Avanti Kshetra Mahatmya
Avanti Khanda71 Adhyayas3371 Shlokas

Avanti Kshetra Mahatmya

Avanti Kshetra Mahatmya

This section is situated in the sacred topography of Avantī, traditionally associated with Ujjayinī (Ujjain) in central India. It presents the region as a Śaiva kṣetra defined by Mahākāla and by a network of tīrthas, liṅgas, and ritual landscapes (including cremation-ground symbolism). The narrative frames Avantī as a comparandum within a pan-Indian pilgrimage hierarchy (e.g., Kurukṣetra, Vārāṇasī, Prabhāsa), thereby integrating local sanctity into an all-India Purāṇic map.

Adhyayas in Avanti Kshetra Mahatmya

71 chapters to explore.

Adhyaya 1

Adhyaya 1

महाकालवनमाहात्म्य-प्रश्नोत्तरम् | Mahākālavanamāhātmya: Dialogues on the Glory of Mahākāla’s Sacred Grove

باب 1 کا آغاز منگل آچرن اور شَیویہ-ستوتر کے انداز کی حمد سے ہوتا ہے، جہاں مہاکال کو لِنگ-روپ میں ازلی الوہیت کے طور پر سجدۂ تعظیم پیش کیا گیا ہے۔ پھر مکالمے میں اُما بڑے تیرتھوں اور مقدس ندیوں کی ترتیب وار خبر چاہتی ہیں۔ ایشور گنگا، یمنا، نرمدا؛ کوروکشیتر، گیا، پربھاس، نیمِش؛ کیدار، پشکر، کایاوروہن وغیرہ کا ذکر کرکے آخر میں مہاکالون کو سب سے برتر اور نہایت مبارک کشتَر قرار دیتے ہیں۔ مہاکالون کو وسیع کشتَر بتایا گیا ہے جو سخت آلودگیوں کو مٹاتا ہے، بھُکتی–مُکتی عطا کرتا ہے اور پرلے (کائناتی فنا) کے وقت بھی مؤثر رہتا ہے۔ اُما وہاں کے خاص تیرتھوں اور لِنگوں کی مزید تفصیل طلب کرتی ہیں۔ اس کے بعد سَنَتکُمار اور ویاس کا وعظی منظر آتا ہے۔ ویاس پوچھتے ہیں کہ اسے مہاکالون کیوں کہتے ہیں، یہ ‘گُہْیَ’ جنگل، پیٹھ، اُوشَر اور شمشان کیوں کہلاتا ہے، اور وہاں رہائش، موت، اسنان اور دان کے کیا پھل ہیں۔ سَنَتکُمار علتیں بیان کرتے ہیں: وہاں پاپ (گناہ) فنا ہوتے ہیں؛ ماترگن کے تعلق سے پیٹھتوا؛ وہاں موت سے پُنرجنم رک جاتا ہے؛ اور شمشان کی علامت شیوا کو محبوب ہے۔ باب کے آخر میں دوسرے تیرتھوں کے مقابلے میں کئی گنا پُنّیہ کے مراتب سے مہاکالون کی برتری ثابت کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ مہاکالپور میں وَن، پیٹھ، کشتَر، اُوشَر اور شمشان—یہ پانچوں اوصاف ایک ساتھ منفرد طور پر موجود ہیں۔

42 verses

Adhyaya 2

Adhyaya 2

Mahākāla, Brahmā’s Stuti, and the Origin of Nīlalohita (Rudra)

سنتکمار بیان کرتے ہیں کہ آغاز کی ایک پرلَے جیسی حالت میں صرف مہاکال ہی بطورِ اعلیٰ حاکم قائم تھے۔ تخلیق کے لیے سنہرا کائناتی انڈا (ہِرنَیَگربھ) نمودار ہوا اور دو حصّوں میں بٹ گیا—نیچے پرتھوی، اوپر سُورگ؛ درمیان میں برہما ظاہر ہوئے۔ مہاکال/شیو نے برہما کو سृष्टی کے کام کا حکم دیا۔ برہما نے گیان مانگا تو وید اپنے چھ اَنگوں سمیت ملا؛ پھر بھی تپسیا کر کے شیو کی طویل ستوتی کی—انہیں گُناتیت اور سृष्टی-ستھِتی-پرلَے کی بنیاد قرار دیا۔ شیو نے ورदान سے آمیختہ مکالمے میں برہما کی ذہنی خواہشِ پُتر سے نیللوہت (رُدر) کو ظاہر کیا اور ‘برہما’ اور ‘پِتامہ’ کے منصب کی تاتّوِک وجہ بھی قائم کی۔ رُدر کی ہیبت ناک شبیہ بیان ہوتی ہے اور انہیں ہمالیہ کی سمت بھیجا جاتا ہے۔ بعد ازاں برہما اپنی تخلیقی قوت پر مغرور ہوئے؛ پانچویں چہرے کی تابانی سے دیوتا پریشان ہو کر مہیشور کی پناہ لیتے ہیں۔ شیو ظاہر ہو کر برہما کے غرور کو دباتے ہیں اور اپنے ناخن سے پانچواں سر کاٹ کر ‘کپالِن’ کے بھاؤ کی علت بناتے ہیں۔ دیوتا مہاکال، کپالِن اور دکھ ہَر شیو کی ستوتی کرتے ہیں؛ یہ باب کائنات کی ابتدا، حمد و ثنا اور غرور سے بچنے کی دھارمک تعلیم کو یکجا کرتا ہے۔

76 verses

Adhyaya 3

Adhyaya 3

Śiprā-prādurbhāvaḥ and Nara-Nārāyaṇa-saṃbandhaḥ (Origin of the Śiprā and the Nara–Nārāyaṇa Link)

سنَتکُمار بیان کرتے ہیں کہ تمس سے ڈھکے اور غضبناک برہما نے اپنے پسینے سے ایک ہیبت ناک، اسلحہ و زرہ سے آراستہ وجود پیدا کیا۔ اسے رودر کی طرف بھیجا گیا؛ رودر نے سوچا کہ یہ قابلِ قتل نہیں اور آگے چل کر وِشنو کا ساتھی بنے گا، اس لیے وہ وِشنو کے آشرم پہنچے۔ وہاں رودر دہکتے کَپال (کھوپڑی) کے پیالے میں بھکشا مانگتے ہیں؛ وِشنو ان کی اہلیت جان کر اپنا دایاں بازو نذر کرتے ہیں۔ رودر ترشول سے اسے چھیدتے ہیں اور الٰہی خون سے ایک پاک و تیز رفتار ندی ظاہر ہوتی ہے—یہی شِپرا ہے؛ اس کی مقدار اور بہاؤ کی مدت بھی بیان ہوتی ہے۔ کپال بھر جانے پر خون کے مَتھن سے تاج پوش ایک جنگجو پیدا ہوتا ہے جس کا نام رودر ‘نَر’ رکھتے ہیں۔ رودر بتاتے ہیں کہ نر اور نارائن ایک یُگ میں ساتھ ساتھ مشہور ہوں گے، جہانوں کی حفاظت اور دیوی مقاصد کی تکمیل کریں گے۔ پھر پسینہ زاد اور خون زاد وجودوں میں طویل جنگ ہوتی ہے؛ دیوتاؤں کے فیصلے سے انجام ہوتا ہے اور آئندہ یُگوں میں ان کی جگہ مقرر کی جاتی ہے۔ آخر میں وِشنو برہما کو پرایشچت کی راہ دکھاتے ہیں—اگنی-تریہ کی ترتیب کے ساتھ طویل عبادت کے ذریعے بد نیت ارادے سے پیدا ہونے والے دَوش کا اخلاقی ازالہ کیا جائے۔

62 verses

Adhyaya 4

Adhyaya 4

अग्नितेजःसर्गः तथा नर-उत्पत्तिप्रसङ्गः (Origin of Agni’s Tejas and the Context of Nara’s Emergence)

یہ باب سوال و جواب کی صورت میں ایک عمیق دینی و تَتّوی مکالمہ پیش کرتا ہے۔ وِیاس پوچھتے ہیں کہ کَپال (کھوپڑی) کے پس منظر اور وِشوکرما کی صناعی/کارگزاری سے وابستہ غیر معمولی تیرانداز ‘نَر’ کا رُدر، وِشنو اور برہما سے کیا ربط ہے، اور برہما کا ‘پانچواں چہرہ’ اس روایت میں کیوں اہم بنتا ہے۔ سنتکُمار جواب میں کائناتی پیدائش کا بیان کرتے ہیں—تپسیا اور ویدی منتر کے اُچار کے بعد برہما کے من سے اگنی کا ظہور ہوتا ہے۔ ظہور کے بعد اگنی بے قابو ہو کر نیچے اترتی ہے تو برہما یَجْیَہ-روپ خود آہوتیوں کے ذریعے اسے تھامنے اور سیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر برہما اگنی کو تقسیم کر کے مختلف ‘آگوں’ کو (ا/اِ/اُ کی صوتی علامتوں کے مطابق) سورج، چاند، زمین اور سمندر وغیرہ میں—وڈوامُکھ جیسے روپ سمیت—مقرر کرتے ہیں، اور دْوِج برادری کے لیے ‘سنسکرت/منضبط گفتار’ کو پاکیزگی اور حیات بخش اصول کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ اس کے بعد حمدیہ سلسلے میں برہما اگنی کے کثیر رُوپ تَیجَس کی ستائش کرتے ہیں، یہاں تک کہ تخلیق و بقا کو چلانے والے برتر تَتّو کا الٰہی دیدار ظاہر ہوتا ہے۔ آخر میں کلام پھر نر–نارائن کے فریم کی طرف لوٹتا ہے، اور پھل شروتی میں وعدہ کیا جاتا ہے کہ اس ‘تیجس-سرگ’ کو سمجھ کر عقیدت سے سننے والوں کو برہما-سالوکْی سمیت روحانی رفعت نصیب ہوتی ہے، اور یہ پشوپتی (شیو) کی عظمت کی طرف بھی اشارہ ہے۔

100 verses

Adhyaya 5

Adhyaya 5

Kuśasthalī-vanavarṇana and Kapāla-nikṣepa (Description of the Kuśasthalī Forest and the Casting Down of the Kapāla)

اس باب میں ویاس پوچھتے ہیں کہ پچھلے نزاع کے بعد برہما، جناردن (وشنو) اور شنکر نے کون سا کفّارہ یا انुषٹھان کیا۔ سنتکمار جواب دیتے ہیں کہ برہما جنگلی سمِدھا وغیرہ سے اگنی ہوترا میں مشغول ہیں، اور تمام جانداروں کی بھلائی کے لیے بدری آشرم میں نر-نارائن کی تپسیا جاری ہے۔ پھر کَپالپانی شیو کُشستھلی پہنچ کر نہایت مبارک جنگل میں داخل ہوتے ہیں۔ وہاں درخت، بیلیں، پھول، پرندے، ہوائیں اور موسموں کی لطافت اس طرح بیان ہوتی ہے گویا وہ بھکتی سے رُدر کی مہمان نوازی کر رہے ہوں؛ شیو کے آنے پر جنگل خود پھول نذر کرتا ہے۔ شیو انہیں قبول کر کے درختوں کو ور دیتے ہیں—آگ، ہوا، پانی، سورج، بجلی، سردی وغیرہ کے ضرر سے حفاظت، ہمیشہ شگفتگی و جوانی، اور مراد پوری کرنے والی صفت۔ کچھ عرصہ وہاں قیام کے بعد شیو کَپال کو زمین پر پھینک دیتے ہیں؛ اس سے ایسا عظیم ارتعاش ہوتا ہے کہ سمندر، پہاڑ، دیویہ وِمان اور تینوں لوک لرز اٹھتے ہیں۔ گھبرائے ہوئے دیوتا سبب جاننے برہما کے پاس جاتے ہیں؛ برہما کَپال دھارن کا واقعہ—پانچویں سر کا قطع، نارائن سے بھکشا، اور کُشستھلی میں ورود—بیان کر کے انہیں رُدر کو راضی کرنے اور ور پانے کے لیے شیو کی طرف لے جاتے ہیں۔

72 verses

Adhyaya 6

Adhyaya 6

महापाशुपतव्रत-दीक्षा, महाकालवन-प्रादुर्भाव, कपालव्रत-विधानम् (Mahāpāśupata Vrata Initiation, Mahākālavana Epiphany, and the Kapāla-vrata Framework)

سنت کمار بیان کرتے ہیں کہ دیوتا پھولوں سے بھرے جنگل میں مہادیو کی تلاش میں داخل ہوتے ہیں، مگر بہت جستجو کے باوجود دیدار نہیں ہوتا۔ پھر عقیدۂ حق واضح کیا جاتا ہے کہ الٰہی دید اندرونی اہلیت پر موقوف ہے؛ شیو تک رسائی کے ذرائع شردھا، گیان اور تپس/یوگ کی تثلیث ہیں، اور ساکل (مجسم) و نشکل (غیر مجسم) ادراک کا فرق بھی بتایا جاتا ہے۔ برہما دیوتاؤں کو شَیو دیکشا لے کر مسلسل پوجا کرنے کی ہدایت دیتے ہیں؛ شَیو یَجْن کی تیاریاں ہوتی ہیں، دیوتا دیکشت ہو کر مہاپاشوپت ورت نامی اعلیٰ ریاضت پاتے ہیں۔ اس کے بعد شیو ہولناک اور گوناگوں صورتوں والے گنوں کے جھرمٹ میں پرکٹ ہوتے ہیں۔ دیوتا متعدد القاب سے ستوتی کرتے ہیں؛ شیو ان کی پابندِ ضابطہ سادھنا سے خوش ہو کر ور دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اسُر کے خطرے کو دبانے کے لیے انہوں نے کَپال (کھوپڑی) پھینکنے کی صورت میں حفاظتی کرم کیا، جس سے کائنات میں اضطراب پیدا ہوا۔ وہ مہاکالون کو مشہور، نہاں اور شمشان-سروپ مقدس بن قرار دیتے ہیں اور کَپال ورت کی مر्यادا سمجھاتے ہیں—بھسم و رودراکsha دھارن، ضبطِ نفس، بُری صحبت سے پرہیز، اور ورت کی توہین کے سنگین گناہ۔ آخر میں یکسوئی سے پاتھ/سماعت کے ثمرات کی بشارت دی جاتی ہے۔

103 verses

Adhyaya 7

Adhyaya 7

रुद्रभक्तित्रिविधविभागः तथा क्षेत्रवासिफलनिर्णयः (Threefold Rudra-Bhakti and the फल of Residence in Mahākālavana)

اس باب میں ویاس پوچھتے ہیں کہ مہاکالون میں رہ کر رُدر کے لوک کی طلب رکھنے والے مرد و زن، تمام ورن و آشرم کے لوگ، کون سا درست طریقۂ عبادت اختیار کریں۔ سنَتکُمار رُدر‑بھکتی کو تین درجوں میں بیان کرتے ہیں: (1) مانسی بھکتی—دھیان و دھارَنا پر قائم باطنی عبادت، (2) کایکی بھکتی—ورت، اُپواس، حواس پر ضبط اور ریاضت، (3) لوککی بھکتی—نذرانے، خوشبو، چراغ، لباس، جھنڈے، ساز و نغمہ اور مہمان نوازی کے ساتھ ظاہری پوجا۔ نیز رُدر کو مقصود بنا کر کیا گیا اگنی ہوترا، درش‑پورنماس کے یَجْن، منتر جپ اور سمہتا کا مطالعہ ‘ویدکی’ عمل کے طور پر الگ سے بتایا گیا ہے۔ پھر ‘آدھیاتمکی’ پہلو سانکھیہ اور یوگ—دو دھاراؤں میں آتا ہے۔ سانکھیہ میں تتّووں کی ترتیب بیان ہوتی ہے: بے شعور پرکرتی/پردھان، شعور رکھنے والا بھوکتا پُرُش، اور ان سے برتر محرّک اصول کے طور پر رُدر؛ یوگ میں پنچوکترا، تریلوچن وغیرہ اوصاف کے ساتھ مہاکال کا دھیان بتایا گیا ہے۔ آخر میں کشترا میں رہنے والوں کے آشرم‑دھرم، تپسیا اور مہاکالون میں موت کے انداز کے مطابق نتائج گنوائے گئے ہیں—کسی کے لیے برہما‑سایوجیہ/موکش، کسی کے لیے گُہیکوں وغیرہ کے ساتھ رُدرلوک میں طویل نعمتیں، اور پھر اگلے جنموں میں دولت، مرتبہ اور بھکتی کی افزونی۔

80 verses

Adhyaya 8

Adhyaya 8

Kalakaleśvara–Kalahanāśana-kuṇḍa and the Apsarā-tīrtha: Ritual Merit, Protection, and Origin Narratives

اس باب میں ویاس موکش کے بارے میں سوال اٹھاتے ہیں—اگر آچار، ضبطِ نفس اور تپسیا سے رُدرلوک ملتا ہے تو جو عورتیں، ملِیچھ، شودر، جانور یا تپسیا کے قابل نہیں، وہ مہاکالون میں مر جائیں تو ان کی گتی کیا ہوگی؟ سَنَتکُمار مقام کے دھرم کی تعلیم دیتے ہیں: مہاکال کے احاطے میں ‘کال کے سبب موت’ بھی رُدرلوک عطا کرتی ہے؛ بدن بدل جاتا ہے اور جیوا شِو کے سَانِّده میں سُکھ بھوگتا ہے۔ پھر مقامی تِیرتھ-بھُوگول کے ذریعے یہ بات مضبوط کی جاتی ہے۔ شِو–گَوری کے کَلَہ سے کالکلیشور کا پرادُربھاو اور کَلَہناشن کُنڈ کی ستھاپنا بیان ہوتی ہے؛ وہاں اسنان، پوجا اور رات کا اُپواس بڑے پُنّیہ اور وंश-اُدھّار کا سبب کہا گیا ہے۔ پِرشٹھ ماتر دیویاں اور مَڻِکَرṇِکا کو حفاظت و تطہیر کے مراکز بتایا گیا ہے—گناہوں کی نِوِرتّی اور چوروں، بھوت-پریت اور گرہ-پیڑا سے امان ملتی ہے۔ اس کے بعد اپسرا کی پیدائش کی کتھا—نر-نارائن کی تپسیا، اِندر کی رخنہ اندازی، اور اُروَشی کی سِرشٹی۔ پُرورَوا کی جدائی اسے مہاکالون لاتی ہے؛ نارد پاروتی کے لیے ورت اور تُلا-دان (تل، نمک، شکر، گُڑ، شہد) بتاتے ہیں، جن سے حسن، خوشحالی اور ازدواجی استحکام ملتا ہے۔ آخر میں ماہِش کُنڈ وغیرہ تِیرتھوں کا ذکر کر کے پریت-راکشش-پِشَچ وغیرہ آفات سے حفاظت کی مہِما کہی گئی ہے۔

81 verses

Adhyaya 9

Adhyaya 9

महाकपाल-प्रादुर्भावः तथा शिवतडाग-रौद्रसरः-माहात्म्यम् (Origin of Mahākapāla and the Glory of Śiva’s Tank/Raudra Lake)

