
तृतीयांशः (मन्वन्तर-वेदव्यास-प्रकरणम्)
Manvantaras and Divine Governance
تیسرے اَمش میں پاراشر–مَیتریہ کے گرو-شِشیہ مکالمے کا رُخ کائناتی جغرافیہ سے ہٹ کر خود زمانے کی حکمرانی کی طرف ہو جاتا ہے—یعنی منونتر (Manvantara) کی ترتیب اور وحیِ وید کی دورانی حفاظت۔ مَیتریہ منونتر کے حکمرانوں، ہر دور کے منو، اِندر، دیو-گن، سَپت رِشی اور منو کی نسل کی مسلسل روایت دریافت کرتے ہیں۔ پاراشر پہلے سات منونتر—موجودہ وَیوَسوَت منونتر تک—کا نقشہ کھینچتے ہیں، پھر آئندہ سات منونتر بھی بیان کر کے چودہ منونتر والی کَلپ-ساخت کو مکمل کرتے ہیں۔ اس اَمش کا عقیدتی مرکز وِشنو کو جگت-کارن ماننا ہے—وہی نِمِتّ (مؤثر) سبب بھی ہے اور اُپادان (مادّی) سبب بھی۔ اس کی سَتّوَ-پرادھان شکتی ہر یُگ میں کائنات کو استحکام بخشتی ہے؛ یہی استحکام ہر عہد میں ایک “الٰہی اقتدار” کی صورت میں عالم کی نگہبانی کرتا ہے۔ متن واضح کرتا ہے کہ منو، اِندر، دیوتا، رِشی اور راجا—یہ سب وِشنو کی وِبھوتیاں ہیں؛ اور “وِشنو” نام کی توجیہ ‘وِش’ دھاتو سے کی جاتی ہے—یعنی ہر شے میں سرایت کرنا اور اندر داخل ہونا۔ ہر منونتر میں وہی پالنے والا بھگوان مختلف ناموں سے ظاہر ہوتا ہے—یَجْنَ، اَجِت، سَتیہ، ہَری، سَمبھوت، وَیکُنٹھ اور وَامَن۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دھرم کی حفاظت زمانے کے چکر میں باقاعدہ اور مسلسل نظام ہے، محض ایک وقتی واقعہ نہیں۔ اور دْواپر یُگوں میں وہی پروردگار ویدویاس بن کر ایک وید کو انسانی استعداد کے مطابق تقسیم کرتا ہے، تاکہ شروتی-گیان محفوظ رہے۔ یوں تیسرا اَمش منونتر-نظام، الٰہی مناصب کی تعیین اور وِیاس-اصول کے ذریعے وِشنو کی ہمہ گیر ربوبیت اور دھرم و گیان کی دائمی پاسبانی کو نمایاں کرتا ہے۔
मन्वन्तर-क्रमः (अतीत-सप्तमन्वन्तराः) तथा मन्वन्तरावताराः
مَیتریہ نے پہلے بیان کردہ کائناتی ترتیب اور دھرو–پرہلاد کے واقعات سن کر پرَاشَر سے منونتروں کی ترتیب، ان کے منو اور اِندراؤں کے بارے میں پوچھا۔ پرَاشَر پہلے چھ منوؤں کا ذکر کر کے موجودہ ساتویں منونتر کو وَیوَسوت (شرادھ دیو) منو قرار دیتے ہیں، اور ہر منونتر میں دیوگن، اِندر کا نام، سَپت رِشی، اور منو کے بیٹے/شاہی نسلیں (خصوصاً سواروچِش سے ویوسوت تک) بیان کرتے ہیں۔ پھر وہ عقیدۂ خلاصہ پیش کرتے ہیں کہ سَتّوَ پرَधान وشنو-شکتی ہی تمام منونتروں میں حفاظت و پرورش کی قوت بن کر قائم رہتی ہے۔ ہر منونتر میں وہی بھگوان یَجْن، اَجِت، سَتْیَ، ہَری، سَنبھوت، ویکُنٹھ، وَامَن وغیرہ نام و روپ سے ظاہر ہو کر جیووں کی رکھشا اور دھرم-انتظام کی بحالی کرتے ہیں؛ وامن کے تری وِکرم سے اِندر کو راجیہ بھی عطا ہوتا ہے۔ آخر میں سب کائناتی عہدوں کو وشنو کی وِبھوتیاں بتا کر ‘وِش’ دھاتو سے ‘وشنو’ کے معنی—ہمہ گیر نفوذ اور برتر علت—واضح کیے جاتے ہیں۔
भविष्य-मन्वन्तराः (अष्टम-चतुर्दश) तथा कल्प-युग-व्यवस्था
