
पञ्चमांशः (कृष्णचरितम्)
Krishna's Descent and the Divine Play
پانچویں اَمش میں نسبی و خاندانی تاریخ سے رخ موڑ کر اوتار-اِتیہاس کی تفصیل آتی ہے۔ میتریہ، پاراشر سے درخواست کرتے ہیں کہ یادوَ کُل میں ظاہر ہونے والے وِشنو کے اَمش اوتار، شری کرشن کے چرِتّر کو پوری طرح بیان کریں۔ گرو–شِشیہ مکالمہ مرکزی رہتا ہے؛ پاراشر بتاتے ہیں کہ وِشنو/نارائن ہی جگت کا کارن ہیں—اُپادان (مادّی سبب) اور نِمِتّ (فاعلی سبب) دونوں—اور دیوتا، عوالم، جیو اور حتیٰ کہ کال (زمان) بھی اسی کی وِبھوتیاں ہیں۔ اسی مابعدالطبیعی افق میں بھودَیوی کا “بھار” محض زمینی بحران نہیں رہتا بلکہ دھرم کے توازن کا الٰہیاتی مسئلہ بن جاتا ہے۔ اَدھرم کی قوتیں خدا سے باہر نہیں، مگر لوک دھرم کی حفاظت کے لیے دیویہ لیلا کے ذریعے ازسرِنو توازن ضروری ہے۔ چنانچہ کَشیرابدھی میں دیوتاؤں کی فریاد، برہما کی ستوتی اور وِشنو کی تسلی بیان ہوتی ہے کہ وہ “قلیل اَمش” کے ساتھ اوتار لے کر زمین کا بھار ہٹائیں گے، اور دیوتا بھی اپنے اپنے اَمشوں سے جنم لیں گے۔ پھر ولادت کی تدبیر سامنے آتی ہے۔ یوگ مایا/یوگ نِدرا اجنوں کی منتقلی کا انتظام کرتی ہے، سنکرشن کا ظہور ہوتا ہے، اور آدھی رات کو شری کرشن کی الٰہی پیدائش آشکار ہوتی ہے۔ یوں بتایا جاتا ہے کہ نِرگُن پرمیشور بھی صرف دھرم-تران اور لوک-سنگرہ کے لیے سَگُن روپ دھارتا ہے—یہی اس اَمش کا بنیادی پیغام ہے۔
देवकी-विवाहः, आकाशवाणी, भूरभारावतरण-याचना, क्षीराब्धि-स्तुति, केशावतार-नियोजनम्
میتریا کی درخواست پر، پراشر نے یدو خاندان میں وشنو کے اوتار کا حال بیان کیا۔ کہانی دیوکی اور واسودیو کی شادی اور آسمانی آواز (آکاش وانی) کے ذریعے کنس کی موت کی پیشین گوئی سے شروع ہوتی ہے۔ زمین کا بوجھ کم کرنے کے لیے دیوتاؤں اور برہما نے شیر ساگر میں وشنو کی حمد کی۔ وشنو نے اپنے دو بال (سفید اور سیاہ) ظاہر کیے اور اوتار لینے کا وعدہ کیا۔ انہوں نے یوگ ندرہ کو ساتویں حمل (شیش ناگ) کو روہنی کے رحم میں منتقل کرنے کا حکم دیا۔
गर्भ-व्यवस्था, देवकी-गर्भ-स्तुति (गर्भस्तुतिः), जगदन्तर्गत-हरि-प्रतिपादनम्
پراشر الٰہی حکم کی تکمیل بیان کرتے ہیں—یوگ مایا چھ جنین ٹھہراتی ہے اور ساتواں روہِنی کے رحم میں منتقل کرتی ہے؛ پھر تینوں جہانوں کی بھلائی کے لیے ہری دیوکی کے رحم میں داخل ہوتے ہیں، اور یشودا کے رحم میں یوگ نِدرا کا حمل قرار پاتا ہے۔ سیارے موافق ہوتے ہیں، موسم مبارک بنتے ہیں—وشنو کے اَمش کے نزول کی علامت۔ دیوکی ناقابلِ برداشت تیجس سے منور ہوتی ہے اور پوشیدہ دیوتا مسلسل اس کی ستوتی کرتے ہیں۔ یہ باب گربھ-ستوتی ہے—دیوکی کو پرکرتی، واک، وید، یَجْن کی گربھ روپہ اور ادیتی-دِتی کے طور پر دیو و دیتیہ نسلوں کی اصل کہا گیا ہے۔ وشنو کے رحم میں آنے سے زمین، سمندر، ندیاں، شہر اور سات لوک بھی اس کے رحم میں قائم بتائے گئے ہیں۔ آخر میں خیر و حفاظت کی دعا—دیوی جگت دھارک پر بھگوان کو محبت سے تھامے—یوں وشنو کی ہمہ گیر یکتائی اور جنم کتھا کی بھکتی قربت دونوں مضبوط ہوتی ہیں۔
श्रीकृष्ण-जन्म, वसुदेव-यमुनातरण, बालिका-उत्क्षेपः, देवी-प्रादुर्भावः
پراشر فرماتے ہیں—دیوتاؤں کی حمد کے درمیان دیوکی نے کمَل نَین جگت کے اُدھارک کو گربھ میں دھارا۔ آدھی رات کو جناردن کا جنم ہوا تو ساری کائنات مسرور ہوئی—ہوائیں تھم گئیں، ندیاں شفاف ہو گئیں، گندھرو گانے لگے، اپسرائیں ناچیں اور دیوتاؤں نے پھول برسائے۔ شریوتس کے نشان والے چتُربھُج روپ کو دیکھ کر وسودیو نے کَنس کے خوف سے عرض کی کہ بھگوان اپنا دیویہ پرکاش سمیٹ لیں تاکہ کَنس اوتار کو نہ پہچانے۔ بھگوان نے مختصر کلام فرمایا اور وسودیو رات میں بچے کو لے کر روانہ ہوا؛ یوگ مایا نے پہرے داروں کو موہ لیا، موسلا دھار بارش میں شیش ناگ نے اپنے پھَنوں سے چھتری کی، اور بپھری یمنا گھٹنے بھر ہو کر راستہ دے گئی۔ وِرج میں یشودا کے ہاں لڑکی پیدا ہوئی؛ وسودیو نے بچوں کا تبادلہ کر کے لڑکی کو دیوکی کے پاس رکھ دیا اور لوٹ آیا۔ پہرے داروں نے کَنس کو خبر دی؛ کَنس نے بچی کو چٹان پر پٹخا مگر وہ آسمان میں مہا اَٹھ بھُجا دیوی روپ میں اُٹھی، ہنسی اور بولی—تیرا قاتل کہیں اور جنم لے چکا ہے۔ سِدھوں کی ستائش کے ساتھ وہ رخصت ہوئی؛ کَنس کا خوف بڑھا اور شری کرشن کی محفوظ بال لیلا کا بندوبست پختہ ہوا۔
Kaṃsa’s Council of Asuras and the Strategy Against the ‘Powerful Child’
پراشر میتریہ سے بیان کرتے ہیں کہ خوفزدہ کنس نے پرلمب، کیشی، دھینوک، پوتنا اور ارشٹ جیسے اسروں کو طلب کیا۔ دربار میں کنس نے اندرا اور دیوتاؤں کا مذاق اڑایا اور اپنی طاقت پر فخر کیا۔ اس کے باوجود، اس نے عبادت گزاروں کو ستانے اور غیر معمولی طاقت والے بچوں پر نظر رکھنے کا حکم دیا۔ یوگمایا کی پیشین گوئی سن کر کہ اس کا قاتل کہیں اور پیدا ہو چکا ہے، اس نے واسودیو اور دیوکی کو رہا کر دیا، لیکن دل میں شک لیے وہ اپنے محل لوٹ گیا۔
Vasudeva Meets Nanda; Pūtanā’s Fall; Viṣṇu-Rakṣā (Protective Hymn) in Gokula
