यह सोपान ‘अहंकार-निवृत्ति’ और ‘धर्म-युद्ध में ईश्वर-आश्रय’ का द्वार है। लंका काण्ड में साधक के भीतर की ‘लंका’ (काम-क्रोध-मद) पर धावा होता है: पहले कोलाहल, फिर अंधकार (माया), और अंततः राम-बाण-रूप प्रकाश (ज्ञान/कृपा) से संशय-तम का नाश। यह चरण बताता है कि बल/पराक्रम भी तभी मंगल है जब वह राम-नाम/राम-कृपा से संयुक्त हो; अन्यथा रावण का अभिमान टिट्टिभ-उदात्तान (असमर्थ दंभ) बनकर विनाश को बुलाता है।
لنکا کانڈ کا رس-کَیندر ویر-رس ہے، مگر یہ صرف رَن-اُتساہ نہیں؛ کرُنا (نگر میں ہاہاکار، ناری-بالک کا رَودن) اور اَدبھُت (کپی-بھالو کی اَتِمانُش کرِیا، دُرگ آروہن) کے ساتھ مل کر “دھرم-یُدھ” کا مکمل بھاؤ رچتا ہے۔ اس کھنڈ میں تُلسی “اَسُر-مَن” کی منوورتّی (اَہنکار، اُپہاس، شکتی-گھمنڈ) اور “راماشرِت-بَل” (کپی-بھالو کا پراکرم، وبھیشن کی نِیتی، رام کی کرپا) کو آمنے سامنے رکھتے ہیں۔ راون کا آدیش، قلعوں پر چڑھائی، میگھناد کا پرتِرودھ، مایا-تَم کا پھیلاؤ اور رام کے اَگنی-سایک سے پرکاش—یہ ترتیب سادھک-مَن کے اندر ہونے والی آدھیاتمک لڑائی کا روپک بن جاتی ہے: پہلے اِنْدریہ-ویگوں کا اُन्मاد، پھر بھرم-تَم، اور آخر میں کرپا-پرکاش سے وِویک-اُدے۔ یوں لنکا کانڈ کے “سوپان” میں یہ وہ پڑاؤ ہے جہاں سادھک کو یقین ہوتا ہے کہ جیت کا سبب صرف باہری بَل نہیں، “رام-پرتاپ” (ایشوریہ اَنُگرہ) ہے۔
No verses available for this prakarana yet.
Read Ramcharitmanas in the Vedapath app
Scan the QR code to open this directly in the app, with audio, word-by-word meanings, and more.