
Sukta 8.12
Indra
Gayatri (likely; needs confirmation by metrical count)
یہ منتر اندر کی طرف سوم پانے کی جلد دعا ہے، جو نشہ آور "ماد" کی تعریف کرتا ہے جو ان کی طاقت کو بیدار کرتا ہے اور روشنی کو نگلنے والے دشمن کو تباہ کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ شاعر بار بار اندر کو اپنے نچڑے ہوئے سوم کی طرف بلاتے ہیں، چاہے وہ "دور" ہو، اور آخر میں ویدک روایت کے مطابق بہادری، گھوڑے اور مویشی مانگتے ہیں جو صحیح نذر اور قدیم پجاری حکمت سے حاصل ہوتے ہیں۔
Mantra 1
य इन्द्र सोमपातमो मदः शविष्ठ चेतति । येना हंसि न्यत्रिणं तमीमहे ॥
اے اندر، وہ نشہ جو سوم پینے میں سب سے کامل ہے، اے سب سے طاقتور، جس سے تیرا شعور بیدار ہوتا ہے، اور جس سے تو روشنی کھانے والے کو مار کر دور پھینکتا ہے، ہم اسی تیری طاقت کی تلاش میں ہیں۔
Mantra 2
येना दशग्वमध्रिगुं वेपयन्तं स्वर्णरम् । येना समुद्रमाविथा तमीमहे ॥
وہ طاقت جس سے تو دشگوا کو، جو روشنی لانے والا اور مضبوط تھا، کانپنے لگایا، اور وہ طاقت جس سے تو سمندری بنیاد سے پار لے گیا، ہم اسی تیری قدرت کی تلاش میں ہیں۔
Mantra 3
येन सिन्धुं महीरपो रथाँ इव प्रचोदयः । पन्थामृतस्य यातवे तमीमहे ॥
وہ طاقت جس سے تو ندی کے عظیم پانیوں کو رتھوں کی طرح دوڑایا، رت کے سفر کے لیے راستہ کھولتے ہوئے، ہم اسی تیری قوت کی تلاش میں ہیں۔
Mantra 4
इमं स्तोममभिष्टये घृतं न पूतमद्रिवः । येना नु सद्य ओजसा ववक्षिथ ॥
ہماری فتح اور صحیح حصول کے لیے، اے پتھر پکڑنے والے، یہ بھجن قبول کر جو گھی کی طرح صاف ہے، اس سے تو فوراً طاقت میں بڑھے اور ہمیں آگے لے چلے۔
Mantra 5
इमं जुषस्व गिर्वणः समुद्र इव पिन्वते । इन्द्र विश्वाभिरूतिभिर्ववक्षिथ ॥
اے اندر، بولی کے محب، اس بھجن سے خوش ہو، سمندر کی طرح پھول جا، اے اندر، اپنی تمام مدد اور حفاظت کی طاقتوں سے بھر جا۔
Mantra 6
यो नो देवः परावतः सखित्वनाय मामहे । दिवो न वृष्टिं प्रथयन्ववक्षिथ ॥
وہ دیوتا جسے ہم دوستی کے لیے دور سے پکارتے ہیں، آسمان کی بارش کی طرح پھیلتا ہوا، وہ ہمارے لیے بڑھے اور اپنا اخراج وسیع کرے۔
Mantra 7
ववक्षुरस्य केतवो उत वज्रो गभस्त्योः । यत्सूर्यो न रोदसी अवर्धयत् ॥
اس کی کرنیں بڑھیں، اور اس کے ہاتھوں میں بجلی بھی، جب سورج کی طرح اس نے دونوں جہانوں کو وسیع اور بڑھا دیا۔
Mantra 8
यदि प्रवृद्ध सत्पते सहस्रं महिषाँ अघः । आदित्त इन्द्रियं महि प्र वावृधे ॥
اے سچ کے مالک بڑھے ہوئے پرکاش، اگر تو نے ہزار ظالم حملہ آوروں کو مارا، تب یقیناً تیری اندریہ طاقت وسیع اور طاقتور ہو گئی۔