پراشر نے میتریہ کو بتایا کہ واسودیو نے نند سے ملاقات کی اور انہیں گوکل واپس جانے کی ترغیب دی۔ گوکل میں، پوتنا نے زہریلا دودھ پلا کر کرشن کو مارنے کی کوشش کی، لیکن کرشن نے اس کی جان کھینچ لی۔ یشودا اور نند نے گائے کی دم سے حفاظتی رسومات ادا کیں اور وراہ اور نرسنگھ اوتاروں کو یاد کرتے ہوئے 'وشنو رکشا' استوتر پڑھا۔ پوتنا کی دیو ہیکل لاش دیکھ کر گوالے حیران رہ گئے۔
Śakaṭa-bhañjana, Naming by Garga, Dāmodara and Yamala-arjuna, and the Move to Vṛndāvana
پراشر میتریہ سے بیان کرتے ہیں کہ دودھ کے لیے روتا ہوا ننھا کرشن گاڑی کے نیچے لیٹا تھا؛ اس نے اوپر کو پاؤں مارا تو شَکَٹ الٹ گیا اور برتن ٹوٹ گئے۔ وِرج کے لوگ دوڑ آئے؛ بچے اور گوپیاں گواہی دیتی ہیں کہ یہ سب شیرخوار کے پاؤں سے ہوا۔ یشودا مَنگل اور شانتि کے لیے پوجا کرتی ہے۔ وسودیو کے بھیجے ہوئے رشی گرگ پوشیدہ طور پر سنسکار کر کے نام رکھتے ہیں—بڑا رام، چھوٹا کرشن۔ بڑھتے ہوئے ان کی بال لیلا اور شرارت بڑھتی ہے؛ یشودا کرشن کو اوکھلی سے باندھ دیتی ہے، اور بندھا ہوا پرمیشور اوکھلی گھسیٹتے ہوئے یمل ارجن کے دو درخت گرا دیتا ہے—اسی سے نام دامودر مشہور ہوتا ہے۔ پوتنا کا گرنا، شَکَٹ بھنجن اور بے سبب درختوں کا گرنا جیسے شگونوں سے گھبرا کر بزرگ وِرِنداون منتقل ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ کرشن کے شُبھ دھیان سے گرمی میں بھی نئی گھاس اُگ آتی ہے؛ بستی آدھے چاند کی صورت میں بسائی جاتی ہے۔ باب کے آخر میں گوال لیلا، موسموں کی تصویرکشی اور نصیحت آموز مثالیں ہیں؛ کرشن اور رام بچوں کے بھیس میں جگت کے رکھوالے بچھڑوں کے چرواہے دکھائی دیتے ہیں۔
कालियदमना: यमुनाशुद्धिः, करुणा-निग्रहः, स्तुति-तत्त्वम्
پراشر میتریہ سے بیان کرتے ہیں—بلرام کے بغیر ورنداون میں گھومتے ہوئے شری کرشن یمنا کے کنارے پہنچے اور کالیا کے زہر آلود ہرد کو دیکھا، جس کی تپش سے درخت اور پرندے جل رہے تھے۔ انہوں نے طے کیا کہ وراج کی شانتی کے لیے بدکاروں کا نگ्रह ہی اوتار کا مقصد ہے۔ وہ کدمب سے جھیل میں کودے؛ ابتدا میں باندھے گئے اور ڈسے گئے۔ گوپ اور گوپیاں غم میں دوڑ پڑیں، نند اور یشودا ششدر رہ گئے، اور نوحہ اٹھا کہ وراج کی جان کرشن پر ہی منحصر ہے۔ بلرام آئے؛ بھگوان کی مہیمہ پہچانی گئی تو طویل ستوتیاں ہوئیں جن میں پرمیشور کی اَچنتیہ برتری اور جگت کی علتِ اوّل ہونا بیان ہوا۔ پھر کرشن نے خود کو آزاد کر کے کالیا کے پھَنوں پر نرتیہ کرتے ہوئے اسے دمن کیا؛ کالیا کی پتنیوں نے شرن لے کر کرپا مانگی۔ کالیا نے اسے سِرشٹی-پرکرتی کا دوش بتا کر سرنڈر کیا؛ کرشن نے حکم دیا کہ یمنا چھوڑ کر سمندر میں چلا جائے اور اپنے چرن چِہنوں کی برکت سے گڑوڑ کے خوف سے حفاظت کا ور دیا۔ سانپ روانہ ہوا، یمنا شُدھ ہوئی اور وراج نے گووند کی جے-ستوتی کی۔
तालवन-उद्धारः: धेनुकासुरवधः, फल-समृद्धिः, गो-क्षेमः
پارشَر میتریہ سے کہتے ہیں کہ بلرام اور کیشو گوال بالوں کے ساتھ گائیں چراتے ہوئے تالون (کھجوروں کے جھنڈ) میں پہنچے۔ وہاں گدھے کی صورت والا دیو دھینک انسانوں اور مویشیوں کو ستاتا اور جنگل کی رکھوالی کرتا تھا۔ خوشبودار پکے پھل دیکھ کر گوال بالوں نے رام-کرشن سے انہیں گرانے کی درخواست کی۔ پھل گرتے ہی دھینک غصّے میں دوڑ کر آیا اور بلرام پر حملہ کیا؛ بلرام نے اسے پکڑ کر گھمایا، مار ڈالا اور نیچے پٹخ دیا۔ پھر کرشن اور بل بھدر نے دھینک کے دیو رشتہ داروں کو بھی ہلاک کر کے کھجوروں کی چوٹیوں پر پھینک دیا۔ زمین پھلوں اور دیوؤں کی لاشوں سے بھر گئی اور بن بےخوف ہو گیا؛ خوف سے آزاد گائیں پہلے سے ناقابلِ رسائی تازہ کونپلیں خوشی سے چرنے لگیں—یہ اشارہ ہے کہ ادھرم مٹ جائے تو فطری خوشحالی لوٹ آتی ہے۔
भाण्डीरवट-क्रीडा: प्रलम्बासुरवधः, मानुष्यलीला, एक-कारण-तत्त्वम्
پاراشر میتریہ سے بیان کرتے ہیں کہ دھینُک کے گرنے کے بعد تالون و्रج والوں کی تفریح کے لائق ہو گیا۔ کرشن اور بلرام بھانڈیر وٹ کے پاس جا کر گوالوں کی کھیلیں اور انسانوں جیسے کام کرتے ہیں؛ گلے میں مالائیں، ہاتھوں میں جُوا کی رسیاں لیے مانُشیہ لیلا دکھاتے ہیں۔ پرلمباسُر گوالے کے بھیس میں گھس آتا ہے؛ کرشن کو ناقابلِ تسخیر جان کر وہ بلرام کو نشانہ بنا کر انہیں اٹھا لے جاتا ہے۔ اسی موقع پر ایک ہی سبب پرماتما کی یاد، وِشورूप، کال، پرلَے اور پُنَہ سِرشٹی، اور بھاراوترن کے لیے دونوں کے اوتار کی تَتّو چَرچا ابھرتی ہے۔ کرشن بلرام کو اپنی یکتائی اور جگت کے کارن ہونے کی یاد دلاتے ہیں، مگر لوک-کارَیہ کے لیے عملی امتیاز قائم رکھتے ہیں۔ دیویہ बल جاگتے ہی بلرام پرلمب کو مہلک ضرب سے مار ڈالتے ہیں؛ گوالے خوش ہو کر کرشن کے ساتھ گوکُل لوٹتے ہیں۔
शरद्वर्णनं, योगोपमा, तथा गोवर्धन-यज्ञप्रवर्तनम्