مَیتریہ آنے والے باقی منونتر (منونتراؤں) کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ پاراشر سنجنا اور چھایا کے پس منظر میں سورَیَوَمش کی روایت بیان کرکے ساوَرنی منو کا تعارف کراتے ہیں، اور بتاتے ہیں کہ وشوکرما نے سورج کی تپش کو معتدل کیا جس سے دیوی ہتھیار بنے—خصوصاً وِشنو کا چکر۔ پھر وہ مستقبل کے ۸ سے ۱۴ منونتر تک ہر ایک کے منو، دیوگن اور ان کی تعداد، اِندر، سپترشی اور منو کے شاہی بیٹوں کا ذکر کرتے ہیں۔ باب میں کائناتی زمانہ بھی واضح ہوتا ہے—یوگ کے اختتام پر ویدک روایت میں خلل پڑتا ہے جسے سپترشی دوبارہ قائم کرتے ہیں؛ ہر کِرت یوگ میں منو اسمِرتی جاری کرتا ہے؛ دیوتا منونتر کی مدت تک قائم رہتے ہیں اور منو کی نسل کے ذریعے زمین کی حفاظت ہوتی ہے۔ ہزار یوگ کے پیمانے میں چودہ منونتر کی تکمیل کو کلپ کہا گیا ہے؛ اتنی ہی طویل پرلے رات میں جناردن شیش پر آرام فرماتے ہیں اور اگلے کلپوں میں پھر سृष्टی رچتے ہیں۔ آخر میں وشنو کو یوگ-ناظم بتایا گیا ہے—کرت میں کپل کی مانند گیان، تریتا میں چکرورتی ہوکر ادھرم کا نگہبانہ قمع، دواپر میں ویاس روپ سے وید کی تقسیم، اور کلی کے آخر میں کلکی بن کر دھرم کی بحالی۔
वेदव्यास-परम्परा तथा प्रणव-ब्रह्म-स्तुति
مَیتریہ اس سِدّھانْت کی تصدیق کرتے ہیں کہ سب کچھ وِشنو ہی کا ہے، وِشنو میں ہے اور وِشنو ہی سے ہے؛ پھر پوچھتے ہیں کہ ہر ہر یُگ میں بھگوان ویدویاس کے روپ میں وید کی بار بار تقسیم کیسے کرتے ہیں۔ پاراشر بتاتے ہیں کہ ہر دْواپر میں وِشنو ویاس بن کر ایک ہی وید کو کمزور قوت و استعداد والے جیووں کے ہِت کے لیے متعدد حصّوں میں مرتب کرتے ہیں، اور وید کو بے شمار شاخوں والے درخت سے تشبیہ دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وایوسوت منونتر میں یہ عمل اٹھائیس بار ہوا ہے؛ سْویَمبھو اور پرجاپتی سے لے کر اُشنا، برہسپتی، سَوِتْر، مرتیو، اِندر، وَسِشٹھ وغیرہ اٹھائیس ویاسوں کی پرمپرا بیان کرتے ہوئے پاراشر سے کرشن دْوَیپایَن تک نسب نامہ سناتے ہیں اور آئندہ ویاس (درَونی) کا بھی اشارہ دیتے ہیں۔ پھر باب حمدیہ رنگ اختیار کرتا ہے: پرنَو ‘اوم’ ہی برہمن ہے، ویدوں کا جوہر، سِرشٹی و پرلَے کا سبب، اور وہی واسودیو/پرماتما۔ وید کی تفریق اور اس کی کامل وحدت—دونوں—ایک ہی اَننت بھگوان میں قائم ہیں جو خود گیان ہے اور تمام شاکھاؤں کا پرچارک۔
वेदव्यासः, चातुर्होत्रम्, ऋग्वेदशाखाः (Vyāsa’s Veda-division and Ṛgveda lineages)
پراشر میتریہ کو بتاتے ہیں کہ آدی وید ‘چتُشپاد’ ہے، مگر کائنات کو سنبھالنے والا یَجْنَ تَتْو اس سے بھی زیادہ وسیع ہے۔ اٹھائیسویں وقفے میں نارائن سوروپ ویدویاس یُگ کے بدلتے دھرم کو دیکھ کر ایک وید کو چار ویدوں میں تقسیم کر کے محفوظ کرتے ہیں۔ برہما کی ترغیب سے وہ پَیل کو رِگ وید، ویشمپاین کو یَجُر وید، جَیمِنی کو سام وید، سُمنتو کو اَتھرو وید اور اِتیہاس–پُران کے لیے رَوْمَہَرشن کو مقرر کرتے ہیں۔ پھر چاتُرہوتر (چار پجاریانہ فرائض) کی توضیح کرتے ہوئے ربط بتاتے ہیں—اَدھوریو–یجُس، ہوتَرِ–رِک، اُدگاتَرِ–سام، برہمن–اَتھرو۔ اس کے بعد رِگ وید کی شاخیں بیان ہوتی ہیں: پَیل کی دو سنہتائیں اِندرپرمتی اور باشکل کو؛ باشکل کی چار تقسیمیں اور بَودھْی، اَگنی، مَاٹھَر، یاجْنَولکْیَ، پراشر وغیرہ ذیلی سلسلے؛ اِندرپرمتی سے مانڈوکیہ وغیرہ کی روایت؛ اور شاکلیہ کی پانچ سنہتائیں مُدگَل، گَلَو، واتْسْیَ، شالیہ، شِشِر کو—کالاینی، گارگیہ، جاو وغیرہ ذیلی شاخوں سمیت بہوَرِچ روایت کا اختتام۔
