں کی تعداد اور قامت کا بیان کر کے شیوگنوں کی کائناتی عظمت ظاہر کی جاتی ہے۔

62 verses