پراشر میتریہ سے بیان کرتے ہیں کہ وِرج میں رام اور کیشو کے کھیل کے دوران برسات سے خزاں کی طرف تبدیلی یوگ اور ویراغیہ کی تعلیم بن جاتی ہے۔ کم پانی کے تالاب میں مچھلیوں کی تکلیف مमता میں بندھے گِرہستھوں جیسی ہے؛ بادل پانی برسا کر جیسے ہٹ جاتے ہیں ویسے ہی دانا لوگ وابستگی چھوڑ دیتے ہیں؛ پانی اور آسمان کی صفائی یوگ اور ہمہ گیر وشنو کے گیان سے شُدھ چِت کی مثال ہے۔ خزاں کو پرتیاہار (حواس کا کھینچاؤ) اور بھرنے-خالی ہونے کے چکر کو پرانایام سے تشبیہ دی گئی۔ پھر اندر کے وِرج کے خلاف اقدام کا ذکر آتا ہے۔ کرشن شکر-مہایَجْن پر سوال کرتے ہیں؛ نند بارش اور غذا کی زنجیر میں اندر کے کردار کو بتاتے ہیں۔ کرشن وارتّا (زراعت–تجارت–گئوپالن) اور سْوَدھرم کے مطابق کہتے ہیں کہ وِرج کی زندگی گایوں اور گووردھن پر قائم ہے، اس لیے گووردھن اور گایوں کی پوجا ہونی چاہیے۔ سب گووردھن-یَجْن کرتے، برہمنوں کو بھوجن کراتے، گایوں سمیت گِری کی پرکرما کرتے ہیں؛ کرشن پہاڑ-روپ ہو کر نذرانہ قبول کرتے اور ور دیتے ہیں۔
इन्द्रक्रोधः, संवर्तक-वर्षणम्, गोवर्धनधारण-लीला
پراشر میتریہ سے کہتے ہیں کہ روکے جانے پر غضبناک اندرا نے سمورتک بادلوں کے لشکر کو فوراً حکم دیا۔ اس نے برج کی زندگی کی بنیاد، یعنی گائے اور مویشیوں کو نشانہ بنا کر ہولناک آندھی اور موسلا دھار بارش برسائی؛ دنیا پر تاریکی چھا گئی، سمتیں، زمین اور آسمان ایک ہی سیلابی منظر میں گڈمڈ دکھائی دینے لگے؛ بجلی اور گرج نے تباہی بڑھائی اور گائیں بچھڑے سخت تکلیف میں پڑ گئے۔ گोकुल کو ڈوبتا دیکھ کر ہری نے مہندر کے غرور بھرے حملے سے پوری بستی کی حفاظت کا عزم کیا۔ شری کرشن نے گووردھن کو اکھاڑ کر ایک ہاتھ سے عظیم چھتری کی طرح اٹھا لیا اور گوالوں اور گوالنوں کو گاڑیوں اور ریوڑ سمیت اس کے نیچے پناہ لینے کو کہا۔ سات راتیں بادل برستے رہے مگر کرشن ثابت قدم رہے اور برجواسی ان کی ستائش کرتے رہے۔ آخرکار اندرا کی ضد ناکام ہوئی؛ اس نے بادل واپس بلا لیے، آسمان صاف ہوا؛ کرشن نے پہاڑ کو یथास्थان رکھ دیا اور سب لوگ سلامتی سے لوٹ آئے۔
इन्द्र-प्रायश्चित्तं, कृष्णाभिषेकः, गोविन्द-नामप्राप्तिः
پراشر میتریہ سے بیان کرتے ہیں کہ گوکُل کی حفاظت سے اندرا کا غرور دب گیا اور وہ ایراوت پر سوار ہو کر گووردھن پر شری کرشن کے درشن کو آیا۔ اس نے پرمیشور کو گوالے کے روپ میں، لڑکوں کے بیچ گایوں کی رکھوالی کرتے دیکھا؛ گرُڑ پوشیدہ رہ کر ہری پر سایہ کیے تھا۔ خلوت میں اندرا نے ذلت اور تکبر کے باعث ہلاکت خیز آندھی و بارش بھیجنے کا گناہ مانا اور کرشن کی حیرت انگیز حفاظت سے دیوتاؤں کا مقصد پورا ہونے پر اطمینان ظاہر کیا۔ ‘گایوں کی ترغیب’ سے اندرا نے کرشن کا ابھیشیک کیا، انہیں گؤوں میں اُپیندر/اندرا کے طور پر قائم کیا اور ‘گووند’ نام دیا؛ گایوں کے خودبخود بہتے دودھ نے زمین کو بھگو دیا—فراوانی کی علامت۔ پھر اندرا نے بھاراوتَرَن (زمین کا بوجھ ہٹانا) کے سلسلے میں ارجن کی حفاظت اور آنے والی مہایُدھ میں بوجھ بنے دشمنوں کے وध کا اشارہ دیا۔ جناردن کو گلے لگا کر اندرا سوَرگ لوٹ گیا اور کرشن گوپیوں کی نگاہ سے پاک ہوئے راستے سے و्रج واپس آئے۔
गोवर्धनोत्तरविस्मयः, रासलीलाप्रसङ्गः, तथा सर्वव्याप्तिवेदान्तोपदेशः
اِندر کے چلے جانے کے بعد گوپال بال کرشن کے گووردھن اٹھا کر تھام لینے پر حیران ہوتے ہیں اور اب انہیں انسان نہیں سمجھتے؛ پوچھتے ہیں کہ کیا وہ دیو، دانَو، یکش یا گندھرو ہیں؟ کرشن لیلا بھاو سے ان کی گھبراہٹ دور کر کے انہیں قربت اور رشتہ داری کے بھاو میں قائم کرتے ہیں۔ پھر پرाशر میتریہ کو چاندنی میں ورنداون کی راس لیلا سناتے ہیں—گیت کی کشش سے گوپیاں آتی ہیں؛ کوئی حیا سے ہٹتی ہے، کوئی یکسو دھیان میں ڈوبتی ہے۔ پرाशر بتاتے ہیں کہ ایسا سمرن پاپ مٹاتا اور مکتی دیتا ہے، اور کرشن پرَب्रह्म ہیں۔ راس میں ہاتھ تھامنا، دائرہ وار گتی، گان اور تھکن بھکتی بڑھاتے ہیں؛ ساتھ ہی ویدانت کا اُپدیش کہ وشنو ہوا اور عناصر کی طرح شوہر-بیوی سمیت سب جیووں میں سَروَویَاپی ہیں۔
अरिष्टवृषभदैत्यवधः (गोव्रजत्राणम्)
پراشر نے میتریہ کو بتایا کہ شام کے وقت جب جناردن راس لیلا میں مصروف تھے، بیل نما شیطان ارشٹ نے گائے کے باڑے پر حملہ کیا۔ برج کے لوگوں نے 'کرشن! کرشن!' پکارا۔ کرشن نے شیر کی طرح دھاڑ کر اس کا سامنا کیا۔ انہوں نے آسانی سے اس شیطان کو پکڑا، اس کا سینگ اکھاڑ دیا اور اسے ہلاک کر دیا۔ گوالوں نے ان کی اسی طرح تعریف کی جیسے دیوتا اندر کی کرتے ہیں۔ یہ باب بھگوان کی بے پناہ طاقت اور حفاظت کو ظاہر کرتا ہے۔
नारदेन कंसबोधनम्, कंसस्योपायचिन्ता, अक्रूरप्रेषणम् (मथुरागमनप्रस्तावः)
پراشر میتریہ کو شری کرشن کی ورج لیلاؤں کا خلاصہ سناتے ہیں—گووردھن دھارن، کالیا دمن، پوتنا ودھ، شکٹ بھنجن، دھینک و پرلمب اور اریشٹ کا ودھ۔ پھر قصہ متھرا کی طرف مڑتا ہے: نارَد یہ سب واقعات کَنس کو بتاتے ہیں اور یشودا-دیَوکی کے درمیان شیر خوار کی تبدیلی کا راز بھی کھولتے ہیں۔ کَنس غضبناک ہو کر وسودیو اور یادوؤں کو الزام دیتا ہے اور رام-کرشن کو پہلے نہ مارنے پر پچھتاتا ہے۔ وہ دھنُر یَجْیَ میں عوام کے سامنے جال بچھاتا ہے—چانور-مُشٹک کی کشتی، کوولیاپیڑ ہاتھی، اور وسودیو، نند و اُگرسین کے خلاف مزید تشدد کی تدبیر۔ وہ بھکت اَکرور کو گوکُل بھیج کر نند سے دونوں بھائیوں کو متھرا لانے کا حکم دیتا ہے؛ کرشن درشن کی باطنی خوشی سے اَکرور تیزی سے روانہ ہوتا ہے اور کَنس کے زوال کی راہ ہموار ہوتی ہے۔