Mantra 9
इन्द्रः सूर्यस्य रश्मिभिर्न्यर्शसानमोषति । अग्निर्वनेव सासहिः प्र वावृधे ॥
اند، سورج کی کرنوں سے، پھیلتی اندھیری کو خشک اور مرجھا دیتا ہے، اور اگ، جنگل میں فاتح قوت کی طرح، بڑھتا ہے۔
Mantra 10
इयं त ऋत्वियावती धीतिरेति नवीयसी । सपर्यन्ती पुरुप्रिया मिमीत इत् ॥
یہ تیری ہمیشہ نئی سوچ، موسم اور قانون سے بھرپور، آگے بڑھتی ہے، بہتوں کو پیاری اور عبادت کرنے والی، یہ ہمارے لیے صحیح حصے ناپتی ہے۔
Mantra 11
गर्भो यज्ञस्य देवयुः क्रतुं पुनीत आनुषक् । स्तोमैरिन्द्रस्य वावृधे मिमीत इत् ॥
یجنا کا خدا کو تلاش کرنے والا بذر، ارادے کو مسلسل پاک کرتا ہے؛ ستوتروں سے اندر کی طاقت بڑھاتا ہے، اور سچ مچ صحیح تشکیل کا اندازہ کرتا ہے۔
Mantra 12
सनिर्मित्रस्य पप्रथ इन्द्रः सोमस्य पीतये । प्राची वाशीव सुन्वते मिमीत इत् ॥
متر کی ہم آہنگی میں طاقت پھیل گئی ہے؛ اندر سوما پینے کے لیے آگے بڑھتا ہے، دبانے والے کی طرف پکار کی طرح آگے بڑھتے ہوئے، سچ مچ کامیابی کا اندازہ کرتا ہے۔
Mantra 13
यं विप्रा उक्थवाहसोऽभिप्रमन्दुरायवः । घृतं न पिप्य आसन्यृतस्य यत् ॥
جنہیں رشی، اٹھے ہوئے کلام کے حامل، راہ تلاش کرتے ہوئے، خوش کرتے ہیں اور اس کی طرف دھکیلتے ہیں، اس نے گویا صاف گھی پیا ہے: رت کا بجلی والا تخت، سچائی اور نظم کی وہ بنیاد۔
Mantra 14
उत स्वराजे अदितिः स्तोममिन्द्राय जीजनत् । पुरुप्रशस्तमूतय ऋतस्य यत् ॥
اور ادیتی نے خود حکمران کے لیے اندر کے لیے ایک ستوت پیدا کیا، بہت تعریف کیا گیا، مدد کے لیے: وہ جو رت سے تعلق رکھتا ہے، سچے نظم کا۔
Mantra 15
अभि वह्नय ऊतयेऽनूषत प्रशस्तये । न देव विव्रता हरी ऋतस्य यत् ॥
شعلے کے حاملوں نے مدد کی طرف، تعریف کی طرف پکارا؛ اے دیوتا، تیرے دو خاکی گھوڑے قانون سے نہیں ہٹتے، وہ رت میں چلتے ہیں۔
Mantra 16
यत्सोममिन्द्र विष्णवि यद्वा घ त्रित आप्त्ये । यद्वा मरुत्सु मन्दसे समिन्दुभिः ॥
چاہ تو سوما میں خوشی کرے، اے اندر، وشنو کے وسیع قدم میں، یا ترت آپتیہ کے ساتھ، یا مروتوں میں، یہاں بوندوں کے ساتھ خوش ہو۔
Mantra 17
यद्वा शक्र परावति समुद्रे अधि मन्दसे । अस्माकमित्सुते रणा समिन्दुभिः ॥
یا اگر، اے شکر، دور سمندر پر تو خوشی کرے، پھر بھی ہمارے دبے ہوئے سوما میں، اے جنگجو، بوندوں کے ساتھ خوش ہو۔
Mantra 18
यद्वासि सुन्वतो वृधो यजमानस्य सत्पते । उक्थे वा यस्य रण्यसि समिन्दुभिः ॥
یا اگر تو دبانے والے کا بڑھانے والا ہے، اے سچ کے مالک، یجنا کرنے والے کا، اگر اس کے اکتھ میں تو خوشی کرے، تو یہاں بوندوں کے ساتھ خوش ہو۔
