
Kartikamasa Mahatmya
Primarily a sacred-time (kāla) māhātmya rather than a single-site sthala text. It references pan-Indic pilgrimage and ritual geographies—e.g., Prayāga, Kāśī, Narmadā-taṭa—while centering Kārtika as a calendrical locus where household practice, river bathing, temple worship, and plant sanctity (Tulasī) converge into a season of intensified devotion.
36 chapters to explore.

कार्तिकमासवैभवप्रश्नः | The Inquiry into the Glory of the Kārtika Month
باب ۱ منگل آچرن (دعائیہ آغاز) سے شروع ہو کر سوال و جواب کے انداز میں آگے بڑھتا ہے۔ رشی، آشوِن ماہ کی بات سننے کے بعد سوتا سے پوچھتے ہیں کہ کارتک ماہ کی عظمت (وَیبھَو) کیا ہے اور کلی یُگ میں گناہوں کے بوجھ تلے دبے لوگوں کے لیے آسان دھرم مارگ کون سا ہے۔ سوتا بیان کرتا ہے کہ پہلے نارَد نے برہما سے پوچھا تھا: گناہ کے ایندھن کو جلانے والی آگ جیسا کون سا اُپائے ہے، اور مہینوں، دیوتاؤں اور تیرتھوں میں سب سے شریشٹھ کون ہے۔ برہما جواب دیتا ہے کہ مہینوں میں کارتک سب سے برتر ہے اور دیوتاؤں میں مدھوسودن وِشنو پرم ہے؛ کارتک میں وشنو کے لیے کیے گئے کرم اَکشَی (غیر زائل) پھل دیتے ہیں۔ پھر عملی دھرم پر زور دیا جاتا ہے: دان، خاص طور پر اَنّ دان، تیرتھ سے متعلق آچرن، شالگرام پوجا اور واسودیو سمرن۔ جو لوگ قادر نہ ہوں اُن کے لیے درجۂ وار متبادل بتائے گئے ہیں: دوسروں سے ورت کروا دینا، ممکن ہو تو دھن دان، تیرتھ جل کا استعمال، باقاعدہ نام سمرن، مندر میں رات بھر جاگنا (ہری جاگر)، تلسی کے بن یا اشوتھ کی جڑ میں پوجا، کسی اور کے دیے کو جلانا یا اس کی حفاظت کرنا، اور رسمی اُدیَاپن ممکن نہ ہو تو برہمنوں کو بھوجن کرا کے سمापन۔ آخر میں نارَد کارتک سے وابستہ دھرموں کی مزید تفصیل طلب کرتا ہے۔

कार्तिकधर्माः—गुरुसेवा, दान-क्रम, अन्नदान-प्रधानता, तथा वैष्णवभक्ति-फलश्रुति (Kārtika Observances: Guru-Service, Hierarchy of Gifts, Primacy of Food-Charity, and Vaiṣṇava Devotional Phalaśruti)
برہما نارَد کو ماہِ کارتک کے اخلاقی اور بھکتی ضوابط کی تعلیم دیتے ہیں۔ باب کے آغاز میں ضبطِ نفس کا حکم ہے—خصوصاً پرانّن-وَیراگیہ، لذیذ/پر تکلف غذا سے پرہیز، اور اسے موکش کی طرف لے جانے والی سادھنا بتایا گیا ہے۔ تمام دھرموں کی بنیاد گرو-پوجا اور گرو-سیوا کو قرار دے کر کہا گیا ہے کہ گرو کی رضا سے دیوی کرپا ملتی ہے اور ناراضی سے رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔ پھر دان کی درجہ بندی بیان ہوتی ہے—گودان، سونے کا دان، بھودان، ودیا دان وغیرہ کی فضیلت کے بعد آخر میں اَنّ دان کو سب سے برتر کہا گیا ہے، کیونکہ اَنّ ہی جان کا سہارا اور سب سے جامع عطیہ ہے۔ کارتک میں گوشت سے اجتناب، بعض پکوانوں کی ممانعت، اور مقررہ خوراک و آچرن سے بڑھا ہوا پھل ملنے کا ذکر بھی ہے۔ زمین پر سونا، سحر کے وقت بیداری، دامودر کی پوجا، تلسی اور کنول کی نذر، نرمالیہ اور شنکھودک کا احترام—یہ سب اعمال شامل کیے گئے ہیں۔ بھاگوت اور گیتا کی تلاوت کی ترغیب اور شالگرام-شِلا کے دان کو نہایت پُنیہ بخش بتایا گیا ہے۔ پھل شروتی میں ان ورتوں سے پاکیزگی، عوامی بھلائی اور موکش سے وابستہ نتائج بیان کیے گئے ہیں۔

Kārtikavrata–Saṅkalpa, Kārtikasnāna–Mahattva, and Dāmodara–Pūjā (कार्तिकव्रतसंकल्पः कार्तिकस्नानमहत्त्वं दामोदरपूजा च)
اس ادھیائے میں برہما دَمودر کی بھکتی کے ساتھ کارتک ورت کے آغاز کی विधि بتاتے ہیں۔ وہ رسمی سنکلپ کرنے اور یہ دعا مانگنے کی تعلیم دیتے ہیں کہ ورت بلا رکاوٹ پورا ہو۔ اس کے بعد بھاسکر (سورج) مہینوں اور تیرتھوں کے پُنّیہ کے درجات بیان کر کے کارتک اسنان کو نہایت برتر اور عظیم پھل دینے والا قرار دیتے ہیں۔ پھر کارتک کے انضباطی اعمال کی فہرست آتی ہے—صبح کا اسنان، دیپ دان، تلسی کے بن کی خدمت، برہمچریہ و ضبطِ نفس، غذا میں پرہیز، اور ہری کتھا کا شروَن و کیرتن۔ انہیں پاکیزہ اخلاق اور موکش کی طرف لے جانے والی سادھنا کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ادھیائے میں سَور، گانپتیہ، شاکت، شَیو اور ویشنو—سبھی کے لیے عمل میں وسعت دکھائی گئی ہے، اور مخصوص دیوتاؤں کی پرسنّتا کے لیے اسنان کے آغاز کے مختلف اوقات بھی بتائے گئے ہیں۔ مورتی، اشوتھ/وٹ جیسے درخت، شالگرام وغیرہ کے پوجا-مادھیم، پرتیَکش دیوتا سورج کی ترجیح، اور دوسرے کے اسنان میں مدد سے بھی پُنّیہ ملنے کی منطق بیان ہوتی ہے۔ آخر میں اسنان کے اوقات اور تیرتھ-پھلوں کی مزید تفصیل آگے بیان کرنے کا اعلان ہے۔

Kārtika-snānavidhiḥ and Tīrtha-phala-taratamya (Kārtika Bathing Procedure and Hierarchy of Merit)
اس باب کے آغاز میں برہما کارتیِک سنان کا قبلِ سحر طریقہ بتاتے ہیں: رات کے باقی حصے میں کسی آبی مقام پر جانا، برتن/کلش ساتھ لے جانا، تلسی سے وابستہ مٹی استعمال کرنا، کنارے پر برتن رکھ کر پاؤں دھونا اور دیس-کال بتا کر سنکلپ کرنا۔ سادھک مقدس ندیوں اور دیوتاؤں کا سمرن کر کے ناف تک پانی میں کھڑا ہو کر جناردن/دامودر کے نام سے ورت کے منتر جپتا ہے، پھر تیرتھوں اور وشنو کو نمسکار کے ساتھ ارغیہ دیتا ہے۔ ساتھ ہی مِرت-سنان، پِتر-سنان، گرو-سنان، پاومانی–اَغمَرشَن–پُرُش سُوکت وغیرہ کی شُدھی پاٹھ، سنان کے بعد گیلا کپڑا برتنے کے آداب، اور جسمانی آلائش سے آلودہ پانی کے لیے پرایشچتّ بھاؤ بیان ہوا ہے۔ اس کے بعد سوت کے بیان کردہ مکالمے میں ارُوṇ سورَی سے پوچھتا ہے کہ کارتیِک سنان کا خاص پھل کہاں ملتا ہے۔ سورَی درجۂ وار فضیلت بتاتا ہے: سنان ہر جگہ درست ہے، مگر گرم پانی، ٹھنڈے پانی میں غوطہ، کنواں، تالاب، جھیل/حوض، چشمہ، ندی، تیرتھ اور سنگم میں بتدریج زیادہ پُنّیہ ہوتا ہے؛ بڑی ندیوں اور مشہور علاقوں کا ذکر بھی آتا ہے۔ متھرا–یَمُنا کو رادھا-دامودر کے تعلق سے، دوارکا کو وہاں کی مٹی کے تلک کو موکش کی علامت کہہ کر، اور کاشی کو اَوناشی کہہ کر خاص عظمت دی گئی ہے۔ گنگا–شیو–کاویری کے قصے سے کاویری کی کارتیِک پاکیزگی بخش قوت واضح کی جاتی ہے؛ آخر میں رات کے آخری پہر کا وقت، متن کے مطابق عورتوں کے لیے قیود، کلی یُگ میں نظم و ضبط کی کمی، تیرتھ پھل کے اہل/نااہل، اور چار قسم کے سنان—وایویہ، وارُṇ، دیویہ، براہْم—کا بیان ہے۔

Kārtika-vratino dainika-ācāraḥ — Daily Discipline of the Kārtika Observant (Purity, Worship, and Conduct)
اس باب میں نارَد برہما سے پوچھتے ہیں کہ کارتک ورت رکھنے والے کے لیے غسل کا درست وقت، طریقہ اور روزانہ کے اعمال کی صحیح ترتیب کیا ہے۔ برہما مرحلہ وار ضابطہ بیان کرتے ہیں: رات کے آخری پہر میں بیدار ہو کر وشنو کی حمد؛ پھر قضائے حاجت اور مِرتّکا-شَौچ، جس میں آشرم کے لحاظ سے (گِرہستھ، برہماچاری، وانپرستھ، یتی) اور دن/رات کے فرق سے طہارت کی گنتی الگ مقرر ہے۔ اس کے بعد دَنت دھاون اور دہن/منہ کی صفائی (مجاز داتن، ممنوع دنوں میں پرہیز)، اُردھوا پُنڈْر کا لگانا، آچمن، اور تلسی کے پاس خاص طور پر آکاش دیپ نذر کرنا۔ پھر پوجا کا سامان لے کر مندر جانا، وشنو ناموں کے ساتھ کیرتن، رقصِ عبادت اور آرتی؛ مقررہ سحر کے وقت آبی مقام پر غسل، سندھیا، جپ اور وشنو سہسرنام وغیرہ کی تلاوت۔ دن میں بھکتی کی فنون، پرانوں کا سماع، استاد/واعظ کی تعظیم، تلسی پوجن، دوپہر کے اعمال اور منضبط غذا—کچھ چیزوں سے اجتناب، ہَوِشْی پر زور اور خوراک میں اہنسا (عدمِ ایذا)۔ خیرات و مہمان نوازی، شام کو پھر مندر میں چراغ روشن کرنا، ستوتر پڑھنا، کچھ جاگَرَن اور اخلاقی حدود میں ازدواجی آداب بھی بیان ہوئے ہیں۔ آخر میں فَلَشْرُتی کے طور پر کارتک ورت کو خاص طور پر پاکیزگی بخش، گناہوں کو مٹانے والا، نیک فہم عطا کرنے والا اور وشنو لوک تک پہنچانے والا کہا گیا ہے۔