ویاس نے دریافت کیا کہ مہیص (بھینسے) کی صورت والے خطرے کی ابتدا کیسے ہوئی، ماتراؤں (ماتೃ دیویوں) کا ظہور کیسے ہوا، اور کشت্র (مقدّس میدان) میں رُدر کی کارفرمائی کس طرح عمل میں آتی ہے۔ سنَتکُمار بیان کرتے ہیں کہ مہادیو برہمتَیج سے منوّر کَپال-کھنڈ کو دھارن کر کے گنوں کے سامنے اوَنتی کے پُنیہ پرَدیش میں کھیل ہی کھیل میں اسے پرتِشٹھت کرتے ہیں۔ اسی وقت ایک ہیبت ناک ناد بلند ہوتا ہے، جس سے دیو-پیڑک، وردانوں سے قوّت یافتہ ہالاہل نامی اسُر مہیص-روپ دھار کر عظیم لشکر کے ساتھ آ پہنچتا ہے۔ شیو گنوں کو حکم دیتے ہیں کہ آنے والے دشمن کو روکو؛ گن باہم ہم آہنگ ہو کر اسلحہ کی بارش کرتے ہیں اور اسے گرا دیتے ہیں۔ اسُر کے پَتن کے بعد شیو فرماتے ہیں کہ اَہنکار ہی ہلاکت کا سبب بنتا ہے۔ پرتِشٹھت کَپال سے اُگر اور درخشاں کَپال-ماتریائیں پرकट ہوتی ہیں؛ وہ دوڑ کر آتی ہیں، دَیتیہ کو بھکش لیتی ہیں اور اس استھان/وستو کو ‘مہاکپال’ کے نام سے مشہور کر دیتی ہیں۔ پھر شیو-تڑاغ/رَودر سَرَوَر کے ظہور اور مہاتمیہ کا ذکر آتا ہے، جسے مہایَگّیہ کے سنان کے برابر پاک کرنے والا تیرتھ کہا گیا ہے۔ برہما کی یاترا، اس کشت্র کی ‘سورگ تک چڑھنے کی سیڑھی’ کے طور پر شہرت، وہاں مرنے والوں کے لیے رُدرلوک کی پرابتّی، اور یکسو ہو کر سننے والوں کے لیے اعلیٰ پھل—اسی پھلشروتی کے ساتھ ادھیائے سمાપ્ત ہوتا ہے۔

26 verses

Adhyaya 10

Adhyaya 10

कुटुंबिकेश्वरतीर्थमाहात्म्य (Kutumbikeśvara Tīrtha-Māhātmya)

سنت کمار تری لوک میں مشہور مہادیو سے وابستہ ایک تیرتھ کی مہیمہ بیان کرتے ہیں، جہاں سویمبھُو کُٹُمبیکیشور پرकट ہیں۔ مندر کے درشن اور متعلقہ رسومات کو تطہیر کا ذریعہ کہا گیا ہے؛ جو شخص پاک ہو کر قاعدے کے مطابق شرادھ کرے اور دیوتا کے درشن کرے، وہ سات جنموں کے جمع شدہ گناہوں سے چھوٹ جاتا ہے۔ پھر تیرتھ کے کنارے ساگ سبزی اور کند مُول وغیرہ کا اَنّ دان مہاپُنّیہ دینے والا اور ‘پرَم پد’ تک پہنچانے والا بتایا گیا ہے۔ پَوش شُکل پرتپدا یا اشٹمی کو ایک دن کا اُپواس اشومیدھ کے برابر پھل دیتا ہے؛ آشوِنی پُورنِما کو مہادیو کے پٹّ بندھ (بندھن/مالا) میں بھکتی کے ساتھ درشن سے سُورگ کی پرابتّی کہی گئی ہے۔ چَیتر شُکل پنچمی کو اُپواس کر کے کافور، زعفران، کستوری، چندن جیسے خوشبودار درویہ اور گھرت پائس چڑھانا، اور برہمن جوڑے کو بھوجن کرانا—اس سے طویل مدت تک رُدر لوک کی پرابتّی کا پھل بیان ہوا ہے۔

8 verses

Adhyaya 11

Adhyaya 11

विद्याधरतीर्थमाहात्म्यम् (The Māhātmya of Vidyādhara Tīrtha)

باب کی ابتدا وِدیادھر تیرتھ کے ماہاتمیہ کے اعلان سے ہوتی ہے—کہ جو شخص پاکیزگی کے ساتھ وہاں اشنان کرے، اسے ‘وِدیادھروں کا سردار’ ہونے کا پھل ملتا ہے۔ وِیاس جی سَنَتکُمار سے پوچھتے ہیں کہ اس کْشَیتر میں اس تیرتھ کی ابتدا کیسے ہوئی۔ سَنَتکُمار سبب کی کہانی سناتے ہیں۔ پارِجات کی دلکش مالا سے آراستہ ایک وِدیادھر نایک اِندرلوک جاتا ہے۔ میناکَا کے ناچ کے وقت وہ اسے مالا دے دیتا ہے؛ اِندر اسے ناچ میں خلل اور نامناسب حرکت سمجھ کر غضبناک ہوتا ہے اور اسے زمین پر گرنے کی شاپ (لعنت) دیتا ہے۔ وِدیادھر کرپا کی درخواست کرتا ہے تو اِندر اسے اَونتی کْشَیتر کی طرف رہنمائی کرتا ہے، گنگا سے وابستہ ایک غار بتاتا ہے، اور کہتا ہے کہ اس کے شمال میں تینوں لوکوں میں مشہور ‘وِدیادھر’ نام کا اعلیٰ تیرتھ ہے۔ اِندر کے حکم کے مطابق وِدیادھر اَونتی پہنچ کر اس خوشگوار تیرتھ میں اشنان کرتا ہے اور اس کے پرتاب سے اپنا سابقہ دیویہ مقام دوبارہ پا لیتا ہے۔ آخر میں پھل شروتی ہے—وہاں پھول اور چندن وغیرہ چڑھانے سے اِس لوک اور پرلوک میں کامل بھوگ، پُنّیہ اور دھرم یُکت بھکتی حاصل ہوتی ہے۔

14 verses

Adhyaya 12

Adhyaya 12

Mārkaṭeśvara-tīrtha and Śītalā Darśana (मर्कटेश्वरतीर्थ-शीतलादर्शन)

سنت کمار مَرکٹیشور نامی ایک نہایت مقدس مقام کا بیان کرتے ہیں، جہاں ایک مشہور تیرتھ ‘سروکام پرَدائک’ یعنی مرادیں دینے والا کہا گیا ہے۔ اس تیرتھ میں اشنان کرنے سے سو گایوں کے دان کے برابر پُنّیہ حاصل ہوتا ہے—یہی اس باب کی پھل شروتی ہے۔ پھر وِسفوٹ (چھالے/پھوڑے) جیسی اُبھرتی تکالیف کی شانتِی اور بچوں کی خیریت کے لیے ایک عملی رسم بتائی گئی ہے—وہاں مسور کو ناپ کر کوٹنا چاہیے؛ اس کی تاثیر شیتلا دیوی کی ٹھنڈک بخش قوت سے منسوب کی گئی ہے۔ شیتلا کے درشن کو ‘دُرِت آپہا’ یعنی گناہ و آفت دور کرنے والا کہا گیا ہے؛ اس کے بھکت پاپ کے نشان، فقر، بیماری کے خوف اور گرہ-پیڑا سے محفوظ رہتے ہیں۔ یوں یہ ادھیائے مقام سے وابستہ کرم، حفاظتی دیوی-تتّو اور فلاح و استحکام پر مبنی مختصر پھل شروتی کو یکجا کرتا ہے۔

5 verses

Adhyaya 13

Adhyaya 13

Svargadvāra-tīrtha: Bhairava–Ambikā Darśana and Śrāddha-Pūjā Phala (स्वर्गद्वारतीर्थे भैरवाम्बिकादर्शन-श्राद्धपूजाफलम्)

اس باب (۱۳) میں سَنَتکُمار وِیاس کو اَوَنتی کْشَیتر کے ‘سْوَرگ دْوار’ تیرتھ کی رسم و راہ اور نجات بخش اہمیت بتاتے ہیں۔ ترتیب یہ ہے: سْوَرگ دْوار پر اشنان (غسل)، بھَیرو کا درشن، اور پھر پِتروں کی خوشنودی کے لیے عقیدت سے وہیں شْرادھ کرنا۔ اس عمل سے سادھک اور اس کے اَجداد دونوں کو بھلائی پہنچتی ہے اور رُدر کے اعلیٰ دھام تک رسائی کا دروازہ کھلتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھَیرو کے سامنے اَنبِکا دیوی جلوہ فرما ہیں؛ ان کے درشن سے مرد و عورت سب کے پاپ دور ہو جاتے ہیں۔ مہانَوَمی کے دن دیوی کو بَلی چڑھانے اور مہیش (بھینس) وغیرہ کے نذرانے، مَدھ (شراب) و مانس (گوشت) وغیرہ اور شُبھ بِلوَ پُشپ مالا کے ساتھ پوجا کرنے سے ‘تمام سِدھیاں’ حاصل ہوتی ہیں—یہی پھل شْرُتی بیان کرتی ہے۔ آخر میں پھر تاکید ہے کہ اس مقام پر اشنان اور مہیشور کی پوجا کرنے والا بھکت سْوَرگ دْوار کے راستے رُدرالَے کو پہنچتا ہے۔

5 verses

Adhyaya 14

Adhyaya 14

राजस्थलसमीपे चतुर्समुद्रसंगमः — The Convergence of Four Oceans near Rajāsthāla

اس باب میں راجاستھل کے قریب واقع شَیویہ تیرتھ کی عظمت بیان ہوئی ہے، جہاں شیو کے سَنِّدھان میں چار سمندر—کشار (نمکین)، کشیر (دودھ)، ددھی (دہی) اور اِکشو رس (گنّے کا رس)—ایک ہی جگہ کَلا روپ میں موجود بتائے گئے ہیں۔ ویاس جی سوال کرتے ہیں کہ جو سمندر عموماً کائناتی حدود پر مانے جاتے ہیں وہ یہاں ایک مقام پر کیسے جمع ہوئے؟ سَنَتکُمار اس کی علّت و سبب کی کہانی سناتے ہیں۔ راجا سُدیُمن اور رانی سُدرشنا اولاد کی خواہش سے دالبھْی رِشی کے پاس جاتے ہیں۔ رِشی ‘پُترپرد’ دیویہ جل میں اسنان اور شنکر کی پوجا کا اُپدیش دیتے ہیں۔ سُدیُمن شیو کی آرادھنا کرتا ہے تو شیو حکم دیتے ہیں کہ اوَنتی/کُشستھلی جاؤ؛ میری آج्ञا سے سمندر وہاں آ کر یُگانت تک اَمش روپ میں ٹھہریں گے، اور اسنان کے پھل سے شُبھ لکشَنوں والا پُتر حاصل ہوگا۔ آگے چاروں سمندروں میں ترتیب وار اسنان، پِتروں کے لیے شرادھ، پاروتی پتی شیو کی پوجا اور دان کے قواعد بتائے گئے ہیں—نمک، دودھ، دہی-بھات، گُڑ، تانبے کے برتن، سونا، اناج، کپڑے، اَرجھْی اور دودھ دینے والی گائے کا دان۔ پھل شروتی میں خوشحالی، پسندیدہ اولاد، طویل سوَرگ پھل اور آخرکار موکش کا ذکر ہے۔

30 verses

Adhyaya 15

Adhyaya 15

शंकरवापिका–शंकरादित्यतीर्थमाहात्म्य (Śaṅkaravāpikā and Śaṅkarāditya Tīrtha: Glory and Merits)

اس باب میں سَنَتکُمار وِیاس کو تیرتھ دھرم کی حقیقت بیان کرتے ہیں۔ پہلے ‘شنکرواپیکا’ نامی عظیم تیرتھ کا سبب بتایا گیا ہے—شیو نے کَپال-کشالن (کھوپڑی کی تطہیر) کے لیے جو پانی استعمال کیا، اسے جہاں ڈالا گیا وہی پانی وہاں کنواں/تالاب بن کر مقام کو مقدّس کر گیا؛ اسی سے اس تیرتھ کا نام شنکرواپیکا مشہور ہوا۔ پھر ارکاشٹمی کے دن کا طریقہ بتایا جاتا ہے—واپی میں تمام سمتوں اور درمیان میں غسل کر کے، ضبط کے ساتھ ہَوِشیانّن، کھانے کی چیزیں اور ساگ، جڑیں وغیرہ برہمنوں کو دان دینے کی ہدایت ہے؛ یاترا کو اخلاقی تقسیم اور دان کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ پھل شروتی میں کہا ہے کہ اس ماہاتمیہ کا پاٹھ یا پرچار کرنے والے کو دنیا و آخرت میں بھلائی، خوشحالی اور عزت ملتی ہے۔ آگے قصہ بدلتا ہے: شیو (پیناکی، ورِشبھ دھوج) سورج کی ستوتی کرتے ہیں؛ سورج خوش ہو کر ور دیتا ہے۔ شیو سب جسم دھاریوں کی بھلائی کے لیے سورج سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ وہاں اپنے ایک اَمش (حصّے) کے ساتھ ٹھہرے؛ یوں ‘شنکرادتیہ’ تیرتھ قائم اور نامزد ہوتا ہے، اور دیوتا، دیتیہ، گندھرو اور کنّنر گواہ بن کر شنکر اور آدتیہ دونوں کی پوجا کرتے ہیں۔ اختتام پر بتایا گیا ہے کہ شنکرادتیہ کا درشن تمام یَجّیہ اور دان سے بڑھ کر پُنّیہ دیتا ہے اور بیماری، غربت، غم اور جدائی سے حفاظت کرتا ہے۔

19 verses

Adhyaya 16

Adhyaya 16

Gandhavatī-Tīrtha Prādurbhāva and Śrāddha–Dāna Phala (गन्धवतीतीर्थप्रादुर्भावः श्राद्धदानफलम्)

سنتکمار وِیاس کو ‘تیर्थوں میں سب سے افضل’ گندھوتی-تیर्थ کی عظمت بتاتے ہیں۔ شَیویہ واقعے میں مہیشور کَپال-کشالن کے لیے کھوپڑی میں پانی اٹھائے چلتے ہیں؛ جب وہ پانی زمین پر دھو کر/چھڑک دیتے ہیں تو تینوں لوکوں میں مشہور بے مثال تیर्थ ظاہر ہوتا ہے—پاک دریا گندھوتی۔ وہاں اشنان کی بڑی ستائش کی گئی ہے۔ اس مقام پر کیا گیا شرادھ اور ترپن ‘اکشیہ’ (ناقابلِ زوال) پھل دینے والا کہا گیا ہے۔ جنوبی کنارے پر پِتر (اجداد) حاضر رہتے ہیں اور اولاد کے نذرانوں—پایس، اناج، اور شہد و تل سے ملے پِنڈ—کے منتظر ہوتے ہیں؛ اس سے انہیں دیرپا تسکین ملتی ہے اور کرنے والے کو پائیدار آسمانی پُنّیہ حاصل ہوتا ہے۔ بیان میں شرادھ کو ایسا عمل بتایا گیا ہے جو دیوتاؤں، پِتروں، گندھرووں، یکشوں، انسانوں، جانوروں اور دیگر مخلوقات کو بھی خوش کرتا ہے۔ نوَمی، اَشٹمی، اماوسیا، پُورنِما، سورَیہ سنکرانتی اور خاص چندر-نکشتر یوگ جیسے مبارک اوقات گنوائے گئے ہیں؛ آخر میں دل و مال کی پاکیزگی، درست وقت، صحیح طریقہ، اہل مستحق اور اعلیٰ بھکتی کو مطلوبہ پھل کے بنیادی اسباب قرار دیا گیا ہے۔

21 verses

Adhyaya 17

Adhyaya 17

दशाश्वमेधमाहात्म्यवर्णनम् | The Glory of Daśāśvamedha (Tīrtha Merit Discourse)

سنت کمار اوَنتی کْشیتر کے دَشاشومیدھک تیرتھ کی تیर्थ-فل شروتی بیان کرتے ہیں۔ وہاں اسنان کرکے پھر مہیشور کے درشن کرنے سے دس اشومیدھ یگیوں کے مجموعی پھل کے برابر پُنّیہ ملتا ہے—یعنی شاہانہ یَجْن کی قدرت نہ ہو تب بھی مقام کی بھکتی سے عظیم ثواب سُلَبھ ہے۔ منو، یَیاتی، رَگھو، اُشنس، لومش، اَتری، بھِرگو، ویاس، دتّاتریہ، پُرورَوا، نَہوش اور نَل وغیرہ کے تذکرے کو اس تیرتھ کی تاثیر کی شہادت بنایا گیا ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ چَیتر ماہ کی شُکل اَشٹمی کو بھکتی سے دیوتا کی پوجا کریں اور خوش ساختہ، نیک خصلت گھوڑا برہمن کو دان دیں؛ تو گھوڑے کے بالوں کی تعداد کے مطابق شِولोक میں طویل عزت ملتی ہے اور پھر زمین پر لوٹ کر راجیہ و سَوبھاگیہ حاصل ہوتا ہے۔

9 verses

Adhyaya 18

Adhyaya 18

Ekānaṃśā-devī Utpattiḥ and Pūjā-Phala (एकानंशादेवीोत्पत्तिः पूजाफलम्)

اس ادھیائے میں ویاس، سنَتکُمار سے سرْوَ پاپ پرَناشِنی دیوی ایکانَمشا کی پیدائش کی کتھا پوچھتے ہیں۔ سنَتکُمار پہلے وِدھان کے ساتھ پوجا کی عظمت بیان کرتے ہیں—لوک پرسدھ دیوی کی باقاعدہ پوجا سے ‘سروَ سِدھی’ حاصل ہوتی ہے؛ اَṇِما وغیرہ سِدھیاں، حفاظت دینے والے منتر-ینتر اور ابھیشٹ پھل کی ضمانت بطورِ پھل شروتی بیان کی گئی ہے۔ پھر کتھا کِرتَیُگ کے آغاز کی طرف مڑتی ہے۔ برہما راتری/وِبھاوَری کو بلا کر تارکاسُر کے خطرے سے آگاہ کرتے ہیں اور اس کے وِناش کے لیے ایک دیویہ جنم کی ضرورت بتاتے ہیں۔ ستی کا پاروتی کے روپ میں پُنرجنم، شِو کا تپسیا میں انتظار، اور طے شدہ ترتیب سے اُن کے سنگم سے ایک تیزسوی سنتان کی پیدائش—جو دشمن قوتوں کو مغلوب کرے—یہ سلسلہ بیان ہوتا ہے۔ آخر میں ایکانَمشا کو گایتری روپ، اوم-مکھی، شری-کیرتی، وِدیا اور مقصد/لکشَیہ کی صورت وغیرہ متعدد روپوں میں سراہا گیا ہے۔ جو اُن کے درشن اور پوجن کرے وہ اپنے مقاصد پاتا ہے؛ بھکتی کے ساتھ دھیان کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

32 verses

Adhyaya 19

Adhyaya 19

हरसिद्धि-प्रादुर्भावः (Origin and Significance of Harasiddhī)

سنت کمار اوَنتی کھنڈ کے مہاکال کے مقدّس احاطے میں قوت عطا کرنے والی دیوی ہرسِدّھی کے ظہور اور عظمت کا بیان کرتے ہیں۔ چنڈ اور پرچنڈ نامی دو نہایت زورآور دَیتیہ آسمانوں کو اکھاڑ کر کیلاش پہنچتے ہیں اور شیو سے جوئے کی مقابلہ آرائی کی پیشکش کرتے ہیں؛ وہ دیوتاؤں کے لیے رکاوٹ بن کر ‘دیَوکنٹک’ کہلاتے ہیں۔ اس ہنگامے میں شیو کے گن دب جاتے ہیں اور نندی شدید زخمی ہو جاتا ہے۔ تب شیو کے آہوان پر پاروتی/شکتی کی صورت میں دیوی ظاہر ہوتی ہیں اور سخت عزم کے ساتھ دونوں دَیتیہوں کو ہلاک کر دیتی ہیں۔ شیو اعلان کرتے ہیں کہ وہ دنیا میں ‘ہرسِدّھی’—سِدّھی عطا کرنے والی—کے نام سے مشہور ہوں گی، اور ان کی پوجا و درشن سے مطلوبہ پھل حاصل ہوتا ہے۔ آخر میں پھل شروتی ہے: عقیدت سے ہرسِدّھی کے درشن سے اَکھوٹ مقاصد پورے ہوتے ہیں اور شَیو لوک کی گتی ملتی ہے۔ ‘ہرسِدّھی’ اس چتُر اَکشر منتر کا سمرن دشمنوں کے خوف کو دور کرتا اور فقر و فاقہ سے بچاتا ہے۔ مہانومی کی پوجا، مقررہ بَلی کے ساتھ، شاہی خوشحالی سے وابستہ بتائی گئی ہے؛ نیز مہانومی پر مہیش (بھینسے) کا وध کرنے والے کے لیے گناہ نہ ہونے اور نذر کی بَلی کے لیے سوَرگ کی گتی کا ذکر کیا گیا ہے۔

