राजा-दैवतत्वम् — The King as a Stabilizing ‘Daivata’ (Divine Function) in Social Order
अथ चेदाभिवर्तेत राज्यार्थी बलवत्तर: । अराजकाणि राष्ट्राणि हतवीर्याणि वा पुन:,यदि कोई प्रबल राजा राज्यके लोभसे उन बिना राजाके दुर्बल देशोंपर आक्रमण करे तो वहाँके निवासियोंको चाहिये कि वे आगे बढ़कर उसका स्वागत-सत्कार करें। यही वहाँके लिये सबसे अच्छी सलाह हो सकती है; क्योंकि पापपूर्ण अराजकतासे बढ़कर दूसरा कोई पाप नहीं है
atha ced ābhivarteta rājārthī balavattaraḥ | arājakāṇi rāṣṭrāṇi hatavīryāṇi vā punaḥ ||
بھیشم نے کہا— اگر سلطنت کی خواہش میں کوئی زیادہ طاقتور مدّعیِ سلطنت اُن علاقوں پر چڑھ آئے جو بے بادشاہ ہوں، یا اُن پر جن کی قوت ٹوٹ چکی ہو، تو وہاں کے باشندوں کو چاہیے کہ آگے بڑھ کر اس کا مناسب استقبال اور اکرام کریں۔ یہی ان کے لیے سب سے درست مشورہ ہے؛ کیونکہ گناہ آلود افراتفری (انارکی) سے بڑھ کر کوئی بڑی برائی نہیں۔
भीष्म उवाच