केशीवधः तथा ‘केशव’ नामप्रसिद्धिः
پراشر میتریہ سے کہتے ہیں—کنس کے قاصدوں کی ترغیب سے دیو کَیشی گھوڑے کی صورت میں ورِنداون میں داخل ہو کر گوالوں کو ستاتا ہے۔ خوف زدہ گوپ اور گوپیاں گووند کی پناہ لیتے ہیں۔ شری کرشن انہیں ڈھارس دے کر کَیشی کی گرج کا جواب دیتے ہوئے جنگ کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔ کَیشی منہ پھاڑ کر دوڑتا ہے؛ جناردن اپنا بازو اس کے منہ میں داخل کر دیتے ہیں—دانت ٹوٹتے ہیں، بازو اندر بڑھتا جاتا ہے اور دیو تھک کر بجلی کے درخت کی طرح دو حصوں میں گر پڑتا ہے۔ گوپ حیران ہو کر پُنڈریکاکش کی ستوتی کرتے ہیں؛ نارَد/دیوتاؤں کی تعریف ظاہر ہوتی ہے اور کَیشی کے وध سے کرشن ‘کیشو’ کے نام سے مشہور ہوں گے—یہ نام کی توجیہ بتائی جاتی ہے۔ آخر میں کرشن گوپوں کے ساتھ گوکُل میں داخل ہوتے ہیں، اپنی لیلا کی سہولت اور ایشور کی بےکلفی دکھاتے ہوئے۔
अक्रूरस्य गोकुलगमनम्—दर्शन-लालसा, अंशावतार-बोधः, विष्णु-स्तुतिः
پراشر میتریہ سے بیان کرتے ہیں—اکرور تیز رتھ پر نند گोकُل گیا، دل میں کرشن کے درشن کی عظیم سعادت کا خیال لیے ہوئے۔ اس کی باطنی گفتگو میں چکر دھاری کے اَمشاوتار ہونے کا بोध، پُنڈریک نین وشنو کے مُکھ درشن، ویدوں کی پیدائش کا مقام بھگوان کا مُکھ، اور یَجْن پُروش پُروشوتم جیسے ویدک-وَیشنو تَتْو نمایاں ہوتے ہیں۔ پراشر وشنو کی ہمہ گیری، دیوتاؤں کے لیے بھی اس کے سوروپ کی ناقابلِ ادراکیت، مایا کے بندھن (باپ-بیٹے وغیرہ رشتے) اور دل میں بسے بھگوان کے سہارے اَوِدیا کی لہروں سے پار ہونے کی تعلیم دیتے ہیں۔ گوکُل میں اکرور نے دودھ دوہتے وقت کرشن کو دیکھا—نیلوُتپل جیسی چھب، شری وَتس نشان، پیتامبر، شیریں مسکراہٹ؛ اور بل بھدر کی کیلاش سمان توصیف۔ درشن سے اکرور پرجوش و پُررومانس ہوا، اسے پرم دھام جان کر سپرش کی یَچنا کی؛ ادھیائے بھکتی اور شَرَناگتی پر ختم ہوتا ہے۔
अक्रूर-सत्कारः, मथुरायात्रा-विरहः, यमुनातटे दिव्यदर्शनम्, चतुर्व्यूह-नमस्कारः
پراشر میتریہ سے کہتے ہیں—اکرور گووند کے پاس جا کر قدموں میں پرنام کرتا ہے؛ دھوج-وجر-پدم کے نشانات والے ہاتھ سے ہری محبت سے اسے گلے لگاتے ہیں۔ بلرام اور کیشو مہمان نوازی کر کے اکرور سے کنس کے ظلم و ستم کی روداد سنتے ہیں۔ شری کرشن پکا ارادہ بتاتے ہیں—تین راتوں کے اندر کنس مارا جائے گا، اور کل متھرا روانہ ہوں گے۔ صبح روانگی کے وقت گوپیاں فراق کی آگ میں جل کر اندیشہ ظاہر کرتی ہیں کہ شہر کی عورتوں کی میٹھی باتوں میں موہت ہو کر وہ واپس نہ آئیں گے؛ رتھ کی دھول دیکھ کر بھی دوری کا دکھ محسوس کرتی ہیں۔ دوپہر یمنا کے کنارے اکرور آہنک کر کے پانی میں اترتا ہے اور پربرہمن کا دھیان کرتے ہوئے الٰہی درشن پاتا ہے—اننت روپ بل بھدر ہزار پھَنوں سے مزین، اور اس کی گود میں چتربھج واسودیو چکر وغیرہ ہتھیاروں سمیت، سدھ-منی-گندھرو-ناگوں کی ستوتی کے بیچ۔ باہر رتھ میں انسانی روپ میں رام کرشن دکھائی دیتے ہیں؛ اس دوہری رویت سے اکرور تتّو جان کر اچیوت کی ستوتی کرتا ہے—وشنو کا محض سَت روپ، نام و جاتی کی قیود سے ماورا ہونا، ایک ہی پرمیشور کی شکتیوں سے جگت کا سہارا، اور پانچ راتر چترویوہ نمسکار (اوم نمو واسودیوائے… سنکرشن… پردیومن… انیردھ)۔
अक्रूरस्य यमुनादर्शनम्, मथुराप्रवेशः, रजकवधः, माल्यजीवकवरदानम्
پراشر میتریہ سے بیان کرتے ہیں—اکرور یمنا کے جل میں وشنو کی منو مَی پُشپ و دھوپ سے پوجا کر کے، وِشَی تیاگ کے ذریعے سمادھی پاتا ہے اور پھر رتھ کی طرف لوٹ آتا ہے۔ رتھ میں رام اور کرشن کو پہلے کی طرح دیکھ کر وہ حیران رہ جاتا ہے؛ کرشن اس کے تعجب کو جان لیتے ہیں۔ متھرا پہنچ کر اکرور شہر میں داخلے کی تدبیر بتاتا ہے؛ شاہراہ پر رام-کرشن عوام کی خوشی اور حیرت کا سبب بنتے ہیں۔ راستے میں کنس کا رَجَک بے ادبی کرتا ہے؛ کرشن ایک ہی تَل پرہار سے اسے گرا دیتے ہیں، کپڑے لے کر پیلا-نیلا امبر دھارن کر کے مالاکار کے گھر جاتے ہیں۔ مالیہ جیَوَک دیوتا سمجھ کر بار بار پرنام کر کے خوشبودار پھول دیتا ہے؛ کرشن پرسن ہو کر ور دیتے ہیں کہ شری کی سمردھی اور آدھیاتمک پھل اسے کبھی نہ چھوڑیں؛ آخر میں دونوں پوجت ہو کر آگے بڑھتے ہیں۔
कुब्जानुग्रहः, धनुर्भङ्गः, कुवलयापीडवधः, मल्लयुद्धं, कंसवधः, स्तुतयः
پراشر بیان کرتے ہیں: کرشن کبجا سے ملتے ہیں، اس کا صندل قبول کرتے ہیں اور اسے خوبصورت بنا دیتے ہیں۔ پھر رام اور کرشن دھنش شالہ جا کر عظیم کمان توڑ دیتے ہیں۔ کنس کوولیاپیڈ ہاتھی اور پہلوانوں کو تعینات کرتا ہے۔ ہاتھی کو مار کر بھائی اکھاڑے میں داخل ہوتے ہیں۔ لوگ کرشن کو وشنو کا اوتار مانتے ہیں۔ کشتی میں کرشن چانور کو اور بلرام مشٹک کو مار ڈالتے ہیں۔ جب کنس واسودیو کو مارنے کا حکم دیتا ہے، تو کرشن اسٹیج پر چڑھ کر کنس کا قتل کر دیتے ہیں۔ آخر میں، وہ والدین کو پرنام کرتے ہیں، اور واسودیو-دیوکی ان کی خدا کے طور پر تعریف کرتے ہیں۔