17 verses

Adhyaya 20

Adhyaya 20

वटयक्षिणी-माहात्म्य तथा अवन्तीक्षेत्रे शिवदर्शन-तीर्थस्नान-फलश्रुति (Vaṭayakṣiṇī Mahātmya and the Fruits of Śiva-Darśana & Tīrtha-Snāna in Avantī)

اس باب میں اوَنتی کْشَیتر کے اَنوُشٹھانوں اور تِیرتھ‑ستھانوں کی پھل‑شروتی ترتیب سے بیان ہوئی ہے۔ سَنَتکُمار وٹ‑یکشِنی کے درشن و پوجا کا ماہاتمیہ بتاتے ہیں—ایک ماہ تک بھکتی سے درشن، پوجا اور سونے کے پھولوں کی ارپن سے عظیم پُنّیہ حاصل ہوتا ہے۔ چتُردشی تِتھی پر خاص وِدھی کہی گئی ہے—سنان کرکے تِل‑دان کرنے سے پِشَچ‑پیڑا دور ہوتی ہے یا رُک جاتی ہے؛ اس کا فائدہ داتا کے کُل تک پھیلتا ہے، اور جن خاندانوں کے لیے دان کا سنکلپ کیا جائے اُنہیں بھی مَنگل ملتا ہے۔ اس کے بعد شَیو تِیرتھوں اور شِوالَیوں کے درشن کا سلسلہ—شِپرا سے وابستہ اور دیگر ستھان—ہر جگہ سنان/درشن/پوجا/دان کے مطابق الگ پھل بتائے گئے ہیں: پاپوں کا نِواڑن، یم لوک سے نجات، رُدر لوک کی پرابتِی، اَشوَمیَدھ کے برابر پُنّیہ، روگوں سے چھٹکارا، راج سَمردھی، سْوَرگ میں طویل بھوگ، سِدھی و وِجَے، مہاپاتکوں سے مُکتی، سانپ کے بھَے اور غُربت سے رکھشا، اور ‘سْوَرگ دْوار’ میں بھَیرو درشن سے بہت سے یَگیوں کے برابر پُنّیہ۔

18 verses

Adhyaya 21

Adhyaya 21

हनुमत्केश्वर-प्रतिष्ठा (Establishment of Hanumatkeśvara)

یہ باب مکالمے کی صورت میں ہے۔ وِیاس ہنومتکیشور کی سناتنی سابقہ روایت پوچھتے ہیں اور سَنَتکُمار بیان کرتے ہیں۔ راون پر فتح کے بعد شری رام سیتا سمیت واپس آتے ہیں اور رشی حاضر ہوتے ہیں۔ اسی مجلس میں اگستیہ مہادیو کے بے مثال جنگی پرाकرم کو وایوسُت (ہنومان) کے پرाकرم کے برابر بتاتے ہیں۔ اس پر ہنومان اپنی بھکتی کی عظمت کا عینی نشان پانے کے لیے لنکا سے شِولِنگ لانے کا ارادہ کرتے ہیں۔ ہنومان وِبھیشَن کے پاس جاتے ہیں۔ وِبھیشَن بتاتا ہے کہ راون نے تری لوک کی فتح سے پہلے چھ لِنگ پرتِشٹھت کیے تھے؛ ان میں سے ایک چن لو۔ ہنومان موتی کی مانند روشن لِنگ منتخب کرتے ہیں۔ وِبھیشَن اس کا سابقہ تعلق دھنَد (کُبیر) سے بیان کرتا ہے کہ کُبیر نے اس کی تین وقت پوجا کی اور اسی کے اثر سے بندھن سے نجات پائی—یوں لِنگ کی وِدھی-شکتی اور حفاظتی قوت ثابت ہوتی ہے۔ ہنومان لِنگ اٹھا کر ساتویں دن اوَنتِکا پہنچتے ہیں اور رُدرسَرَس پر اس کی پرتِشٹھا کرتے ہیں۔ پھر دوبارہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں مگر نہیں اٹھتا۔ تب دیوتا خود خطاب کرکے حکم دیتے ہیں کہ یہ لِنگ یہیں ہنومان کے نام سے ہمیشہ کے لیے قائم رہے۔ پھل شروتی کے مطابق: ہفتہ (سنیچر) کے دن درشن سے دشمن کا خوف دور ہوتا اور جیت ملتی ہے؛ بھکت چوری، غربت اور بدبختی سے محفوظ رہتے ہیں۔ تیل اَبھِشیک سے بیماری اور گرہ-پیڑا کم ہوتی ہے؛ عقیدت سے درشن کرنے والے موکش پاتے ہیں۔

26 verses

Adhyaya 22

Adhyaya 22

Yameśvara–Koṭitīrtha–Mahākāla Māhātmya (Rudrasaras and Ritual Merits)

اس باب میں سنَتکُمار وِیاس کو وعظ و تعلیم کے انداز میں یمیشور کی مختصر پوجا-وِدھی اور اس کی پھل شروتی بیان کرتے ہیں۔ تل ملے پانی سے اسنان کر کے یمیشور کا درشن، زعفران/کُنگُم کا لیپ، کنول کی پیشکش، دھوپ—خصوصاً کرشن آگرو—اور تل و چاول کا نَیویدیہ چڑھانے کا حکم ہے۔ ایسی بھکتی سے یم بھی مرے ہوئے کے لیے ‘باپ کی مانند’ ہو جاتا ہے—یوں موت کے انتظام کو پُنّیہ اور عقیدت کے ذریعے نرم و مہربان دکھایا گیا ہے۔ پھر تینوں لوکوں میں مشہور برتر تیرتھ ‘رُدرسرس’ کی مہاتمیا آتی ہے۔ وہاں اسنان کر کے کوٹیشور شِو کے درشن سے سب آلودگیاں دور ہوتی ہیں اور رُدرلوک کی پرابتھی ہوتی ہے۔ وہاں کیا گیا شرادھ مہایَگیوں سے بھی کئی گنا پھل دیتا ہے، اور پِتروں کے نام دیا گیا ہر دان ‘کوٹی-گُنت’ پھل والا کہا گیا ہے۔ اسنان کے بعد پرم اَکشر کا دھیان سانپ کے کینچلی چھوڑنے کی طرح بندھن سے چھوٹنے کی علامت بتایا گیا ہے۔ صبح سویرے اسنان کر کے مہاکال کے درشن سے ہزار گائے دان کا پھل، سات رات پاکیزہ قیام سے ہزاروں چاندَراین ورتوں کے برابر پُنّیہ، اور رات بھر جاگرن، پوجا اور مہابھشیک کی تاکید ہے۔ آخر میں کارتکی اور ویشاکھی موسم کی وِشیش پوجا میں کافور، زعفران، چندن اور اگرو کا برابر لیپ پتھر پر گھس کر مہاکال پر لگانے سے رُدر کے اَنُوچر (خادم) کا درجہ ملنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

15 verses

Adhyaya 23

Adhyaya 23

महाकालयात्रा-विधिः (Mahākāla Pilgrimage Procedure and Merits)

سنتکمار اوَنتی‌کشیتر میں مہاکال یاترا کا باقاعدہ طریقہ بیان کرتے ہیں۔ رودر کے سرور میں اسنان سے آغاز کر کے تِیرتھ-क्रम کے مطابق متعدد شیو-استھانوں اور نامزد لِنگوں کے درشن، نمسکار اور خوشبوؤں و پھولوں سے پوجا کا حکم ہے؛ بعض مقامات پر گھی کا ابھیشیک اور بہت سے گھڑوں کے جل سے ابھیشیک جیسی مقررہ مقداریں بھی بتائی گئی ہیں۔ ہر پڑاؤ کے ساتھ گھنی پھلشروتی ہے—درشن سے بڑے پاپوں کا زوال، برے خوابوں کی دوری، کوڑھ وغیرہ امراض کا شمن، اور دولت و سِدھی کی پرابتّی۔ یاترا کی نیتی بھی سکھائی گئی ہے: یاتری یکسو، شردھالو اور ضبطِ نفس والا ہو، اور خاص طور پر مالی دھوکے سے بالکل پاک رہے۔ آخر میں دیوتا کے سامنے بیٹھ کر بار بار پرنام کر کے یاترا مہادیو کے سپرد کرنے اور ‘سمسار ساگر’ سے نجات کی دعا کرنے کی تعلیم ہے۔ پردکشنا کو مہادان کے برابر پُنّیہ بتا کر، شیو بھکتوں اور دین و ناتواں کو بھوجن کرانا، اور مکمل سامان کے ساتھ دودھ دینے والی گائے کا دان کرنے سے یہ پُنّیہ پِتروں اور نسل تک پھیل کر طویل مدت کی سوَرگ سُکھ بھوگ عطا کرتا ہے۔

41 verses

Adhyaya 24

Adhyaya 24

वाल्मीकेश्वर-माहात्म्य (Valmīkeśvara Māhātmya: The Etiology of Poetic Attainment)

اس ادھیائے میں ویاس کے سوال کے جواب میں سنَتکُمار اوَنتی میں قائم وَلْمیکیشور لِنگ کی مہاتمیا بیان کرتے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ اس شِولِنگ کے درشن اور پوجا سے کَویتْو—یعنی شاعرانہ صلاحیت—حاصل ہوتی ہے۔ کہانی میں بھِرگو وَنش کے برہمن سُمتی قحط کے سبب دوسرے مقام پر جا بستا ہے۔ اس کا بیٹا اگنِی شرما ویدوں کا اَدھیَن چھوڑ دیتا ہے اور پھر پُرتشدد ڈاکوؤں کی سنگت میں پڑ کر وید-سمِرتی، گوتر کی نشانیاں اور ودیا سب بھول جاتا ہے۔ تیرتھ یاترا پر نکلے سَپت رِشیوں کو دیکھ کر وہ انہیں دھمکاتا ہے؛ تب اَتری رِشی اس کی اخلاقی دلیل پر سوال اٹھاتے ہیں کہ ‘خاندان کے لیے’ کی گئی ہنسا کا پاپ-بھار کیا اس کے اپنے بھی بانٹیں گے؟ اگنِی شرما گھر جا کر باپ، ماں اور بیوی سے پوچھتا ہے، مگر کوئی بھی اس پاپ میں شریک ہونے کو تیار نہیں ہوتا۔ تب اسے سخت پشیمانی ہوتی ہے اور وہ رِشیوں کی شَرَن میں آ جاتا ہے۔ رِشی اسے ایک جگہ ثابت قدم رہ کر طویل مدت تک دھیان اور منتر-جپ کا وِدھان دیتے ہیں؛ تیرہ برس میں اس کے گرد وَلْمیک (چیونٹیوں کا ٹیلہ) بن جاتا ہے۔ بعد میں رِشی ٹیلہ ہٹا کر اسے باہر نکالتے ہیں اور ‘والمیکی’ نام دیتے ہیں۔ وہ کُشستھلی میں مہیشور کی آرادھنا کر کے کَویتْو شکتی پاتا ہے اور رامائن کی رچنا کرتا ہے۔ اسی سبب اوَنتی میں یہ دیوتا ‘وَلْمیکیشور’ کے نام سے مشہور ہوا، جس کے درشن و پوجا سے شاعری کی نعمت ملتی ہے۔

38 verses

Adhyaya 25

Adhyaya 25

Tīrtha-Phala of Avantīkṣetra: Worship of Named Śiva-Liṅgas and Observance-Based Merits (तीर्थफलप्रकरणम्)

اس پچیسویں باب میں سَنَتکُمار وِیاس کو اَوَنتی کْشَیتر کے تیرتھ-فَل کا باقاعدہ اور شرعی طریقے سے بیان کرتے ہیں۔ وہ شُکرَیشور، بھیمَیشور، گَرگَیشور، کامَیشور، چُوڑامَنی اور چَندیِیشور نامی شِو لِنگ-ستھانوں کا ذکر کرکے ہر مقام کی مخصوص پوجا اور درشن کے اعمال اور ان کے نتائج بتاتے ہیں۔ سفید پھولوں اور لیپ سے پوجن، احتیاط کے ساتھ درشن، تل کے تیل اور تل کے جل سے لِنگ کا ابھیشیک، بِلو پتر کی ارپن، اور چتُردشی، کارتک شُکل نوَمی اور کرشن آشتَمی کو اُپواس-ورت—یہ سب اعمال بیان ہوئے ہیں؛ دان میں خاص طور پر ہزار گایوں کے دان کا ذکر ہے۔ ان منضبط کرموں اور بھکتی-بھاو سے اَبھَے (بےخوفی)، دھرم میں بڑھوتری، پائیدار خیریت، بندھن سے رہائی، اور رُدرلوک یا سْوَرگ کی پرابتّی بتائی گئی ہے۔ آخر میں کہا گیا ہے کہ پاکیزہ من کے ساتھ ان تیرتھوں کی یاترا و سیوا کرنے والا شَمبھو کے دلکش دھام کو پاتا ہے۔

9 verses

Adhyaya 26

Adhyaya 26

Pañceśānī-yātrāvidhi, Kṣetra-dvārapāla-nirdeśa, Mandākinī-tīrtha-māhātmya (पञ्चेशानी-यात्राविधिः, क्षेत्रद्वारपाल-निर्देशः, मन्दाकिनीतीर्थ-माहात्म्यम्)

باب کی ابتدا میں وِیاس مہاکالون کی تقدیس اور اس کی حد بندی کے بارے میں معتبر پیمانے اور تصدیق طلب کرتے ہیں۔ سَنَتکُمار برہما سے پہلے سنی ہوئی روایت نقل کر کے سندِ روایت اور نصّی اتھارٹی کی زنجیر قائم کرتے ہیں۔ پھر کْشَیتر کو ایک یوجن کی حد میں پھیلا ہوا مقدّس علاقہ بتایا جاتا ہے جس میں سونے کے دروازے اور جواہراتی دہلیزیں ہیں، اور جو عالم کے فائدے کے لیے مقرر کیے گئے طاقتور دربانوں کے زیرِ حفاظت ہے۔ سمتوں کے مطابق نگہبان-اِیشوروں کا اندراج ہے: مشرق میں پِنگلیش، جنوب میں کایاوروہنیشور، مغرب میں وِتّیش، اور شمال میں اُتّریشور۔ پَنجیشانی یاترا کی विधि خاص طور پر کرشن پکش چتُردشی اور سورج-چاند کے اتصال کے وقت بیان کی گئی ہے—روزہ/اُپواس، سْنان، گندھ-پُشپ-دھوپ-نَیویدیہ سے پوجا، رات بھر جاگنا، ترتیب وار منادر کی زیارت، اور بار بار مہاکالیشور کے حضور لوٹنا۔ اختتام پر پانچ شِو بھکت برہمنوں کو کھانا کھلانا اور مقامات کے مطابق رتھ، گج، اشو، ورِشَبھ، دھینو وغیرہ کے دان کی درجہ بند ہدایات ہیں؛ پھل شروتی میں آباؤ اجداد کے ساتھ سوَرگ کے سکھ کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کے بعد کُشستھلی کی پردکشنا اور پدماؤتی، سْوَرْنَشْرِنگاٹِکا، اَوَنتِنی، اَمَراوَتی، اُجّیَنی اور وِشالا کے درشن-پوجن کی فضیلت، گناہوں کی معافی اور بعد از مرگ منزلیں بیان ہوتی ہیں۔ پھر مَنداکِنی تیرتھ کے مہاتم میں برہما اس کی स्थापना، وہاں سْنان-جپ-دان کے کئی گنا اجر، اور موسموں کے مطابق گودان، گھرت دھینو، تِل دھینو، جل دھینو وغیرہ کے دان کے احکام بتاتے ہیں۔ شِو کے بھیس بدل کر برہما کے یَگّیہ میں داخل ہونے، نزاع و لعنت کے واقعات، اور آخر میں اہلِ بھکتی و اہلِ اخلاق کے لیے اطمینان و بحالی کے ساتھ تیرتھ اور کْشَیتر کی برتری دوبارہ ثابت کی جاتی ہے۔

102 verses

Adhyaya 27

Adhyaya 27

Aṃkapāda-darśana and the Yamaloka Episode (Sāndīpani’s Son and the Five Forms at Kuśasthalī)

اس باب میں وِیاس اور سَنَتکُمار کے مکالمے کے ذریعے یہ نجات بخش دعویٰ قائم کیا گیا ہے کہ اوَنتی کے مقام ‘اَنگکپاد’ پر جو رام اور جناردن کا درشن کرے، وہ سخت گناہوں کے بوجھ کے باوجود یم لوک نہیں دیکھتا۔ پھر زمین کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے اوتار لینے والے رام اور کرشن اُجّینی جا کر برہمن ساندیپنی کے پاس تعلیم پاتے ہیں اور نہایت کم مدت میں وید، ویدانگ اور متعلقہ علوم غیر معمولی طور پر سیکھ لیتے ہیں؛ گرو کے ساتھ مہاکال وَن میں داخل ہو کر دھرم کی حفاظت اور نظم کی بحالی پر ستائش پاتے ہیں۔ گرو دکشنا پوچھی جائے تو ساندیپنی سمندر میں کھوئے ہوئے اپنے بیٹے کی واپسی مانگتے ہیں۔ تب کرشن–رام سمندری دیو پنچجن (تِمی/وہیل کی صورت) کا سراغ لگا کر شنکھ حاصل کرتے ہیں اور ورُن کے دیے ہوئے ہیبت ناک رتھ پر یم لوک پہنچتے ہیں۔ شنکھ ناد اور وشنو کی حضوری سے سزا کا نظام اور نرک کے لوک کمزور پڑنے لگتے ہیں اور گناہوں میں جکڑے ہوئے جیو آزاد ہوتے ہیں؛ یم دوتوں سے ٹکراؤ میں نارانتک شکست کھاتا ہے، پھر چترگپت سمیت یم آگے بڑھتا ہے۔ کال کے ڈنڈ اٹھانے پر برہما رام کی جگت دھارک شکتی کی ستوتی کر کے ضبط کی درخواست کرتا ہے؛ کرشن مقصد بتاتے ہیں کہ گرو پتر کو واپس لانا ہے۔ یم راضی ہو کر بچے کو لوٹا دیتا ہے۔ پھل شروتی میں کہا گیا ہے کہ اس دن سے اوَنتی کے اَنگکپاد میں مرنے والا یم کو نہیں دیکھتا۔ کُشستھلی میں پانچ روپوں (مہاکال، وشورُوپ گووند، اور شنکھ اُدھار-روپ کیشو وغیرہ) کے درشن سے نِرَی/دوزخ کا خوف مٹتا ہے اور شُبھ گتی ملتی ہے۔ اسنان، دان، ارپن اور شرادھ سے صحت، اَکال مرتیو سے بچاؤ، پاک نسب میں پُنرجنم اور آخرکار وشنو لوک کی پرابتھی بیان کی گئی ہے۔

102 verses

Adhyaya 28

Adhyaya 28

अध्याय २८: चन्द्रादित्य–करभेश्वर–गणेश–सोमवतीतीर्थमाहात्म्य (Chapter 28: Mahatmya of Candrāditya, Karabheśvara, Gaṇeśa, and Somavatī Tīrtha)

