Bhakti as the Easy and Supreme Yoga: Seeing Kṛṣṇa in All and Uddhava’s Departure to Badarikāśrama
श्रीभगवानुवाच गच्छोद्धव मयादिष्टो बदर्याख्यं ममाश्रमम् । तत्र मत्पादतीर्थोदे स्नानोपस्पर्शनै: शुचि: ॥ ४१ ॥ ईक्षयालकनन्दाया विधूताशेषकल्मष: । वसानो वल्कलान्यङ्ग वन्यभुक् सुखनि:स्पृह: ॥ ४२ ॥ तितिक्षुर्द्वन्द्वमात्राणां सुशील: संयतेन्द्रिय: । शान्त: समाहितधिया ज्ञानविज्ञानसंयुत: ॥ ४३ ॥ मत्तोऽनुशिक्षितं यत्ते विविक्तमनुभावयन् । मय्यावेशितवाक्चित्तो मद्धर्मनिरतो भव । अतिव्रज्य गतीस्तिस्रो मामेष्यसि तत: परम् ॥ ४४ ॥
śrī-bhagavān uvāca gacchoddhava mayādiṣṭo badary-ākhyaṁ mamāśramam tatra mat-pāda-tīrthode snānopasparśanaiḥ śuciḥ
شری بھگوان نے فرمایا—اے اُدھَو! میری آج्ञا لے کر میرے ‘بدریکا’ نامی آشرم کو جاؤ۔ وہاں میرے پادتیर्थ سے نکلے ہوئے مقدس جل کو چھو کر اور اس میں اشنان کر کے پاک ہو جاؤ، اور الکنندا ندی کے درشن سے تمام پاپ و کلمش دھو ڈالو۔ چھال کے کپڑے پہننا، جنگل میں جو فطری طور پر ملے وہی کھانا؛ قناعت شعار اور بے خواہش رہنا۔ دوئیوں کو سہنے والے، خوش خو، ضبطِ نفس والے، پُرسکون اور یکسو چت ہو کر گیان و وِگیان سے یکت ہو۔ میں نے جو تعلیم دی ہے اس کے جوہر کو تنہائی میں برابر دھیان کرنا؛ اپنی وाणी اور چت کو مجھ میں لگائے رکھنا اور میرے دھرم میں رَت رہنا۔ یوں تم تری گُنوں کی گتیوں سے پار ہو کر آخرکار میرے پاس لوٹ آؤ گے۔