Kārtikavrata-niyamaḥ — Kārtika Vrata Disciplines, Prohibitions, and Devotional Merits
اس باب میں برہما جی نارَد کو کارتک ورت کی عظمت اور اس کے آداب و قواعد بتاتے ہیں۔ پہلے ممانعتیں بیان ہوتی ہیں—تیل کی مالش/تیل سے غسل سے پرہیز، بعض غذاؤں اور ان کے ماخذوں کا ترک، مخصوص پتّوں میں کھانا نہ کھانا، ناپاک، سماجی طور پر ممنوع یا رسمِ عبادت کے لیے ناموزوں غذا سے اجتناب؛ نیز بدگوئی، ناپسندیدہ کردار اور بعض میل جول سے بھی بچنے کی تاکید ہے۔ پھر مثبت اعمال—صبح سویرے غسل، ہری (وشنو) کی پوجا، مقدس حکایات کا سماع، اور ریاضت کے طور پر سادہ/جنگلی غذا اختیار کرنا۔ دان اور خدمت کے احکام بھی ہیں—گوپی چندن، گائے کا دان، کیلا اور دھاتری (آملہ) جیسے پھل، محتاجوں کو کپڑا، اَنّ دان و نَیویدیہ، شالگرام سے متعلق نذرانے/دان، اور مندر کی خدمت (صفائی، لیپ/سجاوٹ، ایندھن/لکڑی فراہم کرنا)۔ بھکتی کے اعمال کی فَلَشْرُتی بھی آتی ہے—وشنو کو تلسی چڑھانا، کنول/کیتکی سے پوجا، شنکھ دان یا چکر نشان والی اشیا کا دان، گیتا کی تلاوت، بھاگوت کا سماع، ایکادشی کا روزہ، پوجا میں گھنٹی بجانا، پردکشنا اور دَند پرنام، اور مہمان نوازی۔ آخر میں بتایا گیا ہے کہ کارتک کے ضوابط سب کے لیے ہیں اور درست طریقے سے ورت کرنے کا پُنّیہ بے حد و حساب ہے۔

Dīpadāna–Ākāśadīpa Māhātmya (दीपदान–आकाशदीप माहात्म्य)
اس باب میں نارَد جی کارتک کے مہینے میں دیپ دان (چراغ نذر کرنے) کی مہاتمیا پوچھتے ہیں۔ برہما جی صبحِ سویرے اسنان، پاکیزگی اور سنکلپ کے ساتھ دیپ دان کی طریقہ بتاتے ہیں اور پھر متعدد حکایات کے ذریعے اس کے ثمرات واضح کرتے ہیں۔ دراوڑ دیش کی ایک بدچلن عورت کو عالم یاتری کُتسا نصیحت کرتا ہے؛ وہ پورے کارتک میں اسنان اور دیپ دان کا ورت رکھتی ہے اور مرنے کے بعد اعلیٰ گتی پاتی ہے—یہ ورت کے ذریعے اصلاح کی مثال ہے۔ پھر ہریکَر نامی ایک برہمن، جو ادھرم میں مبتلا بتایا گیا ہے، جوئے کے بہانے ہری کے سامنے اتفاقاً چراغ جلا دیتا ہے اور آخرکار موکش پاتا ہے—اس سے دیپ دان کی نجات بخش قوت ظاہر ہوتی ہے۔ باب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اپنے ہاتھ سے دیپ دان کے ساتھ ساتھ دوسرے کے دیے کو روشن کرنے میں مدد دینا (باتی، تیل، برتن دینا یا بجھا ہوا دیہ پھر جلانا) بھی قریب قریب وہی پُنّیہ دیتا ہے؛ یہاں تک کہ ایک چوہا بھی ایسی مدد کے سبب مکتی پاتا ہے—ایسا اشارہ آتا ہے۔ آخر میں نارَد جی ‘ویوم دیپ/آکاش دیپ’ کے بارے میں پوچھتے ہیں جو ہری مندر کے اوپر پورے مہینے کے لیے رکھا جاتا ہے اور کارتک پورنیما کو باقاعدہ طور پر مکمل کیا جاتا ہے۔ برہما جی راجا سُکرتِن کی طویل مثال سناتے ہیں: راجا آکاش دیپ نصب کرتا ہے؛ ایک پرندہ اور ایک بلی لمحہ بھر دیے کو دیکھ کر اور ہری کتھا سن کر حادثے سے مر جاتے ہیں اور دیوی لوک کو چلے جاتے ہیں؛ ان کے پچھلے کرم بھی بیان کیے جاتے ہیں تاکہ کرم کی پیوستگی اور کارتک میں شروَن (سماع) اور دیپ کے لمس کی تطہیری تاثیر ظاہر ہو۔ آخر میں دامودر کو ویوم دیپ ارپن کرنے کا منتر دے کر، نیَم، مندر-مرکوز بھکتی اور شروَن کی مشترکہ مہیمہ دہرائی جاتی ہے۔

Kārtike Dāmodara-pūjā and Tulasi-māhātmya (कार्तिके दामोदरपूजा तथा तुलसीमाहात्म्यम्)
باب 8 میں نارد مزید ہدایت طلب کرتے ہیں اور برہما کار्तک ماہ کی بھکتی پر مبنی روش بیان کرتے ہیں—صبح کی طہارت، وشنو پر مرکوز سنکلپ، اور نرم تلسی کے پتّوں سے محبت کے ساتھ دامودر کی پوجا۔ یہاں صاف کہا گیا ہے کہ ظاہری دولت و سامان ثانوی ہیں؛ بھکتی کے بغیر پوجا قابلِ قبول نہیں، مگر تھوڑی سی تلسی بھی اگر بھکتی سے چڑھائی جائے تو وہ فیصلہ کن روحانی ثمر دیتی ہے۔ اس کے بعد تلسی-ماہاتمیہ تفصیل سے آتا ہے—تلسی لگانا، تلسی کی واٹیکا/بن بنانا، تلسی ملے پانی سے اسنان، تلسی کی لکڑی کی خوشبو دھारण کرنا، اور بدن پر تلسی کے پتّے رکھنا—یہ سب تطہیر و حفاظت دینے والے دھارمک آداب بتائے گئے ہیں۔ ان کے نتائج میں پاپوں کا زوال، سزا دینے والے قاصدوں سے بچاؤ، اور اعلیٰ لوکوں کی پرابتّی بیان ہوتی ہے۔ کشمیر کی ایک قدیم کہانی میں دو برہمن تلسی کے جنگل سے گزرتے ہیں؛ شاپ سے آزاد ہوئے چند ہستیوں کے انکشاف سے تلسی کی عظمت سننے اور وشنو کے نام سننے کی نجات بخش قوت ظاہر ہوتی ہے۔ آخر میں کار्तک میں تلسی-پوجا کو اس بھکتی منطق میں لازم قرار دے کر، ضمنی ورتوں کا ذکر کرتے ہوئے باب ختم ہوتا ہے۔

Dvādaśī-Go-vrata, Nīrājana-vidhi, Yama-dīpa-dāna, and Dīpāvalī/Bali-rājya Observances (Kārtikamāsamāhātmya)
اس ادھیائے میں کارتک اور آشوِن کی تِتھیوں سے وابستہ متعدد ورت‑اُتسووں کے طریقے اور اُن کا دینی مفہوم باہم پیوست بیان ہوا ہے۔ آغاز میں والکھلیہ رِشی شری کرشن کے اُپدیش کا حوالہ دیتے ہیں—دْوادشی کے دن بچھڑے/گائے کی پوجا (وتس پوجا/گو پوجا) کی جائے اور اس دن خوراک و آچارن میں ضبط اور ورت کے قواعد نبھائے جائیں۔ پھر نیرाजन‑ودھی آتی ہے—کئی دیپوں کی ترتیب، شعلے کی کیفیت سے شُبھ‑اَشُبھ اشارے سمجھنا، اور دیوتاؤں، برہمنوں، جانوروں، بزرگوں اور عورتوں کے لیے بترتیب نیرाजन کرنا۔ دیپ رکھنے کے اصول اور رنگ/شعلہ کی علامتوں کے نتائج بھی بتائے گئے ہیں۔ اس کے بعد آشوِن کرشن تریودشی کو گھر کی دہلیز پر یم‑دیپ‑دان کا حکم ہے؛ مکالمے میں یم اس سالانہ عمل اور اس کے حفاظتی مقصد کو واضح کرتا ہے۔ آشوِن کرشن چتُردشی کو اَبیانگ‑سنان کا وقت (دو تِتھیوں کی صورت میں بھی) مقرر کیا گیا ہے؛ سْنان میں اپامارگ منتر کا استعمال، اور یم کے ناموں کے ساتھ ترپن اور مقررہ نذرانے بیان ہیں۔ آخر میں دیپاولی کو بلی راج کے ور سے مربوط تین روزہ تہوار کہا گیا ہے—شہر کی آرائش، لکشمی پوجا، ‘سُکھ‑سُپتِکا’ کے طور پر خوشحالی کی آرام‑ودھی، اخلاقی ممانعتیں، اور رات بھر جاگ کر پران‑پাঠ، بھجن/گیت یا باقاعدہ کھیل کے ذریعے اُتسو منانے کی ہدایت۔