اس باب میں سَنَتکُمار وِیاس کو اَونتی کھنڈ کے متعدد تیرتھوں کا ماہاتمیہ مجموعی انداز میں سناتے ہیں۔ ابتدا چندرادِتیہ کی ستائش سے ہوتی ہے—گندھ، پُشپ، دھوپ اور نَیویدیہ کے ساتھ پوجا کرنے سے سالوکْی (قربِ الٰہی) کی برکت اور دیرپا پُنّیہ حاصل ہوتا ہے۔ پھر کرَبھیشور کی کتھا آتی ہے۔ دیوتاؤں کے ساتھ جنگل میں کِریڑا کرتے ہوئے شِو کرَبھ (گدھے سے مشابہ) روپ دھارن کرتے ہیں؛ دیوتا پہچان نہیں پاتے، تب برہما اور گَڻنایک (وِنایک) راز کھولتے ہیں۔ اس کے بعد شِو ‘کرَبھیشور’ نام کا دیویہ لِنگ قائم کرتے ہیں؛ وہاں اسنان اور پوجن کے بڑے پھل بیان کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد گنیش جی کو ‘لڈّوک-پریہ’ کہہ کر خاص طور پر چتُرتھی کے دن ورت-سَدرِش وِدھی بتائی گئی ہے—شِپرا میں اسنان، سرخ لباس، سرخ پھول اور سرخ چندن، منتر-اسنان اور لڈّوک نَیویدیہ؛ اس سے وِگھنوں کا ناش اور شُبھ سِدّھی ملتی ہے۔ ساتھ ہی کُسُمیش، جَییشور، شِو-دوار لِنگ، مارکنڈیشور، برہما-سَرَس/برہمیشر، یَجْنَواپی اور کئی کُنڈوں کے الگ الگ پھل بھی درج ہیں۔ آخر میں سَومَوَتی تیرتھ کی اُتپتّی—اَتری کے تپس سے سَوم کا پرادُربھاو—اور وہاں اسنان سے بڑے گناہوں کی شُدّھی کا بیان ہے۔ اماوسیا-سوموار کے سنگم اور وِیَتیپات یوگ میں پُنّیہ کی بڑھوتری بتائی گئی ہے۔ سَوم کی تکلیف کا اَونتی میں سَومیشور پوجا سے دور ہونا، اور آخر میں سوراشٹر کے سومناتھ پوجن سے روزانہ پُنّیہ کے ربط کا ذکر کر کے باب مکمل ہوتا ہے۔

102 verses

Adhyaya 29

Adhyaya 29

अनरकतীर्थमाहात्म्य एवं नरकवर्णन (Glory of Anaraka Tīrtha and an Ethical Account of Narakas)

اس باب میں وِیاس جی سَنَتکُمار سے پوچھتے ہیں کہ نرک کتنے ہیں، کہاں واقع ہیں، اور کن بداعمالیوں سے جیو نرک میں گرتا ہے۔ سَنَتکُمار متعدد ناموں والے نرکوں کا ذکر کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ سزا کرم کے مطابق متناسب ہوتی ہے؛ یہ بیان اخلاقی تنبیہ اور ذمہ داریِ عمل کی دینی تعلیم ہے۔ پھر گفتگو کفّارے کی طرف مڑتی ہے۔ اَنَرَک تیرتھ کی غیر معمولی مہیمہ بیان ہوتی ہے—وہاں اشنان اور مہیشور کے درشن سے، سخت گناہوں کے باوجود، نرک کا دیدار/تجربہ نہیں ہوتا؛ تاہم سچا پچھتاوا اور مناسب پرایَشچِت (کفّارہ) ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اصل اُپدیش یہ ہے کہ سب سے اعلیٰ کفّارہ شَمبھو کی مسلسل یاد، یعنی دائمی شِوَسمرن ہے۔ آخر میں تقویمی ہدایت دی گئی ہے کہ کارتک کرشن چتُردشی کو دیودیو کے حضور دیپ دان کیا جائے، تاکہ اخلاقی پاکیزگی اور بھکتی کی سمت مضبوط ہو۔

37 verses

Adhyaya 30

Adhyaya 30

Dīpadāna-Māhātmya and Anarakā-Tīrtha Vidhi (दीपदानमाहात्म्य तथा अनरकातीर्थविधिः)

اس باب میں وِیاس جی دیپ دان کے پھل اور اس کی ابتدا کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ سَنَتکُمار کِرتَیُگ کی سبب-کَتھا سناتے ہیں—جسمانی تاریکی سے رنجیدہ پاروتی شُبھ تَیج پانے کے لیے تپسیا کو روانہ ہوتی ہیں؛ شَنکر کے تین نَین سُورج، چَندر اور اَگنی کے روپ مانے جانے کے باعث اُن کی غیرحاضری میں ساری کائنات پر گھپ اندھیرا چھا جاتا ہے اور سب لوک روشنی و امان کے فقدان پر فریاد کرتے ہیں۔ تب کیشو/دامودر/وشنو روپ دیویہ وانی بتاتی ہے کہ دانوں میں دیپ دان خاص طور پر ستوتی کے لائق ہے؛ ناگوں کے وسیلے سے ایک شریشٹھ دیپ کے پیدا ہونے اور پاتال کی تاریکی دور ہونے کا واقعہ بیان کر کے دیپ کو سبھی لوکوں کی بھلائی کا ذریعہ ٹھہراتی ہے۔ پھر وِدھی کے طور پر اونتی کے اَنَرَکا تیرتھ میں کارتک کرشن چتُردشی کو یم کے لیے کالے تل اور منتروں کے ساتھ نذر، اور اس کے بعد گھی سے بھرا چراغ چڑھانے کا حکم دیا گیا ہے۔ کمل/منڈل کی ترتیب میں کئی دیپوں کی स्थापना، بتی‑پاتر‑نذرانے اور اہل برہمنوں کو دان بیان کر کے آخر میں بھوگ و سمردھی اور سوَرگ آروہن کی پھل شروتی سنائی گئی ہے۔

101 verses

Adhyaya 31

Adhyaya 31

Adhyāya 31 — Kedāreśvara to Rāmeśvara: Tīrtha Network, Phalaśruti, and the Kuśasthalī Legend

اس باب میں اوَنتی خطّے کے تیرتھوں اور لِنگ-مقامات کی ترتیب وار فہرست دی گئی ہے اور ہر مقام کی صریح فَلَشروتی بیان ہوئی ہے۔ کیداریشور، جٹیشور (جٹاشِرِنگ پر)، اندرتیرتھ/اندریشور، کُنڈیشور، گوپتیرتھ/گوپیشور، چِپِٹا تیرتھ اور وِجَے/آنندیشور وغیرہ کے ساتھ اسنان، درشن، پوجا اور اُپواس کے پھل—پاپوں کا زوال، شِولोक یا اندرلोक کی حصولیابی، اور ادھوگتی والے جنموں سے بچاؤ—ذکر کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد روایت کُشستھلی کی طرف منتقل ہوتی ہے اور وہاں رامیشور لِنگ کو بھُکتی اور مُکتی عطا کرنے والا بتایا جاتا ہے۔ رام اپنے عزیزوں سے وِیوگ (جدائی) کے اندیشے کا اظہار کرتے ہیں؛ جواب میں کہا جاتا ہے کہ پرمیشور کے درشن سے ‘وِیوگ’ کے لفظ کا اَشُبھ مفہوم مٹ جاتا ہے اور مَنگل تسلسل قائم رہتا ہے۔ دیویہ وانی رام کو اپنے نام سے لِنگ قائم کرنے کی ہدایت دیتی ہے؛ لکشمن پرتِشٹھا کرتے ہیں اور شِپرا کے جل سے اسنان کی تدبیر طے ہوتی ہے۔ ایک اخلاقی و انسانی پہلو بھی آتا ہے کہ اس کشتَر میں خودغرضی کبھی سماجی رشتوں کو توڑ سکتی ہے؛ اسی زاویے سے رام اور لکشمن کے درمیان عارضی تناؤ کی توجیہ کی گئی ہے۔ آخر میں سَوبھاگیہ تیرتھ، گھرت تیرتھ، یوگیشوری کی پوجا، شنکھاورت، سُدھودک/سُدھیشور (موکش داتا) وغیرہ کی مہیمہ، برہماہتیا کے شمن کی حکایات (کِمپُن؛ سورج سے منسوب دُردھرش) اور گوپیندر، گنگا تیرتھ، پُشپکرنڈ، اُتّریشور، بھوتیشور، امبالِکا، گھَنٹیشور، پُنییشور، لمپیشور، ستھَوِر وِنایک، نَوَنَدی-پاروتی، کامودک اور پریاگیش جیسے متعدد مقامات کا ذکر کر کے یہ باب یاترا کے نقشے کی مانند مکمل ہوتا ہے۔

88 verses

Adhyaya 32

Adhyaya 32

नरादित्य-प्रतिष्ठा तथा केशवार्क-माहात्म्य (Installation of Narāditya and the Glory of Keśavārka)

سنَتکُمار نرادِتیہ نامی سورج دیوتا (پاکیزگی اور شفا بخشنے والے) کے ایک تیرتھ کی پیدائش کی مذہبی و الٰہیاتی روایت بیان کرتے ہیں۔ ارجن اِندر کی خدمت میں سخت دشمنوں کو شکست دے کر اسے گرو-دکشنا کے مانند بہادری کی نذر کرتا ہے۔ خوش ہو کر اِندر ور دیتا ہے اور برہما، وِشنو اور پرجاپتی/دکش کے پوجے ہوئے دو قدیم وِگْرہ ارجن کے سپرد کرتا ہے، اور حکم دیتا ہے کہ انہیں کُشستھلی میں پرتیِشٹھت کیا جائے—شِپرا کے شمالی کنارے کیشوَارک پاپ ہَر کے طور پر بستا ہے؛ نیز آषاڑھی اور کَومُدی یاتراؤں میں بادل، بارش اور دیوی حاضری کے اشاروں کے ساتھ یاترا-چکر کی مہِما مشہور ہے۔ نارد کرشن کو بلاتا ہے؛ کرشن پرتیِشٹھا کے عمل کو منظم کرتا ہے—ارجن مشرق میں स्थापना کرتا ہے اور کرشن شمال کی طرف جا کر شنکھ ناد کو رسم کا نشان بناتا ہے۔ پرتیِشٹھا کے وقت سورج دیوتا بے پناہ تیج کے ساتھ ظاہر ہو کر پھر نرم و شانت روپ دھارتا ہے، اَبھَے (بے خوفی) دیتا ہے اور اس مقام کی توثیق کرتا ہے۔ ارجن کا ستوتر سورج کو کائناتی نظم کا نگہبان، اندھیرے کا مٹانے والا، خطرے میں محافظ اور مختلف دیوی افعال کا جامع مرکز بتاتا ہے۔ سورج ور دیتا ہے—اس تیرتھ میں دائمی سَنّिधی اور بھکتوں کے لیے خوشحالی؛ اور آخر میں کہا جاتا ہے کہ بھکتی کے بغیر انسانی کوششیں پھل نہیں دیتیں۔

92 verses

Adhyaya 33

Adhyaya 33

Keśavārka-Stotra and the Merit of Reṇutīrtha (केशवार्कस्तोत्रं रेणुतीर्थमहिमा च)

اس تینتیسویں باب میں سورج کی عبادت و تعظیم کا عقیدتی و تَتّوی بیان ایک منظم حمد (ستوتر) کی صورت میں آتا ہے۔ سَنَتکُمار منظر بیان کرتے ہیں کہ نارائن شنکھ کی स्थापना کرکے یکسو مجاہدے کے ساتھ اسے بجاتے ہیں اور کیشوآرک-ستوتر کے ذریعے بھاسکر (سورج دیوتا) کی ستائش کرتے ہیں۔ پھر مکالمہ کے انداز میں شری کرشن آدتیہ، روی، سورَیہ، دیواکر، سہسرانشو، مارتنڈ وغیرہ بے شمار نام گنواتے ہیں اور سورج کو کائنات کا نظم چلانے والا، اعمال کا گواہ، بیداری کا سرچشمہ اور مطلوبہ پھل عطا کرنے والا قرار دیتے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ طلوع کے وقت سورج برہما، دوپہر میں رودر اور دن کے اختتام پر وشنو کے طور پر پہچانا جاتا ہے، اور ان کے مطابق رنگ و صورت کا ذکر بھی ہے۔ اس حمد کو وشنو کے پڑھے ہوئے آٹھ سو ناموں کے الٰہی مجموعے کے طور پر بیان کرکے پھل شروتی میں کہا گیا ہے کہ جو بھکتی سے اس کا پاٹھ کرے اسے نیک گتی، خوشحالی، اولاد، جلال، ذہانت اور اعلیٰ مرتبہ نصیب ہوتا ہے۔ آخر میں تیرتھ مہاتمیہ آتا ہے: کیشوآرک کے درشن سے گناہوں سے نجات اور سورَیہ لوک میں عزت ملتی ہے۔ کیشوآرک کے نزدیک رینو تیرتھ ہے؛ اس کے درشن سے بھی بلا شبہ گناہ دور ہو جاتے ہیں۔

18 verses

Adhyaya 34

Adhyaya 34

शक्तिभेद-कोटितीर्थ-माहात्म्य तथा स्कन्दोत्पत्ति (Śaktibheda and Koṭitīrtha Māhātmya with the Account of Skanda’s Manifestation)

اس باب میں سَنَتکُمار، ویاس کے سوال کے جواب میں اسکند (سکندا) کے ظہور اور اوَنتی کے ‘شکتی بھید’ تیرتھ کی عظمت بیان کرتے ہیں۔ اسوروں کے ہاتھوں دیوتاؤں کی شکست کے بعد اندر تپسیا کرتا ہے؛ شیو پرسن ہو کر دیوتاؤں کے لیے ایک نہایت طاقتور سپہ سالار پیدا کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔ پھر شیو کی دھیان میں یکسوئی، پاروتی کی تپسیا، کام دیو کے بھسم ہونے کا واقعہ، اور اس کے بعد دیوی-دیوتاؤں کے الٰہی بیاہ کا بیان آتا ہے۔ سبب و مسبب کی کڑی میں بتایا گیا ہے کہ شیو کا ریتس اگنی کے ذریعے گنگا تک پہنچتا ہے؛ کِرتِکائیں اور ماتر روپ شکتیان حمل و پرورش کے استعارے میں شریک ہوتی ہیں؛ آخرکار شَنمُکھ اسکند ظاہر ہو کر دیوسیناپتی کے منصب پر ابھیشیک پاتا ہے۔ اسی مہاکھا‌ن کو اوَنتی کی مقدس جغرافیہ میں بٹھایا گیا ہے—اسکند شکتی کے گرنے سے ‘شکتی بھید’ تیرتھ اور متعدد تیرتھوں کا ظہور ہوتا ہے، اور برہما کوٹی تیرتھ میں ‘کوٹی تیرتھیश्वर’ شیو کی پرتِشٹھا کرتے ہیں۔ اختتامی پھل شروتی میں کوٹی تیرتھ پر اسنان، شیو درشن، شرادھ اور دان (دودھ دینے والی گائے کا دان اور ورِشوَتسَرگ سمیت) کے آداب اور ان کے پُنّیہ پھل بیان کیے گئے ہیں، تاکہ یاتری دھرم کے مطابق پاکیزہ عمل کریں۔

97 verses

Adhyaya 35

Adhyaya 35

अवन्तीक्षेत्रे तीरथस्नान-पूजा-व्रतानां फलवर्णनम् / Merit-Statements on Bathing, Worship, and Vows in Avanti

اس باب میں سَنَتکُمار اوَنتی کْشَیتر کے تیرتھوں میں اسنان، پوجا اور ورت کے ثواب کا مختصر بیان کرتے ہیں۔ سُورنَکْشُرا، وِشنُوواپی وغیرہ واپیوں میں اسنان، جِتِندریہ ہو کر نِیَم پالنا، مہیشور کا درشن، اَبھَییشور کی پوجا اور اَگستْییشور کی یکسو زیارت—ان سب کو عظیم پُنّیہ دینے والا کہا گیا ہے۔ چَیتر اور پھالگُن کے موسم میں جاگرن اور اُپواس کو تطہیر اور اخلاقی رہنمائی کے طور پر بتایا گیا ہے۔ اَگستْییشور کے لیے خاص وِدھان بھی دیا گیا ہے: استطاعت کے مطابق سونے یا چاندی کی اَگستْیہ مُورت بنانا، اسے پنچرتن اور کپڑے سے آراستہ کرنا، وقتاً فوقتاً پھل اور پھول سے پوجا کرنا، اور سات برس تک ورت نبھانا۔ ‘کاشپُشپ-پرتیکاش… کُمبھَیونے…’ والا اَرجھْیہ منتر بھی مذکور ہے۔ پھل شروتی میں دولت و اولاد، وفات کے بعد سْورگ کی پرابتि، شریف کُل میں پُنرجنم اور آخرکار یوگک کمال؛ نیز باقاعدہ شروَن و پاٹھ سے پاپوں کی نِوِرتّی اور مُنی لوک میں آنند بتایا گیا ہے۔

15 verses

Adhyaya 36

Adhyaya 36

Ujjayinī’s Kalpa-Names, Mahākāla’s Descent, Naradīpa Darśana, and Śaṅkhoद्धāraṇa Tīrtha

اس باب میں وِیاس اوَنتی کْشیتر کے مشہور ناموں—مہاکال، شِوپَد، کوٹییشور/کوٹی تیرتھ، نرَدیپ، شَنکھوُدھّارَن، شُولیشور، اومکار، دھوتَپاپ، اَنگاریشور وغیرہ—کی وجۂ تسمیہ اور معنی، نیز اُجّینی کے “سات-کلپ” نگری ہونے کا سبب دریافت کرتے ہیں۔ سَنَتکُمار سات کلپوں میں شہر کے سات نام—سورنَشِرِنگا، کُشَستھلی، اَونتِکا، اَمراوَتی، چُوڑامَنی، پَدماؤَتی اور اُجّینی—بیان کرکے ان کے ورد و یاد سے حاصل ہونے والی طہارت و برکت کا ذکر کرتے ہیں۔ پھر روایت میں اِندر اَندھک کے بیٹے کَنَکدانَو کو قتل کرکے شِو کی پناہ لیتا ہے۔ شِو بھَیروَسَمان عظیم وِشوَرُوپ ظاہر کرکے ایک قدم سے نزول فرماتے ہیں تو ایک مقدس آبی مقام پیدا ہوتا ہے؛ اس قدم کے نشان کی جگہ “شِوپَد” کہلاتی ہے اور “کروڑ گناہوں” کے چیرے جانے سے “کوٹی تیرتھ” کی شہرت قائم ہوتی ہے۔ آگے اَندھک کے حملے سے دیوتا خوف زدہ ہوتے ہیں تو شِو مہاکال روپ میں جنگ کرکے اسے دباتے ہیں۔ اَندھک کی تَمَس (تاریکی) پھیل کر دنیا کو ڈھانپ لیتی ہے، تب انسانی صورت میں سورج کا ظہور “نرادِتیہ/نرَدیپ” کے نام سے ہوکر روشنی واپس لاتا ہے۔ نرَدیپ کے درشن و پوجا کی ہدایات، مبارک اوقات، درشن کا پھل (سوریہ لوک کی حصولیابی) اور جیَیشٹھ شُکل دُوِتیہ کی رتھ یاترا—درشن کی سمتیں، رتھ کھینچنا، پردکشنا اور نذرانے—تفصیل سے آتے ہیں۔ آخر میں اَندھک کی شکست کے بعد وِشنو کے شنکھ ناد سے “شَنکھوُدھّارَن تیرتھ” ظاہر ہوتا ہے؛ وہاں وِشنو کی سننِدھی اور لِنگ کی سننِدھی کے ساتھ ورت، درشن کے فوائد اور یوگنی بَلی سمیت درست اَर्पن سے حفاظت و خیر و برکت کا پھل بیان کیا گیا ہے۔

82 verses

Adhyaya 37

Adhyaya 37

Dhūtapāpa–Śūleśvara–Abhayeśvara–Vaṭamātr̥–Kaṇṭeśvara–Singeśvara–Vināyaka–Aṅgāreśvara Māhātmya (Chapter 37)