वैष्णवीमायावितानम्, उग्रसेनाभिषेकः, सुधर्मासभा, सांदीपनिगमनम्, पाञ्चजन्य-प्राप्तिः, गुरुदक्षिणा
پراشر بیان کرتے ہیں—دیوکی اور وسودیو بھگوان کے کرموں کا درشن کرکے گیان اُدے پاتے ہیں؛ تب ہری دوبارہ ویشنوئی مایا پھیلاتا ہے تاکہ یدوونش میں لیلا کا سلسلہ منقطع نہ ہو۔ شری کرشن محبت سے ماں باپ کو سمجھا کر کَنس کے خوف سے ہوئے طویل فراق کا ذکر کرتے ہیں؛ پھر پراشر میتریہ کو ماں باپ کی پوجا کے دھرم کی تعلیم دیتے ہیں۔ کَنس کی بیویاں اور مائیں غم زدہ ہیں؛ آنسو بھری آنکھوں والے ہری انہیں تسلی دیتے ہیں۔ مدھوسودن اُگرسین کو قید سے آزاد کرکے راجیہ ابھیشیک کرتے ہیں؛ اُگرسین پریت کارج ادا کرکے سنگھاسن پر بیٹھتا ہے۔ پھر کرشن وایو کو حکم دیتے ہیں کہ اندر سے سدھرما سبھا یدوؤں کے لیے لے آئے؛ دیویہ سبھا آکر گووند کے آسرے یادیو اس سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ سب کچھ جانتے ہوئے بھی شِشیہ-آچارَیہ مراتب دکھانے کو کرشن-بلرام اونتی میں ساندیپنی کے پاس جاتے ہیں اور 64 دن رات میں راز سمیت دھنُروید سیکھتے ہیں۔ گرو دکشنا میں گرو مُردہ پتر کی واپسی مانگتے ہیں؛ کرشن پنچجن کو مار کر پانچجنّیہ شنکھ لیتے ہیں، یمپوری جا کر بچے کو نکال کر باپ کے حوالے کرتے ہیں اور پھر اُگرسین کے زیرِ نگیں متھرا لوٹ آتے ہیں۔
Jarāsandha’s Sieges and the Lord’s Human-Conforming Strategy (Rāja-dharma as Līlā)
پراشر میتریہ سے کہتے ہیں کہ کَنس نے جراسندھ کی بیٹیوں استی اور پراپتی سے شادی کر کے یادوؤں کے خلاف جراسندھ کے غضب کو بھڑکا دیا۔ جراسندھ تئیس اکشوہِنی لشکر کے ساتھ متھرا کا محاصرہ کرتا ہے، مگر بلرام اور شری کرشن تھوڑے سے ساتھیوں کے ساتھ اس کا مقابلہ کرتے ہیں۔ آسمان سے ان کے ‘قدیم’ دیوی ہتھیار اترتے ہیں—کرشن کے لیے شارنگ دھنش، اَکشیہ ترکش، کَومودکی گدا؛ اور بلرام کے لیے ہل اور سَونند—جو جنگ میں بھی ربانی اقتدار کی علامت ہیں۔ بار بار شکست کے باوجود جراسندھ لوٹ آتا ہے؛ اٹھارہ جنگیں ہوتی ہیں، اور پراشر بتاتے ہیں کہ جب تک دشمن زندہ ہو کرشن اسے ختم شدہ نہیں سمجھتے۔ پھر تعلیم آتی ہے کہ یادوؤں کی قوت دراصل وشنو کے اَمش کی سَنِدھی-مہاتمیہ ہے اور کرشن کی جدوجہد محض لیلا؛ پروردگار صرف ارادے سے سَرشٹی اور لَے کرتا ہے۔ پھر بھی وہ انسانی راج دھرم نبھاتا ہے—طاقتور سے صلح، کمزور سے جنگ، اور سام-دان-بھید-دَند، حتیٰ کہ ضرورت ہو تو پسپائی—اپنی آزادی میں رہ کر راج دھرم دکھاتا ہے۔
Kālayavana’s Rise, Dvārakā’s Founding, and Muchukunda’s Awakening (Śaraṇāgati & Brahman-Stuti)
پارشَر میتریہ کو سناتے ہیں کہ برہمن گارگیہ کی توہین کے سبب وہ جنوب میں سخت تپسیا کرتا ہے؛ مہادیو سے ور پا کر یَوَن سنگت سے کالَیَوَن نامی بیٹا پیدا ہوتا ہے اور تخت نشین ہوتا ہے۔ قوت کے غرور میں کالَیَوَن بڑی مِلِیچھ فوج جمع کر کے متھرا پر چڑھ آتا ہے۔ شری کرشن حکمت سے سوچتے ہیں کہ یادو فوج تھکی ہوئی ہے، اور یَوَن خطرہ مگدھ کے جراسندھ کو بھی قابو میں لانے کا ذریعہ بن سکتا ہے؛ اس لیے وہ ناقابلِ فتح قلعہ بنانے کا عزم کرتے ہیں۔ گووند سمندر سے بارہ یوجن زمین مانگ کر دوارکا بساتے ہیں اور متھرا کے لوگوں کو وہاں محفوظ منتقل کرتے ہیں۔ پھر کرشن بے ہتھیار ہو کر یَوَن راجہ کو پیچھا کراتے ہوئے ایک غار میں لے جاتے ہیں جہاں دیوی ور سے راجا مُچُکُند سو رہا ہے—جو اسے جگائے وہ اس کی آتشیں نگاہ سے راکھ ہو جائے۔ کالَیَوَن سوتے کو مارتا ہے اور فوراً بھسم ہو جاتا ہے۔ مُچُکُند کرشن کو دیکھ کر گَرگ کی پیشین گوئی کے مطابق انہیں وِشنو کا اَمش جان کر طویل ستوتی کرتا ہے—ہری سراسر پھیلا ہوا برہمن ہے، سنسار، مایا، کرم اور نرک سے واحد شَرن، اور سب بھوتوں کا آدھار؛ یوں شَرَناگتی کا تَتّو روشن ہوتا ہے۔
Hari’s Boon to Muchukunda, Security of the Yādus, and Balarāma’s Consolation in Vraja (Viraha-Bhakti)
پراشر میتریہ سے بیان کرتے ہیں—مچوکُند کی حمد سے راضی ہو کر ازل سے موجود ہری اسے مطلوبہ دیویہ لوک عطا کرتے ہیں اور خبر دیتے ہیں کہ آئندہ ایک شریف پیدائش ہوگی جس میں جاتی-سمر (پچھلے جنموں کی یاد) ہوگی اور انجامِ کار موکش حاصل ہوگا۔ مچوکُند غار سے نکل کر کلی کے ظہور کو پہچانتا ہے اور تپسیا کے لیے گندھمادن میں نر-نارائن کے آشرم کی طرف روانہ ہوتا ہے۔ کرشن تدبیر سے دشمن کو ہلاک کر کے متھرا لوٹتے ہیں، شہر کو محفوظ کرتے ہیں اور دواراوَتی میں اُگرسین کو خبر دیتے ہیں؛ یدو وَنش بےخوف ہو جاتا ہے۔ پھر بلرام نند کے گوکُل جاتے ہیں، گوالوں اور گوپیوں سے محبت سے ملتے، گلے لگتے اور ہنسی بانٹتے ہیں۔ گوپیاں وِرہ کی پیڑا سناتی ہیں—اندیشہ کہ کرشن شہری عورتوں کی طرف مائل ہو گئے، ترک کیے جانے کا نوحہ، یاد اور واپسی کی التجا، یشودا کی خاطر بھی؛ وہ ‘کرشن’ ‘دامودر’ پکار کر روتی ہیں۔ رام کرشن کے محبت بھرے پیغام دے کر انہیں تسلی دیتے ہیں اور وراج میں پھر کھیلا کرتے ہیں۔ اس باب میں راج-حفاظت اور وِرہ-بھکتی رس ایک ہی الٰہی افق میں جڑتے دکھائے گئے ہیں۔