यजुर्वेदशाखाः, याज्ञवल्क्य–वैशम्पायनसंवादः, सूर्यस्तुतिः (Yajurveda branches and Yājñavalkya’s solar revelation)
پراشر میتریہ سے کہتے ہیں کہ ویاس کے شاگرد ویشمپاین نے یجروید کی ستائیس شاخائیں پیدا کر کے سلسلۂ نسب میں منتقل کیں۔ برہمرات کا بیٹا یاج्ञولکیہ باادب اور دھرم شناس شاگرد تھا۔ مہامیرُو سے متعلق قدیم رشیوں کے عہد کے پس منظر میں ویشمپاین حد سے بڑھتا ہے اور توہین کے سبب بہن کے بیٹے کو قتل کر کے برہماہتیا کے پاپ میں مبتلا ہوتا ہے۔ وہ اپنے بدلے شاگردوں کو پرایَشچتّ ورت کرنے کا حکم دیتا ہے۔ یاج्ञولکیہ اپنے تیجس کا دعویٰ کر کے اکیلا کرنے کو کہتا ہے؛ گرو کرودھ میں کہتا ہے: ‘جو سیکھا ہے واپس کرو۔’ یاج्ञولکیہ یجُس منتر اگل دیتا ہے؛ دوسرے برہمن تتّری پرندے بن کر انہیں چن لیتے ہیں—اسی سے تَیتّرییہ روایت بنی۔ پھر یاج्ञولکیہ پرانایام کر کے سَوِتا/بھاسکر/ویوسوان سورج کی ستوتی کرتا ہے—تری وید کا سرچشمہ، وشنو روپ، کال کا سوامی اور کرموں کو پاک کرنے والا۔ سورج گھوڑے کی صورت میں ظاہر ہو کر ‘ایاتایام’ نام کے نئے یجُس عطا کرتا ہے؛ انہیں سیکھنے والے ‘واجِن’ کہلاتے ہیں، اور کانَو وغیرہ پندرہ واجسنیئی شاخیں یاج्ञولکیہ سے جاری ہوئیں۔
सामवेद–अथर्ववेदशाखाः, पुराणसंहिता, अष्टादशपुराणानि, विद्यास्थानानि (Sāma/Atharvan branches, Purāṇa compendium, 18 Purāṇas, knowledge taxonomy)
پراشر میتریہ کو بتاتے ہیں کہ جیمِنی نے سام وید کو کیسے تقسیم کیا۔ سُمنتو اور سُکَرما کے ذریعے روایت محفوظ رہی؛ سُکَرما کے بیٹے نے سنہتا کو ہزار شاخاؤں میں پھیلایا، جسے دو عظیم ورت والے شاگردوں نے حاصل کیا۔ ہِرَنیَنابھ، کَوسَلیہ، پَوشپِنجی اور پندرہ اُدیچیہ سامگوں کے نام آتے ہیں؛ ہِرَنیَنابھ سے پراچیہ سامگ پیدا ہوئے۔ لوکاکشی، کُتھُمی، کُشی دی اور لَانگَلی نے کئی شاخائیں بڑھائیں؛ کِرتی نے چوبیس سنہتائیں سکھائیں۔ پھر اتھروَن وید کی ترسیل میں سُمنتو نے کَبَندھ کو پڑھایا؛ کَبَندھ نے دیودرش اور پَتھْیَ کے لیے تقسیم کی۔ دیودرش کے شاگرد: مَودگ، برہما بَلی، شَولکاینی اور پِپّلاَد؛ پَتھْیَ کی لڑی میں جاجَلی، کُمُدادِی اور شَونک، جس نے بَبھرو اور سَیندھَو (سَنج्ञِن) تک پہنچایا اور آنگِرس، شانتی کَلپ وغیرہ کے کَلپ بتائے۔ اس کے بعد پراشر پُران-سنہتا کا خاکہ دیتے ہیں جو ویاس نے رومہَرشَن کو سونپی اور چھ شاگردوں سے چلی؛ کاشیَپ، ساوَرنی، شَامشپایَن اور رومہَرشَنِکا کی مُول سنہتاؤں کا ذکر ہے۔ باب میں اٹھارہ پُران اور پانچ لکشَن (سرگ، پرتِسرگ، وंश، منونتر، وंशانوچرت) گنوائے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ یہی بیان ویشنو پُران ہے—ان سب موضوعات میں اعلیٰ سبب اور معنی صرف بھگوان وِشنو ہی ہیں۔
यमस्य अधिकारभङ्गः — वैष्णवस्य लक्षणम् (Freedom from Yama through Hari-śaraṇāgati)