कार्तिकशुक्लप्रतिपत्—बलिपूजा, गोवर्धनपूजा, तैलाभ्यङ्गविधि, तिथिनिर्णयः (Kārtika Śukla Pratipad: Bali Worship, Govardhana Worship, Oil-Bath Rite, and Tithi Determination)
اس باب میں برہما کے وعظ کی صورت میں کارتک شُکل پرتپدا کے آداب و احکام بیان ہوتے ہیں۔ تل کے تیل سے ابھینگر (تیل مالش) اور اسنان، نیرَاجن (چراغوں کی آرتی)، پاکیزہ لباس، بھکتی کی کہانیوں کا سماع و کیرتن، اور دان—یہ سب اس دن کی بنیادی ریاضتیں بتائی گئی ہیں۔ پھر وامن کو بلی کے دان کی روایت سے اس عمل کی سند قائم کی جاتی ہے؛ وشنو کے ور سے یہ تِتھی بلی کے نام سے مشہور ہوئی اور اس دن کیا گیا عمل ‘اکشیہ’ یعنی دائمی ثواب/پھل دینے والا مانا گیا۔ تِتھی کے تعین میں ‘پورووِدّھا’ (پہلے سے چھِدی ہوئی) یا عیب دار اتصال والی تِتھی میں رسم ادا نہ کرنے کی تنبیہ ہے؛ غلط وقت پر کرنے سے شگون و سعادت میں کمی اور ناموافق نتائج کا ذکر سماجی و اخلاقی پہلو کے ساتھ آتا ہے۔ دیپوتسو، باقاعدہ عوامی تفریحات، اور شنکر-بھوانی کے پاسوں کے کھیل کی مثال کے ذریعے عام طور پر جوا ممنوع بتایا گیا ہے، تاہم وقتِ خاص میں محدود رواج کے طور پر اس کا اشارہ بھی ملتا ہے۔ گووردھن پوجا اور گائے کی پرستش مقررہ منترون کے ساتھ بتائی گئی ہے۔ دیوتاؤں، نیک لوگوں، محتاجوں، علما، سپاہیوں، فنکاروں وغیرہ کی خدمت، تحائف اور مہمان نوازی سے عزت افزائی کا حکم ہے۔ آگے ‘مارگپالی’ نامی حفاظتی/مبارک ساخت بنا کر پوجنے سے انسانوں اور جانوروں کی سلامتی اور خوشحالی کی شہری-رسمی تدبیر بیان ہوتی ہے۔ آخر میں بلی پوجا—بلی کی شبیہ بنانا، طرح طرح کے نذرانے چڑھانا، رات بھر جاگ کر گیت و ناچ وغیرہ، اور یہ اعلان کہ اس موقع پر دیا گیا دان وشنو کو پسند آ کر اکشیہ ہو جاتا ہے۔ گؤکریدن، چاند دیکھنے کی احتیاط، اور نئی سرکنڈے کی لاٹھی کھینچنے کی رسم (یشٹیکاکرشن) کو فتح کے شگون کے طور پر باب ختم کرتا ہے۔

यमद्वितीया-व्रतविधानम् (Yamadvitīyā Vrata: Procedure, Ethics, and Promised Outcomes)
اس باب میں کارتک شُکل دْوِتییا کی یمَدْوِتییا ورت کا مہاتم بیان ہوا ہے، جو اَپَمِرتیو (اَکال موت) اور موت کے بعد کی اَشُبھ حالتوں سے حفاظت کرنے والا مانا گیا ہے۔ نارَد کے سوال کے جواب میں برہما ورت کا طریقہ بتاتے ہیں: برہما مُہورت میں اُٹھنا، ہِت سمرن سے من کو قابو میں رکھنا، صبح کی طہارت، اور اَودُمبَر کے درخت کے پاس کمل-منڈل بنا کر پوجا کرنا۔ وہاں وِشنو، رُدر اور سرسوتی کی تعظیم کے ساتھ پوجا اور خوشبو، پھول، دھوپ، نَیویدیہ، ناریل وغیرہ کی نذر کا ذکر ہے۔ ورت کا مرکزی اخلاقی-دھارمک پہلو دان ہے: وید جاننے والے برہمن کو گودان، اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو پادُکا (جوتی) کا دان۔ پھر بزرگوں کی خدمت و احترام اور رشتہ داروں کو بھوجن کرانا چاہیے۔ خاص طور پر بھائی کو بہن کے گھر کھانا کھانے کی ہدایت ہے؛ بہن کے شُبھ کلمات اس عمل کو مبارک اور محافظ قرار دیتے ہیں۔ سوت اور والکھلیہ رشی یمُنا–یم کی اُتپتی کی کتھا بیان کرتے ہیں، دوپہر کے بعد یم پوجا، یمُنا اسنان، اور یم کے ناموں کا دس بار جپ بتاتے ہیں۔ اس تِتھی پر اپنے ہی گھر میں بھوجن نہ کرنے کا نِیَم دوبارہ دہرایا گیا ہے۔ پھل کے طور پر بھائی بہن دونوں کی خیریت، یم لوک سے بچاؤ اور آخرکار موکش (نجات) کی بات کہی گئی ہے، اور گِرہستھوں کو اس ورت کے بنیادی آچرن کرنے والے بتایا گیا ہے۔

धात्रीमाहात्म्यं (Dhātrī/Āmalakī-Māhātmya) and Kārtika Dhātrīchāyā-Vrata Guidelines
باب 12 میں شौनک کارتک ماہ کی فضیلت اور دھاتری/آملکی (آملہ) کے درخت کی پیدائش و عظمت دریافت کرتے ہیں کہ یہ کیوں پاک کرنے والا اور گناہ مٹانے والا ہے۔ سوت بتاتے ہیں کہ کارتک کے شُکل پکش کی چتُردشی کو عظیم دھاتری درخت کے پاس جا کر رادھا سمیت ہری کی پوجا کی جائے، بار بار پردکشنا ہو، پھل/دھات وغیرہ نذر کیے جائیں، ساشٹانگ پرنام کر کے عقل، صحت، عمر اور بھکتی کی دعا مانگی جائے، اور آخر میں برہمنوں کو کھانا کھلانا وِرت کا اخلاقی اختتام ہے۔ پیدائش کی روایت میں کہا گیا ہے کہ پرلے کے زمانے میں پرمیشور کی سانس اور آنسو کے قطرے جیسے ذرات سے دھاتری درخت ظاہر ہوا؛ اسے “وَیشْنَوی” اور سراسر دیوتاؤں کا مسکن قرار دیا گیا۔ اس کے سمرن، درشن اور تناول سے درجۂ بدرجہ بڑھتا ہوا پُنّیہ بتایا گیا ہے۔ درخت کے مول میں وشنو، اوپر برہما، تنے پر رودر اور شاخوں، پتّوں، پھولوں اور پھلوں میں دیگر دیوتاؤں کی نسبت بیان کر کے دھاتری کو ایک خرد تِیرتھ‑کشیتر کی صورت میں قائم کیا گیا ہے۔ برہما نارَد کو سمجھاتے ہیں کہ کارتک میں دھاتری کی چھاؤں میں پوجا یا کھانا بھی گناہ ناپید کر کے پُنّیہ کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ دو مثالیں آتی ہیں: ایک غریب تاجر کا دھاتری چھاؤں میں سادہ کھانا بعد میں شاہانہ خوشحالی کا سبب بنتا ہے؛ اور ایک برہمن کا گمراہ بیٹا لعنت سے چوہا بن کر بھی دھاتری چھاؤں میں کارتک ماہاتمیہ سن کر نجات پاتا ہے—یوں کتھا‑شروَن کی تطہیری قوت ظاہر ہوتی ہے۔ آخر میں وَن‑بھوجن، اسنان، پوجا، دیپ دان، دھاتری و تُلسی کی مالائیں، اور خوراک سے متعلق ناپاکیوں کے اثرات کے ازالے کے قواعد بیان ہوتے ہیں، جنہیں کارتک کے دھاتری‑چھایا ورت سے زائل کہا گیا ہے۔ دھاتری مالا پہننے، مخصوص تِتھیوں میں پوجن، برہمن بھوجن، اور تُلسی‑دھاتری نذر کے ساتھ رادھا‑دامودر کی آرادھنا پر ویکنٹھ میں طویل قیام اور عدمِ بازگشت کا پھل بتایا گیا ہے۔

कार्तिकव्रतप्रशंसा तथा शंखासुरवेदनिग्रह-वृत्तान्तः (Praise of the Kārtika Vrata and the Account of Śaṅkhāsura and the Vedas)
The chapter unfolds through nested theological dialogue. Sūta introduces a scene in which Satyā (Satyabhāmā), joyful after a divine exchange, questions Vāsudeva about the karmic causes of her intimacy with him and her prior birth. Kṛṣṇa replies with a retrospective account: in the Kṛtayuga’s end at Māyāpurī, a learned brāhmaṇa Devasharman (Ātreya lineage) had a daughter Guṇavatī; she is married to the disciple Candranāma. Both men later die violently at the hands of a rākṣasa, yet attain Viṣṇuloka by their merit. Guṇavatī, afflicted by grief, performs funerary rites to her capacity, lives austerely, and maintains two lifelong observances—Ekādaśī-vrata and proper Kārtika service. Despite illness, she goes for Gaṅgā bathing; through the puṇya of Kārtika vow she is conveyed by a vimāna to Vaikuṇṭha and attains proximity to Viṣṇu. Kṛṣṇa identifies the present correspondences: Devasharman as Satrājit, Candranāma as Akrūra, Guṇavatī as Satyā; he further credits her prior establishment of a Tulasī grove as the cause for a wish-fulfilling tree in her present courtyard and promises freedom from separation due to Kārtika observance. Satyā then asks why Kārtika is especially dear to the Lord. Kṛṣṇa cites an ancient dialogue of Pṛthu and Nārada: the asura Śaṅkha, son of the ocean, seizes the Vedas while Viṣṇu sleeps; the Vedas remain hidden in waters. Awakened on the bright Ekādaśī of Urja (Kārtika), Viṣṇu declares that this tithi is highly pleasing, slays Śaṅkha, and ordains that the Vedas, with their mantra-seeds, rest annually in waters during Kārtika—thereby making morning bathing in that season equivalent to major sacrificial bath-rites. Viṣṇu directs sages to retrieve the Vedas and establishes Prayāga’s future eminence as tīrtha-rāja, promising sin-destruction by its sight and special merit at solar transit times. The chapter closes with a prescriptive phala: worship of Hari at the Tulasī root in Kārtika yields worldly enjoyments and final passage to Viṣṇu’s abode.

