Adhyaya 15
Kriyayoga SaraAdhyaya 150

Adhyaya 15

The Greatness of Rāma’s Name: The Courtesan and the Parrot; Yama’s Edict on Hari-bhaktas

اس ادھیائے میں ویشنو بھکتی کا اصول بیان ہوتا ہے کہ کائنات اور تمام دیوتا وشنو ہی کے اَنس ہیں، اور ہری کے ناموں کا مسلسل سمرن وقت کی کسی قید کے بغیر گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ پھر نصیحت آموز حکایت آتی ہے: ایک طوائف ایک ایسا طوطا پالتی ہے جسے “رام” کا نام بولنے کی تربیت دی گئی ہوتی ہے۔ اسی نام کے اُچارَن سے طوطا اور وہ عورت دونوں پاک ہو جاتے ہیں۔ موت کے وقت یم کے دوت انہیں پکڑنے آتے ہیں، مگر وشنو دوت روک دیتے ہیں؛ ٹکراؤ ہوتا ہے اور یم دوت شکست کھاتے ہیں۔ آخر میں یم کا قطعی فرمان ہے کہ جو رام، گووند، کیشو، ہری، وشنو، نارائن وغیرہ ناموں کو یاد کرے یا زبان پر لائے—خصوصاً ایکادشی کا ورت رکھنے والے اور وشنو پاد جل دھارن کرنے والے بھکت—ان پر اس کے کارندوں کا کوئی اختیار نہیں۔ ادھیائے کے اختتام پر رام نام کی عظمت بیان کی گئی ہے کہ وہ منتروں سے بھی برتر ہے اور کرم کانڈ، سفر، خوف اور وقتِ مرگ میں بھی نجات بخش ہے۔

Shlokas

No shlokas available for this adhyaya yet.