تخلیق کے نظم کو سن کر میتریہ پرाशَر سے پوچھتے ہیں کہ موت کے بعد انسان کو یم کے اختیار میں جانے سے کون سا عمل بچاتا ہے۔ پرाशَر گواہیوں کی زنجیر کے ذریعے جواب دیتے ہیں—نکُل–بھیشم کا مکالمہ، جاتि-سمر کالِنگ برہمن، اور یم کے دوتوں کی گفتگو۔ یم اپنے پاش بردار خادم کو حکم دیتا ہے کہ مدھوسودن کے شरणागत بھکتوں کے قریب نہ جانا؛ میرا اقتدار صرف غیر ویشنوؤں پر ہے۔ پھر ویشنو بھکت کی نشانیاں بیان ہوتی ہیں: سْوَدھرم میں ثابت قدمی، دوست و دشمن میں برابری، اہنسا، سچائی، حسد سے پاکی، مال و دولت اور پرائے مال سے بے رغبتی، اور جناردن کا مسلسل سمرن، خصوصاً کلی کے میل سے بے داغ رہنا۔ جیسے زیور میں سونا اور سورج کی روشنی میں اندھیرا نہیں رہتا، ویسے ہی دل میں ہری کی حضوری گناہ مٹا دیتی ہے۔ نتیجہ: جو صرف کیشو کا سہارا لے، اسے نہ یم چھو سکتا ہے نہ اس کے دوت نہ عذاب۔
विष्ण्वाराधन-फलम् तथा वर्णधर्माः (Worship of Vishnu through Varṇa-dharma)
مَیتریہ پوچھتے ہیں کہ سنسار پر غلبہ چاہنے والے وِشنو کی عبادت کیسے کرتے ہیں اور اس کا پھل کیا ہے۔ پاراشر، ساگر کے اورو سے کیے گئے قدیم سوال کی مثال دے کر کہتے ہیں کہ گووند کی آرادھنا سے دنیوی مقاصد، سُورگ، بلند مرتبے اور آخرکار پرم نِروان بھی حاصل ہوتا ہے۔ اصل اصول یہ ہے کہ وِشنو بنیادی طور پر ورن-آشرم-آچار کی پابندی سے خوش ہوتے ہیں؛ اُنہیں راضی کرنے کا کوئی جدا راستہ نہیں، کیونکہ ہری سب جانداروں کی آتما ہیں، اس لیے ہر عمل اُنہی تک پہنچتا ہے۔ غیبت و بہتان، جھوٹ اور فساد انگیز کلام سے پرہیز؛ پرائی عورت/پرائے مال کی نیت نہ کرنا؛ اہنسا؛ دیوتاؤں، دْوِجوں اور گرو کی خدمت؛ سب کی بھلائی؛ راگ وغیرہ دَوشوں سے پاکیزگی—یہ سب آرادھنا کے طریقے بتائے گئے ہیں۔ پھر برہمن کے دان-یَجْن-سوادھیائے-اگنی کرم، کشتری کے تحفظ و حکمرانی، ویش کے گئوپالن-تجارت-کاشتکاری، شودر کے دان اور گھریلو رسومات، مشترک اوصاف اور آپدھرم (کرم سنکر کے بغیر) بیان کر کے آشرم دھرم کی طرف انتقال ہوتا ہے۔
चत्वारोऽाश्रमाः — ब्रह्मचर्यादि मोक्षाश्रमपर्यन्तम् (The Four Āśramas as a graded path to mokṣa)
ورن دھرم کے بعد پرाशر مُنی آشرم دھرم کو منظم کرتے ہیں۔ برہماچریہ میں اُپنیت شاگرد گروکل میں رہ کر پاکیزگی رکھتا ہے، گرو سیوا اور ورت نبھاتا ہے، سورج و آگنی کی سندھیا اُپاسنا کرتا ہے، گرو کے حکم کے مطابق ہی مطالعہ کرتا ہے اور اجازت سے ہی کھانا کھاتا ہے۔ ویدک تعلیم اور گرو-قرض ادا کر کے وہ گارھستھ میں داخل ہوتا ہے—شرعی/دھارمک نکاح، جائز روزگار، اور پانچ طرح کی تعظیم: پِتروں کے لیے نِواپ، دیوتاؤں کے لیے یَجْن، مہمانوں کے لیے اَنّ و مہمان نوازی، رِشیوں کے لیے سوادھیائے، اور پرجاپتی کے لیے اولاد۔ گِرہستھ کو دوسرے آشرموں کا سہارا کہا گیا ہے؛ مہمان کی بے قدری سے نیکی و بدی کا پھل الٹ جاتا ہے۔ بڑھاپے میں وانپرستھ جنگل کی تپسیا، مہمان نوازی اور برداشت سے عیوب جلا کر پائیدار لوک پاتا ہے۔ آخر میں بھکشو/پریوراجک مال و اسباب اور تری ورگ ترک کر کے دل، زبان اور عمل سے اہنسا اپناتا ہے، بستیوں میں تھوڑا ٹھہرتا ہے، صرف زندگی گزارنے کو بھکشا لیتا ہے اور کام، کرودھ، لوبھ چھوڑ دیتا ہے۔ موکش آشرم اندرونی یَجْن اور بے ایندھن چراغ جیسی شانتی سے برہملوک تک لے جاتا ہے۔