तुलसीमाहात्म्य-प्रस्तावना (Prologue to the Glory and Origin-Narrative of Tulasī)
اس باب میں راجہ پرتھو، نارَد جی سے ‘تُلسی-بھَو-ماہاتمیہ’ کی وضاحت چاہتے ہیں—تُلسی وشنو کو اتنی عزیز کیسے ہوئیں، اور اُن کی پیدائش کہاں اور کیسے ہوئی۔ نارَد ایک سبب-بیان شروع کرتے ہیں۔ اندَر کَیلاش جاتا ہے، وہاں ایک ہیبت ناک نورانی ہستی کو دیکھ کر غضب میں سخت رویّہ اختیار کرتا ہے؛ اس سے شِو کا دہکتا ہوا قہر-اگنی ظاہر ہوتا ہے۔ بِرہسپتی باقاعدہ شِو-ستوتی کر کے انہیں شانت کرتے ہیں۔ پھر وہ خطرناک آگ لوک-ہِت کے لیے ہٹا کر لَوَناَرنوَ میں ڈال دی جاتی ہے اور سمندر کے سنگم پر گرتی ہے۔ وہاں سے ایک طفلانہ صورت نمودار ہوتی ہے؛ برہما نام رکھ کر اسے ‘جلندھر’ کہتے ہیں اور اس کے قریب بہ قریب ناقابلِ شکست ہونے کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ برہما، شُکرآچارَیہ کی شمولیت سے، جلندھر کو راجپد پر قائم کرتے ہیں۔ باب کے آخر میں جلندھر اور وِرِندا کے نکاحی رشتے کا تعارف آتا ہے، جو آگے چل کر وِرِندا/تُلسی اور وشنو-بھکتی کے گہرے تعلق کی بنیاد بنتا ہے۔

Jalandharadūta–Indrasaṃvādaḥ and the Deva–Dānava Conflict (Kārtikamāsamāhātmya, Adhyāya 15)
اس باب میں نارَد کے مکالماتی سانچے کے اندر تہہ در تہہ رپورٹ کی صورت میں واقعہ بیان ہوتا ہے۔ شکست خوردہ دَیتیہ پاتال سے بھولोक کی طرف لوٹتے ہیں؛ راہو کا کٹا ہوا سر دیکھ کر دَیتیہ راجا سوال کرتا ہے تو سمندر منتھن کی یاد تازہ ہوتی ہے—رتنوں پر قبضہ، اور دَیتیہوں کی سابقہ الٹ پھیر و شکست کا سبب۔ پھر غسمَر نامی قاصد کو سُدھرمَا سبھا میں اندر کے پاس بھیجا جاتا ہے کہ سمندر کے خزانے واپس کیے جائیں؛ سمندر کو جلندھر کا باپ کہہ کر باپ کی توہین و حق تلفی کا دعویٰ بنا کر نزاع کھڑا کیا جاتا ہے۔ اندر جواب دیتا ہے کہ دیوتاؤں کی تحریک اور خوف کے سبب سمندر منتھن ہوا، دشمن مزاج ہستیوں کو قابو میں رکھا گیا، اور شنکھ وغیرہ کے سابقہ واقعات بطور مثال پیش کیے جاتے ہیں۔ قاصد واپس آتا ہے تو جلندھر جنگ کے لیے لشکر جمع کرتا ہے؛ دیو–دانَو ٹکراؤ میں دونوں طرف بھاری جانی نقصان ہوتا ہے۔ یہاں احیا کی دو قوتیں نمایاں ہیں—شُکر کی سنجیونی وِدیا سے گرے ہوئے دَیتیہ پھر جی اٹھتے ہیں، جبکہ اَنگِرَس درونادری سے لائی ہوئی دیوی جڑی بوٹیوں سے دیوتاؤں کو زندہ کرتا ہے۔ سبب معلوم ہونے پر جلندھر، شُکر کے مشورے سے، درونادری کو اکھاڑ کر سمندر میں پھینک دیتا ہے اور دیوتاؤں کی احیا کاری رک جاتی ہے۔ گھبرائے ہوئے دیوتا پسپا ہوتے ہیں؛ فتح کے نعروں میں جلندھر امراؤتی میں داخل ہوتا ہے اور اندر سمیت دیوتا سونے کے پہاڑ کی غار میں چھپ جاتے ہیں—یہ قصہ غضب پر مبنی سیاست میں فتح کی ناپائیداری اور وسائل کے اختیار کی اہمیت کو سبب-بیانیہ کے طور پر دکھاتا ہے۔

संकष्टनाशनस्तोत्रम्, जलन्धर-विष्णु-युद्धवर्णनम् (Sankashta-nāśana Stotra and the Viṣṇu–Jalandhara Conflict)
باب 16 نارد کی روایت میں ایک بحران-جوابی حکایت کے طور پر آتا ہے۔ دیوتا دَیتیوں کے لوٹتے ہوئے خطرے کو دیکھ کر خوف زدہ ہوتے ہیں اور وشنو کی بارگاہ میں ستوتر پڑھتے ہیں، جس میں اُن کی کثیر روپ اوتار-شکتی، سِرشٹی-ستھِتی-لَے کی کارگزاری اور دکھ ہَرنے والی حفاظت کی ستائش ہے۔ نارد بتاتے ہیں کہ یہ حمد ‘سنکَشٹ ناشن’ کہلاتی ہے؛ ہری کی کرپا سے اس کا جپ مصیبت و تنگی کو دور کرتا ہے۔ اس کے بعد وشنو گرُڑ پر سوار ہو کر لکشمی سے جلندھر کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں—کہ وہ رُدر اَمش سے پیدا ہوا ہے اور برہما کے بچن کی وجہ سے اس کے وध میں قید و شرط ہے، نیز لکشمی کا اس سے جذباتی ربط بھی بیان ہوتا ہے۔ پھر جنگ کا نقشہ کھنچتا ہے: ہوا کی مانند زور دَیتیوں کو پراگندہ کرتا ہے؛ جلندھر وشنو کے مقابل آتا ہے اور آسمان میں اسلحہ-بر-اسلحہ اور جسمانی جنگ سے عظیم معرکہ برپا ہوتا ہے۔ جلندھر کی بہادری سے متاثر ہو کر وشنو اسے ور دیتے ہیں۔ جلندھر درخواست کرتا ہے کہ وشنو لکشمی (اپنی بہن) سمیت اس کے گھر میں قیام کریں؛ وشنو قبول کر کے دیوتاؤں اور رَما کے ساتھ اس کے شہر میں داخل ہوتے ہیں۔ آگے جلندھر کائناتی نظم کو ازسرِنو قائم کرتا، کارندے مقرر کرتا، مخلوقات کو تابع کرتا اور دھرم کے مطابق راج کرتا ہے—یوں کوئی مبتلا یا مفلس نظر نہیں آتا۔ آخر میں نارد لکشمی کے درشن اور شری رمن کی سیوا کے لیے وہاں آتا ہے، اور حکایت بھکتی کے گواہ کے ساتھ ختم ہوتی ہے۔

Kīrtimukha at Śiva’s Gate and Rāhu’s Message (कीर्तिमुख-उत्पत्ति एवं राहु-दूतवाक्य)
اس باب میں نارد جی مکالمہ کے انداز میں ایک نرپ/دَیتیہِندر کو کیلاش کی بے مثال خوشحالی سناتے ہیں—کلپ وَرکش کے باغات، کامدھینو کی فراوانی اور چِنتامَنی کی درخشانی۔ وہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ پاروتی کا حسن تمام دیویانہ مثالوں سے بڑھ کر ہے۔ یہ سن کر راجا غرور میں بے چین ہو جاتا ہے اور وِشنو-مایا سے مُوہِت ہو کر ‘ستری-رتن’ پر دعویٰ کرتا ہے؛ وہ راہو کو دوت بنا کر شِو کے پاس بھیجتا ہے۔ شِو کے دروازے پر شِو کے بھرو-مدھیہ سے ایک ہولناک ہستی ظاہر ہو کر راہو کو نگلنے لگتی ہے، مگر شِو فرماتے ہیں کہ دوت تو دوسرے کے حکم سے چلتا ہے، اور اسے روک دیتے ہیں۔ ہستی خوراک مانگتی ہے؛ شِو کی آج्ञا سے وہ اپنے ہی اعضا کھا کر آخر میں صرف سر/چہرہ باقی رکھتی ہے۔ شِو خوش ہو کر اسے ‘کیرتِمُکھ’ نام دیتے ہیں اور ابدی دربان مقرر کرتے ہیں، اور بتاتے ہیں کہ کیرتِمُکھ کی تعظیم کے بغیر کی گئی پوجا بے اثر رہتی ہے۔ آخر میں راہو کے بچ نکلنے، مقام کے نام (باربر/باربرودبھوت) کی وجہ، اور راہو کا جلندھر کو جا کر پیغام دینا بیان ہوتا ہے۔

Jalandhara’s March to Kailāsa and the Formation of Sudarśana (Jalāndharodyoga–Sudarśanotpatti)
اس باب میں نارَد جی ایک مربوط جنگی و الٰہی واقعہ بیان کرتے ہیں۔ اشتعال انگیز خبر سن کر دیو راج جلندھر غضب میں عظیم لشکر کے ساتھ کیلاش کی طرف بڑھتا ہے؛ ہولناک شگون، میدانِ جنگ کی گرج اور منظر کی ہیبت آنے والی ٹکراؤ کو نمایاں کرتی ہے۔ اندرَ کی قیادت میں دیوتا شیو کے پاس جا کر بحران کی خبر دیتے اور حفاظت کی التجا کرتے ہیں۔ شیو وشنو سے پوچھتے ہیں کہ جلندھر پہلے کیوں نہ مارا گیا۔ وشنو عرض کرتے ہیں کہ شیو-اَمش اور شری-سمبندھ کی قرابت کے سبب براہِ راست وध پیچیدہ ہے، اس لیے شیو ہی اقدام کریں۔ شیو فرماتے ہیں کہ عام ہتھیار اس پر کارگر نہیں؛ دیوتاؤں کا مشترک تیجس ‘اسلحہ-مادہ’ کے طور پر درکار ہے۔ وشنو سمیت دیوتا اپنا تیجس پیش کرتے ہیں؛ شیو اسے یکجا کر کے دہکتا ہوا چکر ‘سدرشن’ بناتے ہیں، اور ہری شیش کے ساتھ وابستہ ہو کر وجر کی تشکیل کرتے ہیں۔ پھر کیلاش کے نواح میں شیو کے حکم سے گن متحرک ہوتے ہیں اور بڑا معرکہ چھڑ جاتا ہے۔ شکرا مرتسنجیوِنی ودیا سے گرے ہوئے اسوروں کو بار بار زندہ کر کے بحران بڑھاتا ہے؛ تب رودر کے دہن سے ہولناک کرتیا نکل کر شکرا کو پکڑ کر میدان سے ہٹا دیتی ہے، اور اسور لشکر ٹوٹنے لگتا ہے۔ شُمبھ، نِشُمبھ اور کالنیمی تیروں کی گھنی بوچھاڑ سے کچھ دیر گنوں کو پیچھے ہٹاتے ہیں، مگر کارتّیکیہ وغیرہ کمک آ کر اسور سرداروں کو روک کر جنگ کو سنبھال لیتے ہیں۔

