Adhyaya 213
Uttara KhandaAdhyaya 2130

Adhyaya 213

The Greatness of the Yamunā: Viśrānti/Nṛpaviśrānti, Madhuvana, and Deliverance through Śrāddha

اس ادھیائے میں کالِندی (یَمُنا) کے مدھون اور وِشرانتی کے گھاٹوں کی عظمت بیان کی گئی ہے۔ خصوصاً نِرپ وِشرانتی کا ذکر ہے جہاں وِشنو شری کول (وراہ) روپ میں وِراجمان ہیں؛ وہاں اسنان، درشن اور بھکتی سے بڑا پُنّیہ حاصل ہوتا ہے۔ پھر ایک مثال آتی ہے: غریب برہمن کُشَل اپنی بدچلن بیوی کے سبب تباہ ہو جاتا ہے۔ اس کی موت کے بعد عورت ظاہری دینداری دکھاتی ہے اور ناجائز دولت سے بیٹے کُنڈ کا اُپنَین کراتی ہے۔ بیٹا نارائن بھکت بن کر اعلیٰ لوک کو پاتا ہے، مگر ماں گناہوں میں بڑھتی جاتی ہے، جرم و بیماری میں مبتلا ہو کر بے رسم و رواج مر جاتی ہے، رَورَو نرک میں لے جائی جاتی ہے اور پھر شمشان میں چھپکلی کے روپ میں جنم لیتی ہے۔ بیٹا اسے پہچان کر جانتا ہے کہ اس کی نجات سچے تیرتھ میں دےہ تیاگ یا وشنو کی شرن ہی سے ممکن ہے۔ علاج کے طور پر ہری پرستھ–مدھون میں شرادھ اور پِنڈ دان کا حکم دیا گیا ہے، جس کا پھل گیا کے پُنّیہ سے سو گنا بڑھ کر بتایا گیا ہے۔

Shlokas

No shlokas available for this adhyaya yet.