पुंसां क्रिया-विभागः, संस्काराः, नामकरणम्, विवाहविधानम्
گرو–شاگرد مکالمے میں میتریہ پرآشر سے انسانوں کے نِتیہ، نَیمِتِک اور کامیہ کرموں کی پوری تقسیم بیان کرنے کو کہتے ہیں۔ پرآشر جاتکرم وغیرہ زندگی کے سنسکاروں اور خوشحالی کے لیے آبھْیُدَیِک شرادھ کا ذکر کرتے ہیں؛ مشرق رُخ برابر تعداد میں برہمنوں کو بھوجن، دیو–پِتر نذر اور نندی مُکھ پِتروں کو پِنڈ دان کی विधि بتاتے ہیں۔ پھر دسویں دن نامकरण، ورن کے مطابق نام کے آخر (شرما/ورما/گپت/داس) اور مبارک صوتی قواعد بیان ہوتے ہیں۔ گروکُل کی تعلیم سے لے کر شادی کے ذریعے گِرہستھ آشرم میں داخلہ تک ترتیب آتی ہے، اور برہمچریہ، وانپرستھ/وَیخانس، سنیاس جیسے متبادل آشرم بھی تسلیم کیے جاتے ہیں۔ آخر میں رشتہ انتخاب کے اصول، قمری وقت کے مطابق शुभ گھڑی، شادی کی آٹھ صورتیں، ورن کے مطابق دھرم، زنا/پرستری گमन کی مذمت، اور دھرم-سہچری بیوی کو عظیم پھل کی بنیاد کہا گیا ہے۔
गृहस्थस्य सदाचारः: शौच, तर্পण, वैश्वदेव, अतिथिधर्म, भोजन-विधि, संध्योपासन, ऋतु-धर्मः
مَیتریہ گِرہستھ کے سَدآچار کے بارے میں پوچھتے ہیں—جو اِس لوک اور پرلوک دونوں میں بھلائی دے۔ پاراشر بتاتے ہیں کہ سَدآچار سَپترشیوں اور منوؤں کی اتھارٹی پر قائم، سادھوجن کے عمل سے ثابت شدہ ضابطہ ہے۔ وہ برہما مُہورت میں دھرم-ارتھ-کام پر غور، قضائے حاجت، شَौچ، آچمن اور صفائی/آرائش کے مفصل قواعد بیان کرتے ہیں۔ پھر ورن دھرم کے مطابق روزی، اسنان، دیو-رِشی-پِتر تَرپن، اور کامیہ جل دان کو سَروہِت منترون کے ساتھ (نرک میں رہنے والے جیووں کی بھی شانتی کی کامنا سمیت) بتاتے ہیں۔ سورج کو اَرجھ دے کر وِشنو-تیج سے مربوط ستو، گھر کی پوجا، اگنی ہوترا، دِشاؤں میں بَلی اور آخر میں ‘سب بھوتوں کو بھوجن’—داتا وِشنو کی سَروَویَاپکتا کا سمرن کرتا ہے۔ اَتِتھی دھرم مرکزی ہے: مہمان کی راہ دیکھنا، انجان مسافر کی عزت، اور غفلت کا پاپ پھل۔ بھوجن وِدھی میں پاکیزگی، سمت، ذائقوں کی ترتیب، پانچ لقمے خاموشی، اور ہضم کی پرارتھنا—وِشنو ہی بھوکتا، اَنّ اور تبدیلی کی شکتی ہیں۔ آخر میں سندھیا اُپاسنا، شام کا ویشودیو، سونے کے قواعد، رِتو دھرم، پَرو دنوں کی ممانعت اور زنا/پرستری گمن سے پرہیز بیان ہے۔
सदाचार-नियमाः: शील, संयम, संग-निषेध, शुचिता, वाणी-नीति, परोपकारः
پراشر میتریہ کو سداچار کو ضبطِ نفس، صحبت کے اصول اور اخلاقِ گفتار کی عملی ضابطہ بندی کی صورت میں سمیٹ کر سمجھاتے ہیں۔ دیوتاؤں، گائے، برہمنوں، سدھوں، بزرگوں اور گروؤں کی تعظیم؛ سندھیہ کی عبادت اور گھریلو آگ (گृह्यاگنی) کی نگہداشت؛ اور پاکیزہ لباس، جڑی بوٹیوں، حفاظتی تعویذ/نشان اور پھولوں سے مبارک نظم قائم رکھنے کی ہدایت ہے۔ چھوٹی سی چیز بھی نہ چرانا، تلخ یا جھوٹا نہ بولنا، دوسروں کے عیب نہ اچھالنا، پرائی عورت سے پرہیز اور بلا وجہ دشمنی ترک کرنا؛ بدکار صحبت اور ناپاک/خطرناک جگہوں و عادات سے بچنا لازم بتایا گیا ہے۔ جماہی، تھوکنا، ناخن دانت چبانا، بے لباس رسوم وغیرہ جسمانی آداب کو باطنی استقامت کا بیرونی سہارا کہا گیا۔ سماجی حکمت—جھگڑا نہ کرو، ہم پلہ رشتے چنو، اور نیک سیرت لوگوں کی قربت تھوڑی دیر بھی بہتر ہے۔ گفتار کا دھرم—نفع بخش سچ بولو؛ جو سچ صرف نقصان دے وہاں خاموشی؛ اور مفید بات ناگوار ہو تب بھی اختیار کرو۔ آخر میں عمل، ذہن اور کلام سے پرُوپکار کو دھرم کا مقصد بتا کر، وشنو کے قائم کردہ عالمگیر نظم کی حفاظت کا راستہ سداچار کو قرار دیا گیا ہے۔
Nāndīmukha-śrāddha (Prosperity Rites), Preta-kriyā, Aśauca, Ekoddiṣṭa, and Sapiṇḍīkaraṇa Framework
پراشر میتریہ کو گِرہستھ دھرم بتاتے ہیں—بیٹے کی پیدائش پر باپ سچَیل اسنان کرکے جاتکرم اور مَنگل ناندی مُکھ شرادھ کرے۔ دِویجوں کی درست ترتیب سے تعظیم ہو، مشرق یا شمال رخ دہی-چاول-بدَر کے پِنڈ پیش کیے جائیں؛ اس سے ناندی مُکھ پِتر خوش ہوتے ہیں اور شادی، گِھر-پرویش، نامकरण، چُوڑاکرم، سیمنت، بچے کے درشن وغیرہ افزائشی مواقع پر یہ شرادھ مستحسن ہے۔ پھر پریت کریا—جسد کو نہلانا و آراستہ کرنا، دہن، دہن کے بعد اسنان، جنوب رخ تِلودک، ضبطِ نفس، روزانہ پریت پِنڈ، مقررہ دنوں میں برہمن بھوجن اور 1/3/7/9ویں دن خاص تِلودک۔ چوتھے دن ہڈی-راکھ جمع کرنے سے سپِنڈوں کے قیود میں تبدیلی آتی ہے۔ ورن کے مطابق آشوچ کی مدتیں، ایکودِشٹ (ایک ارگھ/پویترک، دیوتا سے خالی) ایک سال تک، اور سپِنڈی کرن—پریت پاتر کو تین پِتر پاتروں میں ملا کر مرحوم کو پِترتوا میں شامل کرنا—بیان ہوتا ہے۔ آخر میں ادا کرنے والوں کا حق (بیٹے وغیرہ، پھر رشتہ دار/مادری تعلقات، عورتیں/برادری، نسل مٹنے پر راجا) اور کرموں کی پورو-مدھیہ-اتّر درجہ بندی بتائی گئی ہے۔
Śrāddha’s Cosmic Reach and Kāla-Nirṇaya (Sacred Timings): Amāvāsyā, Nakṣatra-Yoga, Tīrtha, and Minimum Offerings
پاراشر میتریہ کو بتاتے ہیں کہ شردھا کے ساتھ کیا گیا شرادھ صرف پِتروں ہی کو نہیں، بلکہ دیوتاؤں، رِشیوں، انسانوں، جانوروں اور کیڑے مکوڑوں تک کو سیراب کرتا ہے، کیونکہ یہ کرم سراسر پھیلے ہوئے بھگوان وِشنو کی حکمرانی میں شریک ہے۔ پھر وہ کال-نِرنَے بیان کرتے ہیں: ہر ماہ کرشن چتُردشی/اماوسیا، اشٹکا، وْیَتیپات، اَیَن، وِشُو، گرہن، اور شُبھ گرہ-گوچر وغیرہ؛ نیز گرہ دَوش، اَشُبھ خواب اور نئی فصل پر اختیاری/پرایَشچِت شرادھ۔ کچھ اماوسیا-یوگ-نکشتر سنگم کئی برسوں سے یُگ تک پِتروں کی تسکین دیتے ہیں—اس کی سند سَنَتکُمار کے اِلا کو دیے گئے اُپدیش سے دی جاتی ہے۔ خاص مواقع پر تِلودک (تل ملا پانی) بھی مکمل شرادھ مانا گیا ہے، اور گنگا، شتدرُو، وِپاشا، سرسوتی، نَیمِش-گومتی جیسے تیرتھوں میں اسنان و پوجا سے پِتروں کے دَوش دور ہوتے ہیں۔ پِتروں کے کلمات: دولت نہیں، بھاؤ اصل ہے؛ اگر برہمنوں کو کھانا نہ کھلا سکو تو اناج، تھوڑی دکشِنا یا چند تل بھی بھکتی سے کافی ہیں؛ انتہائی تنگ دستی میں جنگل میں عاجزانہ دعا اور محنت آخری سہارا ہے—پھل کی جڑ بھکتی-بھاونا ہے۔
Pātra-Nirṇaya and Ritual Procedure: Who to Feed, Who to Avoid, and Step-by-Step Śrāddha Performance