Adhyāya 19: Gaṇā–Dānava Saṅgrāma (Battle Narrative within Kārtika-Māhātmya)
حضرتِ نارَد کے بیان میں اس باب کے اندر کارتک-ماہاتمیہ کے ضمن میں گَणوں اور دانَووں کی جنگ کا سلسلہ وار حال آتا ہے۔ دانَو نَندی، گنیش اور شَنمُکھ/کارتّیکَیَہ جیسے گَण-نائکوں کو دو بدو مقابلے کے لیے للکارتے ہیں۔ نِشُمبھ کارتّیکَیَہ کے مَیور-واہن کو زخمی کرتا ہے اور کارتّیکَیَہ جوابی تدبیر سے پلٹ کر حملہ کرتا ہے۔ نَندی اپنے تیروں سے کالنیمی کے رتھ کے گھوڑوں کی جوڑی کو ناکارہ کرتا ہے، مگر کالنیمی بھی انتقامی وار کرتا ہے۔ شُمبھ اور گنیش کے درمیان تیروں کی بارش کا تبادلہ ہوتا ہے؛ گنیش کا واہن زخمی ہوتا ہے اور لمبودر مدد کو آگے بڑھتا ہے۔ پھر ویر بھدر ویتَالوں، یوگنیوں، پِشَچوں اور گَणوں کے ساتھ آ کر ڈھولوں اور گرج کے شور سے میدانِ جنگ کو لرزا دیتا ہے۔ جَلندھر جھنڈے والے رتھ پر داخل ہو کر کہر کی مانند گھنی تیراندازی کرتا ہے؛ اس سے کارتّیکَیَہ اور نَندی گِر پڑتے ہیں۔ گنیش کے ہتھیار سے جَلندھر کی گدا ٹوٹ جاتی ہے اور ویر بھدر اس کے رتھ کے اجزا کو معطل کر دیتا ہے۔ آخر میں غضبناک جَلندھر پَریغ سے ویر بھدر کے سر پر ضرب لگا کر اسے خون بہتے ہوئے گرا دیتا ہے—اور باب ایک ڈرامائی پلٹاؤ پر ختم ہوتا ہے۔

Jalandharayuddha—Gāndharvī Māyā and Viṣṇu’s Strategic Counsel (जलन्धरयुद्धम्—गान्धर्वीमाया-विष्णूपदेशः)
نارد کے بیان کے مطابق اس باب میں میدانِ جنگ کا سلسلہ آتا ہے۔ ویر بھدر کو گرا ہوا دیکھ کر شیوگن پہلے لمحے گھبرا کر پیچھے ہٹتے ہیں، مگر چندرشیکھر، ورشبھدھوج بھگوان شیو پھر سے رَن میں اترتے ہیں۔ وہ گھنی تیراندازی کو کاٹ کر شَر-جال چیر دیتے ہیں اور دیوؤں کی فوج کو مغلوب کرتے ہیں؛ کھڑگروما، بلاہک، گھسمَر وغیرہ کئی دیو مارے جاتے یا باندھ دیے جاتے ہیں، اور ادھرم کی گٹھ جوڑ ٹوٹنے لگتی ہے۔ پھر جلندھر خود شیو کو للکارتا ہے؛ نِراستر ہو کر بھی شیو کی برتر قوت پہچان کر وہ گاندھروی مایا رچتا ہے—آسمانی موسیقی و رقص سے شیو کی جنگی یکسوئی لمحہ بھر کو متزلزل ہوتی ہے اور گرے ہوئے ہتھیار بھی نظر میں نہیں آتے۔ اسی موقع پر وہ پاروتی کی طرف بڑھتا ہے، مگر انہیں دیکھتے ہی ساکت ہو جاتا ہے؛ خوف زدہ پاروتی ہٹ کر دل ہی دل میں وشنو کو یاد کرتی ہیں۔ پاروتی جلندھر کے اس عجیب فعل کی خبر وشنو کو دیتی ہیں۔ وشنو بتاتے ہیں کہ فیصلہ کن راہ ظاہر ہو گئی ہے، کیونکہ ‘پاتی ورتیہ’ سے وابستہ حفاظت کے سبب جلندھر کو دوسری صورت میں مارا نہیں جا سکتا۔ وشنو جلندھر کی نگری کی طرف روانہ ہوتے ہیں؛ ادھر شیو مایا کے ہٹنے کو جان کر پھر جنگ میں لوٹتے ہیں اور جلندھر دوبارہ تیر برساتا ہے—یوں آئندہ انجام کی تمہید بندھتی ہے۔

Vṛndā’s Ominous Dream, the Ascetic’s Intervention, and the Curse upon Hari (Narrative-Ethical Episode)
اس ادھیائے میں نارَد وِرِندا کی کہانی بیان کرتے ہیں۔ وِرِندا کو اپنے پتی جلندھر کے انجام کے بارے میں نحوست بھرے، ہولناک خواب کے اشارے دکھائی دیتے ہیں۔ خوف زدہ ہو کر وہ شہر اور باغات میں بھٹکتی ہے، دہشت ناک صورتوں سے دوچار ہوتی ہے اور آخرکار ایک خاموش تپسوی کی پناہ لیتی ہے۔ تپسوی محض آواز کے اشارے سے ان خطرات کو دور کر دیتا ہے؛ اسی دوران قاصد جنگ میں جلندھر کی بھیانک موت کی خبر لاتے ہیں تو وِرِندا بے ہوش ہو کر نوحہ کرتی ہے۔ وہ تپسوی سے درخواست کرتی ہے کہ شوہر کو واپس زندہ کر دے؛ تپسوی اپنی بے بسی جتاتے ہوئے بھی شرط کے ساتھ احیاء کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پھر راز کھلتا ہے—وِشنو نے مایا اور فریب سے مداخلت کر کے وِرِندا کے پتی ورت/عفت کے عزم کو متزلزل کرنے کی تدبیر کی۔ یہ جان کر وِرِندا وِشنو کے طرزِ عمل کی مذمت کرتی ہے اور اخلاقی انجام کے طور پر بددعا دیتی ہے۔ آخر میں وہ آگ میں داخل ہو جاتی ہے اور وِشنو کے دل میں بے چینی پیدا ہوتی ہے؛ یہ قصہ اختیار، ورت اور الٰہی حکایات میں بھی فریب کی اخلاقی قیمت پر غور کراتا ہے۔

Jalandhara-vadha, Śakti-triguṇa-vākya, and Mūlaprakṛti-stuti (जलंधरवधः शक्तित्रिगुणवाक्यं मूलप्रकृतिस्तुतिश्च)
اس ادھیائے میں نارَد جلندھر کے مایا-پریوگ کا بیان کرتے ہیں۔ جلندھر رودر کو فریب دینے کے لیے گوری کو بندھی ہوئی اور رنجیدہ دکھا کر ایک بھرم رچتا ہے، جس سے رودر لمحہ بھر خاموش ہو کر اندر سے متزلزل ہو جاتے ہیں۔ پھر ہوش میں آ کر وہ ہیبت ناک روپ دھارتے ہیں، اسوروں کو پسپا کرتے ہیں اور رَن سے بھاگنے کے سبب شُمبھ اور نِشُمبھ کو شاپ دیتے ہیں کہ آئندہ گوری سے وابستہ بندھن انہیں بھگتنا ہوگا۔ جلندھر کے دوبارہ حملے کا انجام یہ ہوتا ہے کہ رودر سُدرشن چکر پھینک کر اس کا سر قلم کرتے ہیں؛ نکلنے والا تیج دو دھاروں میں جذب ہوتا ہے—ایک رودر میں، اور دوسرا (ورِندا کے بدن سے وابستہ) گوری میں—جو جنگ کے بعد کائناتی ادغام کی علامت ہے۔ اس کے بعد دیوتا عرض کرتے ہیں کہ وِشنو اب بھی ورِندا کے حسن کے موہ میں گرفتار ہیں۔ ایشور انہیں حکم دیتے ہیں کہ وِشنو کے موہ کو دور کرنے کے لیے موہِنی-مایا کی پناہ لیں۔ دیوتا تری سندھیا ستوتر کے ذریعے مول پرکرتی کی ستوتی کرتے ہیں اور اسے تری گُناتمِکا اور سِرشٹی-ستھِتی-لَے کی کارن بھوتا بتاتے ہیں۔ پھر آکاش وانی روپ شکتی اپنے تری وِدھ پرکاش کا اعلان کرتی ہے—گوری (رجس)، لکشمی (ستّو)، اور سْورا (تمس)—اور دیوتاؤں کو ان روپوں کے پاس جانے کی ہدایت دیتی ہے؛ ساتھ ہی انہیں کچھ ‘بیج’ ملتے ہیں جنہیں وہاں بویا جانا ہے جہاں وِشنو ورِندا کے ساتھ مقیم ہیں، یوں کتھا میں کرم-اُپائے کا دھاگا جڑ جاتا ہے۔

धात्री-तुलसी-माहात्म्य (The Glory and Origin of Dhātrī and Tulasi)
نارد جی ایک اصلِ پیدائش کی روایت بیان کرتے ہیں کہ بکھرے ہوئے بیجوں سے تین مقدّس نباتات—دھاتری (آملکی/آملہ)، مالتی اور تلسی—پیدا ہوئیں، اور ان کے ظہور کو گُن-تتّو (تمس، ستّو، رجس) کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ بھگوان وِشنو ان نباتاتی دیویوں کو نسوانی صورت میں دیکھتے ہیں؛ یہ واقعہ محض افسانوی آرائش نہیں بلکہ بعد کے عبادتی احکام کی علّت و بنیاد کے طور پر آتا ہے۔ پھر کارتک کے عمل کی ہدایت دی جاتی ہے—تلسی کے جڑ والے حصّے کو خاص احترام دے کر وِشنو کی پوجا کی جائے۔ گھر میں تلسی کا وِرِنداون/باغ ہو تو وہ گھر تیرتھ بن جاتا ہے اور یم کے دوت وہاں داخل نہیں ہوتے۔ تلسی لگانا، پرورش کرنا، پانی دینا، دیکھنا اور چھونا—ان سب سے قولی، ذہنی اور بدنی گناہوں کا ذخیرہ مٹتا ہے؛ تلسی منجری ہری-ہر پوجا میں افضل نذرانہ ہے، اور تلسی کے پتّوں میں دیوتاؤں، تیرتھوں اور یَجْیَہ کرموں کی علامتی موجودگی بیان کی گئی ہے۔ دھاتری کے اعمال بھی مذکور ہیں—دھاتری پھل ملے پانی میں تلسی کے پتّوں کے ساتھ غسل گنگا اسنان کے برابر ہے، اور دھاتری کے پتّوں/پھل سے پوجا نہایت عظیم ثواب دیتی ہے۔ آخر میں کارتک کے بعض دنوں میں تلسی/دھاتری کے پتّے توڑنے کی ممانعت اور احتیاطیں آتی ہیں؛ اور پھل شروتی میں وعدہ ہے کہ جو عقیدت سے یہ ماہاتمیہ سنے اور آگے سنائے، وہ پاک ہو کر سوَرگ کی گتی پاتا ہے۔

