Adhyaya 16
Kriyayoga SaraAdhyaya 160

Adhyaya 16

The Glory of a Śabara Devotee: Cakrīkā’s Fruit-Offering and Viṣṇu’s Grace

اس ادھیائے میں بتایا گیا ہے کہ ہری کی بھکتی ہی اصل شرافت ہے؛ ذات، خاندان یا رسم و رواج کی برتری نہیں۔ کہا گیا ہے کہ جو برہمن بھگوان وِشنو کا بھکت نہیں، وہ بھکتی والے سمجھے جانے والے نچلے طبقے کے شخص سے بھی کمتر ہے، کیونکہ روحانی عظمت کا معیار بھکتی ہے۔ پھر دوَاپر یُگ کی کہانی آتی ہے: شَبَر بھکت چکریکا سادہ دل سے وِشنو کے لیے پھل لاتا ہے۔ پاکیزگی کے قواعد سے ناواقف ہو کر وہ پہلے پھل چکھ لیتا ہے، مگر موراڑی کو نذر کرنے کی تڑپ میں وہی پھل پیش کرنے لگتا ہے۔ پھل اس کے گلے میں اٹک جاتا ہے؛ نذر نہ ہو پانے کے خوف میں وہ خود کو زخمی کر بیٹھتا ہے۔ تب شری بھگوان وِشنو پرکٹ ہو کر اس کی بھکتی کو بے مثال قرار دیتے ہیں، اپنے لمس سے اسے شفا دیتے ہیں اور اس کی ستوتی قبول کرتے ہیں۔ چکریکا کوئی دنیوی ور نہیں مانگتا—صرف یہ کہ اس کا من پرماتما میں اٹل رہے—اور آخرکار موکش پاتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ وِشنو دولت، بھجن، تپسیا یا جپ سے نہیں، صرف بھکتی سے پرسن ہوتے ہیں۔

Shlokas

No shlokas available for this adhyaya yet.