سنتکمار اندھک کے وध سے وابستہ اوَنتی کھیتر کی تِیرتھ-تاسیس کی سلسلہ وار روایت بیان کرتے ہیں۔ جب اندھک ترشول سے وِدھ ہوا تو جو ناد اُبھرا، اسی سے اومکار-سوروپ شِو کا ظہور نمایاں کیا گیا؛ اسنان اور دھیان-نِیَم کو پاپوں کے کَشَے اور مُکتی کا سادن بتایا گیا۔ ترشول کے بھوگوتی کے جلوں تک جانے سے شُولیشور نام مشہور ہوا اور دھوتپاپ تِیرتھ کا نامकरण ہوا؛ بھکتوں کے لیے مخصوص ورت/اُپواس کے دن بھی بتائے گئے ہیں۔ رکت سے جنمے اسُروں کے پھر ابھرنے پر دیوتاؤں نے ماترکا دیویوں کی سِرشٹی کی—برہمانی، کوماری اور اُگر روپوں کی پرمپرا میں چامُنڈا تک؛ وٹ ورِکش کے پاس وہ ‘وٹماتر’ کے نام سے پرسدھ ہوئیں۔ وہاں اسنان کے بعد اُن کے درشن سے شُدّھی، پُنّیہ لابھ اور اُن کے لوک میں مہِما کی بات کہی گئی ہے۔ شِو کے سِنگھناد کے پرسنگ سے سِنگیشور اور کنٹھیشور قائم ہوتے ہیں، جو ہانی اور بھَے سے رکشا کرنے والے کھیتر ہیں۔ شِو کے ‘اَبھَے’ کے آشواسَن سے اَبھَیشور پرकट ہوتا ہے؛ وہاں نِیَم-یوکت پوجا کو مہایَگّیہ پھل کے سمان اور شترُو/بھوت آدی کے ڈر کو مٹانے والی کہا گیا ہے۔ آگے وِگھن-نِوارک مہاوِنایک کا ماہاتمیہ اور ماہانہ چَتُرتھی پوجا-وِدھان آتا ہے۔ آخر میں شِو کے سوید سے اَنگارک (مَنگل) کی اُتپتّی کی کارن-کَتھا، اَنگاریشور کی پرتِشٹھا، چَتُرتھی/منگل وار کو اَर्घیہ دان کی ریت اور دنیا و آخرت کے فائدوں کا وعدہ بیان ہوا ہے۔

54 verses

Adhyaya 38

Adhyaya 38

अन्धकस्तुतिः—चामुण्डारुधिरपानं, शिववरदानं, आवन्त्यमातरः-स्थापनम् (Andhaka’s Hymn, Cāmuṇḍā’s Blood-Drinking, Śiva’s Boon, and the स्थापना of the Āvantya Mothers)

باب 38 میں سنَتکُمار ایک باہم مربوط الٰہی واقعہ بیان کرتے ہیں۔ آغاز میں چامُنڈا راکشس کے باقی ماندہ خون کو پی لیتی ہیں؛ اُن کا چہرہ ہیبت ناک نور سے دہک اٹھتا ہے اور اندھک کی مایا اور قوت ٹوٹ جاتی ہے، وہ بے بس اور خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ پناہ نہ پا کر اندھک رَجَس و تَمَس چھوڑ کر ساتتوِک حالت اختیار کرتا ہے اور شنکر کے حضور سراپا تسلیم ہو کر طویل حمد پیش کرتا ہے—شیو کو خالق، سُکھ-دُکھ کے حاکم، گنگا دھارک، چندرکلا دھارک اور اعلیٰ ترین پناہ گاہ کہہ کر سراہتا ہے۔ ساتھ ہی پھل شروتی آتی ہے کہ پاکیزہ عمل والا شیو بھکت اس ستوتی کو پڑھے یا سنے تو اسے اَکشَے شِولोक نصیب ہوتا ہے۔ پھر شیو پرگٹ ہو کر دیویہ درشتی عطا کرتے ہیں اور من چاہا ور مانگنے کو کہتے ہیں۔ اندھک کسی کائناتی منصب کی خواہش نہیں کرتا؛ وہ شیو گنوں میں گنپتیہ/گن پد (گنوں میں مرتبہ) مانگتا ہے۔ شیو اسے غم سے پاک، دیرپا، معزز قیادت اور یوگک سِدھیاں عطا کرتے ہیں؛ اندھک گن بن کر روانہ ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد برہمانی وغیرہ دیویاں آتی ہیں؛ شیو چامُنڈا کو تسلی دیتے ہیں اور خون نوش دیویوں کو اوَنتی سے نسبت کے سبب ‘آونتیہ ماترہ’ کا نام دے کر مستقل قیام، گناہ نَاشک قوت اور ور دینے کی ذمہ داری سونپتے ہیں۔ شراون اماوسیا کے دن ان کے درشن سے اولاد، دولت، حسن اور ودیا کی افزونی ہوتی ہے اور کَلپوں تک شہر کی حفاظت ان کا فریضہ ٹھہرتا ہے۔ آخر میں اس روایت کے سننے کو رُدر لوک کی راہ کہا گیا ہے۔

43 verses

Adhyaya 39

Adhyaya 39

Mahākālavane Tīrtha-Liṅga-Ānantya and Śravaṇa-Phala (महाकालवने तीर्थलिङ्गानन्त्यं श्रवणफलम्)

یہ باب سوال و جواب کے انداز میں ہے۔ کشترا کی عظمت بیان ہونے کے بعد ویاس مہاکالون میں (1) تیرتھوں کی تعداد اور (2) لِنگوں کی تعداد کے بارے میں مقداری وضاحت چاہتے ہیں۔ سنتکمار لِنگوں کی گنتی کو اس قدر وسیع بتاتے ہیں کہ وہ گویا ناقابلِ شمار ہے، اور یوں اس مقام کی لافانی پاکیزگی اور بے پایاں تقدیس کو ثابت کرتے ہیں۔ پھر گفتگو شمار سے اہلیت کی طرف مڑتی ہے—وہاں پیدا ہونے والا انسان خواہ سَکام (خواہش والا) ہو یا اَکام (بے خواہش)، شِو لوک میں معزز ہوتا ہے۔ تیرتھ اسنان کرکے پاکیزہ ہونا اور اس کے پُنّیہ سے شِو دھام میں قیام پانا بیان کیا گیا ہے، اور اس کشترا کو مقدس مقامات میں سرفہرست کہا گیا ہے۔ آخر میں پھل شروتی ہے کہ مہا بھکتی سے اس کا شروَن پرم گتی دیتا ہے؛ متن کا سننا خود ایک تبدیلی لانے والی سادھنا بن جاتا ہے۔

7 verses

Adhyaya 40

Adhyaya 40

कनकशृङ्गा-नामनिर्वचनम् | The Etymology of “Kanakaśṛṅgā” and the Sacred Status of Avantī

باب 40 مقدّس جغرافیہ اور ناموں کی وجہِ تسمیہ پر مکالماتی انداز میں ہے۔ کْشَیتر کی خوف دور کرنے والی اور نجات بخش (موکش دینے والی) عظمت سن کر ویاس جی سنَتکُمار سے پوچھتے ہیں کہ یہ نگری/علاقہ کنکَشِرِنگا، کُشَستھلی، اَوَنتی، پَدماؤتی اور اُجّیَنی—ان متعدد ناموں سے کیوں معروف ہے۔ سنَتکُمار اسے ایک سابقہ کلپ کے پس منظر میں رکھتے ہوئے بتاتے ہیں کہ یہ روایت برہما سے وام دیو تک منتقل ہوئی تھی۔ اس ضمنی حکایت میں برہما اور مہیشور جگت پالک وشنو کے حضور جا کر ایک ثابت، اَوناشی پُنیہ دھام اور تیرتھ کی درخواست کرتے ہیں۔ وشنو انہیں شمال و جنوب میں مقررہ قیام گاہیں عطا کرتے ہیں اور گنوں سے گھِرے مہاکال کے شعلہ فشاں، جگت کو تھامنے والے روپ کا بیان کرتے ہیں۔ نگری کو دیویہ لیلا اور لوک کلیان کے لیے رچی ہوئی، وشوکرما کے بنائے ہوئے سنہری شِکھر والے محلوں سے آراستہ بتایا گیا ہے۔ آخر میں وجہِ تسمیہ واضح ہوتی ہے: چونکہ نگری کو ‘ہیم-شِرِنگ’ (سنہری شِکھر) کہا گیا، اس لیے وہ ‘کنکَشِرِنگا’ کے نام سے مشہور ہوئی۔ اختتام پر کہا گیا ہے کہ برہما، وشنو اور مہیشور وہاں جپ میں مقیم رہ کر بھکتوں کو من چاہا پھل عطا کرتے ہیں۔

33 verses

Adhyaya 41

Adhyaya 41

Kuśasthalī-nāmakaraṇa and Brahmā’s Stuti of Viṣṇu (कुशस्थली-नामकरणं ब्रह्मस्तुतिश्च)

سنَتکُمار وِیاس کو اوّلین سَرشٹی کا ایک منظر سناتے ہیں کہ جب دیو و دانَو، انسان، سِدّھ و وِدیادھر، بلکہ جانور اور پرندے بھی باہمی عداوت میں مبتلا ہو گئے اور ضبط و ہم آہنگی ٹوٹنے لگی۔ اس ابتری کو دیکھ کر سَرشٹی کے خالق برہما دھیان-سمادھی میں یکسو ہو کر دُکھ ہَرنے والے ہری/وشنو کی پناہ لیتے ہیں۔ وشنو وِشوَرُوپ میں پرکٹ ہو کر برہما سے کہتے ہیں کہ دھیان-یوگ مؤثر ہے اور وہی جگت کے پالک ہیں۔ برہما اٹھ کر پادْیَ، آچمنِیَ، مدھوپرک وغیرہ سے آدر-ستکار کرتے ہیں اور اُپیندر، واسودیو، وِشوَسین، کرشن، جِشنُو جیسے ناموں کے ساتھ، شنکھ-چکر، دھوج، گڑُڑ-واہن اور شری کے نِتیہ منگل بھاو سے طویل ستوتی پیش کرتے ہیں۔ وشنو پرسن ہو کر شُدھ ‘منڈل’ اور سداشیو سے وابستہ ایک مستحکم استھان کی نشاندہی چاہتے ہیں۔ تب برہما چَیون رِشی کے آشرم سے جڑی پَوِتر بھومی دکھاتے ہیں؛ وہاں کُشا گھاس سے ڈھکی زمین پر وشنو آسن لیتے ہیں۔ کُشا کے آوَرَن سے اس استھان کا نام ‘کُشستھلی’ ٹھہرتا ہے اور تینوں لوکوں میں اس کی کیرتی بیان کی جاتی ہے۔

32 verses

Adhyaya 42

Adhyaya 42

अवन्तीकुशस्थली-माहात्म्यं तथा पैशाचमोचनतीर्थ-प्रशंसा (Avanti–Kushasthalī Māhātmya and Praise of Paiśācamocana Tīrtha)

سنت کمار ایک سابقہ کلپ کا واقعہ بیان کرتے ہیں—دیوتا مخالف قوت کے ہاتھوں شکست کھا کر اور پُنّیہ کے زوال سے کمزور ہو کر پناہ اور مشورے کے لیے پرجاپتی برہما کے پاس جاتے ہیں۔ پھر وہ وشنو سے منسوب دیویہ دھام میں پہنچ کر واسودیو کی کثیر رُوپی ستوتی کرتے ہیں اور کورم، نرسِمْہ، وراہ، رام، بدھ، کلکی وغیرہ اوتار-رُوپوں کا سمرن کر کے جگت کی حفاظت کی دعا کرتے ہیں۔ تب ایک بےجسم آواز انہیں مہاکالون پر دھیان دینے کا حکم دیتی ہے، جہاں کشستھلی نامی نگری سَروکام-پرد پاکیزہ مرکز ہے، کیونکہ شیو کو یُگ یُگ میں بھی وہاں نِتیہ سَنِّنِدھ بتایا گیا ہے۔ کشستھلی کے پُنّیہ کو بڑے بڑے تیرتھوں سے بار بار ‘دس گنا’ برتر کہا گیا ہے، اور وہاں کیے گئے دان، جپ، ہوم اور رسومات اَکشَی (لازوال) پھل دیتی ہیں۔ دیوتا وہاں جا کر سماجی ہم آہنگی اور نیکی سے آراستہ نگری دیکھتے ہیں اور پَیشاچموچن تیرتھ میں اسنان، پاٹھ، نذر و نیاز اور دان کر کے اَکشَی پُنّیہ پاتے ہیں؛ دشمنوں پر غالب آ کر اپنے دھاموں کو لوٹ جاتے ہیں۔ آخر میں پھل شروتی ہے—اس بیان کو سننا یا پڑھنا گناہوں کو مٹاتا ہے، خوشحالی، اولاد اور شیو لوک میں بلند مرتبہ عطا کرتا ہے۔

46 verses

Adhyaya 43

Adhyaya 43

त्रिपुरवधः—अवन्त्याः उज्जयिनीनामप्राप्तिः (Slaying of Tripura and the Renaming/Glorification of Ujjayinī)

سنَتکُمار، وِیاس کو اوَنتی کھنڈ میں تِرپُر کے واقعے کے ذریعے اُجّینی کی تقدیس کا عقیدتی و اخلاقی بیان سناتے ہیں۔ تِرپُر نامی اسُر راجا سخت تپسیا کر کے کئی طبقاتِ مخلوقات کے مقابلے میں ناقابلِ شکست ہونے کا ور پاتا ہے اور پھر دیوتاؤں اور انسانوں کے نظام کو تہس نہس کر دیتا ہے۔ اس کے ظلم سے یَجْنَی تہذیب بکھر جاتی ہے—اگنی ہوترا اور سوم یَگ رُک جاتے ہیں، سْواہا-سْودھا-واشٹ کے صیغے مٹ جاتے ہیں، تہوار ختم ہو جاتے ہیں، مندروں اور شِو پوجا میں کمی آتی ہے، اور دان، دیا، اُپکار، تپس جیسے اوصاف زائل ہونے لگتے ہیں؛ یوں دھرم کو تمدّن کی بنیاد بتایا گیا ہے۔ کمزور دیوتا برہما کی پناہ لیتے ہیں۔ برہما انہیں اوَنتی کے مہاکال وَن میں لے جا کر رُدرسَرَس پر اسنان، دان، جپ اور ہوم کرتے ہیں اور مہاکال (شیو) سے فریاد کرتے ہیں۔ شیو فتح کا طریقہ بتاتے ہیں اور اوَنتی میں کیے گئے دان و ہوم وغیرہ کے اَکشَی (لازوال) پھل پر زور دیتے ہیں۔ پھر دیوتا چامُنڈا/دُرگا کو راضی کرتے ہیں؛ دیوی شیو کو پرم پاشُپت استر عطا کرتی ہے۔ شیو تِرپُر اور اس کی مایا کا سنہار کر کے اوَنتی واپس آتے ہیں؛ تب یَجْنَ اور تہوار پھر چل پڑتے ہیں، آگیں امن سے جلتی ہیں اور شہر کی شہرت قائم ہوتی ہے۔ آخر میں پھل شُرُتی ہے—اُجّینی میں قیام سے ودیا، دھن، اولاد، سُکھ، پرگیا اور پریم کے مقاصد پورے ہوتے ہیں؛ اس قصے کا سُننا اور پڑھنا گناہوں سے نجات دیتا ہے اور ہزار گائے کے دان کے برابر پُنّیہ بخشتا ہے۔

58 verses

Adhyaya 44

Adhyaya 44

पद्मावती-प्रादुर्भावः, राहु-केतु-तीर्थमहिमा च (The Manifestation of Padmāvatī and the Glory of the Rāhu–Ketu Tīrtha)

سنتکمار وِیاس کو اوَنتی کھنڈ میں سمندر منتھن کی ایک مقامی روایت سناتے ہیں، جس میں نزاع، مقدّس وسائل کی تقسیم اور اوَنتی کے مخصوص تیرتھوں کی شرعی/رسمی توثیق کو دینی معنی میں بیان کیا گیا ہے۔ دیوتا اور اسُر مَیرو کو منتھن کی لکڑی اور واسُکی کو رسی بنا کر سمندر کو متھتے ہیں؛ تب ہالاہل زہر، چاند، کامدھینو، ایراوت، پاریجات، کوستُبھ، دھنونتری، لکشمی وغیرہ چودہ رتن ظاہر ہوتے ہیں۔ تقسیم پر جھگڑا اٹھتا ہے تو نارَد بیچ بچاؤ کرتے ہیں اور ہری موہنی روپ دھار کر امرت دیوتاؤں تک پہنچا دیتے ہیں۔ راہو فریب سے امرت پی لیتا ہے؛ وِشنو اس کا سر کاٹ دیتے ہیں، مگر امرت کے لمس سے وہ راہو اور کیتو کی صورت میں باقی رہتا ہے۔ اس کے خون کے بہاؤ کو اسی کشتَر میں ایک عظیم تیرتھ کی بنیاد بتایا گیا ہے—جہاں پاکیزہ نیت سے اشنان کرنے والوں کے دوش دور ہوتے ہیں اور راہو-پیڑا سے حفاظت ہوتی ہے۔ پھر رتنوں کی دیوتاؤں اور لوکوں میں مقررہ تقسیم، اور پدما کا مہاکال وَن میں قیام بیان ہوتا ہے، جس سے شہر/مقام ‘پدماوتی’ کے نام سے معروف ہوتا ہے۔ اشنان، دان، ارچنا اور دیو-پتر ترپن کے اعمال کو گناہوں، فقر اور بدبختی کے زوال اور نسلوں کی بھلائی کا سبب کہا گیا ہے۔ آخر میں سننے اور پڑھنے کی فضیلت بیان کر کے اسے بڑے ویدک یَگیوں کے برابر ثواب والا بتایا گیا ہے۔

39 verses

Adhyaya 45

Adhyaya 45

कुमुद्वती-प्रादुर्भावः (The Manifestation and Glory of Kumudvatī / Padmāvatī)

اس ادھیائے میں مکالمے کی تہہ دار روایت ہے—سنَتکُمار ویاس سے خطاب کرتے ہیں اور لَوْمَش مُنی کے تیرتھ یاترا کے بیان کو نقل کرتے ہیں۔ لَوْمَش ایک نہایت پُرثواب نگری کا ذکر کرتے ہیں جو ‘گُہیات-گُہیاتر’ یعنی انتہائی رازدار مقام ہے؛ وہاں ہَر (شیوا) کی حضوری ہے اور کہا گیا ہے کہ محض درشن سے بھی بڑے گناہ مٹ جاتے ہیں۔ پھر کائناتی انجمن کی طرح دیویہ ہستیوں کی فہرست آتی ہے—برہما، رودر، آدتیہ، وسو، وشویدیَو، مروت، گندھرو، سدھ، بھَیرو، وِنایک، دیویاں وغیرہ—جس سے یہ مقام الٰہی نظام کا ایک مختصر عکس معلوم ہوتا ہے۔ اس کے بعد شہر کی مثالی اخلاقی و سماجی فضا بیان ہوتی ہے—غم، بیماری، فقر، نزاع اور اخلاقی کمزوری کا فقدان؛ باہمی مدد؛ منضبط اور نصیحت آموز باشندے؛ اور ایسا نورانی ماحول جو ہمیشہ چاندنی جیسی روشنی سے منور رہتا ہے۔ کُمُد کنول کے مسلسل کھلے رہنے کے سبب اس کا نام ‘کُمُدوتی’ پڑا اور اسے ‘پدماؤتی’ بھی کہا گیا۔ وہاں کیا گیا شرادھ پِتروں کے سُورگ سے سقوط کو روکتا ہے، اور اسنان، دان، ہوم، پوجا وغیرہ سب اعمال ‘اکشَی’ یعنی لازوال پھل دینے والے بتائے گئے ہیں؛ یوں پھل شروتی کے ساتھ اس قدیم مقدس نگری کی عظمت ثابت کی جاتی ہے۔

33 verses

Adhyaya 46

Adhyaya 46

कुशस्थली-अमरावती-सम्भववर्णनम् | The Rise of Kuśasthalī as an Amarāvatī-like Sacred City

اس باب میں سَنَتکُمار وِیاس کو بتاتے ہیں کہ مبارک مہاکالون میں مَریچی-کاشیپ نے طویل مدت تک ضبطِ نفس اور سخت ریاضت کے ساتھ گھور تپسیا کی۔ تپسیا سے خوش ہو کر ایک بےجسم الٰہی آواز نے ور دیا: ابدی نسل اور شہرت، اَدِتی کی ہمراہ تپسیا اور محافظانہ حضوری کی توثیق، اور آئندہ دیویہ پُتروں کی پیدائش—جن میں وِشنو اور اَندر (اِندر) سرفہرست ہیں؛ یوں کاشیپ پرجاپتی کے طور پر قائم ہوتے ہیں۔ اس کے بعد کُشستھلی نگر کی عظمت بیان ہوتی ہے—وہ اَمراوتی کے مانند مقدس وقار اور نندن ون جیسی رعنائی رکھتی ہے۔ کامدھینو جیسے مراد پوری کرنے والے اشارات، پاریجات وغیرہ دیویہ درخت، بندو-سرس/مانس سروور کی مانند جھیلیں، مبارک مخلوقات اور جواہرات سے بھرپور منظرنامہ آتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ دیولोक کی جو بھی دیویت ہے وہ سب مہاکالون میں موجود ہے، اور وہاں کے باشندے بھی دیوتاؤں جیسے روپ و آچار اختیار کر لیتے ہیں۔ پھل شروتی میں یاترا کا طریقہ بتایا گیا ہے: جو وہاں آ کر اسنان اور دان کریں اور مہیشور کے درشن کریں، وہ دنیاوی کامیابیاں پاتے ہیں اور وفات کے بعد شِو دھام کو پہنچتے ہیں؛ اس باب کا سننا اور پڑھنا شترُدریہ کے برابر پُنّیہ بخش کہا گیا ہے۔