Mantra 19
देवंदेवं वोऽवस इन्द्रमिन्द्रं गृणीषणि । अधा यज्ञाय तुर्वणे व्यानशुः ॥
تیری مدد کے لیے ہم اندر کی بار بار تعریف کرتے ہیں، دیوتا کو ہمیشہ نئے سرے سے؛ پھر آگے بڑھنے والے یجنا کے لیے، انہوں نے وسیع پیمانے پر حاصل کر لیا۔
Mantra 20
यज्ञेभिर्यज्ञवाहसं सोमेभिः सोमपातमम् । होत्राभिरिन्द्रं वावृधुर्व्यानशुः ॥
اندرونی یجنوں سے وہ اندر کو بڑھاتے ہیں، پیشکش کے حامل کو؛ سوما کی طاقتوں سے وہ اسے خوشی کے سب سے کامل پینے والے کے طور پر وسیع کرتے ہیں؛ پکار کی توانائیوں سے وہ اسے بڑھاتے ہیں اور مکمل ظہور میں داخل کرتے ہیں۔
Mantra 21
महीरस्य प्रणीतयः पूर्वीरुत प्रशस्तयः । विश्वा वसूनि दाशुषे व्यानशुः ॥
وسیع ہیں اس کی راہنمائیاں اور اس کی قدیم ہدایتیں، اور بہت عظیم ہیں اس کی تصدیقی تعریفیں؛ دینے والے کے لیے وہ وجود کی تمام دولت لاتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں۔
Mantra 22
इन्द्रं वृत्राय हन्तवे देवासो दधिरे पुरः । इन्द्रं वाणीरनूषता समोजसे ॥
دیوتاؤں نے بادل کو آگے کھڑا کیا تاکہ وہ آڑ کو مارے؛ اور الہامی کلمات نے بادل کو طاقت کے ساتھ متحد گایا, تاکہ قوت جمع ہو اور کارگر بنے۔
Mantra 23
महान्तं महिना वयं स्तोमेभिर्हवनश्रुतम् । अर्कैरभि प्र णोनुमः समोजसे ॥
اس وسیع کو، جو اپنی عظمت سے بزرگ ہے، جو ہماری پکار سنتا ہے، ہم ستونوں سے آگے بڑھاتے ہیں؛ روشن مناجاتوں سے ہم اسے چلاتے ہیں اور اسے مؤثر قوت میں جمع کرتے ہیں۔
Mantra 24
न यं विविक्तो रोदसी नान्तरिक्षाणि वज्रिणम् । अमादिदस्य तित्विषे समोजसः ॥
نہ دونوں جہان اسے الگ کر سکتے ہیں، نہ درمیانی علاقے بجلی کے مالک کو جدا کر سکتے ہیں؛ اس کی پیدائش سے ہی اس کی جلت ہوئی شدت ایک قوت میں جمع ہوتی ہے۔
Mantra 25
यदिन्द्र पृतनाज्ये देवास्त्वा दधिरे पुरः । आदित्ते हर्यता हरी ववक्षतुः ॥
جب اے بادل، جنگ کے دباؤ میں دیوتاؤں نے تجھے آگے کھڑا کیا، تب یقیناً تیرے دو بے چین گھوڑے تجھے آگے لے گئے۔
Mantra 26
यदा वृत्रं नदीवृतं शवसा वज्रिन्नवधीः । आदित्ते हर्यता हरी ववक्षतुः ॥
جب تو، اے بجلی کے مالک، اپنی طاقت سے آڑ کو مارا جس نے ندیوں کو گھیرا تھا، تب یقیناً تیرے بے چین گھوڑے تجھے آگے لے گئے۔
Mantra 27
यदा ते विष्णुरोजसा त्रीणि पदा विचक्रमे । आदित्ते हर्यता हरी ववक्षतुः ॥
جب تیرے لیے وشنو نے اپنی طاقت سے تین قدمے چلے، تب یقیناً تیرے بے چین گھوڑے تجھے آگے لے گئے۔
Mantra 28