बलरामस्य वारुणी-प्रसङ्गः, यमुनाकर्षणम्, लक्ष्मी-प्रदत्त-विभूषणम्, रेवती-विवाहः
پراشر میتریہ سے بیان کرتے ہیں—ون-ویہار کے وقت شیش (اننت) انسانی بھیس میں بھگوان کے ساتھ چلتا ہے۔ کام کی تکمیل دیکھ کر ورُن اننت کے بھوگ کے لیے وارُنی بھیجتا ہے؛ وہ ورِنداون میں کدمب کے کھوکھلے تنے میں ٹھہرتی ہے۔ بلرام مے کی خوشبو پا کر گوپ-گوپیوں کے ساتھ، گیت و ساز کی ستوتی کے بیچ، وارُنی پیتا ہے۔ گرمی سے پسینے کے قطرے چمکتے ہیں اور وہ کہتا ہے—‘یَمُنا، آؤ’؛ ندی اسے مدہوشی کی بات سمجھ کر نہیں آتی۔ غضبناک ہلایُدھ یمنا کو کنارے سے پکڑ کر راستے سے کھینچتا ہوا جنگل میں بہا دیتا ہے؛ خوف زدہ یمنا جسم دھار کر معافی مانگتی ہے تو بلرام اسے چھوڑ دیتا ہے۔ اسنان کے بعد اس کی کانتی بڑھتی ہے؛ کنول کا آویزہ، ایک کُنڈل، ورُن کی بھیجی ہوئی کمل مالا اور لکشمی کی دی ہوئی نیلی پوشاک ملتی ہے۔ دو ماہ برج میں رہ کر وہ دوارکا لوٹتا ہے اور ریوَتی سے بیاہ کرتا ہے؛ ان کے دو پتر نِشٹھ اور اُلمُک ہوتے ہیں۔
रुक्मिणी-हरणम्, विरोधि-राजगणः, रुक्मी-प्रतिज्ञा-पराजयः, प्रद्युम्न-जन्म
پراشر بیان کرتے ہیں—ودربھ کے شہر کُنڈِن میں بھیشمک راجا تھا؛ اس کا بیٹا رُکمی اور بیٹی رُکمِنی۔ شری کرشن رُکمِنی کو چاہتے تھے اور رُکمِنی بھی انہیں؛ مگر چکر دھاری سے عداوت کے سبب رُکمی نے نکاح/ویواہ کی اجازت نہ دی۔ جراسندھ کے اکسانے پر بھیشمک نے رُکمِنی کا بیاہ شِشُپال سے طے کیا اور جراسندھ سمیت کئی راجے کُنڈِن آئے۔ کرشن بلرام وغیرہ یادوؤں کے ساتھ پہنچے؛ بیاہ کے اگلے دن ہری نے رُکمِنی کا ہَرَن کیا اور جنگ کا بوجھ رام وغیرہ عزیزوں پر رکھا۔ پونڈرک، دنت وکر، ودورَتھ، شِشُپال، جراسندھ، شالْو وغیرہ غضبناک ہو کر لڑے مگر یادو شریشٹھوں سے ہار گئے۔ رُکمی نے قسم کھائی کہ ‘کیشو کو مار کر ہی کُنڈِن میں داخل ہوں گا’؛ مگر چکری نے لیلا میں اس کی قوت توڑ کر اسے گرا دیا۔ پھر مدھوسودن نے رُکمِنی کو راکشس-ویواہ کی ریت سے گرہن کیا؛ ان سے مدن اَمش پردیومن پیدا ہوا، جو آگے شمبر-پرسنگ کا بیج بنا۔
प्रद्युम्न-अपहरणम्, मत्स्य-उद्धारः, मायावती-शिक्षा, शम्बरवधः, रुक्मिणी-पुत्र-संगमः
میتریہ کے سوال پر پاراشر بتاتے ہیں کہ پیدائش کے چھٹے دن شمبر نے پردیومن کو اغوا کر کے سمندر میں پھینک دیا، جہاں ایک مچھلی نے اسے نگل لیا۔ مایاوتی نے مچھلی کے پیٹ سے بچے کو پایا اور نارد کے حکم پر اس کی پرورش کی۔ جوانی میں مایاوتی نے اسے حقیقت بتائی اور مایا کا علم سکھایا۔ پردیومن نے شمبر کو ہلاک کیا اور مایاوتی کے ساتھ دوارکا واپس آئے۔ نارد نے رکمنی پر واضح کیا کہ یہ ان کا بیٹا (کامدیو) اور مایاوتی (رتی) ہیں، جس سے سب خوش ہوئے۔
वंशवर्णनम्, अनिरुद्धविवाहः, तथा बलराम-रुक्मी द्यूतविवादः
پراشر میتریہ کو شری کرشن کی وंश-پرَمپرا اور رُکمِنی کی اولاد (چارُوِند وغیرہ) بتاتے ہیں؛ کالِندی وغیرہ دیگر پتنیوں اور سولہ ہزار स्तریوں کے پرِگ्रह کا بھی اختصار سے ذکر کرتے ہیں۔ پردیومن کے وِواہ سے انیرُدھ کی پیدائش ہوتی ہے اور انیرُدھ کے وِواہ کے موقع پر رُکمی اور شَوری کی باقی دشمنی ظاہر ہوتی ہے۔ وِواہ کے بعد رُکمی کی اُکساہٹ سے کلِنگ راج وغیرہ نریش بلرام کے ساتھ جُوا کھیلتے ہیں؛ ابتدا میں بلرام ہارتا ہے، پھر بڑے داؤ پر جیتتا ہے۔ رُکمی جھوٹی جیت کا اعلان کرتا ہے تو آکاش وانی فیصلہ دیتی ہے کہ ‘دھرم اور بل کے ساتھ بلرام ہی جیتا ہے۔’ اس پر بلرام کے غضب سے رُکمی دَیوت-فلک کے وار سے مارا جاتا ہے؛ کلِنگ راج کے دانت ٹوٹتے ہیں اور دوسرے نریش شکست کھاتے ہیں۔ رُکمِنی اور بلرام کے بھاؤ کے ڈر سے کرشن خاموش رہتے ہیں؛ آخر میں کیشو وِواہ-سمپن انیرُدھ کو دوارکا لے جاتے ہیں۔
नरकासुरवधः, अदीतिकुण्डल-प्रत्यर्पणम्, तथा भारावतरण-लीला
دوارکا میں ایراوت پر سوار اندرا (شکر) شری کرشن کے پاس آ کر نرکاسور کے مظالم بیان کرتا ہے اور بھگوان کے محافظانہ روپ کی ستوتی کرتا ہے۔ پرाशر بتاتے ہیں کہ بھوم (نرک) نے پراگ جیوتش پور میں کنیا ہरण، دیویہ سامان کی لوٹ اور ادیتی کے کُنڈلوں کا اپہرن کیا۔ شری کرشن ستیہ بھاما کے ساتھ گرڑ پر سوار ہو کر وہاں جاتے ہیں؛ مورَو پاشوں کو سدرشن چکر سے کاٹ کر مُر، اس کے سات ہزار پتر، ہَیگریو اور پنچجن کو وध کرتے ہیں۔ مہا سنگرام میں بے شمار دیتیوں کا سنہار کر کے آخر میں چکر سے نرکاسور کو مار دیتے ہیں؛ بھومی دیوی کُنڈل پیش کر کے معافی اور سنتان کی حفاظت کی دعا کرتی ہے، بھگوان ‘تथاستु’ فرماتے ہیں۔ بھگوان رتن قبول کر کے ہزاروں کنیاؤں کو دیکھتے ہیں، گج-اشوادی دوارکا بھیجتے ہیں اور کُنڈل واپس کرنے کے لیے سوَرگ روانہ ہوتے ہیں۔
स्वर्गगमनम्, अदितिस्तुतिः-मायातत्त्वम्, तथा पारिजात-प्रसङ्गे इन्द्रयुद्धम्