24 verses

Adhyaya 47

Adhyaya 47

विशालाभिधानकथनम् (Narration of the Naming and Glory of Viśālā)

سنت کمار ویاس کو برہما سے منسوب ایک قدیم حکایت سناتے ہیں—ایک نہایت پوشیدہ اور نہایت پاکیزہ کْشَیتر کی عظمت۔ شیو اُما کے ساتھ جنگل میں سیر کرتے ہیں؛ تب دیوتا، اسُر، گن، ماتر دیویاں، وِنایک، ویتال، بھَیرو، یکش، سدھ، خاندانوں سمیت رِشی، گندھرو-اپسرا اور دیگر بہت سے طبقات دل ہی دل میں دھیان کر کے اُماپتی کی پوجا کرتے ہیں۔ پاروتی انہیں ہوا، بارش اور دھوپ میں کھلے آسمان تلے مبتلا دیکھ کر شیو سے درخواست کرتی ہیں کہ ان کی ضرورت کے مطابق ایک خوبصورت رہائش گاہ عطا کی جائے۔ تب شیو یوگ مایا کی قوت سے ایک وسیع اور درخشاں شہر ظاہر کرتے ہیں—بازار اور چوک، محلّات، جواہرات سے آراستہ دیواریں، منی جڑے دہلیز، جھنڈے اور پتاکائیں، آب رسانی کے انتظامات، تالاب اور کنول، پرندوں کی چہچہاہٹ، باغات، موسیقی، تعلیم، یَجْن، سنسکار، عوامی پاٹھ اور فنون سے بھرپور۔ یہ نگری “وشالا” کہلاتی ہے؛ زمین پر بے مثال اور دنیاوی فلاح و بہبود اور موکش کے اسباب—دونوں دینے والی بتائی گئی ہے۔ پھل شروتی میں کہا گیا ہے کہ “وشالا” نام کا اُچارَن شیو لوک میں رفعت بخشتا ہے؛ وہاں کیا گیا شرادھ اَکشَی پھل دیتا ہے؛ اور اس قصے کا سننا بھی بڑے گناہوں سے فوراً پاک کرنے والا ہے۔

47 verses

Adhyaya 48

Adhyaya 48

प्रतिकल्प-कालमान-प्रशंसा (Pratikalpa and the Measures of Cosmic Time)

اس باب میں سنَتکُمار وِیاس کو زمانہ شماری اور کائناتی ادوار کا پُرانوکْت راز بتاتے ہیں، مگر ابتدا ہی میں تاکید کرتے ہیں کہ یہ بیان رازدارانہ ہے اور صرف اہل، باادب، ضبطِ نفس والے اور دھرم پر قائم لوگوں تک محدود رہے۔ پھر نِمیش اور کاشٹھا سے لے کر مُہورت، دن-رات، پکش، ماہ، رِتو اور سال تک وقت کی درجہ بہ درجہ پیمائش بیان ہوتی ہے، اور انسانوں، پِتروں اور دیوتاؤں کے زمانہ پیمانوں کا تقابلی ذکر آتا ہے۔ اس کے بعد چار یُگ سَندھیا اور سَندھیانش سمیت واضح کیے جاتے ہیں؛ منونتر کو چتورْیُگ کے ضربی مجموعے کے طور پر متعین کیا جاتا ہے؛ اور کلپ (برہما کا دن) اور برہما کی رات کو ہزار یُگ کے پیمانے سے بیان کیا جاتا ہے۔ اسی کائناتی پس منظر میں مہاکال وَن اور کُشستھلی/پرتیکلپا نگری کی غیر معمولی پائیداری کی ستائش ہے، جو کلپ بہ کلپ بار بار ظاہر ہوتی رہتی ہے۔ آخر میں پھل شروتی—پرتیکلپا میں ضابطہ بند اعمال، خصوصاً مہیشور درشن، ویشاکھ پُورنماسی کے ورت اور شِپرا میں اسنان، دیرپا روحانی ثمرات عطا کرتے ہیں۔ اس روایت کا سننا اور سکھانا بھی پاکیزگی بخش قرار دیا گیا ہے۔

56 verses

Adhyaya 49

Adhyaya 49

शिप्राया माहात्म्ये ज्वरानुग्रहः (Śiprā Māhātmya: The Bestowal of Relief from Fever)

اس باب میں، جو اوَنتی کھنڈ کے اندر ویاس اور سنَتکُمار کے مکالمے کی صورت میں ہے، دریائے شِپرا کی تقدیس و عظمت کا مختصر مگر بابرکت بیان آتا ہے۔ ویاس مختلف علاقائی تیرتھوں اور مقاماتی روایات کا حوالہ دے کر شِپرا کی پاکیزہ کہانی سننے کی خواہش کرتے ہیں۔ سنَتکُمار بتاتے ہیں کہ شِپرا کا جل محض قربت سے بھی نجات بخش ہے، اور اس کی کائناتی موجودگی ویکُنٹھ، دیولोक، مہادوار اور پاتال تک مانی گئی ہے؛ یوں ایک کثیر سطحی مقدس جغرافیہ قائم ہوتا ہے۔ پہلی سبب-کथा میں رُدر برہمن کَپال پاتر لیے بھکشو کے روپ میں وِشنو کے پاس بھکشا مانگنے آتے ہیں؛ سخت تصادم سے بہنے والی خون کی دھارا شِپرا بن جاتی ہے اور ندی کی پاکیزگی کی اساطیری علت ٹھہرتی ہے۔ دوسری روایت میں ہری–ہر کے نزاع سے ماہیشور جَور (بخار) اور اس کے مقابل ویشنوَی تپش پیدا ہوتی ہے؛ دونوں مہاکالون میں شِپرا میں غوطہ لگا کر پرسکون ہو جاتے ہیں، اس لیے شِپرا ‘جَورگھنی’ (بخار کو مٹانے والی) کہلاتی ہے۔ آخر میں پھل شروتی ہے کہ اس الٰہی بیان کو توجہ سے سننے والے بخار کی آفت سے پیدا ہونے والے خوف سے آزاد ہو جاتے ہیں۔

46 verses

Adhyaya 50

Adhyaya 50

शिप्रामाहात्म्ये दमनराजमोक्षः (Śiprā-māhātmya: The Liberation of King Damana)

سنَتکُمار ویاس کو شِپرا ندی کی بے مثال تطہیری قوت ایک منفی مثال کے ذریعے سمجھاتے ہیں۔ دمن نامی بادشاہ کو دھرم، رسم و رواج اور اخلاقی اصولوں کا سخت پامال کرنے والا بتایا گیا ہے۔ شکار کے دوران وہ مہاکالون کے قریب جنگل میں تنہا رہ جاتا ہے اور سانپ کے ڈسنے سے مر جاتا ہے۔ یم کے دوت اسے لے جا کر کرم کے مطابق سزا کے مرحلوں سے گزارتے ہیں؛ ادھر اس کی لاش کو جانور اور پرندے نوچتے ہیں اور ایک کوا گوشت کا ٹکڑا اٹھا لے جاتا ہے۔ وہی گوشت کا ٹکڑا پچھلے کرم کے زور سے شِپرا کے پانی میں گر پڑتا ہے۔ متن کے مطابق شِپرا جل کے محض لمس سے اسی لمحے پاپ کا بوجھ کٹ جاتا ہے اور دمن شِو سمان روپ میں ظاہر ہو کر یم کے اختیار میں خلل ڈال دیتا ہے۔ یم کے خادم یہ عجیب واقعہ دھرم راج کو سناتے ہیں تو یم بتاتے ہیں کہ شِپرا ‘سرو پاپ ہرا’ ہے—اس کے پانی کو چھونا، آخری وقت میں اس کے کنارے رہنا، یا صرف اس کا نام لینا بھی جیو کو شِولोक کی طرف موڑ دیتا ہے۔ دوسرے تیرتھوں کے مقابلے میں شِپرا کی برتری بیان کی گئی ہے اور آخر میں اس مکالمے کے سننے کو بھی نجات بخش پھل کہا گیا ہے۔

49 verses

Adhyaya 51

Adhyaya 51

शिप्रामाहात्म्ये अमृतोद्भवत्वकथनम् / The Legend of Shiprā as ‘Amṛtodbhavā’

سنت کمار ویاس کو بتاتے ہیں کہ شِپرا ندی کو ‘امرتودبھوا’ کیوں کہا جاتا ہے۔ ناگ لوک کی بھوگوتی نگری میں رودر/شنکر بھوکے فقیر کے روپ میں کَپال ہاتھ میں لیے گھر گھر بھیک مانگتے ہیں، مگر ناگ مہمان نوازی (اتِتھی دھرم) کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کچھ نہیں دیتے۔ بھوک اور غضب سے متاثر شِو شہر سے باہر جا کر اپنی تیسری آنکھ کی طاقت سے اکیس حفاظتی کنڈوں میں محفوظ، ناگوں کی بقا کا سہارا امرت پی لیتے ہیں؛ اس سے کائنات میں اضطراب اور ناگوں میں شدید گھبراہٹ پھیل جاتی ہے۔ ناگ اپنے اہل و عیال سمیت ہری کی پناہ لیتے ہیں۔ آکاش وانی بتاتی ہے کہ قصور شِو کی یاترا/یَچنا کو نظرانداز کرنا ہے، اور کفارہ یہ کہ مہاکال ون میں شِپرا کے تٹ پر باقاعدہ اسنان کر کے مہادیو کی پوجا کریں۔ شِپرا کو تری لوک کو پاک کرنے والی اور منوکامنا پوری کرنے والی تِیرتھ کہا گیا ہے۔ وہاں وہ ایک عظیم تِیرتھ دیکھتے ہیں جہاں رِشی، دیوتا، سِدھ اور یاتری سندھیا اور دان وغیرہ کرتے ہیں۔ اسنان کے بعد پھول، چندن، دیپ، نَیویدیہ اور دکشِنا کے ساتھ پوجا کر کے ناگ شِو کی متعدد القاب سے ستوتی کرتے ہیں۔ شِو پرگٹ ہو کر سبب و نتیجے کی کڑی واضح کرتے ہیں اور ور دیتے ہیں کہ شِپرا اسنان کے پُنّیہ سے امرت پھر ان کے گھروں میں لوٹ آئے گا؛ شِپرا کا جل لے جا کر اکیسوں کنڈوں میں ڈالیں تو وہ ہمیشہ کے لیے امرت مَے ہو جائیں گے۔ اسی سے شِپرا ‘امرتودبھوا’ کے نام سے مشہور ہوئی؛ وہاں اسنان و ورت سے گناہوں کا زوال، آفت، جدائی، بیماری اور فقر سے حفاظت، اور پاٹھ/سماعت کا پھل ہزار گائے دان کے برابر بتایا گیا ہے۔

56 verses

Adhyaya 52

Adhyaya 52

शिप्रामाहात्म्य तथा वाराह-उत्पत्ति-प्रसङ्गः (Śiprā-māhātmya and the Varāha-restoration narrative)

اس ادھیائے میں سَنَتکُمار شِپرا ندی کی ماہاتمْیہ بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ شِپرا کی عظمت کا محض سُن لینا بھی عظیم پُنْیہ دیتا ہے؛ اوَنتی میں شِپرا کی خاص پاکیزگی اور اس کے قابلِ تعظیم بہاؤ کی سمت کا ذکر آتا ہے۔ پھر بیان کائناتی بحران کی طرف مڑتا ہے—دَیتیہ ہِرَنیّاکْش عوالم کو مغلوب کرتا ہے، دیوتاؤں کو سْوَرگ سے بے دخل کرتا ہے اور یَجْنَ دھرم نیز سماجی و رسومی نظم کو درہم برہم کر دیتا ہے۔ دیوتا برہما کی پناہ لیتے ہیں؛ برہما چار کُماروں اور دربان جَے-وِجَے کے واقعے سے یہ بتاتے ہیں کہ شاپ کے سبب تین جنموں میں اسُر یُونی (جن میں ایک ہِرَنیّاکْش بھی) کیوں ملی۔ دھرم کے زوال پر وِشنو وَراہ روپ دھارن کرتے ہیں، طویل جنگ کے بعد ہِرَنیّاکْش کا وَدھ کرتے ہیں اور پرتھوی کو اُدھّار کر کے کائناتی استحکام بحال کرتے ہیں۔ اسی پس منظر میں شِپرا کو بھگوان کے ہردے سے پرکٹ، آنند بخش جلوں سے لبریز، کنول کے سروروں، پرندوں، رِشیوں اور یَجْن کرموں سے آراستہ بتایا گیا ہے۔ مہاکال وَن اور متعلقہ کُنڈوں کی ستائش ہے—وہاں اسنان، دان، اَرپَن اور شْرادھ سے اعلیٰ پھل ملتا ہے۔ وِشنو کے آدیش پر دیوتا وہاں وِدھی پوروک کرم کر کے اپنے لوک دوبارہ پاتے ہیں۔ آخر میں شِپرا کی مزید مفصل اُتپتّی—وَراہ کی ‘بیٹی’ اور وِشنو کے دےہ سے جنمی ندی—آگے بیان ہونے کا اشارہ دیا گیا ہے۔

70 verses

Adhyaya 53

Adhyaya 53

सुन्दरकुण्डोत्पत्तिः पिशाचमोचनतीर्थमाहात्म्यं च (Origin of Sundara Kuṇḍa and the Glory of Piśāca-mocana Tīrtha)

باب 53 مکالمہ کی صورت میں ہے۔ ویاس سُندرکُنڈ کی شناخت، پیدائش اور پھل کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ سنَتکُمار جواب دیتے ہیں کہ اوَنتی میں یہ ایک اعلیٰ ترین تیرتھ ہے جو گناہوں کو مٹاتا اور مطلوبہ مرادیں عطا کرتا ہے۔ پرَلَے کے منظر میں ویکُنٹھ سے وابستہ ایک پہاڑی چوٹی پوشیدہ اور ہیبت ناک مہاکال وَن میں گرتی ہے اور فوراً رتنوں کی سیڑھیوں، پاکیزہ پانی اور دیویہ درختوں، پھولوں، پرندوں اور جانوروں سے آراستہ ایک جواہر نما کُنڈ ظاہر ہوتا ہے۔ یہاں وید، شاستر، پران، اومکار و گایتری سمیت منتر اور زمانے کے پیمانے گویا مجسم صورت میں مقیم ہیں؛ کلپ کے عیوب کے خوف سے دیوتا اور سدھ گن بھی یہاں پناہ لیتے ہیں۔ کُنڈ کے ادھِشتھاتا کے طور پر وِشنو اور شکتی سمیت شِو کا ذکر ہے۔ پندرہ دن یا ایک ماہ وہاں قیام کرنے سے ویکُنٹھ میں طویل سکونت ملتی ہے؛ حتیٰ کہ چھوٹے جاندار بھی وہاں جان دے دیں تو شَیَو گتی پاتے ہیں۔ پھر ‘پِشَچ موچن’ تیرتھ نام کی عظمت ایک مثال سے بیان ہوتی ہے۔ جنوب کا برہمن دیول بار بار بدکرداری اور سنگین گناہوں میں مبتلا رہتا ہے؛ نرکوں کی سزائیں اور پریت حالت بھگت کر آخرکار پِشَچ کا جسم پاتا ہے۔ مہاکال وَن میں لِنگ اور کُنڈ کے پاس شیر کے ہاتھوں مارا جا کر جب وہ پانی میں گرتا ہے تو ایک ہڈی کا ٹکڑا الگ ہوتا ہے اور تیرتھ کے اثر سے اس کے گناہ جل جاتے ہیں؛ اس کی لطیف ہستی لِنگ میں لَین ہو جاتی ہے—اسی سے یہ مقام رہائی دینے والا پاک تیرتھ مشہور ہوا۔ آخر میں پِشَچ موچن میں اشنان، پِشَچ موچنیش کی پوجا، مہادان اور اس کَتھا کا سننا/سنانا مقرر کیا گیا ہے، جن کا پھل پاکیزگی، عظیم پُنّیہ اور اشومیدھ کے برابر بتایا گیا ہے۔

60 verses

Adhyaya 54

Adhyaya 54

नीलगङ्गा-तीर्थप्रादुर्भावः तथा दुग्धकुण्डमाहात्म्यम् (Origin of Nīlagangā Tīrtha and the Glory of Dugdhakuṇḍa)

اس باب میں وِیاس جی سَنَتکُمار سے پوچھتے ہیں کہ شِپرا کُنڈ میں نیل گنگا کب آئی۔ سَنَتکُمار تِیرتھ کی مہِما بیان کرتے ہیں کہ نیل گنگا میں اشنان اور سنگمیشور کی پوجا سے بُری صحبت کے سبب پیدا ہونے والے دَوش دور ہوتے ہیں اور پاپوں کا کَشَی ہوتا ہے۔ پھر سبب کی کہانی آتی ہے: انسانوں کی ناپاکی کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے گنگا کا رنگ نیلا/سیاہ پڑ گیا تو وہ غمگین ہو کر پاکیزگی کا اُپائے مانگتی ہے۔ برہما اسے مہاکال وَن کے علاقے میں جانے کا حکم دیتے ہیں جہاں شِپرا کا درشن محض بھی پاک کرنے والا ہے۔ گنگا اَنجنی آشرم وغیرہ کے نزدیک پہنچ کر شِپرا میں داخل ہوتی ہے اور نیل روپ سے شُکل، یعنی خالص و پاک روپ اختیار کر کے ‘نیل گنگا’ تِیرتھ کے طور پر قائم ہوتی ہے۔ اس کے بعد عمل کی ہدایت ہے: یہاں اشنان کر کے ہنومان جی کی پوجا خاص طور پر کی جائے۔ آشوِن کے کرشن پکش میں مہالَیا شرادھ کے وقت تِل اَنجلی، برہمنوں کو بھوجن وغیرہ سے پِتروں کا اُدھار اور دیرپا تَسکین بتائی گئی ہے۔ پھر دوسرا تِیرتھ ‘دُگدھ کُنڈ’ بیان ہوتا ہے، جہاں دودھ چڑھانے کی روایت کے سبب یہ وِگھن ناشک اور سمردھی دایَک مانا جاتا ہے۔ وہاں اشنان، جل پینا اور گودان سے بھلائی اور موت کے بعد سوَرگ پرابتि کہی گئی ہے، اور آگے پُشکر جا کر مزید کرم کرنے کی تلقین ہے۔

34 verses

Adhyaya 55

Adhyaya 55

Vindhyavāsinī-Stuti, Agastya’s Petition, and the Vimalodā Tīrtha Phalāśruti (Chapter 55)