میتریہ پوچھتے ہیں کہ شرادھ میں کون سی صفات برہمن کو پاتر بناتی ہیں۔ پاراشر وید و ویدانگ کا علم، شروتریہ آچار، یوگ میں استقامت اور کرم میں مہارت کو اعلیٰ اہلیت بتاتے ہیں؛ نیز رِتْوِج، بہن کا بیٹا، بیٹی کا بیٹا، سسرالی رشتے دار، ماموں، یتی/سنیاسی، پنچ اگنی سادھک، شِشْی اور ماں باپ کے بھکت کو بھی قابلِ قبول کہتے ہیں۔ پھر وہ نااہلی کے اسباب گنواتے ہیں: دوست سے غداری، ناپاکی، بدکاری، اگنی و وید کی بے پروائی، سوم کی خرید و فروخت، چوری، بدخواہی، کاروباری پجاری پن، اجرت پر پڑھانا، دیولک وغیرہ؛ اور شرادھ کے وقت غصہ، شہوت اور جلدبازی سے بچنے کی تاکید کرتے ہیں۔ طریقہ: پہلے دن دعوت؛ اچانک آئے دْوِج/یتی مہمان کی خاطر داری؛ نشست کا قاعدہ (پِتروں کے لیے طاق، دیوتاؤں کے لیے جفت)؛ سمت کے مطابق کھلانا (دیوتا مشرق، پِتر شمال)؛ ارغیہ (دیوتاؤں کو جو کا پانی، پِتروں کو تل کا پانی اپسویہ سے)؛ آگ میں کَویَوَاہَن اگنی، سوم اور وَیوَسْوَت کو آہوتی؛ حفاظتی منتر؛ برہمن کے جسموں میں پِتروں کی حاضری کا دھیان؛ پِنڈ رکھنا، دکشنا، ویشودیو پاٹھ اور ترتیب سے رخصت۔ آخر میں دَوہِتر، کُٹپ کال اور تل کو پاک کرنے والا بتا کر یوگیانہ سکون کو شرادھ میں نہایت پُرفیض کہا گیا ہے۔
श्राद्ध-योग्य द्रव्य, निषेध, तथा गयाश्राद्ध-माहात्म्य (Śrāddha Materials, Prohibitions, and the Glory of Gayā)
پاراشر میتریہ کو شرادھ اور ہویشیہ (مقدّس طعام) کے احکام بتاتے ہیں۔ وہ دھرم کے مطابق خواہشِ خوراک پر ضبط کی تاکید کرتے ہوئے بعض خاص کرموں میں جائز گوشت کا ذکر بھی کرتے ہیں۔ پِتروں کی تسکین کے لیے گیا کو نہایت ثمرآور تیرتھ قرار دے کر اس کی عظمت بیان کرتے ہیں۔ باب میں شرادھ کے لائق اناج، پھل اور سبزیاں بیان ہیں اور ممنوعات بھی—غیر مُقدّس پہلی فصل (اگریایان)، بعض دالیں، کچھ سبزیاں/مصالحے، سرخی مائل غذائیں، رال/رزِن، موٹا نمک، ناموزوں پانی اور بعض دودھ۔ پاراشر خبردار کرتے ہیں کہ آشَوچ، حیض/سوتک کی حالت یا ناپاک حاضرین کی موجودگی میں شرادھ باطل ہو جاتا ہے اور پِتروں کا ‘بھोग’ دوسری طرف چلا جاتا ہے۔ شردھا (ایمان)، مناسب مقام، اور رکاوٹ ڈالنے والی قوتوں سے حفاظت کے لیے تل چھڑکنے جیسے تدابیر پر زور ہے۔ آخر میں اصول بتایا کہ گوتر نام لے کر شردھا سے دیا گیا نذرانہ پِتروں کی حقیقی غذا بنتا ہے، اور اکشواکو سے وابستہ پِتر گاتھا میں گیا میں پنڈ دینے والی اولاد کی آرزو ظاہر ہوتی ہے۔
नग्न-परिभाषा तथा देव-स्तोत्रपूर्वक मायामोह-उत्पत्ति (Defining ‘Nagna’ and the Devas’ Hymn Leading to Māyāmoha)
پراشر رشی اورو کے بتائے ہوئے سداچار کی تعلیم سگر راجا کے لیے مکمل کر کے میتریہ کو خبردار کرتے ہیں کہ درست آچرن سے تجاوز کبھی حقیقی بھلائی نہیں دیتا۔ میتریہ خاص طور پر ‘نَگن’ کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ کسے ننگا کہا جاتا ہے اور کس عمل سے۔ پراشر جواب دیتے ہیں کہ دْوِجوں کا حقیقی پردہ ویدتریی (رِگ–یجُس–سام) ہے؛ اسے چھوڑ دینا ہی سچی ننگی حالت اور گناہ ہے۔ پھر وہ وشیِشٹھ سے بھیشم تک کی قدیم روایت کی طرف آ کر دیو–اسُر جنگ بیان کرتے ہیں۔ شکست خوردہ دیوتا کْشیر ساگر کے شمالی کنارے تپسیا کرتے ہیں اور وشنو کی ستوتی پڑھتے ہیں؛ اس حمد میں وشنو کو عناصر، باطنی قوّتوں، دیوتاؤں، زمان، پرلَے اور تمام اوصاف سے ماورا علتُ العلل کے طور پر مانا جاتا ہے۔ خوش ہو کر بھگوان وشنو ظاہر ہوتے ہیں اور دیوتاؤں کی درخواست پر دَیتیوں کو بہکانے کے لیے ‘مایاموہ’ پیدا کرتے ہیں، جس سے وہ ویدی مارگ سے باہر ہو جاتے ہیں اور دھرم کی کائناتی ترتیب پھر قائم ہو جاتی ہے۔
मायामोह-प्रवर्तन, वेदमार्ग-बहिष्कार, तथा पाषण्ड-संसर्ग-दोषः (Māyāmoha’s Delusion, Rejection of the Vedic Path, and the Fault of Heretical Association)
پراشر بیان کرتے ہیں کہ نرمدا کے کنارے مایاموہ دَیتیوں کے پاس آ کر پہلے ننگا، منڈا ہوا، مورپَر لگائے تپسوی کا اور پھر سرخ لباس والے سنیاسی کا بھیس بناتا ہے۔ وہ طرح طرح کی دلیلوں سے انہیں ویدی تریئی دھرم سے ہٹا دیتا ہے اور ایک ہی بات کو دھرم/ادھرم، سچ/جھوٹ کہہ کر ابہام پھیلاتا ہے۔ دَیتی وید، دیوتا، یَجْن اور دْوِجوں کی نِندا کرنے والے پاشنڈ مسلک پھیلاتے ہیں؛ سَدمارگ سے بھٹکتے ہی دیوتا دوبارہ جنگ کر کے انہیں شکست دیتے ہیں۔ پھر پراشر ‘نَگن’ اُن لوگوں کو کہتے ہیں جو ورن آشرم کی ترتیب چھوڑ دیں، مرحلے لنگھ کر ناجائز سنیاس لیں اور نِتیہ کرم ترک کریں؛ ایسے لوگوں سے قربت، ساتھ کھانا اور گفتگو ‘سنسَرگ دوش’ سے ناپاکی لاتی ہے، اور ان کا دیدار بھی شرادھ میں رکاوٹ بنتا ہے۔ پاشنڈ سے گفتگو کے خطرے کے لیے شتدھنو راجا کی کہانی آتی ہے—روزے میں ایک پاشنڈی سے بات کرنے کے سبب وہ حیوانی جنموں میں گرا، پھر سمرن، دھارمک زندگی اور اشومیدھ کے اَوَبھرتھ اسنان سے پاک ہوا۔ آخر میں خاص طور پر کرم کانڈ کے وقت پاشنڈیوں سے سخت پرہیز کر کے پُنّیہ اور دھرم پھل کی حفاظت کی تاکید ہے۔
Amsha 3 explains the Manvantara framework of cosmic governance—Manu, Indra, deva-gaṇas, Saptarṣis, and royal lineages—across fourteen Manvantaras, and then describes how Viṣṇu repeatedly becomes Vedavyāsa to divide and preserve the Veda in recurring Dvāpara ages.
It presents Viṣṇu as the all-pervading reality whose śakti sustains the worlds, and explicitly declares that all offices—devas, Manus, Saptarṣis, Manu’s sons, and Indra—are Viṣṇu’s vibhūtis. Viṣṇu is thus both the immanent ground and the governing intelligence behind cosmic order.
There are fourteen Manvantaras in a kalpa; when these are completed, the kalpa reaches its full measure (connected with a thousand yuga-cycles), followed by a night of equal duration and cosmic dissolution before creation resumes.
Because the entire universe is ‘entered’ and pervaded by His power; the name is derived from the root viś (“to enter/pervade”), indicating His all-pervasive immanence.
Read Vishnu Purana in the Vedapath app
Scan the QR code to open this directly in the app, with audio, word-by-word meanings, and more.