
Chapter 248: धनुर्वेदः (Dhanurveda — Science of War and Archery Discipline)
بھگوان اگنی دھنُروید کا آغاز کرتے ہوئے جنگی علم کو ‘چار بازوؤں’ پر قائم بتاتے ہیں—رتھ، ہاتھی، گھوڑا اور پیادہ—اور ویدی تعلیمی اصطلاح میں اسے ہتھیار کے استعمال کے لحاظ سے ‘پانچ قسم’ کہتے ہیں: پھینک کر چلائے جانے والے (پراکشیپیہ)، ہاتھ سے پھینکے جانے والے (پانی مُکت)، یَنتَر سے چھوڑے جانے والے (یَنتَر مُکت)، بغیر چھوڑے استعمال ہونے والے ہتھیار (اَمُکت)، اور بے ہتھیار ہاتھا پائی۔ پھر شستر و استر (ہتھیار و میزائل) کی تقسیم اور سیدھے طریقے بمقابلہ مایا/فریب والے طریقے کی توضیح کرکے یَنتَر مُکت اور پانی مُکت وغیرہ کی مثالیں دیتے ہیں۔ اس کے بعد نظم و تربیت: زرہ و حفاظتی سامان سے تیاری، کمان-مرکوز اور نیزہ/شول-مرکوز مرحلہ وار مقابلے، اور تعلیم کا سماجی ترتیب—برہمن استاد ہو کر کشتریہ/ویشیہ کو سکھائے؛ شودر بھی تربیت، مشق اور بادشاہ کی معاون خدمت سے اہل ہو سکتا ہے۔ باب میں سمپد، ویشاکھ، منڈل، آلیڈھ، پرتیالیڈھ، وکٹ، سمپٹ وغیرہ کی وضعیں و پیمائشیں، اور تیراندازی کا طریقہ—سلام، کمان کی ڈوری باندھنے کی گنجائش، ناف/کمر کی جگہ، آنکھ–کان کی لکیر سے نشانہ، انگلیوں کی گرفت، کھینچ کر چھوڑنا، فالو تھرو اور کارکردگی کی درجہ بندی—تفصیل سے بیان ہے۔ تیر اور کمان کے معیاری ناپ بتا کر انہی اصولوں کو گھوڑے، رتھ اور ہاتھی کے سیاق میں بھی پھیلا کر جنگی فن کو دھرم کے تابع باقاعدہ discipline قرار دیا گیا ہے۔
No shlokas available for this adhyaya yet.
Precise operational metrics and biomechanics: stance geometry and spacing (vitasti/aṅgula-based), bow brace/clearance set to twelve aṅgulas, standardized bow and arrow lengths (3–4 hasta bows; 10–12 muṣṭi arrows), and a procedural aiming line maintained between the eye and the ear.
It frames martial skill as dharma-sādhana: disciplined posture, restraint, correct measure, and role-based duty (service to the king and protection of order) convert warfare-knowledge into a regulated vidyā aligned with righteous conduct rather than mere violence.