तदस्य हत्वा विरराज कर्णो मुक्त्वा शरान् मेघ इवाम्बुधारा: । समीक्ष्य कर्णेन किरीटिनस्तु तथा55जिमध्ये निहतं तदस्त्रम्
tadasya hatvā virarāja karṇo muktvā śarān megha ivāmbudhārāḥ | samīkṣya karṇena kirīṭinastu tathā yuddhamadhye nihataṃ tad astram ||
اس کے (اَستر) کو مٹا کر کرن چمک اٹھا اور بادل کی موسلا دھار بارش کی طرح تیروں کی بوچھاڑ کرنے لگا۔ میدانِ جنگ کے بیچ کرن کے ہاتھوں اپنا وہ ہتھیار یوں نیست و نابود ہوتا دیکھ کر تاج پوش ارجن (کَرن کی دلیری کے روبرو آ کھڑا ہوا)۔
संजय उवाच