پرाशر میتریہ سے بیان کرتے ہیں—گرڑ وارُṇ چھتر اور مَنی پربت اٹھا کر ستیہ بھاما سمیت ہریشیکیش کو سُورگ کے دروازے تک لے جاتا ہے؛ بھگوان شنکھ ناد سے دیوتاؤں کو بلاتے ہیں۔ دیوماتا ادیتی کے آشرم میں داخل ہو کر ان کے درشن کرتے ہیں؛ شکر (اندَر) کو ادیتی کے کُنڈل واپس دے کر نرک کے وध کی خبر سناتے ہیں۔ ادیتی ستوتی کرتی ہیں؛ اسی ضمن میں مایا تتّو، تری گُṇاتیت ہونا، سَرواتم بھاو اور ستوتی کا مقصد سمجھایا جاتا ہے، اور میتریہ پوچھتے ہیں: ‘پُورن کی ستوتی کیوں؟’ پھر ادیتی ستیہ بھاما کو ور دیتی ہیں کہ بڑھاپا اور بدصورتی نہ ہو۔ دیو اُدّیان میں پاریجات دیکھ کر ستیہ بھاما اسے دوارکا لے جانے کی خواہش کرتی ہیں؛ بن کے رکھوالے اور شچی (اندَرانی) مخالفت کرتے ہیں۔ پیغام و جواب کے بعد اندَر دیو سینا سمیت جنگ کو آتا ہے؛ کرشن شنکھ ناد کر کے تیروں کی بارش کرتے ہیں، دیواستر لیلا سے کاٹ دیتے ہیں، گرڑ بھی دیوتاؤں کو چیر دیتا ہے۔ آخر میں وجر اور چکر کا ٹکراؤ؛ ہری وجر تھام کر چکر نہ چھوڑتے ہوئے اندَر کو روک دیتے اور دیوتاؤں کو शांत کرتے ہیں—بتاتے ہیں کہ جنگ بھی ایشور کی لیلا اور دھرم کے استحکام کی تدبیر ہے۔
पारिजातहरणम्, द्वारकाप्रवेशः, षोडशसहस्रविवाहः (Pārijāta, Return to Dvārakā, and the Lord’s Many Forms)
پراشر میتریہ کو پارिजات کے نزاع کا انجام سناتے ہیں۔ شری کرشن پُرسکون اقتدار کے ساتھ اندر کو ستیہ (سچائی) اور حق دارانہ مقام کی یاد دہانی کراتے ہیں اور اس کا وجر واپس دے کر بغیر عداوت کے دیوی مر्यادا قائم کرتے ہیں۔ اندر مان لیتا ہے اور درخواست کرتا ہے کہ پارिजات کو دوارکا لے جایا جائے۔ ہری دوارکا لوٹ کر شہر کے اوپر شنکھ بجاتے ہیں اور ستیہ بھاما کے ساتھ محل کے باغ میں پارिजات نصب کرتے ہیں؛ اس کی خوشبو اور یادوں کو جگانے والی قوت بیان ہوتی ہے، پھر درخت پر بندھی غیر انسانی صورتوں کا نحوست بھرا منظر دکھائی دیتا ہے۔ آگے کرشن نرک کے مالِ غنیمت کو قبول کر کے بچائی گئی کنواریوں سے شُبھ مُہورت میں دھرم کے مطابق پانی گرہن کے ساتھ نکاح/ویواہ کرتے ہیں۔ ہر بیوی کے پاس پوری طرح موجود رہنے کے لیے مدھوسودن اتنی ہی صورتیں ظاہر کرتے ہیں جتنی دلہنیں ہیں اور رات کو سب کے گھروں میں قیام کرتے ہیں—لیلا میں پرمیشور کی ہمہ گیری اور لامحدود قدرت روشن ہوتی ہے۔
हरेः पुत्रविस्तारः तथा ऊषानिरुद्धकथा-प्रारम्भः (Kṛṣṇa’s Progeny and the Beginning of the Uṣā–Aniruddha Episode)
پراشر میتریہ کو تعلیم دیتے ہوئے کرشن کے متعدد رانیوں سے پیدا ہونے والے بیٹوں کا ذکر کرتا ہے اور وِرِشنی خاندان کی شاخوں کو پھیلاتا ہے۔ وہ پردیومن کو سب سے برتر بتا کر نسب کو انِرُدھ اور وَجر تک پہنچاتا ہے۔ پھر بाण کی بیٹی اور بَلی کی پوتی اُوشا کے ساتھ انِرُدھ کے نکاح کا آغاز کر کے آنے والے تصادم کی جھلک دکھاتا ہے۔ میتریہ پوچھتا ہے کہ ہری–ہر جنگ کیسے اٹھی اور بाण کے بازو کیسے کاٹے گئے۔ پراشر پس منظر سناتا ہے—اوشا شِو اور پاروتی کی زوجیت دیکھ کر ویسا ہی سہارا چاہتی ہے؛ گوری اسے تسلی دے کر ویشاکھ شُکل دوادشی کے خواب کی نشانی بتاتی ہے۔ اوشا خواب میں مقدر مرد کو دیکھ کر بے قرار ہوتی ہے؛ یوگ فن میں ماہر سہیلی چترلیکھا دیوتاؤں، جانداروں اور انسانوں کی تصویریں بناتی ہے۔ آخرکار اوشا کی نظر پردیومن کے بیٹے انِرُدھ پر ٹھہر جاتی ہے اور یہی کشش یوگ کے ذریعے ہَرن اور پھر جنگ کی علتوں کی زنجیر چلا دیتی ہے۔
बाणयुद्धम्, हरिहरसंवादः, ज्वरप्रकरणम्, अनिरुद्धमोचनम् (Bāṇa’s War, the Jvara Episode, Hari–Hara Dialogue, and Aniruddha’s Release)
پراشر بाण کی جنگی خواہش اور شِو کے ردِّعمل کا بیان کرتے ہیں۔ چترلیکھا یوگ-بل سے انیرُدھ کو اُوشا کے کمرے میں لے آتی ہے؛ راز کھلنے پر وہ پہرے داروں کو ہرا دیتا ہے، مگر وزیروں کے مشورے سے بाण مایا رچ کر ناگاستر سے اسے باندھ دیتا ہے۔ نارَد یادوؤں کو خبر دیتا ہے؛ ہری بلرام اور پردیومن کے ساتھ گرُڑ پر سوار ہو کر شوṇیت پور پر چڑھائی کرتا اور پرمَتھوں کو نیست و نابود کرتا ہے۔ ماہیشور جَور کرشن کے سامنے آتا ہے، مگر ویشنو جَور اسے پسپا کر دیتا ہے؛ برہما معافی مانگتا ہے۔ کرشن ویشنو جَور کو اپنے اندر سمو لیتا ہے؛ جَور بر دیتا ہے کہ اس جنگ کا سمرن کرنے والے بخار سے آزاد ہوں گے۔ جنگ بڑھتی ہے؛ شِو، کارتّکیہ وغیرہ لڑتے ہیں؛ گووند کا جِرمبھناستر شِو کو مضمحل/مبہوت کر دیتا ہے، گُہا ہٹ جاتا ہے۔ کرشن سُدرشن اٹھاتا ہے تو کوٹوی ظاہر ہوتی ہے؛ پھر بھی بाण کے بازو کاٹ دیے جاتے ہیں۔ شِو کرشن کو پُروشوتم مان کر ستوتی کرتا اور بر کی حفاظت چاہتا ہے؛ کرشن اَبھید کا اُپدیش دیتا ہے۔ آخر میں انیرُدھ اور اُوشا آزاد ہو کر دوارکا لوٹتے ہیں۔
पौण्ड्रक-वधः, कृत्या-प्रशमनम्, वाराणसी-दाहः
میتریہ کے سوال پر پاراشر نے پونڈرک کی کہانی بیان کی۔ جاہل پونڈرک خود کو اوتار سمجھتا تھا۔ شری کرشن نے اسے اور کاشی کے بادشاہ کو ہلاک کر دیا۔ کاشی کے بادشاہ کے بیٹے نے شیو جی کو خوش کر کے کرشن کو مارنے کے لیے 'کرتیا' (ایک تباہ کن طاقت) حاصل کی۔ کرشن نے سدرشن چکر چھوڑا، جس نے کرتیا کا پیچھا کیا، وارانسی شہر کو جلا کر راکھ کر دیا اور واپس بھگوان کے پاس لوٹ آیا۔
साम्ब-हरणम्, बलदेवस्य रोषः, हस्तिनापुर-आकर्षणम्
