यह सोपान 'भक्ति की सिद्धि' का द्वार है—जहाँ साधक की साधना (हनुमान-चरित) से कृपा का प्रत्यक्ष फल निकलता है: दर्शन, चिन्ह (चूड़ामणि), और राम-कार्य की सिद्धि। सुंदरकाण्ड में भक्ति कर्म-रूप से प्रकट होती है: दूत-धर्म, पराक्रम, विनय, और नाम-स्मरण; और इसी से मुक्ति-मार्ग का 'विश्वास-स्थापन' होता है कि प्रभु की अनुकम्पा से असम्भव भी सम्भव है।
اس حصے میں کرُونا-رس اور ویر-رس کا نہایت اَدبھُت سنگم ہے۔ پہلے سیتا کی وِرہ-ویَتھا (کرُونا) رام کے ہردے میں اترتی ہے—چُوڑامَنی کا ہردے سے لگنا محض یادگار نہیں، سادھک کے لیے ‘سگُن-چنتن’ کا آلمبن ہے۔ پھر ہنومان کی وِنَے-بھاشا اور رام کی کرپا-دِرِشٹی سے داسْیہ-بھکتی اپنے شِکھر پر پہنچتی ہے: ‘اُرِن میں ناہیں’ کہہ کر پربھو اُپکار کے رِن کو اَسمَاپْی بتاتے ہیں۔ اس کے بعد سینا-پریَان اور سگُن-ورنن ویر-رس جگا کر دھرم-یُدھ کو یَگّیہ-یاترا بنا دیتا ہے۔ دوسری طرف لنکا میں مندودری-وبھیشن کی نِیتی-بھاشا راون کی کُمَتی کے خلاف شاستر-سمَرتھ وِویک ہے۔ یوں سُندرکاند سوپان-کرم میں ‘بھکتی-سِدّھی’ سے ‘دھرم-ستھاپن’ کی طرف انتقالی سیڑھی ہے—جہاں بھکت کا کارْیہ ہی ایشور-کارْیہ بن جاتا ہے۔
No verses available for this prakarana yet.
Read Ramcharitmanas in the Vedapath app
Scan the QR code to open this directly in the app, with audio, word-by-word meanings, and more.