Kuntī–Karṇa Saṃvāda: Lineage Disclosure and Appeal to Fraternal Dharma
“जब मैं पिताके घर रहती थी, उन्हीं दिनों अपनी सेवाओंद्वारा मैंने भगवान् दुर्वासाको संतुष्ट किया और उन्होंने मुझे यह वर दिया कि मन्त्रोच्चारणपूर्वक आवाहन करनेपर मैं किसी भी देवताको अपने पास बुला सकती हूँ। मेरे पिता कुन्तिभोज मेरा बड़ा आदर करते थे। मैं राजाके अन्तःपुरमें रहकर व्यथित हृदयसे मन्त्रोंके बलाबल और ब्राह्मणकी वाक॒शक्तिके विषयमें अनेक प्रकारका विचार करने लगी
yadāhaṃ pituḥ gṛhe vasāmi sma, tadā svasevayā bhagavantaṃ durvāsasam ārādhitavatī; sa ca me varaṃ dadau—mantroccāraṇapūrvakam āvāhane kṛte ahaṃ yathā-kāmaṃ yaṃ yaṃ devaṃ samīpam ānayituṃ śakṣyāmi. mama pitā kuntibhojaḥ māṃ mahad ādareṇa pālayām āsa. ahaṃ rājñaḥ antaḥpure duḥkhitahṛdayā mantrāṇāṃ balābalaṃ brāhmaṇavācaḥ śaktiṃ ca bahuvidhaṃ vicārayām āsaṃ.
وَیشَمپایَن نے کہا— “جب میں اپنے باپ کے گھر رہتی تھی تو خدمت کے ذریعے میں نے بزرگ رشی دُروَاسا کو خوش کیا۔ انہوں نے مجھے یہ ور دیا کہ اگر میں منتر کی درست تلاوت کے ساتھ آہوان کروں تو جس دیوتا کو چاہوں اپنے پاس بلا سکتی ہوں۔ میرے والد کُنتی بھوج مجھے بہت عزت دیتے تھے۔ مگر راجا کے اندرونی محل میں رہتے ہوئے میرا دل مضطرب ہو اٹھا اور میں منتر کی قوت اور اس کی حدوں، اور برہمن کی زبان کی زبردست تاثیر کے بارے میں طرح طرح سے سوچنے لگی۔”
वैशम्पायन उवाच