میتریہ کے سوال پر پراشر نے سامب کا قصہ بیان کیا۔ سامب نے دُریودھن کی بیٹی کو اغوا کیا تو کورووں نے اسے قید کر لیا۔ بلرام امن کے لیے ہستینا پور گئے، لیکن کورووں نے یادووں کی توہین کی۔ غصے میں آکر بلرام نے اپنے ہل سے شہر کو کھینچنا شروع کر دیا۔ خوفزدہ کورووں نے معافی مانگی اور سامب کو رہا کر دیا۔
द्विविद-वधः, यज्ञ-विध्वंस-निवारणम्, बलदेव-पराक्रम-समाहारः
پراشر بلدیَو کے دیگر پرाकرم بیان کرتے ہیں۔ نرکاسُر کا دوست دْوِوِد نامی بندر دیوپکش کا مخالف بن کر عداوت کے سبب یَجْیوں کو برباد کرتا، سادھو-مریادا توڑتا، گاؤں اور شہر جلاتا، پہاڑ پھینکتا، سمندر کو مضطرب کرتا، ساحلی بستیوں کو ڈبو دیتا اور فصلیں تباہ کرتا ہے—یوں جگت میں سوادھیائے اور وشٹکار ماند پڑ جاتے ہیں۔ ایک بار رَیوَت اُدیان میں بلدیَو ریوَتی کے ساتھ پینے اور کھیل میں تھے کہ دْوِوِد آیا، ہل-مُوسل کا مذاق اڑایا، عورتوں کے سامنے بھی تمسخر کیا اور پینے کا برتن پھینکا۔ غضبناک بلدیَو نے مُوسل اٹھایا؛ دْوِوِد کی پھینکی ہوئی چٹان مُوسل سے ہزار ٹکڑوں میں بٹ گئی۔ دْوِوِد نے سینے پر وار کیا، مگر آخرکار بلدیَو نے مُٹھی سے اس کے سر پر ضرب لگا کر اسے گرا دیا؛ گرتے جسم سے پہاڑی چوٹی بھی سو حصوں میں پھٹ گئی۔ دیوتاؤں نے پھول برسائے اور کہا: ‘جگت کا اُپدرَو مٹ گیا۔’ پراشر نتیجہ دیتے ہیں کہ شیش-سوروپ دھرتی دھار بلدیَو کے یہ بےپایاں کرم فطری ہیں۔
यादवक्षयः, बलराम-निर्याणम्, कृष्णस्य उपसंहारः (प्रभासे विनाशः)
پراشر میتریہ کو بیان کرتے ہیں کہ پھالگُن (ارجن) کے ساتھ زمین کا بوجھ اتار کر شری کرشن اب اپنی ظاہری لیلا کے اختتام کی تیاری کرتے ہیں۔ میتریہ پوچھتے ہیں کہ جناردن برہمنوں کے شاپ کو بہانہ بنا کر اپنے ہی کُل کا سنہار کیسے کراتے اور انسانی جسم کیسے چھوڑتے ہیں۔ پراشر سامب کا واقعہ سناتے ہیں: نوجوانوں نے رشیوں کا مذاق اڑایا تو لوہے کا مُسل پیدا ہوا؛ اسے پیس کر برادہ کر دیا گیا، پھر بھی تقدیر نہ ٹلی—ایرک کی نلیں اُگیں اور آخر کا لوہے کا ٹکڑا شکاری جرا تک پہنچا۔ دیودوت دیوتاؤں کی درخواست لاتا ہے؛ کرشن کہتے ہیں کہ یادو-کشیہ شروع ہو چکا، سات راتوں میں پورا ہوگا اور دوارکا سمندر میں لَین ہو جائے گی۔ بدشگونیاں ظاہر ہوتی ہیں؛ پرایَشچت کے لیے پربھاس جا کر مے نوشی سے جھگڑا بھڑکتا ہے اور ایرک کی نلیں وجر کی مانند بن کر باہمی قتل و غارت کا سبب بنتی ہیں۔ پھر بلرام اننت روپ میں روانہ ہوتے ہیں؛ کرشن دارُک سے کہتے ہیں کہ ارجن کو بلا کر لوگوں کی حفاظت کرو۔ یوگ میں استھت کرشن کے پاؤں میں جرا تیر مارتا ہے؛ کرشن اسے معاف کر کے سُرگ دیتے ہیں اور آخرکار واسودیو-ویاپت اَکشر برہمن میں لَین ہو کر جسمانی گتی سے ماورا ہو جاتے ہیں۔
अर्जुनस्य अन्त्येष्टि, द्वारकाप्लावनम्, कलिप्रवेशः, कालोपदेशः
پراشر میتریہ سے کہتے ہیں کہ ارجن نے شری کرشن اور بلرام کی انتیم کرِیا (آخری رسومات) ادا کیں اور پھر دوسروں کی بھی۔ رکمنی کی قیادت میں کرشن کی رانیوں اور بلرام کی ریوَتی نے آگ میں پرَوِش کیا؛ اُگرسین، وسودیو، دیوکی اور روہِنی بھی پَوِتر اگنی میں لَین ہو گئے۔ ارجن وجر کو ساتھ لے کر لوگوں کو باہر لے گیا؛ سُدھرما سبھا اور پاریجات درخت سوَرگ لوٹ گئے۔ ہری کے پرَستان کے اسی دن کَلی کا پرَوِش ہوا؛ خالی دوارکا سمندر سے ڈوب گئی، مگر بھگوان کا نِواس بچا رہا—اس کی نِتیہ پَوترتا کی نشانی۔ پنچنَد میں لوگوں کو بسا کر ارجن پر آبھیر/دَسیو کے حملے ہوئے؛ گاندیو ٹھیک سے چڑھ نہ سکا، اَستر یاد نہ رہے—یہ ظاہر ہوا کہ اس کی شکتِی کرشن کی سَننِدھی پر نِربھر تھی۔ عورتیں اُٹھا لی گئیں؛ ارجن نے ویاس کے سامنے وِلاپ کیا، ویاس نے اسے کال کی اٹل گتی اور ہری کی لیلا بتایا۔ پراشر کی شکشا یہ ہے کہ سِرشٹی اور پرَلے کال کے ادھین، پرَبھو کے نِیَم سے ہوتے ہیں؛ اوتار کا کارَی پورا ہو تو بھگوان شکتی سَمہار لیتے ہیں۔ پانڈو پریکشِت کو بٹھا کر وَن کو روانہ ہوئے۔
Amsha 5 centers on Kṛṣṇa’s avatāra (aṁśāvatāra) in the Yadu lineage, framed by Parāśara’s teaching that Viṣṇu is Jagat-kāraṇa. It narrates Bhūdevī’s burden, the devas’ petition at Kṣīrābdhi, and the divine plan culminating in Kṛṣṇa’s birth and Kaṁsa’s eventual destruction.
Parāśara repeatedly identifies all beings—devas, asuras, worlds, elements, and even time—as Viṣṇu’s vibhūtis, indicating both material pervasion (upādāna) and sovereign governance (nimitta). The avatāra is then explained not as compelled karma, but as a free, dharma-protecting assumption of form.
Yogamāyā is shown as Viṣṇu’s own śakti that executes the avatāra’s logistics: implanting the six embryos, transferring the seventh to Rohiṇī (Saṅkarṣaṇa), placing herself in Yaśodā’s womb, and enabling the exchange that protects Kṛṣṇa from Kaṁsa.
Read Vishnu Purana in the Vedapath app
Scan the QR code to open this directly in the app, with audio, word-by-word meanings, and more.