
The Greatness of the Gītā (Liberation through Recitation and Contact-Merit)
اس باب کی ابتدا میں ایشور (مہادیو/شیو) بھوانی (پاروتی) کو حکم دیتے ہیں کہ وہ نجات بخش تعلیم کو توجہ سے سنیں، اور بھگود گیتا کے چودھویں ادھیائے کی عظمت پر وہ مزید بیان کریں گے۔ پھر روایت کشمیر کے پس منظر میں منتقل ہوتی ہے جہاں سرسوتی اور شستہ گفتار کا ذکر آتا ہے۔ دو دوست راجاؤں کے درمیان شکار کی شرط لگتی ہے؛ ایک مادہ کتیا اور ایک خرگوش کے تعاقب میں ڈرامائی الٹ پھیر ہوتا ہے۔ اسی دوڑ میں دونوں جانور اس کیچڑ/پانی سے چھو جاتے ہیں جو ایک گیتا پڑھنے والے کے پاؤں دھونے سے وابستہ تھا—وہ برہمن وتس جو ہمیشہ گیتا کے چودھویں ادھیائے کا پاٹھ کرتا رہتا ہے۔ اس تماسِ ثواب سے خرگوش اور مادہ کتیا اپنی ادنیٰ پیدائش چھوڑ کر دیوی رتھوں میں سوروگ کو پہنچ جاتے ہیں۔ وتس کا شِشّیہ (سَوَکَندھر) راجا کو کرم کی پچھلی کہانی سمجھاتا ہے—جوئے میں مبتلا برہمن، ازدواجی خلاف ورزی اور تشدد—اور نتیجہ بتاتا ہے کہ دشمنی جنموں تک چلتی ہے مگر مقدس پاٹھ کی سنگت سے مٹ جاتی ہے؛ راجا بھی شردھا کے ساتھ گیتا کا ادھیयन کر کے پرم پد حاصل کرتا ہے۔
No shlokas available for this adhyaya yet.