धर्मदत्त-कलहा संवादः (Dharmadatta and Kalahā: Karmavipāka and Kārtika Purification)
اس باب میں کارتک ماس ماہاتمیہ کے ضمن میں ایک تعلیمی حکایت آتی ہے۔ پرتھو نارَد سے اُورجا/کارتک ورت کی عظمت اور اس کے پھل کو دوبارہ بیان کرنے کی درخواست کرتا ہے۔ نارَد سہیاَدری کے علاقے کرَویرپور میں دھرم دت نامی برہمن کا واقعہ سناتے ہیں—وہ نِتّیہ وِشنو ورت پر قائم اور وِشنو پوجا میں ہمیشہ مشغول رہتا ہے۔ کارتک کی رات ہری کے مندر کی طرف ہری جاگرن کے لیے جاتے ہوئے اسے ایک ہولناک راکشسی ملتی ہے؛ خوف سے نَیویدیہ اور دودھ گر پڑتے ہیں، تب وہ ہری نام کا سمرن کر کے تُلسی سے وابستہ جل کا استعمال کرتا ہے۔ اس جل کے لمس سے راکشسی کی فوری ناپاکی دور ہو جاتی ہے، وہ ہوش مند گفتگو پاتی ہے، سجدہ کرتی ہے اور اپنا نام ‘کلہا’ بتاتی ہے۔ کلہا کہتی ہے کہ پچھلے جنم میں وہ سخت مزاج اور جھگڑالو بیوی تھی؛ شوہر کا ادب اور اَنّ ارپن روکتی رہی اور آخرکار زہر پی کر خودکشی کر بیٹھی۔ پھر یم کی دربار میں یم چترگپت سے پوچھتے ہیں؛ چترگپت نیکیوں کی کمی کا حساب دے کر کرم وِپاک کے مطابق پے در پے یونیوں میں گراوٹ اور ہوا زدہ علاقے میں طویل پریت-اَستِتْو کی سزا مقرر کرتا ہے۔ صدیوں کی تکلیفوں کے بعد وہ جنوبی سنگم-پرتیش میں پہنچتی ہے، دیوی گن اسے روکتے ہیں، اور آخر دھرم دت سے ملاقات ہوتی ہے۔ تُلسی جل کا لمس اس کے لیے نقطۂ انقلاب بنتا ہے؛ وہ یونی چکر اور پریت دےہ سے نجات کا اُپائے مانگتی ہے۔ باب کے آخر میں دھرم دت رحم دلی سے غور کرتا ہے اور تدارک/پرایَشچِتّ کے اُپدیش کی تیاری کرتا ہے۔

Kārtikavrata-puṇya-vibhāgaḥ (Sharing the Merit of the Kārtika Vow and Release from Preta-State)
اس باب میں نارَد جی ایک مربوط مثال بیان کرتے ہیں۔ دھرم دتّ نامی وِشنو بھکت ‘کلہا’ نام کی ایک نسوانی ہستی کو پریت جیسی حالت میں مبتلا دیکھ کر رحم سے بے قرار ہو جاتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ تیرتھ، دان اور ورت جیسے اعمال پریت-اَواستھا میں بندھے ہوئے جیَو کے لیے براہِ راست میسر نہیں؛ اس لیے وہ عمر بھر کے کارتک ورت سے حاصل شدہ پُنّیہ کا آدھا حصہ اس کی نجات کے لیے منتقل کرنے کا سنکلپ کرتا ہے—پُنّیہ بانٹنے کو کرُونا-دھرم کے طور پر قائم کرتے ہوئے۔ وہ تُلسی ملے جل سے اشنان کر کے دوادشاکشر منتر کا جپ کرتا ہے۔ اس سے وہ متاثرہ ہستی پریتتْو سے آزاد ہو کر نورانی دیویہ روپ اختیار کر لیتی ہے۔ پھر وِشنو سمان پارشد روشن وِمان کے ساتھ آتے ہیں اور اسے ویکُنٹھ لے جاتے ہیں، اور ہری-جاگرن، دیپ دان، تُلسی پوجا جیسے کارتک دھرموں کی مہِما بیان کرتے ہیں۔ پارشد دھرم دتّ کی مستقل وِشنو بھکتی کی ستائش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پُنّیہ کا جزوی دان کرنے سے پھل دوگنا ہو جاتا ہے اور کئی جنموں کے پاپ مٹ جاتے ہیں۔ آگے پھل شروتی میں دھرم دتّ کو بیویوں سمیت ویکُنٹھ پرابتھی کا وعدہ ملتا ہے؛ بعد میں وہ راجا دشرَتھ کے روپ میں جنم لے گا اور اس کے پتر روپ میں خود وِشنو اوتار لیں گے—یوں ورت-نیتی کو پورانک وंश-تھیالوجی سے جوڑا گیا ہے۔

तुलसी-पूजा-श्रेष्ठ्यं तथा चोलराज-विष्णुदाससंवादः (The Supremacy of Tulasī Worship and the Dialogue of the Chola King and Viṣṇudāsa)
باب کے آغاز میں نارد جی کے وعظ کو سن کر دھرم دتّ ایک باریک سوال کرتا ہے—یَجْیَہ، دان، ورت، تیرتھ سیوا اور تپسیا جیسے متعدد ویشنو طریقوں میں وہ کون سا ایک عمل ہے جو وشنو کو سب سے زیادہ راضی کرے، قربِ الٰہی عطا کرے اور باقی سب اعمال کو بھی معتبر بنا دے؟ تب گن کَانچیپُری کی ایک مثال کے طور پر روایت سناتے ہیں۔ کَانچی میں ایک بااقتدار چول بادشاہ اپنے منظم اور خوشحال راج میں شری رمَن (وشنو) کی جواہرات، موتیوں اور سونے کے پھولوں سے نہایت شان دار پوجا کرتا ہے۔ اسی دوران وشنوداس نامی برہمن تُلسی کا جل لے کر آتا ہے، وشنوسوکت سے ابھیشیک کرتا ہے اور بادشاہ کی قیمتی نذروں پر تُلسی کے پتے بچھا دیتا ہے۔ بادشاہ اسے بے ادبی سمجھ کر ڈانٹتا ہے؛ وشنوداس جواب دیتا ہے کہ یہ غرور بھکتی کے تَتْو سے ناواقفیت کی علامت ہے اور بادشاہ کو اس کے سابقہ وشنو ورت کی پابندی کا نام بتانے کی للکار دیتا ہے۔ بادشاہ سادہ بھکتی کا مذاق اڑا کر وشنو کے براہِ راست ظہور تک مقابلہ طے کرتا ہے اور مُدگل آچاریہ کو مقرر کر کے عظیم ویشنو سَتر، وسیع انتظامات اور رسومات کی تیاری کرتا ہے۔ دوسری طرف وشنوداس مندر میں سخت ورت پر قائم رہتا ہے—تُلسی بن کی خدمت، ایکادشی کو دوادشاکشری جپ، شودشوپچار پوجا، مسلسل سمرن اور ماہِ ماغھ و کارتک کے خصوصی قواعد۔ باب کے اختتام پر دونوں کی ثابت قدمی دکھا کر یہ تمہید باندھی جاتی ہے کہ بیرونی جاہ و جلال کے مقابلے میں تُلسی اور سمرن پر قائم عاجزانہ، منضبط بھکتی ہی اصل ہے۔

Viṣṇudāsa’s Seven-Day Trial, Compassion, and Viṣṇu’s Sākṣātkāra (विष्णुदासस्य परीक्षासप्ताहः करुणा च विष्णोः साक्षात्कारः)
نارد جی برہمن بھکت وِشنوداس کا حال بیان کرتے ہیں۔ وہ روزانہ وِشنو کے لیے نَیویدیہ پکاتا ہے، مگر پکا ہوا کھانا ہر دن پراسرار طور پر اٹھا لیا جاتا ہے۔ سات دن وہ ورت کے سخت ضابطے میں رہتا ہے—ہری کو ارپن کیے بغیر خود نہیں کھاتا؛ ورت بھنگ کے خوف سے شام کی پوجا سے پہلے نَیویدیہ کی نگرانی کا عزم کرتا ہے۔ آٹھویں دن وہ ‘چور’ کو دیکھ لیتا ہے—بھوک سے نڈھال، ہڈیوں کا ڈھانچا، غم زدہ ایک چنڈال۔ سزا دینے کے بجائے وِشنوداس رحم دلی سے گھی اور کھانا دیتا ہے اور نرم کلامی کرتا ہے؛ خوف سے وہ بے ہوش ہو جائے تو وِشنوداس اس کی تیمارداری کرتا ہے۔ تب وہی چنڈال شंख، چکر اور گدا دھاری نارائن کے روپ میں ظاہر ہوتا ہے؛ دیوتا، گندھرو اور اپسرائیں حاضر ہو کر ایک آسمانی درشن کا منظر پھیلا دیتی ہیں۔ وِشنو بھکت کو گلے لگا کر سارُوپیہ (الٰہی صورت کی مماثلت) عطا کرتے ہیں اور ویکنٹھ لے جاتے ہیں۔ یہ دیکھ کر چول راجا دیکشت اقرار کرتا ہے کہ یَجّیہ اور دان کے باوجود وہ خوشنودی نہ ملی جو وِشنوداس کی بھکتی سے ملی؛ درشن کی فیصلہ کن وجہ صرف بھکتی ہے۔ وہ من-واچ-کایا سے ثابت قدم بھکتی کی دعا کر کے یَجّیہ کی آگ میں داخل ہوتا ہے؛ وِشنو پرکٹ ہو کر اسے بھی گلے لگاتے ہیں، وہی سارُوپیہ دیتے ہیں اور ویکنٹھ لے جاتے ہیں۔ اختتام میں وِشنوداس کو نیک سیرت اور چول نریپ کو سُشیلا کہا گیا ہے، اور دونوں کو رما پریہ بھگوان کے دربان بننے کی سعادت ملتی ہے۔

