अध्याय १६ — शङ्कर-उमा-वरदानम् तथा तण्डि-स्तुतिः (Śaṅkara–Umā Boon-Granting and Taṇḍi’s Hymn)
यही वह पराकाष्छठा, यही वह परम कला, यही वह परम सिद्धि और यही वह परम गति हैं एवं यही वह परम शान्ति और वह परम आनन्द भी हैं, जिसको पाकर योगीजन अपनेको कृतकृत्य मानते हैं ।।
یہی وہ اعلیٰ ترین انتہا ہے، یہی برترین کمال؛ یہی پرم سِدھی اور یہی پرم گتی ہے؛ اور یہی پرم شانتی اور پرم آنند بھی ہے۔ اسے پا کر یوگی اپنے آپ کو کِرتکِرتیہ سمجھتے ہیں۔ یہی تسکین ہے، یہی سِدھی، یہی شروتی اور یہی سمرتی؛ بھکتوں کی یہی ادھیاتمک گتی ہے اور اہلِ دانش کی یہی اَکشیہ (لازوال) پرابتّی ہے۔
वायुदेव उवाच