Śakra–Namuci-saṃvāda: Śoka-nivāraṇa and Daiva-vicāra
Indra and Namuci on grief, composure, and inevitability
एवं सति कुतः संज्ञा प्रेत्यभावे पुनर्भवेत् । प्रतिसम्मिश्रिते जीवेडगृह्ममाणे च सर्वतः,जीवके ब्रह्ममें विलीन हो जानेपर उसके नाम-रूपका किसी प्रकार भी ग्रहण नहीं हो सकता। ऐसी दशामें मृत्युके पश्चात् जीवकी संज्ञा कैसे रहेगी?
evaṁ sati kutaḥ saṁjñā pretyabhāve punar bhavet | pratisaṁmiśrite jīve grahīyamāṇe ca sarvataḥ ||
اگر ایسا ہی ہے تو موت کے بعد جیوا کی کوئی سنجنا (جداگانہ شناخت) کہاں سے باقی رہے گی، یا وہ پھر کیسے پیدا ہوگی؟ جب جیوا ہر طرح سے برہمن میں پوری طرح گھل مل کر ہر جانب سے محیط و مقبوض ہو جائے، تو اس کا نام و روپ کسی طور بھی قابلِ ادراک نہیں رہتا۔ ایسی حالت میں موت کے بعد جیوا کی سنجنا کیسے باقی رہ سکتی ہے؟
भीष्म उवाच