Jaya–Vijaya Śāpa, Gaja–Grāha Mokṣa, and the Emergence of Harikṣetra (जयविजयशापः, गजग्राहमोक्षः, हरिक्षेत्रप्रादुर्भावः)
اس باب میں دھرم دتّ جے–وجے کے بارے میں دریافت کرتا ہے، جو وِشنو کے دربان سمجھے جاتے ہیں۔ گن اُن کی پیدائش کا حال سناتے ہیں—دیوهوتی/کردم کی روایت سے وابستہ بیٹے، جو طویل عرصہ ویشنو دھرم کی پابندی میں رہے: اشٹاکشری جپ، ورت کی پابندی اور مسلسل پوجا۔ مروت کے یَجْن میں بلائے جانے پر وہ رسم و رواج میں ماہر ثابت ہوتے ہیں، مگر جدا جدا پوجا کے نذرانوں کے لیے ملنے والے دھن کی تقسیم پر جھگڑا ہو جاتا ہے اور باہمی الزام تراشی سے دو طرفہ شاپ لگتا ہے—ایک گراہ (مگرمچھ) اور دوسرا ماتنگ (ہاتھی) بن جاتا ہے۔ وہ وِشنو کی پناہ لیتے ہیں تو بھگوان بھکت کے کلام کی اٹل حیثیت اور اپنے ہی کیے کے کرم پھل کو بھگتنے کی دھرم نیتی بیان کرتے ہوئے آخرکار ویکنٹھ واپسی کا وعدہ فرماتے ہیں۔ پھر کارتک ماہ میں گنڈکی کے کنارے مگرمچھ ہاتھی کو پکڑ لیتا ہے؛ ہاتھی شری پتی کا سمرن کرتا ہے؛ شنکھ-چکر-گدا دھاری ہری پرकट ہو کر دونوں کو چھڑا دیتا ہے، دیویہ روپ عطا کر کے ویکنٹھ لے جاتا ہے۔ وہ مقام چکر کے واقعے کی نشانیاں لیے ‘ہریکشیترا’ کے نام سے مشہور ہوتا ہے۔ اختتام پر دھرم دتّ کو اخلاقی و عبادتی ہدایات دی جاتی ہیں—حسد ترک کرنا، برابریِ نظر، مخصوص برج/زمانے میں صبح کا اسنان، ایکادشی ورت، تلسی کی خدمت، برہمنوں، گایوں اور ویشنو بھکتوں کا احترام، اور خوراک میں احتیاط۔ پھل شروتی میں کارتک/وِشنو ورت کی برتری اور اس قصے کے سننے پڑھنے سے ہری کے قرب کی طرف مائل دل اور نیک انجام کی بشارت بیان کی گئی ہے۔

धनेश्वरस्य कार्तिकसत्संगपुण्यप्रभावः (Dhaneśvara and the Efficacy of Kārtika Satsaṅga-Merit)
شری کرشن بیان کرتے ہیں کہ نارَد کا اُپدیش سن کر پرتھو انہیں رخصت کر دیتا ہے اور پھر ایک تمثیلی واقعہ آتا ہے۔ دھنےشور نام کا ایک غریب اور اخلاقی طور پر گرا ہوا برہمن تجارت کے سفر میں نَرمدا کی تطہیر بخش نسبت والی ماہِشمتی نگری پہنچتا ہے۔ کارتک کے مہینے میں وہ ورت کی باقاعدہ دیکشا لیے بغیر بھی وہاں کے بھکتی بھرے ماحول کو دیکھتا ہے—اسنان و جپ، دیوتا پوجا، پران کا پاٹھ و شروَن، وشنو کی کیرتن، سنگیت و نرتیہ، اُدیापन، جاگرن، برہمنوں اور گایوں کی سیوا، اور دیپ دان۔ بھکتوں کو بار بار دیکھنے، چھونے، بات کرنے اور وشنو کے نام سننے سے وہ انجانے میں ان کے پُنّیہ کا ایک مقررہ حصہ (شَڈ اَمش) حاصل کر لیتا ہے۔ سانپ کے ڈسنے سے مرنے کے بعد یم کے دوت اسے کُمبھیپاک نرک لے جاتے ہیں، مگر وہاں کی اذیت اچانک ٹھنڈی پڑ جاتی ہے۔ نارَد یم کو سمجھاتے ہیں کہ ستسنگ کا یہ آخری لمس نرک ہٹانے والا کرم بن گیا؛ جو سادھوؤں سے درشن، سپرش اور وانی کے ذریعے جڑتا ہے، وہ ان کے پُنّیہ کا شَڈ اَمش پاتا ہے۔ یم دوت اسے گناہوں کی قسمیں اور نرکوں کے بھید دکھاتا ہے، لیکن دھنےشور کے جمع شدہ پُنّیہ سے سزائیں بے اثر ہو جاتی ہیں۔ آخرکار اسے کُبیر کا پیروکار بنا کر یکش لوک میں بھیج دیا جاتا ہے اور وہ ‘دھن یکش’ کے نام سے معروف ہوتا ہے۔ اختتام میں برہما وغیرہ کے اقوال سے کارتک کو موکش دینے والا اور سمردھی بخش کہا گیا ہے—گناہوں کے بوجھ تلے دبے لوگ بھی کارتک ورت کے اثر سے رہائی پا سکتے ہیں۔

Adattapuṇya–pāpabhāga-vicāraḥ and Māsopavāsa-vidhiḥ (On Shared Merit/Demerit and the Month-long Fast Procedure)
اس باب میں نارَد برہما سے پوچھتے ہیں کہ کارتک کے ورتوں میں کم محنت سے بڑا پھل کیوں ملتا ہے، اور یہ بھی کہ خود عمل کیے بغیر بھی دھرم پھل کیسے حاصل ہو سکتا ہے۔ برہما کرم میں شراکت (کرم-سہ بھاگیتا) کا باریک اصول بیان کرتے ہیں—شاگردوں، خادموں یا رشتہ داروں کے ذریعے یَجْیَہ وغیرہ کروا دینا، دان دینا، اور سنگت (اکٹھا کھانا، ساتھ رہنا، تعریف، گفتگو، سیوا وغیرہ) کے سبب بھی پُنّیہ/پاپ کا حصہ ملتا ہے۔ وہ چھٹا، دسواں، بیسواں، سوواں حصہ وغیرہ کی مثالوں سے بتاتے ہیں کہ رابطہ، مدد یا نگرانی کے مطابق پھل منتقل یا کمزور ہو جاتا ہے۔ پھر ماسوپواس (ایک ماہ کا روزہ/نِیَم) کی विधی آتی ہے—گرو کی اجازت، جسمانی طاقت کا اندازہ، اور آشون شُکل ایکادشی سے تیس دن کا انضباط۔ ہری/اچُیُت کی دن میں تین بار پوجا، نَیویدیہ و اُپہار کے ساتھ ارچنا، اور تیل ملنا، پان/تامبول، بعض حسی لذتیں اور بدچلن لوگوں کی صحبت سے پرہیز کا حکم ہے۔ دوادشی کو خاص پوجا، برہمنوں کو کھانا و عزت، دان، اور آخر میں ویشنو یَجْیَہ سے ورت مکمل ہوتا ہے؛ آگے تِتھی پر مبنی طریقوں کی طرف انتقال کا اشارہ دیا گیا ہے۔

Kārtika-Śukla-Navamī Nirṇaya and Tulasī–Keśava Vivāha Vidhi (कार्तिकशुक्लनवमीनिर्णयः तुलसीकेशवविवाहविधिश्च)
اس ادھیائے میں والکھلیہ رشی کارتک شُکل نوَمی کے تِتھی-نِرنَے کو منظم انداز میں بیان کرتے ہیں۔ پوروَاہن–اَپروَاہن کے لحاظ سے نوَمی کو ‘مدھیاہن-ویاپِنی’ مان کر گِرہن کرنے کا قاعدہ دیا گیا ہے، اور پچھلے دن کے اتصال کی صورت میں بھی ودھی کے مطابق عمل کرنے کی ہدایت ہے۔ اس دن کی مہِما وِشنو کے ہاتھوں کُوشمانڈک دَیتیہ کے وध کی کتھا سے جوڑی گئی ہے، اور کُوشمانڈ-دان کو عظیم پُنّیہ بخش کہا گیا ہے۔ اس کے بعد گھریلو پوجا-پاتھ میں کرشنوتسو اور خصوصاً تُلسی-کرپیڑن اور تُلسی–کیشو وِواہ کو سالانہ ویشنو اَنُشٹھان کے طور پر بتایا گیا ہے؛ اس کا پُنّیہ کنیا-دان کے برابر کہا گیا ہے۔ ترتیب میں یَتھاشکتی (سُورن آدی) وِشنو پرتیما کی تیاری، تُلسی اور وِشنو روپوں کی پران-پرتِشٹھا، پُرش سُوکت طرز کے پاٹھ کے ساتھ شوڈشوپچار پوجا، گنیش پوجن، پُنیَاہ اور نندی-شرادھ، دیو آگمن، اَرگھْی–پادْی–آچمنیہ، مدھوپارک، اَبھینْگ، گودھولی پوجا، گوتر–پروَر سمیت وِواہ سنکلپ، تُلسی دان کے وचन، رات بھر جاگَرَن، پراتَہ پوجا، اگنی ستھاپن، دوادشاکشری جپ–ہوم، پُورن آہُتی، آچارْیہ کا سَتکار اور اختتامی پرارتھنا بیان کی گئی ہیں۔ آخر میں پارن کے قواعد (ناموزوں سندھی میں بھنگ نہ کرنے کی تنبیہ)، ورت میں ترک کی گئی اشیا کا برہمنوں میں تقسیم، سَہ بھوجن کی مرَیادا، اور تُلسی پتر کے اُچّھِشٹ، گنّے کی ڈنڈی، آملکی، بدری وغیرہ کے استعمال سے متعلق طہارت کے اصول دیے گئے ہیں۔ وِسَرجن کے ساتھ پھل شروتی میں کہا گیا ہے کہ ہر سال تُلسی-کرپیڑن سے سمردھی، اناج و دھن، اور اِہ-پرلوک میں پائیدار کیرتی حاصل ہوتی ہے۔