باب کی ابتدا میں وِیاس سَنَت کُمار سے پوچھتے ہیں کہ خوشگوار مہاکال کے جنگل میں وِندھیا پہاڑ کا ظہور کیسے ہوا اور اس کے پیچھے کس کی کارفرمائی تھی۔ سَنَت کُمار سابقہ واقعہ بیان کرتے ہیں: رِیوا (نرمدا) کے پانیوں سے زمین ڈوبنے لگی اور تینوں جہانوں میں خوف پھیل گیا۔ زمین کی حفاظت کے لیے دیوتا اور رِشی اگستیہ کے پاس آئے۔ اگستیہ نے وِندھیاواسِنی بھوانی کی یکسو بھکتی سے طویل ستوتی کی، جس میں دیوی کو محافظہ، بدقوتوں کی ہلاک کرنے والی، مرادیں دینے والی، اور گایتری وغیرہ مقدس تجسیمات کے ساتھ ایک ہی حقیقت کے طور پر سراہا گیا۔ دیوی راضی ہو کر ظاہر ہوئیں اور ور دینے کو کہا۔ اگستیہ نے رِیوا کے خطرناک طغیان کو روکنے کی درخواست کی۔ دیوی مہاکال کے جنگل کی طرف روانہ ہوئیں؛ اگستیہ نے کہا کہ وہ دیوی شکتی کے بڑھتے اثر کو قابو میں رکھیں گے اور جب تک وہ جنوبی مہم سے واپس نہ آئیں وِندھیا پہاڑ نہ بڑھے—یہ ضابطہ قائم ہوا۔ پھر کُشستھلی/اُجّینی کے وِملودا تیرتھ کی فضیلت بیان ہوتی ہے: وہاں اشنان، پوجا، دان اور عالم مہمانوں کو بھوجن کرانے سے ہر طرح کی بھلائی، امن و امان، خوشحالی، درازیِ عمر، پاکیزگی اور شِو کے دھام کی حصولیابی ملتی ہے۔ خاص طور پر وہ عورتیں جو سماجی/رسمی بدقسمتیوں سے دوچار ہوں، ان کے لیے وِملودا میں اشنان اور وِندھیاواسِنی کے درشن کو عیب دور کرنے والا، اولاد اور سہاگ/سعادت بخش کہا گیا ہے۔ آخر میں پھل شروتی ہے: اس بیان کو پڑھنے یا سننے سے ہزار گائے دان کے برابر پُنّیہ حاصل ہوتا ہے۔

33 verses

Adhyaya 56

Adhyaya 56

क्षातासंगममाहात्म्यं (Glory of the Kṣātā–Shiprā Confluence and Associated Tīrthas)

اس باب میں مکالمہ کے انداز میں سَنَتکُمار مہاکالون میں ندی کْشاتا کے شِپرا سے سنگم کے تیرتھ کی تقدیس بیان کرتے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ اس سنگم پر محض اشنان (غسل) سے بھی پاپوں کا نِشکاس اور بھلائی حاصل ہوتی ہے۔ خاص حکم یہ ہے کہ جب اماوسیا ہفتہ کے دن آئے تو پِتروں کے لیے شرادھ کر کے تل ملا پانی (تلودک) ارپن کیا جائے اور وہاں قائم مقدس سْتھاور-لِنگ کا درشن و پوجن کیا جائے؛ اس سے شَنَیشچر سے متعلق تکالیف میں کمی آتی ہے۔ آگے رِیوا، چَرمَنوَتی وغیرہ ندیوں کی طرح کْشاتا کو بھی پاک کرنے والی بتایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ مہاکالون پہنچ کر وہ ‘کْشاتا-سنگم’ نامی اعلیٰ تیرتھ بن جاتی ہے۔ پھر تْوَشْٹْرِ–ساوِتری/چھایا کے قصے کے ذریعے سورج کے ‘وِرَج’ (آلودگی سے آزاد) کہلانے کی وجہ، شَنَیشچر کی پیدائش، اور وقتِ مخصوص کے اعمال کی دینی اہمیت واضح کی جاتی ہے۔ اس کے بعد قریب کے دیگر یاترا-مقامات کا ذکر ہے: دھرمسر، جو یم کے تپسیا اور ماروتی کی موجودگی سے وابستہ ہے؛ اور چَیون آشرم/چَیونیشور، جہاں اشوِنی کُماروں کی کرپا سے دیویہ دِرِشٹی ملنے کی بات کہی گئی ہے۔ آخر میں پھل شروتی میں سننے اور پاٹھ کرنے کا عظیم پُنّیہ بڑے دانوں کے برابر بتایا گیا ہے، یوں یہ باب تیرتھ اور وِدھی کا رہنما بن کر ختم ہوتا ہے۔

67 verses

Adhyaya 57

Adhyaya 57

गयातीर्थ-प्रशंसा तथा महाकालवने गुह्यतीर्थ-प्रकाशनम् (Praise of Gayā-tīrtha and the Revelation of Secret Tīrthas in Mahākālavana)

اس ادھیائے میں سَنَتکُمار–ویاس مکالمے کے ذریعے اوَنتی کے مہاکالون میں گیا تیرتھ کی عظمت دوبارہ قائم کی جاتی ہے۔ سَنَتکُمار اعلان کرتے ہیں کہ گیا پرم تیرتھ ہے؛ وہاں اسنان سے رِن‑ترَی (تین قرض) سے نجات ملتی ہے اور دیو‑پِتر ترپن کے بعد وِشنولोक کی پرابتّی کا مارگ کھلتا ہے۔ ویاس پوچھتے ہیں کہ کِکاط دیش میں مشہور گیا مہاکالون میں کیسے جانی جائے؛ تب سَنَتکُمار ایک پاکیزہ آکھ्यान سناتے ہیں جس کے شروَن ماتر سے بھی پِتروں کا بھلا ہوتا ہے۔ پھر یُگادِدیَو راجا کے کِرتَیُگ کے راج کا نقشہ کھینچا جاتا ہے—دھرم چار پاؤں پر قائم؛ خوشحالی، صحت، سماجی ہم آہنگی اور یَجْن‑کرم کی پابندی ہر سو ہے۔ اس کے بعد دانَو تُہانڈ دنیا کو مغلوب کر کے ویدک ریت، پوجا اور سْودھا‑سْواہا کی آہوتیاں روک دیتا ہے، جس سے دھرم‑مارگ ڈھہ جاتا ہے۔ دیوتا اور رِشی برہما کی پناہ لیتے ہیں؛ برہما وِشنو کے پاس جاتے ہیں۔ تب ایک اَشَریری وانی انہیں فوراً مہاکالون جانے کا حکم دیتی ہے—یہ ایک پوشیدہ اور نہایت پاک کْشَیتر ہے جہاں مایا بھی ناکام رہتی ہے۔ وانی وہاں کے تیرتھ‑جال کا بیان کرتی ہے: اِچّھا پُورَک شِپرا، مہاکالی اور ماتر شکتیوں، گیا‑فلگو، بُدھ گیا اور آدْی گیا، گَدادھر سے وابستہ وِشنو کا ‘شودش پاد’ تیرتھ، پراچی سرسوتی، اَکشَی نْیَگرودھ اور پریتوں کو موکش دینے والی شِلا۔ آخر میں پِتر‑موکش پر زور دیا گیا ہے—اس کْشَیتر میں داخلہ ہی پِتروں کو دوزخی حالت سے اٹھا کر سوَرگ اور بلند گتی تک پہنچا دیتا ہے۔

35 verses

Adhyaya 58

Adhyaya 58

Śrāddha-vidhi and Pitṛ-gaṇa Taxonomy in Avantī (श्राद्धविधिः पितृगणविचारश्च)

اس باب میں وِیاس جی شرادھ کے اعلیٰ ترین پھل، پِتروں کی تسکین کی وسعت، اور پِتروں کے گروہوں کی تعریف و تقسیم کے بارے میں تفصیل سے سوال کرتے ہیں۔ سَنَتکُمار شرادھ کو دھرم اور یَجْن کی بنیاد قرار دے کر بتاتے ہیں کہ دیوتاؤں اور پِتروں کے لیے شردھا (اخلاص) کے ساتھ کیا گیا نذرانہ و دان ہی شرادھ ہے۔ وہ دیو–پِتر کے باہمی احسان و تبادلے کے کائناتی نظام کو واضح کرتے ہوئے سات پِتر-گنوں کی درجہ بندی، ان کے مُورت/اَمُورت روپ، مقامات اور یوگک سِدھی سے تعلق بیان کرتے ہیں، اور اسی تناظر میں پِتر-کارْیَ کو دیو-کارْیَ سے بھی برتر ٹھہراتے ہیں۔ پھر عامل کی اہلیتیں—برہماچریہ، ضبطِ نفس، پاکیزگی، بےغصّہ رہنا اور شاستر-نِشٹھا—مقرر کر کے تیرتھ میں ودھی کے مطابق شرادھ کی تاکید کرتے ہیں۔ مختلف تیرتھوں میں تسکین و ثمرات کے تفاوت کا ذکر کر کے گیا کی خاص مدح اور خصوصاً مہاکالون/اونتی کی اعلیٰ ترین عظمت بیان کرتے ہیں۔ آخر میں دشوار یا سماجی سہارے سے محروم اموات کی کئی قسمیں گنوا کر کہتے ہیں کہ اس تیرتھ میں کیا گیا شرادھ ان کے اُدھار کا وسیلہ ہے؛ اور درست آچرن سے رِن-تریہ سے نجات اور مطلوبہ مقاصد کی سِدھی حاصل ہوتی ہے۔

59 verses

Adhyaya 59

Adhyaya 59

गयातीर्थमाहात्म्य (Gaya Tīrtha Māhātmya in Avanti)

باب 59 میں سَنَتکُمار وِیاس کو بتاتے ہیں کہ اَوَنتی کے مہاکال وَن میں گَیا سے وابستہ ایک تیرتھ کیسے موجود ہے اور کیسے اثر و ثمر رکھتا ہے۔ ابتدا میں گَیا کی تطہیر بخش خصوصیات—اسنان (غسل)، دان اور ودھی کے مطابق شِرادھ—کا ذکر کر کے کہا گیا ہے کہ مقررہ تیرتھ-ستھانوں پر یہ اعمال کیے جائیں تو وہی پھل حاصل ہوتا ہے۔ وِشنو/جناردن کی پِتروں کی صورت میں سَنِدھی اور درست پِتَر کرم کی رُخ بندی سے ‘رِن-ترَے’ (تین قرض) سے نجات کا بیان خاص طور پر آتا ہے۔ پھر مقامی روایت بیان ہوتی ہے: قدیم اَوَنتی میں گَیا تیرتھ کی स्थापना، بعد میں کَیکَٹ سے نسبت، اور گَدادھر کے قدم کے نشان کی علامت کے ذریعے ایک اسُر کا دباؤ/دمن اور اس مقام کی مہِما کی پرتِشٹھا۔ زمانی ہدایات میں گَیا-شِرادھ کی مسلسل مشروعیت، ‘مہالَیَ’ نامی سالانہ خاص عمل (نجومی علامات کے ساتھ)، اور اَنوَشٹَکا سے متعلق ماں کے شِرادھ کی خصوصی تاکید شامل ہے۔ اُتراردھ میں سات رِشیوں کی پتنیوں کی نصیحت آموز کہانی ہے—بدنامی کے عیب سے سماج سے دور کی گئیں، نارد کے رہنمائی سے وہ اَوَنتی-گَیا تیرتھ اور اَکشَی وَٹ تک پہنچتی ہیں۔ ‘رِشی-سنجنیتا پنچمی’ کو ورت، جاگرن اور نِیَم سے وہ پاکیزگی پاتی ہیں اور گھر-گِرہستھی میں دوبارہ عزت کے ساتھ شامل ہوتی ہیں۔ پھل شروتی میں کہا گیا ہے کہ یہاں کا دان اَکشَی پُنّیہ دیتا ہے اور اس مہاتمّیہ کا سُننا/پڑھنا بڑے یَجْن کے پھل کے برابر ہے۔

42 verses

Adhyaya 60

Adhyaya 60

पुरुषोत्तमतीर्थ-मलमासव्रतविधिः (Purushottama Tīrtha and the Adhika-māsa Vrata Procedure)

باب کا آغاز روایت کے فریم سے ہوتا ہے: وِیاس جی ‘پُروشوتم’ نامی برتر تیرتھ کی مفصل خبر چاہتے ہیں، اور سَنَتکُمار بتاتے ہیں کہ اس کا محض سُننا بھی گناہوں کو مٹانے والا ہے۔ پھر منظر ویکُنٹھ کی آسمانی سبھا کی طرف جاتا ہے جہاں لکشمی جی وِشنو سے دان، اسنان، تپسیا اور شرادھ وغیرہ کے صحیح وِدھی (طریقۂ عمل) اور یہ کہ دیش-کال، پَرو کے دن، تِتھی اور تیرتھ کے اعتبار سے پھل کیسے بدلتا ہے—یہ پوچھتی ہیں۔ وِشنو پُورنِما، اَماواسیا، سنکرانتی، گرہن، وِیَتیپات وغیرہ مبارک اوقات اور بڑے تیرتھوں کا ذکر کر کے فرماتے ہیں کہ اَوَنتی میں کیا گیا دان وغیرہ اَکشَی (ہمیشہ قائم) پھل دیتا ہے۔ اس کے بعد اَدھِک ماس/مَل ماس (مَلِملُچ) کی حقیقت بیان ہوتی ہے: جس مہینے میں سورج کی سنکرانتی نہ ہو وہ فلکی سبب سے اَدھِک ماس کہلاتا ہے۔ اس زمانے میں بعض سنسکار ترک کیے جائیں، مگر بھکتی پر مبنی ورت، جپ، دان اور پوجا کی خاص ترغیب ہے۔ وِشنو خود کو اَدھِک ماس کا ادھیش ‘پُروشوتم’ بتاتے ہیں اور مہاکال وَن میں ‘پُروشوتم تیرتھ’ کی نشان دہی کرتے ہیں؛ وہاں اسنان اور ورت سے پائیدار خیریت اور دیرپا پھل کی بشارت دیتے ہیں۔ ورت وِدھی میں مخصوص تِتھیوں پر سنکلپ، واسودیو کی پوجا، کُمبھ ستھاپن، پنچامرت و نَیویدیہ، دیپ-دھوپ، آرتی، اَرگھْی منتر کے ساتھ پرارتھنا، برہمنوں کو بھوجن کرا کے دان و ستکار، اور آخر میں اجتماعی بھوجن شامل ہے۔ پھل شروتی کے مطابق اَدھِک ماس کی عبادت سے غفلت فقر و غم لاتی ہے، اور درست طریقے سے پوجا خوشحالی اور نحوست سے حفاظت عطا کرتی ہے۔

62 verses

Adhyaya 61

Adhyaya 61

अधिमास-स्नान-दानादि-माहात्म्यवर्णन (Adhimāsa: The Merit of Bathing, Charity, and Worship)

سنتکمار ویاس کو اوَنتی کے مقدّس حلقے میں اَدھِماس (اضافی قمری مہینہ) کے دوران غسل، دان اور پوجا کی دینی و روحانی قدر بتاتے ہیں۔ بیان ہے کہ مہاکالون کے سیاق کے بغیر اَدھِماس کی ریاضت اختیار کرنا روحانی طور پر غلط سمت میں جانا ہے؛ مگر پُروشوتم نامی تیرتھ میں یہ عمل کیا جائے تو سَناتن لوکوں کی دائمی نعمت حاصل ہوتی ہے۔ وہاں پُروشوتم (وشنو) کی پوجا کے ساتھ اُما اور شنکر کی بھکتی بھی مقرر کی گئی ہے، جس سے ایک ہی یاترا-ماحول میں ویشنو اور شیو روایتوں کا ہم آہنگ طریقِ عبادت ظاہر ہوتا ہے۔ بھاد्रپد شُکل ایکادشی کے دن اُپواس، رات بھر جاگرن، وشنو پوجا اور پُروشوتم-سَرَوَر سے وابستہ جل یاترا کا حکم ہے، اور اس کے پھل کے طور پر اولاد، دولت، درازیِ عمر اور صحت کی بشارت دی گئی ہے۔ پھر قریب کے مقدّس مقامات کا ذکر آتا ہے: بھگیرتھ کی تپسیا اور گنگا کے نزول کی روایت سے وابستہ کنارے پر جاٹیشور مہادیو؛ اور شمال مشرق میں کوشِکی ندی کے پاس رام-بھارگو کی تپسیا گاہ، جہاں غسل سے بڑے گناہ دھل جاتے ہیں اور آخر میں رامیشور کا درشن نہایت پاکیزگی بخش بتایا گیا ہے۔

13 verses

Adhyaya 62

Adhyaya 62

गोमतीतीर्थकुण्डमाहात्म्यवर्णनम् | The Māhātmya of Gomatī Tīrtha and the Origin of Gomatī Kuṇḍa

اس باب میں گومتی تیرتھ اور گومتی کنڈ کی پیدائش اور اس کی رسم و عبادت کی سند کو کثیرالاصوات مذہبی مکالمے کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ وِیاس جی سَنَتکُمار سے پوچھتے ہیں کہ قدیم گومتی کنڈ کب اور کیسے ظاہر ہوا۔ شونک وغیرہ رشیوں کی مجلسِ نصیحت کا حوالہ دے کر مشہور دریاؤں اور شہروں کی تقدیس کا تقابلی ذکر کیا جاتا ہے، تاکہ تیرتھوں کی عظمت کا ایک درجہ بندی والا فہم قائم ہو۔ پھر ساندیپنی گرو کی تعلیم آموز حکایت آتی ہے۔ برہماچاری رام اور کرشن سحر کے وقت گرو کے غائب ہونے کی وجہ پوچھتے ہیں۔ گرو بتاتے ہیں کہ وہ روزانہ گومتی میں اسنان کر کے سندھیا اُپاسنا کرتے ہیں—یہ منضبط سادھنا کا نمونہ ہے۔ اس کے بعد شِو سے وابستہ یَجْن کُنڈ کے نزدیک گومتی کے ظہور اور سرسوتی کی موجودگی کا ذکر ہے، اور اسی سبب وہ مقام “گومتی کنڈ” کے نام سے معروف ہوتا ہے۔ آخر میں بھادراپد کرشن اشٹمی اور چَیتر کے مہینے میں ایکادشی تک کے ورت/نذر کے قواعد بتائے گئے ہیں—اسنان، اُپواس، جاگرن، وِشنو پوجا، ویشنو بھکتوں اور برہمنوں کی تعظیم۔ پھل شروتی میں وعدہ ہے کہ اس کا شروَن اور عمل گناہوں کی صفائی، پاکیزگی اور وشنو لوک کی پرابتّی عطا کرتا ہے۔

40 verses

Adhyaya 63

Adhyaya 63

कंथडेश्वर-गंगेश्वर-वीरेश्वर-तीर्थमाहात्म्यं तथा वामनकुण्ड-प्रसङ्गः (Kaṇṭhaḍeśvara, Gaṅgeśvara, Vīreśvara Tīrtha-Māhātmya and the Vāmanakuṇḍa Episode)

باب 63 دو باہم مربوط حصّوں میں بیان ہوتا ہے۔ پہلے سنَتکُمار اوَنتی کے اہم تیرتھوں کے ثواب کا اصول بتاتے ہیں۔ کَنٹھڈیشور کو بے مثال اشنان-ستھل کہا گیا ہے؛ وہاں اشنان اور مہادیو کے درشن سے پاپوں کا کَشَی ہوتا ہے اور بھکت کی اُونّتی ہوتی ہے۔ پھر گنگیشور کے نزدیک سنگم کا प्रसنگ آتا ہے—گنگا کا دیویہ اوتَرَن اور شِو کا اسے اپنے شِر پر دھارن کرنا—اور بتایا جاتا ہے کہ وہاں اشنان اور گنگیش-درشن کا پھل گنگا-اشنان کے برابر ہے، نیز مرنے کے بعد وِشنُولोक وغیرہ کی پرابتि کی طرف اشارہ ہے۔ ویرِیشور تیرتھ میں نِواس اور پوجا سے شُدّھی اور ‘ویر’ لوک کی پرابتि بیان کی گئی ہے۔ دوسرے حصّے میں تریلوک-پرَسِدھ وامَنکُنڈ کا ماہاتمیہ آتا ہے؛ محض درشن سے بھی سخت گناہوں کا پرایَشچِت ہو جاتا ہے۔ وِیاس اس کی اُتپتّی پوچھتے ہیں تو پرہلاد کی مثالی خوبیاں، بَلی راجا کی دھرم یُکت راجیہ-ویوستھا، نارَد کی اُکساہٹ سے بَلی کا دیوتاؤں سے سامنا، اور دیوتاؤں کا برہما کی شرن جانا تفصیل سے آتا ہے۔ برہما مخصوص تیرتھوں اور بھکتی-وِدھیوں کی ہدایت دیتے ہیں۔ وِشنُو-دھیان کا سُوتر، وِگھن-نِوارَن کے لیے گنیش-نمسکار، اور طویل ستوتر-پাঠ کو نجات بخش سادھن کے طور پر رکھا گیا ہے۔ یوں تیرتھ، اُپاسنا-جپ-پوجا اور ادھیکار-نِیَم کو جوڑ کر یاترا کو منضبط بھکتی کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔

117 verses

Adhyaya 64

Adhyaya 64

कालभैरवतीर्थयात्रावर्णनम् / Description of the Pilgrimage to Kālabhairava Tīrtha

باب 64 میں کال بھیرَو تیرتھ کا منظم تِیرتھ-ماہاتمیہ بیان ہوا ہے۔ ابتدا میں سَنَتکُمار ویرےشور اور اس سے وابستہ سْنان کے پھل کا بیان کرنے کا وعدہ کرتے ہیں، پھر ناگ-متعلقہ تیرتھوں میں سب سے افضل ‘کال بھیرَو’ تیرتھ کی نشان دہی کرتے ہیں—جہاں محض درشن سے بھی دکھوں کا زوال اور مرادوں کی تکمیل بتائی گئی ہے۔ ویاس کے سوال پر اس شہرت کی وجہ بیان ہوتی ہے: بھیرَو یوگ-رکشک ہیں، جو یوگنی-گروہوں سے جڑی مخالف قوتوں، کِرتیا اور ہلاکت خیز آفات کو دور کر کے بھکتوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ اس کے بعد بھیرَو کی حضوری شِپرا ندی کے کنارے، خصوصاً شمالی (مقدس) سمت میں ثابت کی جاتی ہے، اور تِتھیوں کے آداب بتائے جاتے ہیں—اشٹمی، نوَمی اور خاص طور پر چتُردشی کو پوجا؛ نیز آشاڑھ کے شُکل پکش میں اتوار کے ساتھ مخصوص سنگم کو بہت بابرکت کہا گیا ہے۔ پتے، پھول، اَرک، خوشبوئیں، نَیویدیہ، تامبول، لباس وغیرہ چڑھا کر، برہمنوں کو بھوجن، ہوم اور ترپن کرنے سے “سبھی مقاصد” اور منگل کی پرابتھی بتائی گئی ہے۔ ستوتر کے حصے میں بھیرَو کی صورت و صفات بیان ہوتی ہیں اور بھیرَو اشٹک کے پھل بتائے جاتے ہیں—برے خوابوں کا خاتمہ، جھگڑوں اور خطرات میں مدد، راج-روष، جنگ، قید و بند اور فقر سے حفاظت؛ اور یہ کہ ضابطے کے ساتھ جپ کرنے والے کے لیے کوئی مطلوب شے ناممکن نہیں۔ اختتام پر پھر تاکید ہے کہ سنسار کے خوف میں مبتلا لوگ اس تیرتھ میں سْنان-دان اور پوجا کو کوشش کے ساتھ انجام دیں۔

28 verses

Adhyaya 65

Adhyaya 65

Nāgatīrtha-Māhātmya and the Settlement of the Nāgas in Mahākālavana (नागतीर्थमाहात्म्यं तथा नागनिवासवर्णनम्)

باب کا آغاز اس سوال سے ہوتا ہے کہ ویاس ناگتیِرتھ کی عظمت اور اس کے اعلان کے زمانے کی پوری تفصیل جاننا چاہتے ہیں۔ سَنَتکُمار جواب میں ایک ایسی پاکیزہ تطہیری روایت بیان کرتے ہیں جس کا سننا بھی نجات و مکتی کا سبب سمجھا گیا ہے۔ اس میں ناگوں کی تکلیف کا پس منظر آتا ہے—مادری شاپ (لعنت) کا اثر اور جنمیجَے کے سرپَسَتر (سانپوں کی یَگّیہ) کا بحران—جس سے آستیک کی مداخلت کے ذریعے ناگ رہائی پاتے ہیں۔ آزادی کے بعد ناگ بےخوف رہائش کی درخواست کرتے ہیں؛ آستیک انہیں مہاکالون کے جنوبی حصے میں قدیم تیرتھ سے وابستہ ناگ-نِواس کی طرف بھیجتا ہے، جہاں ہری مشہور شیششائی روپ میں یوگنِدرا میں جلوہ گر ہیں۔ مہاکالون کی تقدیس کو مضبوط کرنے کے لیے لوماش، مارکنڈَیے، کپل، ہریش چندر اور سَپت رِشیوں وغیرہ کی حاضری اور سِدھیوں کا ذکر ہوتا ہے؛ بتایا جاتا ہے کہ اس دھام کی قوت شاپ سے پیدا ہونے والے دوش دور کرتی اور زمانے کو استحکام دیتی ہے۔ ایلاپتر، کمبل، کرکوٹک، دھننجَے، واسُکی، تکشک، نیل، پدمک اور اربُد جیسے نامور ناگ آ کر اپنے اپنے ٹھکانے قائم کرتے ہیں اور نئے تیرتھ و کنڈ ظاہر کرتے ہیں جو بڑے پُنیہ بخش اور پاپ ناشک ہیں؛ یہاں سِدھ، گندھرو، رِشی اور اپسراؤں کی آمدورفت رہتی ہے۔ شویتدویپ جیسا دلکش منظر، مقدس درخت، پرندے، خوشبوئیں اور خزانے بیان ہوتے ہیں؛ اشنان سے ویکنٹھ کی پرابتھی، رماسَر میں شریمتا، اور بَلی کے آشرم تیرتھ میں کرموں سے فوری پاکیزگی کے پھل بتائے گئے ہیں۔ آخر میں رسومات کی ہدایات ہیں—دان، ہوم وغیرہ؛ خصوصاً بھومی دان کو افضل اور دیرپا افزائشِ ثواب کا سبب کہا گیا ہے۔ شراون میں، درش (اماوَس) کے دن، پنچمی اور سوموار کو ناگ پوجا کا وِدھان ہے۔ درش-شرادھ کو اَکشَے (لازوال) پھل دینے والا اور مطلوبہ مرادیں پوری کرنے والا بتایا گیا ہے۔

32 verses

Adhyaya 66

Adhyaya 66

नृसिंहतीर्थ-माहात्म्य तथा सावित्रीव्रत-फलश्रुति (Glory of Nṛsiṃha Tīrtha and the Fruits of the Sāvitrī Vrata)

سنتکمار وِیاس کو اوَنتی میں ایک برتر تیرتھ کی مہیمہ بتاتے ہیں—مہاتما نرسِمْہ سے وابستہ وہ تیرتھ جس کے محض درشن سے بھی پاپ کا نِواڑن ہوتا ہے۔ پھر ہِرَنیہ کشِپُو کا واقعہ مقام کی نشان دہی کے ساتھ بیان ہوتا ہے: دَیتی راج کے بوجھ سے دکھی پرتھوی گائے کی صورت میں برہما کی پناہ لیتی ہے۔ برہما دَیتی کے کٹھور تپسیا، گایتری-اُپاسنا اور اُس وردان کی شرطیں بتاتے ہیں—دن/رات، آکاش/پرتھوی، ہتھیار، گیلا/سوکھا، گوناگوں جیو وغیرہ سے موت نہ ہو؛ مگر ایک رخنہ باقی رہتا ہے—ویر کے ایک ہاتھ کے وار سے موت۔ اس کے بعد برہما دیوتاؤں کو شِپرا کے کنارے مہاکال وَن میں نرسِمْہ تیرتھ کا مقام بتاتے ہیں—سنگمیشور کے نزدیک، کرکراج وغیرہ نشانیوں کے بیچ، جنوبی کنارے کی سمت۔ دیوتا وہاں اسنان، دان اور ارچنا کر کے اپنے اپنے پد دوبارہ پاتے ہیں؛ اور ہری نرسِمْہ روپ میں ایک ہی ضرب سے دَیتی کا وَدھ کر کے وردان کی منطق پوری کرتے ہیں۔ باب میں تیرتھ پر مدھیانہ پوجا کا وِدھان، نرسِمْہ تِتھی/چتُردشی کو پوجن سے لکشمی کی کرپا، اگستیشور کے درشن سے تنگ دستی کا نِواڑن، اور سِدھ ہنومان کی سَنِدھی کا ذکر ہے۔ آخر میں ساوتری ورت کی وِدھی اور سونے کی ساوتری سمیت شُبھ اشیا کا دان ودوان برہمن کو دینے سے سمردھی، بھوگ، سوَرگ؛ اور عورتوں کے لیے پتی کا پریم اور بیوگی سے حفاظت—یہ پھل بیان کیے گئے ہیں۔

36 verses

Adhyaya 67

Adhyaya 67

कुटुम्बेश्वरतीर्थमाहात्म्य (Kutuṃbeśvara Tīrtha Māhātmya)

اس باب میں کُٹُمبیشور مہادیو کے مقدّس استھان اور اس سے وابستہ تیرتھ کی عظمت بیان کی گئی ہے، جسے تمام تیرتھوں کے پھل دینے والا کہا گیا ہے۔ روایت میں دَکش پرجاپتی نسل کی افزائش کے لیے طویل تپسیا کرتا ہے اور برہما سخت تپسیا سے پاکیزہ کنول-روپ حاصل کرتا ہے۔ مہادیو کی شان اس ذکر سے اور پختہ ہوتی ہے کہ چتُرمُکھ دھاری لِنگ ‘آج بھی’ دکھائی دیتا ہے، یوں اس استھان کی تقدیس زمانوں میں قائم رہتی ہے۔ یہاں بھدرکالی/بھدرापीٹھधरा دیوی کی موجودگی اور دروازے پر کھیترپال بھَیرو کی محافظانہ حیثیت بیان ہے۔ وبا، آفت اور سماجی بےچینی کے وقت مخصوص اناج و بیجوں سے باقاعدہ ہوم، کھیترپال کی پوجا اور ضبطِ نفس پر مبنی آچرن کا حکم دیا گیا ہے۔ اسنان، مہادیو پوجا اور تپسوی برہمنوں کو دان—خصوصاً کوشمانڈ (کدو) کا دان—سے خوشحالی اور ‘کٹمبی’ حیثیت (گھرانے کی افزونی) کی بشارت دی گئی ہے۔ پھالگن شُکل چتُردشی (تریودشی کے ربط کے ساتھ، شِورात्रی کے سیاق میں) رات بھر جاگن، بِلْو جل کی ارپن، خوشبو، پھول، دیپ اور سات برہمنوں کو بھوجن کرانے کا ورت بتایا گیا ہے، جس کا پھل مہایَگّیہ کے برابر کہا گیا ہے۔

25 verses

Adhyaya 68

Adhyaya 68

अखण्डेश्वरमहिमवर्णनम् | The Glory of Akhaṇḍeśvara and Akhaṇḍa-saras

سنتکمار وِیاس کو اونتی کھیتر کے مقدّس تیرتھوں کی ترتیب بتاتے ہیں۔ پہلے وہ کِشپرا کے کنارے سومتیرتھ کے قریب واقع دیوپرَیاگ کو نہایت پاکیزہ تیرتھ قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہاں اسنان کرنے سے مادھو نامی دیوتا کے درشن کے برابر پُنّیہ ملتا ہے اور من چاہا پھل حاصل ہوتا ہے۔ پھر آنند-بھیرَو کی مہِما بیان ہوتی ہے—اُن کے محض درشن سے پاپ کا نِشے ہوتا ہے اور دَند کا بھَے دور ہو جاتا ہے؛ یوں یہ استھان دھرم-رکشا کی پناہ ٹھہرتا ہے۔ اس کے بعد جَیَیشٹھ ماہ، شُکل پکش، دَشمی، بُدھ-ہست یوگ اور وِیَتیپات وغیرہ کے شُبھ سنگیوگ میں اسنان کو سمست تیرتھ-فل دینے والا بتایا جاتا ہے۔ نصیحت کے لیے ایک دِرشتانت آتا ہے: نِیَم نِشٹھ برہمن دھرم آشرما ورت-بھنگ کے اندیشے سے نارَد سے پوچھتا ہے۔ نارَد برہمدت نامی ایک پاپاچاری برہمن کی کتھا سناتے ہیں—وہ گوداوری/گوتَمی کے کنارے مرا، مگر سِمھستھ کے سمے اَن گنت تیرتھوں کے ‘وایو-سپرش’ سے یم سبھا میں بھی رہائی پا گیا۔ اس سے مقدّس جغرافیہ کی کرم-فل شمن کرنے والی شکتی ظاہر ہوتی ہے۔ نارَد مہاکالون کے کوٹیتیرتھ اور اس کے اُتر میں اکھنڈیشور کے پاس اکھنڈ-سَرَس کا وِدھان بتاتے ہیں؛ وہاں محض درشن کو یَجْیَ فل کے سمان کہا گیا ہے۔ دھرم آشرما اکھنڈ-سَرَس میں اسنان کر کے مہیشور کے درشن کرتا ہے اور فوراً پُنّیہ لوکوں کو پاتا ہے؛ آخر میں اکھنڈیشور کو شریشٹھ تیرتھ کہہ کر فلشروتی سمیت ستوتی کی جاتی ہے۔

36 verses

Adhyaya 69

Adhyaya 69

कर्कराजतीर्थमाहात्म्य एवं चातुर्मास्यस्नानविधिः (Karkarāja Tīrtha Māhātmya and Cāturmāsya Bathing Discipline)

باب 69 میں شِپرا کے کنارے واقع برتر تیرتھ ‘کرکراج’ کی عظمت کو سندی روایت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ مارکنڈےیہ کے سوال کے جواب میں برہما نے جس تیرتھ کی پہلے ستوتی کی تھی، وہی بات سَنَتکُمار روایتاً نقل کرتے ہیں، یوں سماعت و نقل کی زنجیر سے اس تیرتھ کی حجّت اور وقار قائم ہوتا ہے۔ بیان میں تیرتھ کی نجات بخش تاثیر کو خاص طور پر حدّی اوقات—چاتُرمَاسیہ (جب ہری کے ‘شَیَن’ کا ذکر آتا ہے) اور دکشنایَن—سے جوڑا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ ان ادوار میں وفات مشکل پس از مرگ راہوں کا سبب بن سکتی ہے، اور اس کے تدارک کے لیے کرکراج تیرتھ کو سہارا بتایا گیا ہے۔ برہما کی ہدایت کے مطابق چاتُرمَاسیہ میں اسنان، وشنو کا سمرن، اور ورت و نیَم کی پابندی فیصلہ کن ہے؛ پاکیزگی کے بغیر کیے گئے اعمال کو بے ثمر کہا گیا ہے۔ عملی ضوابط بھی دیے گئے ہیں—رات کے وقت اسنان سے پرہیز، بعض مواقع پر گرم پانی سے اسنان نہ کرنا، اور جسمانی عذر کی صورت میں بھسم-اسنان یا منتر-اسنان جیسے متبادل۔ نیز یہ بھی کہا گیا ہے کہ کرکراج کے جل میں بہت سے تیرتھوں کا پُنّیہ مجتمع ہے۔ آخر میں پھل شروتی بتاتی ہے کہ اس مہاتمیہ کا سننا یا پڑھنا چاتُرمَاسیہ کی غفلت سے پیدا ہونے والے دوشوں سے حفاظت کرتا ہے۔

56 verses

Adhyaya 70

Adhyaya 70

तीर्थ-देवयात्रा-प्रशंसा तथा महाकालवन-देवतासूची (Tīrtha and Devayātrā Protocol; Deity Catalog of Mahākālavana)

اس باب میں سنَتکُمار مَیرو کے قریب واقع مقدّس مقامات کا بیان کرتے ہیں—مرادیں پوری کرنے والا رَمیہ سرس اور بِندو سر تیرتھ، جہاں غسل اور دان سے مطلوبہ مقصد کی تکمیل بتائی گئی ہے۔ بھادْرپَد کے ایّام و اعمال کی نشان دہی آتی ہے، خصوصاً گنادیپ سے وابستہ مبارک چَتُرتھی؛ نیز منہ-کامیشور نامی گنیش استھان کے درشن اور اسنان سے نیت و ارادہ پورا ہونے کا ذکر ہے۔ اس کے بعد ویاس اوَنتی کے تیرتھوں اور مندروں کی باقاعدہ فہرست طلب کرتے ہیں۔ سنَتکُمار فرماتے ہیں کہ وہ بے شمار ہیں اور کائناتی مثالوں سے ان کی کثرت و گھناپن واضح کرتے ہیں۔ پھر ‘دیویاترا’ یعنی ضابطہ بند زیارت کا طریقہ بتایا جاتا ہے—طہارت، صبح کے اعمال، وِشنو سمرن، رُدر سرس میں اسنان، اور متعلقہ تیرتھ پر دیوتا کے مطابق ابھیشیک اور پوجا۔ اُما–مہیشور کے مکالمے میں مہاکال وَن کی مقدّس فضا کی تفصیل آتی ہے—اہم ندیاں، وِنایک، بھَیرو، رُدر، آدِتیہ وغیرہ کے گروہ، بے شمار لِنگ، چاروں سمتوں کے دروازہ نگہبان لِنگ، اور نوگرہ تیرتھ جن کے حفاظتی اعمال بیان ہوئے ہیں۔ پھل شروتی میں کہا گیا ہے کہ دیویاترا مصیبتوں اور گرہ دَوش سے منسوب اذیتوں کو دور کرتی ہے، دولت، اولاد، علم اور فتح عطا کرتی ہے، اور آخرکار شِو کے دھام کے موافق مبارک تسلسل بخشتی ہے۔

99 verses

Adhyaya 71

Adhyaya 71

महाकालवने तीर्थप्रशंसा (Praise and Enumeration of Tīrthas in Mahākālavana)

اس باب میں روایت مکالمات کی زنجیر کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔ وِیاس جی سنَتکُمار سے اَونتی کے مہاکال وَن میں موجود تیرتھوں کی تعداد اور نوعیت کی مزید تفصیل پوچھتے ہیں۔ سنَتکُمار اسے گناہ-ناشک حکایت بتا کر اُما–مہیشور کے مکالمے سے جوڑتے ہیں، جو نارَد کے سوال سے شروع ہوا تھا۔ نارَد مہادیو سے درخواست کرتے ہیں کہ مبارک مہاکال وَن کے موجودہ تیرتھوں کا بیان فرمائیں۔ مہادیو فرماتے ہیں کہ زمین پر مشہور تیرتھ—پُشکر سے وابستہ تیرتھ بھی—اسی برتر مہاکال وَن میں پائے جاتے ہیں؛ یہاں تیرتھوں اور لِنگوں کی تعداد گویا اَسَنْکھیات، یعنی بے شمار ہے۔ ‘پَیشاچ موچن’ نامی تیرتھ وغیرہ کی خاص تصویرکشی آتی ہے جہاں موسموں کی کیفیات بھی بیان ہوتی ہیں۔ اگرچہ درست شمار ممکن نہیں، پھر بھی عملی طور پر وہ ایک بنیادی فہرست پیش کرتے ہیں—سال کے دنوں کے برابر شہرت رکھنے والے اہم تیرتھ۔ پھر یاترا کے وقت اور ثواب کے احکام بیان ہوتے ہیں: پورے سال کے چکر سے ‘اَونتی-یاترِکا’ کی تکمیل ہوتی ہے، اور درست طریقے سے کی گئی یاترا نہایت بلند روحانی پھل دیتی ہے۔ خاص طور پر ویشاکھ میں اَونتی میں پانچ دن قیام کو کاشی میں طویل مدت کے قیام کے برابر ثمرآور کہا گیا ہے۔ آخر میں پھل شروتی ہے—عقیدت سے پڑھنے یا سننے سے شِو بھکتی بڑھتی ہے، ثواب اور ناموری میں اضافہ ہوتا ہے، اور خاندان کو شِو کے مقام کی طرف بلند کیا جاتا ہے۔

19 verses

FAQs about Avanti Kshetra Mahatmya

It foregrounds Avantī as a Mahākāla-centered kṣetra whose sanctity is described as exceptionally potent, including claims of enduring efficacy and rare accessibility even for celestial beings.

The section repeatedly associates the kṣetra with purification from major transgressions, the granting of bhukti and mukti, and the idea that residence, worship, and contact with the sacred landscape yield heightened merit.

Core legends include the naming and classification of Mahākālavanam (as kṣetra, pīṭha, ūṣara, and śmaśāna), and transmission narratives where sages (notably Sanatkumāra) explain the site’s theological status to authoritative listeners.