Śama-prāptiḥ — Gautamī–Lubdhaka–Pannaga–Mṛtyu–Kāla-saṃvāda
Restraint through the Analysis of Karma and Time
पन्नग! सूर्य, चन्द्रमा, जल, वायु, इन्द्र, अग्नि, आकाश, पृथ्वी, मित्र, पर्जन्य, वसु, अदिति, नदी, समुद्र तथा भाव और अभाव--ये सभी कालके द्वारा ही रचे जाते हैं और काल ही इनका संहार कर देता है ।।
اے پَنّگ! سورج، چاند، پانی، ہوا، اِندر، آگ، آکاش، زمین، مِتر، پرجنیہ، وَسو، اَدِتی، ندی، سمندر اور وجود و عدم—یہ سب زمانہ (کال) ہی کے ہاتھوں رچے جاتے ہیں اور زمانہ ہی ان کا سنہار کر دیتا ہے۔ یہ جان کر بھی، اے سانپ! تو مجھے قصوروار کیسے سمجھتا ہے؟ اور اگر ایسی حالت میں بھی مجھ پر الزام آ سکتا ہے تو پھر تو بھی قصوروار ٹھہرتا ہے۔
भीष्म उवाच