Kārtika-Śukla-Navamī Observances and the Tulasi–Keśava Vivāha Rite (Tulasi Karapīḍana)
باب 32 میں والکھلیہ رشی کارتک شُکل نوَمی کے دان اور اُپواس کا ضابطہ بیان کرتے ہیں۔ تِتھی کی درستگی کو اصل بنیاد بنایا گیا ہے—پوروَاہن اور مدھیَاہن کے لحاظ سمیت—اور تین راتوں کی منظم ورت‑پالنا مقرر کی گئی ہے۔ سببِ روایت میں آتا ہے کہ وِشنو نے کُوشمانڈک دیو کا وध کیا؛ اس کے جسم کے بالوں سے بیلیں اُگیں، اسی لیے کُوشمانڈ (کدو/لوکی وغیرہ) کا دان عظیم پُنّیہ دینے والا مانا گیا۔ اس کے بعد تُلسی–کیشو پوجا کو شادی کے انداز میں مرکزی حیثیت دی گئی ہے—یَتھاشکتی سونے کی وِشنو مورتی بنانا، تُلسی اور وِشنو روپ کی پران‑پرتِشٹھا، آواہن اور شودش اُپچار پوجا۔ گنیش پوجا، پُنیَاہ، نندی شراَدھ، باجے‑گاجے کے ساتھ اعلان/پروسیشن، تُلسی کے پاس مورتی کی ستھاپنا، اور اَرگھ، پادْیَ، آچمنیَہ، مدھوپارک کے ساتھ کنیا دان کی طرح تُلسی سمرپن کا مکالمہ بیان ہوا ہے۔ گودھولی پوجا، گوتر‑پروَر سمیت سنکلپ، رات بھر جاگرن، صبح کی پوجا، اگنی ستھاپنا اور دوادشاکشری منتر سے ہوم مقرر ہے۔ آخر میں پارن کے قواعد (کچھ خاص سنجوگ والی دوادشی پر نہیں)، پہلے جن چیزوں سے پرہیز تھا اُن کا برہمنوں کو دان، جوڑوں اور برہمنوں کے ساتھ اجتماعی بھوجن، اُچّھِشٹ دوش سے بچنے کے لیے پرساد کھانے کے ضابطے، اور پھر وِسَرجن آتا ہے۔ پھل شروتی میں سالانہ تُلسی کرپیڑن سے دولت، ناموری اور دیرپا پُنّیہ کا وعدہ کیا گیا ہے۔

Bhīṣmapañcaka-vrata: Ekādaśī-ārambha, arghya-tarpaṇa, and five-day niyamas (भीष्मपञ्चकव्रतविधिः)
اس باب میں کارتک شُکل ایکادشی سے شروع ہونے والے پانچ روزہ بھیشم پنچک ورت کا باقاعدہ بیان ہے۔ مہابھارت کی یاد میں شَرشیّا پر لیٹے بھیشم کو واسودیو کی طرف سے ملنے والی تعظیم کا ذکر کر کے بتایا گیا ہے کہ بھیشم کو اَرغیہ اور تَرپن پیش کرنا دھرم کی رو سے احترام و تکریم ہے۔ کہا گیا ہے کہ بھیشم پنچک کے بغیر کارتک ورت نامکمل رہتا ہے؛ اور جو لوگ پورے کارتک کے سخت ضابطے ادا نہیں کر سکتے وہ اس مختصر عمل سے بھی ہم پلہ پھل پا سکتے ہیں۔ طریقۂ عمل میں ندی/جھرنے کے پانی میں اسنان، تل و اناج وغیرہ سے پِتروں کا ترپن، مقررہ منتروں کے ساتھ بھیشم کو جل-اَرغیہ و ترپن، اور لکشمی سمیت کیشو (وشنو) کی پوجا شامل ہے۔ پانچ دن دیپ دان اور پنچ رتن دان، روزانہ پوجا کی درجہ بندی (پاؤں، گھٹنے، سر)، روزوں کی صورتیں، دن بہ دن پنچ گویہ کے استعمال کی ترتیب، “اوم نمو واسودیوائے” کا جپ، شڈاکشر منتر سے ہوم، نیز نشہ آور اشیا، گوشت اور جنسی عمل سے پرہیز، برہمچریہ اور ساتتوک غذا کی پابندی بیان کی گئی ہے۔ اختتام پر پھل شروتی میں گناہوں کی پاکیزگی، اولاد کی امید سے متعلق کامیہ پھل، اور موکش کی سمت لے جانے والی پُنّیہ کو مہایَگیوں کے برابر بتایا گیا ہے۔ پورنیما کے دن اختتامی رسم میں برہمنوں کو کھانا کھلانا اور بچھڑے سمیت گائے کا دان کرنے کا حکم ہے۔

Ūrja-vrata Udyāpana-vidhi (Kārtika-vrata Completion Rite) | ऊर्जव्रतोद्यापनविधिः
اس باب میں نارد جی برہما سے پوچھتے ہیں کہ اُورجا/کارتک ورت کا اُدیापन (اختتامی رسم) کیوں ضروری ہے اور اس کی ادائیگی کیسے ہو۔ برہما بتاتے ہیں کہ اُدیापन کے بغیر ورت کا وعدہ کیا گیا پھل یقینی طور پر حاصل نہیں ہوتا۔ پھر وہ اُورجا/کارتک شُکل چتُردشی کو اُدیापन کا وقت مقرر کرتے ہیں اور تُلسی کے قریب شُبھ منڈپ بنانے، ستونوں کی آرائش، دیپ مالائیں، تورن اور دروازہ پالوں کی پوجا کا طریقہ بیان کرتے ہیں۔ اس کے بعد کلش کی स्थापना کر کے لکشمی سمیت شنکھ-چکر-گدا دھاری وشنو کی پوجا اور لوک پالوں کی تعظیم کا حکم ہے۔ ورتی روزہ/اپواس رکھ کر رات بھر جاگَرَن کرے، منگل گیت و ساز کے ساتھ؛ جاگَرَن کو دیرینہ گناہوں کی پاکیزگی کا سبب کہا گیا ہے۔ پُورنِما کو اسنان اور دیوتا پوجن کے بعد اہل برہمنوں کو بلایا جائے، اگنی استھاپن کر کے منتر کے ساتھ تل-پایس وغیرہ کی آہوتیاں دی جائیں؛ پھر دان-دکشِنا، بچھڑے سمیت کپیلا گائے کا دان، دیکشا گرو کا ستکار اور برہمنوں سے معافی طلب کرنے کی ہدایت ہے۔ آخر میں بتایا گیا ہے کہ کارتک ماس گناہوں کے دَہن میں بے مثال ہے؛ اُدیापन ماہاتمیہ کا شروَن/پাঠ وشنو-سایوجیہ عطا کرتا ہے، اور جو رسم ادا نہ کر سکیں وہ بھی باقاعدہ شروَن سے اس کا پھل پا سکتے ہیں۔

वैकुण्ठचतुर्दशी-माहात्म्यम् (Glory of Vaikuṇṭha Caturdaśī) and Kārtika Pūrṇimā Lamp-Rites
باب ۳۵ میں تقویمی و رسومی تعلیم کو تہہ در تہہ روایت کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔ برہما، والکھلیہ رشیوں کی قدیم حکایت سناتے ہیں—کرت یُگ میں کارتک شُکل چتُردشی کو وِشنو ویکُنٹھ سے وارانسی آئے، منیکرنیکا میں اسنان کیا اور وِشوَیشور شِو کی ہزار سونے کے کنولوں سے پوجا کا ارادہ کیا۔ ایک کنول چھپا دیے جانے سے کمی رہ گئی؛ ورت اور پوجا-آسن کی اکھنڈتا قائم رکھنے کے لیے پُندریکاکش وِشنو نے اپنا کنول-سا نین ہی آخری ‘کنول’ کے طور پر ارپن کر دیا۔ شِو پرسن ہو کر وِشنو کی مثالی بھکتی کی توثیق کرتے ہیں، حفاظت کا اختیار عطا کرتے ہیں اور بڑے دیتیوں کے دمن کے لیے سُدرشن چکر کا ور دیتے ہیں۔ پھر ترتیب بتائی گئی ہے—دن میں اُپواس، شام کو ہری پوجا، اس کے بعد شِو پوجا؛ جو چتُردشی رات تک پھیلے وہ ہری پوجا کے لیے قابلِ اخذ ہے، اور شِو پوجا ارُنوَدَے کے وقت افضل کہی گئی ہے۔ مختلف تیرتھوں اور مندروں کے سلسلے بیان کر کے ہری-ہر کی مشترک عبادت کو کامل دھرم سادھنا قرار دیا گیا ہے۔ آخر میں کارتک پُورنِما کو ‘ترِپُروتسو’ کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور شِو مندروں میں دیپ دان کو لازم کہا گیا ہے۔ دیپ دینے سے گناہوں سے نجات، تہوار و ورت کی ادائیگی اور وِرشوتسرگ وغیرہ اعمال کے ساتھ نیک نتائج و سعادت—یہی پھل شروتی بیان ہوئی ہے۔

अन्त्यतिथित्रय-माहात्म्य (The Glory of the Final Three Tithis of Kārtika)
باب 36 میں برہما کارتیِک کے شُکل پکش کی آخری تین تِتھیوں—تریودشی، چتوردشی اور پورنیما—کی غیر معمولی تقدیس بیان کرتے ہیں۔ اِن تِتھیوں کو ویدوں، دیوتاؤں اور وِشنو کے قائم کردہ تیرتھوں سے مربوط کر کے کہا گیا ہے کہ اِن دنوں میں اشنان اور ضبطِ نفس کے ساتھ ورت/نیم ادا کیے جائیں تو، اگر پورے مہینے کی پابندیاں ممکن نہ ہوں تب بھی ‘کامل پھل’ حاصل ہوتا ہے۔ پھر عبادت کا عملی طریقہ بتایا گیا ہے: سحر میں اٹھنا، طہارت و اشنان، وِشنو پوجا، منڈپ بنانا اور سجاوٹ کرنا، اور اُورجا/کارتیِک ماہاتمیہ کا باقاعدہ شروَن—چاہے ایک باب، ایک شلوک یا تھوڑی دیر ہی کیوں نہ ہو۔ پوران کے پاٹھ کے لیے واعظ اور سامعین کی اہلیت، ناموزوں مقامات کی ممانعت، بیان کے وقت آداب، اور پاٹھ کرنے والے کی نذر و نیاز/دان اور تعظیم کی فضیلت تفصیل سے آتی ہے۔ آخر میں پھل شروتی کے طور پر گناہوں کی پاکی، صحت، دنیوی مقاصد کی تکمیل اور موکش کا وعدہ ہے، ساتھ ہی بے ایمان/بے اعتقاد لوگوں کو یہ تعلیم نہ دینے اور گرو کی تعظیم کو لازم پکڑنے کی تاکید کی گئی ہے۔
It exalts Kārtika as a sacred season where regulated observances—bathing, lamp-offering, devotion to Dāmodara, and care of Tulasī—are presented as especially efficacious for spiritual merit and ethical purification.
The section frames Kārtika practices (notably snāna and dīpadāna) as high-merit disciplines in Kali-yuga, sometimes compared—via evaluative hierarchy—to merits associated with other months and renowned tirthas.
Key themes include calendrical boundaries for vrata, comparative merit discourse, devotional objects and mediators (Tulasī, Śālagrāma), household ethics (truthfulness, restraint), and the logic of ‘accessibility’ of dharma in Kali-yuga.