यदा ते हर्यता हरी वावृधाते दिवेदिवे । आदित्ते विश्वा भुवनानि येमिरे ॥
جب تیرے بے چین گھوڑے دن بدن بڑھتے ہیں، تب یقیناً تمام جہان تیرے زیرِ اثر ہوتے ہیں اور منظم ہوتے ہیں۔
Mantra 29
यदा ते मारुतीर्विशस्तुभ्यमिन्द्र नियेमिरे । आदित्ते विश्वा भुवनानि येमिरे ॥
جب ماروت کے لشکر، طوفانی قوت کے لوگ، اے بادل، تجھ سے جڑتے ہیں، تب یقیناً تمام جہان تیرے زیرِ اثر ہوتے ہیں اور ہم آہنگ ہوتے ہیں۔
Mantra 30
यदा सूर्यममुं दिवि शुक्रं ज्योतिरधारयः । आदित्ते विश्वा भुवनानि येमिरे ॥
جب تو نے اس سورج کو, پاک روشنی, وجود کے آسمان میں مستحکم کیا، تب یقیناً تمام جہان اور وجود کی حالتیں تیری طاقت کے تحت صحیح نظم و ضبط میں آئیں۔
Mantra 31
इमां त इन्द्र सुष्टुतिं विप्र इयर्ति धीतिभिः । जामिं पदेव पिप्रतीं प्राध्वरे ॥
اے اندر، یہ خوب صورت تعریف کا بھجن جو تجھے پیش کیا جاتا ہے، رشی اپنی الہامی سوچوں سے حرکت میں لاتا ہے، اسے قدم بہ قدم ایک رشتہ دار کی طرح پالتا ہے، اندرونی یگیہ کے راستے میں آگے بڑھاتا ہے۔
Mantra 32
यदस्य धामनि प्रिये समीचीनासो अस्वरन् । नाभा यज्ञस्य दोहना प्राध्वरे ॥
جب اس کے محبوب اقتدار کے آسران پر، صحیح راستے پر چلنے والے ایک ساتھ آواز اٹھاتے ہیں، تب یگیہ کے دودھ دینے والی گائیں اس کے ناف سے اپنے دودھ کی دھاریں بہاتی ہیں، یگیہ کی حرکت میں آگے بڑھتی ہیں۔
Mantra 33
सुवीर्यं स्वश्व्यं सुगव्यमिन्द्र दद्धि नः । होतेव पूर्वचित्तये प्राध्वरे ॥
اے اندر، ہمیں اچھی بہادری کی طاقت دے، اچھے گھوڑے کی قوت دے، روشن ریوڑوں کی اچھی دولت دے، ایک قدیم علم والے ہوتر کی طرح، ہمارے لیے یگیہ کے سفر میں اسے آگے بڑھا۔
It asks Indra to come to the pressed Soma, awaken his victorious power, destroy the forces that “devour light,” and grant strength, protection, and prosperity (especially horses and cattle).
It emphasizes that even if Indra is imagined as distant, the sacrifice and Soma-call can still reach him—inviting him to rejoice with the worshippers’ offerings right now.
Several verses appear Gāyatrī-like (3 lines of ~8 syllables), but meter should be confirmed by counting syllables across all 33 mantras, since Mandala 8 can mix meters within a single hymn.
Answers come straight from the texts, with the shlokas they draw on. Ask in your own words.
A free sign-in with Google or Apple keeps your chat saved across web and the app.