Ramayana Sundara Kanda Sarga 60
Sundara KandaSarga 606 Verses

Sarga 60

अङ्गदवाक्यम्—सीताहरण-प्रतिवेदन-धर्मविचारः (Angada’s Counsel on Reporting Without Sita)

सुन्दरकाण्ड

سرگ ۶۰ میں ہنومان کی جانب سے سیتا جی کے دیدار کی خبر دینے کے بعد وانروں کے درمیان نہایت اہم مشاورت ہوتی ہے۔ والی کے پتر انگد کہتے ہیں کہ سیتا کو جسمانی طور پر ساتھ لائے بغیر شری رام کے پاس لوٹنا طریقۂ کار اور اخلاقی اعتبار سے ‘اَیُکت’ (نامناسب) ہے؛ صرف یہ کہنا کہ “دیکھی مگر لائے نہیں” بہادری میں مشہور یودھاؤں کے شایانِ شان نہیں۔ وہ وانروں کی بے مثال چھلانگ اور پرाकرم کا ذکر کرتے ہیں جو دیوتاؤں اور دَیَتوں میں بھی کم یاب ہے، اس لیے جانکی کی بازیابی محض آرزو نہیں بلکہ ممکن عمل ہے۔ انگد فوراً اقدام کی تجویز دیتے ہیں: ہنومان نے پہلے ہی کئی اہم راکشس یودھاؤں کو بے اثر کر دیا ہے، اب باقی کام یہ ہے کہ جانکی کو لے کر روانہ ہوا جائے۔ جامبوان حکمت و ضبط کے ساتھ جواب دیتے ہیں کہ انگد کی نیت روحِ دھرم کے مطابق ہے، مگر عمل کو شری رام کے طے شدہ ارادے اور حکم کے مطابق ہونا چاہیے۔ دھرم میں کامیابی صرف قوت سے نہیں بلکہ مجاز طریقے سے ہوتی ہے؛ یوں یہ سرگ جذباتی نجات اور حکمِ رام کے مطابق اجتماعی عمل کی اخلاقیات کے درمیان توازن اور نظمِ قیادت کو واضح کرتا ہے۔

Shlokas

Verse 1

तस्य तद्वचनं श्रुत्वा वालिसूनुरभाषत।अयुक्तं तु विना देवीं दृष्टवद्भिश्च वानराः।।।।समीपं गन्तुमस्माभी राघवस्य महात्मनः।

اس کی بات سن کر والی کے بیٹے نے کہا: “اے وानر ویرو! اگرچہ ہم نے دیوی کو دیکھ لیا ہے، مگر مہاتما راغھو کے حضور دیوی کے بغیر واپس جانا ہمارے لیے مناسب نہیں۔”

Verse 2

दृष्टा देवी न चानीता इति तत्र निवेदनम्।।।।अयुक्तमिव पश्यामि भवद्भिः ख्यातविक्रमैः।

“وہاں جا کر یہ گزارش کرنا کہ ‘دیوی کو دیکھا تو ہے مگر لائے نہیں’—میں اسے تم جیسے نامور شجاعوں کے لیے نامناسب سمجھتا ہوں۔”

Verse 3

न हि नः प्लवने कश्चिन्नापि कश्चित्पराक्रमे।।।।तुल्य स्सामरदैत्येषु लोकेषु हरिसत्तमाः।

اے وानروں میں برگزیدہ! دیوتاؤں اور دَیتیوں کی دنیاؤں میں کوئی بھی ہم جیسا نہیں—نہ چھلانگ میں، نہ شجاعت و پرाकرم میں۔

Verse 4

तेष्वेवं हतवीरेषु राक्षसेषु हनूमता।।।।किमन्यदत्र कर्तव्यं गृहीत्वा याम जानकीम्।

جب ہنومان نے ان راکشسوں کے سورما یوں قتل کر دیے، تو اب یہاں اور کیا کرنا باقی ہے؟ آؤ، جانکی کو پکڑ کر روانہ ہو جائیں۔

Verse 5

तमेवं कृतसङ्कल्पं जाम्बवान् हरिसत्तमः।।।।उवाच परमप्रीतो वाक्यमर्थवदर्थवित्।

اسے یوں پختہ عزم کیے دیکھ کر، وानروں میں برگزیدہ، کاردان و دانا جامبوان نہایت مسرور ہوا اور معنی خیز، مقصد آفرین بات کہی۔

Verse 6

न तावदेषा मतिरक्षमा नो यथा भवान् पश्यति राजपुत्र।यथा तु रामस्य मतिर्निविष्टा तथा भवान् पश्यतु कार्यसिद्धिम्।।।।

اے راجکمار! جیسا آپ دیکھتے ہیں، وہ رائے ہمارے لیے ناقابلِ قبول نہیں؛ ہم میں اسے انجام دینے کی طاقت بھی ہے۔ مگر رام کی نیت جہاں قائم ہے، آپ کارِ مقصود کی تکمیل اسی کے مطابق—اُنہی کی مرضی کے موافق—دیکھیں اور کریں۔

Frequently Asked Questions

Whether it is dharmically acceptable to report success (Sita located) yet return without completing retrieval; Angada urges immediate extraction of Sita, while Jambavan prioritizes acting strictly within Rama’s intended command structure.

Capability alone does not justify action: righteous success requires alignment with rightful authority and prescribed method, so that courage remains integrated with maryādā (discipline, legitimacy, and purpose).

No specific landmark is foregrounded in this sarga; the focus is organizational and ethical deliberation among the vanaras, referencing Lanka’s rākṣasas only as a contextual threat already diminished by Hanuman’s actions.

Read Valmiki Ramayana in the Vedapath app

Scan the QR code to open this directly in the app, with audio, word-by-word meanings, and more.

Continue reading in the Vedapath app

Open in App